Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-103

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 21 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ إِقْرَارِ الْمَرِيضِ دَيْنُ صِحَّةٍ مُطْلَقًا، أَيْ سَوَاءٌ عُلِمَ بِسَبَبِهِ أَوْ عُلِمَ بِالْإِقْرَارِ. وَدَيْنُ مَرَضِهِ، اَلْمُرَادُ مَرَضُ الْمَوْتِ، بِسَبَبٍ مَعْلُومٍ فِيهِ وَعُلِمَ بِلَا إِقْرَارٍ كَبَدَلِ مَا مَلَكَهُ أَوْ أَتْلَفَهُ أَوْ مَهْرِ عِرْسِهِ، سَوَاءٌ. وَقُدِّمَا عَلَى مَا أَقَرَّ بِهِ فِي مَرَضِ مَوْتِهِ. یاد رکھیے مولانا! دیونِ دراصل چار قسم پر ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تفصیل حاشیے میں آپ کے موجود ہے بھئی۔ دیکھو ایک وہ دین ہے انسان پر جو حالتِ صحت میں اس پر آیا ہو واجب ہوا ہے، لازم ہوا ہے، اور اس کا سبب معلوم ہے، اس کے اقرار سے نہیں ہمیں پتہ چلا بلکہ اس کا سبب ہمیں معلوم ہے کہ اس نے زید سے فلاں گاڑی خریدی ہے تو اس گاڑی کے پیسے اب اس پر بطورِ دین کے لازم ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو سبب معلوم ہے اس کے اقرار کی وجہ سے نہیں، دوسرا وہ دین ہے جس کا ہمیں پتہ اس کے اقرار سے پتہ چلا حالتِ صحت میں بھئی، حالتِ صحت کے اندر اس شخص نے اقرار کیا تھا کہ میں نے مثلاً زید کے کتنے لاکھ روپے دینے ہیں؟ ایک لاکھ روپیہ دینا ہے۔ یہ تو تھا دینِ صحت مولانا! تو دینِ صحت برابر ہیں بھئی چاہے وہ سبب کے ذریعے سببِ معلوم ان کا سبب ان کا معلوم ہو یا ان کا پتہ کس سے چلا ہو؟ اس شخص کے اقرار سے چلا ہو، دونوں کا ایک ہی حکم۔ اور ایک ہے دینِ مرض بھئی! کہ انسان اس میں پھر دو صورتیں ہیں کہ مرض انسان جب مرض الموت میں گرفتار ہوا بھئی، عام مرض نہیں مراد یاد رکھنا کون سا مرض مراد ہے؟ مرض الموت بھئی، جب انسان اٹھنے چلنے پھرنے سے عاجز ہوا پتہ لگ گیا بھئی اب اس کی موت آنے والی ہے وقت قریب آ گیا بھئی۔ اس حالت کے اندر بھئی اب اس پر کچھ دیون لازم ہوتے ہیں، یہاں پھر دو صورتیں ہیں یا تو ان دیون کا پتہ اس کے اقرار سے چلا، اس مرض الموت میں اس نے اقرار کیا کہ میں نے زید کے کتنے پیسے دینے ہیں؟ ایک لاکھ روپیہ مثلاً دینا ہے، ایک یہ دین ہے، اور ایک وہ دین ہے کہ جس کا سبب معلوم ہے اس کے اقرار پر موقوف نہیں ہے بلکہ اس کے سبب کا سب کو پتہ ہے، مثلاً اس نے مرض الموت کے اندر کسی سے کوئی چیز خرید لی تو اب مثلاً کسی سے کوئی چیز خریدی اور اس کے ثمن اس پر کیا ہو گئے؟ واجب ہو گئے، تو یہ ایک دین وہ ہے جس کا سبب معلوم ہے مرض الموت میں، اور ایک دین وہ ہے جس کا سبب معلوم نہیں بلکہ صرف کس سے پتہ چلا ہے؟ اس کے اقرار سے بھئی اقرار سے۔ تو گویا کل تین قسم کے دین ہو گئے بھئی، وہ صحت والے ان دونوں کا حکم ایک ہی ہے تو اسے دینِ صحت مطلقاً کہا اس میں دونوں داخل ہو گئے بھئی، تو دینِ صحت مطلقاً اور وہ دین جو مرض الموت میں آیا لیکن کس کے ذریعے آیا؟ سببِ معلوم کے ذریعے، یاد رکھو یہ دونوں مقدم ہیں اور وہ دین جس کا پتہ جو اس کے اقرار کی وجہ سے اس پر لازم ہوا ہے مرض الموت میں یہ مؤخر ہے بھئی۔ یوں سمجھو بھئی کل کتنے قسم کے دین ہوئے؟ ایک دینِ صحت ہوا مطلقاً جس میں وہ دونوں اکٹھے ہو گئے تین قسم کے بن گئے بھئی، دینِ صحت مطلقاً، دوسرا کیا ہوا؟ دینِ مرض بسببِ معلوم، اور تیسرا دینِ مرض باقرارِہِ دین، جی سمجھ میں آیا؟ تو یہ جو دینِ مرض ہے اس کے اقرار کی وجہ سے پتہ لگا ہے یہ مؤخر ہے، اور دینِ صحت مطلقاً اور دینِ مرض بسببِ معلوم یہ کیا ہیں؟ مقدم ہیں، مقدم ہونے کا یہ معنی کہ جب یہ مر جاتا ہے تو سب سے پہلے وہ دو دیون ادا کیے جائیں گے بھئی، آپ جانتے ہیں ترکے کے اندر سب سے پہلے کفن دفن کا انتظام کیا جاتا ہے پھر اس میں دیون ادا کیے جاتے ہیں قرضے ادا کیے جاتے ہیں چاہے سارا مال ہی اس میں کیوں نہ ختم ہو جائے، جب قرضے ادا کر دیے جائیں سارے قرضے، اب اگر کچھ مال بچتا ہے تو وارثوں میں تقسیم ہو گا، اگر کچھ بھی نہیں بچا تو پھر وارثوں کو بھی کچھ نہیں ملے گا، تو قرض مقدم ہے کس پر؟ ترکے پر بھئی، وارثوں کو نہیں دیا جائے گا بلکہ پہلے قرضے ادا کیے جائیں گے۔ اب ایک شخص مر گیا اس پر تین قسم کے دیون تھے، کچھ دینِ صحت تھے، کچھ دینِ مرض تھے لیکن ان کے سبب کیا تھے؟ معلوم، اور کچھ دینِ مرض تھے لیکن وہ کس کی وجہ سے آئے تھے؟ اس کے اقرار کی وجہ سے، تو یاد رکھو اس صورت میں دینِ صحت مطلقاً اور دینِ مرض بسببِ معلوم یہ دونوں مقدم ہیں اور دینِ مرض باقرارِہِ یہ کیا ہے؟ مؤخر۔ مقدم اور مؤخر ہونے کا یہ معنی کہ پہلے کس کو ادا کریں گے؟ دینِ صحت مطلقاً اور دینِ مرض بسببٍ معلومٍ، ان کو ادا کریں گے، اگر کچھ مال بچ گیا تو پھر کس کو ادا کریں گے؟ دینِ مرض باقرارِہِ بھئی، اس کو ادا کریں گے، اب اگر کچھ مال بچا تو اب کس میں تقسیم کیا جائے گا؟ وارثوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ تو یہی بات کر رہے ہیں بھئی، دَيْنُ صِحَّةٍ مُطْلَقًا، دینِ صحت مطلقاً، أَيْ سَوَاءٌ عُلِمَ بِسَبَبِهِ، برابر ہے کہ وہ معلوم ہو اپنے سبب کی وجہ سے، أَوْ عُلِمَ بِالْإِقْرَارِ، یا وہ معلوم ہو کس کی وجہ سے؟ اس کے اقرار کی وجہ سے، یعنی حالتِ صحت میں اس نے اس کا اقرار کیا تھا۔ وَدَيْنُ مَرَضِهِ، اور اس کے مرض کا دین بھئی تو عام مرض نہیں مراد، اَلْمُرَادُ مَرَضُ الْمَوْتِ، مراد کیا ہے؟ مرض الموت ہے بھئی، بِسَبَبٍ مَعْلُومٍ فِيهِ، أَيْ فِي الْمَرَضِ، ایسے سبب کی وجہ سے جو معلوم ہے کس کے اندر؟ مرض میں، مرض میں وہ سبب بھی ہمیں معلوم ہے جس کی وجہ سے وہ دین آیا ہے مثلاً، وَعُلِمَ بِلَا إِقْرَارٍ، اور جانا گیا ہے بغیر اس کے اقرار کے، یعنی اس کے اقرار کی حاجت نہیں، دین آیا تو اس پر کس حالت میں؟ مرض الموت میں، لیکن اس کے اقرار سے ہمیں پتہ چلا؟ نہیں، بلکہ سببِ معلوم سے، جیسے كَبَدَلِ مَا مَلَكَهُ، جیسے بدل اس چیز کا جس کا وہ مالک بنا، بھئی اس نے کیا کیا تھا؟ مرض الموت میں زید سے گاڑی خریدی تو گاڑی کا وہ کیا بن گیا؟ مالک بن گیا، تو اس کا بدل دینا پڑے گا یا نہیں اسے؟ پانچ لاکھ دینے پڑیں گے یا نہیں دینے پڑیں گے مثلاً؟ پانچ لاکھ کی گاڑی ہے تو یہ بدل پانچ لاکھ اسے دینے پڑیں گے، تو یہ دین ہے مولانا مرض الموت میں ہے اور سبب اس کا معلوم ہے اور بغیر اقرار کے ہی ہمیں اس کا پتہ ہے، تو یہ اس کی مثال ہے كَبَدَلِ مَا مَلَكَهُ، جیسے بدل اس چیز کا جس کا وہ مریض مالک ہوا ہے، تو یہ مریض کو دینا پڑتا ہے بھئی، أَوْ أَتْلَفَهُ، اس کا عطف مَلَكَهُ پر ہے، كَبَدَلِ مَا أَتْلَفَهُ، مریض نے کیا کیا؟ کسی کی کوئی چیز تلف کر دی تو اب اس کا بھی اسے کیا دینا پڑے گا؟ بدل دینا پڑے گا، تو كَبَدَلِ مَا أَتْلَفَهُ، وَبَدَلِ مَا مَلَكَهُ، وَبَدَلِ مَا أَتْلَفَهُ، تو ان کا بدل دیکھو اب سبب معلوم ہے، أَوْ مَهْرِ عِرْسِهِ، یا اس کی بیوی کا مہر، مرض الموت میں اس نے نکاح کر لیا بھئی، کیا کر لیا؟ نکاح کر لیا، جی تو یہ دیکھو اب سبب کیا ہے؟ مہر بھی دین ہوا کرتا ہے آپ جانتے ہیں، تو اس پر یہ دین آیا اور دین کیا ہے؟ اس کا سبب ہمیں معلوم ہے۔ سَوَاءٌ، یہ دونوں برابر ہیں بھئی یا یوں کہو دونوں برابر ہیں، دینِ صحت مطلقاً اور دینِ مرض بسببٍ معلومٍ یہ دونوں کیا ہیں؟ سَوَاءٌ بھئی، یہ خبر آ گئی، یہ برابر ہیں، وَقُدِّمَا، اور یہ دونوں مقدم کیے جائیں گے، عَلَى مَا أَقَرَّ بِهِ فِي مَرَضِ مَوْتِهِ، اس چیز پر جس کا اقرار اس نے کس میں کیا تھا؟ اس دین پر، مَا سے مراد دین ہے، اور یہ دونوں دیون اوپر والے دونوں دین مقدم کیے جائیں گے عَلَى مَا أَقَرَّ بِهِ فِي مَرَضِ مَوْتِهِ، جس کا اقرار اس نے کس میں کیا تھا؟ مرض الموت، هَذَا عِنْدَنَا، یہ ہمارے نزدیک ہے، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى هَذَا يُسَاوِي الْأَوَّلَيْنِ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جو تیسری قسم ہے یہ يُسَاوِي، برابر ہے کس کے؟ الْأَوَّلَيْنِ، پہلی دو کے، کیونکہ ان کے نزدیک تینوں برابر ہیں بھئی، لِاسْتِوَاءِ السَّبَبِ، اس لیے کہ سبب کیا ہیں؟ برابر ہیں، وَهُوَ الْإِقْرَارُ، اور وہ کیا ہے؟ اقرار، جیسے صحت کے اندر اقرار تھا اس کے اندر بھی اقرار ہے بھئی تو برابر ہوئے بھئی، وَلَنَا، ہم جواب دیتے ہیں، أَنَّ إِقْرَارَ الْمَرِيضِ وَقَعَ بِمَا تَعَلَّقَ بِهِ حَقُّ الْغَيْرِ، ہم کہتے ہیں بھئی جب انسان مرض الموت میں گرفتار ہو جاتا ہے تو اس وقت اس کی موت معلوم ہوا بڑی قریب آ گئی، اب اس کے مال کے ساتھ اوروں کا حق متعلق ہو گیا۔ اوروں کا حق کیا ہو گیا؟ متعلق ہو گیا، لہٰذا اب اس کا کسی کے لیے اقرار کرنا کہ فلاں کے میں نے اتنا دین دینا ہے، یہ اقرار باقیوں کی رضامندی کے بغیر درست، کیونکہ اب وہ مرنے والا ہے، اس کا مال بھئی اس کے ساتھ دوسرے قرض خواہوں کا حق متعلق ہو چکا ہے اور اس کے وارثوں کا حق کیا ہو چکا ہے؟ لہٰذا وَلَنَا، ہم جواب دیتے ہیں، دلیل سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ مرض الموت میں بھئی انسان موت کے قریب پہنچ گیا تو کس کا حق متعلق ہو گیا اس کے مال کے ساتھ؟ دوسرے قرض خواہوں کا جن کا اس نے حالتِ صحت میں اقرار کیا تھا یا جن کا سبب معلوم تھا وغیرہ، اور اور جن کا حق متعلق ہو گیا؟ وارثوں وغیرہ کا، تو اب یہ اقرار باقیوں کی رضامندی کے بغیر درست، وَلَنَا، ہماری دلیل یہ ہے کہ أَنَّ إِقْرَارَ الْمَرِيضِ وَقَعَ، کہ ایک مریض کا اقرار واقع ہوا ہے، بِمَا، ایسی چیز کے ساتھ یعنی اس مال کے ساتھ، تَعَلَّقَ بِهِ حَقُّ الْغَيْرِ، جس کے ساتھ کیا ہے؟ غیر کا حق متعلق ہو گیا ہے۔ وَالْكُلُّ مُقَدَّمٌ عَلَى الْإِرْثِ، اور کل کے کل بھئی یعنی تینوں دیون جو ہیں مقدم ہیں عَلَى الْإِرْثِ، کس پر؟ میں نے آپ کو بتلایا بھئی سب سے پہلے کیا کیے جائیں گے؟ دیون ادا کیے جائیں گے، پھر مال بچے گا تو وراثت اس میں جاری ہو گی ورنہ اگر سارا مال ختم ہو جاتا ہے تو وراثت جاری نہیں، ختم ہو گیا پھر تو، تو یہی بات کر رہے ہیں وَالْكُلُّ، یعنی دیونِ ثلاثہ جو ہیں مُقَدَّمٌ عَلَى الْإِرْثِ، یہ مقدم ہیں وراثت پر، مقدم ہیں وراثت پر، وَإِنْ شَمَلَ مَالَهُ، وَإِنْ شَمَلَ مَالَهُ، وَإِنْ شَمَلَ، أَيِ الدُّيُونُ الثَّلَاثَةُ بھئی، بھئی یہ شَمَلَ بتلایا فاعل کون ہے اس کے لیے؟ دیونِ ثلاثہ، یہ ضمیر مرجع بتلا دیا، اگرچہ کیا ہوں بھئی؟ دیونِ ثلاثہ شامل ہو جائیں مَالَهُ اس شخص کے سارے مال کو، وہ جو مورث مرا ہے۔ تو ضابطہ کیا ذکر ہوا؟ کہ کوئی شخص مر جائے تو پہلے کیا کیا جائے گا؟ وہ مقدم ہے وراثت پر اگرچہ یہ دیونِ ثلاثہ شامل ہو جائیں اس کے سارے مال کو اور سارا مال ہی اس میں کیا ہو جائے؟ ختم ہو جائے، یہ معنی وَإِنْ شَمَلَ مَالَهُ، اگرچہ یعنی دیونِ ثلاثہ اگرچہ دیونِ ثلاثہ شامل ہو جائیں اس کے سارے مال کو، بھئی دیونِ ثلاثہ کون سے ہیں؟ بتلا رہے ہیں، وَهِيَ دَيْنُ الصِّحَّةِ، ایک دینِ صحت ہے، وَدَيْنُ الْمَرَضِ بِسَبَبٍ مَعْلُومٍ، ایک دینِ مرض ہے سببِ معلوم کے ساتھ، وَدَيْنُ الْمَرَضِ الَّذِي عُلِمَ بِمُجَرَّدِ الْإِقْرَارِ، اور تیسرا کیا ہے؟ وہ دینِ مرض ہے جس کا پتہ صرف مریض کے اقرار سے چلا ہے، مُقَدَّمٌ عَلَى الْإِرْثِ، یہ تینوں دیون مقدم ہیں وراثت پر، وَإِنْ شَمَلَ جَمِيعَ الْمَالِ، اگرچہ یہ شامل ہو جائیں اس کے سارے مال کو۔ وَلَا يَصِحُّ أَنْ يَخُصَّ، أَيِ الْمَرِيضُ فِي مَرَضِ مَوْتِهِ، ضمیر کا مرجع بتلایا يَخُصَّ کی ضمیر کس کو راجع ہے؟ وَلَا يَصِحُّ أَنْ يَخُصَّ، أَيِ الْمَرِيضُ فِي مَرَضِ الْمَوْتِ، غَرِيمًا بِقَضَاءِ دَيْنِهِ وَلَا إِقْرَارُهُ لِوَارِثِهِ إِلَّا أَنْ يُصَدِّقَهُ الْبَقِيَّةُ. صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص ہے مرض الموت میں گرفتار ہے، وہ کہتا ہے بھئی یوں کرو زید کا میں نے زید کا جو میں نے ایک لاکھ روپیہ دینا ہے کیا کرو وہ اسے ایک لاکھ ادا کر دو، اس کے کئی قرض خواہ ہیں مولانا ان میں سے ایک کی تخصیص کر دیتا ہے اور اس کا قرضہ ادا کرتا ہے، یہ کرنا درست نہیں بھئی، اس لیے کہ باقی قرض خواہوں کا حق بھی متعلق ہو چکا ہے، ہاں اگر باقی قرض خواہ بھی کیا کر دیتے ہیں؟ تصدیق کر دیتے ہیں کہ ہاں ٹھیک ہے، کیا کرو زید کا قرضہ آپ ادا کر دیں، پھر تو درست ہے، لیکن خود وہ تخصیص کرتا ہے ایک کا قرضہ ادا کرتا ہے مرض الموت میں باقیوں کا قرضہ ادا نہیں کرتا یہ درست نہیں ہے۔ اسی طرح اگر وارثوں میں کسی ایک کے لیے اقرار کرتا ہے تو یہ بھی درست نہیں ہے بھئی، جب تک باقی وارث تصدیق نہ کریں، صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی کہ زید نے مرض الموت میں کہا کہ میرا جو فلاں بیٹا ہے اس کے میں نے ایک لاکھ دین میرے اوپر تھا وہ میں نے دینا ہے وہ اس کو دے دینا بھئی، کیا کرنا اس کو؟ دے دینا، کہتے ہیں نہیں بھئی وارث کے لیے اقرار کرنا صحیح نہیں، ہاں اگر باقی ورثہ تصدیق کر دیتے ہیں، وارث کے لیے کیوں نہیں اقرار صحیح؟ کیونکہ باقی وارثوں کا حق بھی تو متعلق ہو چکا ہے، تو ہاں اگر باقی تصدیق کر دیتے ہیں کہ ہاں ٹھیک ہے بھئی تو پھر اس صورت میں صحیح ہے، یہ معنی ہے وَلَا يَصِحُّ، صحیح نہیں ہے، أَنْ يَخُصَّ، کہ تخصیص کر دے مریض بھئی مرض الموت کے اندر غَرِيمًا، کسی قرض خواہ کی، بِقَضَاءِ دَيْنِهِ، اس کے دین کی ادائیگی کے ساتھ، وَلَا إِقْرَارُهُ، اور صحیح نہیں ہے اس مریض کا اقرار کرنا لِوَارِثِهِ، اپنے کسی اپنے وارث کے لیے، إِلَّا أَنْ يُصَدِّقَهُ الْبَقِيَّةُ، مگر یہ کہ باقی کیا کر دیں؟ تصدیق کر دیں، بقیہ تو یہ دونوں سے متعلق ہے، باقی قرض خواہ تصدیق کر دیں تو اس قرض خواہ کو کیا کر دیا جائے گا؟ ادائیگی کر دی جائے گی، یا باقی وارث تصدیق کر دیں تو اس وارث کے لیے اقرار کیا ہو جائے گا؟ صحیح ہو جائے گا، یہی بات کرنے لگے ہیں، أَيْ بَقِيَّةُ الْغُرَمَاءِ فِي الدَّيْنِ، کہ تصدیق کر دیں باقی غرماء کس کے اندر؟ دین کے اندر، وَبَقِيَّةُ الْوَرَثَةِ فِي الْإِقْرَارِ لِوَارِثٍ، اور باقی ورثہ تصدیق کر دیں کس کے اندر؟ وارث کے لیے اقرار میں تصدیق کر دیں کہ ٹھیک ہے۔ وَإِنْ أَقَرَّ الْمَرِيضُ بِشَيْءٍ لِرَجُلٍ ثُمَّ بِبُنُوَّتِهِ ثَبَتَ نَسَبُهُ وَبَطَلَ مَا أَقَرَّ بِهِ. صورتِ مسئلہ یہ ہے مولانا: ایک آدمی نے کسی شخص کے لیے بھئی مریض نے مرض الموت میں اقرار کیا بھئی، مرض الموت میں کہتا ہے بھئی میرے اوپر زید کا مثلاً ایک لاکھ روپیہ دین ہے اقرار کیا، پھر چند دنوں کے بعد کہتا ہے کہ زید میرا بیٹا ہے، اور زید مجهول النسب تھا بھئی اس کے باپ نسب کا کچھ پتہ نہیں تھا بھئی، اجنبی آیا تھا یا کچھ، تو مجهول النسب تھا، تو کہتے ہیں بھئی اس صورت میں نسب ثابت ہو جائے گا، زید کیا شمار ہو گا اس کا؟ بیٹا، اور بیٹا جب بیٹا ہے زید تو بیٹے کے لیے تو وصیت کرنا درست، بیٹے کے لیے تو اقرار کرنا صحیح نہیں آپ پہلے پڑھ چکے ہیں، تو لہٰذا وہ اقرار کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ دوسری صورت ہے: ایک آدمی نے ایک عورت کے لیے بھئی کیا کیا؟ اقرار کیا، اجنبیہ عورت ہے مولانا کوئی رشتہ دار وغیرہ نہیں، کہ اس عورت کا میں نے کتنا دین دینا ہے؟ ایک لاکھ روپیہ دینا ہے بھئی، جی پھر اس کے ساتھ کیا کر لیتا ہے؟ نکاح کر لیتا ہے، تو کیا وہ اقرار باطل ہوا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی وہ اقرار باطل نہیں، بھئی کیا وجہ ہے؟ بیٹے کی صورت میں تو وہ اقرار باطل ہو جاتا تھا اور اجنبیہ کے ساتھ نکاح کر لیا تو وہ اقرار باطل نہیں، کہتے ہیں اس لیے کہ جب اس نے اقرار کیا تھا کہ میں نے ایک لاکھ کس کا دینا ہے؟ زید کا، اور بعد میں کیا کہتا ہے؟ بیٹا ہے، تو جس وقت اقرار کیا تھا اس وقت بھی زید بیٹا تھا یا بیٹا نہیں تھا؟ بیٹا ہونا تو کب سے ہوتا ہے؟ جب سے حمل ٹھہر گیا بھئی، جب سے پیدائش ہو گئی بھئی، اس وقت سے وہ کیا ہے اس کا؟ بخلاف دوسری صورت کے کہ جب اجنبیہ کے لیے اس نے اقرار کیا تھا تو اس وقت وہ اجنبیہ تھی اور اس کے ساتھ تعلق کب بنا؟ نکاح کے بعد بھئی، تو وہ تعلق نکاح ہی کے وقت سے شمار ہوتا ہے ماقبل میں شمار نہیں، جبکہ بیٹے کے لیے اقرار تو وہ اس وقت کر رہا ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے لیکن کیا تعلق اس وقت سے ہے یا وہ پیدائش سے ہے بھئی حمل ٹھہرنے سے ہی ہے؟ حمل ٹھہرنے کے وقت سے تعلق ہے۔ تو فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی ہے: وَإِنْ أَقَرَّ، أَيِ الْمَرِيضُ، اگر اقرار کرتا ہے مریض بِشَيْءٍ، کسی چیز کا لِرَجُلٍ، کسی آدمی کے لیے، ثُمَّ بِبُنُوَّتِهِ، پھر اقرار کرتا ہے اس کے بیٹا ہونے کا، ثَبَتَ نَسَبُهُ، تو اس کا نسب کیا ہو جائے گا اس شخص کا نسب اس سے ثابت ہو جائے گا، وَبَطَلَ مَا أَقَرَّ بِهِ، اور باطل ہو جائے گا وہ دین جس کا اس نے اقرار کیا تھا، وَصَحَّ مَا أَقَرَّ لِأَجْنَبِيَّةٍ، اور صحیح ہے وہ جو اقرار اس نے اقرار کیا کسی اجنبیہ کے لیے۔ ثم نکح پھر اسے کیا کر لیا؟ نکاح۔ تو بھی وہ اقرار باطل نہیں ہوگا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ فِي الْأَوَّلِ إِقْرَارُ الْمَرِيضِ لِابْنِهِ، اس لیے کہ پہلی صورت میں وہ اقرار ہے مریض کا کس کے لیے؟ اپنے بیٹے کے لیے۔ اگرچہ ابھی اس نے بتلایا نہیں تھا لیکن تھا تو اپنے بیٹے کے لیے۔ وَفِي الثَّانِي لِأَجْنَبِيَّةٍ، اور ثانی صورت میں اقرار کس کے لیے ہے؟ أجنبیَّۃٍ ہی کے لیے ہے، اب اگرچہ بیوی بنی ہے لیکن اس وقت تو وہ أجنبیَّۃٍ ہی تھی۔ وَلَوْ أَقَرَّ بِبُنُوَّةِ غُلَامٍ جُهِلَ نَسَبُهُ وَيُولَدُ مِثْلُهُ لِمِثْلِهِ وَصَدَّقَهُ الْغُلَامُ صَبْتَ نَسَبُهُ وَلَوْ فِي مَرَضٍ وَشَارَكَ الْوَرَثَةَ. صورت مسئلہ یہ ہے: ایک آدمی نے کسی لڑکے کے بیٹا ہونے کا اقرار کیا۔ ایک آدمی نے کیا کیا؟ مرض الموت میں ہے، ایک لڑکے کے بارے میں اس نے اقرار کر دیا کہ یہ میرا بیٹا ہے، اور وہ لڑکا ایسا تھا کہ مجھول النسب تھا بھئی! کیونکہ اگر معروف النسب ہو تو پھر نسب ثابت نہیں ہو سکتا۔ تو وہ مجھول النسب تھا، اور نيز ان دونوں کی مُقِر اور مُقَرَّ لہ کی عمر بھی ایسی تھی کہ اس جیسا لڑکا اس کا بیٹا ہو سکتا تھا، مثلاً اقرار کرنے والے کی عمر ہے ساٹھ سال اور جس کے لیے اقرار کیا وہ لڑکا اس کی عمر بیس سال ہے بھئی! تو ساٹھ سال ہے یا پچاس سال والے کا لڑکا بیس سال کا ہو، بیس سال یا پچیس سال کا ہو سکتا ہے، اور غلام اس کی تصدیق بھی کر دیتا ہے، کیا کر دیتا ہے؟ تصدیق بھی کر دیتا ہے، تو اس صورت میں کہتے ہیں: نسب ثابت ہو جائے گا، اور اگرچہ یہ اقرار اس نے کس میں کیا ہو؟ مرض الموت ہی میں کیوں نہ کیا ہو اور وہ شخص اور شَارَكَ الْوَرَثَةَ اور وہ غلام ورثہ کے ساتھ کیا ہو جائے گا؟ شریک ہو جائے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی ہے: وَلَوْ أَقَرَّ، اگر کسی شخص نے اقرار کیا، وہ مریض نے، مریض نے اقرار کیا بِبُنُوَّةِ غُلَامٍ کسی لڑکے کے بیٹا ہونے کا، جُهِلَ نَسَبُهُ کہ جس کا نسب کیا ہے؟ مجھول۔ غلام لڑکے کو بھی کہتے ہیں عربی میں بھئی۔ جُهِلَ نَسَبُهُ کہ جس کا نسب کیا ہے؟ مجھول ہے، وَيُولَدُ مِثْلُهُ لِمِثْلِهِ اور اس جیسے لڑکے کا جنم کو جنم دیا جاتا ہے اس جیسے شخص کے لیے، یعنی اس جیسا لڑکا اس جیسے آدمی کا بیٹا ہو سکتا ہے۔ أَيْ هُمَا فِي السِّنِّ، یعنی وہ دونوں عمر کے اندر بِحَيْثُ اس طور پر ہیں کہ يُولَدُ مِثْلُهُ لِمِثْلِهِ کہ اس جیسے لڑکے کو اس جیسے شخص کے لیے جنم دیا جاتا ہے، وَصَدَّقَهُ الْغُلَامُ اور غلام بھی کیا کر دیتا ہے بھئی؟ اس کی تصدیق کر دیتا ہے، وہ لڑکا بھی اس کی تصدیق کر دیتا ہے، فَثَبَتَ نَسَبُهُ تو اس کا نسب کیا ہو جائے گا؟ ثابت ہو جائے گا، وَلَوْ فِي مَرَضٍ، اگرچہ وہ کس میں ہو؟ مرض میں ہی، مرض الموت میں کیوں نہ ہو، وہ شَفْعَ وَشَارَكَ الْوَرَثَةَ اور وہ غلام ورثہ کے ساتھ کیا ہو جائے گا؟ شریک ہو جائے گا۔ بھئی! یہ آپ نے تو غلام کی تصدیق کی شرط کیوں لگائی کہ وہ لڑکا بھی تصدیق کرے؟ کہتے ہیں: وَشَرْطُ تَصْدِيقِ هَؤُلَاءِ، ان کی تصدیق بھی شرط ہے، یہ سارے ایک بشرطِ کیا کریں؟ تصدیق تصدیق کریں۔ ایک آدمی نے کہا: "فلاں میرے والدین ہیں" یا عورت نے کہا: "فلاں میرے والدین ہیں"، تو یہ اقرار صحیح ہے یا صحیح نہیں؟ کہتے ہیں: اقرار صحیح ہے۔ یہ عورت کہتی ہے: "فلاں میرے والدین ہیں"، تو مرد بھی یہ کہہ سکتا ہے اور عورت بھی یہ کہہ سکتی ہے۔ وَالْوَلَدَ، اور اسی طرح بھئی! مرد کہتا ہے: "فلاں میرا بیٹا ہے یا بیٹی ہے"، عورت بھی کہہ سکتی ہے: "فلاں میرا بیٹا ہے یا بیٹی ہے"، وَالزَّوْجُ، بیوی کہہ سکتی ہے: "فلاں میرا خاوند ہے" یا خاوند کہہ سکتا ہے: "فلاں میری بیوی ہے"، وَالْمَوْلَى، کوئی کہہ سکتا ہے: "فلاں میرا مولیٰ ہے"، یعنی اس نے مجھے غلامی سے آزادی دی ہے، مجھے آزاد کرنے والا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو ان سب ان سب کے کے لیے انسان اقرار کر سکتا ہے، لیکن وَشُرِطَ تَصْدِيقُ هَؤُلَاءِ، ان کی تصدیق بھی شرط ہے، یہ سارے ایک بشرطِ کیا کریں؟ تصدیق تصدیق کریں۔ ایک آدمی نے کہا: "فلاں میرے والدین ہیں" یا عورت نے کہا: "فلاں میرے والدین ہیں"، تو یہ اقرار صحیح ہے، لیکن ان کی تصدیق بھی وہ بھی تصدیق کریں بھئی۔ یا ایک آدمی کہتا ہے: "یہ میرا بیٹا ہے یا بیٹی ہے" یا عورت کہتی ہے: "بیٹا، بیٹی"، تو ان کی بھی تصدیق ضروری۔ یا میاں کہتا ہے: "یہ میری بیوی ہے" یا بیوی کہتی ہے: "یہ میرا خاوند ہے"، دعویٰ کر دیتے ہیں، اقرار کر لیتے ہیں، تو اس صورت میں دوسرے کی تصدیق شرط ہے، كَمَا شُرِطَ، تو یہ معنی ہے وَشُرِطَ تَصْدِيقُ هَؤُلَاءِ، ان کی تصدیق بھی شرط ہے، كَمَا شُرِطَ تَصْدِيقُ الزَّوْجِ، جیسے کہ خاوند کی تصدیق شرط ہے، وَشَهَادَةِ الْقَابِلَةِ، یا کس کی شہادت بھئی؟ ایک دایا کی شہادت شرط ہے فِي إِقْرَارِهَا بِالْوَلَدِ، کہ جب عورت اقرار کرے کسی بچّے کا۔ بھئی اوپر متن میں کتنے مسئلے گزرے؟ ایک آدمی کس کا اقرار کرتا ہے؟ اپنے لیے والدین کا اقرار کرتا ہے یا اپنے لیے بیٹے کا یا بیٹی کا اقرار کرتا ہے، تو عورت بھی اسی طرح والدین کا بھی اقرار کر سکتی ہے، بیٹے یا لیکن خاوند اگر اقرار کرتا ہے بیٹے یا بیٹی کا، تو بیوی کی تصدیق کی ضرورت؟ خاوند نے کہا: "فلاں میرا بیٹا ہے"، تو پھر بیٹے کی تصدیق ضروری، بیوی کی تصدیق ضروری؟ لیکن بیوی اگر کہتی ہے: "فلاں میرا بیٹا ہے یا فلاں میری بیٹی ہے"، تو کس کی تصدیق ضروری ہے؟ یا تو خاوند تصدیق کرے کہ ہاں واقعی یہ کیا ہے میرا بیٹا یا بیٹی ہے، یا ایک دایا گواہی دے دے کہ اس عورت نے اس اس لڑکے یا لڑکی کو کیا کیا تھا؟ جنم دیا تھا۔ یہ معنی ہے: تو یہ بھی شرط ہے كَمَا شُرِطَ تَصْدِيقُ الزَّوْجِ جیسے شرط لگائی جائے گی خاوند یا کی تصدیق کی، یا دایا کی، قابلہ کہتے ہیں دایا کو بھئی، یا دایا کی شہادت کی فِي إِقْرَارِهَا بِالْوَلَدِ، کس کے اندر جبکہ وہ عورت اقرار کرے لڑکے کا، تو کہتے ہیں: تَكْفِي شَهَادَةُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ بھئی، کافی ہے، بھئی کیا کہا؟ ایک دایا گواہی دے، بھئی یہ دایا کی گواہی کی کیوں ضرورت؟ کہتے ہیں بھئی تَكْفِي شَهَادَةُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ، اس مسئلے کے اندر ولادت کا مسئلہ ہے، اور اس ولادت کے اندر ایک عورت کی گواہی بھی کافی ہے، وَذُكِرَ الْقَابِلَةُ، بھئی قابلہ انہوں نے تو دایا کا ذکر کیا ہے، کہتے ہیں: یہ جو دایا کا ذکر کیا گیا، خَرَجَ مَخْرَجَ الْعَادَةِ، اس کو عادت کے موافق ذکر کیا، کس کے موافق؟ عادتاً بھئی عادتاً ہوتا یوں ہے پھر کون گواہی دیتی ہے؟ دایا ہی گواہی دے گی بھئی۔ سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اچھا بھئی، تو یہ صورت ہوئی بھئی۔ اچھا بھئی! بھئی کیا وجہ ہے؟ کہ خاوند اقرار کرتا ہے بیٹے یا بیٹی کا تو بیوی کی تصدیق کی ضرورت نہیں، لیکن بیوی تصدیق کرتی ہے اقرار کرتی ہے بیٹے یا بیٹی کا تو خاوند کی تصدیق کی ضرورت ہے، یہ کسی عورت کی گواہی کی ضرورت ہے؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ نسب جو چلتا ہے وہ کس سے چلتا ہے؟ باپ سے یا ماں سے بھئی؟ باپ سے چلتا ہے، تو خاوند نے جب بیٹے یا بیٹی ہونے کا اقرار کیا تو وہ اپنے اوپر نسب کیا کر رہا ہے؟ اپنے لیے اپنے اوپر نسب ڈال رہا ہے ان کا، کسی اور پر نسب نہیں ڈال رہا۔ لیکن جب بیوی نے کہا: "یہ میرا بیٹا ہے یا بیٹی ہے" تو دراصل وہ نسب کس کے اوپر ڈال رہی ہے؟ اپنے خاوند پر ڈال رہی ہے، اپنے خاوند سے ان کا نسب ثابت کرنا چاہتی ہے، تو اس کے لیے لہٰذا خاوند کی تصدیق ضروری۔ وَصَحَّتْ وَصَحَّتِ التَّصْدِيقُ بَعْدَ مَوْتِ الْمُقِرِّ إِلَّا مِنَ الزَّوْجِ بَعْدَ مَوْتِهَا مُقِرَّةً. بھئی، ان اوپر والی صورتوں میں اقرار کرنے والا اقرار کر کے مر گیا کہ فلاں میرے والدین ہیں یا فلاں میرا بیٹا ہے یا بیٹی ہے یا فلاں میری بیوی ہے، وغیرہ۔ تو اب دوسرے کی تصدیق کی بھی تو ضرورت تھی، دوسرا اس کی تصدیق کرے۔ تو اقرار کرنے والا مر گیا، اس کے مرنے کے بعد مُقِر لہ نے کیا کی اس کی؟ تصدیق کی کہ ہاں واقعی میں اس کا بیٹا ہوں یا ہاں واقعی میں اس کا باپ ہوں، تو کہتے ہیں: یہ درست ہے مولانا! یہ بھی کیا ہے؟ موت کے بعد بھی تصدیق کر دیتا ہے اقرار کی تو صحیح ہے۔ ہاں، البتہ خاوند نے اقرار کیا تھا کہ یہ میری بیوی ہے، وہ خاموش رہی، کوئی جواب نہیں دیا بھئی اس نے۔ خاوند کے مرنے کے بعد اب وہ عورت کہتی ہے: "ہاں، میں اس کی بیوی تھی" کہتے ہیں: اس تصدیق، یہ تصدیق درست نہیں ہے مولانا۔ کیونکہ نکاح ختم ہو چکا۔ نہیں! عکس بھئی، عکس کرو۔ بیوی تصدیق کرتی ہے پھر تو ٹھیک ہے، کیونکہ اس صورت میں ابھی عدت باقی ہے، نکاح کا حکم باقی ہوتا ہے۔ صورت کیا بنائی میں نے؟ اقرار کس نے کیا تھا؟ خاوند کی اقرار کیا تھا شوہر نے، اور پھر اقرار کے بعد وہ مر گیا، اور اس کے مرنے کے بعد کس نے تصدیق کی؟ بیوی نے۔ یہ تو درست ہے مولانا، اس لیے کہ نکاح مرنے سے نکاح ختم ہو جاتا ہے، لیکن یہاں ابھی نکاح پوری طرح ختم نہیں ہوا، کیونکہ عورت پر نکاح کا ایک حکم ابھی بھی باقی ہے اور وہ کیا؟ عدت، وہ گزارے کی عدت پر تو عورت پھر تصدیق کر سکتی ہے، تصدیق۔ لیکن اگر عورت نے کہا تھا کہ یہ میرا خاوند ہے، اور خاوند نے کوئی جواب نہیں دیا، عورت مر گئی، مرنے کے بعد وہ شخص کیا کہتا ہے: "واقعہ وہ میری بیوی تھی"، اب تصدیق کر رہا ہے، اب یہ تصدیق درست نہیں مولانا، اس لیے کہ موت کی وجہ سے نکاح کیا ہو چکا؟ ختم ہو چکا۔ یہ معنی ہے: وَصَحَّتِ التَّصْدِيقُ بَعْدَ مَوْتِ الْمُقِرِّ، اور تصدیق کرنا صحیح ہے مُقِر کی موت کے بعد، إِلَّا مِنَ الزَّوْجِ، مگر کس سے؟ مگر کس کی طرف سے؟ خاوند کی طرف سے، کہ وہ تصدیق صحیح نہیں بَعْدَ مَوْتِهَا، جبکہ کون مر جائے؟ وہ عورت مر جائے اِس حال میں مُقِرَّةً کہ وہ کیا کرنے والی تھی؟ یعنی اقرار کرنے والی وہ عورت تھی کہ یہ میرا خاوند ہے اور مر چکی ہے۔ ھذا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، یہ امام اعظم ابو حنيفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے، لِأَنَّ حُكْمَ النِّكَاحِ يَنْقَطِعُ بِالْمَوْتِ، اس لیے کہ نکاح کا حکم کیا ہے؟ موت کی وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے۔ دیکھا بھئی! اسی لیے آپ نے پڑھا ہے کہ بیوی مر گئی، اور خاوند اب اس کو غسل نہیں دے سکتا، کیونکہ نکاح کیا ہو چکا؟ ٹوٹ چکا، وہ اجنبیہ بن گئی۔ لِأَنَّ حُكْمَ النِّكَاحِ يَنْقَطِعُ بِالْمَوْتِ، اس لیے کہ نکاح کا حکم ٹوٹ چکا ہے موت کی وجہ سے، فَلَا يَصِحُّ تَصْدِيقُ الزَّوْجِيَّةِ بَعْدَ انْقِطَاعِهَا، لہٰذا زوجیت کی تصدیق درست نہیں ہے بعد اس کے کہ بعد اس کے کہ زوجیت کیا ہو چکی ہے؟ منقطع ہو چکی ہے۔ بِخِلَافِ تَصْدِيقِ الزُّوجَةِ، بخلاف اس کس کی تصدیق کے؟ زوجہ کی تصدیق کے، یعنی خاوند نے اقرار کیا تھا اور وہ مر گیا اور تصدیق کون کرتی ہے؟ بیوی، یہ صحیح ہے کیوں؟ لِأَنَّ حُكْمَ النِّكَاحِ بَاقٍ بَعْدَ الْمَوْتِ، اس لیے کہ نکاح کا حکم موت کے بعد بھی باقی ہے لِوُجُوبِ الْعِدَّةِ، بوجہ عدت کے واجب ہونے کے۔ وَعِنْدَهُمَا صاحبین فرماتے ہیں: یہ صحیح ہے۔ وہ فرماتے ہیں: صحیح ہے، چاہے اقرار میاں نے کیا ہو، چاہے بیوی نے کیا ہو، اور بعد میں مر جائے تو دوسرے کی تصدیق کرنا صحیح ہے۔ بِاعْتِبَارِ أَنَّ حُكْمَ النِّكَاحِ وَهُوَ الْإِرْثُ بَاقٍ بَعْدَ الْمَوْتِ، اس لیے کہ وہ فرماتے ہیں کہ نکاح کا حکم جو ہے اور وہ کون سا؟ ورثہ، وراثت، باقین وہ باقی ہے موت کے بعد بھی، وہ فرماتے ہیں ابھی بھی نکاح کا ایک حکم باقی ہے اور وہ کیا ہے؟ وراثت، خاوند کیا بنتا ہے؟ بیوی کا وارث بنتا ہے اور بیوی کیا بنتی ہے؟ خاوند کی وارث، تو یہاں وراثت والا حکم ابھی بھی باقی ہے، لہٰذا تصدیق صحیح ہے چاہے بیوی کرے چاہے خاوند کرے۔ وَلَهُ امام صاحب فرماتے ہیں: أَنَّ التَّصْدِيقَ يُسْتَنَدُ إِلَى الْإِقْرَارِ، کہ یہ جو تصدیق ہے اس کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ بھئی کس چیز کی تصدیق کر رہا ہے؟ اقرار کی تصدیق کر رہا ہے، وَالْإِرْثُ حِينَئِذٍ مَعْدُومٌ، اور وراثت تو اس وقت معدوم تھی، جب اس نے اقرار کیا تھا، جبکہ کیا کیا تھا؟ بھئی، بیوی نے کا کیا کہا تھا؟ کہ یہ میرا شوہر خاموش رہا، یہاں تک کہ بیوی وہ مقرہ مر گئی، اس کے بعد خاوند کیا کہتا ہے کہ ہاں یہ میری بیوی ہے، یہ تصدیق درست نہیں امام صاحب کے نزدیک، کیوں نہیں درست؟ صاحبہ فرماتے ہیں نہیں، نکاح کا حکم اور وراثت تو باقی ہے، امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں بھئی، یہ جو تصدیق کر رہا ہے، یہ اس اقرار کی تصدیق کر رہا ہے، اور جس وقت اس عورت نے اقرار کیا تھا کیا اس وقت وراثت موجود تھی؟ وراثت زندگی میں ہوتی ہے یا مرنے کے بعد ہوتی ہے بھئی؟ مرنے کے بعد، تو اقرار کے وقت وراثت کیا تھی؟ معدوم تھی، لہٰذا اب اس کا اعتبار نہیں بھئی، اب اس صورت میں درست نہیں ہے یہ اقرار۔ وَلَهُ امام صاحب فرماتے ہیں: أَنَّ التَّصْدِيقَ يُسْتَنَدُ إِلَى الْإِقْرَارِ، کہ تصدیق جو ہے اس کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ اقرار کی طرف کی جاتی ہے، وَالْإِرْثُ حِينَئِذٍ مَعْدُومٌ، اور وراثت تو اس وقت معدوم تھی، لہٰذا اب اس کی وجہ سے یہ حکم لگانا صحیح نہیں بھئی۔ وَلَوْ أَقَرَّ بِنَسَبٍ مِنْ غَيْرِ وِلَادَةٍ، یہ مسئلہ ہے مولانا! وَلَوْ أَقَرَّ بِنَسَبٍ مِنْ غَيْرِ وِلَادَةٍ كَأَخٍ وَعَمٍّ لَا يَصِحُّ. اور اگر کوئی اقرار کرتا ہے نسب کا ولادت کے علاوہ بھئی! بھئی ایک تو ولادت والا نسب ہے کہ یہ میرا باپ ہے یا یہ میرا بیٹا ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس کے علاوہ کوئی اقرار کرتا ہے كَأَخٍ، جیسے کہ بھئی ہے، ایک شخص کہتا ہے یہ فلاں کیا ہے میرا بھئی ہے، وَعَمٍّ یا کہتا ہے فلاں میرا چچا ہے، لَا يَصِحُّ، یہ اقرار صحیح نہیں۔ بھئی یہ کیوں نہیں صحیح؟ بیٹے کے لیے اقرار کرتا ہے فلاں میرا بیٹا ہے تو اقرار صحیح، فلاں میرا باپ ہے تو اقرار صحیح، تو بھئی کا اقرار کیوں نہیں صحیح؟ کہتے ہیں اس لیے کہ وہاں نسب کا تعلق اسی شخص کی ذات سے ہوا کرتا تھا، اور اب یہ نسب کو دوسرے پر ڈال رہا ہے، جب اس نے کہا فلاں میرا بھئی ہے، تو وہ گویا اپنے باپ پر اس کا نسب ڈال رہا ہے، کس پر ڈال رہا ہے؟ باپ پر، اور جب کہتا ہے فلاں میرا چچا ہے، تو دراصل اپنے دادا کے اوپر کیا کر رہا ہے اس کا نسب ڈال رہا ہے، اور غیر پر نسب ڈالنا صحیح نہیں۔ یہ معنی ہے لِأَنَّهُ تَحْمِيلُ النَّسَبِ عَلَى الْغَيْرِ، اس لیے کہ یہ نسب کو ڈالنا ہے غیر پر۔ وَيَرِثُ، جِي! لیکن مولانا یہاں دو حکم ہیں۔ ایک ہے: نسب تو ثابت نہیں ہوگا، لیکن وراثت میں وہ اس کے ساتھ شریک ہو جائے گا۔ ایک آدمی نے کہا: فلاں بھئی لڑکا میرا بھئی ہے، فلاں لڑکا میرا سگا بھئی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب بھئی، دو چیزیں تھیں: نسب تو ثابت نہیں ہوگا، کیوں؟ کیونکہ نسب کس پر ڈالنا چاہتا ہے؟ اپنے اپنے والد پر، اور غیر پر نسب ڈالنا صحیح نہیں۔ ہاں البتہ وراثت، وراثت اس کا اپنا حق ہے، وراثت کے اندر وہ لڑکا اس کے ساتھ شریک ہو جائے گا۔ وراثت کس کا حق ہے مولانا؟ باپ کے مرنے کے بعد کون وارث بنے گا؟ یہی شخص تو وارث بنے گا، تو وراثت اس کا اپنا حق ہے، اس کے اپنے حق کے، نسب اس کے باپ کا حق تھا، اس سے وہ اس پر نہیں ڈال سکتا، البتہ وراثت وراثت اس کا اپنا حق ہے، اس کے اندر کیا ہو جائے گا یہ لڑکا بھی اس کا شریک ہو جائے گا، لیکن اس کے لیے بھی ایک شرط ہے کہ کوئی اور وارث نہ ہو، کوئی اور وارث نہ ہو، صرف یہ اکیلا وارث بن رہا ہو، تو پھر اس صورت میں وہ اس کے ساتھ شریک ہو جائے گا، لیکن اگر اور وارث ہوئے چاہے بعید دور کے وارث ہی کیوں نہ ہوئے، پھر بھی یہ مَقَرٌّ لَهُ شریک وراثت میں نہیں ہوگا۔ یہ معنی ہے: وَيَرِثُ، اور یہ جو مُقَرٌّ لَهُ ہے وارث بھی بَنَے گا، إِلَّا مَعَ وَارِثٍ آخَرَ، مگر کس کے ساتھ؟ ایک اور وارث کے ساتھ، کہ پھر اس صورت میں یہ وارث نہیں بن سکے گا۔ وَإِنْ بَعْدَ اگرچہ وہ کیا ہو دوسرا وارث بَعِيد ہی کیوں نہ ہو، دور کا ہی کیوں نہ ہو۔ وَمَنْ أَقَرَّ بِأَخٍ وَأَبُوهُ مَيِّتٌ شَارَكَهُ فِي الْإِرْثِ بِلَا نَسَبٍ۔ صُورَةُ الْمَسْأَلَةِ: ایک آدمی ہے، اس کا باپ فوت ہو گیا بھئی۔ باپ کے مرنے کے بعد اس نے اقرار کیا کسی کے لیے کہ فلاں میرا بھئی ہے۔ کہتے ہیں بھئی اس صورت میں نسب تو ثابت نہیں ہوگا، کیوں؟ کیونکہ نسب کس پر ڈالنا چاہتا ہے؟ اپنے باپ پر اور یہ درست نہیں۔ البتہ وراثت جو اس کا اپنا حق ہے، اس کے اندر یہ کیا ہو جائے گا؟ شریک ہو جائے گا، اگر اور وارث نہ ہوئے بھئی۔ اور اگر اور وارث بھی ہیں، تو پھر صرف اسی کے حصے کے اندر ساتھ کیا ہو جائے گا؟ شریک ہو جائے گا۔ باقییوں کے حصے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن اس کے اپنے حصے میں وہ کیا ہو جائے گا اس کے ساتھ شریک ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے وَمَنْ أَقَرَّ بِأَخٍ اگر کسی نے کسی کے بھئی ہونے کا اقرار کیا وَأَبُوهُ مَيِّتٌ اس حال میں کہ اس کا باپ مر چکا ہے شَارَكَهُ فِي الْإِرْثِ تو یہ شریک ہو جائے گا اس کے ساتھ وراثت کے اندر بِلَا نَسَبٍ بغیر نسب کے، یعنی نسب میں شرکت نہیں ہوگی۔ لِأَنَّ الْمِيرَاثَ حَقَّهُ اس لیے کہ میراث جو ہے اسی اقرار کرنے والے کا حق ہے فَيُقْبَلُ فِيهِ إِقْرَارُهُ تو اس وراثت کے اندر اس کے اقرار کو قبول کیا جائے گا وَأَنَّ مَنِ النَّسَبَ نَسَبٌ مِنْهُ کیونکہ فَفِيهِ تَحْمِيلٌ عَلَى الْغَيْرِ اس لیے کہ اس کے اندر کیا ہے؟ نسب کو غیر پر ڈالنا ہے۔ وَلَوْ أَقَرَّ أَحَدُ ابْنَيْ مَيِّتٍ لَهُ عَلَى آخَرَ دَيْنٌ بِقَبْضِ أَبِيهِ نِصْفَهُ فَلَا شَيْءَ لَهُ وَنِصْفٌ لِلْآخَرِ صُورَةُ الْمَسْأَلَةِ: کدھر دیکھو بھئی۔ صُورَةُ الْمَسْأَلَةِ یہ کہ زَيْدُ کا عَمْرُو پر ایک ہزار درہم یا ایک سو درہم دَيْن تھا۔ زَيْدُ کا عَمْرُو پر ایک سو درہم دینے ہیں۔ زَيْدُ کا انتقال ہو گیا، زَيْدُ کے دو بیٹے تھے، وہ وارث ہوئے ان سو درہموں کے، جو کس نے دینے ہیں؟ عَمر نے دینے ہیں۔ دو بیٹوں میں سے ایک نے کہا کہ ہمارا باپ، یعنی زَيْدُ، نصف مال پر، نصف دَيْن اس نے وصول کر لیے تھے، ان پر قبضہ کر لیا تھا، یعنی پچاس درہم ہمارے والد کیا کر چکے؟ وصول کر چکے اور اس پر قبضہ... یہ کون کر رہا ہے اقرار؟ ایک بیٹا کر رہا ہے۔ دوسرا کہتا ہے نہیں نہیں، ایک پائی بھی وصول نہیں ہوئی، سارا ابھی کس پر دَيْن ہے؟ عَمر پر دَيْن ہے، تو کہتے ہیں اس صورت کے اندر یہ جو اقرار کرنے والا ہے، اس کا اقرار اس کے اپنے حصے کی طرف پھر جائے گا اور مَدْيُون پر کتنا باقی رہ جائے گا؟ پچاس درہم رہ جائیں گے، پچاس ختم ہوئے، لیکن یوں سمجھا جائے گا کہ جس بیٹے نے اقرار کیا تھا، اس نے اپنے پچاس وصول کر لیے اور دوسرے کے پچاس ابھی بھی... تو وہ جو اپنے وصول کرے گا پچاس، اس میں سے ایک پائی بھی دوسرے بھئی کو نہیں دے گا، اس کا حق نہیں اس میں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ صُورَةُ یہ کہ مَيِّت کا دَين تھا ایک شخص کے اوپر، اس کے دو بیٹے تھے، دو بیٹوں میں سے ایک نے کہا کہ ہمارا باپ زندگی میں ہی نصف دَين اس نے وصول کر کے قبضہ کر لیا تھا، دوسرا بیٹا کہتا ہے کوئی قبضہ نہیں کیا تھا, تو اس صورت کے اندر اس کا اقرار اپنے حصے کی طرف پھر جائے گا اور وہ سو درہم میں سے ایک بیٹے کا حصہ کتنا تھا؟ پچاس، تو گویا یہ اپنا حصہ پچاس درہم وصول کر چکا ہے اور باقی نصف پچاس جو ہے وہ کس کا ہے؟ دوسرے کا، تو صرف اب پچاس دَين ہے، اور وہ بھی دوسرا وصول کرے گا۔ دیکھیے! ترجمہ غور سے سننا بھئی، مشکل ہے ترجمہ۔ وَلَوْ أَقَرَّ اگر اقرار کیا، کس نے اقرار کیا؟ أَحَدُ ابْنَيْ مَيِّتٍ بھئی! ابنين تثنیہ کا صیغہ ہے مولانا، ایک نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ مَيِّت کے دو بیٹوں میں سے ایک نے، اقرار کس نے کیا؟ مَيِّت کے دو بیٹوں میں سے ایک نے، جی! غور سے سننا ترجمہ، مَيِّت کے دو بیٹوں میں سے ایک نے۔ مَيِّت معرفہ ہے یا نکرہ ہے بھئی؟ نکرہ ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور نکرہ کس کے... نکرہ، جی! اور اس کے آگے مولانا جملہ آرہا ہے، اور جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ وہ بھی نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے، تو وہ اس کی صفت بن جاتا ہے۔ نکرہ کے بعد نکرہ ہے تو کیا بنتے ہیں؟ موصوف صفت عموماً بنتے ہیں، تو دیکھو یہاں مَيِّت نکرہ آیا اور اس کے آگے کیا آرہا ہے؟ جملہ، اور وہ جملہ بھی کس کے حکم میں ہوا کرتا ہے؟ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے، تو یہ اس کے لیے کیا بن جائے گی؟ صفت، اور موصوف سے پہلے کیا لے کر آتے ہیں؟ ایسا! تو مَيِّت ہے موصوف لَهُ عَلَى آخَرَ دَيْنٌ یہ پورا جملہ ہے لَهُ عَلَى آخَرَ دَيْنٌ، اس کا دوسرے پر کیا تھا؟ دَین، یہ صفت بنے گی مَيِّت کی، تو موصوف سے پہلے کیا لفظ لائیں گے؟ ایسی مَيِّت، ایسا مرنے والا کہ جس کا دوسرے پر کیا تھا؟ دَین تھا۔ اب سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اب سنو ترجمہ: اور اگر اقرار کیا ایسی مَيِّت کے دو بیٹوں میں سے ایک نے، جس کا دوسرے پر دَین تھا، بِقَبْضِ أَبِيهِ نِصْفَهُ اس بات کا کہ اس کے باپ نے قبضہ کر لیا تھا نِصْفَهُ أَيْ نِصْفَ دَيْنِهِ، نصف دَین پر فَلَا شَيْءَ لَهُ بھئی! تو اس بیٹے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے بھئی، وَنِصْفٌ لِلْآخَرِ اور نصف دَین کس کے لیے ہوگا؟ دوسرے کے لیے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ إِذَا كَانَ لِزَيْدٍ عَلَى عَمْرٍو مِائَةُ دِرْهَمٍ جب تھا زَيْد کے لیے عَمْر پر، زَيْد کا عَمْر پر سو درہم تھے، فَأَقَرَّ أَحَدُ ابْنَيْ زَيْدٍ تو اقرار کیا زَيْد کے دو بیٹوں میں سے ایک نے أَنَّ زَيْدًا قَبَضَ خَمْسِينَ کہ زَيْد نے قبضہ کر لیا تھا پچاس پر، فَلَا شَيْءَ لِلْمُقِرِّ تو مُقِر کو کوئی چیز نہیں ملے گی، اس کے لیے کوئی چیز نہیں ہے وَالْبَاقِي لِأَخِيهِ اور باقی کس کے لیے ہے؟ اس کے بھئی کے لیے ہے، لِأَنَّ إِقْرَارَ الْمُقِرِّ يَنْصَرِفُ إِلَى نَصِيبِهِ اس لیے کہ اقرار کرنے والے کا اقرار پھر جائے گا اسی کے حصے کی طرف تو اس نے اپنے حصے میں اقرار کیا کہ وہ وصول کر چکا ہے بھئی۔ كِتَابُ الصُّلْحِ وَهُوَ عَقْدٌ يَرْفَعُ النِّزَاعَ صِحَّةً مَعَ إِقْرَارٍ وَسُكُوتٍ وَإِنْكَارٍ۔ اچھا بھئی صلح کے مسائل بھئی! صلح۔ صلح تین قسم پر ہے یاد رہے۔ ایک صلح مع اقرار کے ہے، ایک صلح مع سکوت کے... مع انکار کے ہے، ایک صلح مع اقرار، ایک صلح مع انکار، ایک صلح مع سکوت کے بھئی۔ دیکھو! ایک آدمی، میرے پاس ایک گھر تھا، ایک آدمی نے اٹھ کر دعویٰ کر دیا، یہ گھر میرا ہے۔ میں اس کو کچھ مال دے کر اس سے صلح کر لیتا ہوں۔ کچھ مال دے دیتا ہوں کہ بھئی اپنا دعویٰ چھوڑ دو، یہ صلح کہلاتی ہے، وہ مال لے لیتا ہے اور دعوے کو کیا کردیتا ہے؟چھوڑ دیتا ہے، یہ صلح کہلاتی ہے۔ دیکھو! اس کی وجہ سے جھگڑا ختم ہو گیا۔ جھگڑا کیا ہوا؟ جی! اسی لیے کہا وَهُوَ عَقْدٌ يَرْفَعُ النِّزَاعَ یہ صلح ایسا عقد ہے جو جھگڑے کو کیا کر دیتا ہے؟ دور کر دیتا ہے، ختم کر دیتا ہے۔ اب یہ جو میں نے اس کو مال دیا بھئی، یہ اس میں مال دینے کی تین صورتیں ہیں، اس نے کیا دعویٰ کیا تھا؟ کہ یہ گھر میرا ہے، تو میں اس کو مال دوں گا لیکن ساتھ اقرار بھی کر لیتا ہوں، ہاں بھئی، ہاں! آپ کی بات ٹھیک ہے، یہ گھر آپ کا ہے، لیکن چلو، یہ لو پچاس لاکھ روپے لو اور گھر کا دعویٰ چھوڑ دو، تو دیکھو میں نے اقرار کے ساتھ صلح کر لی، اقرار کر لیا کہ مُتَابَعٌ بِهِ کس کا ہے؟ مُدَّعِي کا ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ یا دوسری صورت یہ کہ میں انکار کے ساتھ صلح کروں گا، اس نے کہا تھا یہ گھر میرا ہے، میں نے کہا نہیں! بھئی، قطعاَ آپ کا نہیں ہے، یہ گھر تو میرا اپنا ہے، ہاں چلو، یہ لو پچاس لاکھ روپے لے لو، لیکن میرے ساتھ صلح کر لو، گھر کا دعویٰ چھوڑ دو، اس نے دعویٰ چھوڑ دیا بھئی، تو یہ صلح مع انکار۔ تیسری ہے صلح مع سکوت کے، نہ میں اقرار کرتا ہوں، نہ سکوت کرتا ہوں، اس نے کہا یہ گھر میرا ہے، میں نے کہا اچھا! بھئی چھوڑو، بھئی! جھگڑے کو چھوڑو بھئی، دعوے کو چھوڑ دو، یہ لو بھئی پچاس لاکھ روپے لے لو اور اپنے دعوے سے دستبردار ہو جاؤ۔ تو یہ دیکھو میں نے اقرار نہیں کیا کہ یہ گھر تمہارا ہے، نہ میں نے انکار کیا کہ یہ گھر تمہارا نہیں، بس صرف یہ کہا، یہ لو پیسے لو اور اپنا دعویٰ چھوڑ دو، تو یہ صلح مع سکوت کے ہے بھئی۔ سکوت کے ساتھ، خاموشی کے ساتھ ہے، یعنی نہ اقرار ہے اور نہ انکار۔ تو یہی بات کر رہے ہیں کہ وہ صلح ایسا عقد ہے جو جھگڑے کو دور کر دیتا ہے، وَصَحِيحٌ مَعَ إِقْرَارٍ وَسُكُوتٍ وَإِنْكَارٍ اور صحیح ہے صلح اقرار کے ساتھ بھی اور سکوت کے ساتھ بھی اور انکار کے ساتھ بھی، أَيْ مَعَ إِقْرَارِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ أَوْ سُكُوتِهِ أَوْ إِنْكَارِهِ یعنی مدعا علیہ کے اقرار کے ساتھ یا اس کے سکوت کے ساتھ یا اس کے مُدَّعَى عَلَيْهِ بھئی جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَصِحُّ إِلَّا فِي صُورَةِ الْإِقْرَارِ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف اقرار کی صورت میں صلح صحیح ہے، انکار یا سکوت کی صورت میں صلح صحیح نہیں بھئی! کیوں؟ وہ فرماتے ہیں بھئی! اقرار کی صورت میں تو اس نے کہہ دیا ہاں! بھئی گھر آپ کا ہے، لیکن اس سے کیا لے لو اس کے عوض میں میرے سے؟ پچاس لاکھ لے لو اور دعویٰ چھوڑ دو، یہ تو صورت صحیح بن گئی، اس کا عوض دے دیا، لیکن باقی دو صورتوں میں یہ رشوت یا ظلم بن جاتی ہے۔ بھئی اس نے دوسری صورت میں سکوت کرتا ہے یا انکار کرتا ہے، تو جب سکوت کیا تو بھی اقرار تو اس نے نہیں کیا، اور جب انکار किया, फिर तो صراحتاً کہہ दिया कि घर मेरा अपना है, तुम्हारा नहीं, फिर اس کو یہ پیسے کس چیز کے دے رہا है؟ یا تو یہ اس کو رشوت دے رہا है, یا یہ اور وہ جو لے रहा है اس سے, یہ ظلماً لے रहा ہے۔ اس لیے صحیح نہیں۔ فَالْأَوَّلُ كَبَيْعٍ پہلی صلح یعنی صلح مع اقرار کس کی طرح ہے؟ بَيْع کی طرح ہے، كَبَيْعٍ إِنْ وَقَعَ عَنْ مَالٍ بِمَالٍ اگر صلح واقع ہو مال سے مال کے بدلے، فَيَجْرِي فِيهِ الشُّفْعَةُ تو اس صورت میں کیا جاری ہوگا اس میں؟ شُفْعَة بھی جاری ہوگا، وَالرَّدُّ اور رَدّ بھی جاری ہوگا، وَالرَّدُّ بِعَيْبٍ وَخِيَارِ رُؤْيَةٍ وَشَرْطٍ تو اس میں شُفْعَة بھی جاری ہوگا، اور رَدّ بِعَيْبٍ بھی جاری ہوگا، اور رَدّ بِخِيَارِ رُؤْيَةٍ بھی جاری ہوگا، اور رَدِّ بِخِيَارِ شَرْطٍ بھی جاری ہوگا، صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ دیکھو! بَيْع جب کی جائے, زمین کی بَيْع ہو شُفْعَة آتا ہے یا نہیں آتا؟ تو یہاں پر بھی صلح ہوئی ہے صلح کے اندر زمین کا... مثلا اس نے کس کا دعویٰ کیا تھا؟ مکان کا کہ یہ مکان کس کا ہے؟ میرا ہے۔ میں نے کہا ہاں بھئی مکان آپ کا ہے، صلح مع اقرار کی بات کر رہا ہوں اس لیے اقرار کا ذکر کریں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے مکان آپ کا ہے لیکن اس کے عوض کیا لے لو؟ 50 لاکھ۔ تو یہ کس کے حکم میں ہے؟ بیع کے۔ گویا میں نے 50 لاکھ دے کر اس سے کیا خرید لیا؟ مکان۔ تو مکان جب کی بیع ہوئی ہے اور جب بھی مکان زمین کی بیع ہو تو کیا آ جایا کرتا ہے؟ پڑوسیوں کے لیے یا شریکوں کے لیے شفعه کا حق۔ تو یہاں بھی پڑوسیوں کے لیے کیا آ جائے گا؟ شفعه کا حق آ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا مولانا! اگر کسی سے کوئی چیز خریدی جائے، اس میں عیب نکل آئے تو کیا واپس کرنے کا اختیار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ تو خیارِ عیب بھی ثابت ہو جائے گا۔ اچھا بھئی! اور اسی طرح خیارِ رؤیت، ایک چیز بغیر دیکھے آپ نے خریدی تو کیا آپ کو خیارِ رؤیت ہے یا خیارِ رؤیت نہیں ہے؟ تو خیارِ رؤیت بھی کیا ہو جائے گا؟ ثابت ہو جائے گا۔ اور بھئی! ایک آدمی جو ہے شرط لگا دیتا ہے خیارِ شرط بھئی کہ مجھے تین دن تک بیع کو فسخ کرنے کا اختیار ہے۔ یہ کیا کہلاتا ہے؟ خیارِ شرط بھئی۔ تو یہ ثابت ہوتا ہے یا نہیں ثابت ہوتا بیع کے اندر؟ تو یہ بھی یہاں پر ثابت ہو جائے گا۔ تو یہاں پر شفعه بھی ثابت ہو جائے گا صلح مع اقرار کے اندر اور خیارِ رؤیت بھی، خیارِ عیب بھی اور اگر خیارِ شرط ذکر کیا تو خیارِ شرط بھی کیا ہو جائے گا؟ ثابت ہو جائے گا۔ مثلاً بھئی! اس نے کیا کہا تھا؟ یہ مکان میرا ہے۔ بھئی آپ کا فلاں جگہ مکان ہے، فلاں شہر کے اندر، فلاں محلے میں ایک مکان ہے آپ کا بھئی، وہ مکان میرا ہے۔ میں کہتا ہوں بھئی مجھے پتہ ہے وہ مکان آپ کا ہے۔ میں کیا کہتا ہوں؟ مجھے پتہ ہے وہ مکان آپ کا ہے لیکن چلو یہ لے لو 50 لاکھ لو اور اس مکان کا دعویٰ چھوڑ دو۔ اچھا! تو یہ اب کیا کیا بھئی؟ بیع ہوئی ہے مولانا۔ بیع کیا ہوئی ہے؟ یا مولانا! اس کو میں نے کیا دے دیا؟ بدلے میں دوسرا مکان دے دیا۔ کیا دیا؟ دوسرا مکان دے دیا۔ اس کو پسند نہیں آتا، وہ کیا کر دیتا ہے؟ مجھے واپس کر سکتا ہے دیکھنے کے بعد یا اس میں کوئی عیب دیکھتا ہے تو بھی کیا کر سکتا ہے؟ واپس کر سکتا ہے اسی طرح بھئی۔ یا خیارِ شرط رکھتا ہے کہ مجھے کیا ہے؟ تین دن تک اس کو فسخ کرنے کا اختیار ہے، تو یہ تینوں صورتیں ثابت ہو جائیں گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا! سَوَاءٌ صُولِحَ عَنْ دَارٍ أَوْ عَلَى دَارٍ، برابر ہے کہ صلح گھر سے ہوئی ہے یا گھر پر ہوئی ہے بھئی۔ صُولِحَ عَنْ دَارٍ، اس صورت میں کیا بنا بھئی؟ گھر کیا بن رہا ہے؟ بھئی ابھی میں نے دو نام لکھوائے تھے آپ کو۔ صُولِحَ عَنْ دَارٍ، مصالح عنہ بن رہا ہے اور صُولِحَ عَلَى دَارٍ، یہاں دار کیا بن رہا ہے؟ مصالح علیہ بن رہا ہے۔ صُولِحَ عَنْ دَارٍ کی کیا صورت بنے گی بھئی؟ تین صورتیں الگ الگ بنا لیتے ہیں۔ پہلی صورت کیا تھی؟ دعویٰ کس کا کیا تھا؟ مکان کا اور دیا کیا میں نے؟ مال دیا بھئی اس کو بدلے میں، پیسے دیے بھئی۔ تو مکان کیا ہوا؟ مصالح عنہ۔ دوسری صورت: اس نے دعویٰ کیا تھا مثلاً گاڑی کا کہ یہ گاڑی میری ہے، میرے پاس گاڑی تھی بھئی مثلاً بڑی مہنگی گاڑی تھی 70 لاکھ 80 لاکھ کی، اس نے کہا یہ گاڑی میری ہے۔ میں بدلے میں اس کو کیا دے دیتا ہوں؟ ایک مکان دے دیتا ہوں کہ اچھا بھئی! گاڑی تو آپ کی ہے لیکن چلو بھئی دعویٰ چھوڑ دو فلاں جگہ میرا ایک مکان ہے وہ آپ لے لو۔ تو اب یہ مکان کیا ہوا؟ مصالح علیہ ہوا۔ کیا ہوا؟ مصالح علیہ۔ تو مصالح عنہ ہو تب بھی شفعه ہو سکتا ہے مکان۔ مصالح علیہ ہو پھر بھی وہ کیا ہو سکتا ہے اس پر؟ اور کبھی دونوں طرف مصالح عنہ بھی مکان ہو گا، مصالح علیہ بھی کیا ہو گا؟ مکان۔ اس نے میرے گھر پر دعویٰ کیا یہ گھر میرا۔ میں کہتا ہوں ہاں یہ گھر آپ کا، لیکن اس کا دعویٰ چھوڑ دو اور فلاں جگہ میرا ایک گھر ہے وہ آپ لے لو۔ تو مصالح علیہ بھی گھر اور مصالح عنہ بھی گھر ہے بھئی۔ تو برابر ہیں مولانا! سَوَاءٌ صُولِحَ عَنْ دَارٍ أَوْ عَلَى دَارٍ، برابر ہے کہ صلح کیا ہو عن گھر سے ہو یا عَلَى دَارٍ یا گھر پر ہو۔ دونوں صورتوں میں شفعه ثابت ہو جائے گا دونوں میں۔ چاہے گھر مصالح علیہ ہو یا مصالح عنہ ہو بھئی۔ فَلِلشَّفِيعِ، پس شفیع کے لیے جائز ہو گا الشُّفْعَةُ، شفعه کرنا۔ وَيَثْبُتُ الرَّدُّ بِالْخِيَارَاتِ الثَّلَاثَةِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الْمُدَّعِي وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ فِي بَدَلِ الصُّلْحِ وَالْمُصَالَحِ عَنْهُ، اور تینوں خیاراتِ ثلاثہ رد بالخیارات الثلاثہ تینوں خیاروں کے ساتھ واپس کرنا یہ ثابت ہو جائے گا ہر ایک کے لیے، مدعی کے لیے بھی اور مدعی علیہ کے لیے بھی فِي بَدَلِ الصُّلْحِ، کس کے اندر؟ بدلِ صلح اور مصالح عنہ، بدلِ صلح کیا تھا؟ مصالح علیہ۔ تو مصالح علیہ کے اندر بھی اور مصالح عنہ کے اندر بھی۔ وَيُفْسِدُهُ جَهَالَةُ الْبَدَلِ، اور فاسد کر دیتی ہے اس صلح مع اقرار کو، کیا فاسد کر دیتی ہے؟ بدل کا مجہول ہونا۔ صورتِ مسئلہ ادھر دیکھو: ایک آدمی نے میرے اوپر دعویٰ کیا کہ یہ گھر میرا ہے۔ میں اس سے کہتا ہوں بھئی! گھر کا دعویٰ چھوڑ دو، میں آپ کو کچھ مال دے دوں گا۔ تو مولانا بدلِ صلح معلوم ہے یا مجہول ہو گیا؟ مجہول۔ بدلِ صلح مجہول ہو تو یہ صلح کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں مصالح عنہ اگر مجہول ہو، مصالح عنہ کیا ہو؟ پھر کوئی حرج نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اس نے تو ساقط ہو جانا ہے۔ جب اس نے میرے اوپر ایک گھر کا دعویٰ کیا بھئی، کیا؟ ایک گھر کا دعویٰ کیا مثلاً یوں دعویٰ کیا: بھئی! آپ نے میرے ایک گھر پر قبضہ کر رکھا ہے۔ کون سا گھر بھئی؟ کوئی اس نے ذکر نہیں کیا، مجہول بھئی ذکر کر دیا۔ اور میں کہتا ہوں چھوڑو دعویٰ، ٹھیک ہے بھئی لیکن کیا کرو؟ 50 لاکھ لے لو، صلح کر لو۔ اب دیکھو مصالح عنہ مجہول ہے لیکن کوئی حرج نہیں اس لیے کیونکہ اس نے تو ساقط ہو جانا ہے اور جو چیز ساقط ہونے والی ہو اس کی جہالت سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی۔ جبکہ بدلِ صلح تو میں نے ادا کرنا ہے، اگر وہ مجہول ہو گا تو میں ادا کیسے کروں گا بھئی؟ اس میں بھی جھگڑا آئے گا بھئی۔ یہ معنی: وَيُفْسِدُهُ جَهَالَةُ الْبَدَلِ، پس لہٰذا بدل کی جہالت یہ اس صلح مع اقرار کو فاسد کر دیتی ہے۔ وَمَا اسْتُحِقَّ مِنَ الْمُدَّعَى يَرُدُّ الْمُدَّعِي حِصَّتَهُ مِنَ الْعِوَضِ وَمَا اسْتُحِقَّ مِنَ الْبَدَلِ رَجَعَ بِحِصَّتِهِ مِنَ الْمُدَّعَى. أچھا بھئی! صورتِ مسئلہ یہ ہے ادھر دیکھو بھئی۔ ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ یہ مکان میرا ہے۔ میں نے کہا بھئی یہ مکان ٹھیک ہے آپ کا ہے لیکن اس کا دعویٰ چھوڑ دو، یہ لو 50 لاکھ روپے لے لو۔ 50 لاکھ نہ بناؤ بلکہ عوض میں بھی مثلاً میں مکان ہی دیتا ہوں، کیا دیتا ہوں؟ مکان دیتا ہوں۔ یا یوں کہو میں عوض میں اس کو 10 گاڑیاں دیتا ہوں قیمتی گاڑیاں بھئی۔ اچھا! اس نے مکان کا دعویٰ کیا تھا، میں نے اقرار کر لیا اور اس کو عوض کے اندر 10 گاڑیاں دے دیں بھئی۔ چند دنوں کے بعد ایک شخص نے پھر میرے اوپر دعویٰ کیا کہ بھئی یہ جو گھر ہے آپ کا، وہی گھر جس کے عوض میں نے کیا دی تھیں اس کو؟ گاڑیاں دی تھیں۔ اس گھر کا کوئی مستحق نکل آیا اور نصف گھر مجھ سے لے گیا بھئی۔ نصف گھر اس کا نکل آیا۔ تو بھئی! میں نے تو اس پورے مکان کے عوض میں کتنی گاڑیاں دی تھیں؟ 10 دی تھیں۔ اور معلوم ہوا کہ اس شخص کا پورا مکان نہیں تھا بلکہ کتنا تھا؟ نصف۔ تو نصفِ عوض میں اس سے واپس لے لوں گا، وہ نصفِ عوض مجھے واپس کر دے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اور اگر پورے مکان کا کوئی مستحق نکل آیا تو میں بھی اس سے پورا کا پورا عوض کیا کر لوں گا؟ واپس لے لوں گا کیونکہ یہ میں نے مکان کا عوض دیا تھا۔ یہ تو وہ صورت تھی جب مستحق کس کے اندر نکل تھا؟ مصالح عنہ کے اندر مستحق نکلا تھا۔ اور اگر بدل کے اندر کوئی مستحق نکل آیا، میں نے اس کو 10 گاڑیاں دی تھیں، پتہ چلا 5 گاڑیاں کسی اور کی نکل آئیں بھئی، وہ 5 گاڑیاں لے گیا بھئی، اب اس کے پاس کتنی رہ گئیں؟ تو نصف بدل کوئی لے گیا تو مجھ سے وہ نصف مکان لے لے گا۔ کیونکہ اس نے 10 گاڑیاں تو کس کے عوض لی تھیں؟ اس کے، اس 10 گاڑیوں کے عوض میں اس نے مجھے پورا مکان دیا تھا تو جب نصف عوض چلا گیا تو نصف مکان بھی مجھ سے وہ واپس لے لے گا۔ اور اگر ساری گاڑیوں کا کوئی اور مستحق نکل آیا تو وہ سارا مکان کیا کرے گا مجھ سے لے لے گا۔ یہ صورت ہے بھئی۔ وَمَا اسْتُحِقَّ مِنَ الْمُدَّعَى، اور وہ جو استحقاق نکل آیا بھئی جتنے کا مِنَ الْمُدَّعَى، کس میں سے؟ بھئی کس مدعا کیا تھا بھئی؟ مصالح عنہ تھا یا مصالح علیہ تھا؟ مصالح عنہ، اس کا کوئی مستحق نکل آیا۔ يَرُدُّ الْمُدَّعِي، تو مدعی وہ واپس کرے گا حِصَّتَهُ مِنَ الْعِوَضِ، اس کا حصہ کس میں سے؟ مدعی بھئی وہ جو مجھ سے گاڑیاں لے کر گیا تھا وہ اس کا حصہ کیا کرے گا عوض میں سے؟ واپس کرے گا۔ وَمَا اسْتُحِقَّ مِنَ الْبَدَلِ، اور استحقاق نکل آیا کس کے اندر بھئی؟ بدل کے اندر یعنی وہ جو میں نے 10 گاڑیاں دی تھیں بدلِ صلح، اس کا کوئی مستحق نکل آیا۔ رَجَعَ بِحِصَّتِهِ مِنَ الْمُدَّعَى، تو جتنا حصے کا جتنے کا کوئی مستحق نکل آیا اسی کے حصے کے بقدر کیا کرے گا مدعا مدعا میں وہ رجوع اس گھر کے اندر رجوع کر لے گا بھئی۔ ثلث گاڑیوں کا کوئی نکل آیا مستحق تو یہ بھی ثلث گھر مجھ سے کیا کر لے گا؟ لے لے گا، نصف کا نکل آیا تو نصف لے لے گا، کل ہے تو کل لے لے گا۔ وَكَإِجَارَةٍ، اس کا عطف اوپر بھئی باب کے شروع ہونے کے بعد تیسری سطر میں آیا تھا: فَالْأَوَّلُ كَبَيْعٍ، صلح مع اقرار کس کی طرح ہے؟ بیع کی طرح، إِنْ وَقَعَ عَنْ مَالٍ بِمَالٍ۔ وَكَإِجَارَةٍ، اور یہ صلح مع اقرار اجارے کی طرح ہے إِنْ وَقَعَ عَنْ مَالٍ بِمَنْفَعَةٍ، اگر یہ کہ واقع ہو کس سے؟ مال کے بدلے منافع سے۔ فَالشَّرْطُ التَّوْقِيتُ فِيهِ، تو اس صورت میں یہ اجارے کی طرح ہے اور اجارے کے اندر مدت متعین کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی کیا شرط لگائی جائے گی؟ مدت متعین کرنے کی۔ یہ معنی: فَالشَّرْطُ التَّوْقِيتُ فِيهِ، تو اس میں توقیت کی شرط لگائی جائے گی، وقت مقرر کرنے کی شرط لگائی جائے گی۔ اب مولانا علامہ صدر الشریعہ بتلا رہے ہیں، بھئی کہتے ہیں اگر اس میں صلاحیت ہوئی یعنی وہ اگر اس کا اندازہ وقت سے ہوتا ہے پھر تو وقت کی شرط لگائی جائے گی، وقت مقرر کیا جائے گا۔ اور اگر اس کا اندازہ وقت سے نہیں لگایا جاتا تو پھر وقت کی شرط بھی نہیں ہے۔ مثلاً دیکھو! نفع کے طور پر اس کو بدل کیا دے رہا ہے؟ گھر کی رہائش دے رہا ہے یا ایک دکان میں دے رہا ہوں اس کے منافع دے رہا ہوں۔ تو دکان کے منافع، اب اس میں مدت کا پتہ چلنا ضروری ہے بھئی کہ چھ ماہ کے لیے دے رہا ہوں، سال کے لیے دے رہا ہوں یا 10 سال کے لیے۔ یا اگر اس کا عوض میں کیا کر رہا ہوں؟ سامان کا اٹھوانا ہے۔ کیا ہے؟ سامان کا اٹھوانا ہے۔ مثلاً بھئی اس نے کہا یہ گھر میرا ہے۔ میں نے کہا نہیں، ہاں بھئی یہ گھر آپ کا ہے لیکن میں آپ کا کیا کر دیتا ہوں؟ اس کے عوض منافع کچھ دے دیتا ہوں۔ کیا منافع دیں گے آپ بھئی؟ میں نے کہا بھئی آپ کا وہ فلاں اتنا کروڑوں کا مال فلاں جگہ پڑا ہوا ہے، کہاں پر؟ مثلاً پشاور میں آپ کے کروڑوں کا مال پڑا ہے، اس سارے کو میں کہاں شفٹ کروا دیتا ہوں؟ لاہور۔ اب اس کو وہاں سے لے کر یہاں لانے میں ٹرکوں پر کم از کم کتنا خرچہ آئے گا؟ فرض کرو 20، 30 لاکھ اس پر بھی خرچہ آئے گا۔ کتنا آئے گا؟ 20، 30 لاکھ۔ میں رشوت کی بات نہیں کر رہا بھئی۔ ہوتا تو ویسے اس پشاور سے ادھر کی طرف تو اسی طرح ہی ہوتا ہے بھئی۔ تو مثلاً میں منافع دے رہا ہوں لیکن اب اس کے اندر وقت متعین کرنے کی ضرورت ہے؟ ان منافع کا پتہ وقت سے نہیں بلکہ اس میں تو وہاں سے سامان اٹھائے گا اور یہاں پہنچائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: أَيْ إِنْ كَانَ الْبَدَلُ مَنْفَعَةً يُعْلَمُ بِالتَّوْقِيتِ، اگر بدل جو ہے وہ ایسا نفع ہے کہ اس کا پتہ کس سے چلتا ہو؟ وقت مقرر کرنے سے چلتا ہو، كَالْخِدْمَةِ، جیسے خدمت ہے کہ یہ میرا غلام آپ کی خدمت کرے گا اتنے عرصے تک، تو دیکھو مدت اس میں ضروری ہے۔ وَسُكْنَى الدَّارِ، اور جیسے گھر کی رہائش ہے۔ بِخِلَافِ مَا إِذَا وَقَعَ الصُّلْحُ عَنِ الْمَالِ عَلَى نَقْلِ هَذَا الشَّيْءِ مِنْ هُنَا إِلَى ثَمَّ، بخلاف اس کے کہ جب واقع ہوئی ہو صلح عن المال کس سے؟ مال سے، کس پر؟ عَلَى نَقْلِ هَذَا الشَّيْءِ مِنْ هُنَا إِلَى ثَمَّ، کہ نقل کرے گا اس چیز کو یہاں سے لے کر وہاں تک منتقل کرے گا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ منتقل کرے گا۔ وَيَبْطُلُ بِمَوْتِ أَحَدِهِمَا، صورت سمجھ میں آئی؟ تو منافع دو قسم پر ہیں۔ کچھ کا اندازہ کس سے لگایا جاتا ہے؟ وقت سے۔ کچھ کا اندازہ وقت سے نہیں لگایا جاتا۔ تو جن کا اندازہ وقت سے لگایا جاتا ہے وہاں پر وقت مقرر کرنا ضروری ہے بھئی۔ وَيَبْطُلُ بِمَوْتِ أَحَدِهِمَا فِي الْمُدَّةِ، اور باطل ہو جائے گا یہ عقد، یہ صلح عن اقرار، یہ صلح مع اقرار کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی بِمَوْتِ أَحَدِهِمَا فِي الْمُدَّةِ، اس مدت کے اندر دونوں میں سے کسی ایک کی موت سے۔ اگر بھئی! دونوں جن دو کے درمیان صلح ہوئی تھی ان میں سے کوئی ایک بھی مر جاتا ہے اور صلح کس پر ہوئی تھی؟ منافع پر۔ تو یہ عقد کون سا ہوا؟ اجارہ۔ اور اجارے کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں موجر یا مستاجر میں سے کوئی ایک مر جائے تو اجارہ کیا ہو جاتا ہے؟ باطل۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی کیا ہو جائے گا؟ اجارہ باطل ہو جائے گا بھئی۔ وَالْآخَرَانِ، اور دوسری دو جو صلحیں ہیں، أَيِ الصُّلْحُ مَعَ سُكُوتٍ أَوْ إِنْكَارٍ، مُعَاوَضَةٌ، دوسری دو جو صلحیں ہیں یعنی صلح مع سکوت اور صلح مع انکار، مُعَاوَضَةٌ، یہ دونوں کیا ہیں؟ معاوضہ ہیں فِي حَقِّ الْمُدَّعِي، کس کے حق میں؟ مدعی کے حق میں تو معاوضہ ہیں بھئی۔ اس شخص نے دعویٰ کیا تھا یہ گھر میرا ہے۔ میں نے انکار کیا: نہیں بھئی یہ گھر تمہارا نہیں، لیکن پھر بھی اسے کیا دے دیے میں نے؟ پیسے۔ یا میں نے سکوت کیا نہ انکار کیا نہ اقرار کیا اور اسے کیا دے دیے؟ پیسے دے دیے۔ تو ان دونوں صورتوں میں وہ کیا سمجھ کر پیسے لے رہا ہے؟ معاوضہ کہ یہ جو میرا میں نے دعویٰ کیا تھا میں اس دعوے میں معلوم ہوا صحیح تھا اور یہ اس گھر کا مجھے عوض دے رہا ہے۔ تو لہٰذا وہ معاوضہ ہے فِي حَقِّ الْمُدَّعِي، کس کے حق میں؟ مدعی کے حق میں۔ لیکن وَفِدَاءُ يَمِينٍ وَقَطْعُ نِزَاعٍ فِي حَقِّ الْآخَرِ، لیکن دوسرے کے حق میں یہ کیا ہے؟ قسم کا مدعی علیہ بھئی۔ میں جو پیسے دے رہا ہوں، کیا میں اس لیے دے رہا ہوں کہ یہ مکان اس کا تھا؟ نہیں، مکان تو میرا اپنا تھا۔ میں تو صرف کس لیے دے رہا ہوں؟ میں اپنے آپ کو قسم سے بچانا چاہتا ہوں یا جھگڑے کو ختم کرنا چاہتا ہوں، تو یہ یمین کا فدیہ ہے یا اور جھگڑے کو دور کرنا ہے، ختم کرنا ہے، دوسرے کے حق میں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو مدعی کے حق میں کیا ہے دوسری دونوں صلحوں میں؟ وہ معاوضہ ہے اور مدعی کے حق میں، اور مدعی علیہ کے حق میں؟ فدیہ ہے اور قطعِ نزاع ہے۔ فَلَا شُفْعَةَ فِي صُلْحٍ عَنْ دَارٍ مَعَ أَحَدِهِمَا. اب وہ یہاں مختلف ہو گا مولانا۔ پہلی صورت میں تو تھا صلح عن دار ہو یا صلح علی دار ہو، دونوں صورتوں میں کیا ہوتا تھا؟ شفعه ہو جاتا تھا۔ لیکن یہاں اگر شفعه صلح عن دار ہو تو پھر شفعه نہیں۔ صلح علی دار ہو تو پھر شفعه ہے۔ دیکھو بھئی! ادھر دیکھو۔ ایک شخص نے میرے اوپر کیا دعویٰ کیا؟ کہ یہ گھر میرا ہے۔ اور میں اس کے ساتھ صلح مع انکار کرتا ہوں یا صلح مع سکوت کرتا ہوں۔ اور عوض میں اس کو کیا دے دیتا ہوں؟ گھر ہی دے دیتا ہوں۔ کیا دے دیتا ہوں؟ گھر دے دیتا ہوں۔ تو اب بھئی جو مجھے یہ گھر میرے پاس ہے جس کا اس نے دعویٰ کیا تھا یعنی مصالح عنہ، مصالح عنہ۔ اس کا اس کے اس نے دعویٰ کیا تھا، تو کیا میں نے یہ گھر دے کر اسے یہ والا گھر لیا ہے یا وہ جو وہ جو میں نے اس کو گھر دیا، کیا میں نے اس گھر کے عوض میں دیا ہے یا قسم کے فدیے کے طور پر دیا ہے؟ قسم کے فدیے کے طور پر۔ تو لہٰذا یہاں پر بیع نہیں پائی گئی۔ جب بیع نہیں پائی گئی معلوم ہوا اس گھر کے اندر میری ملک نئی نئی نہیں آئی، وہ تو میرے پاس پہلے سے ہی میرے پاس ہے، تھا ہی میرا، میرے پاس ہی ہے، اس میں جب ملک نئی آئی نئی ملک نہیں آئی تو اب وہاں پر شفعه بھی نہیں ہو گا۔ شفعه تو وہاں ہے جہاں نئی ملک آئے بھئی۔ تو یہاں کوئی نئی ملک آئی؟ نہیں۔ تو لہٰذا اب مصالح عنہ جو گھر ہے اس میں تو شفعه نہیں ہو سکتا۔ لیکن میں نے جو گھر اس کو دیا، وہ تھا مدعی اور مدعی جو عوض لیتا ہے اور مدعی جو لیتا ہے وہ کیا شمار ہوتا ہے؟ عوض اور معاوضہ شمار ہوتا ہے۔ تو اس نے جو گھر لیا وہ کیا سمجھ رہا ہے؟ اس کے حق میں وہ کیا ہے؟ وہ اس گھر کا معاوضہ ہے، معاوضہ ہے۔ تو اس کے حق میں یہ بیع ہوئی، اس نے ایک مکان گویا لے لیا کیونکہ اس میں اس کی نئی ملک آئی ہے بھئی، تو وہاں پر اب کیا ہو سکتا ہے؟ تو مصالح عنہ میں شفعه نہیں ہو سکتا لیکن مصالح علیہ میں کیا ہو سکتا ہے؟ شفعه۔ فَلَا شُفْعَةَ فِي صُلْحٍ عَنْ دَارٍ مَعَ أَحَدِهِمَا أي مع السكوت أو الإنكار، اس لیے شفعہ نہیں ہوگا صلح عن دار کے اندر مع احدہما، ان دونوں کے ساتھ، یعنی مع السکوت یا مع الإنکار میں کس صلح میں شفعہ نہیں ہوگا۔ وَتَجِبُ فِي الصُّلْحِ عَلَى دَارٍ، لیکن شفعہ واجب ہوگا کس کے اندر؟ صلح علی دار کے اندر۔ کب؟ جب کہ صلح مع السکوت ہو یا صلح مع الإنکار ہو۔ لِأَنَّهُ إِذَا صُولِحَ عَنْ دَارٍ اس لیے کہ جب صلح کی گئی گھر سے، یعنی گھر مصالح عنہ بنا، فَفِي زَعْمِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ تو مدعی علیہ کے گمان کے اندر أَنَّهُ لَمْ يَتَجَدَّدْ لَهُ مِلْكٌ اس کے، اس کو نئی ملک حاصل نہیں ہوئی، وَزَعْمُ الْمُدَّعِي جبکہ مدعی یہ گمان، وزعم المدعي لَيْسَ بِحُجَّةٍ بھئی مدعی تو یہ سمجھ رہا ہے، مدعی علیہ کے گھر میں ملک نئی آئی ہے یا وہی ملک ہے بھئی؟ بھئی اس نے کہا تھا یہ گھر میرا ہے۔ میں نے سکوت کیا یا انکار کیا اور اس کو ایک اور گھر دے دیا۔ تو یہ گھر جس کا اس نے دعویٰ کیا تھا، کیا اس میں میری مدعی علیہ جو ہے، اس کی ملک نئی آئی ہے یا وہی پرانی ملک ہے؟ ہاں، تو میرا تو یہی گمان ہے کہ اس میں میری پرانی ملک ہے، نئی ملک کا بھئی یہ تو یہ سمجھ رہا ہے کہ میری پرانی ملک ہے، لیکن مدعی تو کیا سمجھ رہا ہے؟ کہ اس کو کیا حاصل ہوئی ہے؟ گھر تو میرا تھا۔ وہ میں نے اس کو دے دیا، عوض لے لیا، تو اس کی نئی ملک ہے۔ کہتے ہیں بھئی اس کا سمجھنا، اس کے سمجھنے سے اس پر کوئی اثر، وہ تو اس کا اپنا گمان ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی۔ تو کہتے ہیں وزعم المدعي، مدعی کا جو گمان ہے لَيْسَ بِحُجَّةٍ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وہ مدعی علیہ پر حجت نہیں ہے، فَلَا تَجِبُ الشُّفْعَةُ لہذا شفعہ واجب نہیں ہوگا۔ وَإِذَا صُولِحَ عَلَى دَارٍ لیکن جب صلح گھر پر ہوئی، یعنی گھر مصالح علیہ بنا، فَفِي زَعْمِ الْمُدَّعِي تو مدعی کا یہ گمان ہے أَنَّهُ أَخَذَهَا عِوَضًا عَنْ حَقِّهِ کہ اس نے اس گھر کو لیا ہے اپنے حق کے عوض میں۔ اس کا کیا گمان ہے؟ مدعی کو میں نے کیا دے دیا؟ گھر دے دیا، تو اس کا کیا، وہ کیا سمجھ رہا ہے؟ یہ گھر اسے کیوں ملا ہے؟ معاوضے کے طور پر ملا ہے۔ جی، فَيُؤْخَذُ بِزَعْمِهِ تو اس کا مؤاخذہ ہوگا اس کے گمان کی وجہ سے، وَتَجِبُ الشُّفْعَةُ اور اس میں کیا واجب ہو جائے گا؟ شفعہ واجب ہو جائے گا۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 103 of 108