Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-097

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 20 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 18
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَبِتَرْكِ أَحَدِهِمَا بَعْدَ مَا قُضِيَ لَهُمَا لَمْ يَأْخُذِ الْآخَرُ كُلَّهُ، وَهُوَ لِلسَّابِقِ إنْ أَرَّخَا أَيْ ذَكَرَا لِلشِّرَاءِ مِنْ ذِي الْيَدِ تَارِيخًا. أچھا مولانا ہم نے باب شروع کیا تھا، دو آدمی کسی چیز کا دعویٰ کرتے ہیں بھئی۔ اس کی مختلف صورتیں بنتی تھیں کہ ان میں سے کوئی ایک قابض ہوگا یا قابض یا دونوں کوئی ایک قابض ہوگا اس چیز پر یا دونوں قابض ہوں گے یا کوئی بھی اس پر قابض نہیں ہوگا وغیرہ صورتیں چل رہی تھیں بھئی۔ گزشتہ سبق کے آخر میں آپ نے پڑھا تھا: فَإِنْ بَرْهَنَا عَلَى شِرَاءِ شَيْءٍ مِنْ ذِي الْيَدِ فَلِكُلٍّ نِصْفُهُ بِنِصْفِ الثَّمَنِ أَوْ تَرْكُهُ. میں نے بتلایا تھا ایک ہے ذو الید، ذو الید کس کو کہتے ہیں؟ قابض، صاحبِ قبضہ جو ہے اور دوسرے کو کیا کہتے ہیں جس کا قبضہ نہ ہو؟ خارج، اس کے لیے خارج کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ فَإِنْ بَرْهَنَا عَلَى شِرَاءِ شَيْءٍ مِنْ ذِي الْيَدِ اگر دو خارج نے بینہ قائم کیے، دو آدمی ہیں ان کے قبضے میں چیز نہیں ہے کسی تیسرے کے قبضے میں ہے، ان دونوں نے بینہ قائم کر دی عَلَى شِرَاءِ شَيْءٍ اس چیز کے خریدنے پر مِنْ ذِي الْيَدِ کس سے خریدنے پہ؟ قبضے والے سے، کہتے ہیں فَلِكُلٍّ نِصْفُهُ تو ان میں سے ہر ایک کے لیے کیا ہوگا؟ اس چیز کا نصف ہوگا بِنِصْفِ الثَّمَنِ کتنے کے بدلے؟ نصفِ ثمن کے بدلے أَوْ تَرْكُهُ یا اس کو چھوڑنا۔ صورت یہ تھی مولانا زید کے پاس ایک گاڑی ہے، عمر اور بکر دو خارج ہیں، انہوں نے دعویٰ کر دیا، بکر کہتا ہے یہ گاڑی میری، عمر کہتا ہے یہ گاڑی میری ہے، اس لیے کہ اور دونوں یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم نے یہ زید سے گاڑی خریدی ہے بھئی اور اس پر دونوں نے بینہ بھی قائم کر دی۔ تو اب مولانا یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ساری کی ساری گاڑی کا فیصلہ ہر ایک کے حق میں کر دیا جائے، تو لہذا مجبورا کیا کیا جائے گا؟ دونوں کے لیے نصف نصف کا فیصلہ کر دیا جائے گا نصفِ ثمن کے بدلے اور ساتھ اختیار بھی دے دیا جائے گا، بھئی وہ تو پوری گاڑی کا مدعی تھا، اب اس کو چونکہ نصف مل رہی ہے نصفِ ثمن کے بدلے، تو لہذا اب اس کو اختیار ہے، چاہے تو نصفِ ثمن کے بدلے نصف لے لے اور چاہے تو اسے چھوڑ دے چھوڑ دے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وَبِتَرْكِ أَحَدِهِمَا بَعْدَ مَا اچھا بھئی دونوں کو اختیار ہے، دونوں چاہیں تو گاڑی نصف گاڑی نصفِ ثمن کے بدلے لے لیں اور چاہے تو اسے چھوڑ دیں۔ اب ایک ان میں سے چھوڑ دیتا ہے دعویٰ تو دوسرا پوری گاڑی لے لے گا بھئی، کیا کرے گا؟ لیکن یہ قضائے قاضی سے پہلے کی بات ہو رہی ہے مولانا، ہاں قضائے قاضی، قاضی نے فیصلہ کر دیا کہ دونوں کیا ہیں؟ دعوے سے دستبردار ہونے کے لیے بھی تیار نہیں اور تو قاضی نے کیا فیصلہ کر دیا؟ کہ تم ہر ایک کے حق میں نصف گاڑی نصفِ ثمن کے بدلے ہونے کا قاضی نے فیصلہ کر دیا بھئی، سمجھ میں آیا؟ اب قاضی کے فیصلے کے بعد ایک نے چھوڑ دیا بھئی، اس کو اختیار دیا تھا نا کہ نصف ثمن کے بدلے کیا کرو؟ قاضی نے فیصلہ کر دیا، تمہیں اختیار ہے، نصف ثمن کے بدلے نصف گاڑی لے لو یا اس کو چھوڑ دو، ایک نے اپنا حصہ چھوڑ دیا، قاضی فیصلہ کر چکا ہے۔ تو کیا اب دوسرا کل ثمن دے کر کل گاڑی لے سکتا ہے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، کل ثمن دے کر کل گاڑی نہیں لے زبردستی کی، جبراً کی بات ہو رہی ہے مولانا، بعد میں متفق ہو جائیں بائع اور مشتری وہ تو الگ بات ہے لیکن اس وقت وہ اب کہے نہیں جی میں تو پوری گاڑی لوں گا بھئی، پورے ثمن دے کر، نہیں بھئی جبراً وہ نہیں لے سکتا۔ کیوں نہیں لے سکتا؟ کہتے ہیں بھئی اس کا پہلے دعویٰ کیا تھا؟ کہ یہ گاڑی میں نے صاحبِ قبضہ سے اور اس پر کیا بینہ اس نے قائم کر دی تھی؟ بینہ قائم کر دی تھی، تو اس صورت میں تو گاڑی لے سکتا تھا لیکن جب قاضی نے فیصلہ کر دیا نصف ایک کے لیے اور نصف تو گویا نصف کے اندر قاضی نے بیع فسخ کر دی۔ اب جب نصف کے اندر بیع فسخ ہو چکی ہے تو وہ اس کو زبردستی نہیں لے سکتا، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وَبِتَرْكِ أَحَدِهِمَا اور ان دونوں میں سے ایک کے چھوڑنے کے، اختیار دیا گیا تھا تو ان دونوں میں سے ایک نے چھوڑ دیا بَعْدَ مَا قُضِيَ لَهُمَا بعد اس کے کہ ان دونوں کے لیے فیصلہ کر دیا گیا تھا لَمْ يَأْخُذِ الْآخَرُ كُلَّهُ دوسرا نہیں لے گا اس سارے کے سارے مبیع کو، نہیں لے سکتا۔ کیوں نہیں لے سکتا؟ وجہ میں نے کیا ذکر کی؟ وہ بیع کیا ہو چکی ہے نصف کے اندر نصف اس کے لیے نصف میں بیع قاضی فسخ کر چکا ہے بھئی۔ ہاں وَهُوَ لِلسَّابِقِ جی اب یہ الگ مسئلہ آیا بھئی وَهُوَ لِلسَّابِقِ إنْ أَرَّخَا، اور أَرَّخَ يُؤَرِّخُ تاریخ کا معنیٰ تاریخ بیان کرنا اور اگر دونوں نے أَرَّخَا تثنیہ کا صیغہ ہے، دونوں نے تاریخ بھی ذکر کی بھئی، بھئی دونوں نے دعویٰ کیا تھا اور دونوں کے گواہوں نے کیا ذکر کر دی ساتھ؟ تاریخِ شراء بھی ذکر کر دی بھئی، اچھا۔ تو ان میں سے ایک نے مثلاً تاریخ دس شوال ذکر کی، ایک نے دس رمضان ذکر کی، تو دس رمضان سابق ہے تو لہذا اس کے لیے کیا کر دیا جائے گا؟ فیصلہ کر، یہ معنیٰ ہے وَهُوَ لِلسَّابِقِ وہ سابق کے لیے ہوگی مبیع إنْ أَرَّخَا اگر دونوں نے کیا ذکر کی؟ تاریخ، خود معنیٰ بتلا رہے ہیں أَرَّخَا کا معنیٰ کیا ہے؟ أَيْ ذَكَرَا لِلشِّرَاءِ مِنْ ذِي الْيَدِ تَارِيخًا ذکر کی دونوں نے ذو الید سے خریدنے کی تاریخ بھئی۔ تو وہ مبیع سابق کے لیے ہوگا وَلِلَّذِي يَدٍ إنْ لَمْ يُؤَرَّخَا أَوْ أَرَّخَ أَحَدُهُمَا. أچھا وَلِلَّذِي يَدٍ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی دونوں نے تاریخ ذکر نہیں کی بھئی، دونوں نے تاریخ ذکر نہیں کی، تو اس صورت میں وَلِلَّذِي يَدٍ کس کے لیے ہوگا؟ صاحبِ قبضہ کے لیے، سمجھ میں آیا؟ دیکھو ایک ہے صاحبِ قبضہ، ایک ہے خارج، ان دونوں میں مقدمہ ہوا، یہ صورت ہے بھئی۔ وَلِلسَّابِقِ إنْ أَرَّخَا یہ کس کی بات چل رہی تھی؟ دو خارج کی بات چل رہی تھی، کس کی؟ دو خارج ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا تھا تیسرے پھر ان میں سے ان دونوں خارج میں سے دونوں نے بینہ قائم کی جس کی تاریخ مقدم ہے اس کے لیے کیا کر دیا جائے گا؟ فیصلہ۔ اور اگر مدعی خود صاحبِ قبضہ ہے اور ایک خارج ہے، صاحبِ قبضہ کہتا ہے یہ چیز میری ہے اور دوسرا خارج کیا کہتا ہے؟ یہ چیز میری ہے اور جی سمجھ میں آیا؟ اور شراء کا دونوں کیا کر رہے ہیں بھئی؟ شراء پر بینہ قائم کر دی دونوں نے، صورت وہی والی ہے لیکن تاریخ کسی کے گواہوں نے بیان نہیں کی یا دونوں میں سے کسی ایک کے گواہوں نے تاریخ بیان کی، دونوں صورتوں میں صاحبِ قبضہ اولیٰ ہے، کون اولیٰ ہے؟ صاحبِ قبضہ اولیٰ ہے، یہ معنیٰ ہے۔ وَلِلَّذِي يَدٍ اور صاحبِ قبضہ کے لیے وہ چیز ہوگی إنْ لَمْ يُؤَرَّخَا جبکہ دونوں نے تاریخ ذکر یعنی اس مدعی ایک خود ذو الید ہے میں نے بتلایا بھئی، ایک خارج ہے۔ أَوْ أَرَّخَ أَحَدُهُمَا یا دونوں میں سے ایک نے تاریخ ذکر کی بھئی۔ وَلِذِي وَقْتٍ إنْ وَقَّتَ أَحَدُهُمَا فَقَطْ اور وقت ذکر جی یہ تیسری صورت آگئی۔ بھئی ابھی پہلے ذکر ہوئی صورت دو مدعی ہیں ایک چیز کے لیکن ان میں سے ایک صاحبِ قبضہ بھی ہے، اس صورت میں اگر دونوں تاریخ ذکر نہ کریں یا دونوں میں سے ایک تاریخ ذکر کرے تو کون اولیٰ ہے؟ صاحبِ قبضہ اولیٰ ہے۔ لیکن اگر دونوں خارج ہیں اور اس صورت میں ایک کیا کر دیتا ہے؟ تاریخ ذکر کر دیتا ہے، تو اس صورت میں صاحبِ تاریخ اولیٰ ہے، صاحبِ تاریخ اولیٰ اور وہ صورت جس میں ایک صاحبِ قبضہ تھا ایک خارج، اس میں کوئی ایک تاریخ ذکر کرے تو اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنیٰ ہے وَلِذِي وَقْتٍ اور وہ کس کے لیے فیصلہ کیا جائے گا؟ ذو الوقت، وقت والا جو کیا ذکر کرتا ہے؟ وقت ذکر کرتا ہے یا وہ مدعیٰ بہ کس کے لیے ہوگا؟ ذو الوقت، وقت بیان کرنے والے کے لیے ہوگا إنْ وَقَّتَ أَحَدُهُمَا فَقَطْ جبکہ ان دونوں میں سے صرف ایک نے وقت ذکر کیا ہو وَلَا يَدَ لَهُمَا اس حال میں کہ ان دونوں میں سے کسی کا قبضہ بھی دونوں میں سے کسی کا قبضہ بھی نہیں ہے یعنی دونوں خارج ہیں اور دونوں میں سے کوئی ایک وقت بیان کرتا ہے تو پھر اس صورت میں توجہ سے سننا بھئی یہ بحث، آگے بھی مسائل آئیں گے۔ اگر دو مدعی ہوں وہ کسی چیز کے شراء کا دعویٰ کریں بھئی کہ یہ چیز ہم نے خریدی ہے، تیسرے کے پاس تھی وہ چیز، چیز تھی زید کے پاس اور کس نے دعویٰ کیا؟ بکر اور عمر اور بکر نے دعویٰ کیا کہ یہ چیز ہم نے خریدی ہے بھئی، زید سے خریدی ہے۔ اور دونوں کیا ذکر کرتے ہیں؟ ہاں، دوبارہ دیکھو، دیکھو تین صورتیں بنیں گی۔ دو مدعی ہیں نا ان دونوں میں سے ایک صورت یہ کہ ایک کیا ہوگا؟ صاحبِ قبضہ، دوسری صورت ہے کہ دونوں کیا ہوں گے؟ خارج ہوں گے، ٹھیک ہے؟ اور لیکن ایک ہی شخص سے خریدنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، ایک کہتا ہے میں نے زید سے خریدی، دوسرا کہتا ہے میں نے زید سے خریدی ہے، تیسری صورت بھئی کہ الگ الگ سے خریدنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، ایک کہتا ہے میں نے مثلاً زید سے خریدی ہے اور دوسرا کیا کہتا ہے میں نے؟ خالد سے مثلاً خریدی ہے، تو الگ الگ سے، تو کتنی صورتیں ہو گئیں؟ ایک کیا کہ دونوں مدعیوں میں سے ایک کو خود کیا ہو؟ صاحبِ قبضہ ہو، دوسری صورت کہ دونوں کیا ہوں؟ خارج لیکن کس سے خریدنے کا دعویٰ ہے؟ ایک ہی شخص سے، تیسری کیا صورت؟ دونوں خارج ہیں لیکن الگ الگ سے خریدنے کا دعویٰ ہے۔ جی تو بھئی اس صورت میں اگر ایک تاریخ ذکر کرتا ہے جبکہ ان میں سے ایک صاحبِ قبضہ ہو تو آپ نے پڑھا، کون اولیٰ ہے؟ صاحبِ قبضہ اولیٰ ہے کیونکہ اس سے تقدم ایک تاریخ ذکر کرتا ہے تو اس سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ دوسرا مؤخر ہے یا پتہ نہیں چل سکتا۔ اور اگر دونوں کیا کرتے ہیں؟ ایک ہی شخص سے کیا کرتے ہیں؟ خریدنے کا کرتے ہیں اور ایک تاریخ ذکر کرتا ہے تو اس صورت کے اندر جس نے تاریخ ذکر کی وہ اولیٰ ہوگا، آگے آپ کو بتلائیں گے بھئی آپ جس نے کیا ذکر کی؟ جب ایک ہی سے خریدنے، یہی صورت متن میں آگئی بھئی، وَلِذِي وَقْتٍ إنْ وَقَّتَ أَحَدُهُمَا یہ کس سے خریدنے کا دعویٰ ہے؟ ایک ہی شخص سے، تیسری کیا صورت ہے؟ جی؟ الگ الگ شخصوں سے کیا کرتے ہیں؟ خریدنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور کوئی ایک کیا کر دیتا ہے؟ تاریخ ذکر کہتے ہیں پھر کوئی پھر دونوں برابر ہیں، یہ تاریخ ذکر کرنے سے کوئی فرق کیونکہ اس تاریخ کے ذکر کرنے سے تقديم و تاخير کا پتہ نہیں چل سکتا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً ایک کیا کہتا ہے؟ میں نے کس سے خریدی؟ زید سے، دوسرا کیا کہتا ہے؟ میں نے کس سے خریدی؟ عمر سے خریدی مثلاً بھئی، تو ہو سکتا ہے بھئی ایک ایک نے تاریخ ذکر کر دی تو ہو سکتا ہے دوسرے نے اس سے پہلے خریدا ہو یا دوسرے نے اس سے بعد میں، احتمال ہے۔ یہ معنیٰ ہے جی أَيْ إذَا أَرَّخَا فَالصَّابِقُ أَحَقُّ جی متن کی شرح کر رہے ہیں، اوپر پہلی سطر کے آخر میں آیا تھا وَهُوَ لِلسَّابِقِ إنْ أَرَّخَا سابق کے لیے ہوگی وہ چیز إنْ أَرَّخَا اگر دونوں کیا کر دیں؟ تاریخ ذکر کریں، ایک کی تاریخ سابق ہے تو فیصلہ بھی یہی بات ذکر کر رہے ہیں إذَا أَرَّخَا جب دونوں تاریخ ذکر کر دیں فَالصَّابِقُ أَحَقُّ تو سابق کیا ہے؟ زیادہ لائق ہے وَإِنْ لَمْ يُؤَرَّخَا اور اگر دونوں نے تاریخ ذکر نہ کی أَوْ أَرَّخَ أَحَدُهُمَا اور یا دونوں میں سے کسی ایک نے تاریخ ذکر کی فَإِنْ كَانَ فِي يَدِ أَحَدِهِمَا تو اگر ان دونوں میں سے کسی ایک کے قبضے میں ہوئی وہ چیز فَذُو الْيَدِ أَوْلَى تو صاحبِ قبضہ کیا ہے؟ یہ بھی متن میں آگئی وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي يَدِ أَحَدِهِمَا اور اگر دونوں میں سے کسی ایک کے قبضے میں بھی نہیں ہے فَإِنْ وَقَّتَ أَحَدُهُمَا فَهُوَ أَحَقُّ تو اگر ایک نے ان دونوں میں سے وقت بیان کر دیا تو وہ زیادہ حقدار ہے وَإِنْ لَمْ يُوَقِّتْ أَحَدُهُمَا اور اگر دونوں میں سے کسی ایک نے بھی وقت بیان نہیں کیا فَقَدْ مَرَّ تو یہ بات گزر چکی ہے أَنَّ لِكُلٍّ نِصْفَهُ بِنِصْفِ الثَّمَنِ أَوْ تَرْكَهُ کہ ان میں سے ہر ایک کے لیے وہ نصف چیز ہوگی نصفِ ثمن کے بدلے أَوْ تَرْكُهُ یا اس کا چھوڑنا، اختیار ہے، جیسے اوپر متن میں گزر گیا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جی؟ جی۔ بھئی دیکھو، جب ایک ہی سے خریدنے کا دعویٰ کر رہے ہیں دو شخص، دونوں خارج ہیں اور کس سے دعویٰ کر رہے ہیں خریدنے کا مثلاً؟ زید سے خریدنے کا اور دونوں میں سے کیا ذکر کرتا ہے ایک شخص؟ تاریخ ذکر کرتا ہے، تو یاد رکھو جو تاریخ ذکر کرتا ہے اس کو مقدم شمار کیا جاتا ہے بھئی، جو کیا ذکر کرتا ہے؟ بھئی میں نے کہا میں میں دعویٰ کر رہا ہوں کہ میں نے یہ چیز زید سے خریدی ہے، کس تاریخ کو؟ 10 رمضان کو، میرے ساتھ ایک اور شخص بھی اس چیز کا مدعی ہے، وہ کیا کہتا ہے؟ میں نے یہ چیز زید سے خریدی ہے لیکن اس نے تاریخ ذکر نہیں کی، تو یاد رکھو میں بھی شراء کا مدعی لیکن میں تاریخ ذکر کر رہا ہوں، وہ بھی شراء کا مدعی لیکن اس نے تاریخ ذکر نہیں کی اور شراء ایک امرِ حادث ہے، شراء کیا ہے؟ ایک نیا پیش آنے والا معاملہ ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو شراء امرِ حادث ہے اور یاد رکھو اَلْأَمْرُ الْحَادِثُ يُضَافُ إِلَى أَقْرَبِ الْأَوْقَاتِ جو امرِ حادث ہوتا ہے اس کی نسبت قریب ترین وقت کی طرف کی جاتی ہے۔ یقیناً یہ کب پیش آیا ہوگا؟ ابھی ابھی، قریب میں ہی پیش آیا ہوگا بھئی، امرِ حادث کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ ضابطہ ہے اصولِ فقہ کا یاد رکھو، کیا؟ اَلْأَمْرُ الْحَادِثُ يُضَافُ إِلَى أَقْرَبِ الْأَوْقَاتِ، اب کہ امرِ حادث جو ہوتا ہے اس کی نسبت کی جاتی ہے قریب ترین وقت کی طرف بھئی کہ ابھی یہ ہوا ہوگا، تو جس نے تاریخ ذکر نہیں کی اس کی بیع گویا ابھی کے بعد کی بات ہے اور جس نے تاریخ ذکر کی وہ مقدم ہے اور جو مقدم ہوگا اس کے لیے کیا کر دیا جائے گا؟ جب ایک ہی شخص سے مدعی دونوں ایک تو یہ صورت ہوئی، گویا پہلے میں نے خریدا ہے، کس سے؟ بھئی میں نے کیا تاریخ ذکر کی؟ 10، دوسرے نے کوئی تاریخ ذکر نہیں کی، معلوم ہوا میں نے 10 رمضان کو خریدا اور یہ دوسرے نے فی الحال خریدا، کیا خریدا؟ فی الحال، تو جب میں نے 10 رمضان کو خرید لیا تھا تو مالک میں تھا، تو اس کو مجھ سے خریدنے پر بینہ پیش کرنی چاہیے، زید سے خریدنے پر بینہ مقبول نہیں، اب سمجھ میں آئی علت اس کی؟ تو گویا جس نے تاریخ ذکر کی اس کے لیے اس کی تاریخ سے بیع ثابت ہے اور دوسرے کے قریب ترین وقت میں ثابت ہے، تو سابق کون ہوا؟ تاریخ ذکر کرنے والا، لہذا اس کے لیے فیصلہ ہوگا۔ وَالشِّرَاءُ أَحَقُّ مِنْ هِبَةٍ وَصَدَقَةٍ مَعَ قَبْضٍ اور شراء زیادہ لائق ہے ہبہ سے اور صدقہ مع القبض سے بھئی، بھئی ہبہ اب وہ اسباب ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ بتلایا تھا کہ کچھ اسباب قوی ہیں بھئی، بھئی ملک میں کبھی سبب ذکر کریں گے گواہ سبب ذکر کریں گے یا سبب ذکر نہیں کریں گے، ایک مطلق کہیں گے یہ اس چیز کا مالک ہے یا ساتھ کبھی سبب ذکر کریں گے، اس نے یہ چیز زید سے خریدی ہے بھئی، تو سبب بھی ساتھ ذکر کر دیا اور تو جو ملک سبب کے ساتھ ہو وہ اولیٰ ہے کس سے؟ ملکِ مطلق سے، یہ آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں اور پھر اسباب کے اندر کچھ اسباب قوی تھے، کچھ اسباب ضعیف، یہ بھی آپ نے پڑھا تھا، ان میں میں نے آپ کو بتلایا تھا شراء سببِ قوی ہے جبکہ ہبہ یہ سببِ ضعیف ہے، اسی طرح صدقہ یہ بھی کیا ہے؟ سببِ ضعیف، بھئی کیوں یہ ہبہ اور صدقہ کیوں سببِ ضعیف ہیں اور شراء کیوں سببِ قوی ہے؟ وجہ یہ ہے مولانا کہ شراء عقدِ معاوضہ ہے، عقدِ معاوضہ، تو یہ سببِ قوی، ایک چیز کے آپ ویسے نہیں مالک بن گئے بلکہ آپ کو بھی بدلے میں کوئی چیز دینا پڑی تو کوئی چیزدے کر اب آپ اس چیز کے مالک بنیں تو معلوم ہوا سبب کیا ہے، قوی میل حاصل ہوئی ہے۔ دوسری شِراء کے اندر عقد ہوتے ہی انسان کیا بن جاتا ہے چیز کا؟ مالک بن جاتا ہے۔ جبکہ ہبہ، ہبہ عقد معاوضہ نہیں۔ دوسری وجہ، کہ ہبہ کے اندر اور صدقہ کے اندر، ہبہ اور صدقہ کرتے ہی دوسرا اس کا مالک نہیں بنتا جب تک اس پر قبضہ نہ آ جائے۔ تو دیکھو شِراء کے اندر، شِراء عقد معاوضہ ہے اور ہبہ اور صدقہ عقد معاوضہ، اس لیے شِراء قوی۔ نیز شِراء کے اندر عقد ہوتے ہی انسان کیا بن جاتا ہے؟ مالک۔ لیکن ہبہ اور صدقہ کے اندر، فورا مالک؟ جب تک کہ قبضہ نہ ہو جائے۔ تو وہ تو قبضے کے بغیر تام ہی نہیں ہوتا ہبہ اور صدقہ بھئی۔ اسی لیے کہا: الشِّرَاءُ أَحَقُّ مِنْ هِبَةٍ وَصَدَقَةٍ مَعَ قَبْضٍ۔ ہبہ صدقہ کے ساتھ کیا ذکر کیا بھئی؟ قبضہ بھی ذکر کیا کیونکہ قبضے کے بغیر تو یہ تام ہی نہیں ہے تو ہبہ مع القبض ہو یا صدقہ مع القبض ہو اور ایک دوسری طرف کیا ہے شِراء؟ تو ایک کے گواہ بینہ پیش کر رہے ہیں کس چیز پر؟ شِراء پر کہ ہمارے مدعی نے اس چیز کو خریدا ہے۔ دوسرے کے گواہ کس چیز پر بینہ پیش کر رہے ہیں؟ ہبہ مع القبض پر یا صدقہ مع القبض کہ زید نے یہ چیز مثلاً بھئی ایک کے گواہوں نے گواہی دی کہ ہمارے یہ اس مدعی نے یہ چیز زید سے خریدی ہے۔ دوسرے کے گواہوں نے گواہی دی کہ زید نے اس کو یہ ہبہ کی ہے مولانا! تو اب کس کا کس کی بینہ اولیٰ ہے؟ شِراء۔ یا ایک نے بینہ قائم کی شِراء پر اور دوسرے نے بینہ کس پر قائم کی؟ صدقہ مع القبض پر تو بینہ شِراء والے کی اولیٰ ہے۔ أَيْ قَالَ أَحَدُهُمَا اشْتَرَيْتُهُ مِنْ زَيْدٍ دونوں میں سے ایک نے کہا میں نے اس کو زید سے خریدا ہے، وَقَالَ الْآخَرُ وَهَبَنِي زَيْدٌ دوسرے نے کہا کہ مجھے زید نے ہبہ کیا ہے و قبضتوہ اور میں نے اس پر قبضہ کیا ہے، أو تصدق علي زيد و قبضتوہ یا صدقہ کیا ہے مجھ پر زید نے اور میں نے اس پر قبضہ کیا ہے، فبرهنا تو دونوں نے بینہ قائم کر دی، فَمُدَّعِي الشِّرَاءِ أَحَقُّ تو شِراء کا مدعی جو ہے وہ زیادہ حقدار ہے۔ وَالشِّرَاءُ وَالْمَهْرُ سَوَاءٌ بھئی۔ شِراء اور مہر برابر ہیں۔ مولانا! صورت مسئلہ یہ بھئی۔ ایک گاڑی ہے دوسرے شخص کے پاس بھئی۔ ایک نے بینہ قائم کر دی، مثلاً عامر کے پاس ایک گاڑی ہے، ایک شخص نے بینہ قائم کر دی کہ یہ گاڑی عامر نے مجھے بیچی ہے۔ اور دوسری ایک اور مدعیہ ہے اس نے بینہ قائم کر دی کہ عامر نے یہ گاڑی مجھے بطورِ مہر کے دی تھی، میرے ساتھ نکاح کیا تھا اور یہ گاڑی بطورِ مہر کے مجھے دی ہے، تو اب ایک طرف شِراء کا دعویٰ، ایک طرف مہر کا دعویٰ، کہتے ہیں دونوں برابر ہیں بھئی، دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں، اب یہاں کسی کو ترجیح نہیں، کیونکہ دونوں عقد معاوضہ ہیں۔ وَرَهْنٌ مَعَ قَبْضٍ أَحَقُّ مِنْ هِبَةٍ مَعَهُ أَيْ مَعَ الْقَبْضِ بھئی۔ اور رہن مع قبض کے یہ زیادہ لائق ہے من ہبہ معہ أي مع القبض۔ ایک طرف ہے دعویٰ کس کا؟ رہن مع قبض کا، دوسری طرف دعویٰ کس کا ہے؟ بینہ ایک طرف ہے رہن مع قبض پر اور دوسری طرف ہبہ مع قبض پر بھئی، تو کون کس کو ترجیح دی جائے گی؟ رہن کو بھئی، رہن کو بھئی۔ سمجھ میں آئی؟ اور یہ استحْساناً مولانا! اگرچہ قیاس میں ہبہ کو ترجیح دینی چاہیے اس لیے کہ ہبہ کے اندر دوسرا مالک بن جاتا ہے چیز کا، جس کو چیز ہبہ کی اور رہن کے اندر تو دوسرا مالک نہیں بنتا۔ لیکن استحْساناً رہن کو ترجیح دی بھئی، اس لیے کہ رہن کے اندر جو چیز مقبوض ہوتی ہے وہ مضمون ہوتی ہے، اس کا زمانہ آیا کرتا ہے، جبکہ ہبہ کے اندر جو چیز دی جائے مقبوض وہ مضمون نہیں ہوتی، اور عَقْدُ الزَّمَانِ أَقْوَى ہوتا ہے، عقد زمان قوی ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو استحْساناً رہن کو ترجیح ہے۔ فَإِنْ بَرْهَنَا خَارِجَانِ عَلَى مِلْكٍ مُؤَرَّخٍ، جی۔ اب بھئی کئی تاریخ، تاریخ ذکر کریں گے، تو کس کو ترجیح دی جائے گی؟ تین صورتیں ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ فَإِنْ بَرْهَنَا خَارِجَانِ، اگر بینہ قائم کر دی، کس نے بینہ قائم کی بھئی؟ دو خارج نے، عَلَى مِلْكٍ مُؤَرَّخٍ، کس پر بھئی؟ ملک مطلق پر، لیکن تاریخ ذکر کر دی بھئی۔ فلا تاریخ سے ہمارا مدعی اس چیز کا مالک ہے، سبب نہیں ذکر کیا بھئی۔ دو گواہوں نے گواہی دی اور کیا ذکر کیا؟ فلا تاریخ سے ہمارا، جی تو دونوں خارج ہیں بھئی۔ تو کس کو ترجیح دی جائے گی؟ دونوں نے تاریخ ذکر کی، کہتے ہیں بھئی جس کی تاریخ مقدم ہوگی، اس کو ایک نے کیا کہا؟ ہمارا مدعی کب سے مالک ہے اس چیز کا؟ 10 شوال سے، دوسرے نے کیا کہا؟ 10 رمضان سے، تو مقدم کون ہوا؟ رمضان مقدم، تو اس کو ترجیح دی جائے گی۔ او شراء مؤرخ من واحد، یا شِراء مؤرخ پر بینہ قائم کی بھئی، ایک ہی شخص سے، دیکھا؟ یہ ضروری ہے قید، کس سے؟ زید بھی بینہ قائم کر رہا ہے کہ یہ گاڑی میں نے کس سے خریدی ہے؟ خالد سے، عامر بھی بینہ قائم کر رہا ہے کہ یہ گاڑی کس سے خریدی؟ خالد سے خریدی، تو شِراء پر بینہ قائم کر رہے ہیں اور شِراء کے ساتھ کیا ذکر کر رہے ہیں دونوں کے گواہ؟ تاریخ بھی ذکر کر رہے ہیں اور کس سے خریدنے کا دعویٰ ہے؟ ایک ہی شخص سے، تو اس صورت میں جس کی تاریخ مقدم ہوگی، اس کو کیا کیا جائے گا؟ اس کو ترجیح دی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ دوسری صورت تھی۔ او خارج على ملك مؤرخ وذو يد على ملك أقدم، یا مولانا تیسری صورت: خارج بینہ قائم کرتا ہے کس پر؟ ملک، ملک بیان کرتا ہے، ملک مؤرخ۔ اس کے گواہ گواہی دیتے ہیں: قاضی صاحب! یہ ہمارا مدعی 10 رمضان سے اس چیز کا مالک ہے، وذو يد على ملك أقدم منه، اور صاحبِ قبضہ بھی بینہ قائم کرتا ہے کس پر؟ ایسے ملک پر جو اس سے مقدم ہے کہ وہ اس کے، صاحبِ قبضہ کے گواہ کیا کہتے ہیں؟ کہ ہمارا مدعی کب سے مالک ہے اس کا؟ اس سے پہلے کی تاریخ ذکر کر دیتے ہیں، کہتے ہیں فَالسَّابِقُ أَحَقُّ ان تینوں صورتوں میں، ایک پہلی صورت کیا تھی؟ خارجان على ملك مؤرخ، دوسری صورت اور شِراء مؤرخ من واحد، تیسری صورت: خارج على ملك مؤرخ وذو يد على ملك أقدم، فَالسَّابِقُ أَحَقُّ۔ ان تینوں صورتوں میں جو سابق ہوگا، جس کی تاریخ مقدم ہوگی، وہ زیادہ حقدار ہے۔ صورتیں سمجھ میں آگئیں؟ وَإِنْ بَرْهَنَا عَلَى شِرَاءِ شَيْءٍ، اور اگر دونوں نے بینہ قائم کر دی کس پر؟ جی؟ دو خارج ہیں، انہوں نے بینہ قائم کر دی عَلَى شِرَاءِ شَيْءٍ، کسی چیز کے خریدنے پر مُتَّفِقٌ تَارِيخُهُمَا، ان دونوں کی تاریخ کیا ہے؟ ایک نے گواہوں نے کہا: 10 رمضان کو خریدی ہے۔ دوسرے کے گواہوں نے بھی کیا کہا؟ 10 رمضان کو یہ چیز اس نے خریدی ہے، من آخَرَ، کس سے؟ دوسرے سے، یعنی الگ الگ باء ذکر کیے۔ ایک کے گواہوں نے کیا کہا؟ اس نے یہ چیز کس سے خریدی ہے 10 رمضان کو؟ عامر سے، دوسرے کے گواہوں نے کیا کہا؟ 10 رمضان کو یہ چیز اس نے کس سے خریدی ہے؟ زید سے خریدی ہے، مثلاً تو کہتے ہیں، آگے آ رہا ہے مولانا، تو دونوں برابر ہیں۔ دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں۔ یا دونوں میں سے کوئی ایک تاریخ ذکر کرتا ہے، دو خارج ہیں اور کیا کیا انہوں نے؟ یہ، دونوں نے ایک ہی تاریخ ذکر کر دی، یا دونوں میں سے ایک نے تاریخ ذکر کر دی، لیکن کس سے خرید رہے ہیں؟ ایک ہی شخص سے یا الگ الگ سے؟ الگ الگ سے بھئی۔ جب الگ الگ سے خرید رہے ہیں تو دونوں برابر ہیں۔ کوئی ایک تاریخ ذکر کر دے تو دوسرے کا مؤخر ہونا لازم نہیں آتا بھئی، یا دونوں کیا کر دیں؟ ایک ہی تاریخ ذکر کر دیں، تو اس سے بھی، اس میں بھی، اس میں تو ظاہری بات ہے جب دونوں ایک تاریخ ذکر کر رہے ہیں تو کسی کو ترجیح نہیں دی جا سکتی، یا دونوں میں سے کسی صرف ایک کیا کر رہا ہے؟ تاریخ ذکر کر رہا ہے، تو لیکن باء دونوں کے کیا ہیں؟ الگ الگ ہیں۔ تو پھر اس صورت میں بھی تقدیم و تاخیر کا پتہ نہیں چل سکتا، کیونکہ باء دونوں کے کیا ہیں؟ ایک ہی باء ہوتا تو وہ ضابطہ لگ جاتا۔ کون سا؟ الأَمْرُ الحَادِثُ يُضَافُ إِلَى أَقْرَبِ الأَوْقَاتِ بھئی، ایک ہی سے ہیں تو دونوں میں سے ایک کی تاریخ ہے، ایک کی نہیں ہے تو لازمی بات ہے وہ ضابطہ لگ جائے گا لیکن یہاں دونوں کے باء کیا ہیں؟ الگ الگ ہیں لہذا یہاں یہ ضابطہ نہیں لگے گا۔ یہ معنی ہے وَإِنْ بَرْهَنَا عَلَى شِرَاءِ شَيْءٍ بھئی، اگر دونوں نے بینہ قائم کر دی کسی چیز کے خریدنے پر، مُتَّفِقٌ تَارِيخُهُمَا بھئی کہ جس کی تاریخ کیا ہے، ان دونوں کی تاریخ متفق ہے من آخَرَ کس سے بھئی؟ دوسرے سے، أَيْ قَالَ أَحَدُهُمَا اشْتَرَيْتُهُ مِنْ زَيْدٍ، دونوں میں سے ایک کہتا ہے میں نے زید سے خریدی ہے، وَقَالَ الْآخَرُ اشْتَرَيْتُهُ مِنْ عَمْرٍو، دوسرا کہتا ہے میں نے کس سے خریدی ہے؟ عمرو سے خریدی ہے، وَذَكَرَا تَارِيخًا وَاحِدًا، اور دونوں نے تاریخ ذکر کی، تاريخا واحدا، ایک ہی تاریخ ذکر کی، أَوْ وَقْتَ أَحَدِهِمَا فَقَطْ، یا دونوں میں سے صرف ایک نے تاریخ ذکر کر دی، اسْتَوَيَا، یہ جزا آگ گئی دونوں سے بھئی، دونوں کی تاریخ اگر متفق تھی تب بھی یا دونوں میں سے ایک نے وقت ذکر کیا تو بھی دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں۔ حاصل کلام بتلا رہے ہیں دیکھو بھئی، فالحاصل، حاصل کلام یہ ہے انه اذا وقت أحدهما فقط، جب دونوں میں سے صرف ایک نے کیا ذکر کیا ہے؟ وقت ذکر کیا ہے، و تلقيا من واحد، تلقہ کا معنی میں نے بتلایا تھا بھئی، ملک حاصل ہونا، پانا کسی چیز کا، بھئی دیکھو، جس سے چیز، مثلاً ایک کہتا ہے میں نے یہ چیز کس سے خریدی ہے؟ زید سے، تو گویا اس کا دعویٰ یہ ہے یہ چیز اس سے زید سے حاصل ہوئی ہے، تلقّی کس سے ہوئی ہے؟ زید سے۔ تلقّی کا معنی پانا، آپ، فالحاصل کلام یہ ہے انه اذا وقت أحدهما فقط، جب دونوں میں سے صرف ایک وقت بیان کرے، و تلقيا من واحد، اور دونوں کیا کر رہے ہیں؟ پا رہے ہیں، ملکیت کو من واحد، ایک ہی شخص سے، وقت ایک بیان کر رہا ہے اور پا رہے ہیں ایک آدمی سے، فَصَاحِبُ الْوَقْتِ أَحَقُّ، صاحب وقت کیا ہے؟ احَق ہے، کیونکہ معلوم ہے وہ مقدم ہے اور دوسرا کیا ہے؟ وہاں ضابطہ لگے گا الامر الحادث يضاف الى اقرب الأوقات وہ مؤخر ہے۔ وَإِنْ تَلَقَّيَا مِنْ اثْنَيْنِ، اور اگر دونوں پا رہے ہیں کس سے؟ دو آدمیوں سے، ایک کہتا ہے میں نے زید سے خریدی، دوسرا کہہ رہا ہے، عامر سے، فَهُمَا سَوَاءٌ، تو دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ چلیے مولانا! هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
107 approved lectures · 97 of 107