Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-066

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 32
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَاعْلَمْ أَنَّ إِمْكَانَ تَوْفِيقِهَا لَا يَكْفِي فِي دَفْعِ التَّنَاقُضِ أَوْ لَا بُدَّ مِنْ أَنْ يُصَرَّحَ بِالتَّوْفِيقِ اخْتَلَفَ فِيهِ الْمَشَايِخُ. جان لے تو کہ امکان توفیق کا یعنی تطبیق کا امکان ہل يكفي في دفع التناقض کیا وہ کافی ہے تناقض کے دور کرنے میں؟ أو لا بد یا ضروری ہے من أن يصرح بالتوفيق کہ تصریح کی جائے توفیق اور تطبیق کی بھئی۔ اختلف فيه المشايخ اس کے اندر مشائخ نے فقہائے کرام اختلاف ہے فقہائے کرام کا بھئی. بھئی پیچھے کئی مسائل گزرے جن کے اندر بظاہر تناقض تھا لیکن جہاں تطبیق اور توفیق کا امکان تھا وہاں انہوں نے کیا کیا؟ تطبیق دی اور تطبیق و توفیق دی بھئی اور بینہ وغیرہ کو قبول کیا گیا بھئی. تو سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دفع التناقض کے لیے صرف إمكان تطبيق ہی کافی ہے یا تصريح بھی کرنا پڑے گی اس تطبیق کی کہ کس طرح تطبیق آئی اس کے اندر بھئی؟ اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ صرف إمكان ہی کافی ہے یا باقاعدہ تصریح کرنی پڑے گی پھر تطبیق آئے گی۔ اختلف کہتے ہیں اس کے اندر مشائخ فقہاء کا اختلاف ہے بھئی. بعض فرماتے ہیں إمكان تطبيق إمكان توفیق ہی کافی ہے اور بعض کیا فرماتے ہیں نہیں بلکہ کیا کرنا پڑے گی؟ تصریح کرنا پڑے گی بھئی۔ مدعی کو تصریح کرنا پڑے گی بھئی تطبیق کی بھئی. صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ بھئی کیا وجہ ہے؟ ان دو قول آگئے فقہاء کے ہر ایک کے آگے علت ذکر کریں گے بھئی. بعض فقہاء کرام کیا فرماتے ہیں بھئی؟ إمكان تطبيق امكان توفیق ہی کافی ہے تصریح کرنے کی ضرورت نہیں۔ تو اس کی وجہ ذکر فرما رہے ہیں کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تطبیق و توفیق کا امکان موجود ہے تو تناقض ثابت نہ ہوا تو تناقض ثابت نہ ہوا تناقض تو تب ہوتا جب امکان ہی نہ ہوتا لیکن یہاں پر تو کیا ہے توفیق اور تطبیق کا امکان پایا جا رہا ہے تو تناقض نہ پایا گیا تو لہذا اب اسی امکان پر اس کو محمول کر لیں گے دعوے کو اور تاکہ اس کے دعوے کو بطلان سے بچایا جائے بھئی. اگر اس امکان پر محمول نہ کریں پھر تو اس کا دعویٰ ہی کیا ہو جاتا ہے باطل تو لہذا جب امکان تطبیق پایا گیا تو اسی امکان پر دعوے دعوے کو محمول کر لیں گے کیوں محمول کریں گے؟ تاکہ اس کے دعوے کو بطلان سے بچایا جائے بھئی. وجه الأول پہلے کی وجہ یہ ہے کہ أن مع إمكان التوفيق لا يتحقق التناقض امکان توفیق کے ساتھ تناقض کا تحقق نہ ہوا تناقض پایا نہیں گیا فيحمل عليه تو اسی پر اس کو محمول کر لیں گے صيانة لدعواه عن البطلان اس کے دعویٰ کو بطلان سے بچانے کے لیے بھئی۔ اس کے دعویٰ کو بطلان سے بچانے کے لیے اسی امکانی صورت پر محمول کر لیں گے. یہ تو تھا بعض فقہاء کا قول اور اس کی علت بھی ذکر کر دی کہ اس کے دعویٰ کو بچانے کے لیے کیا کر دیں گے؟ اس کے إمكان توفیق پر کیا کر لیں گے؟ محمول کر لیں گے کیونکہ تناقض ہے ہی نہیں جب امکان توفیق موجود ہے۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں نہیں بھئی تصریح کرنا ضروری ہے مدعی کے لیے کہ کس طرح تطبیق کیسے آئی بظاہر تو کیا نظر آ رہا ہے؟ تناقض اس کی کیا وجہ ہے وہ ذکر کرنے لگے ہیں. وجه الثاني ثانی کی وجہ یہ ہے أنه لا بد للدعوى من الصحة يقيناً کہ ضروری ہے دعوے کے لیے صحیح ہونا یقینی طور پر فإمكان الصحة لا يبطل حق المدعي عليه بھئی تو امکان صحیح ہونے کا امکان یہ باطل نہیں کر سکتا مدعی علیہ کے حق کو بھئی۔ مدعی علیہ کے حق کو. بھئی دیکھیے انسان کے ذمہ کو انسان کی تخلیق اس طور پر ہوئی ہے کہ اس پر ذمہ اس کے ذمہ کسی کے حق کے ساتھ مشغول نہیں۔ مشغول ہوتا ہے بھئی کسی کے حق کے ساتھ تخلیق پیدائش کے وقت بھئی؟ نہیں بعد میں کوئی عقد وغیرہ کیا یا اپنے اوپر کوئی چیز لازم کی تو اس پر کسی کا حق آ جاتا ہے اس سے پہلے وہ کیا ہے اس کا ذمہ فارغ ہے فارغ بھئی. تو لہذا مدعى عليه جس پر دعویٰ کیا گیا بھئی اس کا ذمہ بھی کیا ہونا چاہیے؟ فارغ ہونا چاہیے یہ اس کا حق ہے بھئی. تو اب صرف امکان تطبیق کی وجہ سے آپ دعوے کو صحیح قرار دے دیتے ہیں اس پر جواب دینے کو لازم کر دیتے ہیں تو آپ نے کیا کر دیا؟ اس کے حق کو باطل کر دیا بھئی۔ تو صرف امکان کی وجہ سے اس کے حق کو باطل نہیں کیا جا سکتا. بھئی وجہ یہ چل رہی ہے نا کہ بعض فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ جب تطبیق کا امکان ہو تو پھر اس صورت میں صرف امکان سے بات نہیں چلے گی بلکہ مدعی کو کیا کرنی پڑے گی؟ وہ تصریح بھی کرے کہ تطبیق کیسے آئی ہے بھئی اس کے اندر بظاہر تو اس کے قول میں کیا نظر آ رہا ہے؟ تناقض تو کیا اس کو تصریح کرنے کی ضرورت ہے کہ کیسے تطبیق آئی یا صرف امکان ہے تو بس آپ بات سن لیں گے اس سے تصریح کروانے کی ضرورت؟ کہتے ہیں نہیں بھئی تصریح کروائی جائے گی کہتے ہیں اس لیے کہ اگر تصریح نہ کروائی جائے تو مدعی علیہ کا حق مارا جاتا ہے. کیونکہ مدعی علیہ کا کیا حق تھا کہ اس کا ذمہ کیا ہونا چاہیے؟ فارغ ہونا چاہیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وجه الثاني ثانی کی وجہ یہ أنه لا بد للدعوى من الصحة يقيناً کہ ضروری ہے دعوے کے لیے صحیح صحت کا ہونا یقینی طور پر فإمكان الصحة لا يبطل حق المدعي عليه تو امکان صحت جو ہے یہ باطل نہیں کرتا مدعی علیہ کے حق کو تو آپ صرف امکان کی وجہ سے کیا کرنا چاہتے ہیں؟ مدعی علیہ کے حق کو باطل کرنا چاہتے ہیں؟ نہیں بھئی صرف امکان سے نہیں کریں گے بلکہ کیا کرنا پڑے گی مدعی کو اس کی تصریح کرنا پڑے گی کہ اس کے قول میں تو بظاہر تناقض ہے بھئی کیسے اس میں تطبیق کیسے ممکن ہے وہ بتلائے گا تطبیق پھر اس کے بعد ہم مدعی علیہ پر جواب کو لازم کریں گے۔ بھئی. إذا عرفت هذا جب آپ نے یہ جان لیا علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں کہ إذا عرفت هذا جب آپ نے یہ جان لیا فأقول میں کہتا ہوں في كل صورة يقع الشك ہر اس صورت کے اندر جس میں شک واقع ہو جائے في صحة دعوى دعوے کے صحیح ہونے کے اندر لا نقول إن إمكان الصحة كاف کہ صحت کا امکان بھی وہاں صرف امکان صحت کافی نہیں. कैसे بھئی؟ کا دیکھو صورت بتلا رہے ہیں كما إذا ادعى الهبة ایک شخص نے دعویٰ کس چیز کا کیا؟ ہبہ کا کہ یہ گھر مثلاً اس نے مجھے ہبہ کر دیا تھا فسئل بينته تو اس سے اس کی بینہ طلب کی گئی بھئی فلم يخر تو اس پر قادر نہیں ہوا یعنی اس کے پاس وہبہ پر بینہ نہیں تھی فدعا الشراء پھر اس نے کس چیز کا دعویٰ کر دیا؟ شراء کا دعویٰ کر دیا فقام بينة على الشراء تو اس نے کس پر بینہ قائم کر دی؟ شراء پر بینہ قائم کر دی من غير أن يبين أن الشراء قبل وقت الهبة أو بعده بغیر یہ بیان کیے کہ یہ شراء ہبہ سے پہلے تھی یا ہبہ کے بعد صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ایک آدمی نے ہبہ کا دعویٰ کیا لیکن اس پر اس کے پاس بینہ نہیں تھی پھر اس نے شراء کا دعویٰ کر دیا اور شراء پر اس نے مطلق بینہ پیش کی یہ نہیں بتلایا کہ یہ شراء قبل الہبہ ہے یا بعد الہبہ تو اس صورت میں اس کی بینہ قبول نہیں کی جائے گی کیوں؟ اس لیے کہ نفس دعویٰ کے اندر ہی شک آ گیا نفس دعویٰ میں کیسے شک آ گیا؟ اس لیے بھئی دعویٰ اصل میں کیا تھا بھئی؟ ہبہ کا اور پھر اس میں جی جی ہاں شراء کا آیا بھئی. شراء کا دعویٰ ہے تو دعویٰ اگر قبل الہبہ ہو تو وہ دعویٰ ہی صحیح نہیں۔ اور بعد الہبہ ہو تو دعویٰ تو نفس دعویٰ کے اندر کیا آ گیا؟ شک آ گیا تو جب نفس دعویٰ کے اندر شک آ گیا تو اب اس کی بینہ سنی نہیں جائے گی۔ فإذا وقع الشك في صحة دعوى جب شک واقع ہو گیا صحت دعویٰ کے اندر لا تصححه بالشك تو اس کی تصحیح شک کے ساتھ نہیں کی جائے گی بھئی. تو اس کی تصحیح نہیں کی جائے گی بھئی شک کی وجہ سے لأن غاية ما في الباب اس لیے کہ زیادہ سے زیادہ غائے انتہا جو ہوگی اس بات کے اندر وہ یہ بھئی دیکھو بھئی کتنی صورتیں بنی تھیں شراء میں؟ دو صورتیں. یا تو شراء کب ہوگی؟ قبل الہبہ یا یہ شراء کب ہوگی؟ بعد الہبہ۔ اگر قبل الہبہ ہو تو شراء صحیح ہوتی ہے؟ نہیں۔ بعد الہبہ ہو تو شراء کا دعویٰ۔ لیکن قبل الہبہ ہو تو صحیح نہیں۔ ہاں اس کو صحیح کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے اس ایک ایک صورت میں تو دعویٰ صحیح دوسری صورت میں دعویٰ کسی طور بھی صحیح نہیں۔ ہاں اس دوسری صورت کو صحیح کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پہلے شراء ہوئی تھی پہلے کیا ہوئی تھی؟ دیکھو میں صحیح کرتا ہوں اس صورت کو شراء ہوئی تھی لیکن پھر وہ عقد اٹھ گیا ختم ہو گیا کیا ہوا؟ ختم وہ شراء والا عقد ختم ہوا جب عقد ختم ہوا تو اس کا مالک پھر وہی شخص ہے بھئی. لہذا اب اس کی طرف سے ہبہ کرنا صحیح ہوا تو اب اس صورت میں جب شراء اٹھ گئی اس کے بعد کیا آئی؟ ہبہ آئی تو ہبہ پر کیا چاہیے؟ بینہ چاہیے اور اس کے پاس تو بینہ موجود ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کتنی صورتیں بنی تھی دعویٰ شراء کے اندر بھئی؟ دو۔ اگر وہ قبل الہبہ ہو تو صحیح نہیں۔ بعد الہبہ ہو تو صحیح۔ قبل الہبہ ہو تو اس کے صحیح کرنے کی کیا صورت ہے؟ یہ کہا جائے کہ شراء پہلے ہوئی تھی لیکن پھر بعد میں وہ عقد کیا کر دیا گیا؟ عقد ختم کر دیا گیا جب عقد ختم کر دیا گیا تو ہبہ اب اس کے بعد آیا بھئی اب ہبہ ٹھیک ہوا کیونکہ اس کا مالک کون ہے؟ وہی واہب ہے کیونکہ عقد شراء تو کیا ہو چکا؟ ختم ہو چکا تو واہب اس کا مالک ہوا تو اب اس کے بعد ہبہ آئی تو اب بینہ کس پر چاہیے؟ ہبہ پر چاہیے کیونکہ شراء تو کیا ہو چکی؟ اور یہ بینہ کس پر پیش کر رہا ہے؟ شراء پر پیش کر رہا ہے ہبہ پر تو اس کے پاس بینہ ہی موجود نہیں۔ معلوم ہوا دعویٰ کو صحیح دعویٰ صحیح ہو ہی نہیں اس میں شک ہر صورت شک اس میں باقی رہتا ہے اور شک کی وجہ سے اب ہم مدعی علیہ کے حق کو باطل لہذا اس کی بینہ کو سن قبول نہیں کیا جائے گا. لأن غاية ما في الباب اس لیے کہ زیادہ سے زیادہ اس باب کے اندر یہ ہے کہ أن شراءه كان متحققاً قبل وقت الهبة کہ اس کا شراء وہ ثابت ہوگا ہبہ سے پہلے تو فيكون معنى دعوى الهبة تو اس پھر دعویٰ کے ہبہ کے دعویٰ کا معنیٰ یہ ہوگا کہ أني كنت اشتريتها منه کہ میں نے اس سے یہ چیز خریدی تھی لكن ارتفع ذلك العقد لیکن پھر وہ عقد کیا ہوا؟ اٹھ گیا، صار ملكاً له پھر اسی بائی کی یہ ملک بن گئی ثم وهب مني پھر یہ چیز اس نے مجھے ہبہ کر دی فلا بد تو اس صورت میں ضروری ہے من إقامة البينة کہ بینہ قائم کرنے کی طرف سے عَلَى الْهِبَةِ ہبہ پر بینة کا پیش کرنا قائم کرنا، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ لَا يَصِحُّ دَعْوَاهُ، پس جب اس کے پاس بینة نہیں ہے تو اس کا دعویٰ بھی صحیح نہیں۔ ہبہ پر تو اس کے پاس بینة ہی نہیں ہے یہ تو شراء پر بینَة پیش کر رہا ہے اور شراء اگر قبل ہو پہلے ہو تو اس کے تو صحیح ہونے کی ایک ہی صورت ہے کہ اس وہ عقد کیا ہوا تھا پہلے ہوا تھا لیکن پھر ختم ہو گیا جب ختم ہو گیا تو اب بینة تو ہبہ پر چاہیے تو اب ہبہ پر اس کے پاس بینة نہیں ہے تو دعویٰ صحیح نہیں۔ وَالْوَلَاءُ يَبْطُلُ حَقُّ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِالشَّكِّ، اور مدعی علیہ کا حق شک کی وجہ سے باطل نہیں ہو سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ تو ہر اس صورت میں تھا جس میں نفس دعویٰ میں کیا آ رہا تھا؟ شک تو وہاں امکان توفیق کافی نہیں۔ وَفِي كُلِّ صُورَةٍ لَا يَكُونُ شَكٌّ فِي صِحَّةِ دَعْوَاهُ، اور ہر اس صورت کے اندر کہ دعویٰ کی صحت میں وہاں شک نہ ہو حَتَّى يَلْزَمَ إِبْطَالُ حَقِّ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِالشَّكِّ، یہاں تک کہ لازم آتا ہو مدعی علیہ کے حق کا باطل کرنا کس کی وجہ سے؟ شک کی وجہ سے۔ نَقُولُ اس صورت میں ہم کہتے ہیں إِمْكَانُ التَّوْفِيقِ كَافٍ توفيق اور تطبیق کا امکان بھی کافی ہے۔ یعنی ہر اس صورت میں جہاں دعوے کی صحت کے اندر کوئی شک نہیں۔ کیونکہ دعویٰ میں شک ہے تو پھر اس صورت میں تو شک کی وجہ سے کیا لازم آئے گا؟ مدعی علیہ کے حق کو باطل کرنا۔ تو جہاں پر دعوے کی صحت میں شک نہ ہو تاکہ شک کی وجہ سے مدعی علیہ کے حق کو باطل کرنا لازم نہ آئے، ہم کہتے ہیں وہاں پر امکان توفیق بھی کافی ہے۔ كَمَا إِذَا أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْقَضَاءِ أَوِ الْإِبْرَاءِ، جیسے کہ ایک شخص نے بینَة قائم کر دی وہی پچھلا مسئلہ جو گزرا تھا بھئی، بینَة قائم کر دی علي القضاء أو الإبراء ادائیگی پر یا معاف کر دینے پر بَعْدَ إِنْكَارِهِ الْمُدَّعَى بِهِ، بعد اس کے کہ وہ مدعیٰ بہ کا کیا کر چکا تھا؟ بھئی پہلے اس نے کہا تھا میرا تمہارے اوپر کوئی وہ مسئلہ بھئی پچھلے صفحے پر آپ نے پڑھا تھا کیا؟ ما كان لك علي شيء قط، تمہارا میرے اوپر کبھی بھی کوئی چیز تمہاری کوئی بھی چیز میرے اوپر نہیں تھی، پھر تو پہلے انکار کر دیا بھئی۔ پھر کیا کیا اس نے؟ بینَة قائم کر دی بھئی جب مدعیٰ نے ہزار پر تو اس نے کیا کیا تھا؟ مدعیٰ علیہ نے کس پر بینَة قائم کر دی تھی؟ کل کا مسئلہ بھول گئے بھئی تکرار نہیں کیا آپ لوگوں نے؟ ایک آدمی نے دوسرے پر دعویٰ کیا کسی چیز کا، اس نے کیا کہا کہ ایک نے کہا میرا تمہارے اوپر کتنا مال ہے؟ ایک ہزار۔ دوسرے نے کہا نہیں تمہارا کبھی بھی میرے اوپر کوئی حق نہیں تھا، دیکھو انکار کر دیا۔ اس پر مدعیٰ نے بینَة قائم کر دی کہ میرا تمہارے اوپر ایک ہزار دین ہے، جب اس نے بینَة قائم کر دی تو اس نے بھی بینَة قائم کر دی کس پر؟ قضاء یا ادائیگی پر یا معاف کر کے کہ میں نے وہ ہزار ادا کر دیے تھے یا اس پر بینَة قائم کر دی کہ تم نے وہ ہزار مجھے معاف کر دیے تھے بھئی۔ كَمَا إِذَا أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْقَضَاءِ أَوِ الْإِبْرَاءِ، جبکہ اس نے قائم کیا ہو بینَة کو قضاء یا ابراء پر بَعْدَ إِنْكَارِهِ الْمُدَّعَى بِهِ، بعد اس کے کہ وہ انکار کر چکا تھا کس کا انکار کیا تھا اس نے پہلے؟ مدعی بہ کا۔ تو بعد إنكاره وإقامتي یہ اقامہ کا عطف انکار پر ہے، اس نے انکار کیا تھا اور پھر اس کے بعد کیا کیا تھا؟ مدعیٰ نے مدعیٰ بہ پر کیا کر دی تھی بینَة جی۔ تو کہتے ہیں جب تو اس بعد إنكاره اس کی اس کے انکار کے بعد وَبَعْدَ إِقَامَةِ الْمُدَّعِي الْبَيِّنَةَ عَلَيْهِ، اور بعد اس کے کہ مدعی نے اس پر کیا قائم کر دی تھی؟ بینَة۔ اس کے بعد اس نے پھر کیا کی تھی؟ بینَة قائم کی تھی بھئی دیکھو اس نے پہلے کیا کیا تھا؟ انکار۔ پھر کیا کیا تھا؟ مدعی نے اپنی بینَة، ان دونوں کے بعد اس نے بینَة قائم کی تھی کس پر؟ قضاء یا ابراء پر بھئی، دیکھا؟ تو ترجمہ سمجھ میں آیا کہ بینَة قائم کی ہے قضاء یا ابراء پر کس کے بعد؟ اپنے انکار کے بعد اور مدعی کی بینَة قائم کرنے کے بعد اس نے بینَة قائم کی ہے۔ أَوْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى الشِّرَاءِ بَعْدَ وَقْتِ الْهِبَةِ، یا اس نے بینَة کس پر قائم کر دی؟ شراء پر قائم کی ہے بعد وقت الهبة کس کے بعد بھئی؟ ہبہ کے ہبہ کے بعد بھئی یہ وہ دوسری صورت ہے بھئی۔ کہ دعویٰ پہلے ہبہ کا کیا، اس سے بینَة طلب کی گئی، اس کے بعد ہبہ پر بینَة نہیں تھی، پھر اس نے دعویٰ کس کا کر دیا؟ شراء اور بینَة شراء پر قائم کر دی، اور یہ گواہوں نے یہ بھی بتلایا کہ یہ یہ شراء کب ہوئی تھی بھئی؟ ہبہ کے بعد۔ وہ زمانہ جو انہوں نے ذکر کیا وہ ہبہ سے ہبہ کے بعد کا تھا، تو اس صورت میں آپ نے پڑھا تھا بھئی۔ کہ بینَة کو کیا کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا۔ تو ان صورتوں میں دیکھو نفس دعویٰ کی صحت میں کوئی شک نہیں، نفس دعویٰ کیا ہے؟ صحیح ہے بظاہر دیکھو اس کے کلام میں کیا آ رہا ہے؟ تناقض، اس تناقض میں بھی ہم نے امکان توفیق پایا گیا تو ہم نے تطبیق دے دی بھئی۔ تُقْبَلُ اس صورت میں اس کی بینَة کو کیا کیا جائے گا؟ دونوں صورتوں میں قبول کیا جائے گا۔ فَاحْفَظْ هَذِهِ الضَّابِطَةَ، پس تو یاد کر لے اس ضابطے کو فَإِنَّهُ كَثِيرُ النَّفْعِ یہ بے انتہا نفع والا ہے، یہاں تک صورت سمجھ میں آگئی بھئی۔ تو خلاصہ کلام کیا ہوا؟ کہ اگر نفس دعویٰ کے اندر شک ہو اور اس کے ساتھ ساتھ کلام میں بھی کیا آ جائے بظاہر تناقض آ جائے تو امکان توفیق کافی نہیں ورنہ تو مدعیٰ علیہ کا حق کیا ہو جاتا ہے؟ باطل ہو جاتا ہے۔ اور اگر نفس دعویٰ صحیح ہو صرف کلام میں بظاہر کیا ہو؟ تناقض ہو تو وہاں پر امکان توفیق بھی کافی ہوگا۔ ثُمَّ اعْلَمْ پھر جان لے تو کہ ان تناقض إنما يمنع صحة الدعوى إذا كان الكلام الأول قد ثبت لشخص معين حقا، حتى إذا لم يكن كذلك لا يمنع صحة الدعوة. یہاں سے ایک اور ضابطہ ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں بھئی یہ تناقض اس وقت معتبر ہوگا، جب ایک معین شخص کے حق کا اقرار بھی کرے اور انکار بھی کرے بھئی۔ ایک معین شخص کے بارے میں ہو، انکار بھی اسی کے بارے میں ہے اور اقرار بھی اسی کے بارے میں ہے، تو اس صورت کے اندر یا انکار بھی اسی کے بارے میں ہے، دعویٰ بھی اسی کے بارے میں ہے، تو اس صورت میں تناقض معتبر ہوگا، ہم کہیں گے کلام میں تناقض آ گیا، لہذا تمہارا دعویٰ معتبر نہیں۔ لیکن اگر بھئی ایک ہی شخص کے بارے میں نہ ہو تناقض بھئی، تو پھر اس صورت میں اس تناقض کا اعتبار نہیں، بلکہ دعویٰ کیا ہوگا؟ دیکھو صورت آگے آ جائے گی سمجھ میں بھئی، دیکھیے مثال ذکر کریں گے۔ ثم اعلم أن تناقض إنما يمنع صحة الدعوة، یہ تناقض جو ہے صحت دعویٰ سے مانع ہے، اس کو روکتا ہے إذا كان الكلام الأول قد ثبت لشخص معين حقا، جب اس وقت جبکہ کلام اول وہ تحقیق ثابت ہو کسی شخص معین کے لیے بطور حق کے، حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ حتى کہ اگر ایسا نہ ہوا یعنی کسی معین شخص کے لیے حق ثابت نہ ہو، لَا يَمْنَعُ صِحَّةَ الدَّعْوَةِ، تو اس صورت میں صحت دعویٰ کو روکنے والا یعنی دعویٰ صحیح رہے گا، دیکھیے مثال سے بات سمجھ میں آئے گی، كما إذا قال جیسے ایک شخص نے کہا لَا حَقَّ لِي عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ سَمَرْقَنْدَ بھئی، میرا اہل سمرقند میں سے کسی پر کوئی حق نہیں ہے۔ ایک شخص نے کیا کہا؟ لاہور والوں میں سے کسی پر میرا کوئی حق نہیں ہے۔ پھر لاہور کے ایک آدمی پر وہ دعویٰ کر دیتا ہے کہ اس نے میرا ایک ہزار دینا ہے، تو کہتے ہیں بھئی یہ تناقض معتبر نہیں ہے بھئی، کیونکہ شخص معین کے بارے میں تناقض نہیں ہے بھئی۔ ہاں زید ہی کے بارے میں کہتا، میرا زید پر کوئی حق نہیں، پھر کہتا زید نے میرا کتنا دینا ہے؟ ہزار، تو اب یہ تناقض تھا، لیکن جب اس نے پہلا کلام عام کیا کہ میرا لاہور والوں پر کوئی حق نہیں، پھر اس کے بعد وہ دعویٰ کس پر کرتا ہے؟ لاہور والے ہی ایک شخص پر کر دیتا ہے، تو اب یہ تناقض معتبر نہیں، بلکہ اس کا یہ دعویٰ صحیح ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ كما إذا قال لا حق لي على أحد من أهل سمرقند میرا کوئی حق نہیں ہے سمرقند والوں میں سے کسی ایک پر بھی، ثُمَّ دَعَا شَيْئاً عَلَى وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ سَمَرْقَنْدَ، پھر اس نے کسی چیز کا دعویٰ کر دیا سمرقند والوں میں سے کسی ایک پر، يَصِحُّ دَعْوَاهُ، تو اس کا دعویٰ صحیح ہے بھئی۔ کیونکہ تناقض شخص معین کے بارے میں نہیں آیا بھئی۔ وَمَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى الشِّرَاءِ وَأَرَادَ الرَّدَّ بِعَيْبٍ رُدَّتْ بَيِّنَةُ بَائِعِهِ عَلَى بَرَاءَتِهِ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ بَعْدَ إِنْكَارِهِ بِبَيْعِهِ. صورت مسئلہ یہ ہے بھئی۔ ایک آدمی نے دعویٰ کیا کہ میں نے یہ چیز زید سے خریدی ہے۔ دوسرے پر، زید کو ہی کہتا ہے، میں نے یہ چیز آپ سے خریدی تھی ایک ہزار روپے کے بدلے، اور میں نے وہ ایک ہزار آپ کے حوالے کر دیے تھے، اور یہ چیز آپ نے مجھے دے دی بھئی، لیکن پھر اس چیز کے اندر یہ عیب نکل آیا ہے، اب میں اس کو واپس کرنا چاہتا ہوں۔ زید انکار کر دیتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان تو کوئی بیع ہی نہیں ہوئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ ایک شخص نے زید سے کیا کہا؟ کہ میں نے یہ چیز دعویٰ کیا زید پر، زید کو کہہ رہا ہے، میں نے آپ سے یہ چیز ایک ہزار میں خریدی تھی، میں نے ہزار روپے آپ کے حوالے کر دیے، آپ نے یہ چیز میرے حوالے کر دی، لیکن اس چیز میں یہ عیب نکل آیا ہے، اب میں اس کو واپس کرنا چاہتا ہوں اس عیب کی وجہ سے۔ زید کہتا ہے نہیں بھئی، میرے اور تمہارے درمیان تو کوئی بیع ہوئی ہی اس نے بیع ہی کا انکار کر دیا۔ بیع کا بھی۔ अच्छा، اب بھئی مدعی نے بیع پر بینَة قائم کر دی، دو گواہ لے آیا، دیکھو بھئی یہ دو گواہ ہیں تمہارے اور میرے درمیان کیا ہوئی تھی؟ بیع ہوئی تھی بھئی۔ اچھا بھئی۔ اب زید بھی اپنی بینَة لے آیا، زید نے دو گواہ پیش کر دیے کہ بھئی جب بیع ہوئی تھی اس وقت میں نے کہا تھا کہ میں ہر عیب سے بری ہوں۔ زید نے کس پر بینَة قائم کر دی؟ صورت سمجھ میں آرہی ہے زید نے پہلے بیع کا انکار کیا تھا، تو اس نے بینَة کے ذریعے کس کو ثابت کر دیا؟ بیع کو ثابت کر دیا، تو اب وہ چاہتا ہے اس چیز کو عیب کی وجہ سے واپس کرے، زید نے اب اپنی بینَة قائم کر دی کہ جب میں نے چیز بیچی تھی، تو اس وقت تو نے مجھے ہر عیب سے کیا کر دیا تھا؟ بری کر دیا تھا، کہتے ہیں نہیں بھئی، اس زید کی اس بینَة کو رد کر دیا جائے گا، قبول نہیں۔ کیوں قبول نہیں کیا جائے گا بھئی؟ کہتے ہیں اس لیے کہ پہلے یہ بیع کا کیا کر چکا ہے؟ انکار کیا ہے اس نے، اور اب براءت عن العیب پر بینَة پیش کر رہا ہے کس کے اندر؟ بیع کے اندر بھئی، تو اب گویا بیع کا کیا کر رہا ہے؟ اقرار، پہلے انکار کیا تھا، اب اقرار کر رہا ہے، تو کلام میں تناقض آیا، تطبیق کی کوئی صورت نہیں، لہذا اس کی بینَة کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ وَمَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى الشِّرَاءِ وَأَرَادَ الرَّدَّ بِعَيْبٍ رُدَّتْ بَيِّنَةُ بَائِعِهِ عَلَى بَرَاءَتِهِ مِنْ كُلِّ عَيْبٍ بَعْدَ إِنْكَارِهِ بِبَيْعِهِ. صورت یہ ہے دار و جڑنا ہے آخر اداوا کی ایک آدمی نے دوسرے پر کہ انی جی کہ انشری تو منک هذا العبد کہ میں نے خریدا تھا تم سے یہ غلام بھی الفین ہزار کے بدلے وسلم تو الیک الف اور میں نے ایک ہزار تمہارے سپرد بھی کر دیے تھے فظہر فیہ عیب بس غلام کے اندر عیب ظاہر ہوا ہے فرده بالعيب پس میں اس کو واپس کرنا چاہتا ہوں اور واپس کر رہا ہوں عیب کی وجہ سے فـعليک ان ترد الثمن الی پس تمہارے پر لازم ہے کہ تم واپس کر دو ثمن مجھے فانکر الخصم البیع پس قسم نے بھئی انکار کر دیا بیع کا فقام المدعی بینة علی البیع پس مدعی نے بینَة قائم کر دی بیع پر فاد الخصم البراءۃ المدعی من کل عیب پھر خصم نے بھی دعویٰ کر دیا بھئی مدعی کے براءت کا من کل عیب کس سے ہر عیب سے وپام بینة علی ذالك اور اس پر اس نے بینَة بھی قائم کر دی لا تسمع اس کی بینَة کو سنا نہیں جائے گا للتناقض کس کی وجہ سے؟ تناقض کی وجہ سے بھئی۔ وعند ابي یوسف رحمہ اللہ تسمع قياسا علی المسلۃ المذکورۃ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی بینَة کو سنا جائے گا قیاس کرتے ہوئے اس مسئلہ مذکورہ پر، بھئی کون سا مسئلہ ہے مذکورہ؟ کہتے ہیں وہ ما کان لک علی شئ قتو، وہ جو جس میں اس نے کیا کہا تھا پہلے؟ میرا تمہارے اوپر کوئی بھی حق نہیں ہے، پھر بینَة قائم کر دی تھی قضا یا ابراء پر، کس پر بینَة قائم کی تھی پہلے کہا تھا میرا تمہارے اوپر تمہارا میرے اوپر کوئی حق نہیں تو وہاں آپ نے کہا تھا بینَة سن لی جائے گی۔ تو یہاں پر بھی کیا کیا جائے گا؟ اس کی بینَة کو سنا جائے گا۔ والفرق لأبی حنيفة ومحمد رحمہ اللہ فی مسلۃ ان هذا زاید لگ رہا ہے کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے اور فرق یہ ہے امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مسئلہ دین کے اندر جی کہ ان دین بھئی، کہ دین جو ہے قد یقضا وان کان بھئی۔ پہلی صورت بھئی وہ جو مسئلہ گزرا تھا اس نے پہلے کیا کہا تھا؟ میرا تمہارے اوپر کوئی حق نہیں، پھر کس پر بینَة قائم کی تھی قضا یا ابراء پر، کہتے ہیں بھئی اس لیے کہ دین کبھی کبھی ادا کیا جاتا ہے وإن كان باطلا، اگرچہ وہ کیا ہو؟ باطل ہی کیوں نہ ہو، پہلے گزشتہ سبق میں بات گزر چکی ہے جان چھڑانے کے لیے آدمی کیا کر دیتا ہے؟ پیسے دے دیتا ہے، اور تو وہاں پر اور دین کی صورت تھی وہاں هنا دعوة البرأة من العیب، اور یہاں پر دعویٰ کس چیز کا ہے؟ عیب سے براءت کا، اور یہ دعویٰ يستدعی قیام البیع، یہ تقاضا کس چیز کا کرتا ہے؟ بیع کے بھئی عیب سے براءت بھئی، یہ کس میں ہے، کس میں ذکر کر رہا ہے وہ؟ بھئی کب تم نے مجھے عیب سے بری کیا تھا؟ عقد کے اندر معلوم ہوا عقد ہوگا تو پھر کیا آئے گی؟ براءت عن العیب پر بینَة سنی جائے گی اور عقد کا تو یہ پہلے کیا کر چکا ہے؟ انکار، اور اب جو بینَة پیش کر رہا ہے اس سے عقد کا کیا لازم آ رہا ہے؟ اثبات لازم آ رہا ہے لہذا اب نہیں سنی جائے گی، اس لیے کہ یہ براءت من العیب کا دعویٰ یہ تقاضا کرتا ہے بیع کے قیام کا اور اس نے تو کیا کر دیا تھا بیع کا؟ انکار تو لہذا یہاں پر تطبیق ممکن ہی نہیں ہے بھئی۔ چلیے مولانا! ہذا هو المراد واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔
106 approved lectures · 66 of 106