Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-086

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 18 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 32
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ الوَكَالَةِ بِالْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ وكالت بالبیع اور وکالت بالشراء کے بارے میں یہ باب ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کسی چیز کے خریدنے اور بیچنے کے لیے وکیل بنانا بھئی۔ اچھا۔ تو خرید و فروخت کے لیے جو وکالت ہے اس کے بارے میں مسائل بتلائیں گے۔ کہتے ہیں: اَلْأَمْرُ بِشِرَاءِ الطَّعَامِ عَلَى الْبُرِّ فِي دَرَاهِمَ كَثِيرَةٍ وَعَلَى الْخُبْزِ فِي قَلِيلِهِ وَعَلَى الدَّقِيقِ فِي مُتَوَسِّطِهِ وَفِي مُتَّخِذِ الْوَلِيمَةِ عَلَى الْخُبْزِ بِكُلِّ حَالٍ. کہتے ہیں اگر ایک شخص نے دوسرے کو حکم دیا طعام کے خریدنے کا بھئی، کچھ دراہم اس کے حوالے کیے اور کہا جاؤ جا کر میرے لیے طعام لے کر آؤ بھئی۔ اب اس طعام سے کیا چیز مراد ہوگی؟ اس کا کہتے ہیں ضابطہ پہلے سمجھ لو جو شرح میں آگے جا کر بیان کریں گے بھئی۔ کہ وکالت کے اندر تعیین ہونی چاہیے، پتہ ہونا چاہیے بھئی کس چیز کے لیے آپ وکیل بنا رہے ہیں، کیا چیز خریدنی ہے وغیرہ بھئی۔ اور اگر اس کے اندر جہالت ہو بھئی توکیل کے اندر، تو اگر وہ جہالت زیادہ ہو، پھر تو توکیل صحیح نہیں، وکیل بنانا صحیح نہیں۔ مثلاً ایک آدمی کو آپ کہتے ہیں جاؤ بھئی میرے لیے کپڑا خرید کر لاؤ بھئی۔ اب کپڑے تو بھئی سینکڑوں قسم کے ہیں، بڑے بڑے مہنگے کپڑے بھی ہیں اور نہایت سستے بھی ہیں، تو لہذا جہالت آئی اور جہالت بھی کس قسم کی؟ قلیل ہے، کثیر ہے بھئی؟ کثیر ہے، لہذا یہ توکیل صحیح نہیں۔ توکیل صحیح نہیں۔ سمجھ میں آیا تو نوع بیان کرنا ضروری، کس قسم کا کپڑا لے کر آئے بھئی، یا قیمت بتلائے اتنی قیمت والا اتنے ثمن والا لے کر آئے پھر بھی صحیح توکیل بھئی۔ یا کسی کو کہا جاؤ بھئی میرے لیے دابّہ لے کر آؤ بھئی، دابّہ۔ اب دابّہ تو ہر زمین پر چلنے والے جاندار کو کہا جاتا ہے لغت کے اعتبار سے اور عرف میں، عرف میں اس کا اطلاق گھوڑے، گدھے اور خچر تینوں پر ہوتا ہے۔ تو اب کیا مراد ہوگا اس سے بھئی؟ گھوڑا دیکھو تو بڑا مہنگا اور قیمتی ہوتا ہے، گدھا دیکھو تو بڑا سستا ہے بھئی، تو جہالت آئی اور جہالت بھی کثیر ہے، لہذا یہ توکیل صحیح نہیں۔ تو یہاں پر بھی دیکھیے ایک آدمی نے دوسرے کو کہا کچھ دراہم دیے اور کہا جا کر میرے لیے طعام لے کر آؤ، اب طعام کے اندر بھی جہالت کثیر ہے اس لیے کہ ہر کھانے والی چیز کیا ہے؟ طعام ہے بھئی، ہر کھانے والی چیز طعام ہے تو اور وہ مختلف قسم کی ہے، کوئی نہایت سستی ہے، کوئی نہایت مہنگی ہے، تو لہذا جہالت کثیر ہے، اس توکیل کو درست نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن بتلایا بھئی کہ یہاں اگرچہ جہالت کثیر ہے، لیکن عرف کی وجہ سے یہ توکیل صحیح ہو جائے گی۔ اس لیے کہ عرف کے اندر طعام کا اطلاق گندم، آٹے اور روٹی پر ہوتا ہے۔ کتنی چیزوں پر ہوتا ہے؟ تین چیزوں پر، گندم، آٹا اور روٹی۔ یہ عرف عرب کی بات ہو رہی ہے اس زمانے میں مولانا، یہ ضروری نہیں کہ آج بھی ایسا ہی ہو عرب میں۔ بس معلوم ہوا عرف کو دیکھا جائے گا، کس کو دیکھا جائے گا؟ عرف کو دیکھا جائے گا بھئی۔ تو اب طعام میں کا اطلاق گندم پر بھی ہوتا ہے، آٹے پر بھی اور روٹی پر بھی، کیا مراد لیا جائے گا اس سے؟ آٹا مراد لیں، گندم مراد لیں یا روٹی بھئی؟ کہتے ہیں اب دراہم کو دیکھ لو۔ اگر دراہم کثیر ہیں یعنی دس یا دس سے زیادہ ہیں، تو معلوم ہوا منگوانے والا ایسی چیز منگوانا چاہ رہا ہے جسے طویل عرصے تک استعمال کر سکے، کیونکہ دس درہم کی روٹی لے آئے وہ تو بہت زیادہ ہو جائے گی، وہ تو ساری ضائع ہو جائے گی، معلوم ہوا روٹی مراد نہیں۔ اسی طرح آٹا بھی کچھ عرصہ پڑا رہے تو وہ بھی کیا ہو جاتا ہے؟ خراب ہو جاتا ہے، معلوم ہوا وہ بھی مراد نہیں، بلکہ کیا مراد ہے؟ گندم۔ اور اگر قلیل دراہم دیے یعنی تین یا تین سے کم دیے، تو اس صورت میں معلوم ہوا وہ کچھ اس قسم کا طعام منگوانا چاہتا ہے جسے فوری استعمال کرے اور کھا لے، ختم کر لے، اور وہ کیا چیز ہے؟ روٹی ہے۔ کیا چیز ہے؟ روٹی ہے۔ اور اگر متوسط دراہم دیے یعنی تین سے زیادہ ہیں اور دس سے کم ہیں، تو اس سے مراد کس قسم کا طعام ہے جو متوسط حد تک باقی رہ سکے اور وہ آٹا ہے۔ تو کہتے ہیں اَلْأَمْرُ بِشِرَاءِ الطَّعَامِ تو دیکھو امر دے گا کسی کھانے کی خرید کا تو یہ اس کو وکیل بنا دیا۔ جب کسی کو بھیجا کسی کام کے لیے تو اس کو کیا بنا دیا؟ وکیل۔ تو یہ توکیل ہے دراصل۔ اَلْأَمْرُ بِشِرَاءِ الطَّعَامِ امر دینا کسی طعام کے خریدنے کا یہ محمول ہوگا عَلَى الْبُرِّ گندم پر فِي دَرَاهِمَ كَثِيرَةٍ دراہم کثیرہ یعنی دس یا زیادہ کے اندر، وَعَلَى الْخُبْزِ اور یہ محمول ہوگا روٹی پر فِي قَلِيلِهِ یعنی تین یا تین سے کم، وَعَلَى الدَّقِيقِ اور آٹے پر محمول ہوگا فِي مُتَوَسِّطِهِ کس کے اندر بھئی؟ متوسط مقدار کے اندر یعنی تین سے زیادہ دراہم ہوں اور دس سے کم، وَفِي مُتَّخِذِ الْوَلِيمَةِ عَلَى الْخُبْزِ بِكُلِّ حَالٍ. اور اگر ایک شخص نے دعوت ولیمہ کی ہے اور اس وقت وہ کسی کو وکیل بنا کر بھیجتا ہے، کہ جاؤ بھئی طعام لے آؤ کچھ بازار سے تو کہتے ہیں اس صورت میں چاہے قلیل دراہم ہوں، چاہے متوسط ہوں، چاہے کثیر ہوں، ہر حال میں یہ کس پر محمول ہوگا؟ روٹی پر، کیونکہ اس نے دعوت ولیمہ کی ہوئی ہے، معلوم ہوا کہ وہ فوری کوئی ایسا کھانا ایسی چیز منگوانا چاہتا ہے جو لوگوں کو کھلا سکے اور وہ روٹی ہے۔ یہ معنی ہے وَفِي مُتَّخِذِ الْوَلِيمَةِ اور دعوت ولیمہ کرنے والے کے ہر حال میں عَلَى الْخُبْزِ یہ امر بِشِرَاءِ طَعَامِ محمول ہوگا عَلَى الْخُبْزِ روٹی پر بِكُلِّ حَالٍ ہر حال میں چاہے قلیل ہو یا کثیر ہو۔ هَذِهِ الْوَكَالَةُ يَنْبَغِي جی اب علامہ صدر الشریعہ بتلا رہے ہیں کہ امر بِشِرَاءِ طعَام کو کیا ہونا چاہیے؟ جائز ہی نہیں ہونا چاہیے، هَذِهِ الْوَكَالَةُ يَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ بَاطِلَةً اس وکالت کو مناسب یہ کہ باطل ہونا چاہیے لِأَنَّ الطَّعَامَ يَقَعُ عَلَى كُلِّ مَا يُطْعَمُ اس لیے کہ طعام کا اطلاق ہوتا ہے ہر اس چیز پر جس کو کھایا جاتا ہے فَيَكُونُ جَهَالَةُ جِنْسِهِ فَاحِشَةً تو اس کی جنس کی جہالت جو ہے وہ فاحش ہوئی یعنی کثیر ہوئی، لَكِنَّ الْمُتَعَارَفَ لیکن متعارف جو ہے اہل عرب کے اندر فِي قَوْلِهِ اس قول کے اندر کوئی شخص جب دوسرے سے یوں کہتا ہے اِشْتَرِ لِي طَعَاماً تو میرے لیے کیا خرید؟ طعام خرید تو متعارف یہ ہے أَنْ يُرَادَ بِهِ الْحِنْطَةُ أَوْ الدَّقِيقُ أَوْ الْخُبْزُ کہ اس سے ارادہ گندم کا یا آٹے کا یا روٹی کا ہوتا ہے۔ وَلَا يَصِحُّ بِشِرَاءِ شَيْءٍ فَحَشَ جَهَالَةُ جِنْسِهِ اِلَّا لَا يَصِحُّ الْأَمْرُ بِشِرَاءِ شَيْءٍ اور صحیح نہیں ہے امر بِشِرَاءِ شَيْءٍ کسی ایسی چیز کے خریدنے کا فَحَشَ کہ فاحش ہو جائے یعنی کثیر ہو جائے جَهَالَةُ جِنْسِهِ اس کی جنس کی جہالت، یعنی جس کی جنس میں جہالت فاحشہ آجائے تو وہاں پر امر بِشِرَاءِ صحیح یعنی توکیل صحیح نہیں، جیسے کہ غلام ہے مولانا، وَالثَّوْبِ کسی کو کہا جاؤ بھئی میرے لیے رقیق لے کر آؤ، یعنی غلام، وَالثَّوْبِ کسی کو کہا میرے لیے کپڑا لے آؤ، وَالدَّابَّةِ یا دابّہ لے آؤ تو ان صورتوں میں توکیل صحیح نہیں ہے، امر بِشِرَ نہیں صحیح یعنی توکیل صحیح نہیں، وَإِنْ بُيِّنَ ثَمَنُهُ اگرچہ اس کے ثمن کو کیا کر دیا جائے؟ بیان کر دیا جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا کیونکہ جہالت فاحشہ آگئی، دیکھیے بھئی، یہ ہم جان لیں تو أَنَّ كُلَّ شَيْءَيْنِ يَتَّحِدُ حَقِيقَتُهُمَا وَمَقَاصِدُهُمَا فَهُمَا مِنْ جِنْسِ وَاحِدٍ ہر دو ایسی چیزیں کہ جن کی حقیقت متحد ہو، ایک ہی حقیقت ہو، وَمَقَاصِدُهُمَا اور ان کے مقاصد بھی متحد ہوں، فَهُمَا مِنْ جِنْسِ وَاحِدٍ تو وہ دونوں کس میں سے ہیں؟ جنس واحد سے ہیں۔ جیسے مولانا، بھیڑ بکری ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ ان کے مقاصد کیا ہیں؟ متحد بھئی قربانی کے اعتبار سے، جیسے ایک ہی قربانی کی جاتی ہے، بکری کی یا بکرے کی، اسی طرح بھیڑ اور دنبے کی، تو یہ جنس واحد۔ وَإِنِ اخْتَلَفَتِ الْحَقِيقَةُ وَالْمَقَاصِدُ فَهُمَا مِنْ جِنْسَيْنِ اور اگر مختلف ہوں ان کی حقیقت اور مقاصد، تو وہ کیا ہیں؟ دو جنسیں ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو حقیقت بھی مختلف ہو، مقاصد بھی مختلف ہوں، اچھا۔ تو جیسے مولانا، کیا کر لیں؟ بھیڑ بکری اور گائے مولانا، تو بھیڑ بکری کی جنس الگ ہے اور گائے کی جنس الگ ہے۔ فَإِنْ فَحَشَ جَهَالَةُ الْجِنْسِ اگر فاحش ہو جائے جہالتِ جنس بھئی، بِأَنْ قَدْ ذَكَرَ جِنْساً بعید طور کہ ذکر کرے جنساً بھئی، دیکھو نکرہ ہے، نکرہ کے بعد جملہ آرہا ہے، اور جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے، تو جنساً نکرہ ہے، اس کے بعد جملہ آیا تو وہ اس کی صفت بنے گا، تو موصوف سے پہلے ایسا کا لفظ لائیں گے، بعید طور کہ ذکر کیا جنساً ایسی جنس کو تَحْتَهُ أَجْنَاسٌ بھئی، جس کے تحت کیا ہیں؟ اجناس ہیں مولانا، كَرَقِيقٍ جیسے کہ رقیق، فَإِنَّهُ يَنْقَسِمُ إِلَى ذَكَرٍ وَأُنْثَى اس لیے کہ یہ تقسیم ہوتا ہے مذکر اور مؤنث، بھئی رقیق کہا، رقیق کا اطلاق تو مذکر پر بھی ہوتا ہے، غلام پر بھی ہوتا ہے اور باندی، جاریہ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ جی۔ اور ان دونوں تو یہ دونوں الگ الگ جنسیں شمار ہوتی ہیں فقہ کے اندر بھئی، اگرچہ منطق میں یہ ایک ہی جنس شمار ہوتی ہے، انسان ہیں دونوں مولانا، لیکن فقہ کے اندر آپ بھئی اصولِ فقہ کے اندر پڑھ چکے ہیں بھئی، کہ اغراض و مقاصد مختلف ہو جائیں تو الگ الگ جنسیں شمار ہوتی ہیں، تو غلام کے اغراض و مقاصد الگ ہیں مولانا، اور باندی کے الگ ہیں، غلام سے کیا کیا جائے گا؟ گھر سے باہر کی خدمت لی جائے گی اور گھر سے باہر کے وہ کام کرے گا، اور باندی سے مقصود کیا ہوگا؟ وطی ہوگی، اور نیز گھر کے اندر کے کام مقصود ہیں بھئی۔ وَهُمَا فِي بَنِي آدَمَ جِنْسَانِ اور یہ دونوں بنی آدم میں سے دو جنسیں ہیں لِاخْتِلَافِ الْمَقَاصِدِ وبوجہ ان کے مقاصد کے مختلف ہونے کے، تو سمجھ میں آیا فقہ میں بھئی مرد الگ جنس شمار ہوتا ہے اور عورت الگ جنس شمار ہوتی ہے کیونکہ دونوں کے مقاصد الگ ہیں بھئی۔ ثُمَّ كُلٌّ مِنْهُمَا قَدْ يُقْصَدُ مِنْهُ الجَمَالُ پھر بھئی بلکہ ان میں سے ہر ایک کے اندر آگے بہت سی انواع بن جاتی ہیں بھئی، کیونکہ اغراض مختلف ہو جاتے ہیں، مثلاً غلام کے اندر غلام کئی قسم کے ہیں، ایک ترکی غلام ہے مثلاً جیسے متن میں ذکر کریں گے بھئی یہاں پر شراح میں، ایک ہندی غلام ہے، ترکی غلام کے اندر مقصود حسن و جمال ہوتا ہے بھئی، دولت مند آدمی ہوگا وہ چاہیں گے میرے غلام بھی کس قسم کے ہوں؟ بڑے حسین و جمیل اور طاقتور ہوں مولانا، جو دیکھے اس پر کیا پڑ جائے؟ رعب پڑ جائے بھئی، تو یہاں پر ترکی غلام اس میں مقصود حسن و جمال ہوگا، اور اگر ہندی غلام ہے بھئی، تو وہاں پر مقصود کیا ہوگی مثلاً خدمت مقصود ہوگی، تو مقاصد الگ ہوئے بھئی۔ پھر ان میں سے ہر ایک کے اندر قَدْ يُقْصَدُ مِنْهُ الجَمَالَ دیکھا، پھر بھی ان میں اغراض مختلف ہوتی چلی جارہی ہیں، تو ان میں سے کبھی کبھار قصد کیا جائے گا ان سے جمال کا، كَمَا فِي التُّرْكِيِّ جیسے کہ ترکی غلام کے اندر، وَقَدْ يُقْصَدُ مِنْهُ الْخِدْمَةُ اور کبھی غلام سے کیا مقصود ہوگا؟ خدمت مقصود ہوگی كَمَا فِي الْهِنْدِيِّ یہ جیسے کہ ہندی غلام کے اندر، وَكَذَا الصَّوْبُ وَالدَّابَّةُ اسی طرح کپڑا ہے مولانا، تو کپڑے کی مختلف قسمیں ہیں، بڑی اعلیٰ سے اعلیٰ اور ادنیٰ سے ادنیٰ۔ جی، مہنگا بھی ہے، سستا بھی ہے، وَالدَّابَّةُ اور دابّہ بھی یہ بھی مختلف ہیں مولانا، تو اگر ان کے لیے کسی کو وکیل بنایا، فَلَا يَصِحُّ الْوَكَالَةُ بِشِرَاءِ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ تو صحیح نہیں ہے وکالت ان چیزوں کے شراء کے لیے، وَإِنْ بُيِّنَ ثَمَنُهُ اگرچہ ثمن کو کیا کر دیا جائے؟ بیان کر دیا جائے بھئی، یا وَإِنْ بَيَّنَ الثَّمَنَا اگرچہ موکل کیا بیان کر دے؟ ان کے ثمن بیان کر دے۔ إِلَّا إِذَا ذُكِرَ نَوْعُ الدَّابَّةِ مگر یہ کہ دابّہ کی نوع کو ذکر کر دیا جائے، كَالْحِمَارِ جیسے کیا کہا جائے؟ گدھا۔ کسی کو بھیجا جاؤ میرے لیے کیا خرید کر لے آؤ؟ گدھا خرید کر لاؤ، اب گدھے بھی مختلف، یہ ایک گدھا ایک نوع ہے، اگرچہ گدھے بھی مختلف قسم کے ہیں، کوئی مہنگا ہوگا کوئی سستا۔ تو اب بھی کچھ نہ کچھ جہالت ہے، لیکن مولانا یہ تھوڑی بہت جہالت اس کی گنجائش ہے وکالت کے اندر بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس لیے کیونکہ وکالت کا مقصد کیا ہے؟ کام کو آسان بنانا، تو اس کی بنیاد بھئی وسعت پر ہے، دوسرے کو آسانی ہوتی ہے، آپ ایک چیز خریدنے کے لیے خود نہیں جا سکتے تو دوسرے کو بھیج دیتے ہیں۔ تو لہذا اس کی بنیاد وسعت پر ہے کہ اس میں کچھ گنجائش دی جائے، تو تھوڑی بہت جہالت آجائے کوئی حرج نہیں۔ تو لہذا اب گدھا کہا، اب گدھے میں بھی مختلف قسم کے، مختلف کوالٹی کے گدھے آپ کو مل سکتے ہیں، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وَالْمُرَادُ بِالنَّوْعِ جی متن میں نوع کا لفظ ہے کہ نوع دابّہ، نوع سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں وَالْمُرَادُ بِالنَّوْعِ هَا هُنَا الْجِنْسُ الْأَسْفَلُ نوع سے مراد یہاں جنسِ اسفل ہے مولانا، کیا مراد ہے؟ جنس اسفل فِي اصْطِلَاحِ الْفُقَهَاءِ اصطلاحِ فقہاء میں اس پر کس چیز کا اطلاق ہوتا ہے؟ نوع کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے، لِأَنَّهُ نَوْعٌ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْأَعْلَى اس لیے کہ یہ نوع ہے کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے؟ اعلیٰ کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ نوع ہے، وَيُسَمَّى فِي الْمَنْطِقِ نَوْعاً إِضَافِيًّا اور منطق میں اس کو کیا کہتے ہیں؟ نوعِ اضافی، دیکھا نوعِ اضافی یعنی ما فوق کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ کیا ہوتی ہے؟ نوع، جیسے انسان ہے، حیوان کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ کیا ہے؟ نوع، تو نسبت آگئی کس کی طرف؟ حیوان کی طرف، تو اضافی یہ نوعِ اضافی ہے۔ تو اِلَّا إِذَا ذُكِرَ متن دیکھیے، ذُكِرَ نَوْعُ الدَّابَّةِ مگر یہ کہ نوعِ دابّہ کو ذکر کر دیا جائے، كَالْحِمَارِ جیسے حمار ہے، أَوْ ثَمَنُ الدَّارِ یا گھر کے ثمن ذکر کر دیے جائیں، أَوْ الْمَحَلَّةُ یا محلہ ذکر کر دیا جائے، ایک آدمی نے دوسرے کو کہا جاؤ بھئی جا کر میرے لیے گھر خریدو۔ بھئی گھر تو مختلف قسم کے ہوتے ہیں بھئی، غرض مختلف، تعمیر مختلف، سمجھ میں آیا کوئی چھوٹا ہے، کوئی بڑا ہے، کوئی کس قسم کا بنا ہے؟ تو لہذا جہالتِ کثیرہ آئی، جہالتِ فاحشہ آئی، لہذا یہ توکیل صحیح نہیں۔ مگر یہ کہ گھر کے ثمن بیان کر دے بھئی، میرے لیے دس لاکھ والا مکان ڈھونڈو یا بیس لاکھ والا مکان ڈھونڈو، اب کافی ہے مولانا، یہ توکیل کیا ہوئی؟ صحیح، یا محلہ بیان کر دیا، جگہ بیان کر دی، فلاں محلے کے اندر کیا کرو میرے لیے مکان خریدو، تو یہ اب درست ہے۔ مگر یہ کہ ثمن گھر کے ثمن، یا محلے کو بیان کر دیا جائے، اَلدَّارُ مِمَّا گھر جو ہے، مِمَّا ان چیزوں میں سے ہے فَحَشَ جَهَالَةُ جِنْسِهِ کہ جس کی جنس کی جہالت کیا ہے؟ فاحش ہے، کثیر ہے، فَلَا بُدَّ پس ضروری ہے أَنْ يُبَيَّنَ ثَمَنُهَا کہ اس کے ثمن کو کیا کیا جائے؟ بیان کیا جائے، وَمَحَلَّتُهَا اور اس کے محلے کو بیان کیا جائے، وَصَحَّ بِشِرَاءِ شَيْءٍ صحّ ای صحّ الامر بشراء شیں۔ اور صحیح ہے امر بشراء شیں ایسی چیز کے خریدنے کا امر، عُلِمَ جِنْسُهُ جس کی جنس کیا ہو؟ معلوم ہو، لَا صِفَتُهُ صفت معلوم، صفت اگرچہ معلوم نہ ہو، میں نے آپ کو کہا میرے لیے بکری خرید کر لاؤ، اب بکری بھی مختلف قسم کی ہے، دپلی ہو سکتی ہے، موٹی ہو سکتی ہے، سستی، مہنگی، لیکن اس صفت معلوم نہ ہونے کے باوجود کوئی حرج نہیں بھئی، جب نوع بیان کر دی، جنس بیان کر دی، تو اب خریدنا توکیل کیا ہوئی؟ صحیح۔ جس کی جنس معلوم ہو، لا صفَتُهُ صفت معلوم نہ ہو، كَشَاةٍ جیسے شاة۔ شاة ہے مولانا بھیڑ بکری۔ شاة کا اطلاق بھیڑ بکری دونوں پر ہوتا ہے بھئی میں بتلا چکا ہوں۔ جیسے بھیڑ بکری ہے، والبقر اور گائے بیل، بقرہ کجی، مذکر مؤنث دونوں پر ہوتا ہے بقر کا اطلاق بھئی۔ تو شاة ایک جنس سے ہے اور بقر ایک جنس ہے، فإنہما جنس واحد تو یہ دونوں ایک جنس ہیں۔ یہ معنی نہیں کہ شاة اور بقر ایک جنس ہیں، مطلب شاة ایک جنس ہے اور بقر ایک جنس ہے، الگ الگ یعنی جنسیں ہیں، تو یہ ایک ایک جنس ہیں الاتحاد المقصود والمنفعت اس لیے کہ ان کا مقصود اور منفعۃ نفع کیا ہے؟ متحد ہے، فلا احتیاج الی بیان الصفۃ تو اب صفت بیان کرنے کی حاجت نہیں، کسمنی۔ سمن کہتے ہیں موٹا ہونا، والحزال دبلا ہونا۔ تو موٹا اور دبلا ہونا یہ صفت بیان کرنے کی حاجت نہیں۔ ویسح بشراء شيء جہل جنسہ من وجہ۔ اور صحیح ہے امر بھئی کسی ایسی چیز کے خریدنے کا جہل جنسہ جس کی جنس کیا ہو؟ مجہول ہو من وجہ، من وجہ مجہول ہو، من کل الوجہ مجہول نہ ہو۔ ایک اعتبار سے مجہول ہے تو دوسری اعتبار سے معلوم ہے۔ کالعبد جیسے کہ غلام بھئی۔ اب غلام بھی اس میں ترکی بھی ہو سکتا ہے، ہندی بھی ہو سکتا ہے، سمجھ میں آیا؟ لیکن ایک اعتبار سے تو معلوم ہے کہ کیا؟ مذکر ہو بھئی۔ جے۔ سمجھ میں آیا؟ دیکھیے ہاں ابھی بات پوری نہیں ہوئی بھئی۔ ایسی چیز کے خریدنے کا امر صحیح ہے جس کی جنس من وجہ معلوم ہو، جیسے غلام ہے و ذکر نوعہ اور اس کے نوع کو کیا کر دیا جائے؟ ذکر کر دیا جائے کہ ترکی لینا ہے یا ہندی۔ کاترکی او ثمن یا اس کا عطف بھی نوعہ پر ہے ای ذکر ثمن کیا بیان کر دیا جائے؟ اس ایسے ثمن کو آگے صفت آ رہی ہے، عینہ نوعا جو نو کو کیا کر دے معین۔ بھئی ترکی غلام ہے فرضی سات لاکھ کا اور ہندی غلام ہے تین لاکھ کا تو سات لاکھ جب بیان کر دیے تو خود بخود پتہ چل گیا اگرچہ کام میرے لیے غلام خریدو، نو نہیں بیان کی کہ ترکی خریدو یا ہندی لیکن پیسے بیان کر دیے، ایسے ثمن ذکر کر دیے جس نے نو کو خود بخود کیا کر دیا؟ تین لاکھ کہہ دیے اور تین لاکھ میں ترکی غلام نہیں آتا ہندی آتا ہے تو یہ متعین ہو گیا، یہ معنی ہے و ذکر نوعہ اور اس کے نوع وہ بیان کر دیے جیسے کہ ترکی ہے او ثمن یا ایسے ثمن بیان کر دیے عینہ نوعا جس نے نو کو کیا کر دیا؟ متعین کر دیا تو یہ توکیل صحیح ہے۔ کہتے ہیں العبد معلوم الجنس من وجہ عبد جو ہے وہ معلوم الجنس ہے من وجہ، ایک اعتبار سے اس کی جنس معلوم ہے، لیکن من حیث المنفعۃ والجماعت کانہ جنس مختلف لیکن نفع کے اور حسن و جمال کے اعتبار سے گویا کہ یہ مختلف جنسیں ہیں، فان بین نوعہ پس اگر بیان کر دیے اس کی نو کو کاترکی جیسے کہ ترکی ہو یہ کہہ دیا۔ یسح الوکالت وکالت صحیح ہو جائے گی، وکذا اذا بین ثمنا اور اسی طرح جب کیا بیان کر دیے؟ ثمن بیان کر دیے و یکون الثمن اور ثمن کو ہونا چاہیے بہیئۃ اس طور پر یعلم منہ نوع کہ اس سے کس کا پتہ چلتا ہو؟ نوع کا پتہ چلتا ہو۔ و بشراء عین بین لہ علی وکیلہ۔ و بشراء عین بین لہ علی وکیلہ عین بین۔ با سے پہلے کیا آیا مولانا عین بین یہ نون کس سے بدل جائے گا؟ میم سے بشرآء عین بین۔ اور وہاں پر بین لہ لام سے پہلے کیا آیا؟ بھئی تنوین عینہ وہ نون ساکنہ ہے، تو وہاں پر نون کو لام کر کے لام میں کیا کر دیں گے؟ ادغام عبارت یوں ہوگی و بشراء عین بین لہ علی وکیلہ۔ अच्छा भाई सूरत मसلہ یہ ہے: آپ نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے قرض بھئی، آپ پر میرا دین ہے کتنا بھئی؟ ایک لاکھ روپیہ بھئی۔ میں نے آپ کو بھیجا جو جا کر وہ گاڑی زید سے خرید لو۔ گاڑی متعین کر دی، کیا کر دی؟ متعین۔ میں نے آپ کو کہا جو جا کر وہ گاڑی میرے لیے خرید لو۔ ایک صورت یہ مولانا، دوسری صورت اچھا چلیے یہ پوری کر لیں، تو یہ گاڑی آپ گئے آپ نے گاڑی خرید لی اور گاڑی پر قبضہ بھی کر لیا، وہ متعین گاڑی، ابھی وہ گاڑی آپ نے میرے حوالے نہیں کی تھی کہ وہ ہلاک ہو گئی، جل گئی، ایکسیڈنٹ ہوا، ختم ہو گئی مولانا، سمجھ میں آیا لے کر آ رہے ہیں بھئی آپ، ختم ہو گئی آپ وکیل کے پاس تو کہتے ہیں بھئی یہ کس کے مال میں سے ہلاک ہوئی ہے؟ موکل کے مال میں سے، کس کے مال میں سے؟ موکل کے مال میں سے ہلاک ہوئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کسی اگر وکیل پر کوئی دین تھا اور اس کو آپ نے کہا بھئی اساں اس دین کے بدلے آپ پر میرا کتنا دین ہے؟ ایک لاکھ، میں نے آپ کو کیا کہا؟ اس دین کے بدلے جا کر زید سے وہ گاڑی میرے لیے خرید لاؤ۔ آپ گئے آپ نے وہ گاڑی خریدی اور ابھی میرے حوالے نہیں کی تھی کہ آپ کے پاس وہ جل گئی، ہلاک ہو گئی، تو وہ کس کے مال میں سے ہلاک ہوئی ہے؟ موکل کے مال میں سے، سمجھ میں آیا؟ تو معلوم ہوا وہ گاڑی بھی لاکھ کی تھی، دین بھی کتنا دینا تھا؟ ایک لاکھ مولانا ختم ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ अच्छा दूसरी صورت: آپ نے میرا ایک لاکھ روپیہ دین دینا ہے، آپ کو میں نے کہا جاؤ بھئی میرے لیے ایک گاڑی خرید لاؤ، غیر متعین کا میں نے آپ کو کہا بھئی، متعین کو ذکر نہیں کیا بھئی۔ अच्छा। متعین تھی اس کو ذکر نہیں کیا۔ اب گئے آپ مولانا، آپ ایک گاڑی کہیں سے خرید لائے۔ گاڑی خریدنے کے بعد ابھی آپ نے میرے حوالے نہیں کی کہ وہ گاڑی آپ کے پاس ہلاک ہو گئی، کہتے ہیں بھئی یہ موکل کے مال میں سے ہلاک نہیں ہوئی، بلکہ کس کے مال میں سے ہلاک ہوئی ہے؟ وکیل کے مال میں سے ہلاک ہوئی اور ابھی بھی آپ پر میرا وہ ایک لاکھ روپیہ دین ہے، یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ تو ضابطہ کیا بیان ہوا کہ اگر کسی شخص پر دین تھا اور اس کو آپ وکیل بنا دیتے ہیں کوئی متعین چیز خریدنے کے لیے، تو وہ متعین چیز اگر اسی کے پاس ہلاک ہو جائے تو وہ کس کے مال میں سے ہلاک ہوئی؟ موکل سے، اور اگر غیر متعین چیز کے لیے اس کو وکیل بنا دیں، تو اب وہ اس کے پاس ہلاک ہو جائے وکیل کے پاس، تو وہ کس کے مال میں سے ہلاک ہوئی؟ وکیل کے مال میں سے ہلاک ہوئی اور موقع موکل کا دین ابھی بھی اس پر باقی ہے، یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ لیکن اس صورت میں، جبکہ میں نے آپ کو کیا کہا تھا؟ غیر متعین چیز کے لیے بھیجا تھا، وہ آپ خرید لاتے ہیں آپ کے پاس ہلاک نہیں ہوتی بلکہ لا کر موکل کے سپرد بھی کر دیتے ہیں، تو اب یہ موکل کی ہو گئی۔ کس کی ہو گئی؟ موکل کی ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھیے بھئی بشراء عین ایصح الامر اوپر متن میں کیا آیا تھا؟ یصح اس اسی پر بشراء ان آگے آیا تھا اسی پر عطف ہے اس کا ویسح الامر بشراء عین، عین سے مراد ہے متعین چیز، آگے شرح میں بتلا رہے ہیں بھئی۔ عین سے کیا مراد ہے؟ اور صحیح ہے حکم دینا کسی متعین چیز کے خریدنے کا بین ایسے دین کے بدلے لہ جو کس کے لیے ہے؟ موکل کے لیے علی وکیلہ اس کے وکیل پر، ترجمہ سمجھ میں آیا؟ المراد بالعین الشئی المعین، عین سے کیا مراد ہے متن میں جو آیا؟ شئے معین مراد ہے۔ و فی غیر عین اور غیر عین متعین کے اندر ان ہلاک فی ید الوکیل اگر وہ چیز ہلاک ہو گئی وکیل کے قبضے میں ہی ہلاک علیہ تو یہ کس پر ہلاک ہوئی ہے؟ وکیل پر ہی ہلاک یعنی اسی کے مال میں سے ہلاک ہوئی ہے۔ فین قبضہ آمرہ آمر ہے یہ لفظ بھئی، پس اگر قبضہ کر لیا اس پر بھئی۔ غیر متعین چیز تھی وکیل نے خریدی اور لا کر کس کو دے دی؟ آمر یعنی موکل کو دے دی، قبضہ کر لیا آمر نے اس پر فہولہ تو یہ کس کی ہو جائے گی؟ آمر کی یعنی موکل کی ہو جائے گی۔ تفصیل بتلا رہے ہیں، ای امرہ امر دیا کسی نے دوسرے کو ان یشتری کہ وہ خریدے بھئی بالالف الذی لہ علی المأمور اس ہزار کے بدلے جو موکل کا ہے علی المأمور علی المأمور، کس پر؟ مامور جس کو حکم دے رہا ہے یعنی وکیل پر۔ کیا خریدے اس ہزار کے بدلے عبدا کسی غلام کو ولم یعین العبد اور اس غلام کو متعین نہیں کیا، فاشترہ اس مامور نے خرید لیا اس وہ غلام کو، فمات فی ید المأمور تو وہ غلام مر گیا اسی مامور یعنی وکیل کے قبضے میں فہلک علیہ تو یہ غلام کس پر ہلاک ہوا ہے؟ کس کے مال میں سے؟ وکیل ہی کے مال میں سے ہلاک ہوا ہے کیونکہ غیر متعین ہے۔ و لا یصیر للامر اور یہ آمر کے لیے نہیں ہوگا، اچھا۔ الا ان یقبضہ مگر یہ کہ آمر کیا کر لے اس پر قبضہ کر لے، و ھذا عند ابی حنیفہ رحمہ اللہ اور یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے، بناء بناء بر اس کے علی ان الوکالت لم یصح اس لیے کہ وکالت ہی صحیح نہیں ہوئی۔ وکالت ہی صحیح کیوں نہیں ہوئی بھئی؟ علت آگے ذکر کر رہے ہیں آپ سمجھ لیں پہلے اس کو بھئی۔ بھئی آپ کو ایک ضابطہ میں نے بتلایا تھا کہ دین کا مالک اسی شخص کو بنایا جا سکتا ہے جس پر دین ہو۔ آپ نے میرے کتنے پیسے دینے ہیں؟ ایک لاکھ آپ پر میرا دین ہے، تو اس ایک لاکھ کا مالک میں آپ کو تو بنا سکتا ہوں کسی دوسرے کو نہیں بنا سکتا۔ تو دین کا مالک صرف کس کو بنانا جائز ہے؟ جس پر دین ہو، کسی اور کو مالک بنانا جائز نہیں۔ لہذا میں امر سے گاڑی خریدتا ہوں، لو بھئی یہ گاڑی مجھے ایک لاکھ میں بیچ دو اور فلاں شخص پر میرا ایک لاکھ دین ہے، وہ تم جا کر اس سے وصول کر لو، یہ جائز نہیں مولانا۔ یہ درست کیا صورت کی میں نے زید سے کیا خریدی ہے؟ گاڑی اور میں نے اسے کیا کہا؟ پیسے کہاں سے لو؟ ایک شخص ہے جس پر میرا دین ہے، تو آپ میں کیا کر رہا ہوں؟ زید کو، زید سے خریدی گاڑی، زید کو میں اس دین کا مالک بنا رہا ہوں، گاڑی کے عوض میں دے رہا ہوں پیسے تو اس کو اس دین کا مالک بنا رہا ہوں، اور دین کا مالک اس کو بنا رہا ہوں جس پر دین نہیں، وہ تو آپ پر ہے، تو یہ دین کا مالک بنانا لازم آیا اس شخص کو جس کا جس پر دین نہیں تھا اور یہ جائز نہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، بھئی آپ نے اب یہ صورت دیکھو کتاب میں جو آئی، آپ نے میرا ایک لاکھ دین دینا ہے، آپ کو میں نے کہا جاؤ بھئی! کوئی ایک غلام میرے لیے خرید لاؤ، آپ گئے، آپ نے غلام خریدا اور کتنے مثلاً کتنے کا تھا؟ فرض کرو ایک لاکھ ہی کا تھا، آپ نے وہ پیسے بائے کو دے دیے، غلام کے مالک کو دے دیے، تو غلام کے مالک کو میں نے دین کا مالک بنا دیا، حالانکہ دین کا مالک صرف اسی کو بنایا جا سکتا ہے جس پر میں آپ کو تو دین کا مالک بنا سکتا ہوں، اس کو دین کا مالک بنانا جائز ہے، تو لہذا یہ توکیل صحیح نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ بنا، دیکھیے اب بھئی، بناء بناء بر اس کے علی ان الوکالت لم یصح کہ وکالت ہی صحیح نہیں ہے، لان الدراہم والدنانیر تتعین فی الوکالات اس لیے کہ دراہم اور دنانیر وکالتوں کے اندر کیا ہو جاتے ہیں؟ متعین ہو جاتے ہیں، دراہم و دنانیر کیا ہوتے ہیں؟ متعین ہو جاتے ہیں بھئی، آپ نے پڑھا تھا بھئی، کہ دراہم و دنانیر معاملات میں متعین نہیں ہوتے بیع و شراہ وغیرہ میں، لیکن وکالت میں، غصب میں اور امانت میں کیا ہو جاتے ہیں؟ متعین ہو جاتے ہیں بھئی۔ ، تو تو فیکون الشراء مقیدا بذالک الدینی، تو خریدنا مقید ہوا کس کے ساتھ؟ اسی دین کے ساتھ۔ بھئی اگر کسی اور پہ کوئی اور پیسے آپ اپنی طرف سے ادا کر دیں، پھر تو بات ٹھیک ہو جانی چاہیے، کیوں ہونی چاہیے؟ لیکن میں نے کیا مقید کر دیا تھا وکالت کو میں؟ کہ وہ جو دین تھا اس کے بدلے کیا کرو؟ تو وہ وکالت مقید ہو گئی اسی دین کے ساتھ، تو دراہم و دنانیر متعین ہو گئے، کون سے دراہم و دنانیر ہوئے؟ وہ جو آپ پر دین تھا، تو وہ آپ اب دے رہے ہیں، تو یہاں تملیک دین لازم آ رہی ہے اس شخص کو جو اس کا جس پر دین نہیں تھا اور یہ جائز نہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ فیکون الشراء مقیدا بذالک الدینی تو شرا مقید ہوگی اس دین کے ساتھ، فیسیر تملیک الدینی من غیر من علیہ دین بلا توکیل ذالک الغیر تو یہ ہو جائے گا مولانا، کیا ہو جائے گا؟ فیسیر تملیک دین پڑھیں بھئی، فیسیر تملیک دین، تو یہ تملیک دین ہوا من غیر من علیہ دین علاوہ اس کے جس پر دین تھا، بلا توکیل ذالک الغیر، اس غیر کو وکیل بنائے، اگر وہ غیر بھئی جس غیر سے کون مراد ہے؟ جی۔ بھئی وہ بائع غَيْرِ مُعَيَّن، کیا ہے؟ مُعَيَّن۔ ہاں! سمجھ میں آیا؟ تو اگر وہ مُعَيَّن ہوتا تو وہ میرا کیا بن جاتا؟ وَكِيل، تو پھر اس کا قبضہ بھی اور اس کو مالک بنانا بھی صحيح۔ تو یہاں پر بِلا تَوْكِيلِ ذَالِكَ الْغَيْرِ اس غیر کو وکیل بنائے بغیر اس کو مالک بنانا لازم آئے گا اور یہ درست نہیں، هَذَا لَا يَصِحُّ اور یہ درست نہیں۔ بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ الْعَبْدُ مُعَيَّناً بِخلاف اس کے جبکہ وہ غلام کیا ہو؟ مُعَيَّن ہو، فَإِنَّ الْبَيْعَ يَصِيرُ حِينَئِذٍ وَكِيلاً بِقَبْضِ الدَّيْنِ تو اس صورت میں بای یعنی اس غلام کو بیچنے والا وہ اس وقت کیا ہو جائے گا؟ وَكِيلٌ بِقَبْضِ الدَّيْنِ بن جائے گا کہ وہ میرے دین پر قبضہ کرے، فَيَصِحُّ تَمْلِيكُ الدَّيْنِ تو تَمْلِيكُ الدَّيْنِ بھی کیا ہو جائے گی؟ صحيح ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں تو ہم نے تو امام صاحب تو فرق کرتے ہیں۔ اگر شے مُعَيَّن کے خریدنے کے لیے وکیل بنایا ہے تو تَوْكِيل صحيح، اور شے غَيْرِ مُعَيَّن کے خریدنے کے لیے وکیل بنایا ہے تو تَوْكِيل صحيح؟ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، دونوں صورتوں کے اندر تَوْكِيل صحيح۔ جب تَوْكِيل صحيح تو وہ چیز اگر اس وکیل کے پاس ہلاک ہو جائے تو کس کے مال میں سے ہلاک ہوئی ہے؟ مُوَكِّل کے۔ وَعِنْدَهُمَا صاحبین کے نزدیک إِذَا قَبَضَ الْمَامُورُ جب مَامُور نے قبضہ کر لیا، يَصِيرُ مِلْكاً لِلْآمِرِ تو یہ کیا؟ مَقْبُوضَة شے کیا بن گئی؟ آَمِر کی یعنی مُوَكِّل کی مِلْك بن گئی، چاہے مُعَيَّن ہو چاہے مُعَيَّن نہ ہو۔ مُعَيَّن ہو اس صورت میں تو اختلاف ہے ہی نہیں، غَيْرِ مُعَيَّن یہاں مُراد ہے۔ غَيْرِ مُعَيَّن ہو پھر بھی یہ کس کی مِلْك بن گئی صاحبین کے نزدیک؟ آَمِر کی، کیوں؟ لِأَنَّ الدَّرَاهِمَ وَالدَّانَانِيرَ لَمْ تَتَعَـيَّن کیونکہ دَرَاهِم اور دَنَانِير مُعَيَّن نہیں ہوتے، فَلَمْ يَتَقَيَّدِ التَّوْكِيلُ بِالدَّيْنِ تو تَوْكِيل مُقَيَّد نہ ہوئی اُس دَيْن کے ساتھ بھئی۔ دَرَاهِم اور دَنَانِير مُعَيَّن؟ پھر خرابی کیا لازم آ رہی تھی؟ اِس غَيْرِ مُعَيَّن کے اندر، امام صاحب کے نزدیک کیوں نہیں صحیح تَوْكِيل؟ کیونکہ اس میں دَيْن کا مالک بنانا لازم آتا ہے اس کو جس پر دَيْن نہیں۔ تو صاحبین فرماتے ہیں دِرْهَم و دَنَانِير مُعَيَّن ہی نہیں ہوتے، جب مُعَيَّن ہی نہیں ہوئے تو گویا اِس نے جو ثَمَن ادا کیے بای کو، وہ وہ دَيْن والے نہیں تھے بلکہ اس کے علاوَہ تھے۔ تو آپ جب اس کے علاوَہ تھے تو تَمْلِيكُ الدَّيْنِ اس لازم آئی؟ اسی دَيْن کا ہم نے اس کو مالک بنایا یا اور پیسوں کا اس کو مالک بنایا؟ اور پیسوں کا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو تَمْلِيكُ الدَّيْنِ مِنْ غَيْرِ مَنْ عَلَيْهِ الدَّيْنِ والی خرابی لازم؟ اچھی طرح بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی! فَلَمْ يَتَقَيَّدِ التَّوْكِيلُ بِالدَّيْنِ تو تَوْكِيل مُقَيَّد نہیں ہوئی اُس دَيْن کے ساتھ، فَصَحَّتِ الْوَكَالَةُ تو وِكَالَة کیا ہو گئی؟ صحيح ہو گئی، فَيَكُونُ لِلْآمِرِ تو وہ چیز مَبِيعہ کس کے لیے ہوا؟ آَمِر کا ہو گیا یعنی مُوَكِّل کا ہو گیا۔ وَجَوَابُهُ مَا مَرَّ اور جَواب اس کا اب بھئی صاحبین کو جَواب دے رہے ہیں امام صاحب کی طرف سے۔ اور جَواب اس کا ما وہ ہے مَرّ جو گزر گیا، کیا گزرا؟ مِنْ أَنْ یعنی کہ مِنْ بَيَان ہے ما کا، یعنی کہ أَنَّهَا تَتَعَـيَّنُ فِي الْوَكَالَاتِ کہ بھئی آپ کی بات ٹھیک ہے، دَرْهَم و دَنَانِير کیا ہوتے ہیں؟ مُعَيَّن نہیں ہوتے لیکن تَتَعَـيَّنُ فِي الْوَكَالَاتِ وکالتوں میں کیا ہو جاتے ہیں؟ مُعَيَّن ہو جاتے ہیں۔ فَإِنَّهُ إِذَا قَيَّدَ الْوَكَالَةَ بِهَا اس لیے کہ جب آَمِر نے مُقَيَّد کر دیا وَكَالَة کو بِهَا اِی بِالدَّرَاهِمِ أَوْ بِالدَّانَانِيرِ دَرَاهِم یا دَنَانِيرِ دَرَاهِم یا مُقَيَّد کر دیا، کیا کہا؟ کس کے بدلے لے کر آؤ؟ دَرَاهِم اور دَنَانِير کے، عَيْناً كَانَتْ أَوْ دَيْناً یہ سمجھ لو بھئی! چاہے وہ عَيْن ہوں یعنی مُعَيَّن ہوں اَوْ دَيْناً یا کیا ہوں؟ مُعَيَّن کیسے؟ آپ پر دَيْن نہیں ہے، آپ کو میں نے دِرْهَم کی ایک تھیلی دی، لو بھئی! ان دَرَاهِم کے بدلے کیا کرو؟ میرے لیے کیا لے کر آؤ؟ غُلَام لے کر آؤ۔ تو یہ دَرَاهِم مُعَيَّن ہیں یا نہیں مولانا؟ وَكَالَة ہے، وَكَالَة کے اندر دَرَاهِم کیا ہو جاتے ہیں؟ تو یہ دَرَاهِم مُعَيَّن ہیں بھئی۔ تو وَكَالَة کے جب وَكَالَة مُقَيَّد ہو دَرَاهِم کے ساتھ اور وہ دَرَاهِم عَيْناً كَانَتْ أَوْ دَيْناً چاہے وہ دَرَاهِم کیا ہوں؟ مُعَيَّن ہوں جیسے میں نے ابھی صورت بتائی، اور چاہے دَيْناً ہوں یعنی غَيْرِ مُعَيَّن ہوں، آپ پر میرا ایک لاکھ روپیہ دَيْن دینا ہے، تو اب مُعَيَّن دَرَاهِم ہیں یہاں پر؟ جی؟ بھئی خریدنے کے لیے آپ کو میں نے کیا خریدنے کے لیے بھیجا؟ غُلَام۔ کوئی غُلَام میرے لیے خرید لاؤ۔ اب دو صورتیں، یا تو آپ پر میرا دَيْن ہوگا یا دَيْن نہیں۔ اگر آپ پر میرا دَيْن ہے، تو دَرَاهِم وِغَيْرَہ مُعَيَّن نہیں۔ لیکن وَكَالَة کی جب بات آ گئی تو وہ کیا ہو جائیں گے؟ مُعَيَّن ہو جائیں گے۔ اور تو وَكَالَة کی صورت میں دَيْن ہو پھر بھی دَرَاهِم مُعَيَّن، اور اگر عَيْن ہو دَرَاهِم، مَسَلًّ آپ پر دَيْن نہیں تھا بلکہ میں آپ کو کیا کر رہا ہوں؟ دَرَاهِم دے رہا ہوں، تو اب یہ دَرَاهِم دَيْن ہیں یا عَيْن ہیں بھئی؟ عَيْن ہیں۔ دونوں صورتوں میں جب وَكَالَة مُقَيَّد ہو، فَهَلَكَتْ وہ دَرَاهِم مُعَيَّن کیا ہو جائیں؟ أَوْ سَقَطَ الدَّيْنُ یا دَيْن کیا ہو جائے؟ سَاقِط ہو جائے، تَبْطُلُ الْوَكَالَةُ وَكَالَة کیا ہو جاتی ہے؟ باطل، یہ اچھی طرح سمجھ لو مشکل بات ہے۔ دیکھو بھئی! امامِ اعظم ابُو حَنِيفَه رحمہ اللہ کی دَلِیل گزری، اور دَلِیل میں ذِكْر ہوا کہ دَرَاهِم کے دَرَاهِم اور دَنَانِير وَكَالَة میں کیا ہو جاتے ہیں؟ مُعَيَّن ہو جاتے۔ صاحبین کی دَلِیل گزری کہ دَيْن کے اندر ہیں دَرَاهِم اور دَنَانِير اور دَرَاهِم اور دَنَانِير کیا ہیں؟ مُعَيَّن نہیں۔ جب مُعَيَّن نہیں ہیں تو گویا اُسی کے بدلے اس نے نہیں خریدا بلکہ دوسرے دَرَاهِم کے بدلے اس غُلَام کو خریدا ہے، خریدا ہے۔ ہم کہتے ہیں، جَواب دیتے ہیں کہ بھئی وَكَالَة کے اندر دَرَاهِم اور دَنَانِير مُعَيَّن ہو جاتے ہیں چاہے وہ عَيْن ہوں چاہے وہ دَيْن ہوں۔ جیسے دیکھو، آپ پر میرا کوئی دَيْن نہیں ہے لیکن میں نے آپ کو کیا دی؟ ایک تھیلی دی دَرَاهِم کی، اس تھیلی کے جاؤ بھئی! اس کے ذریعے کیا خرید لاؤ میرے لیے؟ ایک غُلَام خرید لاؤ۔ تو یہ دَرَاهِم دیے، یہ عَيْن ہیں یا دَيْن ہیں؟ عَيْن ہیں۔ اچھا، یہ تو وَكَالَة دُرُست ہے یا دُرُست نہیں؟ وَكَالَة کیا ہے؟ دُرُست ہے۔ وہ دَرَاهِم آپ ابھی خریدا نہیں تھا کہ آپ کے پاس ہلاک ہو گئے، تو کہتے ہیں مولانا وَكَالَة خَتْم ہوئی۔ وَكَالَة کیا ہو گئی؟ خَتْم ہوئی۔ کیوں بھئی؟ وہ دَرَاهِم ہی نہیں رہے تو اب کہاں سے خریدے گا بھئی؟ تو وَكَالَة باطل ہو گئی۔ کب؟ جبکہ وہ دَرَاهِم جو عَيْن تھے کیا ہو گئے؟ ہلاک۔ اچھا! دوسری صورت یہ تو عَيْن کی صورت میں ہے، مَعْلُوم ہوا کہ دَرَاهِم مُعَيَّن ہوتے ہیں وَكَالَة میں ورنہ تو وَكَالَة کو باطل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن یہ ذِرا مَلاکُ ہے، آپ بالاتفاق کیا ہے؟ وَكَالَة کیا ہو جاتی ہے؟ باطل۔ مَعْلُوم ہوا عَيْن ہوں تو اس صورت میں دَرَاهِم کیا ہو جاتے ہیں؟ مُعَيَّن۔ اسی طرح دَاوٰعی ہمارا یہ ہے کہ دَيْن کی صورت میں بھی وَكَالَة کے اندر دَرَاهِم کیا ہو جائیں گے؟ مُعَيَّن۔ کیسے دیکھو! میں نے آپ کو وکیل بنایا کہ بھئی وہ جو آپ پر میرا ایک لاکھ دَيْن ہے، اس کے بدلے جاؤ کیا خرید لاؤ میرے لیے؟ غُلَام خرید لاؤ۔ ابھی آپ نے غُلَام خریدا نہیں تھا کہ آپ نے مجھے ایک لاکھ روپیہ ادا कर دیا اس دَيْن کی وجہ سے، یہ میں نے آپ کا قَرْضہ ادا کر دیا، یہ لیجیے ایک لاکھ۔ कहتے ہیں مولانا اب وَكَالَة باطل ہو گئی۔ وَكَالَة کیا ہو گئی؟ باطل۔ کیوں باطل ہو گئی؟ اس لیے کہ وہ وَكَالَة مُقَيَّد تھی کس کے ساتھ؟ دَيْن کے ساتھ، اور وہ دَيْن تو آپ نے کیا کر دیا مجھے ادا کر دیا، تو وہ دَيْن نہ رہا، جب دَيْن نہ رہا تو وَكَالَة بھی یا مولانا! میں نے آپ کو معاف کر دیے، آپ نے ابھی غُلَام خریدا نہیں تھا، میں نے آپ کو وہ دَيْن کیا کر دیا؟ معاف کر دیا۔ تو دَيْن خَتْم ہوا، جیسے ہی دَيْن خَتْم ہوا فُقَهَاءِ كِرَام کیا لکھتے ہیں؟ وَكَالَة بھی خَتْم ہو جائے گی، باطل ہو جائے گی۔ مَعْلُوم ہوا یہ وَكَالَة مُقَيَّد ہو گئی تھی اُس دَيْن کے ساتھ، تو یہاں پر بھی دَرَاهِم اور دَنَانِير کیا ہو گئے تھے؟ مُعَيَّن ہو گئے تھے۔ صُورَت سمجھ میں آئی؟ یہ مَعْنٰی ہے: فَإِنَّهُ إِذَا قَيَّدَ الْوَكَالَةَ بِهَا اس لیے کہ جب مُقَيَّد کر دیا وَكَالَة کو دَرَاهِم اور دَنَانِير کے ساتھ عَيْناً كَانَتْ أَوْ دَيْناً چاہے وہ عَيْن ہو یا دَيْن ہو، فَهَلَكَتْ أَوْ سَقَطَتِ الدَّيْنِ پھر وہ دَرَاهِم اور دَنَانِير ہلاک ہو گئے عَيْن کی صورت میں، اَوْ سَقَطَتِ الدَّيْنُ یا دَيْن کیا ہوا؟ ساقِط ہو گیا، تَبْطُلُ الْوَكَالَةُ دونوں صورتوں میں وَكَالَة کیا ہو جاتی ہے؟ باطل۔ مَعْلُوم ہوا وَكَالَة کے اندر دَرَاهِم کیا ہو جاتے ہیں؟ چاہے عَيْن ہو چاہے دَيْن ہو یا یوں کہیں وَكَالَة مُقَيَّد ہو جاتی ہے دَرَاهِم اور دَنَانِير کے ساتھ چاہے عَيْن ہو چاہے دَيْن ہو۔ صُورَت سمجھ میں آئی؟ وََبِشِرَاءِ نَفْسِ الْمَامُورِ مِنْ سَيِّدِهِ إِنْ قَالَ بِعْنِي نَفْسِي لِفُلَانٍ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی! ایک غلام تھا، میں نے اس غلام کو کہا کہ جاؤ بھئی! اپنے آپ کو اپنے آقا سے میرے لیے خرید لو۔ غلام میرے سامنے کھڑا ہے، میں غلام سے کیا کہہ رہا ہوں؟ اے غلام! اپنے آپ کو میرے لیے اپنے آقا سے خرید لو۔ اچھا، یہ غلام گیا، اس نے جاکر آقا سے کہا کہ مجھے میرا نَفْس فَرُوخ کر دو فُلاں آدمی کے لیے، آقا نے کیا کیا؟ بیچ دیا، تو تَوْكِيل صحيح تھی، لہٰذا یہ غلام اب کس کا بن جائے گا؟ مُوَكِّل کا، اس آَمِر کا بن جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ آَمِر۔ صُورَت سمجھ میں آگئی؟ تو غلام نے آقا سے جا کر کیا کہا؟ کہ مجھے میرا اپنا نَفْس فَرُوخ کر دیجیے، میری ہاتھ، میرا نَفْس فَرُوخ کر دیجیے کس پر بھئی؟ مجھ پر ہی فَرُوخ کر دیجیے اور کس کے لیے فَرُوخ کیجیے؟ فُلاں آدمی کے لیے۔ تو یہ فُلاں آدمی کے لیے کہنا ضروری، اگر فُلاں آدمی کے لیے غلام نہیں کہتا یوں جاکر کہتا ہے آقا کو کہ اے آقا! میرا نَفْس میرے ہی ہاتھ پر کیا کر دیں یا مجھے ہی فَرُوخ کر دیں، آقا کہتا ہے میں نے فَرُوخ تو میں نے فَرُوخ کر دیا بھئی! فَرُوخ کر دیا، کہتے ہیں غلام آزاد ہو جائے گا۔ لِفُلَانٍ کی قَيْد اس نے نہیں لگائی تھی، غلام کیا ہو جائے گا۔ آزاد۔ کیونکہ غلام کے نَفْس کو غلام پر ہی فَرُوخ کرنا عِوَض کے ساتھ یہ عِتْق عَلَى الْمَالِ ہے۔ تو غلام کہہ تو رہا ہے فَرُوخ کر دیں، لیکن مَجَازاً اس سے کیا مُراد ہے؟ عِتْق مُراد۔ تو لَفْظِ ذِكْر ہوا شِرَاء کا، لیکن مُراد کیا ہے یہاں پر؟ کس مَعْنٰی میں استعمال ہوگا؟ عِتْق۔ کیونکہ آقا کوئی بھی آقا غلام کو اس کے نَفْس پر فَرُوخ کر سکتا ہے بھئی؟ غلام تو کسی چیز کا مالک ہی نہیں۔ اس پر فَرُوخ کرنا کیا؟ تو یہاں دَر-أَصْل کیا کہہ رہا ہے غلام؟ ذِكْر تو شِرَاء کو کر رہا ہے، لیکن مُراد کیا ہو جائے گا مَجَازاً اس سے؟ عِتْق۔ تو گویا غلام نے یوں کہا: اے آقا! مجھے آپ آزاد کر دیجیے اتنے مال کے بدلے میں۔ آقا نے کیا کہا؟ میں نے قَبُول کیا۔ غلام فَوْراً کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا اور اُس پر وہ ثَمَن واجب ہو جائیں گے، اب وہ اسے لا کر دینے پڑیں گے۔ صُورَت سمجھ میں آگئی؟ وََبِشِرَاءِ نَفْسِ الْمَامُورِ اَيْ صَحَّ الْأَمْرُ بِشِرَاءِ اور صحيح ہے اَمْر کرنا کس چیز کا اَمْر؟ بِشِرَاءِ نَفْسِ الْمَامُورِ کے مَامُور کے نَفْس کو خریدنے کا مَامُور کون ہے بھئی؟ کس کو میں نے حُكْم دیا تھا؟ غلام کو، وہ مَمُور ہے۔ نَفْسِ مَمُور کو خریدنے کا اَمْر صحيح ہے، مِنْ سَيِّدِهِ کس سے خریدنے کا؟ اس مَمُور کے آقا سے، یہ صحيح ہے، كَبْ؟ إِنْ قَالَ اگر آقا نے کیا کہا؟ صحيح ہے یہ اَمْر یعنی یہ تَوْكِيل صحيح ہے، كَبْ صحيح ہے؟ إِنْ قَالَ اگر غلام نے آقا سے کہا: بِعْنِي نَفْسِي لِفُلَانٍ میرا نَفْس مَمُور فَرُوخ کر دیجیے مُوَكِّل کے لیے۔ فَبَاعَ تو آقا نے فَرُوخ کر دیا، تو یہ تَوْكِيل کیا ہوئی؟ صحيح۔ فَإِنْ لَمْ يَقُلْ لِفُلَانٍ اور اگر غلام نے لِفُلَانٍ کا لَفْظ نہ کہا، عُتِقَ عَلَى الْمَوْلَى تو وہ مَوْلَى پر کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ دیکھیے تَفْصِيل سارا اسی طرح بتلائیں گے۔ اِذَا قَالَ رَجُلٌ لِعَبْدٍ جب کہا کسی آدمی نے کسی غلام سے، اِشْتَرِي لِي تو خرید لے لِي میرے لیے نَفْسَكَ اپنے نَفْس کو مِنْ مَوْلَاكَ اپنے آقا سے۔ فَالْعَبْدُ إِنْ قَالَ لِمَوْلَاهُ تو غلام نے اگر اپنے آقا سے کہا: بِعْنِي نَفْسِي بِعْ تِجِيے مُجھ پر مِيرا نَفْس لِفُلَانٍ فُلاں آدمی کے لیے، فَبَاعَ آقا نے بیچ دیا، يَقَعُ عَنِ الْآمِرِ تو یہ بيع کس کی طرف سے واقع ہوگی؟ آَمِر کی طرف سے واقع ہوگی یعنی تَوْكِيل صحيح ہوئی۔ وَإِنْ لَمْ يَقُلْ لِفُلَانٍ اور اگر غلام نے لِفُلَانٍ کی قَيْد نہ بڑھائی، عُتِقَ عَلَى الْمَوْلَى تو وہ کس کے پر آزاد ہو جائے گا؟ مَوْلَى پر اور میں نے بتلایا ثَمَن کس پر پھر واجب ہوں گے؟ اُسی غُلام پر واجب ہوں گے، وہ لا کر کما کر دے گا۔ فَإِنْ قِيلَ یہاں سے ایک اِعْتِرَاض ذِكْر کر رہے ہیں ایک جَواب۔ یاد رکھو تَوْكِيل کے اندر ایک ضَابِطہ یہ ہے۔ میں نے آپ کو وکیل بنایا جاؤ بھئی! وہ گاڑی میرے لیے خرید کر لاؤ، آپ نے کہا ٹھیک ہے۔ بس مولانا! اب آپ وہ گاڑی اپنے لیے نہیں خرید سکتے۔ اب آپ وہ گاڑی اپنے لیے... ہاں! یہ مجھے کہہ دیں نہیں بھئی! میں کوئی آپ کا وکیل نہیں۔ میں اپنے لیے گاڑی خرید رہا ہوں بھئی! پھر الگ بات ہے، لیکن آپ ایک دَفَعہ تَوْكِيل قَبُول कर लेते ہیں اور پھر جا کر وہ گاڑی خرید لیتے ہیں اور بعد میں کہتے ہیں یہ گاڑی تو میں نے آپ کے لیے نہیں خریدی تھی بلکہ کسی کے لیے خریدی تھی؟ نہیں بھئی! اپنے لیے یا تو تَوْكِيل سے اپنے عَزْل کا ذِكْر کرو، سمجھ میں آیا؟ مُوَكِّل کے سامنے ہی کیا کہ ہو؟ میں وکیل نہیں۔ پھر خریدنا صحيح، لیکن اگر وَرنہ دُرُست نہیں۔ اب اِشْكَال ہوتا ہے بھئی! تو بھئی دیکھو، آَمِر نے غلام کو ایک غلام خریدنے کا کہا، یعنی اس کا اپنا نَفْس خریدنے کو کہا۔ تو اس کا اپنا نَفْس مُعَيَّن ہے یا مُعَيَّن نہیں؟ میں نے غلام سے کہا جاؤ اپنے آپ کو اپنے آقا سے خرید و۔ تو یہ غلام مُعَيَّن ہے غَيْرِ مُعَيَّن، جس کے میں خریدنے کا کہہ رہا ہوں؟ مَبِيعہ مُعَيَّن ہے، اور مَبِيعہ مُعَيَّن ہو تو وہ وکیل اپنے لیے نہیں خرید سکتا، اور یہاں پر آپ کیا کہتے ہیں؟ کہ غلام لِفُلَانٍ کی قَيْد نہیں لگاتا، تو پھر یہ غلام آَمِر کی طرف سے اس کے لیے نہیں ہوگا، حالانکہ جب مُعَيَّن چیز کے خریدنے کے لیے کسی کو وکیل بنایا جائے، تو وہ وکیل جا کر مُوَكِّل کو ذِكْر کرے یا ذِكْر نہ کرے، دونوں صورتوں میں وہ چیز کس کی ہوتی ہے؟ مُوَكِّل کی ہوتی ہے، تو یہاں بھی غلام کو کس کا ہونا چاہیے؟ مُوَكِّل کا ہونا چاہیے، لیکن آپ کہتے ہیں، وہ مُوَكِّل کا ذِكْر نہیں کرتا، تو وہ آزاد ہوگا، اور مُوَكِّل کو ذِكْر کرتا ہے تو کس کے لیے ہوگا؟ مُوَكِّل کے لیے ہوگا۔ صُورَت اِعْتِرَاض سمجھ میں آیا؟ تو جَواب یہ ہے مولانا! کہ بھئی یہاں جِنْس ہی بدل گئی اس عَقْد کی۔ وکیل جو بنایا تھا وہ بَعْ شِرَاء کے لیے بنایا تھا، اور غلام جو عَقْد کر گیا لِفُلَانٍ ذِكْر کیے بغیر وہ تو عِتْق والا ہے وہ عَقْد کون سا ہے؟ عِتْق بھئی! وہ تَصَرُّف الگ ہے، وہ الگ تَصَرُّف ہے مولانا، یہ الگ تَصَرُّف ہے، لہٰذا اس وجہ سے یہ نَافِذ ہو جائے گا۔ اگر یہ ایک ہی طَرْم کا ہوتا، شِرَاء ہوتی تو پھر جَائِز نہیں تھی، اپنے لیے وہ نہیں کر سکتا تھا۔ صُورَت سمجھ میں آئی؟ فَإِنْ قِيلَ اگر یہ اِعْتِرَاض کیا جائے الْوَكِيلُ بِشِرَاءِ شَيْءٍ مُعَيَّنٍ کی کسی مُعَيَّن چیز کے خریدنے جو وکیل ہوتا ہے إِذَا اشْتَرَاهُ جب وہ اس کو خرید لیتا ہے مِنْ غَيْرِ أَنْ يُضِيفَ إِلَى الْآمِرِ بغیر اس کے کہ وہ نِسْبَت کرے کس کی طرف؟ آَمِر کی طرف نِسْبَت کیے بغیر بھی جب وکیل کسی مُعَيَّن چیز کو خرید لیتا ہے يَقَعُ عَنِ الْآمِرِ تو وہ شِرَاء کس کی طرف سے واقع ہوتی ہے؟ آَمِر ہی کی طرف سے۔ تو یہاں کیوں نہیں ایسا؟ کہتے ہیں قُلْنا ہم جَواب دیتے ہیں الْوَكِيلُ قَدْ أَتَى بِتَصَرُّفٍ مِنْ جِنْسٍ آخَرَ وکیل نے یہاں پر کیا ہے ایک ایسا تَصَرُّف جو الگ جِنْس سے ہے، وَهُوَ الْعِتْقُ عَلَى مَالٍ اور وہ کیا ہے؟ عِتْق عَلَى مَالٍ، تو وَكِيل تو اس نے بنایا تھا شِرَاء کے لیے، اور اس نے کون سا تَصَرُّف کر دیا؟ عِتْق عَلَى الْمَالِ، وَفِي مِثْلِ هَذَا يَقَعُ عَنِ الْوَكِيلِ اور اس قِسْم کے تَصَرُّف میں واقع ہو جائے گا کس کی طرف سے؟ وکیل جب جِنْسِ الگ ہو تو پھر وکیل کی طرف سے صحيح ہے۔ وَفِي شِرَاءِ نَفْسِ الْآمِرِ مِنْ سَيِّدِهِ بِأَلْفٍ دَفَعَ۔ صُورَت الگ بھئی! بھئی تو گذشتہ مَسْأَلَة میں وکیل نے کس کو حُكْم دیا تھا؟ او مُوَكِّل نے کس کو حُكْم دیا تھا؟ غلام کو۔ اب الگ صورۃ بنا لو اب غلام کسی دوسرے شخص کو حکم دیتا ہے اور وکیل بناتا ہے کہ ایک غلام میرے پاس آیا اس نے آکر مجھے ایک ہزار درہم دیے اور کہا کہ مجھے میرے لیے اپنے آقا سے خرید لو۔ غلام کیا کہہ رہا ہے؟ غلام آیا اور اس نے مجھے کتنے درہم دیے؟ ایک ہزار درہم دیے اور کیا کہا مجھے؟ کہ مجھے اپنے آقا سے خرید لو اور کس کے لیے؟ غلام کے اپنے لیے غلام کے اپنے لیے۔ موکل کے لیے نہیں کہہ رہا بلکہ غلام کے اپنے کیونکہ پیسے وہ دے رہا ہے اپنے لیے خرید رہا ہے یعنی وہ آزادی چاہتا ہے کیا چاہتا ہے؟ آزادی چاہتا ہے۔ میں نے اس سے وہ ہزار درہم لے لیے اور جا کر میں نے کیا کہا آقا سے کہ میرے ہاتھ اپنے اس غلام کو فروخت کر دیجیے اسی کے لیے۔ کس کے لیے اسی غلام کے لیے۔ میرے ہاتھ فروخت کر دیجیے کس کو فروخت کریں؟ غلام کو اور غلام کو کس کے لیے فروخت کریں؟ اسی کے لیے یعنی غلام ہی کے لیے آقا نے بیچ دیا مولانا کہتے ہیں یہ توکیل صحیح اور وہ غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا اور وہ جو ہزار روپے میں نے دیے وہ جو ہزار روپے غلام نے دیے اس کے بدلے وہ آزاد ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھا۔ لیکن اگر میں نے آقا سے جا کر یہ تو کہا کہ اس غلام کو میرے ہاتھ فروخت کر دیجیے لیکن یہ نہیں کہا کس کے لیے فروخت کریں؟ اسی کے لیے اسی غلام کے لیے میرے ہاتھ اس کو فروخت کر دیجیے تو میں نے لنفس الغلام کی قید نہیں لگائی بھئی۔ تو اس صورت میں کہتے ہیں بھئی آپ وہ غلام خریدنے والے کا ہو جائے گا۔ کس کا ہو جائے گا؟ یعنی میرا غلام بن جائے گا اور وہ جو ہزار میں نے آقا کو دے دیے بھئی وہ آقا کے ہو گئے کیونکہ وہ پیسے مجھے کس نے دیے تھے؟ غلام نے دیے تھے اور غلام کی کمائی بھی کس کی ہوتی ہے؟ آقا کی تو وہ پیسے آقا کے ہو گئے اور یہ غلام اب کس کا بن گیا؟ میرا تو مجھے علیحدہ سے ہزار درہم بھی دینے پڑیں گے ان درہم کے علاوہ کیا دینے پڑیں گے؟ صورت سمجھ میں آگئی؟ بھئی یہ فرق کیوں ہے؟ کہ میں جا کر لنفس الغلام کہتا ہوں تو غلام کے لیے ہو جاتا ہے آزاد ہو جاتا ہے اور اگر میں لنفس الغلام کو ذکر نہیں کرتا تو پھر کس کا غلام بن جائے گا؟ موکل کا وکیل کا بن جائے گا۔ کہتے ہیں اس لیے کہ جب پیسے کس نے دیے؟ غلام نے تو پیسے ہیں غلام کے اور یہ جا کر آقا سے کیا کہتا ہے؟ اس غلام کو میرے ہاتھ فروخت کرو اور کس کے لیے فروخت کرو؟ اسی کے لیے جب اسی کے لیے فروخت کیا تو ذکر تو شِرا ہے لیکن دراصل یہ کیا یہاں پر عِتق علی مال ہو رہا ہے کیا ہو رہا ہے؟ عِتق علی مال تو یہاں شِرا اپنے حقیقی معنی میں استعمال نہیں ہوگا بلکہ کس معنی میں استعمال ہو جائے گا؟ عِتق علی مال کے معنی میں سمجھ میں آیا؟ لیکن جب میں نے لنفس الغلام کو ذکر نہیں کیا تو اب اس صورت میں میں کون سا لفظ ذکر کر رہا ہوں؟ شِرا تو شِرا کو اب حقیقی معنی پر ہی محمول کیا جائے گا۔ تو وہاں لنفس الغلام کی قید آگئی تھی اب حقیقی معنی ممکن ہی نہ رہے بلکہ کون سا معنی لینے پڑیں گے؟ عِتق والے اور یہاں پر کون سا معنی مراد لینا جائز ہوگا جب میں نے لنفس الغلام کی قید نہیں لگائی؟ اب حقیقی معنی بھی لینا صحیح ہوئے اور جہاں حقیقت اور مجاز ہوں تو اولیٰ کیا ہے؟ حقیقی معنی ہے تو لہذا حقیقی معنی مراد لے لیں گے اور شِرا ہی ہو جائے گی تو موکل وکیل ہی اس کا کیا بن جائے گا؟ مالک۔ بھئی صورت سمجھ میں آئی اچھی طرح؟ وَفِیْ شِرَاءِ نَفْسِ الْآمِرِ دیکھا اور نفسِ آمر کے خریدنے میں وَصَحَّ الْأَمْرُ فِیْ شِرَاءِ نَفْسِ آمر کون ہے مولانا؟ وہ غلام ہے جس نے مجھے آقا کو حکم دیا کہ میرے نفس کو خریدو اور نفسِ آمر کو خریدنے میں کس سے خریدنے میں مِنْ سَیِّدِهِ اس کے آقا سے یہ امر صحیح ہے بِأَلْفٍ کتنے کے بدلے؟ الف کے بدلے ایسے الف دفع جو اس غلام نے کیا کیے ہیں؟ مامور کے حوالے کر دیے ہیں۔ تو یہ امر صحیح ہے وَصَحَّ الْأَمْرُ فِیْ شِرَاءِ نَفْسِ الْآمِرِ صحیح ہے امر مولانا فِیْ شِرَاءِ نَفْسِ الْآمِرِ آمر کے نفس کے خریدنے کے اندر مِنْ سَیِّدِهِ اس کے آقا سے بِأَلْفٍ دَفَعَ ایسے ہزار کے بدلے جو اس نے کیا کیے ہیں؟ آمر نے مامور کے حوالے کر دیے ہیں یہ صحیح ہے کب؟ إِنْ قَالَ لِسَيِّدِهِ اگر وکیل نے جا کر اس کے آقا سے یوں کہا اشْتَرَیْتُهُ لِنَفْسِهِ میں اس غلام کو خریدتا ہوں لِنَفْسِهِ اسی کے نفس کے لیے فَبَاعَهُ پھر اس آقا نے کیا کر دیا اس کو؟ بیچ دیا عُتِقَ عَلَيْهِ تو وہ غلام کیا ہو جائے گا اس آقا پر آزاد ہو جائے گا۔ وَإِنْ لَمْ يَقُلْ لِنَفْسِهِ اور اگر وکیل نے لنفسہ جا کر نہ کہا كَانَ لِلْوَكِيلِ تو یہ غلام کس کا ہو جائے گا؟ وکیل کا ہو جائے گا وَعَلَيْهِ ثَمَنُهُ اور وکیل پر کیا واجب ہوں گے؟ اس کے غلام کے ثمن واجب ہوں گے وَالْأَلْفُ لِسَيِّدِهِ اور وہ جو ہزار جو دے دیے اس نے وہ کس کے ہیں؟ آقا ہی کے ہیں کیونکہ یہ اس کے غلام کی کمائی ہے۔ إِذَا قَالَ عَبْدٌ لِرَجُلٍ جب کہا کسی غلام نے کسی آدمی سے اشْتَرِ لِي نَفْسِي مِنْ مَوْلَايَ بِأَلْفٍ تو خرید لے میرے نفس کو مِنْ مَوْلَايَ کس سے میرے آقا سے بِأَلْفٍ کتنے کے بدلے؟ ایک ہزار کے بدلے وَدَفَعَهَا إِلَيْهِ اور حوالے بھی کر دیے وہ ایک ہزار اس کے فَقَالَ الْوَكِيلُ وکیل نے جا کر آقا سے کہا اشْتَرَیْتُهُ لِنَفْسِهِ میں اس غلام کو خریدتا ہوں لِنَفْسِهِ اسی کے نفس کے لیے فَبَاعَهُ آقا نے اس کو بیچ دیا يَكُونُ إِعْتَاقاً عَلَى مَالٍ تو یہ کیا ہے مولانا إِعْتَاقُ عَلَى مَالٍ ہے وَإِنْ لَمْ يَقُلْ لِنَفْسِهِ اور اگر وکیل نے لنفسہ نہ کہا كَانَ الشِّرَاءُ وَاقِعاً مِنَ الْوَكِيلِ تو یہ شرا ہوگی واقع کس کی طرف سے؟ وکیل کی طرف سے فَيَكُونُ الثَّمَنُ عَلَى الْمُشْتَرِي تو یہ ثمن مشتری پر آجائیں گی یعنی وہ جو وکیل ہے وَهَذَا الْأَلْفُ لِلْمَوْلَى اور یہ جو ہزار جو اس نے ادا کر دیے یہ آقا کے ہوں گے لِأَنَّهُ كَسْبُ عَبْدِهِ اس لیے کہ یہ اس کے غلام کی کمائی ہے۔ صورتِ مسئلہ سمجھ میں آگئی سب کو؟ چلیے مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلامِ
106 approved lectures · 86 of 106