اچھا، مولانا! شہادت کے مسئلے چل رہے تھے بھئی! باب یہ چل رہا تھا کہ کس کی گواہی قبول کی جائے گی اور کس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا بھئی، جو پرندوں کے ساتھ کھیلتے ہیں، ان کو پالا ہوا ہے، یا آلاتِ گانے بجانے کے آلات وغیرہ ہیں، یا گاتا ہے لوگوں کے لیے، یا گانے بجانے کے آلات استعمال کرتا ہے، یا ایسے افعال کرتا ہے جس سے حد واجب ہوتی ہے، وغیرہ، یا نرد وغیرہ کھیلتا ہے، یا شطرنج جس کی وجہ سے اس کی نماز ضائع ہوتی ہے، یا جوا کھیلتا ہے اس پر۔ جی، یا گھٹیا فال، جیسے راستے میں پیشاب کرنا، یا راستے میں کھانا کھاتا ہے، أَوْ يُظْهِرُ سَبَّ السَّلَفِ، یا کیا کرتا ہے؟ سلف کو گالیاں دینا ظاہر کرتا ہے، یعنی کھلم کھلا ان کو کیا کرتا ہے؟ گالیاں، چھپ کر نہیں، بلکہ کھلم کھلا بھئی۔ تو جو لوگ یہ کام کر سکتے ہیں، وہ جھوٹ بھی بول سکتے ہیں، جھوٹی گواہی بھی دے سکتے ہیں، اس لیے ان لوگوں کی گواہی قابلِ قبول نہیں ہے بھئی۔
كَالشَّهَادَةِ عَلَى جَرْحٍ مُجَرَّدٍ وَهُوَ مَا يُفَسِّقُ الشَّاهِدَ وَلَمْ يُوجِبْ حَقًّا لِلشَّرْعِ أَوِ الْعَبْدِ۔
بھئی! پہلے "جَرْحِ مُجَرَّدٍ" سمجھ لو۔ یاد رکھو! جرحِ مجرد پر گواہی قبول نہیں کر سکتا قاضی بھئی، وہ سنی نہیں جائے گی، قبول نہیں کی جائے گی بھئی۔ جرحِ مجرد وہ گواہی ہے، وہ اعتراض، طعن ہے گواہ میں جس سے اس کا فسق ظاہر ہو، اس کا فاسق ہونا کیا ہو؟ پتہ چلے کہ یہ فاسق ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے نہ تو حقُّ اللہ ثابت ہو اور نہ ہی حقُّ العبد ثابت ہو بھئی۔ یعنی وہ جرح نہ تو حقُّ اللہ کو ثابت کرنے والی ہو اور نہ حقُّ العبد کو ثابت کرنے والی ہو۔
یاد رکھو! قاضی صرف وہ گواہی سن سکتا ہے جو حقُّ اللہ کو ثابت کرنے والی ہو یا حقُّ العبد کو ثابت کرنے والی ہو۔ حقُّ اللہ کو ثابت کرنے والی، یعنی حد وغیرہ۔ حد وغیرہ جس سے آتی ہو، وہ گواہی سن سکتا ہے۔ دو گواہ آتے ہیں، آ کر گواہی دیتے ہیں کہ زید نے کیا کی ہے؟ مثلاً چوری کی ہے۔ تو اب اس چوری کی وجہ سے کیا اس پر آئے گی بھئی؟ اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، حد آئے گی، تو حقُّ اللہ کو ثابت کر رہی ہے یہ گواہی، اس لیے یہ گواہی وہ سن سکتا ہے بھئی۔ قاضی کیا کر سکتا ہے؟ ہاں۔
یا مولانا! حقُّ العبد کو وہ ثابت کرتی ہو بھئی گواہی۔ زید آیا، آ کر اس نے دعویٰ کر دیا کہ بکر نے میرے 10 لاکھ روپے دینے ہیں، اور گواہ لے کر آ گیا دو، مولانا۔ اب اس گواہی کی وجہ سے کیا ثابت ہو جائے گا؟ بکر پر زید کا حق ثابت ہو جائے گا۔ بکر کو وہ 10 لاکھ روپیہ واپس کرنے پڑیں گے زید کو بھئی۔ تو دیکھو! یہ گواہی قاضی سن سکتا ہے۔ تو قاضی صرف وہ گواہی سن سکتا ہے جس کی وجہ سے کیا ثابت ہوتا ہو بھئی؟ جو کیا ثابت کرتی ہو؟ حقُّ اللہ کو، یعنی حد وغیرہ کو، یا حقُّ العبد کو، یعنی ایک آدمی کے دوسرے پر حق کو کیا کرتی ہو؟ اور اس کے علاوہ جو گواہی وغیرہ ہے، اس کو جرحِ مجرد کہیں گے بھئی، جرحِ مجرد۔ وہ قاضی نہیں سن سکتا بھئی، وہ قبول نہیں کرے گا۔ مثلاً بھئی!
گواہ کے بارے میں ایک شخص آ کر کہتا ہے: یہ گواہ جو ہیں، فاسق ہے۔ یہ گواہ کیا ہے؟ مدعی علیہ مثلاً، بھئی! آپ کا اور زید کا جھگڑا چل رہا ہے، آپ نے زید کے خلاف دو گواہ پیش کر دیے، زید کہتا ہے کہ میں دو گواہ پیش کرتا ہوں کہ ان، یہ جو مدعی گواہ لایا ہے، ان میں سے ایک گواہ فاسق ہے۔ دو گواہ پیش کرتا ہے، کس بات پر؟ کہ مدعی کے گواہوں میں سے ایک گواہ مثلاً فاسق ہے۔ بھئی! فاسق ہونے کا کیا، جب کسی کو فاسق قرار دو، کیا اس سے حقُّ العبد ثابت، حقُّ اللہ ثابت ہوتا ہے؟ کوئی حد آتی ہے؟ نہیں۔ کسی بندے کا حق ثابت ہوتا ہے اس پر؟ نہیں۔ تو یہ جرحِ مجرد ہے مولانا! اس قسم کی جرح پر گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ نہ اس سے اگر قاضی فیصلہ بھی کرے گا، تو کیا ہوگا؟ کیا اس سے حقُّ اللہ سے کوئی حد آئے گی اس گواہ پر بھئی؟ کسی بندے کا حق اس پر آئے گا؟ نہیں، مطلقاً ہے فاسق ہے۔ تو یہ جرحِ مجرد ہے، اس پر شہادت قبول نہیں کی جاتی بھئی۔
یا کہتا ہے بھئی! یہ جو زید ہے، یہ جو گواہ لے کر آیا ہے، یہ گواہ کس قسم کا ہے؟ سود خور ہے، یہ تو سود کھاتا رہتا ہے۔ تو بھئی! اب یہ جرحِ مجرد ہے۔ کیا اس کی وجہ سے اس پر حقُّ اللہ یا حقُّ العبد ثابت ہوگا؟ ہاں، یہ کہے زید اگر، اس نے میرا مال کھایا ہے، قاضی صاحب! ایک لاکھ روپیہ، وہ ایک لاکھ روپیہ مجھے اس سے دلایا جائے۔ یہ جرح ٹھیک، یہ مولانا! اب ٹھیک ہے، کیونکہ اس، اب گواہ ثابت کرتا ہے، تو اس گواہی کی وجہ سے کیا ثابت ہو جائے گا اس شخص پر؟ جی، حقُّ العبد ثابت ہوگا اس بندے کے، اس کو پیسے واپس کرنے پڑیں گے۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو وہ گواہی جس کی وجہ سے کسی شخص کا فسق ظاہر، گواہ کا فسق تو ظاہر ہوتا ہے، لیکن نہ تو حقُّ اللہ اس سے ثابت ہوتا ہے اور نہ حقُّ العبد ثابت ہوتا ہے، یہ جرحِ مجرد کہلاتی ہے اور جرحِ مجرد پر گواہی قبول نہیں۔ یا مثلاً ایک شخص آتا ہے، گواہ لے کر آئے ہیں آپ، مدعی علیہ کہتا ہے: میں گواہ پیش کرتا ہوں، یہ جو آدمی ہے، یہ جو گواہ ہیں ان میں سے، یہ ایک شرابی ہیں ان میں سے۔ کیا ہے؟ شرابی۔ تو کیا صرف یہ کہہ دینے سے اور یہ کہہ دینے کی وجہ سے اس پر حد آئے گی؟ نہیں۔ صرف یہ کہہ دینے سے حد نہیں آتی کہ یہ شرابی ہے، میں گواہ پیش۔ دو گواہ آ کر گواہی دیں کہ ابھی کچھ دیر پہلے یہ ہمارے سامنے کیا کر کے آیا ہے؟ شراب پی کر آیا ہے، اب حد آئے گی۔ صرف یہ کہہ دینے سے کہ یہ شرابی ہے، کوئی خاص واقعہ ذکر کیا قریبی ابھی؟ واقعہ کوئی نہیں ذکر، مطلقاً کہہ رہا ہے یہ شرابی ہے۔ ہاں، خاص واقعہ ذکر کرتا ہے، ابھی یہ پی کر آیا ہے اور یہ دو گواہ ہیں، ان کے سامنے اس نے کیا کی ہے؟ اب تو حد آئے گی۔ لیکن مطلقاً یہ کہ یہ شرابی ہے، شراب پیتا رہتا ہے، اس کی وجہ سے کسی پر حد نہیں آتی بھئی۔ چوری، یہ چوری کرتا رہتا ہے، یہ چور ہے، اس کی وجہ سے حد تو نہیں آئے گی، اس کا ہاتھ تو نہیں کاٹا۔ ہاں، خاص واقعے میں گواہی دے دیتے ہیں، اس نے زید کی فلاں، زید آ کر چیز کہتا ہے اس نے میری چوری کی اور دو گواہ پیش کر دیتا ہے، وہ کہتے ہیں اس نے زید کی فلاں چیز چوری کی تھی، ہم دونوں دیکھ رہے تھے، ہم گواہ ہیں اس بات کے۔ اب وہ خاص واقعہ آیا اور اس کی وجہ سے اب کیا کیا جا سکتا ہے؟ اس کا ہاتھ، تو اب گواہی قابلِ قبول ہے۔ لیکن اگر کوئی مطلقاً کہتا ہے یہ چور ہے، یہ چوریاں کرتا رہتا ہے، نہیں بھئی! اس کی وجہ سے اب گواہی سے یہ جرحِ مجرد ہے، اس کی وجہ سے نہ تو حد آتی ہے اور نہ اس کی وجہ سے کوئی بندے کا حق ثابت ہوتا ہے، لہٰذا یہ گواہی سنی۔
اچھی طرح مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اوپر مسئلہ یہ ذکر ہوا بھئی، کہ اگر دو بھائیوں نے گواہ، دو بھائیوں نے گواہی دی کہ ہمارا باپ جو غائب ہے، اس نے اس شخص کو وکیل مقرر کیا ہے اپنے پیسے وصول کرنے کے لیے، تو کیا ان دو بیٹوں کی گواہی قبول کی جائے گی؟ آپ نے مسئلہ پڑھا تھا، ان دونوں بیٹوں کی گواہی قبول، کیونکہ باپ تو ابھی زندہ ہے بھئی، اور غائب کے خلاف قاضی کیا کر، کسی کو وکیل نہیں مقرر کر سکتا، تو لہٰذا یہاں وہ بینہ بھی اس پر نہیں سنے گا، معلوم ہوا بیٹے باپ کا مال ہڑپ کرنا چاہتے ہیں، تہمت کا خدشہ آیا، تو ان کی گواہی رد کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: جیسے ان کی گواہی رد کی جائے گی، ان کی گواہی رد کی جائے گی كَالشَّهَادَةِ عَلَى جَرْحٍ مُجَرَّدٍ، جیسے کہ گواہی کس پر ہوتی ہے؟ جرحِ مجرد۔ یہ بھی اسی طرح کیا کی جاتی ہے؟ وہ گواہی رد کی جاتی ہے جیسے یہ شہادت جرحِ مجرد پر رد کی جاتی ہے۔
بھئی! جرحِ مجرد کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَهُوَ مَا يُفَسِّقُ الشَّاهِدَ، وہ جرح ہے جو گواہ کو کیا قرار دے دے؟ فاسق قرار دے دے، فسق کی طرف اس کی نسبت کرے، وَلَمْ يُوجِبْ حَقًّا لِلشَّرْعِ أَوِ الْعَبْدِ، اور شریعت یا بندے کا کوئی حق اس پر ثابت نہ کرے۔ نہ تو بندے کا کوئی حق ثابت کرے اس پر، کہ مال وغیرہ اس پر لازم ہو جائے، اور نہ ہی شریعت کا کوئی حق ثابت کرے اس پر، یعنی کہ اس پر کوئی حد، سزا وغیرہ آئے بھئی۔
دیکھیے! مثال دے رہے ہیں جرحِ مجرد کی، یوں کہتے ہیں: مِثْلُ هُوَ فَاسِقٌ، یہ گواہ کیسا ہے؟ یہ جرحِ مجرد ہے بھئی، فسق کے، اس پر قاضی نہیں سن سکتا بینہ۔ أَوْ آكِلُ الرِّبَا، یا یہ کس قسم کا آدمی ہے؟ سود کھانے والا ہے، سود خور ہے۔ أَوْ أَنَّهُ اسْتَأْجَرَهُمْ، یا اس مدعی نے ان گواہوں کو اجرت پر بلایا ہے۔
مدعی علیہ کہتا ہے: قاضی صاحب! میں گواہ پیش کرتا ہوں اس بات پر کہ یہ جو مدعی دو گواہ لایا ہے، یہ کس قسم کے گواہ ہیں بھئی؟ یہ پیسے دے کر ان کو لایا ہے، یہ جھوٹی گواہی دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں: یہ جرحِ مجرد تو نہیں ہے، اس میں تو کیا کر رہا ہے باقاعدہ؟ جی، سبب، واقعہ ذکر کر رہا ہے، لیکن کہتے ہیں: یہ گواہی، اس پر بھی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، اس لیے کہ اس کی وجہ، اس صورت میں گواہوں پر کس کا حق ثابت ہوتا ہے؟ پیسے کس نے دیے ہیں؟ مدعی علیہ کیا کہہ رہا ہے؟ ان کو پیسے کس نے دیے ہیں؟ مدعی نے، تو اگر گواہوں کو پیسے واپس کرنے پڑیں تو کس کو کریں گے؟ مدعی کو کریں گے، تو معلوم ہوا فریق یہاں پر، یعنی خصم کون بنتا ہے؟ مدعی۔ مدعی اگر دعویٰ کرنا چاہے دو گواہوں پر کہ قاضی صاحب! ان دونوں کو میں نے پیسے دیے ہیں، انہوں نے مجھ سے پیسے لیے ہیں گواہی کے لیے، میرے پیسے ان سے لوٹائے جائیں، ان سے دلواۓ جائیں، تو پھر اس کی طرف سے تو گواہی سنی جائے گی مولانا! کیونکہ اس کی وجہ سے کیا ثابت ہو رہا ہے؟ گواہوں پر اس کا حق ثابت ہو رہا ہے۔ لیکن اگر مدعی علیہ کہتا ہے: بھئی! تو تو اجنبی ہے، تیرا کیا دخل ہے؟ جہاں دعویٰ پیسے لوٹانے کا صرف کون کر سکتا ہے؟ مدعی کر سکتا ہے، اور تم تو مدعی علیہ ہو، تمہارا اس میں دخل، تمہارے پیسے ان کے حوالے اس نے نہیں کیے، اپنے دیے ہیں، تم اجنبی ہو، اور وہ فریق ہے، وہ چاہے تو وہ کر سکتا ہے، یہ بات کر سکتا ہے، آپ یہ بات نہیں کر سکتے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
صُورَةُ الْمَسْأَلَةِ، صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی۔ جی، علامہ صدر الشریعہ آپ کو بتائیں گے کہ دیکھو! آپ نے پڑھا تھا کہ قاضی کے لیے تعدیل ضروری ہے، امام صاحب کے مسلک کے مطابق تعدیل ضروری نہیں گواہوں کی اور صاحبین کے نزدیک تعدیل ضروری۔ امام صاحب فرماتے ہیں: قاضی پہلے تحقیق کرے کہ گواہ عادل ہیں، تو پھر ان کی گواہی سنے، صاحبین، نہیں، امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ ضروری، کیونکہ ہر مسلمان عادل ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں: نہیں، قاضی تحقیق کرے کہ گواہ عادل ہیں، پھر اس کے بعد ان کی گواہی سنے بھئی۔
اب کہتے ہیں: دو صورتیں یہاں ممکن ہیں۔ قاضی نے تحقیق کر لی ہوگی ان کی عدالت کی، یا قاضی نے تحقیق نہیں کی۔ اگر قاضی تحقیق کر چکا، ان کی عدالت ثابت ہو چکی گواہوں کی، تو اب جرحِ مجرد کو نہیں سنا جائے گا۔ قاضی کیا کر چکا ہے؟ گواہوں کی عدالت کی تحقیق کر چکا ہے، پتہ کروا لیا ہے اس نے خفیہ طور پر کہ یہ گواہ عادل ہیں یا عادل نہیں، دونوں طرف سے کیا جواب آیا دونوں گواہوں کا؟ یہ عادل ہیں۔ اب کوئی جرحِ مجرد کرتا ہے اس قسم کی، یہ قاضی صاحب! یہ گواہ فاسق ہیں، یہ سب گواہ سود خور ہیں، یا ان کو اجرت پر لایا گیا ہے۔ نہیں بھئی! یہ جرحِ مجرد ہے، ان کو سنا نہیں جائے گا۔ لیکن اگر قاضی نے تعدیل ابھی نہیں کروائی تھی، ان کی عدالت کا پتہ نہیں تھا، ویسے ہی سن رہا ہے، ان کی گواہی سننے لگا ہے، اس صورت میں اگر کوئی جرحِ مجرد کر دیتا ہے، پھر اس کو سنا جائے گا، لیکن کیا؟ پھر کیا کیا جائے گا؟ کہتے ہیں: پھر قاضی تحقیق کروا لے کہ یہ عادل ہیں یا عادل نہیں بھئی۔ پھر عدالت جب ان کی ثابت ہو جائے، تو پھر ان کو، ان سے گواہی سنے، ورنہ نہ سنے بھئی۔
صُورَةُ الْمَسْأَلَةِ، صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ إِذَا أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْعَدَالَةِ، جب مدعی نے بینہ قائم کر دی ان گواہوں کی عدالت پر، فَأَقَامَ الْخَصْمُ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْجَرْحِ، پھر خصم نے بینہ قائم کر دی کس پر بھئی؟ جرح پر، طعن کیا کہ یہ گواہ عادل نہیں ہیں۔ تو وہ تو عدالت پر بینہ قائم کر چکا ہے، اب خصم نے جو جرح پر بینہ قائم کی ہے، کہتے ہیں: إِنْ كَانَ الْجَرْحُ جَرْحًا مُجَرَّدًا، اگر یہ جرح جرحِ مجرد تھی، لَا يُعْتَبَرُ بَيِّنَةُ الْجَرْحِ، تو بینۃ الجرح کا اعتبار نہیں۔ لیکن اگر خاص حد کی بینہ تھی، پھر کیا کیا جائے گا؟ حقُّ العبد یا حقُّ اللہ ثابت کرتی ہے یہ بینہ، تو پھر اس کو کیا کیا جائے گا؟ سنا جائے گا بھئی۔ لیکن جرحِ مجرد ہو، تو پھر نہیں سنا جائے گا۔
صورت بھی سمجھ میں آ رہی ہے، یا ویسے سر ہلا رہے ہیں؟ اچھا! وَإِنَّمَا قُلْتُ، اور میں، ماتن کہتے ہیں، اور علامہ صدر الشریعہ کہتے ہیں کہ یہ جو میں نے کہا نہ کہ إِنَّ صُورَةَ الْمَسْأَلَةِ هَذِهِ، کہ صورتِ مسئلہ یہ ہے، کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يُقِمِ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْعَدَالَةِ، اس لیے کہ اگر مدعی نے ابھی گواہوں کی عدالت پر بینہ قائم، ابھی بینہ قائم نہیں کی، فَأَخْبَرَ مُخْبِرٌ، پھر خبر دے دی، پھر خبر دے دی مخبر، کسی خبر دینے والے نے، أَنَّ الشُّهُودَ فُسَّاقٌ، کہ گواہ کس قسم کے ہیں؟ دیکھو! جرحِ مجرد اور یہ گواہ کس قسم کے ہیں؟ أَوْ أَكَلَةُ الرِّبَا، یا گواہ کس قسم کے ہیں؟ سود خور ہیں۔ فَإِنَّ الْحُكْمَ لَا يَجُوزُ قَبْلَ ثُبُوتِ الْعَدَالَةِ، تو اب فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے جب تک کہ گواہوں کی عدالت ثابت نہ ہو جائے۔ لَا سِيَّمَا إِذَا أَخْبَرَهُ مُخْبِرَانِ، خاص طور پر جبکہ دو خبر دینے والوں نے خبر دی ہو کہ أَنَّ الشُّهُودَ فُسَّاقٌ، کہ گواہ کس قسم کے ہیں؟ تو مخبرانِ، ایک الف نون اور بھی ہونا چاہیے۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جرحِ مجرد پر گواہی نہیں سنی جائے گی۔
تعدیل کے بعد، لیکن اگر تعدیل سے پہلے ہو، تو پھر اس صورت میں سنی جائے گی، بایں معنی کہ ان گواہوں کی عدالت کی کیا کر لی جائے گی؟ تحقیق کر لی جائے گی۔
وَتُقْبَلُ عَلَى إِقْرَارِ الْمُدَّعِي بِفِسْقِهِمْ۔ صورت یہ ہے بھئی! آپ کا اور زید کا مقدمہ آیا قاضی کے پاس، اور زید دو گواہ لے کر آیا، وہ مدعی ہے بھئی۔ آپ قاضی کے پاس آ کر کہتے ہیں: قاضی صاحب! یہ دونوں، زید نے، جو مدعی ہے، اس نے کل میرے سامنے اقرار کیا تھا کہ یہ جو میرے گواہ ہیں، کس قسم کے ہیں؟ فاسق ہیں۔ زید نے، جو مدعی ہے، جو دو گواہ لے کر آیا آپ کے خلاف، اس نے آپ کے سامنے کیا کیا تھا؟ اقرار کیا تھا کہ یہ دونوں گواہ کس قسم کے میں لایا ہوں؟ فاسق، کسی کو پتہ تو نہیں ہے، لیکن یہ دونوں گواہ فاسق ہیں، یہ میں بتا دوں، مثلاً یہ خرابی ہے یا یہ خرابی ہے ان کے اندر، اور آپ نے اس پر دو گواہ بھی پیش کر دیے۔ اب کہتے ہیں: یہ گواہی آپ کی سنی جائے گی، اس لیے کہ یہاں اگرچہ جرحِ مجرد ہے، لیکن آپ نہیں کر رہے، آپ تو کس چیز پر گواہ پیش کر رہے ہیں؟ جرحِ مجرد پر، یا مدعی کے اقرار پر؟ مدعی کے اقرار پر۔ مدعی کے اقرار پر کہ مدعی نے ان کو کیا قرار دیا ہے؟ فاسق، میں نہیں قرار دیتا۔ تو اب آپ اس کے اقرار پر بینہ پیش کر رہے ہیں، اور اقرار پر بینہ قاضی سن سکتا ہے یا نہیں سن سکتا؟ اس پر تو قاضی سن سکتا ہے بینہ، آپ جانتے ہی ہیں بھئی! تو لہٰذا۔ یہ معنی ہے: وَتُقْبَلُ، قبول کی جائے گی گواہی، عَلَى إِقْرَارِ الْمُدَّعِي، کس پر؟ مدعی کے اقرار پر، بِفِسْقِهِمْ، ان کے فسق کے بارے میں۔ لِأَنَّ الْإِقْرَارَ مِمَّا يَدْخُلُ تَحْتَ الْحُكْمِ، اس لیے کہ اقرار ان چیزوں میں سے ہے جو قاضی کے فیصلے کے تحت داخل ہے، قاضی اس پر فیصلہ کر سکتا ہے۔ ہاں، البتہ قاضی کسی کو جرحِ مجرد نہیں سن سکتا، کسی کو ویسے ہی فاسق قرار دے دے، بھئی! فسق تو توبہ سے ختم ہو جایا کرتا ہے، قاضی کون ہوتا ہے کسی کو کیا قرار دینے والا؟ فاسق۔ ہاں، قاضی پر کسی پر حقُّ اللہ تو ثابت کر سکتا ہے یا حقُّ العبد کو ثابت کر سکتا ہے، اور اس حقُّ اللہ یا حقُّ العبد کی وجہ سے وہ فاسق بن سکتا ہے، لیکن ویسے ہی اس کو فاسق قرار دے دے، ایسا قاضی نہیں کر سکتا بھئی! کیونکہ فسق تو اللہ جاننے والے ہیں، وہ تو توبہ ہوگی، فسق ختم ہو جائے گا بھئی۔
تو تُقْبَلُ بَيِّنَةٌ، قبول کی جائے گی۔ أَوْ عَلَى، یا اس بات پر بینہ قبول کی جائے گی کہ أَنَّهُمْ عَبِيدٌ، کہ یہ غلام کس قسم کے، یہ جو گواہ کس قسم کے ہیں قاضی صاحب؟ عَبِيدٌ جمع ہے عبد کی، یہ غلام ہیں، اور غلام کی تو شریعت میں، تو یہ حقُّ الشرع آیا مولانا! کہ شہادت کے اہل ہی نہیں بھئی۔ أَوْ مَحْدُودُونَ فِي الْقَذْفِ، یا یہ گواہ
کس قسم کے ہیں؟ محدود فی القذف ہیں، تو یہ بھی سنی جائے گی، اس لیے کہ شریعت حق الشرع ہے، شریعت ان کو شہادت کی، شہادت کا حق نہیں دیتی۔
أَوْ شَارِبُ خَمْرٍ، یا یہ گواہ قاضی صاحب کس قسم کے ہیں؟ شراب خور ہیں، یہ نہ کہنا بھئی، شر، ابھی شراب پی کر آئے ہیں۔ شراب کے اندر زمانے کا قریب ہونا بھی ضروری بھئی، سمجھ میں آیا؟ مطلقاً کوئی کہتا ہے یہ شرابی ہیں یا زمانہ زیادہ گزر چکا ہے پھر حد نہیں آیا کرتی بھئی۔
کیا کیا ہے؟ یہ ابھی شراب پی کر آئے ہیں، گواہ پیش کر دیتا ہے، اب حق اللہ آئے گا مولانا! ان پر حد جاری ہوگی یا نہیں بھئی؟ یہ جرحِ مجرد نہیں ہے۔
أَوْ قَذَفَةٌ، یا یہ گواہ کس قسم کے ہیں؟ تہمت لگانے والے ہیں کسی شخص پر، تو اس کی وجہ سے بھی کیا آیا کرتا ہے بھئی؟ حد آیا کرتی ہے، تو حق اللہ آ رہا ہے۔
أَوْ شُرَكَاءُ الْمُدَّعِي، یا گواہی پیش کی، قبول کی جائے گی اس بات پر کہ یہ، یہ جو گواہ ہیں یہ شریک ہیں کس کے بھئی؟ بھئی زید نے آپ پر ایک لاکھ روپے کا دعویٰ کیا ہے، اور وہ دو گواہ لے آیا، آپ نے کیا کہا؟ کہ یہ جو گواہ لایا ہے کس قسم کے ہیں؟ یہ زید کے ساتھ ان باتوں میں، پیسے میں شریک ہیں بھئی جو میرے پر اس نے دعویٰ کیا ہے۔ تو یہ تو نفع کس کو پہنچے گا؟ مدعی کو بھی پہنچے گا اور گواہوں کو بھی، تو تہمت آئی یا نہیں آئی مولانا؟ اور تہمت کی وجہ سے گواہی کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ رد کیا جاتا ہے بھئی، لہٰذا یہاں بھی گواہی رد ہوگی۔
أَوْ أَنَّهُ اسْتَأْجَرَهُمْ، یا آپ نے کیا، گواہی پیش کی اس بات پر کہ یہ مدعی نے گواہوں کو کس پر لایا ہے؟ اجرت پر لایا ہے، بِكَذَا، اتنے مال کے بدلے ایک ایک لاکھ روپیہ ایک ایک گواہ کو اس نے دیا ہے، لَهَا، کس کے لیے؟ أَيْ لِلشَّهَادَةِ، شہادت کے لیے۔ کہ اس نے اجرت پر لیا ہے بھئی اتنے مال کے بدلے شہادت کے لیے، جی۔
آپ اس پر کہیں گے بھئی: اوپر بھی تو یہ مسئلہ آیا تھا۔
آپ نے اوپر کیا ذکر ہوا تھا؟ کہ ان کی یہ تو جرحِ مجرد کی طرح ہے تو یہاں خصم نہیں ہے دراصل بھئی۔
بھئی ابھی بات پوری نہیں ہوئی، آگے آ رہی ہے بات۔
وَأَعْطَاهُمْ ذَلِكَ، اور مدعی یہ جو اجرت پر گواہوں کو لایا ہے اس نے ان گواہوں کو عطا کیا ہے، ذَلِكَ، وہ مال، مِمَّا كَانَ لِي عِنْدَهُ، جو میرا اس کے پاس تھا، جو میرا اس کے پاس تھا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
تو جو میرا مال اس کے پاس تھا اسی میں سے اس نے کیا کیا ہے؟ گواہوں کو، تو اس صورت میں اب آپ کا بھی بھئی حق بنا، آپ کو وہ پیسے کیا کرنے پڑے، وہ، دوسرے شخص کو کیا کرنے پڑیں گے؟ آپ کو پیسے واپس کرنے پڑتے ہیں، تو حق العبد آ رہا ہے یہاں پر، لہٰذا اب گواہی سنی جائے گی، اگر آپ صرف یہ کہتے کہ اس نے گواہوں کو پیسے دیے تھے، تو بھئی وہ اس کا اور گواہوں کا مسئلہ ہے، آپ وہاں پر فریق نہیں بن سکتے، لیکن جب آپ کہہ رہے ہیں کہ میرے پیسے میں سے اس نے ان کو دیے ہیں، تو اب آپ بھی کیا بن گئے بھئی؟ فریق، اب آپ کا حق آئے گا یا نہیں بھئی اس کے اندر آپ کو وہ پیسے لوٹائے گا، تو لہٰذا اب آپ کی گواہی درست ہے اور قاضی اس کو قبول کرے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟
أَوْ أَنِّي صَالَحْتُهُمْ، یا آپ گواہ پیش کرتے ہیں اس بات پر قاضی کو کہتے ہیں: قاضی صاحب! یہ آدمی جو دو گواہ لایا ہے، یہ دو گواہ بھئی، ان دونوں گواہوں کو میں نے دس دس ہزار روپے دے کر ان سے صلح کر لی تھی۔
کیا کر لی تھی؟ یہ جو میرے خلاف دو گواہ لایا ہے ان دونوں گواہوں کو میں نے دس دس ہزار روپے دیے تھے، اور میں نے صلح کر لی تھی، ان کے ساتھ ان کو منع کر دیا تھا کہ تم میرے خلاف جھوٹی گواہی دینے نہیں آؤ گے، انہوں نے بھی قبول کر لیا تھا، پیسے مجھ سے لے لیے تھے، اور پھر اس کے باوجود یہ کیا ہیں؟ میرے خلاف گواہی دینے، جھوٹی گواہی دینے آ گئے ہیں، تو ان سے میرے وہ پیسے دلا دیجیے بھئی۔ ان سے میرے وہ پیسے، تو حق العبد ثابت ہوا یا نہیں ہوا؟ جرحِ مجرد نہیں، تو اس صورت میں بھی سنی جائے گی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
أَوْ أَنِّي صَالَحْتُهُمْ عَلَى كَذَا، یا اس بات پر گواہی قبول کی جائے گی کہ ان میں نے تو ان گواہوں سے صلح کر لی تھی اتنے مال پر، وَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِمْ، اور وہ مال میں نے ان کے حوالے کر دیا تھا، عَلَى هَذَا الشَّرْطِ، اس شرط پر، أَنْ لَا يَشْهَدُوا عَلَيَّ، کہ وہ میرے خلاف گواہی نہیں دیں گے، وَشَهِدُوا، اور حال، جی، حال یہ ہے کہ انہوں نے کیا کیا ہے؟ گواہی دی ہے، تو انہوں نے تو کہا تھا نہیں دیں گے، تو اب ان سے میرے وہ پیسے دلا دیجیے، تو اب حق العبد آیا، تو گواہی سنی جائے گی۔
خود تفصیل کر رہے ہیں: أَيْ عَلَى أَنْ لَا يَشْهَدُوا عَلَى شَهَادَةِ الزُّورِ، اس شرط پر کہ یہ گواہی نہیں دیں گے، جی، عَلَى شَهَادَةِ الزُّورِ، جھوٹی شہادت پر، جی، گواہ نہیں بنیں گے، وَمَعَ ذَلِكَ شَهِدُوا شَهَادَةَ الزُّورِ، اور اس کے باوجود، بھئی علیٰ نہیں ہونا چاہیے اوپر بھئی، أَيْ عَلَى أَنْ لَا يَشْهَدُوا، یوں ہونی چاہیے عبارت، سمجھ میں آیا بھئی؟
ہاں علیَّ علیَّ پڑھو مولانا! پھر ٹھیک بن گیا، اوپر متن دیکھو ذرا بھئی!
عَلَى أَنْ لَا يَشْهَدُوا، آیا، علیَّ، عَلَى أَنْ لَا، میں نے ان کو مال دیا تھا اس شرط پر کہ یہ مجھ پر گواہی، اسی کی تشریح کر رہے ہیں يَشْهَدُوا سے کیا مراد ہے؟ شہادتِ زور، جھوٹی گواہی مراد ہے: أَيْ عَلَى أَنْ لَا يَشْهَدُوا عَلَيَّ شَهَادَةَ الزُّورِ، کہ یہ مجھ پر جھوٹی گواہی نہیں دیں گے، وَمَعَ ذَلِكَ شَهِدُوا شَهَادَةَ الزُّورِ، اور اس کے باوجود انہوں نے کیا کیا ہے مجھ پر جھوٹی گواہی دی ہے، فَيَجِبُ عَلَيْهِمْ، تو واجب ہے ان گواہوں پر، أَدَاءُ مَا أَعْطَيْتُهُمْ، ادا کرنا اس چیز کا جو میں نے ان کو دیا تھا، وہ مال جو میں نے ان کو دیا تھا وہ ادا ان پر واجب ہے مجھے واپس کریں، فَإِنَّ فِي هَذِهِ الصُّوَرِ، اس لیے کہ ان تمام صورتوں میں، یہ جو اوپر آئیں بھئی، عَبِيدٌ مَحْدُودُونَ فِي الْقَذَفِ سے لے کر آخر تک، ان تمام صورتوں میں، يُوجِبُ الْجَرْحُ حَقًّا لِلشَّرْعِ أَوْ لِلْعَبْدِ، جرح کیا ثابت کرتی ہے؟ واجب کرتی ہے؟ حقِ شرع کو یا حقِ عبد کو، عَلَى الشُّهُودِ، گواہوں پر، فَيَدْخُلُ تَحْتَ حُكْمِ الْقَاضِي، تو یہ قاضی کے فیصلے کے، حکم کے تحت داخل ہے، فَتُقْبَلُ، لہٰذا گواہی کو کیا کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا۔
وَلَوْ شَهِدَ عَدْلٌ وَلَمْ يَبْرَحْ مَكَانَهُ حَتَّى قَالَ: أَوْهَمْتُ بَعْضَ الشَّهَادَةِ، قُبِلَ۔
صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی: آپ ہیں قاضی بھئی! آپ کے سامنے دو گواہ آئے بھئی کسی مسئلے کے اندر، گواہی دے دی انہوں نے، ایک گواہ بھئی، ایک گواہ کہتا ہے: قاضی صاحب! مجھ سے غلطی ہو گئی گواہی کے اندر، میں نے پانچ روپے کہے حالانکہ مجھے کیا کہنے چاہیے تھے؟ کتنا حق تھا؟ دس روپے کا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یا میں بھول گیا تھا، میں نے دس روپے کہے، کتنے روپے تھے دراصل؟ پانچ روپے تھے، تو کہتے ہیں کیا یہ قبول کیا جائے گا گواہ کی طرف سے اس قول کو گواہی میں یا نہیں بھئی؟ کہتے ہیں: ہاں بھئی! قبول کیا جائے گا، کہتے ہیں اس لیے کہ قاضی کی مجلس کی ہیبت ہوا کرتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ انسان پر ہیبت ہوتی ہے، تو عموماً لوگوں سے اس قسم کی غلطیاں ہو جاتی ہیں، اور خصوصاً جبکہ گواہ عادل بھی ہے بھئی، تو جب، یہ غلطی یقیناً اس سے ہوئی ہے، کس کی وجہ سے ہوئی ہے؟ قاضی کی ہیبت کی وجہ سے، لیکن شرط یہ ہے کہ مجلس نہ بدلی ہو، وہی پر اس نے کہہ دیا کہ میرے سے کیا ہوئی ہے؟ غلطی، اگر مجلس بدل گئی بھئی، چلا گیا، بعد میں آ کر کہتا ہے: قاضی صاحب! مجھ سے غلطی ہو گئی، پانچ لاکھ روپے نہیں تھے بلکہ کتنے تھے؟ دس لاکھ روپے تھے، کہتے ہیں اب نہیں مولانا! اب شبہ ہے، اب ہو سکتا ہے مدعی نے اس کو کیا کیا ہو؟ مدعی نے اس کو سمجھایا ہو، یا مدعی علیہ نے اس کو سمجھایا ہو، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اسی مجلس میں کہے تو قبول کرو، چاہے کس، کس قسم کی بھی غلطی کی ہو جائے اس سے، کیونکہ وہ عادل ہے بھئی، اور غلطی کا امکان بھی ہے ہیبت کی وجہ سے، تو عادل ہے تو وہ جھوٹ نہیں بولے گا، اور ہیبت کی وجہ سے غلطی ہو جایا کرتی ہے۔
وَلَوْ شَهِدَ عَدْلٌ، اگر گواہی دی ایک عادل آدمی نے، وَلَمْ يَبْرَحْ مَكَانَهُ، اور وہ ابھی ہٹا نہیں تھا اپنی جگہ سے، حَتَّى قَالَ، یہاں تک کہ اس نے کہا: أَوْهَمْتُ بَعْضَ الشَّهَادَةِ، اوہمتُ کا معنیٰ آگے بتلائیں گے: اخطأتُ بھئی! مجھ سے کیا ہو گئی ہے؟ غلطی ہو گئی ہے، بَعْضَ الشَّهَادَةِ، کس کے اندر؟ اپنی بعض، کچھ گواہی کے اندر، میرے کچھ حصے میں مجھ سے غلطی ہو گئی ہے، قُبِلَ، کیا کیا جائے گا اس کے اس قول کو؟ قبول کیا جائے گا۔
دیکھیے! خود بتلا رہے ہیں اوہمتُ کا کیا معنیٰ: أَيْ أَخْطَأْتُ، میرے سے غلطی ہو گئی بھئی۔
اچھا! أَيْ أَخْطَأْتُ، مجھ سے کیا ہو گئی بھئی؟ غلطی ہو گئی، بِالنِّسْيَانِ مَا يَجِبُ ذِكْرُهُ، بوجہ بھول جانے اس چیز کے کہ جس کا ذکر کرنا واجب تھا، كَمَا إِذَا ادَّعَى الْمُدَّعِي عَشَرَةَ دَرَاهِمَ، جیسے کہ دعویٰ کیا ہو مدعی نے کتنے دراہم کا بھئی؟ مدعی نے تو دس دراہم کا دعویٰ کیا تھا، فَشَهِدَ عَلَى الْخَمْسَةِ، اور گواہ نے کتنے پر گواہی دے دی؟ پانچ پر، ثُمَّ قَالَ: نَسِيتُ الْبَعْضَ، پھر کہتا ہے: میں بعض کو کیا ہوا تھا؟ کچھ کو بھول گیا تھا، بَلِ الْوَاجِبُ عَشَرَةٌ، میں تو کچھ بھول گیا تھا کچھ بھئی پیسے، بَلِ الْوَاجِبُ عَشَرَةٌ، بلکہ واجب تو کتنے ہیں بھئی؟ دس ہیں، أَوْ قَالَ، یا یوں کہتا ہے: أَخْطَأْتُ بِزِيَادَةٍ بَاطِلَةٍ، میں نے غلطی کی ہے بھئی، کس کے ساتھ بھئی؟ کس، بوجہ باطل زیادتی کی، یعنی کچھ چیز کیا ہوئی ہے مجھ سے زیادہ بیان ہو گئی ہے، كَمَا إِذَا ادَّعَى الْمُدَّعِي خَمْسَةَ دَرَاهِمَ، جیسے کہ دعویٰ کیا مدعی نے، کتنے کا دعویٰ کیا بھئی؟ پانچ دراہم کا، فَشَهِدَ عَلَى عَشَرَةٍ، پھر کتنے پر اس نے گواہی دے دی؟ مدعی نے پانچ کا دعویٰ کیا ہے، اور گواہ نے کتنے پر گواہی دے دی؟ دس پر، ثُمَّ قَالَ: أَخْطَأْتُ، پھر کہا: مجھ سے کیا ہوئی ہے؟ غلطی ہوئی ہے، جی۔
وَقُلْتُ الْعَشَرَةَ مَقَامَ الْخَمْسَةِ، اور میں نے کتنے کہہ دیے بھئی پانچ کی جگہ؟ دس کہہ دیے تھے، فَإِنْ كَانَ فِي الْمَجْلِسِ، اگر وہ گواہ اسی مجلس کے اندر تھا، قُبِلَتِ الشَّهَادَةُ، تو گواہی قبول کی جائے گی۔
وَقَوْلُهُ: أَخْطَأْتُ فِي الْمَجْلِسِ يُقْبَلُ مِنَ الْعَدْلِ وَإِنْ كَانَ الْمَوْضِعُ مَوْضِعَ شُبْهَةٍ، مجلس کے اندر اخطأتُ کہنا قول، عادل آدمی کی طرف سے قبول کیا جائے گا۔
وَإِنْ كَانَ الْمَوْضِعُ، اگرچہ وہ مقام شبہے کا ہی کیوں نہ ہو، وہ مقام کس کا ہو؟ اگر مجلس کے اندر ہی کہتا ہے تو عادل کی طرف سے قبول کیا جائے گا اس کے۔
اگرچہ شبہے کا مقام ہی کیوں نہ ہو۔
مثلاً، دیکھیے! مدعی نے دعویٰ کیا ہے پانچ کا، اور گواہ گواہی دیتا ہے کتنے پر؟ دس پر، تو یہاں تو بھئی، مدعی خود اس کو جھٹلا رہا ہے، مدعی نے دعویٰ کیا پانچ کا، گواہ کتنے کی گواہی دے رہا ہے؟ دس کی، تو مدعی کا دعویٰ ہی گواہ کی کیا کر رہا ہے؟ تکذیب کر رہا ہے، تو شبہ آ گیا یا نہیں آ گیا مولانا؟ تو شبہ آ گیا، تو یہ قبول تو نہیں ہونا چاہیے، لیکن پھر بھی چونکہ عادل ہے، اور اسی مجلس میں ہے، تو ہو سکتا ہے ہیبت کی وجہ سے اس سے کیا ہو گئی ہو؟ غلطی، لہٰذا قبول کی جائے گی۔
لِأَنَّ الْمُدَّعِيَ إِذَا ادَّعَى الْخَمْسَةَ لَا تُقْبَلُ الشَّهَادَةُ عَلَى الْعَشَرَةِ، اس لیے کہ مدعی نے جب دعویٰ کر لیا پانچ کا تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی دس پر، لِأَنَّ الْمُدَّعِيَ يَصِيرُ مُكَذِّبًا لِلشَّاهِدِ، اس لیے کہ مدعی کیا بن گیا؟
مدعی نے دعویٰ کیا پانچ کا، تو دس پر تو گواہی کو قبول نہیں ہونا چاہیے، لِأَنَّ الْمُدَّعِيَ يَصِيرُ مُكَذِّبًا لِلشَّاهِدِ، اس لیے کہ مدعی خود کیا بن چکا ہے؟ گواہ کو، وہ خود گواہ کو جھٹلانے والا ہے، یہ کہہ رہا ہے پانچ ہیں، گواہ کتنے کہہ رہا ہے؟ تو اس کا اپنا قول ہی اس کے گواہ کو جھٹلا رہا ہے۔ وَفِي غَيْرِ هَذَا الْمَجْلِسِ، تو شبہ بھی کیوں نہ ہو اس مجلس میں قبول کیا جائے گا، اور اگر شبہے کا مقام نہ ہو تو مجلس کے علاوہ میں بھی اس کو کیا کر لیا جائے گا؟
وَفِي غَيْرِ هَذِهِ الْمَجْلِسِ، اور اس مجلس کے علاوہ کے میں بھی، إِنْ كَانَ الْمَوْضِعُ مَوْضِعَ شُبْهَةٍ، اگر وہ مقام کس قسم کا تھا بھئی؟ شبہے کا مقام تھا، لَا تُقْبَلُ، تو پھر اس کو قبول نہیں کیا جائے گا، لِأَنَّهُ يُوهِمُ التَّلْبِيسَ مِنَ الْمُدَّعِي، اس لیے کہ یہ وہم ڈالتا ہے مدعی کی طرف سے تلبیس کا، کہ اس نے کیا کیا ہے؟ کوئی مکر وغیرہ کیا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اس نے گواہ کو اپنے ساتھ ملایا یا مدعی علیہ نے ملایا اپنے ساتھ بھئی۔
تو شبہے کے مقام میں اسی مجلس میں تو قبول کریں گے، لیکن اس مجلس کے بعد دوبارہ ہو تو پھر قبول، وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْمَوْضِعُ مَوْضِعَ شُبْهَةٍ، لیکن اگر وہ مقام شبہے کا مقام نہ ہوا، كَمَا إِذَا لَمْ يَذْكُرْ لَفْظَةَ الشَّهَادَةِ، جیسے کہ گواہ نے شہادت کے لفظ کو ذکر، بھئی آپ نے پڑھا تھا شہادت کے اندر کیا ضروری ہے؟ کس لفظ کو ذکر کرے؟ اشہدُ کے لفظ کو ذکر کرے۔
تو گواہ اشہدُ کے لفظ کو بھول گیا تھا، ثُمَّ يَزِيدُ فِي مَجْلِسٍ آخَرَ لَفْظَةَ الشَّهَادَةِ، پھر وہ بڑھاتا ہے دوسری مجلس کے اندر شہادت کے لفظ کو بھئی، تُقْبَلُ مِنَ الْعَدْلِ، تو پھر یہ گواہ کی طرف سے، اس میں کوئی شبہے کا مقام نہیں، شہادت کا لفظ بھول گیا، مَعَ أَنَّ الْمَجْلِسَ مُخْتَلِفٌ، باوجود اس کے کہ مجلس کیا ہے؟ مختلف ہے۔
وَشُرِطَ مُوَافَقَةُ الشَّهَادَةِ لِلدَّعْوَى، كَاتِّفَاقِ الشَّاهِدَيْنِ لَفْظًا وَمَعْنًى عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، فَإِنَّ عِنْدَهُمَا لَا يُشْتَرَطُ اتِّفَاقُهُمَا لَفْظًا وَمَعْنًى، بَلْ يَكْفِي اتِّفَاقُهُمَا اتِّفَاقُهُمَا مَعْنًى۔
بھئی دیکھو! گواہی اسی صورت میں قبول کی جائے گی جبکہ گواہی دعوے کے موافق ہو۔
اگر گواہی اور دعوے میں مخالفت ہو تو پھر گواہی قبول نہیں، موافقت ہو مثلاً بھئی! آپ نے دعویٰ کیا ہے زید پر دس ہزار روپے کا، اور جو گواہ پیش کیے وہ بھی آ کر کیا کہتے ہیں کہ کتنے پیسے دینے ہیں زید نے آپ کے؟ دس ہزار، تو دیکھو گواہی دعوے کے موافق ہوئی، یہ قبول کی جائے گی۔
لیکن اگر گواہی دعوے کے موافق نہیں تو قبول نہیں کی جائے گی، آپ نے کہا، دعویٰ کیا: زید نے میرے دس ہزار روپے دینے ہیں، گواہ آ کر گواہی دیتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں زید نے آپ کی ایک من گندم دینی ہے بھئی، دیکھو دعوے میں اور گواہی میں موافقت آئی؟ موافقت، لہٰذا یہ گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
کہتے ہیں: یہ اسی طرح ہے جیسے دو گواہوں کی موافقت بھی ضروری، جیسے گوا، دعوے اور گواہی میں موافقت ضروری اسی طرح دونوں گواہوں کے اندر بھی موافقت کا ہونا ضروری بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ایک دس ہزار کی گواہی دے رہا ہے تو دوسرا بھی کتنے کی گواہی دے؟ ایک نے دس ہزار کی گواہی دی، دوسرا ایک من گندم کی گواہی دے رہا ہے بھئی، یہ قابلِ قبول نہیں۔
وَشُرِطَ، اور شرط لگائی گئی ہے، مُوَافَقَةُ الشَّهَادَةِ، شہادت کے موافق ہونے کی، کس کے موافق ہونے کی؟ لِلدَّعْوَى، دعویٰ کے، کہ شہادت کو کس کے موافق ہونا چاہیے؟ دعویٰ کے، كَاتِّفَاقِ الشَّاهِدَيْنِ لَفْظًا وَمَعْنًى، جیسے کہ دو گواہوں کا اتفاق ہو لفظوں کے اعتبار سے بھی اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی، بھئی گواہوں کا، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دونوں گواہوں کا لفظاً اور معناً اتفاق ضروری ہے۔
صاحبین فرماتے ہیں: صرف معناً، معنیٰ کے اندر اتفاق کافی ہے، لفظوں کے اندر اتفاق ضروری نہیں۔
امام صاحب کیا فرماتے ہیں بھئی؟ دونوں گواہوں کا لفظ اور معنیٰ دونوں میں اتفاق ضروری، یعنی لفظوں میں اتفاق کا معنیٰ یہ کہ دونوں لفظ ایک ہی معنیٰ کا فائدہ دیتے ہوں۔
دونوں لفظ کیا ہوں؟ ایک ہی معنیٰ کے، جی۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: نہیں، لفظوں میں اختلاف آ بھی جائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن معنیٰ کے اندر کیا ہے؟ موافقت دونوں کی ہونی چاہیے۔
دیکھو بھئی! صورت یہ مثلاً:
زید نے بقر پر کتنے کا دعویٰ کیا؟
ایک ہزار پانچ سو کا، کتنے کا دعویٰ کیا؟ ایک ہزار پانچ سو کا دعویٰ کیا زید نے بقر پر، دو گواہ بھی لے آیا بھئی، اب گواہوں کی گواہی ذرا سنو! ایک کیا کہتا ہے کہ بقر نے زید کے کتنے دینے ہیں؟ ایک ہزار دینے ہیں، کتنے دینے ہیں؟ دوسرا کہتا ہے: ایک ہزار پانچ سو دینے ہیں۔
تو یاد رکھو مولانا! یہاں لفظاً بھی موافقت آ گئی، معناً بھی موافقت آ گئی۔
اور ایک ہزار پر فیصلہ کر دیا جائے گا۔
بشرطیکہ دعویٰ کرنے والے کا دعویٰ، مدعی کا جو دعویٰ ہے وہ اکثر کا ہو۔
کس کا ہو؟ بھئی گواہ، گواہ زیادہ سے زیادہ جو گواہ نے ذکر کیے وہ کتنے پیسے تھے؟ 1500 نہ کہو، لفظ نہ بدلو، ایک ہزار، ایک ہزار پانچ سو کہے، اور
اور مدعی نے دعویٰ بھی کتنا کیا تھا؟ اکثر کا دعویٰ کیا تھا۔ اقل، صرف 1,000 کا دعویٰ نہیں۔ پھر صورت بدل جائے گی۔ اگر مدعی نے کہا تھا: 1,000 میں نے دینے ہیں، اور پھر ایک گواہ کہتا ہے 1,000 دینے ہیں، ایک کہتا ہے 1,500، پھر نہیں۔ پھر تو ایک کی گواہی قبول ہوگی، دوسرے کی گواہی سرے سے قبول ہی نہیں۔
کیوں؟ دعویٰ کتنے کا کیا؟ اور ایک گواہ کتنا کہہ رہا ہے؟ یہ تو ٹھیک ہے۔ دوسرا کتنا کہہ رہا ہے؟ 1,500۔ تو دعویٰ خود اس کی تکذیب کر رہا ہے کہ یہ گواہ کیا کر رہا ہے؟ جھوٹ بول رہا ہے۔ تو ایک گواہ رہ گیا، اور ایک گواہ کی وجہ سے فیصلہ ہو سکتا ہے؟ ایک گواہ سے فیصلہ نہیں۔
لہٰذا وہ صورت بناؤ، جب کہ آپ مدعی نے کتنے کا دعویٰ کیا ہو؟ اکثر والا دعویٰ ہو، اقل کے برابر اس کا دعویٰ نہ ہو۔ اور اکثر کتنا ہے؟ 1,500۔ تو مدعی نے دعویٰ کیا کہ بکر نے میرے کتنے پیسے دینے ہیں؟ 1,500۔ اور ایک گواہ نے آ کر کہا کہ واقعی اس نے کتنے دینے ہیں اس کے؟ 1,500، اور ایک کتنا کہتا ہے؟ 1,000۔
1,000، اب دیکھو مولانا! دو گواہوں کی موافقت 1,000 میں ہے اور 500 میں نہیں۔ پہلے گواہ، ایک نے کیا کہا ہے؟ 1,000۔ دوسرے نے بھی کیا کہا؟ 1,000۔ تو ہزار کا لفظ آیا یا نہیں؟ ہزار پر اس نے بھی گواہی دے دی، ساتھ کتنا اور ملا دیا؟ 500۔ تو 500 میں یہ اکیلا ہوا، اور ہزار اور ہزار میں دونوں کیا ہوئے؟ برابر متفق ہوئے دونوں۔ تو دو کی گواہی ہزار ہزار پر آ گئی، تو لہٰذا اب ان دو کی گواہی کی وجہ سے کتنا ثابت ہو جائے گا؟ 1,000۔ اور وہ 500 میں ایک شخص اکیلا رہ گیا، اور ایک کی گواہی کی وجہ سے 500 اب ثابت نہیں ہو سکتا۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں بھئی، جب یہ کہا، تو دونوں لفظاً بھی اتفاق آیا، کیونکہ دونوں کیا ذکر کر رہے ہیں؟ ایک ایک ہزار، اور معنی میں بھی اتفاق آ گیا، کیونکہ معنی بھی کتنا ہوا؟ ایک ہی ہو گیا دونوں کا۔
لہٰذا دیکھو بھئی! ایک نے کہا اس نے، عربی عبارت بنا لو بھئی۔ ایک نے کہا کہ اس نے میرے الف دینے ہیں، دعویٰ اس نے کتنے کا کیا؟ میرے 2,000 اس نے الفین دینے ہیں۔ کتنے دینے ہیں؟ 2,000 دینے ہیں، الفین کا لفظ بولا۔ اور گواہ پیش کر دیے دو بھئی۔
اب دعویٰ کتنے کا؟ الفین کا۔ ایک گواہ نے کہا کتنے دینے ہیں؟ الفین۔ دوسرے نے کتنا کہا؟ الف کہہ دیا۔ کتنا کہہ دیا؟ الف کہہ دیا۔ ہاں مولانا! امام صاحب فرماتے ہیں کہ دونوں گواہوں میں موافقت نہیں لفظوں کے اندر۔ لفظوں کے اندر موافقت نہیں ہے، کیونکہ پچھلے میں تو باقاعدہ دونوں میں الف الف کا ذکر آیا تھا۔ یہاں پر تو ایک میں الف کا ذکر ہے، تو دوسرے کے اندر الفین۔ الف الگ چیز ہے، الفین الگ چیز ہے۔ لفظ بدل گئے، تو لفظ جب بدلے، تو معنی بھی بدل گیا۔ لہٰذا اب الفین پر بھی ایک گواہ، الف پر بھی ایک گواہ، اور ایک گواہ کی وجہ سے کچھ بھی ثابت نہیں۔ نہ الف ثابت ہو سکتا ہے اور نہ الفین بھئی۔
صاحبین فرماتے ہیں: کوئی حرج نہیں۔ 1,000 پھر بھی ثابت ہو گیا، کیونکہ ایک نے گواہی کتنے پر دی ہے؟ الف پر، تو الف اس سے ثابت ہوا۔ اور دوسرے نے الفین پر گواہی دی ہے، تو الفین کے ضمن میں کیا آ گیا؟ الف آ گیا بھئی۔ تو لہٰذا 1,000 کیا ہو جائے گا؟ ثابت ہو جائے گا۔ تو معنی کے اندر موافقت کافی ہے صاحبین کے نزدیک، اور امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ لفظاً اور معناً دونوں۔
وَشُرِطَ مُوَافَقَةُ الشَّهَادَةِ لِلدَّعْوَى، اور شرط لگائی گئی ہے گواہی کی دعویٰ کے ساتھ موافقت کی، كَاتِّفَاقِ الشَّاهِدَيْنِ، جیسے کہ دو گواہوں کے اتفاق کی شرط لگائی گئی ہے، لَفْظًا وَمَعْنًى، لفظوں میں اتفاق ہونا چاہیے اور معنی میں بھی اتفاق ہونا چاہیے، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ فَإِنَّ عِنْدَهُمَا لَا يُشْتَرَطُ اتِّفَاقُهُمَا لَفْظًا وَمَعْنًى، اس لیے کہ صاحبین کے نزدیک گواہوں کے لفظاً اور معناً متفق ہونے کی شرط نہیں لگائی جائے گی، بَلْ يَكْفِي اتِّفَاقُهُمَا مَعْنًى، بلکہ صرف دونوں کے معنی کے اتفاق کا اتفاق ہی، بَلْ يَكْفِي اتِّفَاقُهُمَا مَعْنًى، بلکہ دونوں کا معنی میں اتفاق ہی کافی ہے۔
فَتُرَدُّ، پس رد کی جائے گی گواہی، إِنْ شَهِدَ أَحَدُهُمَا، اگر گواہی دی دونوں میں سے ایک نے، بِأَلْفٍ، کتنے میں کی بھئی؟ 1,000 کی، وَالْآخَرُ بِأَلْفَيْنِ، اور دوسرے نے کتنے کی دی؟ 2,000۔ یہ کس کے نزدیک گواہی رد کی جائے گی؟ امام صاحب کے نزدیک، اور صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ کتنے پر فیصلہ ہو جائے گا؟ 1,000 پر، کیونکہ 2,000 کے ضمن میں 1,000 بھی آ گیا۔ أَوْ مِائَةٍ وَمِائَتَيْنِ، ایک نے گواہی کتنے پر دی؟ 100 پر، دوسرے نے گواہی کتنے پر دی؟ 200 پر، بشرطیکہ دعویٰ بھی کتنا ہو؟ اکثر پر ہو، کتنے پر ہو؟ اکثر پر۔ ہاں، اقل پر، اگر 100 کا دعویٰ ہوا، پھر کچھ بھی نہیں ہوگا بھئی۔ تو ایک نے 100 کی گواہی دی، دوسرے نے مائتین کی گواہی دی مولانا، تو اب مائتین میں بھی مائۃ آ گیا، تو صاحبین کے نزدیک مائۃ ثابت ہو جائے گا، لیکن امام صاحب کے نزدیک کچھ بھی نہیں۔ أَوْ طَلْقَةٍ وَطَلْقَتَيْنِ، ایک نے، ایک گواہ نے کتنے پر گواہی دی؟ ایک طلاق پر، وَطَلْقَتَيْنِ، اور دوسرے نے کتنے پر گواہی دی؟ دو طلاقوں پر، أَوْ ثَلَاثٍ، یا کتنی طلاقوں پر؟ تین طلاقوں پر، تو امام صاحب کے نزدیک بھئی، یہاں پر بھی اب کچھ بھی ثابت نہیں، اور صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ دو کی، گواہوں کی دو طلاقوں کی گواہی دی، تو دو میں کتنی آ گئیں؟ ایک، یا تین پر گواہی دی، تو تین میں بھی کیا آ جاتا ہے؟ ایک آ جاتا ہے، لہٰذا ایک طلاق پر فیصلہ ہو جائے گا۔
أَيْ شَهِدَ أَحَدُهُمَا بِمِائَةٍ، گواہی دی ایک نے 100 پر بھئی، وَالْآخَرُ بِمِائَتَيْنِ، اور دوسرے نے 200 پر، أَوْ شَهِدَ أَحَدُهُمَا بِطَلْقَةٍ، یا گواہی دی ایک نے ایک طلاق کی، وَالْآخَرُ بِطَلْقَتَيْنِ، اور دوسرے نے دو طلاقوں کی گواہی دی، أَوْ ثَلَاثٍ، یا کتنے پر گواہی دی؟ تین طلاقوں کی، فَإِنَّهَا تُرَدُّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، تو یہ جو گواہی ہے، اس کو رد کیا جائے گا امام صاحب کے نزدیک، وَعِنْدَهُمَا تُقْبَلُ عَلَى الْأَقَلِّ، اور صاحبین کے نزدیک کس پر قبول کر لیا جائے گا؟ اقل پر قبول کر لیں گے، کب؟ إِذَا ادَّعَى الْمُدَّعِي الْأَكْثَرَ، جبکہ مدعی نے کتنے کا دعویٰ کیا ہو؟ اکثر، وہ زیادہ والے کا، حَتَّى إِذَا ادَّعَى الْأَقَلَّ، حتّٰی کہ اگر اس نے دعویٰ اقل کا کیا تھا، يَكُونُ الْمُدَّعِي مُكَذِّبًا لِشَاهِدِ الْأَكْثَرِ، تو مدعی خود جھٹلانے والا ہے شاہدِ اکثر کو، شاہد، زیادہ والے کی مدعی نے خود کیا کر دیا؟ جھٹلا دیا، تو کتنے گواہ رہ گئے؟ ایک، اور ایک کی وجہ سے کچھ ثابت نہیں ہوتا۔
وَقُبِلَتْ عَلَى أَلْفٍ فِي بِأَلْفٍ وَأَلْفٍ وَمِائَةٍ، اور قبول کی جائے گی گواہی عَلَى أَلْفٍ، کتنے پر؟ ایک ہزار پر۔ کس صورت میں؟ فِي بِأَلْفٍ، آگے تشریح خود کر رہے ہیں: فِي بِأَلْفٍ سے کیا مراد؟ أَيْ فِي شهَادَةِ أَحَدِهِمَا بِأَلْفٍ، یعنی ایک کتنے کی گواہی دے رہا ہے؟ 1,000 پر۔ آگے آ رہا ہے: وَأَلْفٍ وَمِائَةٍ، اس کی بھی شرح آ رہی ہے: وَالْآخَرُ، أَوْ الْآخَرِي، أَيْ شهَادَةِ الْآخَرِ بِأَلْفٍ وَمِائَةٍ، 1,000 کی گواہی دے رہا ہے اور دوسرا کتنے کی دے رہا ہے؟ 1,000 اور 100 کی۔
تو کتنے پر فیصلے، قبول کی جائے گی گواہی؟ اوپر متن میں آیا تھا: وَقُبِلَتْ عَلَى أَلْفٍ، الف پر، کیونکہ دونوں میں کیا لفظ آ رہا ہے؟ الف آ رہا ہے، تو لفظاً بھی اتحاد اور معناً بھی اتحاد۔
یہ کب؟ إِنِ ادَّعَى الْمُدَّعِي الْأَكْثَرَ، جبکہ مدعی نے کتنے کا دعویٰ کیا ہو؟ اکثر کا دعویٰ کیا ہو۔ حَتَّى إِذَا ادَّعَى الْأَقَلَّ، حتّٰی کہ اگر مدعی نے اقل کا دعویٰ کیا ہو، بِأَنْ قَالَ، بعینہٖ تو اس صورت کے کہ اس نے یوں کہا: لَمْ يَكُنْ إِلَّا الْأَلْفُ، إِلَّا الْأَلْفَ، کہ نہیں تھے اس پر دین میرا مگر کتنا؟ 1,000۔ مدعی کہتا ہے: میرا صرف اس پر 1,000 دین ہے، زیادہ نہیں، اور ایک گواہ تو کتنا کہہ رہا ہے؟ 1,100، تو اس نے اس کی کیا کر دی؟ تکذیب، تو ایک گواہ تو رد ہوا، تو دوسرا صرف ایک رہ گیا، اور اس ایک پر اب فیصلہ نہیں ہوگا۔ تو ایک، تو اس نے صرف 1,000 کہا اور باقی، ہزار سے زائد، بھئی دیکھو! لَمْ يَكُنْ إِلَّا الْأَلْفَ، حرفِ نفی اور اِلَّا کے ساتھ کلام کیا، اور یہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ حصر کا فائدہ دیتا ہے، معلوم ہوا دین کتنا ہے؟ صرف 1,000، اور 1,000 سے زیادہ کی کیا ہو گئی؟ نفی ہو گئی، تو لہٰذا نفی کر دے زیادہ کی، پھر بھی یہی مسئلہ۔ اور یا زیادہ کی نفی تو نہیں کرتا، اس سے سکوت کر لے، پھر بھی مسئلہ اسی طرح ہے۔ مثلاً بھئی! مدعی کیا کہتا ہے؟ کہ زید نے میرے کتنے پیسے دینے ہیں؟ 1,000، بس۔ زیادہ ہیں یا زیادہ نہیں، اس کو اس نے اس بات میں نہیں کیا اور اس کا رد بھی نہیں کیا، صرف یہ کہا: میرے 1,000 دینے ہیں، سکوت کر لیا زائد سے۔ تو دونوں صورتوں میں، چاہے زائد کی نفی کرے مدعی، چاہے زائد سے کیا کرے؟ سکوت کرے، دونوں صورتوں میں اقل کی صورت میں شاہدِ اکثر کی گواہی کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ دعویٰ اقل کی صورت میں شاہدِ اکثر کی گواہی کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ جی، دعویٰ اقل میں، میں نے بتلایا، چاہے سرے سے زائد کی کیا کر دے؟ نفی کر دے، یا زائد سے کیا کر لے؟ سکوت کر لے، دونوں صورتوں میں اسی طرح ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟
اچھا!
حَتَّى إِذَا ادَّعَى الْأَقَلَّ، حتّٰی کہ اگر اس نے دعویٰ اقل کا کر دیا، بِأَنْ قَالَ، بعینہٖ صورت کہ اس نے کہا: لَمْ يَكُنْ إِلَّا الْأَلْفُ، کہ نہیں تھا میرا دین اس پر مگر 1,000 ہی، أَوْ سَكَتَ عَنْ دَعْوَى الْمِائَةِ الزَّائِدَةِ، یا وہ جو زائد 100 تھے، ان کے دعویٰ سے اس نے کیا کر لیا؟ سکوت کر لیا، دونوں صورتوں میں، لَمْ تُقْبَلْ شهَادَةُ مُثْبِتِ الزِّيَادَةِ، دونوں صورتوں میں اس گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا، مُثْبِتِ الزِّيَادَةِ، جو کیا کرنے والی ہے؟ زیادتی کو ثابت کرنے والی ہے۔
وَأَمَّا، ہاں! اگر اس نے یوں کہا، تطبیق دے دیا اپنے کلام میں اور گواہ کے کلام میں، اس نے دعویٰ کتنے کا کیا ہے؟ 1,000 کا، اور جو دو گواہی دے رہے ہیں، ان میں سے ایک نے کتنے کی گواہی دی؟ 1,000 کی، اور دوسرے نے 1,100 کی، یہ خود ہی تطبیق دے دیتا ہے: قاضی صاحب! 1,100 تھے، لیکن 100 یہ مجھے ادا کر چکا ہے، یا 100 میں نے اس کو کیا کر دیے؟ معاف کر دیے، اب تطبیق آ گئی دونوں کلاموں میں، اب کیا کیا جائے گا؟ دونوں کی گواہی سنی جائے گی اور فیصلہ ہزار پر کیا جائے گا۔ وَأَمَّا إِنْ قَالَ، اور باقی اگر اس نے یوں کہا: كَانَ أَصْلُ حَقِّي أَلْفًا وَمِائَةً، میرا اصل حق 1,100 تھا، وَلَكِنِّي اسْتَوْفَيْتُ الْمِائَةَ، لیکن میں نے وصول کر لیے 100 روپے، أَوْ أَبْرَأْتُهُ عَنْهَا، یا میں نے اس کو معاف، بری کر دیا ان 100 سے، یعنی معاف کر دیا، قُبِلَتْ شهَادَتُهُ، تو اس کی گواہی کو اب کیا کیا جائے گا؟ اس اکثر والے کی گواہی کو بھی قبول کر لیا جائے گا، لِلتَّوْفِيقِ، کس وجہ سے؟ توفیق اور موافقت اور تطبیق کی وجہ سے۔
اچھا جی!
كَطَلْقَةٍ وَطَلْقَةٍ وَنِصْفٍ وَمِائَةٍ وَمِائَةٍ وَعَشَرَةٍ، جیسے ایک شخص نے، ایک گواہ نے گواہی کتنے کی دی؟ ایک طلاق کی، اور دوسرے نے کتنے کی گواہی دی؟ طَلْقَةٍ وَنِصْفٍ، ایک طلاق اور نصف کی۔ تو دیکھو! دونوں میں کیا لفظ آ گیا؟ طلاق طلاق کا لفظ دونوں میں موافقت لفظوں میں آ گئی یا نہیں آ گئی؟ تو لہٰذا کتنے پر فیصلہ کر دیا جائے گا؟ ایک طلاق پر۔ یا ایک نے گواہی دی مِائَةٍ، 100 پر، اور دوسرے نے مِائَةٍ وَعَشَرَةٍ، مائۃ اور عشرہ پر، تو دونوں میں کیا لفظ آ گیا؟ مائۃ آ گیا، تو فیصلہ کتنے پر ہو جائے گا؟ مائۃ پر۔
أَيْ كَشَهَادَةِ أَحَدِهِمَا بِطَلْقَةٍ، جیسے ایک کی گواہی ایک طلاق پر ہو، وَالْآخَرِ، اور دوسرے کی گواہی، بِطَلْقَةٍ وَنِصْفٍ، ڈیڑھ طلاق پر ہو، ایک اور نصف پر ہو، وَشَهَادَةِ أَحَدِهِمَا بِمِائَةٍ، ایک کی گواہی کتنے پر ہو؟ مائۃ پر ہو، وَالْآخَرِ بِمِائَةٍ وَعَشَرَةٍ، اور دوسرے کی گواہی مائۃ اور عشرہ پر ہو، فَإِنَّ الشَّهَادَةَ مَقْبُولَةٌ اتِّفَاقًا، تو بالاتفاق یہ گواہی کیا ہے؟ صاحبین کے نزدیک بھی یہ، کیونکہ صاحبین کے نزدیک صرف کس میں اتفاق ضروری؟ معنی میں، اور معنی میں یہاں کتنے میں اتفاق آ رہا ہے؟ ایک طلاق میں اور 100 میں، اور امام صاحب کے نزدیک بھی لفظاً بھی اتفاق آ رہا ہے اور معناً بھی۔ لِلاتِّفَاقِ عَلَى الْأَلْفِ وَعَلَى الطَّلْقَةِ، اس لیے کہ اتفاق، بوجہ اتفاق ہونے کے الف اور طلاق پر، وَعَلَى الْمِائَةِ، اور مائۃ پر، وَلَا شَكَّ، اور اس بات میں کوئی شک نہیں، أَنَّ قَوْلَهُمَا أَظْهَرُ، صاحبین کا قول زیادہ ظاہر ہے بھئی۔
وَفَرْقُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ ضَعِيفٌ، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے جو فرق بیان کیا بھئی، وہ ضعیف ہے کہ الف اور الفین الگ الگ چیز ہیں، مائۃ اور مائتین الگ الگ چیز ہیں۔ صاحبین فرماتے ہیں: نہیں، معنی کے اندر موافقت ہے، 2,000 میں 1,000 آ گیا، 200 کے اندر 100 آ گیا بھئی، تو ان کا قول زیادہ ظاہر ہے۔ تو صاحبین کا قول، ضعیف ہے بھئی۔ وہ کیا فرماتے ہیں؟ وہ یہ، جی؟ ہاں! امام صاحب، امام صاحب کا فرق جو انہوں نے کیا وہ ضعیف ہے، وہ کیا فرق ہے؟ وہ خود بیان کر رہے ہیں: وَهُوَ أَنَّهُمَا مُتَّفِقَانِ عَلَى أَلْفٍ، وہ یہ کہ دونوں متفق ہیں الف کے اوپر، کس میں؟ فِي شَهَادَةِ أَحَدِهِمَا بِأَلْفٍ وَالْآخَرِ بِأَلْفٍ وَمِائَةٍ، جبکہ ایک نے گواہی دی ہے الف کی اور دوسرے نے الف و مائۃ کی، تو کتنے میں موافقت آ گئی؟ الف کی، لہٰذا یہاں ٹھیک ہے، غَيْرُ مُتَّفِقَيْنِ، لیکن وہ دونوں گواہ متفق نہیں ہیں، کب؟ فِي شَهَادَةِ أَحَدِهِمَا بِالْأَلْفِ وَالْآخَرِ بِالْأَلْفَيْنِ، جبکہ ایک نے کتنے کی گواہی دی ہو؟ ہزار کی، اور دوسرے نے الفین، دو ہزار کی، تو الف الگ لفظ ہے، الفین الگ لفظ ہے، کبھی بھی الف کو الفین کے ساتھ ادا نہیں کیا جا سکتا۔ چلیے بس مولانا! هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔