Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-017

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 40
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصل في خيار الرؤية. صح شراء ما لم يره خلافا للشافعي رحمه الله تعالى، وللمشتري الخيار عندها - أي عند الرؤية - إلى أن يوجد مبطله وإن رضي قبلها - أي وإن رضي قبل الرؤية - يكون له حق الفسخ إذا رآه. خيار شرط کا باب مکمل ہوا۔ آج ہم خيار رؤيت کے بارے میں پڑھیں گے بھئی، خيار رؤيت۔ بھئی، خيار رؤيت شریعت نے آپ کو دیا ہے، مشتری کو دیا ہے بھئی، خيار رؤيت۔ حدیث شریف ہے بھئی، حدیث میں آتا ہے: من اشترى شيئا لم يره فله الخيار إذا رآه. من اشترى شيئا لم يره فله الخيار إذا رآه. من اشترى... لکھ لیجیے حدیث بھئی۔ یہ حدیث وغیرہ ہے، اس کو یاد کرو بھئی ساتھ، یاد کرو۔ من اشترى شيئا لم يره لم يره فله الخيار إذا رآه. فله الخيار إذا رآه. لکھ لی بھئی حدیث؟ معنیٰ بھی سنیے بھئی۔ من اشترى شيئا، جس نے خریدی شيئا کوئی ایسی چیز، لم يره جسے اس نے دیکھا نہیں، فله الخيار تو اس کو اختیار حاصل ہے، إذا رآه جب اسے دیکھ لے بھئی، جب اسے دیکھ لے۔ تو شریعت نے حق دیا ہے بھئی، کوئی شخص کوئی چیز خریدتا ہے، اگر اس نے اسے دیکھا نہیں تو شریعت نے اسے حق دیا ہے کہ اگر دیکھ کر ناپسند آئے تو اسے واپس کر سکتا ہے، عقد کو فسخ کر سکتا ہے۔ اسے خيار رؤيت کہتے ہیں بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آیا خيار رؤيت کسے کہتے ہیں؟ کہ بغیر دیکھے کوئی چیز خریدی ہے تو شریعت نے کس چیز کا حق دیا ہے؟ اختیار دیا ہے کہ اگر دیکھ کر ناپسند آئے تو وہ کیا کر سکتا ہے اسے؟ واپس کر سکتا ہے۔ اور آپ کو میں نے بتلایا تھا خيار شرط کے باب کے شروع میں بھئی کہ خيار رؤيت جو ہے، وہ تمام عقد سے مانع ہے بھئی۔ خيار رؤيت تمام عقد سے مانع ہے بھئی، اس کے ہوتے ہوئے عقد تام نہیں ہوتا۔ جب تک ایک چیز آپ نے دیکھی نہیں ہے، اس وقت تک عقد تام نہیں ہوگا بھئی، عقد تام نہیں ہوگا۔ جی، تو حدیث بھئی آپ نے کیا لکھی؟ من اشترى شيئا لم يره فله الخيار إذا رآه. تو من اشترى، جس نے خریدی کوئی چیز، اس کے لیے اختیار ہے۔ معلوم ہوا خریدنے والے کے لیے اختیار ہے، بیچنے والے کے لیے نہیں ہے، دیکھیے آگے تفصیل آ جائے گی۔ صح شراء ما لم يره، صحیح ہے خریدنا ایسی چیز کا لم يره جسے اس نے مشتری نے دیکھا نہ ہو، خلافا للشافعي رحمه الله تعالى، بر خلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بغیر دیکھے کوئی چیز خریدنا درست نہیں بھئی، اس لیے کہ مبیع مجهول ہے بھئی، مبیع کیا ہے؟ پتہ ہی نہیں اس کے بارے میں مشتری کو۔ ہم کہتے ہیں کوئی حرج نہیں، اگر مبیع مجهول بھی ہے، جھگڑے کا کوئی امکان نہیں، اس لیے کہ شریعت نے کیا دیا ہے خيار رؤيت دیا ہے، تو اگر پسند نہیں آئے گی تو کیا کر دے گا؟ واپس کر دے گا۔ وللمشتري الخيار عندها، اور اس چیز کو خریدنے والے کے لیے الخيار اختیار ہے عندها أي عند الرؤية، ہا ضمیر کا مرجع بتلایا آپ کو شارح نے بھئی کہ ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ رؤیت کو راجع ہے، دیکھنے کے وقت۔ معلوم ہوا دیکھنے سے پہلے خيار رؤيت نہیں ہے بھئی۔ دیکھنے سے پہلے خيار رؤيت نہیں ہے، یعنی عین جب اس کو جس وقت دیکھے گا، فوراً کیا حاصل ہو گیا؟ خيار رؤيت حاصل ہو گیا، جب خيار رؤيت حاصل ہوا تو اب کہہ سکتا ہے رَضِيتُ، میں کیا ہوں اس پر؟ اگر اس سے پہلے کہہ دیتا ہے رَضِيتُ، دیکھنے سے پہلے ہی کہہ دیا رَضِيتُ، میں راضی ہوں بس جیسی بھی چیز ہے ٹھیک ہے بھئی۔ نہیں بھئی، خيار رؤيت پھر بھی ساقط نہیں ہوتا، اس لیے کہ ابھی تو یہ حاصل ہی نہیں ہے، یہ تو معلق بالرؤية ہے مولانا، جب دیکھو گے تو فوراً کیا حاصل ہو جائے گا؟ اختیار حاصل ہو جائے گا، تو اس سے پہلے اگر وہ کہہ بھی دیتا ہے رَضِيتُ، تو بیع نافذ ہوگی؟ نہیں بھئی، اس سے پہلے نہیں، تو اس سے پہلے اس اختیار کو باطل کر ہی نہیں سکتا۔ وللمشتري الخيار عندها أي عند الرؤية إلى أن يوجد مبطله، یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ خيار رؤيت کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں بھئی۔ جب تک إلى أن يوجد مبطله، جب تک کوئی ایسی چیز نہ پائی جائے مبطله جو اس خيار رؤيت کو کیا کر دے؟ باطل کر دے، جب کوئی ایسی چیز پائی جائے گی جو خيار رؤيت کو باطل کرے، پھر خيار رؤيت باطل ہوگا، اس سے پہلے باطل نہیں ہوگا۔ وإن رضي قبلها، اگرچہ وہ راضی ہی ہو چکا ہو اس سے پہلے، أي وإن رضي قبل الرؤية، پھر ہا ضمیر کا مرجع بتلایا، یہ بھی کس کو راجع ہے؟ اگرچہ وہ راضی ہو، وإن رضي، إن وصلیہ ہے مولانا، تو لہٰذا اگرچہ کے ساتھ ترجمہ کرنا، اگرچہ وہ راضی ہو اس سے پہلے أي قبل الرؤية، دیکھنے سے پہلے ہی، يكون له حق الفسخ إذا رآه، پھر بھی اسے کیا ہوگا؟ حقِ فسخ ہوگا إذا رآه جب اسے دیکھ لے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی جب تک وہ دیکھتا نہیں، اس سے پہلے اگر وہ کہہ دیتا ہے رَضِيتُ، میں راضی ہوں اس چیز پر جیسی بھی ہوئی بھئی، تو کیا خيار رؤيت ختم ہوا؟ نہیں بھئی، یہ تو آئے گا ہی کس وقت؟ جب چیز کو دیکھے گا، تو اس کے بعد پھر اس کا رَضِيتُ کہنا معتبر ہوگا، اب پوری رضامندی آ گئی، اس سے پہلے پوری رضامندی نہیں تھی بھئی۔ جی، تو اس وقت یہ کیا کر سکتا ہے؟ فسخ کر سکتا ہے خيار رؤيت کو بھئی۔ تو اس وقت بھئی اگر اس نے چیز دیکھ لی اور دیکھنے کے بعد کہتا ہے رَضِيتُ، خيار رؤيت کیا ہوا؟ ختم۔ یا خاموش رہتا ہے بھئی، خاموشی بھی کس چیز کی علامت ہے؟ رضا کی علامت ہے بھئی، اگر اس کو ناپسند ہوتی تو فوراً کیا کر دیتا؟ رد کرتا بھئی اس چیز کو۔ يكون له حق الفسخ، اسے فسخ کا حق ہوگا، إذا رآه جب اس کو دیکھ لے گا، سمجھ میں آیا؟ تو حقِ فسخ یعنی بیع کو وہ فسخ کر سکتا ہے، اگرچہ پہلے راضی ہو بھی چکا ہے، پھر بھی اسے عقد کو فسخ کرنے کا حق ہوگا إذا رآه جب وہ اس مشتراة کو دیکھ لے گا، ولكن لو فسخ قبل الرؤية ينفسخ الفسخ. لیکن اگر اس نے فسخ کر دیا دیکھنے سے پہلے، تو فسخ نافذ ہو جائے گا۔ دیکھنے سے پہلے کیا کیا؟ بھئی یہ کیا بات ہوئی؟ آپ نے کہا تھا دیکھنے سے پہلے اگر رضامندی دیتا ہے تو رضامندی نافذ نہیں ہوتی آپ کہتے ہیں، اور فسخ کیا ہو جایا کرتا ہے؟ نافذ ہو جائے گا۔ اس لیے نافذ ہوگا، علت آگے خود ذکر کر رہے ہیں، دیکھیے بھئی، بحكم أنه عقد غير لازم، اس حکم سے کہ یہ ایسا عقد ہے جو لازم نہیں ہے۔ جب یہ عقد لازم نہیں ہے تو پھر اس کو کیا کر سکتا ہے وہ؟ فسخ کر سکتا ہے، لیکن رؤیت سے پہلے خيار رؤيت کو ختم کر دے، وہ تو خيار رؤيت تو کس کی وجہ سے حاصل ہوگا؟ خيار رؤيت کس وجہ سے حاصل ہوگا؟ رؤیت کی وجہ سے حاصل ہوگا، جب دیکھے گا اسے خيار رؤيت حاصل ہوگا، تو اس سے پہلے اس اختیار کو ختم بھی نہیں کر سکتا، لیکن فسخ جو ہے، فسخ نافذ اس لیے ہوگا کہ یہ عقد غیرِ لازم ہے۔ تام ہوا ہے ابھی بھئی؟ ابھی تام ہی نہیں ہوا، تام ہوگا اس کے بعد پھر لازم کی بات آئے گی بھئی۔ اس حکم سے کہ یہ عقد غیرِ لازم ہے، حتى لا يجوز إجازته عند الرؤية، یہاں تک کہ جائز نہیں ہوگا اس کا اجازت دے دینا عند الرؤية، دیکھنے کے وقت بھئی۔ بھئی اگر پہلے فسخ کر دیا اس نے دیکھنے سے پہلے ہی تو عقد فسخ ہو گیا، اس لیے کہ بیع غیرِ لازم ہے بھئی، اور بیع غیرِ لازم ہو تو اس میں فسخ کیا ہو جایا کرتا ہے؟ نافذ ہو جاتا ہے، جب ایک دفعہ فسخ نافذ ہو گیا، اب اس چیز کو دیکھنے کے بعد وہ کہہ بھی دیتا ہے رَضِيتُ، میں کیا ہوا اس پر؟ اجازت میں دیتا ہوں، اب اجازت نافذ نہیں ہوگی مولانا، اس لیے کہ وہ عقد کو کیا کر چکا ہے؟ فسخ کر چکا ہے۔ لا لبائعه، عطف کس پر ہے؟ للمشتري پر، اوپر گزرا تھا مشتری کے لیے ہے اختیار، لا لبائعه اس چیز کو بیچنے والے کے لیے نہیں ہے، اس لیے کہ حدیث میں من اشترى आया ہے، خریدنے والے کے لیے اختیار ہے، بیچنے والے کا ذکر نہیں۔ أي إذا باع شيئا لم يره لا يكون له الخيار، بیچا کسی نے کسی چیز، ایسی چیز کو لم يره جسے اس نے دیکھا نہیں، لا يكون له الخيار ہونا چاہیے، تو نہیں ہوگا اس کو اختیار إذا رآه جب اس کو دیکھ لے۔ بھئی آپ نے کیا کیا؟ زید سے ایک چیز خریدی اور خریدنے کے بعد پھر آپ نے اس پر قبضہ بھی کر لیا، کیا کر لیا؟ ایک آدمی کو بھیجا بھئی جاؤ وہ چیز میرے گودام میں منتقل کر دو، اس نے منتقل کر دی، آپ کا قبضہ آ گیا یا نہیں آیا بھئی؟ قبضہ آ گیا۔ اب بغیر دیکھے بھئی، آپ اس کو آگے بیچ دیتے ہیں۔ بیچنے کے بعد پتہ چلا بھئی وہ تو بڑی قیمتی چیز تھی، آپ نے بڑی سستی بیچ دی۔ تو اب کیا بیچنے والے کو خيارِ رؤيت کی وجہ سے وہ عقد کو کیا کر سکتا ہے، فسخ کر سکتا ہے؟ نہیں کر سکتا، اس لیے کہ یہ بائع ہے، مشتری کو تو خيارِ رؤيت حاصل ہوتا ہے، بائع کو خيارِ رؤيت حاصل نہیں ہوتا۔ ويبطلـه وخيار الشرط تعيبه وتصرف لا ينفسخ كالإعتاق والتدبير أو يوجب حقا لغيره كالبيع المطلق أي بدون شرط الخيار والرهن والإجارة قبل الرؤية أو بعدها. بھئی اوپر انہوں نے ذکر کیا تھا کہ خيار رؤيت کس وقت ختم ہوگا؟ جب تک کہ اسے کوئی باطل کرنے والی چیز نہ ہو بھئی۔ باطل کرنے والی کیا چیزیں ہیں؟ کچھ تو میں نے ذکر کر دیں بھئی، دیکھنے کے بعد کیا کہہ دیتا ہے؟ رَضِيتُ، خيار رؤيت کیا ہو گیا؟ یا دیکھنے کے بعد خاموش رہتا ہے، اس کا سکوت بھی، یہ بھی کس چیز کی علامت ہے؟ رضامندی کی علامت ہے، اور کچھ اور چیزیں ہیں، اب وہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں کہ خیار، ويبطله، خيار رؤيت کو بھی، وخيار الشرط، اور خيار شرط کو بھی باطل کر دیتے ہیں بھئی، یہ وخيار الشرط منصوب پڑھنا، اس کا عطف یہ يبطله کے ساتھ جو ہا ضمیر جڑی ہوئی ہے، ضمیرِ منصوب متصل، اس پر عطف ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ بھئی ضمیر پر عطف درست ہے بھئی، اگر وہ مرفوع متصل یا مجرور نہ ہو بھئی۔ ضمیرِ مجرور ہو تو پھر بھی اس پر آپ نے نحو کے اندر ضابطہ پڑھا، عطف درست نہیں، اعادہ جاب کرنا پڑے گا بھئی، اور اسی طرح مرفوع متصل یعنی فاعل کی جو ضمیر فعل کے ساتھ ملی ہو، اس پر بھی عطف صحیح نہیں ہوتا بھئی، عطف صحیح نہیں ہوتا، ہاں اس کی تاکید لے آؤ، پھر صحیح ہو جاتا ہے عطف، اور یہاں مفعول کی ضمیر پر عطف ہو رہا ہے، اس لیے یہ درست ہے بھئی۔ اور باطل کر دیتا ہے، ہا ضمیر کس کو راجع؟ خيار رؤيت کو، اور خيار رؤيت کو باطل کر دیتا ہے، وخيار الشرط، اور اسی طرح خيار شرط کو بھی باطل کر دیتا ہے، کیا چیز بھئی؟ کہتے ہیں: تعيبه، یہ فاعل ہے، تعیب اس کو عیب دار کرنا بھئی، اس مبیع کو عیب دار کرنا بھئی۔ تعیب ہونا چاہیے بھئی، ہدایہ وغیرہ میں تعیب کا لفظ ہے، تو بہرحال عیب دار کرنے کا، عیب دار کرنے کا تو مطلب یہ ہے مشتری اس میں عیب پیدا کرے، اور تعیب کا معنیٰ ہے خود بخود کیا ہو جائے؟ عیب والی ہو جائے، مشتری کے پاس چاہے خود بخود ہی کیوں نہ عیب والی ہو جائے، وہ اس کو واپس نہیں کر سکتا، تو تعیب کا لفظ ہونا چاہیے بھئی۔ تعيبه وتصرف، اور اسی طرح کوئی ایسا تصرف، لا ينفسخ جو فسخ نہیں ہوتا، تو اس کا عیب دار ہونا یہ بھی باطل کر دیتا ہے، اور ایسا تصرف جو فسخ کو قبول نہیں کرتا، کیسے بھئی؟ كالإعتاق والتدبير، جیسے کہ غلام کا آزاد کرنا والتدبير اور اس کو مدبر بنانا بھئی، مدبر بنانا۔ بھئی ایک آدمی نے دوسرے سے کیا کیا؟ غلام خریدا، خيار شرط کے ساتھ خریدا، مجھے تین دن تک بیع کو فسخ کرنے کا حق ہے، یا دیکھئے بغیر خریدا تو اس کو کیا حاصل ہے؟ خيار رؤيت حاصل ہے، لیکن وہ ان تین دنوں کے اندر ہی اس کو آزاد کر دیتا ہے بھئی، تو فوراً خيار شرط بھی ختم اگر وہ تھا، اور خيار رؤيت بھی ختم ہو جائے گا بھئی، اس لیے کہ یہ اعتاق، آزاد کرنا، یہ ایسی چیز ہے جو فسخ کو قبول غلام ایک دفعہ آزاد ہو گیا، اب دوبارہ اس کو غلام نہیں بنا سکتے بھئی، اس لیے ناقابلِ فسخ ہے۔ اسی طرح کسی غلام کو مدبر بنا دیا بھئی، مدبر جانتے ہو؟ جسے کہا ہو کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے، بس اب اس کے حقِ آزادی کو آپ ختم نہیں کر سکتے بھئی، تو یہ بھی ناقابلِ فسخ ہے بھئی۔ جی، تو ایسا تصرف بھی اس کو باطل کر دیتا ہے، خيار رؤيت کو بھی اور خيار شرط کو بھی، کس قسم کا تصرف؟ جو فسخ کو قبول نہیں کرتا، اور اس کی دو مثالیں ذکر کیں، اعتاق اور تدبیر۔ أو يوجب حقا لغيره، یا ایسا تصرف، يوجب کا عطف ہے لا ينفسخ پر بھئی، یا ایسا تصرف يوجب حقا لغيره جو کیا کرے؟ غیر کے لیے کسی حق کو واجب کر دے۔ اگر آپ نے مبیع کے اندر کوئی ایسا تصرف کر دیا جو کسی غیر کے لیے کیا کر دے بھئی؟ حق کو واجب کر دے، تو اس صورت میں بھی آپ کا خيار رؤيت اور خيار شرط دونوں کیا ہو گئے؟ باطل ہو گئے، دیکھیے مثالیں ذکر کر رہے ہیں: كالبيع المطلق، جیسے کہ بیع مطلق ہے۔ آپ نے کسی سے کوئی چیز خریدی خيار شرط کے ساتھ، اور ابھی دیکھی بھی اگر نہ ہو تو پھر کیا حاصل ہے؟ خيار رؤيت بھی حاصل ہے آپ کو، اب اس کو آپ بیع مطلق کے ساتھ اس کا عقد کرتے ہیں کسی شخص سے، بیع مطلق وہ ہے جس میں خيار شرط نہ ہو، کسی کی جانب سے عقد کو فسخ کرنے کا حق، بیع دیتے ہیں ویسے کسی کے ہاتھ بھئی، جب بیچ دیا تو اب آپ بتائیے مشتری کا حق اس مبیع سے وابستہ ہوا یا نہیں ہوا بھئی؟ اس مبیع سے اس کا حق وابستہ ہو گیا، تو دیکھو یہ ایسا تصرف ہے جس نے ثابت کر دیا، يوجب أي يثبت، جو ثابت کر دیتا ہے غیر کے لیے حق ثابت کر دیتا ہے بھئی۔ كالبيع المطلق، جیسے بیع مطلق ہے، أي بدون شرط الخيار، بیع مطلق کے بتلا رہے ہیں کسے کہتے ہیں، وہ بیع ہے جو بغیر خيار شرط کے ہو، والرهن، اسی طرح رہن بھئی، رہن بھی ایسا تصرف ہے جو غیر کے لیے حق کو ثابت کرتا ہے، رہن کسے کہتے ہیں بھئی؟ جو اردو میں آپ گروی رکھوانا کہتے ہیں، کسی کے پاس کوئی چیز گروی رکھوا دی، اس سے قرضہ لینے گئے کہ بھئی مجھے دس ہزار روپے کی ضرورت ہے، اس نے کہا بھئی میرے پاس کوئی چیز گروی رکھواؤ، پھر میں آپ کو دے دوں گا، آپ نے اپنی گھڑی رکھوا دی، قیمتی گھڑی بھئی رہن کے طور پر، گروی رکھوائی، اس کے بدلے کیا لے لیا؟ قرض، تو جب تک آپ قرضہ ادا نہیں کرتے گھڑی اس کے پاس رہے گی بھئی، اسے کیا کہتے ہیں؟ رہن کہتے ہیں، تو اب دیکھیے اس رہن کے ساتھ، تو آپ ہیں راہن جس نے رہن رکھوایا، اور جس کے پاس رکھوایا وہ ہے مرتہن، تو اب اس چیز، رہون شے کے ساتھ بھئی مرتہن کا حق وابستہ ہو چکا ہے، اس کے ذریعے وہ کیا کرے گا؟ اپنے پیسوں کو آپ سے وصول کرے گا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہٰذا اب جب کسی کے، آپ نے ایک چیز بغیر دیکھے خریدی یا خيار شرط کے ساتھ خریدی، اور پھر اس کو کس کے پاس؟ کسی کے پاس رہن رکھوا دیا یا قرضہ وغیرہ اس سے لیا، تو اب اس صورت کے اندر آپ کا خيار رؤيت بھی ساقط اور خيار شرط... بھی ساقط۔ اس لیے کہ آپ نے اس میں ایسا تصرف کر دیا جس نے غیر کے حق کو اس میں ثابت کر دیا بھئی صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ والاجارۃ اور اسی طرح اجارہ کرنا بھئی، اجارہ کہتے ہیں کرائے پر کوئی چیز دینا بھئی، کرائے پر۔ آپ نے ایک چیز خریدی خیار شرط کے ساتھ خریدی یا اس میں کیا تھا خیار اب جو بغیر دیکھے آپ نے خریدی وہ اب آپ کسی آگے کسی کے ساتھ عقد کر لیتے ہیں اسی طرح اجارے کا کہ لو بھئی یہ مکان میں نے فلاں جگہ میں نے ایک مکان خریدا ہے وہ میں نے آپ کو ایک سال کے لیے کیا کیا؟ کرائے پر دے دیا تو اب اس مکان کے ساتھ وہ کرائے دار کا حق وابستہ ہو گیا، مستاجر کا حق کیا ہو گیا؟ وابستہ ہو گیا تو اور ضابطہ تھا کہ کوئی ایسا تصرف کر لے مشتری جوہر کے لیے کسی حق کو ثابت کرتا ہو تو خیار رویت اور خیار شرط کیا ہو جایا کرتے ہیں؟ باطل ہو جایا کرتے ہیں بھئی۔ والاجارۃ قبل الرویت او بعدہا بھئی، یہ تصرفات جو ہیں چاہے قبل الرویت ہوں یا بعد الرویت ہوں بھئی، یہ تصرفات خیار رویت کو بھی ختم کر دیتے ہیں اور خیار شرط کو بھی بھئی۔ عبارت سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ای هذه التصرفات تبطل خیار الرویت، یہ تصرفات جو ہیں باطل کر دیتے ہیں خیار رویت کو، سواقنت قبل الرویت او بعدہا برابر ہیں چاہے یہ رویت سے پہلے ہوں اور بعدہا یا رویت کے بعد دیکھنے سے پہلے کیا کریں؟ اعطاق التدبیر کر لیں یا اسی طرح کی بیع مطلق کر لیں، رہن رکھوا دیں یا اجارہ کر لیں یا دیکھنے کے بعد کوئی بھی کر لیں، ان سب صورتوں میں کیا ہو جائے گا؟ خیار رویت باطل ہو جائے گا۔ وما لا یوجب حقا لغیرہ اور اس قسم کے تصرفات لا یوجب جو ثابت نہیں کرتے حقا لغیرہ غیر کے لیے کسی حق کو، یرحمک اللہ۔ ما بھئی، ما سے کیا مراد ہے؟ تصرف تصرف اور ایسے تصرفات جو ثابت نہیں کرتے غیر کے لیے کسی حق کو بھئی، وہ کس قسم کے تصرفات ہیں؟ کہتے ہیں کالبہ بالخیار جیسے کہ بیع بالخیار ہے۔ بھئی، آپ کے پاس آپ نے ایک چیز بغیر دیکھے خریدی اور پھر اس پر قبضہ بھی کر لیا۔ یاد رکھو، آپ نے ضابطہ پڑھا تھا، یہ کہ مبیع میں قبل القبض تصرف جائز نہیں ہے۔ آپ نے ایک شخص سے ایک چیز خریدی ہے، جب تک اس پر قبضہ نہ کریں، آگے اس میں اس کو بیچ وغیرہ نہیں سکتے۔ تو آپ نے ایک چیز بغیر دیکھے خریدی اور پھر اس پر قبضہ بھی کر لیا، کسی کو بھیجا، جاؤ بھئی، وہ چیز میرے گودام میں منتقل کر دو یا اپنے لے لو، اس سے وصول کر لو بھئی۔ پھر ابھی آپ نے دیکھی نہیں، دیکھی نہیں اور آپ اس کو خیار شرط کے ساتھ آگے بیچ دیتے ہیں۔ سمجھ میں آیا، دوسرے کو بیچا آپ نے، وہ چیز بیچی اور کیا کہا مجھے تین دن کے اندر بیع کو فسخ کرنے کا حق حاصل ہے تو جب خیار آپ نے اپنے لیے رکھا ہے، تو وہ کیا مبیع آپ کی ملک سے نکلا؟ نہیں، غیر کا حق اس سے وابستہ ہوا؟ نہیں، ابھی بھی فسخ ہے آپ کو، تو غیر کا حق اس کے ساتھ وابستہ نہیں ہوا، تو یہ ایسا تصرف ہے جو غیر کے لیے کسی حق کو ثابت نہیں کرتا۔ والماسومۃ، اسی طرح مساومۃ ہے، مساومۃ کا معنی بھاؤ تاؤ کرنا بھئی۔ آپ نے ایک چیز خریدی ہے بغیر دیکھے بھئی، اور دوسرے کے ساتھ بھاؤ تاؤ کر لیتے ہیں بھئی، میں نے ایک ایسی چیز خریدی ہے، اس اس قسم کی ہے اور میرے گودام میں پہنچ چکی ہے، اگر آپ خریدنا چاہیں بھئی، اتنے میں آپ کو دوں گا، وہ کہتے ہیں، نہیں، میں اتنے میں لوں گا بھئی۔ بات نہیں بنی، وہ چلا گیا، عقد نہیں ہوا مولانا، لیکن مساومۃ ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ بھاؤ تاؤ ہو گیا، آپ نے اس کو صرف قیمت بتلائی یا اس نے قیمت پوچھی وغیرہ، بس بھاؤ تاؤ تو ہوا۔ تو اس صورت میں غیر کا حق وابستہ ہوا ہے؟ نہیں، غیر کا حق وابستہ تو یہ ایسا تصرف ہے جس سے غیر کا حق اس مبیع سے وابستہ نہیں کیا بھئی۔ والھبۃ بلا تسلیم، اور اسی طرح ہبہ بغیر سپرد کیے، بھئی ہبہ میں نے بتلایا تھا کسے کہتے ہیں؟ تحفہ دینا دوسرے کو بھئی، ویسی ہی کوئی چیز دے دینا، یہ ہبہ کہلاتا ہے۔ تو یاد رکھو، ہبہ کسی کو آپ نے چیز کی تو جب تک اس کے سپرد نہیں کرتے، ہبہ تام نہیں ہوگا۔ آپ نے اپنے ساتھی کو کہا بھئی کہ میں آپ کو یہ کتاب تحفے میں دیتا ہوں، لیکن کتاب ابھی حوالے نہیں کی، تو ہبہ تام ہوا؟ نہیں، ہاں حوالے کر دیں گے، تو ہبہ کیا ہو جائے گا؟ تام ہو جائے گا، اب جس کو ہبہ کیا گیا ہے، اس کا حق وابستہ ہو گیا۔ لہذا اگر ہبہ بغیر سپرد کیے ہو، تو پھر بھی ابھی غیر کا حق اس سے وابستہ نہیں ہوا بھئی۔ تو یہ ساری مثالیں ہیں بھئی، ایسے تصرف کی جو غیر کے لیے حق کو ثابت نہیں کرتے، وما لا یوجب حقا لغیرہ اور ایسے تصرفات جو غیر کے لیے کسی حق کو ثابت نہیں کرتے، جیسے کہ بیع ہے خیار کے ساتھ اور مساومۃ ہے بھاؤ تاؤ کرنا والھبۃ بلا تسلیم اور ہبہ ہے بغیر سپرد کیے، یہ سارے تصرفات یوبطلو بعدہا لا قبلہا بھئی۔ یہ باطل کر دیتے ہیں خیار رویت کو، دیکھنے کے بعد، لا قبلہا، رویت سے پہلے رویت سے پہلے باطل نہیں کرتے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ بھئی اس لیے بھئی دیکھنے سے پہلے، اگر آپ نے بیع بالخیار کی، بھئی، خیار شرط رکھا بھئی اپنے لیے یا بھاؤ تاؤ کیا بھئی، یا ہبہ کیا بغیر تسلیم کے، تو غیر کا کوئی حق وابستہ ہوا؟ نہیں، لہذا ان کی وجہ سے خیار رویت بھی باطل نہیں ہوا۔ لیکن اگر دیکھنے کے بعد آپ کیا کر رہے ہیں؟ خیار بیع بالخیار کر رہے ہیں، معلوم ہوا آپ کیا کر چکے ہیں؟ آپ اس پر رضامند ہو چکے ہیں، یا بھاؤ تاؤ کر رہے ہیں آگے، معلوم ہوا آپ اس پر کیا ہو چکے ہیں؟ رضامند ہو چکے ہیں، یا ورنہ ہبہ کر رہے ہیں، اگرچہ سپرد نہیں کیا بھی، لیکن ہبہ کی بات تو کر دی، معلوم ہوا آپ اس پر کیا ہو چکے ہیں؟ راضی ہو چکے ہیں، اس لیے دیکھنے کے بعد ان میں سے کوئی ایک تصرف کر لے، اگرچہ اس سے غیر کا حق تو وابستہ نہیں، لیکن آپ کی رضامندی پر یہ ضرور دلالت کرتے ہیں، تو اس صورت کے اندر آپ کا خیار رویت کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا، باطل ہو جائے گا۔ تو خود بتلا رہے ہیں بھئی، یہ تصرفات کیوں نہیں، رویت سے پہلے کیوں نہیں باطل کرتے بھئی؟ کہتے ہیں لان ھذہ التصرفات، اس لیے کہ یہ جو تصرفات ہیں، لا تزید علی صریح الرضا، صریح الرضائی، یہ صریح رضا سے بڑھ کر نہیں ہے بھئی۔ بھئی، آپ مجھے بتلائیے، ایک چیز آپ نے بغیر دیکھے خریدی ہے، شریعت نے آپ کو کیا حق دیا ہے؟ خیار رویت کہ دیکھ کر کیا کر سکتے ہیں اس کو؟ باطل۔ ابھی دیکھنے سے پہلے ہی آپ نے کہہ دیا، رضی تو، میں راضی ہوں، جیسی بھی ہے میں راضی۔ جی، تو خیار رویت باطل ہوا؟ نہیں، تو دیکھنے سے پہلے رضی تو، باقاعدہ صریح لفظوں میں کہہ دیتا ہے آدمی کہ میں راضی ہوں، پھر بھی خیار رویت باطل نہیں ہوتا، تو یہ جو چیزیں ہیں، بیع بالخیار، مساومۃ اور ہبہ بلا تسلیم، یہ کوئی رضی تو سے بڑھ کر تو نہیں ہیں بھئی، رضامندی سے بڑھ کر تو نہیں۔ جب یہ اس سے بڑھ کر نہیں ہے، تو وہ خیار رویت کو، قبل الرویت ختم نہیں کرتا تھا، تو یہ بھی قبل الرویت خیار رویت کو ختم نہیں کریں گے بھئی۔ تو یہ لا تزید علی صریح الرضا، یہ صریح رضا پر زائد نہیں ہے، وہ انما یوبطلو بعد الرویت، اور, وہ، ضمیر راجع ہے صریح رضا کو بھئی، اور صریح رضا وہ تو باطل کرتی ہے خیار رویت کو بعد الرویت، کس کے بعد؟ دیکھنے کے بعد اگر آپ کہتے ہیں رضی تو، میں کیا ہوا؟ راضی ہوا۔ راضی ہوا، اب کیا ہوگا؟ خیار رویت، باطل۔ تو وہ جو صریح رضا دیکھنے سے پہلے باطل نہیں کرتی، تو یہ چیزیں بھی رضی تو سے بڑھ کر نہیں ہیں، رضامندی سے بڑھ کر نہیں۔ نہیں، لہذا یہ بھی اس سے دیکھنے سے پہلے باطل نہیں کریں گی، ہاں دیکھنے کے بعد باطل کر دیں گی۔ اما التصرفات الاولی، باقی پہلے تصرفات جو ہیں فہی اقوا، وہ کیا ہیں؟ قوی۔ بھئی، کس کتنے قسم کے تصرفات ذکر ہوئے؟ کچھ تو وہ تصرفات تھے، اوپر ذکر ہوئے جو فسخ کو قبول ہی نہیں۔ نہیں، کچھ وہ تصرفات ہیں جو غیر کے حق کو کیا کر دیتے ہیں اس کے اندر؟ ثابت کرتے ہیں اور کچھ وہ تصرفات ہیں جس جو اس میں غیر کے حق کو ثابت نہیں کرتے۔ تو پہلے دو جو ہیں، ایک وہ تصرف جو فسخ کو قبول نہیں کرتا اور ایک وہ تصرف جو غیر کے حق کو ثابت کر دیتا ہے، وہ چاہے قبل الرویت ہوں چاہے بعد الرویت ہوں، وہ خیار رویت کو کیا کر دیتے ہیں؟ ساقط کر دیتے ہیں۔ کیوں ساقط کرتے ہیں؟ کہتے ہیں فہی اقوا، اس لیے کہ وہ پہلے تصرفات کیا ہیں؟ وہ قوی ہیں زیادہ، لان بعضھا لا یقبل الفسخ قوی کیوں ہے؟ اس لیے کیونکہ ان میں سے بعض تو فسخ کو ہی قبول نہیں کرتے، وبعضہا، وبعضہا اوجب حقا لغیرہ، اور بعض کیا کرتے ہیں؟ غیر کے لیے حق کو واجب کرتے ہیں، فلا یمكن ابطالہ، لہذا ان کو باطل کرنا بھی باطل کیوں نہیں کر سکتے؟ کیونکہ کچھ تو فسخ کو قبول ہی نہیں کرتے، جب فسخ کو نہیں قبول کرتے، باطل کہاں سے کرو گے؟ یا غیر کے لیے حق کو ثابت کر دیا، تو اب آپ اس کو باطل نہیں کر سکتے بھئی۔ والنظر الی وجہ الامۃ والصورۃ یہاں سے بتلا رہے ہیں بھئی، کتنا مبیعہ دیکھ لو تو خیار رویت ختم ہو جائے گا۔ بھئی، یاد رکھو، سارا مبیعہ دیکھنا ضروری نہیں۔ سارا مبیعہ دیکھ بھی نہیں سکتے بھئی، ہر جگہ پر۔ سمجھ میں آیا، مثلاً گندم کا آپ ڈھیر خرید رہے ہیں، تو کیا ایک ایک دانے کو دیکھ سکیں گے بھئی؟ نہیں۔ تو ایسی چیزیں جن کے اجزاء ایک جیسے ہوں، اس میں کچھ نمونہ دیکھ لینا ہی کافی ہو گا اور جن کے افراد متفاوت ہیں، ان میں مقصود کو دیکھ دیا جائے، جو چیز اس، جو اس میں کیا ہوتی ہے؟ جو حصہ مقصود ہو، اس کو دیکھ لیا جائے، تو خیار رویت کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وہ بتلا رہے ہیں، دیکھیے بھئی، والنظر الی وجہ الامۃ، اور دیکھ لینا الی وجہ الامۃ، باندی کے چہرے کی طرف، بھئی، باندی کے اندر وہ کیا ہے؟ چہرہ مقصود ہے، تو چہرے کو دیکھ لیا، تو اب کوئی شخص کہے، نہیں بھئی، میں نے تو پوری باندی کو نہیں دیکھا تھا، اس لیے مجھے کیا ہونا چاہیے؟ خیار رویت حاصل ہونا چاہیے، نہیں۔ بھئی، نہیں، باندی میں مقصود چہرہ ہے۔ والصورۃ، اور اسی طرح ڈھیر کی طرف دیکھ لینا، بھئی، گندم وغیرہ کا ڈھیر ہے، بھئی، گندم کے تو سارے اجزاء ایک جیسے ہیں، تھوڑے سے بھی دیکھ لیے، تو گویا یہ سب کا دیکھنا ہے، اسی لیے تو اس میں نمونے کے طور پر تھوڑی سی گندم بھی کسی کو دکھا دی جاتی ہے، تو وہ کافی ہے بھئی۔ ہاں اگر دھوکہ کیا ہے، اوپر اور گندم ہے، نیچے کیا ہے؟ اور۔ ہاں تو پھر تو وہ الگ مسئلہ ہے، وہ تو دھوکہ ہو گیا۔ اچھا جی، والصورۃ، ڈھیر کی طرف ووجہ الدابۃ، اور چہرے دابۃ، وكف لہا، بفتح الفاء ہے بھئی، فا متحرک ہے۔ اور مویشی جانور کے چہرے اور اس کی سورین کی طرف دیکھ لینا، بھئی، کفل کہتے ہیں پچھلا حصہ، بھئی۔ جانور کے چہرے کو دیکھ لیا اور پچھلے حصے کو، اس سے کیا ہو جاتا ہے؟ جانور کا پتہ چل جاتا ہے، بھئی، کس قسم کا جانور ہے، موٹا تازہ ہے یا دبلا پتلا کمزور ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو آپ بھئی بکرا لینے گئے یا گائے لینے گئے عید کے موقع پر، بھئی، آپ نے کیا دیکھا؟ صرف چہرے اور پچھلے حصے کو دیکھ لیا، آپ کا خیار رویت ختم، آپ واپس آ کر کہیں، بھئی، نہیں، بھئی، میں نے تو اس کے پاؤں نہیں دیکھے تھے، بھئی۔ بھئی، پاؤں، مقصود تو دیکھ لیا تھا، اب خیار رویت کیا ہو چکا؟ ختم ہو چکا ہے۔ وظاہری ثوب مطوی، غیر معلمین بھئی۔ اور دیکھنا مطوی، لپٹا ہوا، لپٹا ہوا، تہہ کیا ہوا، غیر معلم، معلم، بھئی، وہ نقش و نگار والا کپڑا، بھئی۔ معلم کپڑا کسے کہتے ہیں؟ نقش و نگار والا کپڑا، آج جس پر علم ہوں، علم نشانات ہوں، بھئی، نقش و نگار بنے ہوں، بھئی، کڑاہی وغیرہ اس پر ہوئی ہو، بھئی۔ کڑاہی وغیرہ ہوئی ہو تو کپڑے سادہ بھی ہیں، کڑاہی والے بھی ہیں، تو اب اگر سادہ کپڑا ہے، تو بھئی تھان لپٹا ہوا ہے، بس اوپر سے دیکھ لیا کافی ہے، اور اگر کڑاہی والا ہے، تو اس کے کسی ایک مقام پر کڑاہی وغیرہ دیکھ لی، جس سے باقی کا پتہ چل گیا، تو یہ کیا ہے؟ یہ بھی کافی ہے، باقی ساتھ دیکھنا ضروری نہیں۔ وظاہری ثوب، اور دیکھنا ایسے کپڑے کے ظاہر کو، مطوی، جو کیا ہے؟ لپٹا ہوا ہے، تہہ کیا ہوا ہے، غیر معلم، اور وہ کیا ہے؟ غیر معلم ہے، نقش و نگار والا نہیں ہے۔ جی، یہ بھی کافی ہے، بھئی، و، واؤ ہونا چاہیے بھئی یہاں پر، والٰی موضع علمہ معلما، اور دیکھنا، والنظر الٰی موضع، اور دیکھنا، ایسی مقام، کپڑا بھی، یہ بھی کپڑے سے متعلق ہے، بھئی، ایسے مقام کی طرف، موضع علمہ، اس کے اس کے نقش و نگار والے مقام کی طرف، معلما، اس حال میں کہ وہ کپڑا کیا ہو؟ نقش و نگار والا۔ اگر نقش و نگار والا کپڑا ہے، تو اس کے نقش و نگار والے مقام کو دیکھ لینا، یہ کافی ہے۔ ونظر وکیلہ بالشراء او بالقبض کافن بھئی۔ اور مشتری کے وکلی بالشراء کا دیکھ لینا اور بالقبض یا وکیل بالقبض کا دیکھ لینا، کافن، یہ کیا ہے؟ یہ ساروں کی خبر اکٹھی آ گئی، بھئی، باندی کے چہرے کو دیکھنا یہ کافی ہے، ڈھیر کو دیکھنا کافی ہے، چہرے کو دیکھنا جانور کے اور سورین کو دیکھنا یہ ساروں کی خبر آ گئی۔ لا نظر رسولہ، ہاں اس کے رسول کا، ایلچی کا، پیغام رساں کا دیکھنا کافی نہیں۔ پیغام رساں کا۔ بھئی، ایک ہوتا ہے وکیل بالشراء، ایک ہوتا ہے وکیل، وکیل بالقبض، اور ایک ہے رسول بھئی، پیغام رساں۔ یاد رکھو، وکیل بالشراء جو ہے، کسے کہیں گے؟ جسے آپ نے بھیجا، جاؤ بھئی، میرے لیے گاڑی خرید کر لاؤ، اس قسم کی بھئی۔ میرے لیے، یہ کون ہوا بھئی؟ وکیل بال، شراء، کہ اسے آپ نے خریداری کا وکیل بنایا ہے، بھئی، وکیل۔ اور ایک ہے وکیل بالقبض، آپ نے خود کسی کے ساتھ عقد کر دیا، اب دوسرے کو کہا، جاؤ بھئی، تم میرے وکیل ہو، جا کر میری طرف سے اس چیز پر قبضہ کر لو، اس چیز پر قبضہ کر لو، اس بائے سے وصول کر لو، یہ وکیل بالقبض ہے۔ آپ کا باقاعدہ کہنا ضروری کہ تم کیا ہو میری طرف سے؟ وکیل ہو، اور تیسرا ہے رسول، ایلچی، جسے آپ نے چیز پر قبضہ کرنے کے لیے بھیجا، لیکن اسے وکیل نہیں بنایا، جاؤ بھئی، میری طرف سے زید سے میں نے فلاں چیز لی ہے، اس سے جا کر کہو، میں نے تمہیں بھیجا ہے، وہ چیز لے آؤ اس سے۔ تو یہ رسول ہے، بھئی، پیغام رساں، آپ نے اسے کوئی کہا کہ تم میرے وکیل بھی ہو؟ نہیں، بھئی، اسے آپ نے وکالت سپرد نہیں کی، ویسے پیغام دے کر بھیجے، میری طرف سے چیز وصول کر لو، یا اس کو جا کر یہ کہہ دو کہ مبیعہ جلدی سپرد کرے، جو بھی ہے، بس پیغام پہنچانے والا ہے، آپ نے اس کو وکیل نہیں بنایا۔ اب بھئی، وکیل بالشراء کا دیکھنا، امام صاحب اور صاحبین کے نزدیک بالاتفاق خیار رویت کو ساقط کر دے گا۔ آپ نے ایک آدمی کو بھیجا، جاؤ میرے لیے گاڑی خرید کر لاؤ، وکیل بنایا اسے آپ نے، وہ گیا، اس نے گاڑی دیکھ کر خریدی، تو اب آپ کو خیار رویت حاصل نہیں۔ اس لیے کہ وکیل بالشراء کا دیکھنا، گویا کہ موکل کا دیکھنا ہے۔ دیکھنا ہے، لہذا اس کا خیار ساقط ہوا، بھئی۔ اور رسول کا دیکھنا، اس میں امام صاحب اور صاحبین دونوں کے نزدیک خیار رویت ساقط نہیں ہوتا۔ آپ نے ایک آدمی کو پیغام دے کر بھیجا، یا بھیجا کہ جاؤ چیز پر قبضہ کر لو، اور وکیل بالقبض اسے نہیں بنایا، وہ جا کر اس چیز پر قبضہ کرتا ہے، تو لازمی بات ہے، اس کو دیکھتا بھی ہے، یا دیکھ لیتا ہے، بھئی، تو دیکھنے کے بعد آپ امام صاحب فرماتے ہیں، نہیں، بھئی۔ جس نے بھیجا ہے، اس کو ابھی بھی کیا حاصل ہے؟ خیار رویت۔ صاحبین بھی فرماتے ہیں، اس کو بھی ابھی خیار رویت۔ تو دیکھو، وکیل بالشراء کے اندر بھی صاحبین اور امام صاحب کا اتفاق کہ موکل کا خیار رویت کیا ہوا؟ ساقط۔ اور رسول کے اندر بھی صاحبین اور امام صاحب کا اتفاق کہ بھیجنے والے کا خیال ہے رویت ساقط ہاں وکیل بالقبض کے اندر اختلاف ہے صاحب انفرماتے ہیں کہ وکیل بالقبض کی صورت میں خیار ختم نہیں ہوگا۔ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں بھئی وکیل بالقبض کی صورت میں بھی بھیجنے والے کا خیار کیا ہو جائے گا؟ ساقط۔ صاحب انفرماتے ہیں بھئی اس کو ہم نے چیز پر قبضہ کرنے کے لیے بھیجا ہے نہ کہ اس کے تو اسے ہم نے قبضے کا اختیار دیا ہے بھئی۔ قبضے کی ولایت دی ہے۔ رویت کی ولایت نہیں دی کہ وہ ہمارے خیار رویت کو ساقط کرے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اسے وکیل بالقبض تو ہم نے بنایا ہے وکیل بالنظر نہیں بنایا لہٰذا صاحب انفرماتے ہیں اس کا وہ خیار رویت کو ساقط نہیں کرتا اس کا دیکھنا کافی نہیں اب مالک کو اب بے خیار رویت حاصل ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں بھئی وکیل بالقبض نے جب دیکھ لیا تو دیکھنے کے بعد مالک موکل کا خیار رویت کیا ہو جائے گا؟ ساقط۔ وہ فرماتے ہیں بھئی کامل قبضہ تو اسی طرح ممکن ہے کہ دیکھ کر قبضہ کرے کیا کرے؟ دیکھے گا کہ یہ وہی چیز ہے یا نہیں جس کے لیے مجھے بھیجا گیا تھا جب دیکھ کر اس نے قبضہ کر لیا تو اس کے خیار خیار کیا ہوا خیار رویت بھی اقا کا ختم ہوا۔ تو جب اسے آپ نے ولایت دے دی قبضے کی تو گویا کہ اسے ولایت دیکھنے کی بھی دے دی اس لیے کہ کامل قبضہ بغیر دیکھے نہیں ہوتا۔ بات سمجھ میں آئی؟ کہ جب آپ نے اسے کیا دی ہے؟ قبضے کی ولایت دی تو معلوم ہوا اسے دیکھنے کی بھی ولایت دے دی کیونکہ کامل قبضہ بغیر دیکھے نہیں ہو سکتا۔ الوکيل بالقبض هو الذي ملكه القبضه وکیل بالقبض وہ ہے جسے مالک بنایا ہو مشتری نے قبضے کا فقال له پس اسے یہ کہا کن وکیلاً عنی تو میری طرف سے وکیل ہو جا قبضہی اس چیز پر قبضے کا بخلاف الرسول بخلاف رسول کے فانہ الذی امرہ وہ ہے جس کو بھیجنے والے نے حکم دیا ہے مشتری نے بھی ادائے رسالت بالتسلیم کہ تم سپردگی کے پیغام کو پہنچا دو بھئی۔ ادائے رسالت کرو پیغام پہنچا دو بالتسلیم کس چیز کا؟ سپرد کرنے کا پیغام پہنچا دو اب وہ پیغام پہنچاتا ہے اور پیغام پہنچاتے ہوئے وہ دیکھ بھی لیتا ہے تو نہیں بھئی اس سے مالک کا خیار رویت ساقط نہیں۔ فالبائع إذا لم يسلم إليه لا يملك الخصومة بخلاف الوكيل یہ فرق بتلا رہے ہیں بھئی رسول اور وکیل میں فرق کیا ہے وکیل بالقبض میں رسول کو بھی آپ نے بھیجا ہے قبضے کے لیے اور وکیل کو بھی بھیجا ہے آپ نے فرق کیا ہے دونوں کے اندر بھئی؟ ایک فرق تو میں نے یہ بتلایا بھئی کہ وکیل کو کہنا ضروری کہ تو میری طرف سے کیا ہے؟ وکیل وکیل ہے جا قبضہ کر اور رسول کو یہ نہیں کہے گا۔ دوسرا کہ پھر وکیل بالقبض خصومت بھی کر سکتا ہے اگر جس سے وہ چیز لینے گیا اس نے کیا کہا بھئی میں تمہیں نہیں دیتا بلکہ میں تو کس کو دوں گا؟ بائع کو دوں گا یا اور کوئی پس و پیش کرتا ہے تو پھر یہ اس کے ساتھ خصومت کر سکتا ہے یعنی خصومت جھگڑا مقدمہ قاضی کے پاس اس کو کیا کر سکتا ہے؟ لے جا سکتا ہے بھئی کہ یہ وہ چیز حوالے نہیں کر رہا جبکہ رسول کا کام صرف پیغام پہنچانا تھا وہ خصومت اس کے ساتھ نہیں کر سکتا بھئی صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وعندهما دیکھیے بھئی فالبائع إذا لم يسلم إليه پس بائع نے جب سپرد نہیں کیا اس وکيل بالقبض اس رسول کے مبیع کو لا يملك الخصومۃ تو وہ خصومت کا مالک نہیں بخلاف الوکیل کہ بخلاف وکیل کے کہ وہ خصومت کر سکتا ہے وہ مالک ہے اس کا وعندهما صاحب انفرماتے ہیں نظر الوکیل بالقبض غیر کافن کہ وکیل بالقبض کا دیکھ لینا یہ کافی نہیں ہے لانه وکلہ بالقبض اس لیے کہ اس نے اس کو وکیل بالقبض بنایا ہے لا بالنظروکیل بالنظر نہیں اور لابی حنيفۃ رحمہ اللہ اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان القبض الكامل بالنظری کامل قبضہ کس کے ذریعے ہوگا؟ دیکھنے سے ہوگا جب کامل قبضہ دیکھنے سے ہوگا تو جب وکیل بالقبض ہوا تو گویا اس وکیل بالنظر بھی ہو گیا یعنی ولایت نظر بھی اسے حاصل ہو گئی تو فرماتے ہیں کہ کامل قبضہ دیکھنے سے ہوگا لیعلما لیعلما تاکہ وہ وکیل جان لے ان هذا هو الذي امر قبضہی یہ ہے وہ مبیع کہ حکم دیا گیا ہے جس کے بارے میں قبضہ کرنے کا کہ اس پر جس پر کیا کیا گیا قبضہ کرنے کا دلیل سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ وکیل بالقبض وہ اس کو نظر کی ولایت بھی حاصل ہے اس لیے کہ جب اسے قبضے کی ولایت ہے تو نظر کی ولایت بھی خود بخود حاصل ہو گئی اس لیے کہ کامل قبضہ تو صرف کس کے ذریعے ہوگا؟ دیکھنے سے ہی ہوگا تو خود بخود ولایت نظر بھی آ گئی۔ وشرط رؤیت داخل الدار اليوما یہاں سے یہ مسئلہ ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی ایک شخص گھر کو باہر سے دیکھ لیتا ہے یا اس کے صحن کو دیکھ لیتا ہے تو کیا خیار رویت باقی ہے یا ختم بھئی؟ بھئی پہلی روایت جو تھی یہ کہ باہر سے دیکھ لینا کافی ہے صحن وغیرہ دیکھ لینا ایک ایک کمرے کو اندر سے دیکھنا ضروری نہیں۔ نہیں لیکن صاحب کتاب آپ کو بتلا رہے ہیں کہ آج کل اندر سے دیکھنا بھی ضروری ہے باہر سے دیکھنا کافی نہیں اور یہ دراصل اختلاف زمانہ پر مبنی ہے بھئی یہ۔ اس لیے کہ اس زمانے کے اندر بھئی مکاں جس وہ کوفہ بصرہ وغیرہ کے مکانات ایک جیسے ہوا کرتے تھے بھئی ہاں کسی میں کمرے زیادہ ہیں کمرے کسی میں کم ہیں بھئی سمجھ میں آیا مثلاً بھئی ساروں کی ہو سکتا ہے یہ ترتیب ہوگی کمرہ ہے تو ایک طرف تین چار کمرے بنے ہوئے ہیں آگے سارا صحن ہے تو سارے گھر اسی طرح بنا کرتے تھے قدیم زمانے میں بھئی ایک طرف صحن ہوا کرتا تھا اور ایک طرف کیا ہوا کرتے تھے کمرے ہوا کرتے تھے بھئی کسی میں دو ہو گئے کسی میں تین ہو گئے کسی میں چار ہو گئے لیکن کمرے تو ایک ہی جیسے بنا کرتے تھے سارے تو باہر سے دیکھ لیا تو سارا صحن دیکھ لیا تو سارا پتہ چل گیا لیکن آج کل کے زمانے میں آپ خود دیکھ لیں بھئی کیسے کیسے مختلف گھر ہیں بھئی ڈرائنگ روم الگ بنا ہوتا ہے ٹی وی لاؤنج الگ بنا ہوتا ہے کچن الگ بنا ہوتا ہے اور بیڈ روم بیڈ روم بھئی الگ بنے ہوئے ہیں پتہ نہیں کیا کیا کچھ بھئی باتھ روم الگ قسم قسم کے بنے ہوئے ہیں تو لہٰذا اب مکانات میں تفاوت بہت زیادہ آ گیا تو لہٰذا اب صرف باہر سے اور صحن وغیرہ کو دیکھنا معتبر نہیں اس سے خیار رویت ختم نہیں ہوگا بلکہ اندر سے سارا دیکھے تو پھر ہم کہیں گے کہ خیار رویت کیا ہوا؟ ختم ہو گیا جب وہ راضی ہو جائے۔ وشرط رؤیت داخل الدار اور لگائی گئی ہے داخل دار کے دیکھنے کی الیوم آج کے دن انما اب بتلا رہے ہیں آج کے دن کی قید کیوں لگائی ماتن نے کہتے ہیں انما قال اليوم ماتن نے الیوم کہا لان روایات اس لیے کہ روایت یہ آئی ہے کہ انه اذا را حيطان الداری کہ جب مشتری نے دیکھ لیے بھئی حیطان جمع ہے حائط کی دیوار کو کہتے ہیں جب دیکھ لیں اس نے گھر کی دیواریں واشجار البستانی اور باغ کے درختوں کو بھئی باغ بھی اسی طرح پہلے ایک جیسے ہوا کرتے تھے باہر سے کچھ درخت وغیرہ دیکھ لیے تو سارے کا اندازہ ہو جاتا تھا اب تو تفاوت ہے بھئی۔ تو دیکھ جب دیکھ لیتا تھا گھر کی دیواروں کو یا باغ کے درختوں کو من خارج ان باہر کی طرف سے کان کافیان تو کافی ہوتا تھا وذلک لان دورہم وبساتينهم لم تكن متفاوتة اور یہ اس وجہ سے کہ دور جمع ہے دار کی کہ ان کے جو گھر ہوا کرتے تھے اور ان کے جو باغات ہوا کرتے تھے لم تكن متفاوتة وہ مختلف نہیں ہوا کرتے تھے فرویت الخارج كانت مغنية عن رؤیت الداخل تو باہر سے کی باہر سے دیکھ لینا یہ بے پرواہ کر دیا کرتا تھا اندر دیکھنے سے پتہ چل جاتا تھا خود بخود اما الآن باق آج جو ہے اب جو ہے فتفاوت فاحش فتفاوت بہت زیادہ ہے فلا بد من رؤیت الداخل تو اندر سے دیکھنا بھی ضروری ہے وبیع الاعمی یہاں سے اعمی کی بیع بتا رہے ہیں بھئی اندھا ایک شخص ہے وہ کوئی چیز بیچتا ہے یا خریدتا ہے تو کیا بیچ سکتا ہے خرید سکتا ہے یا نہیں کہتے ہیں ہاں بھئی بیچ بھی سکتا ہے خرید بھی سکتا ہے۔ تو اگر کوئی چیز خریدے کیا اس پر خیار رویت حاصل ہوگا یا حاصل نہیں کہتے ہیں ہاں بھئی اسے بھی خیار رویت حاصل ہوگا۔ اسے بھی خیار بھئی کیسے اب کیا کریں خیار رویت حاصل ہے وہ تو دیکھ ہی نہیں سکتا کہتے ہیں بھئی وہ فعل کر لے گا جس کے ذریعے اس چیز کا کو جانا جاتا ہے اس کا پتہ چلایا جاتا ہے تو پھر اس کا خیار رویت کیا ہو جائے گا؟ ختم۔ بعض چیزوں کو وہ ٹٹول لے گا بھئی بکری خریدی ہے اس کو ہاتھ وغیرہ لگا رہا ہے ٹٹول لیا بس بھئی معلوم ہوا اس کا پتہ چل گیا کس قسم کی بکری ہے بھئی۔ بعض چیزوں کا پتہ چکھنے سے چلے گا کوئی کھانے والی چیز خریدی ہے چکھ لے گا تھوڑا سا تو اسے پتہ چل جائے گا بعض چیزوں کا سونگھنے سے پتہ چلے گا کوئی خوشبو وغیرہ خریدی ہے تو اس کے سونگھنے سے تو جن وہ فعل جب سرانجام دے دے جس کے ذریعے اس چیز کا پتہ چل جایا کرتا ہے تو اس کا خیار رویت کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا بھئی۔ خریدنے سے پہلے اگر ایسا کر لیا پھر تو خیار رویت ہے ہی نہیں کیونکہ وہ چیز کو دیکھ کر خرید خرید اور بعد میں پھر ان افعال کے ذریعے اس کا خیار رویت ختم ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں وبیع الاعمی وشراؤه صحه اندھے کی کا بیچنا اور اس کا خریدنا صحیح ہے وله الخيار اور اس کو خیار ہوگا مشتری اس حال میں کہ وہ کیا ہو؟ مشتری کیونکہ خیار رویت تو ہوتا ہی مشتری کو ہے ويسقط بمسه المبيعا اور خیار رویت ساقط ہو جائے گا بمسه اس کے چھونے کے ذریعے اس کے ٹٹولنے کے ذریعے المبيعا کس کو؟ مبیع کو وشمه اور اس کے سونگھنے سے جب کون سی چیز ہو؟ سونگھنے والی وذوقه اور چکنے سے جب کوئی ایسی چیز ہو جس کا پتہ چکنے سے چلتا ہو خود بتلا رہے ہیں بھئی شارع ای بمسه فيما يدرک بالمس کہ چھونے سے ان چیزوں میں جن کا پتہ چھونے سے چلتا ہو وبشمه فيما يدرک بالشم اور سونگھنے سے ان چیزوں میں جن کا پتہ سونگھنے سے ہو وبذوقه فيما يدرک بالذوق اور چکنے سے ان چیزوں کے اندر جن کا پتہ چکنے سے چلتا ہو و وصف العقاری اور زمین بھئی زمین اس نے خریدی اب کیا کریں بھئی یہاں تو نہ چھونے سے کام چلتا ہے نہ چکنے سے کام چلتا ہے نہ سونگھنے سے کام چلتا ہے اب کیا کریں بھئی جی دیکھا فقہائے کرام پر اللہ تعالی کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں اور لنا ایک ایک مسئلہ آپ کے سامنے قرآن و حدیث سے نکال کر رکھ دیا بھئی۔ اب صرف یاد کرو ہمارے لیے وہ یاد کرنا بھی مشکل ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کہتے ہیں بھئی زمین خریدے اگر زمین کوئی غیر منقولی میں نے بتایا تھا چیزیں دو قسم پر ہیں کچھ منقولی ہیں کچھ غیر منقولی منقولی وہ جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتی ہیں گاڑی ہے اور گھر کا سامان وغیرہ ہے یہ سب چیزیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتی ہیں تجارت کا سامان ہے سب کچھ۔ اور کچھ غیر منقولی ہیں جیسے گھر وہ منتقل نہیں ہو سکتا ایک جگہ سے دوسری جگہ زمین ہے باغ ہے وغیرہ ان کو کہتے ہیں عقار کیا کہتے ہیں عقار جائیداد کہہ لو یا غیر منقولی چیز غیر منقولی مبیع۔ جی تو کہتے ہیں اس صورت میں تو اب یہ جو غیر منقولی چیز اس نے خریدی ہے بھئی اس میں بھی اس کو خیار رویت حاصل ہے بھئی اس میں خیار رویت کیسے ساقط ہوگا کہتے ہیں بھئی زمین کا وصف اس کے سامنے بیان کر دیا جائے بھئی اس قسم کی زمین ہے ا یا اس قسم کا مکان ہے اتنے کمرے ہیں ایسی دیواریں ہیں اس قسم کا بنا ہوا ہے ایسا علاقہ ہے وغیرہ فلاں بھئی یہ اوصاف بیان کر دو تو خیار رویت کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا بھئی۔ وبوصَف العقار اور جائیداد کا وصف بیان کرنے سے غیر منقولی چیز کا وصف بیان کرنے سے ولا اعتبار ولا اعتبار لوقوفه في مكان لو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی اگر یہ کسی ایسی جگہ پر کھڑا ہو جائے کہ اگر کوئی بینا شخص ہوتا تو وہ اس زمین کو کیا کر لیتا؟ دیکھ لیتا زمین سامنے ہے بھئی کھیت اس نے خریدی ہے اب ایک بینا شخص ایک ایسے مقام پر کھڑا ہو جائے کہ سارا کھیت اس کی نظر کے سامنے ہو بھئی۔ تو اس مقام پر اس وہ اگر نابینا ایسی جگہ پر کھڑا ہو جائے کہ اسے ساری زمین اگر بینا ہوتی تو دکھائی دیتی اور وہ کہہ دے رضی تم میں راضی ہو گیا تو پھر کیا ہو جائے گا خیار رویت اس کا ختم ہو جائے گا صاحب کتاب آپ کو بتلایں گے نہیں بھئی یہ قول اس پر فتوی نہیں دیا گیا بھئی۔ اس قول کا اعتبار نہیں۔ ولا اعتبار لوقوفه في مكان اور کوئی اعتبار نہیں ہے اس کے کھڑا ہونے کا فی مكان ایسی جگہ میں لو کان بصيرًا کہ اگر وہ دیکھنے والا ہوتا لا راءه تو وہ اس کو کیا کر لیتا؟ دیکھ لیتا کما هو قول ابو يوسف رحمہ اللہ جیسے قول ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھئی تو اس بارے میں بھئی حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی ایک روایت ہے اور وہ فرماتے ہیں وہ وہ یوں کرے کہ وکیل بالقبض بنا دے کسی کو اندھے نے کوئی زمین وغیرہ خریدی ہے تو کیا کرے کسی کو وکیل بالقبض بنا دے اور وکیل بالقبض کا تو امام صاحب کے نزدیک وہ وکیل بالنظر بھی ہو گیا لہٰذا جب وہ جا کر دیکھے کر قبضہ دیکھ کر قبضہ کرے گا تو اس کا خیار رویت کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا بھئی۔ ومن رأى أحد ثوبين ثم شرامهما ثم رأى الآخر فله ردهما لا رد الآخر وحده بھئی آپ نے ایک شخص سے دو کپڑے خریدے ہیں لیکن ایک کپڑا آپ نے دیکھا ہے اور دوسرا بھی نہیں دیکھا اور دوسرا تو دوسرے میں آپ کو شریعت نے کیا حق دیا ہے؟ خیار رویت کا حق دیا ہے اب دیکھنے کے بعد وہ دوسرا آپ کو پسند نہیں آیا بھئی آپ اس کو واپس کرنا چاہتے ہیں بھئی تو بھئی یا تو دونوں کو واپس کرو یا دونوں کو رکھو تو یہ نہیں آپ کر سکتے ایک کو واپس کریں خیار رویت کی وجہ سے اور ایک کو رکھ لیں بھئی کیوں؟ اس لیے کہ ضابطہ یاد رکھو ضابطہ بھئی۔ بھئی متن یہ شریعت میں بھی آ رہا ہے بھئی۔ ضابطہ یہ کہ تفرق صفقة قبل قبل تمام العقد جائز نہیں۔ تفرق صفقة تفرق صفقة قبل تمام العقد جائز نہیں۔ ہاں البتہ تفرق صفقة بعد تمام العقد کیا ہے؟ جائز ہے تفرق صفقة بعد العقد بعد تمام العقد جائز ہے۔ ایک یہ ضابطہ رکھو ذہن میں۔ دوسرا وہ جو اس باب کے شروع میں میں نے آپ کو بتلایا کہ خیار رویت کس چیز سے مانع ہے؟ تمام عقد سے کس چیز سے؟ بھئی جب تک خیار رویت ہے کیا اس وقت تک عقد تام ہوا؟ عقد تام نہیں ہوا۔ اور دوسرا ضابطہ کیا کہ تفرق صفقة قبل عقد جائز ہے؟ عقد تام ہونے سے پہلے صفقة میں تفرق کر دیں یہ درست نہیں۔ ہاں عقد تام ہونے کے بعد آپ کیا کر سکتے ہیں؟ تفرق صفقة کر سکتے ہیں۔ تفرق صفقة کا کیا معنی؟ بھئی جس چیز کا ایجاب ہوا ہے وہ ساری لو یا ساری رد کرو۔ اگر کچھ لے لی کچھ رد کرتے ہیں تو یہ کیا ہے؟ تفریق صفقة۔ سودے کی تقسیم ہو گئی بھئی۔ اس نے تو سارے کا ایجاب کیا تھا، قبول بھی کیا کرو؟ سارا کرو۔ کیونکہ آپ نے ضابطہ پڑھا تھا کہ جب کسی چیز کا ایجاب کیا جائے تو قبول بھی یا تو سارے کو کرنا پڑے گا یا سارے کو رد کرنا پڑے گا۔ یہ نہیں کر سکتا کچھ کو قبول کرے اور کچھ کو رد کرے۔ اب آپ مجھے بتائیے آپ نے دو کپڑے خریدے بھئی، دو میں سے ایک کو دیکھا تھا، دوسرے کو ابھی دیکھا نہیں۔ اور اب اس کو دیکھا تو پسند نہیں آیا تو اب آپ اس کو واپس کرنا چاہتے ہیں۔ کس وجہ سے؟ خيارِ رؤيت کی وجہ سے واپس کرنا چاہتے ہیں۔ اور خيارِ رؤيت کے ہوتے ہوئے صفقة عقد تام ہوا ہے یا عقد تام نہیں ہوا؟ خيارِ رؤيت کس چیز سے مانع تھا؟ تمامِ عقد سے۔ تو خيارِ رؤيت جب تک ہے، عقد تام ہوا نہیں۔ تو اب آپ اس کو واپس بھی کس کی وجہ سے کر رہے ہیں؟ خيارِ رؤيت کی وجہ سے، اور خيارِ رؤيت تو مانع ہے تمامِ عقد سے، معلوم ہوا ابھی عقد تام نہیں ہوا۔ اور قبل تمام العقد تفریقِ صفقة کر رہے ہیں اور یہ جائز ہے؟ نہیں ہے۔ ہاں تمامِ عقد ہو جاتا، پھر تفریقِ صفقة کر سکتے تھے۔ تو اب آپ واپس کرنا چاہتے ہیں خيارِ رؤيت سے، خيارِ رؤيت تو تمامِ عقد سے پہلے آتا ہے، اور تمامِ عقد سے پہلے تفریقِ صفقة کر رہے ہیں اور وہ تو درست نہیں ہے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنیٰ ہے: ومن رأى أحد الثوبين، اور جس نے دیکھا دو کپڑوں میں سے ایک کو، ثم اشتراهما، پھر دونوں کو خرید لیا، ثم رأى الآخر، پھر اس نے دوسرے کو دیکھا، فله ردهما، تو اس کو دونوں کو رد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ لا رد الآخر وحده، صرف دوسرے کو اکیلے واپس کرنے کا اختیار نہیں ہے بھئی۔ لئلا يلزم تفريق الصفقة قبل التمام، تاکہ کہیں تفریقِ صفقة لازم نہ آئے عقد کے تام ہونے سے پہلے۔ ومن رأى شيئا ثم اشتراه خير إن وجده متغيرا. بھئی دیکھو، آپ نے ایک چیز کو دیکھا تھا۔ بھئی شراء سے پہلے بھی اگر آپ کسی چیز کو دیکھ لیں تو خریدنے کے بعد آپ کو خيارِ رؤيت حاصل ہے؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ آپ بازار میں جا رہے ہیں، آپ نے گزرتے ہوئے ایک چیز کو دیکھ لیا۔ اگلے دن جا کر آپ خریدتے ہیں اس چیز کو، خيارِ رؤيت کیا ہو چکا آپ کا؟ ختم۔ بھئی کل تو ویسے گزرتے گزرتے آپ نے دیکھا تھا، لیکن دیکھ تو لیا تھا یا نہیں دیکھا تھا؟ دیکھ تو لیا تھا۔ اب آپ کو خيارِ رؤيت حاصل نہیں ہے بھئی۔ تو اب بھئی، لیکن یاد رکھو، جب خریدا تو پتہ چلا کل جب میں نے دیکھا تھا تو یہ کچھ اور طرح تھی، آج میں نے خریدا ہے تو یہ کچھ اور طرح ہے۔ مثلاً مدت بڑھاؤ ذرا، مدت بڑھاؤ پھر مسئلہ سمجھ میں آ جائے گا بھئی۔ کچھ مدت گزر جائے تو چیز کچھ بدل جاتی ہے یا نہیں بھئی؟ کچھ بدل جائے گی، کچھ نہ کچھ عموماً بھئی۔ تو کوئی چیز تھی، آپ نے کچھ مدت پہلے دیکھی تھی اور بعد میں دیکھا تو کچھ وہ بدل چکی ہے بھئی، کچھ بدل چکی ہے۔ تو اگر وہ بدل چکی ہے تو شریعت پھر آپ کو کیا دیتی ہے؟ خيارِ رؤيت، کیونکہ اب اوصافِ جدید آ چکے ہیں اور ان اوصاف کو تو آپ نے پہلے دیکھا نہیں تھا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بھئی اختلاف ہو گیا، مشتری کہتا ہے بھئی چیز بدل چکی ہے، بائع کہتا ہے نہیں بھئی پرسوں ترسوں جو آپ دیکھ کر گئے تھے، بالکل اسی طرح ہے۔ کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اب کیا کریں؟ کس کا قول معتبر ہے؟ کہتے ہیں دیکھو بھئی، مشتری کہہ رہا ہے چیز بدل چکی ہے۔ اور بائع کیا کر رہا ہے؟ انکار۔ تو مشتری ہوا مدعی اور بائع ہوا منکر۔ اور آپ نے پڑھا ہے: البينة على المدعي واليمين على من أنكر۔ تو لہٰذا مدعی کون؟ مشتری۔ اور منکر کون؟ بائع۔ تو مشتری کے ذمہ ہے گواہ پیش کرے، اگر گواہ پیش نہیں کر سکتا تو پھر قاضی کس کے حکم پر فیصلہ کر دے گا؟ بائع کی قسم پر فیصلہ کر دے گا۔ تو معلوم ہوا قول کس کا معتبر؟ بائع کی قسم معتبر ہے، مشتری لاکھ قسمیں اٹھائے بھئی، تم پر تو قسم آتی نہیں، تم کیوں قسم کھاتے ہو؟ تم تو گواہ لاؤ، بس۔ نہیں لا سکتے تو پھر قسم کون اٹھائے گا؟ بائع اٹھائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ منکر قسم اٹھاتا ہے۔ قول بائع کا معتبر ہے بھئی۔ اختلاف ہو گیا بھئی، مشتری نے کہا میں نے اس کو دیکھا ہی نہیں تھا پہلے، مجھے خيارِ رؤيت اب ہے تو اب میں واپس کرتا ہوں۔ بائع نے کہا نہیں بھئی، پرسوں تو نے دیکھا تھا اس چیز کو بھئی۔ اب تو دیکھنے نہ دیکھنے میں اختلاف ہو گیا، اب کس کا قول معتبر ہے؟ بینہ کس پہ آتی ہے؟ اور... تو کہتے ہیں دیکھو، بائع دعویٰ کر رہا ہے کہ تو نے دیکھا ہے، مشتری انکار کر رہا ہے کہ میں نے نہیں دیکھا۔ تو اب بائع مدعی ہوا اور مشتری منکر ہوا، تو بائع پر کیا آئی؟ بینہ آئی اور مشتری پر قسم۔ تو بائع اگر دو گواہ پیش کر دیتا ہے تو ٹھیک ہے، قاضی اس کے مطابق فیصلہ کر دے گا، اگر بائع دو گواہ نہیں پیش کر سکتا تو قسم کے لیے ہم اس کی طرف دیکھیں گے بھی نہیں بھئی، وہ قسمیں کھاتا رہے، نہیں بھئی تم پر قسم ہے ہی نہیں، تم گواہ لاؤ، بس۔ قسم پھر کس سے لی جائے گی؟ تو قول کس کا معتبر؟ مشتری کا۔ یہی بات کر رہے ہیں۔ ومن رأى شيئا ثم اشتراه، اور جس نے کوئی چیز دیکھی، ثم اشتراه، پھر اس کو خرید لیا، خير، اس کو اختیار دیا جائے گا، یعنی خيارِ رؤيت، إن وجده متغيرا، اگر اس نے اس کو بدلا ہوا پایا، وإلا فلا، اور اگر بدلا ہوا نہیں پایا تو پھر اسے خيارِ رؤيت نہیں دیا جائے گا۔ والقول للبائع في عدم تغيره، اور قول بائع کا معتبر ہے اس کے نہ بدلنے کے اندر۔ بائع کہہ رہا ہے نہیں بدلی، اور مشتری کہہ رہا ہے بدل گئی، تو منکر کا قول معتبر۔ وللمشتري في عدم رؤيته، اور مشتری کے لیے کا قول معتبر ہے نہ دیکھنے کے اندر۔ مشتری کہہ رہا ہے میں نے نہیں دیکھا، بائع نے کہا تم نے دیکھا ہے۔ خود دیکھیے تفصیل بیان کر رہے ہیں۔ أي إذا اشترى شيئا قد رآه، یعنی جب کسی نے خریدا کسی ایسی چیز کو جس کو اس نے دیکھا تھا، فقال البائع، تو بائع نے کہا: إنه لم يتغير، کہ یہ چیز بدلی نہیں، حتى لا يكون لك الخيار، یہاں تک کہ اب تجھے اختیار نہیں ہوگا۔ وہ کہہ رہے ہیں نہیں بھئی، بدل گئی ہے۔ فالقول للبائع مع حلفه، تو قول بائع کا معتبر ہوگا اس کی قسم کے ساتھ، اس لیے کہ وہ منکر ہے، وہ کہہ رہا ہے بدلی نہیں۔ ولو قال المشتري، اور اگر مشتری نے کہا: لم أره، میں نے اس کو نہیں دیکھا تھا، ولي الخيار، اب مجھے خيارِ رؤيت ہے، فالقول للمشتري، تو قول کس کا معتبر؟ مشتری کا معتبر ہے، مع الحلف، قسم کے ساتھ مشتری کا قول معتبر ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ دیکھنے سے، پہلے دیکھنے سے انکاری ہے۔ ولو اشترى عدل زطي، عدل گٹھڑی کو کہتے ہیں۔ زطي، زطی بھئی۔ وقبضه، فباع منه ثوبا، أو وهب، وسلم، لم يرده بخيار رؤية، أو شرط، بل بعيب. بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے: آپ نے زید سے کپڑا خریدا، کپڑا، یہ گٹھڑی خریدی، اب اس کے اندر تو کئی تھان پڑے ہوئے ہیں، آپ نے ابھی تھان دیکھے نہیں۔ ایک ان میں سے آپ نے آگے فروخت کر دیا۔ قبضہ کر لیا، ابھی دیکھے نہیں، لیکن ان میں سے ایک تھان کیا کر دیا آگے فروخت کر دیا، یا کسی کو ہبہ کیا اور سپرد بھی کر دیا۔ ہبہ کیا اور سپرد بھی کر دیا۔ اب باقی بعد میں دیکھے تو پسند نہیں آئے بھئی۔ تو خيارِ رؤيت کی وجہ سے اب باقی کو واپس نہیں کر سکتا۔ یا اس نے خيارِ شرط رکھا ہوا تھا بھئی اسی صورت کے اندر، تو خيارِ شرط کی وجہ سے بھی واپس... ہاں، خيارِ عیب کی وجہ سے اگر اس نے عیب پایا تو پھر کیا کر سکتا ہے؟ واپس کر سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یوں سمجھو کئی چیزیں ایسی خریدیں جن کے افراد متفاوت ہیں۔ آپ نے کیا کیا؟ دوسرے سے مثلاً چار پانچ گاڑیاں خریدیں اور وہ ساری مختلف قسم کی ہیں، لیکن ابھی آپ نے دیکھی بغیر دیکھے آپ نے ان میں سے ایک آگے فروخت کر دی یا کسی کو تحفے میں بیگم کو تحفے میں دے دی بھئی۔ یہ گاڑی آپ کی ہو گئی بھئی۔ تو اب یاد رکھو بھئی، باقی گاڑیوں کے اندر آپ کو خيارِ شرط ختم ہو گیا۔ اسی طرح باقی گاڑیوں کے اندر خيارِ رؤيت بھی ختم ہو گیا۔ خيارِ شرط یا خيارِ رؤيت کی وجہ سے ان کو واپس نہیں کر سکتا، ہاں خيارِ عیب کی وجہ سے کیا کر سکتا ہے ان کو واپس کر سکتا ہے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیوں؟ علت سمجھ لو، آپ خود پورا مسئلہ آپ کے سامنے واضح ہو جائے گا۔ دیکھو، ابھی میں نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ تفریقِ صفقة قبل تمام العقد جائز نہیں، اور تفریقِ صفقة بعد تمام العقد جائز ہے۔ اور آپ نے پڑھا ہے کہ خيارِ شرط جو ہے، وہ کس چیز سے مانع ہے؟ ابتداءِ حکم سے، کس سے؟ بھئی خيارِ شرط ابتداءً حکم کو آنے ہی نہیں دیتا، تام ہونے کی بات کیا کرتے ہو؟ تام تو کہیں آخر میں جا کے ہوگا، وہ ابتداءً ملکیت کو آنے ہی نہیں دے رہا۔ اور خيارِ رؤيت ملکیت آ تو رہی ہے، لیکن تام نہیں ہو رہی۔ تو معلوم ہوا خيارِ شرط اور خيارِ رؤيت تمامِ عقد سے پہلے ہوتے ہیں، تمامِ عقد کے بعد نہیں ہوتے۔ تو یہ مانع ہوتے ہیں تمامِ عقد سے بھئی۔ معلوم ہوا تمامِ عقد کے بعد نہ خيارِ شرط ہے اور نہ خيارِ رؤيت۔ ہاں البتہ خيارِ عیب وہ تمامِ عقد سے مانع نہیں بھئی۔ تمامِ عقد سے مانع نہیں۔ تو لہٰذا جب وہ کپڑا، ایک گاڑی فروخت کر چکا یا ایک تحفے میں دے چکا، یا وہ کپڑے کی مثال بناؤ، ایک کپڑا وہ بیچ چکا ہے یا تحفے میں دے چکا ہے، تو باقی کپڑوں کو اگر وہ واپس کرتا ہے تو کیا لازم آئے گی؟ خيارِ شرط کی وجہ سے یا خيارِ رؤيت کی وجہ سے، تو کیا لازم آئے گا؟ تفریقِ صفقة قبل تمام... خيارِ شرط سے دے رہا ہے بھئی، خيارِ شرط تو تمامِ عقد سے پہلے ہوتا ہے، اور پہلے ہے تو پھر تفریقِ صفقة آپ... کچھ چیز لے رہے ہیں، کچھ چیز تو آپ نے بیچ دی اور کچھ کو کیا کر رہے ہیں؟ واپس کر رہے ہیں۔ نہیں بھئی نہیں، یا تو ساری واپس کرنی پڑتی ہے یا ساری قبول کرنی پڑتی ہے۔ خيارِ رؤيت ہے بھئی؟ یہ بھی کیا ہے؟ تمامِ عقد سے پہلے ہے بھئی۔ تو لہٰذا یہاں بھی یا تو ساری چیز لینی پڑتی ہے یا ساری چیز کو کیا کرنا پڑتا ہے؟ ورنہ تو کیا لازم آئے گا؟ تفریقِ صفقة قبل تمام العقد بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے ذرا، پھر آگے خيارِ عیب کی صورت میں آپ کو بتلاتا ہوں۔ ولو اشترى، اور اگر کسی نے خریدا، عدل، عدل گٹھڑی کو کہتے ہیں۔ زطي، بھئی یہ آگے خود تشریح کریں گے بھئی۔ کسی نے زطی کپڑوں کی گٹھڑی خریدی، وقبضه، اور پھر اس پر کیا کر لیا؟ قبضہ کر لیا۔ بھئی یہ قبضے کی قید کیوں لگائی؟ اس لیے کہ آگے آ رہا ہے اس نے بیچا ہے یا ہبہ کیا ہے، اور یہ تو ہیں مبیعہ، اور مبیعہ میں قبل القبض تصرف جائز ہے؟ نہیں جائز، تو اسی لیے کہا: وقبضه، اس پر کیا کر لیا؟ قبضہ بھی کر لیا، فباع منه ثوبا، تو اس میں سے ایک کپڑا بیچ دیا، أو وهب، یا کیا کر دیا؟ ہبہ کر دیا، وسلم، اور سپرد بھی کر دیا تاکہ ہبہ تام ہو جائے، لم يرده بخيار رؤية، أو شرط، اب اس کو واپس نہیں کر سکتا خيارِ رؤيت یا خيارِ شرط کی وجہ سے، بل بعيب، بلکہ کس کی وجہ سے واپس کر سکتا ہے؟ خيارِ عیب کی وجہ سے۔ ایک بیچ چکا ہے، باقی کو عیب کی وجہ سے کیا کر سکتا ہے؟ واپس کر سکتا ہے۔ الزط، بھئی تفصیل بتا رہے ہیں، زطی کا لفظ آیا۔ کہتے ہیں: الزط، جيل، جيل من الناس، بكسر الجيم بھئی، یا ساکنہ، جیم مکسور۔ جيل، جيل کا معنیٰ قوم، گروہ بھئی۔ جيل من الناس، لوگوں کا ایک گروہ تھا بھئی۔ في سواد العراق بھئی، سواد کا معنیٰ اطراف، اطرافِ عراق میں بھئی۔ زط کسے کہتے ہیں بھئی؟ علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں کہ زط لوگوں کا ایک گروہ تھا، ایک قوم تھی، في سواد العراق، جو کہاں رہتی تھی؟ اطرافِ... بھئی سوادِ عراق، عراق کے اطراف، تو یہ سوادِ عراق جو ہے، یہ ایک مخصوص علاقہ تھا بھئی، اس کی باقاعدہ حدود تھیں۔ مطلب پھیلا ہوا ہوگا بھئی اطراف میں عراق کے، تو اس لیے اس کو کہتے تھے سوادِ عراق بھئی۔ تو مخصوص حد تھی، اس کے سارے کو سوادِ عراق کہتے تھے بھئی۔ تو وہ لوگ کپڑا بنایا کرتے تھے۔ تو کہتے ہیں: والثوب الزطي ينسب إليهم، ثوبِ زطی منسوب ہے ان کی طرف۔ معلوم ہوا کوئی خاص کپڑا بناتے ہوں گے اعلیٰ قسم کا بھئی۔ تو ثوبِ زطی کے نام سے وہ مشہور تھا بھئی۔ بھئی انہوں نے کہا سوادِ عراق میں کچھ لوگ تھے، قوم تھی، وہ زطی کہلاتے تھے۔ دیگر عام کتابوں میں جو ملتا ہے، وہ یہ کہ زط جو ہے، یہ ہندوستان کے اندر ایک قوم تھی بھئی۔ سوادِ عراق میں نہیں بھئی، بلکہ کہاں کا لکھا ہے؟ ہندوستان کی ایک قوم تھی، وہ کپڑا بناتے تھے کوئی خاص اعلیٰ کپڑا، تو وہ ثوبِ زطی تھا بھئی۔ اکثر کتابوں میں یہی ہے بھئی۔ ہندوستان میں تھا۔ بلکہ بعضوں نے لکھا یہ زط اصل میں زَط تھا، کیا تھا؟ زَط، اور یہ زَط بنا ہے جٹ سے بھئی، کس سے بنا ہے؟ جٹ۔ ہاں، تو یہ جٹ لوگ کوئی تھے بھئی، تو اس سے پھر زَط اور پھر زُط ہو گیا بھئی۔ والأصل فيه، اصل اس کے اندر، ضابطہ اس کے اندر یہ ہے بھئی اس میں: أن رد البعض يوجب تفريق الصفقة، کہ بعض کو اب واپس کر رہا ہے، تو بعض کو واپس کرنا یہ ثابت کرتا ہے کس چیز کو؟ تفریقِ صفقة کو ثابت کرتا ہے، وهو قبل التمام لا يجوز، اور وہ قبل التمام جائز نہیں، وبعد التمام يجوز، اور تمام ہونے کے بعد جائز ہے۔ ثم خيار الشرط والرؤية يمنعان تمام الصفقة، یہ دونوں تو تمامِ صفقة کو روکتے ہیں۔ وخيار العيب يمنعه قبل القبض لا بعده۔ بھئی آگے ہم خيارِ عیب کے بارے میں بھی پڑھیں گے، میں نے آپ کو شروع میں بتلایا تھا خيارِ شرط کے باب میں کہ خيارِ عیب کس چیز سے مانع ہے؟ لزومِ بیع سے بھئی، لزومِ بیع۔ معلوم ہوا بیع کے تام ہونے سے یہ مانع نہیں۔ ہاں، اگر ابھی قبضہ نہیں کیا بھئی، تو پھر یہ تمامِ بیع سے مانع ہے۔ بھئی آپ چیز خریدتے ہیں، شریعت نے آپ کو کیا حق دیا ہے بھئی؟ خيارِ عیب کا حق دیا ہے کہ اگر اس میں کوئی عیب مل جائے تو کیا کر سکتے ہو؟ واپس کر سکتے ہو۔ لیکن خيارِ عیب کے اندر یہ یاد رکھنا، یہ آیا ہے جب قبضہ کر لیا تو تمامِ عقد ہو گیا، عقد پورا ہو گیا۔ اب اس میں آپ کو کسی عیب کا پتہ چلا کہ جو پہلے سے اس میں تھا بھئی۔ اب آپ اس کو واپس کرنا چاہتے ہیں، شریعت نے آپ کو حق دیا۔ لیکن یہ ویسے نہیں دے سکتے جب تک بائع راضی نہ ہو۔ بائع راضی ہوگا تو پھر اسے کیا کر سکتے ہیں؟ واپس کر سکتے ہیں۔ اگر وہ راضی نہیں ہوتا پھر قاضی کے پاس جاؤ، پھر قاضی کے فیصلے کے ذریعے واپس ہوگا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو خيارِ شرط، خيارِ رؤيت وغیرہ میں تو قاضی کے فیصلے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، لیکن خيارِ عیب تمامِ عقد ہو جائے، قبضہ ہو جائے، اس کے بعد چیز واپس کرنا چاہتے ہیں عیب کی وجہ سے، تو اس میں یا تو بائع کی رضامندی ضروری یا قاضی کا فیصلہ ضروری ہے بھئی، یہ ضابطہ یاد رکھنا بھئی۔ اب بات یہ آپ نے سمجھنی ہے کہ یہ خيارِ عیب، یہ قبضے سے پہلے تمامِ عقد سے مانع ہے اور قبضے کے بعد تمامِ عقد سے مانع نہیں۔ دیکھو، آپ نے ایک چیز خریدی، دیکھ کر خریدی ہے، تو نہ خيارِ شرط ہے اور نہ خيارِ رؤيت ہے، ان کی بات چھوڑ دو، اب ہم صرف خيارِ عیب کی بات کر رہے ہیں۔ ایک چیز خریدی، تو بتلائیے بھئی، اس میں عیب ہونے کا امکان ہے یا عیب ہونے کا امکان نہیں بھئی؟ امکان تو ہے، امکان تو ہے۔ تو صرف اس امکان کی وجہ سے ہم یہ... کہیں کہ بیع ہی تام نہیں ہوئی یہ صرف امکان کی وجہ سے بیع کو تام نہ قرار دیا جائے یہ درست نہیں یہ تو ایک امکانی چیز ہے وہمی چیز ہے تو وہمی چیز کی وجہ سے ہم یہ کہیں کہ بیع ہی تام نہیں ہوئی وہمی چیز تمام بیع سے مانع نہیں بن سکتی ہاں پھر اس میں 2 صورتیں آگئیں یہ وہم قبل القبض بھی ہے اور بعد القبض بھی ہے لیکن قبل القبض میں مبییع کے ھلاک ہونے کا بھی امکان ہے بیع کے فسخ ہونے کا بھی امکان ہے بھئی آپ نے کیا کیا 1 چیز دوسرے سے خرید لی ابھی مبیع آپ کے پاس نہیں پہنچا تو بیع فسخ ہونے کا احتمال ہے یا نہیں ہے؟ بیع فسخ ہونے کا بھی احتمال ہے، کیسے احتمال ہے؟ ہو سکتا ہے وہ مبیع ابھی بائے کے پاس ہی ہے، وہ ہلاک ہو جائے، تو جب مبیع پر ہی تو عقد ہوا تھا اور مبیع ختم ہو جائے تو عقد ہی کیا ہو جایا کرتا ہے؟ تو ایک وہم ہے قبضے سے پہلے کس چیز کا؟ عیب کا، اور اس کے ساتھ ایک اور چیز مل گئی، کون سی؟ خیار. جی. بیع کے فسخ ہونے کا احتمال، تو دو چیزیں مل گئیں، اب مولانا قوت آ گئی، بھئی. کیا آ گئی؟ قوت آ گئی، تو جب قوت آ گئی، تو تمام عقد نہ ہوا بھئی، تمام عقد نہ ہوا، اب یہ مانع بن گیا تمام عقد سے. سمجھ میں آیا؟ خیار عیب کس چیز سے مانع بن رہا ہے؟ تمام عقد سے، اور کب مانع بن رہا ہے؟ قبضے سے پہلے مانع بن رہا ہے، قبضے کے بعد مانع نہیں. اس لیے کہ خیار عیب میں مانع بننے والی چیز کیا ہے؟ عیب کا وہم، عیب کا وہم، عیب کا وہم، اور عیب کا وہم قبضے سے پہلے بھی ہے، قبضے کے بعد بھی ہے، قبضے کے بعد صرف عیب ہونے کا وہم ہے، تو اس وہمی چیز، وہمی چیز تمام بیع سے مانع نہیں ہو سکتی، لیکن قبل القبض ہو تو اس وہمی چیز کے ساتھ ایک اور چیز بھی مل جاتی ہے، اور وہ کیا ہے؟ بیع کے فسخ ہونے کا احتمال، تو اب دو چیزیں ہو گئیں، دو ہو گئیں تو قوت آ گئی، جب قوت آ گئی تو تمام بیع نہیں ہوئی بھئی، تمام بیع نہیں ہوئی. تو خیار عیب قبل القبض یہ مانع ہے کس چیز سے؟ تمام عقد سے، اور بعد القبض یہ مانع نہیں ہے تمام عقد سے، یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ اسی لیے اگر قبضے سے پہلے چیز کے اندر آپ کو مبیع، چیز کے اندر عیب کا پتہ چلا، تو ابھی عقد تام نہیں ہوا، قبضے سے پہلے آپ کو کس چیز کا پتہ چل گیا؟ تو تمام عقد ہوا؟ تو تمام عقد بھی نہیں ہوا، تو لہذا اب آپ اس ساری چیز کو واپس کریں یا کیا کریں؟ ساری چیز کو تفریق صفقة نہیں کر سکتے. سمجھ میں آیا؟ تک. ہاں، بعد القبض اب کیا ہو چکا ہے؟ صرف عیب کا وہم ہے، تو اب یہ تمام عقد سے مانع نہیں تو عقد تام ہو چکا اور عقد تام ہونے کے بعد تفریق صفقة ہو سکتا ہے یا نہیں بھئی؟ عقد تام ہونے کے بعد ہو سکتا ہے، لہذا اب عقد تام ہو چکا ہے، اب وہ کیا کرتا ہے؟ ایک جو اس نے بیچ دیا کپڑا، بھئی یا ایک گاڑی تحفے میں دے دی، تو باقیوں کو عیب کی وجہ سے کیا کر سکتا ہے؟ واپس کر سکتا ہے، اس لیے کہ اس صورت میں اگر یہ تفریق صفقة تو لازم آ رہا ہے، لیکن وہ قبل تمام العقد ہے یا بعد تمام العقد؟ بعد تمام العقد ہے، بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، کہاں سے ہے؟ وخیار العیب يمنعه قبل القبض، اور خیار عیب وہ روکنے والا ہے، بھئی، تمام عقد کو قبل القبض، قبضے سے پہلے، لا بعدہ، قبضے کے بعد نہیں، بھئی، وھذا، اور یہ اس اس وجہ سے، لانہ اذا شرط الخیار لاحدھما، کہ جب خیار شرط لگائی گئی بھئی، خیار کی شرط لگائی گئی لاحدھما، دونوں میں سے کسی ایک کے لیے، لم يتحقق الرضا الكامل، تو کامل رضا. بھئی، آپ نے ایک چیز خریدی یا بیچی، بھئی، اور کہا تین دن تک مجھے عقد کو فسخ کرنے کا بھی حق ہے، تو آپ کامل طور پر رضامند ہیں؟ نہیں، تو جب تک کسی کے لیے بھی خیار ہے، تو کامل رضامندی نہیں، تو عقد تام نہیں. عقد اس لیے تام نہیں، وکذا اذا لم ير المشترى مشتراہ، اسی طرح جب مشتری نے اپنے مشتری یعنی مبیع کو جب تک نہیں دیکھا، تو اس وقت بھی پوری رضا نہیں. تو جب پوری رضا نہیں، تو عقد تام نہیں. اما اذا لم يشترط الخيار، اور باقی اس وقت جبکہ خیار شرط کی، خیار کی شرط ہی نہ لگائی جائے، اور شرط الخيار فاجاز، شرط تو لگائی تھی، لیکن ایک نے کیا کر دی پھر جس نے لگائی تھی؟ فاجاز من لہ الخيار، تو اجازت دے دی اس نے، جس کو کیا تھا؟ خیار تھا، تو یہ کس چیز کی علامت ہے؟ کامل رضامندی کی. خیار شرط لگائی ہی نہیں، ویسے بیع کر لی. جی، چلیے، بحث کریں، ھذا واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام.
106 approved lectures · 17 of 106