والابق إلا ممن زعم أنه زعم أي قال فهذا بيع فاسد لوجود المال المتقوم إلا أنه لا قدرة على تسليمه فإنه إذا قال المشتري إنه عندي فحينئذ يجوز.
فآبق أيضا پڑھ سکتے ہیں اي لا يجوز بيع الأابق بی کو حذف کر دیا اور آبق کو اس کا اعراب دے دیا بھئی مرفوع پڑھا یا بی جو مجرور ما قبل میں تھا اسی پر عطف کر دو اور تو بیع کے تحت آ جائے گا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہوگا.
اي لا يصح أو لا يجوز بيع الأابق إلا جائز نہیں ہے بھئی آبق کہتے ہیں بھگوڑا غلام بھئی جو بھاگا ہوا ہے دیکھو بھئی آپ کا ایک غلام تھا بھئی.
وہ بھاگ گیا بھاگنے کے بعد پھر واپس آیا اب یہ بھگوڑا تو ہے لیکن اس وقت تو آپ کے پاس ہے اب آپ اس کو آرام سے بیچ سکتے ہیں اس کے سپرد کرنے پر قادر ہیں بیع صحیح ہے مولانا.
سمجھ میں آیا بیع صحیح ہو گئی.
دوسری صورت یہ کہ غلام بھاگ گیا ہے اسی حالت میں اب اس کی بیع کرنا چاہتے ہیں وہ بھاگا ہوا ہے تو اب آپ مجھے بتائیے بھئی یہ بیع درست ہوگی یا درست نہیں ہوگی بھئی؟ کیوں نہیں درست بھئی؟ شاباش کل آپ نے ضابطہ پڑھا تھا کہ جو مبیع ابھی مقدور التسلیم نہ ہو بھئی مشتری اس کو سپرد کرنے پر قادر نہ ہو اس کے اندر بیع فاسد تو یہ غلام بھاگا ہوا ہے اس کے آپ سپرد کرنے پر قادر ہی نہیں پتہ نہیں کدھر ہے اس وقت تو اس میں بیع فاسد.
ہاں اس شخص پر جس نے کہا آپ کا غلام میرے پاس ہے اس پر کیا کر سکتے ہیں اس کو بیچ سکتے ہیں تو اس بھگوڑے غلام کی بیع سے حدیث میں منع آیا ہے بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اس لیے کہ انسان اس کے سپرد کرنے پر قادر نہیں لیکن جب مشتری کے پاس موجود ہے تو اس کے حق میں وہ بھاگا ہوا ہے؟ اس کے حق میں تو بھاگا ہوا نہیں اس کے تو پاس موجود ہے لہذا اس پر بیچ سکتے ہیں کسی اور پر نہیں بھئی.
صورت سمجھ میں آگئی بھئی.
تو وہ مال متقوم تو ہے لیکن مقدور التسلیم نہیں اس وقت بھئی.
اور دیکھو بھئی میں نے پہلے بھی بتلایا تھا باء کا صلہ من اتا ہے جیسے اشتر کا صلہ من اتا ہے.
میں نے کہا بعت هذا الغلام من زيد کیا معنی؟ بیچا میں نے اس غلام کو من زید زید پر بھئی کس پر؟ زید پر ہاں تو باء کا صلہ من جس پر من داخل ہو اس پر چیز بیچی گئی ہے جیسے اشترايتو میں بھی من آتا ہے وہ اس پر داخل ہوگا جس سے چیز خریدی گئی ہے اشترايتو من زيد کیا معنی؟
زید سے خریدی تو جس اور بع تو من زید کا کیا معنی زید پر بیچی.
اب عبارت دیکھیے.
والابق اور بھگوڑے غلام کی بیع بھی صحیح نہیں الا مگر من یہ دیکھا میم من آیا یہ من اور من ہے بھئی مگر اس پر زعم اي قال خود بتائیں گے آگے بھئی قال کے معنی میں جس کا یہ گمان ہے بھئی جس نے یہ کہا بھئی انّہ عندہ کہ وہ غلام اس کے پاس ہے.
دیکھیے یہ زعم آگے جو آ رہا ہے یہ شراہ کا حصہ ہے یہ علامہ صدر الشریعہ معنی بتلا رہے ہیں زعم اي قال زعم کس معنی میں ہے؟ قال کہ جب مشتری نے خود کہا کہ میرے پاس ہے تو اب اس پر آپ بیچ سکتے ہو فهذا بيع فاسد تو یہ بیع فاسد ہے بھئی.
بھگوڑے غلام کی بیع کیا ہے؟ فاسد ہے لوجود المال المتقومي تو باطل نہیں اس لیے کہ مال متقوم تو ہے الا انه لا قدرة على تسليمه مگر یہ کہ اس بائے کو کوئی قدرت نہیں ہے اس کے سپرد کرنے پر.
لكن فانہ إذا قال المشتري انّہ انّہ عندي لیکن جب مشتری نے یہ کہا کہ وہ آبق غلام میرے پاس ہے فحیئنذ يجوز تو اس صورت میں یہ بیع جائز ہے.
ولبن امرأة في قدح.
جی اور عورت کا دودھ پیالے میں بھئی بھئی عورت کا دودھ بیچ سکتا ہے پیالے میں نکال کر یا نہیں بیچ سکتا بھئی؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی جائز نہیں ہے بھئی اس لیے کہ انسان جیسے حر بھئی بھئی آپ نے پڑھا حر کی بیع جائز نہیں کیوں نہیں جائز اس لیے کہ وہ انسان کہ وہ محترم ہے کیا ہے؟ محترم و مکرم ہے بھئی محترم و مکرم.
اور وہ محترم و مکرم ہے بجميع اجزائه اپنے سارے اجزاء کے ساتھ تو لبن بھی اسی کا جز ہوا لہذا اس کی بیع بھی جائز نہیں بھئی.
انما قال في قدح بھئی قدح کی قید کیوں لگائی یہ بتلا رہے ہیں صرف یہ کہہ دیتے لبن امرأة اس کی دودھ کی بیع جائز نہیں کہتے ہیں بھئی دو صورتیں تھیں بھئی یا تو اس کے پستان میں دودھ ہوگا اس کا مسئلہ وہ پیچھے گزر چکا ہے جانور کے دودھ کی بیع تھن کے اندر.
تو جو اس کا حکم تھا اس کا بھی وہی حکم ہوگا ایک صورت رہ گئی تھی کہ جانور کے دودھ کے تو نکال کر بیع جائز تھی کیا اس کے دودھ کی بیع اس طرح جائز ہے یا نہیں وہ بتلا رہے ہیں.
انما قال في قدح متن نے في قدح کی قید لگائی لان بیع اللبن في الزرع قد ذكر اس لیے کہ دودھ کی بیع تھن کے اندر وہ تو ذکر ہو چکی ہے فلبن امرأة انما يبطل بيعه بس عورت کا دودھ جو ہے اس کی بیع باطل ہے لأنه من اجزاء الآدمي یہ اس لیے کہ یہ کس کے اجزاء میں سے ہے؟ آدمی جوئی.
فلا يكون مالا تو یہ مال نہیں بھئی کہ آدمی محترم و مکرم ہے.
وفيہ خلاف الشافعي اور اس میں خلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھئی وہ کیا فرماتے ہیں؟
بیع جائز ہے نیچے لکھا ہے فلا يجوز عنده غلط ہے بھئی جگہ جگہ اس کتاب میں خصوصاً بین السطور تو عجیب عبارت نکالتے ہیں بھئی.
بھئی امام صاحب کے نزدیک جائز نہیں اور اختلاف ہے اس میں امام شافعی کا تو خود بخود کیا پتہ چل گیا کہ ان کے نزدیک جائز ہے تو اگر ان کے نزدیک بھی جائز نہ ہوتا تو پھر کوئی اختلاف تو نہ ہوتا بھئی.
اور اس میں اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا وعند ابی يوسف رحمہ اللہ يجوز بيع اللبن الامة امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرق کرتے ہیں کہتے ہیں ایک عام عورت کا دودھ ہے ایک باندی کا دودھ ہے کہتے ہیں ہاں عام عورت کے دودھ کی بیع جائز نہیں ہے لیکن باندی کے دودھ کی بیع کو وہ فرماتے ہیں جائز ہے وہ اعتبار کرتے ہیں.
کل پر جز کا دودھ اس کا جز ہے جب کل باندی کی بیع جائز ہے تو اس کے جز کی بیع بھی جائز ہے.
وعند ابي يوسف رحمہ اللہ يجوز بيع اللبن الامۃ اعتبارا للجزء بالكل امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک باندی کے دودھ کی بیع جائز ہے قیاس کرتے ہوئے للجزء بالكل جز کو کس پر؟ کل پر اعتبار کرتے ہوئے یعنی قیاس کرتے ہوئے.
ولابي حنيفة رحمہ اللہ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ ان الرقۃ غير نازل في اللبن کہ رقیّت نازل نہیں ہوئی دودھ میں بھئی.
امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی کہ باندی کی بیع تو اس لیے جائز تھی کہ اس میں رقیّت تھی بھئی غلامی تھی.
اس لیے اس کی بیع جائز لیکن دودھ کے اندر رقیّت نازل نہیں ہوتی اس میں غلامی نازل اس لیے کہ رقیّت وہاں آئے گی جہاں عتق بھی آ سکے بھئی اور عتق باندی میں تو آ سکتا ہے دودھ کے اندر نہیں آ سکتا.
مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی تو رقیّت وہاں نازل ہوئی ہے اور جہاں رقیّت ہو وہاں کیا آیا کرتی ہے عتق بھی رقیّت کی ضد کیا ہے مولانا عتق عتق تو عتق بھی آ سکتا ہے تو یہاں عتق نہیں آ سکتا ان الرقہ غير نازل في اللبن کہ رقیّت نازل نہیں ہوئی دودھ کے اندر اس میں نہیں اتری فہی باقية على أصل الآدمية تو یہ باقی ہے اصل آدمیت پر بھئی.
اصل اور آدمی کے اندر اصل ہونا کیا ہے اصل کیا ہے کہ وہ محترم و مکرم ہے اس کے اجزاء کی بیع جائز نہیں بھئی.
سمجھ میں آیا بھئی.
جی تو امام صاحب کے نزدیک بھئی باندی کے دودھ کی بھی بیع جائز نہیں آزاد عورت کے دودھ کی بیع جیسے جائز نہیں اسی طرح اس کے دودھ کی بیع بھی جائز نہیں بھئی.
و شعر الخنزیر فإن البيع فيه باطل بھئی اور خنزیر کے بال بھئی بھئی میں نے سب میں بتایا مرفوع بھی پڑھ سکتے ہو مجرور بھی.
اور خنزیر کے بال بھئی ان کی بیع بھی فأن البیع فیہ اس لیے کہ بیع ان بالوں کے اندر باطل ہے بھئی.
سمجھ میں آیا بھئی خنزیر نجست العين ہے بھئی بجمیع اجزائه اجزاءه اس کے سارے اجزاء اجزاء کیا ہیں؟ نجس ہیں.
وان حل الانتفاع به اگرچہ حلال ہے ان سے نفع اٹھانا للخرز.
خرض کہتے ہیں چمڑے کو سینا بھئی.
خرض چمڑے کو سینا.
للخرض به اگرچہ جائز ہے ان سے نفع اٹھانا للخرز چمڑے کو سینے کے لیے ضرورتا بنا بر ضرور ضرورت ہونے کی وجہ سے جائز بھئی معلوم ہوا بھئی اس خنزیر کے جو بال ہیں وہ کوئی خاص بھئی ان میں مضبوطی پائی جاتی ہے خراب نہیں ہوتے ہوں گے بھئی.
تو اور چمڑے کو سینے کے لیے مضبوط چیز چاہیے تو قدیم زمانے میں کوئی ایسی خاص چیز نہیں ہوتی ہوگی کہ جس سے چمڑے وغیرہ کو سیا جائے تو اس میں پھر ضرورت کی بنا پر کیا کی ہے فقہاء نے اجازت دے دی ہے بھئی فقہاء نے اجازت دے دی ہے.
مثلا موضع سیے بھئی موضع.
تو موضع سیے بھئی.
اگرچہ ہمارے اسلاف پسند نہیں کرتے تھے استعمال نہیں کرتے کہ ان ویسے اجازت دے دی کوئی کرے تو کر سکتا ہے.
نیز اس لیے کہ موضع سیے گا بھئی تو پھر بھی وہ جو دھاگا ہے وہ جو اس کا بال ہے وہ قدموں میں ہے قدموں میں ہے تو پھر بھی اس کی توقیر نہیں ہے بلکہ کیا ہے اہانت ہی ہے بھئی.
تو ضرورت کی بنا پر اجازت دے دی اس میں.
آج کل تو بھئی بڑی بہترین چیزیں آ گئی ہیں اب تو ویسے اس کی بھی ضرورت نہیں ہوگی.
کہ مضبوط چیزیں آ گئی ہیں مضبوط دھاگے آ گئے ہیں بھئی.
अच्छा بھئی.
ولا شعر الآدمي اور آدمی کے بال بھئی ان کی بیع بھی جائز نہیں فأن بیعه باب وہ بتلاتے جا رہے ہیں کہاں بیع باطل ہے کہاں فاسد ہے ان کی بیع بھی کیا ہے باطل ہے ولا الانتفاع به اور نہ ہی ان کے ذریعے نفع اٹھانا بھئی یہ بھی جائز نہیں ہے.
ان کے لیے نفع اٹھانا بھی جائز نہیں ہے.
کیونکہ انسان محترم ہے بھی جمیع اجزائه بھئی.
ولا جلد المیتۃ اور نہ ہی مردار کی کھال یاد رکھو مسئلہ بھئی.
کہ حلال جانور تو کچھ ہیں جن کو ہم کھاتے ہیں جو درندے وغیرہ ہیں ان کو بھی اگر ذبح کر دیں تو یہ پاک ہو جاتے ہیں طاہر ہو جاتے ہیں.
سمجھ میں آیا.
یہ ہاں کھانے کی بات نہیں کر رہا کھانے کے اعتبار سے تو حرام ہیں بھئی حلال نہیں میں نے کہا میں نے کیا کہا طاہر ہو جاتے ہیں پاک ہو جاتے ہیں یعنی ان کے ذریعے اب نفع اٹھانا جائز ہے.
ان کے ذریعے بھئی کھانے کے علاوہ کوئی اور ان سے نفع اٹھاتے ہیں دوائی وغیرہ بناتے ہیں ان کی چربی نکالتے ہیں یا کوئی اور چیز ان کی کھال اتار کر استعمال کرتے ہیں یہ سب چیزیں کیا ہو گئیں پاک ہو گئیں ان سے نفع اٹھانا جائز ہوا ہاں اگر مردار ہے مر گیا اب نہیں مولانا اب.
نہیں اب نجس بن گیا بھئی مردار بھئی تو اب اس سے نفع نہیں اٹھا سکتے ہاں اس کی کھال اگر اتار لی بھئی.
اور تو یہ کھال یہ بھی ابھی طاہر نہیں ہے بھئی.
اگر ذبح کیا تھا پھر تو کھال بھی طاہر ہو گئی.
لیکن اگر ذبح نہیں کیا ویسے مرا ہے اور آپ اس کے مرے ہوئے کی کھال اتار لیتے ہیں تو اب یہ کھال اس سے بھی نفع اٹھانا جائز نہیں یہاں تک کہ دباغت دی جائے اس کو کیا دی جائے؟ دباغت دباغت کوئی خاص طریقہ تھا بھئی خاب ہوگا چمڑے کو خاص طریقے سے خشک وغیرہ کیا جاتا ہے اور صاف کیا جاتا ہے وہ بھئی دباغت دے دی جائے تو پھر اس کا چمڑا وہ مردار جو جانور ہے اس کا چمڑا بھی کیا ہو جائے گا پاک ہو جائے گا اب آپ اس سے نفع اٹھا سکتے ہیں بھئی.
یہ معنی ہے ولا جلد الميتة قبل دبغہ اور نہ ہی جائز ہے کس کی بیع بھئی؟ مردار کی کھال کی مردار کی کھال کی قبل دبغہ اس کھال کی دباغت سے پہلے فأن بيعه باطل اس لیے کہ ان کی بی.
کھال کی بیع باطل ہے بھئی.
سمجھ میں آیا جب مردار ہو ہاں دباغت دے دی پھر پاک ہو گئی.
و إن صح بيعه والانتفاع به بعده اي بعد الدبغ بعد الدبغ کس کے بعد بھئی؟ دباغت کے بعد اور یہ ضمیر دباغت کو راجع ہے.
دباغت کے بعد جائز ہے.
تو.
کعظمها وعصبها والصوفها وشعرها و قرنها ووبرها.
سمجھ میں آیا صحیح ہے جیسے کھال کی بیع بھی اور اس سے نفع اٹھانا بھی دباغت کے بعد اس سے نفع اٹھانا بھی اور بیچنا جیسے کہ کعظمہا آے عظمت میتتی مردار کی ہڈیوں کو بیچنا یہ بھی جائز ہے یہ بھی کیا ہے؟ صحیح ہے وعصبها اس کے پٹوں کی بیع بھی مردار کے صحیح ہے والصوفہا بھئی صوف بھئی یہ جو بھیڑ پر بال وغیرہ ہوتے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ دنبے اور بھیڑ پر بھئی اور مردار بھئی بھیڑ ہے اس کے بال اتار لیتے ہیں ان کی بھئی مردار کی بات چل رہی ہے ساری مردار کی ہڈیاں ہیں مردار کے پٹھے ہیں مردار کی اون ہے وشعرها اور اس کے بال ہیں بھئی.
باقی جانوروں میں بال ہیں بھیڑ کے اندر اون تھی وقرنها اور اس کے مردار کے سینگ ہیں ووبرها وبرا کہتی ہے بھئی یہ اونٹ کے جو بال ہوتے ہیں.
تین نام ائے تینوں بالوں کے نام ہیں سوف شعر وبر صوف بھیڑ وغیرہ میں شعر باقیوں میں اور وبر کس کے اندر بھئی اونٹ اونٹ کے بھئی.
ان کے بال فأن بيع هذه الأشياء صحیح اس لیے کہ ان اشیاء کی بی کیا ہے؟ صحیح ہے بھئی کیوں یہ تو مردار تھا پھر اس کے پٹھے ہڈیوں بالوں سے اور سینگوں سے کیوں نفع اٹھا سکتے ہیں اور بیچ سکتے ہیں؟.
تو کہتے ہیں ان اشیاء کی بی بھی صحیح وکذا الانتفاع بها اور اسی طرح ان سے نفع اٹھانا بھی جائز ہے ان چیزوں سے لأن الموت غير حال في هذه الأشياء اس لیے کہ موت حلول نہیں کرنے والی ان چیزوں میں موت ان میں نہیں آئی بھئی.
سمجھ میں آیا؟.
موت ان میں نہیں ہے.
تو کہتے ہیں موت تو وہاں آئے گی جہاں زندگی ہو اور ان چیزوں میں زندگی نہیں ہے بھئی بال دیکھیں آپ کاٹتے ہیں بھئی تو کوئی تکلیف ہوتی ہے بھئی؟ تکلیف نہیں ہوتی معلوم ہوا زندگی نہیں.
تو یہ اس قسم کی چیزیں ہیں سینگ وغیرہ ان میں زندگی نہیں تھی تو موت بھی نہیں آئی جب موت نہیں آئی تو یہ.
ان کا حکم الگ ہے بھئی مردار کی طرح نہیں.
والفيل كالسيع خلافا لمحمد رحمہ اللہ تعالى اور ہاتھی جو ہے كالسابع درندوں کی طرح ہے.
بھئی درندوں کی بیع بتلائی تھی جائز نہیں ہے لیکن فتوی کیا ہے؟.
کہ اگر وہ قابل انتفاع ہوں تو ان کی بیع جائز ہے تو یہی امام امام اعظم فرما رہے ہیں کہ ہاتھی بھی درندوں کی طرح ہے.
لہذا اس کی بھی بیع جائز نہیں بھئی خلافا لمحمد رحمہ اللہ.
جی ہاتھی درندوں کی طرح ہے اور جیسے درندے مر جاتے تھے تو ان کے درندے تو ان کے بالوں سے اور.
کھال وغیرہ ان چیزوں سے نفع اٹھا سکتے تھے دباغت کے بعد اوپر آیا یا نہیں مسئلہ کن کن چیزوں سے.
تو ہاتھی بھی ان کی طرح ہے لہذا اس میں بھی یہی حکم ہے بھئی.
جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں ہاتھی خنزیر کی طرح ہے نجست العين ہے.
تو اس کی کھال سے دباغت کے بعد بھی نفع نہیں اٹھا سکتے جیسے خنزیر کی کھال سے دباغت کے بعد بھی نفع نہیں اٹھا سکتے.
تو یہ خلافا لمحمد رحمہ اللہ تعالیٰ وفخلاف امام محمد رحمہ اللہ کے.
تو جی یہ حتی يجوز اس کا تعلق والفيل كالسع سے ہے ہاتھی درندوں کی طرح ہے حتى يجوز بيع عظمه والانتفاع بعظمه یہاں تک کہ اس کی ہڈیوں کی بیع اور اس کی ہڈیوں سے نفع اٹھانا جائز ہے خلافا لمحمد رحمہ اللہ وبخلاف امام محمد رحمہ اللہ کے فانہ كالقنزیر عندہ اس لیے کہ یہ ان کے نزدیک کس کی طرح ہے؟ خنزیر کی طرح تو ہڈیوں سے بھی نفع نہیں اٹھا سکتے.
ولا بيع علو بعد سقوطہ.
صورت مسئلہ یہ ہے.
بھئی ایک مکان ہے.
جیسے آج کل ہوتا ہے بھئی.
مارکیٹ بنائی جاتی ہے نچلی منزل کسی اور کی اوپر والی کسی اور کی اس سے اوپر والی کسی اور کی اس سے اوپر کی کسی اور کی.
اب کہتے ہیں یہ ٹھیک ہے یہ بیع صحیح ہے بھئی.
لیکن یہ اس وقت صحیح ہے جبکہ اس چیز کا وجود ہو مولانا.
اوپر کی چیز کی بیع کرتے ہو تو اس کا وجود ہونا چاہیے اور اگر اس کا وجود نہیں ہے تو اس کی بیع بھی درست نہیں.
مثلا نیچے والی منزل ہے زید کی اوپر والی منزل ہے بکر کی گھر.
گر گیا یا صرف اوپر والی منزل گر گئی بھئی۔ اب وہ اوپر والی منزل کس کی تھی؟
بکر کی، بکر اس کو آگے بیچنا چاہتا ہے، بھئی کس چیز کو بیچنا چاہتے ہو، اوپر کسی چیز کا وجود ہے؟ اوپر کی دیواریں اور چھت آپ کی تھی اوپر والی، تو وہ تو گر چکی ہے، اب صرف آپ کے اوپر رہنے کا حق ہے صرف آپ کو بھئی، اوپر کا حق ہے اوپر کا، اور وہ حق کی بیع نہیں ہوتی اس لیے کہ وہ مال نہیں، بیع تو کس چیز کی ہوتی ہے، مال کی، ہاں اوپر وہ دیواریں بنی ہوتی ہیں ان پہ یا دیواریں ہوتیں یا چھت ہوتی تو پھر تو ٹھیک تھا بھئی اس کی بیع، لیکن اس وقت جب وہ گر جائے چاہے صرف اوپر والی منزل گرے یا نیچے والی گرے، مطلب یہ بس اوپر والی کا وجود ہونا چاہیے تو پھر اس کی بیع ہوگی ورنہ اس کی بیع نہیں ہوگی۔
وَلَا بَيْعُ عِلْوٍ بَعْدَ سُقُوْطِهِ
اور جائز نہیں ہے علو اوپر والی منزل، اوپر والی منزل کی بیع
بَعْدَ سُقُوْطِهِ
اس کے گرنے کے بعد،
إِذَا كَانَ الْعِلْوُ لِرَجُلٍ
جب اوپر والی منزل کسی ایک شخص کی تھی،
وَالسِّفْلُ لِرَجُلٍ
اور نیچے والی منزل کسی اور شخص کی تھی،
فَسَقَطَا أَوْ سَقَطَ الْعِلْوُ وَحْدَهُ
تو دونوں گر گئیں یا صرف اوپر والی گر گئی، پھر جب گر گئیں تو
فَبَاعَ صَاحِبُ الْعِلْوِ عِلْوَهُ
تو بیچا صاحبِ علو نے اپنی اوپر والی علوہ، اپنی اوپر والی منزل کو،
بَطَلَ بَيْعُهُ
اس کی بیع باطل ہے،
إِذْ بَعْدَ السُّقُوْطِ لَمْ يَبْقَ إِلَّا حَقُّ التَّعَلِّيْ
اس لیے کہ گرنے کے بعد تو کچھ بھی باقی نہیں ہے سوائے حقِ تعلی کے، اوپر کا حق بھئی،
وَهُوَ لَيْسَ بِمَالٍ
اور وہ تو مال نہیں بھئی۔
بھئی دیکھو! یہاں ایک اور مسئلہ بھی آپ کو بتلا دوں، انہوں نے کیا کہا، اوپر والی منزل ہوگی تو اس کی بیع صحیح، اوپر والی منزل نہیں تو اس کی بیع بھی صحیح نہیں۔
لیکن ہوتا آج کل یوں ہے بھئی کہ مارکیٹ بنتی ہے ابھی بننے سے پہلے اشتہارات شروع ہو جاتے ہیں، بوکنگ شروع ہو جاتی ہے، دفتر بنا دیتے ہیں اور کوئی کوئی منزل نہیں بنی، نچلی بھی نہیں بنی، اوپر والی بھی نہیں بنی، ساروں کی بیع کر دیتے ہیں، تو کیا یہ بیع درست ہے یا درست نہیں ہے بھئی؟
درست ہے مولانا، یہ کیا ہے؟ یہ استصناع ہے بھئی کہ ہمیں بنا کر دو گے، اور آپ نے پڑھا ہے یا نہیں کبھی پیسے دیے جاتے ہیں موچی کو پہلے سے بھئی، یہ لو پیسے لو مجھے جوتا تیار کر کے دو، تو جوتا تو معدوم ہے بیع کس کی کرتے ہو؟ لیکن یہ استصناع ہے مولانا کہ وہ کیا کرے گا آپ کو بنا کر دے گا، اس کی آگے تفصیل آ جائے گی، تو وہاں بھی یہ بلڈنگ کے اندر استصناع ہے بھئی وہ کیا کر رہا ہے آپ کو بنا کر دیں گے۔
ہاں! اب آگے آپ اس کی بیع کرتے ہیں، یوں بھی کرتے ہیں پھر لوگ کہ خرید لیا ٹھیک ہے بھئی دوسری منزل پہ فلاں کمرہ میرا بھئی، فلاں دفتر میرا، اب اس کو پھر آگے بیچ دیتے ہیں، ابھی بنا ہی نہیں ہے بھئی، ہفتے 10 دن میں اس کا ریٹ اور اوپر چلا جاتا ہے، پھر اگلا خریدار اس کو اور آگے بیچ دیتا ہے، یہ نہیں درست بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ ابھی وہ چیز ہے ہی نہیں، بنی ہی نہیں تو بیچتے کس چیز کو ہو بھئی، قبضہ ہی نہیں ہے۔
چلیے!
وَبَيْعُ شَخْصٍ عَلَى أَنَّهُ أَمَةٌ وَهُوَ عَبْدٌ
بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے ایک شخص کو غلام بیچا یا یوں کہو، ایک چیز بیچی، یہ وہ وہ چیز ہے میں نے آپ کو اتنے درہم میں بیچ دی، اس نے جب بعد میں بیع اس نے کر لی بھئی، بیع کے بعد دیکھا تو وہ چیز وہ نہیں نکلی، کوئی اور چیز نکلی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
آپ نے گائے بیچی تھی مولانا، وہ بعد میں گدھا نکلی بھئی، پتہ چلا کیا بیچا ہے؟ گدھا بیچا ہے۔
یا غلام بیچا تھا، یہ غلام میں نے بیچا، بعد میں دیکھا تو وہ باندی نکلی، یا باندی بیچی تھی تو وہ کیا نکلا؟ غلام، مطلب ایک چیز بتلائی، دوسری چیز نکلی، ایک یہ صورت۔
اور ایک یہ صورت کہ آپ نے مذکر کہہ کر بیچی اور وہی چیز مونث نکلی بھئی، آپ نے بھیڑ بیچی اور نکلی کیا؟ دنبہ نکلا بھئی، یا آپ نے دنبہ بیچا اور بھیڑ، یا آپ نے گائے بیچی، کیا نکلی بھئی؟ بیل نکل آئی بھئی، صرف مذکر مونث کا فرق پڑا بھئی، تو یاد رکھو! اس صورت میں اور مسئلہ ہے اگر تذکیر و تانيث کا فرق ہوتا ہے وہاں، اور اگر جنس ہی الگ ہے پھر اور مسئلہ ہوگا بھئی، دیکھیے بھئی!
وَبَيْعُ شَخْصٍ عَلَى أَنَّهُ أَمَةٌ وَهُوَ عَبْدٌ
اور کسی شخص کی بیع، شخص بھئی یاد رکھو! اس کا اطلاق مذکر و مونث دونوں پر ہوتا ہے، کسی شخص کو بیچا
عَلَى أَنَّهُ أَمَةٌ
اس شرط پر کہ یہ باندی ہے بھئی،
وَهُوَ عَبْدٌ
اس حال میں کہ وہ کیا تھا بھئی؟ غلام تھا، تو بعد بعد میں اس نے دیکھا تو غلام نکل آیا،
فَإِنَّ الْبَيْعَ بَاطِلٌ
یہ بیع کیا ہے؟ باطل ہے۔
بِخِلَافِ مَا إِذَا اشْتَرَى كَبْشًا
برخلاف اس کے جب اس نے خریدا دنبے کو، کبش مذکر ہے بھئی،
فَإِذَا هُوَ نَعْجَةٌ
تو اچانک وہ بھیڑ تھی،
فَإِنَّ الْبَيْعَ مُنْعَقِدٌ
تو اب بیع منعقد ہو جائے گی،
وَلِلْمُشْتَرِي الْخِيَارُ
اور مشتری کو خیار ہوگا، اس لیے کہ وہ تو مذکر ہو سکتا ہے دنبہ ہی اس کو چاہیے ہو، مونث کی ضرورت نہ ہو، تو وہ وصف فوت ہو گیا، اس لیے اس کو خیار دے دیں گے، بیع منعقد ہو جائے گی۔
بھئی یہ کیا وجہ ہے؟ آپ نے کہا کہ اگر غلام بیچا تھا اور وہ باندی نکل آئی، یا یہ کہا تھا یہ باندی بیچی ہے اور کیا نکل آیا؟ غلام، آپ نے کہا بیع باطل، اور اگر دنبہ مذکر بیچا اور بھیڑ نکلی بھئی، تو آپ نے کہا بیع منعقد ہو گئی اور مشتری کو خیار ہے، بیع کو فسخ کرنا چاہے تو فسخ کر سکتا ہے، ان دونوں میں فرق کیوں کیا؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ دونوں مختلف مسئلے میں ہیں، دونوں مختلف مسئلے ہیں، ایک میں جنسیں الگ الگ ہیں، دوسری میں جنس متفق ہے دونوں کی۔
دنبہ بیچا، کیا نکلی؟ بھیڑ، جنس ایک ہی ہے، جنس کیا ہے؟ ایک ہی، اس لیے کہ حیوانات کے اندر بھئی یہ تذکیر و مذکر و مونث ہونا اس سے جنس بدلتی نہیں، مذکر اور مونث دونوں ایک ہی جنس شمار ہوتے ہیں۔
البتہ انسان کے اندر مذکر رجل ہونا اور جنس ہے، اور عورت ہونا اور جنس ہے بھئی، کیوں؟ بھئی آپ نے پڑھا نہیں اصول الشاشی کے شروع کے اندر بھئی جنس کی مثال انہوں نے کیا ذکر کی ہے بھئی؟ رجل ذکر کی ہے، کیا ذکر کی ہے؟ رجل، کیوں؟ اس لیے کہ فقہاء بحث کرتے ہیں اغراض و مقاصد سے۔
تو فقہاء بحث کرتے ہیں کس سے بھئی؟ اغراض و مقاصد سے بھئی، اور اغراض و مقاصد الگ الگ ہوں تو جنس بھی الگ شمار ہوگی، اب رجل کے اغراض و مقاصد اور ہیں، امرأة کے اغراض و مقاصد اور ہیں، رجل کے کیا اغراض و مقاصد ہیں؟ بھئی وہ امام بن سکتا ہے، اور وہ حدود و قصاص کے مقدمات میں گواہ بن سکتا ہے، عورت نہیں بن سکتی بھئی اسی طرح۔
اور جبکہ اسی طرح عورت کے مثلاً یہ چند ایک اغراض، عورت کے لیے کیا اغراض و مقاصد ہیں کہ وہ مرد کے لیے مستفرشہ بنے بھئی، یعنی اس کے اولیٰ اولاد کو جنم دے بھئی، اولاد کے سنبھالے اس کے لیے، سمجھ میں آیا؟ گھر کے ذمہ داری، تو دونوں کے اغراض و مقاصد الگ الگ ہیں بھئی، جب دونوں کے اغراض الگ الگ تو دونوں جنسیں بھی الگ الگ شمار ہوئیں، جبکہ باقی جانوروں میں مذکر اور مونث کے اندر فرق نہیں اس لیے کہ ان کے اغراض و مقاصد ایک ہیں بھئی۔
ایک سے چمڑا لیا جاتا ہے مذکر سے تو دوسرے سے بھی کیا لیا جائے گا؟ چمڑا، کا حصول ہے، گوشت کا حصول ہے، ہڈیوں کا حصول ہے وغیرہ سب سے وہی چیز۔
یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ انسان کے اندر رجل اور امرأة کیا ہیں؟ الگ الگ جنس ہیں، اور باقی جانوروں کے اندر مذکر اور مونث ایک ہی جنس ہیں، اب ضابطہ یاد رکھو بھئی! آگے شرح کے اندر بالتفصیل وہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں ضابطہ یہ ہے کہ جب اشارہ اور تسمیہ اکٹھے ہو جائیں، دیکھیے! من شرح کے اندر پوری عبارت آئے گی بھئی، لکھنے کی ضرورت نہیں، جب اشارہ اور تسمیہ اکٹھے ہو جائیں، تو مختـ... دو صورتیں ہیں بھئی، مختلف الجنس بھی ہو سکتے ہیں، مثلاً میں نے اشارہ کیا بھئی، ایک شخص میرے سامنے کھڑا ہے، میں نے آپ کو بیچا کہ یہ غلام میں نے آپ کو 10 درہم میں بیچا، تو دیکھو اشارہ کیا اس شخص کی طرف، اور نام بھی لیا، کیا ہے یہ؟ غلام ہے۔
تو دیکھو اشارہ بھی آ گیا اور تسمیہ اس کا نام بھی ذکر ہو گیا، تسمیہ کا معنیٰ نام ذکر کرنا، اشارہ بھی ہوا اور نام بھی ذکر ہوا، اور بعد میں وہ باندی نکلی، تو یاد رکھو! اگر دونوں کی جنس الگ الگ تھی، غلام کی جنس تو الگ ہے، باندی کی جنس... ابھی تقریر گزری بھئی، دونوں کی جنس الگ الگ، تو اگر دونوں کی جنس الگ الگ تھی تو اس صورت میں نـ... تسمیہ کا اعتبار ہوگا، کس کا اعتبار ہوگا؟ اور تسمیہ میں میں نے کیا ذکر کیا تھا بھئی، کیا نام ذکر کیا تھا؟ غلام کی بیع کی بھئی، یہ میں نے اشارہ بھی کیا اور نام بھی لیا بھئی، اب نام کا اعتبار ہوگا، اور نام تو میں نے لیا ہے غلام کا، اور غلام موجود ہے؟ تو معدوم کی بیع ہوئی، اور یہ بیع کیا ہو گئی؟ باطل ہو گئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور اگر نام اور اشارہ اکٹھے ذکر ہوئے ہیں، اور جنس بعد میں ایک ہی رہتی ہے، مثلاً میں نے بیچا دنبہ، اور نکلی کیا بعد میں؟ بھیڑ، میں نے کہا: "یہ دنبہ میں نے آپ کو اتنے میں بیچا"، تو یہ اشارہ بھی کر دیا، اور دنبہ بھی کہہ دیا، تو اشارہ بھی ہوا اور تسمیہ بھی آ گئے، اور وہ چیز نکلی کیا؟ بھیڑ، اب دیکھو! جنس ایک ہے یا الگ الگ ہے بھئی؟ ایک ہی جنس ہے، جب جنس ایک ہو تو پھر اشارے کا اعتبار ہوگا، کس کا اعتبار ہوگا؟ اور اشارہ تو میں نے جس کی طرف کیا تھا: "یہ چیز"، وہ موجود ہے یا موجود نہیں ہے؟ تو اس کی تو بیع ہو گئی، پہلی صورت میں تو وہ جـ... جس کا نام لیا تھا وہ معدوم تھا، اور اب اس میں جس کی طرف اشارہ کیا ہے وہ موجود ہے، لہٰذا بیع ہو گئی، لیکن خیار دیا جائے گا بھئی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ سب کو؟
وَالْأَصْلُ فِي ذَلِكَ
اور ضابطہ اس کے اندر یہ ہے،
أَنَّ الْإِشَارَةَ وَالتَّسْمِيَةَ إِذَا اجْتَمَعَتَا
کہ اشارہ اور تسمیہ جب اکٹھے ہو جائیں،
فَفِي مُخْتَلِفَيِ الْجِنْسِ يَتَعَلَّقُ بِالْمُسَمَّى
تو دو مختلف، مختلفین تھا سمجھ میں آیا بھئی؟ نون اضافت سے گر گیا، تو دو مختلف جنسوں کی صورت میں
يَتَعَلَّقُ بِالْمُسَمَّى
عقد کا تعلق کس سے ہوگا بھئی؟ مسمیٰ سے جس کا نام لیا گیا ہے، اور میں نے تو کہا تھا یہ غلام ہے، اور نکلی کیا؟ باندی، تو
وَيَبْطُلُ
تو بیع کیا ہو جائے گی؟ بیع کا تعلق اس مسمیٰ سے ہوگا یعنی جس کا نام لیا گیا ہے،
وَيَبْطُلُ لِإِعْدَامِ الْمُسَمَّى
اور باطل ہو جائے گی اس وجہ سے کہ مسمیٰ کیا ہے؟ معدوم ہے بھئی،
وَفِي مُتَّحِدَيِ الْجِنْسِ
اور متحد الجنس چیزیں ہونے کی صورت میں
يَتَعَلَّقُ بِالْمُشَارِ إِلَيْهِ
ایجاب، ایجاب و قبول کا تعلق کس سے ہوگا؟ مشار الیہ سے بھئی، اور مشار الیہ موجود ہے یا نہیں بھئی؟ موجود ہے، تو بیع منعقد ہو جائے گی،
وَيَنْعَقِدُ بِوُجُوْدِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ
اور منعقد ہو جائے گی بیع مشار الیہ کے وجود کے سے بھئی،
لَكِنَّ الْمُشْتَرِيَ بِالْخِيَارِ
لیکن مشتری کو خیار ہوگا،
لِفَوَاتِ الْوَصْفِ
اس لیے کہ کیا ہو گیا ہے، وصف فوت ہو گیا ہے جو اس کو مطلوب تھا،
فَالذَّكَرُ وَالْأُنْثَى فِي بَنِي آدَمَ جِنْسَانِ
پس مذکر اور مونث بنی آدم کے اندر، انسانوں میں دو جنسیں ہیں،
لِفُحْشِ التَّفَاوُتِ
لتفاوت الفاحش، انتہائی تفاوت کی وجہ سے بھئی، یہ صفت کی اضافت موصوف کی طرف کر دی ہے،
لِفُحْشِ التَّفَاوُتِ
انتہائی تفاوت کی وجہ سے،
وَاخْتِلَافِ الْأَغْرَاضِ
اور اغراض کے مختلف ہونے کی وجہ سے،
وَفِي غَيْرِ بَنِي آدَمَ جِنْسٌ وَاحِدٌ
اور غیرِ بنی آدم کے اندر مذکر اور مونث ایک ہی جنس ہیں،
وَشِرَاءُ مَا بَاعَ بِأَقَلَّ مِمَّا بَاعَ قَبْلَ نَقْدِ ثَمَنِهِ الْأَوَّلِ
صورتِ مسئلہ سمجھ لو بھئی!
صورتِ مسئلہ یہ، میں نے آپ کو اپنا غلام بیچا، کوئی بھی چیز مثلاً بیچی، میں نے آپ کو اپنا غلام بیچا کتنے کے بدلے میں؟ 10 درہم کے بدلے میں، کتنے کے بدلے؟ 10 درہم، یا یوں کہو چلو جو کتاب میں آ جائے گا وہی کہہ لیں، 15 درہم کے بدلے میں نے آپ کو اپنا غلام بیچا، غلام پر آپ نے قبضہ کر لیا مولانا، لیکن ابھی مجھے 15 درہم ادا نہیں کیے، چند دن کے بعد آپ پھر وہی غلام کسی وجہ سے میرے ہاتھ فروخت کرتے ہیں، اور میں اب آپ سے وہ غلام 10 درہم میں خرید لیتا ہوں، کیا کرتا ہوں؟ 10 درہم میں خرید لیتا ہوں، تو آپ کے پاس میرے 15 تھے، 10 کے ذمے کیا آ گیا میرے پاس؟ غلام، اور باقی 5 درہم بھی آپ مجھے دیں گے بھئی، تو اب غلام بھی آیا اور 5 درہم بھی میرے پاس آ گئے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ کیا یہ درست ہے یا نہیں؟ فقہاء فرماتے ہیں، احادیث میں بھی منع ہے بھئی، اس طرح کرنا درست نہیں ہے بھئی، درست نہیں۔
اس لیے کہ یہ جو مجھے نفع حاصل ہوا 5 درہم کا، یہ کہاں سے آیا بھئی؟ میرے ان بچوں سے آیا جو آپ کے پاس تھے، کہاں سے آیا میرے پاس نفع؟ جو ابھی میں نے وصول ہی نہیں کیے تھے، اور جب میں نے پیسے وصول ہی نہیں کیے تھے تو وہ پیسے میرے ضمان میں داخل ہوئے تھے؟ میرے ضمان میں بھی داخل، میرے ان بچوں کے ڈوبنے کا کوئی خطرہ ہے؟ وہ کبھی بھی نہیں ڈوب سکتے بھئی، آپ بالکل دیوالیہ بھی ہو جائیں مولانا، پھر بھی آپ کے ذمے میرے 15 درہم، ہاں میرے اپنے پاس ہوتے تو ڈوب جاتے تو ختم ہو جاتے، لیکن آپ کے پاس ہیں تو ڈوبنے کا کوئی خطرہ بھی، معلوم ہوا وہ ثمن ابھی میرے ضمان میں داخل نہیں ہوئے بھئی، ضمان میں داخل، اور ان کے ذریعے میں نفع حاصل کر رہا ہوں، حالانکہ ضابطہ ہے ضابطہ، کتاب میں آ جائے گا، الغنم بإزاء الغرم بھئی، الغنم بإزاء الغرم بھئی، نفع کے نفع نقصان کے مقابلے میں ہے، نفع کے مقابلے میں نقصان بھی ہے بھئی، نفع وہی ائے گا جہاں نقصان کا بھی اندیشہ ہو بھئی، وہ نفع درست ہے، اور جہاں نقصان کا اندیشہ ہی نہیں ہے وہاں نفع بھی درست نہیں، سمجھ میں آیا؟ وہ پیسے میرے پاس آتے تو اب اس میں کیا تھا؟ میرے ضمان میں آ گئے تو نقصان کا بھی خطرہ ہے، لیکن جب آپ کے پاس ہیں تو نقصان کا کوئی خطرہ نہیں، جب نقصان کا کوئی خطرہ نہیں تو نفع کیوں ان کے ذریعے اٹھاتے ہو؟ نفع تو وہاں ہے جہاں نقصان کا بھی امکان ہو، چنانچہ کل قرض جر نفعاً فهو ربا، ہر وہ قرض جو نفع کو کھینچے وہ کیا ہے؟ ربا۔
دیکھو! آپ میرے سے قرض لے کر گئے، اب اس قرض کے ڈوبنے کا خطرہ ہے؟ نہیں، وہ آپ کے ذمے رہیں گے جب تک آپ ادا نہیں کرتے، اور میں نے ساتھ شرط بھی لگا دی: "بھئی لے کر 100 جا رہے ہو، مہینے بعد کتنے دو گے؟ 115، دو مہینے بعد کتنے دو گے؟ 1_تھری_زیرو بھئی"، بڑھتے 130 بڑھتے ہی جا رہے ہیں، تو نفع آ رہا ہے اور نقصان کا کوئی خطرہ ہے؟ نہیں بھئی، یہ بھی اس لیے درست نہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو نفع نقصان کے مقابلے میں آتا ہے بھئی، جس چیز سے آپ نفع اٹھاتے ہیں اس کا نقصان بھی آپ کو برداشت کرنا پڑے گا بھئی، اور یہاں تو نقصان برداشت کرنے کی کوئی صورت نہیں، لہٰذا اب دیکھو! آپ کو میں نے غلام بیچا تھا 15 کے اندر اور آپ سے واپس خریدا 10 کے اندر، تو ان 15 درہموں سے میں نے کیا اٹھا لیا؟ نفع اٹھا لیا، تو یہ نفع کس کے مقابلے میں آیا، نقصان کے مقابلے میں آیا؟ نہیں بھئی، یہ تو یہ ضمان میں داخل نہیں تھے، لہٰذا ان کے ذریعے نفع اٹھانا بھی، صورت سب کو سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی!
وَشِرَاءُ مَا بَاعَ
یعنی لا يصح شراء، اور صحیح نہیں ہے خریدنا
مَا
اس چیز کا
بَاعَ
جس کو بیچا تھا
بِأَقَلَّ
أي بثمنٍ أقل، موصوف محذوف ہے بھئی، کس کے بدلے خریدنا؟
بِأَقَلَّ
ایسی ثمن کے بدلے
مِمَّا بَاعَ
أقل ہو اس ثمن سے جس پر بیچا تھا بھئی، اس ثمن سے جس پر بیچا تھا،
قَبْلَ نَقْدِ ثَمَنِهِ الْأَوَّلِ
ثمنِ اول کی ادائیگی سے پہلے پہلے، ثمنِ اول کی... آپ کو میں نے غلام بیچا تھا، کتنے میں بیچا تھا بھئی؟ 15 میں، اور وہ ثمنِ اول ہیں، ان کی ادائیگی ہوئی ہے ابھی؟ ادائیگی نہیں ہوئی، اور میں اس کو خرید رہا ہوں اسی قیمت پر جس پر بیچا تھا یا اس سے کم قیمت پر بھئی؟ یہی مسئلہ ہے، دیکھو صورت بتا رہے ہیں:
بَاعَ شَيْئًا بِخَمْسَةَ عَشَرَ
کسی نے کوئی چیز بیچی 15 درہم میں،
وَلَمْ يَأْخُذِ الثَّمَنَ
اور ثمن یعنی اس کو وصول نہیں کیے،
ثُمَّ اشْتَرَاهُ بِعَشَرَةٍ
پھر اس کو خرید لیا 10 کے بدلے،
فَتَقَاصَّ الْعَشَرَةُ بِعَشَرَةٍ مِنْ خَمْسَةَ عَشَرَ
تو 10، 10 کے برابر ہو گئے 15 میں سے، 10 تو کس کے برابر، 15 میں سے کتنے کے برابر ہو گئے 10؟ اور باقی کتنے رہ گئے؟
فَبَقِيَ لِلْبَائِعِ عَلَى الْمُشْتَرِي خَمْسَةٌ
تو فبقي للبائع علی المشترِي خمسةٌ، تو باقی رہ گئے بائع کے لیے مشتری پر 5 بھئی،
فَهِيَ رِبْحُ مَا لَمْ يَضْمَنْهُ
فهي ربح ما لم يضمنه، تو یہ نفع ہے اس چیز کا جس کا وہ ضامن
نہیں ہے۔ ای ثَمَنًا، یعنی اس ثمن کا۔ یہ کس کا نفع ہے؟ وہ جو ثمن آپ کے پاس سے جس کا میں ضامن نہیں تھا، وَهُوَ خَمْسَةَ عَشَرَ، اور وہ کتنے تھے بھئی؟ وہ 15 تھے، لِأَنَّهُ لَمَّا لَمْ يَقْبِضِ الْبَائِعُ لَمْ يَدْخُلْ فِي ضَمَانِهِ، اسی کے جب ان پر بائع نے قبضہ نہیں کیا تو وہ اس کے ضمان میں بھی داخل نہیں ہوئے، وَإِنَّمَا الْغُنْمُ بِإِزَاءِ الْغُرْمِ بھئی۔ نفع کے مقابلے میں نقصان بھی ہے بھئی۔ نفع کس کے مقابلے میں ہے؟ ازاء کا معنی، مقابلے میں بھئی۔ غنم، نفع بھئی۔ غرم، غنم کا نون ساکن ہے، غرم کی را بھی ساکن ہے بھئی۔ نفع، نقصان کے مقابلے میں ہے۔ فَيَكُونُ الرِّبْحُ حَرَامًا، تو نفع حرام ہو گا۔ فَيَكُونُ هَذَا الْبَيْعُ فَاسِدًا، تو یہ بیع فاسد ہو گی۔ خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رحمه الله، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں جائز ہے بھئی۔
جی، وَشِرَاءُ مَا بَاعَ مَعَ شَيْءٍ آخَرَ لَمْ يَبِعْهُ بِثَمَنِهِ الْأَوَّلِ فِيمَا بَاعَ وَإِنْ صَحَّ فِيمَا لَمْ يَبِعْ، یہ عبارت بھی مشکل ہے۔ اوپر والی عبارت سمجھ میں آ گئی تھی متن کی؟ یہ عبارت بھی مشکل ہے۔ صورت مسئلہ یہ، وہی صورت ہے تھوڑی بدل دی بھئی۔ میں نے آپ کو غلام کتنے کا بیچا؟ 15 کا، اور وہ غلام پر آپ نے قبضہ کر لیا، لیکن ابھی میں نے آپ سے پیسے وصول نہیں کیے، اب وہ غلام آپ پھر مجھ پر بیچتے ہیں اور ساتھ ایک اور چیز بھی ملا دیتے ہیں بھئی، مثلاً ساتھ ایک کتاب بھی ملا دی بھئی یا کوئی اور، ایک اور غلام کو بھی ملا دیا کہ لو بھئی، یہ دو غلام میں نے آپ کو 15 میں بیچ دیے، اب آپ اسی قیمت کے بدلے کتنے حاصل کر لیتے ہیں؟ دو، تو یہ صورت بھی کہتے ہیں بھئی، اس غلام کے اندر تو درست نہیں جو اس نے بیچا تھا، جو اس نے بیچا تھا، دوسرے میں اس کے حصے کے بقدر بیع صحیح ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ وہ 15 میں آپ نے مجھ سے ایک غلام لیا تھا اور اب اسی 15 میں مجھے کیا دے رہے ہیں؟ دو دے رہے ہیں، یعنی زائد چیز بھی ساتھ کوئی ملا رہے ہیں بھئی، یا غلام کے ساتھ ایک کتاب بھی مجھے دے رہے ہیں، تو غلام کے اندر تو بیع صحیح نہیں، لیکن اس کتاب میں اس کے حصے کے بقدر بیع صحیح ہو جائے گی۔
اور صحیح نہیں ہے شراء ما باع، اس چیز کا خریدنا جس کو بیچا تھا مع شيء آخر، دوسری چیز کے ساتھ، اس کو خریدنا درست نہیں، دوسری چیز کون سی ہے؟ صفت آ رہی ہے اس کی، شيء آخر لم يبع، ایسی دوسری چیز کہ جس کو اس نے بیچا نہیں تھا، ایک کو تو بیچا تھا، دوسری کو بیچا نہیں تھا، اس کے ساتھ اب اس کو خرید رہا ہے، کس کے بدلے؟ بثمنه الأول، ثمن اول کے بدلے میں، سمجھیں؟ بیع صحیح نہیں ہے فيما باع، اس چیز میں جس کو اس نے بیچا تھا، وإن صح، اور اگرچہ صحیح ہے فيما لم يبع بھئی، اس چیز کے اندر جس کو اس نے بیچا نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی سب کو؟ باع شيءًا بخمسة عشر، کسی نے کوئی چیز بیچی 15 میں، ولم يأخذ الثمن، اور ثمن اس نے وصول نہیں کیے، ثم اشتراه مع شيء آخر، پھر اس کو بائع نے خرید لیا ایک اور چیز سمیت بھئی، بخمسة عشر، اسی 15 کے بدلے میں، فالبيع فاسد في المبيع الأول، تو بیع فاسد ہے مبیع اول کے اندر، وجائز في الآخر، اور دوسرے میں جائز۔ بھئی، اب کیا صورت کریں گے؟ کیسے ثمن نکالیں گے اس کے بھئی؟ پہلا بھی تو 15 کا بیچا تھا؟ کہتے ہیں بھئی، یوں کریں گے، اب کل ثمن میں وہ ان کی قیمتوں پر تقسیم کر کے ان کا حصہ نکال لیں گے۔
مثلاً، میں نے پہلے آپ کو کتنے کا بیچا تھا ایک غلام؟ 15 کا، اور 15 کا، اور اب میں نے آپ سے دو غلام کتنے کے خریدے؟ 15 کے، اب ان کی قیمت ذرا مارکیٹ میں جا کر پتہ کرو، تاجروں کے ہاں ان کی قیمت کیا ہے؟ یہ تو ثمن تھے نا پہلے جو 15 طے ہوئے، تاجروں سے پتہ کیا، انہوں نے کہا، یہ ایک غلام بھی 10 کا ہے، دوسرا غلام بھی کتنے کا ہے؟ 10 کا ہے، 10 کا ہے۔ اب دونوں میں برابری کی نسبت آ گئی۔ سمجھ میں آیا؟ وہ بھی 10 کا ہے، یہ بھی 10، دونوں برابر ہیں، جب دونوں برابر ہیں تو وہ جو 15 ہیں، اس میں دونوں کا حصہ ہے اور برابر برابر ہے، تو معلوم ہوا ساڑھے سات ایک کا حصہ ہوا، ساڑھے سات ایک کا، تو وہ ساڑھے سات جو پہلے غلام کے ساتھ بیع، جس کو بیچا تھا، اس میں تو صحیح ہی نہیں، اور دوسرے کتنے کے بدلے میں آ گیا؟ ساڑھے سات کے بدلے میں بیع صحیح ہو جائے گی اس کے حصے کے بقدر، صورت سمجھ میں آ گئی؟
اگر تاجروں سے پتہ کیا، ان کی قیمت کتنی ہے؟ انہوں نے کہا، وہ جو غلام آپ نے پہلے بیچا تھا، وہ 10 کا ہے، اور یہ جو آپ خرید رہے ہیں، یہ کتنے کا ہے؟ 20 کا ہے، یہ کتنے کا ہے؟ 20 کا، اب ایک کی قیمت 10 ہے، دوسرے کی 20 ہے، کیا نسبت ہے بھئی درمیان میں؟ ایک دوسرے سے دگنا ہے، ایک کی قیمت دوسرے سے دگنا ہے، معلوم ہوا، تین حصے ہوں تو ایک حصہ ایک کی قیمت بنتی ہے اور دو حصے دوسرے کی قیمت بنتی ہے، تو ایک کی قیمت کتنی ہو گئی؟ 15 میں سے، ایک کتنے کے بدلے ہو گیا؟ بھئی، تین حصے کرو اب، ہاں، ایک 5 کے بدلے ہو گیا پہلا والا، اور دوسرا اس سے دگنا، یعنی 10 کے بدلے ہو گیا، تو 10 میں بیع صحیح ہو جائے گی بھئی، یہ معنی ہے۔ فيقسم الثمن على قيمتها، پس ثمن کو تقسیم کیا جائے گا اس کی قیمت، ان کی قیمت پر بھئی، فيجوز في الشيء الآخر بھئی، تو بیع کیا ہو جائے گی؟ صحیح ہو جائے گی دوسرے غلام کے اندر اس کے حصے کے بقدر ثمن میں سے، وہو، اور ثمن کتنے تھے بھئی؟ وهو خمسة عشر بھئی، 15 تھے، تو اس، وہ ثمن جو 15 تھے، اس میں سے اس کے حصے کے بقدر میں بیع صحیح، یعنی ساڑھے سات میں پہلی صورت میں، اور 10 میں دوسری صورت میں بیع صحیح ہو جائے گی۔
چلیے، بس! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔