باب الربا وهو فضل خال عن عوض شرط لأحد العاقدين في المعاوضة، أي فضل أحد المتجانسين على الآخر بالمعيار الشرعي أي الكيل أو الوزن.
بيوع الصحيحة وبيوع فاسدة بيوع مكروهة وغيره كبيان بوا باب الربا اب بيوع محرمة کا بیان ہوگا بھئی۔ تو بيوع محرمة میں سے ایک بیع ربا ہے بھئی۔
ربا لغت میں کہتے ہیں بھئی زیادتی کو بھئی۔ زیادتی بھئی۔ لیکن ہر زیادتی نہیں مراد بھئی کیونکہ بیع تو ہوتی زیادتی کے لیے ہے نفع کے لیے ہے خاص زیادتی مراد ہے جس کا اب وہ بیان کریں گے۔
تو ربا کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں ہوا فضل وہ ایسی زیادتی ہے خال عن عوض جو عوض سے خالی ہو بھئی۔ جو عوض سے کیا ہو؟ خالی خالی ہو. شرط لأحد العاقدين اور جو شرط لگائی جائے کسی عقد کرنے والوں میں سے کسی ایک کے لیے وہ زیادتی کیا ہے؟ شرط اس کی شرط لگائی گئی ہے عقد کرنے والوں میں سے کسی ایک کے لیے في المعاوضات کس کے اندر؟ معاوضے میں بھئی معاوضے میں۔
تو یہ ربا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایسی زیادتی جو عوض سے خالی ہو اور شرط لگائی گئی ہو اس کی عقد کرنے والوں میں سے کسی ایک کے لیے و فی المعاوضہ اور کس میں ہو؟ معاوضے میں ہو بھئی۔ معاوضے میں ہو۔
تو دیکھیے مثلاً ایک شخص دوسرے کے ساتھ بیع کرتا ہے گندم کی۔ یہ دے رہا ہے دس من گندم اور اس سے لے رہا ہے بارہ من گندم۔ تو دس من تو دس من کے بدلے ہو گئے، یہ جو دو من ہیں یہ کیا ہوئے؟ زائد ہو گئے، یہ ربا ہے، یہ کیا ہے؟ ربا ہے تو دیکھو یہ ایسی زیادتی ہے جو عوض سے خالی ہے۔ ایک طرف دس من گندم ہے، دوسری طرف بارہ من گندم ہے، تو دس من گندم کے دس من کے بدلے میں ہو گئے بھئی اور یہ دو من کیا ہوئے؟ زائد ہے تو اس کی شرط لگائی گئی ہے عقد کرنے والوں میں سے کسی ایک کے لیے، یہ عقد کرنے والا لے گا بھئی ان میں سے اور کس میں لے گا؟ معاوضے کے طور پر لے دے رہا ہے، عوض اس کا دے رہا ہے، یہ دس دے رہا ہے اس کو اور اس سے کتنے لے رہا ہے؟ بارہ بھئی۔
دیکھیے بھئی آسان باتیں، تقریبا ساری باتیں شرح کے اندر ہی آ جائیں گی۔ دیکھیے ای فضل المتجانسين یعنی زیادتی متجانسين میں سے کسی ایک کی۔ یعنی دونوں چیزیں ایک ہی جنس سے ہوں ان میں سے کسی ایک کی زیادتی ہو علی الآخر دوسرے پر بالمعیار الشرعی کس کے کس کے ذریعے ہو یہ؟ شرعی پیمانے کے ذریعے ایل کیل او الوزن اور وہ کیا ہے؟ کیل یا وزن بھئی۔ کیل یا وزن۔
معلوم ہوا جنس بھی ایک ہو اور چیز بھی کیلی یا وزنی ہوں بھئی۔ یہ آگے آپ کو بتائیں گے متن میں وعلتہ القدر مع الجنس بھئی کہ علت اس ربا کی کیا ہے؟ قدر مع الجنس کے ہے یعنی دونوں چیزوں کی جنس بھی ایک ہو اور دونوں چیزوں میں قدر بھی ہو بھئی، قادری ہوں۔ یعنی دونوں طرف مکیلی ہو یا دونوں طرف موزونی ہو بھئی، وزنی چیز ہو۔
تو کہا، اس لیے کہا متجانسين کہا یعنی دونوں کی جنس کیا ہو؟ ایک ہو بھئی اور کس کے ساتھ ہو؟ معیار شرعی کے ساتھ یعنی کیل یا وزن کے ساتھ۔ لہذا عدد عدد ہے یا ذراع وغیرہ کے ساتھ اس کی پیمائش ہوتی ہے تو وہ اس سے خارج ہو گئے بھئی۔
خود بتلا رہے ہیں ففضل قفیذ شعیر علی قفیذ بر لا يكون من باب الربا لہذا اب ایک شخص بیع کرتا ہے بھئی دوسرے کو دو قفیذ جو کے دیتا ہے اور ایک قفیذ گندم کا لیتا ہے بھئی۔ ایک قفیذ گندم کا تو دونوں متجانسين نہیں۔ بھئی ایک طرف گندم ہے تو دوسری طرف جو ہے اب زیادتی تو آ رہی ہے۔ گندم کتنی ہے؟ ایک من، جو کتنی ہے؟ دو من، تو ایک من ایک من کے مقابلے میں ہوا اور دوسرا زائد ہوا، لیکن علت کیا تھی ہمارے نزدیک بھئی؟ جنس ایک ہو بھئی۔
قدر مع الجنس کے تھا یہاں جنس ایک نہیں۔ لہذا یہ زیادتی یہ باب الربا میں سے نہیں۔ بھئی ففضل قفیذ شعیر قفیذین تھا بھئی، تثنیہ کا نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ تو دو قفیذ شعیر کی زیادتی علی قفیذ بر ایک قفیذ گندم پر لا يكون من باب الربا یہ باب الربا میں سے نہیں ہوگا۔
وكذا فضل عشرة أذرع من الثوب الهروی على خمسة أذرع منه اور اسی طرح دس گز ہروی کپڑا بھئی ہروی یہ کوئی ہرات میں کپڑا بنتا تھا خاص قسم کا وہ مراد ہے۔ دس گز ایک نے بیچے ثوب ہروی میں سے علی خمسة أذرع کتنے پر بھئی؟ پانچ کس کے بدلے میں؟ پانچ ذراع کے بدلے میں منہ ہذا ضمیر اسی ثوب ہروی کو راجع ہے، ثوب ہروی میں سے تو ایک شخص نے دس گز ثوب ہروی دوسرے کو دیا اور اس کے بدلے میں کتنا لیا؟ پانچ بھئی، تو یہاں پر وہ علت کا دوسرا جز نہیں پایا جا رہا بھئی۔ جنس تو ایک ہی ہے دونوں کی، لیکن قدر نہیں ہے یعنی دونوں وزنی یا کیلی نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں یہ جو بیع ہے یہ زیادتی لا يكون من هذا الباب یہ بھی اس ربا کے باب سے نہیں، بھئی یہ بھی جائز ہوگا۔
جی اب متن میں کچھ قیود آئی تھیں ان کے فائدے بتا رہے ہیں۔ متن میں کہا تھا خال عن عوض اس کا فائدہ بتا رہے ہیں ومنها قال خال عن العوض إذ احترازا متن نے خال عن العوض فرمایا احتراز کرتے ہوئے عن بیع کر بر و شعیر بكر بر و کر شعرین بھئی۔ دیکھیے بھئی صورت مسئلہ یہ۔
آپ نے ایک شخص کو ایک کر گندم کا دیا، کر میں نے بتایا تھا بارہ وسق کا ہے اور ایک وسق کتنے کا ہے ساٹھ صاع کا۔ تو ایک آدمی نے دوسرے کو، آپ نے ایک آدمی کو ایک کر گندم کا دیا اور ایک کر جو کا دیا اور اس سے وصول کر رہے ہیں دو کر گندم کے اور دو کر جو کے، تو یہ جائز ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ جائز ہے، کیونکہ فقہاء کی کوشش ہوتی ہے کہ بیع کو بقدر الامکان اس کی تصحیح کی جائے، اس کو صحیح قرار دیا جائے۔
اب باء اس لحاظ دیکھا جائے، آپ نے کتنا دیا بھئی؟ ایک کر گندم اور ایک کر جو اور اس سے کتنا لیا؟ دو کر گندم اور دو کر جو۔ اب اگر گندم کو گندم کے مقابلے میں رکھیں، ادھر ایک کر ہے ادھر دو کر بھئی، تو یہ تو ایک طرف ایک کر کی زیادتی آ گئی بغیر عوض کے بھئی۔ اور جو کو جو کے مقابلے میں رکھیں تو آپ ایک کر جو دے رہے ہیں اور دو کر جو لے رہے ہیں، تو یہاں پر بھی زیادتی آ رہی ہے جو عوض سے خالی۔
تو بیع اعتبار تو یہ ربا بن جائے گا حرام، لیکن اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ بھئی یہ جو آپ ایک کر گندم دے رہے ہیں، اس کو ہم کس کے مقابلے میں فرض کر لیں؟ جو کے مقابلے میں۔ اب ایک کر گندم دیے اور دو کر جو لی اور جو کا ایک کر دو دے رہے ہیں، اس کو کس کے مقابلے میں فرض کر لیں؟ گندم کے مقابلے میں تو اب جنس ایک نہ رہی، لہذا بیع کیا ہو جائے گی؟ صحیح ہو جائے گی بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو اس صورت پر اس کو محمول کریں گے۔
تو یہ احتراز ہے عن بيع كر بر و شعیر ایک کر گندم اور جو کی بیع بھئی، بكر بر یہ بھی کرین تھا تثنیہ کا نون اضافت سے گر گیا دو کر گندم کا وکر شعیرین دو کر جو کے بدلے فانا للثانی فضلا عن الاول اس لیے کہ دوسری جو ہے دو کر بر اور دو کر جو کو میں اس کو میں زیادتی ہے، اس کے لیے زیادتی ہے علی الاولی کس پر؟ اول پر لیکن غير خال عن العوض لیکن یہ عوض سے خالی نہیں۔
بصرف الجنس الی خلاف الجنس بوجہ پھیرنے جنس کو خلاف جنس کی طرف، گندم کو ہم کس کے بدلے میں قرار دے دیں گے؟ جو اور جو کو گندم کے مقابلے میں قرار دے دیں گے۔ تو پھر اب جنس ایک نہ رہی، لہذا زیادتی جائز ہے۔
وقال شرط لأحد العاقدين متن میں یہ قید بھی بڑھائی گئی تھی ایسی زیادتی ہو جو عقد کرنے والوں میں سے کسی ایک کے لیے اس کی شرط لگائی گئی ہو۔
حتى لو شرط لغيرهما اگر کسی غير کے لیے شرط لگائی گئی عقد کرنے والوں کے علاوہ کے لیے لا يكون من باب الربا تو یہ باب الربا سے نہیں ہوگا بھئی، سمجھ میں آیا؟ زائد گندم کی شرط لگاتا ہے لیکن اپنے لیے نہیں لگاتا بلکہ کس کو دینی پڑے گی؟ زید کو مثلاً تیسرے آدمی کو دینی پڑے گی تو یہ بھی چونکہ احد العاقدين کے لیے اس کی شرط نہیں لگائی گئی، ان کے علاوہ کے لیے لگائی گئی لہذا یہ بھی باب الربا میں سے نہیں ہوگا۔
وقال في المعاوضة اور یہ جو معاوضہ کی قید لگائی کہتے ہیں حتی لم يكن الفضل الخالي عن العوض الذي هو الھبۃ ربان بھئی۔ معاوضہ کی قید اس ہبہ کو نکالنے کے لیے لگائی، بھئی ہبہ کس کو کہتے ہیں؟ تحفہ دینا، ہدیہ دینا، کسی کو، بھئی کسی نے دوسرے کو ایک من گندم ہدیہ کے طور پر دی۔ اب یہ زیادتی ہے اور کیا ہے؟ عوض سے خالی ہے، لیکن عقد معاوضہ میں ہے یا عقد معاوضہ کے علاوہ میں ہے بھئی؟ علاوہ میں، لہذا یہ بھی باب الربا میں سے نہیں ہے بھئی۔
یہاں تک کہ وہ لم يكن الفضل الخالي عن العوض الذي هو في الهبۃ وہ نہیں ہے کیا ربا ربا نہیں۔ وعلته القدر مع الجنس اور اس کی علت جو ہے قدر مع الجنس کے ہے بھئی۔
تو بھئی اصل میں علت کیا ہے؟ وزن وزن مع الجنس، وزن مع الجنس یہ علت ہے، دونوں طرف وزنی چیز ہے اور جنس بھی ایک ہے تو ربا آئے گا۔ اسی طرح کیل مع الجنس بھئی، دونوں طرف کیلی چیز ہے اور جنس بھی ایک ہے تو کیا آئے گا؟ ربا۔ تو علت ہے کہ وزن مع الجنس یا کیل مع الجنس بھئی۔
تو فقہاء نے اس کے لیے فقہاء ایک ہی لفظ بول دیتے ہیں کیل اور وزن کے لیے قدر کا لفظ، قدر کیل اور وزن دونوں کو شامل ہوا۔ تو پہلے آپ کہتے تھے بھئی وزن علت کیا ہے ربا کی؟ آپ کو کہنا پڑتا بھئی وزن مع الجنس یا کیل مع الجنس، اب دونوں کو ملا دی ایک ہی لفظ قدر مع الجنس بھئی، قدر مع الجنس بھئی، تو علت اس کی قدر مع الجنس ہے بھئی، المراد بالقدر الكيل في المكيلاوت والوزن في الموزونات، قدر سے کیا مراد ہے؟ کیل کس کے اندر؟ ناپنے ماپی جانے والی چیزوں میں اور وزن بھئی وزن چیزوں کے اندر بھئی۔
تو جہاں بھی یہ دونوں چیزیں آ جائیں گی علت یہ ہے ہمارے نزدیک قدر مع الجنس کے بھئی، قدر بھی پائی جائے (یعنی دونوں کیلی ہوں یا دونوں وزنی ہوں) اور جنس بھی ہو تو پھر اس صورت میں کمی بیشی کیا ہوگی؟ ربا بن جائے گی، جو بھی زیادتی ہوگی وہ ربا بن جائے گی۔
अच्छा، بھئی اصل اس باب کے اندر وہ حدیث ہے بھئی، آپ نے پڑھی ہوگی بھئی، اصول فقہ وغیرہ کی کتابوں میں بھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھئی، الحنطة بالحنطة والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح والذهب بالذهب والفضة بالفضة مثلا بمثل يدا بيد والفضل ربا والفضل ربا دیکھا، الحنطة بالحنطة اي بيعوا الحنطة بالحنطة بیجو گندم کو گندم کے بدلے میں بھئی و الشعیر بالشعير اور جو کو جو کے بدلے میں والتمر بالتمر اور کھجور کو کھجور کے بدلے میں والملح بالملح اور نمک کو نمک کے بدلے میں والذهب بالذهب اور سونے کو سونے کے بدلے میں والفضة بالفضة اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں مثلا بمثل بھئی، ایک دوسرے کے، مثل کو مثل کے بدلے میں بھئی، مثل کو مثل یعنی برابر ہونے چاہیے بھئی، دونوں برابر کو برابر، جی یدا بيد بھئی، ہاتھوں ہاتھ ہوں یعنی نقد ہوں، کیا ہوں؟ نقد ہوں، والفضل ربا اور زیادتی کیا ہے؟ ربا ہے۔
ربا तो इस हदीस के अंदर फुकहाए कराम ने गौर किया भئی، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے غور کیا بھئی تو دیکھا کہ یہ جتنی چیزیں حدیث میں جو چھ چیزیں شمار کی گئیں یہ ساری یا تو مکیلات کے قبیل سے ہیں یا موزونات کے قبیل سے ہیں۔ سونا اور چاندی موزونات میں سے ہیں بھئی اور باقی چار جو ہیں وہ کس قبیل سے ہیں؟ مکیلات کے قبیل سے، تو اس سے انہوں نے کیلی یا وزنی ہونے کے قدر اخذ کی، قدر اخذ کی بھئی، کیلی ہونا اخذ کیا اور ذہب اور فضا وزنی تھے، وزن اخذ کیا بھئی، معلوم ہوا کیلی چیزوں میں سے ہو یا مسلی وزنی چیزوں میں سے اور دیکھا کہ گندم کے بدلے کیا ذکر ہوا؟ گندم، جو کے بدلے جو، کھجور کے بدلے کھجور، اسی طرح نمک کے بدلے نمک اور سونے کے بدلے سونے، چاندی کے بدلے معلوم ہوا دونوں طرف ایک جنس بھی ہو بھئی، کیا ہو؟ تو اس سے علت اخذ کی انہوں نے قدر مع الجنس کہ معلوم ہو ربا کی علت کیا ہے؟ قدر مع الجنس کے بھئی۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی غور کیا اس حدیث کے اندر بھئی۔ انہوں نے علت ذکر کی بھئی طعم و ثمنیت طعم و ثمنیت کہ کھانے والی چیز ہو یا سمھنی سمھنی ہو بھئی، سمن ہو بھئی، سونے اور چاندی سے انہوں نے اخذ کی ثمنیت بھئی، کیونکہ یہ خلقتنا سمن ہے بھئی اور باقی چار چیزوں سے طعم بھئی، طعم اخذ کیا کہ یہ باقی چار چیزیں کیا ہیں؟ کھانے والی ہیں۔ تو ان کے نزدیک علت ربا طعم یا ثمنیت ہے بھئی اور جنس دونوں طرف ایک ہو یہ شرط ہے ان کے نزدیک، تو علت ہمارے نزدیک تو تھی قدر مع الجنس کے اور ان کے نزدیک علت کیا چیز ہے؟ طعم یا ثمنیت اور جنس کیا ہے؟ شرط ہے ان کے نزدیک بھئی۔
اور امام مالک رحمہ اللہ نے غور کیا بھئی انہوں نے کیا علت ذکر کی انہوں نے چار دو چیزوں سے بھئی، ذہب اور فضا سے ثمنیت اخذ کی بھئی اور باقی چار کے اندر غور کیا تو دیکھا یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں کھانے کے لیے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے، کچھ چیزیں کھانے کی ہوتی ہیں ان کو ذخیرہ کیا جا سکتا ہے، کچھ کا ذخیرہ نہیں آپ گندم رکھتے ہیں، چاول رکھتے ہیں، دالیں رکھتے ہیں، ان کا ذخیرہ کر سکتے ہیں بھئی، نمک رکھتے ہیں، ذخیرہ کر سکتے ہیں لیکن اگر آپ باقی یہ عام سبزیاں ذخیرہ کریں گے، ان کو تو ذخیرہ نہیں کر سکتے، یہ تو خراب ہو جائے گی دو دن میں، تین دن میں بھئی، تو ان چار چیزوں میں سے انہوں نے ادغام للقوت بھئی، قوت کسے کہتے ہیں؟ توشہ، زاد راہ بھئی، خوراک کے لیے یعنی ادغام کا معنی ذخیرہ کرنا، اس سے انہوں نے علت اخذ کی ادغام للقوت بھئی۔ تو ان کے نزدیک علت کیا ہے مولانا؟ ادغام لالقوت بھئی کہ خوراک کے لیے اسے ذخیرہ کیا جا سکے تو ان کے نزدیک علت ہوئی ادغام للقوت اور ثمينيت اور جنس کیا ہے؟ شرط ہے بھئی، بدلان ایک جنس ہو گی۔
تو لہذا بھئی، اب مثلاً دیکھیے بھئی، اب ایک شخص بیع کرتا ہے تینوں ائمہ کا مسلک بیان ہوا بھئی، تینوں کی علتیں ذکر ہو گئیں، اب ایک شخص بیع کرتا ہے ایک قفیظ گندم دیتا ہے اور دوسرے سے دو قفیظ گندم لیتا ہے تو احناف کے نزدیک حرام بھئی۔ کیوں؟ کیونکہ قدر مع الجنس کے موجود دونوں طرف جنس بھی ایک اور مابی جانے والی کیلی ہے بھئی، تو لہذا قدر مع الجنس کی پائی گئی لہذا یہ بیع کیا ہوئی؟ ربا حرام ہوئی۔
امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک علت کیا تھی؟ طعم و ثمن، طعم و ثمنیت بھئی تو یہاں طعم ہے بھئی، گندم کس میں سے ہے کھانے والی چیزوں میں سے ہے اور جنس شرط تھی وہ بھی پائی گئی، تو لہذا ان کے نزدیک بھی یہ بیع کیا ہوئی؟ حرام۔
امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک کیا شرط تھی؟ ادغام للقوت بھئی، خوراک کے طور پر ذخیرہ ہو سکے یا اور ثمنیت ہے، یہاں پر کون سی ہے بھئی علت؟ ادغام للقوت گندم کو کیا کیا جاتا ہے خوراک کے لیے ذخیرہ کیا جاتا ہے اور جنس کی شرط بھی پائی گئی، لہذا ان کے نزدیک بھی یہ بیع کیا حرام ہو گئی۔ تو معلوم ہوا ایک قفیظ گندم کی بیع دو قفیظ گندم کے بدلے کرنا، یہ تمام ائمہ کے نزدیک حرام ہے، حرام۔
دوسری صورت بھئی، سمرا اختلاف بتلا رہا ہوں بھئی ائمہ کا، ایک طرف پانچ گز ہروی کپڑا ہے، دوسری طرف بھی پانچ، دوسری طرف دس گز ہروی کپڑا ہے بھئی، دس گز ہروی کپڑا، نقد مثلاً ہو رہی ہے بیع، تو ہمارے نزدیک بھئی، نقد آگے بتلائیں گے، نقد تو جائز ادھار جائز نہیں۔ اس لیے کہ جنس ایک ہے مولانا، علت کا ایک جز تو پایا گیا، ایک طرف بھی ہروی کپڑا، دوسری طرف بھی ہروی لیکن قدر نہیں ہے، یہ کپڑا نہ کیلی چیز ہے اور نہ وزنی چیز ہے، لہذا یہ درست ہے بھئی۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی یہ جائز، کیونکہ کپڑے کے اندر نہ تو ثمنیت ہے اور نہ طعم ہے بھئی۔ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک بھی جائز بھئی، اس لیے کہ کپڑے میں یہ نہ تو ثمنیت ہے، نہ اس کو ادغام للقوت کیا جاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی۔
اچھا، تیسری مثال دیکھیں بھئی، ایک آدمی ایک دوسرے کو ایک من لوہا دیتا ہے اور اس سے دو من لوہا لیتا ہے بھئی۔ یہ ہمارے نزدیک کیا ہوگی بھئی؟ قدر بھی ہے، جنس بھی ہے بھئی، دونوں وزنی اور جنس ایک ہے، لہذا بیع کیا ہوئی؟ حرام، جبکہ امام مالک اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز، کیوں؟ کیونکہ لوہے کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا تھا طعم و ثمنیت نہ طعم ہے اور نہ ثمنیت ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے کیا ذکر کیا تھا؟ سمنیت یا ادغام للقوت، نہ اس لوہے کے اندر سمنیت ہے اور نہ ادغام للقوت ہے بھئی، تو لہذا ان کے نزدیک یہ بیع جائز ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔
تو کہتے ہیں وعلته القدر مع الجنس علت اس ربا کی جو ہے قدر مع الجنس کے ہے المراد بالقدر الكيل في المكيلاوت والوزن في الموزونات قدر سے مراد کیل ہے مکیلی چیزوں میں اور وزن بھئی وزن چیزوں کے اندر بھئی، و عند الشافعي رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک الطعام في المطعومات والسمانيت في الازمان ان کے نزدیک علت کیا ہے کھانے والی چیزوں میں طعم، کھانے کے قابل ہونا اور سمانیت في الازمان اور آسمان کے اندر سمانیت ہے۔ والجنسیته شرط اور جنسیت کیا ہے؟ شرط ہے کہ ایک جنس ہو، والمساوات مخلص بھئی، یہ زائد کے صیغے یا مصدر میمی چھٹکارا چھٹکارا پانا بھئی۔ والمساوات مخلص اور مساوات چھٹکارا ہے اس سے بھئی، خلاسی کی جگہ ہے بھئی (یعنی اس کے ذریعے خلاسی ہوگی)۔
تو یہاں بھئی جب بھی طعم آ جائے یا سمانیت آ جائے بھئی، عوضین میں بھئی، طعم آ جائے یا سمانیت آ جائیں تو علت آگئی اب ربا آئے گا، لیکن اگر مساوات ہوئی برابری ہوئی تو ربا سے خلاسی ہو جائے گی، کیا ہو جائے گی؟ ہاں، یہ جائز ہو جائے گا۔
والاصل الحرمة اور ان کے نزدیک اصل کیا ہے؟ حرمت ہے، حرمت ہے ان کی، یہ بیع حرام ہے مولانا، لیکن اگر مساوات ہوئی تو خلاسی ہوگی حرمت سے بھئی۔ و عند مالك رحمه الله اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک علتہ الطعم والادخار بھئی کہ علت کیا ہے؟ طعم اور بھئی میں نے کیا ذکر کیا تھا؟ سمانیت سمانیت کو یہاں اس لیے ذکر نہیں کیا اوپر ذکر کر چکے ہیں بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھ وہیں سے بات خود ہی سمجھ میں آ جاتی ہے کیونکہ ذہب اور فضا کے اندر تو دیکھیے انہوں نے کیا کہا طعم اور ادخار، اس کے اندر تو طعم اور ادخار نہیں تو وہ سمانیت اس سے اخذ کرتے ہیں اور باقی چار چیزوں سے کیا اخذ کرتے ہیں؟ کہ وہ طعم کھانے والی بھی ہیں اور ادخار اور ان کو ذخیرہ کیا بھی جاتا ہے اور میں نے ان کو ملا کر ایک بتایا تھا بھئی کہ کیا پڑھو اس کیا مراد ہے؟ ادخار للقوت ہو سکے اور سمانیت بھئی۔
فحرم بيع الكلي والوزني بجنسه متفاضلا پس حرام ہے بھئی کیلی چیز کی بیع اور وزنی چیز کی بیع بجنسہ اسی کی جنس کے بدلے میں متفاضلا زیادتی کے ساتھ بھئی، ایک طرف بھی کیلی، دوسری طرف بھی کیلی، جنس بھی ایک ہو تو متفاضلا، یہ زیادتی کے ساتھ یہ بیع حرام یا ایک طرف جنس بھی ایک ہے دونوں طرف ایک بھی وزنی ہے دوسری بھی وزنی ہے تو زیادتی کے ساتھ یہ بیع حرام یا ربا بن جائے گی۔ فحرم بيع الكلي والوزني بجنسه متفاضلا پس حرام ہے کسی کیلی چیز یا وزنی چیز کی بیع بجنسہ اسی کی جنس کے بدلے میں متفاضلا زیادتی کے ساتھ ولو غير مطعوم اگرچہ وہ کھانے والی نہ ہو بھئی، ہمارے نزدیک مطعوم کی شرط ہے ہی نہیں بھئی، یہ تو امام شافعی اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک ہے، كالجص والحديد جیسے کہ چونا اور لوہا بھئی، الجص من المكيلاوت والحديد من الموزونات چونا کس میں سے ہے؟ مکیلی، جی ہاں آج کل چاہے وزنی ہو آج کی بات نہیں کر رہے اپنے زمانے کے اعتبار سے بتلا رہے ہیں کلجص جیسے چونا کس میں سے ہے؟ مکیلی چیزوں میں سے ہے، لوہا کس میں سے ہے؟ موزونی چیزوں میں سے ہے وزن کیا جاتا ہے بھئی، و فیهما خلاف الشافعی و مالك رحمہما اللہ تعالی اور ان دونوں میں اختلاف ہے بھئی امام شافعی اور امام مالک رحمہ اللہ کے ہمارے نزدیک بھئی چونے کے بدلے چونے کی بیع بھی ہو تو برابری کے ساتھ ہونی چاہیے، لوہے کے بدلے لوہے کی بیع بھی ہو تو برابری کے ساتھ، اس لیے کہ علت ربا موجود اور وہ کیا ہے؟ القدر مع الجنس بھئی۔
جی جبکہ امام شافعی امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز ہیں مولانا، اس لیے کہ ان کے نزدیک بھئی ان کے اندر نہ تو طعم ہے اور نہ سمانیت ہے بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا تھا طعم و سمانیت نہ طعم ہے اور نہ سمانیت ہے بھئی، اور امام مالک رحمہ اللہ نے کیا ذکر کیا تھا؟ سمانیت یا ادخار للقوت بھئی، نہ اس لوہے کے اندر سمانیت ہے اور نہ ادخار للقوت ہے بھئی، بناء تو اس میں خلاف امام شافعی امام مالک رحمہ اللہ کا بناء ان پر اس کے جو ہم نے ذکر کیا من العلة یعنی کہ وہ علت بھئی۔ وحل متماسيلا اور حلال ہے بھئی یہ بیع متماسيلا جبکہ دونوں ایک دوسرے کے مماثل ہوں بھئی۔ لوہے کے بدلے لوہا ہو یا چونے کے بدلے چونا ہو تو زیادتی کے ساتھ حرام ہے، کسی بھی کیلی چیز کسی بھی وزنی کی چیز کی بیع اسی کی جنس کے بدلے جب ہو تو زیادتی کے ساتھ حرام اور مماثللت کی صورت میں جائز حلالہ حلال ہے، وحل متماسيلا اور حلال ہے مماثل ہونے کی صورت میں یعنی جو جب دونوں ایک دوسرے کے مماثل ہوں برابر ہوں ایل البیع ضمیر کا مرجع بتلایا حلا کی ضمیر بیع کو راجع ہے، یعنی بیع حلال ہے فی الاشیاء المذكورة ان اشیاء کے اندر جبکہ متماثل ہوں، وبلا معيار بھئی اور اسی طرح بغیر پیمانے کے جب ہو بھئی، بغیر بغیر پیمانے کے مرجع یہ جو پیمانے کی مقدار سے کم ہو بھئی، پیمانے کی مقدار سے کم ہو تو وہ تو اب پیمانے میں آ ہی نہیں سکتی کیا کریں بھئی مجبوری ہے بغیر پیمانے کے بیچنا پڑے گا، آگے بتلائیں گے مثلاً ایک مٹھی گندم کی بیع دو مٹھی گندم کے ساتھ آپ کرتے ہیں بھئی، تو یہ ہمارے نزدیک جائز، امام مالک اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں بھئی، اس لیے کہ ان کے نزدیک اس میں کیا ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس میں کیا ہے طعم آگیا اور جنس کی شرط بھی پائی گئی تو برابری ضروری تھی، اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک ادخار للقوت ہے بھئی اس گندم کے اندر اس کو بطورت خوراک کے کیا کیا جاتا ہے؟ ذخیرہ تو لہذا اس صورت علت پائی گئی اور جنس بھی ایک ہے دونوں طرف تو لہذا اب برابری شرط تھی ہمارے نزدیک نہیں بھئی، ہمارے نزدیک بھئی اصل چیزوں کے اس میں علت ہے بھئی، ان چیزوں میں کیا ہے اصل علت ہے، علت ہے بھئی حلال ہیں بھئی، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اصل ان چیزوں میں حرمت ہے، تو شرعی پیمانہ جو کم سے کم معتبر ہے بعض جگہ وہ نصف صاع ہے جیسے صدقہ فطر میں بھئی کیا کہا گیا ہے؟ نصف صاع گندم دیا جائے بھئی، تو وہاں سب سے کم مقدار شرعی مقدار جس کا شریعت میں اعتبار کیا گیا بعض مسائل میں وہ نصف صاع ہے، تو جو بھی نصف صاع سے کم ہوگا اس کا یہی حفنہ والا حکم ہوگا کیا حکم ہوگا؟ حفنہ والا حکم ہوگا کمی بیشی کے ساتھ بھی وہ بیع کیا ہو جائے گی؟ جائز ہو جائے گی بھئی، جائز ہو جائے گی۔
تو اب جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اصل ان چیزوں میں حرمت ہے بھئی، لہذا جو پیمانے میں نہیں آتی ان کی بیع کیا ہو جائے گی؟ حرام کیونکہ وہاں مساوات کیا تھی؟ مساوات تھی، تو مساوات وہاں ممکن ہی نہیں ہے اس لیے کہ وہ تو پیمانے میں آتی ہی نہیں پیمانے میں آتی تو مساوات بھی ہم کبھی ہمیں پتہ چلتا، اب پیمانے میں نہیں آتی تو ہمیں مساوات کا کہاں سے پتہ چلے؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔
جبکہ ہمارے نزدیک یہ ہمارے نزدیک بھئی جو پیمانے میں نہیں آئے وہ اپنی اصل پر باقی رہیں گے اور اصل ان چیزوں میں کیا ہے؟ علت ہے کیا ہے؟ علت ہے علت ہے بھئی، تو یہ لہذا اب ان کی بیع صحیح بھئی۔
وبلا معيار بھئی تو حل متماسيلا وبلا معيار حلال ہے جبکہ ایک دوسرے کے مماثل ہوں اور وبلا معيار اور جب کیا ہوں؟ پیمانے کے بغیر ہوں، ای حل البیع متفاضلا فيما لا يدخل في المعيار (يعني زیادتی جائز ہے ان چیزوں میں اتنی مقدار کے اندر جو پیمانے میں داخل نہیں ہوتی) کا حفنة بحفنتين جیسے ایک مٹھی کی بیع والا کس کے بدلے؟ دو مٹھی کے بدلے بھئی، ہمارے نزدیک یہ جائز جبکہ امام شافعی اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز نہیں بھئی۔ اور میں نے بتلایا جو بھی نصف صاع سے کم ہو اس کا یہی حکم ہے۔ اور جہاں بھی نصف صاع سے کم ہوگا اس کا یہی حفنہ والا حکم ہوگا، کیا حکم ہوگا حفنہ والا حکم ہوگا، کمی بیشی کے ساتھ بھی وہ بیع کیا ہو جائے گی؟ جائز ہو جائے گی بھئی، جائز ہو جائے گی۔
تو اب جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اصل ان چیزوں میں حرمت ہے بھئی، لہذا جو پیمانے میں نہیں آتی ان کی بیع کیا ہو جائے گی؟ حرام کیونکہ وہاں مساوات کیا تھی؟ مساوات تھی، تو مساوات وہاں ممکن ہی نہیں ہے اس لیے کہ وہ تو پیمانے میں آتی ہی نہیں پیمانے میں آتی تو مساوات بھی ہم کبھی ہمیں پتہ چلتا، اب پیمانے میں نہیں آتی تو ہمیں مساوات کا کہاں سے پتہ چلے؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔
جبکہ ہمارے نزدیک یہ ہمارے نزدیک بھئی جو پیمانے میں نہیں آئے وہ اپنی اصل پر باقی رہیں گے اور اصل ان چیزوں میں کیا ہے؟ علت ہے کیا ہے؟ علت ہے علت ہے بھئی، تو یہ لہذا اب ان کی بیع صحیح بھئی۔
وبلا معيار بھئی تو حل متماسيلا وبلا معيار حلال ہے جبکہ ایک دوسرے کے مماثل ہوں اور وبلا معيار اور جب کیا ہوں؟ پیمانے کے بغیر ہوں، ای حل البیع متفاضلا فيما لا يدخل في المعيار (يعني زیادتی جائز ہے ان چیزوں میں اتنی مقدار کے اندر جو پیمانے میں داخل نہیں ہوتی) کا حفنة بحفنتين جیسے ایک مٹھی کی بیع والا کس کے بدلے؟ دو مٹھی کے بدلے بھئی، ہمارے نزدیک یہ جائز جبکہ امام شافعی اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز نہیں بھئی۔
و بيضة وببيضتين بھئی اسی طرح بھئی، انڈے کی انڈے کی بیع بھئی دو انڈوں کے بدلے، وتمارة بتمرتين ایک کھجور کی بیع دو کھجوروں کے بدلے بھئی، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ساری صورتیں حرام ہیں بھئی، اس لیے کہ سب کے اندر طعم پایا جا رہا ہے بھئی، طعم بھئی۔
اور اس صورت میں مساوات ضروری تھی، کیا تھی؟ مساوات ضروری تھی اور مساوات تو یہاں پر ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ پیمانے میں یہ آ ہی نہیں سکتی بھئی جو نصف صاع ہے جو شرعا معتبر بھئی۔
و عند شافعي رحم اللہ لا يحل بيع المطعومات حفنة بحفنتين بناء على ما ذكرنا من العلة اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کھانے والی چیزوں کی بیع جائز نہیں ہے، ایک مٹھی ان میں سے دو مٹھی کے بدلے بناء بر اس کے جو ہم نے ذکر کیا علت میں اور بناء بر اس کے کہ ان الخلل عندنا الحلف اور ہمارے نزدیک اصل کیا ہے؟ حل ہے، وان وعندہ الحرمۃ اور ان کے نزدیک اصل کیا ہے؟ حرمت ہے، تو عندنا ما يدخل في الكيل يثبت فيه الحرمۃ وما لا يدخل فيه يبقى على اصلہ ہمارے نزدیک وہ مقدار جو پیمانے میں داخل ہو جاتی ہے اس میں تو حرمت آئے گی اور جو پیمانے میں داخل نہیں ہوتی وہ اپنی اصل پر باقی رہے گی وہو الحل اور اصل کیا ہے؟ حلال ہے ہمارے نزدیک، وعنده شافعی رحم اللہ العبرۃ الحرمۃ والمساوات مخلصون اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اصل حرمت ہے اور مساوات کیا ہے؟ مخلص ہے، چھٹکارے کی جگہ بھئی۔
فما لا يدخل في المسوي الشرعي وهو الكيل يبقى على الاصل وهو الحرمۃ تو ان کے نزدیک اصل حرمت ہے اور صرف مساوات سے کیا ہوتی تھی حرمت سے خلاصی ہوتی تھی، پس وہ چیز جو داخل نہ ہو مساوی شرعی میں، مسوی کا مانا برابر کرنے والا یعنی وہ پیمانہ مراد ہے، کیا مراد ہے؟ پیمانہ پس جو چیز داخل نہ ہو شرعی پیمانے کے اندر اور وہ کیا ہے؟ کیل ہے، تو كيل کے اندر جو داخل ہی نہیں بھئی، تو كيل تو شرعا کم سے کم کتنا تھا؟ نصف صاع بھئی، تو جو اس سے تو وہ يتقى على الاصل وہ اپنی اصل پر باقی رہے گا اور اصل کیا تھی؟ وہ حرمۃ وہ حرام ہے بھئی۔
وانما جعل الحرمة اصلا بقوله عليه السلام اور انہوں نے حرمت کو اصل قرار دیا امام شافعی رحمہ اللہ نے حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے حضور فرماتے ہیں لا تبيعوا الطعام بالتمام الا سواء بسواء نہ بیچو تم غلے کو غلے کے بدلے مگر برابر سرا برابر کے بدلے بھئی، مگر تو فما لا يكون مساويا كان حراما تو جو مساوی نہیں ہوگا وہ کیا ہوگا؟ حرام ہوگا، حرام ہوگا۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ قلنا ہم جواب دیتے ہیں بھئی المانہ معنی حدیث کا یہ ہے لا تبيعوا الطعام الذي يدخل في المسوي الشرعي الا سواء بسواء نہ بیچو بھئی مطلق کھانا نہیں مراد کہ غلہ نہیں مراد بلکہ والذي يدخل في المسوي الشرعي جو کس میں داخل ہو شرعی پیمانے میں بھی داخل ہو سکے یعنی کم از کم نصف صاع ہو، تو اس کو نہ بیچو الا سواء بسواء برابر کے بدلے برابر بھئی، کما اذا قيل جیسے یوں کہا جائے دیکھا یہ ہماری دلیل چل رہی ہے بھئی، ہم نے کیا کہا طعام سے مطلق طعام نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ جو مسوی شرعی میں داخل ہو، جیسے کہا جائے لا تقتل الحيوان الا بالسكين نہ قتل کرو حیوان کو مگر کس کے ساتھ؟ چھری کے ساتھ تو اس سے کون سا حیوان مراد ہوگا جس کو چھری سے ذبح کرنا ممکن بھی ہو جسے ممکن ہی نہیں ہے بھئی، جیسے پسو ہے، جو ہے، وغیرہ وہ تو خود ہی کیا ہوئے اس سے تو اس سے تو مراد وہ جانور مراد ہوگا جس کو چھری سے ذبح کرنا بھی ممکن ہو۔
تو یہاں بھی اسی طرح ہے، الا آگے حضور خود فرما رہے ہیں برابر کے بدلے برابر، برابری ممکنی کس کے ذریعے ہے بھئی؟ کس کے ذریعے ممکن ہے برابری؟ شرعی جو پیمانے میں تو آ سکے کم از کم، اور پیمانہ شرعی کم از کم کتنا ہے بھئی؟ نصف صاع بھئی، تو جہاں برابری ہو سکے وہاں کمی بیشی کی اجازت نہیں ہے جہاں برابری ممکنی نہیں ہے وہاں کیا ہے؟ کمی بیشی جائز ہے وہ اپنی حلت پر باقی رہے گا۔
تو کہتے ہیں جب کہا جائے لا تقتل الحيوان الا بالسكين نہ قتل کرو حیوان کو مگر چھری کے ساتھ يكون المراد تو مراد جو ہوگا الحيوان الذي يمكن قتله بالسكين وہ حیوان ہوگا کہ ممکن بھی ہو اس کو قتل کرنا چھری کے ساتھ۔ لالقم والبرغوث نہ پسو اور نہ جو کو، برغوث کہتے ہیں پسو کو، پسو۔ قمل کہتے ہیں جو کو بھئی جو۔
اور اگر اس کو قملم پڑھیں، قملم نام ہے بھئی چچڑی، چچڑی کہتے ہیں بھئی یہ کوئی جانور چھوٹا سا حشرات ہے جو اونٹ کے جسم پر چپکا رہتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ دھیمی کی طرح کوئی چھوٹی سی تو قملم پڑھو تو چچڑی اور قمل پڑھو تو جو اور برغوث کہتے ہیں پسے کو، پسو کو بھئی۔ فان وجد الوصفان حرم الفضل والنسا وان عادا ما حلا اچھا بھئی۔
بھئی ہمارے نزدیک علت ربا کتنے وصف ہوئے؟ دو وصف، ایک قدار اور ایک جنس، یہ دونوں جب مل جائیں گے تو پھر اس صورت میں یاد رکھو زیادتی بھی حرام اور ادھار بھی حرام بھئی، جب دونوں وصف پائے جائیں۔
اور اگر دونوں میں سے ایک وصف پایا جائے، پھر اس صورت میں زیادتی تو جائز لیکن ادھار کیا ہوگا؟ حرام، صورت سمجھ میں آئی؟ اگر دونوں وصف پائے گئے، قدر بھی ہے دونوں طرف کیلی چیز ہے اور جنس بھی ایک ہے، تو اس صورت کے اندر زیادتی بھی حرام اور ادھار بھی حرام، اور اگر دونوں میں سے ایک وصف پایا جائے، مثلاً قدر تو ہے جنس ایک نہیں۔ ایک طرف گندم ہے، ایک طرف جو، گندم بھی ماپی جاتی ہے، جو بھی ماپی جاتی ہے تو اس صورت میں زیادتی تو جائز ہے، لیکن ادھار جائز نہیں، نقد ہو سکتا ہے بھئی۔
یا ایک طرف مولانا، مثلاً لوہا ہے، دوسری طرف تانبا ہے، اب جنس تو ایک نہیں، لیکن دونوں وزنی ہیں، تو لہذا نقد تو جائز کمی بیشی کے ساتھ، البتہ ادھار جائز نہیں۔
تو معلوم ہوا زیادتی تب حرام ہے جب دونوں وصف پائے جائیں، اور ادھار تب حرام ہے جب سمجھ میں آیا؟ تو زیادتی کے لیے، زیادتی کی حرمت کے لیے دونوں وصفوں کا پایا جانا ضروری اور ادھار کی حرمت کے لیے ایک وصف کا پایا جانا بھی کافی ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ فان وجد الوصفان پس اگر یہ دونوں وصف پائے جائیں، کون سے دو وصف بھئی؟ قدر اور جنس حرم الفضل تو حرام ہے زیادتی بھی والنس، نساء نہ پڑھنا نساء، ادھار بھئی، اور ادھار بھی بھئی، وان عادا ما اور اگر دونوں وصف کیا ہوں؟ تثنیہ کا صیغہ ہے عادا ما، اگر دونوں وصف معدوم ہوں، حلال تو دونوں حلال ہیں، یہ بھی تثنیہ کا صیغہ ہے بھئی۔
کون سے تو کون سے دو کیا دو چیزیں حلال ہیں؟ زیادتی اور ادھار بھئی، تو دونوں حلال ہیں۔ وان وجد احدهما على الاخر، اور اگر ایک وصف تو پایا جائے، لالاخر دوسرا نہ پایا جائے، حل الفضل ولا النسا تو تفاضل تو حلال ہے ادھار حلال نہیں، کسلم هروی في الهروبي وبر في شعیر جیسے بیچ سلم کرنا ایک ہروی کپڑے کی دوسرے ہروی کپڑے کے بدلے اور گندم کی بیچ سلم کرنا کس میں؟ جو میں۔
بھئی بیچ سلم جانتے ہیں آپ بھئی، سمن آج دے دیتے ہیں اور وہ چیز آپ کو چھ مہینے بعد مثلاً ملتی ہے، تو ایک شخص نے دوسرے سے بیچ سلم کی اور سمن کے طور پر ایک ہروی کپڑا دیا بھئی، اور اس سے چھ ماہ بعد دو ہروی کپڑے لے گا بھئی، کیا کرے گا؟ دو ہروی تو بھئی اب یہاں پر ایک طرف بھی ہروی کپڑا ایک، دوسری طرف دو ہروی کپڑے، تو جنس تو پائی جا رہی ہے لیکن قدر نہیں، اس لیے کہ نہ مکیلات میں سے ہے اور نہ موزونات میں سے، لہذا نقد تو یہ زیادتی جائز تھی، لیکن ادھار کے ساتھ چاہے زیادتی ہو چاہے زیادتی نہ ہو ادھار جائز نہیں ہے، لہذا بیچ سلم ان میں صحیح نہیں بھئی۔
اسی طرح ایک شخص دوسرے کو ایک من جو دیتا ہے اور چھ مہینے بعد اس سے ایک من گندم لے گا بھئی، تو لہذا اب یہاں پر جنس تو نہیں، لیکن کیا ہے؟ ایک وصف پایا جا رہا ہے جو بھی مাপি جانے والی چیز، گندم بھی مাপি جانے والی چیز، تو قدر آ گئی بھئی۔
تو اور ادھار کے حرمت کے لیے ایک ہی وصف کافی تھا، تو یہاں بیچ سلم بھی کس طرح ہوتی ہے؟ ادھار ہی ہوتی ہے، لہذا یہ بیچ سلم صحیح نہیں۔ چاہے برابری کے ساتھ ہو ایک من جو ہے، ایک من گندم ہے، یا ایک من جو ہے اور دس من گندم ہے، دونوں صورتیں درست نہیں بھئی۔ اور نقد کے اندر دونوں صورتیں درست ہو جائیں گی بھئی، اس لیے کہ جنس ایک نہیں ہے بھئی۔ اور جنس جب ایک دونوں وصف نہ ہوں تو زیادتی کیا ہے؟ جائز، تو ایک طرف دس من جو ہے ایک طرف ایک من گندم ہے، نقد ہیں، جائز ہے بھئی۔
عين وجد القدر والجنس حرم الفضل اگر قدر اور جنس دونوں پائے جائیں تو حرام ہو جائے گی زیادتی کا قفيز بر بقفيزين منه جیسے ایک قفیظ گندم کس کے بدلے میں؟ دو قفیظ من ہو اي من البر، بر میں سے۔ کے بدلے گند ایک طرف ایک قفیظ گندم ہے دوسری طرف دو قفیظ بھئی یہ حرام ہے، والنساء اور ادھار بھی الحان کان مع التساوی اگرچہ کس کے ساتھ ہو؟ برابری کے ساتھ بھئی۔
برابری کے ساتھ بھئی۔
تو دیکھیے اگر قدر اور جنس دونوں پائے جائیں تو زیادتی کیا ہوئی؟ حرام، اور ادھار بھی حرام، لیکن اگر قدر اور جنس کے ہوتے ہوئے دونوں برابر ہوں، پھر تو ب کیا تھی بھئی؟ ب نقد کیا تھی؟ دونوں وصف ہے نا قدر بھی ہے اور جنس بھی تو مماثلت کی صورت میں جائز، مماثلت کی صورت میں جائز ہے۔
جی تو مماثلت کی صورت میں نقد جائز تھا، لیکن نساء جو ہے وان کان مع التساوی اگرچہ کس کے ساتھ ہو؟ برابری کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی جائز نہیں ہے کیونکہ ایک وصف بھی آجائے تو ادھار حرام، كقفيز بر بقفيز بر جیسے ایک گندم بھئی اس کی کس کے بدلے میں؟ ایک قفیظ گندم کے بدلے میں احدهما او كلاهما نسيئة دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں کیا ہوں؟ ادھار ہوں بھئی، وان اعدام كل منهما اور اگر دونوں معدوم ہوں بھئی، دونوں وصف معدوم ہوں، حل كل واحد من الفضل والنساء تو ہر ایک حلال ہے، زیادتی (یعنی کہ زیادتی اور ادھار دونوں حلال ہیں بھئی، قدر بھی نہیں ہے، اور جنس بھی ایک نہیں بھئی۔ وان وجد احدهما لالآخر اور اگر ایک پایا جائے لالاخر دوسرا نہ پایا جائے، حل الفضل للنساء تو زیادتی تو حلال ہے لادھار حلال نہیں، كما اذا بيع قفيز حنطة بقفيز شعير جب بیچ جائے ایک قفیظ گندم کا دو قفیظ شعیڑ کے بدلے یدا بيادت بھئی، ہاتھوں ہاتھ ہو یعنی نقد ہو، حلال اگرچہ زیادتی تو ہے، لیکن بھئی دونوں وصف نہیں پائے جا رہے، جنس ایک نہیں ہے، اگرچہ دونوں کیلی چیزیں ہیں، تو لہذا ایک وصف ہے اور ادھار تو نہیں ہے، لہذا نقد ہے، تو زیادتی جائز ہے۔ تو اس حدیث نے حلت کی جانب کو کیا دے دی؟ ترجیح دے دی، کہ جب نقد ہوں تو جیسے مرضی بیچو، تو اب ہم نے حلت والی جہت کو ترجیح دی اور اس شبے کا اعتبار نہیں کیا بھئی۔ شبے، چلیے بس مولانا، هذا هو المرام، واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔