ایک اور اقتباس پیش ہے:
سماعت فرمائیے:
یہاں بھی یہی ضابطہ جاری ہوگا، ایک کو شامل ہونا چاہیے، لیکن اس ایک کے اندر چونکہ جھگڑے کا احتمال ہے، اس لیے ایک کو بھی نہیں شامل۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا، کہنا یہ چاہیے کہ ایک گز میں بیع منعقد ہو گئی، باقی کا تو پتہ ہی نہیں کتنے گز ہیں، لیکن یہاں ایک میں بھی منعقد نہیں ہوگی، وجہ اس کی یہ،
کہ پہلے زمانے میں کپڑے ہاتھ سے بنے جاتے تھے، تو اس وقت کوئی گز اچھا بن گیا، کوئی گز، کسی میں کوئی تھوڑا نقص آ گیا، کمی آ گئی، تو ایک جیسے گز نہیں ہوتے تھے، اگر ہم یہ کہہ دیں کہ ایک گز کے اندر بیع منعقد ہو گئی ہے، تو پھر اس صورت میں مشتری چاہے گا مجھے اچھی جگہ سے کپڑا کاٹ کر دے، اور بائع چاہے گا کہ میں اس کو خراب سی جگہ سے کپڑا کاٹ کر دوں، تو جھگڑا لازم آئے گا، اس لیے کسی ایک میں بھی بیع منعقد نہیں ہوئی۔
لیکن یہ قدیم زمانے میں تھا بھئی، آج کل کپڑا مشینوں پر بنتا ہے، اور ایک جیسا ہوتا ہے بالکل بھئی۔
سارا کپڑا، سارا تھان کیا ہوتا ہے؟ ایک جیسا ہوتا ہے، تو اس صورت میں اب پھر وہی حکم، جب ایک جیسے ہیں، تو اب ایک گز کے اندر کیا ہو جائے گی بیع؟ بیع صحیح ہو جائے گی۔
بشرطیکہ ایک گز کے کاٹنے سے کپڑے کو نقصان نہ پہنچتا ہو۔ اگر نقصان ہوتا ہے اور باقی جو کپڑا بچتا ہے وہ کسی قابل نہیں رہتا، تو پھر اس صورت میں اس ایک کے اندر بھی بیع منعقد نہیں ہوگی۔
تیسری صورت بھئی،
کہ اس نے کل گز تو ذکر کیے، لیکن ہر گز کی قیمت ذکر نہیں کی۔
تو اس صورت میں یاد رکھیے، مثلاً اس نے کہا: یہ 10 گز کپڑا ہے، میں نے آپ کو 10 درہم میں بیچا، وہ برابر بھی نکل سکتا ہے، کم بھی نکل سکتا ہے اور زیادہ بھی۔
اگر برابر نکلا، پھر تو ٹھیک ہے بھئی، بیع ہو گئی۔ اگر کم نکلا، مثلاً 9 گز نکل آیا،
یا زیادہ نکلا، 11 گز نکل آیا،
تو اس صورت میں یاد رکھیے،
اگر کم نکلا،
تو
مشتری اس کو 10 درہم ہی کے بدلے لے لے گا، قیمت میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
لیکن چونکہ کپڑا کم نکلا ہے، اس کو اختیار بھی دے دیں گے، لینا چاہتا ہے تو لے لے، چھوڑنا چاہتا ہے تو چھوڑ دے۔
اور اگر وہ کپڑا 11 گز نکل آیا، تو پھر وہ مشتری کا ہوگا، بائع کو کوئی اختیار نہیں ہوگا بھئی کہ وہ کیا کر لے؟ بیع کو رد کر دے، نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ صرف کل مقدار ذکر کی ہے، ہر گز کی قیمت ذکر نہیں کی۔ اس میں کمی کا بھی احتمال، برابری کا بھی احتمال، زیادی کا بھی احتمال۔ اگر برابر ہے، پھر تو ٹھیک ہے بیع منعقد ہو گئی، کوئی جھگڑا وغیرہ کچھ بھی نہیں بھئی، کوئی مشکل مسئلہ نہیں، لیکن اگر کم نکل آیا، تو پھر 10 کے بجائے کتنے گز نکلا؟ 9 گز نکلا، تو پھر مشتری کتنے کے بدلے لے گا؟ 10 ہی کے بدلے لے گا، کمی نہیں ہوگی قیمت کے اندر، اور ہاں، لیکن چونکہ وہ چاہتا کتنے تھا؟ 10، نکلے کتنے ہیں؟ 9، تو اختیار بھی دے دیں گے، لینا چاہتے ہو لو، چھوڑنا چاہتے ہو چھوڑ دو۔ اور اگر زیادہ نکل آئے، 11 گز نکل آئے، تو پھر
مشتری کا ہو جائے گا، اسی قیمت کے اندر ثمن زیادہ نہیں ہوں گے، اور بائع کا کوئی اختیار نہیں ہوگا، بائع کا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔
کیوں؟ اس کی علت ابھی ہم پڑھیں گے۔ چوتھی صورت ذرا پہلے کر لیں، چوتھی صورت کیا تھی؟ کہ کل مقدار بھی ذکر کیا، یہ 10 گز کپڑا ہے 10 درہم میں، اور ساتھ ہر گز کی قیمت بھی ذکر کرتا ہے، ہر گز کتنے کا ہے؟ دیکھا، ہر گز کی قیمت بھی ساتھ ذکر کر دی کل مقدار کے ساتھ ساتھ، تو اب اس صورت میں اگر کپڑا مثلاً 9 گز نکلا، کم نکلا، برابر نکلا پھر تو 10 درہم ہیں 10 گز کے بدلے، ہو گئے ٹھیک بھئی، اور اگر کپڑا کم نکلا، تو قیمت بھی کیا ہو جائے گی؟ کم۔ کپڑا زیادہ نکلا، تو قیمت بھی کیا ہو جائے گی؟ زیادہ ہو جائے گی، لیکن دونوں صورتوں میں اختیار بھی اس کو دے دیں گے، اس لیے کہ کپڑا کم نکلا ہے 9 گز، پیسے بھی اس کو 9 درہم دینے پڑ رہے ہیں، لیکن وہ چاہتا ہے ہو سکتا ہے کتنے چاہتا ہو؟ 10 پورے چاہتا ہو۔
اور زیادہ کی صورت میں بھی اس کو اختیار دے دیں گے، اس لیے کہ 11 کے نکلنے کی صورت میں اس کو پیسے زیادہ دینے پڑیں گے، تو اس کو نقصان لازم آئے گا، لہٰذا
لینا چاہے تو لے لے، چھوڑنا چاہے تو چھوڑ دے۔ چاروں صورتیں سمجھ میں آ گئیں بھئی؟
اچھا!
اب
پہلی صورت کی وجہ ذکر ہو گئی، نہ اس نے کیا کیا ہے، نہ کل مقدار ذکر کیا ہے، نہ ہر گز کی قیمت، بس بیع ہو گئی، اس میں تو کوئی اشکال ہی نہیں۔ دوسری صورت بھئی، اس کی بھی تفصیل میں نے بتلا دی کہ آج کل ایک گز میں منعقد ہوگی، قدیم زمانے کے مطابق صاحبِ کتاب فرماتے ہیں کسی ایک گز میں بھی منعقد نہیں ہوگی۔ تیسری صورت کی اب تفصیل ہے، تیسری صورت یہ تھی کہ اگر کپڑا کم نکل آئے پھر بھی پورے پیسے دینے پڑیں گے، زیادہ نکل آئے تو بھی بائع اس کو نہیں لے سکتا، کیا وجہ ہے بھئی؟ اس کی کیا وجہ ہے؟
تو دو تین باتیں لکھ لیجیے، اہم باتیں ہیں بھئی۔
جلدی جلدی لکھیے بھئی، وقت تھوڑا ہے بھئی، ابھی ہم نے کافی پڑھنا ہے۔
یاد رکھیے ضابطہ یہ ہے،
کہ اصل اور عین کے مقابلے میں ثمن آتے ہیں،
وصف کے مقابلے میں ثمن نہیں آتے۔
اصل اور عین کے مقابلے میں ثمن آتے ہیں،
وصف کے مقابلے میں ثمن نہیں آتے۔
یہ پہلی بات ہوئی۔
دوسری بات یہ یاد رکھو،
فقہائے کرام فرماتے ہیں بھئی،
فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ فرماتے ہیں
کہ قلت اور کثرت،
کہ قلت اور کثرت
مکیلات و موزونات میں
اصل ہے۔
کہ قلت و کثرت مکیلات و موزونات میں اصل ہے۔
جبکہ مزروعات میں گز وصف ہے۔
جبکہ مزروعات میں گز وصف ہے۔
کیونکہ ضابطہ یہ ہے،
کیونکہ ضابطہ یہ ہے:
"ما يتعيب بالتبعض والتشخيص"
"ما يتعيب بالتبعض"
"والتشخيص"
قاف دو نقطوں والا اور صاد بھئی۔
تشخیص،
قاف دو نقطوں والا ہے اور آخر میں صاد ہے۔
لکھ لیا بھئی تشخیص؟
"فالزيادة والنقصان فيه وصف"
"فالزيادة والنقصان فيه وصف"
"وما ليس كذلك"
"وما ليس كذلك"
"فالزيادة والنقصان فيه اصل"
لکھ لیا بھئی؟
پہلا ضابطہ کیا بتلایا میں نے آپ کو؟
اصل اور عین کے مقابلے میں ثمن آتے ہیں، وصف کے مقابلے میں ثمن نہیں آتے بھئی،
نہیں آتے۔
دوسری بات میں نے یہ ذکر کی کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں
کہ قلت اور کثرت جو ہے مکیلات و موزونات میں اصل ہے، اور گز مزروعات کے اندر کیا ہے؟
وصف ہے، کیوں؟ ضابطہ یہ ہے کہ "ما يتعيب بالتبعض والتشخيص" جو چیز حصے بخرے کرنے سے عیب دار ہوتی ہو۔
ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی عبارت کا؟ "ما يتعيب بالتبعض والتشخيص" بھئی، جو چیز حصے بخرے کرنے سے عیب دار ہوتی ہو، "فالزيادة والنقصان فيه وصف" تو اس میں زیادی اور نقصان کیا ہے؟ وصف ہے، "وما ليس كذلك" اور جو ایسی نہ ہو، "فالزيادة والنقصان فيه اصل" تو اس میں کمی زیادتی کیا ہے؟ اصل ہے، اصل ہے۔ دیکھیے بھئی!
آپ کے پاس گندم پڑی ہوئی ہے، گندم کا ایک ڈھیر، اس میں ذرا تبعض و تشخیص کریں مولانا، اس کے حصے بخرے کریں بھئی۔
ایک ایک صاع الگ کرتے جائیں،
کوئی عیب آ رہا ہے گندم میں؟ نہیں، پھر ملا دیں ان کو، کوئی عیب آیا؟ نہیں، عیب نہیں آیا۔
آپ کے پاس کپڑا ہے،
کپڑے کے ایک ایک گز کے ٹکڑے کر دیں،
جی!
پھر چاہے ان کو جوڑ دیں،
عیب آیا؟ کہ نہیں آیا بھئی؟ عیب آ گیا، دیکھا!
ایک چیز میں حصے بخرے کرتے ہو پھر ان کو ملاتے ہو تو اس میں عیب نہیں آ رہا بھئی، ایک چیز میں حصے بخرے کرتے ہو پھر ملاتے ہو تو اس میں کیا آ جاتا ہے؟ عیب۔
تو جس چیز میں حصے بخرے کرنے سے عیب آتا ہو، اس میں جو کمی زیادتی ہو رہی ہے وہ کیا ہے؟ وصف ہے، تو گز کپڑے کے اندر کیا ہوا؟ وصف ہو گیا، کیا ہو گیا؟ اسی ضابطے کے مطابق، اور ادھر گندم کے اندر صاع الگ الگ کر دیتے ہو، پھر ملا دیتے ہو، کوئی عیب آیا؟ نہیں آیا، معلوم ہوا یہ صاع وغیرہ گندم کے اندر
اصل ہے، وصف نہیں ہے۔
اور ضابطہ کیا تھا آپ کا پہلا ضابطہ بھئی؟ اصل کے مقابلے میں تو ثمن آتے ہیں، وصف کے مقابلے میں ثمن نہیں آتے۔
لہٰذا اب تیسری صورت ذہن میں لاؤ بھئی۔ کل ذرائع تو ذکر کیے تھے، ہر ذرائع کی قیمت ذکر نہیں کی۔
ہر ذرائع کی قیمت ذکر نہیں کی۔
اب تین صورتیں بنتی تھیں، یا کپڑا اتنا ہی نکلے گا، یا کم نکلے گا، یا زیادہ۔ اتنا ہی نکلا، پھر تو بیع ہو گئی، اگر کم نکلا، 10 گز کے بجائے 9 گز نکل آیا،
تو وصف فوت ہوا، کیا فوت ہوا؟ وصف۔ اور وصف کے مقابلے میں ثمن نہیں، اسی لیے میں نے کہا تھا کہ پورے پیسے دے کر ہی وہ 9 گز لینے پڑیں گے، 10 درہم ہی میں لینے پڑیں گے، کیونکہ وصف کے مقابلے میں ثمن نہیں آتے، اس میں قیمت میں کمی بیشی نہیں ہوگی۔
اور اگر زیادہ نکل آئے تو پھر، پھر بھی یہ وصف ہے بھئی یہ ذرائع، اور اس وصف کے مقابلے میں ثمن نہیں آتے، لہٰذا وہ بھی 10 درہم ہی میں لینے پڑیں گے، اور بائع کو کوئی اختیار نہیں ہے بھئی، مشتری لے لے گا، 11 گز نکل آئیں 10 درہم ہی میں 11 گز لے لے گا۔
صورت سمجھ میں آ گئی تیسری صورت؟
چوتھی صورت کیا تھی بھئی؟
کل مقدار بھی ذکر کرتا ہے اور ہر گز کی قیمت بھی ذکر کرتا ہے۔
اب یاد رکھو، یہ جو طول و عرض ہے بھئی، کپڑے کے اندر پیمائش جو ہے، اس میں دو اعتبار ہیں۔
بھئی گز زیادہ ہوتے ہیں، کپڑا بڑھتا ہے یا نہیں؟ جی۔ زیادہ تو ہو رہا ہے، معلوم ہوا مقدار تو بڑھ رہی ہے اس سے۔
تو بعینِ لحاظ
اس یہ کیا ہے؟ مقدار ہے، بعینِ لحاظ یہ کیا ہے؟ مقدار ہے کہ اس سے کپڑا بڑھ رہا ہے بھئی۔
اور اس کی وجہ سے
ابھی اوپر ضابطے میں ثابت ہوا، یہ کیا تھا بھئی؟ وصف بھی تھا دوسرے اعتبار سے، تو ایک اعتبار سے یہ اس کے ایک یہ یوں کہیں۔ ایک ہے، یہ ایک اعتبار سے یہ کیا ہے؟ ذات ہے اور دوسرے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ وصف ہے۔ ذات اس اعتبار سے کہ ذرائع کے بڑھنے سے کپڑے کی مقدار بھی کیا ہے؟ بڑھ رہی ہے۔
بڑھ رہی ہے بھئی،
سمجھ میں آیا؟ اور وصف کس اعتبار سے بھئی؟ ابھی ضابطہ ذکر ہوا، اس ضابطے کے اعتبار سے یہ وصف ہے۔ تو لہٰذا ذرائع کے اندر دو اعتبار ہو گئے، ایک اعتبار کس کا؟ ذات کا، اس کے اعتبار سے یہ اصل بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور دوسرے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ وصف ہے،
کہ اس میں تبعض و تشخیص سے کیا آ جاتا ہے؟ عیب آ جاتا ہے۔
تو لہٰذا
اب اس ذرائع کے اندر اصل بننے کی صلاحیت بھی ہے، اور یہ اصل اس وقت بن جائے گا
جب وہ ہر ذرائع کی قیمت ذکر کر دے بھئی۔
کل مقدار کے ساتھ کیا ذکر کر دے؟ ہر ذرائع کی قیمت، اور جب ہر ذرائع کی قیمت ذکر کر دی تو اس میں وصف اس ذرائع کے اندر اصل بننے کی صلاحیت بھی تھی، لہٰذا یہ کیا بن جائے گا؟ اصل بن جائے گا بھئی، اصل بن جائے گا۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو لہٰذا چوتھی صورت میں جب کل ذرائع کے ساتھ اس نے ہر ذرائع کی قیمت بھی ذکر کر دی، تو اس صورت میں اب وہاں ذرائع کے مقابلے میں ثمن بھی آ جائیں گے، ذرائع زیادہ ہوں گے تو ثمن بھی زیادہ ہوں گے، ذرائع کم ہوں گے تو ثمن بھی کم ہوں گے۔ 9 گز نکل آئے تو کتنے گز میں لینے، کتنے درہم میں لینے پڑیں گے؟ 9 درہم میں ہی لے گا اور چاہے چھوڑ دے، اور اگر 11 گز نکل آئے تو کتنے میں لے گا؟ 11 درہم میں لے گا اور چاہے تو چھوڑ جائے۔ چاروں مسئلے سمجھ میں آ گئے بھئی؟ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام، والله اعلم بحقيقة الكلام۔