Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-038

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 34
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
ولحم حيوان بلحم حيوان آخر متفاضلا و كذا اللبن و كذا خل الدخل بخل العنب وشحم البطن بالآلية أو باللحم والخبز بالبر. اور جائز ہے بیع بھئی ایک حیوان کے گوشت کی دوسرے حیوان کے گوشت کے بدلے متفاضلا زیادتی کے ساتھ بھئی ایک ہی حیوان کا گوشت ہو دونوں طرف تو اس صورت میں مساوات ضروری ہے بھئی اس لیے کہ جنس ایک ہے اور قدر بھی پائی جارہی ہے دونوں وزنی ہیں تو اس صورت میں مساوات ضروری لیکن اگر ایک گوشت دوسرے حیوان کا ایک بکری کا ہے ایک گائے کا تو یہ الگ جنس بھئی فائدے نفع دونوں کے الگ الگ ہیں تو الگ شمار ہوں گے تو اس صورت میں زیادتی تو جائز ہے مولانا زیادتی کیا ہے ہاں ادھار آپ پڑھ چکے ہیں ادھار اس صورت میں جائز نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ایک گو حیوان کے گوشت کی بے دوسرے حیوان کے گوشت کے بدلے متفاضلا زیادتی کے ساتھ وکذا اللبن اور اسی طرح دودھ ہے بھئی ایک ہی حیوان کا ہو پھر تو زیادتی اور ادھار جائز نہیں لیکن اگر مختلف کا ہو تو پھر نقد زیادتی کے ساتھ بھی جائز بھئی کیونکہ نفع دونوں کے الگ الگ جنس شمار ہوں گے۔ وكذا خل الدخل اور اسی طرح دخل کہتے ہیں ردی کھجور بھئی ردی کھجور بھئی یہ ویسے قید بڑھائی اس لیے کہ سرکہ جو ہے عموماً ردی کھجور کا ہی بنایا جاتا ہے خل کا معنی سرکہ بھئی اور اسی طرح ہے ردی کھجور کا سرکہ بھئی بكل العنب کس کے بدلے میں انگور کے سرکے کے بدلے میں دونوں الگ قسمیں ہیں اس لیے بھئی زیادتی جائز ہے یہاں پر۔ وشحم البطن بالآلية أو باللحم اسی طرح پیٹ کی چربی بھئی جانور کے ایک پیٹ کی چربی بالآلية آلیا بھئی وہ دیکھا ہے آپ نے دنبے کی بڑی سی دم ہوتی ہے چربی والی بھئی وہ بھئی اس کی چربی تو پیٹ کی چربی کی وہ دم کی چربی کے بدلے زیادتی کے ساتھ بے کیا ہے دونوں الگ الگ ہیں بھئی او باللحم یا ان اس پیٹ کی چربی کی بے گوشت کے بدلے بھئی یہ بھی الگ الگ چیزیں ہیں تو زیادتی جائز ہے بھئی۔ والخبز بالبر اور اسی طرح روٹی ہے بالبر کس کے بدلے میں گندم کے بدلے میں بھئی یعنی یہاں بھی زیادتی کمی بیشی جائز الدقيق یا روٹی کس کے بدلے میں اٹے کے بدلے میں اور بسويق یا کس کے بدلے میں ستو کے بدلے میں اس لیے کہ روٹی عددی ہے اور وہ گندم آٹا وغیرہ یہ کیا ہیں کہی چیزیں ہیں بھئی تو نہ جنس بھی ایک نہیں اور پکانے کی وجہ سے روٹی کی جنس ہی گویا بدل گئی اور قدر بھی نہیں ہے۔ وإن كان أحدهما نسيئةً اگرچہ ان میں سے کوئی ایک ادھار ہی ہو و بہ یفتٰی اور اسی پر فتویٰ ہے بھئی اسی پر فتویٰ دیا جاتا ہے وانما يجوز بيع الخبز بالبر جائز ہے روٹی کی بے گندم کے بدلے میں لان الخبز صار عدديًا اس لیے کہ روٹی کیا بن گئی عددی بن گئی بھئی اس کو شمار کر کے بیچا جاسکاذا كان نقدين یہ اس وقت ہے جبکہ دونوں کیا ہوں نقد ہوں بھئی وإن كان الخبز نسيئة والبر والدقيق نقدًا يجوز عند أبي يوسف رحمه الله اور اگر روٹی ادھار ہو اور گندم اور آٹا کیا ہوں نقد ہوں تو یہ بھی جائز ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک و بہ یفتٰی بھئی۔ ولا بيع الجيد بالردي من الربوي جی اور صحیح نہیں ہے بیع لا يجوز بھئی بيع الجيد بالردي عمدہ کی بے کس کے بدلے میں ردی کے بدلے میں من الربوي اموال ربویہ میں سے بھئی بالطمر بھئی کس نہیں الا متساویاً آگے آ رہا ہے مولانا الا مگر برابری کے ساتھ بھئی ایک طرف عمدہ قسم کی گندم ہے دوسری طرف ردی قسم کی گندم ہے تو یہ زیادتی کے ساتھ بیع نہیں جائز صرف کس صورت میں جائز ہے ہاں ایک طرف اعلی گندم آپ کہتے ہیں میری گندم اعلی تمہاری گندم ردی ہے اس لیے میں ایک من دوں گا اور تم کتنی دو گے دو من نہیں بھئی وہ حدیث گزر چکی ہے جیدها و ردیها سواء عمدہ اور ردی کیا ہیں برابر ہیں ان میں تو لہذا اب برابری ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں لا بيع الجيد بالردي جائز نہیں ہے عمدہ کی بے ردی کے بدلے میں من الربوي ربی چیز میں سے والبسرت بالتمر اور بسر کی ب کس کے بدلے میں تمر کے بدلے میں الا متساوياً مگر برابری کے ساتھ بھئی۔ والبر بالدقيق اور گندم کی بے اٹے کے بدلے میں اور بالسويق یا ستو کے بدلے میں الدقيق بالسويق یا اٹے کی بے بھئی ستو کے بدلے میں متفاضلاً أو متساوياً برابری کی زیادتی کے ساتھ بھی یا برابری کے ساتھ دونوں صورتوں میں نہیں جائز گندم کی بے کس کے بدلے میں اٹے کے بدلے میں بھئی یہ نہ زیادتی کے ساتھ جائز ہے اور نہ برابری کے ساتھ جائز ہے بھئی یہ بے جائز ہی نہیں ہے۔ समझ में आया؟ جائز نہیں۔ زیادتی کے ساتھ تو اس لیے بھئی ایک جنس ہے بھئی صرف گندم کو آپ نے پیس لیا آٹا بن گیا تو تو جنس پھر بھی ایک ہی شمار ہوگی لہذا زیادتی کے ساتھ بے نہیں بھئی جنس بھی ہے قدر بھی ہے اور برابری کے ساتھ بھی نہیں بھئی برابری آپ کس طرح کریں گے بھئی پیمانے کے ذریعے کریں گے بھئی پیمانے کے اندر گندم کے دانے آئیں گے دانے ہوتے ہیں موٹے موٹے تو ایک پیمانے کے اندر جو گندم کے دانے آئے درمیان میں خلاء بھی ہوگا دانوں کے درمیان کیا ہوگا خلاء بھی ہوگا بھئی جبکہ اٹے کے اجزاء ہیں باریک جب وہ اسی پیمانے میں آپ بھریں گے تو وہ لازمی بات ہے زیادہ آئیں گے تو مساوات یہاں پر ممکن ہی نہیں ہے بھئی لہذا اگرچہ آپ کہتے ہیں یہ مساوات آ گئی لیکن یہ مساوات نہیں بھئی میں نے بتلا دی وجہ تو یہ برابری کے ساتھ بھی بے صحیح نہیں اور زیادتی کے ساتھ بھی نہیں۔ برابری ممکن ہی نہیں رہی یہاں پر۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو گندم کی بے اٹے کے بدلے میں اوسويق یا گندم کی بے کس کے بدلے میں ستو کے بدلے میں بھئی۔ ستو وہی بھئی گندم کو بھون لیا اور بھوننے کے بعد اس کو جب پیس لیتے ہیں تو کیا بنتی ہے ستو بن جاتا ہے بھئی۔ تو۔ جیسے عام گندم کی بے اٹے کے بدلے نہیں تھی جائز اسی طرح ستو کے بدلے بھی نہیں جائز بھئی یہاں بھی وہی علت ستو کے اجزاء ہیں باریک اور گندم کے دانے ہیں موٹے اس میں آئے گا خلاء جبکہ ستو کے اجزاء میں خلاء نہیں ہوگا یا بالکل معمولی ہوگا بالکل معمولی تو لہذا برابری نہیں ہو سکتی تو نہ کمی بیشی کے ساتھ جائز یہ بے اور نہ برابری کے ساتھ۔ او الدقيق بالسويق یا اٹے کی بے کس کے بدلے میں بھئی ستو کے بدلے میں ان کی بے برابری کے ساتھ بھی نہیں جائز زیادتی کے ساتھ بھی نہیں جائز بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اس لیے کہ پیچھے کیا بتلایا تھا بھئی؟ بھئی گندم کی بے ستو کے بدلے میں جائز تھی یا جائز نہیں تھی بھئی؟ ابھی بتایا البر والدقيق او بالسويق گندم کی بے کس کے بدلے میں اٹے کے بدلے میں یا تو معلوم ہوا گندم کی بے ستو کے بدلے میں جائز نہیں۔ تو جب گندم کی بے ستو کے بدلے میں نہیں جائز تو اس گندم کے جو اجزاء ہیں اس کو پیس لیں آٹا بنا لیں تو اس کی بے بھی ستو کے بدلے میں جائز نہیں ہوگی بھئی۔ اس لیے کہ ستو کے اجزاء ہوں گے موٹے اٹے کے ہوں گے باریک تو یہاں مساوات نہیں ممکن بھئی۔ تو نہ متفاضلاً زیادتی کے ساتھ اور متساوياً یا دونوں کیا ہوں برابر ہوں دونوں صورتوں میں جائز نہیں۔ والزيتون بالزيت اور زیتون کی بے کس کے بدلے میں۔ زیت کہتے ہیں زیتون کا تیل زیتون کی بے زیتون کے تیل کے بدلے میں یہ بھی جائز نہیں۔ والسمسم سمسم کہتے ہیں تل کو بھئی تل۔ بالحل حل کہتے ہیں تلوں کا تیل تو زیتون کی بے زیتون زیتون کے تیل کے بدلے میں اور تلوں کی بے تلوں کے تیل کے بدلے میں یہ بھی درست نہیں ہے بھئی۔ حتى یہاں تک کہ یکون الزيت والحل اكثر مما في الزيتون والسمسم یہاں تک کہ وہ تیل یا جو زیتون میں ہے یا وہ تیل جو تلوں میں ہے وہ زیادہ ہو اس تیل سے جو زیتون یا سمسم بھئی دیکھو آپ بیچنے لگے ہیں زیتون کو زیتون کے تیل کے بدلے میں تو اب یہاں پر ضروری ہے کہ جو تیل ہے وہ اس تیل سے زیادہ ہو جو زیتون میں ہے آپ کیا دینے لگے ہیں ایک من زیتون کا تیل اور دوسرے سے کیا لیں گے ایک من زیتون لیں گے۔ تو یہ جو تیل ہے اس کو زیادہ ہونا چاہیے اس تیل سے جو کس کے اندر ہے؟ زیتون کے اندر ہے زیتون کے اندر ہے ورنہ ربا لازم آئے گا۔ اگر یہ اس کے برابر ہوا تو دیکھو آپ دے رہے ہیں ایک من تیل وہ زیتون جو لے رہے ہیں اس میں بھی کتنا تیل ہے؟ ایک من تو اس سے جب تیل نکالیں گے تو باقی جو اس کا وہ ردی بچے گی پھوک وغیرہ وہ زائد ہو گیا۔ کیا ہو گیا؟ زائد ہو گیا۔ تو یہ ایسا جو جو زیادتی ہے عوض سے جو خالی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اسی طرح تلوں کی بے کرنے لگے ہیں تلوں کے تیل کے بدلے تو وہ تیل اس تیل سے زیادہ ہونا چاہیے جو کس کے اندر موجود ہے؟ تلوں کے اندر موجود ہے تاکہ وہ زائد کس کے بدلے میں ہو جائے؟ وہ پھوک کے بدلے مثلاً بھئی آپ ایک ایک طرف ہیں ایک من زیتون تو اب بدلے اور اس میں تیل کتنا ہوگا نکلے گا مثلاً آدھا من تو آپ کتنی بدلے میں کتنا تیل دینا ضروری ہے آپ کے لیے آدھے من سے زیادہ تاکہ آدھا من تیل تو آدھے من تیل کے بدلے ہو جائے اور جو زائد تیل ہے وہ اس ردی کے عوض ہو جائے وہ پھوک کے بدلے بھئی۔ ليكون بعض الزيت بالزيت الذي في الزيتون تاکہ بعض تیل جو ہے اس تیل کے بدلے ہو جائے جو زیتون کے اندر ہے والباقی بالسجیر اور باقی کس کے بدلے ہو جائے وہ پھوک کے بدلے بھئی۔ ويستقرض الخبز وزناً لا عدداً اور قرض لیا جائے گا روٹی کو وزن کے اعتبار سے نہ کہ عدد کے اعتبار سے بھئی۔ بھئی روٹیاں آپ کسی سے قرض منگواتے ہیں لیتے ہیں اپنے ساتھی سے آپ کے مہمان آ گئے بھئی قرض دے دو مجھے 10 روٹیاں تو بھئی وزن کے اعتبار سے قرض لیا جائے گا عدد کے اعتبار سے نہیں۔ کیوں کہتے ہیں عدد کے اعتبار سے اس لیے نہیں کہ ان کے افراد میں تفاوت ہوتا ہے بہت زیادہ بھئی۔ آپ جو روٹی بناتے ہیں مثلاً وہ چھوٹی چھوٹی ہیں اور دوسرا بنائے گا ہو سکتا ہے وہ اس سے کیا ہوں بڑی ہوں بھئی بڑا فرق ہوتا ہے ہر ایک کی مختلف روٹیاں تو یہ عند ابی یوسف اور یہ کس کے نزدیک ہے وزن کے اعتبار سے لیا جائے گا قرض اور عدد کے اعتبار سے نہیں یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ہے اور بہ یفتٰی اور اسی پر فتویٰ دیا جائے گا۔ فتویٰ دیا جاتا ہے اما عند ابی حنیفہ رحمہ اللہ جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک لا یجوز جائز ہی نہیں ہے روٹی کو قرض لینا لا وزناً ولا عدداً نہ وزن کے اعتبار سے نہ عدد کے اعتبار سے لتفاوت الفاحشی وجہ تفاوت فاحش تفاوت فاحش کی وجہ سے بھئی۔ وزن کے اعتبار سے تو اس لیے نہیں کہ روٹی عددیات میں سے ہے وزن والی چیزوں میں سے نہیں عدد کے اعتبار سے دیا جاتا ہے اور عدد کے اعتبار سے بھی یہاں جائز نہیں کیونکہ دونوں کے افراد میں کیا ہے بہت زیادہ فرق ہے بھئی سمجھ میں یہاں کی 10 روٹیاں ملائیں تو ایک افغانی روٹی بنے گی بھئی بہت فرق ہوتا ہے۔ وعند محمد رحمه الله اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک يجوز بهما للتعاملي جائز ہیں دونوں کے ساتھ تعامل کی وجہ سے بھئی لوگوں کا عمل ہے تعامل ہے بھئی اس پر تو لہذا وزن کے اعتبار سے بھی قرض لینا جائز اور عدد کے اعتبار سے بھی۔ وعند ابی یوسف رحمہ اللہ يجوز وزنا للتعاملي والحاجتي جائز ہے وزن کے اعتبار سے تعامل کی وجہ سے اور حاجت کی وجہ سے بھئی ضرورت پیش آتی رہتی ہے لا عدداً للتفاوت فی احاده عدد کے اعتبار سے نہیں اس لیے کہ تفاوت ہوتا ہے ان کے افراد کے اندر بھئی احاد ای افراد۔ ولا ربا بين سيد وعبده اور ربا نہیں ہے بھئی آقا کے درمیان اور اس کے غلام کے درمیان بھئی ان دونوں میں ربا نہیں بھئی کمی بیشی کے ساتھ چیز ایک دوسرے پر بیچنا چاہتے ہیں بیچ سکتے ہیں کیوں کہتے ہیں بھئی ان میں کیوں نہیں کہتے ہیں الحعبد وما معه لمولاه اس لیے کہ غلام اور اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سارا تو کس کا ہے؟ مولا آقا ہی کا ہے تو گویا ہے ہی نہیں کوئی عقد ہی نہیں ہوا۔ و مسلم وفي حربی في داره ای لا ربا بين مسلم و حربي في داره بھئی کوئی ربا نہیں ہے مسلمان اور حربی کے درمیان فی داره ای فی دار الحرب کس میں دار الحرب میں بھئی دار الحرب میں بھئی سمجھ میں آیا بھئی۔ اس لیے کہ حدیث آتی ہے مولانا یہ حاشیہ نمبر سات میں آپ کے لکھی ہوئی ہے لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب مسلمان اور حربی میں کوئی ربا نہیں ہے دار الحرب کے اندر بھئی۔ समझ में आया इसलिए कि حربی کا مال لینا جیسے بھی ملے اس کو لے لینا قبضہ کر لینا اس پر جائز ہے بھئی دار الحرب وہ ہے بھئی جہاں مسلمانوں کو آزادی سے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت نہ ہو اور ان کے ساتھ آپ کا ملک کا کوئی معاہدہ وغیرہ بھی نہیں ہے بھئی۔ تو اب وہاں پر ان کے مال کو لینا مسلمان کے لیے جائز ہے قرضہ کرکے بھئی۔ تو یہ اب مسلمان کوئی دار الحرب میں جاتا ہے اور وہاں کسی حربی کے ساتھ سودی لین دین کرتا ہے تو جائز ہے بشترط کہ سود لینے والا مسلمان ہو یعنی ایک درہم دے کر دو درہم لینے والا ہو نہ یہ کہ دو درہم دے اور کیا کرے ایک درہم لے لے یہ تو پھر اس کا نفع ہو رہا ہے لہذا اس صورت میں جائز نہیں۔ ہاں اس سے لے رہا ہے تو اس کا مال تو مسلمان کے لیے کیا ہے لینا جائز ہے ویسے ہی بھئی تو جس طریقے سے بھی لے۔ ای في دار الحرب دارہ یہ ضمیر کا مرجع بتلایا دار الحرب کو راجع ہے لان مالہ مباح اس لیے کہ حربی کا مال مباح ہے فیجوز اخذہ بای طریق کان تو جائز ہے اس کے مال کو لینا جس طریقے سے بھی ہو خلافاً لأبی یوسف والشافعي رحمهما الله بخلاف امام ابو یوسف امام شافعی رحمہ اللہ کے اعتباراً بالمستامن في دارنا اعتبار کرتے ہوئے مستامن کا دار ہمارے دار میں دارالاسلام میں بھئی۔ بھئی دیکھو حربی ہمارے ملک میں آتا ہے تو اس وہ امان لے کر آئے گا بھئی کیا لے کر آئے گا؟ امان لے کر آئے گا۔ تو یہ ہوا مستامن بھئی کیا بنا مستامن جب یہ امان لے کر ہمارے ملک میں آئے یہ مستامن بن گیا امن لینے والا تو اب اس کے مال کو لینا جائز نہیں بھئی اس نے ہم سے کیا لے لیا؟ امان لے لیا بھئی تو جیسے مستامن کے مال کو لینا جائز نہیں اسی طرح امام ابو یوسف امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حربی کے مال کو بھی سودی کے طریقے پر لینا جائز نہیں۔ تعتبر اعتبار کرتے ہوئے مستامن کا ہمارے دار میں یعنی دارالاسلام میں۔ باب الحقوق والاستحقاق بھئی یہ باب ہے حقوق اور استحقاق کے بیان میں بھئی۔ یعنی حقوق سے مراد کون کون سے حقوق مبیع کے ساتھ متعلق ہوں گے بے میں داخل ہوں گے اور کون کون سے بے مبیع سے متعلق نہیں یعنی وہ بے میں داخل نہیں ہوں گے۔ اور استحقاق کا مطلب ہے کوئی چیز بے کی اور وہ پھر کسی اور کی نکل آئی بھئی پھر اس بے کی تھی چیز کسی اور کی نکل آئی تو کیا مسئلہ ہوگا یہ مسائل بیان ہوں گے اس باب کے اندر بھئی۔ تو کہتے ہیں يدخل البیع حقوق بیان کر رہے ہیں کیا کیا چیزیں بے میں داخل ہو جائیں گی يدخل البناء والمفتاح والعلم والکنيف فی بيع الدار بھئی ایک شخص سے آپ نے دار خریدا بھئی میں نے یہ دار بھئی۔ جی تو کہتے ہیں يدخل البناء بھئی عمارت بھئی عمارت بھی داخل ہو جائے گی اس کے اندر والمفتاح اور چابیاں بھی۔ مفتاح کیا داخل ہو جائے گی؟ چابیاں بھئی آپ نے ایک شخص سے گھر خریدا ہے تو اس گھر کے تالے بھی داخل ہو جائیں گے بے کے اندر اور تالے کے لیے کیا ضروری ہے؟ چابی تو چابیاں بھی بے کے اندر داخل ہو جائیں گی۔ لیکن عام تالے نہیں مراد یہ جو آپ لگاتے ہیں بھئی اپنے صندوق وغیرہ کو یہ تو الگ ہے وہ تالے مراد ہیں جو دروازوں کے اندر لگے ہوئے ہیں۔ کس میں لگے ہوئے ہیں؟ دروازوں کے اندر جو تالے لگے ہوئے ہیں وہ تالے مراد ہیں جب وہ داخل ہو گئے بے کے اندر تو اب ان کی چابیاں بھی تو اب ان کے داخل ہو گئے بھئی۔ تو عمارت بھی بے کی دار کی بے کے اندر عمارت بھی داخل ہو جائے گی والمفتاح اور چابی بھی والعلم اور بالخانہ بھی بھئی اوپر والی منزل بھی کیا ہو جائے گی بے کے اندر داخل ہو جائے گی والقنيف اور بیت الخلا بھی بھئی فی بیع الدار گھر کی بے میں داخل ہو جائیں گے۔ القنيف کسے کہتے ہیں خود بتلا رہے ہیں بھئی المتر راح بھئی کسے کہتے ہیں مستراح یعنی بیت الخلا کو بھئی۔ لظلہ ظلہ داخل نہیں ہوگا بھئی۔ ظلہ کسے کہتے ہیں اب حوالے دے رہے ہیں بھئی دو لوگ کتابوں کے فی المغرب بھئی مغرب کتاب کے اندر ہے ظلہ دار الستۃ التی فوق الباب گھر کا ظلہ وہ سدہ وہ سائبان ہے التی فوق الباب جو کس کے اوپر ہو دروازہ بھئی گھر کے دروازے کے اوپر سائبان بنا ہوتا ہے یا نہیں بنا ہوتا بھئی؟ جی دروازے پر سائبان بنا ہوتا ہے آپ نے دیکھا ہوا ہے عموماً۔ دھوپ سے بچنے یا بارش وغیرہ سے بچنے کے لیے بھئی تو وہ بھی داخل ہوگا یا داخل نہیں بھئی۔ تو وہ کہتے ہیں وہ داخل نہیں ہوگا ظلہ داخل نہیں ہوگا اب ظلہ کسے کہتے ہیں کہتے ہیں مغرب کتاب جو ہے اس کے اندر لکھا ہوا ہے کہ ظلہ وہ سائبان ہے جو کس پر بنا ہوا ہو دروازے پر بنا ہو بھئی یہ داخل نہیں بھئی وعن صاحب الحاسد اور صاحب الحسد یہ بھی ایک کتاب کا نام ہے ان کے نزدیک هي التي أحد طرفي جزوعها على هذه الدار۔ و طرفها الاخر على حائط الجار المقابلي۔ صاحب حسد فرماتے ہیں کہ نہیں بھئی یہ ظلہ نہیں مراد بھئی یہ تو داخل ہوگا دوسرا ظلہ مراد ہے کہ گلی ہے مثلاً بھئی آپ کے دروازے پر سائبان ہے اس کی جو کڑیاں ہیں ایک کنارہ تو آپ کی دیوار اور چھت دروازے کے اوپر ہے اور دوسرا دوسرے مد مقابل جو پڑوسی ہے اس کی دیوار پر کڑیاں پڑی ہوئی ہیں یعنی پوری گلی پر سامنے چھت سی بن گئی ہے دروازے کے سامنے بھئی وہ مراد ہے بھئی کیا ہے؟ وہ مراد ہے بھئی دیکھیے بھئی کہتے ہیں هي التي ظلہ جو ہے وہ ہے احد طرفی جزوعها طرفین تھا جزوع کہتے ہیں کڑیاں بھئی جو تنا جو چھت کے لیے پہلے جیسے چھت بناتے تھے بھئی کڑیاں وغیرہ کی۔ جزوع کڑیاں کہ اس کی کڑیوں کی ایک طرف جو ہے علیٰ هذه الدار وہ کیا ہو اس گھر پر ہو جس کو آپ نے خریدا ہے و طرف الاخر علیٰ حائط الجار المقابلي اور کڑیوں کی دوسری طرف کس پر ہو علیٰ حائط الجار المقابلی سامنے جو مقابل پڑوسی ہے اس کی دیوار پر ہو بھئی یہ وہ سائبان مراد ہے اور یہ داخل نہیں ہوگا بے کے اندر بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی کیا کیا چیزیں داخل ہوں گی بھئی دار کی بے کے اندر عمارت بھی آ جائے گی صحن تو ہے ہی ہے عمارت بھی آ گئی چابیاں بھی بالخانہ بھی اوپر کی منزل بھی ساری اور بیت الخلا لیکن کیا داخل نہیں ہوگا؟ ظلہ سائبان داخل نہیں ہوگا الا ببکری کل حق ہو لها مگر یہ کہ کے ساتھ وہ یہ ذکر کر دے۔ کہ کل حق ہو لها میں اس گھر کو خریدتا ہوں بكل حق ہر ایسے حق کے ساتھ جو کہ اس کا ہے اس گھر کو میں اس کے ہر حق کے ساتھ خریدتا ہوں اب ظلہ بھی کیا ہو جائے گا؟ شامل ہو جائے گا۔ ہوا ضمیر راجع ہے حق کو مولانا۔ کس کو راجع ہے؟ حق کو راجع ہے اور لها کی ہا ضمیر راجع ہے دار کو بھئی۔ دار کو بھئی اور ہوا لها یہ پورا جملہ ہے یہ صفت ہے حق کی بھئی۔ کس کی صفت ہے؟ کیونکہ جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے جی اور میں نے کیا بتلایا تھا ترجمہ کیسے کریں گے؟ بذکر كل حق ہر ایسے حق کے ذکر کرنے کے ساتھ ہوا لها جو کہ اس گھر کا ہے آپ نے یہ کہا میں نے اس گھر کو خریدا ہر ایسے حق کے ساتھ جو اس کا ہے اب وہ داخل ہو جائے گا۔ یا آپ یوں کہتے ہیں بھئی بمرافقها میں نے اس گھر کو خریدا بمرافقها اس کے سارے نفعوں سمیت بھئی سارے سارے حقوق سمیت سارے نفعوں سمیت او بكل قليل وكثير هو فيها یا یہ کیا کر خریدا میں نے اس گھر کو خریدا ہر ایسے تھوڑے اور زیادہ کے ساتھ ہوا فيها جو اس میں سے ہے جو اس گھر میں ہے اب بھی داخل ہو جائے گا او منها آپ نے یوں کہا بكل قليل وكثير منها ہر تھوڑا یا زیادہ جو اس گھر میں سے ہے ای منھا ای من حقوقها اس کے حقوق مضاف محذف ہے بھئی من کے بعد بھئی۔ من حقوقها جو اس کے حقوق میں سے ہے تو اب داخل ہو جائے گا مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ وشجر اور درخت بھی داخل ہوگا لا الزرع کھیتی نہیں فی بيع الارض زمین کی بے میں بھئی۔ بھئی آپ نے ایک زمین کسی کو بیچی اس زمین کے اندر جتنے درخت لگے ہوئے ہیں وہ بے کے اندر داخل ہو جائیں گے۔ اور اگر اس میں کھیتی ہے فصل ہے وہ داخل نہیں ہوگی۔ وجہ یہ کہ دونوں میں فرق ہے بھئی درخت کو لگایا جاتا ہے کس لیے؟ مستقلاً لگا رہتا ہے اور کھیتی کو کس لیے بویا جاتا ہے؟ کاٹنے کے لیے علیحدہ کرنے کے لیے جی تو جو چیز مستقلاً دوام کے طور پر ہو او اس کا حکم الگ ہے وہ بے میں داخل ہو جائے گی اور جو چیز الگ کرنے کے لیے ہو وہ بے کے اندر داخل لہذا اب آپ مجھے بتائیے میں نے ایک شخص پر ایک درخت فروخت کیا بھئی باغ فروخت کیا اور وہ پھلوں سے بھرا ہوا ہے بھئی پھل ہوں گے بھئی ان درختوں کی بے میں یا پھل نہیں داخل ہوں گے؟ جی پھل نہیں داخل ہوں گے اس لیے کہ پھل کیا کیے جاتے ہیں علیحدہ کیے جاتے ہیں ان کو اتارا جاتا ہے ہاں اگر ذکر کر دیا کھیتی کو اگر ذکر کر دیا یا پھلوں کو درختوں کی بے میں ذکر کر دیا پھر وہ داخل ہو جائیں گے۔ تو کہتے ہیں وشجر ای يدخل شجرہ درخت داخل ہو جائے گا لا الزرع نہ کہ کھیتی فی بيع الارض زمین کی بے میں ولا الثمر اور اسی طرح داخل نہیں ہوگا پھل بھئی فی شجرہ ایسے درخت میں فیه ثمرہ جس کے اندر کیا تھا پھل ایسے درخت کی بے کی جس کے اندر پھل تھا تو اب پھل اس بے کے اندر داخل نہیں ہوگا الا بشرطہ مگر یہ کہ اس کی شرط لگا دی جائے پھر داخل ہو جائیں گے بھئی کھیتی بھی داخل ہو جائے گی اور پھل بھی داخل۔ समझ میں آیا وان ذکر الحقوق والمرافق اگرچہ حقوق اور منافع کو ذکر کر دیا جائے آپ کہتے ہیں میں نے اس درخت کو آپ سے خریدا اس کے سارے حقوق اور سارے منافع کے ساتھ پھر بھی داخل نہیں بھئی پھل آپ نے زمین خریدی اس میں کھیتی لگی ہوئی ہے آپ نے کہا میں نے اس زمین کو خریدا اس کے سارے حقوق اور سارے پھر بھی یہ داخل نہیں ہوگا جب تک کہ ان کو علیحدہ ذکر نہ کرے بھئی۔ ولا العلم في شراء بيت بكل حق بھئی دیکھو اگلے مسئلے کے لیے سمجھ لو تین لفظ ہیں بھئی ایک بیت ہے ایک منزل ہے ایک دار بھئی بیت بات آ گئی تو بیت سے ہے جس میں رات گزاری جائے کمرے کو کہتے ہیں کیا کہتے ہیں بیت کسے کہتے ہیں کمرے کو کہتے ہیں۔ منزل اسے کہتے ہیں جس میں دو تین چار کمرے ہوں بھئی۔ دو تین چار کمرے ہوں۔ یعنی یہ بیت سے بڑا ہے بھئی۔ بیعت سے بڑا۔ البتہ اس میں کہتے ہیں استبل وغیرہ نہیں ہوگا بھئی بعض کہتے ہیں صحن بھی نہیں ہوگا بس تین چار کمرے ہیں۔ جس میں کوئی اہل و عیال والا شخص شادی شدہ بچوں وغیرہ والا شخص رہ سکے بھئی اس کو منزل کہتے ہیں اور سب سے بڑا ہے دار بھئی۔ جس کے اندر استبل وغیرہ بھی ہوگا صحن بھی ہوگا اور صحن وغیرہ بھی ہوگا بھئی۔ تو دار سب سے بڑا ہے منزل اس سے چھوٹی اور بیت اس سے چھوٹا۔ منزل۔ اب ایک شخص ایک بیت کو خریدتا ہے کمرے کو بھئی اس کے اوپر ایک اور کمرہ ہے ایک اور کمرہ ہے۔ اب اس نے کمرے کو خریدتا ہے یہ کہہ کر میں اس بیت کو آپ سے خریدتا ہوں اس کے سارے منافع سمیت سارے حقوق سمیت۔ تو کہتے ہیں بالا خانہ پھر بھی نہیں داخل ہوگا اس لیے کیونکہ یہ بھی ایک کمرہ ہے بالا خانہ بھی ایک کمرہ ہے تو وہ بالا خانہ اس کے تابع نہیں ہو سکتا اس لیے کہ چیز اعلیٰ کے تابع ہوتی ہے اپنے برابر والے کے تابع تو یہ اوپر بھی اسی کے برابر کا ہے یہ بھی ایک دوسرے کے مثل ہے اور چیز اپنے مثل کے تابع نہیں ہوتی بلکہ اپنے سے اعلیٰ کے تابع ہوتی ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ يتبعی کا معنی تابع بنانا تو بیت اوپر والے بیت کو اپنا تابع نہیں بنائے گا کیونکہ اس کی مثل ہے ہاں منزل اوپر والے بیت کو کیا کر دے گی؟ تابع بنا دے گی اس لیے کیونکہ وہ اس سے ادنیٰ ہے۔ والطريق ولا الطريق والشرب والمصيل في البيع إلا بذكر ما ذكر أيضا بھئی اور راستہ شرب کہتے ہیں پانی کا حصہ پانی کی باری جو ہوتی ہے اور داخل نہیں ہوگا راستہ اور پانی کے پانی کا حصہ والمسیل اور پانی بہنے کی جگہ فی البيع کس کے اندر بے کے اندر الا بذكر ما ذكر أيضا بھئی مگر یہ کہ یہاں بھی کیا کیا جائے ان چیزوں کو ان چیزوں کو ذکر کرنے کے ساتھ کہ میں سارے حقوق اور منافع کے ساتھ لیتا ہوں تو پھر داخل ہو جائے گا راستہ بھی پانی کی باری بھی اور پانی بہنے کی جگہ جہاں سے بارش وغیرہ کا پانی بہتا ہے نکلتا ہے بھئی۔ بخلاف الاجارة بخلاف کس کے؟ اجارہ کے۔ اجارہ میں یہ تینوں چیزیں داخل ہو جائیں گی بے کے اندر داخل جب تک منافع کو ذکر اور حقوق کو ذکر نہ کریں بے میں داخل نہیں۔ جی۔ فان الشرب والطريق والمصيل يخل في الاجارة بلا ذكر الحقوق والمرافق اس لیے کہ پانی کا حصہ اور راستہ اور پانی بہنے کی جگہ داخل ہو جاتے ہیں اجارے کے اندر بلاثل ذکر الحقوق والمرافق حقوق اور مرافق کے ذکر کے بغیر ہی داخل ہو جاتے ہیں۔ بھئی یہ کیا وجہ ہے؟ آپ نے کہا یہ چیزیں بے کے اندر داخل نہیں ہوں گی لیکن اجارہ کر لے تو کیا ہو جائیں گی؟ داخل ہو جائیں گی۔ کہتے ہیں اس لیے کہ اجارہ تو واقع ہوتا ہے نفع پر۔ اجارہ میں عین شے بیچی جاتی ہے یا اس کے منافع بیچے جاتے ہیں؟ منافع بیچے جاتے ہیں تو زمین سے منافع بغیر پانی کے باریک اٹھا ہی نہیں سکتا کوئی گھر کرائے پر لیا ہے تو بغیر راستے کے اس سے نفع اٹھا ہی نہیں سکتا تو اجارہ تو ہوا ہی منافع ہے تو ان چیزوں کے بغیر نفع اٹھانا ہی نہیں اٹھانا ممکن ہی نہیں ہے جبکہ بے بے وہ نفس شے پر ہوا کرتی ہے اور نفس شے سے نفع اٹھانا ان چیزوں کے بغیر بھی آپ نے ایک زمین خریدی تو اس زمین سے پانی کے حصے کے بغیر راستے کے بغیر بھی نفع اٹھا سکتے ہیں کس طرح؟ آپ خرید کر آگے بیچ دیتے ہیں جب آگے بیچ دیا نفع اٹھا لیا آپ نے اس سے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو بے کے اندر بغیر ان چیزوں کے بھی نفع اٹھانا ممکن اجارے کے اندر آپ نے کیا کرنا ہے زمین اگر کس سے لی ہے بھئی کرائے پر تو اب آپ اس سے نفع کیسے اٹھائیں گے؟ پانی کی باری ہو۔ تو لہذا وہاں تو نفع اٹھانا اس کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا اس لیے وہاں خود بخود داخل اور بے میں بغیر ذکر کے نہیں داخل بھئی۔ فإن الإجارة تقع على المنفعة اس لیے کہ اجارہ تو واقع ہوتا ہے نفع کے اوپر ولا منفعة بدون هذه الأشياء اور ان چیزوں کے بغیر نفع نہیں ہے واما البیع فیيرض على الرقبة جبکہ باقی بے جو ہے وہ کس پر ہوتی ہے رقبہ پر اس چھ کے رقبہ پر اس کی گردن یعنی نفس شے پر واقع ہوتی ہے وایضاً يمكن أن ينتفع المشتري بالتجارة اور ممکن ہے کہ نفع اٹھا لے اس عین شے سے اس کے رقبے سے بتجارت کس کے ذریعے تجارت کرے آگے بیچ دے ولا کذلك فی الاجاره اور اجارہ میں اس طرح نہیں ہے بھئی۔ وَيُؤْخَذُ الولد بھئی یہ حقوق کا بیان ہو گیا اب استحقاق کا بیان کرنے لگے ہیں اگر مبیعہ کسی اور کا نکل آئے بھئی۔ وَيُؤْخَذُ الولد ان استحقّت أمه ببينة وإن أقر بها لا۔ بھئی دیکھو صورت مسئلہ یہ ہے۔ آپ نے ایک باندی خریدی اور آپ کے پاس آ کر باندی نے ایک بچے کو جنم دیا۔ बाद में कोई شخص نکل آیا اس نے کہا بھئی یہ بائع نے آپ کو میری باندی بیچ دی ہے بھئی۔ باندی کسی اور کی نکل آئی بھئی۔ آپ۔ یہ جو باندی کسی اور کی نکلی اس کا۔ یا تو یہ بینہ کے ذریعے ثابت ہوگا یا مشتری اس کا اقرار خود کر لیتا ہے واقعی میں نے یہ جو باندی خریدی تھی یہ دراصل بائع کی نہیں تھی بلکہ آپ کی تھی دو صورتیں ہیں۔ تو اس باندی کا غیر شخص کے لیے ثبوت بینہ کے ذریعے ہوگا یا مشتری کے اقرار کے ذریعے ہوگا۔ اگر بینہ کے ذریعے ثابت ہو جائے کہ باندی اس غیر شخص کی ہے تو باندی بھی دینی پڑے گی اور اس بچے کو بھی دینا پڑے گا۔ اور اگر مشتری کے اقرار کے ساتھ کیا ثابت ہو جائے کہ باندی غیر کی ہے تو اس صورت میں صرف باندی دی جائے گی اور بچے کا وہ حقدار نہیں ہے۔ صورت مسئلہ سمجھ میں آئیے دیکھئے بھئی کیوں؟ وجہ بھی علت بھی یہ ذکر کریں گے۔ وَيُؤْخَذُ الولد اور لیا جائے گا بچے کو بھی ان استحقّت أمہ ببينة اگر استحقاق نکل آیا اس کی ماں کا جو کہ باندی ہے ببينة کس کے ذریعے؟ بینہ کے ذریعے وان أقر بها اور اگر مشتری نے اس کا اقرار کیا بھئی لا تو اس صورت میں نہیں بھئی بچے کو نہیں لیا جائے گا۔ صورتہا صورت مسئلہ یہ ہے مولانا اشتری رجل جاریة خرید کسی آدمی نے کسی باندی کو فولد عنده تو اس نے جنم دیا اس کے پاس اس مشتری کے پاس فاستحقها رجل تو مستحق نکل آیا اس باندی کا کوئی اور آدمی فإنہ يأخذها ولدها تو وہ شخص اس کے بچے کو بھی لے لے گا۔ اس کے۔ بچے کو بھی لے لے گا۔ وإن أقر بها لا اور اگر مشتری نے اقرار کیا ہے اس کا تو پھر نہیں لے گا۔ بھئی بینہ کی صورت میں لے لے گا کیوں کہتے ہیں لأن البينة حجة مطلقة اس لیے کہ بینہ کیا ہے حجت مطلقہ ہے بھئی فيظهر بها ملكه من الأصل تو ظاہر ہوگا بینہ کے ذریعے اس شخص کی ملکیت اصل سے ابتدا سے ہی بھئی۔ ابتدا سے ہی اس کی ملک ثبت ہو جائے گی حجت مطلقہ ہے بھئی سب کے لیے حجت ہے بھئی سمجھ میں آیا بھئی۔ جبکہ اقرار حجت قاصرہ ہے اقرار کے ذریعے آدمی کا اپنا مواخذہ تو ہو سکتا ہے غیر کا مواخذہ نہیں ہو سکتا اقرار ہے حجت قاصرہ اور بینہ کیا ہے حجت مطلقہ ہے بھئی۔ اس کے ذریعے کسی پر بھی کسی حق کو ثابت کیا جا سکتا ہے بھئی۔ تو اب دیکھئے جب اس نے کہا بینہ پیش کی یہ باندی میری ہے دو گواہ بھی پیش کر دیے تو ابتدا ہی سے ملک اس کی ثابت ہو گئی بھئی۔ ابتدا ہی سے اس کی شرا کے وقت سے ہی اس کی باندی ملکیت باندی کے اندر اس کی ثابت ہو گئی تو لہذا جب اس وقت سے وہ باندی کا مالک ہے تو آگے جا کر اس نے جو بچے کو جنم دیا اس کا بھی وہ کیا ہوگا؟ مالک ہوگا۔ لكن اگر وہ ایک باندی اس کی ثابت ہوئی ہے آپ کے اقرار کی وجہ سے تو اقرار تو ہے حجت قاصرہ۔ اقرار کیا ہے حجت قاصرہ بھئی تو لہذا اقرار کی صورت میں بھی باندی اس کی نکلے گی تاکہ آپ کی خبر کو جھوٹا ہونے سے بچایا جائے آپ نے کیا اقرار کیا تھا یہ باندی کس کی ہے؟ اس شخص کی ہے تو اگر آپ کی خبر کے سچا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ یہ باندی کس کی ہو؟ اگر اس شخص کی نہیں تو پھر تو کیا ہو جائے گا آپ کا کلام ہی کاذب تو آپ کی آپ نے جو خبر دی اس کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ۔ کیا کیا جائے بھئی باندی کے اندر اس شخص کی ملکیت ثابت ہو جائے اور جب اس باندی کے اندر اس کی ملکیت ثابت ہو گئی تو اب بچے کے اندر ملکیت کو ثابت کرنے کی ضرورت اس کے بغیر ہی آپ کا اقرار صحیح ہوا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ لان البينة حجة مطلقة اس لیے کہ بینہ جو ہے وہ حجت مطلقہ ہے فيظهر بها ملكه من الأصل تو ظاہر ہوگا بینہ کے ذریعے اس شخص کی ملکیت من الاصل (اصل سے یعنی خریدنے کے ہی وقت سے ابتدا سے ہی اس کی ملکیت ظاہر ہو جائے گی تو جب اس سے وہ مالک ہے تو آگے جا کر جو بچے کو جنم دے گی اس کا بھی وہ مالک اور الإقرار حجة قاصرة اور اقرار حجت قاصرہ ہے يثبت الملك ضرورت صحة الأخبار صحة الاخبار اس کے ذریعے ملک ثابت ہوگی کیوں؟ خبر کے صحیح ہونے کی ضرورت کی بنا پر خبر کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ۔ اس شخص کے لیے کیا ثابت کی جائے؟ آپ نے کہا ہے یہ باندی زید کی ہے میں نے احمد سے خریدی ہے لیکن ہے کس کی؟ زید کی تو آپ کی خبر ہو نے کے لیے صحیح ہے ضروری ہے کہ اس باندی کے اندر اس شخص کی کیا ثابت کر دی جائے؟ ملک اگر ملکیت ثابت نہیں ہوتی تو آپ کی خبر صحیح رہتی ہے؟ نہیں آپ کی خبر تو کیا بن جائے گی؟ کاذب۔ تو آپ کی خبر کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے لیے ملک ثابت کی جائے فيندفع الضرورة ببثبوت الملك فيندفع الضرورة ببثبوت الملك بھئی اور ضرورت کیا ہو جاتی ہے؟ ختم ہو جاتی ہے اٹھ جاتی ہے ببثبوت الملكی ملکیت کے ثابت ہونے کے ساتھ بعد انصال الولد بعد بچے کے جدا ہونے۔ بچے کے جدا ہونے کے بعد بھی اگر ملک ثابت ہو جائے تو آپ کی خبر کی صحت ثابت آپ کی خبر صحیح ہوئی یا نہ ہوئی بھئی؟ صرف باندی کے اندر کیا ثابت کر دیں؟ ملک ثابت کر دیں تو ضرورت پوری ہو گئی ضرورت پوری ہو گئی۔۔ چلیں بس کر دیں هذا هو المرام واللہ أعلم بحقيقت الكلام.
106 approved lectures · 38 of 106