کفالت کا باب ہم نے شروع کیا تھا، میں نے بتلایا تھا کفالت کسے کہتے ہیں؟ ضمانت دینا بھئی کسی کو، تو ضمانت کبھی نفس کی دی جاتی ہے، کسی کی ذات کی دی جاتی ہے کہ اس کو میں فلاں وقت پر حاضر کروں گا، آپ بے فکر رہیں، یہ کہیں بھاگتا نہیں، میں ضمانت دیتا ہوں بھئی۔ اور کبھی کبھار مال کی دی جاتی ہے کہ میں ضمانت دیتا ہوں یہ مال کیا کرے گا؟ ادا کرے گا، اگر اس نے ادا نہیں کیا تو میں ادا کر دوں گا بھئی۔ جی۔
اور پھر اس کے بعد کفالتِ بالنفس کے مسئلے پہلے شروع کردیے بھئی، کفالتِ بالنفس کے اندر کیا تھا؟ کہ مکفول بہی کو حاضر کرنا ضروری ہوتا تھا، جب مکفول لہٗ اس کا کیا کردے؟ مطالبہ کردے، مطالبہ کردے، اور اگر مطالبے پر بھی حاضر نہیں کرتا، تو پھر حاکم اس کو جیل میں ڈال سکتا ہے بھئی، جیل میں۔
جی اور اگر اس نے کوئی وقت متعین کیا تھا کہ اس وقت اس کو حاضر کرنا ہے، تو پھر وہ مطالبہ کرے یا نہ کرے اس کے لیے اس کو حاضر کرنا ضروری ہے۔ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا بری کیسے ہوگا بھئی؟ براءت کی کئی صورتیں تھیں کفالتِ بالنفس میں، ایک صورت یہ کہ مکفول بہی مر جائے۔ مکفول بہی مر گیا، اب تو یہ عاجز ہے، اس کو حاضر نہیں کرسکتا، لہٰذا بری ہوا۔
جی اور نیز بھئی اگرچہ اگر اس نے اس کو ایسی جگہ پر حاضر کردیا مکفول بہی کو کہ مکفول لہٗ اس کے ساتھ خصومت کرسکتا ہے، یعنی اس کو قاضی کے پاس لے جاسکتا ہے، تو پھر بھی بری ہو جائے گا۔ اگرچہ اس نے یہ نہ کہا ہو کہ میں جب حوالے کروں گا، تو کیا ہو جاؤں گا؟ بری ہو جاؤں گا، اس لیے کہ یہاں تو اس کفالت کا مقتضی ہی یہ ہے بھئی، کہ جب وہ اس کے حوالے کردے گا، تو کیا ہو جائے گا؟ خود بخود بری ہو جائے گا۔
جی۔
وبتسليم من كُفِل به نفسه من كفالتهِ جی وتسليم! اس کا عطف بھی ما قبل میں جو آیا تھا بھئی، ويبرأ بموت۔ موت پر، بموت پر عطف ہے، ويبرأ بتسليم۔ اور بری ہو جائے گا سپرد کرنے کے من، کس کے سپرد کرنے کے؟ من كُفِل به، یعنی مکفول بہی مراد ہے، جس کی کفالت دی گئی تھی۔
جس کی کفالت دی، بھئی صورت یہ ہے بھئی! آپ نے عمرو کو ضمانت دی کہ زید کہیں نہیں بھاگتا، میں اس کو قاضی کے سامنے حاضر کروں گا بھئی فلاں وقت پر بھئی۔
اب آپ نے حاضر نہیں کیا، وہ زید خود ہی موقع پر حاضر ہوگیا، تو پھر بھی آپ کیا ہو جائیں گے؟ بری ہو جائیں گے۔ یہی بات کر رہے ہیں کہ مکفول بہی نے اپنے نفس کو خود ہی سپرد کرد کردیا بھئی! اس موقع پر، تو تو بھی آپ اپنی کفالت سے کیا ہو جائیں گے؟ بری، یہی بات کر رہے ہیں۔ اور سپرد کرنے مکفول بہی کے، کس کو سپرد کرنے؟ مکفول بہی کس کو سپرد کرتا ہے؟ نفسہٗ اپنے اپنے نفس، اپنے آپ کو، تو یہ بری ہو جائے گا کفیل، کس سے؟ من كفالتهِ اپنی کفالت سے، کفالت سے۔
अच्छा! تو دیکھیے من كُفِل به کا میں نے کیا معنی بتلایا؟ مکفول بہی مراد ہے، وہ جس کی کفالت دی گئی، یہی بات شرح میں بتلا رہے ہیں بتسليم المكفول به کہ مکفول بہی کیا کرے؟ سپرد کرے نفسہٗ اپنے آپ کو، تو یہ بری ہوگا کس سے؟ من کفالة الكفيل ضمیر کا مرجع بتلایا کفالتهِ کی، ہاں ضمیر کس کو راجع ہے متن میں؟ کفیل کو، کفیل کی کفالت سے (یعنی کفیل اپنی کفالت سے بری ہو جائے گا)۔
وبتسليم وكيل الكفيل ورسوله اليهِ، اسی طرح بھئی! بھئی ضمانت تو آپ نے دی تھی کہ آپ زید کو حاضر کریں گے، آپ کا وکیل اس کو حاضر کردیتا ہے، یا آپ کا قاصد، پیغام رساں اس کو کیا کردیتا ہے؟ حاضر، تو وہ بھی آپ اپنی کفالت سے بری ہوگئے۔
وبتسليم وكيل الكفيل، اور اسی طرح سپرد کرنے کفیل کے وکیل کے، سپرد کرنے کی وجہ سے بھی، ورسولهِ، اور کفیل کے رسول کے سپرد کرنے کی وجہ سے بھی، بھئی کس کے سپرد کرنے کی؟ اليهِ، ای الی المكفول لہٗ، مکفول لہٗ کے سپرد کرنے سے، خود بتلائیں گے آگے ہا ضمیر کا مرجع۔ بھئی اليهِ جار مجرور ہے، اور اس جار مجرور کے لیے کیا چاہیے؟ متعلق چاہیے۔ یہ کس سے متعلق ہے؟ تو بتلا رہے ہیں بھئی شرح کے اندر اليهِ متعلق بالتسليمِ، اليهِ متعلق ہے تسلیم سے۔ بھئی جار مجرور کس سے متعلق ہے؟ اس کے لیے طریقہ یاد رکھو، صرف متعلق کو پکڑو (یعنی اس جار مجرور کو پکڑو) اور متعلق جس سے آپ جوڑ رہے ہیں، صرف ان کو پکڑو اور باقی سارے لفظ ختم کردو اور ترجمہ کرو۔ ترجمہ اگر صحیح ہوتا ہے، تو یہ اس سے جڑ رہا ہے، اگر ترجمہ صحیح نہیں ہوتا، تو اس سے نہیں جڑ رہا۔ بھئی اب ہم اليهِ کو متعلق ہے کس کے ساتھ؟ تسلیم کے ساتھ۔ تو ذرا اليهِ پکڑو اور تسلیم پکڑو، باقی سب ختم کرو۔ بتسليم اليهِ سپرد کرنے اليهِ اس کے، اس کے سپرد کرنے سے۔ معنی درست بن رہا ہے یا نہیں بھئی؟ جی، درست ہے بھئی۔
تو اس کو سپرد کرنے سے اليهِ متعلق بالتسليمِ والضمير راجع الی المكفول لہٗ، اور ضمیر اس کی، اليهِ میں جو ہا ضمیر ہے، یہ راجع ہے کس کو؟ مکفول لہٗ کو، کہ مکفول لہٗ کے سپرد کرے اس کو، مکفول بہی کو۔
ولو مات المكفول له فللوصي والوارث مطالبتهٗ بهِ بھئی! اگر مکفول لہٗ مر جائے، بھئی آپ نے عمرو کو ضمانت دی تھی کہ میں زید کو حاضر کروں گا، لیکن جس کو ضمانت دی، وہ مر گیا۔ وہ مر گیا، تو کیا آپ کفالت سے بری ہوگئے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی! آپ کفالت سے بری نہیں۔ اس کا وصی اگر اس نے کسی کو وصیت کی، اس کا وصی جو ہے، وہ کیا کرسکتا ہے؟ مطالبہ کرسکتا ہے آپ سے، یا اس کا جو وارث ہے، وہ آپ سے مطالبہ کرسکتا ہے۔
ولو مات المكفول له، اگر مکفول لہٗ مر گیا، فللوصي والوارث، تو وصی اور وارث کے لیے جائز ہے مطالبتهٗ بہی، ضمیر کا مرجع مطالبتهٗ کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ بہی کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ بتلا رہے ہیں شرح کے اندر ای مطالبۃ الكفيلِ۔ مطالبہ کی ضمیر کس کو راجع ہے؟ کفیل سے مطالبہ کرے گا کس کا بھئی؟ بہی ای بالمكفول بہی، مکفول بہی یعنی وہ وصی یا وارث کفیل سے مطالبہ کر سکتے ہیں، کس کا مطالبہ؟ مکفول بہی کا، بھئی جس جس نے کفالت دی تھی۔
فان كفل بنفسهِ علی انهٗ ان لم يوفِ به غدا فھوأ اي ان لم ياتی به غدا فھو ضامن لما عليها ولم يسلمْه غدا لزمهٗ ما عليهِ۔ صورت مسئلہ یہ ہے بھئی! آپ نے کفالت ضمانت دی نفس کی کسی کی۔ کہ آپ نے کہا بھئی عمرو سے کہا یہ زید کہیں نہیں بھاگता، اس کو حاضر کرنا میرے ذمے۔ کل میں اس کو کیا کروں گا؟ فلاں وقت قاضی صاحب کے پاس حاضر کروں گا۔ اگر میں اسے حاضر نہ کرسکا، تو پھر مال میں ادا کروں گا۔ کفالت بالنفس دی، اور ساتھ ہی کیا دے دی کفالتِ مال بھی؟ میں اس کو اس وقت حاضر کروں گا، اگر میں حاضر نہ کرسکا تو پھر مال میں ادا کروں گا۔ کہتے ہیں اگر اس نے اس وقت کل موقع پر اس کو حاضر نہ کیا، تو اس پر مال لازم ہو جائے گا۔ مال کیا ہو جائے گا؟ لازم۔
نیز آگے بتلائیں گے مال بھی لازم ہے، اور کفالتِ نفس سے بھی یہ بری نہیں ہے، کیونکہ اس نے کفالت کس چیز کی دی تھی پہلے؟ کفالت بالنفس دی تھی، اور اس کے ساتھ ساتھ پھر کفالتِ ضمانت مال بھی دی تھی، تو مال بھی اس پر لازم ہو جائے گا، اور کفالتِ نفس سے بھی بری نہیں ہوگا۔
اس شخص کو بھی حاضر کرنا اس پر ضروری ہوگا۔ ہاں! اگر یہ پیسے ادا کردیتا ہے، تو پھر کفالتِ مال بھی ختم، اور کفالتِ نفس بھی ختم، کیونکہ اس کا مقصود ہی حاصل ہوگیا، اس کا دین اسے پورا پورا وصول۔ اب کفالتِ مال سے تو بری ہوا کیونکہ اس نے ادا کردیتا، اور کفالتِ نفس سے بھی بری ہوگیا، کیونکہ اب اسے حاضر کرنے کا کوئی فائدہ ہے؟ اب اسے حاضر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
تو یہ بات کررہے ہیں فان كفل بنفسهِ اگر کفیل بن ضمانت دی نفس کی بھئی علی انهٗ اس شرط پر کہ اننهٗ ان لم يوفِ به غدا کہ اگر اس نے اس کو کل ادا نہ کیا، وافأ یوفی کے معنی ادا کرنا اسی۔ تو اب بتلا رہے ہیں بھئی ادا کرنے کا کیا معنی؟ کہتے ہیں ای لم ياتی به غدا، کل اسے لے کر نہ آیا۔ مراد کیا ہے یہاں پر؟ لے کر۔ اگر اسے لے کر نہ آیا کل فھو ضامن لما عليهِ تو وہ ضامن ہے اس چیز کا جو اس پر ہے، یعنی جتنا دین اس پر ہے وہ اس کا ضامن ہے، ولم يسلمْه غدا، اور پھر اس نے اس کو سپرد کل سپرد نہیں کیا، لزمہٗ ما عليهِ تو اس پر لازم ہو جائے گا وہ مال جو کہ اس مکفول بہی پر جی مکفول مکفول عنہٗ پر لازم تھا، خلافاً للشافعي، خلاف کس کے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ لہٗ ان کی دلیل یہ ہے کہ انہٗ ایجاب المال بالشّرطِ کہ یہ تو مال کو واجب کرنا ہے شرط کے ساتھ، فلا يجوز، تو یہ جائز نہیں کل بیع، جیسے بیع۔ بیع جیسے شرط کے ساتھ کیا شرط لگانے سے بیع کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد ہو جاتی ہے، بیع درست نہیں رہتی، تو یہاں بھی کفالت درست نہیں، کیونکہ یہاں مال کو اپنے اوپر لازم کررہا ہے شرط کے ساتھ، شرط لگائی یا نہیں؟ اگر میں نے حاضر نہ کیا، تو پھر میں مال کا ضامن ہوں۔ تو دیکھو شرط لگا رہا ہے، اگر حاضر نہ کیا تو دے تو یہ کف۔ تو یہ جائز نہیں ہے، جیسے بیع ہوتی ہے۔
قلنا، ہم جواب دیتے ہیں انهٗ يشبه البيع ويشبه النّظر، کہ بھئی کفالت کی دو مشابہتیں ہیں، اس کی مشابہت ہے بیع کے ساتھ بھی، اور اس کی مشابہت ہے نظر (یعنی منّت) کے ساتھ بھی بھئی! بیع کے ساتھ مشابہت یوں ہے، آپ نے ضمانت دی تھی کہ اگر میں نے اس نے مال ادا نہ کیا، تو میں مال ادا کروں گا۔ تو آپ جب مال ادا کر دیتے ہیں، تو پھر اس کا آپ کس پر رجوع کرتے ہیں؟ کس سے اپنا مال پھر وصول کرتے ہیں؟ جس کی ضمانت دی تھی، اس سے کیا کرتے ہیں؟ بھئی آپ نے کہا تھا اگر زید نے آپ کے پیسے نہ دیے تو میں دے دوں گا۔ پھر اس نے نہیں دیے، آپ نے پیسے دے دیے، تو جب آپ نے پیسے دے دیے، تو اب اپنے پیسے وصول کرنے کے لیے کس پر رجوع کریں گے؟ مکفول عنہٗ، جس کی ضمانت دی تھی، اب آپ اس سے وصول کریں گے کہ میں نے تمہاری طرف سے پیسے ادا کیے، لاؤ اب مجھے پیسے دے دو بھئی۔ تو اس میں دیکھو، آپ نے جو مال دیا تھا، اس کا عوض اب کس سے وصول کر رہے ہیں؟ مکفول عنہٗ سے، تو دیکھو مبادلت المال آیا یا نہیں آیا؟ مبادلت المال مبادلت المال بالمال آیا بھئی۔ تو یہ بیع کی مشابہت آگئی، بیع کے ساتھ، بیع کے اندر بھی کیا ہوتا ہے؟ مبادلت المال بالمال۔
جی۔ اور نظر کے ساتھ، منت کے ساتھ بھی مشابہت ہے، مشابہت بھئی آپ منت مانتے ہیں کہ اگر میرا یہ کام ہوگیا، تو میں کیا کروں گا؟ ہر جمعہ کے دن روزہ رکھوں گا۔ یا میں سو نفل پڑھوں گا۔ تو دیکھو، ایک چیز لازم نہیں تھی، اس کو آپ کیا کر رہے ہیں؟ اپنے اوپر لازم کر رہے ہیں۔ کفالت میں بھی آپ پر ایک چیز لازم نہیں تھی، آپ اس کو کیا کرتے ہیں؟ اپنے اوپر لازم۔ دین اس پر تھا، آپ پر نہیں تھا لازم، لیکن آپ نے اس کو اپنے اوپر لازم کرلیا ضمانت۔ তো اس کی دو مشابہتیں ہیں، بیع کے ساتھ بھی مشابہت ہے، اور منّت کے ساتھ بھی مشابہت ہے، اور منّت کے اندر تو شرط لگانا صحیح ہے، کیا شرط لگانا صحیح ہے؟ بھئی کہ آپ کہتے ہیں نہیں، اگر میرا یہ کام ہوگیا، تو میں کیا کروں گا؟ تو منّت کے اندر تو شرط لگاتے ہیں۔ تو لہٰذا اب دونوں مشابہتوں کا ہم لحاظ رکھتے ہیں۔ تو شرطیں دو قسم پر ہوئیں یہاں پر، کچھ شرطیں جو اس کے مناسب ہیں، کفالت کے، کچھ شرطیں جو اس کے مناسب نہیں۔ تو اگر مناسب شرط لگائی، تو ہم نظر کے ساتھ مشابہت کا اعتبار کریں گے، اور وہاں جیسے شرط صحیح تھی، یہاں بھی شرط صحیح ہوئی، تو کفالت صحیح بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور اگر ایسی ایسی شرط لگائی جو اس کے مناسب نہیں کفالت کے، تو ہم بیع کے ساتھ مشابہت کا اعتبار کریں گے، جیسے وہ شرط لگانے سے بیع فاسد ہو جاتی ہے، بھئی یہاں بھی یہ کفالت درست نہیں رہے گی بھئی۔ دیکھیے بھئی!
قلنا انهٗ يشبه البيع کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ بیع کے مشابہ ہے، ويشبه النّظر اور منّت کے بھی مشابہ ہے، فان علّق بشرط غير ملائم لا يصح، اگر اس نے معلق کردی کفالت کو ایسی شرط کے ساتھ جو اس کے مناسب نہیں۔ تو صحیح نہیں۔ غیر مناسب شرط لگائی، مثلاً بھئی اگر میں نے زید کو ہواؤں کے چلنے کے وقت حاضر نہ کیا۔ بھئی یہ تو کوئی شرط نہ ہوئی، ہواؤں کے چلنے کے وقت اسے ہاں! آپ کوئی وقت بتائیں، بتائیں، متعین کریں بھئی، بتلائیں کس وقت؟ تو اس صورت میں یہ صحیح نہیں۔ وبملائم يصح، اور کوئی مناسب شرط لگائی کہ مثلاً میں کل حاضر کروں گا، پرسوں کروں گا، فلاں دن کروں گا، تو یہ تو متعارف ہے، معروف ہے بھئی، اسی طرح کرتے ہیں لوگ، تو لہٰذا صحیح ہے۔ تو اس صورت میں کفالت صحیح ہوگی، عملاً بالشبهين عمل کرتے ہوئے دونوں مشابہتوں پر۔
ولم يبرأ من كفالة من كفالة بالنفس، اور کفالت بالنفس سے بھی بری مال بھی اس پر لازم ہوگیا، اور یہ کفالت بالنفس سے بھی بری نہیں ہوا لعدم سبب البراءۃ، اس لیے کہ براءت کا سبب ہی نہیں پایا گیا۔ براءت کا تو سبب کیا تھا کہ اس شخص کو حاضر کرتا اور اس نے کوئی حاضر کیا نہیں، تو لہٰذا نہیں۔ بل انما يبرأ اذا ادا المال، بلکہ یہ اس وقت بری ہوگا جب کیا ادا کردے گا؟ مال ادا کردے گا، مال ادا کردے گا، تو کفالت بالنفس کے ساتھ اس نے کفالتِ مال بھی دی تھی، تو مال ادا کردیا، تو کفالتِ مال کیا ہوئی؟ اس سے بری ہو گیا، اور جب اس سے بری ہوا، تو ساتھ ہی کفالت بالنفس سے بھی کیا ہوگیا؟ بری۔ کیونکہ جب مال اس کو اس کا مل گیا، تو اب اس کو حاضر کرنے کا کوئی فائدہ ہے؟ نہیں بھئی! تو بل جب وہ ادا کردے گا مال تو اس وقت بری ہوگا، لانهٗ لم يبق للطالب علی المكفول عنهٗ شيء، اس لیے کہ اب مطالبہ کرنے والے کا کوئی کوئی حق باقی نہیں، کوئی چیز باقی نہیں رہی مکفول عنہٗ پر، جی! کوئی لم يبق للطالب علی المكفول عنهٗ شيء کوئی چیز باقی نہیں رہی اس پر، فلا فائدۃ فی الكفالة بالنفس، تو اب کفالت بالنفس کا کوئی فائدہ نہیں، لہٰذا اس سے بھی بری ہو جائے گا۔
وان مات المكفول عنهٗ ضمن المال، اور اگر مکفول عنہٗ مر گیا اس دوران کون مر گیا؟ آپ نے کہا تھا میں اس کو کل حاضر کروں گا، اگر کل میں نہ کر سکا تو کیا کروں گا؟ اب تو اب وہ شخص مر گیا بھئی، تو مر گیا اب اس کو حاضر تو نہیں کر سکتا، لہٰذا اس پر کیا ہو جائے گا؟ اس کا مال لازم، بھئی مال کیوں لازم ہوگا؟ کیونکہ اس نے خود کہا تھا کہ کیا کہا تھا؟ حاضر نہ کیا تو کیا کروں گا؟ مال میں دوں گا۔ تو اب مکفول عنہٗ مر گیا تو مال کا ضامن ہوگا لوجود الشرط، اس لیے کہ شرط پائی گئی، شرط کیا لگائی تھی؟ اگر حاضر، وہو عدم الموافاۃ، اور وہ اس کو حاضر نہ کرنا ہے۔
ومَن ادّعی علی رجلٍ مالاً بینهٗ اولی، فکفل بنفسه اخر علی انهٗ ان لم يوف به غدا فعليه المال، صحّت الكفالة، ويجب عند الشرطِ۔ جی! یہ ذرا مشکل مسئلہ ہے بھئی، توجہ سے سن لینا۔
ایک آدمی نے دوسرے پر کسی مال کا دعویٰ کیا۔
مثلاً زید پر عمرو نے دعویٰ کیا کہ اس نے میرے 100 درہم دینے ہیں بھئی۔
صفت بیان کرے یا بیان نہ کرے، یعنی کھرے درہم دینے ہیں یا کھوٹے دینے ہیں، ردی دینے ہیں بھئی۔
اب ایک اور شخص نے ضمانت دے دی اسے زید کی۔
ایک اور شخص نے اسے ضمانت دے دی۔ عمرو نے دعویٰ کیا تھا زید پر 100 درہم کا، وہ چاہے ان کی صفت بیان کرے یا نہ کرے، لیکن ایک اور شخص اس کی ضمانت دے دیتا ہے بھئی، کس چیز کی؟ اس کے نفس کی، کہ میں اسے کل کیا کروں گا؟ قاضی کی مجلس میں حاضر کروں گا۔ اچھا۔
جی۔
اس شرط پر کہ اگر میں اس کو حاضر نہ کرسکا، تو مجھ پر 100 درہم ہیں۔
اس نے اس پر کتنا دعویٰ کیا تھا؟ 100 کا، چاہے ان کی صفت بیان کرے یا صفت بیان نہ کرے۔ دوسرے شخص نے کیا ضمانت دی کہ اگر اس نے یہ کیا کرے گا؟ اگر کل میں اسے حاضر نہ کر سکا، یہ بھاگتا کہیں نہیں، کل دے دے گا۔ وہ نہیں مانتا، آپ نے ضمانت دے دی کہ اگر کل یہ میں اسے حاضر کروں گا، کہیں نہیں بھاگتا، اور اگر میں اسے حاضر نہ کر سکا، تو میرے اوپر تو یہ کیا ہوئی کفالت بالنفس بھئی! کیا ہوئی کفالت بالنفس۔
اور اگر یہ میں اسے حاضر نہ کرسکا، تو میں آپ کو کتنے درہم دے دوں گا؟ 100 درہم دے دوں گا۔ مطلق 100 کا، یہ نہیں کہا اس کے اوپر جو 100 ہیں، وہ میں دوں گا۔ کیا کہا؟ میں اس آپ کو 100 درہم دے دوں گا۔ تو کیا یہ کفالت صحیح ہے یا کفالت صحیح نہیں؟
کہتے ہیں کفالت صحیح ہے۔ کفالت کیا ہے؟ صحیح۔ اور اگر اس شخص کو حاضر نہ کرسکا، تو اس پر مال کیا ہو جائے گا؟ واجب لازم ہو جائے گا، اس کو 100 درہم دینے پڑیں گے۔
دینے پڑیں گے۔
امام محمد رحمہ اللہ اس مسئلے میں اختلاف کرتے ہیں۔
وہ فرماتے ہیں نہیں بھئی! یہاں کفالتِ نفس نہیں، دعویٰ نہیں صحیح۔ جب دعویٰ نہیں صحیح، تو کفالت نہیں صحیح، کفالت بالنفس۔ جب کفالت بالنفس نہیں صحیح، تو کفالت بالمال بھی درست نہیں۔
امام محمد رحمۃ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ یہاں دعوی صحیح نہیں۔ جب دعوی صحیح نہیں تو کفالت بالنفس بھی صحیح نہیں۔ جب کفالت بالنفس صحیح نہیں تو اسی پر مرتب ہو رہی تھی کفالت مال بھی تو وہ بھی صحیح نہیں۔ کیوں؟ کہتے ہیں امام محمد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں اس صورت میں جب اس نے صفت بیان نہ کی ہو، اس میں اختلاف کرتے ہیں۔ مثلا ایک امر نے زید پر کتنے کا دعوی کیا ہے؟ 100 درہم کا۔ لیکن یہ نہیں بیان کیے کہ کھڑے ہیں یا کھوٹے، کس قسم کے ہیں بھئی؟ عمدہ ہیں یا ردی ہیں۔ تو اگر بیان کر دے پھر تو ٹھیک ہے بھئی، اگر بیان نہیں کرتا اس صورت میں امام محمد رحمۃ اللہ اختلاف کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں یہ دعوی ہی صحیح نہیں۔ یہ دعوی ہی نہیں۔ بھئی دعوی تو پورا یہ ہوتا کہ صفت بھی بیان کرتا کس قسم کے درہم ہیں، جب اس نے صفت نہیں بیان کی تو اس کا دعوی ہی صحیح نہیں۔ جب اس کا دعوی ہی نہیں صحیح، تو اس کا حق ہی نہیں ہے کہ اس کو قاضی کے پاس لے جائے۔ کس نے دعوی کیا؟ امر نے۔ کس پہ کیا؟ زید پر۔ اور دعوی صحیح کیا امر نے؟ نہیں، جب امر کا دعوی نہیں صحیح تو امر کا حق ہے کہ اس کو قاضی کے پاس لے جائے؟ امر اس کا کا حق ہی نہیں بنتا کہ اس کو کس کے پاس لے جائے؟ قاضی کیونکہ اس کا دعوی ہی نہیں۔ جب اس جب یہ اس کو اس کو امر کے اوپر کا حق نہیں ہے کہ اس کو قاضی کے سامنے حاضر کرے، تو پھر کفالت بھی درست نہیں، بھئی کفالت کس چیز کی دی تھی آپ نے؟ ضمانت کس چیز کی دی تھی؟ کہ میں حاضر کروں۔ جب وہ حق دار نہیں ہے حاضر کرنے کا، مدعی، تو آپ بھی حق دار نہیں ہیں اس کو حاضر کرنے کے، تو معلوم ہوا کفالت بالنفس صحیح نہیں۔ دعوی نہیں صحیح، تو کفالت بالنفس بھی نہیں صحیح اور کفالت بالنفس ہی پر تو مرتب ہو رہی تھی کفالت مال کہ اگر میں حاضر نہ کروں تو پھر کیا مال میرے ذمہ، بھئی تو کفالت بالنفس کے آگے مرتب ہو رہی تھی کفالت المال، اور تو وہاں اب کفالت المال بھی صحیح نہیں۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں اگیا۔ جب کہ شیخین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں بھئی، کوئی حرج نہیں۔ دعوی اگر ابھی اس نے بیان نہیں کیا، بعد میں کیا کر دیتا ہے؟ بیان کر دیتا ہے کہ کس قسم کے درہم تھے۔ تو لوگ عموماً دعوی اسی طرح کرتے ہیں، قاضی کے سامنے جا کے پورا دعوی کیا جاتا ہے، ویسے تو یہاں پر پورا دعوی ہاں، پورے شرائط کے لحاظ رکھتے ہوئے بھئی، اجمالی دعوی کر دیتے ہیں کہ اس نے میرے کتنے دینے ہیں؟ 100 درہم دینے ہیں، تو بعد میں یہ بیان جب کر دے گا تو وہ کہ اس قسم کے درہم ہیں تو وہ بیان ملحق ہو جائے گا کس کے ساتھ؟ اس دعوے کے ساتھ۔ کس کے ساتھ ملحق ہو جائے گا؟ دعوی کے ساتھ۔ تو دعوی ہو جائے گا صحیح، جب دعوی صحیح ہوا تو وہ کفالت جو تھی وہ بھی کیا ہو گئی؟ صحیح، تو کفالت بالنفس جب صحیح ہو گئی تو اسی پر کیا مرتب ہوئی تھی؟ کفالت بالمال، وہ بھی کیا ہو گئی؟ صحیح، صورت سب کو سمجھ میں آ گئی، دیکھیے بھئی۔
ومن ادعی علی رجل جس دعوی کیا ایک شخص کسی نے ایک آدمی پر مالاً، کسی مال کا بھئی، سمجھ میں آیا؟ کوئی مال مثلاً 100 درہم ہے یا 200 درہم کا، بینہ او لا، بیان کیا ان کو یا بیان نہیں کیا، یعنی ان کی عمدہ ہیں یا خر کھوٹے صفت بیان نہیں کی۔ فکفل بنفسہ آخر، تو کفیل بن کفالت ضمانت نفس کی دی ایک اور شخص نے علی انہ، اس شرط پر کہ ان لم یواف بہ، اگر یہ اس کو لے کر نہ آیا، حاضر نہ کیا غدًا، کل اس نے اس کو حاضر نہ کیا فعلیہ المال، تو اس پر وہ مال ہے یعنی وہ 100 درہم، یہ نہیں کہتا کہ اس پر جو 100 درہم تھے وہ مجھ پر ہیں، بلکہ مطلق کیا کہتا ہے؟ مجھ پر کتنے ہیں؟ 100 درہم ہیں، نسبت نہیں کرتا ان کی، صحت الکفالت، کفالت کیا ہے؟ صحیح ویجب عند الشرط، اور مال اس پر واجب ہو جائے گا شرط کے پائے جاتے ہوئے، شرط کیا تھی؟ اگر حاضر نہ کرتا، حاضر نہیں کرے گا تو شرط پائی گئی تو مال واجب ہو جائے گا۔
صورت المسئلة، صورت مسئلہ یہ ہے، ادعی رجل علی اخر 100 دینار، دعوی کیا ایک آدمی نے دوسرے آدمی پر 100 دینار کا، دیکھا! یہ مال کا بیان کر رہے ہیں بھئی، کوئی مال بھئی، وہ کتنا ہے؟ مثلاً 100 دینار ہے، فکفل بنفسہ رجل، تو کفیل کفیل بن کے کفیل کفل بنے، کفیل بنا نفس کا بھئی، اس کے نفس کا ایک آدمی علی انہ ان لم یواف بہ غدًا، اس پر اس شرط پر کہ اگر اس نے یہ اس کو لے کر نہ آیا کل کے دن، فعلیہ المائة، تو اس پر کتنے ہیں؟ 100۔ یہ نہیں کہا، فعلیہ المائة التي علی المقفول عنہ، وہ 100 جو کس پر تھے؟ وہ میرے اوپر ہوں گے، یہ نہیں کہا کہ بقا میرے اوپر 100 ہوں گے۔ تو کہتے ہیں بھئی، پتا نہیں یہ کون سے 100 ہیں، پتا نہیں وہی والے ہیں یا رشوت والے ہیں، احتمال دوسرا استعمال بھی آ گیا، اس نے جب ان کی نسبت نہیں کی تو کفالت درست نہیں بنتی۔
فقوله مالاً، تو ماتن نے کیا ذکر کیا؟ ادعی علی رجل مالاً، مال سے کہتے ہیں مال سے کیا مراد ہے؟ ای مالاً مقدرا، کوئی مال مقدر ہو، کوئی فرض کیا ہوا مال یا مقررہ مال بھئی۔
وقوله بینہ او لا، اور ماتن نے کہا بینہ او لا، اس کا کیا معنی ہے؟ کہتے ہیں ای بینہ صفاتہ علی وجہ یصح دعوی او لم یبین، (یعنی اس کی صفت بیان کر دی اس طریقے پر کہ دعوی صحیح ہو جائے، او لو لم یبین یا بیان نہیں کی یہ مراد ہے)۔
وفی المسئلة خلاف محمد رحمہ اللہ، اور اس مسئلے میں اختلاف ہے امام محمد رحمہ اللہ کا، فقیل پس کہا گیا ہے عدم الجواز عندہ مبنی علی انه قال فعلیہ المائة ولم یقل المائة التي علی المدعی، اللتی ہونا چاہیے۔
کیا یہاں پر اللتی ہونا چاہیے بھئی۔
تو کہا گیا ہے کہ عدم جواز امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ مبنی ہے اس صورت پر کہ جب اس نے کیا کہا تھا؟ کفیل نے فعلیہ المائة کہ اس پر کتنے ہیں؟ 100 ہوں گے، ولم یقول اور یہ اس نے نہیں کہا تھا کہ المائة اللتی علی المدعی، وہ 100 جو کس پر تھے؟ وہ مجھ پر ہوں گے یہ نہیں کہا، فعلی هذا، بس بنا بر اس کے، إن بین المدعی المائة، اگر مدعی نے بیان کر دیا 100 کو، کفالت کے بعد وہ کیا کر دیتا ہے؟ 100 کو بیان کر دیتا ہے تو لا تکونو کا تو اب تو بعد میں بیان کر رہا ہے پہلے جب بیان نہیں کیا تھا تو دعوی صحیح نہیں، جب دعوی صحیح نہیں تو اس کا حق نہیں ہے کہ اس کو قاضی کے سامنے حاضر کرے مدعی کا، جب مدعی کا حق نہیں ہے تو کفیل کفالت بالنفس بھی صحیح نہیں، کیونکہ وہ بھی وہ بھی حقدار نہ ہوا اس کو حاضر کرنے کا۔
فعلی هذا ان بین المدعی المائة، اگر بیان کر دیے مدعی نے 100 کو کہ کس قسم کے 100 ہیں، بعد میں بیان کیے، تو لا تکونو کفالتہ صحیحۃ، تو اس کی کفالت صحیح نہیں ہوگی، ایضاً، اس کی کفالت بھی صحیح نہیں ہوگی، کما اذا لم یبین، جیسے کہ اس نے بیان نہیں کیا تھا اس صورت میں صحیح نہیں تھی۔
الا ان یقول، مگر یہ کہ وہ یوں کہے، فعلیہ المائة اللتی یدعیھا، کفیل یوں کہے کہ اس پر وہ 100 ہیں جو کس پر تھے؟ اللتی یدعیھا جس کا وہ اس پر کیا کر رہا ہے؟ جن کا وہ دعوی کر رہا ہے، پھر صحیح تھا۔
وقیل، اور بعضوں نے کہا کہ اختلاف اس صورت میں انھو مبنی علی انه لما لم یبین لم یصح دعوی۔
تو بعضوں نے کہا اختلاف کی بنیاد اس بات پر ہے کہ کفیل نے کیا کہا؟ مجھ پر 100 ہیں، یہ نہیں کہا مجھ پر وہ 100 ہیں جو کس پر تھے؟ مقفول عنہ۔ بعضوں نے یہ صورت بنائی۔
بعضوں نے کہا نہیں، یہ اگر اس نے صفت بیان نہیں کی تو اس کا دعوی صحیح نہیں، جب دعوی صحیح نہیں تو کفالت بالنفس صحیح نہیں، جب کفالت بالنفس صحیح نہیں تو کفالت بالمحامل بھی تو یہ صفت نہ بیان کرنے کی صورت میں اختلاف ہے۔
وقیل اور کہا گیا کہ انہ مبنی علی انه لما لم یبین لم یصح لم یصح الدعوی، فلم يستوجب احضاره الی مجلس القاضی۔
استوجب استوجب کا معنی کسی چیز کا حقدار ہونا۔
فلم يستوجب، تو مدعی حقدار نہ ہوا مدعی حقدار نہ ہوا احضاره الی مجلس القاضی، اس مدعی علیہ کو قاضی کی مجلس میں حاضر کرنے کا حقدار نہ ہوا، جب یہ حقدار نہیں تو کفیل بھی حقدار نہیں، فلم یصح الکفالت بالنفس، تو کفالت بالنفس بھی صحیح نہ ہوئی، فلا یجوز الکفالت بالمال تو پس کفالت بالمال بھی جائز نہیں۔
فعلی هذا بنا بر اس کے، ان بین، تکونو الکفالت صحیحتاً، اگر اس نے بیان کر دیے کہ اس قسم کے درہم ہیں تو دعوی صحیح ہوگا، تو دعوی صحیح ہوگا تو تکونو الکفالت صحیحتاً، کفالت بھی کیا ہو جائے گی؟ صحیح ہو جائے گی۔
ولھما، شیخین رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ انہ لو قال فعلیہ المائة او علیه المال، فيراد به المعهود، کہ مات کے کہ کفیل نے جب کیا کہا؟ اس پر کتنے ہیں؟ 100، یا او علیه المال، اس پر مال ہے، تو اس پر اس نے الف لام داخل کیا، اور الف لام کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، اور یہاں پر الف لام عہد خارجی مراد لیں گے، اور مراد وہ مال ہوگا جس کا مدعی نے دعوی کیا ہے۔
کیا مراد ہوگا؟ یعنی اس نے کہا تو کہا علیه المائة، مجھ پر 100 ہیں، لیکن کس کے ساتھ کہا؟ الف لام، معلوم ہوا اس نے یوں کہا مجھ پر وہ 100 ہیں جو اس نے دعوی کیا۔
یا اس نے کہا علیه المال، یعنی مجھ پر وہ مال ہے جو اس نے دعوی کیا ہے۔
تو اس سے فیوراد جب اس نے المیہ علیہ المیہ یا علیہ المال کہا فیوراد بہ المعهود، تو اس سے وہ متعین کیا ہوگا؟ متعین مال مراد ہوگا، معہود متعین بھئی۔
فان بین المدعی فظاہر، اگر بیان کر دیا مدعی نے، تو پھر تو بات ظاہر ہے بھئی، صاحبین کے نزدیک مدعی نے اگر صفت بیان کر دی، پھر تو بات ظاہر ہے اس میں تو اختلاف ہی نہیں۔ صاحبین فرماتے ہیں اگر صفت بیان نہ کرے، پھر بھی دعوی کیا ہے؟ صحیح ہے، کیوں؟ بھئی، بعد میں بیان کر دے گا، تو وہ ملحق ہو جائے گا دعوی کے ساتھ بھئی۔
وال لم یبین، اور اگر اس نے بیان نہ کیا، فبعد ذلک إذا بین، بعد میں جب اس نے بیان کر دیا، الملتحق البیان باصل الدعوی تو یہ بیان ملحق ہو گیا اصل دعوی کے ساتھ، تو دعوی کیا ہوا؟ صحیح، جب دعوی صحیح ہوا تو فتبین صحة الکفالت بالنفس تو کفالت بالنفس بھی کی صحت بھی ظاہر ہو گئی یعنی وہ بھی صحیح ہوا، جب وہ صحیح ہوا، فیتترتب علیھا الکفالت بالمال، تو اسی پر مرتب ہوئی کیا؟ کفالت بالمال۔
تو خلاصہ مسئلہ یہ ہوا بھئی، صورت یہ ہوئی ایک شخص نے دعوی کیا دوسرے شخص پر مثلاً 100 درہم کا اور صفت بیان صاحبین شیخین رحمہ اللہ کے نزدیک صفت بیان کرے یا صفت بیان نہ کرے، اور ایک دوسرا شخص کفالت نفس کی دیتا ہے، اور کہتا ہے کہ اگر میں نے اس کو کل حاضر نہ کیا تو مجھ پر 100 درہم ہیں، اس نے اس کی طرف نسبت نہیں کی، تو کفالت صحیح ہے اور اگر یہ اس کو حاضر نہ کر سکا تو اس پر مال کیا ہو جائے گا؟ واجب۔
اور اس میں اختلاف ہے امام محمد رحمہ اللہ کا، اب بعض علماء فرماتے ہیں یہ اختلاف مبنی ہے اس صورت پر، جب اس نے کفالت والے نے یہ کہا تھا مجھ پر 100 ہیں، یہ نہیں کہا مجھ پر وہ 100 ہیں جو کس پر تھے؟ مدعی علیہ پر۔ یہ نہیں کہا اس صورت میں۔
جی، سمجھ میں آیا؟ اور بعضوں نے کہا نہیں، اس سے مراد اختلاف سے وہ صورت مراد ہے جس میں اس نے صفت بیان نہیں کی تھی کہ کس قسم کے درہم میرے اس پر ہیں بھئی۔
عمدہ ہیں یا ردی ہیں۔
تو جب اس نے صفت بیان نہیں کی تو اس کا دعوی نہیں صحیح، جب دعوی صحیح نہیں تو اس کا مدعی کا حق نہیں بنتا کہ اس کو کہاں پر حاضر کرے؟ قاضی، جب اس کا حق نہیں بنتا تو کفالت بالنفس یہاں پر صحیح نہیں بھئی، وہ کس کس بات کی کفالت جب اس کا حق ہی نہیں ہے اس کو حاضر کرنے کا، تو کفالت بالنفس بھی صحیح نہیں ہوئی تو کفالت بالمال بھی صحیح نہیں ہوئی۔
جبکہ حضرت شیخین رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں بھئی، اگرچہ اس نے بیان نہ کیا ہو، پھر بھی دعوی صحیح ہو جائے گا، جب وہ بعد میں بیان کر دے گا، تو وہ بیان اصل دعوی کے ساتھ مل جائے گا، اب تو دعوی صحیح ہو گیا، جب دعوی صحیح ہو گیا تو اس دعوی پر جو کفالت تھی وہ بھی کیا ہوئی؟ کفالت بالنفس بھی صحیح ہوئی، جب کفالت بالنفس صحیح ہوئی تو کفالت بالمال بھی اسی پر مرتب ہو کر صحیح ہو جائے گی۔
چلیے بس مولانا، ھذا واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔