فَإِنْ بَرَهَنَ خَارِجٌ عَلَى المِلْكِ وَذُو اليَدِ عَلَى الشِّرَاءِ مِنْهُ، أَوْ بَرَهَنَ عَلَى سَبَبِ مِلْكٍ لَا يَتَكَرَّرُ كَالنِّتَاجِ وَحَلْبِ لَبَنٍ، أَوْ اتِّخَاذِ جُبْنٍ، أَوْ لِبْدٍ، أَوْ جَزِّ صُوفٍ فَذُو اليَدِ أَحَقُّ.
فَإِنْ بَرَهَنَ خَارِجٌ عَلَى المِلْكِ وَذُو اليَدِ عَلَى الشِّرَاءِ مِنْهُ، ایک یہ صورت مولانا۔ أَوْ بَرَهَنَ عَلَى سَبَبِ مِلْكٍ لَا يَتَكَرَّرُ كَالنِّتَاجِ وَحَلْبِ لَبَنٍ، أَوْ اتِّخَاذِ جُبْنٍ، أَوْ لِبْدٍ، أَوْ جَزِّ صُوفٍ، یہ دوسری صورت مولانا۔ فَذُو اليَدِ أَحَقُّ، یہ جزا ہے مولانا جی دونوں کے لیے۔
پہلی صورت فَإِنْ بَرَهَنَ، صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، خارج نے بینہ قائم کی ملک پر بھئی۔ میرے پاس ایک گاڑی ہے، ایک شخص نے دعویٰ کر دیا یہ گاڑی میری ہے، تو میں ہوا ذوالید وہ ہے خارج بھئی۔ اس نے بینہ قائم کی ملک پر، ملکِ مطلق پر کہ اس گاڑی کا مالک میں ہوں۔ اور میں نے بینہ قائم کی کس بات پر؟ کہ میں نے اسی خارج سے یہ گاڑی خریدی ہے بھئی۔ خارج نے بینہ کس پر قائم کی؟ ملکِ مطلق پر، اور صاحبِ قبضہ نے کس پر بینہ قائم کی؟ شراء، اور شراء بھی کس سے ہے؟ اسی خارج سے ہے بھئی۔
تو کس کی بینہ قبول کی جائے گی؟ آگے جزا میں کیا بتلایا تھا؟ فَذُو اليَدِ أَحَقُّ صاحبِ قبضہ کیا ہے؟ زیادہ حقدار ہے، اس کی بینہ قبول کی جائے گی بھئی۔ یہ معنی ہے فَإِنْ بَرَهَنَ خَارِجٌ عَلَى المِلْكِ اگر بینہ قائم کی خارج نے ملک پر وَذُو اليَدِ عَلَى الشِّرَاءِ مِنْهُ اور ذوالید نے مِنْهُ یعنی مِنَ الخَارِجِ اسی خارج سے خریدنے پر۔ تو دیکھو ایک نے بینہ قائم کی ہے ملکِ مطلق پر اور ایک نے کس پر؟ ملکِ، ملک ایسی ہے جس کے ساتھ سبب بھی ذکر ہے اور آپ پڑھ چکے ہیں وہ ملک جس کے ساتھ سبب ذکر ہو وہ بینہ اولیٰ ہے۔ جی تو ملکِ عام ملکِ مطلق پر بینہ ہے ایک ملکِ موجہ پر اور وہ اولیٰ ہے بھئی۔
أَوْ بَرَهَنَ عَلَى سَبَبٍ یا دو خارج ہیں مولانا، اچھا نہیں ایک خارج ہے اور ایک صاحبِ قبضہ، دونوں نے بینہ قائم کی عَلَى سَبَبِ مِلْكٍ سببِ ملک پر، ایسا سببِ ملک لَا يَتَكَرَّرُ جس میں تکرار، جس میں تکرار نہیں ہوتا، تو اس صورت میں بھی فَذُو اليَدِ أَحَقُّ صاحبِ قبضہ کیا ہے زیادہ حقدار ہے بھئی، اس کی بینہ قبول کی جائے گی۔ ایسا سببِ ملک جس میں تکرار نہ ہو كَالنِّتَاجِ، یہ مثالیں ذکر کر رہے ہیں وہ اسبابِ ملک جن کے، جن میں تکرار نہیں ہوتا كَالنِّتَاجِ جیسے پیدائش پر بھئی۔
پیدائش پر بھئی، ایک شخص کے پاس ایک بکری ہے، دوسرے نے دعویٰ کر دیا یہ بکری میری ہے۔ صاحبِ قبضہ کہتا ہے یہ بکری میری ہے۔ بینہ دونوں نے قائم کی نتاج پر بھئی، کس پر؟ ایک کہتا ہے یہ بکری میری، خارج کہتا ہے یہ بکری میری ہے، گواہ کہتے ہیں بھئی گواہ اور گواہ بینہ کس پر قائم کرتا ہے؟ کہ یہ بکری میرے پاس پیدا ہوئی ہے، میری ملک میں پیدا ہوئی ہے، تو پیدائش پر بینہ قائم کر دی اور پیدائش میں تکرار ہے؟ نہیں بھئی، ایک ہی مرتبہ بکری کی پیدائش بھئی۔
اور صاحبِ قبضہ نے بھی بینہ قائم کر دی پیدائش پر کہ یہ بکری میری ملک میں پیدا ہوئی ہے، تو کس کی بینہ قبول کی جائے گی؟ صاحب کی، کیونکہ وہ جیسے وہ مثبت ہے زیادت کا یہ بھی مثبت ہے صاحبِ قبضہ بھی ہے، تو یہاں پر قبضے کی وجہ سے اس کو ترجیح دے دی جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو ضابطہ تو آپ کو پتہ ہی ہے بینہ کس لیے قائم کی جاتی ہے؟ اثبات کے لیے، کس کے لیے؟ اثبات کے لیے، جی۔
اچھا، نتاج اور اس کی کیا مثال ذکر کی؟ وَحَلْبِ لَبَنٍ، دودھ کے بارے میں جھگڑا، میرے پاس بھئی ایک ڈرم دودھ کا بھرا ہوا ہے، ایک شخص کہتا ہے خارج دعویٰ کرتا ہے یہ دودھ میرا ہے، اور صاحبِ قبضہ میں دعویٰ کیا کرتا ہوں یہ دودھ میرا ہے، وہ بھی بینہ قائم کرتا ہے اور میں بھی بینہ قائم کرتا ہوں، وہ بینہ سببِ ملک پر قائم کرتا ہے، ایسا سببِ ملک جس میں تکرار نہیں، یعنی یہ دودھ میرا ہے، بھئی کس چیز پر بینہ قائم کی؟ دودھ کے نکالنے پر بھئی، یہ دودھ میری ملک میں نکالا گیا ہے یعنی میری گائے سے نکالا گیا ہے، اس پر بینہ قائم کرتا ہے اور میں بھی اسی پر کیا کرتا ہوں؟ بینہ قائم کرتا ہوں، تو کون اولیٰ ہے؟ صاحبِ قبضہ اولیٰ ہے بھئی۔ تو دودھ کا نکالنا دیکھو ایک ہی مرتبہ ہے۔
وہ جو ڈرم میں دودھ پڑا ہے وہ ایک ہی مرتبہ نکالا گیا ہے یا وہ بار بار اس کا نکالنا ہے بھئی؟ بھئی دودھ کا نکالنا تو ٹھیک ہے جانور سے بار بار نکالا جائے گا لیکن ہر مرتبہ الگ دودھ ہوگا، جو ایک مرتبہ نکلا ہے وہ اس میں تکرار، اس میں دوہن نکالنے میں تکرار نہیں۔ اسی طرح بھئی أَوْ اتِّخَاذِ جُبْنٍ یا جُبْنٍ جُبْنٍ، یا اسی طرح پنیر کا بنانا بھئی، یہ پنیر بھی بھئی ایک مرتبہ بنتا ہے یا بار بار وہ بنتا ہے بھئی؟ بھئی بعض چیزوں میں تکرار آتا ہے، یہ تو وہ چیزیں ہیں جن میں تکرار نہیں۔ زیور ہیں مثلاً بھئی، ایک نے بینہ قائم کر دی یہ زیور میرا ہے کیونکہ میں نے اس کو بنایا ہے، دوسرے نے بینہ قائم کر دی یہ زیور میرا ہے کیونکہ میں نے اس کو، ہاں مولانا مثلاً اس صورت میں اب یہاں پر دیکھو یہاں سببِ ملک ایسا ہے جس میں تکرار آتا ہے، زیور ایک بار بنے تو کیا دوبارہ نہیں بن سکتا بھئی؟ اسی زیور اس سونے کو دوبارہ پگھلا کر کیا کر لیا جائے؟ دوبارہ اس سے زیور بھئی بنا لیا جائے۔ تو یہ جو اسبابِ ملک ذکر ہو رہے ہیں ان میں تکرار نہیں، ایک مرتبہ ہے دوبارہ نہیں ہو سکتا بھئی۔
تو کہتے ہیں أَوْ بَرَهَنَ عَلَى سَبَبِ مِلْكٍ لَا يَتَكَرَّرُ یا دونوں نے بینہ یعنی صاحبِ ید نے بھی اور خارج نے بھی بینہ قائم کر دی ایسے سببِ ملک پر ملكیت کے ایسے سبب پر لَا يَتَكَرَّرُ جس میں تکرار نہیں آتا كَالنِّتَاجِ جیسے کہ پیدائش ہے وَحَلْبِ لَبَنٍ اور دودھ کے دوہنے پر، دودھ کے نکالنے پر أَوْ اتِّخَاذِ جُبْنٍ یا پنیر کے بنانے پر أَوْ لِبْدٍ، لبد کہتے ہیں نمدہ، نمدہ۔ یہ کپڑا ہے مولانا اون یا بالوں سے کوئی بنا ہوا خاص کپڑا ہوتا تھا بھئی، خاص کپڑا ہوتا تھا۔ أَوْ اتِّخَاذِ جُبْنٍ اس کا عطف لبد کا عطف جبن پر ہے، جبن کے بنانے پر یا اتخاذِ لبد یا کس کا؟ نمدے کا بنانا بھئی، ایسا کپڑا جس میں دوبارہ نہیں، بعض کپڑے ہوتے تھے بھئی وہ بار بار بنتے تھے ان کے دھاگوں کو کھول کر کیا کر لیا جاتا تھا؟ دوبارہ بنا لیا جاتا تھا، تو اس میں اس میں تکرار نہیں ہوتا تھا یعنی یہ دوبارہ نہیں بنتا تھا، جیسے آج کل کا عام کپڑا ہے بھئی ایک مرتبہ خراب ہوا تو دوبارہ نہیں بھئی۔
أَوْ جَزِّ صُوفٍ، جز کا معنی کاٹنا، صوف کہتے ہیں مولانا اون کو، یا اون کے کاٹنے پر بھئی، جیسے جیسے اون کا کاٹنا ہے، یہ اون بھی بھئی ایک ہی مرتبہ کاٹی جاتی ہے بھئی جانور سے، سمجھ میں آیا؟ مثلاً آپ کے پاس اون پڑی ہوئی ہے، یہ جانور سے ایک ہی دفعہ کٹی ہے یا بار بار کٹی ہے بھئی؟ ایک اون کیا ہے؟ ایک ہی مرتبہ کٹی ہے بھئی۔
فَذُو اليَدِ أَحَقُّ ان تمام صورتوں میں صاحبِ قبضہ زیادہ لائق ہے، وَلَوْ بَرَهَنَ كُلٌّ عَلَى الشِّرَاءِ مِنَ الآخَرِ بِلَا وَقْتٍ سَقَطَتَا اگر بینہ قائم کر دی ہر ایک نے خرید پر مِنَ الآخَرِ دوسرے سے بِلَا وَقْتٍ بغیر کسی وقت کے بیان کے سَقَطَتَا تو دونوں بینہ کیا ہو جائیں گی؟ ساقط ہو جائیں گی وَتُرِكَ المَالُ فِي يَدِ مَنْ مَعَهُ اور چھوڑ دیا جائے گا مال کو اسی کے قبضے میں جس کے پاس وہ تھا بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، میرے پاس ایک گاڑی ہے، خارج نے دعویٰ کر دیا یہ گاڑی میری، اور میں نے جو صاحبِ قبضہ میں کیا دعویٰ کر رہا ہوں کہ یہ گاڑی اس نے بینہ قائم کر دی اس بات پر خارج نے کہ اس نے یہ گاڑی مجھ سے یعنی صاحبِ قبضہ سے خریدی ہے، اور میں نے بینہ قائم کر دی اس بات پر کہ میں نے یہ گاڑی اس خارج سے خریدی، تو اس نے میرے سے خریدنے پر بینہ قائم کر دی اور میں نے اس سے خریدنے پر بینہ قائم کر دی، اور وقت نہیں ذکر کیا کسی نے تاریخ کسی نے ذکر نہیں کی، تو اس صورت میں صاحبِ قبضہ اولیٰ ہے، اسی کے پاس کیا کر دیا جائے گا چیز کو چھوڑ دیا جائے گا کیونکہ ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ یہ معنی ہے وَلَوْ بَرَهَنَ كُلٌّ عَلَى الشِّرَاءِ مِنَ الآخَرِ اگر بینہ قائم کی دونوں نے ایک دوسرے سے خریدنے پر بِلَا وَقْتٍ بغیر کسی وقت سَقَطَتَا تو دونوں بینہ ساقط ہو جائیں گی وَتُرِكَ المَالُ فِي يَدِ مَنْ مَعَهُ اور چھوڑ دیا جائے گا مال کو اس کے قبضے میں جس کے پاس تھا۔
دیکھیے خود بتلا رہے ہیں علامہ صدر الشریعہ کہہ رہے ہیں أَيْ بَرَهَنَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْ ذِي اليَدِ وَالخَارِجِ عَلَى الشِّرَاءِ مِنْ صَاحِبِهِ یعنی بینہ قائم کر دی ہر ایک نے یعنی ذوالید اور خارج نے عَلَى الشِّرَاءِ مِنْ صَاحِبِهِ خریداری خریدنے پر مِنْ صَاحِبِهِ کس سے اپنے ساتھی سے یعنی جس کے ساتھ خصومت ہو رہی ہے اسی سے خریدنے پر وَلَمْ يَذْكُرَا تَارِيخًا اور دونوں نے کوئی تاریخ ذکر نہیں کی سَقَطَتِ البَيِّنَتَانِ تو دونوں بینہ کیا ہو جائیں گے؟ ساقط ہو جائیں گے وَتُرِكَ المَالُ فِي يَدِ صَاحِبِ اليَدِ اور مال کو چھوڑ دیا جائے گا صاحبِ ید کے قبضے میں۔
وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُقْضَى لِلْخَارِجِ كَأَنَّ ذَا اليَدِ اشْتَرَاهُ أَوَّلًا ثُمَّ بَاعَهُ مِنَ الخَارِجِ. امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ تو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک تھا، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں خارج کے لیے فیصلہ کر دیا جائے گا۔ خارج نے کیا کہا تھا؟ یہ گاڑی اس نے صاحبِ قبضہ سے اور صاحبِ قبضہ نے کیا کہا تھا؟ میں نے یہ خارج سے شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں دونوں بینہ ساقط، اور گاڑی کس کے پاس رہنے دی جائے؟ ذوالید کے پاس ہی رہنے دی جائے، لیکن امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ خارج اولیٰ ہے، خارج کیا ہے؟ اولیٰ ہے۔ تو کہتے ہیں يُقْضَى لِلْخَارِجِ خارج کے لیے فیصلہ کر دیا جائے گا كَأَنَّ ذَا اليَدِ اشْتَرَاهُ أَوَّلًا وہ فرماتے ہیں گویا کہ یوں ہے ذوالید نے پہلے اس کو خریدا تھا، صاحبِ قبضہ نے کیا کیا تھا؟ بھئی میں نے بھی میں تھا صاحبِ قبضہ، میں نے بھی بینہ قائم کی اور خارج نے بھی تو صورت کہتے ہیں یوں ہوگی گویا صاحبِ قبضہ نے پہلے خریدا، میں نے کسی اور سے اس گاڑی کو پہلے خرید لیا، یہ نہیں میں نے اس سے کیا کر دیا؟ خارج سے گاڑی کو پہلے خرید لیا، اور خریدنے کے بعد اس پر کیا کر لیا؟ قبضہ بھی کر لیا، اب قبضے کے بعد میں نے اس کو کس پر بیچ دیا؟ خارج پر بیچ دیا بھئی، کس پر بیچ دیا؟ تو میرے خریدنے پر بینہ یہ بھی صحیح ہوئی، اس نے مجھ سے خریدا یہ بینہ بھی صحیح ہوئی، البتہ پہلے کس نے خریدا تھا؟ صاحبِ قبضہ نے، اور بعد میں کس نے خریدا؟ خارج نے، تو مالک کون ہوا؟ بعد والا، کون ہوا؟ بعد والا۔
یہ معنی ہے كَأَنَّ ذَا اليَدِ اشْتَرَاهُ أَوَّلًا ثُمَّ بَاعَهُ مِنَ الخَارِجِ گویا کہ ذوالید نے اس کو پہلے خریدا تھا پھر اس کو کس کے ہاتھ بیچ دیا؟ خارج کے ہاتھ بیچ دیا۔ بھئی کیسے پتہ چلا کہ صاحبِ قبضہ نے پہلے خریدا ہے اور خارج نے؟ کہتے ہیں بھئی یہ قبضہ دلیل ہے۔ صاحبِ قبضہ کا قبضہ کیا ہے؟ دلیل ہے کہ اس نے پہلے خریدا اور خرید کر کیا کیا اس پر؟ قبضہ، اور قبضے کے بعد چیز کی بیع جائز ہوتی ہے، قبضے سے پہلے چیز کی بیع جائز تو اگر اس کے لیے ہم کہیں کہ اس نے پہلے خریدا پھر قبضہ کیا اور دوسرے کے ہاتھ بیچ دیا تو یہ صورت صحیح بن جاتی ہے۔ وَلَا يُعْكَسُ لیکن اس کا عکس نہیں لیا جا سکتا، ہم یہ کہیں کہ خارج نے پہلے خریدا تھا اور پھر اس نے کس کے ہاتھ بیچ دیا؟ پھر کس نے خریدا؟ تو پہلے خارج نے خریدا پھر صاحبِ قبضہ نے خریدا، کہتے ہیں یہ یہ صورت ہم نہیں کر سکتے، کیوں؟ لِأَنَّ البَيْعَ قَبْلَ القَبْضِ لَا يَجُوزُ اس لیے کہ بیع قبل القبض جائز خارج کے لیے قبضہ ثابت ہے؟ خارج کے لیے قبضہ ہی نہیں ثابت، جب خارج کے لیے قبضہ ہی نہیں ثابت تو بعد میں اس کا بیچنا بھی ثابت نہیں، کیونکہ قبضہ کرے گا مبیع پر تو پھر بیچنا اس کے لیے جائز ہوتا ہے، قبضہ نہیں کرتا تو بیچنا بھی جائز؟ تو وہاں پر ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس نے پہلے خریدی ہوگی پھر قبضہ کیا ہوگا پھر بیچی ہوگی پھر اس نے کیا کر لیا اس پر قبضہ؟ کیونکہ اس کا قبضہ تو ثابت نہیں ہے۔ اور چیز کو خریدنے کے بعد آگے بیچنے کے لیے کیا ضروری ہے؟ قبضہ ضروری ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وَإِنْ كَانَ فِي العَقَارِ اگرچہ جائداد غیر منقولہ جائداد میں ہی کیوں نہ ہو عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی، یاد رکھو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی غیر منقولہ چیز یعنی گھر، باغ، زمین اس قسم کی چیز جو ہے جو نقل نہیں ہوتی ایک جگہ سے دوسری جگہ، اس کے اندر بھی جب انسان خریدے تو آگے بیچنے سے پہلے قبضہ ضروری بھئی، آگے بیچنے سے پہلے؟ قبضہ تو ہر مبیع میں ضروری ہے لیکن شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ غیر منقولہ کے اندر بغیر قبضے کے بھی کیا کر سکتے ہو؟ بیچ سکتے ہو۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں بھئی باقی چیزوں میں ہلاک ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، آپ نے ایک چیز خریدی، خرید کر ابھی آپ تک پہنچی نہیں ہے آپ پہلے ہی کیا کرنا چاہتے ہیں؟ آگے بیچنا چاہتے ہیں، ہو سکتا ہے وہ چیز آپ تک پہنچے ہی نہ، پہلے ہی کیا ہو جائے؟ ہلاک ہو جائے، تو دھوکہ لازم آئے گا، کیا لازم آئے گا؟ اگلی بیع اگلے خریدار کے ساتھ دھوکہ لازم آئے گا، اس لیے پہلے چیز پر قبضہ کر لو، قبضہ کر لیا اب چاہو جس کو مرضی اس کو بیچو۔ لیکن جائداد کے اندر اس کی ہلاکت نادر ہے، وہ کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ کیا ہو جائے؟ گھر آپ نے خریدا ہے وہ کم ہی ایسا نادر ہے کہ وہ گھر گر جائے، بلکہ آپ نے خرید لیا فوراً کیا کر سکتے ہیں آپ بغیر قبضے کے ہی کہ کیونکہ یہاں ہلاکت کا امکان نادر ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں بھئی، چاہے منقولہ ہو چاہے غیر منقولہ دونوں میں قبضہ ضروری ہے۔
یہ معنی ہے کہ لِأَنَّ البَيْعَ قَبْلَ القَبْضِ لَا يَجُوزُ وَإِنْ كَانَ فِي العَقَارِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بیع قبضے سے پہلے جائز نہیں ہے اگرچہ کس کے اندر ہو؟ جائداد کے اندر غير منقولہ جائداد میں ہو عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَإِنَّمَا قَالَ بِلَا وَقْتٍ اور ماتن نے کیا کہا؟ بِلَا وَقْتٍ کی قید لگائی حَتَّى لَوْ أَرَّخَا یہاں تک کہ اگر دونوں نے تاریخ بیان کی وَفِيهِ تَفْصِيلٌ مَذْكُورٌ فِي الهِدَايَةِ تو پھر اس صورت میں اس کے اندر تفصیل ہے جو ہدایہ کے اندر مذکور ہے فَطَالِعْهَا إِنْ شِئْتَ پس تو اس کا مطالعہ کر لے اگر تو چاہتا ہے، اے پڑھنے والے اگر تو چاہتا ہے تو اس کا مطالعہ کر لے، اس کو ذکر نہیں کیا انہوں نے بھئی۔
وَاعْلَمْ أَنَّ صَاحِبَ الهِدَايَةِ ذَكَرَ هَذِهِ المَسَائِلَ مِنْ غَيْرِ ضَبْطٍ وَأَنَا جَمَعْتُهَا مِنَ الذَّخِيرَةِ مَضْبُوطَةً مُوجَزَةً. جی علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں دیکھا بھئی بعض مقامات پر کہتے ہیں یہاں پر میری تقریر صاحبِ ہدایہ کی تقریر سے بھی اچھی ہے، صاحبِ ہدایہ اس مقام کو اچھی طرح ضبط نہیں کر سکے بھئی، کہتے ہیں جی کہتے ہیں جَانَ لَیْ تُو کہ أَنَّ صَاحِبَ الهِدَايَةِ کہ صاحبِ ہدایہ نے ذَكَرَ هَذِهِ المَسَائِلَ انہوں نے ان مسائل کو ذکر فرمایا ہے مِنْ غَيْرِ ضَبْطٍ بغیر ضبط کے، بغیر وہ اسی طرح اس کو مرتب نہیں کر سکے، وَأَنَا جَمَعْتُهَا مِنَ الذَّخِيرَةِ اور میں نے جمع کیا ہے میں نے بھی جمع کیے ہیں ان مسائل کو کس کتاب سے؟ ذخیرہ کتاب سے مَضْبُوطَةً مُوجَزَةً اس حال میں کہ یہ کیا ہیں؟ مرتب ہیں، کیا ہیں؟ میں نے بڑی اچھی ترتیب دی ہے، مُوجَزَةً اور مختصر ہے، کلامِ ایجاز کس کو کہتے ہیں بھئی؟ کلام مختصر ہو بھئی اور معنی، لفظ تھوڑے ہوں معنی زیادہ ہوں اس کو ایجاز کہتے ہیں بھئی، تو موجز میں نے بڑے مختصر طریقے سے کلام، لفظ تھوڑے ہیں اور معنی زیادہ، اچھے طریقے سے ان کو ترتیب دیا ہے۔ تو میں نے بھی ان کو جمع کیا ہے ذخیرہ کتاب سے مَضْبُوطَةً مُوجَزَةً اس حال میں کہ یہ مرتب ہیں مُوجَزَةً اور اس حال میں کہ یہ مختصر لفظ تھوڑے لفظ ہیں بھئی۔
فَأَقُولُ پس میں کہتا ہوں إِنْ بَرَهَنَ المُدَّعِيَانِ اگر بینہ قائم کر دیں دونوں مدعی فَإِنْ كَانَ تَارِيخُ أَحَدِهِمَا سَابِقًا فَهُوَ أَحَقُّ پس اگر ان دونوں میں سے کسی ایک کی تاریخ سابق ہو، مقدم ہو تو وہ زیادہ حقدار ہے بھئی، دو مدعی ہیں ایک نے کہا کہ میں اس چیز کا مالک کب سے ہوں؟ 10 شوال سے ہوں، دوسرا کیا کہتا ہے؟ میں 10 رمضان سے ہوں، تو کس کی تاریخ سابق ہے؟ 10 رمضان کی، تو وہ زیادہ لائق ہے، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی کسی کی تاریخ سابق نہ ہو، کتنی صورتیں اس میں آ گئیں؟ اس میں تین صورتیں آ گئیں۔ پہلی صورت کیا تھی اگر تاریخ سابق ہو وَإِنْ لَمْ يَكُنْ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی کسی کی تاریخ سابق نہ ہو۔
اب یہ تین صورتیں آ گئیں۔ کیسے؟
پہلی صورت: دونوں میں سے کوئی بھی تاریخ ذکر نہیں کرتا۔ تو اب بھی کسی کی تاریخ سَابِق ہے؟ نہیں
دوسری صورت: دونوں میں سے ایک صرف تاریخ ذکر کرتا ہے، تو اب بھی کسی کی تاریخ سَابِق ہے؟ نہیں تیسری صورت: دونوں تاریخ ذکر کرتے ہیں، لیکن ایک ہی تاریخ ذکر کر دی، اب بھی کسی کی تاریخ سَابِق ہے؟ نہیں تو دیکھو تاریخ سَابِق تھی وہ ایک صورت اور تاریخ سَابِق نہ ہو اس میں کتنی صورتیں آ گئیں؟ تین صورتیں۔ پہلی صورت کیا؟ دونوں تاریخ سے ذکر نہیں کرتے، جب تاریخ ذکر نہیں کی تو تاریخ کسی کی سَابِق ہے؟ تاریخ ہی نہیں سَابِق۔ دوسری صورت کیا؟ ایک نے ذکر کی تو اب بھی دوسرے نے تو تاریخ ذکر ہی نہیں کی، تو یہاں بھی سَابِق اور مُتَأخِّر کہنا درست نہیں۔ تیسری صورت: دونوں تاریخ کو ذکر کرتے ہیں لیکن تاریخ کیا ذکر کرتے ہیں؟ تو تینوں صورتوں کا حکم بیان کرنے لگے۔
وَإِنْ لَمْ يَكُنْ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی تاریخ سَابِق نہ ہو فَإِنْ كَانَ كُلٌّ مِنْھُمَا ذَا يَدٍ بس اگر ان دونوں میں سے ہر ایک ذُو يَد ہو یعنی دونوں کا قبضہ ہو، مثلاً مکان ہے دونوں کا کیا ہے اس پر قبضہ ہے فَھُمَا مُتَسَاوِيَانِ تو دونوں کیا ہوں گے برابر ہوں گے، دونوں کی بَيِّنَة کیا ہے؟ برابر ہے یعنی نِصْف نِصْف کا فیصلہ کر دیا جائے گا بھئی کتنی صورتوں کے اندر؟ اگر دونوں صاحبِ يَد ہیں اور دونوں نے تاریخ ذکر یا ایک نے تاریخ ذکر کی یا دونوں نے ذکر کی لیکن تاریخ دونوں کی ایک ہے۔
وَكَذَا إِنْ كَانَ كُلٌّ مِنْھُمَا خَارِجًا فِي الْمِلْكِ الْمُطْلَقِ اور اسی طرح ہے مسئلہ اگر دونوں میں سے ہر ایک خَارِج ہو، اوپر تو تھا دونوں میں سے ہر ایک صاحبِ قبضہ ہو، اب دونوں میں سے ہر ایک خَارِج ہے، تو اسی طرح مسئلہ ہوگا فِي الْمِلْكِ الْمُطْلَقِ کس کے اندر؟ مِلْكِ مُطْلَق کے دعویٰ میں، یعنی جب دونوں کس کا دعویٰ کر رہے ہیں؟ مِلْكِ مُطْلَق کا۔ بھئی زمین ہے زَيْد کے پاس، لیکن دو اور آدمی دعویٰ کر دیتے ہیں، ایک کہتا ہے اس زمین کا مالک میں، دوسرا کہتا ہے اس زمین کا مالک میں ہوں، اور دونوں بَيِّنَة قائم کر دیتے ہیں، تو اگر دونوں نے تاریخ ذکر کی تو جس کی تاریخ مُقَدَّم ہے اس کے لیے کیا کر دیا جائے گا؟ فیصلہ کر دیا جائے گا۔ اور اگر دونوں کے پاس اور اگر دونوں کسی کی تاریخ سَابِق اس میں کتنی صورتیں آ گئیں؟ تین صورتیں، اوّل کیا؟ دونوں تاریخ ذکر ہی یا ایک تاریخ صرف ذکر کرتا ہے، یا دونوں ایک ہی تاریخ ذکر کرتے ہیں، تو تینوں صورتوں میں یہ کیا ہوگا؟ دونوں میں برابر تقسیم ہو جائے گی، دونوں برابر ہیں بھئی، دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں۔
جي؟
جي۔
بھئی دیکھو، مِلْكِ مُطْلَق کی بات چل رہی ہے۔ کس کی بات چل رہی ہے؟ مِلْكِ مُطْلَق کا نہیں فِي الْمِلْكِ الْمُطْلَقِ بھئی کس کے اندر؟ مِلْكِ مُطْلَق کے اندر بھئی۔
وَھَذَا دیکھیے وہ تین صورتیں خود بتلانے لگے ہیں وَھَذَا اور وہ اس صورت میں إِذَا لَمْ يُؤَرَّخَا جب دونوں کیا کریں؟ تاریخ ذکر نہ کریں أَوْ أَرَّخَا أَحَدُھُمَا یا دونوں میں سے صرف کیا کرے؟ ایک تاریخ ذکر کرے أَوْ أَرَّخَا یا دونوں تاریخ ذکر کریں وَلَمْ يَكُنْ أَحَدُھُمَا سَابِقًا لیکن اِس حال میں کہ دونوں میں سے کوئی ایک بھی سَابِق نہ ہو یعنی ایک ہی تاریخ ذکر کریں، حَتَّى إِنْ كَانَ تَارِيْخُ أَحَدِھُمَا سَابِقًا یہاں تک کہ اگر ان دونوں میں سے کسی ایک کی تاریخ سَابِق ہوئی، مثلاً ایک کیا کہتا ہے؟ ایک کے گواہ کہتے ہیں یہ کب سے مالک ہے؟ 10 شوال سے، دوسرے کے گواہ کیا کہتے ہیں؟ 10 رمضان سے، فَقَدْ مَرَّ تو یہ بات گزر چکی ہے أَنَّ السَّابِقَ أَحَقُّ اس صورت میں سَابِق کیا ہوگا؟ زیادہ حقدار ہوگا۔ وَكَذَا فِي الْمِلْكِ بِسَبَبٍ اور اسی طرح بھئی کس کے اندر؟ مِلْكِ بِسَبَبٍ جب مِلْك کے ساتھ کیا گواہ ذکر کر دیں؟ سَبَب بھی ذکر کر دیں کہ یہ مالک کیوں بنا ہے؟ اس نے خریدی ہے یا اس کو وراثت میں ملی ہے یا اس کو کسی نے ہِبَّة وغیرہ کی ہے، تو اس صورت میں اس وقت بھی اسی طرح ہے بھئی۔ اس وقت بھی مگر ایک صورت میں فرق آئے گا إِلَّا إِذَا تَلَقَّى مِنْ وَاحِدٍ بھئی، مِلْك بھئی دو مدعی ہیں ادھر دیکھو بھئی، دو مدعی ہیں بھئی۔
اور دونوں کیا ذکر کر رہے ہیں ساتھ؟ دونوں کے گواہ صرف مِلْك ذکر کر رہے ہیں یا سَبَب بھی ذکر کر رہے ہیں؟ سَبَب بھی ذکر کر رہے ہیں۔ جب سَبَب ذکر کر رہے ہیں تو جس کی تاریخ أَوْلَى اس کو کیا دی جائے گی؟ اس کی بَيِّنَة قبول، اس کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا، اور اگر کسی کی تاریخ سَابِق نہیں تو پھر دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں، اس میں کتنی صورتیں آ رہی تھیں؟ تین صورتیں، اوّل کیا؟ دونوں تاریخ ذکر ہی یا ایک کرتا ہے، یا دونوں ایک ہی تاریخ ذکر کرتے ہیں، تو تینوں صورتوں میں اسی طرح ہے جبکہ کیا بیان کریں؟ مِلْك بھی سَبَب بیان کریں۔
إِلَّا إِذَا تَلَقَّى مِنْ وَاحِدٍ مگر جب کہ وہ دونوں مِلْكَ حاصل ہو کر رہے ہوں، مِلْكَ پا رہے ہوں مِنْ وَاحِدٍ کس سے؟ اس چیز کو دونوں ایک ہی شخص سے پا رہے ہوں، اِس صورت میں وَأَرَّخَ أَحَدُھُمَا فَقَط اور دونوں میں سے صرف ایک کیا کرتا ہے؟ تاریخ ذکر کرتا ہے فَإِنَّهُ أَحَقُّ تو وہ زیادہ اب وہ ضابطہ لگے گا، دونوں کون ہیں؟ دونوں مثلاً خَارِج، اور دونوں کس پر بَيِّنَة قائم کر رہے ہیں؟ مِلْكَ بِسَبَبٍ پر، اور اس صورت میں اگر دونوں تاریخ ذکر کریں تو جس کی تاریخ مُقَدَّم وہ أَوْلَى ہے، ایک ہی سے خریدنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، ایک کہہ رہا ہے میں نے کس سے خریدا؟ زَيْد، دوسرا بھی کیا کہہ رہا ہے میں نے کس سے خریدا؟ زَيْد سے، اور تاریخ ایک نے بھی 10 شوال ذکر کی، دوسرے نے بھی 10 شوال، دوسرے نے 10 رمضان ذکر کی بھئی، تو کس کے حق میں فیصلہ ہوگا؟ جو مُقَدَّم ہے یعنی 10 رمضان والے کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔
لیکن اب اگر آگے تین صورتیں کون سی تھیں؟ دونوں میں سے کوئی بھی تاریخ ذکر نہ کرے یا دونوں میں سے ایک کرے یا دونوں ایک ہی تاریخ ذکر کریں تو باقی تینوں اوپر جو صورتیں ذکر ہوئیں ان میں تو تینوں اکھٹی تھیں، لیکن یہاں پر وہ صورت جس میں کیا کرتا ہے؟ ایک تاریخ ذکر کرتا ہے، وہ بھی بدل جائے گا مسئلہ بھئی۔ اوپر کیا تھا؟
کہ اگر ایک تاریخ ذکر کرے اور دوسرا تاریخ ذکر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تقدیم و تاخیر کا فیصلہ نہیں ہو سکتا، لیکن اگر دونوں کہہ رہے ہیں ہم نے ایک ہی شخص سے خریدا ہے، کیا کہہ رہے ہیں؟ ایک ہی شخص، اور اس صورت میں ایک کیا کرتا ہے؟ تاریخ ذکر کر دیتا ہے تو یہ أَوْلَى ہو گیا۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ بَيِّنَة آتی ہے اِثْبَات کے لیے، تو جیسے خَارِج یہاں کیا کر رہا ہے؟ ایک اَمْر کا اِثْبَات کر رہا ہے، اِسی طرح صاحبِ قبضہ بھی کیا کر رہا ہے؟ ایک اَمْر کا اِثْبَات کر رہا ہے، تو اِثْبَات کے اندر دونوں برابر ہو گئے، اب ایک چیز زَائِد ہے یہاں پر اور وہ صاحبِ قبضہ کا قبضہ ہے، اس کو حِصًّا کیا ہے؟ اس چیز پر قبضہ بھی حاصل ہے، تو لہٰذا کیا کر دیا جائے گا اس کے حق میں فیصلہ۔ یہ معنیٰ ہے بھئی۔
إِلَّا إِذَا دَايَا... إِلَّا إِذَا دَايَا مَعَ الْمِلْكِ الْمُطْلَقِ فِعْلًا مگر یہ کہ جب دونوں دعویٰ کریں مِلْکِ مُطْلَق کے ساتھ کسی فِعْل کا بھی، اب صورت بدل جائے گی، ایک ہے صاحبِ قبضہ، ایک ہے خَارِج۔
ایک کیا ہے؟ خَارِج۔
اور دونوں دعویٰ کر رہے ہیں بھئی، ایک کہتا ہے اس چیز کا مالک میں، مِلْكِ مُطْلَق ذکر ہو رہی ہے، ایک کہتا ہے اس چیز کا مالک میں، دوسرا کیا کہتا ہے اس چیز کا مالک میں، لیکن ساتھ ایک فِعْل بھی ذکر کر دیتے ہیں۔ مثلاً صاحبِ قبضہ کیا کہتا ہے؟
کہ میں اس غُلام کا مالک ہوں کیونکہ میں نے اس کو مُدَبَّر بنایا ہے، میں نے کیا کیا ہے اس کو؟ یہ غُلام میرا ہے اور میں نے اس کو مُدَبَّر بنایا ہے۔
خَارِج بھی کہتا ہے یہ غُلام میرا ہے، میں نے اس کو کیا کیا ہے؟ مُدَبَّر بنایا ہے۔
تو اب مولانا! اب صاحبِ قبضہ أَوْلَى ہے بھئی، کیوں أَوْلَى ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ بَيِّنَة آتی ہے اِثْبَات کے لیے، تو جیسے خَارِج یہاں کیا کر رہا ہے؟ ایک اَمْر کا اِثْبَات کر رہا ہے، اِسی طرح صاحبِ قبضہ بھی کیا کر رہا ہے؟ ایک اَمْر کا اِثْبَات کر رہا ہے، تو اِثْبَات کے اندر دونوں برابر ہو گئے، اب ایک چیز زَائِد ہے یہاں پر اور وہ صاحبِ قبضہ کا قبضہ ہے، اس کو حِصًّا کیا ہے؟ اس چیز پر قبضہ بھی حاصل ہے، تو لہٰذا کیا کر دیا جائے گا اس کے حق میں فیصلہ۔ یہ معنیٰ ہے بھئی۔
إِلَّا إِذَا دَايَا... إِلَّا إِذَا دَايَا مَعَ الْمِلْكِ الْمُطْلَقِ فِعْلًا مگر یہ کہ جب دونوں دعویٰ کریں مِلْکِ مُطْلَق کے ساتھ کسی فِعْل کا بھی كَمَا إِذَا قَالَ جیسے کہ کہتے ہیں ان میں سے ہر ایک هُوَ عَبْدِي أَعْتَقْتُهُ کہ یہ میرا غلام ہے جسے میں نے آزاد کیا ہے، بھئی جب غلام ہے اسے آزاد کیا ہے تو پھر جھگڑا کس بات کا ہے کہ یہ میرا ہے یا فلاں؟ تو وہ آزاد ہے، کہتے ہیں بھئی ہو سکتا ہے وہ غلام بہت صغیر ہو، دو مہینے کا ہے، چار مہینے کا ہے، دو سال کا ہے، چھوٹا سا ہے، تو فی الحال کسی کے قبضے میں ہے، تو إِذَا قَالَ هُوَ عَبْدِي أَعْتَقْ... یا کہے تو غلام کبیر، لیکن ابھی اسے اپنے آزادی کا علم ہی نہیں، تو پھر بھی اس صورت میں ابھی قبضے میں ہی ہوگا۔ كَمَا إِذَا قَالَ دونوں میں سے ہر ایک کہتا ہے هُوَ عَبْدِي أَعْتَقْتُهُ یہ میرا غلام ہے جسے میں نے آزاد کیا ہے أَوْ دَبَّرْتُهُ دونوں میں سے ہر ایک کہتا ہے یہ میرا غلام ہے، میں نے اس کو کیا بنایا ہے؟ مُدَبَّر بنایا ہے، فَذُو الْيَدِ أَحَقُّ تو صاحبِ قبضہ کیا ہے؟ زیادہ حقدار ہے، بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ هُوَ عَبْدِي كَاتَبْتُهُ بخلاف اس کے کہ اگر دونوں یہ فِعْل ذکر کریں هُوَ عَبْدِي كَاتَبْتُهُ یہ میرا غلام ہے کہ میں نے اس کو کیا بنایا ہے؟ مُكَاتَب بنایا ہے، فَھُمَا سَوَاءٌ تو دونوں برابر ہیں، لِأَنَّھُمَا خَارِجَانِ بھئی دونوں برابر کیسے؟ خَارِج کو أَوْلَى نہیں ہونا چاہیاتھا؟
ایک صاحبِ قبضہ ہے، ایک کیا ہے؟ خَارِج ہے۔
ایک کیا کہہ رہا ہے؟ یہ غلام میرا، کیونکہ میں نے اس کو... جسے میں نے مُكَاتَب بنایا ہے، دوسرا کہتا ہے یہ غلام میرا، میں نے اسے کیا کیا ہے؟ مُكَاتَب بنایا ہے۔ تو اب آپ کہہ رہے ہیں دونوں برابر ہیں، حالانکہ خَارِج کو کیا ہونا چاہیے؟ أَوْلَى ہونا، کہتے ہیں بھئی دونوں خَارِج ہیں اس وقت، صاحبِ قبضہ ہو ہی نہیں سکتا، اس لیے کہ مُكَاتَب جب بنا دیا، تو مُكَاتَب آزاد آدمی کی طرح ہوتا ہے، اس سے خدمت وغیرہ نہیں لی جا سکتی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو وہ جائے گا، پیسے کمائے گا، اپنی آزادی کا بندوبست کرے گا، لہٰذا اب صاحبِ قبضہ کوئی بھی نہیں بھئی، جب دونوں نے مُكَاتَب بنانے کا کہا تو پتہ چل گیا کہ کسی ایک کا بھی اس پر قبضہ نہیں۔
فھُمَا سَوَاءٌ تو دونوں برابر ہیں لِأَنَّھُمَا خَارِجَانِ اِس لیے کہ دونوں خَارِج ہیں، اِذْ لَا يَدَ عَلَى الْمُكَاتَبِ اس لیے کہ مُكَاتَب پر قبضہ نہیں ہوتا، وَلَوْ قَالَ أَحَدُھُمَا عَبْدِي كَاتَبْتُهُ وَقَالَ الْآخَرُ دَبَّرْتُهُ أَوْ أَعْتَقْتُهُ فَھَذَا أَوْلَى اگر دونوں میں سے ایک کہتا ہے هُوَ عَبْدِي كَاتَبْتُهُ یہ میرا غلام ہے، كَاتَبْتُهُ میں نے اسے کیا بنایا ہے؟ مُكَاتَب، وَقَالَ الْآخَرُ اور دوسرا کہتا ہے دَبَّرْتُهُ میں نے اس کو کیا بنایا ہے؟ مُدَبَّر، أَوْ أَعْتَقْتُهُ یا میں نے اس کو کیا کیا ہے؟ آزاد کیا ہے، فَھَذَا أَوْلَى تو یہ مُدَبَّر اور اِعْتَاق والی کیا ہے؟ أَوْلَى ہے، کیوں یہ کیوں أَوْلَى ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہاں پر وہ بَيِّنَة پیش کر رہا ہے غیر کے حق کو ثابت کرنے کے پہلے نے بَيِّنَة کس پر قائم کی؟ کہ یہ غلام میرا ہے، میں نے اس کو کیا بنایا؟ مُكَاتَب۔ دوسرے نے بَيِّنَة قائم کی کس بات پر؟ کہ یہ غلام میرا ہے، میں نے اس کو کیا بنایا ہے؟ مُدَبَّر بنایا ہے یا میں نے اسے آزاد کیا ہے، تو یہ تدبیر اور اِعْتَاق والی بَيِّنَة یہ أَوْلَى ہے، اسے قبول کیا جائے گا، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اِس بَيِّنَة کے ذریعے غیر کے لیے حق کو ثابت کیا جا رہا ہے، اور وہ بَيِّنَة جس کے ذریعے غیر کے حق کو ثابت کیا جائے وہ أَوْلَى ہوتی ہے، وہ بَيِّنَة جس کے ذریعے کیا کیا جائے؟ حق... بھئی دیکھو غلام کے لیے آزادی ثابت ہو جائے گی یا نہیں بھئی؟
تدبیر کی صورت میں موت کے بعد آزادی ہے اور اِعْتَاق کی صورت میں فی الحال کیا ہے؟ تو یہ بَيِّنَة پیش کر رہا ہے کس چیز پر؟ جس میں غیر کا حق ثابت ہو رہا ہے، اور آپ پہلے پڑھ چکے ہیں وہ مسئلے جس میں ایسی بَيِّنَة قبول کی جاتی تھی، جس میں کیا کیا جاتا تھا؟ غیر کا حق... پڑھی تھی آپ نے یا نہیں پڑھی بھئی؟ دیکھیے بھئی۔
217 صفحہ نکالیں مولانا۔
نکال لیا بھئی؟ فَصْلٌ کے آگے کیا آیا تھا؟ وَلَوْ قَالَ ذُو الْيَدِ ھَذَا الشَّيْءَ أَوْدَعَنِیْهِ صورتِ مسئلہ یہ تھی ادھر دیکھو بھئی، ایک آدمی نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ یہ جو تمہارے پاس غلام ہے، یہ میرا ہے، میرے حوالے کرو، اس نے بَيِّنَة قائم کر دی قاضی صاحب! یہ غلام تو میرے پاس زَيْد نے امانت رکھوایا ہے۔ بَيِّنَة قبول کی جاتی تھی یا نہیں کی جاتی تھی؟ بَيِّنَة قبول ہوتی تھی اور خصومت ختم ہو جاتی تھی، کیونکہ پتہ لگا کہ اس کا خصومت والا قبضہ ہی تو دیکھو یہاں پر بَيِّنَة کس چیز پر تھی؟ غیر کا حق ثابت ہو رہا تھا کہ یہ غلام میرے پاس میرا نہیں ہے، بلکہ کس نے میرے پاس رکھوایا ہے؟ زَيْد نے تو دیکھو غیر کے وہ بَيِّنَة جس کے ذریعے کیا ہوتا تھا؟ غیر کا حق ثابت ہوتا تھا اس کو قبول کیا جاتا تھا، تو یہاں پر بھی بَيِّنَة ہے جس کے ذریعے غلام کے لیے آزادی ثابت ہو رہی ہے، تو اس حق کی وجہ سے اس بَيِّنَة کو قبول کیا جائے گا۔
فَالضَّابِطَةُ ضَابِطَةٌ یہ مولانا کہ أَنَّ كُلَّ بَيِّنَةٍ يَكُونُ أَكْثَرَ إِثْبَاتًا فَھِيَ أَحَقُّ کہ ہر وہ بَيِّنَة جو أكثر ہو باعتبار اِثْبَات کے، جس میں زیادہ اِثْبَات ہو فَھِيَ أَحَقُّ وہ کیا ہوتی ہے؟ زیادہ لائق ہوتی ہے قبول کے، ھٰذَا فِي الْخَارِجِ وَذِي الْيَدِ فِي الْمِلْكِ الْمُطْلَقِ یہ مسائل تو کس میں تھے؟ کس دعویٰ کے اندر؟ جو کس میں ہو؟ خَارِج میں ہو اور ذُوالْيَد میں ہو کس کے بارے میں؟ مِلْكِ مُطْلَق کے بارے میں۔
وَأَمَّا فِي الْمِلْكِ سَبَبًا باقی مِلْك بِاعْتِبَارِ سَبَب کے، فَإِنْ ذَكَرَا سَبَبًا وَاحِدًا اگر دونوں نے ایک ہی سَبَب ذکر کیا، فَإِنْ تَلَقَّيَا مِنْ وَاحِدٍ اگر دونوں نے ایک ہی سے پایا ہے اس چیز کو، دونوں... مثلاً بھئی، ایک بھی کہتا ہے میں نے کس سے خریدی؟ میں نے بھی خریدی، بَيِّنَة قائم کرتا ہے خرید پر، اور ذُو الْيَدِ بھی کس پر بَيِّنَة قائم کرتا ہے؟ خرید پر، فَإِنْ تَلَقَّيَا مِنْ وَاحِدٍ اگر کیا کر رہے ہیں؟ ایک سی وہ چیز پا رہے ہیں، یعنی ایک ہی بَایَع دونوں ذکر کر رہے ہیں، خَارِج بھی کہتا ہے میں نے کس سے خریدی؟ زَيْد سے، اور ذُو الْيَدِ بھی کس سے کہتا ہے میں نے کس سے خریدی؟ زَيْد سے، فَضُلْيَدِ أَحَقُّ تو ذُو الْيَدِ کیا ہے؟ زیادہ حقدار ہے، کیونکہ اس کا قبضہ ہے۔
کیونکہ دونوں سبب بھی ذکر كر رہے ہیں اور تو سبب اس بات کے اعتبار سے دونوں برابر ہوئے البتہ اس کا قبضہ ایک زائد چیز ہے اسی لئے اس کے بارے میں فیصلہ کر دیا۔ وَإِنْ تَلَقَّيَا مِنْ اِثْنَيْنِ اور اگر دونوں کیا کر رہے ہیں؟ دو آدمیوں سے پا رہے ہیں فَالْخَارِجُ أَحَقُّ تو خارج کیا ہے؟ زیادہ حق دار ہے شَامِلًا لِلصُّوَرِ الْمَذْكُورَةِ یہ شامل ہے مذکورہ تینوں صورتوں کو۔
دونوں صورتوں میں اسی طرح بھئی ایک صورت کیا ذکر کی؟ یہاں دو مسئلے ذکر کیے دو صورتیں۔ ایک کون ہے؟ ایک ہے خارج اور ایک کون ہے؟ ذوالید اور دونوں کس سے پا رہے ہیں؟ ایک ہی شخص سے، پہلی صورت اور دوسری صورت کیا ہے؟ دونوں الگ الگ سے پا رہے ہیں تو دونوں صورتوں میں۔
پھر کتنی کتنی صورتیں آتی ہیں؟ تین تین صورتیں، کتنی؟ تین۔ پہلی صورت کون سی تھی؟ اسی کے اندر یہ متن میں جو ابھی شرح میں آیا وَإِنْ تَلَقَّيَا مِنْ خارج بھی کہہ رہے ہیں میں نے کس سے خریدی ہے؟ زید سے، ذوالید بھی کیا کہہ رہا ہے میں نے کس سے خریدی ہے؟ زید سے، تو کون اولىٰ؟ فَذُو الْيَدِ أَحَقُّ کون اولىٰ بتلایا؟ ذوالید اولىٰ، تینوں صورتوں میں ذوالید اولىٰ، کون سی تین صورتیں؟
دونوں تاریخ ذکر نہیں کرتے یا دونوں میں سے ایک تاریخ ذکر کرتا ہے یا دونوں ایک ہی تاریخ، پھر اگلی کیا صورت تھی؟ وَإِنْ تَلَقَّيَا وَإِنْ تَلَقَّيَا مِنْ اِثْنَيْنِ اگر دونوں کس سے پا رہے ہیں؟ دو آدمیوں سے فَالْخَارِجُ أَحَقُّ تو خارج کیا ہے؟ زیادہ حق دار ہے بھئی۔
کیسے دو سے پا رہے ہیں؟ خارج کہہ رہا ہے میں نے زید سے خریدی اور صاحب قبضہ کیا کہہ رہا ہے میں نے کس سے خریدی؟ عمرو سے خریدی، تو دونوں نے الگ الگ بائع ذکر کیا تو اب چاہے مولانا دونوں کیا کریں؟ تاریخ ذکر نہ کریں، پھر بھی کون اولىٰ؟ خارج اولىٰ، کون اولىٰ؟ بھئی ایک بھی کہہ رہا ہے میں نے خریدی ہے، کس سے خریدی؟ اور عمرو اور دوسرا کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے کس سے خریدی؟ عمرو سے، تو کون زیادہ اولىٰ؟ خارج، چاہے دونوں تاریخ ذکر نہ کریں یا دونوں میں سے ایک تاریخ ذکر کرے یا دونوں ایک ہی تاریخ ذکر کریں۔
وَإِنْ ذَكَرَا سَبَبَيْنِ اور اگر دونوں دو الگ الگ سبب ذکر کریں، ایک کیا کہتا ہے؟ میں نے خریدی، دوسرا کیا کہتا ہے؟ مجھے ہبہ کی گئی ہے۔
تو پھر پھر کہتے ہیں قوت سبب کو دیکھیں گے وَإِنْ ذَكَرَا سَبَبَيْنِ اگر دونوں نے دو سبب ذکر کیے كَالشِّرَاءِ وَالْهِبَةِ وَغَيْرِ ذٰلِكَ جیسے شراء، ہبہ وغیرہ ہیں تو يُنْظَرُ إِلَىٰ قُوَّةِ السَّبَبِ کس کی طرف نظر کی جائے گی؟ قوت سبب کی طرف كَمَا فِي الْمَتْنِ جیسے کہ متن میں گزرا تھا کہ شراء اولىٰ ہے کس سے؟ ہبہ مع القبض سے اور اسی طرح شراء اولىٰ ہے صدقہ مع القبض سے اور اسی طرح شراء اور مہر برابر ہیں اور رہن اولىٰ ہے کس سے؟ ہبہ سے، رہن مع القبض اولىٰ ہے ہبہ مع القبض سے، صورت سمجھ میں آ گئی؟
بھئی وہ تھا دونوں خارج ہوں، دونوں کیا ہوں؟ خارج ہوں۔
وَلَا يُرَجَّحُ بِكَثْرَةِ الشُّهُودِ اور ترجیح نہیں دی جائے گی کثرتِ گواہوں کی وجہ سے، گواہوں کی کثرت کی وجہ سے کسی کی ترجیح ایک کے پاس دو گواہ ہیں، دوسرے کے پاس چار ہیں، چھ ہیں، آٹھ ہیں، دس ہیں لیکن اس کی وجہ سے اب دس والے کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔ وَلَا يُرَجَّحُ بِكَثْرَةِ الشُّهُودِ اور ترجیح نہیں دی جائے گی کثرتِ شہود کی وجہ سے فَإِنَّ التَّرْجِيحَ عِنْدَنَا بِقُوَّةِ الدَّلِيلِ لَا بِكَثْرَتِهِ اس لیے کہ ترجیح ہمارے نزدیک وہ دلیل کی قوت کی وجہ سے ہوتی ہے کثرت کی وجہ سے نہیں بھئی۔
وَلَوْ ادَّعَىٰ أَحَدُ الْخَارِجَيْنِ نِصْفَ دَارٍ وَالْآخَرُ كُلَّهَا فَالرُُّبُعُ لِلْأَوَّلِ وَقَالَ السُُّلُثُ لِلْأَوَّلِ وَالْبَاقِي لِلثَّانِي یہ مسئلہ سمجھو بھئی یہ ذرا مشکل مسئلہ ہے۔
صورت یہ: ایک گھر ہے آپ کے قبضے میں، دو خارج نے دعویٰ کر دیا، ایک خارج کہتا ہے یہ نصف دار میرا ہے، دوسرا خارج کہتا ہے یہ سارا گھر میرا ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ گھر کس کے قبضے میں ہے؟ کسی اور کے قبضے میں ہے اور دو خارج دعویٰ کرتے ہیں، ایک کیا کہتا ہے؟ ایک کتنے کا مدعی؟ نصف گھر کا اور دوسرا؟ پورے گھر کا، تو اس صورت میں امام صاحب اور صاحبین رحمہما اللہ کا اختلاف ہے بھئی، امام صاحب فرماتے ہیں: دیکھیے بھئی، پہلی کیا صورت تھی؟
بھئی ایک نے کتنے کا دعویٰ کیا ہے؟ اور دوسرے نے پورے گھر کا، امام صاحب فرماتے ہیں: نصف کے مدعی کو ربع دے دو اور کل کے مدعی کو تین ربع دے دو۔
کیا کرو؟ نصف کے مدعی کو ربع دے دو اور کل کے مدعی کو تین ربع، ایک ربع نکل گیا تو باقی کتنے ربع رہ گئے؟ وہ تینوں دوسرے کو دے دو، صورت سمجھ میں آئی؟
صاحبین فرماتے ہیں صاحبین فرماتے ہیں کہ نصف کے مدعی کو ثلث دے دو اور کل کے مدعی کو دو ثلث دے دو۔
امام صاحب نے کیا فرمایا؟ نصف کے مدعی کو اور کل کے مدعی کو تین ربع اور صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ نصف کے مدعی کو ثلث اور کل کے مدعی کو دو ثلث دے دو بھئی۔
دیکھیے وجہ بھی ذکر کریں گے بھئی شرح کے اندر وَلَوْ ادَّعَىٰ أَحَدُ الْخَارِجَيْنِ نِصْفَ دَارٍ اگر دعویٰ کیا دو خارجوں میں سے کسی ایک نے نصف دار کا وَالْآخَرُ كُلَّهَا اور دوسرے نے دعویٰ کیا پورے گھر کا فَالرُُّبُعُ لِلْأَوَّلِ تو مدعیِ نصف کو کتنا مل جائے گا؟ ربع مل جائے گا، اول کون ہے؟ جو نصف کا مدعی ہے اس کو ربع ملے گا، یہ کس کے نزدیک ہے؟ وَقَالَ صاحبین فرماتے ہیں السُُّلُثُ لِلْأَوَّلِ مدعیِ نصف کو کیا ملے گا؟ ثلث ملے گا اول یعنی مدعیِ نصف جو ہے اس کو ثلث ملے گا وَالْبَاقِي لِلثَّانِي اور دونوں کے قول کے مطابق باقی کس کو مل جائے گا؟ ثانی، پہلی صورت میں کتنا ربع نکال دیا تو باقی کتنا رہ گیا؟ تین ربع اور دوسری صورت میں ثلث نکالا تو باقی کتنا رہ گیا؟ دو ثلث، وہ دوسرے کو مل جائے گا۔ اعْلَمْ أَنَّ أَبَا حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّٰهُ جی صورت وجہ یہ ہے بھئی، امام صاحب کی دلیل یہ ہے، ادھر دیکھو بھئی:
یہ گھر ہے مولانا ادھر دیکھو، یہ گھر ہے، ایک کیا کہتا ہے؟ نصف خارج ایک خارج کہتا ہے نصف میرا، دوسرا کیا کہتا ہے؟ یہ سارا گھر میرا۔ اب بھئی معلوم ہوا جس نے کل کا دعویٰ کیا اس کو نصف بغیر ویسے ہی دے دیں گے۔
کیونکہ نصف کے اندر تو جھگڑا ہی نہیں، جب وہ کل کہہ رہا ہے تو کل کے اندر کتنے نصف ہوتے ہیں؟ کل میں کتنے نصف ہوتے ہیں؟ دو نصف ہوتے ہیں تو ایک نصف اس کو مل جائے گا کیونکہ اس میں جھگڑا ہی نہیں اور دوسرے نصف میں ایک کیا کہہ رہا ہے؟ میرا اور دوسرا کیا کہہ رہا ہے کل والا؟ میرا، تو اب وہ نصف ان دونوں میں نصف نصف کر دیا جائے گا۔
وہ نصف کیا کر دیا جائے گا دونوں میں؟ اور نصف کا نصف کتنا ہوتا ہے؟ ربع، تو ربع ایک کو مل گیا اور ربع دوسرے کو مل گیا اور دوسرے کو دو ربع پہلے بھی مل چکے تھے تو اس کو کتنے مل گئے؟ تین ربع اور نصف والے کو کتنا مل گیا؟ صورت سمجھ میں آئی؟ دوبارہ سنو بھئی، امام صاحب فرماتے ہیں:
چلیے شرح میں دیکھ لیں وہاں، جی اعْلَمْ أَنَّ أَبَا حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّٰهُ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ جو ہیں اِعْتَبَرَ فِي هٰذِهِ الْمَسْأَلَةِ انہوں نے اعتبار کیا ہے اس مسئلے کے اندر طَرِيقَ الْمُنَازَعَةِ کس کا؟ منازعت کے طریقے کا اعتبار کیا بھئی، وہ کیا؟ کہتے ہیں وَهُوَ وہ یہ ہے أَنَّ النِّصْفَ سَالِمٌ لِمُدَّعِي الْكُلِّ بِلَا مُنَازَعَةٍ کہ نصف وہ سالم کا سالم کس کے لیے ہوگا؟
نصف کس کو مل جائے گا؟ بھئی ایک نے کیا کہا تھا؟ یہ سارا گھر میرا اور دوسرے نے کیا کہا تھا؟ نصف میرا، معلوم ہوا نصف کے اندر تو جھگڑا ہی نہیں تو جو نصف ہے وہ مدعیِ کل کو دے دیا جائے گا بِلَا مُنَازَعَةٍ بغیر بغیر کسی جھگڑے کے اس میں جھگڑا ہی نہیں فَبَقِيَ النِّصْفُ الْآخَرُ تو باقی دوسرا نصف رہ گیا وَفِيهِ مُنَازَعَتُهُمَا عَلَىٰ السَّوَاءِ اور اس میں دونوں کا جھگڑا برابری کے طریقے پر ہے فَيُنَصَّفُ پس اس کو نصف نصف کیا جائے گا، اس کی تنصیف کی جائے گی فَلِصَاحِبِ الْكُلِّ پس ہو جائے گا صاحبِ کل کے لیے کتنا بھئی؟ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعٍ تین ربع ہو جائیں گے وَلِصَاحِبِ النِّصْفِ الرُُّبُعُ اور صاحبِ نصف کے لیے کتنا ہو جائے گا؟ ایک ربع، صورت سمجھ میں آ گئی؟
وَهُمَا صاحبین نے کیا ذکر کیا تھا؟ صاحبِ مدعیِ نصف کو کتنا دو؟ ایک ثلث اور مدعیِ کل کو کتنا دو؟ دو ثلث، وجہ کہتے ہیں وَهُمَا اِعْتَبَرَا طَرِيقَ الْعَوْلِ وَالْمُضَارَبَةِ انہوں نے عول اور مضاربت والا طریقے کے طریقے کا اعتبار کیا۔
عول اور مضاربت، عول بھئی، عول جو ہے نہ عول یاد رکھو یہ میراث میں جا کر آپ پڑھیں گے بھئی، عول، عول کہتے ہیں جب ایک مخرج سے تقسیم صحیح پوری نہ ہو سکے، حصے پورے پورے نہ بنتے ہوں تو اس سے اوپر والے عدد کی طرف انسان چلا جائے، یہ عول کہلاتا ہے۔
عول کسے کہتے ہیں بھئی؟ جب ایک مخرج سے حصے پورے پورے نہ بن رہے ہوں یعنی مخرج تنگ پڑ جائے حصوں کے لیے، تو اوپر والے عدد کی طرف انسان چ اوپر والے عدد کی طرف چلے جائیں، یہ عول کہلاتا ہے بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی؟
ایک عدد سے تقسیم، یوں کہو آسان لفظوں میں ایک عدد سے تقسیم پوری پوری نہیں ہو سکتی تو اب ہم کیا کریں گے مجبوراً؟ عدد چھوٹا ہے، حصے زیادہ ہیں تو اب کیا کریں گے مجبوراً؟ اوپر والے عدد کی طرف چلے جائیں گے، مثلاً دینا دو کو ہے اور حصے تین بن حصے تین بن رہے ہیں اور عدد ہے ہمارے پاس دو، تو اب دو میں سے تین حصے ہو سکتے ہیں؟ دو میں سے تین حصے پورے؟ تو اب اوپر والے عدد ہم تین کی طرف چلے جائیں گے، جیسے اس مسئلے کے اندر دیکھو آئے گا، دیکھو:
وَإِنَّمَا سُمِّيَ بِهٰذَا اور اس کا یہ نام رکھا گیا یعنی عول رکھا گیا، کیوں؟ لِأَنَّ فِي الْمَسْأَلَةِ كُلًّا وَنِصْفًا اس لیے کہ مسئلے کے اندر کیا ہے؟ ایک کل ہے اور ایک نصف ہے فَالْمَسْأَلَةُ مِنْ اِثْنَيْنِ مسئلہ کس سے ہونا چاہیے؟ دو سے ہونا چاہیے، کس سے ہونا چاہیے؟ دو سے وَتَعُولُ إِلَىٰ ثَلَاثَةٍ لیکن یہ اوپر چڑھ جاتا ہے تین کی طرف، بلند کرنا، عول کا معنی ہوتا ہے بلند کرنا، تو لیکن اس کو بلند کریں گے کس کی طرف؟ تین کی طرف، دیکھو بھئی:
لِأَنَّ فِي الْمَسْأَلَةِ یہ حساب کی بات ہے بھئی، حساب کا یہاں دیکھو چلو کوشش کرتا ہوں بھئی۔
اس مسئلے کے اندر ایک کل ہے اور ایک نصف ہے۔
اچھا آپ مجھے بتائیے، کل کے اندر کتنے نصف ہوتے ہیں؟ دو، معلوم ہوا ایک شخص کا دعویٰ یہ ہے کہ 2/2 حصہ میرا ہے۔
کل کتنے نصف ہیں؟ دو، تو دو میں سے کتنے کا وہ مدعی ہے؟ دونوں کا ہی مدعی ہے یعنی 2/2 کا وہ مدعی ہے کہ دو میں سے دونوں حصے میرے ہیں اور ایک مدعی ہے نصف کا یعنی 1/2 کا، دو میں سے کتنے حصے میرے؟ ایک میرا ہے، تو ایک مدعی ہوا 2/2 کا اور ایک مدعی ہوا 1/2 کا، صورت سمجھ میں آ گئی۔
اچھا، اب ایک کو دینے ہیں 2/2 اور ایک کو دینا ہے 1/2، یہ کتنا بن جائے گا؟ اگر حساب آتا ہو تو اس کا بھئی حساب پورا کیا سمجھاؤں؟ یہ بن جاتا ہے 3/2، کیا بن گیا؟ اب حصے نیچے دیکھو اوپر آ گیا تین، نیچے کیا آیا؟ دو، تو دو میں سے تین ہو سکتے ہیں حصے؟ نہیں ہو سکتے، تو دو میں سے تین نہیں ہو سکتے، مجبوراً ہم کس طرف چلے گئے؟ تین کر دیے، اب تین میں سے تین حصے آرام سے ہو گئے بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی؟
یہ کہلاتا ہے عول کہ دو، مسئلہ تو ہونا چاہیے تھا دو سے لیکن دو سے مسئلہ نہیں ہو رہا، حصے زیادہ ہو گئے اور مخرج یعنی دو کیا ہے؟ کم پڑ گیا، تو ہم اس سے اوپر والے عدد کی طرف چلے گئے اور وہ کیا تھا؟ جس سے تقسیم پوری ہو، تین تھا تو تین کی طرف ہم چلے گئے بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی؟
یہ معنی ہے لِأَنَّ فِي الْمَسْأَلَةِ كُلًّا اس لیے کہ مسئلے کے اندر ایک کل ہے وَنِصْفًا اور ایک نصف ہے فَالْمَسْأَلَةُ مِنْ اِثْنَيْنِ مسئلہ کس سے تھا؟ دو سے ہونا چاہیے تھا کیونکہ ایک کتنے کا مدعی ہے؟ 2/2 کا اور ایک کتنے کا مدعی ہے؟ 1/2 کا، تو نیچے دونوں میں کیا آ رہا ہے؟ دو، تو مسئلہ بھی کس سے ہونا چاہیے؟ دو سے، لیکن دو سے بنتا ہے پورا؟ نہیں پورا نہیں بنتا، تو ہم کس کی طرف چلے گئے؟ یہ معنی ہے وَتَعُولُ إِلَىٰ ثَلَاثَةٍ اور وہ بلند کیا مسئلے کو کس کی طرف بھئی؟ تین کی طرف کیا گیا فَلِصَاحِبِ الْكُلِّ سَهْمَانِ تو صاحبِ کل کے لیے کتنے حصے ہو گئے تین میں سے؟ دو حصے وَلِصَاحِبِ النِّصْفِ سَهْمٌ اور صاحبِ نصف کے لیے ایک حصہ هٰذَا هُوَ الْعَوْلُ یہ کیا ہے؟ عول ہے، عول ہے۔
تو دونوں کے حصوں میں کمی ہو گئی۔
دونوں کے حصوں میں کیا ہو گئی؟ ایک کو کتنے ثلث ملے؟ دو ثلث، حالانکہ وہ کتنا چاہ رہا تھا؟ سارا، تو کمی آئی یا نہیں؟ اور ایک چاہ رہا تھا نصف لیکن اس کو کتنا ملا؟ ثلث، تو اس کے حصے میں بھی کیا ہو گئی؟ کمی، تو عول کے اندر سب کے حصوں میں کمی ہو جاتی ہے، جتنے بھی ہوتے ہیں چاہے دو ہوں، چار ہوں، چھ ہوں، دس ہوں، سب کے حصوں میں کیا ہو جاتی ہے؟ برابری کے ساتھ کمی ہو جاتی ہے۔
تو یہ عول کہلاتا ہے کہ مخرج تنگ پڑ جائے تو اوپر والے عدد کی طرف چلے جاتے ہیں۔
وَأَمَّا الْمُضَارَبَةُ مضاربت، مضاربت کا معنی ہے ضَارَبَ يُضَارِبُ مُضَارَبَةً باہمی ضرب دینا، کیا دینا؟ ضرب سے ہے ضرب، باب مفاعلہ ہے یعنی دونوں ضرب دیں گے۔ کس سے؟ اپنے حصے سے ترکے کو ضرب دیں گے۔
ضرب، دونوں کیا کریں گے؟ اپنے حصے سے ترکے کو ضرب دیں گے، دیکھیے بھئی: وَأَمَّا الْمُضَارَبَةُ مضاربت یہ ہے فَإِنَّ كُلَّ وَاحِدٍ يَضْرِبُ بِقَدْرِ حَقِّهِ ہر ایک ضرب دے گا اپنے حصے کے بقدر بھئی فَصَاحِبُ الْكُلِّ لَهُ الثُُّلُثَانِ مِنَ الثَّلَاثَةِ صاحبِ کل اس کے لیے کتنے ثلث ہیں ثلاثہ میں سے؟ بھئی کتنے دیے ہم نے؟ صاحبِ کل کے لیے دو، کتنا فیصلہ ہوا ابھی بھئی؟ صاحبین کے قول کے مطابق۔ صاحبِ کل کو کتنے دیے تھے؟ اور صاحبِ نصف کو ایک ثلث، تو صاحبِ کل کا حصہ کتنا ہوا؟ 2/3 اور گھر کتنے ہیں؟ ایک گھر ترکہ کتنا ہے؟ ایک گھر، تو 2/3 × 1، جواب بھی آئے گا 2/3 ہی آ جائے گا۔
ایک کے ساتھ جب 2/3 کو ضرب دیں گے تو کیا آئے گا؟ 2/3 ہی آئے گا بھئی، ایک کے ساتھ ضرب دی تو وہی آنا چاہیے بھئی، تو 2/3 آیا، تو اس کا حصہ کتنا ہوا؟ 2/3 یعنی کل گھر کے تین حصے کرو اور دو حصے اس کو دے دو اور دوسرے کا کتنا حصہ تھا؟
1/3 بھئی۔
اور 1/3 کو بھی ایک سے ضرب دو بھئی، کیا بن گیا؟ 1/3، تو اس کو کتنا ملے گا تین میں سے؟ ایک حصہ۔
فَصَاحِبُ الْكُلِّ لَهُ الثُُّلُثَانِ مِنَ الثَّلَاثَةِ صاحبِ کل جو ہے اس کے لیے دو ثلث ہیں تین میں سے فَيَضْرِبُ الثُُّلُثَيْنِ فَيَضْرِبُ الثُُّلُثَيْنِ فِي الدَّارِ تو وہ دو ثلث کو ضرب دے گا گھر کے اندر۔
دو ثلث کیا بتلایا میں نے؟ 2/ بھئی دو کو نہیں گھر سے ضرب دے گا، دو تو دو پورا ہے، دو ثلث کی بات کر رہا ہوں، کیسے ہوگا دو ثلث؟ 2/3 کو ضرب دے گا گھر میں فَيَحْصُلُ لَهُ ثُلُثَا الدَّارِ تو اس کو گھر کے دو ثلث حاصل ہوں گے، ثُلُثَانِ نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، تو اس کو گھر کے دو ثلث حاصل ہوں گے وَصَاحِبُ النِّصْفِ لَهُ ثُلُثٌ مِنَ الثَّلَاثَةِ اور صاحبِ نصف کو کتنا ہوگا؟ ثلث ایک ثلث ہوگا ثلاث تین حصوں میں سے فَيَضْرِبُ الثُُّلُثَ فِي الدَّارِ تو وہ ثلث کو ضرب دے گا کس کے اندر؟ ثلث کتنا کیا ہوتا ہے؟ کیسے لکھتے ہیں؟ 1/3
اس کو دے گا ایک کے اندر گھر کے اندر ضرب دے گا۔ فَيَحْفَظُ اللَّهُ ثُلُثَ دَارِ تو کتنا حاصل ہوگا؟ 1/3 یعنی تین ثُلُث تیسرا حصہ داخل ہوگا؛ لِأَنَّ ضَرْبَ الْكُسُورِ بِطَرِيقِ الْإِضَافَةِ، اس لیے کہ کسروں کی جو ضرب ہے، یہ جو ایک بٹا بٹا جو ہے نا یہ کسر کہلاتے ہیں۔ یہ کیا کہلاتے ہیں؟ کسر یعنی پورا عدد نہیں ہے، عدد کا حصہ ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کسر ہے۔
اس لیے کہ کُسور کی ضرب جو ہے، کسروں کی جو ضرب ہے بِطَرِيقِ الْإِضَافَةِ، یہ نسبت کے طریقہ پر ہوتی ہے۔ کس طریقہ پر؟ نسبت کے طریقہ پر۔ دیکھیے کس طرح؟ فَإِنَّهُ إِذَا ضَرَبَ الثَّلَاثَةَ فِي السِّتَّةِ، یا زُرِبَ الثَّلَاثُ فِي السِّتَّةِ، زُرِبَ الثُّلُثُ، الثُّلُث کو اگر ضرب دی جائے کس کے اندر؟ چھ کے اندر۔
ثُلُث کیا تھا؟ ثُلُث کیسے ہوتا ہے؟ 1/3۔ اگر اس کو ضرب دی جائے فِي السِّتَّةِ کس کے اندر؟ چھ کے اندر۔ تو کیا معنی؟ مَعْنَاهُ ثُلُثُ السِّتَّةِ چھ کا تیسرا حصہ، وَھُوَاثْنَانِ وہ کتنا ہے؟ وَھُوَاثْنَانِ وہ دو ہیں، مولانا۔ صورت سمجھ میں آئی؟
1/3 ضرب چھ، تو تین سے چھ تقسیم ہو جاتا ہے، دو باقی بچ جائے گا۔ تو کتنا جواب آیا؟ دو۔ تو چھ کا ثُلُث کتنا ہے؟ دو بھئی۔ دیکھا، نسبت نکال لی بھئی اس کی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی اچھی طرح؟ چلیے، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔