وَلَا تَحَالُفَ إِنِ اِخْتَلَفَا بَعْدَ قَبْضِ المَنْفَعَةِ، وَالقَوْلُ لِلْمُسْتَأْجِرِ. اِكْحَ بَھِ؟ اآپ نے گزشتہ سبق میں اجارے کے بارے میں پڑھا بھئی، کہ اجارے کے اندر اگر اختلاف آگیا، بدلے اجارہ کے اندر یا اختلاف آگیا منفعت کے اندر یا اختلاف آگیا دونوں کے اندر قَبْلَ القَبْضِ، قَبْلَ القَبْضِ تو اس صورت میں تحالف ہے بھئی۔ اس صورت میں کیا ہے؟ تحالف ہے۔ بھئی، کیونکہ اس صورت میں ہم اس کو قیاس کرتے ہیں بیع پر بھئی، بیع پر اور بیع کے اندر قَبْلَ القَبْضِ تحالف ہوتا تھا، اور وہ تحالف کیا تھا؟ موافق قیاس تھا۔
تَو قَبْلَ القَبْضِ بھئی، بیع کے اندر اگر ثمن کے اندر اختلاف آجائے، تو اس صورت میں تحالف تھا اور وہ تحالف کیا تھا؟ موافق قیاس تھا جب وہ موافق قیاس تھا، تو اس پر اور چیزوں کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے۔ تو ہم نے اس پر اجارے کو قیاس کیا بھئی۔ لیکن اگر بیع کے اندر، بیع کے اندر بَعْدَ القَبْضِ اختلاف آجائے، تو پھر بھی تحالف تھا، کیونکہ وہ تحالف نص سے ثابت تھا۔ البتہ وہ تحالف خلاف القیاس تھا، اور جو چیز خلاف القیاس ہوتی ہے، وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے، لہٰذا اب یہاں پر منفعت اجارے کے اندر جب منفعت پر قبضہ کر لیا اور پھر بدلے اجارہ کے اندر کیا آیا؟ اختلاف آگیا، تو اب اس صورت میں اجارے کو ہم بیع پر قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کہ بیع کے بعد میں بَعْدَ القَبْضِ جو اختلاف آیا تھا، وہاں تحالف موافق قیاس ہے؟ مخالف قیاس ہے؟ مخالف قیاس، تو یہاں پر بھی بَعْدَ القَبْضِ ہے تو یہ وہ مخالف قیاس تھا، تو اس کو اجارے کو اب اس پر بیع پر قیاس نہیں کر سکتے۔
يہی بات کہہ رہے ہیں، ولا تحالف جب قیاس نہیں کر سکتے تو وہاں تو تحالف ثابت تھا، لیکن وہ نص سے ثابت تھا، لیکن جب اس کو اس پر قیاس نہیں کر سکتے تو یہاں پر تحالف ثابت نہیں ہوگا بھئی۔ یہ معنی ہیں ولا تحالف اور تحالف نہیں ہے إِنِ اِخْتَلَفَا اگر اختلاف کر لیا بھئی مستاجر نے اور موجر نے بَعْدَ قَبْضِ المَنْفَعَةِ منفعت پر قبضہ کرنے کے بعد۔ یعنی بھئی ایک آدمی نے ایک گھر میں رہائش اختیار کی اور ایک کرائے پر لیا تھا، اور ایک ماہ کی رہائش پوری ہونے کے بعد منفعت پر اس نے قبضہ کر لیا، وصول کر لی اس کے بعد کیا آیا؟ اختلاف آیا، ایک کہتا ہے کتنا عوض طے ہوا تھا؟ ایک ہزار، دوسرا کہتا ہے نہیں عوض ایک ہزار طے نہیں ہوا تھا، بلکہ دو، دو ہزار طے ہوا تھا، مثلاً، تو اس صورت میں تحالف نہیں ہے، وَالقَوْلُ لِلْمُسْتَأْجِرِ اور قول کس کا معتبر ہے؟ مستاجر، یعنی کرائے پر لینے والے کا قول معتبر ہے بھئی۔
اس لیے کہ وہ منکرِ زیاد ت ہے بھئی۔ کرائے پر دینے والا کیا کہتا ہے کتنا عوض طے ہوا تھا؟ دو ہزار، اور کرائے پر لینے والا وہ کیا کہتا ہے عوض کتنا طے ہوا تھا؟ ایک ہزار، تو موجر مُصْبِتِ زیاد ت ہے مولانا، وہ ایک ہزار زائد ثابت کر رہا ہے، اور مستاجر اس کا انکار کر رہا ہے، اور قول کس کا معتبر ہوتا ہے؟ منکر کا تو مستاجر ہوا۔
یہ معنی ہے وَالقَوْلُ لِلْمُسْتَأْجِرِ اَيْ اِخْتَلَفَا فِي قَدْرِ الأُجْرَةِ اختلاف کیا بھئی مستاجر اور موجر نے اجرت کی مقدار کے اندر بَعْدَ قَبْضِ المَنْفَعَةِ منفعت پر قبضے کے بعد فَلَا تَحَالُفَ عَلَيْهِمَا تو تحالف نہیں ہے ان دونوں پر، وَالقَوْلُ لِلْمُسْتَأْجِرِ بس قول کس کا معتبر؟ مستاجر کا لِأَنَّهُ مُنْكِرٌ اس لیے کہ وہ منکر لِأَنَّهُ مُنْكِرُ الزِّيَادَةِ اس لیے کہ وہ منکرِ زیاد ت ہے۔
یاد رکھو یہ تینوں ائمہ کے نزدیک ہے ہمارے امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ، امام ابویوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ تینوں ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک مسئلہ اسی طرح ہے بھئی کہ اجارہ کے اندر بَعْدَ القَبْضِ اگر اختلاف آجائے تو اس صورت میں تحالف نہیں ہے، بلکہ کس کا قول معتبر؟ مستاجر کا قول معتبر بھئی۔
تو تینوں کا یہ قول ہے لیکن اب علت بھئی امام شیخین رحمہ اللہ الگ علت ذکر کرتے ہیں، اور ان کے نزدیک یہ بات ظاہر ہے وَهَذَا ظَاهِرٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رحمة اللہ شیخین رحمہ اللہ رحمهم اللہ کے نزدیک تو یہ بات ظاہر ہے کیوں لِأَنَّ التَّحَالُفَ بَعْدَ قَبْضِ المَبِيعِ عَلَى خِلَافِ القِيَاسِ اس لیے کہ تحالف بیع کے باب میں تحالف بَعْدَ قَبْضِ المَبِيعِ مبیع پر قبضے کے بعد عَلَى خِلَافِ القِيَاسِ وہ کیا ہے؟ خلاف القیاس ہے فَلَا يُقَاسُ الإِجَارَةُ عَلَى البَيْعِ تو لہٰذا اب یہاں پر اجارے کو بیع پر قیاس نہیں کیا جائے گا فَإِنَّ التَّحَالُفَ فِي الإِجَارَةِ سَبَقَ قِيَاسًا عَلَى البَيْعِ اس لیے کہ اجارے کے باب میں جو تحالف ثابت ہوا تھا، وہ کس پر قیاس کرتے ہوئے تھا؟ بیع پر قیاس کرتے ہوئے تھا۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ تو قَبْلَ القَبْضِ جو تحالف تھا اجارے کے اندر، وہ بیع پر قیاس کرتے ہوئے تھا، تو وہاں پر قیاس صحیح تھا، لیکن بَعْدَ القَبْضِ یہاں اب تحالف ثابت کیونکہ وہاں وہ بیع کے باب میں مخالفِ قیاس ہے اور جو مخالفِ قیاس وہ اپنے مورد پر بند رہتا ہے تو یہ تو حضرت شیخین رحمہ اللہ کے نزدیک ہے وَأَمَّا عِنْدَ مُحَمَّدٍ رحمہ اللہ باقی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی امام محمد تو وہاں بھئی کیا کرتے فرماتے تھے تحالف اگر مبیع ہلاک ہو جائے پھر بھی کیا فرماتے تھے؟
بیع کے باب میں مبیع پر قبضہ ہوا، قبضے کے بعد مبیعہ کیا ہو گیا؟ ہلاک بھی ہو گیا، پھر اختلاف آیا، تو امام صاحبین وہاں فرماتے تھے تحالف نہیں، تحالف نہیں۔ اور امام محمد وہاں بھی کیا فرماتے تھے؟ تحالف ہے، تو یہاں پر بھی منفعت جب وصول کر لی، رہائش اس نے ایک ماہ کی اختیار کی، وہ گزر گیا وقت، تو وہ منفعت ہلاک ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ تو یہاں پر بھی منفعت ہلاک ہو گئی، تو یہ بھی اسی جیسی صورت ہے، اور اس صورت میں تو امام محمد کیا فرماتے تھے جب مبیعہ ہلاک ہو جاتا تھا، پھر بھی تحالف ہوتا تھا، اور بیع کو فسخ کیا جاتا تھا بھئی، بھئی کس چیز پر فسخ کریں؟ مبیعہ تو ہلاک ہو چکا، وہ کیا فرماتے تھے؟ مبیعہ کی قیمت پر بیع کو فسخ کر دو۔ مبیعہ کی قیمت صورت ذہن میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟
مشتری نے مبیعہ پر قبضہ کر لیا تھا، اور وہ مبیعہ اس کے پاس ہلاک ہو گیا، امام محمد پھر بھی فرماتے تھے تحالف ہوگا، اور بیع کو فسخ کیا جائے گا اعتراض ہوتا تھا مبیعہ ہی باقی نہیں ہے تو بیع کیسے فسخ کریں؟ وہ کیا فرماتے تھے؟ قیمت پر فسخ کر دو بھئی، قیمت واپس دے دے مشتری اس کی بھئی۔ تو یہاں پر امام محمد رحمہ اللہ لیکن یہاں پر وہ فرماتے ہیں کہ تحالف نہیں ہے بھئی، بھئی یہاں پر بھی کیا کیا جانا چاہیے؟ تحالف ہونا چاہیے اور اس منفعت کی کیا دے دے؟ قیمت دی جائے، کیونکہ منفعت تو ہلاک ہو چکی ہے اس کی قیمت دی جائے، کہتے نہیں بھئی یہاں پر قیمت بھی قائم مقام منفعت کے نہیں ہو سکتی، عوض نہیں دیا جا سکتا منفعت کا اس لیے کہ جو منفعت ہوتی ہے اصل میں تو اس کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے۔
منافع کی قیمت نہیں ہوا کرتی، آپ نے پڑھا یا نہیں پڑھا بھئی؟ کیوں نہیں ہوا کرتی؟ کیونکہ ان میں بقا نہیں ہے۔ منافع میں بقا نہیں۔ جس قیمت اس چیز کی ہوتی ہے جس میں بقا ہو، منافع تو ہر آن نئے ہیں، اس آن میں جو رہائش ہے، اگلے آن کی رہائش وہ الگ ہے، اس سے اگلے آن کے اندر لمحے کے اندر جو رہائش ہے وہ آج جو رہائش ہے وہ الگ ہے، اگلے دن آنے والی رہائش الگ جب اگلے دن کی رہائش آئی تو گزشتہ والی رہائش گزر چکی، اور جو آنے والے دن کی رہائش ہے وہ تو ابھی آئی ہی نہیں، تو رہائش کے اندر یہ منافع ہے اور منافع کے اندر بقا نہیں، اور جس چیز میں بقا ہو اس کی قیمت ہوا کرتی ہے، جس میں بقا ہی نہیں اس کی قیمت بھی لیکن عقدِ اجارہ کے اندر ہم بھئی منافع کی قیمت رکھ لیتے ہیں بھئی، منافع کی کیا قرار دے دیتے ہیں؟
عقد کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ عقد کی وجہ سے کہ عقد چونکہ واقع ہوا ہے، تو عقد کی وجہ سے کیا کر دو اس کی قیمت۔ نیز حدیث میں آیا ہے بھئی کہ مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ معلوم ہوا وہاں پر بھی مزدوری کیا ہے؟ منافع ہیں، منافع کی قیمت ذکر ہوئی تو نص سے ثابت ہو گیا اجارہ، تو یہ خلاف القیاس ہے بھئی، کیا ہے؟ خلاف القیاس، تو یہ ہے کہ یہ منافع ہیں اور منافع کی کوئی قیمت نہیں ہونی چاہیے، لیکن نص سے چونکہ اس پر اثبات آیا تو ہم نے اس کو کیا کر لیا، اجارے کی اجازت دے دی اور وہاں پر منافع کی کیا مقرر کر دی؟ منافع کو متقوم قیمت والا قرار دے دیا، اگرچہ منافع کو متقوم نہیں ہونا چاہیے، نیز پہلی یہ تو نص سے، اور دوسری میں نے کیا وجہ ذکر کی؟ کیونکہ اس پر عقد واقع ہوا ہے۔
کیا ہوا ہے؟ تو عقد کی وجہ سے بھی ہم نے منافع کی قیمت کی اجازت دے دی، سمجھ میں آیا ورنہ تو منافع کی کوئی قیمت نہیں۔ تیسرا بھئی حاجت کی بنا پر اجازت دی۔ پہلی وجہ کہ نص سے ثابت ہے، اس لیے اجارے کی اجازت، دوسری وجہ کہ چونکہ اس پر عقد ہوا ہے، اس لیے اجارے کی اجازت، تیسری وجہ کہ اس کی حاجت ہے مولانا، ایک آدمی ہے وہ گھر نہیں خرید سکتا، تو اسے حاجت ہے کہ وہ کرائے پر لے اور اس کے اندر رہائش رکھے۔ ایک آدمی ہے وہ گاڑی نہیں خرید سکتا، تو اس کو حاجت ہے، تو وہ کیا کرے کرائے پر گاڑی لے۔ تو لوگوں کی حاجتیں ہیں، حاجت وابستہ ہے اس سے بہت زیادہ، تو اس لیے حاجت کی وجہ سے کیا دے دی گئی اجارے کی اجازت دے دی گئی مولانا، اور منافع کی کیا مقرر کر کیا منافع کو کیا قرار دے دیا گیا یہاں پر قیمت والا قیمت والا۔
قیمت والا تو منافع متقوم بنے تھے اجارے کے اندر عقد کی وجہ سے، منافع کیا بنے تھے؟ جی منافع کی منافع قیمت والے بنے تھے، کس وجہ سے کہ عقد ہوا تھا، لیکن اب تو منافع ہلاک ہو چکے، منافع ہلاک ہو چکے لہٰذا اب ان کی کوئی قیمت نہیں، امام محمد رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں بھئی، کہ منافع کی جو ہم نے قیمت والا قرار دیا تھا، کس وجہ سے قرار دیا تھا؟ عقد کی وجہ سے، اور اب منافع کیا ہو چکے؟ ہلاک ہو چکے، منافع ختم تو عقد بھی ختم، جب عقد ختم تو اب یہاں پر قیمت کو منافع کا نائب نہیں بنا سکتے۔ صورت سب کو سمجھ میں آگئی؟
یہ معنی ہے وَأَمَّا عِنْدَ مُحَمَّدٍ رحمہ اللہ باقی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک فَإِنَّ البَيْعَ يَنْفَسِخُ بِقِيمَةِ الهَالِكِ کہ بیع جو ہے وہ فسخ ہوتی ہے کس کے عوض میں؟ ہلاک ہونے والی چیز کی قیمت کے عوض میں وَهُنَا لَيْسَ لِلْمَنَافِعِ قِيمَةٌ اور یہاں پر تو منافع کی قیمت ہی نہیں ہے بھئی۔
وَبَعْدَ قَبْضِ بَعْضِهَا تَحَالَفَا وَفُسِخَتْ فِيمَا بَقِيَا وَالقَوْلُ لِلْمُسْتَأْجِرِ فِيمَا مَضَى۔
ج، بھئی کچھ منافع وصول کر چکا تھا، اور کچھ منافع ابھی باقی تھے، اختلاف آگیا۔
بھئی ایک آدمی نے دوسرے سے بھئی گھر کرائے پر لیا، ایک ماہ کے لیے، ابھی پندرہ دن رہا تھا کہ اختلاف آگیا بھئی۔ کیا کہتا ہے؟ مستاجر کیا کہتا ہے؟ ایک ماہ کا کرایہ کتنا طے ہوا تھا؟ ایک ہزار، مستاجر موجر کیا کہتا ہے؟ ایک ماہ کا کرایہ کتنا طے ہوا تھا؟ دو ہزار، تو اب کچھ منافع وصول ہو چکے ہیں، اور کچھ منافع باقی ہیں، تو اب کیا کیا جائے؟ کہتے ہیں بھئی وہ اس صورت میں اختیار کر لو۔ جو گزر چکے، ان کے بارے میں ابھی اوپر کیا بتایا؟
تحالف ہے یا تحالف نہیں، جن پر قبضہ ہو چکا۔ تحالف نہیں، تو پھر کس کا قول معتبر تھا؟ مستاجر، تو بس جو گزر چکے ان میں تحالف نہیں ہوگا، اور قول کس کا معتبر؟ مستاجر کا، اور جو مابقیہ ہیں، جن پر ابھی قبضہ نہیں ہوا، اس کا کیا حکم گزرا تھا؟ تحالف ہوگا، اور اجارے کو کیا کر دیا جائے گا؟ فسخ کر دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
يہی بات کہہ رہے ہیں وَبَعْدَ قَبْضِ بَعْضِهَا اور اگر بعض منافع پر قبضے کے بعد اختلاف آئے تَحَالَفَا تو کیا ہوگا؟ تحالف ہوگا دونوں قسم اٹھائیں گے وَفُسِخَتْ فِيمَا بَقِيَا اور اس تحالف سے کیا کر دیا جائے گا؟ ما بقیہ کو فسخ کر دیا جائے گا وَالقَوْلُ لِلْمُسْتَأْجِرِ فِيمَا مَضَى اور قول مستاجر کا معتبر ہے اس ان منافع کے اندر مضہ جو کہ گزر چکے۔
فَإِنَّ الإِجَارَةَ تَنْعَقِدُ سَاعَةً فَسَاعَةً اس لیے کہ اجارہ جو ہے وہ منعقد ہوتا ہے سَاعَةً فَسَاعَةً گھڑی گھڑی بھئی، ایک ایک لمحے کے بعد بھئی۔ بھئی منافع ایک چیز کا وجود ہی نہیں، تو اس پر عقد ہے؟ جی منافع کے اندر تو تجدد ہے، ایک لمحے کے اندر جو منافع ہیں، وہ گزر گئے اگلے لمحے میں نئے منافع، اگلے لمحے میں نئے منافع، تو گویا ہر ہر لمحے عقدِ اجارہ کے اندر تجدد آ رہا ہے، جوں ہی اس لمحے کا نفع آتا ہے، اس پر فوراً کیا منعقد ہو جاتا ہے؟ اجارہ، پھر اگلے لمحے کا نفع اتا ہے اس پہ اجارہ، پھر اگلے لمحے کا نفع اتا ہے تو اس پر کیا منعقد ہو رہا ہوتا ہے؟ اجارہ تو گویا اجارہ بار بار منعقد ہوتا چلا جا رہا ہے سارا مہینہ بھئی، سارا مہینہ بھئی۔
فَإِنَّ الإِجَارَةَ تَنْعَقِدُ سَاعَةً فَسَاعَةً اس لیے کہ اجارہ منعقد ہوتا ہے گھڑی گھڑی فَكَأَنَّهَا تَنْعَقِدُ بِعُقُودٍ مُخْتَلِفَةٍ تو گویا کہ وہ منعقد ہوتا ہے مختلف عقود کے ساتھ، یعنی بہت سارے عقود ہو جاتے ہیں وہاں پر، فَفِيمَا بَقِيَا پس ما بقیہ کے اندر يَتَحَالَفَانِ دونوں کیا کر لیں گے؟ قسم اٹھا لیں گے قِيَاسًا عَلَى البَيْعِ کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ بیع پر کیونکہ ابھی قبضہ نہیں ہوا۔ وَفِيمَا مَضَى اور جو گزر چکے ہیں لَا وہاں پر دونوں قسم نہیں اٹھائیں گے بَلِ القَوْلُ فِيهِ لِلْمُنْكِرِ بلکہ قول اس کے اندر کس کا معتبر؟ جو منکر ہے، یعنی جو زیاد ت کا منکر ہے وَهُوَ الْمُسْتَأْجِرُ اور وہ کون ہے؟ مستاجر ہے۔
وَعَيْنِ اِخْتَلَفَ الزَّوْجَانِ فِي مَتَاعِ البَيْتِ فَلَهُمَا مَا صَلَحَ لَهَا وَلَهُ مَا صَلَحَ لَهُ اَوْ لَهُمَا۔
بھئی میاں بیوی میں اختلاف آگیا گھر کے سامان کے اندر، ایک کہتا ہے یہ میرا سامان ہے، دوسری بیوی کہتی ہے یہ میرا سامان ہے، چاہے فرقت ہوئی ہو یا فرقت نہ ہو، دونوں صورتوں میں۔ بس اختلاف آگیا گھر کے سامان میں، فَلَهُمَا تو اس عورت کے لیے ہے، ما وہ سامان صَلَحَ لَهَا جو اس کی صلاحیت رکھتا ہے، جو عورتوں والا سامان ہے وہ کس کا ہو گیا؟ بیوی کا ہو گیا۔ مثلاً برقعہ وغیرہ ہے بھئی، اس کے کپڑے ہیں عورتوں کے، اس کے استعمال کی چیزیں ہیں۔ وَلَهُ اور خاوند کے لیے ہوگا صَلَحَ لَهُ وہ چیز جو اس کے لیے صلاحیت رکھتی ہے، یعنی جو مردوں کی چیزیں ہیں وہ کس کے لیے ہوں گی؟ خاوند کے لیے، اَوْ لَهُمَا یا جو دونوں کی ہیں، وہ بھی کس کا ہو جائے گا؟ خاوند سمجھ میں آیا؟ لِھُو خاوند کے لیے ہے، کون سی چیزیں؟ ما صَلَحَ لَهُ جو مردوں کی چیزیں ہیں، اَوْ لَهُمَا یا جو دونوں کی ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو جو اس مرد کی صلاحیت رکھتی ہے وہ اس کے لیے ہے، اَوْ لَهُمَا یا جو دونوں کی صلاحیت رکھتی ہے وہ بھی کس کے لیے ہے؟ مرد کے لیے بھئی۔
سمجھے؟ تو جو چیز مرد کی جو استعمال کی ہے وہ مرد کی ہو جائے گی، مثلاً پگڑی ہے مولانا، اس کے کپڑے ہیں، مرد کے استعمال کی چیزیں ہیں، اور جو دونوں کے لیے ہو سکتی ہیں جو چیزیں، مثلاً برتن ہیں، وہ عورت بھی استعمال کرتی ہے اور مرد بھی استعمال کرتا ہے، اس قسم کی چیزیں، جی۔ تو اس کے وہ یہ مرد کی ہو جائیں گی۔
سمجھ آئے؟ یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ دیکھیے تفصیل بتلا رہے ہیں لِأَنَّ ذَا الْيَدِ إِذَا قَالَ: "اس لیے کہ صاحبِ قبضہ نے جب کہا: اشْتَرَيْتُهُ مِنَ الْغَائِبِ (یہ تو چیز میں نے خریدی ہے غائب سے)"، فَقَدْ أَقَرَّ: "تو تحقیق اس نے اقرار کر لیا" أَنَّ يَدَهُ يَدُ خُصُومَةٍ: "کہ اس کا قبضہ کون سا ہے؟ خصومت والا قبضہ یعنی ملکیت والا ہے"، فَلَا تَسْقُطُ عَنْهُ الْخُصُومَةُ: "تو اس سے خصومت ساقط نہیں ہو گی"۔ وَكَذَا إِنِ ادَّعَى الْمُدَّعِي: "اسی طرح اگر مدعی نے دعویٰ کر دیا" الْفِعْلَ: "کس چیز کا؟ فعل کا دعویٰ کر دیا" عَلَى ذِي الْيَدِ: "کس پر؟ صاحبِ قبضہ پر"، كَمَا إِذَا قَالَ: "جیسے کہ وہ یوں کہتا ہے:" غَصَبْتَهُ مِنِّي أَوْ سَرَقْتَهُ مِنِّي: "یہ چیز تو نے مجھ سے غصب کی ہے یا یہ چیز تو نے مجھ سے چرائی ہے"، لَا تَسْقُطُ عَنْهُ الْخُصُومَةُ: "تو اس سے خصومت ساقط نہیں ہو رہی"۔ تو کیونکہ یہاں تو خصومت فعل کے اندر ہے بھئی، قبضے کی وجہ سے نہیں ہے۔
وَكَذَا إِذَا قَالَ: سُرِقَ مِنِّي: "اور اسی طرح ہے مسئلہ اگر کیا خصومت ساقط نہیں ہو گی جب کیا کہتا ہے مدعی؟" "یہ چیز مجھ سے چوری چرائی گئی ہے"۔ فاعل نہیں ذکر کیا کہ تو نے چرائی ہے، "یہ چیز چرائی گئی ہے"۔ وَقَالَ ذُو الْيَدِ: "اور ذو الید کیا کہتا ہے؟" أَوْدَعَنِيهِ فُلَانٌ: "یہ تو میرے پاس فلاں نے امانت رکھوائی ہے"۔ أَوْدَعَنِيهِ فُلَانٌ وَأَقَامَ الْبَيِّنَةَ: "اور اس پر بینہ بھی قائم کر دی"۔ لَا تَسْقُطُ عَنْهُ الْخُصُومَةُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ: "تو اس سے خصومت ساقط نہیں ہو گی شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک بھئی"۔ سمجھ میں آیا؟ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں اگرچہ مدعی نے یہ نہیں کہا کہ تو نے چرائی ہے بلکہ کیا کہا؟ سُرِقَ مِنِّي، "یہ مجھ سے چرائی گئی ہے"۔ لیکن پھر بھی فعل کے اندر گویا یہ مدعا علیہ پر ہی اس نے چوری کا الزام لگایا، لیکن براہِ راست چوری کا اس لیے نہیں کہہ رہا تاکہ وہ بیچارہ حد سے بچ جائے بھئی۔ وہ کس سے بچ جائے؟ حد سے بچ جائے، تو اس پر شفقت کرتے ہوئے بھئی۔ کیونکہ سُرِقَ فعلِ مجہول ذکر کیا اور فعلِ مجہول کے لیے کوئی فاعل ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ فاعل تو ہوتا ہے، ہاں ذکر نہیں ہوتا عبارت کے اندر، تو اس کے لیے بھی کوئی فاعل ہے۔ اور ظاہر یہی ہے کہ یہاں پر بھی فاعل کون ہے؟ صاحبِ ید ہی ہے، کیونکہ چیز اس کے پاس ہے تو معلوم ہوا فعل بھی کرنے والا وہ، لیکن مدعی اس کو ذکر نہیں کرتا تاکہ وہ حد سے بچ جائے۔
وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَسْقُطُ: "لیکن امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس صورت میں جب اس نے سُرِقَ مِنِّي کہا، فاعل کو ذکر نہیں کیا، تو اس صورت میں خصومت ساقط ہو جائے گی"۔ اس لیے کہ اس نے فعل کا دعویٰ اس پر نہیں کیا بھئی۔ مدعا علیہ نے کیا ثابت کر دیا بینہ کے ذریعے؟ "یہ گاڑی میرے قبضے میں ہے لیکن کس طور پر ہے؟ امانت کے طور پر ہے"۔ تو معلوم ہوا اس کا قبضہ خصومت والا نہیں، تو لہذا قبضے کی وجہ سے تو اس سے خصومت ہو نہیں سکتی۔ باقی رہ گیا تھا فعل کے اندر خصومت ہو سکتی تھی، لیکن مدعی نے کہا سُرِقَ مِنِّي "مجھ سے چیز چرائی گئی ہے"، مدعا علیہ پر اس نے چوری کا الزام... تو فعل کا دعویٰ مدعا علیہ پر ہے ہی نہیں، جب مدعا علیہ پر فعل کا دعویٰ نہیں تو اس کے ساتھ خصومت بھی نہیں ہے فعل کے اندر بھی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو فعل کا جب دعویٰ ہو وہاں قبضہ ضروری نہیں ہوتا کہ چیز اس کے قبضے میں ہے یا نہیں، بس جب ایک نے کہا بھئی اس نے کہا: "قاضی صاحب! میری چیز چوری کی ہے"، تو فوراً اس کے ساتھ کیا چل پڑے گا؟ مقدمہ چل پڑے گا۔ یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ وہ چوری کی ہوئی چیز اس کے قبضے میں ہے یا قبضے میں نہیں۔ تو یہاں پر بھی اوپر والی اس مسئلے کے اندر بھی اگر اس نے بینہ سے ثابت کر دیا کہ "میرے پاس جو چیز ہے میری نہیں ہے بلکہ کس کی ہے؟ زید کی ہے"، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا مولانا، کیونکہ وہ دعویٰ کس کا کر رہا ہے مدعی؟ وہ فعل کا دعویٰ کر رہا ہے اور فعل کے دعوے کے اندر قبضے یا عدمِ قبضے کو دیکھا ہی نہیں جاتا بھئی۔
كَمَا لَوْ قَالَ الشُّهُودُ: "جیسے کہ جی... تو بھئی ان صورتوں کے اندر خصومت ساقط نہیں ہو گی"۔ كَمَا لَوْ قَالَ الشُّهُودُ: "جیسے کہ کہا، شہود کہتے ہیں، شہود نے کہا:" أَوْدَعَهُ: "کہ اس کے پاس وہ چیز امانت رکھوائی ہے" مَنْ لَا نَعْرِفُهُ: "اس شخص نے جسے ہم جانتے نہیں"۔ "اس کے پاس امانت رکھوائی ہے ایسے آدمی نے جس کو ہم جانتے..." گواہوں نے گواہی دے دی کہ یہ چیز اس کے پاس بطورِ امانت کے ہے، لیکن کس نے امانت رکھوائی اس کو ہم جانتے... اندھیرے میں ہمارے سامنے ایک آدمی آیا اور اس نے اس کے پاس یہ چیز امانت رکھوا دی، ہم وہاں موجود تھے بھئی۔ تو کہتے ہیں: اس صورت میں بھی خصومت ساقط نہیں ہو گی، کیوں نہیں ساقط ہو گی؟ کہتے ہیں اس لیے ہو سکتا ہے یہ جو مدعی ہے اسی نے وہ امانت رکھوائی تھی، اسی نے کیا کیا تھا؟ اب یہ اس کو دے نہیں رہا تو وہ خصومت کر رہا ہے۔
فَإِنَّهُ لَا تَنْدَفِعُ الْخُصُومَةُ: "اس لیے کہ خصومت مرتفع نہیں ہو گی بھئی، دور نہیں ہو گی" لِاحْتِمَالِ أَنْ يَكُونَ الْمُدَّعِي هُوَ الَّذِي أَوْدَعَهُ عِنْدَهُ: "اس لیے کہ یہ احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے مدعی ہی وہ شخص ہو جس نے امانت رکھوائی تھی اس کے پاس" بِخِلَافِ قَوْلِهِمْ: نَعْرِفُهُ بِوَجْهِهِ لَا بِاسْمِهِ وَنَسَبِهِ: "برخلاف اس ان کے اس قول کے کہ اگر گواہ یہ کہتے ہیں: نَعْرِفُهُ بِوَجْهِهِ (ہم جس نے امانت رکھوائی تھی ہم اس کو چہرے سے تو پہچانتے ہیں) لَا بِاسْمِهِ وَنَسَبِهِ (لیکن اس کو نام اور نسب سے نہیں پہچانتے)"، تو اس صورت میں خصومت ساقط ہو جائے گی۔ خصومت کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی۔
سمجھ میں آیا؟ گواہوں نے آ کر کیا کہا؟ بھئی! ایک آدمی نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ "قاضی صاحب! یہ گاڑی جو اس کے پاس ہے، یہ گاڑی میری ہے"۔ دوسرے نے کہا: "نہیں قاضی صاحب! یہ گاڑی تو میرے پاس کسی نے امانت رکھوائی ہے" اور دو گواہ بھی پیش کر دیے اور گواہوں نے آ کر کیا کہا؟ کہ "قاضی صاحب! ہمارے سامنے ایک آدمی نے اس کے پاس یہ گاڑی امانت رکھوائی، تو یہ گاڑی قاضی صاحب اس کے پاس بطورِ امانت کے ہے، لیکن جس نے امانت رکھوائی تھی اس کے پاس، ہم اس کو جانتے پہچانتے نہیں، ہاں چہرے سے جانتے ہیں، شکل ہم نے دیکھی، لیکن اس کے نام نسب کا ہمیں پتہ نہیں ہے بھئی"۔ تو اس صورت میں کیا خصومت ساقط ہو گی یا خصومت ساقط نہیں ہو گی؟ کہتے ہیں بھئی اس صورت میں بھی خصومت ساقط ہو جائے گی، اس لیے کہ یہ بات تو پتہ چل گئی کہ وہ جو امانت رکھوانے والا تھا یہ مدعی نہیں تھا۔ مدعی... جب مدعی نہیں تھا معلوم ہوا کسی اور نے امانت رکھوائی ہے، جب کسی اور نے امانت رکھوائی ہے تو صاحبِ ید کا قبضہ خصومت والا قبضہ نہیں ہے بھئی۔
مسئلہ سمجھ میں آیا؟ وہی پہلی صورتیں چل رہی ہیں۔ ایک آدمی نے دوسرے پر کس چیز کا دعویٰ کیا؟ کہ "یہ گاڑی میری ہے"، وہ کہتا ہے: "میرے پاس یہ چیز امانت رکھوائی ہے یا کسی نے عاریۃً دی ہے یا کسی نے رہن رکھوائی ہے یا میں نے فلاں سے غصب کی ہے" اور اس پر کیا پیش کر دیتا ہے؟ گواہ، بینہ پیش کر دیتا ہے۔ گواہ کہتے ہیں: "ہاں! ہمارے سامنے یہ چیز کسی نے اس کے پاس امانت کے طور پر رکھوائی تھی، لیکن جس نے امانت کے طور پر رکھوائی تھی اس کو ہم صرف چہرے سے ہی جانتے ہیں، ہم نے اس کو دیکھا، چہرہ دیکھا، باقی ہم اسے پہچانتے نہیں ہیں، نام نسب وغیرہ کا ہمیں پتہ نہیں ہے"، تو اس صورت میں بھی خصومت ساقط ہو جائے گی، کیوں؟ کیونکہ جب گواہوں نے کہا: "ہم چہرے سے پہچانتے ہیں"، معلوم ہوا یہ مدعی نہیں، اگر یہ ہوتا تو گواہ کہہ دیتے: "اسی نے تو کیا کیا تھا؟ امانت..." معلوم ہوا کوئی اور تھا جس نے امانت رکھوائی، جب کسی اور نے یہ ثابت ہو گیا کہ کسی اور نے امانت رکھوائی ہے، تو معلوم ہوا یہ مدعا علیہ کا جو قبضہ ہے وہ قبضہ کون سا ہے؟ خصومت والا یا غیرِ خصومت والا ہے؟ غیرِ خصومت والا ہے، لہٰذا خصومت کیا ہو گئی؟ ساقط ہو گئی۔
تَسْقُطُ الْخُصُومَةُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: "امام صاحب کے نزدیک خصومت ساقط ہو جائے گی" فَإِنَّ الشُّهُودَ عَالِمُونَ: "اس لیے کہ گواہ جو ہیں وہ عالم ہیں اس بات سے کہ عالم ہیں اس بات کے" بِأَنَّ الْمُودِعَ لَيْسَ هُوَ الْمُدَّعِيَ: "کہ امانت رکھوانے والا وہ مدعی نہیں، وہ کوئی اور ہے"۔ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا تَسْقُطُ الْخُصُومَةُ: "امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس صورت میں بھی خصومت ساقط نہیں ہو گی"۔ پہلی صورت: جب گواہوں نے کہا تھا: "کسی نے امانت رکھوائی ہے، لیکن نہ ہم نے اس کے چہرے کو دیکھا ہے، نہ ہم نے اس کے نام... ہمیں اس کے نام اور نسب کا پتہ"، اس صورت میں خصومت ساقط نہیں ہوتی تھی۔ اسی طرح اگر گواہ کہتے ہیں: "ہم چہرے سے تو جانتے ہیں لیکن نام اور نسب کا ہمیں پتہ نہیں"، تو اس صورت میں بھی امام محمد فرماتے ہیں خصومت ساقط نہیں ہو گی، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اور اگر گواہ کیا کر دیتے؟ کسی متعین شخص کو ذکر کر دیتے کہ "اس کے پاس فلاں نے کیا کیا ہے؟ یہ چیز امانت کے طور پر رکھوائی ہے"، تو مدعی اس کو چھوڑ کر کس کے ساتھ خصومت شروع کر دیتا؟ جس کا ذکر انہوں نے کیا تھا؟ گواہوں نے، لیکن گواہوں نے کسی متعین شخص کا ذکر کیا ہے؟ وہ تو کہتے ہیں: "ہم چہرے سے جانتے ہیں، نام نسب کا ہمیں پتہ ہی نہیں"، تو لہٰذا اب مدعی کے پاس اور کوئی شخص نہیں جس کا وہ پیچھا کرے اور جا کر اس سے اپنی گاڑی وصول کرے، تو اگر ہم یہاں اس سے بھی خصومت نہ کرنے دیں تو مدعی بیچارے کا تو ضرر لازم آئے گا بھئی، گاڑی اس کے ہاتھ سے نکل رہی ہے اور وہ کسی سے خصومت بھی نہیں کر سکتا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو لہٰذا جب گواہ اگر کسی متعین شخص کو ذکر کرتے تو مدعی اس کو چھوڑ کر ان کے پیچھے... کس کے پیچھے پڑ جاتا؟ اس متعین... لیکن یہاں پر انہوں نے کسی متعین شخص کو ذکر کیا؟ کسی کو ذکر نہیں کیا، جب کسی کو ذکر نہیں کیا اور ہم یہ کہہ دیں کہ "اس کے ساتھ بھی تم خصومت نہیں کر سکتے جو اس وقت موجود ہے جس کے قبضے میں گاڑی ہے"، تو وہ بیچارہ گاڑی بھی اس کے ہاتھ سے نکل گئی اور کسی سے خصومت بھی نہیں کر سکتا، تو ضرر لازم آئے گا، لہٰذا خصومت ساقط نہیں ہو گی۔ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا تَسْقُطُ الْخُصُومَةُ: "خصومت ساقط نہیں ہو گی" حَيْثُ لَمْ يَذْكُرُوا شَخْصًا مُعَيَّنًا: "اس حیثیت سے، اس طور پر کہ گواہوں نے ذکر نہیں کیا کسی متعین شخص کو" أَوْدَعَهُ عِنْدَهُ: "جس نے کیا کیا تھا اس کے پاس امانت رکھوائی ہے"، وہ متعین شخص انہوں نے ذکر نہیں کیا، تو مدعی کسی اور کا پیچھا بھی نہیں کر سکتا۔ صورت بھی سمجھ آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ اچھی طرح؟
وَلَوْ قَالَ: "اور اگر مدعا علیہ کہتا ہے..." صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی: ایک آدمی کے پاس گاڑی ہے، ایک آدمی کے پاس قبضے میں گاڑی ہے، تو دوسرے نے دعویٰ کر دیا: "قاضی صاحب! یہ گاڑی میری ہے، کیونکہ یہ میں نے زید سے خریدی ہے، یہ گاڑی میری ہے کیونکہ میں نے زید سے خریدی ہے"۔ ذو الید یعنی صاحبِ قبضہ کہتا ہے: "قاضی صاحب! یہ گاڑی تو میرے پاس زید ہی نے بطورِ امانت کے رکھوائی ہے"۔ مدعی کیا کہتا تھا؟ "یہ گاڑی میں نے زید سے خریدی ہے" اور مدعا علیہ کیا کہتا ہے؟ صاحبِ قبضہ کیا کہتا ہے؟ "یہ گاڑی میرے پاس زید نے امانت رکھوائی ہے"، تو مولانا خصومت ساقط ہو جائے گی، کیونکہ دونوں اس بات پر متفق ہو گئے کہ گاڑی کا مالک کون ہے یا کون تھا؟ زید بھئی، گاڑی کا مالک زید ہے، تو ایک کہتا ہے: "اسی نے میرے پاس امانت رکھوائی ہے"، دوسرا کہتا ہے: "میں نے اس سے خرید لی ہے"، تو اب وہ خصومت کس سے... معلوم ہوا جو صاحبِ ید ہے، اس کا قبضہ خصومت والا نہیں ہے۔
وَلَوْ قَالَ: "اور اگر مدعی نے کہا:" ابْتَعْتُهُ مِنْ زَيْدٍ: "ابْتَعْتُهُ (ابتاع یبتاع کے معنی ہوتے ہیں خریدنا، خریدنا) ابْتَعْتُهُ مِنْ زَيْدٍ (اس چیز کو میں نے خریدا ہے زید سے)"۔ أَيْ قَالَ الْمُدَّعِي: اشْتَرَيْتُهُ مِنْ زَيْدٍ: "دیکھا، ابتاع کا معنی اشتریٰ سے کیا، مدعی کہتا ہے میں نے اس کو زید سے خریدا ہے" وَقَالَ ذُو الْيَدِ: "اور صاحبِ قبضہ کہتا ہے:" أَوْدَعَنِيهِ هُوَ: "اسی نے میرے پاس امانت رکھوائی ہے" سَقَطَتِ الْخُصُومَةُ بِلَا حُجَّةٍ: "خصومت ساقط ہو جائے گی بغیر بینہ کے ہی"، یہاں اب مدعا علیہ کو بینہ پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں کہ میرے پاس زید نے یہ چیز بطورِ امانت کے رکھوائی ہے، کیونکہ دونوں کیا ہو... دونوں متفق ہو گئے کہ زید مالک ہے۔ إِلَّا إِذَا بَرْهَنَ الْمُدَّعِي: "مگر یہ کہ جب بینہ قائم کر دے مدعی اس بات پر" أَنَّ زَيْدًا وَكَّلَهُ بِقَبْضِهِ: "کہ زید نے اس کو وکیل بنایا ہے قبضے کا، کہ زید نے مجھے وکیل بنایا تھا کہ جا کر اس پر کیا کر لو؟ قبضہ کر لو"۔ فَإِنَّ الْمُدَّعِيَ: دیکھئے، خصومت کیوں ساقط ہو گی پہلے وہ ذکر کریں گے۔ فَإِنَّ الْمُدَّعِيَ إِذَا قَالَ: "اس لیے کہ مدعی نے جب کہا" إِنَّهُ اشْتَرَاهُ مِنْ زَيْدٍ: "کہ اس نے اس چیز کو زید سے خریدا ہے" فَقَدْ أَقَرَّ: "تو اس نے بھی کیا کر لیا؟ اقرار" أَنَّهُ وَصَلَ إِلَى ذِي الْيَدِ مِنْ جِهَتِهِ: "کہ یہ گاڑی جو صاحبِ قبضہ کو پہنچی ہے مِنْ جِهَتِهِ أَيْ مِنْ جِهَةِ زَيْدٍ (کس کی طرف سے آئی ہے؟ زید کے پاس سے پہنچی ہے)" فَلَا تَكُونُ يَدُهُ يَدَ خُصُومَةٍ: "تو اس کا جو قبضہ ہے وہ خصومت والا قبضہ نہیں ہے"، اس نے خود اقرار کر لیا تو اب خصومت ساقط ہو جائے گی۔ إِلَّا إِذَا ثَبَتَتِ الْوَكَالَةُ بِقَبْضِهِ: "مگر یہ کہ قبضہ ثابت ہو... وکالت ثابت ہو جائے، وکالت بِقَبْضِهِ (وکالت اس چیز کے قبضے کی وکالت ثابت ہو جائے)" کس کے ذریعے؟ بِالْبَيِّنَةِ: "بینہ کے ذریعے"۔ کس کے ذریعے؟ بینہ کے ذریعے، سمجھ میں آیا؟ تو کیوں؟ کیونکہ اس صورت میں بھئی ایک نے کیا کہا؟ مدعا علیہ کیا کہہ رہا ہے؟ "کہ میرے پاس زید نے یہ گاڑی بطورِ امانت کے رکھوائی ہے"، بطورِ امانت کے، اور مدعی کیا کہتا ہے؟ "یہ گاڑی میں نے خرید لی ہے زید سے اور زید نے مجھے اس پر قبضے کا وکیل بنایا ہے" اور اس پر اس نے بینہ بھی پیش کر دی، تو اب چیز بینہ سے ثابت ہو گئی کہ یہ جو مدعی ہے، یہ اس پر قبضے کے زیادہ لائق ہے، وہ اس کو روکنے کا زیادہ لائق... صورت سمجھ میں آ گئی؟ مدعا علیہ نے کیا کہا تھا؟ "میرے پاس زید نے بطورِ امانت رکھوائی ہے" اور مدعی نے کیا کہا؟ "گاڑی خریدی ہے اور زید نے پھر کیا بنایا مجھے؟ اس پر قبضے کا..." اور اس پر اس نے بینہ بھی... تو معلوم ہوا اس کی وکالت بالقبض جو ہے کس کے ذریعے ثابت ہو گئی؟ بینہ کے ذریعے، تو یہ اس پر قبضے کا زیادہ حقدار ہوا، بینہ سے بات ثابت ہوئی ہے لہٰذا اس کے حوالے کر دی جائے۔
هَذِهِ الْمَسَائِلُ تُسَمَّى مُخَمَّسَةَ كِتَابِ الدَّعْوَى: "یہ جو مسائل گزرے مولانا، ان کو کتاب الدعویٰ کے مخمسہ کہتے ہیں، کتاب الدعویٰ کے مسائلِ مخمسہ کہتے ہیں"، کیا کہتے ہیں؟ بھئی مسائلِ مخمسہ ان کو کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهَا خَمْسُ صُوَرٍ: "اس لیے کہ یہاں کتنی صورتیں ہیں؟ پانچ صورتیں ہیں بھئی"۔ بھئی اس کا تعلق ہَذِهِ الْمَسَائِلُ، درمیان میں شراء وغیرہ کا ذکر آ گیا، یہ شراء وغیرہ والے مسئلے نہیں ذکر، بلکہ وہ جو شروع متن میں آیا تھا بھئی، 217 صفحے پر فصل آئی تھی: وَلَوْ قَالَ ذُو الْيَدِ هَذَا الشَّيْءُ أَوْدَعَنِي، کس کا ذکر کر دیا؟ امانت: ایک، عاریت: دو، اجارہ: تین، رہن: چار اور غصب: پانچ، تو کتنی صورتیں ذکر کیں؟ پانچ۔ تو اس مسئلے کو، وہ جو ذکر ہوا اس کو مخمسہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ کتاب الدعویٰ کا مسئلہ مخمسہ۔ لِأَنَّهَا خَمْسُ صُوَرٍ: "اس لیے کہ یہ پانچ صورتیں ہیں"، خود بیان کر رہے ہیں کون سی صورتیں ہیں: وَهِيَ الْإِيدَاعُ وَالْإِعَارَةُ وَالرَّهْنُ وَالْغَصْبُ وَالْإِجَارَةُ: "اور وہ ایداع، اعارہ، رہن، غصب اور اجارہ ہیں" وَأَيْضًا فِيهَا خَمْسَةُ أَقْوَالٍ: "اور اس کے اندر پانچ ہی اقوال ہیں مولانا"، پانچ ہی صورتیں ہیں اور پانچ ہی اقوال ہیں اس لیے اس کو مخمسہ کہتے ہیں۔
فَعِنْدَ ابْنِ شُبْرُمَةَ: ابنِ شبرمہ مولانا بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں، امامِ دنیا مولانا، اور یہ بھی امام صاحب کے زمانے کے ہیں مولانا، بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں، سمجھ میں آیا؟ جبال العلوم میں سے ہیں بھئی۔ فَعِنْدَ ابْنِ شُبْرُمَةَ: "پس امام ابنِ شبرمہ کے نزدیک" لَا تَنْدَفِعُ الْخُصُومَةُ: "متن پہ پہلے آؤ، متن میں کیا ذکر کیا تھا؟" ذو الید نے اگر امانت، عاریت، اجارہ، رہن یا غصب کو کس کے ذریعے ثابت کر دیا؟ بینہ سے، تو خصومت کیا ہو جائے گی؟ ساقط، یہ امام صاحب کا مسلک ہے، لیکن ابنِ شبرمہ رحمہ اللہ تعالی رحمتہ واسعۃ وہ فرماتے ہیں: لَا تَنْدَفِعُ الْخُصُومَةُ، خصومت دفع نہیں ہو گی، اب بھی خصومت ہو گی۔ بینہ کے ذریعے بھی خصومت دفع... یہ پہلا قول۔ وَعِنْدَ ابْنِ أَبِي لَيْلَى: "اور ابنِ ابی لیلیٰ رحمہ اللہ تعالی رحمتہ واسعۃ..." یہ بھی بہت بڑے مولانا جبلِ علم ہیں.بہت بڑے فقیہ ہیں امام صاحب ہی کے زمانے کے ہیں بھئی۔
اور ابنِ ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ ایک مرتبہ ایک مرتبہ بھئی ایک شخص آئے بھی تھے بھئی۔ حج کا موقع تھا ابنِ شبرمہ رحمہ اللہ بھی آئے ہوئے، ابنِ ابی لیلیٰ رحمہ اللہ بھی آئے ہوئے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ بھی آئے ہوئے، ایک شخص آیا کوئی مسئلہ اس نے پوچھا، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے، امام صاحب نے ایک ذکر کیا کہ یوں ہوگا بھئی۔
ابنِ شبرمہ کے پاس گیا بھئی ان سے پوچھا مسئلہ کیسے ہوگا بھئی؟ انہوں نے کہا مسئلہ یوں ہوگا، نے اور قول ذکر کر دیا۔ ابنِ ابی لیلیٰ کے پاس گئے بھئی مسئلہ کیسے ہوگا؟ انہوں نے اور قول ذکر کیا۔ وہ شخص کہنے لگا: سبحان اللہ! ایک ہی مسئلہ ہے اور تین بڑے ائمہ ہیں، ہر ایک اس میں الگ الگ قول ذکر کر رہا ہے بھئی۔
تو ایک فرمانے لگے ان کے سامنے ذکر کیا وہ فرمانے لگے بھئی کہ بھئی باقیوں کے بارے میں میں نہیں جانتا انہوں نے یوں کیوں کہا، ہاں میرے قول کی وجہ یہ ہے اور حدیث دلیل کے طور پر حدیث ذکر کر دی بھئی۔ پھر دوسرے کے پاس آئے بھئی کہ آپ نے تو یوں ذکر کیا تھا باقیوں نے یوں ذکر کیا، انہوں نے کہا بھئی میں نہیں جانتا باقیوں نے اس وجہ سے یہ قول کیوں کیا، ہاں میری میرے اپنا قول یہ تھا اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔ پھر تیسرے کے پاس آئے بھئی انہوں نے بھی کہا کہ بھئی باقیوں کا یہ قول کی وجہ میں نہیں جانتا لیکن میرے قول کی یہ دلیل ہے، حدیث ذکر کر دی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟
فَعِنْدَ ابْنِ شُبْرُمَةَ، ابنِ شبرمہ کے نزدیک لَا يَنْدَفِعُ الْخُصُومَةُ خصومت دفع نہیں ہوگی بینہ کے ساتھ بھی، وَعِنْدَ ابْنِ أَبِي لَيْلَىٰ اور ابنِ ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کے نزدیک يَنْدَفِعُ الْخُصُومَةُ بِلَا بَيِّنَةٍ، بغیر بینہ کے ہی خصومت کیا ہو جائے گی؟ بینہ کیا ہو جائے گی؟ خصومت ساقط ہو جائے گی، اٹھ جائے گی کیونکہ اس نے اقرار کر لیا کہ میرے پاس امانت وغیرہ کے طور پر ہے، قبضہ نہیں ہے میرا مالک والا۔ وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں، یہ تیسرا قول آ گیا۔ إِنْ كَانَ ذُو الْيَدِ رَجُلًا صَالِحًا، اگر صاحبِ قبضہ کیا ہو؟ نیک آدمی ہو۔ صاحبِ قبضہ کس قسم کا آدمی ہے؟ نیک آدمی ہے اور وہ کیا کہہ رہا ہے؟ میرے پاس تو یہ چیز زید نے امانت، رہن وغیرہ رکھوائی ہے۔
يَنْدَفِعُ الْخُصُومَةُ، تو اس صورت میں خصومت کیا ہو جائے گی؟ خصومت دور ہو جائے گی، کس کی وجہ سے؟ بینہ کی وجہ سے۔ متن میں کیا آیا تھا خصومت کیوں دور ہوئی ہے؟ بینہ۔ تو یہاں بھی بینہ کی وجہ، اگر نیک آدمی ہے اور بینہ پیش کر دیتا ہے تو خصومت ختم ہوئی۔ إِلَّا إِذَا كَانَ مَعْرُوفًا بِالْحِيَلِ، مگر اگر وہ ایسا شخص ہے جو معروف ہے حیلوں کے ساتھ، مکر و مکر و فریب کرتا رہتا ہے، حیلے کرتا رہتا ہے بھئی تو اس صورت میں لا بھئی۔
اس صورت میں لا نہیں بھئی، إِلَّا إِذَا كَانَ مَعْرُوفًا بِالْحِيَلِ، تو خصومت ماقبل سے استثنا ہے، خصومت دفع ہوگی اگر وہ نیک آدمی ہو، مگر اس وقت إِذَا كَانَ مَعْرُوفًا بِالْحِيَلِ جب وہ معروف بالحیل ہو تو خصومت دفع نہیں ہوگی۔
صورت سمجھ میں آئی؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ اگر نیک آدمی ہے اور اس نے بینہ بھی قائم کر دی مثلاً کہ یہ چیز میرے پاس زید نے امانت رکھوائی ہے تو خصومت کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی۔
اور لیکن اگر حیلے کرنے والا آدمی ہے، معروف ہے، سب کو پتہ ہے تو اس صورت میں اگر وہ بینہ بھی قائم کر دے کہ میرے پاس فلاں نے کیا کیا تھا؟ امانت رکھوائی تھی، پھر بھی خصومت دفع نہیں، کہتے ہیں اس لیے کہ ممکن ہے یہاں بھی اس نے حیلہ کیا ہو۔ بھئی کیسے حیلہ کیا ہوگا؟ کہتے ہیں دیکھو بھئی! ایک آدمی تھا وہ سفر پر جانے والا ہے۔ سفر پر جانے والا تھا، شہر سے یعنی غائب ہو جائے، چلا جائے گا سفر پہ، بعد میں ہم پوچھ نہیں سکتے بس۔ صورت وہ بنا رہا ہوں میں جس میں وہ آدمی کیا ہوگا؟ شہر سے چلا جائے گا بعد میں اب تصدیق وغیرہ نہیں ہو سکتی۔ تو ایک آدمی سفر پہ جانے والا تھا، یہ جو حیلے کرنے والا ہے، اس نے زید کا موبائل اٹھایا اور اس آدمی کو کہا لو بھئی یہ ذرا موبائل اپنے پاس پکڑو، زید مثلاً اٹھ کر وضو کرنے چلا گیا۔ اس نے زید کا موبائل اٹھایا اور وہ جو سفر پر جانے والا ہے اس کو دیا اور کہا ابھی جب میرے پاس دو تین آدمی آ جائیں تو ان کے سامنے تم مجھے یہ چیز دے دینا اور کہنا یہ لو بھئی یہ میرے چیز بطورِ امانت کے رکھ لو۔ کیا کر لو؟ تو بھئی زيد بیچار وضو کرنے گیا ہوا ہے اور یہ جو سفر پر جانے والا ہے اس نے اس کا موبائل اٹھا کر اس حیلے کرنے والے کو گواہوں کے سامنے دے دیا اور کہا لو بھئی یہ چیز بطورِ امانت کے رکھ لو، یہ کہہ کر وہ تو سفر پہ چلا گیا۔ کیا ہوا؟ سفر پر چلا گیا۔
زید آیا بعد میں اس نے آ کر کہا لاؤ بھئی یہ موبائل میرے مجھے دے دو، یہ میرا ہے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی تمہارا کہاں سے؟ یہ تو صاحبِ قبضہ کیا کہتا ہے؟ یہ تو میرے پاس فلاں غائب نے بطورِ امانت کے رکھوایا ہے اور قاضی کے پاس بھی بینہ لے کر پہنچ جاتا ہے قاضی صاحب! میرے پاس گواہ بھی موجود ہیں کہ یہ میرے پاس اس فلاں غائب نے بطورِ امانت کے رکھوایا ہے، صورت تو اب دیکھو بھئی اب اس نے بینہ بھی پیش کر دی اور اس کے ساتھ اب خصومت بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کا قبضہ خصومت والا قبضہ، تو لہٰذا اس صورت میں امام ابو یوسف فرماتے ہیں نہیں بھئی، اب اگرچہ وہ بینہ بھی قائم کر دے پھر بھی خصومت دفع نہیں ہوگی بلکہ خصومت کی جائے گی بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟
لِإِمْكَانِ، تو کہتے ہیں لِإِمْكَانِ اس لیے کہ یہ امکان ہے أَنْ يَدْفَعَ مَا فِي يَدِهِ کہ وہ جو صاحبِ حیلہ جو ہے وہ حوالے کر دیتا ہے مَا وہ چیز فِي يَدِهِ جو اس کے قبضے میں ہے، جو یہ اس نے زید کی چیز اٹھائی ہے إِلَىٰ مَنْ اس شخص کے حوالے کرتا ہے تَغِيبُ عَنِ الْبَلَدِ جو شہر سے غائب ہونے والا ہے یعنی سفر پر جانے والا ہے مثلاً یا کہیں بھئی۔
اس کے حوالے کرتا ہے وَيَقُولُ لَهُ اور اس سے کہتا ہے أَوْدِعْهُ عِنْدِي یہ چیز کیا کرو تم میرے پاس بطورِ امانت کے رکھوا دو بِحَضْرَةِ الشُّهُودِ کن کی موجودگی میں؟ گواہوں کی موجودگی میں۔ کیوں؟ كَيْ لَا يُمْكِنَ لِأَحَدٍ تاکہ کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہ ہو الدَّعْوَىٰ کہ وہ کیا کرے؟ دعویٰ کرے عَلَيَّ مجھ پر بھئی، تاکہ کسی کے لیے بھی مجھ پر دعویٰ کرنا ممکن نہ ہو۔
تو لہٰذا اب اس کے اگر وہ بینہ پیش کر بھی دے پھر بھی معلوم ہوا ہو سکتا ہے اس نے حیلہ کیا ہو تو خصومت دفع نہیں ہوگی۔ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں لَا يَنْدَفِعُ الْخُصُومَةُ کہ اس صورت میں خصومت دفع نہیں ہوگی إِذَا قَالُوا جب گواہوں نے کہا نَعْرِفُهُ بِوَجْهِهِ کہ وہ جو امانت رکھوانے والا تھا یا وہ جو عاریتاً دینے والا تھا اس کو ہم کیا کرتے ہیں؟ اس کو چہرے سے تو پہچانتے ہیں لَا بِاسْمِهِ وَنَسَبِهِ نام اور نسب سے نہیں پہچانتے۔ وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک کیا ہوگا بھئی؟
جی؟ بھئی متن گزر نہیں گیا؟ ان کے نزدیک کیا ہوگا؟ خصومت دفع ہو جائے گی جب کہ وہ بینہ پیش کر دے۔ ان کے نزدیک يَنْدَفِعُ الْخُصُومَةُ بِالْبَيِّنَةِ خصومت دفع ہو جائے گی بینہ کی وجہ سے كَمَا ذَكَرْنَا جیسے ہم نے ذکر کیا۔ تو یہ مخمسہ ہے کتاب الدعویٰ کا بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس یہ جو اوپر میں نے بتلا بھی دیا کہ هٰذِهِ الْمَسَائِلُ تُسَمَّىٰ مُخَمَّسَةً اس کا تعلق کس عبارت سے ہے؟ جو فصل کے شروع میں پانچ صورتیں آئی تھیں بھئی۔
بَابُ دَعْوَى الرَّجُلَيْنِ یہ باب ہے دو آدمیوں کے دعویٰ کے بارے میں، بھئی ایک ہی چیز ہے بھئی اس کے دو مدعی آ گئے، ایک کہتا ہے میری ہے، دوسرا کہتا ہے میری ہے۔
یاد رکھو بھئی! ایک ہوتا ہے صاحبِ ید، ایک ہے خارج۔ صاحبِ ید اور خارج کو جانتے ہو یا نہیں جانتے؟ صاحبِ ید وہ ہے جس کے قبضے میں ہے چیز، اس کو کیا کہیں گے؟ ذوالید ذوالید، صاحبِ قبضہ۔ اور جس کے قبضے میں نہیں اس کو کہیں گے خارج، کیا کہیں گے؟ خارج کہیں گے۔
دیکھیے بھئی! یہاں حاشیہ نمبر چھ بڑا قیمتی حاشیہ ہے بھئی، حاشیہ نمبر چھ اور بڑا طویل حاشیہ ہے بھئی، بڑا طویل حاشیہ ہے۔ دیکھیے یہ پہلے تھوڑا سا دیکھ لیجیے۔
کہتے ہیں قَوْلُهُ دَعْوَى الرَّجُلَيْنِ، وَالْمُرَادُ الزَّائِدُ عَلَى الْوَاحِدِ، رجلین سے مراد یہ نہیں کہ دو ہی دعویٰ کرنے والے ہوں مراد کیا ہیں؟ جو ایک سے زائد، ایک سے زائد کم از کم دو ہیں، تین یا چار ہوں، پانچ ہوں پھر بھی اسی طرح مسئلہ ہے۔ وَلَهُ صُوَرٌ كَثِيرَةٌ اس کی بہت سی صورتیں ہیں۔
سمجھ میں آیا؟ لِأَنَّ الْمُدَّعِيَ إِذَا زَادَ عَنِ الْوَاحِدِ اس لیے کہ مدعی جب بڑھ جائے ایک سے فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ الْقَابِضُ غَيْرَهُمْ أَوْ بَعْضَهُمْ أَوْ كُلَّهُمْ اس لیے کہ جب مدعی کتنے ہیں بھئی؟ کتنے ہو گئے؟ ایک سے زیادہ، دو یا تین۔ تو اس صورت میں قابض جو ہے اس چیز کا وہ ان کے علاوہ کوئی تیسرا آدمی ہوگا، تین آدمیوں نے دعویٰ کیا یہ گاڑی میری، ایک کہتا ہے میری، دوسرا کہتا ہے میری، تیسرا کہتا ہے میری، لیکن گاڑی چوتھے کے پاس ہے، گاڑی کس کے پاس ہے؟ چوتھے کے پاس، تو یہ معنی ہے۔ تو اس صورت میں یا تو قابض کون ہوگا؟ ان سب کے علاوہ ہوگا أَوْ بَعْضَهُمْ یا انہی میں سے کوئی ہوگا۔ یا انہی میں سے کوئی ایک قابض ہوگا یا دو ہوں گے جو دعویٰ کرنے والے ہیں أَوْ كُلَّهُمْ أَوْ كُلَّهُمْ یا سارے کے سارے کیا ہوں گے؟ قابض، مثلاً ایک مکان پر ہے پانچ آدمیوں کا دعویٰ ہے اور وہ پانچوں اسی کے اندر رہتے ہیں تو ساروں کا کیا ہے اس میں؟ قبضہ ہے۔
تو قبضہ غیر کا ہوگا یا انہی میں سے بعض کا ہوگا یا ان ساروں کا ہوگا وَالدَّعْوَىٰ إِمَّا أَنْ يَكُونَ مِنْ جِهَةٍ وَاحِدَةٍ یا دعویٰ یا تو جہتِ واحدہ سے ہوگا۔ ہر ایک کہے گا یہ گاڑی میری، دوسرا بھی کہتا ہے یہ گاڑی میری، یعنی مطلق ملک کا دعویٰ کرتے ہیں، وجہ نہیں ذکر کرتے بھئی، کوئی بھی یہ نہیں کہتا مالک کیوں ہوں میں؟ میں نے خریدی ہے یا مجھے وراثت میں ملی ہے یا مجھے کس نے ہبہ کیا ہے، وجہ کوئی بھی نہیں ذکر کرتا، ملکِ مطلق ذکر کرتے ہیں مثلاً ہر، ہر ایک کیا کرتا ہے؟ ملکِ مطلق ذکر کرتا ہے، بس صرف یہ کہتا ہے یہ گا، یہ گاڑی میری، دوسرا کہتا ہے یہ گاڑی میری، وجہ کوئی بھی ذکر نہیں کرتا۔ تو سارے یا تو ملکِ مطلق، وجہ سب کی ایک ہوگی، سارے یا تو ملکِ مطلق کو ذکر کریں گے یا سارے ملکِ مقید کو ذکر کریں گے، کس کو ذکر کریں گے؟ ملکِ مقید کو یعنی ساتھ سبب بھی ذکر کریں گے۔ 查ایک کہے گا میں کیوں مالک؟ کیونکہ میں نے خریدی ہے، دوسرا کہتا ہے میں مالک کیونکہ مجھے فلاں نے تحفے میں دی ہے، تیسرا کہتا ہے میں مالک کیونکہ فلاں نے مجھے بطورِ صدقہ کے دی ہے وغیرہ بھئی۔ صورتیں سمجھ میں آ گئیں؟ تو دعویٰ جب کریں گے تو یا تو سارے جہتِ واحدہ سے کریں گے، سارے کیا کریں گے؟ ملکِ مقید کا دعویٰ کر دیں گے، ہر ایک سبب بھی ساتھ ذکر کرے گا ملک کا یا ان میں سے کوئی بھی سبب کو ذکر نہیں کرتا تو جی۔
وَالدَّعْوَىٰ إِمَّا أَنْ يَكُونَ مِنْ جِهَةٍ وَاحِدَةٍ اور دعویٰ جو ہے جہتِ واحدہ سے ہوگا أَنْ يَدَّعِيَ كُلُّهُمُ الْمِلْكَ الْمُطْلَقَ ان میں سے ہر ایک کس چیز کا دعویٰ کرتا ہے؟ ملکِ مطلق کا، سارے ملکِ مطلق کا دعویٰ کر رہے ہیں أَوْ الْمُقَيَّدَةَ یا سارے کس کا دعویٰ کر رہے ہیں؟ ملکِ مقید کا أَوْ مِنْ جِهَاتٍ مُتَعَدِّدَةٍ یا مولانا جہاتِ متعدد ہوں گی، ہر ایک دعویٰ کر رہا ہے جہتِ مختلف جہت سے، بعض ملکِ مطلق کا دعویٰ کر رہے ہیں اور بعض کیا کر رہے ہیں؟ تو جہت ایک نہ رہی، سارے ملکِ مطلق کا کریں تو یہ بھی ایک ہی جہت، سارے سبب بھی ساتھ ذکر کریں تو یہ بھی ایک جہت، لیکن بعض اگر سبب ذکر کرتے ہیں بعض سبب ذکر نہیں کرتے تو جہات کیا ہو گئیں؟ متعدد ہو گئیں۔
أَنْ يَدَّعِيَ هٰذَا هٰذَا الْمِلْكَ الْمُطْلَقَ وَهٰذَا الْمِلْكَ الْمُقَيَّدَ، ایک ملکِ مطلق کا دعویٰ کرتا ہے اور ایک جو ہے یہ ملکِ مقید کا دعویٰ کرتا ہے۔
اچھا، پھر مولانا! جو ملکِ مقید کا ذکر کر رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں؟ ساتھ سبب کو ذکر کر رہے ہیں، وہ سببِ قوی ذکر کریں گے یا سببِ بعض سبب قوی ہیں، بعض سبب ضعیف ہیں، مثلاً شراء سببِ قوی ہے اس لیے کہ چیز خریدتے ہی فوراً انسان کیا بن جاتا ہے اس کا؟ مالک بن جاتا ہے اور نیز یہ عقدِ معاوضہ بھی ہے، ویسے نہیں مالک بنتا بلکہ اپنی طرف سے بھی کوئی چیز حوالے کرتا ہے، تو یہ سببِ قوی ہے، لیکن ہبہ جو ہے مثلاً وہ سببِ ضعیف ہے اس لیے کہ وہ عقدِ معاوضہ نہیں ہے، دوسرے اس کے عوض میں کوئی چیز نہیں دی، نیز ہبہ بغیر قبضے کے پورا بھی نہیں ہوتا تو وہ سبب،
تو کہتے ہیں وَالْمُقَيَّدُ إِمَّا أَنْ يَكُونَ بِسَبَبٍ قَوِيٍّ یا تو وہ سببِ قوی کی وجہ سے ہوگا كَالشِّرَاءِ وَالْإِرْثِ وَالْأُجْرَةِ جیسے شراء ہوگا، وراثت ہے یا اجارہ ہے أَوْ يَكُونَ بِسَبَبٍ ضَعِيفٍ یا کس کی وجہ سے ہوگا؟ سببِ ضعیف کی وجہ سے ہوگا كَالصَّدَقَةِ وَالْهِبَةِ وَالرَّهْنِ الْمَقْبُوضِينِ جیسے کہ صدقہ ہے، ہبہ ہے اور رہن ہے بھئی، اس حال میں کہ یہ سارے کیا ہیں؟ مقبول ہیں ان پر قبضہ بھی کیا گیا ہے۔
اچھا۔
ثُمَّ التَّلَقِّي عَنْ اِسْتِحْصَالِ الْمِلْكِ، پھر تلقی یعنی ملک کا حاصل کرنا۔
پھر کیا ہوگا؟ ملک کا حاصل کرنا یا تو کیا ہوگا؟ إِمَّا أَنْ يَكُونَ مِنْ وَاحِدٍ یا تو کس سے ہوگا؟ ایک سے ہوگا، بھئی تین یا دو یا تین آدمیوں نے دعویٰ کیا یہ گاڑی میری، ہر ایک سبب بھی ذکر کر رہا ہے اور جی سبب بھی ذکر کر رہا ہے اور پھر ملک ایک ہی شخص سے حاصل ہونے کا ذکر کریں گے یا الگ؟ مثلاً چاروں دعویٰ کر رہے ہیں یہ گاڑی، ایک کہتا ہے میں نے زید سے خریدی ہے، سمجھ میں آیا؟ دوسرا بھی کہتا ہے میں نے زید سے خریدی، تیسرا بھی زید سے خریدی، چوتھا بھی میں نے زید سے، تو چاروں ملکِ مقید ذکر کر رہے ہیں اور ملک حاصل ہو رہی ہے ایک ہی آدمی سے یا کئیوں سے؟ ہاں، یا مولانا الگ الگ سے ذکر کریں گے، ایک کہتا ہے یہ گاڑی کا مالک میں کیونکہ میں نے زید سے خریدی، دوسرا کہے گا گاڑی کا مالک میں کیونکہ میں نے عمرو سے خریدی، چوتھا تیسرا کہتا ہے گاڑی کا مالک میں کیونکہ میں نے کس سے خریدی؟ بكر سے خریدی، تو استحصالِ ملک جو ہے ایک ہی سے ہے یا کئی افراد سے ہے؟ کئی افراد سے ہے، یہ معنی ہے۔ پھر ثُمَّ التَّلَقِّي عَنْ تلقی کا معنیٰ کیا ہے؟ عَنْ اِسْتِحْصَالِ الْمِلْكِ یعنی ملک کا حاصل کرنا إِمَّا أَنْ يَكُونَ مِنْ وَاحِدٍ یا تو کس سے ہوگا؟ ایک ہی آدمی سے ہوگا كَمَنِ ادَّعَىٰ هٰذَا اشْتَرَيْتُ مِنْ زَيْدٍ وَالْآخَرُ أَيْضًا جیسے ایک دعویٰ کرتا ہے یہ میں نے خریدی ہے زید سے اور دوسرا بھی یہی دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے کس سے خریدی ہے؟ زید سے أَوْ مِنْ اِثْنَيْنِ یا دونوں دعویٰ کیا کرتے ہیں؟
جی؟
دو آدمیوں سے خریدنا کا دعویٰ کرتے ہیں، ایک کہتا ہے میں نے زید سے خریدی دوسرا کہتا ہے فَدَّعَىٰ هٰذَا مِنْ زَيْدٍ وَهٰذَا مِنْ عَمْرٍو تو یہ دعویٰ کرتا ہے زید سے خریدنے کا اور وہ دعویٰ کرتا ہے عمرو سے، وَيَدَّعِي اور یہ دعویٰ کرتا ہے كُلُّهُمُ التَّلَقِّيَ مِنْ صَاحِبِهِ الْقَابِضِ
جی، یا یہ دعویٰ کریں گے بھئی۔
مثلاً دو ہیں، ایک کہتا ہے میں نے تم سے خریدی ہے دوسرا کہتا ہے نہیں میں نے تم سے خریدی، تو ایک دوسرے پر ہی دعویٰ ہوگا۔ التَّلَقِّيَ مِنْ صَاحِبِهِ، ہر ایک دعویٰ کرتا ہے کہ یہ مجھے حاصل ہوئی ہے اپنے ساتھی سے یعنی جس کے ساتھ میں اس وقت خصومت کر رہا ہوں الْقَابِضِ جو کیا ہے اس پر؟ جو کہ قابض ہے۔
وَكَذٰلِكَ إِمَّا إِنْ أَرَّخُوا أَرَّخُوا وَاحِدًا،
اگر انہوں نے یا تو وہ کیا کریں گے؟ أَرَّخَ يُؤَرِّخُ تَارِيخًا کا م کا معنیٰ ہے تاریخ ذکر کرنا، وہ تاریخ ذکر کریں گے یا تاریخ ذکر نہیں کریں گے۔ پھر اگر أَرَّخُوا وَاحِدًا تاریخ یا تو ایک ہی ذکر کریں گے، ایک کہتا ہے میں نے بھی دس مئی کو خریدی دوسرا بھی کہتا ہے میں نے کس تاریخ کو خریدی؟ دس مئی کو أَوْ لَمْ يُؤَرِّخُوا یا جی یا تاریخ الگ ذکر کریں گے أَوْ لَمْ يُؤَرِّخُوا یا سرے سے تاریخ ذکر ہی نہیں کریں گے۔
تو اس طرح بھئی بہت سی صورتیں بن جاتی ہیں مولانا، صورت سمجھ میں آ گئی؟
اچھا،
آگے بھئی! وُجُوهُ التَّرْجِيحِ آخر میں آ رہا ہے حاشیے کے۔ وُجُوهُ التَّرْجِيحِ مل گیا بھئی؟ وُجُوهُ التَّرْجِيحِ بہت سے ہیں، کہتے ہیں الْخَارِجُ أَوْلَىٰ مِنَ الْقَابِضِ۔
خارج اولیٰ ہے کس سے؟ قابض، یعنی خارج کی بینہ اولیٰ ہے کس کی بینہ سے؟ قابض کی بینہ سے۔
کیوں؟ کیونکہ الخ بینہ آتی ہے اثبات کے لیے، بینہ کس سے آیا کرتی ہے؟ اور خارج مثبت ہے اور قابض منکر ہے، دیکھو ایک گھر ہے زید کے پاس، عمرو نے دعویٰ کر دیا یہ میرا ہے تو عمرو ہوا خارج اور زید ہوا قابض، تو عمرو کی بینہ بینہ زید نے بھی پیش کر دی اور عمرو نے بھی پیش کر دی، کس کی بینہ اولیٰ ہے؟ عمرو، خارج کی بینہ اولیٰ، کیوں؟ اس لیے کہ خارج کس کی طرح ہے؟ مثبت ہے، خارج کیا ہے؟ مثبت ہے اور قابض کیا ہے؟ منکر ہے اور بینہ کس کے اولیٰ؟ مثبت کی، بینہ اثبات کے لیے آتی ہے۔
یہ معنی ہے الْخَارِجُ أَوْلَىٰ مِنَ الْقَابِضِ بِالْإِثْبَاتِ، وَالْقَابِضُ أَوْلَىٰ فِي الترکِ اور ترک کے اندر اولیٰ کون ہے؟
قابض چھوڑ دیا جائے بھئی۔ اگر بینہ کو ختم کر دیا جائے اور گھر کو چھوڑا جائے تو ترک کیا جائے۔ کس کے پاس چھوڑنا اولیٰ؟ قابض کے پاس چھوڑنا اولیٰ ہے۔
جی اگے۔ صاحِبُ التَّارِيخِ أَوْلَى مِنَ السَّاكِتِ۔ ایک نے تاریخ ذکر کی، دوسرے نے تاریخ ذکر نہیں کی، ساکت رہا بینہ کے اندر بھئی۔ ایک کے گواہوں نے کہا فلاں تاریخ کو بیع ہوئی تھی، دوسرے گواہوں نے تاریخ ذکر نہیں کی، تو صاحبِ تاریخ اولیٰ ہے ساکت سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
وَالأَسْبَقُ أَوْلَى مِنَ الْمُتَأَخِّرِ۔ اسبق اولیٰ ہے متاخر سے۔ ایک کے گواہوں نے بھی تاریخ ذکر کی، دوسرے کے گواہوں نے بھی تاریخ ذکر کی، لیکن ایک کے گواہوں نے کہا ہمارے مدعی نے یہ زمین کب خریدی ہے؟ 10 رمضان کو۔ دوسرے نے کہا، دوسرے کے گواہوں نے کہا کہ ہمارے اس مدعی نے یہ زمین کب خریدی؟ 20 رمضان کو۔ تو پہلے کس کی تاریخ ہے؟ 10 والے کی، تو وہ اولیٰ ہے۔ یہ معنی ہے وَالأَسْبَقُ أَوْلَى مِنَ الْمُتَأَخِّرِ۔ اسبق جس کی تاریخ سابق ہے وہ اولیٰ ہے مؤخر تاریخ والے سے۔
اَلْمِلْكُ الْمُوَجَّهُ أَوْلَى مِنَ الْمِلْكِ الْمُطْلَقِ۔ وہ ملک جس کی وجہ ذکر کی جائے وہ اولیٰ ہے ملکِ مطلق سے۔ ایک نے ملکِ مطلق کا دعویٰ کیا، یہ گاڑی میری ہے، بینہ پیش کر دی بھئی۔ گواہوں نے، ہاں جی بھئی، اور دوسرے نے وجہ بھی ذکر کی کہ یہ گاڑی میں نے، یہ گاڑی کا مالک میں کیونکہ میں نے زید سے خریدی۔ تو ایک نے ملک کا سبب ذکر کیا اور ایک نے ملک کی وجہ ذکر نہیں کی۔ تو ملکِ موجہ جس میں وجہ ذکر کی جائے وہ اولیٰ ہے ملکِ مطلق سے۔
نیز، اَلسَّبَبُ الْقَوِيُّ أَوْلَى مِنَ الَّذَّعِيفِ۔ سببِ قوی جو ہے وہ اولیٰ ہے کس سے؟ سببِ ضعیف سے۔ کچھ سبب قوی تھے کچھ ضعیف تھے بھئی۔ تو ایک نے بینہ پیش کی شراء پر، دوسرے نے بینہ پیش کی جی؟ ہبہ پر، تو کس کی بینہ اولیٰ؟ شراء والے کی۔
اَلتَّلَقِّي مِنَ الْخَصْمِ أَوْلَى مِنَ الْغَيْرِ۔ خصم سے حاصل، حصول یہ اولیٰ ہے غیر سے بھئی۔ ایک نے بینہ پیش کی یہ گاڑی میں نے کس سے خریدی ہے؟ زید سے خریدی ہے۔ کس سے خریدی ہے؟ زید سے خریدی ہے، اور دوسرے نے بینہ پیش کی کہ اسی خصم سے، اسی مدعی علیہ سے میں نے گاڑی خریدی ہے۔ تو معلوم ہوا ایک کو ملک حاصل ہو رہی ہے غیر سے، ایک کو ملک حاصل ہو رہی ہے کس سے؟ خصم سے۔ تو کس کی بینہ اولیٰ؟ جس کے ملک کا کس سے حاصل ہو رہی ہے؟ خصم سے۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جی درمیان میں بہت سی صورتیں، مسئلہ ذکر کی ہوئی ہیں بھئی۔ اچھا بھئی، اب آئیے بھئی۔ صورتیں پتہ چل گئیں بھئی؟ جی۔
حُجَّةُ الْخَارِجِ فِي الْمِلْكِ الْمُطْلَقِ أَحَقُّ مِنْ حُجَّةِ ذِي الْيَدِ۔ خارج کی بینہ ملکِ مطلق کے مع مع میں وہ زیادہ لائق ہے بھئی قبول کے، مِنْ حُجَّةِ ذِي الْيَدِ کس سے؟ حجتِ ذی الید کی حجت سے۔ بھئی دیکھیے، ایک مکان ہے زید کے قبضے میں ہے، تو زید ہوا ذو الید بھئی۔ زید کون ہوا؟ ذو الید ہوا۔ عامر نے دعویٰ کر دیا اس کی اس مکان کا مالک میں ہوں بھئی، اور صاحبِ ذو الید کہتا ہے اس مکان کا مالک میں ہوں بھئی۔ تو ملکِ مطلق کا دونوں دعویٰ کر رہے ہیں، سبب ذکر نہیں کر رہے بھئی کہ کیوں مالک ہیں ہم بھئی۔ اور اس ملکِ مطلق پر بھئی خارج نے بھی بینہ پیش کر دی اور صاحبِ ید نے بھی کیا کر دی؟ بینہ پیش کر دی مولانا۔ تو کس کی بینہ اولیٰ ہے؟ خارج کی بینہ اولیٰ ہے اس لیے کہ خارج مثبت ہے مولانا، اور قابض کیا ہے؟ تو خارج کل مثبت ہوا، اور قابض کل منکر، اور بینہ کس کے لیے آیا کرتی ہے؟ اثبات کے لیے، تو اس خارج کی بینہ قبول۔
تو کہتے ہیں حُجَّةُ الْخَارِجِ فِي الْمِلْكِ الْمُطْلَقِ أَحَقُّ مِنْ حُجَّةِ ذِي الْيَدِ وَإِنْ وَقَّتَ أَحَدُهُمَا فَقَطْ۔ اگرچہ دونوں میں سے ایک وقت بیان کر دے صرف، اگرچہ صرف ایک ان دونوں میں سے کیا کر دے؟ وقت بھی بیان کر دے۔ جی کہ میں کب سے اس کا مالک ہوں؟ جی؟ چھ سال سے اس کا مالک ہوں، مثلاً وقت بھی ذکر کر دیتا ہے بھئی، چھ سال سے۔ یا فلاں تاریخ سے میں اس کا مالک ہوں، تو دعویٰ ہے ملکِ مطلق کا، خارج بھی بینہ پیش کرتا ہے اور صاحبِ ذو الید بھی بینہ پیش کرتا ہے، اور دونوں میں سے اگرچہ کوئی ایک کیا کر دے؟ وقت بھی بیان کر دے پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، بینہ کس کی اولیٰ؟ خارج کی۔
اِعْلَمْ أَنَّ حُجَّةَ الْخَارِجِ عِنْدَنَا أَحَقُّ مِنْ حُجَّةِ ذِي الْيَدِ۔ جان لے تو کہ بینہ خارج کی جو ہے ہمارے نزدیک وہ زیادہ حق ہے، حق والی ہے کس سے؟ کس کی بینہ سے؟ ذو الید کی بینہ سے بھئی۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى حُجَّةُ ذِي الْيَدِ أَحَقُّ۔ کہ صاحبِ قبضہ کی حجت کیا ہے؟ وہ زیادہ لائق ہے بھئی کہ وہ قبول کی جائے۔ ثُمَّ إِنْ وَقَّتَ أَحَدُهُمَا فَقَطْ، پھر اگر دونوں میں سے صرف ایک نے وقت بیان کیا، فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ الْخَارِجُ أَحَقُّ، تو اس صورت میں طرفین کے نزدیک خارج ہی کیا ہے؟ احق ہے، زیادہ حقدار ہے۔ وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ صَاحِبُ الْوَقْتِ۔ جب امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس صورت میں صاحبِ وقت زیادہ حقدار ہے۔ احق وہ حق زیادہ لائق۔ وَلَوْ بَرْهَنَ خَارِجَانِ عَلَى شَيْءٍ قُضِيَ بِهِ لَهُمَا۔
صورتِ مسئلہ یہ ہے، گھر کس کے پاس ہے؟ ایک گھر ہے زید کے قبضے میں بھئی، قبضے میں کیا ہے؟ زید کے قبضے میں ہے، اور دو خارج جو ہیں، دونوں نے آ کر دعویٰ کر دیا، ایک کہتا ہے یہ میرا گھر، دوسرا کہتا ہے میرا گھر، اور دونوں نے بینہ بھی پیش کر دی، تو اس بھئی اب دونوں کی بینہ آ گئی، اور تو اس صورت میں اب گھر ان دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا جائے گا۔ ان دونوں کے لیے نصف نصف گھر کا کیا کر دیا جائے گا؟ فیصلہ کر دیا، اس لیے کہ دونوں بینہ پیش کر رہے ہیں ترجیح کی کوئی وجہ نہیں ہے، سو لہٰذا اب تقسیم کر دو اس کو، فیصلہ تقسیم۔ یہ معنی ہے وَلَوْ بَرْهَنَ خَارِجَانِ اگر بینہ پیش کر دی دو خارج نے عَلَى شَيْءٍ کسی چیز پر، قُضِيَ بِهِ تو فیصلہ کر دیا جائے گا اس کے ساتھ لَهُمَا ان دونوں کے لیے بھئی۔ هَذَا عِنْدَنَا یہ ہمارے نزدیک ہے، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى تَهَاتَرَتِ الْبَيِّنَتَانِ۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ساقط ہو جائیں گے تَهَاتَرَتْ أَيْ تَسَاقَطَتَا تَسَاقَطَتْ، تَسَاقَطَتَا بھئی۔ دونوں بینہ کیا ہو جائیں گے؟ ساقط ہو جائیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ وہ فرماتے ہیں یہ ممکن ہی نہیں ہے ایک کے ایک ہی چیز کے پورے کے پورے کے دو مالک ہوں بھئی، ایک بھی اس کے پورے کا مالک اور دوسرا بھی اس کے پورے کا مالک اور بینہ پورے پورے پر پیش کیا، لہٰذا دونوں بینہ ساقط ہو جائیں گے۔ إِذَا تَعَارَضَا تَسَاقَطَا بھئی، تعارض آیا دونوں بینہ میں ساقط ہو گئے۔
فَإِنْ بَرْهَنَا فِي النِّكَاحِ سَقَطَتَا۔ بھئی کیا ہمارے نزدیک مسئلہ تھا؟ اگر دو خارج کیا کر دیں؟ کسی چیز پر بینہ قائم کر دیں تو اس چیز کو ان دونوں میں کے درمیان نصف کر نصف کا فیصلہ کر دیا جائے گا، لیکن فَإِنْ بَرْهَنَا فِي النِّكَاحِ اگر دونوں نے بینہ پیش کر دیں نکاح کے اندر میں، نکاح کے باب میں سَقَطَتَا تو دونوں بینہ کیا ہو جائیں گے؟ ساقط۔ ایک شخص کہتا ہے یہ میری بیوی ہے بینہ پیش کر دی، دوسرا کہتا ہے یہ میری بیوی ہے بینہ پیش کر دی، تو بھئی اس صورت میں بینہ ساقط، اس لیے کہ محل شرکت کو قبول نہیں کرتا بھئی۔ لِإِمْتِنَاعِ الْجَمْعِ بَيْنَهُمَا اس لیے کہ یہاں پر دونوں میں جمع ممکن نہیں ہے، بِخِلَافِ الْمِلْكِ بخلاف ملک کے، فَإِنَّ الشَّرِكَةَ فِيهِ مُمْكِنَةٌ وہاں پر شرکت ممکن ہے، لیکن یہاں پر شرکت ممکن نہیں بھئی کہ ایک ہی عورت دونوں کی بیوی ہو جائے یہ ممکن نہیں۔ وَهِيَ لِمَنْ صَدَّقَتْهُ، وَهِيَ لِمَنْ صَدَّقَتْهُ۔ اچھا دونوں نے بینہ پیش کر دی۔ تو بینہ کیا ہو جائیں گی؟ ساقط۔ تو دونوں، دونوں نے بینہ پیش کی اور عورت دونوں میں سے ایک ہی تصدیق کر دیتی ہے کہ میں اس کی بیوی ہوں، تو کہتے ہیں وہ اسی کے لیے ہو جائے گی، کیا ہوگی؟ اسی کے لیے ہو جائے گی وہ۔ تو کہتے ہیں یہ معنی ہے وَهِيَ لِمَنْ صَدَّقَتْهُ، یہ اس کے لیے ہوگی جس کی یہ تصدیق کر دے۔
فَإِنْ أَرَّخَا اگر دونوں نے تاریخ بھی ذکر کی بھئی، قاضی صاحب ایک کہتا ہے اس سے اس کا میرا نکاح فلاں تاریخ کو ہوا تھا بھئی مثلاً 10 رمضان کو، دوسرا کہتا ہے میرا اس سے نکاح 20 رمضان کو ہوا تھا، تو دونوں نے تاریخ ذکر کی، فَالَسَّابِقُ أَحَقُّ تو جس کی تاریخ کیا ہے؟ سابق ہے وہ زیادہ حقدار ہے۔ فَإِنْ أَقَرَّتْ اچھا، یہ اور صورت ہے۔ دو آدمیوں نے دعویٰ کر دیا، ایک کہتا ہے اس سے میرا نکاح ہوا ہے میری بیوی ہے، دوسرا عورت کہتا ہے کہ یہ میری بیوی ہے، بینہ کسی کے پاس بھی نہیں۔ اب کہتے ہیں عورت جس کی تصدیق کر دے، جس کے لیے اقرار کر لے تو اس کی ہو جائے، بیوی شمار ہوگی۔ فَإِنْ أَقَرَّتْ اگر وہ عورت اقرار کر لیتی ہے لِمَنْ اس شخص کے لیے لاَ حُجَّةَ لَهُ جس کے پاس کوئی حجت صرف اسی کے پاس حجت نہیں ہے بلکہ دونوں کے پاس حجت نہیں، بظاہر عبارت سے یہ شبہ پڑتا ہے شاید ایک کے پاس بینہ ہے دوسرے کے پاس بینہ نہیں، نہیں بھئی بینہ اولیٰ ہے اقرار سے بھئی۔ اگر عورت اقرار کرتی ہے اس شخص کے لیے جس کے پاس حجت نہیں، فَهِيَ لَهُ تو یہ اس کے لیے ہوگی۔
فَإِنْ بَرْهَنَ الآخَرُ قُضِيَ لَهُ۔ اچھا عورت نے دونوں کے پاس بینہ ہی نہیں تھی۔ عورت نے کیا کر لیا؟ ایک کے لیے اقرار، تو یہ کیا ہوگی؟ اسی کی بیوی ہو جائے گی، اسی کے لیے فیصلہ کر دیا جائے گا، لیکن دوسرے نے پھر کیا کر دی؟ بینہ قائم کر دی، قُضِيَ لَهُ تو اب کیا کر دیا جائے گا؟ اس کے لیے فیصلہ کر دیا جائے گا اس لیے کہ بینہ اقرار سے قوی ہے۔ یہ معنی ہے وَإِنْ بَرْهَنَ الآخَرُ اور اگر دوسرا بینہ پیش کر دیتا ہے قُضِيَ لَهُ تو اس کے لیے فیصلہ کر دیا جائے گا۔ وَإِنْ بَرْهَنَ أَحَدُهُمَا اگر دونوں میں سے ایک نے بینہ پیش کی وَقُضِيَ لَهُ اور اس کے لیے کیا کر دیا گیا؟ فیصلہ بھی، دو نے دعویٰ کیا تھا، ایک نے بینہ پیش کر دی قاضی نے اس کے لیے فیصلہ کر دیا، ثُمَّ بَرْهَنَ الآخَرُ پھر دوسرے نے کیا پیش کی؟ بینہ پیش کی، لَمْ يُقْضَ لَهُ تو اب اس دوسرے کے لیے فیصلہ کیونکہ بینہ اب دونوں طرف سے آ گئی اور پہلی بینہ قوی ہو چکی کیونکہ اس کے ساتھ قاضی کا فیصلہ مل گیا، اس پر کیا آ چکا ہے؟ قاضی کا فیصلہ، اس لیے اب اس لَمْ يُقْضَ اس بینہ جس میں قاضی کا فیصلہ نہیں اس کے لیے اس کو توڑا نہیں جائے گا بھئی۔
إِلاَّ إِذَا ثَبَتَ سَبْقُهُ ہاں ایک صورت میں اس قاضی کے فیصلے کو توڑ دیا جائے گا اور اس کے حق میں کیا کر دیا جائے گا؟ فیصلہ، کب؟ اگر یہ ایسی تاریخ بیان کرتا ہے جو پہلے پر سابق ہے، پہلے نے دو آدمی آئے انہوں نے دعویٰ کیا ایک عورت پر نکاح کا بھئی، ایک نے بینہ پیش کی دوسرے کے پاس بینہ نہیں، بینہ پیش کی کہ قاضی صاحب 10 رمضان کو اس کے ساتھ میرا نکاح ہوا تھا، بعد میں دوسرا بینہ لا کر پیش کرتا ہے تو اس کی بینہ قابلِ قبول نہیں، لیکن اگر بینہ میں وہ تاریخ بھی بیان کرتے ہیں اور وہ تاریخ اس 10 رمضان سے پہلے کی ہے تو اس صورت میں معلوم ہوا پہلے اس کے ساتھ نکاح ہو چکا، تو اب اس فیصلے کو توڑ کر عورت اس کے حوالے کر دی جائے گی۔ إِلاَّ إِذَا ثَبَتَ سَبْقُهُ مگر یہ کہ اس کا سابق ہونا ثابت ہو جائے، كَمَا لَمْ يُقْضَ لِحُجَّةِ الْخَارِجِ عَلَى ذِي يَدٍ ظَهَرَ نِكَاحُهُ۔ جیسے فیصلہ نہیں کیا جائے گا خارج کی حجت کی وجہ سے عَلَى ذِي يَدٍ ایسے ذو الید کے خلاف جس کا نکاح ظاہر ہے۔ إِلاَّ إِذَا ثَبَتَ سَبْقُهُ بھئی۔
صورتِ مسئلہ یہ، ادھر دیکھو بھئی۔ زید زید اور بیضاء ایک گھر میں رہتے ہیں بھئی، لوگوں نے دیکھا ہے بھئی اسی گھر میں دونوں آتے جاتے ہیں، میاں بیوی کی طرح رہتے ہیں، ان کا نکاح ظاہر ہے، نکاح کیا ہے؟ معلوم ہوا یہ میاں بیوی ہیں جو اس طرح رہ رہے ہیں بھئی، نکاح ظاہر ہے۔ عامر نے آ کر دعویٰ کر دیا قاضی صاحب یہ میری بیوی ہے، جی۔ تو کہتے ہیں بھئی نہیں بھئی، اب اس کی بینہ کی وجہ سے وہ عورت اس کے حوالے نہیں کی جائے گی کیونکہ جو اس کے ساتھ رہنے والا ہے اس کا نکاح پہلے سے ہی ظاہر ہے۔ ہاں لیکن اگر اس نے بینہ اس کا سابق ہونا ثابت ہو جائے بینہ سے، پھر کیا کر دیا جائے گا؟ عورت کو اس کے حوالے کر دیا جائے گا، یہ کہتا ہے قاضی صاحب زيد کے ساتھ تو وہ ایک سال سے رہ رہی ہے آپ کو پتہ ہے، لیکن میرا اس سے نکاح کب ہوا تھا؟ دو سال پہلے ہوا تھا، كَمَا لَمْ يُقْضَ لِحُجَّةِ الْخَارِجِ جیسے کہ فیصلہ نہیں کیا جائے گا خارج کی حجت بینہ کی وجہ سے، خارج کی بینہ کس کے خلاف؟ عَلَى ذِي يَدٍ صاحبِ قبضہ کے خلاف کرتا ہے، ایسا صاحبِ ید ظَهَرَ نِكَاحُهُ جس کا نکاح بھی کیا ہے؟ ظاہر ہے، إِلاَّ إِذَا ثَبَتَ سَبْقُهُ مگر یہ کہ اس کا سابق ہونا ظاہر ہو جائے، ثابت ہو جائے، أَيْ إِذَا كَانَتِ امْرَأَةٌ فِي يَدِ رَجُلٍ جب عورت جو تھی وہ ایک شخص کے قبضے میں تھی وَنِكَاحُهُ ظَاهِرٌ اور اس کا نکاح بھی ظاہر تھا وَادَّعَى الْخَارِجُ اور ایک خارج نے دعویٰ کر دیا أَنَّهَا زَوْجَتُهُ کہ یہ اس کی بیوی ہے وَأَقَامَ الْبَيِّنَةَ اور بینہ بھی قائم کر دی لَمْ يُقْضَ لَهُ اس کے لیے فیصلہ نہیں کیا جائے گا إِلاَّ إِذَا ثَبَتَ مگر جب کہ یہ بات ثابت ہو جائے كَأَنَّ نِكَاحَهُ سَابِقٌ کہ اس کا نکاح کیا تھا؟ مقدم تھا، فَإِنْ بَرْهَنَا عَلَى شِرَاءِ شَيْءٍ مِنْ ذِي الْيَدِ فَلِكُلٍّ النِّصْفُ بِنِصْفِ الثَّمَنِ أَوْ تَرْكُهُ۔
بھئی دو آدمی، بھئی ایک گاڑی ہے زید کے پاس ہے۔ یہ گاڑی کس کے پاس ہے؟ زید کے پاس گاڑی ہے، عامر اور بکر نے دعویٰ کر دیا کہ یہ گاڑی ہم نے اس سے خریدی ہے۔ عامر بھی کہتا ہے اس گاڑی کا مالک میں کیونکہ میں نے یہ زید سے خرید لی ہے، اور بکر بھی کہتا ہے اس گاڑی کا مالک میں کیونکہ یہ گاڑی میں نے زید سے خرید لی ہے، اور دونوں نے بینہ بھی قائم کر دی، تو کہتے ہیں اس صورت میں قاضی ان دونوں کو اختیار دے دے گا، چاہے تو نصف نصف گاڑی لے لو، چاہے تو، یعنی گاڑی کو بیچ کر نصف نصف پیسے کر لو، اور چاہو تو کیا کر دو؟ چھوڑ دو، یعنی نصف پر راضی ہو جاؤ یا بیع کو ہی چھوڑ دو۔ فَإِنْ بَرْهَنَا اگر دونوں دو خارج نے بینہ قائم کر دی عَلَى شِرَاءِ شَيْءٍ کسی چیز کے خریدنے پر مِنْ ذِي الْيَدِ کس سے خریدنے پر؟ صاحبِ قبضہ سے، فَلِكُلٍّ النِّصْفُ تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو کتنا ملے گا؟ اس کا نصف ملے گا بِنِصْفِ الثَّمَنِ اس کے نصف ثمن کے بدلے، أَوْ تَرْكُهُ یا اس کا چھوڑنا ہوگا، أَيْ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْخِيَارُ ان میں سے ہر ایک کے لیے اختیار ہوگا إِنْ شَاءَ أَخَذَ نِصْفَ ذَلِكَ الشَّيْءِ بِنِصْفِ الثَّمَنِ چاہے تو اس چیز کا نصف لے لے نصف ثمن کے بدلے وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ اور چاہے تو کیا کر دے اس کو؟ چھوڑ دے۔
چلیے بس کرتے ہیں مولانا، چلیے بس مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلاَمِ۔