ولا جبر علی اعطائک کفیل فی حد و قصاص ہذا عند ابی حنیفہ رحمہ اللہ تعالی وعندھما یجبر فی حد القذف لان فیہ حق العبد وفی القصاص لانّہ خالص حق العبد۔
یہاں سے کفالت کے بارے میں بحث چل رہی تھی آپ کو بتلا رہے ہیں بھئی کہ حدود اور قصاص کے اندر مجبور نہیں کیا جائے گا کفیل دینے پر۔ ایک شخص پر کسی نے دعویٰ کر دیا حد کا یا قصاص کا دعویٰ کیا تو اب اس سے کفیل طلب کرتا ہے کہ بھئی کوئی شخص کوئی ضامن دو مجھے پھر میں تمہیں چھوڑوں گا جو تمہیں کیا کرے؟ قاضی کے سامنے حاضر کرے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا بھئی۔
ولا جبر علی اعطائک کفیل فی حد و قصاص اور جبر نہیں ہے کفیل دینے پر حد اور قصاص میں یعنی جبر نہیں کیا جائے گا یہ ہذا عند ابی حنیفہ رحمہ اللہ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے وعندھما یجبر فی حد القذف صاحبیں کے نزدیک بھئی حد قذف کے اندر مجبور کیا جائے گا کیوں کہتے ہیں لان فیہ حق العبد اس کی اس لیے کہ اس میں کیا ہے بندے کا حق ہے بھئی بندے پر اس نے الزام لگایا ہے زنا وغیرہ کا تو اس میں مجبور کیا جائے گا بھئی۔
وفی القصاص اور قصاص کے اندر بھی بھئی لانّہ خالص حق العبد اس لیے کہ یہ بھی خالص کیا ہے بندے کا قصاص بھی خالص یعنی اس میں غالب بندے کا حق ہے بھئی حق اللہ بھی ہے کیونکہ فساد کو ختم کرنا ہے لیکن حق العبد غالب ہے یہاں تک کہ بندے کو اختیار ہے بھئی قصاص کے وہ کیا کرے اس کو اولیاء اس کے معاف بھی کر سکتے ہیں اس کے بدلے مال بھی لے سکتے ہیں وغیرہ۔
تو یہ خالص بندے کا حق ہے یعنی اس بندے کا حق کیا ہے اس میں غالب ہے تو اس میں مجبور کیا جا سکتا ہے۔ یہ صاحبیں کی دلیل ہے بھئی ولی ابی حنیفہ رحمہ اللہ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ ان مبناھم علی الدرع کہ ان کی بنیاد یہ حد اور قصاص کی بنیاد کس پر ہے؟ علی الدرع اسقاط پر ہے کس پر ہے؟ اسقاط پر ہے بھئی آپ نے ضابطہ پڑھا ہے الحدود تدرع بالشبهات حدود کیا ہو جاتی ہیں؟ شبہ کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں اسی طرح قصاص بھی شبہ کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے آپ نے پڑھا ہے بھئی باپ اگر اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو وہاں پر باپ سے قصاص نہیں لیا جائے گا کیونکہ کیونکہ ملکیت کا شبہ ہے بھئی حدیث میں کیا آیا ہے بھئی انْتَ وَمَالُکَ لِابِیکَ اور نیز قرآن میں اللہ فرماتے ہیں فَلَا تَقُلْ لَھُمَا اُفٍّ بھئی تو لہٰذا شبہ کی وجہ سے وہاں قصاص اسی طرح آقا اگر اپنے مملوک غلام کو قتل کر دے تو اس سے بھی قصاص نہیں لیا جاتا شبہ کی وجہ سے تو شبہ آنے کی وجہ سے قصاص بھی کیا ہو جاتا ہے؟ ساقط تو لہٰذا یہ حد حد اور قصاص ان کی بنیاد اسقاط پر ہے یعنی شبہ کی وجہ سے شریعت ان کو ساقط کر دیتی ہے یہ ساقط ہو جاتے ہیں۔
فلا یجب فیھما الاستصاق تو ان کے اندر استصاق پختگی واجب نہیں ہے بھئی پختگی واجب نہیں بھئی کفیل لینے کے ذریعے تو کسی بات کو پختہ کیا جاتا ہے جب آپ نے کسی سے ضامن نہیں لیا تو اب بات کیا ہو گئی؟ پختہ ہو گئی اس کے بھاگنے وغیرہ کا امکان نہیں۔
تو یہاں لہٰذا چونکہ ان کی بنیاد اسقاط پر ہے تو ان میں پختگی واجب نہیں ہے ولو سمحت بہ نفسہ صححہ اگر اس نے خود بھئی کفیل دے دیا تو صحیح ہے۔ جس پر دعویٰ قصاص ہوا ہے یا دعویٰ حد ہے اگر اس سے مجبور تو نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر وہ خود کیا کر دیتا ہے اپنا کفیل دے دیتا ہے تو ٹھیک ہے بھئی کفالت صحیح ہے بھئی۔
ولو سمحت کا معنی سخاوت کرنا۔ بہ کی ہ ضمیر راجع ہے کفیل کو ای ولو سمحت بالکفیل اگر سخاوت کی کفیل کے ساتھ کس نے سخاوت کی؟ نفسہ ای نفس آگے خود بتلا رہے ہیں اس ضمیر کا مرجع ای نفس من علیہ الحد او القصاص جس پر کیا ہے حد یا قصاص ہے فاعطی کفیلًا اس نے کفیل دے دیا کفیل بالنفس دے دیا صحہ تو صحیح ہے۔
ولا حبس فیھما اور اس کے اندر قید کرنا بھی نہیں ہے یعنی قاضی ان کو قید میں بھی جس پر دعویٰ حد یا قصاص کیا گیا ہے اس کو قید میں بھی نہیں ڈالا جائے گا حتی یشھد مستان أو عدل یہاں تک کہ گواہی دے دے دو مستان الحال آدمی گواہی دے دیں یا ایک عادل آدمی کیا کرے؟ گواہی دے دے۔
بھئی شہادت کے دو جز ہیں ایک عدد ایک عدالت بھئی گواہ کتنے ہونے چاہیے؟ دو ہونے چاہیے تو عدد بھی جز ہے شہادت کا اور عادل ہونے چاہیے تو گواہی کے کتنے جز ہوئے بھئی؟ دو ایک عدد اور دوسرا عدالت تو دو میں سے کوئی عدد آ جائے تو پھر بھی اسے قید میں ڈال سکتے ہو یا ایک جز عدالت آ جائے تو پھر بھی اسے کیا کیا جا سکتا ہے؟ قید میں۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھو بھئی مسئلہ یہ چل رہا ہے نا کہ حد کسی پر دعویٰ حد ہوا ہے یا دعویٰ قصاص ہوا ہے تو امام صاحب کے نزدیک اسے مجبور کفیل دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا کہتے ہیں بھئی پھر کیا کیا جائے اس کے اندر؟ کہتے ہیں بھئی یہ جس نے دعویٰ کیا جو مدعی ہے وہ اس شخص دوسرے کے ساتھ جس پر اس نے دعویٰ حد کیا ہے یا دعویٰ قصاص کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ رہے اسے چھوڑے نہ اسے جانے نہ دے۔
समझ में आया؟ یعنی ساتھ رہے اس کے ساتھ ساتھ رہے وہ جہاں رہ جاتا ہے اس کے ساتھ رہے۔ اس کا پیچھا نہ چھوڑے تو جب تک قاضی بیٹھا ہوا ہے قاضی کی مجلس برخاست ہونے تک اگر اس نے اپنے گواہ پیش کر دیے تو ٹھیک ہے اگر گواہ پیش نہیں کر سکا اس وقت تک تو اس کا راستہ چھوڑ دے بھئی کیا کرے اس کا راستہ چھوڑ دے۔
اسے جیل میں قاضی نہیں ڈالے گا ہاں اگر اس دوران اس نے کوئی دو ایسے گواہ پیش کر دیے جو مستور الحال ہیں ان کا پتہ نہیں عادل ہیں یا عادل نہیں نہ عدالت کا پتہ نہ فسق کا پتہ مستور الحال دو گواہ تو گوا شہادت کا ایک جز پایا گیا شہادت کا ایک جز شہادت کے دو جز تھے ایک عدد اور دوسرا عدالت تو ایک جز کوئی ایک بھی پایا جائے تو اب اسے اس الزام کی وجہ سے قید میں رکھا جا سکتا ہے بھئی قاضی اسے کیا کرے گا؟ جیل میں تو دو مستور الحال آدمی گواہی دے دیں اب اس کی وجہ سے حد تو نہیں آئے گی کیونکہ حد کے لیے تو کیا ضروری تھا بھئی؟ دو عادل آدمی گواہی دیں تو یہاں صرف عدد تو ہے دو تو ہیں گواہ لیکن مستور الحال ہیں عدالت کا پتہ نہیں یا صرف ایک عادل گواہی دے دیتا ہے تو بھئی اب عدالت تو آگئی اگرچہ عدد نہیں تو اب اس کو جیل میں ڈال دیں گے اور اس سے کہیں گے لاؤ بھئی گواہ وغیرہ پورے کرو تاکہ پتہ چل جائے گواہ ہیں تمہارے پاس تو ہم سزا دیں گواہ نہیں ہے تو اسے کیا کر دیں؟ چھوڑ دیں۔
تو کہتے ہیں ولا حبس فیھما ان دونوں میں حبس بھی نہیں ہے حتی یشھد مستوران یہاں تک کہ گواہی دے دیں دو مستور الحال گواہ او عدل یا کوئی ایک عادل لما ذکر جب ماتن نے ذکر کر دیا کہ انہ لا جبر علی الکفالة عند ابی حنیفہ رحمہ اللہ کہ جبر نہیں ہے کفالت پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک فبینا ماذا یصنع صاحب الحق تو پھر ماتن نے بیان کیا یہ جو عبارت ہے نا ولا حبس اس کے ذریعے بیان کیا کہ ماذا یصنع صاحب الحق کہ کیا کرے گا صاحب حق جو مدعی ہے حق والا ہے وہ کیا کرے گا؟ جب مجبور نہیں کر سکتا تو کہتے ہیں فعندہ یلازمہ الی وقت قیام القاضی عن المجلس তো امام صاحب کے نزدیک جو ہے لازم رہے گا وہ اس کے ساتھ قاضی کے مجلس سے اٹھنے کے وقت تک قاضی جب تک مجلس برخاست کر کے اٹھ نہیں جاتا اس وقت تک اس کے ساتھ رہے اس دوران فأن احضر البینة فبھا اگر اس نے بینہ کیا کر دی؟ اپنے گواہ لے آیا بینہ حاضر کر دی فبھا تو بہتر ہے وان اقام مستورین أو شاہدا عدلاً لایکفل عند ابی حنیفہ اور اگر اس نے کیا کیا بھئی؟ دو مستور الحال گواہ پیش کر دیے او شاہداً عدلاً یا ایک عادل گواہ پیش کر دیا تو لایکفل کفیل نہیں لیا جائے گا امام صاحب کے نزدیک بل یحبسہ للتھمة بلکہ قاضی کیا کرے گا اس کو؟ قید میں ڈالے گا للتھمة اس الزام کی وجہ سے جو اس پر لگایا گیا ہے حتی یتبین الحق یہاں تک کہ حق کیا ہو جائے؟ تو قاضی جیل میں ڈال دے اب اسے اور پھر اب باقی اس سے گواہ طلب کیے جائیں یہاں تک کہ حق کا پتہ چل جائے کہ واقعی اس پر قصاص آتا ہے یا نہیں۔
والإن لم یحضر شیئاً اور اگر بھئی یہ مدعی نے کوئی بھی چیز حاضر نہیں کی یعنی نہ تو مستور الحال گواہ پیش کر سکا اور نہ کوئی ایک بھی عادل ایک عادل گواہ بھی نہیں پیش کر سکا اس دوران تو کہتے ہیں اگر فأن لم یحضر شیئاً من ذالک اگر اس میں سے وہ کچھ بھی نہیں حاضر کر سکا خلاصبی لہ تو اس کا راستہ چھوڑ دے خالی کر دے اس کا راستہ یعنی اسے جانے دے۔
وصحّ الراہن والکفالة بالخراج بھئی آپ نے پڑھا ہے جانتے ہیں بھئی مسلمانوں کی جو زمین ہے اس سے عشر لیا جاتا ہے اور کفار کی جو زمین ہے اس سے کیا لیا جاتا ہے؟ خراج تو جس زمین پر ایک دفعہ خراج آ جائے بعد میں چاہے اسے کوئی مسلمان بھی کیوں نہ خرید لے۔ اس سے کیا وصول کیا جائے گا؟ خراج ہی وصول کیا جاتا رہے گا۔
اب بھئی یہ خراج کے بدلے میں رہن رکھوانا یا کفیل دینا صحیح ہے بھئی؟ ایک بھئی کفار کی زمین ہے بھئی اس سے خراج لیا جاتا ہے اب عین وقت پر وہ ادا نہ کر سکا تو اس سے کیا لے لیا جائے؟ رہن رکھوا لیا جائے تو یہ رہن رکھنا صحیح ہے تاکہ اس کے ذریعے ہم وہ خراج اس سے وصول کر سکیں کوئی چیز گروی رکھ لیں گے۔
یا کیا لے لیا جائے اس سے؟ کفیل کوئی ضامن لے لیا جائے جو ضمانت دے تو یہ صحیح ہے۔ کہتے ہیں وصحّ الراہن والکفالة بالخراج اور صحیح ہے رہن رکھوانا بھی والکفالة بھی بالخراج خراج کے بدلے میں لانہ دین مطالب بھئی کیونکہ خراج ایسا دین ہے جس کا کیا کیا جاتا ہے؟ مطالبہ کیا جاتا ہے بھئی بخلاف الزکاة ہاں بھئی زکاة تو یہ تو بیت المال بھئی حکومت کا کام تھا بھئی زکاة اکٹھی کی جاتی تھی بھئی۔
زکاة سب سے تو کیا زکاة کے بدلے بھی کسی سے اگر وہ تاخیر کرتا ہے تو کفیل لیں گے یا نہیں؟ یا رہن وغیرہ لیں گے یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی وہاں زکاة کے اندر زکاة کے اندر رہن لینا یا کفیل لینا درست نہیں کیوں؟ کہتے ہیں لانھا مجرد فعل اس لیے کہ زکاة تو محض ایک فعل ہے کیا ہے؟ محض ایک فعل زکاة صرف ادا کا نام ہے مولانا کس چیز کا نام ہے؟ ادا یہاں مال مطلوب نہیں ہوتا۔
خراج وغیرہ اور بیوعات میں تو بھئی وہاں کیا چیز مقصود ہوتی ہے؟ مال مقصود ہوتا ہے زکاة کے اندر آپ اصول فقہ کی کتابوں میں پڑھیں گے بتائیں گے آپ کو بھئی علماء کہ یہاں پر مال مقصود نہیں ہوتا بھئی کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کے محتاج نہیں بھئی مال کے اللہ محتاج تو یہاں مال مقصود نہیں ہوتا بھئی صرف ادا مقصود ہوتی ہے اللہ چاہتے ہیں اپنے بندے سے ادا کو کہ یہ کیا کرے؟ ادا کرے یہ عبادت ہے بھئی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں ادا مقصود ہے مال مقصود نہیں اور ادا کے لیے آپ جانتے ہیں نیت کا ہونا نیت ہوگی تو ادا ہے اس کی طرف سے نیت نہیں تو ادا بھی تو یہاں اگر کفیل آ بھی جائے بھئی تو کفیل یہ تو نیت کفیل اس کی طرف سے ادا کرے تو ادا ہوگی؟ بھئی اس میں تو نیت ضروری تھی یا نہیں بھئی؟ تو کفیل ادا کرے تو ادا ہو جائے گی زکاة اس کی؟ نہیں بھئی سمجھ میں آیا؟ تو یہاں نیت کا ہونا بھی اسی لیے ضروری ہے۔
لانہ مجرد فعل اس لیے کہ زکاة تو صرف ایک فعل ہی ہے یعنی ادا ہے بس وانما اوردھا یہاں سے ایک اعتراف کا جواب دے رہے ہیں بھئی کہ مصنف بیان تو کفالت بالنفس کو کر رہے تھے بھئی یہ کفالت بالمال والا مسئلہ بیچ میں کیوں چھیڑ دیا انہوں نے کون سا کفالت بالمال والا یہ خراج والا بھئی خراج والا خراج کے بدلے بھی کفالت صحیح ہے آیا یہ نہیں مسئلہ؟ تو یہ تو مال کے بدلے کفالت ہوئی اور بحث کس کی چل رہی ہے اس وقت؟ کفالت بالنفس کی کہتے ہیں بھئی اس لیے کہ اس وقت مصنف بیان کر رہے تھے کفالت بھئی حدود اور قصاص کے اندر اور حدود اور قصاص ہیں سزائیں عقوبت ہے تو خراج کے اندر بھی عقوبت والا معنی پایا جاتا ہے۔ کس کا معنی پایا جاتا ہے؟ عقوبت والا معنی بھئی سزا کے طور پر تو لہٰذا اس کی اس سے مناسبت تھی اس لیے اس کو یہاں پر ذکر کر دیا وانما اورد ہذہ المسئلة ھاہنا مصنف لے کر آئے اس مسئلے کو یہاں پر وان کان الحق ان یذکر فی الکفالة بالمال اگرچہ حق یہ تھا کہ اس کو ذکر کیا جائے کفالت بالمال میں تو یہاں لے کر آئے لانہ فی ذکر الکفالة بالنفس فی الحدود والقصاص اس لیے کہ مصنف جو ہے وہ کفالت بالنفس کے ذکر میں لگے ہوئے تھے حدود اور قصاص کے مسئلے میں ولیلخراج مناسبت بالحدود اور خراج کی مناسبت ہے حدود کے ساتھ لما عرف فی اصول الفقہ وہ جو اس کے جو جانا گیا ہے اصول الفقہ کے اندر کہ ان فیہ معنی العقوبت کہ خراج کے اندر عقوبت والا معنی پایا جاتا ہے سزا والا معنی پایا جاتا ہے فلیہذہ المناسبة اورد ھاہنا اسی مناسبت کی وجہ سے یہاں پر لے آئے اس مسئلے کو لیعلم تاکہ جان لیا جائے ان حکمہ حکم الاموال کہ خراج کا حکم بھی کس کا حکم ہے؟ اموال والا حکم ہے تو جیسے اموال کے اندر کفالت صحیح تھی اس میں بھی کفالت صحیح حتی یجبر فیہ علی الکفالة بالنفس یہاں حتی کہ اس میں مجبور کیا جائے گا کفالت بالنفس پر بناء علی صحت الکفالة فیہ بناء پر اس میں خراج میں کفالت کے صحیح تو کفالت کے صحیح ہونے کی بنا پر اس میں مجبور کیا جائے گا کفالت بالنفس کے یعنی مجبور کیا جا سکتا ہے۔
وأخذ الکفیل بالنفس ثم آخر فھما کفیلان یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں بھئی ایک آدمی سے آپ نے ایک مال کے بدلے ایک زمان ضامن لے لیا ایک کفیل لے لیا پھر آپ کی تسلی نہیں ہوئی آپ نے اس سے ایک اور کفیل مانگا بھئی ایک اور ضامن اس نے ایک اور ضامن دے دیا تو کیا دوسرا ضامن دینے سے پہلا ضامن بری ہو گیا یا دونوں ضامن ہیں؟ اب کہتے ہیں بھئی دونوں ضامن ہیں۔ دونوں کیا ہیں؟ پہلا بری نہیں ہوگا۔
وأخذ الکفیل بالنفس اور کفیل بالنفس لے لیا ثم آخر پھر دوسرا لیا اس سے فھما کفیلان تو اب یہ دونوں کیا ہیں اس کے؟ کفیل ہیں ای لیس اخذ الکفیل الثانی ترکاً للاولی یعنی ثانی کفیل کو پکڑنا یہ اول کو ترک کرنا نہیں ہے والکفالة بالمال تصح و ان جُھل المكفول به اذا صح دینہ کہتے ہیں کفالت بالمال صحیح ہے؟ جی اب کفالت بالمال آ گئی بھئی اس کے مسئلے ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں کفالت بالمال صحیح ہے وان جُھل المكفول به اگرچہ مکفول بہ مجہول ہی کیوں نہ ہو بھئی۔
آپ نے ضمانت دی بھئی اپنے ساتھی کی ضمانت دی زید کو کہ بھئی یہ آپ کے پیسے لے کر اگر اس نے یہ آپ کے پیسے ادا کر دے گا اگر اس نے ادا نہ کیے تو میں ادا کر دوں گا تو آپ نے مال کی ضمانت دے دی کفالت دے دی بھئی۔
اگرچہ آپ کو مال کا پتہ ہی نہیں ہے ابھی آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ آپ کے ساتھی نے زید کے لاکھ دینے ہیں دو لاکھ دینے ہیں دس لاکھ دینے ہیں لیکن کوئی حرج نہیں بھئی کفالت کیا ہے؟ صحیح ہو جائے گی۔
ہاں شرط یہ ہے دین صحیح ہونا چاہیے کیا ہونا چاہیے؟ دین صحیح ہونا چاہیے تو پھر کفالت صحیح ہے بھئی کہتے ہیں بھئی دین صحیح کی قید کیوں لگائی؟ کہتے ہیں یہ احتراز ہے بدل کتابت سے بھئی آپ جانتے ہیں بھئی کتابت کے بارے میں کہ آقا اپنے غلام کو کہہ دیتا اتنا مال اگر تم لے آؤ تو تم کیا ہو؟ آزاد ہو تو یہ مکاتبت بن گیا بھئی اور یہ آزاد آدمیوں کی طرح ہوتا ہے آقا اس سے خدمت وغیرہ نہیں لے سکتا یہ جائے گا اب کام وغیرہ کرے گا پیسے اکٹھے کرے گا اور وہ آقا کو دے کر اپنے نفس کو آزاد کروائے گا تو اس پر بھی جو مال ہے وہ کیا ہے اس پر؟ دین ہے کیا ہے؟ دین ہے لیکن دین صحیح نہیں ہے یہ دین ضعیف ہے مولانا کیا ہے؟ دین ضعیف اس لیے دین صحیح وہ ہوتا ہے جب تک وہ کہ اس میں جب تک ادائیگی نہ کی جائے یا وہ دین معاف نہ کر دے اس وقت تک وہ ختم نہیں ہوتا۔
مثلاً آپ نے زید سے گاڑی خریدی بھئی گاڑی لے لی اب آپ نے اس کے پیسے دینے ہیں یہ دین صحیح ہے اس لیے کہ یہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک آپ ادا نہ کر دیں یا زید آپ کو معاف نہ کر دے اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں۔
لیکن یہ بدلے کتابت یہ دین صحیح نہیں بھئی دین ضعیف ہے کیوں؟ کیونکہ اس میں ادائیگی
اے ضروری نہیں ہے بھئی۔ وہ غُلام کیا کہہ دیتا ہے؟ لگا رہ بے چارہ، لگا رہ، بڑی محنت، کوشش کی، لیکن دیکھا نہیں بھئی، مجھ سے تو اتنے پیسے کبھی بھی نہیں۔ وہ آ کر کہہ دیتا ہے، "نہیں بھئی، میں عاجز ہوں، اتنے پیسے نہیں لا سکتا۔" بس بھئی! کتابت کیا ہوئی؟ ختم ہو گئی اور دین اس پر ختم ہوا، وہ پھر اسی طرح مملوک بن گیا۔
تو دیکھو، یہ اداء اور ابرأ کے بغیر ہی یہ دین کیا ہو گیا؟ ختم ہو گیا۔ معلوم ہوا یہ دینِ صحیح نہیں۔
والکفالۃ بالمال تصح وکفالۃ بالمال صحیح ہے، وإن جہل المكفول بہ، اگرچہ مكفول بہ مجہول ہی ہو، إذا صح دينہ، جبکہ اس کا دین کیا ہو؟ صحیح ہو۔
الدین الصحيح دين لا يسقط إلا بالأداء أو الإبرأ۔ دینِ صحیح ایسا دین ہے جو ساقط نہیں ہوتا، مگر ادائگی سے یا بری کر دینے سے، معاف کر دینے سے۔ وہ وہ وہ احتراز عن بدل الكتابۃ، اور یہ احتراز ہے بدل کتابت سے، فإنہ غير صحيح، اس لیے کہ وہ غیر صحیح یعنی ضعیف دین ہے۔
إذ المولى لا يستوجب على عبدہ دينا، اس لیے کہ آقا اپنے غلام پر دین کا حق دار نہیں ہوتا بھئی۔ آقا کیا ہوتا ہے؟ اپنے دین، غلام پر، بھئی، وہ تو آپ کا غلام ہے، اس پر دین کا حق دار نہیں۔ تو دین ہے تو لیکن یہ دینِ صحیح نہیں۔ بھئی۔
وأبوہ يسقط بالعجز، اور یہ کیا ہے بدل کتابت؟ کہ ساقط ہو جاتا ہے عجز کی وجہ سے بھی۔
تو کہتے ہیں کفالۃ بالمال صحیح ہے، اگرچہ مكفول بہ مجہول، مجہول ہی کیوں نہ ہو، جبکہ دینِ صحیح ہو بنحو اس قسم کے لفظوں سے کفلت بما لك عليہ۔ میں ضامن ہوں اُس چیز کا۔
بما، اُس چیز کا۔ لك، جو آپ کے لیے ہے علیہم، اس پر۔ یعنی آپ کے جو کچھ اُس پر نکلا، میں اُس کا کیا ہوں؟ ضامن ہوں۔ یہ لفظ بتلا رہے ہیں کن لفظوں سے صحیح ہے بھئی۔
کتصح هذه الكفالۃ صحيح ہے یہ کفالت، وإن كان المال المكفول بہ مجھولا، اگرچہ مالِ مكفول بہ مجہول کیوں نہ ہو، أو بما يدركك في هذا البيع، یا یوں کہنے سے جو کچھ تمہیں تاوان ہو اس بیع کے اندر، تو میں اُس کا ضامن ہوں۔
بھئی، زید، عمرو سے زمین خرید رہا ہے، لیکن ڈرتا ہے بھئی، کہ پتہ نہیں یہ زمین کسی اور کی نہ نکل آئے۔ بھئی، آپ اسے ضمانت دیتے ہیں، "نہیں بھئی، زمین خرید لو، اچھی اسی کی ہے، اور اگر اس میں کوئی آپ کو نقصان ہوا، تاوان ہوا، کوئی اور مستحق نکل آیا، تو میں آپ کے ثمن کا ضامن ہوں، میں آپ کو دوں گا بھئی۔"
تو اس کو درک کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ درک۔ اور درک بھئی، را کے فتحہ اور سکون دونوں طرح پڑھا جاتا ہے، درست ہے بھئی۔ تو وہ جو تاوان بیع کے اندر آئے کسی پر بھئی۔
أو بما يدركك في هذا البيع، یا میں کفیل ہوں اُس چیز کا جو تاوان آپ پر آئے اس بیع کے اندر۔ ہذا الزمان يسمى زمان درک، اس زمان کو کیا کہتے ہیں؟ زمانِ درک کہتے ہیں۔ وہ زمان الاستحقاق اور یہ کس چیز کا زمان ہے؟ استحقاق کا زمان۔ یعنی اگر کوئی اور اس مبیع کا مستحق نکل آیا، تو آپ کے ثمن کا میں ضامن ہوں۔
أي يضمن للمشتري، یعنی زمان دیتا ہے مشتری کو۔
رد الثمن، کس چیز کا؟ ثمن کے واپس کرنے کا۔ إن استحق المبيع مستحق، اگر استحقاق نکل آیا مبیع کا، مستحق، کوئی مستحق، کسی مستحق کا استحقاق نکل آیا، کس چیز کا؟ مبیع کا۔ تو وہ اس کو ثمن کیا کرے گا؟ مشتری کو واپس کرے گا، اس چیز کا زمان دیا۔
أو علق الكفالۃ بشرط ملائم، اسی طرح صحیح ہے کفالت، اگر معلق کر دی کفالت کو کسی مناسب شرط کے ساتھ۔ نحو مثال کے طور پر ما بايعت فلانا، جو تو نے بايعت کا معنی ہوتا ہے کسی سے خرید و فروخت والا معاملہ کرنا۔ کیا کرنا؟ بیچنا نہیں، خرید و فروخت والا معاملہ کرنا۔
نحو ما بايعت فلانا، جو کچھ تو یہ ما شرطیہ آگے آپ کو بتلائیں گے کہ جو تو نے خرید و فروخت کا معاملہ کیا فلاں پر، یہ لفظ کہے۔ أو ما زاب لك عليہ، زاب أي وجب، جو واجب ہوا آپ کے لیے فلاں پر یہ لفظ کہے۔ أو ما غصبك، یا جو کچھ اس نے آپ کا غصب کیا، آپ سے زبردستی لے لیا، فعليہ، تو وہ مجھ پر ہے۔
समझ में आया؟ मसलन یہ سب کے ساتھ فعليہ جزا ایک ہی ذکر کر دی بھئی، سمجھ میں آیا؟ ما بايعت فلانا فعليہ، ما زاب لك عليہ فعليہ، أو ما غصبك فعليہ۔ جی۔ تو کہتے ہیں ان سب، ما زاب کا معنی بتلا رہے ہیں أي ما وجبا ہے بھئی، جو واجب ہوا۔
ففي هذه صورتہ، ما شرطيۃ، ان صورتوں کے اندر ما شرطيۃ ہے بھئی۔ معناه ان کا معنی یوں ہوگا، ان بايعت فلانا، اگر تو نے خرید و فروخت کا معاملہ کیا اس سے، فيكون في معناه تعليق، تو یہ کس معنی میں ہوا بھئی؟ تعلیق۔ اگر تو نے اس سے کیا کیا؟ خرید و فروخت کا معاملہ کیا، تو میں ضامن ہوں، تو ضمانت کو دیکھو، معلق کر دیا۔
تو کہا تھا کسی مناسب شرط کے ساتھ معلق کرنا صحیح ہے کفالت کو، غیر مناسب کے ساتھ معلق کرنا صحیح نہیں۔ مناسب سے کیا معنی کہتے ہیں، وعنا بالملائم المناسب، اور ارادہ کیا ملائم سے، ملائم کا لفظ استعمال کیا، اس کا معنی بتلایا۔ ملائم سے مراد جو ہے مناسب ہے، فإن هذه الأشياء أسباب لوجوب المال، اس لیے کہ یہ چیزیں کیا ہیں؟ مال کے وجوب کا سبب ہیں۔ دیکھو، کسی سے بیع کرتا ہے، تو اس پر کیا واجب ہو جاتے ہیں؟ ثمن، مثلاً واجب ہو جاتے ہیں۔
جی، أو ما زاب، یا ما غصبك، کسی سے کوئی غصب کرتا ہے، تو اس پر اس کا رد واجب، مال واجب ہوتا ہے۔ تو یہ چیزیں مال کے وجوب کا سبب ہیں، فيناسب ضم الذمۃ إلى الذمۃ، تو ان مناسب ہے اس کے اندر ایک ذمے کو دوسرے ذمے کے ساتھ ملانا۔
فقوه ما بايعت فلانا، بھئی۔ بھئی، میں نے کیا معنی کیا ما بايعت کا؟ ما بايعت، جو خرید و فروخت کا معاملہ کیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھیے خود بتلا رہے ہیں ما بايعت فلانا، جو ہے، أي ما بايعت منہ، جو تو نے اس سے خریدا، فإني ضامن لثمنه، میں کس چیز کا ضامن ہوں؟ اس کے ثمن، یعنی ثمن کا ضامن بنے گا، مبیع کا ضامن نہیں بنے گا، اس لیے کہ مبیع کے اندر کفالت نہیں صحیح تو کہتے ہیں، فإني ضامن لثمنه، میں ضامن ہوں اس کے ثمن کا، لا ما اشتريت منہ۔
دیکھا؟ نہ کہ اس چیز کا جو تو نے اس سے خریدی۔ سمجھ میں آیا؟ دیکھا، دونوں معنی کر رہے ہیں۔ یہ شراء کو بھی شامل ہے اور بیع کو۔ تو اگر آپ نے بیع کی، تو میں آپ کے ثمن کا ضامن ہوں، یہ معنی ہے، یہ معنی نہیں کہ آپ نے کسی سے کچھ چیز خریدی، تو فإني ضامن للمبيع، میں کس کا ضامن ہوں؟ مبیع کا۔
فإن الكفالۃ بالمبيع لا يجوز على ما يأتي، اس لیے کہ کفالت بالمبيع جو ہے، لا يجوز على ما يأتي، جائز نہیں ہے، بنا بر اس کے جو آئے گا، بھئی، آگے بتائیں گے آپ کو۔
وإن علق بمجرد الشرط فلا، اور اگر کفالت کو معلق کر دیا محض کسی شرط کے ساتھ، مناسب شرط نہیں ہے، عام شرط ہے، فلا، پھر یہ کفالت صحیح نہیں۔
كإن حبت الريح، جیسے کیا کہتا ہے؟ اگر ہوا چلی، تو میں کیا ہوں؟ کفیل ہوں۔
أو جاء المطا، إن جاء المطر، اگر بارش ہوئی، تو میں کیا ہوں؟ ضامن ہوں۔ یہ درست نہیں ہے بھئی۔
فإن كفل بما لك عليه ضامن قدر ما قامت به ببينۃ، ما قامت به ببينۃ۔ یہاں ایک اور با ہونی چاہیے بھئی۔
بھئی، ان لفظوں کے ساتھ کفالت کی۔ فإن كفل اگر کفیل بنا بما بما لك عليه، جو کچھ آپ کا اس پر ہے، میں اس کا کیا ہوں؟ ضامن ہوں۔ اگر اس نے نہ دیے تو میں دوں گا۔ تو لفظ اس نے یہ کہے، جو کچھ آپ کا اس پر ہے، اب یہ دوسرا شخص، جس کو ضمانت دی تھی، اس نے بینہ کے ذریعے ثابت کر دیا کہ اس کے دوسرے نے کتنے دینے ہیں؟ 1000، بھئی، کتنے؟ 1000، تو وہ اب 1000 اس کو دینے پڑیں گے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟
فإن كفل، اگر وہ کفیل بنا بما لك عليه، جو کچھ آپ کا ہے، اس پر، تو ضامن، وہ ضامن ہوگا قدر ما قامت به ببينۃ، اس قدر مقدار کا، جو اس پر قائم ہو جائے کس کے ساتھ؟ بینہ کے ساتھ، اس پر جو مقدار ثابت ہو جائے، اس کا یہ ضامن ہوگا، اس پر وہ دینا وا- ضروری ہو جائے گا۔
وبلا بینۃ، اگر بینہ نہیں ہے، بھئی، ایک شخص نے دوسرے پر کیا ہے؟ مال کا دعویٰ کیا اور آپ نے ضمانت دے دی تھی اس کی۔ اب اس کے پاس بینہ نہیں ہے، مدعی کے پاس، بھئی۔
اب، مثلاً مدعی کہتا ہے، اس نے اس کے 2000 دینے، اس نے میرے 2000 دینے ہیں۔ آپ نے کیا کہا؟ نہیں بھئی، اس نے آپ کے 1500 دینے ہیں۔ کتنے دینے ہیں؟ ہاں، 1500 میں آپ کو دوں گا بھئی۔
تو اب کیا کریں بھئی؟ کہتے ہیں بھئی، اس صورت میں جو کفیل ہے، اس کی تصدیق کی جائے گی۔
کیونکہ وہ کفیل منکر ہے زیادتی کا، وہ کتنے کا دعویٰ کر رہا ہے؟ 2000، یعنی 500 زائد کا، اور کفیل اس کا کیا کر رہا ہے؟ انکار کر رہا ہے، اور قول کس کا معتبر ہوتا ہے؟ منکر کا، لہٰذا قول اس کا معتبر ہوگا کفیل کا ساتھ قسم کے، یعنی اس سے قسم کھا- وہ بینہ تو پیش کر نہیں سکتا، یا آپ قسم کھا لے، تو یہ اتنے پیسے دے دے گا۔
یہ معنی ہے وبلا بينۃ، اور بغیر بینے کا، بغیر بینے کے، صدق الكفيل، کس کی تصدیق کی جائے گی؟ کفیل کی تصدیق کی جائے گی۔ فيما يقر به، ساتھ اس کے، جس کا وہ کیا کر رہا ہے؟ اقرار کر رہا ہے، مع حلفہ، ساتھ اس کی قسم کے، یعنی اس کی قسم کے ساتھ، جو جس چیز کا وہ اقرار کر رہا ہے، اس کی تصدیق کی جائے گی۔
کہ یہ کس صورت میں ہے؟ بلا بينۃ، جب بینہ نہ ہو، بھئی۔
والأصيل، اور اصیل کی، اس کا عطف بھی کفیل پر ہے، أي صدق الأصيل، اور اصیل کی تصدیق کی جائے گی بھئی، فيما يقر، بھئی، صورت مسئلہ پہلے سمجھ لو۔
زید نے عمر پر دعویٰ کیا 2000 درہم کا بھئی۔ زید، المدعی کون؟ زید، مدعا علیہ کون؟ عمر۔ کتنے کا مدعی ہے؟ زید؟ 2000 کا۔ آپ نے ضمانت دے دی، مولانا۔
اب اس نے کہا 2000 درہم دینے ہیں اس نے، آپ نے کہا بھئی، 1500 دینے ہیں بھئی۔
تو اگر اس کے پاس بینہ ہوئی، پھر تو اس کے حق میں فیصلہ ہو جائے گا 2000 میں۔
سمجھ میں آیا؟
جو بھی ثابت ہو جائے، اور اگر اس کے پاس بینہ نہ ہوئی، پھر کس کا قول معتبر ہے؟ کفیل کا قول معتبر ہے، پھر کفیل کی تصدیق کی جائے گی قسم لے کر۔
اب کفیل مثلاً کہتا ہے، بھئی، میں نے 1500 اس نے دینے تھے۔
کس نے دینے ہیں بھئی؟ مثلاً، زید نے دینے ہیں 1500 بھئی۔
تو کس کی طرف سے ضمانت دی تھی بھئی، آپ نے؟
عمر کی۔
عمر کی طرف سے دی تھی ضمانت۔
عمر کہتا ہے، نہیں بھئی، میں نے 2000 ہی دینے ہیں۔
لو بھئی۔
اور گلے پڑ گیا ہو تو اس کے۔
کفیل کہہ رہا ہے 1500 دینے ہیں، مکفول عنہ کیا کہہ رہا ہے؟ 2000 دینے ہیں۔
کہتے ہیں بھئی، قول کفیل کا معتبر ہے۔ قول کس کا معتبر؟ کفیل کا۔
مکفول عنہ کا قول، جو اقرار کر رہا ہے، اقرار تو حجت کا قاصرے، قاصر ہے، اپنے نفس میں تو ٹھیک ہے، غیر کے لیے وہ صحیح نہیں۔
تو اپنے حق میں ٹھیک ہو جائے گی اس کی، یہ 1500 اس کو دے دے گا کفیل، اور اس پر اب کتنے باقی رہ گئے؟ 500 اس پر باقی رہ جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی؟
تو جو زائد جس کا اس نے اقرار کیا تھا، وہ کس کے حق میں صرف درست ہیں؟ مكفول عنہ کے حق میں تو درست ہیں، کفیل کے حق میں نہیں۔
یہ معنی ہے، وبلا بينۃ، اور بغیر بینے کے، اور بغیر بینے کے، صدق الكفيل، کس کی تصدیق کی جائے گی؟ کفیل کی تصدیق کی جائے گی۔ فيما يقر به، ساتھ اس کے، جس میں وہ اقرار کر رہا ہے، مع حلفہ، ساتھ اس کے حلف کے۔
والأصيل، أي صدق الأصيل، اور اصیل کی، کیا کی جائے گی؟ تصدیق کی جائے گی۔ فيما يقر، یہ ما مصدریہ ہے، آگے چل کر آپ کو بتلائیں گے، فی أي في إقراره، اصیل کی تصدیق کی جائے گی، اس کے اقرار کے میں بھئی، بأكثر منہ۔
اس سے زیادہ کے اندر۔
بھئی جس کا اقرار کس نے کیا تھا؟ کفیل نے۔ اس سے کیا ہے؟ کفیل سے زیادہ کا اقرار کیا ہے، تو اس زیادہ کے اندر اصیل کی تصدیق کی جائے گی، ala نفسہ فقط، صرف اس کے نفس پر بھئی۔
مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ترجمہ بھی۔
أي إن لم يقيم البينۃ، اگر بینہ قائم نہ کر سکا بھئی، مكفول لہ، صدق الكفيل في مقدار ما يقر بہ، تصدیق کی جائے گی کفیل کی اس مقدار کے اندر جس کا وہ اقرار کر رہا ہے، مع أنہ، ساتھ اس کے، أنہ يحلف على نفي الزيادۃ، کہ وہ قسم اٹھائے گا کس پر؟ نفی زیادتی پر، تو وہ معلوم ہوا زیادتی کا منکر ہے۔
وينبغي أن يحلف على العلم، اور مناسب یہ ہے کہ اس کو علم پر قسم دی جائے، بھئی یہ قسم، قسم کیا دیں گے اسے بھئی؟
کفیل کیا قسم اٹھائے گا؟
یہ نہیں کہے گا کہ میں نہیں ج، میں زید، زید نے اس کے کتنے دینے ہیں؟ 1500۔ یہ قسم نہیں، بھئی۔
بلکہ یہ کہے، میرے علم میں کتنا ہے بھئی؟
کہ اس نے کتنے دینے ہیں؟ ہاں، 1500 زیادہ، 1500 سے زیادہ اس کے نہیں دینے، تو یہ علم پر قسم اٹھائے گا کہ مجھے علم نہیں۔
کہتے ہیں بھئی، علم پر کیوں قسم اٹھائے گا؟
کہتے ہیں بھئی، اس لیے کہ وہ جو چیز جو غیر پر واجب ہو، اس میں صرف علم پر ہی قسم اٹھائی جا سکتی ہے اور کسی چیز پر نہیں بھئی۔
وينبغي أن يحلف على العلم على العلم، اور مناسب یہ ہے کہ اس کو قسم دی جائے علم پر، جاننے پر، بأنك لا تعلم، کہ تو نہیں جانتا أن أكثر من هذا واجب على الأصيل، کہ اس سے زیادہ اصیل پر، بھئی، وہ مکفول عنہ کو کیا نام رکھتی ہے انہوں نے؟ اصل، وہ اصل ہے، کیونکہ اس۔ تو
کہ تو قسم اٹھا کے تو نہیں جانتا کہ اس سے زیادہ واجب ہیں اصل پر، فإنك لا، اگر اس نے یہ قسم اٹھانے سے انکار کر دیا أو اقر بالزائد، یا زیادتی کا کیا کر دیا؟ اقرار کر دیا، لزم عليہ، تو اس پر وہ زیادتا لازم ہو جائیں گے۔
والنما يحلف على العلم، کہتے ہیں یہ علم پر کیوں قسم دی جائے گی؟ کہتے ہیں علم پر اس کو اس لیے قسم دی جائے گی لأن الحلف فيما لا يجب على الغير، ليس إلا على العلم، اس لیے کہ قسم اس چیز کے اندر جو غیر پر واجب ہو رہی ہو، اس میں نہیں ہوتی قسم، مگر صرف کس پر؟ اس پر، بھئی، آپ پر اپنے اوپر واجب ہوتے تو پھر تو آپ انکار وغیرہ کریں، لیکن غیر کے بارے میں تو صرف کس چیز کی بات چلے گی؟ علم کی، کہ آپ کو پتہ ہے یا پتہ نہیں بھئی۔
وإن أقر الأصيل، اور اگر اقرار کر لیا اصیل نے، بأكثر، اس سے زیادہ کا، مما أقر بہ الكفيل، جس کا اقرار کس نے کیا تھا؟ کفیل نے تو 1500 کیا تھا، اب مکفول عنہ نے کس کا اقرار کر لیا؟ 2000 کا، يكون ذالك مختصرا عليہ، تو یہ زائد ایک مقدار جو ہے، اسی پر بند رہے گی، یعنی اسی پر آئے گی، کفیل پر نہیں۔
لأن الإقرار حجۃ قاصرۃ، اس لیے کہ اقرار کیا ہے؟ حجت قاصرۃ۔ اب ترکیب بتلا رہے ہیں بھئی، وكلمۃ ما في قولہ فيما يقر به موصولۃ۔
بھئی اوپر متن میں کیا آیا تھا؟ صدق الكفيل فيما يقر بہ، یہ ما کون سا ہے؟ تو کہتے ہیں وہ ما في قولہ، ما جو ماتین کے اس قول میں آیا ہے فيما يقر بہ، یہ ما موصولۃ، یہ کیا ہے؟ موصولہ ہے، والضمير في بہ راجع إلى ما، اور بہ کی جو ہا ضمیر ہے، یہ کس کو راجع ہے؟ ما کو راجع ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟
سمجھ میں یہ عائید ہے بھئی۔
وفي قولہ فيما، اور وہ ما جو کس قول میں ہے، آگے ماتین کا قول آ رہا ہے، والاصيل فيما يقر به بأكثر منہ، تو اس میں جو ما آ رہا ہے، وفى قولہ فيما يقر به بأكثر منہ، اس کے اندر جو ما آیا، مصدريۃ، یہ ما کون سا ہے بھئی؟ مصدریہ ہے۔
أي صدق الأصيل، تصدیق کی جائے گی اصیل کی۔
فيما يقر تھا متن میں، ما مصدریہ ہے، اب اس کو مصدر بنا لو، أي في، دیکھا، اب شرح میں کیا کہا، صدق الاصيل في إقراره، باقی ساری عبارت اسی طرح ہیں، بأكثر منہ۔
اب منہ کی ہا ضمیر کچھ کو راجع؟ کہتے ہیں أي مما يقر بہ الكفيل، اس سے زیادہ جس کا اقرار کون کر رہا ہے؟
بھئی کفیل نے کتنے کا اقرار کیا؟ 15 کا، 1500 کا۔
نظر رکھو متن پہ اور اصیل کی تصدیق کی جائے گی فيما يقر ای فی إقرارہ اس کے اقرار میں تصدیق کی جائے گی بأكثر منه اس سے زیادہ میں، بھئی کس سے زیادہ میں؟ اس وہ 1500 جس کا اقرار کس نے کیا تھا؟ ہاں اس سے زیادہ میں اور وہ کتنا تھا؟ اس نے کتنے کا اقرار کیا تھا سارا؟ 2 هزار، 2000 میں اس کی تصدیق کی جائے گی بھئی۔ اس سے زائد میں، بھئی اس سے زائد۔
ولو جعلت انہوں نے بھئی ما پہلے ما کو موصولہ بنایا، دوسرے ما کو مصدریہ بنایا، کہتے ہیں اس لیے کہ اگر ثانی کو بھی موصولہ بنا لیں تو معنی خراب ہو جائے گا، کیسے خراب ہو جائے گا؟ دیکھو یہی سمجھ لو۔
دیکھو متن پہ نظر رکھو، اور اصیل کی تصدیق کی جائے گی فيما، ما مصدریہ میں بنا رہا ہوں، اس چیز کے اندر تصدیق کی جائے گی يقر جس کا وہ کیا کر رہا ہے؟ اقرار کر رہا ہے بأكثر منه، اب منه کی ہا ضمیر کس کو راجع کرنا پڑے گی؟ ما کو، کس کو راجع کرنا پڑے گی؟ ما کو۔
جس سے زیادہ کا وہ اقرار کر رہا ہے، یہ ترجمہ بن گیا۔ اصیل کی تصدیق کی جائے گی فيما اس چیز کے اندر يقر بأكثر منه جس سے زیادہ کا وہ کیا کر رہا ہے؟ بھئی کس سے زیادہ کا وہ اقرار کر رہا ہے؟ 1500 سے، کس سے زیادہ کا اقرار کر رہا ہے؟ معلوم ہوا اس کی بھی 1500 میں تصدیق کی جائے گی، حالانکہ یہ مقصد ہے بتلانے سے؟ سمجھ عبارت خرابی سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
اصیل کی تصدیق کی جائے گی اس چیز کے اندر جس سے زیادہ کا وہ اقرار کر رہا ہے، وہ کس سے زیادہ کا اقرار کر رہا ہے؟ اور وہ 1500 کا اقرار کس نے کیا تھا؟ معلوم ہوا جس کا کفیل نے اقرار کیا ہے اس کی بھی اسی کے اندر تصدیق کی جائے گی، حالانکہ اسی کے اندر اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی اس سے زیادہ میں کیا کی جائے گی اس کی؟ تو خرابی سمجھ میں آئی بھئی؟
ولو جعلت موصول ولو جعلت موصولة اگر اس ما کو موصولہ بنا دیا جائے يفسد المعنى تو معنی فاسد ہو جاتا ہے لأنه حينئذ يصير تقدير الكلام، اس لیے کہ اس صورت میں تقدیرِ کلام یہ ہو جائے گی بھئی، تقدیرِ کلام کیا ہو جائے گی؟ صدق الأصيل، تصدیق کی جائے گی اصیل کی فی الشيء، ما کی جگہ کیا رکھ دیا؟ الشيء، اس چیز کے اندر الذي يقر بأكثر منه، ہا ضمیر کس کو راجع؟ یہ بھی اسی شئے یعنی ما موصولہ کو راجع تھی أعني ذلك الشيء، اس چیز کے اندر جس چیز سے زیادہ کا وہ اقرار کر رہا ہے فالشيء الذي يقر الأصيل بأكثر منه هو ما أقر به الكفيل، پس وہ چیز جس سے زیادہ کا اصیل اقرار کر رہا ہے وہ چیز ہے جس کا اقرار کس نے کیا ہے؟
کفیل نے جس چیز کا اقرار کیا ہے، اصیل کیا کر رہا ہے؟ اس سے زیادہ کا اقرار کر رہا ہے، تو یہ تو معلوم ہوا اس پر بھی وہی چیز واجب ہو گی والغرض أن الأصيل يصدق في في الأكثر اور غرض تو یہ ہے کہ اصیل کی تصدیق کی جائے گی زیادہ کے اندر، کس کے اندر؟ لا أنه يصدق فيما أقر به الكفيل، نہ کہ یہ کہ اس کی تصدیق کی جائے گی اس چیز کے اندر جس کا اقرار کس نے کیا ہے؟ کفیل نے۔
اچھا بھئی! اس کو تکرار کرو، اگر حل نہ ہو پھر مجھے بتائیں اس کو پھر کر لیں گے بھئی، چلیے بس، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
تو کہتے ہیں
اب متن پر ذرا صرف نظر۔