Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-060

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 35
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
ثم شرع بعد ذلك فيما يفعله القاضي إذا كان الخصم حاضرا أو لم يكن. گذشته دن بھئی آپ نے مسائل پڑھے تھے بھئی کہ قاضی کیا کیا کرے گا بھئی۔ اور آپ نے پڑھا تھا کہ بیوی کے نفقے کے اندر اور ولد کے نفقے کے اندر بھئی۔ بیوی کے نفقے میں زوج کو اور ولد کے نفقے میں والد کو قید کیا جائے گا اس لیے کہ یہ ان کی بقا کے لیے ضروری ہے بھئی۔ اس بچے کی یا بیوی کی بقا کے لیے نفقہ ضروری ہے اس لیے قید میں ڈالا جائے گا۔ لیکن ولد کے دین کے اندر والد کو قید نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ یہاں پر ولد سبب بن رہا ہے والد کو تکلیف دینے کا اور حالانکہ شریعت میں منع کیا گیا ہے کہ کوئی ولد اپنے والد کو والدین کو تکلیف نہ دے بھئی فلاتقل لهما أف ولا تنهرهما۔ کہ ثم شرع بعد ذلك پھر شروع ہوئے اس کے بعد بھئی یہ آگے آنے والے متن کے بارے میں بتلا رہے ہیں بھئی کہ اس کے بعد اب ماتن شروع ہو گئے فيما يفعله القاضي جی۔ کہ وہ جو قاضی کرے گا إذا كان الخصم حاضرا جبکہ خصم یعنی مقابل فریق مخالف حاضر ہو اور لم يكن بھئی یا حاضر نہ ہو تو پھر کیا حاضر ہو تو کیا کرے گا؟ حاضر نہ ہو تو کیا کرے گا؟ فقال پس ماتن فرماتے ہیں فان شهدوا على خصم حاضر حكم بها وكتب بها وهو السجل۔ اگر حاضر ہوئے ہوئے اگر گواہی دی فان جی فان شهدوا اگر گواہی دے دی گواہوں نے علی خصم حاضر ایسے فریق ایسے مقابل پر جو حاضر تھا حکم بها تو فیصلہ کر دے گا اس شہادت کے ساتھ بھئی وكتب بها اور اس فیصلے کو کیا کر دے گا؟ لکھ لے گا وهو السجل اور یہ جو ہے سجل کہلاتا ہے بھئی۔ جو شہادت کو سنا اور اس پر جو فیصلہ کیا یہ لکھا جو اس نے قاضی نے فیصلہ یہ لکھا ہوا کیا کہلاتا ہے؟ سجل کہلاتا ہے۔ أي حكم بالشهادت جی ضمیر کا مرجع بتلایا حکم بها متن میں آیا تھا جی وكتب بها اس کا مرجع بھی بتلا رہے ہیں وكتب بالحكم فیصلہ کرے گا کس کے ساتھ شہادت کے ساتھ اور لکھ لے گا اس حکم کو وهذا المكتوب هو السجل اور یہ جو لکھا ہوا ہے بھئی۔ جی یہ کیا ہے سجل ہے فیکتب پس لکھے گا قاضی حکمت بذالک میں نے یہ اس کا فیصلہ کی فیصلہ کیا بھئی او ثبت عندي یا میرے نزدیک یہ ثابت ہو گیا فان هذا حكم تو یہ ہمارا حکم یہ حکم ہے۔ وإن شهدوا سمجھ میں آیا بھئی معلوم ہوا قاضی تب فیصلہ کرے گا جبکہ فریق مخالف حاضر ہو اگر حاضر نہ ہو غائب ہو تو پھر فیصلہ نہیں کر سکتا جی تفصیل آگے آ رہی ہے۔ وإن شهدوا على غائب اور اگر گواہوں نے گواہی دی کسی غائب پر بھئی لم يحكم بھئی تو پھر فیصلہ نہیں کرے گا وکتب بالشورۃ یہ ہے مثلا بھئی مدعا مدعی ہے لاہور کے اندر مدعا علیہ ہے پشاور میں یا کراچی میں بھئی۔ تو یہاں پر یہ گواہوں کو پیش کرے گا بھئی کہ فلاں گواہ جو فلاں شخص جو ہے اس کے پاس میری فلاں چیز ہے یا میری زمین ہے اس پر قبضہ کیا ہے اس نے۔ اور یہ میرے پاس میرے گواہ ہیں بھئی۔ تو قاضی کیا کرے گا؟ گواہوں کی گواہی کو سنے گا اور پھر اس کو لکھ کر لکھے گا اس گواہی کو۔ اور پھر بھیجے گا اس شہر کے قاضی کو فیصلہ نہیں کرے گا اس لیے کیونکہ مدعا علیہ یہاں پر موجود نہیں اور مدعا علیہ موجود نہ ہو تو قاضی بینہ پر فیصلہ نہیں کر سکتا بھئی۔ تو چنانچہ اس دوسرے قاضی کو خط لکھے گا بھئی۔ دوسرے قاضی کو۔ अच्छा। اور پھر خط ویسے ہی نہیں دے گا مدعی کو کہ لو بھئی یہ خط اس قاضی کے پاس لے جاؤ۔ بلکہ اس خط پر دو گواہ بنائے گا مولانا دو عادل گواہ بنائے گا قاضی یا ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنائے گا کہ اس کے اندر میں نے یہ لکھا ہے ان کو بھی بتلا دے گا بھئی اور اس پر مہر بھی لگا دے گا۔ اور پھر وہ لے کر جائیں گے بھئی اس دوسرے قاضی کے پاس بھئی۔ دوسرے قاضی کے پاس جب خط پہنچ جائے۔ تو اور گواہ بھی خط کے ساتھ ہیں بھئی کہ ہمارے سامنے اس قاضی یہ کاتب قاضی لکھنے والا جو تھا اس نے یہ چیز اس کے اندر لکھی ہے اور حوالے کی ہے آپ کو دینے کے لیے۔ تو پھر اس کے بعد وہ کیا کرے گا؟ وہ مدعا علیہ کو بلا لے گا اور جس پر دعوی کیا گیا جس چیز کا مثلاً اگر فرض کرو غلام کا دعوی کیا میرا غلام کیا تھا؟ میرا غلام بھاگا ہے اور فلاں شخص کے پاس ہے پشاور میں اس کو بھی طلب کر لے گا بھئی۔ اس کو بھی طلب کر لے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی آگے تفصیل آ رہی ہے۔ وإن شهدوا على غائب اور اگر گواہوں نے گواہی دی کسی غائب آدمی پر لم يحكم قاضی فیصلہ نہیں کرے گا وکتب بالشهادت اس شہادت کو لکھ لے گا۔ لیحکم المكتوب إليه إليہ بها تاکہ فیصلہ کر دے مکتوب الیہ قاضی اس شہادت کے ساتھ بھئی۔ اس نے شہادت لکھ لی اب اس شہادت وہ وہ کس کے پاس بھیجے گا مولانا؟ اس مکتوب الیہ قاضی کے پاس بھیجے گا وہ پھر اس پر کیا کرے گا؟ فیصلہ کرے گا یہ معنی ہے بھئی۔ تاکہ فیصلہ کرے اس کے مکتوب الیہ قاضی بہا اس شہادت کے ذریعے وہو الكتاب الحكمو اور یہ کیا ہے کتاب ہے۔ اس کو کتاب حکمی کہتے ہیں مولانا کیا کہتے ہیں؟ کتاب حکمی کہتے ہیں بھئی۔ کیونکہ یہ اس نے اس لیے لکھا ہے تاکہ مکتوب الیہ قاضی اس کے ذریعے کیا کر دے؟ حکم کر دے یعنی فیصلہ فیصلہ کر دے تو اس لیے کتاب حکمی کہتے ہیں کہ مکتوب الیہ قاضی اس کے ذریعے فیصلہ کرے گا بھئی۔ تو اسے کتاب حکمی کہتے ہیں وکتاب القاضی إلَى القاضی اور کتاب القاضی إلَى القاضی کہتے ہیں بھئی وہو نقل الشهادت حقیقتا اور یہ کیا ہے مولانا حقیقتا شہادت کو نقل کرنا ہے۔ دیکھو گواہی اس کے پاس دو گواہوں نے دی ہے اس گواہی کو یہ نقل کر رہا ہے منتقل کر رہا ہے مولانا یہاں سے کہاں؟ دوسرے قاضی کے پاس اس کو نقل منتقل کر رہا ہے بھئی تو یہ یہ نقل شہادت ہے۔ تو یہ نقل شہادت ہے حقیقتا ویقبل فيما لا يسقط بالشبهة اور قبول کی جائے گی بھئی قبول کی جائے گی یہ کتاب بھئی فيما ان چیزوں کے اندر لا يسقط بالشبهة جو شبہ کی وجہ سے ساقط جو چیزیں شبہ سے ساقط ہو جاتی ہیں ان کے اندر کتاب القاضی قبول نہیں کی جائے گی بھئی یہ کتاب حکمی اس کے اندر قبول نہیں کی جائے گی۔ کیوں؟ کیونکہ اس کے اندر شبہ آ جاتا ہے مولانا۔ جی شبہ آ جاتا ہے۔ کہ پتا نہیں یہ اسی قاضی نے خط بھیجا ہے یا درمیان میں انہوں نے خود خط تیار کر کے لے آئے ہیں۔ شبہ آ گیا یا نہیں آ گیا بھئی؟ شبہ آ گیا اور شبہ کی وجہ سے وہ چیزیں جو ساقط ہو جاتی ہیں لہٰذا ان میں قبول نہیں ہوگا مثلا حدود اور قصاص ہیں حدود اور قصاص کیا ہوتے ہیں شبہ کی وجہ سے ساقط ہو جایا کرتے ہیں آپ پڑھ چکے ہیں بھئی الحدود تدرئ بالشبهات بھئی۔ تو جب شبہ آ گیا تو اب اس میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ کہتے ہیں ویقبل اور قبول کیا جائے گا یہ کتاب حکمی کو فيما ان چیزوں کے اندر لا يسقط بالشبهة جو ساقط نہیں ہوتے شبہ کی وجہ سے ای ما سوى الحدود والقصاص جی۔ یعنی علاوہ حدود اور بتلایا وہ کیا چیزیں ہیں بھئی؟ جو حدود اور قصاص کے علاوہ چیزیں ہیں بھئی۔ إذا شهد به عنده بھئی جبکہ وہ گواہی دیں بھئی۔ اس چیز کی عندہ کس کے سامنے بھئی؟ قاضی کے سامنے اس چیز کی گواہی دیں کدن جیسے کہ دین ہے بھئی۔ جی دین کے اندر بھئی کہ فلاں کا مجھ پر فلاں نے میرا اتنا دین دینا ہے والعقاری اور یہ غیر منقولہ جائیداد جو ہوتی ہے مولانا۔ والنکاح اور نکاح کے اندر مولانا ایک عورت دعوی کرتی ہے کسی دوسرے شہر میں آدمی پر مثلا نکاح کا۔ والنصب یا نسب کا دعوی کوئی کرتا ہے مثلا بھئی والمغصوب یا کس چیز کا دعوی کرتا ہے؟ غصب کا دعوی کرتا ہے جی کہ فلاں نے میری چیز غصب کی ہے فلاں شہر میں۔ جی والأمانة والمضاربة المجهودتين اور وہ امانت اور وہ مال مضاربت المجهودتين جن کا کیا کیا گیا ہو؟ انکار کیا گیا ہو۔ ان کے ان سب چیزوں کے اندر کیا قبول کی جائے گی مولانا کتاب۔ کتاب حکمی قبول کی جائے گی۔ بھئی امانت اور مضاربت کے ساتھ مجهودتين کی قید لگائی کہ امانت اور وہ امانت اور وہ مال مضاربت جن کا کیا کیا گیا ہو؟ انکار کرنے انکار کیا ہو دوسرے شخص نے بھئی ان میں کتاب القاضی قبول کی جائے گی۔ اب بتلا رہے ہیں فائدہ بھئی کہ انکار کرنے مجهودتين کی قید ماتن نے کیوں لگائی کہتے ہیں فأن الأمانة ومال المضاربت اس لیے کہ امانت اور مال مضاربت جو ہے اذا لم يجحدا جب ان کا انکار نہ کیا گیا ہو۔ لا يحتاج إلى كتاب القاضی إلَى القاضی تو یہ کتاب القاضی إلَى القاضی کی محتاج بھئی جب دوسرے نے امانت جس کے پاس رکھوائی ہے وہ انکار نہیں کرتا جس کو مال مضاربت ہے وہ جب وہ انکار نہیں کرتا تو پھر کتاب القاضی کی ضرورت ہے؟ نہیں پھر تو کتاب القاضی کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وإذا جحدا جب ان دونوں کا انکار کر دیا جائے صار مغصوبين بھئی تو یہ دونوں کیا بن گئے؟ یاد رکھو بھئی مولانا مذہب یہ ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اور اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا کہ کتاب القاضی إلَى القاضی جو ہے ان چیزوں میں قبول کیا جائے گا۔ جن کا ضبط صفت کے ساتھ ہو سکے یعنی ان میں اشارے کی ضرورت نہ پڑتی ہو۔ یعنی اس میں اشارے کی ضرورت نہ پڑے۔ یعنی دین وغیرہ مولانا دین کے اندر کوئی اشارہ کرنا پڑتا ہے بھئی؟ لیکن اگر آپ مثلاً ایک غلام کا دعوی کسی پر کرتے ہیں کہ یہ غلام میرا ہے تو وہاں آپ کو باقاعدہ قاضی کے سامنے اشارہ کر کے بتلانا پڑے گا یہ جو غلام ہے یہ کس کا ہے؟ میرا ہے تو منقولی چیزوں کے اندر جبکہ وہ عین ہوں مولانا اس میں کیا کرنا پڑتا ہے؟ اشارے کے ساتھ تعین کر کے بتلانا پڑتا ہے قاضی صاحب اس گاڑی کا میں اس پہ دعوی کر رہا ہوں اس موٹر سائیکل کا میں اس پہ دعوی کر رہا ہوں۔ یا اس گھڑی کا میں اس پہ دعوی کر رہا ہوں یا اس غلام کا اس پہ دعوی کر رہا ہوں یہ ساری چیزیں کیونکہ غلام اور بھی ہو سکتے ہیں آپ کس کا دعوی کر رہے ہیں تو وہاں تعین ضروری اور تعین کس کے ذریعے ہوگی؟ اشارے کے ذریعے تعین ہوگی مولانا۔ جبکہ دین وغیرہ بھئی یہ چیزیں جو ذکر ہوئیں ان میں صفت ہی کافی ہے بھئی وہ کیوں دین سمجھ میں آیا کیونکہ وہ ذمے میں باقی رہتا ہے بھئی کہ مثلا اس نے میرے ایک لاکھ روپیہ دینا ہے۔ جی سمجھ آئے تو یہ دین بن کر باقی رہتا ہے دوسرے کے ذمے میں یا اس نے میری کیا دینی غصب کی ہے؟ کوئی نسلی چیز غصب کی ہے 100 من اس نے میری گندم دینی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا تو عین کے اندر کیا کرنا پڑتا ہے بھئی؟ اشارہ ضروری اور دین کے اندر صفت بیان کرنا ضروری کہ یہ یہ چیز اس نے میری دین دینی ہے اتنا روپیہ ہے اتنی مقدار ہے جی۔ تو لہٰذا بھئی آگے واذا جحدا جب ان دونوں کا انکار کر دیا جائے یہ دراصل ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اشکال یہ ہوتا ہے بھئی کہ امانت یا مال مضاربت وہ تو عین ہے بھئی۔ مال مضاربت آپ کسی کو دے دیے ہیں مولانا سامان کافی سارا دیا لو بھئی یہ بیچو جتنا نفع کماؤ گے آدھا تمہارا اور آدھا میرا تو امانت جو رکھوائی وہ بھی عین مال مضاربت وہ بھی کیا ہے؟ عین۔ تو کہتے ہیں جب تک انکار نہیں یہ عین کے حکم میں ہیں اور جب عین کے حکم میں ہے تو پھر عین کے اندر اشارہ ضروری ہوتا ہے وہاں کتاب القاضی إلَى القاضی قبول نہیں کی جائے گی۔ ضابطہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ جب تک بھئی مال مضاربت اور اور امانت کا انکار نہیں وہ کیا ہیں مولانا؟ عین ہیں عین بھئی اور جب عین ہیں تو وہاں پر کیا ضروری؟ اشارہ معلوم ہو اس کے اندر کتاب القاضی إلَى القاضی قبول نہیں کی جائے گی۔ لیکن جب ان کا انکار کر دیا جائے تو پھر یہ دین بن جاتی ہیں بھئی کیونکہ ان کی قیمت کیا ہو جاتی ہے دوسرے کے ذمے جی اس کا بدل دینا پڑتا ہے دوسرے کو بھئی۔ تو جب وہ انکار کرے گا تو یہ دین بن جائیں گی جب دین بن جائیں گی تو پھر اس کے اندر کیا ہے کتاب القاضی إلَى القاضی قبول کی جائے گی۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ مجهودتين کی قید کیوں لگائی کیونکہ اگر انکار نہیں تو یہ عین ہے اور عین ہے تو کتاب القاضی إلَى القاضی اس میں مقبول نہیں۔ کیونکہ اس کے اندر اشارہ ضروری ہوتا ہے اور ہاں جب انکار کر دیا جائے تو پھر یہ کیا بن گئیں؟ اس کے ذمے دین بن گئیں اور دین کے اندر پھر کیا ہوتا ہے؟ کتاب القاضی إلَى القاضی کو قبول کیا جاتا ہے اس لیے مجهودتين کی قید۔ وإذا جحدا صار مغصوبين جب ان کا انکار کر دیا جائے یہ دونوں کیا بن گئیں؟ امانت اور مال مضاربت کیا بن گئیں؟ مغصوب بن گئے وفي المغصوب تجب القيمة اور مغصوب شے کے اندر کیا واجب ہوتی ہے؟ قیمت واجب ہوتی ہے وهي دين اور یہ دین ہے فيجري فيه الكتاب الحكمي تو اس کے اندر جاری ہوگا کتاب الحكمي جاری ہوگی۔ اذ لا احتیاج الی الاشارة اس لیے کہ اس میں احتیاج نہیں ہے اشارے کی طرح بل يعرف بالصفة بلکہ اس کو کس کے ذریعے جانا جائے گا؟ صفت بیان کر دے گا کہ اتنی اتنی ایسی ایسی چیز تھی اتنی قیمت ہوتی ہے اس کی بھئی۔ بخلاف العینی بھئی بخلاف کس کے بھئی؟ عین عین منقولہ کے فانہ يحتاج فيھا الی الاشارة اس لیے کہ وہاں پر احتیاج پڑتی ہے کس چیز کی؟ عین منقولہ کے اندر اشارے کی حاجت پڑتی ہے تو وہاں پر کتاب القاضی نہیں مقبول بھئی لیکن جب ان کو انکار کر دیا یہ مغصوب بن گئے اور مغصوب کے اندر قیمت آیا کرتی ہے یا اس کا مثل آتا ہے تو وہ دین ہوا اور دین کے اندر کتاب الحكمي مقبول ہے۔ هذا عند أبي حنيفة رحمه الله یہ متن ہے مولانا۔ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے وکذا عند أبي يوسف رحمه الله اور اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں بھئی؟ کہ دین وغیرہ کے اندر بھئی عین کے اندر کتاب الحكمي کو قبول نہیں کیا جائے گا یعنی منقولہ چیزوں کے اندر کتاب الحكمي کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے الا فی العبد الآباق مگر بھگوڑے غلام کے اندر بھئی۔ اس کے اندر کتاب الحكمي کو قبول کیا جائے گا اگرچہ غلام بھی مولانا کیا ہے؟ عین منقولی ہے۔ عین منقولی ہے۔ لیکن اس کے باقی عین منقولی کے اندر تو قبول نہیں ہوگی کتاب الحكمي اس عبد آبق میں قبول ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ یہ کہتے ہیں اس میں حاجت زیادہ ہے غلام کیا ہوتے ہیں اکثر بھاگ جاتے ہیں تو باندی کے اندر ضرورت نہیں کہ ان میں بھاگنا قلیل ہے اور غلام کے اندر بھاگنا کثیر ہے تو وہاں حاجت پیش آگئی۔ تو اس حاجت کی وجہ سے اب کتاب الحكمي اس کے اندر جائز ہے۔ تو کہے گا فیقبل فيه پس قبول کیا جائے گا کتاب الحكمي کو اس عبد آبق کے میں وقد ذكر في كيفيته۔ جی اور تحقیق ذکر کیا گیا ہے اس کی کیفیت کے بارے میں ہاکذا یا قد ذکر اگر امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ولقد ذكر في كيفيته ہاکذا تحقیق ذکر کیا ہے اس کی کیفیت کے بارے میں اس طریقہ پر کہ کیسے لکھے گا بھئی کتاب القاضی إلَى القاضی عبد آبق کے بارے میں کیسے لکھی جائے گی۔ يكتب قاضی جی بخاری الی سمرقند لکھے گا بھئی قاضی بخاری الی قاضی سمرقند بھئی یہ خط کے اوپر لکھ رہا ہے مولانا کیا لکھ رہا ہے قاضی قاضی من قاضی بخاری الی قاضی سمرقند بھئی۔ تو بخارا کا قاضی لکھنے والا یہ ہوا کاتب اور مکتوب الیہ کون ہوا؟ سمرقند سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ ان فلانا وفلانا بھئی کہ فلاں اور فلاں جو ہے یہ دو گواہ شہدا عندي انہوں نے میرے پاس گواہی دی ہے ان عبد فلان کہ فلاں آدمی کا جو غلام ہے فلاں سے کون مراد ہے؟ مدعی کون؟ کہ مدعی کا جو غلام ہے المسمى بالمبارك جس کا کیا نام ہے؟ مبارک نام ہے الذي حليته كذا وكذا جس کا حلیہ اس اس قسم کا ہے بھئی۔ حلیہ لکھے گا آبقا من مالکہ وہ بھاگ ہے اپنے مالک سے ووقع بسمرقند اور وہ واقع ہوا ہے کہاں پر؟ سمرقند میں فی يدي فلان فلاں آدمی کے قبضے میں الی آخر الکتاب آخر تک لکھے گا بھئی۔ یہ سارا لکھے گا، اوپر کیا لکھے گا قاضی بخارا سے کس کی طرف قاضی ہے؟ سمرقند کی طرف لکھے گا اور یہ لکھے گا کہ فلاں فلاں دو گواہوں نے میری طرف میرے پاس گواہی دی ہے جو عادل گواہ ہیں کہ فلاں یہ جو مدعی ہے اس کا ایک غلام جس کا نام مبارک ہے وہ بھاگا ہے اور اس وقت کہاں موجود ہے؟ سمرقند میں، فلاں آدمی کے قبضے میں ہے بھئی۔ وختمہ اور پھر اس پر کیا کر دے گا قاضی مہر لگا دے گا۔ فاذا وصل الی قاضی سمرقند جب یہ خط پہنچے قاضی سمرقند کو، يحضر الخصم مع العبد تو حاضر کرے گا وہ خصم فریق مخالف کو یعنی مقابل کو بھی حاضر کرے، مدعا علیہ کو بھی مع العبد ساتھ کس کے؟ غلام کے بھی طلب کرے، تم بھی آ جاؤ بھئی غلام کو بھی لے کر آؤ جس کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ويفتحہ بشروطہ اور کھولے گا اس خط کو اس کی شرائط کے ساتھ بھئی۔ کس کے ساتھ؟ شرائط کے ساتھ بھئی۔ شرائط آگے بیان کریں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا کہ کن شرائط کے ساتھ؟ بس، بھئی خط کے خط کو وصول بھی اس وقت کرے گا جب اس آدمی کو حاضر کر دے۔ اس مقابل مدعا علیہ کو حاضر کرے اس کے سامنے کیا کرے؟ اس بھیجے ہوئے خط کو قبول کرے، سمجھ میں آیا اور دو آدمیوں کی گواہی بھی ہو ساتھ کہ یہ کس نے لکھا ہے؟ فلاں قاضی نے خط لکھا ہے۔ اچھا۔ تو وہ گواہی دیں گے کہ فلاں قاضی نے لکھا ہمارے سامنے، مہر لگائی، ہمارے حوالے کیا، جی تو اور فریق وہ مقابل مدعا علیہ بھی موجود ہو وہاں پر۔ تو کہتے ہیں ويفتحہ بشروطہ کھولے گا وہ اس خط کو ان کی شرائط کے ساتھ ولم يكن حليته كما كتب يتركه اگر غلام کا حلیہ ویسا نہیں تھا جیسے کہ اس نے لکھا تھا یترکہ تو کیا کر دے گا اسے؟ چھوڑ دے گا وان كان اور اگر اسی طرح تھا جیسے اس نے لکھا فالخصم ان ذهب الی بخارا فبہا تو فریق یہ مقابل اگر اس کو لے گیا بخارا تو اور بہتر ہے۔ देखو بھئی، اب آگیا قاضی کا خط آگیا دوسرے کا، اس کے ساتھ مدعی بھی ساتھ پہنچ گیا اور دو گواہ بھی پہنچ گئے اس کے قاضی نے جو بنائے ہیں اپنے خط پر۔ اب اس قاضی کو جب ملے گا یہ پوچھے گا بھئی کیا لے کر آئے ہو؟ جی فلاں قاضی نے ہمیں یہ بھیجا ہے اور اس نے اس مدعی کا فلاں فلاں آدمی پر دعویٰ ہے اس نے غلام اس کا اس کا اس کے پاس قاضی خط نہیں وصول کرے گا، خط نہیں کھولے گا نہ وصول کرے گا، پہلے کس کو بلوائے گا؟ اس مدعا علیہ کو بھی بلوالے گا، اس غلام جس پر دعویٰ کیا گیا اسے بھی بلوالے گا۔ پھر اس کے سامنے بھئی اس خط کو کھولے گا بھئی وہ گوا پہلے گواہی دیں گے کہ یہ خط کس نے بھیجا ہے؟ فلاں قاضی نے پھر کھولے گا بھئی اور حلیہ دیکھے گا جو اس قاضی نے لکھا ہے، گواہی دی تھی گواہوں نے اس قسم کا غلام ہے، اگر غلام کا حلیہ اس کے مطابق نہ ہوا پھر تو چھوڑ دے گا بھئی یہ غلام وہ نہیں۔ اور اگر حلیہ اس کے مطابق ہوا تو پھر کیا کیا جائے گا؟ قاضی مدعا علیہ کو کہے گا بھئی کہ اس غلام کو اب بھیجنا ہے، کدھر بھیجنا ہے؟ اس قاضی کاتب کے پاس بھیجنا ہے، اب اس کی مرضی ہے مدعا علیہ بھئی جس کے قبضے میں وہ غلام تھا وہ بھی ساتھ جانا چاہے تو بڑی اچھی بات ہے، اگر وہ ساتھ نہیں جاتا تو پھر اس غلام کو مدعی کے حوالے کر دیا جائے گا۔ کیا کر دیا جائے گا؟ ابھی فیصلہ نہیں کیا مولانا یاد رکھنا، ویسے اس کے حوالے کر رہا ہے کہ یہ غلام ہے لے جاؤ اس کو اس قاضی کاتب کے سامنے وہ پھر دوبارہ گواہوں کو بلوائے اور گواہ دیکھ کر تصدیق کریں کہ یہ وہی غلام ہے جس کی ہم نے کیا دی تھی؟ جس کے بارے میں گواہی دی تھی تو اس مدعی کو کے حوالے کرے گا غلام یہ والا قاضی۔ اور ویسے نہیں حوالے کر دے گا اس سے ضامن لے گا بھئی، رقبة غلام پر کہ غلام کو تم واپس پہنچاؤ گے، اگر تم نے واپس نہ کیا غلام تو پھر کیا کرے گا؟ جس نے ضمان ضمانت دی ہے بھئی اس سے پھر وہ اگر نہیں آتا تو پھر اس کافیل حاضر ہوگا بھئی، تاکہ پختگی ہو جائے بھئی کہیں اس کے غلام کو لے کر چلا نہ جائے بھئی۔ تو دیکھو یہ کہہ رہے ہیں فالخصم ان ذهب الی بخارا فبہا اگر وہ مقابل اس کو لے اس کے ساتھ چلا گیا بخارا، ان ذهب الی اگر وہ بخارا جائے فبہا تو بڑی بہتر ہے۔ والا اور اگر ایسا نہ ہو یعنی وہ خود بخارا نہیں جاتا بھئی، جس کے پاس غلام تھا تو کہتے ہیں يسلم العبد الی المدعی عبد کو کس کے سپرد کر دے؟ مدعی کے سپرد کر دے لا علی وجہ القضاء، لیکن یہ جو سپرد کرے گا وجہ القضاء کے طریقے پر فیصلے کے طریقے پر نہیں ہے، ویسے دے رہا ہے کہ یہ اس قاضی پہلے قاضی کے پاس لے جاؤ۔ ويأخذ منه كفيلا بنفس العبد، اور نفس عبد پر اس سے کفیل لے لے گا بھئی، ضامن لے لے گا کہ یہ غلام میں تمہارے حوالے کر رہا ہوں، کوئی ضامن دے دو کہ تم دو گے واپس۔ ويجعل في عنقه شيئا، اور جی لگا دے، بنا دے فی عنقه اس غلام کی گردن میں بھئی شیئا کوئی چیز، کوئی چیز ڈال دے اس کی گردن میں بھئی، سمجھ میں آیا، وختمہ اور اس چیز پر مہر بھی لگا دے صیانۃ عن التبدیل تبدیلی سے بچانے کے لیے عند شہادت شہودی جبکہ گواہ کیا دیں؟ گواہی۔ بھئی دیکھو اس غلام کو انہوں نے لے کر جانا ہے کہاں پر؟ اس دوسرے قاضی کے پاس لے کر جانا ہے تو اس پر کیا کرے گا؟ یہ والا قاضی اس غلام کی گردن میں کوئی چیز ڈال دی اور اس پر اپنی مہر بھی لگا دی کہ تاکہ کہیں ایسا نہ ہو وہاں جا کر کسی اور غلام کو قاضی کے سامنے پیش کر دیں اور گواہ کہیں ہاں یہ اس کا غلام ہے بھئی، تاکہ تبدیل کوئی نہ کر سکے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو تبدیلی کا امکان نہ رہے تو اب اس غلام کے گلے میں کوئی چیز ڈال دی ہے اور اس پر مہر بھی لگی ہوئی ہے، اب تبدیلی کا امکان نہیں۔ تو کہتے ہیں مہر بھی لگا دے گا اس کو تبدیلی سے بچانے کے لیے جبکہ گواہ گواہی دیں ويکتب الی قاضی بخارا جواب کتابہ، اور لکھے گا یہ والا قاضی قاضی بخارا کو اس کے کتاب اس کے خط کا جواب بھئی۔ وانہ اور یہ لکھے گا کہ ارسل الی العبد کہ اس نے کیا کیا ہے؟ اس نے بھیجا ہے اس کی طرف غلام کو، بھیج دیا ہے غلام کو فإذا وصل الی اليه الكتاب بھئی، جب اس پھر پہلے قاضی کے پاس وہ کتاب وہ خط پہنچ جائے۔ جی، يحضر الشہود وہ حاضر کرے گا ان گواہوں کو الذین شہدو فی غیبۃ العبد، جنہوں نے گواہی دی تھی غلام کی غیر موجودگی کے اندر۔ جی، ان کو دوبارہ حاضر کرے گا کیوں؟ ليشهدوا فی حضوره، تاکہ اب اس کی موجودگی میں بھی کیا کر دیں؟ گواہی دے دیں ويشير اليه، اور وہ اشارہ کریں گے اس غلام کی طرف، دیکھا؟ شے من عین منقولی تھی نا تو اب اشارہ ضروری تھا تو يشير اليه، اور وہ اشارہ کریں گے اس غلام کی طرف کہ انہ ملک المدعی، کہ یہ غلام کیا ہے؟ مدعی کی، جی، مدعی یہ گواہی جب انہوں نے دے دی بھئی۔ جی تو بھئی ابھی بھی وہ مدعا علیہ تو یہاں نہیں ہے، وہ تو وہیں پر ہے سمرقند میں تو لہذا یہ قاضی اب بھی فیصلہ نہیں کرے گا۔ بلکہ پھر لکھے گا قاضی سمرقند کو کہ میرے پاس گواہوں نے گواہی دے دی، یہی غلام ہے کس کا؟ مدعی کا یہی غلام ہے، یہ لکھ کر بھیجے گا پھر خط اس کو۔ جی، تو کہتے ہیں جو اور وہ اشارہ کریں گے کہ یہ مدعی کی ملک ہے لیکن لا یحکم لیکن فیصلہ نہیں کرے گا قاضی بخارا لان الخصم غائب، اس لیے کہ وہ مقابل غائب ہے ثم یکتب الی قاضی سمرقند، پھر وہ لکھے گا قاضی سمرقند کو ان شہود شہدو بحضوره، کہ گواہوں نے گواہی دے دی ہے اس کی غلام کی موجودگی کے اندر، جی، ليحکم قاضی سمرقند علی الخصم، تاکہ فیصلہ کر دے قاضی سمرقند سمرقند بھئی کس پر؟ اس مقابل پر فیصلہ کر دے۔ اب جب اس کے پاس وہ قاضی کے پاس وہ خط پہنچے گا تو وہ کیا کرے گا؟ اس مدعا مدعا علیہ کو حاضر کرے گا اور اس پر کیا کر دے گا؟ اس کے خلاف فیصلہ کر دے گا۔ تاکہ ليحکم، تاکہ فیصلہ کر دے قاضی سمرقند علی الخصم کس پر؟ اس فر فریق مخالف پر، یعنی اس کے خلاف فیصلہ کر دے ویبراء ای لیبرأ بھئی۔ جی، اور تاکہ بری ہو جائے الکفیل عن کفالتہ، کفیل اپنی کفالت سے تاکہ بری ہو جائے۔ تو یہ خط لکھے گا وہ تاکہ وہ قاضی اس پر فیصلہ کر دے اور کفیل اپنی کفالت سے بری ہو جائے اور یہ غلام کس کے حوالے کر دیا جائے گا؟ مدعا علیہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔ امام محمد رحمہ اللہ کا قبلہ ہے فيما ينقل۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قبول کیا جائے گا بھئی، ان چیزوں کے اندر بھی جن کو نقل کیا جاتا ہے، یعنی عین منقولی کے اندر بھی کتاب القاضی کو کیا کیا جائے گا؟ امام صاحب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک تو قبول نہیں کیا جائے گا لیکن امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں قبول کیا جائے گا ہر چیز کے اندر بھئی، سوائے وہ چیزیں جن جو شبے سے ساقط ہو جاتی ہیں۔ وعلیه المتاخرون، اور اسی پر کون ہیں؟ متاخرین بھی اسی پر ہیں سارے بھئی، کہ ہر چیز میں قبول کیا جائے گا لا فی حد و قصاص، لیکن حد اور قصاص کے اندر قبول نہیں، قود قصاص تو کہتے ہیں بھئی۔ ویجب اور واجب ہے ان یقرا علی من یشھدهم، واجب ہے بھئی، دیکھو یہ ہاں یہ تو ساری تفصیل وہ خط وغیرہ کی گزر گئی۔ اب پھر ادھر چلے گئے بھئی کتاب حکم کی آپ کو بتلا رہے تھے بھئی کتاب حکمی قاضی بھیجتا ہے دوسرے کو، تو کہتے ہیں بھیجتے ہوئے واجب ہے ان یقرا علی من یشھدهم ان کے پڑھے اس کو ان لوگوں پر جن کو گواہ بنا رہا ہے۔ بھئی کتاب حکمی کے ساتھ دو گواہوں کا ہونا ضروری تھا یا نہیں؟ ہاں ان یہ معنی ہے يشہد جن کو وہ گواہ بنا رہا ہے ان پر ان کو پڑھ کر بھی سنائے کہ میں نے اس کے اندر کیا لکھا ہے ويختم عندھم، اور ان کے پاس کیا کرے؟ مہر لگائے، ان کے سامنے مہر بھی لگائے گا ویسلم الیهم، اور وہ خط ان کے تو پہلے پڑھے گا، ان کے سامنے مہر لگائے گا، پھر ان کے سپرد کرے گا۔ ابو یوسف رحمہ اللہ لم يشتري شيئا من ذالك، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے ان میں سے کسی چیز کی بھی شرط نہیں لگائی۔ کہ یعنی ان کے سمجھ میں آیا ان کے سامنے پڑھنا بھی ضروری نہیں ہے اور ان کے سامنے مہر لگانا بھی ضروری نہیں۔ جی، سمجھ میں آیا؟ جی امام ابو یوسف رحمہ اللہ چونکہ خود قاضی بنے تھے، قاضی القضات تھے مولانا چیف جسٹس بنے ہوئے تو جب خود مبتلا ہوئے اس کام میں تو پتہ چلا یہ تو بڑا مشکل ہے اس طرح کرنا بھئی کہ ہر بار کیا کیا جائے؟ گواہ بلائے جائیں، ان کے سامنے پڑھا جائے اور پھر ان کے سامنے مہر لگائی جائے، کہتے ہیں نہیں بھئی کوئی حاجت نہیں ہے، دو عادل گواہ ہیں جب خود آپ ان کو قاضی خود وہ خط ان کے حوالے کر رہا ہے تو یہی کافی ہے بھئی۔ کہ یہ لے جاؤ اور اس میں یہ چیز میں نے لکھی ہے۔ تو کہتے ہیں ابو یوسف رحمہ اللہ لم يشتري شيئا من ذالك، انہوں نے کسی چیز کی شرط نہیں لگائی اس کے اندر واختار الامام السرخسی رحمہ اللہ قولہ، اور امام سرخسی رحمہ اللہ نے بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کو اختیار کیا ہے۔ جی۔ قضاء کے مسئلہ میں بھئی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کو قبول کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ خود کیا ہوئے تھے؟ اس کے اندر مبتلا خود قاضی بنے تھے اس لیے۔ فعند ابی یوسف رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ يشهد هم بھئی، کہ ان کو گواہ بنا دے گا کہ ان هذا کتابه، صرف یہ بھئی سنانے کی بھی ضرورت نہیں ہے، بس گواہ بنا دے گا ان هذا کتابه قاضی، گواہوں کو کہے گا یہ میرا خط ہے بھئی وختمه، اور کیا کرے گا ان کے سامنے مہر لگا دے گا بس۔ وعن ابی یوسف رحمہ اللہ اور ایک روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے یہ بھی ہے کہ الخط لیس بشرط کہ مہر لگانا بھی شرط نہیں ہے بھئی۔ جی۔ مہر لگانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں، جب آپ خود دو گواہ تیار کر کے بھیج رہے ہیں تو اب مہر کی کیا ضرورت؟ گواہ آپ کے ہیں خط کے اندر تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ آقول، علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں، کہتے ہیں اذا کان الکتاب فی ید المدعی، يفتء بان الخط شرط، وان کان فی ید الشهود یفتء بانہ ليس بشرط۔ علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں بھئی، اگر قاضی کا خط، قاضی خط کس کے ہاتھ میں دے رہا ہے؟ مدعی کے ہاتھ میں دے رہا ہے، پھر تو مہر شرط ہے، تاکہ کہیں وہ تبدیلی نہ کر دے اس کے اندر اپنا خط نہ لکھ لے۔ اور گواہوں کے حوالے جب کیا جائے گا، تو پھر مہر کی ضرورت نہیں ہے۔ اقول، میں کہتا ہوں اذا کان الکتاب فی ید المدعی، جب وہ خط جو ہے مدعی کے قبضے میں ہو ہاتھ میں ہو، يفتء تو فتوی دیا جائے گا بانہ الخط شرط، ان کے مہر لگانا شرط ہے، وان کان فی ید الشهود، اور اگر وہ خط گواہوں کے ہاتھ میں تھا، يفتء تو فتوی دیا جائے گا بانہ ليس بشرط، کہ یہ شرط نہیں۔ وإذا سلم الی المکتوب اليه، اور جب وہ خط سپرد کر دیا جائے بھئی، کس کے سپرد کر دیا جائے؟ مکتوب الیہ قاضی کے، لم یقبل، تو وہ تو اس خط کو قبول نہیں کرے گا الا بحضرت خصمه، مگر کس کی موجودگی میں؟ مقابل کی موجودگی، پہلے اس کو طلب کرے گا پھر اس کی موجودگی میں قبول کرے گا و بشهادت رجلين أو رجل وامرأتين، اور ساتھ کس کے؟ دو عادل آدمیوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کے ساتھ اس کو قبول کرے گا، ویسے نہیں بھئی۔ فإذا شهدوا، جب وہ گواہ گواہی دے دیں انہ کتاب قاضی فلاں، کہ یہ خط ہے فلاں قاضی کا قرأه علينا فی محکمته، یہ اپنے محکمے میں اس نے اپنے کیا کیا تھا ہمارے اوپر اس نے اس خط کو پڑھا تھا وختمه، اور کیا کیا تھا اس پر مہر لگائی تھی محکمے یعنی مجلس کے اندر وہاں اس نے پڑھا تھا اور مہر لگائی تھی وسلمه الينا، اور ہمارے اس نے سپرد کیا تھا، فتحہ القاضی۔ فتحہ، یہ ضمیر ہونی چاہیے، قاضی کھولے گا اس کتاب حکمی کو وقراءه علی الخصم، اور اس کو پڑھے گا کس پر؟ اس فریق اس مقابل پر پڑھے گا والزمه بما فیه، ان بقیا کاتبه قاضیاً، اور لازم کر دے گا اس پر اس کو جو اس بما فیه، جو اس خط کے اندر ہے مولانا، جو اس خط کے اندر ہے وہ اس پر کیا کرے گا؟ لازم کر دے گا۔ ان بقیا کاتبه قاضیاً، اگر یہ کب مولانا؟ بھئی کس نے خط بھیجنے والا کون؟ قاضی بخارا بھیجا کس کو؟ قاضی سمرقند سمرقند جو ہے اس سارے کو پڑھ کر اس خصم پر لازم کر دے گا، لیکن یہ شرط ہے کہ قاضی بخارا جس نے خط لکھا تھا وہ ابھی معزول نہ ہوا ہو، ابھی مرا نہ ہو، وہ زندہ ہو اور قاضی ہو۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اگر وہ معزول ہو چکا، پھر اس کے خط کو قبول نہیں کیا جائے گا، وہ تو اب ایک عام آدمی بن چکا ہے اور اگر مر چکا ہے تو بھی اسی طرح بھئی۔ تو کہتے ہیں لازم کرے گا کب ان بقیا کاتبه اگر باقی ہو وہ اس کا لکھنے والا قاضیان اس حال میں کہ کیا ہو؟ قاضی ہو فيبطل بموته وعزله، تو یہ باطل ہو جائے گا یہ کتاب حکمی، اس قاضی کاتب کی موت سے و عزلہ، اور اس کے معزول ہو جانے سے قبل وصوله، وہ خط اس خط کے پہنچنے سے پہلے ہی اگر وہ مر گیا یا معزول ہو گیا تو نہیں قبول کرے گا، باطل ہو جائے گا۔ وقضا بموت المکتوب اليه، اسی طرح بھئی اگر اس نے لکھا تھا قاضی کس کو؟ سمرقند بھئی فلاں بن فلاں قاضی، اور وہ قاضی جس کا نام لکھا تھا اس نے باقاعدہ خط پر اس کا نام تو نام بھی لکھیں گے، سمجھ میں آیا بھئی قاضی کا یہ بھی یاد رکھنا نام بھی لکھے گا اوپر کہ فلاں قاضی کون سا قاضی ہے۔ اگر وہ مکتوب الیہ مر گیا ہوا، جس کو خط لکھا تھا تو یہ خط کیا ہو جائے گا؟ باطل کیونکہ اس نے کس کو لکھا تھا؟ بھئی جس قاضی کے نام لکھا تھا اوپر نام لکھا ہوا تھا فلاں بن فلاں قاضی جو ہے سمرقند کا، اب وہ خود ہی مر گیا، تو لہذا یہ کتاب حکمی بھی کیا ہو گئی؟ ہاں۔ الا اذا کتب بعد اسمہ، مگر یہ کہ اس کے نام کے بعد اس نے آگے لکھا ہو، بھئی خط کے اوپر کیا لکھا تھا؟ من قاضی بخارا، قاضی بخارا زید بن بکر جو ہے اس کی جانب سے قاضی سمرقند جو عمرو بن خالد ہے۔ اب ان دونوں میں سے کوئی مر جائے تو پھر کیا ہو جائے گا؟ باطل بھئی۔ اور مکتوب الیہ اگر مر جائے، مکتوب الیہ تو اس صورت میں بھی یہ خط کیا ہو جاتا تھا؟ یہ کتاب حکمی باطل ہو جاتی تھی۔ لیکن اگر اس نے آگے تھوڑی سی مزید عبارت بڑھا دی تھی، کیسے عبارت کیوں لکھی تھی؟ کہ قاضی سمرقند زید بن بکر کی طرف سے کس کو؟ قاضی سمرقند، عمر بن خالد کی طرف اور ہر اس قاضی کی طرف اور ہر وہ شخص جس کو یہ خط پہنچے من قضاۃ المسلمین کس میں سے؟ مسلمانوں کے مسلمانوں میں سے جس مسلمانوں کے قاضیوں میں سے جس کو بھی یہ خط پہنچے اس کے نام اگر یہ عبارت بھی آگے لکھی تو اب چاہے وہ مر بھی جائے اس نے تو کیا کہا تھا؟ جس قاضی کے ہاتھ بھی یہ خط پہنچے تو اب باطل نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں اسی طرح مکتوب الیہ کی موت سے بھی یہ خط باطل ہو جائے گا الا اذا کتب بعد بعد اسمیہ مگر یہ کہ اس نے اس قاضی کے نام کے بعد لکھا ہو و الی کل من یصل الیہ من قضاۃ المسلمین اور ہر اس شخص کے جس کو پہنچے بھئی۔ ہر وہ ہر وہ قاضی بھئی من آ گئی من قضاۃ المسلمین یہ بیان ہے من کا بھئی۔ ہر تو تو اس من کی جگہ کیا اٹھا کر رکھ دیں؟ قضاۃ المسلمین ہر مسلمانوں کے ہر قاضی کے نام یصل الیہ جس کو یہ میرا خط پہنچے۔ سمجھ میں آیا؟ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ جی یہ تو ویسے سمجھایا میں نے آپ کو۔ جی اور اگر وہ الی کل من یصل الیہ ہر وہ شخص جس کو یہ پہنچے یہ خط بھئی من قضاۃ المسلمین یعنی کہ مسلمانوں کے قاضیوں میں سے بھئی۔ و عند ابی یوسف رحمہ اللہ لا یشترط امام ابو یوسف رحمہ اللہ چونکہ خود قاضی بنے تھے وہ فرماتے ہیں لا یشترط یہ شرط نہیں لگائی جائے گی کہ یخت کہ یہ لکھے الی قاضی معین کہ وہ کسی قاضی معین کو لکھے بھئی۔ بھئی سمجھ میں آیا بھئی؟ طرفین تو فرماتے ہیں قاضی معین لکھے کہ زید بن بکر کو میں یہ خط لکھ رہا ہوں یا خالد بن عمر کو لکھ رہا ہوں معین قاضی کو لکھنا نام لکھنا ضروری ہے وہ فرماتے ہیں نہیں بھئی کسی قاضی معین کی شرط نہیں لگائی جائے گی بل یکفی بلکہ کافی ہے ان یکتب ابتدان بھئی ابتدا ہی میں یوں لکھے الی کل من یصل الیہ من قضاۃ المسلمین مسلمانوں کے قاضیوں میں سے جس کو بھی یہ خط پہنچے۔ لأن تعیین المکتوب الیہ اسی لیے کہ مکتوب الیہ کی تعیین تضییق یہ تو تنگی ہے لا فائدۃ فیہ ایسی تنگی جس میں کوئی فائدہ نہیں۔ و ان مات الخصم ينفذ علی وارثہ اور اگر وہ فریق مقابل مر گیا تو نافذ ہوگا اس کے وارثوں پر بھئی یہ کتاب حکمی کس پر پھر نافذ کی جائے گی؟ اس کے وارثوں پر۔ و صح قضاء المرأۃ اور صحیح ہے بھئی چلیے بس مولانا ہذا واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
107 approved lectures · 60 of 107