Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-073

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 18 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 31
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَإِنْ أَقَرَّ لِلْقَاضِي أَنَّ شَهَادَتَهُ بِالتَّسَامُعِ أَوْ بِحُكْمِ الْيَدِ بَطَلَتْ۔ گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا بھئی، کہ کوئی شخص کسی چیز کو دوسرے کے قبضے میں دیکھے کہ وہ اس میں اس طرح اس کو استعمال کر رہا ہے اور اس طرح تصرف اس چیز میں کر رہا ہے جیسے مالک کیا کرتے ہیں، تو اس شخص کے لیے اس بات کی گواہی دینا جائز ہو جائے گی کہ یہ شخص اس چیز کا مالک ہے۔ مثلاً آپ نے زید کو دیکھا، وہ ایک گاڑی اس کے پاس ہے، وہ اس کو استعمال کر رہا ہے بھئی، مالکوں کی طرح اس کو چلاتا پھرتا ہے، تصرفات کرتا ہے بھئی۔ تو اس گاڑی پر عمرو نے دعویٰ کر دیا کہ یہ گاڑی میری ہے، تو اب آپ کے لیے زید کی طرف سے یہ گواہی دینا جائز ہو جائے گا کہ یہ گاڑی کس کی ہے؟ زید کی ہے، کیونکہ آپ نے اس گاڑی کو زید کے استعمال میں دیکھا، بالکل مالکوں کی طرح بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو قاضی کے پاس جا کر آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ گاڑی زید کی ہے، وہ اس گاڑی کا مالک ہے، گواہی دے سکتے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا، قاضی کے سامنے جا کر یہ گواہی تو دے دینا، لیکن یہ نہ بتلانا کہ میں نے صرف زید کے قبضے میں گاڑی دیکھی ہے اس لیے گواہی دے رہا ہوں۔ اگر آپ نے بجا بتلا دی کہ قاضی صاحب! میں یہ گواہی کیوں دے رہا ہوں؟ کیونکہ یہ گاڑی میں نے کس کے قبضے میں دیکھی ہے بھئی؟ زید کے قبضے میں، اس کے استعمال میں میں نے عام دیکھی ہے اس لیے میں یہ گواہی دے رہا ہوں، نہیں بھئی! اگر آپ نے قبضے کی گواہی کا سبب ذکر کر دیا کہ وہ قبضہ ہے زید کا، تو آپ کی گواہی باطل ہو جائے گی بھئی۔ گواہی کیا ہو جائے گی؟ باطل۔ یا آپ نے سنی، کہا: میں نے سنا ہے لوگوں سے اس طرح، میں نے سنا ہے، تو آپ کی گواہی کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ لہٰذا جب ایسے موقع پر گواہی دیں تو کوشش یہ ہو کہ پوچھنے تک نوبت نہ پہنچے بھئی، کہ یہ گواہی آپ کیوں دے رہے ہیں۔ لیکن اگر قاضی پوچھ لیتا ہے: آپ یہ گواہی کیسے دے رہے ہیں کہ زید اس گاڑی کا مالک ہے؟ آپ کو کیسے پتہ ہے؟ تو آپ یہ نہ کہہ دینا کہ میں نے سنا ہے یا میں نے گاڑی کو زید کے قبضے میں دیکھا ہے، ہاں یوں کہنا: ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے، معروف ہے یا سب کو معلوم ہے یہ بات کہ زید کیا ہے؟ اس گاڑی کا مالک ہے، یوں کہیں۔ ورنہ اگر آپ یہ کہیں گے: میں نے سنا ہے، یا میں نے صرف زید کے قبضے میں، استعمال میں یہ گاڑی دیکھی ہے، پھر تو آپ کی گواہی باطل ہو جائے گی اور زید کا حق مارا جائے گا۔ اگر وہ گاڑی کا مالک ہوا تو اس کا حق کیا ہو گا؟ کیونکہ آپ کی گواہی رد ہو جائے گی بھئی، جب گواہی رد ہوئی تو اس بیچارے کا حق چلا گیا بھئی۔ صورتِ مسئلہ سمجھ میں آئی بھئی؟ تو ان صورتوں میں جو اوپر ذکر ہوئیں گواہی دینا جائز، لیکن جب اس کی اگر پوچھنے تک نوبت آ جائے کہ آپ کیسے گواہی دے رہے ہیں اس بات کی، تو یہ کبھی نہ کہنا کہ اس کو ہم نے سنا ہے، یا ہم نے زید کے قبضے میں یہ چیز دیکھی ہے۔ یہ معنی ہے: فَإِنْ أَقَرَّ لِلْقَاضِي، اگر اقرار کر لیا کہ گواہ نے قاضی کے لیے أَنَّ شَهَادَتَهُ بِالتَّسَامُعِ، کہ اس کی گواہی لوگوں سے سننے کی وجہ سے ہے، أَوْ بِحُكْمِ الْيَدِ، یا کس وجہ سے ہے؟ قبضے کے حکم کی وجہ سے، یعنی قبضے کی وجہ سے ہے بھئی، بَطَلَتْ، تو اس صورت میں اگر اس نے اقرار کر لیا قاضی کے سامنے تو بَطَلَتْ، اس کی گواہی کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی بھئی۔ أَقُولُ۔ یرحمک اللہ! اچھا، یہ تو امام محمد رحمہ اللہ کا قول گزرا اوپر بھئی کہ کوئی چیز آپ کسی کے قبضے میں دیکھیں، وہ اس میں اس کو مالکوں کی طرح اس کو استعمال کر رہا ہے تو آپ کے لیے گواہی دینا جائز ہو جائے گا کہ یہ شخص اس چیز کا مالک ہے۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں بھئی! صرف دیکھنے کی وجہ سے آپ یہ گواہی دینا آپ کے لیے جائز نہیں ہے، بلکہ آپ کے دل میں بھی یقین ہو جائے کہ یہ شخص اس چیز کا مالک ہو سکتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ زید ہے، اس کے پاس آپ ایک گاڑی دیکھ رہے ہیں، دل میں بھی یقین ہو کہ یہ گاڑی کس کی ہے؟ زید کی ہے، زید جیسا آدمی اس گاڑی کا مالک ہو سکتا ہے۔ ایسا نہ ہو زید بڑا مفلس آدمی ہے، آپ اس کے پاس چار، آٹھ دن، دس دن مولانا! ایک مرسیڈیز گاڑی اس کو چلاتے دیکھیں، آپ جا کر گواہی دے دیں کہ زید اس گاڑی کا کیا ہے؟ مالک، کیونکہ اب تو دل کو، دل میں یقین نہیں، زید جیسا مفلس آدمی مرسیڈیز گاڑی کا مالک ہو سکتا ہے بھئی؟ نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو دل میں بھی یقین ہو کہ اس جیسا آدمی اس جیسی چیز کا مالک ہو سکتا ہے، پھر گواہی دینا جائز ورنہ جائز نہیں۔ یہ قول کس کا ہے؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول ہوا مقید، انہوں نے قید بڑھا دی کہ دل میں بھی یقین ہو کہ اس جیسا آدمی اس چیز کا مالک ہو سکتا ہے۔ اور امام محمد رحمہ اللہ کا قول کیا تھا؟ مطلق تھا، مطلق تھا۔ تو چنانچہ جب ذکر اگر قاضی کے سامنے اقرار کر لیا کہ میں صرف سننے کی وجہ سے یا صرف قبضے کی وجہ سے یہ گواہی دے رہا ہوں، تو گواہی کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ اچھا! تو کہتے ہیں: علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں: أَقُولُ، کہ میں کہتا ہوں: هَذَا يُؤَكِّدُ قَوْلَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، یہ پختہ کرتا ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کو، یہ ان کی تاکید کرتا ہے، کیا کرتا ہے ان کو؟ پختہ کرتا ہے یہ قول، یہ کہ ان کا کیا قول تھا؟ کہ أَنَّ بِمُجَرَّدِ الْيَدِ لَا تَحِلُّ الشَّهَادَةُ، کہ محض قبضے کی وجہ سے جائز نہیں ہے گواہی دینا، بَلْ يُشْتَرَطُ، بلکہ شرط لگائی جائے گی أَنْ يَقَعَ فِي قَلْبِهِ، کہ گواہ کے دل میں، گواہی دینے والے کے دل میں یہ بات بھی واقع ہو أَنَّهُ مِلْكُهُ، کہ یہ چیز اس کی، یعنی اس جیسا آدمی اس چیز کا مالک ہو سکتا ہے۔ تو یہ پختہ کرتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ فَإِنَّهُ قَدْ قِيلَ، اس لیے کہ تحقیق کہا گیا ہے أَنَّ قَوْلَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى تَفْسِيرٌ لِإِطْلَاقِ قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِي الرِّوَايَةِ، کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول وہ تفسیر ہے امام محمد رحمہ اللہ کے مطلق قول کی ایک روایت میں۔ ایک روایت میں کیا آیا مولانا؟ بھئی! قول دو آئے ہیں، ادھر توجہ کرو۔ امام محمد رحمہ اللہ کا قول تھا مطلق، اس میں یہ قید تھی؟ نہیں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول تھا مقید، اس میں قید بھی تھی کہ دل میں بھی کیا ہو؟ یقین ہو، یقین ہو۔ تو ایک روایت میں کہتے ہیں یہ آیا ہے کہ یہ امام، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول دراصل امام محمد رحمہ اللہ کے قول ہی کی تفسیر ہے اور امام محمد رحمہ اللہ کا قول مطلق نہیں ہے، لفظوں کے اعتبار سے مطلق ہے لیکن مراد ان کی بھی یہی تھی کہ یہاں پر کیا ہونا چاہیے؟ دل میں یقین ہونا چاہیے۔ اور اس کی تائید اس متن سے ہوتی ہے بھئی، کیا؟ کہ متن میں آ گیا، کیا آ گیا؟ کہ اگر قاضی کو بتلا دیا کہ صرف قبضے کی وجہ سے میں کیا کر رہا ہوں؟ گواہی دے رہا ہوں، تو اس کی گواہی کیا ہو جائے گی؟ باطل۔ معلوم ہوا کہ صرف قبضہ یہ ملکیت کا سبب نہیں ہے۔ صرف قبضہ ملکیت کا سبب نہیں، بلکہ دل میں یقین بھی ہونا چاہیے۔ اگر صرف قبضہ ملکیت کا سبب ہوتا تو پھر قاضی کو یہ بتلانے سے کہ میں نے صرف قبضہ دیکھا ہے، گواہی باطل نہ ہوتی۔ قبضہ تو اس نے دیکھا ہے یا نہیں؟ اور قبضے سے کیا ثابت ہوتی؟ قبضہ کیا ہوتا؟ ملکیت کا سبب۔ جب قبضہ نظر آ گیا تو معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ مالک۔ جب مالک ہے تو گواہی کو باطل ہونا چاہیے تھا؟ نہیں، لیکن متن میں کیا آیا؟ اس کی گواہی کیا ہو جائے گی؟ باطل۔ معلوم ہوا صرف قبضہ یہ سبب نہیں ہے ملکیت کا، اس کی وجہ سے کوئی مالک بنتا نہیں، بلکہ کیا ہونا چاہیے؟ دل کے اندر بھی یقین ہو۔ معلوم ہوا یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول دراصل امام محمد رحمہ اللہ کے قول کی تفسیر، اور اس کی تائید کس سے ہو گئی؟ متن کی اس عبارت سے بھئی۔ سب کو مسئلہ سمجھ میں آیا؟ جی، وَذَلِكَ، اور یہ اس وجہ سے، یعنی یہ تفسیر ہے، کیوں؟ لِأَنَّ مُجَرَّدَ الْيَدِ لَوْ كَانَ سَبَبًا لِلْمِلْكِ، اس لیے کہ محض قبضہ جو ہے اگر وہ ملکیت کا سبب ہوتا، جی! مولانا! آگے عبارت درست معلوم نہیں ہوتی بھئی۔ عبارت یوں ہو گی غالباً بھئی، کہ اگر قبضہ ملکیت کا سبب ہوتا، لَمَا بَطَلَتْ، تو البتہ وہ گواہی باطل نہ ہوتی عِنْدَ إِظْهَارِ سَبَبِ الشَّهَادَةِ، جبکہ شہادت کے سبب کا کیا کر دیا جاتا؟ بھئی! شہادت کے سبب کے اظہار سے گواہی باطل ہوئی تھی یا نہیں؟ قاضی نے پوچھا: آپ نے گواہی کیوں دی؟ آپ کو کیسے پتہ چلا زید اس گاڑی کا مالک ہے؟ آپ نے شہادت کا سبب کیا بتلایا؟ کہ میں نے اس کے قبضے میں یہ گاڑی دیکھی ہے، اس سے فوراً آپ کی گواہی کیا ہو گئی؟ باطل۔ تو گواہی کے سبب کو، کے اظہار سے گواہی باطل نہ ہوتی اگر قبضہ کس کا سبب ہوتا؟ ملکیت کا سبب ہوتا۔ اگر قبضے سے ملکیت ثابت ہوتی تو قبضہ تو اس وقت تھا، ملکیت تو اس کی کیا ہونی چاہیے؟ ثابت ہونی چاہیے، تو لہٰذا پھر اس کی گواہی کو باطل نہیں ہونا چاہیے جب وہ اس کے سبب کا اظہار کر دیتا ہے۔ لیکن یہاں پر جب وہ سبب بتلاتا ہے کہ میں گواہی کیوں دے رہا ہوں؟ کہ میں نے اس کے قبضے میں یہ چیز دیکھی ہے، اس کی گواہی فوراً کیا ہو جاتی ہے؟ باطل۔ معلوم ہوا صرف قبضہ ملکیت کا سبب نہیں، ورنہ اس کی گواہی کو باطل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ کب نہیں ہونا چاہیے تھا؟ جب وہ گواہی کے سبب کو کیا کر دے؟ اس کا اظہار کر دے۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لَمَا بَطَلَتْ عِنْدَ إِظْهَارِ سَبَبِ الشَّهَادَةِ، جی، مجھے یوں درست معلوم ہوتی ہے، واللہ اعلم! عبارت درست نہیں لگ رہی۔ اچھا بھئی! جی، سمجھ میں آیا؟ یا ہو سکتا ہے میری فہم میں صحیح نہ آئی ہو بھئی۔ جی، فَإِذَا تَبَيَّنَ، جب یہ بات ظاہر ہو گئی أَنَّهُ يَشْهَدُ بِمُجَرَّدِ الْيَدِ بَطَلَتْ شَهَادَتُهُ، جب یہ بات ظاہر ہو جائے کہ أَنَّهُ يَشْهَدُ بِمُجَرَّدِ الْيَدِ، کہ گواہ گواہی دے رہا ہے صرف قبضے کی وجہ سے، بَطَلَتْ شَهَادَتُهُ، تو اس کی گواہی کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ وَمَنْ شَهِدَ أَنَّهُ شَهِدَ دَفْنَ زَيْدٍ أَوْ صَلَّى عَلَيْهِ قُبِلَتْ وَهُوَ عِيَانٌ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے: آپ نے زید کو مرتے ہوئے تو نہیں دیکھا، اچھا! لیکن آپ گواہی دیتے ہیں کسی وجہ سے قاضی کے پاس جا کر کہ قاضی صاحب! زید مر چکا ہے، کیونکہ میں زید کے دفن کے وقت حاضر تھا، میرے سامنے زید کو دفن کیا گیا۔ یا میں نے اس پر نمازِ جنازہ پڑھی، میں بھی نمازِ جنازہ میں شریک تھا، کہتے ہیں بھئی: یہ گواہی قبول کی جائے گی زید کی موت پر بھئی۔ اس لیے کہ یہ بھی معائنے کی طرح ہے، کس کی طرح ہے؟ معائنے کی طرح ہے بھئی، کیونکہ عادةً عرف اس طرح کی چیز میں التباس نہیں ہوتا بھئی۔ جب سب کہہ رہے ہیں، سب کو پتہ ہے بھئی نمازِ جنازہ کس کی پڑھ رہے ہیں؟ زید کی۔ دفن یا دفن کس کو کر رہے ہیں؟ زید کو، معلوم ہوا زید مر چکا ہے، اس میں کسی قسم کے اشتباہ اور التباس کا خطرہ نہیں، اب آپ گواہی دے سکتے ہیں کہ زید مر چکا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ موت کے وقت تو سب لوگ نہیں ہوتے، موت کے وقت تو ایک آدھ آدمی اس کے پاس موجود ہوتا ہے، تو لہٰذا جنازے میں شامل ہو جانا یا دفن کے وقت حاضر ہو جانا یہ بھی معائنے ہی کی طرح ہے گو یا آپ نے خود کیا کر لیا اس کی موت کا معائنہ کر لیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ وَمَنْ شَهِدَ أَنَّهُ شَهِدَ، اور جس نے گواہی دی أَنَّهُ شَهِدَ، کہ وہ حاضر ہوا تھا، شَهِدَ کا کیا معنیٰ؟ حاضر۔ حاضر تھا، کہاں پر بھئی؟ دَفْنَ زَيْدٍ، کہاں پر؟ زید کے دفن پر، أَوْ صَلَّى عَلَيْهِ، یا جس نے گواہی دی کہ اس نے زید پر نماز پڑھی ہے، یعنی نمازِ جنازہ، قُبِلَتْ، تو اس کی گواہی کیا کی جائے گی؟ قبول کی جائے گی، وَهُوَ عِيَانٌ، اور یہ کس کی طرح ہے؟ معائنے کی طرح ہے، یہ معائنہ ہی ہے، لِأَنَّ مُعَايَنَةَ الْمَوْتِ لَا يَكُونُ إِلَّا مِنْ وَاحِدٍ أَوْ اثْنَيْنِ، اس لیے کہ موت کا معائنہ صرف ایک یا دو کی طرف سے ہی ہوتا ہے، عموماً ایک دو آدمی وہاں موجود ہوں گے، فَحُضُورُ الدَّفْنِ أَوِ الصَّلَاةِ بِمَنْزِلَةِ الْمُعَايَنَةِ، تو حاضر ہونا دفن میں یا نمازِ جنازہ میں، یہ معائنے کے درجے میں ہے، وَلَا يَجْرِي فِي مِثْلِ ذَلِكَ التَّلْبِيسُ عَادَةً، اور جاری نہیں ہوتا اس قسم کے مواقع میں اشتباہ عادةً بھئی، اس قسم کے مواقع میں عموماً اشتباہ جاری نہیں ہوتا، آپ کہیں: پتہ نہیں بھئی ایسا ہوا یا نہیں، نہیں بھئی! اس میں عموماً اشتباہ نہیں ہوتا، جب جنازے میں شریک ہوئے ہیں، دفن میں حاضر ہیں، معلوم ہوا زید مر چکا ہے واقعی، یہ بھی اس کے معائنے کی طرح ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو آپ اس کے موت کے وقت تو حاضر نہیں تھے جب زید مر رہا تھا، لیکن پھر بھی آپ کیا کر سکتے ہیں؟ جب آپ کس میں شریک ہوئے ہیں؟ جنازے میں یا اس کے دفن میں، کیونکہ یہ معائنے کی طرح ہے۔ بَابُ قَبُولِ الشَّهَادَةِ وَعَدَمِهِ یہ باب ہے مولانا! شہادت کے قبول کرنے کے بارے میں اور قبول نہ کرنے کے بارے میں۔ بھئی! اس باب میں بتلائیں گے کس کی گواہی قبول کریں گے، کس کی گواہی قبول نہیں کریں گے بھئی، آسان باب ہے مولانا! جلدی جلدی دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: وَتُقْبَلُ الشَّهَادَةُ مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ، اور قبول کی جائے گی شہادت اہل اہواء سے۔ خواہشاتِ نفس، اہواء جمع ہے ہوا کی بھئی، خواہشِ نفس کو کہتے ہیں، نفس کی خواہش، چاہے پسندیدہ ہو، محمود ہو، چاہے مذموم ہو، لیکن عام استعمال اب اس کا کس کے اندر ہے؟ مذموم کے اندر، کس کے اندر؟ ناپسندیدہ کے اندر استعمال ہوتا ہے، ورنہ خواہشِ نفس تو نیک بھی ہو سکتی ہے اور بد بھی ہو سکتی ہے، لیکن یہاں کون سی مراد ہے؟ بد۔ تو کہتے ہیں: گواہی قبول کی جائے گی اہل اہواء کی، جی! یا یوں کہہ لیں: بدعتیوں کی مولانا! ان کی گواہی قبول کی جائے گی، إِلَّا الْخَطَّابِيَّةَ، مگر فرقہ خطابیہ جو ہے ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھا! اب تفصیل کر رہے ہیں مولانا! أَهْلُ الْأَهْوَاءِ أَهْلُ الْقِبْلَةِ، خطابیہ طاء کے شد کے ساتھ ہے مولانا! خطابیہ۔ أَهْلُ الْأَهْوَاءِ أَهْلُ الْقِبْلَةِ الَّذِينَ لَا يَكُونُ مُعْتَقَدُهُمْ مُعْتَقَدَ أَهْلِ السُّنَّةِ، اہل ہوا وہ اہل قبلہ ہیں، یعنی وہ بھی کس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں بھئی؟ ان کا قبلہ بھی یہی ہے، وہ اہل قبلہ ہیں الَّذِينَ لَا يَكُونُ مُعْتَقَدُهُمْ، کہ نہ ہو ان کا اعتقاد مُعْتَقَدَ أَهْلِ السُّنَّةِ، اہل سنت کے اعتقاد کی طرح نہ ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی ان کا عقیدہ اہل سنت والجماعت کے عقیدے سے مختلف ہو، ہوں اگرچہ اہل قبلہ، وہ بھی اسی کو اپنا قبلہ سمجھتے ہیں بیت اللہ کو، لیکن ان کے عقائد اہل سنت والجماعت کے عقائد سے مختلف ہیں مولانا! یہ اہل اہواء ہیں بھئی۔ اور یہ کون کون ہیں بھئی؟ بتلا رہے ہیں، وہ کہتے ہیں: وَهُمُ الْجَبَرِيَّةُ وَالْقَدَرِيَّةُ وَالرَّوَافِضُ وَالْخَوَارِجُ وَالْمُعَطِّلَةُ وَالْمُشَبِّهَةُ، یہ چھ ہیں مولانا! جبریہ، قدرئیہ، روافض، خوارج، معطلہ اور مشبہہ۔ یہ ہیں مولانا! اہل ہوا بھئی۔ جبریہ مولانا! جبریہ۔ جبریہ فرقہ وہ ہے جو یہ کہتا ہے انسان مجبورِ محض ہے، اس کو اللہ نے کسی چیز کا اختیار نہیں دیا، تقدیر میں سارا کچھ لکھ دیا گیا، آپ یہ کام کریں گے، آپ یہ کام نہیں کریں گے، یہ کرنا ہے، یوں ہو گا، یوں ہو گا، یوں ہو گا، ساری زندگی انسان کی درج کر دی گئی، اب انسان مجبورِ محض ہے، اس کا کوئی بھی فعل اپنی مرضی سے نہیں ہے، وہ اس تقدیر کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہے، اس لیے اس کو جبریہ کہتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جی! حالانکہ یہ درست نہیں مولانا! اہل سنت کا یہ عقیدہ نہیں بھئی، انسان کو اللہ نے اختیار دیا ہے نیک و بد کا بھئی، جو عمل جیسا کرے گا اس کے مطابق اس کو اجر، بدلہ ملے گا۔ وَالْقَدَرِيَّةُ، قدرئیہ ان کا عکس ہیں مولانا! جبریہ والے تو کہتے تھے سارا کچھ تقدیر میں لکھا جا چکا اب انسان کچھ نہیں، اور قدرئیہ والے تقدیر کو مانتے ہی نہیں ہیں، سارا کچھ بھئی، تقدیر کو سرے سے وہ تسلیم ہی نہیں کرتے بھئی، جی! کہ وہ کہتے ہیں انسان ہی خود اپنے افعال کا خالق بھی ہے، کاسب بھی ہے بھئی۔ اچھا! تو یہ بھی اہل سنت کا عقیدہ نہیں مولانا! اور بھی ان کے بڑے عقائد ہیں معتزلہ جو ہے ان میں گزرا، مختلف، آگے آپ جا کر پڑھ لیں گے بھئی۔ وَالرَّوَافِضُ، بھئی روافض جن کو ہم شیعہ کہتے ہیں بھئی، جو تمام صحابہ کو کافر کہتے ہیں، قرآن کو تسلیم نہیں کرتے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو درجہ سب سے بلند مانتے ہیں، حتیٰ کہ ان کے لیے امام کا لفظ استعمال کرتے ہیں، لیکن در حقیقت وہ نبوت سے بھی اونچا درجہ ان کو دیتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ نبوت سے بھی۔ جی! ان کا کلمہ بھی علیحدہ، ان کی نماز بھی علیحدہ، ان کی اذان بھی علیحدہ، ان کا ہاں! قرآن بھی علیحدہ، ان کی زکوٰۃ بھی علیحدہ بھئی، ان کی فقہ بھی علیحدہ، ان کی حدیثیں بھی علیحدہ، ہر ہر چیز ان کی علیحدہ ہے مولانا! سمجھ میں آیا؟ تو قریب کا تعلق بھی نہیں ہے بھئی ہم سے بھئی۔ وَالْخَوَارِجُ بھئی، خوارج عکس ہیں بھئی، شیعہ حضرت علی کی محبت میں گمراہی پر چلے گئے، اور خوارج حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مخالفت میں حد سے تجاوز کر گئے، حد سے تجاوز کر گئے۔ چنانچہ بھئی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آپ نے سنا ہے، حضرت علی کے نام کے ساتھ کیا لکھتے ہیں بھئی؟ كَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ، باقی سارے صحابہ کے ساتھ آپ جب بھی پڑھتے ہیں: رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام کے ساتھ جگہ جگہ آپ یہ لفظ بھی دیکھ لیتے ہیں: كَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ، اس کی بھی در حقیقت یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ جو تھے خوارج بھئی، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفۂ وقت تھے، مسجدِ نبوی میں تقریر فرماتے، بیان کرتے، لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے، احکامات جاری کرتے، تو یہ اس تقریر کے دوران اٹھ کے کھڑے ہو جاتے خارجین میں سے، اور نعرہ لگاتے تھے حضرت علی کے خلاف بھئی، نعرے بازی کرتے بھئی، ایک یہ نعرہ لگایا کرتے تھے: سَوَّدَ اللهُ وَجْهَكَ، اللہ آپ کے چہرے کو سیاہ کر دے بھئی! اتنا، اتنی دیدہ دلیری مولانا! تاریخ آپ اٹھائیں کہیں نظر نہیں آئے گی، حاکمِ وقت ہے، ایک اشارہ کرے ان کی گردنیں اتارے دی جائیں، لیکن یہ پیغمبر کے شاگرد ہیں مولانا! ان کا صبر دیکھیے! صبر دیکھیے! کچھ بھی نہیں کہتے تھے بھئی۔ یہ وہ نعرے لگاتے تھے: اللہ آپ کے چہرے کو کیا کر دے؟ ایک عام آدمی کے سامنے بھی کہو گے تو وہ لڑنے مارنے پر تل جائے گا مولانا! اور وہ کہاں وہ خلیفہ جس کے سامنے، جس کی حکومت کے تحت بھئی پوری اکثر دنیا تھی اس وقت بھئی، بڑا حصہ تھا دنیا کا۔ لیکن کبھی انہوں نے کچھ نہیں کہا انہیں بھئی۔ چنانچہ اس پر چونکہ یہ نعرہ لگاتے تھے: سَوَّدَ اللهُ وَجْهَهُ، تو اس پر بھئی اب باقی مسلمان حضرت علی کے لیے وہ کیا کہتے تھے؟ كَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ، اللہ ان کے چہرے کو کیا کر دے؟ معزز کر دے، عزت دے بھئی! تو اس لیے یہ دعا مشہور ہے حضرت علی کے بارے میں۔ وَالْمُعَطِّلَةُ، خوارج کہتے تھے بھئی آپ نے پڑھا بھی ہے بھئی، کہ جو گناہِ کبیرہ کر لے وہ بھی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے بھئی، بڑے پکے دین پر چلنے والے تھے، لیکن تھے گمراہ مولانا! کیا تھے؟ حد سے زیادہ شدت اختیار کی۔ معطلہ بھئی یہ فرقہ ہے بھئی، یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے عقلِ اول کا صدور ہوا، معطلہ بھئی! معطل کرنے والے، نام سے ظاہر ہے، یہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اس کائنات میں اس وقت معطل ہے، بیکار ہے، کوئی کام سرانجام نہیں دے رہی، نعوذ باللہ من ذلک! سارے کام عقلِ عاشر کر رہی ہے، اللہ سے صدور ہوا، خود بخود پیدا ہو گئی ایک عقل جس کا نام تھا عقلِ اول، اس عقلِ اول نے آگے جنم دیا، پیدا کیا، تخلیق کیا عقلِ ثانی کو، اس نے ثالث کو عقلِ ثالث، یہاں تک کہ عقلِ تاسع جو نویں عقل تھی اس نے عقلِ عاشر کو پیدا کیا بھئی، اور عقلِ عاشر اس وقت ساری کائنات کا نظام چلا رہی ہے، اللہ کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں، تو یہ بھی مولانا! درست عقیدہ نہیں، غلط عقیدہ ہے بھئی۔ وَالْمُشَبِّهَةُ، یہ بھی فرقہ ہے گزرا ہے مولانا! یہ اللہ تعالیٰ کو تشبیہ دیتا ہے مخلوق کے ساتھ، جیسے مخلوق ہے اللہ بھی اسی طرح، مخلوق کے جیسے ہاتھ پاؤں، ناک، آنکھیں وغیرہ ہوتی ہیں، اسی طرح اللہ کا بھی جسم ہے، ہاتھ، پاؤں، آنکھیں وغیرہ ہیں، تو یہ تشبیہ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کو بھئی، حالانکہ اللہ تعالیٰ جسم سے منزہ ہے بھئی، لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے مولانا! اللہ جسم و وغیرہ، جسم وغیرہ سے پاک ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اللہ کے مثل کوئی چیز نہیں ہے بھئی۔ جسم، بھئی جو چیز جسم ہو گی وہ مرکب ہو گی، اور جو مرکب ہو گا وہ حادث ہو گا، اور اللہ کی ذات حادث نہیں ہے بلکہ قدیم ہے، حادث وہ ہے جس پر ایک زمانہ عدم کا آیا ہو، قدیم وہ جس پر کبھی بھی عدم، اللہ کی ذات، اللہ کی صفات پر کبھی عدم نہیں آیا، کبھی ایسا نہیں تھا زمانہ کہ اللہ یا اللہ کی صفات نہ ہوں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ کتنے ہو گئے بھئی؟ چھ فرقے ہیں بھئی یہ اہل ہوا کے۔ وَكُلٌّ مِنْهُمْ اثْنَا عَشَرَ فِرْقَةً، اور ہر ایک ان میں سے بارہ فرقے ہیں، چھ ہیں اور ہر چھ میں سے ہر ایک کے کتنے پھر فرقے ہیں؟ بارہ بارہ فرقے ہیں، فَصَارُوا اثْنَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، تو یہ کتنے ہو گئے بھئی؟ بہتر ہو گئے، تو یہ بہتر، حدیث میں بھی آتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری امت جو ہے تہتر فرقوں میں تقسیم ہو گی اور ان میں سے صرف ایک فرقہ کیا ہو گا؟ حق پر ہو گا، باقی سارے گمراہ ہوں گے۔ وَالْبَعْضُ فَرَّقُوا بَيْنَ الْهَوَى الَّذِي هُوَ كُفْرٌ كَالْقَوْلِ بِأَنَّ اللهَ تَعَالَى جِسْمٌ وَالْهَوَى الَّذِي لَيْسَ بِكُفْرٍ، بعض فقہاء نے فرق کیا ہے بھئی۔ بھئی! اوپر متن میں کیا آیا بھئی؟ اہل ہوا کی شہادت کو کیا کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا سوائے فرقہ خطابیہ کے، اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔ اہل ہوا بتلایا یہ بہتر فرقے ہیں، ان سب کی گواہی کو کیا کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا، لیکن بعض فقہائے کرام نے فرق کیا ہے، کہتے ہیں: اس ہوا کے اندر بھی بعض وہ ہیں جو کفر ہے اور بعض وہ ہیں جو کفر نہیں، تو جو کفر ہے ان کی گواہی قابلِ قبول نہیں، جو کفر نہیں صرف بدعت وغیرہ ہے ان کی گواہی کیا کی جائے گی؟ تو انہوں نے فرق کیا، اس ہوا میں جو کفر ہے اور اس ہوا میں جو کفر نہیں۔ یہ معنی ہے: وَالْبَعْضُ فَرَّقُوا بَيْنَ الْهَوَى الَّذِي هُوَ كُفْرٌ، بعض فقہاء نے فرق کیا اس ہوا کے میں جو کفر ہے، جیسے كَالْقَوْلِ بِأَنَّهُ تَعَالَى جِسْمٌ، جیسے یہ قول کرنا کہ اللہ تعالیٰ جسم ہیں، یہ کفر ہے مولانا! اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہیں۔ وَالْهَوَى الَّذِي لَيْسَ بِكُفْرٍ، اور اس ہوا سے جو کہ کفر نہیں، تو ان کی گواہی قبول کی جائے گی۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ لَا تُقْبَلُ شَهَادَتُهُمْ لِفِسْقِهِمْ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان میں سے کسی کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی لِفِسْقِهِمْ، بجہ ان کے فسق کے، یہ فاسق ہیں سارے، اور فاسق کی گواہی تو قبول نہیں! قُلْنَا، ہم کہتے ہیں: لَمْ يَقَعْ فِي الْاعْتِقَادِ الْبَاطِلِ إِلَّا دِيَانَةً، ہم کہتے ہیں: ہاں! آپ کی یہ بات تو ٹھیک ہے، ان ساروں کے یہ اعتقاد کیا ہیں؟ باطل، یہ جو عقائد ہیں ان کے، وہ کیا ہیں؟ باطل، لیکن یہ ان باطل عقیدوں میں کیوں پڑے ہیں؟ دینداری کی وجہ سے، وہ کیا سمجھتے ہیں؟ ہم حق پر ہیں یا ناحق ہیں بھئی؟ وہ سمجھتے ہیں وہ اپنی زیادہ دینداری سمجھتے ہیں، تو وہ جو یہ باطل عقیدوں پر چل پڑے ہیں یہ بھی کس کی وجہ سے چلے ہیں؟ دینداری کی وجہ سے، اپنے آپ کو دیندار سمجھتے ہیں کہ ہمارا ہی مذہب حق ہے اس پر جمے رہو، سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا تو یہ اپنے آپ کو دین پر سمجھ رہے ہیں اور جھوٹ ان میں سے کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے، تو جب یہ دین کی وجہ سے باطل پر پڑے ہیں اور تو جھوٹ بھی، جھوٹ بولنا ان کے نزدیک جائز نہیں، تو یہ سچ بولیں گے، لہٰذا جب سچ بولتے ہیں تو ان کی گواہی کو کیا ہونا چاہیے؟ قبول ہونا چاہیے۔ سمجھ میں آیا؟ اور ہم جواب دیتے ہیں: لَمْ يَقَعْ فِي الْاعْتِقَادِ الْبَاطِلِ إِلَّا دِيَانَةً، کہ واقع نہیں ہوئے یہ اعتقادِ باطل کے اندر إِلَّا دِيَانَةً، مگر دین، اپنی دیانت، مگر دیانت کی وجہ سے، وَالْكَذِبُ عِنْدَ الْجَمِيعِ حَرَامٌ، یا وَالْكَذِبُ عِنْدَ الْجَمِيعِ حَرَامٌ، اور جھوٹ تو ساروں کے نزدیک ہی حرام ہے، یہ اپنے آپ کو دین والا کہتے ہیں اور ہر ایک جانتا ہے کہ میرے دین میں جھوٹ کیا ہے؟ حرام، تو جھوٹ جب ان کے نزدیک حرام ہوا تو پھر یہ عام معاملات میں کیا کرتے ہیں؟ سچ بولتے ہیں، جب سچ بولتے ہیں تو ان کی گواہی کیا ہونی چاہیے؟ قبول ہونی چاہیے۔ وَأَمَّا الْخَطَّابِيَّةُ، خطابیہ کی اب تفصیل کر رہے ہیں بھئی۔ جی؟ ہاں، شیعہ کے بارے میں علماء بعض لکھتے ہیں بھئی کہ یہ تقیہ کرتے ہیں، ان کی گواہی کو قبول نہیں ہونا چاہیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تقیہ کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، ان کے مذہب میں حصہ ہے، تو اگر ایسے شیعہ ہیں بھئی، اکٹھ، اس قسم کے، تو ان کی گواہی کو رد ہونا چاہیے بھئی۔ خطابیہ مولانا! یہ فرقہ ہے بھئی شیعوں کا بھئی، جو ابن الخطاب الاسدی کی طرف منسوب ہے، ابن الخطاب الاسدی۔ اس نے دعویٰ کیا تھا بھئی، یہ ایک فرقہ اس نے بنایا اور یہ کہا کرتا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خدا ہیں بھئی، کیا ہیں؟ الٰہِ اکبر ہیں علی، الٰہِ اکبر! تو ان کی گواہی قابلِ قبول نہیں بھئی، چنانچہ اس کو خلیفہ نے بغداد کے اندر پھر اس کو سولی دے دی گئی، اس کو مار دیا گیا، تو اس کی، ان کی گواہی قبول نہیں، کیوں نہیں ان کی قبول گواہی؟ وجہ آگے بتلائیں گے۔ بھئی! یہ کہتے ہیں، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو آپ کے سامنے آ کر قسم اٹھا لے، اس کی آپ گواہی دے سکتے ہو۔ کیا کر سکتے ہو؟ آپ ایک موقع پر موجود نہیں تھے، آپ کو کچھ واقعے کا پتہ نہیں ہے، لیکن وہاں جو ایک آدمی تھا اس نے آ کر جس نے وہ معاملہ کیا یا، وہ آپ کے پاس آیا اس خطابیہ فرقے والے کے پاس مثلاً آتا ہے، آ کر اس کو کیا کہتا ہے؟ کہ واللہ! یہ بات اس طرح ہے، میں نے زید نے میرا کتنا دینا ہے؟ ایک لاکھ دینا ہے مثلاً، قسم کھا کے کہتا ہے۔ تو خطابیہ والے کہتے ہیں اس نے ہمارے سامنے قسم اٹھا لی ہے، جب قسم اٹھا لی ہے تو اب ہمارے لیے گواہی دینا جائز، تو آپ یہ جا کر قاضی کے سامنے گواہی دیتے ہیں: قاضی صاحب! میں بھی وہاں پر موجود تھا جب زید نے اس سے کتنے پیسے لیے تھے؟ ایک لاکھ، تو یہ وہاں کوئی موجود تھا؟ نہیں، لیکن گواہی کیا دے رہا ہے؟ کہ میں وہاں پر موجود، اور کیوں دے رہا ہے گواہی؟ کیونکہ دوسرے شخص نے اس کے سامنے آ کر، ہاں! تو یہ قسم اٹھانے پر گواہی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں بھئی، تو لہٰذا، اور حالانکہ یہ تو کذب ہوا بھئی، تو لہٰذا ان لوگوں کی گواہی قابلِ قبول نہیں بھئی، ان کی ہر گواہی اسی طرح ہو گی۔ بعضوں نے یہ کہا، اور بعض کہتے ہیں: یہ جو ہیں یہ خطابیہ والے، یہ اپنے مسلک والوں کے لیے گواہی کو واجب سمجھتے ہیں۔ آپ کا ایک خطابیہ فرقے والے سے جھگڑا آیا، اس نے آپ کا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے، وہ کہتے ہیں: میں ادا کر چکا ہوں، آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ نے ادا نہیں کیے، یا اس نے آپ پہ دعویٰ کر دیا کہ آپ نے میرے کتنے پیسے دینے ہیں؟ ایک لاکھ روپیہ دینے ہیں، ایک لاکھ روپے، اب دینے تو آپ نے ہے نہیں، اس کے پاس گواہ وغیرہ کوئی بھی نہیں، لیکن وہ اپنے فرقے کے دو آدمی اٹھا کر لے آیا، اور ان دو آدمیوں نے کہا: قاضی صاحب! ہم گواہی دیتے ہیں، اس آدمی نے اس کے کتنے پیسے دینے ہیں؟ ایک لاکھ، ہمارے سامنے اس نے اس سے بطورِ قرض کے لیے تھے، تو اپنے فرقے والوں کے لیے یہ موقع پر موجود نہیں تھے، لیکن اپنے فرقے والوں کے لیے یہ گواہی کو کیا سمجھتے ہیں؟ واجب سمجھتے ہیں کہ موقع پر ہوں یا نہ ہوں، کیا کرنا پڑے گی؟ ہمیں گواہی دینا ہم پر واجب ہے، تو دیکھو! ہر جگہ جھوٹی گواہیاں دیتے پھریں گے، لہٰذا ان کی گواہی قابلِ قبول نہیں۔ وَأَمَّا الْخَطَّابِيَّةُ، اور باقی خطابیہ جو ہے، فَهُمْ مِنْ غُلَاةِ الرَّوَافِضِ، غلاۃ جمع ہے غالی کی، غالی۔ حد سے بڑھا ہوا، حد سے بڑھنے والا، حد سے تجاوز کرنے والا۔ اچھا بھئی! تو غلاۃ الروافض بھئی، حد سے، یہ جو ہیں حد سے بڑھے ہوئے روافض ہیں، یوں کہہ لو بھئی آسان لفظوں میں: کٹر شیعہ ہیں، کیا ہیں؟ کٹر شیعہ ہیں، يَعْتَقِدُونَ الشَّهَادَةَ لِكُلِّ مَنْ حَلَفَ عِنْدَهُمْ، یہ اعتقاد رکھتے ہیں گواہی دینے کا ہر اس شخص کے لیے جو ان کے پاس قسم اٹھا لے، وَقِيلَ، اور بعض کہتے ہیں: يَرَوْنَ الشَّهَادَةَ لِشِيعَتِهِمْ وَاجِبَةً، کہ یہ شہادت کو، یرون سمجھتے ہیں، رؤیتِ قلبی مراد ہے، یہ شہادت کو اپنے شیعوں کے لیے واجب سمجھتے ہیں، کیا سمجھتے ہیں؟ اپنے شیعوں کے لیے واجب سمجھتے ہیں، تو ہوں یا نہ ہوں، جب ان کے مذہب والا کوئی آ جائے: بھئی چلو! میرے ساتھ اس مسئلے میں اس گواہی دو، یہ فوراً کیا ہوں گے؟ اٹھیں گے اور جا کر کہ ہم بھی وہاں پر تھے، حالانکہ ساری جھوٹی گواہی۔ چلیے بس مولانا! هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
106 approved lectures · 73 of 106