وَفِي طَلَاقٍ إِلَّا نِصْفَ مَحْرِهَا قَبْلَ الْوَطْيِ leftarrow أَيْ إِذَا شَهِدَا بِالطَّلَاقِ قَبْلَ الْوَطْيِ ثُمَّ رَجَعَا ضَمِنَا نِصْفَ الْمَحْرِ، أَمَّا بَعْدَ الدُّخُولِ فَلَا لِأَنَّ الْمَحْرَ تَأَكَّدَ بِالدُّخُولِ فَلَا إِطْلَافَ۔
جِی! گزشتہ سبق میں یہ مسائل چل رہے تھے کہ اگر گواہ رجوع کر لیں تو ان پر کس صورت میں زمان آئے گا اور کس صورت میں زمان نہیں آئے گا۔ جِی! آپ نے پڑھا تھا کہ اعتبار جو ہے باقی گواہوں کا ہے کہ کس قدر نصابِ شہادت باقی ہے اس کے اعتبار سے زمان آئے گا، رجوع کرنے والوں کا اعتبار نہیں۔ مثلاً دیکھئے! تین گواہوں نے ایک مسئلے میں گواہی دی تھی، اس میں ان تین میں سے ایک نے رجوع کر لیا تو اس پر کتنا زمان آئے گا بھئی؟ اس پر کوئی بھی زمـ… کچھ بھی زمان نہیں آئے گا، اس لیے کیونکہ اعتبار باقی کا ہے اور باقی ابھی بھی دو گواہ ہیں اور نصابِ شہادت پورا ہو رہا ہے، دو ہی گواہ چاہیے تھے، دونوں پورے ہیں تو اس تیسرے جتنے رجوع کیا اس پر کوئی زمان نہیں۔
لیکن اگر اب ایک اور نے بھی رجوع کر لیا، تو اب کیا ہوگا؟ باقی کتنے رہ گئے؟ ایک تو نصفِ نصاب باقی ہے، معلوم ہوا نصف نہ رہا تو اس نصف کا زمان آ جائے گا اور دونوں پر آئے گا، جن دونوں نے رجوع کیا تھا ان پر کتنا آ جائے گا؟ نصف زمان آ جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اعتبار باقی کا ہے۔
تو آج آپ کو بتلا رہے ہیں وَغُرِّمَ رَجُلَانِ شَهِدَا مَعَ امْرَأَةٍ۔ صورتِ مسئلہ بھئی یہ ہے کہ دو آدمیوں نے اور ایک عورت نے کسی مسئلے میں گواہی دی، کس نے گواہی دی؟ دو آدمیوں نے اور ایک عورت نے گواہی دی، پھر ساروں نے رجوع کر لیا بھئی، ساروں نے کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا تو اب کتنا زمان کس پر کتنا آئے گا؟ صاحبِ کتاب آپ کو بتلا رہے ہیں کہ دو آدمی جو ہیں، ان پر تو زمان آئے گا نصف آدھے پر آ جائے گا اور نصف آدھے پر، عورت پر کوئی زمان نہیں آئے گا بھئی۔ گواہ کتنے تھے؟ دو مرد اور ایک عورت اور ان ساروں نے رجوع کر لیا تو مردوں پر تو تاوان اور زمان آئے گا لیکن عورت پر کوئی زمان نہیں۔ بھئی عورت پر کیوں نہیں زمان آئے گا؟ کیونکہ اس لیے بھئی! کیونکہ وہ ایک عورت ہے اور ایک عورت کی گواہی تو معتبر ہی نہیں۔ لہذا اس سے کوئی اثر نہیں پڑا، ہاں دو مردوں کی وجہ سے گواہی قبول ہوئی تھی اور انہی پر کیا آ جائے گا؟ زمان آ جائے گا۔
یہ معنی ہے وَغُرِّمَ رَجُلَانِ۔ جِی! زمان تاوان آئے گا بھئی کن پر؟ دو آدمیوں پر بھئی۔ آگے آ رہا ہے لَاحِقًا اسی پر عطف ہے وَغُرِّمَ رَجُلَانِ لَاحِقًا، دو مردوں پر تو زمان آئے گا عورت پر نہیں۔ آچھا! کون سے دو مرد؟ کہتے ہیں غُرِّمَ رَجُلَانِ وہ دو مرد ان ان دونوں پر زمان آئے گا شَهِدَا جن دونوں نے گواہی دی مَعَ امْرَأَةٍ کس کے ساتھ؟ کسی ایک عورت کے ساتھ، ثُمَّ رَجَعُوا پھر ان سب نے رجوع کر لیا، جمع کی ضمیر مولانا! دونوں مردوں نے بھی اور عورت نے بھی، پھر ان ساروں نے رجوع کر لیا تو دو مردوں پر زمان آئے گا بھئی، وہ زمان بنائے جائیں گے، لَاحِقًا عورت کو زمان نہیں بنایا جائے گا۔
کیوں بھئی؟ عورت پر کیوں نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں لِأَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ بِشَهَادَةِ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ شَيْءٌ اس لیے کہ کسی ایک عورت کی گواہی سے کوئی چیز ثابت نہیں ہوتی، تو اس پر کچھ نہیں آئے گا۔ ہاں! دو عورتیں ہوتیں تو پھر الگ مسئلہ تھا، وہ گزر چکا بھئی۔
وَلَا يَضْمَنُ الرَّاجِعُ فِي نِكَاحٍ بِمَهْرٍ مُسَمًّى شَهِدَا عَلَيْهَا أَوْ عَلَيْهِ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک عورت ہے، ایک مرد پر دعویٰ کر دیتی ہے کہ اس نے میرے ساتھ نکاح کیا ہے۔ کیا کیا ہے؟ نکاح کیا ہے جِی! یا مولانا! مرد ہے کسی عورت پر کیا دعویٰ کر دیتا ہے؟ کہ اس کا میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟ نکاح ہوا ہے اور دو گواہ بھی قاضی کے پاس پیش کر دیتا ہے اور قاضی فیصلہ کر دیتا ہے کہ یہ عورت کیا ہوئی تمہاری؟ بیوی ہے یا اور یا عورت نے دعویٰ کیا مرد پر اور قاضی نے کیا فیصلہ کر دیا کہ یہ تمہارا شوہر ہے بھئی۔ جِی!
اچھا۔ اب اس صورت میں جب نکاح ہوا، دوسرے پر کیا آئے گا؟ خاوند پر کیا آیا کرتا ہے؟ مہر آتا ہے، تو اب مہر بھئی یہاں کل چھ سورتیں بنیں گی۔ یا تو گواہوں نے گواہی دی ہوگی مہرِ مثل پر، اس کے برابر پر یا اس سے کم پر یا اس سے زیادہ۔ اور گواہی یا عورت کے خلاف ہوگی یا کس کے خلاف ہوگی؟ مرد۔ تو مثلاً عورت کے خلاف گواہی دی تو بھی تین صورتیں، یا مہر کتنے کے کس کے برابر ہوگا؟ مہرِ مثل کے برابر ہوگا یا کم ہوگا یا زیادہ۔ تین صورتیں یہ۔ یا مرد کے خلاف گواہی دی، عورت گواہ لے کر آئی تھی اور وہ جو گواہی کتنے مہر پر دی؟ مہرِ مثل کے برابر ہوگا یا کم ہوگا یا زیادہ۔ تو تین صورتیں یہ ہوئیں بھئی، کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ چھ، تین عورت جب دعویٰ کرے اور تین وہ صورتیں جب مرد دعویٰ کرے۔۔ جِی!
تو یاد رکھو، ان چھ صورتوں میں سے صرف ایک صورت میں زمان آئے گا، جبکہ گواہ رجوع کر لیں، باقی صورتوں میں اگر گواہ رجوع کر لیں تو ان پر کوئی زمان نہیں۔ کون سی صورت میں زمان آئے گا؟ کہتے ہیں وہ صورت جبکہ دعویٰ کس کی طرف سے ہو؟ عورت کی طرف سے ہو۔ کس نے کیا ہو؟ عورت کی طرف سے دو گواہ… عورت دعویٰ کرنے والی ہو اور مردوں نے وہ گواہوں نے گواہی دی اور مہر کتنا ذکر کیا جو مہرِ مثل سے زائد تھا۔ صورتیں جِلی تفصیل سے دیکھو بھئی! دعویٰ کرنے والی ہے عورت بھئی۔ کیا دعویٰ کیا؟ کہ اس شخص نے مجھ سے کیا کیا ہے؟ نکاح کیا ہے۔ اب عورت نے دعویٰ کیا، گواہ پیش کر دیے اور گواہوں نے نکاح پر گواہی دی، لیکن مہر کتنا ذکر کریں گے وہ؟ یا مہرِ مثل کے برابر ہوگا یا کم ہوگا یا زیادہ۔
کم ہو، برابر ہونے کی صورت میں بھئی، بھئی جب مہرِ مثل کے برابر مہر انہوں نے ذکر کیا تو یہاں پر دیکھیے، آدمی کو وہ مہر دینا پڑے گا، کیا کرنا پڑے گا؟ دوسرے خاوند اب خاوند کو مہر دینا پڑے گا اور خاوند کا جو یہ نقصان ہوا، یہ جو اس کو مہر دینا پڑا، یہ عوض کے ساتھ اس کو اس لیے یہ رقم گئی ہے یا بِلَا عوض کے گئی ہے بھئی؟ جِی! بھئی! اسے مل کے بُزَع حاصل ہوئی ہے یا نہیں حاصل ہوئی؟ جِی! تو یہاں پر اگرچہ اس کا اطلاق تو کیا اس نے مال تو تلف ہوا اس کا، لیکن کس کے ساتھ ہوا؟ عوض کے ساتھ، اور عوض کے ساتھ جو اطلاق ہو وہ لَا اِطْلَاقِ کی طرح ہے، گویا کوئی چیز تلف ہی نہیں۔ بھئی جب اس کا عوض مل گیا تو گویا کوئی چیز تلف ہی نہیں ہوئی۔ تو ان سوات کی صورت میں بھئی خاوند کا اگرچہ مال تلف ہوا لیکن عوض کے ساتھ ہوا، تو گویا یہ کس کی طرح ہے؟ لَا تلف کی طرح، کوئی بھی چیز اس کی تلف نہیں۔ جب کوئی بھی چیز تلف نہیں ہوئی تو زمان آئے گا بھئی گواہوں کے رجوع کرنے سے ان پر؟ نہیں۔ بھئی۔
دوسری صورت بھئی، گواہوں نے کتنے کی گواہی دی تھی؟ کم کی گواہی دی تھی اور پھر بعد میں رجوع کر لیا تو بھئی! آدمی کا مال تلف ہوا لیکن عوض کے ساتھ برابر تلف ہوا یا کم مال تلف ہوا؟ اس سے بدتر اعلیٰ، ان پر کوئی زمان نہیں۔
تیسری صورت بھئی، کہ مثلاً مہرِ مثل بنتا تھا ایک لاکھ اور گواہوں نے کتنے کی گواہی دی بھئی؟ سوا لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ کی بھئی، تو اس صورت میں، لا تو وہ عوض کے برابر ہوا اور باقی جو پچاس ہزار زاید ہے، یہ اس کا بِلا عوض کے تلف کروا دیا ان گواہوں نے، لہذا جب رجوع کریں گے تو ان پر کتنا زمان آ جائے گا؟ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ پچاس ہزار، یہ وہ صورت ہے جس میں زمان آئے گا۔
اس کا عکس کر لیں مولانا، دعویٰ کرنے والا مرد ہے، مرد دو گواہ لے آیا اور انہوں نے گواہی دے دی کہ اس شخص کا نکاح ہوا ہے اس عورت کے ساتھ بعد میں ان گواہوں نے رجوع کر لیا، تو نکاح مہر جو انہوں نے ذکر کیا یا مہرِ مثل کے برابر ہوگا، تو اس صورت میں تو بھئی کوئی تلف عورت کا نہیں، کچھ تلف نہیں، بھئی عوض مل گیا اسے۔ اور اگر مہرِ مثل سے زائد کا دعویٰ گواہوں نے گواہی دی، دعویٰ کس کی طرف سے؟ مرد کی طرف سے اور مہر کتنا ذکر کیا؟ زیادہ۔ تو گواہوں نے گواہی دی کہ اس عورت سے اس مرد نے نکاح کیا ہے اور مہر ہے ڈیڑھ لاکھ، جبکہ مہرِ مثل بنتا تھا ایک لاکھ، تو عورت کو کتنے زیادہ مل گئے؟ پچاس ہزار زیادہ مل گئے، تو عورت کا کوئی نقصان ہوا؟ نہیں، اسے تو الٹا فائدہ ہو گیا، نقصان تو نہیں ہوا۔
تیسری صورت کہ مہرِ مثل سے کم ذکر کیا، گواہوں نے گواہی دی کہ اس عورت کا نکاح ہوا ہے اس مرد کے ساتھ اور مہر ہے پچاس ہزار، جبکہ مہرِ مثل کتنا ہے؟ ایک لاکھ۔ تو عورت کا نقصان ہوا کہ نہیں ہوا؟ ہوا، پچاس ہزار کا نقصان ہوا، کیونکہ اس کا مہر تھا ایک لاکھ اور اس کو ملے کتنے؟ پچاس ہزار، تو نقصان ہوا تو اس صورت میں جب گواہ رجوع کریں گے تو ان پر ضمان آئے گا کتنے کا؟ پچاس ہزار کا۔ تو یہ صورتیں ہیں، صاحبِ کتاب اس کو تفصیل سے بیان کر رہے ہیں۔
وَلَا يَضْمَنُ الرَّاجِعُ فِي نِكَاحٍ بِمَهْرٍ مُسَمًّى شَهِدَا عَلَيْهَا أَوْ عَلَيْهِ۔ صورتِ مسئلہ یہ بھئی! صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک عورت ہے، ایک مرد پر دعویٰ کر دیتی ہے کہ اس نے میرے ساتھ نکاح کیا ہے۔ کیا کیا ہے؟ نکاح کیا ہے۔ جِی! يا مولانا، مرد ہے کسی عورت پر کیا دعویٰ کر دیتا ہے؟ کہ اس کا میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟ نکاح ہوا ہے اور دو گواہ بھی قاضی کے پاس پیش کر دیتا ہے اور قاضی فیصلہ کر دیتا ہے کہ یہ عورت کیا ہوئی تمہاری؟ بیوی ہے یا اور یا عورت نے دعویٰ کیا مرد پر اور قاضی نے کیا فیصلہ کر دیا کہ یہ تمہارا خام شوہر ہے بھئی۔ جِی!
اچھا۔ اب اس صورت میں جب نکاح ہوا، دوسرے پر کیا آئے گا؟ خاوند پر کیا آیا کرتا ہے؟ مہر آتا ہے، تو اب مہر بھئی یہاں کل چھ صورتیں بنیں گی۔ یا تو گواہوں نے گواہی دی ہوگی مہرِ مثل پر، اس کے برابر پر یا اس سے کم پر یا اس سے زیادہ۔ اور گواہی یا عورت کے خلاف ہوگی یا کس کے خلاف ہوگی؟ مرد۔ تو مثلاً عورت کے خلاف گواہی دی تو بھی تین صورتیں، یا مہر کتنے کے کس کے برابر ہوگا؟ مہرِ مثل کے برابر ہوگا یا کم ہوگا یا زیادہ۔ تین صورتیں یہ۔ یا مرد کے خلاف گواہی دی، عورت گواہ لے کر آئی تھی اور وہ جو گواہی کتنے مہر پر دی؟ مہرِ مثل کے برابر ہوگا یا کم ہوگا یا زیادہ۔ تو تین صورتیں یہ ہوئیں بھئی، کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ چھ، تین عورت جب دعویٰ کرے اور تین وہ صورتیں جب مرد دعویٰ کرے۔ جِی!
تو یاد رکھو، ان چھ صورتوں میں سے صرف ایک صورت میں زمان آئے گا، جبکہ گواہ رجوع کر لیں، باقی صورتوں میں اگر گواہ رجوع کر لیں تو ان پر کوئی زمان نہیں۔ کون سی صورت میں زمان آئے گا؟ کہتے ہیں وہ صورت جبکہ دعویٰ کس کی طرف سے ہو؟ عورت کی طرف سے ہو۔ کس نے کیا ہو؟ عورت کی طرف سے دو گواہ… عورت دعویٰ کرنے والی ہو اور مردوں نے وہ گواہوں نے گواہی دی اور مہر کتنا ذکر کیا جو مہرِ مثل سے زائد تھا۔ صورتیں جِلی تفصیل سے دیکھو بھئی! دعویٰ کرنے والی ہے عورت بھئی۔ کیا دعویٰ کیا؟ کہ اس شخص نے مجھ سے کیا کیا ہے؟ نکاح کیا ہے۔ اب عورت نے دعویٰ کیا، گواہ پیش کر دیے اور گواہوں نے نکاح پر گواہی دی، لیکن مہر کتنا ذکر کریں گے وہ؟ یا مہرِ مثل کے برابر ہوگا یا کم ہوگا یا زیادہ۔
کم ہو، برابر ہونے کی صورت میں بھئی، بھئی جب مہرِ مثل کے برابر مہر انہوں نے ذکر کیا تو یہاں پر دیکھیے، آدمی کو وہ مہر دینا پڑے گا، کیا کرنا پڑے گا؟ دوسرے خاوند اب خاوند کو مہر دینا پڑے گا اور خاوند کا جو یہ نقصان ہوا، یہ جو اس کو مہر دینا پڑا، یہ عوض کے ساتھ اس کو اس لیے یہ رقم گئی ہے یا بِلَا عوض کے گئی ہے بھئی؟ جِی! بھئی! اسے مل کے بُزَع حاصل ہوئی ہے یا نہیں حاصل ہوئی؟ جِی! تو یہاں پر اگرچہ اس کا اطلاق تو کیا اس نے مال تو تلف ہوا اس کا، لیکن کس کے ساتھ ہوا؟ عوض کے ساتھ، اور عوض کے ساتھ جو اطلاق ہو وہ لَا اِطْلَاقِ کی طرح ہے، گویا کوئی چیز تلف ہی نہیں۔ بھئی جب اس کا عوض مل گیا تو گویا کوئی چیز تلف ہی نہیں ہوئی۔ تو ان سوات کی صورت میں بھئی خاوند کا اگرچہ مال تلف ہوا لیکن عوض کے ساتھ ہوا، تو گویا یہ کس کی طرح ہے؟ لَا تلف کی طرح، کوئی بھی چیز اس کی تلف نہیں۔ جب کوئی بھی چیز تلف نہیں ہوئی تو زمان آئے گا بھئی گواہوں کے رجوع کرنے سے ان پر؟ نہیں۔ بھئی۔
دوسری صورت بھئی، گواہوں نے کتنے کی گواہی دی تھی؟ کم کی گواہی دی تھی اور پھر بعد میں رجوع کر لیا تو بھئی! آدمی کا مال تلف ہوا لیکن عوض کے ساتھ برابر تلف ہوا یا کم مال تلف ہوا؟ اس سے بدتر اعلیٰ، ان پر کوئی زمان نہیں۔
تیسری صورت بھئی، کہ مثلاً مہرِ مثل بنتا تھا ایک لاکھ اور گواہوں نے کتنے کی گواہی دی بھئی؟ سوا لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ کی بھئی، تو اس صورت میں، لا تو وہ عوض کے برابر ہوا اور باقی جو پچاس ہزار زاید ہے، یہ اس کا بِلا عوض کے تلف کروا دیا ان گواہوں نے، لہذا جب رجوع کریں گے تو ان پر کتنا زمان آ جائے گا؟ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ پچاس ہزار، یہ وہ صورت ہے جس میں زمان آئے گا۔
اُس کا عکس کر لیں مولانا، دعویٰ کرنے والا مرد ہے، مرد دو گواہ لے آیا اور انہوں نے گواہی دے دی کہ اس شخص کا نکاح ہوا ہے اس عورت کے ساتھ بعد میں ان گواہوں نے رجوع کر لیا، تو نکاح مہر جو انہوں نے ذکر کیا یا مہرِ مثل کے برابر ہوگا، تو اس صورت میں تو بھئی کوئی تلف عورت کا نہیں، کچھ تلف نہیں، بھئی عوض مل گیا اسے۔ اور اگر مہرِ مثل سے زائد کا دعویٰ گواہوں نے گواہی دی، دعویٰ کس کی طرف سے؟ مرد کی طرف سے اور مہر کتنا ذکر کیا؟ زیادہ۔ تو گواہوں نے گواہی دی کہ اس عورت سے اس مرد نے نکاح کیا ہے اور مہر ہے ڈیڑھ لاکھ، جبکہ مہرِ مثل بنتا تھا ایک لاکھ، تو عورت کو کتنے زیادہ مل گئے؟ پچاس ہزار زیادہ مل گئے، تو عورت کا کوئی نقصان ہوا؟ نہیں، اسے تو الٹا فائدہ ہو گیا، نقصان تو نہیں ہوا۔
تیسری صورت کہ مہرِ مثل سے کم ذکر کیا، گواہوں نے گواہی دی کہ اس عورت کا نکاح ہوا ہے اس مرد کے ساتھ اور مہر ہے پچاس ہزار، جبکہ مہرِ مثل کتنا ہے؟ ایک لاکھ۔ تو عورت کا نقصان ہوا کہ نہیں ہوا؟ ہوا، پچاس ہزار کا نقصان ہوا، کیونکہ اس کا مہر تھا ایک لاکھ اور اس کو ملے کتنے؟ پچاس ہزار، تو نقصان ہوا تو اس صورت میں جب گواہ رجوع کریں گے تو ان پر ضمان آئے گا کتنے کا؟ پچاس ہزار کا۔ تو یہ صورتیں ہیں، صاحبِ کتاب اس کو تفصیل سے بیان کر رہے ہیں۔
وَلَا يَضْمَنُ الرَّاجِعُ فِي نِكَاحٍ بِمَهْرٍ مُسَمًّى اور زمان نہیں ہوگا رجوع کرنے والا فی نکاح نکاح کے مسئلے میں بِمَهْرٍ مُسَمًّى اس مہر کے عوض میں جو مہر مسمیٰ ہو، شَهِدَا عَلَيْهَا أَوْ عَلَيْهِ کہ جس پر کیا کیا تھا ان دو گواہوں نے؟ گواہی دی تھی عَلَيْهَا عورت کے خلاف چاہے دی ہو أَوْ عَلَيْهِ یا اس مرد کے خلاف یعنی دونوں طرف سے جس طرف سے بھی گواہ آ جائیں، لیکن جب وہ مہرِ مسمیٰ پر گواہی دیں اور بعد میں رجوع کر لیں تو دونوں میں سے کسی پر کوئی زمان نہیں۔ ایک صورت میں آئے گا إِلَّا مَا نَقَصَ عَنْ قِيمَةِ مَبِيعِهِ مگر وہ جو کم ہو مبیع کی قیمت سے۔ تو پھر اس صورت میں زمان آئے گا۔
دیکھیے! بیع کے مسئلے میں بھی اسی طرح ہے چھ صورتیں بنیں گی۔ مثلاً میں ہوں بائع، آپ ہیں مشتری بھئی۔ میں نے آپ کو ایک کتاب بیچی ہے یا میں نے آپ پر دعویٰ کر دیا، کتاب ہے آپ کی، مولانا! میں مشتری ہوں بھئی۔ میں کون ہوں؟ کتاب آپ کی ہے اور کتاب کی قیمت ہے 100 روپیہ۔ میں نے دعویٰ کر دیا کہ بھئی قاضی کے پاس کہ اس شخص نے یہ کتاب مجھے بیچی ہے اور کتنے میں بیچی ہے؟ برابر میں بھی دعویٰ ہو سکتا ہے، کم میں بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ۔ میں نے گواہ پیش کر دیے، تو میں میرے گواہ ذکر کریں گے بھئی کہ ہمارے سامنے یہ بیع ہوئی تھی یا اس نے ہمارے سامنے یہ اقرار کیا تھا کہ اس کتاب اس نے بیچی ہے اور کتنے میں بیچی؟ یا تو کہیں گے 50 میں بیچی یا کہیں گے 100 میں بیچی یا 150 میں، یعنی دعویٰ کم کا ہوگا، برابر کا ہوگا یا زیادہ کا۔
یا اس کا عکس کریں، دعویٰ ہو رہا ہے بائع کی طرف سے بھئی۔ کتاب بھی آپ کی ہے اور آپ ہی نے مجھ پر دعویٰ کر دیا کہ اس شخص نے مجھ سے یہ کتاب خریدی ہے قاضی صاحب اور دو گवाہ بھی پیش کر اب وہ دعویٰ کتنے میں ہوگا مولانا؟ کتاب ہے 100 کی یا تو وہ گواہ گواہی دیں گے اور کتنے میں کہیں گے بھئی؟ یہ کتاب 50 کی بیچی یعنی قیمت سے کم بیچی، یا کتنے کی بیچی؟ 100 کی یعنی برابر میں بیچی یا کتنے میں بیچی؟ 150 زیادہ میں بیچی۔ تو یہاں بھی کل کتنی صورتیں ہوئیں بھئی؟ چھ صورتیں ہوئیں بھئی، چھ صورتیں۔
اچھا۔ تو کہتے ہیں بیع کے مسئلے میں بھی رجوع کرنے والے پر زمان نہیں آئے گا إِلَّا مَا نَقَصَ عَنْ قِيمَةِ مَبِيعِهِ مگر وہ جو کم ہو مبیع کی قیمت سے۔ یاد رکھو یہاں پر صرف وہ صورت ذکر کی جا رہی ہے۔ زمان دو صورتوں میں آتا ہے، لیکن متن میں ایک صورت ذکر ہوئی۔ یہ متن کی جو صورت ہے وہ بائع کے دعوے سے متعلق ہے۔ دیکھیے! ہم چھ صورتیں بناتے ہیں تفصیل سے۔ دعویٰ کرنے والا میں، میں ہوں مشتری۔ کتاب آپ کی ہے، اب میں نے دعویٰ کتنے میں کیا تھا؟ مثلاً 100 روپے کی کتاب ہے، میں نے دعویٰ بھی کتنے کا کیا ہے؟ 100 ہی میں مجھے بیچی ہے یہ کتاب، دو گواہ بھی پیش کر دیے، بعد میں ان گواہوں نے کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا۔ اب آپ بتلائیے مولانا! آپ کو مجھے کتاب دینا پڑی اور میں نے آپ کو 100 روپیہ دیا، آپ کی کوئی چیز تلف ہوئی؟ نہیں! 100 کی کتاب تھی، آپ کو عوض بھی کتنا ملا؟ 100 اور تو اطلاق بَعِوَض کس کی طرح ہے؟ لَا اطلاق کی طرح ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو کوئی صورت میں زمان نہیں آئے گا۔ دوسری صورت، گواہوں نے زیادہ پر گواہی دے دی۔ کتاب آپ کی ہے 100 کی اور میرے گواہوں نے کتنے ذکر کر دیے؟ 150 ذکر کر دیے، آپ کو کتاب دینی پڑی، میں نے آپ کو 150 روپیہ دیا بھئی، آپ کی کوئی چیز تلف ہوئی؟ آپ کی کوئی چیز تلف نہیں ہوئی، بلکہ آپ کو 100 روپے کے کی بجائے کتنا مل گیا؟ 150 روپیہ مل گیا، تو آپ کی کوئی چیز تلف، لہذا اس صورت میں بھی اگر گواہ رجوع کر لیں تو ان پر کوئی زمان نہیں، کیونکہ انہوں نے آپ کی کوئی چیز تلف نہیں کی۔ تیسری صورت بھئی، اگر انہوں نے گواہی دی کہ کتاب کتنے کی بیچی تھی اس نے؟ 50، کم قیمت سے کم ذکر کر دی۔ اب کتاب تو ہے 100 کی اور انہوں نے گواہی دی تو آپ کو میں نے 50 دی اور آپ سے کتاب لے لی، بعد میں ان گواہوں نے رجوع کر لیا تو آپ کا کتنا تلف ہوا بھئی؟ 50 تلف ہوا، کیونکہ میں نے کتاب لی تو مجھے کتاب ملی 100 والی اور مجھے دینا کتنا پڑا؟ 50، تو میرے تو 50 روپے تلف ہوئے، کس کی وجہ سے تلف ہوئے؟ ان گواہوں کی وجہ سے۔ لہذا جب انہوں نے رجوع کر لیا، تو ان پر کتنا زمان آ جائے گا؟ وہ جو اقل ذکر کیا تھا جتنا، وہ کیا کر وہ زمان آ جائے گا کن پر؟ ان گواہوں پر آ جائے گا۔ مشتری پر نہیں بھئی! مشتری کے گواہوں پر آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ انہوں نے گواہی دی تھی، ان کی وجہ سے قاضی نے یہ فیصلہ کیا تھا۔
تو دیکھئے بھئی! سمجھ میں آیا؟ دعویٰ کرنے والا مشتری، تو یہ صورت متن میں ذکر ہے إِلَّا مَا نَقَصَ عَنْ قِيمَةِ مَبِيعِهِ مگر وہ جو مبیع کی قیمت سے کم ہو۔ وہ زمان آئے گا۔ اگر دعویٰ کرنے والا بائع ہو، مثلاً آپ نے مجھ پر دعویٰ کیا تھا، کتاب بھی آپ کی، دعویٰ بھی آپ نے کیا کہ یہ کتاب اس نے مجھ سے خرید لی ہے، کتنے میں خریدی ہے؟ زائد قیمت بتلاؤ بھئی! غلام ہے 2000 کا، آپ نے دعویٰ کتنے کا کیا؟ 3000 کا، گواہوں نے گواہی دے دی، میں نے آپ کو 3000 دے دیا اور آپ سے غلام لے لیا، بعد میں ان گواہوں نے رجوع کر لیا، تو میں نے آپ کا کتنا مال تلف کیا؟ آپ کو تو زیادہ مل گیا، آپ کا 2000 کا غلام گیا اور ملے اپ کو کتنے؟ 3000، تو گواہوں نے آپ کا کچھ تلف کیا؟ آپ کو تو زیادہ مل گیا، اس لیے اس پر کوئی زمان نہیں۔ یہ معنی ہے فَإِنْ كَانَ دَاعَمِنَ الْمُشْتَرِي فَلا زَمَانَة تو اس صورت میں کوئی زمان نہیں۔
وَمَا هَذِهِ الْمَسْأَلَةُ غَيْرُ مَذكُورَةٍ فِي الْمَتْنِ اور یہ مسئلہ متن کے اندر مذکور نہیں۔ بھئی یہ کیا بات ہوئی؟ میں نے بھی یہی تقریر کی۔ صاحبِ صدر الشریعہ جو کر رہے ہیں بھئی، صاحبِ صدر الشریعہ کہہ رہے ہیں کہ متن میں وہ صورت ذکر ہے جب دعویٰ کرنے والا مشتری ہو، وہ صورت متن میں ذکر نہیں جبکہ دعویٰ کرنے والا کون ہو؟ بائع۔ بھئی یہ آپ نے کہاں سے نئی بات شروع کر دی؟ متن میں کہاں ذکر ہے کہ دعویٰ کرنے والا مشتری ہو؟ متن میں کوئی ذکر ہے دعویٰ کرنے والا مشتری ہو؟ آپ نے اپنی طرف سے بڑھا دی، علامہ صدر الشریعہ بتلا رہے ہیں آپ کو کہ یہ بعد میں ویسے نہیں ذکر کر رہا، یہ بات عبارت سے مفہوم ہو رہی ہے، اس لیے کہ عبارت میں فِی بَيْعٍ کا لفظ آیا۔ کس کا لفظ کیا لفظ آیا؟ یعنی مشتری نے دعویٰ کیا ہے کس چیز کا؟ بیع کا بھئی، کس چیز کا؟ بیع کا۔ اور اگر دعویٰ کرنے والا کون ہوتا بائع؟ تو پھر فِی شِرَاءٍ ان کا لفظ ہونا چاہیے تھا متن میں۔ کیا لفظ ہونا چاہیے تھا؟ فِی شِرَاءٍ۔ سمجھ میں آئی بھئی صورت؟ یہی بات اب ذکر کریں گے تفصیل کے ساتھ دیکھئے!
کہتے ہیں: وَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ غَيْرُ مَذْكُورَةٍ فِي الْمَتْنِ لِأَنَّ وَضْعَ الْمَسْأَلَةِ فِي الْمَتْنِ اس لیے کہ متن کے اندر جو مسئلہ، مسئلے کی جو وضع ہے، جو صورت بنائی گئی ہے، فِيمَا اس صورت میں جب دعویٰ مِنْ الْمُشْتَرِي جب دعویٰ کس کی طرف سے ہو؟ مشتری کی طرف سے ہو، فَإِنَّ عِبَارَةَ الْهِدَايَةِ هَكَذَا اس لیے کہ ہدایہ کی عبارت یوں ہے، یہ آگے دیکھئے ہدایہ کی عبارت ہے: وَإِنْ شَهِدَا بِبَيْعٍ اگر گواہی دی دو گवाہوں نے کس پر بھئی گواہی دی؟ بیع پر۔ دیکھا۔ ہدایہ میں بھی بِبَيْعٍ کا لفظ آیا ہے۔ وَإِنَّ هَذَا الْكَلَامَ إِنَّمَا يُقَالُ علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں کہ اس قسم کا کلام جو ہے اس وقت کہا جاتا ہے اِذَا دَعَا الْمُشْتَرِي جبکہ کیا کرے؟ مشتری دعویٰ کرے کہ ان الْبَايِعَ بَاعَ کہ بائع نے یہ چیز بیچی ہے، فَأَنْكَرَ الْبَايِعُ الْبَيْعَ پھر انکار کرتا ہے بائع بیع کا، فَشَهِدَ الشُّهُودُ عَلَى الْبَيْعِ تو پھر گواہ گواہی دیتے ہیں کس پر بھئی؟ بیع پر۔ وَإِنْ كَانَ دَاعَمِنَ الْبَائِعِ اور اگر دعویٰ بائع کی طرف سے ہو، فَالْبَايِعُ يَدَّعِي تو بائع یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان الْمُشْتَرِيَ اشْتَرَى مِنِّي هَذَا الْعَبْدَ بِكَذَا کہ مشتری نے یہ غلام مجھ سے اتنے کے بدلے خریدا ہے، وَعَلَيْهِ الثَّمَنُ اور اس پر کیا ہیں واجب ہیں؟ اس پر ثمن لازم ہیں، فَدَّنْكَرَ الْمُشْتَرِي شِرَاءَهُ فَشَهِدَ الشُّهُودُ پھر گواہی کیا کرتے ہیں؟ گواہی دیتے ہیں کہ انَّهُ اشْتَرَى الْعَبْدَ بِكَذَا کہ اس نے اتنے کا یہ غلام خریدنے کے بدلے خریدا ہے، وَعَلَيْهِ الثَّمَنُ اور اس پر یہ ثمن ہیں۔
فَلْعِبَا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ہدایہ میں کیا عبارت آئی تھی؟ وَإِنْ شَهِدَا بِبَيْعٍ اور یہ بھی بِبَيْعٍ کا لفظ اس صورت میں استعمال ہوتا ہے جبکہ دعویٰ کرنے والا کون ہو؟ مشتری ہو۔ اور اگر دعویٰ کرنے والا کون ہو؟ بائع تو پھر اس صورت میں صحیح عبارت یوں ہے ان يُقَالَ کہ یوں کہا جائے شَهِدَا عَلَى الشِّرَاءِ دو گواہوں نے گواہی دی کس پر؟ شرا پر۔ یوں ہونی چاہیے پھر صحیح عبارت۔
فَعُلِمَ پس جہاں یہ پتہ چل گیا، یہ جان لیا گیا کہ ان صورتِ مسئلۃ الهدایۃ فِي دَعْوَى الْمُشْتَرِي کہ ہدایت کے اندر جو صورتِ مسئلہ ہے وہ کس کی ہے؟ جب مشتری دعویٰ کرے، سمجھ میں آیا؟ وَهَذَا دَقِيقٌ تَفَرَّدَ بِهِ خَاطِرِي یہاں سے علامہ صدر الشریعہ بتا رہے ہیں بھئی، کہ یہ نکتہ آپ کو ہر جگہ نہیں ملے گا مولانا، کتابوں میں یہ نکتہ نہیں ملتا، یہ نکتہ اللہ میں اللہ تعالی نے میرے دل میں ڈالا بھئی، سمجھ میں آیا؟
تو کہتے ہیں وَهَذَا دَقِيقٌ یہ بڑی باریک بات ہے، تَفَرَّدَ بِهِ خَاطِرِي خاطر دل کو کہتے ہیں، خاطري میرا دل۔ تَفَرَّدَ بِهِ خَاطِرِي اکیلا ہوا اس کے ساتھ میرا دل، یعنی میرے ہی دل میں یہ بات آئی ہے، کسی اور نے یہ بات ذکر نہیں کی، عجیب نکتہ، کتنا عجیب اور پیارا نکتہ انہوں نے ذکر کیا کہ یہ صورت صرف شرا کے دعویٰ کرنے والا جب مشتری ہو، صرف وہ صورتیں ذکر ہیں متن میں، وہ بائع کے دعوے والی صورتیں نہیں ذکر، اور فرق کس سے پتہ چلا کہ متن میں کیا لفظ آیا؟ فِی بَيْعٍ کا لفظ آیا، اور اگر دعویٰ کرنے والا بائع ہو تو پھر کیا ہونا چاہیے تھا؟ عَلَى شِرَاءٍ ہونا چاہیے تھا۔ چلیے مولانا! هذا هو المرام، والله اعلم بحقیقتہ الکلام۔
وَفِي طَلَاقٍ إِلَّا نِصْفَ مَحْرِهَا قَبْلَ الْوَطْيِ
دیکھیے! اس کا عطف بھی اسی پر ہے، فِی نِكَاحٍ پر ہے کہ وَلَا يَضْمَنُ الرَّاجِعُ رجوع کرنے والے پر زمان نہیں ہوگا فِی طَلَاقٍ کس کے اندر؟ طلاق میں، إِلَّا نِصْفَ مَحْرِهَا قَبْلَ الْوَطْيِ مگر نصف مہر کا زمان آئے گا کس صورت میں؟ جبکہ یہ کیا ہو؟ وتی سے پہلے ہو دعویٰ۔ بس صورتِ مسئلہ یہ بھئی۔ دیکھیے، ایک عورت نے دعویٰ کر دیا بھئی کہ کسی عورت کا نکاح ہوا کسی آدمی کے ساتھ، ابھی رخصتی نہیں ہوئی، اس نے دعویٰ کر دیا کہ اس آدمی نے مجھے طلاق دے دی ہے بھئی۔ اور دو گواہ بھی پیش کر دیے، ان دو گواہوں نے قاضی کے پاس جا کر گواہی دی کہ ہمارے سامنے اس نے کیا کیا تھا اس عورت کو طلاق دی تھی بھئی۔ تو یہ دیکھیے قاضی اب فیصلہ کرے گا تو یہ طلاق قبل الوتی ہوئی یا بعد الوتی ہوئی بھئی؟ قبل الوتی ہوئی اور آپ پڑھ چکے ہیں قبل الوتی اگر طلاق دی جائے، مہر متعین ہو تو کتنا دینا پڑتا ہے خاوند کو؟ نصف مہر دینا پڑता ہے بھئی، وتی کے بعد تو مہر پورا ہی دینا پڑتا ہے، ہاں وتی سے پہلے طلاق ہو جائے، مقررہ مہر ہو تو کتنا دینا پڑتا ہے؟ نصف مہر دینا پڑتا ہے۔ تو لہذا اس صورت میں ان گواہوں پر نصف مہر آئے گا بھئی، زمان۔ بعد میں انہوں نے رجوع کر لیا تو ان پر کتنا زمان آئے گا؟ نصف مہر آئے گا بھئی، نصف مہر۔ ہاں اور اگر وتی کے بعد گواہی دی بھئی، رخصتی ہو چکی ہے، اب کسی وقت ایک عورت نے دعویٰ کر دیا میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی اور دو گواہ بھی پیش کر دیے، انہوں نے گواہی دے دی، قاضی نے فیصلہ کر دیا، دونوں میں جدائی کر دی، بعد میں گواہوں نے کیا کر دیا؟ رجوع کر لیا بھئی۔ وتی ہو چکی، وتی کے بعد طلاق پر گواہی دی اور طلاق پر قاضی نے فیصلہ کر دیا، پھر ان گواہوں نے کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا، تو اب ان پر کیا زمان آئے گا بھئی؟ کہتے ہیں ان پر کوئی زمان نہیں آئے گا۔ کیوں؟ کہتے ہیں بھئی وہ مرد کو ٹھیک ہے مہر دینا پڑے گا، لیکن وہ مہر اس گواہی کی وجہ سے آیا یا وہ وتی کی وجہ سے پہلے اس پر واجب ہو چکا تھا؟ وتی کی وجہ سے پہلے اس پر کیا ہوا تھا؟ مہر واجب ہو چکا تھا، تو ان گواہوں کی گواہی سے اس شخص کی کوئی چیز تلف نہیں ہوئی، لہذا اس صورت میں زمان نہیں۔ لیکن اگر وتی سے پہلے طلاق پر انہوں نے گواہی دے دی اور بعد میں رجوع کیا تو اس صورت میں کیا آئے گا؟ نصف مہر کا زمان آئے گا بھئی۔
بائی! آپ کہیں گے کہ اگر وتی سے پہلے خاوند خود بھی طلاق دے دے تو اس کو نصف مہر دینا پڑتا ہے تو گواہوں کی گواہی سے کچھ تلف ہوا؟ بھئی ایک آدمی ہے، اس کا ایک عورت سے نکاح ہوا، ابھی رخصتی نہیں ہوئی، وہ طلاق دے دیتا ہے، کتنا مہر دینا پڑے گا؟ تو نصف مہر تو اس کو ویسے بھی دینا ہی پڑتا ہے، تو گواہوں کی گواہی دے دی تو کچھ تلف ہوا؟ گواہوں کی گواہی کے بعد بھی اس کو کتنا دینا پڑا؟ نصف مہر ہی دینا پڑا، تو کوئی چیز اس کی تلف نہیں ہوئی، پھر آپ کیوں گواہوں پر کیا لازم کر رہے ہیں؟ نصف مہر۔ بھئی! یہ بات ٹھیک ہے آپ کی، گواہوں پہلے بھی اس کو نصف مہر دینا پڑتا، لیکن نصف مہر ہر صورت میں نہیں دینا پڑتا، اس نصف مہر کے بھی ختم ہونے کا امکان ہوتا ہے بھئی، کیسے؟ مثلاً عورت مرتد ہو گئی۔ عورت کیا ہو گئی؟ تو نکاح ٹوٹ گیا، نکاح خود بخود ختم ہوا اور سبب کس کی طرف سے آیا؟ عورت کی طرف سے آیا، لہذا قبل الوتی آیا تو وہ جو نصف مہر ہے، وہ بھی اب خاوند پر تو وہ نصف مہر ضرور دینا پڑتا تھا یا بعض صورتوں میں اس کے ساقط ہونے کا بھی احتمال تھا؟ اس کے ساقط ہونے کا بھی لیکن اب گواہوں کی گواہی کی وجہ سے کیا وہ ساقط ہوا یا خاوند کو اب ضرور دینا پڑا؟ اب تو دینا ہی پڑے گا، تو اس کو تو وہ تو پکا نہیں تھا، لیکن گواہوں کی گواہی کی وجہ سے خاوند پر کیا ہو گیا؟ پکا ہو گیا، لہذا اب یہ گویا انہوں نے نصف مہر اس کا نقصان کر دیا، تو وہ خاوند کو انہیں ادا صورت بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں آ رہی بھئی؟
وَفِي طَلَاقٍ اور طلاق کی صورت میں نہیں کوئی زمان نہیں آئے گا رجوع کرنے والے پر إِلَّا نِصْفَ مَحْرِهَا مگر کتنا؟ نصف مہر آئے گا اس عورت کا قَبْلَ الْوَطْيِ وتی سے پہلے۔ أَيْ إِذَا شَهِدَا بِالطَّلَاقِ قَبْلَ الْوَطْيِ جب گواہی دی دو گواہوں نے طلاق کی وتی سے پہلے، ثُمَّ رَجَعَا پھر ان دونوں نے رجوع کر لیا، ضَمِنَا نِصْفَ الْمَحْرِ تو وہ دونوں ضامن ہوں گے نصف مہر کے۔ أَمَّا بَعْدَ الدُّخُولِ فَلَا، ہاں دخول کے بعد یعنی وتی کے بعد اگر انہوں نے گواہی دی تھی فَلَا، تو پھر ان پر کوئی زمان نہیں آئے گا، لِأَنَّ الْمَحْرَ تَأَكَّدَ بِالدُّخُولِ فَلَا إِطْلَافَا اس لیے کہ مہر تو پختہ ہو چکا ہے جماع کی وجہ سے فَلَا إِطْلَافَا تو اس صورت میں کوئی اطلاق نہیں پایا گیا۔ صورت سمجھ میں آگਈ بھئی؟
وَمَذْمِنَا فِي الْعِتْقِ الْقِيمَةَا اور ضامن ہوگا عِتْق میں قیمت کا۔ صورتِ مسئلہ یہ بھئی ایک آدمی نے، غلام نے دعویٰ کر دیا بھئی، کہ آقا نے مجھے آزاد کیا ہے۔ آقا کہہ رہے ہیں نہیں بھئی! میں نے آزاد نہیں کیا، غلام نے دو گواہ بھی پیش کر دیے کہ اس کے سامنے اس نے مجھے کیا کیا تھا؟ آزاد کیا تھا۔ قاضی نے فیصلہ کر دیا مولانا غلام کی آزادی کا، غلام آزاد ہوا۔ بعد میں ان دونوں گواہوں نے رجوع کر لیا۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں ان دونوں گواہوں پر کیا آئے گا؟ اس غلام کی قیمت آئے گی مالک کو دینی پڑے گی، کیونکہ اس مالک کا کتنا نقصان کیا؟ اس غلام غلام اس کے ہاتھ سے نکلا تو اس کی قیمت دینی پڑے گی۔
وَمَذْمِنَا فِي الْعِتْقِ الْقِيمَةَ اور ضامن ہوں گے عِتْق کی صورت میں قیمت کے، وَفِي الْقِصَاصِ الدِّيَةَ جِی! صورتِ مسئلہ یہ بھئی، ادھر دیکھو، ایک آدمی ہے؛ اس نے دعویٰ کر دیا کہ میرے بھئی کو فلاں شخص نے قتل کیا ہے۔ میرے بھئی کو قاضی کے پاس اور دو گواہ بھی پیش کر دیے بھئی۔ گواہوں نے گواہی دی، قاضی نے فیصلہ کر دیا بھئی قصاص لیا جائے گا۔ وہ جِی! اسے مقتول کے ولی نے بھئی انہوں نے معاف کرنے سے انکار کر دیا بھئی، اس سے قصاص لیا گیا اس شخص کی گردن اڑا دی گئی۔ بعد میں ان گواہوں نے گواہی سے رجوع کر لیا کہ قاضی صاحب ہم نے تو کیا کی تھی؟ جھوٹی گواہی دی تھی، لیکن وہ آدمی تو قتل کیا جا چکا بھئی، اب کیا کیا جائے؟ کیا اب ان گواہوں کو بھی قصاصاً قتل کیا جائے گا؟ کہ ہمارے نزدیک نہیں مولانا، ان گواہوں کو قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا۔ ہاں ان پر دیت آئے گی بھئی، اب ان کو پوری دیت ادا کرنا پڑے گی کیونکہ ان کی وجہ سے اس آدمی کی جان گئی ہے۔ بھئی ان کو کیا جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان گواہوں کو اب قصاصاً قتل کیا جائے گا، ان کی وجہ سے اس آدمی ان گواहों کی گواہی کی وجہ سے اس آدمی کی جان گئی ہے، یہ سبب بنے ہیں، لہذا ان کو بھی کیا کیا جائے گا؟ قتل۔ ہم کہتے ہیں نہیں! قصاص آتا ہے جبکہ آدمی خود قتل کا فعل کرے اور ان گواہوں نے خود کوئی قتل کا فعل کیا ہے؟ نہیں، انہوں نے تو صرف گواہی دی ہے، ہاں چونکہ سبب بنے ہیں، اس لیے ان پر کیا ہم لازم کر دیں گے؟ دیت آ جائے گی تاکہ انہیں بھی سزا پوری ملے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے وَفِي الْقِصَاصِ اور قصاص میں ضامن ہوگا الدِّيَةَ کس چیز کا؟ دیت کا ضامن ہوگا، فَحَسْبُ اور بس بھئی۔ دیت آئے گی صرف، یوں کہے صرف دیت آئے گی اور بس (یعنی قصاص نہیں آئے گا)، فَحَسْبُ اور بس۔
أَيْ إِذَا شَهِدَا جب گواہی دی دو گواہوں نے أَنَّ زَيْدًا قَتَلَ عَمْرًا کہ زید نے کس کو قتل کیا ہے؟ امر کو قتل کیا ہے، فَقُتِلَ سَزَيْدٌ پھر زید سے قصاص لیا گیا، ثُمَّ رَجَعَا پھر ان دونوں گواہوں نے کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا، يَجِبُ الدِّيَةُ عِنْدَنَا ہمارے نزدیک کیا واجب ہوگی؟ دیت واجب ہوگی۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُقْتَصُّ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کیا کیا جائے گا؟ قصاص لیا جائے گا، کیونکہ وہ سبب بنے ہیں۔ جِی!
وَمَضْمِنَ الْفَرْعُ بِالرُّجُوعِ و ضامن ہوگا بھئی صورت، گواہی پر گواہی کے مسئلے آپ پڑھے تھے بھئی۔ آپ نے اور آپ نے زید پر دعویٰ کر دیا کہ قاضی صاحب اس نے یہ گاڑی مجھ سے خریدی ہے یا یوں کہیں، قرض اس زید نے میرا کتنا مال دینا ہے، کتنا دین ہے میرا زید پر؟ 1000 روپے دین ہے، قرض لیا تھا اس نے مجھ سے 1000 روپے، اب آپ گواہ لے کر آتے ہیں بھئی، قاضی صاحب میرے پاس دو گواہ ہیں، لیکن آپ گواہوں کے پاس جاتے ہیں، پتہ چلا آپ کے گواہ آج رات حج پہ جا رہے ہیں، تو وہ کیا کرتے ہیں؟ اپنی گواہی پر آگے گواہ بناتے ہیں۔ تو وہ جو گواہ حج پہ چلے گئے وہ تو ہیں اصل، شاہد اصل ہیں مولانا، اور جس کو اس نے دوبارہ آگے گواہ بنایا، وہ کیا کہلاتا ہے؟ وہ شاہدِ فرع کہلاتے ہیں۔ اب شاہدِ اصل نے رجوع نہیں کیا، بلکہ کس نے رجوع کیا؟ تو شاہد، سنو پہلے، شاہدِ فرع نے آ کر گواہی دی، قاضی نے فیصلہ کر دیا، اب اس کے بعد اس شاہدِ فرع نے رجوع کر لیا۔ تو اس پر زمان آئے گا یا نہیں بھئی؟ کیونکہ اس کی گواہی کی وجہ سے اس آدمی کا مال تلف ہوا، اس کو دینا پڑا مال۔ کہتے ہیں ہاں بھئی! اس شاہدِ فرع پر کیا آئے گا؟ زمان آئے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے وَضْمِنَ الْفَرْعُ بِالرُّجُوعِ اور ضامن ہوگا گواہ فرع بِالرُّجُوعِ کس وجہ سے؟ رجوع کی وجہ سے۔ بھئی۔ اچھا۔
لَا أَصْلُهُ، بھئی اصل رجوع کر لے تو ضامن نہیں ہوگا۔ اصل رجوع کرتا ہے بِقَوْلِهِ اس قول کے ساتھ یوں کہتا ہے، بھئی وہ جو حج پہ گئے تھے وہ بعد میں آ کر کہتے ہیں، یوں کہتے ہیں: مَا أَشْھَدْتُهُ عَلَى شَهَادَتِي قاضی صاحب! میں نے اس کو تو اپنی گواہی پر گواہ بنایا ہی بھئی جنہوں نے بعد میں آ کر شاہدِ فرع نے تو گواہی قاضی کے پاس دی ہے، شاہدِ اصل تو کدھر چلے گئے؟ حج پہ، واپس آ کر وہ کیا کہتا ہے؟ وہ رجوع کر لیتا ہے، کیا رجوع کرتا ہے؟ کیا کہتا ہے؟ مَا أَشْھَدْتُهُ عَلَى میں نے تو اس گواہ کو اپنی گواہی پر گواہ نہیں بنایا تھا، یا یوں کہتا ہے: وَأَشْھَدْتُهُ وَغَلَبْتُ میں نے گواہ تو بنایا تھا لیکن مجھ سے غلطی ہو گئی، تو کیا اس پر زمان آئے گا یا زمان نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی زمان کیوں نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے کوئی نقصان نہیں کیا، قاضی کا فیصلہ شاہدِ اصل کی گواہی پر ہوا یا شاہدِ فرع کی گواہی پر؟ شاہدِ فرع کی گواہی پر قاضی کا فیصلہ ہوا تھا، تو شاہدِ فرع رجوع کرتا ہے تو اس پر تو زمان آئے گا، کیونکہ اس کی گواہی کی وجہ سے دوسرے کا نقصان ہوا، لیکن شاہدِ اصل نے تو قاضی کے پاس جا کر گواہی نہیں دی، لہذا وہ نہیں، ان کا قَوْلُهُ لَا أَصْلُهُ بھئی، متن بھئی اوپر متن میں کیا آ رہا ہے؟ وَضْمِنَ الْفَرْعُ بِالرُّجُوعِ لَا أَصْلُهُ۔ شارِحِ وقایہ فرما رہے ہیں، متن کا قول لَا أَصْلُهُ جو ہے، مسئلہ مبتداة یہ الگ نیا مسئلہ ہے، الگ مسئلہ مبتداة یہ نیا مسئلہ ہے، لا تعلق لها برجوع الفرع۔ اس کا کوئی تعلق نہیں رجوع فرع کے ساتھ۔ رجوع فرع کا مسئلہ الگ ہے، رجوع اصل کا مسئلہ الگ ہے، ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ ایک صورت وہ تھی کہ صرف فرع نے رجوع کیا، ایک صورت کون سی ہے کہ کس نے رجوع کیا؟ ہاں تو دونوں الگ الگ مسئلے ہیں، تو اس کا کوئی تعلق نہیں رجوع فرع کے ساتھ۔ فإذا قال الأصل جب اصل گواہ کہتے ہیں مَا أَشْھَدْتُ الْفَرْعَ عَلَى شَهَادَتِي میں نے فرع کو گوا نہیں بنایا تھا اپنی شہادت پر، لَا يُلْتَفَتُ إِلَى قَوْلِهِ اس کے قول کی طرف توجہ نہیں کی जाएगी، فَلَا يَضْمَنُ تو اس کا زمان بھی، وہ زمان بھی نہیں ہوگا۔ وَإِنْ قَالَ أَشْھَدْتُهُ وَغَلَبْتُ لیکن اگر وہ یوں کہتا ہے کہ میں نے گواہ تو بنایا تھا، وَغَلَبْتُ اور اور میں نے غلطی کی اس چال میں کہ میں نے غلطی کی۔ فَلاَ زَمَانَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوْسُفَ رَحِمَھُمَا اللَّهُ تو حضرت شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اس پر کوئی زمان نہیں آئے گا۔ وَيَضْمَنُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحَمَهُ اللَّهُ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ کیا ہوگا؟ ضامن ہوگا۔ کس صورت میں؟ جبکہ وہ کیا کہے؟ گواہ تو میں نے بنایا تھا، لیکن میں نے غلطی کی، اس صورت میں۔
وَلَوْ رَجَعَ الْأَصْلُ وَالْفَرْعُ یہ اب آیا مسئلہ کہ اصل اور فرع دونوں رجوع کر لیتے ہیں۔ غُرِّمَ الْفَرْعُ تو زمان، ضامن بنایا جائے گا کس کو صرف؟ فرع کو زمان، کیونکہ فیصلہ قاضی کا کس پر ہوا تھا؟ فرع پر۔ تو زمان بھی صرف فرع۔ فَقَطْ غُرِّمَ الْفَرْعُ فَقَطْ فرع صرف زمان، کو زمان بنایا جائے گا صرف۔ ہَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوْسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ یہ حضرت شیخین رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔ دلیل کیا ہے؟ وجل لِأَنَّ الْقَضَاءَ وَقَعَ بِشَهَادَةِ الْفَرْعِ اس لیے کہ فیصلہ جو ہے وہ شہادتِ فرع کی وجہ سے واقع ہوا ہے فَهِيَ عِلَّةٌ قَرِيبَةٌ تو یہ فرع کی شہادت کیا ہے؟ علت قریبہ ہے، فَيُضَافُ الْحُكْمُ إِلَيْهَا تو اس حکم کی اضافت کس نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ اس علت قریبہ کی طرف کی جائے گی۔ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحَمَهُ اللَّهُ تَعَالَى جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: إِنْ شَاءَ ضَمَّنَ الْأَصْلَ وَإِنْ شَاءَ ضَمَّنَ الْفَرْعَ اگر چاہے تو ضامن بنا دے اصل کو، اگر چاہے تو ضامن بنا دے فرع کو۔ ان کے نزدیک، دیکھئے بھئی، شاہدِ فرع سے چاہے زمان لے لے اور چاہے تو شاہدِ اصل سے۔ کیوں؟ کیونکہ شاہدِ فرع اگر علت قریبہ ہے تو شاہدِ اصل کیا ہے؟ علت بعیدہ ہے، علت العلت ہے، تو دونوں علتیں ہیں، سمجھ میں آیا؟ تو یہ علت قریبہ ہے، وہ علت العلت ہے (یعنی علت بعیدہ)۔ وہ گواہ نہ بناتے تو یہ گواہی دے سکتے تھے؟ نہیں دے سکتے تھے بھئی۔ لہذا جن سے چاہے یہ جا کر اپنا مال لے لے بھئی، اس کو ضامن بنا دے بھئی۔
وَقَوْلُ الْفَرْعِ اور فرع کا یہ کہنا کَذَبَ أَصْلِي میرے اصل نے جھوٹ بولا۔ شاہدِ فرع بعد میں کیا کرتا ہے کہتا ہے؟ بھئی شاہدِ فرع اپنی گواہی سے رجوع نہیں کر رہا، صرف یہ کہہ رہا ہے: میرے اصل نے کیا کیا تھا؟ گواہ دے دی فیصلہ بھی ہو گیا، بعد میں آ کر کہتا ہے قاضی صاحب میرے جو شاہدِ اصل تھا اس نے کیا کیا تھا؟ جھوٹ بولا تھا۔ تو یہ کہتا ہے وَقَوْلُ الْفَرْعِ اور فرع کا یہ کہنا کَذَبَ أَصْلِي میرے اصل نے جھوٹ بولا تھا اور غَلِطَ فِيهَا یا اس شہادت میں کیا کی تھی اس نے؟ غلطی کی تھی، لَيْسَ بِشَيْءٍ یہ کچھ بھی نہیں ہے، اس کی طرف توجہ بھئی تم کون ہوتے ہو اصل کی بات کو جھٹلانے والے اور اس کی تکذیب کرنے والے بھئی! سمجھ میں آیا؟ تو فرع کہتا ہے اصل نے جھوٹ بولا بھئی، اصل نے جھوٹ بولا، تو وہ خود جب اققرار کرے گا، تو پھر بات ہو سکتی ہے، اس کے کہنے سے کچھ نہیں بھئی۔
وَقَوْلُ الْفَرْعِ اور فرع کا یہ کہنا كَذَبَ أَصْلِي جھوٹ بولا میری اصل نے أَوْ غَلِطَ فِيهَا یا غلطی کی اس نے فِهَا آيْ فِي الشَّهَادَةِ شہادت کے اندر، یہ اس کا قول لَيْسَ بِشَيْءٍ یہ کچھ بھی نہیں، لِأَنَّ كَذَبَ الْأَصْلِ یَا کَذِبَ الْأَصْلِ لَا يَثْبُتُ بِقَوْلِ الْفَرْعِ اس لیے کہ اصل کا جھوٹ وہ ثابت نہیں ہو سکتا کس کے ذریعے؟ فرع کے قول سے، ان کے لیے ان کا اپنا اقرار ضروری ہے۔ وَالْفَرْعُ بَاقِي وَالْفَرْعُ لَمْ يَرْجِعْ عَنْ شَهَادَتِهِ فرع نے تو اپنی شہادت سے رجوع شرع نے فرع نے کیا اپنی شہادت سے رجوع؟ صرف یہ کہا میری اصل نے جھوٹ بولا تھا یا اس نے غلطی کی تھی، فَلَا يُلْتَفَتُ إِلَى قَوْلِهِ لہذا اس کے قول کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی۔
وَضَمِنَ الْمُزَكِّي بِالرُّجُوعِ عَنِ التَّزْكِيَةِ۔ دیکھو بھئی، تزکیہ جانتے ہیں یا نہیں جانتے؟ بھئی آپ نے پڑھا تھا قاضی کے پاس جب گواہی کے لیے کوئی آئے تو گواہ کا کیا ہونا ضروری ہے؟ عادل گواہ ہونا چاہیے، قاضی اس کے لیے تزکیہ کروائے گا، پتہ چلائے گا، بھئی خفیہ طور پر ایک خط روانہ کرے گا اس کے دوست کو، جاننے والے کو کہ بتاؤ یہ شخص عادل ہے یا عادل نہیں، اس کے شب و روز کیسے ہیں بھئی؟ نیکی کرنے والا یا اس کا فجور کرنے والا ہے، تو وہ لکھ دے گا عادل ہے یا عادل نہیں ہے، اس کو کہتے ہیں تزکیہ، اور جس شخص نے تزکیہ کیا، وہ کیا کہلاتا ہے؟ مزکی کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ مزکی کہلاتا ہے۔
اچھا، تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مزکی رجوع کر لے تو اس پر زمان آئے گا۔ صاحبین فرماتے ہیں اگر مزکی رجوع کر لے تو اس پر زمان نہیں۔ بھئی! آپ کے پاس ایک مسئلے کے اندر ایک گواہ پیش ہوا، آپ نے گواہ کا تزکیہ کروایا، خفیہ خط لکھا اس کے دوست کو، اس دوست نے لکھ دیا کہ یہ عادل ہے، کیا لکھا؟ عادل لکھ دیا، آپ قاضی تھے، آپ نے فیصلہ کر دیا، بعد میں اس مزکی نے رجوع کر لیا کہ قاضی صاحب مجھ سے کیا ہو گئی؟ غلطی، میں نے غلط جھوٹ بولا تھا، یہ عادل نہیں ہے، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس پر زمان آئے گا۔ کیوں زمان آئے گا؟ کیونکہ اس آپ کا فیصلہ کس پر مبنی تھا؟ اس عادل شخص کی، اس گواہ کی گواہی پر اور اس گواہ کی گواہی کو آپ نے قبول کس کی وجہ سے کیا تھا؟ اس مزکی کے تزکیہ کی وجہ سے قبول کیا تھا، تو یہ علت العلت ہوئی، اور عید کبھی کبھی حکم کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ علت العلت کی طرف بھی کی جاتی ہے، وہ تزکیہ نہ کرتا تو آپ گواہی قبول نہ کرتے اور فیصلہ بھی نہ کرتے بھئی۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں، نہیں بھئی! اس صورت میں اس پر زمان نہیں۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں شاہدِ احسان پر۔ کس پر قیاس کرتے ہیں؟ شاہدِ احسان جانتے ہیں یا نہیں جانتے بھئی؟ بھئی دیکھیے آپ نے پڑھا ہے زنا کے مسئلے کے اندر کہ اگر شادی شدہ شخص زنا کر لے تو اسے کیا کیا جائے گا؟ رجم اور غیر شادی شدہ زنا کر لے تو اسے اسے 100 کوڑے لگائے جائیں گے۔ اب ایک شخص نے زنا کیا، اس کا زنا ثابت ہوا، اور دو گवाہ بھی پیش ہوئے جنہوں نے کہا قاضی صاحب ہم گواہی دیتے ہیں یہ شخص شادی شدہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ تو قاضی اب کیا فیصلہ کرے گا؟ کوڑے لگانے کا یا رجم کرنے کا؟ رجم کرنے کا تو یہ شاہدِ احسان ہیں جنہوں نے شادی شدہ ہونے کی گواہی دی یہ کیا کہلاتے ہیں؟ شاہدِ احسان۔ اب قاضی نے رجم کرنے کا فیصلہ کر دیا، اس کو رجم کر دیا، سنگسار کر دیا، مر گیا وہ۔ بعد میں اس شاہدِ احسان نے کیا کر لیا؟ انہوں نے رجوع کر لیا، تو کیا ان پر زمان آئے گا یا زمان نہیں آئے گا؟ تو بالاتفاق ہمارے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک شاہدِ احسان پر زمان نہیں آئے گا۔ کیوں؟ کیونکہ اس کو رجوع کرنے کا فیصلہ شاہدِ احسان کی وجہ سے کیا گیا یا ان زنا پر گواہی دینے والوں کی گواہی کی وجہ سے بھئی؟ زنا پر گواہی دینے والوں کی گواہی کی وجہ سے اس کو رجم کیا گیا، تو احسان تو صرف شرط تھی، رجم کے لیے کیا تھی؟ شرط اور حکم کی نسبت شرط کی طرف نہیں کی جاتی، بلکہ کس کی طرف کی جاتی ہے؟ سبب اور علت کی طرف کی جاتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو امام صاحب کے نزدیک اس وجہ سے کہ یہ چونکہ شرط ہے، اور اس کی طرح نسبت نہیں کی جائے گی، اور صاحبین نے مزکی کو بھی اسی پر قیاس کیا، جبکہ امام صاحب نے اس کو مزکی پر قیاس نہیں کیا، بلکہ وہ فرماتے ہیں کہ وہ علت العلت ہے۔ مسئلے سمجھ میں آگئے دونوں؟ دیکھیے خود متن میں ہی تفصیل آ رہی ہے۔
وَضَمِنَ الْمُزَكِّي اور ضامن ہوگا مزکی بِرُجُوعِ رجوع کرنے کی وجہ سے عَنِ التَّزْكِيَةِ کس چیز سے رجوع کرتا ہے؟ تزکیہ۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے، خِلَافًا لَهُمَا بخلاف صاحبین کے۔ جِی! امام صاحب کی دلیل لِأَنَّ التَّزْكِيَةَ جَعَلَتِ الشَّهَادَةَ شَهَادَةً اس لیے کہ تزکیہ نہیں شہادت کو شہادت بنایا۔ تزکیہ نہ ہوتا تو شہادت کو شہادت آپ مانتے، تسلیم کرتے بھئی! آپ قاضی تھے آپ نے تو بغیر تعدیل کے گواہی کو قبول ہی تزکیہ ہوا، تو تزکیہ نے ان کی شہادت کو شہادت بنا دیا۔ تو وہ ضامن ہوگا لَا شَاهِدَ الْإِحْسَانِ۔ شاہدِ احسان جو ہے وہ ضامن نہیں ہوگا۔ أَيْ إِذَا شَهِدُوا عَلَى الزِّنَا جب گواہی دی گواہوں نے زنا پر، دو چار گواہوں نے، وَشَهِدَ الشُّهُودُ عَلَى عَلَى إِحْصَانِ الزَّانِي اور گواہی دی گواہوں نے کس پر بھئی؟ عَلَى إِحْصَانِ الزَّانِي زانی کے پاک دامن ہونے پر، احسان کا معنی پاک دامن ہونا، مراد ہے شادی شدہ ہونا۔ شادی شدہ ہونے پر، فَرُجِمَ اس زانی کو کیا کر دیا گیا؟ بس رجم کر دیا گیا، ثُمَّ رَجَعَ شُهُودُ الْإِحْسَانِ پھر شہودِ احسان نے کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا، وہ زنا پر جنہوں نے گواہی دی تھی انہوں نے نہیں رجوع کیا، صرف کس نے رجوع کیا؟ شہودِ احسان نے، لَمْ يَضْمَنُوا تو یہ ضامن نہیں ہوں گے، لِأَنَّ الْإِحْسَانَ شَرْطٌ مَحْضٌ اس لیے کہ احسان تو کیا ہے؟ شرطِ محض ہے، لَا يُضَافُ الْحُكْمُ إِلَيْهِ حکم کی نسبت اس کی طرف نہیں کی جاتی، بِخِلَافِ التَّزْكِيَةِ بخلاف کس کے؟ تزکیہ کے، یہ امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے اوپر، بخلاف تزکیہ کے کہ حکم وہ علت العلت ہے اور حکم کی نسبت علت العلت کی طرف بھی ہوتی ہے، وہ تزکیہ نہ کرتا تو آپ گواہی قبول نہ کرتے اور فیصلہ بھی نہ کرتے بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں بھئی، اس صورت میں اس پر زمان نہیں۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں شاہدِ احسان پر۔ کس پر قیاس کرتے ہیں؟ شاہدِ احسان جانتے ہیں یا نہیں جانتے بھئی؟ بھئی دیکھیے آپ نے پڑھا ہے زنا کے مسئلے کے اندر کہ اگر شادی شدہ شخص زنا کر لے تو اسے کیا کیا جائے گا؟ رجم اور غیر شادی شدہ زنا کر لے تو اسے اسے 100 کوڑے لگائے جائیں گے۔ اب ایک شخص نے زنا کیا، اس کا زنا ثابت ہوا، اور دو گवाہ بھی پیش ہوئے جنہوں نے کہا قاضی صاحب ہم گواہی دیتے ہیں یہ شخص شادی شدہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ تو قاضی اب کیا فیصلہ کرے گا؟ کوڑے لگانے کا یا رجم کرنے کا؟ رجم کرنے کا تو یہ شاہدِ احسان ہیں جنہوں نے شادی شدہ ہونے کی گواہی دی یہ کیا کہلاتے ہیں؟ شاہدِ احسان۔ اب قاضی نے رجم کرنے کا فیصلہ کر دیا، اس کو رجم کر دیا، سنگسار کر دیا، مر گیا وہ۔ بعد میں اس شاہدِ احسان نے کیا کر لیا؟ انہوں نے رجوع کر لیا، تو کیا ان پر زمان آئے گا یا زمان نہیں آئے گا؟ تو بالاتفاق ہمارے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک شاہدِ احسان پر زمان نہیں آئے گا۔ کیوں؟ کیونکہ اس کو رجوع کرنے کا فیصلہ شاہدِ احسان کی وجہ سے کیا گیا یا ان زنا پر گواہی دینے والوں کی گواہی کی وجہ سے بھئی؟ زنا پر گواہی دینے والوں کی گواہی کی وجہ سے اس کو رجم کیا گیا، تو احسان تو صرف شرط تھی، رجم کے لیے کیا تھی؟ شرط اور حکم کی نسبت شرط کی طرف نہیں کی جاتی، بلکہ کس کی طرف کی جاتی ہے؟ سبب اور علت کی طرف کی جاتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو امام صاحب کے نزدیک اس وجہ سے کہ یہ چونکہ شرط ہے، اور اس کی طرح نسبت نہیں کی جائے گی، اور صاحبین نے مزکی کو بھی اسی پر قیاس کیا، جبکہ امام صاحب نے اس کو مزکی پر قیاس نہیں کیا، بلکہ وہ فرماتے ہیں کہ وہ علت العلت ہے۔ مسئلے سمجھ میں آگئے دونوں؟ دیکھیے خود متن میں ہی تفصیل آ رہی ہے۔ وَهُمَا قَاسَا اور صاحبین نے قیاس کیا ہے، ہما ضمیر صاحبین کو راجع، وَهُمَا قَاسَا صاحبین نے قیاس کیا ہے، الْمُزَكِّيَ عَلَى شَاهِدِ الْإِحْسَانِ مزکی کو قیاس کیا ہے کس پر بھئی؟ شاہدِ احسان۔ وہ فرماتے ہیں شاہدِ احسان پر جیسے زمان نہیں آتا، مزکی پر بھی زمان امام صاحب فرماتے ہیں نہیں دونوں میں فرق ہے۔ احسان شاہدِ احسان صرف شرط احسان تو صرف شرط ہے، اور شرط کی طرف حکم کی نسبت نہیں ہوتی بھئی۔
كَمَا ضَمِنَ شَاهِدَا شَاهِدُ الْيَمِينِ جیسے کہ زمان ہوتا ہے شاہدِ یمین لَا الشَّرْطِي نہ کہ شاہدِ شرطِ اِذَا رَجَعُوا جبکہ یہ سارے کیا کر لیں؟ رجوع کر لیں۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے، ایک غلام ہے اس نے دعویٰ کر دیا اپنی آزادی کا، قاضی کے پاس آیا، قاضی صاحب میرے آقا نے میری آزادی کو معلق کیا تھا فلاں کام کے ساتھ۔ مثلاً، میرے آقا نے مجھے کہا تھا کہ اگر میں اس مسجد میں یا اس گھر کے اندر گیا تو تو آزاد ہے۔ میرے آقا نے اپنے بارے میں کیا کہا تھا؟ کہ اگر وہ زید کے گھر میرا آقا چلا گیا تو میں کیا ہو جاؤں گا؟ آزاد ہو جاؤں گا، اس پر اس گواہ غلام نے دو گواہ پیش کر دیے، گواہوں نے گواہی دی کہ ہاں قاضی صاحب ہم گواہی دیتے ہیں اس کے آقا نے اس کی آزادی کو کس پر معلق کیا تھا؟ اپنے زید کے گھر جانے پر۔ تو یہ دو گواہ ہوئے تا یمین پر تعلیق پر بھئی، کس پر گواہ ہوئے؟ تعلیق پر گواہ کہ اس کی آزادی معلق ہے آقا کے زید کے گھر جانے پر۔ اچھا، اس پر گواہی دی اور دو اور گواہ غلام نے پیش کر دیے، انہوں نے گواہی دی کہ قاضی صاحب ہم گواہی دیتے ہیں کل اس غلام کا آقا کس کے گھر گیا تھا؟ زید کے گھر۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو دو گواہوں نے گواہی دی کس پر؟ شرط پر۔ اور دو نے گواہی دی کس چیز دو گواہوں نے گواہی دی بھئی تعلیق پر، کس چیز پر؟ اور دو گواہوں نے کس چیز پر گواہی دی؟ اس شرط کے پائے جانے پر اور قاضی نے کیا فیصلہ کر دیا؟ غلام کے آزاد ہونے کا۔ بعد میں ان چاروں گواہوں نے رجوع کر لیا کہ ہم نے جھوٹ بولا تھا۔ تو بھئی زمان کس پر آئے گا؟ فقہاء لکھتے ہیں، جو تعلیق پر جنہوں نے گواہی دی تھی، ان پر زمان آئے گا اور جنہوں نے وجودِ شرط پر گواہی دی تھی، ان پر نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ غلام کی آزادی کا سبب وہ تعلیق ہے، نہ کہ آقا کا اس کے گھر جانا۔ اس کا۔ بھئی کوئی بھی آقا زید کے گھر جائے گا تو کیا اس کا غلام آزاد ہوگا؟ نہیں، وہ دس دفعہ جائے، ہزار دفعہ جائے، غلام کبھی بھی نہیں آزاد ہوگا۔ ہاں اگر وہ تعلیق پائی جا رہی ہے، تو اب کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ تو الہ سبب ہے تعلیق، اور یہ تو ہے صرف شرط۔ تو لہذا، حکم کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ سبب اس شرط کی یمین کی طرف کی جائے گی، اس تعلیق کی طرف کی جائے گی، شرط کی طرف نہیں کی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے كَمَا ضَمِنَ شَاهِدُ الْيَمِينِ جیسے کہ زمان ہوگا شاہدِ یمین سے وہ شاہدِ تعلیق مراد ہے۔ شاہدِ یمین زمان ہوگا لَاشَّرْطِي شاہدِ شرط زمان نہیں ہوگا، اِذَا رَجَعُوا جب سارے رجوع کر لیں أَيْ إِذَا شَهِدَا شَاهِدَانِ جب گواہی دی دو گواہوں نے أَنَّهُ عَلَّقَ عِتْقَ عَبْدِهِ بِشَرْطٍ کہ اس شخص نے معلق کیا ہے اپنے غلام کی آزادی کو بِشَرْطٍ کسی شرط کے ساتھ، مثلاً زید کے گھر جانے کے ساتھ، وَشَهِدَ آخَرَانِ اور دوسرے دو گواہوں نے گواہی دی عَلَى وُجُودِ الشَّرْطِ کس چیز پر؟ وجودِ شرط کہ شرط پائی گئی، زید آقا زید کے گھر گیا ہے، فَحَكَمَ بِالْعِتْقِ پھر قاضی نے فیصلہ کر دیا کس کا؟ آزادی کا، ثُمَّ رَجَعَ الْكُلُّ پھر ساروں نے کیا کر لیا؟ رجوع کر لیا، ضَمِنَ الشَّاهِدَا الشَّهَادَانِ نون اضافت کی وجہ سے گر گیا تثنیہ ہے۔ ضَمِنَ شَاهِدَالْمَيْمِينِ یمین کے جو تعلیق کے دو گواہ ہیں، ان کی وہ ضامن ہوں گے، لِأَنَّهُمَا صَاحِبُ الْعِلَّةِ اس لیے کہ وہ صاحبِ علت ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ وہ کیا ہے صاحبِ وہ علت بن رہے ہیں اس کی آزادی کی بھئی۔ چلیے مولانا هدا هو المرام، والله اعلم بحقیقتہ الكلام۔