Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-031

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 44
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ دو آدمیوں میں جب بیعِ فاسد ہو جائے، تو اب اس میں مبیع اور ثمن پر قبضہ کر لیا دونوں نے، تو اب ان پر لوٹانا ضروری ہے، اس لیے کہ شرعاً یہ بیع جائز نہیں ہے بھئی۔ لیکن اب اگر آگے وہ مشتری مبیع کو بیچ کر نفع کماتا ہے اور تو وہ نفع اس کے لیے جائز نہیں ہے مولانا۔ لیکن اگر بائع اس ثمن کے ذریعے آگے نفع کماتا ہے، تو وہ اس کے لیے جائز ہے بھئی، جائز ہے بھئی۔ جی۔ اور اس کے لیے میں نے دو تین مقدمات ذکر کیے تھے، پہلی یہ بات ذکر کی تھی کہ یاد رکھنا بیع کے اندر مبیع متعین ہوتا ہے اور ثمن متعین نہیں ہوتے۔ دوسری بات یہ ذکر کی تھی کہ شبہ بھی حرمت کے باب میں شبہ بھی ملحق بالحقیقت ہوتا ہے، یعنی شبہِ حرمت بھی آ جائے تو اسی طرح گویا حقیقتاً حرمت آ گئی بھئی۔ اور چوتھی، تیسری بات یہ ذکر کی تھی کہ عدمِ ملک کی صورت میں نفع کے اندر حقیقتاً خبث آتا ہے۔ عدمِ ملک کے اندر جیسے کوئی شخص کسی کی چیز غصب کر لیتا ہے، اب اس کے ذریعے جو، تو یہاں عدمِ ملک ہے، اس کے ذریعے جو نفع کمائے گا اس میں خبث ہے بھئی، حقیقتاً خبث ہے بھئی۔ اچھا! اور مسئلہ یہ چل رہا ہے کہ مبیع کے ذریعے جو نفع کمایا، اس میں وہ اس میں خبث ہے، اور ثمن کے ذریعے جو بائع نفع کماتا ہے، اس میں خبث اس کے لیے نہیں ہے، اس کے لیے جائز ہے بھئی، جائز ہے۔ تو وجہ اس کی یہ بھئی، کہ مبیع جو اس کو حاصل ہوا وہ بیعِ فاسد سے حاصل ہوا ہے، تو بیعِ فاسد کی وجہ سے اب اس کے اندر مشتری کی جو ملک آئے گی، وہ ملکِ فاسد آئے گی، اور ملکِ فاسد کے اندر شبہ ہے کس چیز کا؟ عدمِ ملک کا۔ اور عدمِ ملک، تو اس میں کیا آ گیا؟ شبہِ عدمِ ملک بھئی، فسادِ ملک میں کیا آیا؟ شبہِ عدمِ ملک بھئی۔ تو اور شبہِ عدمِ ملک بھئی۔ بھئی عدمِ ملک میں آتا تھا خبث، اور یہاں پر ہے شبہِ عدمِ ملک، تو یہاں پر کیا آ گیا؟ شبہِ خبث، لہٰذا اس مبیع میں شبہِ خبث آ گیا، اب آگے اس کے ذریعے جو نفع کمائے گا اس میں بھی کیا آ جائے گا؟ شبہِ خبث۔ بھئی جب اس مبیع میں شبہِ خبث ہے، تو اس کے ذریعے جو نفع کمایا اس میں بھی شبہِ خبث۔ تو اور شبہ حرمت کے باب میں ملحق بالحقیقت ہے، تو گویا حقیقتاً کیا آ گیا؟ خبث آ گیا، خبث آ گیا۔ لہٰذا اس کے لیے جائز نہیں۔ تو یہ تو اس مبیع کی بات ہو رہی تھی جو بیع کے اندر متعین ہو جاتا ہے، جبکہ ثمن جو ہیں وہ بیع کے اندر متعین نہیں ہوتے۔ لہٰذا بائع کو جو ثمن حاصل ہوئے بھئی، اب پتہ نہیں انہی اسی ثمن کے ساتھ عقد کا تعلق ہے یا عقد کا تعلق نہیں، اس میں شبہ آ گیا۔ کیونکہ ثمن تو متعین نہیں ہوتے، بلکہ وہ تو کیا ہوتے ہیں؟ واجب فی الذمہ۔ لیکن اس نے ادا تو یہی ثمن کیے ہیں، تو شبہ آ گیا کہ پتہ نہیں اس کے ساتھ عقد کا تعلق ہے یا عقد کا تعلق نہیں، اور وہ چیز جس کے ساتھ حقیقتاً عقد کا تعلق تھا جو متعین تھی بھئی مبیع، اس کے اندر شبہِ خبث آتا تھا، تو یہاں پر تو اس کے عقد کے ساتھ تعلق میں بھی کیا آ چکا ہے ثمن میں؟ شبہ، تو ایک شبہ اور بڑھ گیا۔ وہاں تھا خبث کا شبہ، اور یہاں کیا ہو جائے گا؟ خبث کے شبہے کا شبہ۔ تو وہاں تھا شبہ، یہاں آ جائے گا شبھۃ الشبہ، اور شبہ تو معتبر ہے، لیکن شبھۃ الشبہ معتبر نہیں، لہٰذا خبث نہیں آیا۔ ثمن کے اندر خبث بلکہ شبھۃ الشبہ آیا خبث کا، اب اس ثمن کے ذریعے جو آگے عقد کرتا ہے اور نفع کماتا ہے، اس کے اندر بھی شبھۃ الشبہ آیا۔ تو اور شبھۃ الشبہ تو معتبر نہیں ہے، لہٰذا اس کے لیے جائز ہے۔ جبکہ غصب کی صورت میں آپ نے چاہے ثمن کے، ایک آدمی نے چاہے وہ کوئی چیز غصب کی یا درہم و دنانیر غصب کیے بھئی، دونوں صورتوں میں اس کے لیے اس کا نفع کیا ہے؟ جائز نہیں۔ اس لیے کہ جب کوئی ایسی چیز اس نے درہم و دنانیر کے علاوہ کوئی چیز غصب کی، اس کے ذریعے نفع کمایا، تو یہاں پر تو عدمِ ملک ہے، تو یہاں پر کیا ہوا؟ حقیقتاً خبث آ گیا۔ اور اگر اس نے درہم و دنانیر غصب کیے تھے، تو وہ تو متعین نہیں ہوتے، لیکن اس نے تو غصب کیے ہیں، تو خبث تو نہ آیا، لیکن کیا آ گیا؟ شبہِ خبث آ گیا۔ تو شبہِ خبث بھی کیا ہے؟ حرمت کے باب میں ملحق بالحقیقت، تو گویا حقیقتاً خبث آ گیا۔ تو لہٰذا غصب کی صورت میں چاہے وہ عین ہو، چاہے درہم و دنانیر، دونوں صورتوں میں اس کے لیے نفع جائز نہیں بھئی۔ پھر اس کی ایک نظیر بیان کی تھی، جیسے کوئی شخص دوسرے پر دعویٰ کر دیتا ہے غلط دعویٰ، کہ تو نے میرا اتنا مال دینا ہے، اور وہ مدعی علیہ وہ مال اس کے حوالے کر دیتا ہے، اب اس کے مال کے ذریعے وہ نفع کماتا ہے، بعد میں وہ کیا کرتا ہے؟ اپنی غلطی کا اقرار کرتا ہے کہ میں نے تو تم سے غلط پیسے لیے تھے، تم نے میرا کوئی دین نہیں دینا تھا، اب وہ اس کے دین واپس کر دیتا ہے، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے یہ جو اس نے نفع کمایا ہے اس دین کے ذریعے اس دوران، کیا اس کے لیے جائز ہے یا جائز نہیں؟ کہتے ہیں بھئی یہ ما لا يتعین کی قبیل سے ہے، لہٰذا اس میں جو دین اس نے وصول کیا تھا بھئی، وہ کس قبیل سے ہے؟ ما لا يتعین، درہم و دنانیر بھئی۔ لہٰذا اس کے ذریعے جو نفع کمائے گا، اس میں بھی شبھۃ الشبہ آیا، کیا آیا؟ شبھۃ الشبہ، اور شبھۃ الشبہ کا کوئی اعتبار نہیں، اس کے لیے حلال ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور دلیل کس طرح اس کی ذکر کی تھی انہوں نے؟ کہ یہاں پر جب زیڈ نے بکر پر دعویٰ کر دیا دین کا، دین ہے نہیں، لیکن اس نے دعویٰ کر دیا، اور بکر نے اپنی جان چھڑانے کے لیے دین اس کے حوالے کر دیا، تو گویا اس نے اقرار کر لیا کہ میرے اوپر کیا ہے؟ دین ہے۔ گویا کہ اس نے اقرار کر لیا۔ تو گویا جب اس نے اس کو 1 لاکھ روپے دیے، تو یہ اس کے دین کا بدل دے رہا ہے۔ اس کے دین کا جو اس نے دعویٰ کیا ہے دین کا، یہ اب اس کا بدل اس کو دے رہا ہے، تو گویا اس زیڈ نے اپنے دین کو بیچ دیا اس بدل کے بدلے۔ زیڈ نے جو 1 لاکھ کا دعویٰ کیا تھا دین، وہ دین اس نے کیا کیا؟ بیچ دیا اپنے اس بدل کے بدلے، اس نے اپنے دین کو بیچ دیا ہے بھئی، تو زیڈ ہو گیا بائع اور بکر کون ہوا؟ مشتری۔ بعد میں جب دونوں نے اتفاق کر لیا کہ دین کوئی نہیں تھا، تو اب یوں کہیں گے گویا کہ بائع کے مال میں یہ مستحق نکل آیا 1 لاکھ کا۔ بکر کیا ہے؟ زیڈ کے مال میں 1 لاکھ روپے کا مستحق نکل آیا۔ تو معلوم ہوا اب زیڈ پر اس کا بدل دینا، بدلِ مستحق دینا ضروری ہے۔ اور بدلِ مستحق، تو بدلِ مستحق مملوک ہوا ملکِ فاسد کے ساتھ۔ بدلِ مستحق کیا ہوا؟ کیوں؟ اس لیے کہ وہ واجب الرد ہے، اور جو چیز واجب الرد ہوتی ہے، وہ مملوک ہوتی ہے ملکِ فاسد کے ساتھ۔ اور ملکِ فاسد میں آپ نے پڑھا ہے شبہ ہے عدمِ ملک کا، اگر متعین ہوتی چیز تو پھر تو اس میں کیا آتا؟ شبھۃ الخبث، لیکن یہ تو کس قبیل سے ہے؟ ما لا يتعین کی قبیل سے ہے بھئی، تو یہاں پر کیا آ جائے گا؟ شبھۃ الشبہ، اور شبھۃ الشبہ کا کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا اس کے لیے جائز ہے بھئی۔ پھر اس کے بعد ایک اشکال ذکر کیا بھئی، کہ صاحبِ ہدایت نے تو مسئلہ سابقہ میں ذکر کیا تھا، کہ اگر بیع بیعِ فاسد کے اندر درہم و دنانیر متعین ہو جاتے ہیں، لہٰذا وہی درہم و دنانیر اگر باقی ہوں، تو وہی واپس کرنے پڑیں گے، اور آپ نے ابھی تک جتنی تقریر کی اس میں کیا بتلاتے رہے کہ درہم و دنانیر متعین لیکن یہ تو بیعِ فاسد کی بات چل رہی ہے، اور بیعِ فاسد میں تو درہم و دنانیر متعین ہو جاتے ہیں، تو پھر علامہ صدر الشریعہ نے بتلایا تھا کہ تطبیق ممکن ہے یہاں پر بھئی۔ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ عقدِ فاسد کی دو مشابہتیں ہیں، اس کی مشابہت غصب کے ساتھ بھی ہے، اس لیے کہ شرعاً تو بیع ہوئی نہیں، پھر بھی ایک دوسرے کی چیز پر قبضہ کر رہے ہیں، تو گویا کہ غصب کر رہے ہیں۔ کیا کر رہے ہیں؟ تو اس کی مشابہت غصب کے ساتھ بھی ہے، اور اس کی مشابہت بیع کے ساتھ بھی ہے، اس لیے کہ ویسے ہی قبضہ کر رہے ہیں یا باقاعدہ عقد کر کے قبضہ کر رہے ہیں؟ تو بیع کے ساتھ بھی مشابہت، اور غصب کے ساتھ بھی مشابہت۔ تو صاحبِ ہدایت نے غصب والی مشابہت کا اعتبار کیا، اور ہم نے کس مشابہت کا اعتبار کیا بھئی؟ بیع والی۔ تو غصب والی مشابہت کا اعتبار انہوں نے اس لیے کیا تاکہ عقد کو ختم کیا جائے، جیسے غصب کے اندر چیز کو واپس کرنا ضروری، وہاں پر بھی رفعِ عقد کے لیے کون سی مشابہت کا اعتبار کیا؟ تاکہ وہ چیز واپس کی جائے اور عقد کو کیا کیا جائے؟ ختم کیا جائے۔ اچھا! اور جب وہ، یہ اس صورت میں جب وہ چیز قائم ہو اور باقی ہو، وہ درہم و دنانیر کیا ہوں؟ باقی ہوں، تو اس وقت اس کے غصب والی مشابہت کا اعتبار کریں گے، اور جب وہ درہم و دنانیر باقی نہیں ہیں، تو پھر ہم کون سی مشابہت کا اعتبار کریں گے بھئی؟ بیع والی مشابہت کا اعتبار کریں گے، تاکہ اس کا فساد جو ہے، اس کے بدل کی طرف سرایت نہ کرے بھئی۔ تاکہ اس کا فساد اس کے بدل کی طرف سرایت نہ کرے، ورنہ تو اس میں بھی کیا آ جائے گا بھئی؟ فساد آ جائے گا۔ اور نیز اس کے چونکہ اس میں اختلاف آ رہا ہے ہاتھوں کا، اور ہاتھوں کے اختلاف کی، کا اثر ہوتا ہے حرمت کے اٹھ جانے میں بھئی۔ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جب چیز جاتی ہے، تو حرمت کیا ہوتی ہے؟ اٹھ جاتی ہے، جس کی میں نے مثال ذکر کی تھی حدیث سے بھئی۔ وَلوْ بَنَى فِي دَارٍ اشْتَرَاهَا شِرَاءً فَاسِدًا لَزِمَهُ قِيْمَتُهَا وَشَكَّ أَبُوْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِيْهَا اچھا بھئی، صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے ایک زمین یا گھر خریدا بھئی شراءِ فاسد کے ساتھ، اب اس پر اس گھر کا واپس کرنا واجب ہے بھئی، کیونکہ بیعِ فاسد ہوئی ہے بھئی۔ لیکن اس نے اس گھر کے اندر کوئی تعمیر کر لی بھئی، اس زمین کے اندر کوئی تعمیر کر لی، تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بائع کا حق اب زمین سے یا اس گھر سے منقطع ہو گیا، اب اس گھر کو واپس نہیں کرے گا، بلکہ کیا کرے گا اس پر؟ اس کی گھر کی قیمت لازم ہو گئی، گھر کی قیمت کیا ہوئی؟ لازم ہو گئی بھئی۔ اب رد نہیں ہو سکتا بھئی۔ یہ ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مسلک بھئی۔ جبکہ صاحبین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں بھئی، بیعِ فاسد ہوئی ہے، گھر کو اب بھی واپس کرنا واجب ہے، ضروری ہے، لہٰذا یہ مشتری کیا کرے؟ اپنی عمارت کو گرائے، اکھاڑے وہاں سے، لے جائے اور گھر واپس کرے بھئی، گھر کیا کرے؟ واپس کرے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ اب گھر واپس کر سکتا ہے یا قیمت لازم ہو گئی بھئی؟ قیمت لازم ہو گئی، یہ روایت کی ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے امامِ اعظم رحمہ اللہ سے بھئی۔ تو یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول نقل کرنے والے کون ہیں؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ۔ لیکن بعد میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ، جب یہ روایت کر دی بھئی، بڑا عرصہ گزر گیا، بعد میں ایک مرتبہ امام محمد رحمہ اللہ کے سامنے یہ مسئلہ ذکر ہوا، امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آپ نے روایت کی تھی کہ امامِ اعظم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس پر اس کی قیمت لازم ہو جائے گی۔ جو متن میں ابھی ہم نے پڑھی بھئی، جو متن، یہ آپ نے روایت کی تھی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں بھئی، میں نے یہ نہیں روایت کی، میں نے یہ روایت کی تھی امام صاحب سے کہ بلڈنگ گرائے گا، اکھاڑے گا، لے جائے گا اور اس گھر کو کیا کیا جائے گا؟ واپس کیا جائے گا۔ میں نے یہ روایت کی تھی کہ گھر گرائے گا، قیمت لازم ہونے کی روایت نہيں کی تھی۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں نہیں، مجھے اچھی طرح یاد ہے، آپ نے یہ روایت کی تھی اسی طرح کہ اس کی قیمت اس پر لازم ہو گئی، اور بائع کا حق اس گھر سے اب کیا ہو چکا ہے؟ منقطع ہو چکا ہے، اب اس گھر کو واپس نہيں کر سکتا، مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ شک میں پڑ گئے کہ پتہ نہیں میں نے شاید یہ روایت کی یا یہ روایت پہلے سمجھ میں آیا؟ تو شک میں پڑ گئے جو تو یہ جو امام صاحب کا مذہب ہے، یہ روایت کرنے والے کون ہیں؟ اور بعد میں ان کو کیا ہوا اپنی روایت میں؟ شک ہوا۔ لیکن امام محمد رحمہ اللہ، جنہوں نے کہا تھا، فرمایا تھا کہ میں نے آپ سے سنا ہے پہلے کہ قیمت لازم ہو جائے گی، انہوں نے اپنے قول سے رجوع نہیں کیا، انہوں نے کہا: مجھے اچھی طرح یاد ہے، آپ نے یہ روایت کی تھی، اب آپ بھول گئے ہیں بھئی۔ دیکھا بھئی! یہ جبال العلوم ہیں مولانا، لیکن پتہ چلتا ہے ان چیزوں سے، خالق خالق ہے اور مخلوق مخلوق ہے بھئی۔ اتنا زبردست حافظہ تھا ان لوگوں کا، کہ ایک دفعہ جو بات سن لیتے تھے، وہ کبھی بھولتی نہیں تھی بھئی۔ لیکن بہرحال کبھی اللہ پھر بھلا بھی دیتے ہیں، اب روایت بھی کیا ان سے اور پھر بھول گئے ہیں بالکل کہ میں نے روایت کی ہے یہ بھئی۔ اچھا، دیکھیے بھئی: وَلوْ بَنَى فِي دَارٍ اشْتَرَاهَا دار نکرہ ہے، اس کے بعد کیا آ رہا ہے؟ فعل۔ اگر کسی نے تعمیر کی ایسے گھر کے اندر شَرَاهَا جس کو اس نے خریدا تھا شِرَاءً فَاسِدًا شراءِ فاسد کے ساتھ، لَزِمَهُ قِيْمَتُهَا تو اس مشتری پر کیا لازم ہو جائے گی اس گھر کی؟ قیمت بھئی۔ وَشَكَّ أَبُوْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللهُ فِيْهَا اور شک کیا امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس روایت کے اندر۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيْفَةَ یہ تو متن میں بیان ہوا، یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔ وَعِنْدَهُمَا يُنْقَضُ الْبِنَاءُ اور صاحبین کے نزدیک وہ جو عمارت ہے، اس کو کیا کیا جائے گا؟ عمارت کو اکھاڑا جائے گا، گرایا جائے گا۔ وَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ مِنَ الْمَسَائِلِ الَّتِي أَنْكَرَ أَبُوْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللهُ رِوَايَتَهَا عَنْ أَبِي حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللهُ اور یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن کا انکار کیا ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے، کس چیز کا انکار؟ روایتہا، اس کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کا۔ اس مسئلے کے روایت کرنے کا انکار کیا ہے بھئی امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے۔ فَإِنَّ أَبَا يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى قَالَ لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: مَا رَوَيْتُ لَكَ عَنْ أَبِي حَنِيْفَةَ اس لیے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے امام محمد رحمہ اللہ سے فرمایا: ما رویتُ لك عن أبي حنيفة، میں نے آپ کے لیے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت نہیں کی۔ یہ روایت نہیں کی کہ أَنَّهُ يَأْخُذُهَا بِقِيْمَتِهَا کہ وہ مشتری اس گھر کو لے لے گا قیمت کے بدلے۔ بَلْ رَوَيْتُ بلکہ میں نے تو یہ روایت کی تھی کہ أَنَّهُ يَنْقُضُ الْبِنَاءَ وہ کیا کرے گا؟ کہ وہ اس گھر کو توڑ دے گا بھئی، گھر کو توڑے گا بھئی، ہوا وہاں زمین واپس کرے گا، وہ گھر واپس کرے گا۔ وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللهُ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بَلْ رَوَيْتَ الْأَخْذَ بِالْقِيْمَةِ بلکہ آپ نے تو اس قیمت کے بدلے لینے کی روایت کی تھی بھئی، کہ قیمت کے بدلے مشتری کیا کرے گا اس گھر کو؟ لٰكِنْ نَسِيْتَ لیکن آپ بھول گئے ہیں۔ فَشَكَّ أَبُوْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللهُ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اپنی روایت جو کی تھی، اس میں شک کیا، شک میں پڑ گئے اس میں بھئی۔ فَشَكَّ أَبُوْ يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللهُ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ شک میں پڑ گئے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اپنی روایت کے اندر۔ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللهُ لَمْ يَرْجِعْ عَنْ ذٰلِكَ اور امام محمد رحمہ اللہ نے اس سے رجوع نہیں فرمایا وَحَمَلَهُ عَلَى نِسْيَانِ أَبِي يُوْسُفَ رَحِمَهُ اللهُ اور اس کو محمول کیا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نسیان پر، ان کی بھول پر کہ وہ بھول گئے ہیں۔ فَإِنَّهُ ذَكَرَ کیوں بھئی؟ رجوع نہیں فرمایا، اس کا پتہ اس آگے آنے والے مسئلے سے چلتا ہے۔ امامِ محمد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب کے اندر آگے آنے والا مسئلہ ذکر کیا ہے، اس مسئلے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ جو مسئلہ ہے، اس کے اندر انہوں نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو کس پر محمول کیا؟ نسیان پر ہی محمول کیا، اور اپنے قول سے رجوع نہیں کیا، جو آگے آنے والا مسئلہ ہے۔ فإنه، دی صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی: یاد رکھو، جب کوئی شخص اپنی زمین بیچتا ہے، تو اس زمین کے شریک یا اس کے پڑوسی کو شریعت نے شفعہ کا حق دیا ہے۔ وہ کیا کر سکتا ہے مشتری سے اتنی ہی مشتری کو اتنی ہی قیمت دے کر زبردستی کیا کر سکتا ہے اس سے وہ زمین لے سکتا ہے۔ اس کو شفعہ کہتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے، شفعہ تب واجب ہوتا ہے، تب ثابت ہوتا ہے، جب بائع کا حق زمین سے منقطع ہو جائے بھئی، اس سے پہلے نہیں ہوتا بھئی۔ اب مثلاً بھئی، ایک بائع ہے، اس کا ارادہ بنا اپنی زمین بیچنے کا، تو آپ کیا کہیں گے؟ جیسے ہی اس کا ارادہ بنا، شفیع کو شفعہ کا حق ملے گا؟ نہيں، ارادے سے نہیں، جب باقاعدہ بیع ہو جائے اور جب بیع ہو گئی، تو اب مالک کون بن گیا بھئی؟ مشتری، اب بائع کا حق منقطع ہوا، تو اب کس کا حق مل جاتا ہے شفیع کو؟ شفعہ کا حق مل جاتا ہے۔ تو یہاں پر ایک شخص نے اپنی زمین بیچی بیعِ فاسد کے ساتھ، اور بیعِ فاسد کے اندر بائع کا حق منقطع نہیں ہوتا، اس لیے کہ وہ چیز کیا ہوتی ہے واجب الرد ہوتی ہے، اس کا رد کرنا واجب ہوتا ہے۔ تو اب ایک شخص نے اپنی زمین بیچی بیع فاسد کے ساتھ، کوئی ایسی شرط وغیرہ لگا دی جس سے بیع فاسد ہو گئی۔ اب بائع کا حق منقطع نہیں ہوا چونکہ ابھی تک، اس لیے شفیع کو شفط کا حق نہیں ہے۔ شفط کا حق نہیں ہے۔ اب اس گھر، یہ جو زمین خریدی، اس کے اندر مشتری تعمیر کر لیتا ہے۔ جب مشتری تعمیر کر لے، آپ نے ضابطہ بھی پڑھ لیا، وہ زمین واپس ہوگی اب؟ نہیں۔ اب واپس... متن میں کیا پڑھا بھئی؟ لَزِمَهُ قِيمَتُهَا، اس پر اس کی کیا لازم ہو جائے گی؟ معلوم ہوا واپس نہیں، معلوم ہوا بائع کا حق منقطع ہو گیا، اور جب بائع کا حق منقطع ہو، تو کس چیز کا حق مل جاتا ہے؟ شفط کا حق مل جاتا ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ ذکر فرمایا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، جب مشتری زمین کے اندر تعمیر کر لے، تو شفیع کو کس چیز کا حق حاصل ہو جاتا ہے؟ شفط کا۔ معلوم ہوا، ان کے نزدیک یہ مسئلہ ابھی بھی اسی طرح ہے، اپنے مسئلے سے انہوں نے رجوع نہیں کیا، بلکہ کس کی بھول قرار دے رہے ہیں، کس کے قول کو؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کو ابھی بھی بھول پر محمول کر رہے ہیں۔ اور پہلی روایت جو انہوں نے سنی تھی، اسی پر قائم ہیں اور اسی کے مطابق شفیع شفط کر سکتا ہے، ورنہ تو شفط... اگر اس کے وہ اپنا عمارت کا... ابھی بھی گھر وہ زمین واجب والرد ہے، تو اسے کیا کرنا پڑے گا؟ وہ اکھاڑے گا، اپنی گرائے گا اپنی عمارت اور اس کو واپس لے... واپس کرے گا، تو پھر تو شفط نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن امام محمد رحمہ اللہ شفط ذکر کر رہے ہیں، شفط کر سکتا ہے۔ اور کس کے نزدیک؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ معلوم ہوا کہ انہوں نے یہ جو جو روایت پہلے انہوں نے سنی تھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے، اس سے رجوع نہیں کیا بھئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ، لَمْ يَرْجِعْ عَنْ ذَلِكَ، انہوں نے اس سے رجوع نہیں کیا، وَحَمَلَهُ عَلَى نِسْيَانِ أَبِي يُوسُفَ رحمه الله، اور اس کو محمول کیا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نسیان پر۔ فَإِنَّهُ، فا تعلیلیہ، علت بیان کرتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے ذکر کیا ہے فِی كِتَابِ الشُّفْعَةِ، کتاب الشفعہ کے اندر، أَنَّ الْمُشْتَرِيَ شِرَاءً فَاسِدًا، کہ خرید، خریدنے والا کس کے ساتھ؟ شراء فاسد کے ساتھ خریدنے والا، إِذَا بَنَى فِيهَا، جب وہ تعمیر کر لے اس گھر کے اندر، فَلِلشَّفِيعِ الشُّفْعَةُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله، تو شفیع کو کس چیز کا حق ملے گا؟ شفط کا ملے گا۔ اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب بائع کا حق منقطع ہو جائے۔ وَعِنْدَهُمَا لَا شُفْعَةَ لَهُ، اور صاحبین کے نزدیک شفیع کو شفط کا حق نہیں ہے۔ فَهَذَا يَدُلُّ عَلَى انْقِطَاعِ حَقِّ الْبَائِعِ بِبِنَاءِ الْمُشْتَرِي عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله، تو یہ مسئلہ، یہ جو انہوں نے بحث ذکر کی، یہ دلالت کرتی ہے عَلَى انْقِطَاعِ حَقِّ الْبَائِعِ، کہ بائع کا حق منقطع ہو چکا ہے، بِبِنَاءِ الْمُشْتَرِي، بوجہ مشتری کی تعمیر کے بھئی، مشتری کی تعمیر کی وجہ سے، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمه الله، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، خِلَافًا لَهُمَا، بخلاف صاحبین کے۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وَكُرِهَ النَّجَشُ، نَجَشُ الصَّيْدِ بِسُكُونِ الْجِيمِ إِثَارَتُهُ، وَالنَّجَشُ يَا نَجْشُ جَاءَ بِفَتْحِ الْجِيمِ وَسُكُونِهِ، وَهُوَ أَنْ يَسْتَامَ سِلْعَةً لَا يُرِيدُ شِرَاءَهَا بِأَكْثَرَ مِنْ قِيمَتِهَا لِيُرِيَ الْآخَرَ فَيَقَعَ فِيهِ۔ جی، اب یہاں سے کچھ مکروہ بیوع ذکر کرنا چاہتے ہیں بھئی، مکروہ۔ بھئی، ابھی تک آپ جو پڑھ رہے تھے، پہلے آپ نے بیع صحیح پڑھی، اس کے بعد پھر انہوں نے بیع فاسد ذکر کی جو شرعاً جائز نہیں، اب بیع مکروہ بھئی۔ فرق کیا ہے بیع فاسد اور بیع مکروہ میں؟ فرق یہ ہے کہ بیع فاسد کے اندر جو خرابی ہوتی ہے، وہ عقد کے اندر ہوتی ہے۔ بیع فاسد میں جو خرابی ہوتی ہے، وہ عقد کے اندر ہوتی ہے۔ جبکہ بیع مکروہ کے اندر خرابی عقد میں نہیں ہوتی، بلکہ عقد کے ساتھ مل جاتی ہے، عقد کے ساتھ آ جاتی ہے کوئی خرابی۔ اس کے ساتھ جمع ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ جمع ہو جاتی ہے۔ تو حکم اس کا بیع صحیح کا ہے۔ البتہ گناہگار ہوتا ہے عقد کرنے والا۔ البتہ گناہگار ہوتا ہے عقد کرنے والا۔ تو بیع فاسد وہ تھی جس کی ذات میں کیا آ جائے؟ کوئی خرابی آ جائے۔ اس کے وصف میں کیا آ جائے؟ خرابی آ جائے۔ جبکہ بیع مکروہ یہ ہے کہ اس کی ذات میں کوئی خرابی نہیں، کسی امر خارجی کی وجہ سے وہ ممنوع ہو بھئی، کسی امر خارجی کی وجہ سے بھئی۔ اور یاد رکھیے، فقہ کی کتابوں میں کراہت کا لفظ مطلق آئے، تو مراد کراہت تحریمی ہوتی ہے۔ ایک کراہت تنزیہی ہے، وہ حلال کے قریب ہے، اور ایک کراہت تحریمی ہے، وہ حرام کے قریب ہے بھئی، حرام کے قریب۔ تو بیع فاسد تو شرعاً ہوتی ہی نہیں تھی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ شرعاً جائز نہیں، ہاں، اس کو شرعاً ناجائز کہیں گے۔ جو بھی بیع فاسد ہو، کہیں گے شرعاً جائز نہیں بھئی۔ ہاں، واجب کرنا اس میں، رد کرنا چیز کا ضروری ہوتا ہے۔ جبکہ یہ کراہت تحریمی ہے، بیع ہو گئی، لیکن کراہت آ گئی اس کے اندر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بیع منعقد ہو گئی، صحیح ہو گئی۔ کراہت البتہ آ گئی۔ تو بیع فاسد میں آپ نے پڑھا تھا، قبل القَبض، قبل القَبض مشتری مبیع کا مالک نہیں بنتا۔ بھئی، بیع فاسد، بیع صحیح کے اندر تو جیسے ہی عقد ہوتا ہے، مشتری مبیع کا کیا بن جاتا ہے؟ مالک بن جاتا ہے۔ جبکہ بیع فاسد کے اندر جب تک بائع کی اجازت سے صراحۃً یا دلالۃً، اس کی اجازت جب تک نہ ہو اور قبضہ نہ کرے، اس وقت تک مالک نہیں بنتا بھئی، مالک نہیں بنتا۔ جبکہ بیع مکروہ کے اندر بھی بھئی، عقد ہوتے ہی مالک بن جاتا ہے، البتہ اس میں کراہت تحریمی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَكُرِهَ النَّجَشُ، نجش مکروہ ہے بھئی۔ اب اس کا لغوی معنی بتلا رہے ہیں بھئی۔ نَجَشُ الصَّيْدِ بِسُكُونِ الْجِيمِ، نجش الصید کا معنی، سکونِ جیم کے ساتھ اس کا معنی ہے إِثَارَتُهُ، یعنی إِثَارَةُ الصَّيْدِ، شکار کو مشتعل کرنا، اس کو ابھارنا، برانگیختہ کرنا۔ بھئی، جو شکار کھیلنے جاتے ہیں، آپ نے دیکھا ہوگا طریقہ بھئی، وہ کیا کرتے ہیں؟ وہ وہ شکار تو اپنے مسکن میں چھپا ہوا ہے، نکلتا نہیں ہے، تو اس کے لیے وہ شور وغیرہ مچاتے ہیں یا کیا کرتے ہیں؟ فائر وغیرہ کچھ کیے، وہ برانگیختہ ہوا اور نکل آیا اپنے مسکن سے اور پھر اس کو کیا کر لیتے ہیں؟ شکار کر لیتے ہیں بھئی۔ تو شکار کو ڈرایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے مسکن سے نکلتا ہے، اور جب مسکن سے نکلتا ہے تو اس کو کیا کر لیا جاتا ہے؟ شکار کر لیا جاتا ہے۔ تو یہ جو برانگیختہ کرنا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نجش الصید۔ اچھا، وَالنَّجَشُ جَاءَ بِفَتْحِ الْجِيمِ وَسُكُونِهِ، اور یہ لفظ جیم کے فتحہ اور سکون کے ساتھ بھی آیا ہے۔ وَهُوَ، اور اصطلاح میں کسے کہتے ہیں؟ وَهُوَ أَنْ يَسْتَامَ سِلْعَةً، کہ نرخ لگائے، نرخ کرے کسی ایسے سامان کا، سلعة نکرہ ہے، اس کے بعد فعل آ رہا ہے، کہ نرخ لگائے، بھاؤ کرے ایسے... یستام کا کیا معنی بھئی، یستام؟ بھاؤ تاؤ کرنا، نرخ طے کرنا، قیمت طے کرنا۔ بھاؤ تاؤ کریں کسی ایسے سامان کا لَا يُرِيدُ شِرَاءَهَا، جس کے خریدنے کا ارادہ نہیں ہے، بِأَكْثَرَ مِنْ قِيمَتِهَا، بھاؤ تاؤ کرے بِأَكْثَرَ مِنْ قِيمَتِهَا، اس کی قیمت سے زیادہ پر، لِيُرِيَ الْآخَرَ، تاکہ دوسرے کو دکھائے، فَيَقَعَ فِيهِ، تو وہ اس میں پڑ جائے، واقع ہو جائے بھئی۔ بھئی، نجش اس کو کہتے ہیں کہ بائع ایک وہ شخص کو ایک چیز بیچنا چاہتا ہے، وہ اپنے ایک دوست کو پہلے سے تیار کرتا ہے، جب کوئی خریدار آئے تو تم نے بیع کے بیچ میں آنا ہے اور تاکہ قیمت بڑھ جائے بھئی، کیا ہو جائے؟ یہ چیز میری مہنگی بک جائے۔ اب ایک شخص کے ساتھ بھاؤ تاؤ ہو رہا ہے، وہ پوچھ رہا ہے، یہ اس کا ساتھی بیچ میں آ گیا بھئی، وہ کہے گا... اس نے وہ خریدار کتنا کہہ رہا ہے بھئی؟ 50-60 کہہ رہا ہے، 50 میں میں خریدوں گا۔ وہ آیا، وہ آ کے کہتا ہے: "اوہو! یہ چیز، اس چیز کی تو بڑی زبردست چیز ہے بھئی، میرے سے 70 لے لو، لیکن مجھے دے دو بھئی"۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہ خریدنے والا کہے گا: "اوہو! یہ تو واقعی، معلوم ہوا کوئی خاص چیز ہے بھئی، چلو بھئی، 75 لے لو، لیکن دینی مجھے ہی ہے بھئی، اس کو نہیں دینی"۔ تو دیکھا؟ وہ دوسرے کا خریدنے کا ارادہ نہیں تھا، صرف اس کو برانگیختہ کر رہا ہے، ابھار رہا ہے تاکہ چیز کیا ہو؟ مہنگی بک جائے اور اس میں وہ واقع ہو جائے بھئی، چھوڑ کے نہ چلا جائے، لے بھی اور مہنگی۔ تو دیکھا، دونوں معنی میں مناسبت آ گئی، اس کا معنی بھی برانگیختہ کرنا تھا، یہاں بھی برانگیختہ کرنے کا معنی پایا گیا۔ وَهُوَ، دیکھا، آپ پھر غور سے سنو بھئی: وَهُوَ أَنْ يَسْتَامَ سِلْعَةً، کہ وہ بھاؤ تاؤ کرنا ہے ایسے سامان کا جسے خریدنے کا ارادہ نہیں کیا، اور بھاؤ تاؤ کرتا ہے بِأَكْثَرَ مِنْ قِيمَتِهَا، اس کی قیمت سے زیادہ پر، لِيُرِيَ الْآخَرَ، تاکہ دوسرے کو دکھائے، فَيَقَعَ فِيهِ، تو وہ اس میں واقع ہو جائے۔ تو اس سے منع آیا ہے حدیث کے اندر بھئی، حدیث میں منع آیا ہے۔ تو یہ مکروہ ہے، ہو جائے گی مولانا، لیکن مکروہ ہے کراہت تحریمی کے ساتھ۔ وَالسَّوْمُ عَلَى سَوْمِ غَيْرِهِ، اور بھاؤ کرنا عَلَى سَوْمِ غَيْرِهِ، غیر کے بھاؤ پر بھئی، إِذَا رَضِيَا بِثَمَنٍ، جبکہ دونوں راضی ہو چکے ہوں ثمن پر بھئی۔ بھئی، اس سے بھی منع آیا ہے حدیث میں کہ ایک کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھئی کے بھاؤ تاؤ پر بھاؤ تاؤ نہ کرے بھئی۔ صورت یہ بھئی: آپ ایک چیز لینے گئے کسی شخص کے پاس اور اس کے ساتھ قیمت طے کر رہے ہیں، اب قیمت طے ہو گئی، اس نے کہا مثلاً... اس نے کہا: "میں 1100 کی دوں گا"، آپ نے کہا: "نہیں، میں ہزار کی لوں گا، ہزار روپے دوں گا"۔ اس نے کہا: "چلو بھئی، نہ 1100 نہ ہزار، یوں کرو، 1050 میں لے جاؤ، 1050 میں لے جاؤ"۔ آپ بھی راضی ہو گئے، اب صرف عقد باقی ہے، عقد کرنا۔ عقد کے عقد رہ گیا، قیمت پر کیا ہو چکے ہیں دونوں؟ راضی ہو چکے ہیں، مثلاً اب وہ آپ کو چیز دے گا، آپ اس کو پیسے دیں گے، بیع تعاطی ہو جائے گی، تو صرف عقد رہ گیا ہے۔ یا قول کے ذریعے ایجاب و قبول کر لیں گے، تو قیمت پر راضی ہو چکے ہیں، صرف عقد باقی ہے، اس دوران ایک آپ کا ساتھی آتا ہے اور کہتا ہے: "یہ لو بھئی، یہ چیز، اسے 1050 میں دے رہے ہو، لو بھئی، 1100 مجھ سے لے لو، مجھے دے دو میرے ساتھ"۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب اس نے بھاؤ تاؤ شروع کر دیا، حالانکہ آپ اس پر راضی ہو چکے ہیں، اب صرف عقد باقی ہے، لینے والا ہے۔ اس سے حدیث میں منع آیا ہے، کیونکہ اس سے کیا ہوگی؟ دوسرے اپنے مسلمان بھئی کے دل میں وحشت اور نفرت پیدا ہوگی اور اسے ضرر، اس پر... وَالسَّوْمُ، یعنی كُرِهَ السَّوْمُ عَلَى سَوْمِ غَيْرِهِ، اور مکروہ ہے بھاؤ کرنا غیر کے بھاؤ پر، إِذَا رَضِيَا بِثَمَنٍ، جبکہ وہ دونوں، عاقد کرنے والے کس پر راضی ہو چکے ہوں؟ ثمن پر۔ ہاں، اگر ابھی راضی نہیں ہوئے، صرف بات چل رہی ہے، پھر کوئی حرج نہیں ہے، پھر آپ بھی لے سکتے ہیں بھئی۔ جی، وَتَلَقِّي الْجَلَبِ، یعنی كُرِهَ تَلَقِّي الْجَلَبِ الْمُضِرُّ بِأَهْلِ الْبَلَدِ، الْمُضِرُّ، یہ مرفوع پڑھو بھئی، یہ صفت ہے تلقی کی، تلقی۔ اچھا بھئی، یہ توجہ سے سن لو بھئی، تلقی الجلب۔ تلقی کا معنی ہے ملاقات کرنا، ملاقات کرنا۔ اور جلب، جلب یہ مصدر ہے، اس کا معنی ہے کھینچنا، کھینچنا۔ جلب کا کیا معنی ہے؟ کھینچنا۔ اور یہ مصدر ہے، اور مصدر آپ نے پڑھا ہے، کبھی فاعل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور کبھی اسم... کبھی اسم فاعل کے معنی میں، کبھی اسم مفعول کے معنی میں۔ تو اس میں فاعل بھی بنا سکتے ہیں، جلب بمعنی جالبہ کے بھئی، جالبہ، قافلہ مراد ہے، قافلہ جالبہ۔ قافلے کو جالبہ کہا، کیوں بھئی؟ اس لیے کہ وہ سامان ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف کھینچ کھینچ کر لاتا ہے بھئی۔ تو جلب کس معنی میں ہوا بھئی؟ جالبہ، قافلہ بھئی۔ تلقی الجلب کا کیا معنی ہوا؟ قافلے سے ملاقات، قافلے والوں سے ملاقات، یہ مکروہ ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تلقی الجلب۔ یا مولانا، جلب بمعنی مجلوب، مفعول کے معنی میں کر لیں، یعنی تلقی المجلوب۔ مجلوب، وہ مبیعات مراد ہیں بھئی، وہ سامان مراد ہے بھئی جو قافلے والے لے کر... جالبہ، وہ کھینچ کر لانے والے، مجلوب، جسے کھینچ کر لایا گیا، وہ سامان وغیرہ جو غلہ لے کر آئے ہیں۔ اور اس صورت میں مضاف محذوف ہوگا، یعنی تلقی اصحاب الجلب بھئی، تو پورا یوں بن گیا: تلقی اصحاب المجلوبات بھئی، وہ کھینچ کر لانے والی چیزوں کے اصحاب جو مالک ہیں بھئی۔ یا اہل جلب بھئی۔ ان سے ملاقات مکروہ ہے۔ بھئی، یہ حدیث میں منع آیا ہے، حضور نے منع فرمایا تلقی الجلب سے بھئی۔ لیکن مطلقاً ملاقات نہیں مراد کوئی، صورت یہ: قافلے والے سامان لے کر آ رہے ہیں شہر کی طرف، شہر سے باہر نکل کر کوئی ان سے ملاقات کرتا ہے، یہ ہے تلقی الجلب بھئی، یہ کیا ہے تلقی الجلب؟ لیکن یہ مطلق ملاقات نہیں مراد، بلکہ چیز خریدنے کے لیے باہر جا کر ان سے ملنا اور چیز خریدنا بھئی۔ یہ مکروہ ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ بھئی دیکھو، قافلے والے سامان لے کر آ رہے ہیں شہر کے اندر، اور شہر کے اندر قحط والی صورت ہے، لوگوں کو غلے کی یا اس چیز کی سخت ضرورت ہے، ملتی نہیں ہے۔ اب قافلے والے آئیں گے اور شہر کے اندر چیز بیچیں گے، تو لوگوں کو چیز مل جائے گی، اور سستی مل جائے گی بھئی۔ قافلے والوں کو تو نہیں پتہ شہر والوں کو اتنی ضرورت ہے۔ اب ایک تاجر ہے، اس کو پہلے سے پتہ چل جاتا ہے کہ بھئی، فلاں قافلہ پہنچنے والا ہے شہر کے قریب، وہ یہ سامان لے کر آ رہا ہے جس کی شہر میں ضرورت ہے۔ وہ جاتا ہے شہر سے باہر ہی قافلے کے پاس پہنچ جاتا ہے، اور ان کو... ان سے وہ سامان خرید لیتا ہے، کیا کرتا ہے؟ چاہے وہ شہر کا نرخ ان کو بتلائے یا غلط نرخ بتلائے بھئی، دو صورتیں آ گئیں اس میں، کبھی وہ کیا کرے گا؟ شہر کا نرخ بتلا دے گا: "شہر میں اتنے کی مل رہی ہے بھئی، تم مجھے بھی اتنے کی دے دو، میں تم سے سارا مال لیتا ہوں"۔ یا غلط بتلا دے گا، غلط بتلاتا ہے پھر تو دھوکہ ہوا، بالکل ہی غلط ہے۔ اگر صحیح بھی بتلا دے نرخ، پھر بھی مولانا، یہ مکروہ ہے بھئی، اس لیے کہ شہر والوں کو اس کی وجہ سے کیا ہوگی؟ تکلیف ہوگی۔ یہ اس نرخ پر خرید لائے گا اور اپنی مرضی سے چونکہ چیز مہنگی بک رہی ہے، قحط کی صورت ہے، مہنگی بیچے گا بھئی۔ تو شہر والوں کو کیا ہوئی اس کی وجہ سے؟ تکلیف۔ ہاں، اگر تکلیف نہیں ہے، پھر کوئی حرج نہیں، پھر کوئی حرج نہیں، پھر... ہاں، البتہ مکروہ... پھر مکروہ تنزیہی رہے گا بھئی۔ جب دھوکہ نہیں دیتا، نرخ بتلا کر لاتا ہے اور شہر والوں کو کوئی نقصان بھی نہیں، تو پھر... صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَتَلَقِّي الْجَلَبِ الْمُضِرُّ بِأَهْلِ الْبَلَدِ، اور مکروہ ہے ایسی تلقی الجلب، وہ تلقی الجلب جو مضر ہو، نقصان دینے والی ہو بِأَهْلِ الْبَلَدِ، شہر والوں کو۔ الْجَلَبُ الْمَجْلُوبُ، جلب کس معنی میں ہے؟ مجلوب کے معنی میں ہے، انہوں نے ایک معنی بتلایا، میں نے بتلایا تھا فاعل کے معنی میں بھی کر سکتے ہو۔ جلب بمعنی مجلوب کے ہے، فَإِنَّ الْمَجْلُوبَ إِذَا قَرُبَ مِنَ الْبَلَدِ، اس لیے کہ وہ مجلوب چیز جو کھینچ کر لائی گئی ہے، یعنی وہ سامان وغیرہ إِذَا قَرُبَ مِنَ الْبَلَدِ، جب وہ شہر کے قریب پہنچ جائے، تَعَلَّقَ بِهِ حَقُّ الْعَامَّةِ، تو عام لوگوں کا حق اس سے متعلق ہو جایا کرتا ہے، فَيُكْرَهُ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْبَعْضُ وَيَشْتَرِيَهُ، تو مکروہ ہے کہ بعض اس کا کیا کریں؟ استقبال کریں اور اس آگے نکل کر وَيَشْتَرِيَهُ، اور اس کو خرید لیں، وَيَمْنَعُ الْعَامَّةَ عَنْ شِرَائِهِ، اور عام لوگوں کو اس کی خرید سے منع کر دیں۔ خود ہی جا کر پہلے خرید لیا، عام لوگ اس کو نہ خرید سکیں۔ وَهَذَا إِنَّمَا يُكْرَهُ إِذَا كَانَ... مضرًا بأهل البلد. اور یہ اس وقت مکروہ ہے جب یہ مضر ہو شہر والوں کے لیے، تکلیف دینے والا، نقصان دینے والا ہو۔ جی۔ وقد سمعت أبياتاً لطيفةً اور میں نے کچھ لطیف اشعار سنے ہیں لمولانا برهان الإسلام رحمه الله تعالى. کس کے ہیں وہ مولانا برہان الاسلام کے ہیں؟ علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں کہ میں نے کچھ لطیف اشعار سنے مولانا برہان الاسلام رحمہ اللہ کے۔ فكتبتها إحماضاً. احماض کا معنیٰ ہوتا ہے کلام میں ملاحت پیدا کرنا بھئی، لطافت پیدا کرنا، نمکینی پیدا کرنا بھئی۔ فكتبتها إحماضاً، تو میں نے ان کو درج کیا ہے احماضاً بطور دلچسپی کے بھئی، بطور دلچسپی کے۔ تو یہ کچھ اشعار آئے تھے اس میں تلقی الجلب کا ذکر آ رہا تھا، اس لیے انہوں نے دلچسپی کے طور پر یہ اشعار لکھ دیے۔ جی، کیا اشعار ہیں بھئی؟ أبو بكر ن الولد المنتخب أراد الخروج لأمر عجب فقد قال إني عزمت الخروج لكفتارة هي لي أم أب فقلت ألم تسمعن يا بني بنهي أتى عن تلقي الجلب اچھا بھئی! شاعر کہتے ہیں بھئی أبو بكر ن الولد المنتخب، ابو بکر جو میرا منتخب بیٹا ہے، چنا ہوا، پسندیدہ بیٹا ہے، أراد الخروج لأمر عجب، اس نے ارادہ کیا نکلنے کا بھئی، شہر سے نکلنے کا، لأمر عجب، ایک عجیب کام کے لیے بھئی۔ فقد قال، پس اس نے کہا تھا کہ إني عزمت الخروج، میں نے نکلنے کا پکا ارادہ کیا ہے، لكفتارةٍ، ایک مادہ بجو کے لیے۔ گفتارہ کسے کہتے ہیں؟ مادہ بجو بھئی۔ اچھا! بھئی وہ کون ہے مادہ بجو؟ کہتے ہیں هي لي أم أب، یہ جو میرے باپ کی ماں ہے، یعنی میری دادی ہے۔ کون ہے؟ دادی ہے بھئی، دادی سے کوئی تنگ ہو گیا یا کچھ بس اس کو گفتارہ کہا بھئی، مادہ بجو۔ اچھا! تو دیکھا؟ تو باپ کے ساتھ پتہ چل گیا بھئی، تو باپ کی ماں کو اس نے کیا کہہ دیا؟ ہاں، اچھا! فقلت، تو اب اس نے چونکہ ایسی بات کی تھی تو اب باپ بھی اس پہ اعتراض کرتا ہے۔ فقلت، کہتے ہیں میں نے کہا ألم تسمعن يا بني، کیا تو نے سنا نہیں اے میرے پیارے بیٹے؟ بنهيٍ، اس نہی کے بارے میں أتى عن تلقي الجلب، جو کس کے بارے میں آئی ہے؟ تلقی الجلب۔ حضور نے کس سے منع فرمایا؟ تلقی الجلب، اور تلقی الجلب میں دو چیزیں ہوتی ہیں: شہر سے نکلنا ہوتا ہے اور ملاقات کرنی ہوتی ہے۔ یہاں بھی تو شہر سے نکل رہا ہے اور کیا کر رہا ہے؟ تو تمہارا یہ فعل بھی کیا ہوا؟ تلقی الجلب والا فعل کر رہے ہو، تو انہوں نے بیٹے نے اس پہ اعتراض کیا تھا، باپ نے اس پر اعتراض کر دیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ویسے ہی بھئی بطورِ مزاح کے، دلچسپی کے طور پہ یہ شعر ذکر کر دیے، تلقی الجلب کا ذکر آ رہا تھا اس میں۔ سمجھ میں آیا؟ تو دادی کون ہے بھئی؟ اس میں بھی کیا ہوتا ہے تلقی الجلب میں؟ تاجر شہر سے نکلتا ہے اور کیا کرتا ہے؟ قافلے سے ملاقات کرتا ہے۔ یہ بھی کیا کر رہا ہے؟ اپنی دادی کو لینے جا رہا ہے، شہر سے نکل رہا ہے اور اس سے ملاقات کر رہا ہے۔ وبيع الحاضر للبادي طمعاً في الثمن الغالي. طمعاً میم کے فتح کے ساتھ ہے بھئی۔ اور بیع الحاضر، حاضر کہتے ہیں شہری کو، اور بادی یہ دیہاتی کو بھئی عربی میں کہتے ہیں حاضر۔ طمعاً في الثمن الغالي، لالچ کرتے ہوئے مہنگی قیمت کے اندر، غالی مہنگی بھئی، گراں۔ زمان القحط، کس زمانے میں؟ قحط کے زمانے میں بھئی۔ قحط کے زمانے میں بھئی بیع الحاضر للبادي، اس کے دو معنیٰ ہو سکتے ہیں بھئی: ایک معنیٰ یہ: دیکھو دیہات سے لوگ سامان لاتے ہیں، شہر کے اندر بیچتے ہیں بھئی۔ اب دیہاتی جب شہر کے اندر سامان لاتا ہے تو اس بیچارے کا کوئی ٹھکانہ وغیرہ تو ہوتا نہیں عموماً، لہٰذا وہ جلد از جلد سامان بیچ کر واپس جانے کی کوشش کرتا ہے۔ تو لہٰذا جب وہ جلد از جلد بیچنا چاہے گا تو اونے پونے داموں، جس طرح ہو سامان نکل جائے، کچھ نفع کے ساتھ بیچ کر چلا جائے گا۔ لیکن اس کا کوئی دوست شہری ہے، وہ اس کو کہتا ہے یہ سامان لے کر آیا شہر میں، وہ شہری نے اس کو کہا بھئی تم نہ بیچو، اس جـ جلدی سامان نہ بیچو، میرے حوالے کرو، میں تمہارے لیے آہستہ آہستہ مہنگا بیچوں گا بھئی۔ تو اس سے منع کیا گیا ہے، اس سے کیا کیا گیا ہے؟ منع، اس لیے کہ اس سے لوگوں کو کیا ہوگا بھئی؟ نقصان ہوگا، خصوصاً جب قحط کی صورت ہو بھئی۔ ورنہ کوئی حرج نہیں، اگر قحط یا تکلیف والی صورت نہیں ہے تو پھر کوئی حرج نہیں۔ دیہاتی آتا، وہ تو سستے داموں بیچ کر چلا جاتا، اب یہ کیا کرے گا لوگوں پر؟ مہنگی بیچے گا بھئی۔ تو اب امانہ کیا ہوا؟ بیع الحاضر للبادي، شہری کا بیچنا دیہاتی کے لیے، شہری صرف کیا کر رہا ہے؟ اس کے مال کو بیچ رہا ہے، تو شہری کا بیچنا دیہاتی کے لیے بھئی، یہ ترجمہ ہوا۔ دوسرا معنیٰ اس کا یہ کہ بیع الحاضر للبادي، شہری کا دیہاتی پر بیچنا بھئی۔ بھئی شہر کے اندر ایک چیز کی ضرورت ہے اور حاجت ہے بھئی، اور وہ شہری کیا کرتا ہے؟ شہر میں بھی یہ چیز مہنگے داموں بک رہی ہے، جب شہر میں مہنگے داموں بک رہی ہے تو دیہات میں تو بطریقِ اولیٰ کیا ہوگی؟ مہنگے داموں، تو وہ شہر میں نہیں بیچتا، اور مہنگا بیچنے کے لیے دیہات میں لے جا کر دیہات والوں پر بیچتا ہے، تو اس سے تو اور زیادہ شہر والوں کو کیا ہوگا؟ نقصان، اور چیز باہر جا رہی ہے یہ چیز۔ تو اس سے بھی منع کیا گیا، تو اس صورت میں حاضر ہوا بائع، اور بادی کون ہوا؟ مشتری، تو شہری کا دیہاتی پر بیچنا، جبکہ گزشتہ صورت میں ایسا نہیں، وہ اس کے لیے بیچ رہا تھا۔ وبيع الحاضر للبادي، اور شہری کا بیچنا دیہاتی کے لیے، طمعاً في الثمن الغالي، حرص کرتے ہوئے مہنگی ثمن کے اندر، زمان القحط، قحط کے زمانے میں۔ صورته، صورت اس کی یہ ہے: أن البادية يجلب الطعام إلى البلد، کہ دیہاتی جو ہے وہ کھینچ لاتا ہے غلے کو إلى البلد، شہر کی طرف بھئی، فيطرحه على رجل يسكن البلد، تو اس کو ڈال دیتا ہے ایسے شخص پر جو شہر میں رہتا ہے، ليبيع من أهل البلد بثمن غالٍ، تاکہ وہ بیچے اس کو شہر والوں پر مہنگی قیمت کے ساتھ بھئی، فهذا يكره في أيام العسرة، تو یہ مکروہ ہے تنگی کے ایام میں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ دیہاتی لاتا ہے، غلہ لاتا ہے شہر میں اور پھر خود نہیں فروخت کرتا، کس کے حوالے کر دیتا ہے؟ شہری آدمی کے حوالے کر دیتا ہے، اس پر ڈال دیتا ہے کہ تم بیچو، تو وہ اس کو مہنگی قیمت کے ساتھ بیچتا ہے۔ والبيع عند أذان الجمعة، اور اسی طرح مکروہ ہے بیع کرنا جمعے کی اذان کے وقت، اس لیے کہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ یا أیھا الذین آمنوا إذا نودی للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله وذروا البيع، اور بیع کو چھوڑ دو، تو سعی کرو ذکر اللہ کی طرف، نماز کی طرف اور بیع چھوڑ دو بھئی۔ تو اس بیع سے چونکہ خلل آتا ہے کس میں؟ سعی الی الجمعہ میں، لہٰذا یہ مکروہ ہے، لیکن اگر کوئی ایسی صورت ہو جس میں خلل نہ آئے پھر مکروہ نہیں بھئی، کیسے؟ مثلاً دو آدمی گاڑی میں آ رہے ہیں، بس میں آ رہے ہیں یا کسی سواری پر آ رہے ہیں اکٹھے، اور اب سعی الی الجمعہ بھی ہو رہی ہے اور چلتے چلتے وہ کیا کر لیتے ہیں؟ بیع کر لیتے ہیں، تو یہ ٹھیک ہے بھئی۔ وتفريق صغير عن ذي رحم محرم منه بلا حق مستحق. یاد رکھو شریعت کے اندر منع کیا گیا ہے ایسے افعال سے جو جس سے کسی کو بھی کسی لحاظ سے بھی نقصان، تکلیف، ضرر پہنچے۔ اب ایک شخص ہے اس کے پاس دو چھوٹے بچے غلام ہیں جو آپس میں بھئی ہیں، تو شریعت نے منع کیا کہ ان میں سے ایک کو نہ بیچو، بیچنا ہو تو دونوں کو اکٹھا بیچو، یا اکٹھا رکھو یا اکٹھا بیچو، اس لیے کہ بچے ایک دوسرے سے کیا حاصل کرتے ہیں بھئی؟ انس حاصل کرتے ہیں۔ یا مولانا ایک بڑا ہے اور ایک چھوٹا ہے، دونوں آپس میں بھئی ہیں، تو اس صورت میں بھی ان میں جدائی ڈالنا منع، اس سے منع کیا گیا ہے جدائی ڈالنے سے، جدائی ڈالنے سے۔ یا ایک آپ کی ایک باندی ہے اور اس کا ایک بچہ ہے، وہ بھی کیا ہے آپ کا؟ غلام ہے، تو آپ صرف باندی کو بیچیں یا صرف بچے کو بیچیں، یہ اس سے کیا ہو، اس سے منع کیا گیا ہے، اس سے منع کیا گیا ہے۔ جی، باندی ہے اور اس کا بچہ بھی آپ کا غلام ہے، باندی بھی غلام ہے بھئی، ام ولد کی بات نہیں کر رہا بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہاں، تو باندی بھی ہے آپ کے پاس اور اس کا بچہ بھی غلام ہے، اب آپ صرف بچے کو بیچتے ہیں، باندی کو رکھ لیتے ہیں یا باندی کو بیچتے ہیں، بچے کو چھوڑ دیتے ہیں، تو یہ آپ نے ان میں تفریق کر دی اور اس سے کیا کیا گیا ہے؟ منع کیا گیا ہے۔ اچھا، تو یہ مکروہِ تحریمی ہے مولانا۔ دیکھیے بھئی! وتفريق صغير عن ذي رحم، اور جدائی کروانا کسی چھوٹے بچے کی، عن ذي رحم، کس سے جدائی کروانا بھئی؟ ذو رحم بھئی، قریبی رشتہ دار ہو، محرم، اور کیا ہو؟ ایسا قریبی رشتہ دار جو محرم ہے اس سے جدائی کروانا، وتفريق صغير عن ذي رحم محرم منه، اور تفریق کروانا کسی چھوٹے بچے کی عن ذی رحم، کس سے؟ ایسے قریبی رشتہ دار سے، محرم منه، جو اس کا محرم ہو جو، جو اس کا رحـ محرم ہو، یہ مولانا مکروہ ہے بھئی، مکروہ ہے بھئی، بلا حق مستحق بھئی، بغیر کسی ایسے حق کے جس کا استحقاق نکلا ہو بھئی، بغیر کسی، ہاں اگر کوئی ایسا حق نکل آئے جس کا استحقاق ہو تو پھر بھئی جدائی کروائی جا سکتی ہے۔ آگے خود ذکر کریں گے بھئی مثلاً آپ نے پڑھا ہوگا کہ اگر غلام کیا کر لے؟ کوئی جنایت کر لے تو پھر آقا کے ذمے ہوتی ہے اس جنایت کو کیا کرے؟ بھئی ایک غلام ہے، اس نے غلطی سے کسی کا ہاتھ کاٹ دیا یا پاؤں کاٹ دیا، تو اب بھئی اس پر ارش آئے گا یا نہیں آئے گا بھئی؟ تو یہ کس کے ذمے ہے ادا کرنا بھئی؟ آقا کے، لہٰذا اب آقا یا تو اپنی جیب سے ادا کرے یا یوں کر، یا پھر یوں کیا جاتا ہے اس میں غلام کو دے دو بھئی، کیا کرو؟ غلام، اگر نہیں دے سکتے تو غلام ہی کو دینا پڑے گا یا پھر غلام کو بیچ کر کیا کیا جائے گا اس کو؟ ادا کیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو جب غلام سے کوئی جنایت ہو جائے تو اس میں بدلے میں اسی غلام کو دیا جاتا ہے یا اس غلام کو بیچ کر اس کے، اس کے قیمت میں سے، اس کے پیسوں میں سے وہ ارش اور تاوان دیا جائے گا، ہاں! اگر آقا اپنے مال میں سے دے دیتا ہے، چھوڑ دیتا ہے غلام کو، نہ حوالے کرتا ہے نہ بیچتا ہے تو اس کی مرضی بھئی۔ اب ایک شخص، غلام دو بھئی تھے آپ کے پاس صغیر، لیکن ان میں سے ایک نے جنایت کر لی، اب آپ کو کیا کرنا پڑے گا بھئی؟ وہ ارش دینا پڑے گا، تاوان دینا پڑے گا اس کو، تو اس میں آپ بدلے میں اسی غلام کو دے دیتے ہیں، تو یہ ایسا حق ہے جس کا کیا نکلا ہے؟ استحقاق نکلا ہے، تو لہٰذا اس میں دے سکتے ہیں بھئی، اب مکروہ بھی نہیں ہے۔ یا آپ نے تو دونوں کو بیچا تھا اکٹھے، لیکن ان میں سے ایک کے اندر عیب نکل آیا، اس نے ایک کو واپس کر دیا، تو اب اس صورت میں بھی کراہت نہیں ہے، اس لیے کہ آپ نے تو دونوں کو کیا کیا تھا؟ اکٹھے بیچا تھا اور اس نے کیا کیا ہے؟ ایک کو واپس کر دیا ہے بھئی، ایک کو واپس کر دیا ہے۔ اور اس میں دونوں شرطوں کا ہونا ضروری بھئی، تفریق کب جائز نہیں ہے؟ کب؟ جب دونوں قریبی رشتہ دار بھی ہوں اور محرم بھی ہوں، محرم کسے کہتے ہیں بھئی؟ جن کے ان میں کہ دو افراد ایسے ہیں کہ جن میں سے ایک کو اگر عورت فرض کر لیں اور ایک کو مرد تو ان کا آپس میں نکاح ابداً کیا ہو؟ حرام ہو، ان کو محرم کہتے ہیں، دو بھئی ایک دوسرے کے کیا ہیں؟ محرم، بھئی اور بہن آپس میں کیا ہیں؟ محرم ہیں بھئی، کبھی ان کا نکاح نہیں ہو سکتا، تو محرمیت والا رشتہ ہونا چاہیے۔ محرمیت والا، تو قریبی رشتہ دار بھی ہو اور محرم بھی ہو، دونوں شرطیں جب پائی جائیں تب تفریق صحیح نہیں، اگر ان میں سے ایک شرط پائی گئی ایک نہیں پائی گئی پھر تفریق کر سکتے ہیں، مثلاً ایک باندی ہے آپ کے پاس اور ایک بچہ ہے جو اس باندی کا رضاعی بیٹا ہے، اس باندی نے کیا کیا تھا اس کو؟ دودھ پلایا تھا، تو اب محرمیت والا رشتہ تو ہے، جسے دودھ پلایا وہ کیا بن گیا؟ بیٹے کی طرح بن گیا اور ماں اور بیٹے کا نکاح ابداً کیا ہے؟ حرام، تو یہ محرمیت تو ہے لیکن قریبی رشتہ دار نہیں، پہلی شرط نہیں پائی جا رہی، لہٰذا ان میں تفریق کروائی جا سکتی ہے۔ یا مولانا دو غلام ہیں چھوٹے، ایک دوسرے کے چچازاد بھئی ہیں بھئی، اور ان میں سے ایک کو اگر مونث فرض کریں تو چچازاد بھئی کا چچازاد بہن کے ساتھ نکاح ہوتا ہے یا نہیں ہوتا بھئی؟ ہوتا ہے، تو معلوم ہوا قریبی رشتہ دار تو ہیں لیکن محرمیت والا رشتہ نہیں، اب بھی تفریق کر سکتے ہیں۔ هذا عند أبي حنيفة رحمه الله ومحمد رحمه الله، یہ جو ہے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، أما عند أبي يوسف رحمه الله، جب کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک: إذا كانت القرابة قرابة ولاد، ولاد بھئی، ہاں! جب امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اگر رشتہ داری جو ہوئی وہ ولادت والی ہوئی، کون سی ہوئی؟ ولادت والی، فلا يجوز بيع أحدهما بدون الآخر، تو جائز نہیں ہے ایک کی بیع دوسرے کے بغیر۔ بھئی یہ بیعِ مکروہ کا بیان چل رہا ہے، امام طرفین کے نزدیک یہ بیع مکروہ ہے، لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر ولادت والی قرابت ہوئی، رشتہ داری ہوئی تو پھر یہ بیع جائز ہی نہیں ہے، یعنی فاسد ہے، مکروہ نہیں ہے بلکہ فاسد ہے۔ اچھا! بھئی اس کے بارے میں ایک حدیث آتی ہے کیونکہ حضور علیہ السلام نے کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دو چھوٹے بچے غلام دیے بھئی، پھر چند دنوں بعد پوچھا بھئی کیا کیا ان دو غلاموں کا؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ایک کو میں نے بیچ دیا، حضور علیہ السلام نے فرمایا: أدرك أدرك بھئی! واپس لو، واپس لو بھئی! تم نے کیا کیا ہے؟ دو قریبی اور محرم رشتہ داروں میں چونکہ جدائی آ رہی تھی، اس لیے حضور نے کیا فرمایا؟ أدرك أدرك، واپس لو، بعض روایتوں میں أردد أردد آتا ہے بھئی، لوٹاؤ، لوٹاؤ اس کو، حضور نے دو مرتبہ فرمایا بھئی۔ وہ فرماتے ہیں: جائز نہیں ہے ایک کی بیع دوسرے کے بغیر، فإنه عليه السلام قال أدرك أدرك، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: أدرك أدرك، کیا فرمایا تھا؟ أدرك، واپس لو، واپس لو، جی میں نے دوسری روایت بھی بتلائی، اس میں کیا آتا ہے؟ أردد أردد، لوٹاؤ، لوٹاؤ اس کو، تو یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، ولو كان البيع نافذاً لا يمكنه الاستدراك، اگر بیع نافذ ہوتی یعنی صحیح ہوتی، فاسد نہ ہوتی، لا يمكنه الاستدراك، تو اس کی تلافی ممکن نہیں تھی بھئی، تلافی ممکن نہیں تھی۔ استدراک کہتے ہیں تلافیِ مافات بھئی، تلافیِ مافات، غلطی کی اصلاح بھئی، تو بھئی بیع فاسد تھی اور اس کے اندر کیا ہو جایا کرتی ہے چیز؟ رد ہو جاتی ہے، تو اگر بیع فاسد نہ ہوتی تو استدراک ہی نہیں تھا ممکن۔ ولو كان بحق مستحق، اگر تفریق جو ہے کسی ایسے حق کی وجہ سے ہے جو جس کا استحقاق نکل آیا ہے کدفع أحدهما بالجناية، جیسے ایک کو دے دیں جنایت کی وجہ سے، والرد بالعيب، یا ایک کا واپس ہو جانا کس کی وجہ سے؟ عیب کی، عیب کی وجہ سے، واپس کرنا عیب کی وجہ سے، لا يكره، یہ مکروہ نہیں۔ تو دونوں میں سے ایک صغیر ہو اور ایک کبیر ہو یا دونوں صغیر ہوں تو پھر تفریق بھئی مکروہ ہے، لیکن اگر دونوں کبیر ہوں، دو بھئی ہیں، کبیر ہیں، بالغ ہیں تو پھر تفریق میں کوئی حرج نہیں، پھر ایک کو رکھے، ایک کو بیچے، یہ درست ہے بھئی۔ ولا بيع من يزيد. بھئی یہ نیلامی، أي لا يكره بيع من يزيد، مکروہ نہیں ہے من یزید بیع، جسے اردو میں آپ نیلامی کہتے ہیں بھئی، جس میں کوئی متعین مشتری نہیں ہوتا بلکہ کئی مشتری ہوں گے اور ان کو ابھارا جائے گا قیمت بڑھانے پر اور جو سب سے زیادہ قیمت دیتا ہے وہ اس مبیع کو لے جاتا ہے، خرید لیتا ہے بھئی۔ تو یہ مکروہ نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس کو یہاں پر کیوں ذکر کیا بھئی، مکروہ کے بعد بھئی؟ کہتے ہیں بھئی: یہاں کسی کے ذہن میں آ سکتا تھا کہ یہ من یزید کی بیع کیا ہوتی ہے؟ مکروہ ہوتی ہے، اس لیے کہ پیچھے ذکر کیا تھا کوئی اپنے مسلمان بھئی کے بھاؤ تاؤ پر بھاؤ تاؤ نہ کرے، تو یہاں بھی ایک کے بھاؤ پر دوسرے کا بھاؤ آتا ہے، تو بتلایا: نہیں بھئی، وہاں پر کیا تھا؟ قیمت طے ہو گئی تھی، یہاں پر قیمت طے نہیں، بلکہ اس کی حاجت ہے، یہ اکثر پیش آتی ہے، عام لوگ کرتے ہیں، جیسے حدیث میں بھی آتا ہے ایک صحابی آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ بھئی: "تمہارے پاس کچھ ہے؟" اس نے کہا: "میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے بھئی، بس ایک پیالہ ہے میرے پاس اور ایک کمبل ہے، اور کچھ بھی نہیں ہے"، بڑا غریب آدمی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: "جاؤ بھئی، وہ پیالہ اور کمبل لے آؤ بھئی۔" وہ لائے، حضور نے فرمایا، صحابہ بیٹھے، حضور نے فرمایا: "کون بھئی یہ خریدے گا؟" ایک صحابی نے عرض کیا: "میں یہ دونوں ایک درہم میں خرید لیتا ہوں۔" حضور نے فرمایا: "من یزید؟ اور کون بڑھاتا ہے؟ کون زیادہ دے گا بھئی؟" تو دو تین مرتبہ فرمایا، ایک صحابی نے عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں دو درہم میں لے لیتا ہوں۔" چنانچہ آپ نے اس کے حوالے کیے اور وہ دو درہم اس آدمی کو دیے اور کہا: "لو بھئی! ایک درہم سے اپنے گھر والوں کے لیے غلہ وغیرہ خرید کر لے جاؤ اور ایک درہم سے کلہاڑا خرید کر لاؤ۔" چنانچہ وہ گیا اور وہ کلہاڑے کا پھل خرید کر لایا، حضور علیہ السلام نے اس کے اندر اپنے ہاتھِ مبارک سے لکڑی لگا دی، دستہ لگا دیا اور کہا: "جاؤ بھئی، چلے... یہ لے کر چلے جاؤ، لکڑیاں کاٹو اور 15 دن تک میرے پاس مت آنا بھئی۔" 15 دن کے بعد وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا، تو فرمایا... انہوں نے کہا: "یا رسول اللہ! میرے پاس 10 درہم جمع ہو گئے ہیں۔" حضور نے فرمایا: "یہ تیرے لیے بہتر ہے کہ تو قیامت کے دن آئے اور تیرے چہرے پر سوال کا داغ ہو بھئی، سوال کا داغ ہو بھئی۔" تو دیکھا، بیعِ من یزید یہ اس کی تو حاجت بھی ہے، حدیث سے بھی ثبوت آ گیا بھئی، یہ مکروہ نہیں ہے بھئی۔ چلیے بس مولانا، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
106 approved lectures · 31 of 106