وَحُلِّفَ السَّارِقُ وَضَمِنَ إِنَّكَ لَوَلَمْ يُخْطَأْ لِأَنَّ الْمَالَ يَلْزَمُ بِالنُّكُولِ لِلْقَطْعِ. وَكَذَا الزَّوْجُ إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ طَلَاقًا قَبْلَ الدُّخُولِ لِأَنَّهُ يُحَلَّفُ فِي الطَّلَاقِ إِجْمَاعًا.
وحلف السارق. اور قسم دلائی جائے گی، قسم اٹھوائی جائے گی چور سے بھئی، سارق جو ہے، چوری کرنے والا۔ وضمین انک لا اور ضامن ہوگا وہ اگر اس نے انکار کیا قسم سے بھئی۔ بھئی ایک شخص نے دوسرے پر دعویٰ کر دیا کہ اس نے میری چوری کی ہے، اتنا اتنا مال چرایا ہے؛ تو اس صورت میں کیا چور کو قسم دی جائے گی یا قسم نہیں دی جائے گی؟ کہتے ہیں بھئی، چور کو قسم دی جائے گی، اور وہ انکار کر دیتا ہے، قسم نہیں اٹھاتا، تو اس صورت میں اس پر ضمان آئے گا۔ جتنے مال کا دعویٰ وہ کر رہا ہے، وہ مال کیا کیا جائے گا؟ چور سے لے لیا جائے گا۔
ولم يخطأ لیکن ہاتھ اس کا نہیں کاٹا جائے گا۔ تو قسم سے انکار کی وجہ سے مال تو اس پر لازم ہو جائے گا، لیکن اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس لیے کیوں؟ لأن المال يلزم بالنكولِ اس لیے کہ مال جو ہے، وہ انکار یعنی قسم کی وجہ سے کیا ہو جاتا ہے؟ مال لازم ہو جاتا ہے، بھئی ایک شخص دوسرے پر مال کا دعویٰ کرتا ہے، اس نے میرا اتنا مال دینا ہے، اور وہ اس کے پاس بینہ کوئی نہیں، تو مدعی علیہ سے کیا کیا جاتی ہے؟ قسم، اور وہ قسم سے انکار کر دے تو کیا ہوتا ہے؟ اس پر وہ مال لازم ہو جاتا ہے؛ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، تو مال تو لازم ہو جاتا ہے قسم سے انکار کی وجہ سے، لیکن قطع ہاتھ کا کاٹنا یہ ثابت نہیں ہوگا۔
کیوں؟ اس لیے کہ یہ اس نے جو قسم سے انکار کیا ہے، اس میں شبہ ہے، مولانا! کیونکہ انکار عن القسم، اس میں احتمال ہے، اقرار کا بھی احتمال ہے اور بذل کا بھی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو شبہ آ گیا، مولانا! اور شبے کی وجہ سے ہاتھ کا کاٹنا تو حد ہے چوری کے اندر، تو حد جاری شبے کی وجہ سے حد جاری نہیں کی جا سکتی۔ لأن المال يلزم بالنكول لقطع اس لیے کہ مال جو ہے وہ لازم ہو جاتا ہے انکار کی وجہ سے، قطع نہیں بھئی۔
وكذا الزوج إذا ادعت المرأة طلاقاً قبل الدخول اسی طرح بھئی خاوند ہے، اس کو بھی یعنی قسم دی जाएगी، خاوند کو بھی کیا دی جائے گی؟ قسم دی جائے گی۔ إذا ادعت المرأة طلاقاً جبکہ دعویٰ کرے عورت طلاق کا قبل الدخول دخول سے پہلے بھئی، جماع سے پہلے بھئی، عورت کیا دعویٰ کر دیتی ہے؟ بھئی ایک عورت کا ایک شخص سے نکاح ہوا، لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی، اس عورت نے دعویٰ کر دیا کہ اس شخص نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور عورت کے پاس بینہ کوئی نہیں، تو خاوند منکر ہے، تو کیا اس سے قسم لی جائے گی یا قسم نہیں لی جائے گی۔ کہتے ہیں بھئی اس صورت میں خاوند سے قسم لی جاتی ہے بھئی۔
لأنه يحلف في الطلاق إجماعاً اس لیے کہ قسم دی جاتی ہے طلاق کے مسئلے میں بالاجماع۔ وہ کہاں کا اجماع ہے بھئی؟ کچھ مسائل پیچھے ذکر کیے تھے، نکاح وغیرہ ان میں تو قسم نہیں دی جاتی، لیکن طلاق میں بالاجماع کیا ہے؟ قسم دی جاتی ہے، تو جب مدعی عورت جو ہے، اس کے پاس بینہ نہیں، تو خاوند پر کیا آ جائے گی؟ قسم آ جائے گی۔ اچھا، اگر وہ قسم اٹھا لیتا ہے پھر تو ٹھیک بھئی، معلوم ہوا اس نے طلاق نہیں دی۔ لیکن اگر وہ قسم سے انکار کر دیتا ہے، تو کہتے ہیں فانكلا اگر اس نے انکار کر دیا قسم سے، ضمن نصف مهرها تو وہ ضامن ہوگا اس عورت کے نصف مہر کا۔ بھئی آپ نے مسئلہ پڑھا ہے کہ قبل الدخول اگر طلاق دے دی جائے، تو کتنا کیا دینا پڑتا ہے خاوند کو؟ نصف مہر۔ اگر مہر مقرر کیا ہو تو نصف مہر۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی اب خاوند انکار کر رہا ہے، تو اس کی وجہ سے اب معلوم ہوا طلاق ثابت ہو گئی اور نصف مہر اس پر آ جائے گا بھئی۔
وكذا في النكاح إذا ادعت هي مهرها اور اسی طرح نکاح کے اندر ہے، إذا ادعت هي مهرها جبکہ دعویٰ کرتی ہے عورت اپنے مہر کا۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ دیکھو بھئی، ان کا کیا مسلک ذکر کیا کہ نکاح کے مسئلے میں قسم نہیں دی جاتی، لیکن نکاح کے بعد میں عورت مہر مال کا تقاضا کرتی ہے، مال کا دعویٰ کرتی ہے، پھر قسم دی جائے گی۔ پھر قسم دی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ کیا مسئلہ ذکر ہوا؟ کہ نکاح کے مسئلے میں ویسے تو قسم نہیں ہے، یا مدعی بینہ پیش کرے، اگر وہ بینہ پیش نہیں کرتا، تو مدعی علیہ پر قسم نہیں۔ لیکن اگر وہ مال وغیرہ کا تقاضا کرتا ہے، تو اس صورت میں پھر نکاح کے بعد میں بھی کیا کی جائے گی؟ قسم دی جائے گی۔ اور اگر وہ مدعی قسم سے انکار کر دیتا ہے، تو اس صورت میں نکاح تو ثابت نہیں ہوگا، لیکن مال کیا ہے؟ ثابت ہو جائے گا، کیونکہ قسم سے انکار کی وجہ سے مال ثابت ہو جایا کرتا ہے، البتہ حلت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ معنی ہے۔
وكذا في النكاح إذا ادعت هي مهرها اور اسی طرح نکاح کے اندر ہوگا، یعنی خاوند کو قسم دی جائے گی إذا ادعت هي مهرها جبکہ عورت کس کا دعویٰ کرتی ہے؟ اپنے مہر کا۔ إذا ادعت المرأة النكاح جب دعویٰ کیا کسی عورت نے نکاح کا کسی شخص پر، اور وہ انکار کر رہا ہے۔ وطلبت المال اور عورت طلب کر رہی ہے مال کو كالمهر أو النفقة جیسے کہ مہر ہے یا نفقہ ہے۔ فانكر الزوج خاوند انکار کرتا ہے يختلف بھئی خاوند کو قسم دی جائے گی۔ فانكلا اگر وہ انکار کر دیتا ہے قسم سے، يلزم المال مال کیا ہے؟ اس پر لازم ہو جائے گا۔
ولا يثبت الحل عند أبي حنيفة رحمة الله لیکن حلت ثابت نہیں ہوگی بھئی۔ عورت نے دعویٰ کیا تھا اس نے میرے ساتھ نکاح کیا ہے۔ اب خاوند کیا کرتا ہے؟ قسم سے انکار کر دیتا ہے مولانا! تو نکاح کے بعد میں تو قسم ہے ہی نہیں، یہاں پر قسم بھی جو دی ہے ہم نے وہ کس کی وجہ سے دی ہے؟ کیونکہ عورت کس کا تقاضا کر رہی ہے صاحب؟ مال کا تقاضا کر رہی ہے، تو مال انکار عن القسم کی صورت میں مال تو ثابت ہو جائے گا، لیکن وہ عورت اس خاوند کے لیے حلال نہیں ہوگی۔ یہ معنی ہے ولا يثبت الحل عند أبي حنيفة رحمة الله حلت ثابت نہیں ہوگی امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، لأن المال يثبت بالنكول لا للحلَّةِ اس لیے کہ مال جو ہے وہ تو ثابت ہو جاتا ہے قسم سے انکار کی وجہ سے لا للحلَّةِ لیکن حلت ثابت نہیں ہوتی۔
وفي النسب اور اسی طرح نسب کے اندر بھی ہے بھئی۔ نسب میں بھی وہی امام صاحب کا کیا مسلک تھا بھئی؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ ایک آدمی دوسرے پر کس کا دعویٰ کر دے؟ نسب کا دعویٰ کر دے، تو اس صورت کے اندر قسم نہیں دی جائے گی۔ مدعی بینہ پیش کرے، لیکن مدعی علیہ پر قسم نہیں۔ لیکن اگر نسب کی وجہ سے کوئی کسی حق کا دعویٰ کرتا ہے، مثلاً ایک نے دعویٰ کیا کیا؟ کہ یہ میرا... یہ میرا بھئی ہے، کسی پر دعویٰ کر دیا بھئی۔ کس لیے؟ دعویٰ کرتا ہے وراثت لینے کے لیے، کس کے لیے؟ وراثت وغیرہ دینے کے لیے بھئی۔ تو اب اس صورت میں مولانا مدعی کے ذمے بینہ ہے، لیکن اگر وہ بینہ پیش نہیں کرتا، کر سکتا اس کے پاس بینہ نہیں، تو مدعی علیہ پر کیا آ جائے گی؟ قسم آ جائے گی۔
اور اگر وہ قسم سے انکار کر دیتا ہے، اس نے کیا کہا تھا یہ میرا... یہ مثلاً میرا بھئی ہے، کسی پر دعویٰ کر دیا بھئی، تو یہ مجھے میں بھی اس کے مال میں شریک ہوں بطورِ وراثت کے بھئی، اس نے کیا کیا بھئی؟ اس کے پاس استقاضے نے بینہ پوچھی، اس نے کہا میرے پاس بینہ تو نہیں ہے، تو قاضی کیا کرے گا؟ دوسرے کو قسم دے گا، اگر وہ قسم سے انکار کر دیتا ہے، تو اس صورت میں نسب تو ثابت نہیں ہوگا، لیکن مال کیا ہو جائے گا؟ ثابت ہو جائے گا، معلوم ہوا یہ بھی اس کے ساتھ وراثت میں شریک ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
وفي النسب اور اسی طرح ہے مولانا نسب کے اندر بھی إذا ادع حقاً جب کسی نے کوئی دعویٰ کیا کسی حق کا، نسب کی وجہ سے کسی حق کا دعویٰ کوئی کرتا ہے، كَرِثْنٍ جیسے کہ وراثت ہے ونفقة اور نفقہ ہے۔ أيحلف في دعوى النسب نسب کے دعوے میں بھی قسم دلائی جائے گی، قسم اٹھوائی جائے گی إذا ادع المدعي مالاً جبکہ مدعی کس چیز کا دعویٰ کرتا ہے؟ مال کا دعویٰ کرتا ہے فيثبت بالنكول تو ثابت ہو جائے گا کیا ثابت ہو جائے گا؟ فيثبت بالنكول المالاً تو قسم سے انکار کی وجہ سے مال تو ثابت ہو جائے گا للنسب لیکن نسب ثابت عند أبي حنيفة رحمة الله امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔
جي! تو دعویٰ کرتا ہے حق کا، کسی اوپر متن میں کیا ہے؟ دعویٰ کرتا ہے نسب کی وجہ سے کسی حق کا، كَرِثْنٍ جیسے کہ وراثت ہے اس کا دعویٰ کیا تھا ونفقة اور نفقے کا دعویٰ کرتا ہے وغيرهما یا ان کے علاوہ کا دعویٰ کرتا ہے، كالحجر خِلةِ كالحجر خِلةِ - حجر سے مراد یہاں معنی ہے پرورش، مولانا! کیا مراد ہے؟ پرورش، بھئی۔ پرورش بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص کو کہیں کوئی بچّہ ملا بھئی، کیا ملا؟ بچہ چھوٹا صغیر... صغیرۃ ملی کوئی بھئی راستے میں، پھر کوئی اور کسی اور عورت نے دعویٰ کر دیا کہ یہ میری بہن ہے، کسی عورت نے کیا دعویٰ کر دیا؟ عورت کسی شخص کو کوئی صغیرہ راستے میں پڑی ہوئی ملی، ٹھیک ہے، بہت چھوٹی سی، ایک ماہ، دو ماہ کی ہے، تین ماہ کی پڑی ہوئی ملی، اور ایک آزاد عورت نے کیا دعویٰ کر دیا کہ یہ اس کی بہن ہے، لہٰذا اس کی پرورش کا حق مجھے ہے، تمہیں اس کو پرورش کا حق قسم دی جائے گی، اور وہ قسم سے انکار کر دیتا ہے، تو کیا ہوگی؟ پرورش کا حق مل جائے گا، لیکن نسب ثابت... تو کہتے ہیں اسے پرورش کا حق تو مل جائے گا، لیکن اس کی وجہ سے نسب ثابت نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یاد رکھو، لقیط ایسا چھوٹا بچہ یا بچی جو راستے میں کسی کو پڑا ہوا ملے بھئی، وہ کیا کہلاتا ہے؟ لقیط کہلاتا ہے، صغیر یا صغیرہ بھئی راستے میں کسی کو پڑا ہوا ملے، یہ لقیط کہلاتا ہے بھئی۔
جیسے کہ پرورش ہے لقیط کے اندر وامتناع الرجوع في الهبة بھئی، دیکھو، نسب کی وجہ سے پرورش کا دعویٰ کیا، پرورش تو ثابت ہو جائے گی، قسم دی جائے گی اور وہ قسم سے انکار کر دیتا ہے، تو کیا ہوگی پرورش کا حق مل جائے گا، لیکن نسب ثابت... وامتناع الرجوع في الهبة یہ اسی طرح مولانا نسب کی وجہ سے کوئی دعویٰ کرتا ہے، رجوع امتناع رجوع فی الہبہ کا بھئی۔ مثلاً دیکھو، بھئی دیکھو، یاد رکھو، جب کوئی شخص کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے، تو اس کے لیے رجوع فی الہبہ بھی جائز ہے۔ مثلاً ایک آدمی نے دوسرے کو کہا "لو بھئی، یہ کوٹھی میری طرف سے آپ کو بطورِ ہدیہ کے ہے، بطورِ تحفہ کے ہے، یا کوئی گاڑی دے دی، کوئی چیز دے دی، یہ بطورِ تحفہ کی آپ کی ہوئی۔" تو بھئی، ہدیے کے اندر رجوع کرنا تو نہیں چاہیے، بڑا ہی ناپسندیدہ ہے، لیکن اگر رجوع کرنا چاہے تو کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے۔ بعد میں کہتا ہے، "لاؤ بھئی میری گاڑی واپس کر دو، میرا یہ گھر کیا کرو؟" رجوع کر سکتا ہے، اسے حق ہے، اگرچہ کرنا نہیں چاہیے۔
لیکن یاد رکھو، اگر ہبہ اپنے قریبی رشتہ دار پر کیا جائے، تو پھر رجوع کا حق نہیں ہوتا۔ مثلاً اپنے بھئی کو کوئی چیز تحفے کے طور پر دے دی، تو اب اس کو رجوع کرنے کا حق نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو ہبہ میں رجوع ہو سکتا ہے، جبکہ وہ غیر ہو، لیکن اگر قریبی رشتہ دار ہے، تو رجوع کا حق... اب ایک آدمی ہے، اس نے دوسرے کو کوئی تو چیز تحفے کے طور پر دی، اب دوسرے نے شرعِ وقایہ پڑھی ہوئی تھی، اس کو پتہ تھا کہ ہبہ کے اندر یہ کیا کر سکتا ہے؟ رجوع ہو سکتا ہے، کل سے یہ چیز میرے کل میرے سے یہ چیز واپس لے لے، تو لہٰذا وہ دعویٰ کر دیتا ہے فوراً بھئی، کہ "تم میرے بھئی ہو، تم کیا ہو؟" "یہ میرا بھئی ہے بھئی، سگا بھئی ہے،" قاضی کے پاس چلے گئے، قاضی نے کہا، "لاؤ بھئی، بینہ پیش کرو۔" اس نے کہا، "میرے پاس کوئی بینہ نہیں ہے۔" دوسرا شخص انکار کر رہا ہے، تو قاضی اس کو کیا کہے گا؟ "قسم اٹھاؤ کہ یہ تمہارا بھئی..." اس کے نسب کا بھی پتہ، جس کو... جس کو ہبہ دیا تھا، وہ مجہول النسب ہے بھئی, سمجھ میں آیا؟ اگر معروف النسب ہے، پھر تو نہیں۔
تو اب قسم اٹھاؤ کہ یہ تمہارا بھئی نہیں ہے، وہ انکار کر دیتا ہے قسم اٹھانے سے۔ تو اس قسم سے انکار کی وجہ سے نسب تو ثابت نہیں ہوگا، لیکن ہبہ سے ہبہ میں رجوع کا حق کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وامتناع الرجوع في الهبة اور ہبہ میں رجوع کا امتناع جو ہے وہ ثابت ہو جائے گا۔
وكذا منكر القواد اور اسی طرح قصاص کا منکر بھی ہے، یعنی اس کو بھی قسم دی جائے گی۔ أيحلف إجماعاً اسی طرح ہے، قود معنی قصاص، قصاص کا منکر (یعنی اسے بھی قسم دی جائے گی بالاجماع) لانه حق العباد اس لیے کہ یہ قصاص کیا ہے؟ بندوں کا حق ہے۔ جی!
دیکھیے بھئی، آگے تفصیل بتلا رہے ہیں۔ قصاص نفس میں بھی جاری ہوتا ہے، اور قصاص اعضا میں بھی جاری ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص دوسرے کو جان بوجھ کر قتل کر دے، تو اس کو بھی کیا کیا جائے گا؟ قصاصاً... اور اگر ایک شخص دوسرے کے ہاتھ کو کاٹ ڈالے، یا پاؤں کو جان کر کاٹ ڈالے، تو یہاں پر اس سے بھی کیا کیا جائے گا؟ قصاص میں اس کے بھی ہاتھ اور پاؤں کو کاٹا جائے گا؛ تو قصاص اعضا میں بھی جاری ہوتا ہے اور نفس میں بھی جاری ہوتا ہے۔
اب ایک شخص نے دوسرے پر دعویٰ کر دیا قصاص کا، کہ اس نے میرے بھئی کو قتل کیا ہے، اور وہ کیا کرتا ہے؟ انکار کرتا ہے، قاضی کے پاس لے گیا بھئی، قاضی نے کہا، "لاؤ بھئی، تم نے قصاص کا دعویٰ کیا ہے، بینہ پیش کرو۔" اس نے کہا، "میرے پاس تو کوئی بینہ نہیں ہے، بینہ نہیں۔" تو کہتے ہیں بھئی، دوسرے کو قسم دی جائے گی، قصاص کے اندر کہ تم قسم اٹھاؤ کہ یہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے، تم نے اس کے بھئی کو قتل نہیں کیا بھئی۔ وہ قسم سے انکار کر دیتا ہے۔ کہتے ہیں، "نہیں بھئی!" کیا کیا جائے گا؟ اس کو جیل میں ڈال دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ قسم اٹھا لے...
بھئی! قاضی نے اس کو کیا کہا؟ "قسم اٹھاؤ کہ تم نے اس کے بھئی کو قتل نہیں کیا،" وہ قسم ہی نہیں اٹھا رہا۔ تو آپ اس کو جیل میں ڈالیں گے، یہاں تک کہ وہ اقرار کر لے کہ واقعی میں نے کیا کیا تھا؟ کہ بھئی کو قتل کیا تھا، یا قسم اٹھا لے کہ میں نے اس کے بھئی کو قتل نہیں کیا بھئی، تو جیل میں جب تک ڈال دیں۔
اور باقی اگر نفسِ کم کے اندر قصاص ہے، اعضا کے اندر قصاص ہے، اس میں قسم کا معاملہ آیا، تو وہاں قسم سے انکار کی صورت میں قصاص لے لیا جائے گا۔ ایک آدمی نے دوسرے پر دعویٰ کر دیا کہ اس نے میرا ہاتھ کاٹا ہے، اس نے میرا... بھئی بینہ کدھر ہے؟ تم بینہ لے کر آؤ، اس نے کہا میرے پاس کوئی بینہ نہیں ہے، تو قاضی دوسرے سے کہے گا "قسم اٹھاؤ۔" وہ قسم سے انکار کرتا ہے، تو اس کے بھی ہاتھ کو قصاصاً کاٹ دیا جائے گا۔
صورت سمجھ میں آئی؟ تو نفس کے اندر اس کو جیل میں ڈالا جائے گا، جہاں تک کہ وہ اقرار کر لے یا قسم کھا لے، اور اعضا کے اندر اس سے قصاص لے لیا جائے گا جب وہ قسم سے انکار کرے۔
فإنكلا في النفس اگر اس نے انکار کر دیا قسم سے، نفس کے اندر، حبس اس کو قید کیا جائے گا حتى يقر أو يحلف یہاں تک کہ وہ اقرار کر لے یا قسم اٹھا لے، وفيما دونها يقتص اور نفس سے کم کے اندر يقتص اس سے قصاص لیا جائے گا۔ بھئی، کیا بات ہے؟ قصاص تو شبے کی وجہ سے ساقط ہو جایا کرتا ہے، یہاں قصاص کیوں لیا جائے گا بھئی؟ انفس سے کم کے اندر؟ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرما رہے ہیں، ان کی دلیل یہ ہے، کہتے ہیں فإن الأطراف بمنزلة الأموال اعضا جو ہیں، وہ کس کے درجے میں ہیں؟ سبق کی طرح توجہ ہے بھئی؟ اعضا جو ہیں، یہ بمنزلة الأموال اموال کے درجے میں ہیں، فيجري فيها البذل اور اموال کے اندر کیا جاری ہوتا ہے بَذْل، تو فيجري فيها البذل تو ان کے اندر بھی کیا جاری ہوگا؟ بَذْل جاری ہوگا۔
بھئی، دیکھو، ایک آدمی نے دوسرے پر مال کا دعویٰ کیا اور اس سے پھر قسم کھانی پڑی، وہ قسم سے انکار کرتا ہے، تو اسے کیا دینا پڑے گا؟ مال دینا پڑے گا؛ تو یہاں پر بھی اس پر حقِ قصاص آ رہا ہے، وہ قصاص سے انکار کر رہا ہے، اعضا کے اندر اور اعضا کا میں بھی کس کی طرح برتاؤ کیا جاتا ہے اعضا کے ساتھ؟ مال والا، اور مال کے اندر تو بذْل جاری ہوتا ہے، انکار کرے تو دے دیتا ہے، یہاں پر بھی انکار کرے تو اب کیا کیا جائے گا؟ اس کے ہاتھ کو کاٹ لیا جائے گا۔
اس لیے کہ اطراف جو ہیں وہ اموال کے درجے میں ہیں، فيجري فيها البذل تو ان کے اندر کیا جاری ہوگا؟ بذل جاری ہوگا، بخلاف النفس بخلاف کس کے؟ نفس کے، کہ وہ اموال کے درجے میں نہیں ہے۔ هذا عند أبي حنيفة رحمة الله یہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے بھئی۔
وعندهما اور صاحبين کے نزدیک، يلزم العرش في النفس وما دونها عرش ضمان کو کہتے ہیں مولانا! وہ نفس کے اندر جو مال آئے، اس کو ديت کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اس نے غلطی سے دوسرے کو قتل کر دیا تو کیا آ کرتی ہے؟ دیت، جو مال آتا ہے، ضمانت ہے، وہ دیت کہلاتی ہے، اور اعضا کے اندر جو مال زمان... مال کا زمان آتا ہے، وہ کیا کہلاتا ہے؟ عرش کہلاتا ہے۔
تو کبھی مجازاً ایک کا اطلاق دوسرے پر بھی، دیت بول کر عرش بھی کبھی مراد لے لیتے ہیں، اور کبھی عرش بول کر دیت بھی۔ تو یہاں پر عرش ضمان کے معنی میں۔ اور صاحبين کے نزدیک زمان لازم آئے گا في النفس وما دونها نفس اور ما دون النفس دونوں کے اندر، فإن النكول إقرار فيه شُبهَةٌ اس لیے کہ انکار عن القسم جو ہے، انکار عن القسم کیا ہے؟ صاحبين کے نزدیک انکار عن القسم ایک آدمی کو قسم دلائی گئی، اس نے قسم سے انکار کیا، تو یہ دراصل کیا کر رہا ہے؟ اقرار۔ تو ان کے نزدیک یہ انکار عن القسم اقرار ہے، فيه شبهة لیکن ایسا اقرار ہے جس کے اندر کیا ہے؟ شبہ ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے بذل کا بھی تو امکان ہے اس میں تو شبہ ہے، فَلَا يَثْبُتُ بِهِ الْقِصَاصُ۔ تو اس شبہے کی وجہ سے قصاص ثابت نہیں ہو سکتا بھئی۔ اس نکول کی وجہ سے اب قصاص ثابت نہیں ہو سکتا، بَلْ يَلْزَمُ الْمَالُ۔
بلکہ کیا لازم ہو جائے گا؟ مال لازم ہو جائے گا بھئی، دونوں صورتوں میں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ ہے بھئی۔
فَإِنْ قَالَ لِي بَيِّنَةٌ حَاضِرَةٌ أَيْ فِي الْمِصْرِ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، ایک آدمی نے دوسرے پر دعویٰ کر دیا اور اس کو قاضی کی مجلس میں لے آیا اور قاضی سے کہتا ہے: قاضی صاحب! اس نے مثلاً میرا ایک لاکھ روپیہ دین دینا ہے بھئی۔ قاضی اس سے کہتا ہے، بھئی دعویٰ صحیح ثابت ہو گیا، اب قاضی اس سے مدعی مدعی علیہ سے پوچھے گا بھئی، کیا تم اقرار کرتے ہو یا اقرار نہیں کرتے؟ وہ اقرار نہیں کرتا تو مدعی کی طرف متوجہ ہو گا کہ لاؤ بھئی، اپنی بینہ پیش کرو اپنے دعوے پر بھئی۔
مدعی کہتا ہے: میری بینہ شہر میں ہے۔ کہاں پر ہے؟ شہر میں ہے، لیکن قاضی صاحب! آپ اس سے قسم لے لیجے۔ کیا لے لیجیے؟ قسم۔ تو بھئی اس صورت میں قاضی مدعی علیہ سے قسم نہیں لے گا، اس لیے کہ مدعی کی بینہ شہر میں ہے، قریب ہے، وہ مدعی کیا کر سکتا ہے؟ ان کو لے کر حاضر ہو سکتا ہے۔ لہذا اس صورت میں قاضی مدعی علیہ سے قسم نہیں لے گا بلکہ اسے کہا جائے گا کہ بینہ لے کر آؤ۔ مدعی سے کیا کہا جائے گا؟ بینہ لے کر آؤ اور مدعی علیہ بھئی اس دوران بھئی کیا کرے گا؟ اس سے کفیل لے لیا جائے گا۔ مدعی علیہ سے ضامن لے لیا جائے گا تا کہ کہیں وہ بھاگ نہ جائے بھئی، کوئی ضمانت دے دے گا اس کی تین دن تک کے لیے بھئی۔ کتنے دن تک کے لیے ضامن لے لیا جائے گا؟ اور اس دوران وہ مدعی اپنے گواہ لے آئے گا۔
اور اگر مدعی علیہ کوئی ضامن نہیں دیتا یا کوئی ضامن اس کا نہیں ہے، تو اس صورت کے اندر بھئی مدعی اس کے ساتھ لازم رہے گا بھئی، اس کے ساتھ ساتھ رہے گا جہاں بھی وہ جاتا ہے تین دن تک اور اس دوران کیا کر لے گا؟ اپنی بینہ کا انتظام کر لے گا۔ تو بس بات یہ ہے جو ذکر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ قسم چاہ بینہ اس کے قریب میں موجود ہے اور وہ کیا چاہتا ہے کہ مدعی علیہ سے قسم لے لی جائے؟ تو نہیں بھئی، اس صورت میں قسم نہیں لی۔
ہاں، اگر اس نے یہ کہا کہ میری بینہ ہے ہی نہیں بھئی، اس مسئلے میں میرے پاس بینہ ہے ہی نہیں یا میری بینہ تو ہے وہ غائب ہے بھئی، کہیں گئے ہوئے ہیں گواہ موجود ہی نہیں ہے یہاں پر، تو اس صورت میں پھر اس کے طلب کرنے پر قاضی کیا کر لے گا مدعی علیہ سے؟ قسم لے لے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اسی طرح اگر مدعی علیہ مسافر ہو بھئی، بھئی اگر مدعی علیہ مسافر نہیں تھا، پھر تو تین دن کے لیے اسے کیا کیا جائے گا؟ ضامن لے لیا جائے گا اور ضامن نہیں دیتا تو تین دن تک اس کے ساتھ مدعی ساتھ ساتھ رہے گا جہاں بھی وہ جاتا ہے تا کہ کہیں وہ چھپ نہ جائے، بھاگ نہ جائے۔ لیکن اگر مدعی علیہ مسافر ہے تو پھر مسافر ہے اور مدعی کہتا ہے کہ قاضی صاحب! اس سے قسم لے لی جائے بھئی۔ قاضی نے پوچھا: تم بینہ پیش کرو۔ اس نے کہا: میری بینہ شہر میں ہے بھئی۔ تو اب یہ اب بھی وہی صورت ہے، اس وہ مدعی علیہ جو مسافر ہے اس سے کیا لیا جائے گا؟ ضامن لے لیا جائے گا، اگر ضامن نہیں ہے تو مدعی کیا کرے گا؟ اس کے ساتھ لازم رہے گا، لیکن غیر مسافر میں تو تین دن تک کی مدت کے لیے ضامن لیا جاتا تھا، یہاں پر تین دن تک کی مدت کے لیے ضامن نہیں لیں گے بلکہ اس سے قاضی کے مجلس برخواست ہونے تک کے لیے کیا لے لیں گے؟ ضامن لے لیں گے۔
تو وہ مدعی علیہ مسافر ہے بھئی، اس سے ضامن لے لیں گے کتنی مدت کے لیے؟ جب تک قاضی کی مجلس برخواست نہ ہو جائے۔ یا اگر اس کے پاس ضامن نہیں ہے تو پھر مدعی اس کے ساتھ لازم رہے گا، اس کے ساتھ ساتھ رہے گا جب تک کہ قاضی کی مجلس برخواست، اور اس مدت کے دوران، یہ جو قاضی کے مجلس برخواست ہونے کی مدت ہے جس کے لیے اس نے ضامن لیا ہے یا اس کے ساتھ ساتھ رہا ہے، اس مدت کے اندر اندر مدعی اپنی بینہ کا انتظام کر لے۔ اگر اس مدت کے اندر مدعی اپنی بینہ کا انتظام نہ کر سکا تو پھر کیا کر لی جائے گی؟ مسافر سے قسم، اب قسم قاضی لے لے اس سے، اس سے پہلے قسم نہ لے، جبکہ بینہ قریب میں موجود ہو بھئی۔
ہاں، تو قاضی کی مجلس کے برخواست ہونے تک، اس سے زیادہ تک نہیں بھئی ضامن لیں گے مسافر سے، کیونکہ اس صورت میں اس پر کیا لازم آتا ہے؟ ضرر لازم آتا ہے بھئی، وہ تو مسافر ہے، سفر میں ہے بھئی، اور ہم کیا کہیں کہ دو تین تین دن تک بھئی ضامن دے، پھر تو اس بیچارے کو ضرر ہے، اسے رکنا پڑے گا بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ فَإِنْ قَالَ لِي بَيِّنَةٌ حَاضِرَةٌ، اگر مدعی نے کہا کہ میری بینہ حاضر ہے، أَيْ فِي الْمِصْرِ، یعنی کہاں پر حاضر ہے؟ شہر میں، یعنی قریب ہی ہے، قریب ہی ہے۔ آگے متن دیکھیے اگلے صفحے پر، وَطَلَبَ إِحْلَافَ الْخَصْمِ، اور طلب کی اس مدعی نے جو کیا کہہ رہا ہے: میری بینہ کہاں پر ہے؟ شہر میں۔ اس نے طلب کی إِحْلَافَ الْخَصْمِ، فریقِ مخالف کی قسم کہ قاضی صاحب! اس سے کیا لے لی جائے؟ قسم لے لی جائے۔ لَا يُحَلَّفُ، تو فریقِ مخالف کو قسم نہیں دی جائے گی۔
جی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ حتیٰ، اب واپس آئیے۔ حَتَّى لَوْ قَالَ لَا بَيِّنَةَ لِي، یہاں تک کہ اگر مدعی نے کہا: میری بینہ ہے ہی نہیں اس مسئلے کے اندر، أَوْ شُهُودِي غُيَّبٌ، یا بینہ تو ہے لیکن میرے گواہ کیا ہیں اس وقت؟ غائب ہیں، شہر سے کہیں باہر گئے ہوئے ہیں کہیں دوسرے سفر وغیرہ پر، اس صورت میں يُحَلَّفُ، اب کیا کیا جائے گا؟ قسم لی جائے گی بھئی، وَلَا يُكْفَلُ، اور کفیل نہیں لیا جائے گا اس سے بھئی۔
جی، تو کہتے ہیں: وَطَلَبَ إِحْلَافَ الْخَصْمِ، اور مدعی کی بینہ شہر کے اندر ہے اور وہ قسم کو طلب کر رہا ہے فریقِ مخالف سے، فریقِ مخالف کی، لَا يُحَلَّفُ، تو فریقِ مخالف کو قسم نہیں دی جائے گی، وَيَكْفُلُ بِنَفْسِهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بھئی۔ بھئی قسم نہیں دیں گے تو پھر کیا کریں؟ کہتے ہیں بھئی: کفیل دے دے گا وہ اپنے نفس پر ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، کتنے دن کے لیے؟ تو مدعیٰ علیہ جو ہے، وہ کفیل دے دے گا اپنے نفس پر تین دن کے لیے۔ فَإِنْ أَبَى، اگر وہ انکار کرتا ہے کفیل دینے سے، لَازَمَهُ، تو مدعی کیا ہو جائے گا؟ لازم ہو جائے گا۔ ھا ضمیر کس کو راجع؟ کس کے ساتھ لازم ہو جائے گا؟ مدعیٰ علیہ۔ أَيْ إِنْ أَبَى الْخَصْمُ عَنْ إِعْطَاءِ الْكَفِيلِ، یعنی اگر انکار کرتا ہے فریقِ مخالف کفیل دینے سے، لَازَمَهُ الْمُدَّعِي ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، تو لازم رہے گا اس کے ساتھ مدعی تین دن تک۔ ثُمَّ عَطَفَ عَلَى الضَّمِيرِ الْمَنْصُوبِ فِي لَازَمَهُ بھئی، پھر لَازَمَهُ بھئی، لازَمَ فعل ہے، اس کے اندر ضمیر فاعل کی ہے جو مدعی کو راجع، اور ھا ضمیر جو ساتھ ملی ہوئی ہے، یہ مفعول کی ضمیر ہے مولانا، منصوب متصل ضمیر بھئی۔ مفعول کی ضمیر، اور مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب، تو یہ ضمیر بھی محلاً کیا ہے؟ منصوب، اور آگے آ رہا ہے متن میں وَالْغَرِيبَ، اس غریب کا عطف بھی اس ضمیرِ منصوب پر ہے، تو وہ بھی کیا پڑھیں گے ہم؟ منصوب۔ تو لازم رہے گا بھئی اس کے مدعیٰ علیہ کے ساتھ مدعی لازم رہے گا، وَالْغَرِيبَ، اور کس کے ساتھ لازم رہے گا؟ مسافر کے ساتھ۔
اچھے، تو یہی ترکیب بتلا رہے ہیں علامہ صدر الشریعہ، کہتے ہیں: ثُمَّ عَطَفَ عَلَى الضَّمِيرِ الْمَنْصُوبِ، پھر ماتن نے عطف کیا ضمیرِ منصوب پر، فِي لَازَمَهُ، جو کس کے اندر ہے؟ لَازَمَهُ کے اندر ہے ضمیرِ منصوب، اس پر عطف کیا قَوْلَهُ، اپنے اس قول کا، وَالْغَرِيبَ۔ تو لازم رہے گا اس مسافر کے ساتھ، قَدْرَ مَجْلِسِ الْحُكْمِ، کتنی مقدار؟ فیصلے کی مجلس کی مقدار، یعنی جتنی دیر تک قاضی کی مجلس برقرار رہتی ہے۔ خود بتلا رہے ہیں علامہ صدر الشریعہ: أَيْ لَازَمَ الْمُدَّعِي الْغَرِيبَ، مدعی لازم رہے گا اس مسافر کے ساتھ، مِقْدَارَ مَا يَكُونُ الْقَاضِي جَالِسًا فِي الْمَحْكَمَةِ، اتنی مقدار کہ جب تک قاضی بیٹھا ہوا ہے اپنے محکمے کے اندر، یعنی جب تک اس کی مجلس برخواست نہیں ہوتی۔
جی؟ کیا بات کر رہے ہیں؟ جی۔ تو مدعیٰ علیہ ہی کہہ رہا ہوں میں۔ جی؟ کس کے ذمے گواہی آ گئی؟ گواہی میں نے کہا ہے مدعیٰ علیہ کے ذمے؟
بھئی مدعی لازم رہے گا اس کے ساتھ، انتظام مدعی نے کرنا ہے۔ گواہی کا انتظام کس نے کرنا ہے؟ مدعی نے، تو وقت دے رہے ہیں ہم مدعی کو بھئی۔ لیکن کچھ دیر کے لیے مسافر کو بھی روکنا ہے بھئی، مدعی بیچارے کا بھی تو حق ہے، تو کتنی دیر تک ہم روک سکتے ہیں مسافر کو؟ تین دن تک کے لیے روک کر رکھیں گے؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی، اس کو کتنی دیر تک روک سکتے ہیں آپ؟ قاضی قاضی کی مجلس، اس کو قسم نہیں دیں گے ہاں اس دوران۔ ہاں اگر مدعی نے شروع میں ہی کہہ دیا، مسا جس مدعیٰ علیہ ہے وہ کیا ہے؟ مسافر، اور مدعی نے کیا کہا: میری گ میرے پاس تو گواہ اس مسئلے میں ہیں ہی نہیں، یا میرے گواہ ہے تو لیکن وہ شہر سے باہر سفر پر گئے ہوئے ہیں، تو پھر تو وہیں پر قاضی کیا کر لے گا؟ مدعیٰ علیہ سے قسم لے لے گا۔ لیکن یہاں وہ کہہ رہا ہے کہ میرے گواہ تو ہیں، لیکن گواہ کہاں پر ہیں؟ شہر میں، قریب ہی موجود ہیں۔ بھئی جب قریب موجود ہیں تو ان کو لے کر آؤ بھئی، کیونکہ تمہارے ذمے کیا ضروری ہے؟ گواہ لانا ضروری ہے، تو وہ گواہ پھر اتنی مدت اس کو روک لیں گے، اور پھر اتنی مدت میں اگر وہ گواہ لے آیا تو ٹھیک، اگر گواہ نہیں لایا تو پھر اس صورت میں کیا آ جائے گی مدعیٰ علیہ پر، مسافر پر؟ اب اس سے قسم لے لی جائے بھئی، اسے روکا نہ جائے بھئی، قسم لے کر فیصلہ کر کے اسے بھیج دیا جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
مسئلہ حل ہوا کہ نہیں ہوا ابھی بھی؟ حل نہ ہو تو بتایا کرو بھئی، ویسے سر نہیں ہلانا کہ ہو گیا۔ دوبارہ ہو سکتا ہے بھئی، سمجھانے میں میں پوری طرح سمجھا نہ سکا ہوں، تو دوبارہ سمجھا دوں گا۔
تو یہ معنی ہے: لَازَمَ الْمُدَّعِي الْغَرِيبَ، مدعی لازم رہے گا اس مسافر کے ساتھ کہ مسافر کہیں چلا نہ جائے، بھاگ نہ جائے، اور اس دوران اپنے بینہ کا بھی انتظام کر لے گا۔ لَازَمَ الْمُدَّعِي الْغَرِيبَ مِقْدَارَ مَا يَكُونُ الْقَاضِي جَالِسًا فِي الْمَحْكَمَةِ، جتنی مقدار بھئی قاضی بیٹھا ہوا ہے اپنے محکمے میں، وَلَا يُكْفَلُ، اور اس سے کفیل بھی نہیں لیا جائے گا مسافر سے، إِلَّا إِلَى آخِرِ الْمَجْلِسِ، مگر اسی مجلس کے آخر تک بھئی۔ أَيْ إِنْ أُخِذَ مِنْهُ الْكَفِيلُ، اور اگر اس سے کفیل لیا گیا، لَا يُؤْخَذُ إِلَّا إِلَى آخِرِ مَجْلِسِ الْحُكْمِ، تو نہیں لیا جائے گا مگر اسی فیصلے کی مجلس کے آخر تک۔ فَإِنْ أَتَى بِالْبَيِّنَةِ فَبِهَا، اس دوران اگر مدعی لے آیا بینہ، فَبِهَا، تو بہتر، وَإِلَّا يُحَلِّفُهُ، ورنہ قاضی کیا کرے گا مدعیٰ علیہ کو قسم دے دے گا، إِنْ شَاءَ، اگر مدعی نے چاہا۔ بھئی قسم کس کا حق ہے؟ میں نے کیا بتلایا؟ مدعی، تو مدعی نے اگر چاہا تو قاضی اب مدعیٰ علیہ مسافر کو قسم دے دے گا، وَأَوْ يَدَعُهُ، اور اگر یا کیا کر دے گا اس کو؟ چھوڑ دے گا اگر یہ نہیں چاہتا قسم بھئی۔
وَالْحَلْفُ بِاللَّهِ لَا بِالطَّلَاقِ وَالْعِتَاقِ۔ اور قسم بھئی، اب قسم کیا قسم دی جائے گی بھئی؟ مدعیٰ علیہ کو جب بھی قسم دی جائے تو کس طرح قسم دی جائے اور کس کی قسم دی جائے؟ کہتے ہیں بھئی: قسم اللہ کی دی جائے گی بھئی، کس کی قسم دی جائے گی؟ اللہ کو، اللہ کی قسم دی جائے گی بھئی۔ وَالْحَلْفُ بِاللَّهِ، اور حلف اللہ کی ہوگی، لَا بِالطَّلَاقِ، نہ کہ طلاق کے ساتھ، وَالْعِتَاقِ، اور نہ عتاق۔ بھئی طلاق اور عتاق کی قسم نہیں دی جائے گی بلکہ کس کی قسم دی جائے گی؟ اللہ کی قسم دی جائے گی کہ مدعیٰ علیہ قسم کھائے گا کہ میں قسم، اللہ کی قسم قاضی صاحب! میں نے اس کا کوئی حق نہیں دینا، نہیں دینا۔
ہاں، مدعی کہتا ہے: نہیں قاضی صاحب! اس کو اللہ کی قسم نہ دیں، یہ تو قسمیں کھاتا رہتا ہے، اس کو پروا ہی کوئی نہیں ہے، اس کو کون سی قسم دی جائے؟ عتاق یا طلاق کی قسم دی جائے، طلاق اور عتاق کی قسم یہ، مثلاً قاضی صاحب! یہ قسم اٹھائیے کہ اگر اس نے یہ میں اپنے دعوے کے اندر جھوٹا ہوں یا اس نے میرا کوئی حق نہیں دینا، تو اس کی بیوی کو تین طلاق ہے، یا اس کا غلام کیا ہے؟ آزاد ہے، تو وہ اللہ کی قسم تو وہ آرام سے اٹھا لے گا، لیکن اب اس کو پتا ہے اگر اس نے جھوٹ بولا تو اس کی بیوی کو کیا ہو جائے گی؟ تین طلاق ہو جائے گی یا اس کا غلام آزاد ہو جائے گا، تو لہذا یہ قسم یہ نہیں اٹھائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: نہیں بھئی، قسم اللہ ہی کی دی جائے گی، طلاق اور عتاق کی قسم نہیں دی جائے گی بھئی۔
فَإِنْ أَلَحَّ الْخَصْمُ، اَلَحَّ یُلِحُّ اِلْحَاح کا معنیٰ اصرار کرنا، ضد کرنا۔ اگر خصم اصرار کرتا ہے اور ضد کرتا ہے کہ نہیں قاضی صاحب! یہی قسم دی جائے، قِيلَ، تو کہا گیا ہے: صَحَّ بِهِمَا فِي زَمَانِنَا، صحیح ہے ان دونوں کے ساتھ قسم دینا ہمارے زمانے میں۔ بعض فقہائے کرام کیا فرماتے ہیں؟ کہ زمانے کے اندر بھئی، اب طلاق اور عتاق کی قسم دینا صحیح، کیونکہ اللہ کی قسم کی لوگ بعض لوگ زیادہ پروا نہیں کرتے بھئی۔
أَيْ جَازَ لِلْقَاضِي، یعنی جائز ہے قاضی کے لیے، أَنْ يُحَلِّفَهُ بِالطَّلَاقِ وَالْعِتَاقِ، کہ قسم دے اس کو طلاق اور عتاق کے ساتھ بھئی۔ لیکن قِيلَ سے ذکر کیا مولانا، قِيلَ صیغۂ تمریض ہے، یعنی کمزور قول کو ذکر کیا بھئی۔ صحیح قول یہی ہے کہ قاضی یہ قسم نہیں دے سکتا مولانا، اس لیے کہ اس پر نتیجہ بھی ظاہر نہیں ہوگا، کیونکہ دوسری قسم جب اللہ کی قسم دی اور اس نے انکار کر دیا تو اس کے خلاف کیا کر دیا جاتا ہے؟ فیصلہ، لیکن اگر اس کو طلاق اور عتاق کی قسم دی جائے، دے سکتے ہیں بعض فرماتے ہیں، لیکن اگر وہ انکار کر دے تو فیصلہ نہیں نکلے گا، کیونکہ وہاں انکار کی صورت میں اس کے خلاف فیصلہ کرنا درست نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے: نہیں، یہ قسم تو میں نہیں اٹھاؤں گا طلاق یا عتاق والی۔ قاضی فوراً فیصلہ کر دے اس کا مطلب ہے تم جھوٹے ہو؟ نہیں بھئی، پھر یہ فیصلہ نہیں کر سکتا اگر وہ انکار کر بھی دے بھئی۔
اور دوسرا میں جی، تو قسم اللہ کی ہوگی، سمجھ میں آیا؟ جی، قسم اللہ کی ہوگی۔ تو معلوم ہوا بھئی، جو قرآن کی قسم اٹھا لیتے ہیں بھئی، کعبے کی قسم اٹھا لیتے ہیں، ٹھیک ہے؟ ماں باپ وغیرہ کسی کی قسم اٹھا لیتے ہیں، وہ قسم درست نہیں، اس لیے کہ مخلوق کے لیے خالق کے علاوہ کسی اور کی قسم اٹھانا جائز نہیں۔ البتہ خالق اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم اٹھا سکتا ہے، چنانچہ قرآن میں آپ دیکھتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو مخلوق کے لیے جو جس کے لیے وہ چاہے بھئی۔
تو طلاق اور عتاق بھئی، یہاں طلاق اور عتاق کو ساتھ قسم تو یہاں بھی اللہ ہی کی ہے، لیکن طلاق اور عتاق کو کیا کر رہا ہے؟ جی معلق کر رہا ہے کہ اگر میں جھوٹ بولتا ہوں تو اس پر کیا ہے میری بیوی کو؟ ہاں تو وہ مراد ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ طلاق اور عتاق باقاعدہ منقسم بہ نہیں ہے یہاں پر بھئی، سمجھ میں آیا؟
جی، وَيُغَلِّظُ بِصِفَاتِهِ، غَلَّظَ يُغَلِّظُ تغلیظ کا معنیٰ سخت کرنا، اور قاضی قسم کو سخت کر سکتا ہے بِصِفَاتِهِ أَيْ بِصِفَاتِ اللَّهِ، اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ۔ مثلاً قاضی کیا کہتا ہے؟ ایک تو ویسے قسم اٹھواتا ہے کہ قسم تم اللہ کی اٹھاؤ، اور کہتا ہے بھئی: تم قسم اٹھاؤ اس اللہ کی جس کا جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، جو رحمن ہے، جو رحیم ہے، جو ہر ظاہر اور باطن کو جاننے والا ہے، جو ہر ایک کو روزی دینے والا ہے، جو موت اور زندگی دینے والا ہے۔ تو دیکھو! اب شدت آ گئی قسم کے اندر بھئی، کیونکہ ساتھ کیا آ گئیں؟ اللہ کی صفات بھی آ گئیں مولانا، تو کیا قاضی ایسا کر سکتا ہے صفات کے ساتھ؟ کر سکتا ہے؟ کہتے ہیں: ہاں بھئی، قاضی قسم کو صفات کے ساتھ سخت کر سکتا ہے، اور یاد رکھو اس میں حروفِ عاطف ذکر نہیں کیے جائیں گے، صفات کیا ہوں گی؟ کیونکہ اگر حروفِ عاطف ذکر کر دیا جائے تو پھر یہ کئی قسمیں بن جائیں گی، اور مدعیٰ علیہ پر ایک قسم ہے یا کئی قسمیں ہیں بھئی؟ ایک ہی قسم ہے بھئی۔
جی، تو قسم، تو بھئی کہاں سخت کر کرے گا اور کہاں نہیں؟ کہتے ہیں بھئی: سخت کر سکتا ہے، لیکن اگر نیک اور دین دار آدمی ہے تو اس کے لیے قاضی قسم کو صفات کے ساتھ سخت نہ کرے، وہ عام صرف بِاللَّهِ کے ساتھ قسم اٹھا لے تو یہ بھی صحیح، اور اگر ایک عام آدمی ہے وہ پروا ہی نہیں کرتا تو اس کے لیے پھر صفات کے ساتھ قسم کو سخت کر سکتا ہے۔ یا بعض فرماتے ہیں کہ بھئی مال کو دیکھ لیا جائے، دعوے کو دیکھ لیا جائے، اگر مالِ قلیل کا ہے تو سخت قسم کو سخت نہ بناؤ، اور اگر مالِ کثیر ہے تو پھر قسم کو کیا کر دو؟ سخت کر دو۔
وَيُغَلِّظُ بِصِفَاتِهِ، اور سخت کرے گا قاضی قسم کو اللہ کی صفات کے ساتھ، نَحْوُ بِاللَّهِ الطَّالِبِ الْغَالِبِ، طالب کا لفظ درست، یہاں معلوم نہیں ہوتا بھئی۔ قسم ہے اس اللہ کی الْغالِبِ، جو غالب ہے، الْمُدْرِكِ، جو ہر چیز کا ادراک کرنے والا ہے، الْمَلِكِ، جو بادشاہ ہے، الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، ایسا زندہ ہے جس جسے کبھی لَا يَمُوتُ أَبَدًا، جسے کبھی موت نہیں آئے گی، وَنَحْوِ ذَلِكَ اور اس جیسی صفات کے ساتھ، لَا بِالزَّمَانِ وَالْمَكَانِ۔ تو قاضی قسم کو سخت کر سکتا ہے بِصِفَاتِهِ، اللہ کی صفات کے ساتھ، لَا بِالزَّمَانِ وَالْمَكَانِ، لیکن زمان اور مکان کے ساتھ قسم کو سخت نہیں کر سکتا۔
مثلاً بھئی، مدعی مدعی کیا کہتا ہے؟ قاضی صاحب، یہاں اس سے قسم نہ لیں، بلکہ قبلہ لیں، جمعے کے دن لیں، عصر کی نماز کے بعد لیں بھئی۔ عصر کے وقت میں وہ مبارک وقت ہوتا ہے۔ تو بھئی دیکھو قسم کو سخت بنا رہا ہے، کس کے لیے؟ مدعی علیہ کے لیے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، کسی مسلمان کے لیے زمانے یا مکان کے ذریعے قسم کو سخت کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔
تو یہ تو زمانے کی مثال تھی۔ یا مولانا، زمانے کی اور مثال کہ قاضی صاحب، اس سے ابھی قسم نہ لیں، چند دن بعد رمضان آنے والا ہے، رمضان کے مہینے کے اندر جمعے کے دن، عصر کے بعد اس سے کیا لی جائے؟ قسم یا اسے یومِ عرفہ کے دن قاضی صاحب کیا کریں؟ قسم لیں۔
یا مکان کے ذریعے سخت کرتا ہے قسم کو، قاضی صاحب، یہاں پر اس سے قسم نہ لیں، یہاں پر عدالت کے اندر، بلکہ مسجد کے اندر اور مسجد میں بھی کس کے پاس؟ منبر کے پاس بھئی، جامع مسجد میں وہاں پر اس سے قسم لی جائے یا بیت اللہ کے اندر جا کر اس سے کیا کی جائے؟ قسم یا مسجدِ نبوی میں قسم اس سے لی جائے۔ تو نہیں بھئی، کسی مسلمان کے لیے زمان یا مکان کے ذریعے ساتھ قسم کو سخت کرنا صحیح نہیں ہے۔
یہ معنی ہے لَا بِالزَّمَانِ وَالْمَكَانِ، اور سخت نہیں کر سکتا قسم کو قاضی زمان زمانے اور مکان کے ساتھ، هَذَا عِنْدَنَا، یہ ہمارے نزدیک ہے۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک يُغَلَّظُ بِالزَّمَانِ، قسم کو سخت کیا جائے گا زمانے کے ساتھ بھئی۔
تو قسم کو سخت کیا جا سکتا ہے زمانے کے ساتھ كَبَعْدِ الصَّلَاةِ الْعَصْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، جیسے کہ بھئی جمعے کے دن عصر کی نماز کے بعد، وَبِالْمَكَانِ، اور مکان کے ساتھ بھی سخت کیا جا سکتا ہے كَالْمَسْجِدِ الْجَامِعِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، جیسے کہ جامع مسجد میں منبر کے پاس بھئی۔
وَيُحَلَّفُ الْيَهُودِيُّ، بھئی یہودی کو کیسے قسم دی جائے گی؟ کہتے ہیں یہودی کو قسم دی جائے گی بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، قسم ہے اس اللہ کی جس نے تورات کو نازل کیا موسیٰ علیہ السلام پر، یہ قسم دی جائے گی۔ وَالنَّصْرَانِيُّ، اور نصرانی کو قسم دی جائے گی بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْإِنْجِيلَ عَلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، قسم ہے اس اللہ کی جس نے نازل کیا انجیل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر۔ وَالْمَجُوسِيُّ، اور مجوسی کو یوں قسم دی جائے گی بِاللَّهِ الَّذِي خَلَقَ النَّارَ، قسم ہے اس اللہ کی جس نے آگ کو پیدا کیا، کیونکہ مجوسی آگ کی عبادت کرتے ہیں۔ قسم ہے اس اللہ کی جس نے آگ کو پیدا کیا۔ وَالْوَثَنِيُّ، اور بت پرست جو ہے اس کو قسم دی جائے گی بِاللَّهِ بھئی، کس کی؟ صرف، کیونکہ بت پرست بھی اللہ کو مانتے ہیں بھئی۔
وَلَا يُحَلَّفُونَ فِي مَعَابِدِهِمْ، اور قسم نہیں دی جائے گی ان کو ان کے معابدوں میں بھئی، ان کے عبادت کی جگہوں میں بھئی، کہ عیسائی کی قسم کہاں لی جائے؟ گرجے وغیرہ میں لی جائے اس سے، نہیں بھئی، یہ نہیں کیا جائے گا کہ عبادت خانوں میں جا کر ان سے قسم لی جائے۔ کیوں؟ اس لیے کیونکہ قاضی کا وہاں جانا مکروہ ہے مولانا، قاضی کا وہاں حاضر ہونا کیونکہ وہ مجمعِ شیاطین ہے، وہاں شیاطین جمع ہوتے ہیں بھئی، دیکھو لوگوں کو گمراہی پر لگایا ہوتا ہے، تو شیاطین کا گڑھ ہوتا ہے بھئی وہ، گرجے وغیرہ بھئی۔
وَيُحَلَّفُ عَلَى الْحَاصِلِ فِي الْبَيْعِ وَالنِّكَاحِ بھئی، اور حاصل پر قسم دی جائے گی بیع اور نکاح کے اندر بھئی۔
بھئی دیکھو، دو آدمیوں میں جھگڑا ہوا مولانا، بیع کے مسئلے کے اندر۔ ایک آدمی کہتا ہے، میرے، قاضی صاحب، اس کی اور میرے درمیان بیع ہوئی ہے، لیکن یہ اس کا انکار کر رہا ہے۔ یہ اس کا کیا کر رہا ہے؟ قاضی کہتا ہے، اچھا، گواہ پیش کرو۔ یہ کہتا ہے، قاضی صاحب، میرے پاس کوئی بینہ نہیں، تو دوسرے مدعی علیہ پر کیا آ جائے گی؟ قسم آ جائے گی۔ اب قسم تو دینی ہے، تو قسم کس چیز پر دی جائے گی؟ کیا وہ کیا قسم کھائے گا؟
کہ یہ قسم نہ دے اس کو کہ قاضی صاحب، واللہ، میں نے اس کو یہ چیز نہیں بیچی۔ یہ قسم نہ اٹھوائیں بھئی، بلکہ یہ قسم اٹھائے کہ واللہ، قاضی صاحب، اس کے اور میرے درمیان بیع قائم نہیں ہے۔ کیا قسم دی جائے گی؟ اس کے اور میرے درمیان بیع قائم نہیں ہے۔ اور کیا قسم نہیں دی جائے گی؟ یہ چیز میں نے اس کو، اس بات پر قسم نہ اٹھائے کہ قاضی صاحب، میں نے اس کو یہ چیز نہیں بیچی۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اس صورت میں اس کا جھوٹا ہونا لازم آتا ہے بھئی۔ وہ ہوتا حق پر ہے بعض اوقات، لیکن اس کا جھوٹا ہونا، مثلاً دیکھو، بیع ایسی چیز ہے جو مرتفع ہو جایا کرتی ہے، اٹھ بھی جاتی ہے۔ دونوں عاقد کرنے والے آپس میں کیا کر لیتے ہیں اس کو؟ اقالہ کر لیتے ہیں، فسخ کر دیتے ہیں بیع کو بھئی۔
آپ نے ایک آدمی سے ٹوپی خریدی بھئی اور بعد میں کیا کر لیتے ہیں؟ اقالہ کر لیتے ہیں، بیع فسخ کر لی۔ اب اسی طرح دو آدمی میں بیع ہوئی تھی اور انہوں نے آپس میں اقالہ کر کے کیا کر دیا بیع کو؟ فسخ کر لیا۔ اب وہ ایک دعویٰ کر دیتا ہے، قاضی صاحب، اس نے یہ چیز مجھے بیچی ہے، لیکن میرے حوالے نہیں کر رہا۔ قاضی اس کو کیا قسم دیتا ہے کہ تم قسم اٹھاؤ، تم نے یہ چیز اسے نہیں بیچی؟
تو وہ جھوٹا ہو گا یا نہیں ہو گا؟ چیز تو کیا کی تھی اس نے؟ بیچی تھی۔ تو لیکن اس چیز پر دوسرے کا حق پھر بھی نہیں، کیونکہ فی الحال بیع قائم ہے، بیع قائم نہیں ہے۔ تو قاضی اس کو کیا قسم دے گا؟ کہ تم قسم اٹھاؤ کہ تم دونوں کے درمیان فی الحال بیع قائم ہے یا قائم نہیں ہے؟ اب بات درست بن گئی بھئی، وہ قسم آرام سے اٹھا لے گا کہ ہمارے اور میرے اور اس کے درمیان اس وقت بیع قائم نہیں ہے، کیونکہ کیا کر چکے ہیں دونوں بیع کو؟ فسخ کر چکے ہیں بھئی۔
تو یہاں پر دیکھو، سبب پر قسم نہیں دی، بلکہ کس پر قسم دی؟ حاصل پر۔ سبب پر قسم نہیں دی، بلکہ کس پر دی؟ حاصل پر قسم دی۔ سبب پر قسم دے تو وہ بیچارہ کیا بن جاتا ہے؟ اگرچہ حق پر ہے، لیکن جھوٹا بن گیا، اس بیچارے کا حق مارا گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ اس صورت میں تو انکار کرے گا بھئی قسم اٹھانے سے، کہ بیع، بیع تو ہوئی ہے، لیکن بعد میں کیا ہو چکا ہے؟ اقالہ ہو چکا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک ہے سبب، ایک ہے حاصل۔
سبب کیا ہے؟ مثلاً بیچنا ہے سبب، اور پھر بیچنے کے بعد جو بیع قائم ہے، وہ کیا ہے؟ حاصل۔ تو کبھی سبب پر قسم دی جاتی ہے اور کبھی حاصل پر۔ تو ضابطہ آگے چل کر آپ کو بتلائیں گے، اگر ایسی چیز ہے جو مرتفع ہو جاتی ہے، ختم ہو جاتی ہے، تو وہاں پر حاصل پر قسم دیں، اور جو، جس چیز، جو چیز مرتفع نہیں ہو سکتی، ایک مرتبہ آ گئی تو اب کوئی اس کو ختم نہیں کر سکتا، تو وہاں پر سبب پر قسم دی جائے گی۔
تو دیکھو، یہاں دو چیزیں ہیں، ایک ہے سبب، ایک ہے حاصلِ سبب بھئی۔ سبب کیا ہے؟ مثلاً دو آدمیوں کے درمیان بیع ہوتی ہے مولانا، تو یہ بیع کیا ہے؟ سبب، اور حاصل کیا ہو گا؟ جب ایجاب و قبول کر لیں گے، بیع کر لیں گے، تو ان دونوں کے درمیان کیا قائم ہو گئی؟ بیع قائم ہو گئی، تو یہ قیامِ بیع، یہ ہے حاصل۔ کیا ہے قیامِ بیع؟ حاصل۔ اسی طرح، ایک مرد اور عورت آپس میں نکاح کر لیتے ہیں، تو نکاح ہے سبب، اور حاصل کیا ہے؟ قیامِ نکاح، ان دونوں میں نکاح قائم ہو گیا، یعنی دونوں آپس میں میاں بیوی بن گئے۔
جی، تو اب بھئی، کبھی کبھی قسم سبب پر دی جاتی ہے اور کبھی قسم کیا ہے؟ حاصل پر دی جاتی ہے بھئی۔ کہاں حاصل پر قسم دی جائے گی، کہاں سبب پر قسم دی جائے گی؟ ضابطہ بتلا رہے ہیں آپ کو بھئی۔ اگر سبب ایسا ہے جو مرتفع ہو جاتا ہے، اٹھ جایا کرتا ہے، جیسے بیع کبھی اٹھ جاتی ہے، بائع اور مشتری آپس میں کیا کر لیتے ہیں؟ اقالہ کر لیتے ہیں، یا جیسے نکاح ہے مولانا، یہ کبھی اٹھ جایا کرتا ہے جب کہ خاوند بیوی کو کیا دے دے؟ طلاق دے دے۔ تو اس صورت میں، اگر سبب ایسا ہے جو کبھی اٹھ بھی جاتا ہے، تو اس صورت میں سبب پہ قسم نہیں دی جائے گی، بلکہ کس پر قسم دی جائے گی؟ حاصل پر قسم دی جائے گی بھئی۔
مثلاً، ایک آدمی نے دوسرے پر بیع کا دعویٰ کیا کہ قاضی صاحب، یہ گاڑی اس نے مجھے ایک لاکھ روپے میں فروخت کی ہے، اور دوسرا شخص انکار کرتا ہے۔ قاضی مدعی سے کہتا ہے کہ گواہ لاؤ، مدعی کہتا ہے، میرے پاس تو گواہ کوئی نہیں، تو مدعی علیہ جو بائع ہے، قاضی اس کو کیا دے گا؟ قسم دے گا۔ تو قسم اب کس پر دی جائے؟ سبب پر؟ سبب پر قسم یوں بنتی ہے، یوں قسم دکھائے، کہ واللہ، قاضی صاحب، میں نے اس کو گاڑی نہیں بیچی۔ تو دیکھا؟ بیچنا، سبب کا ذکر کیا۔ اور دوسری صورت ہے حاصل پر قسم دی جائے، وہ یوں کھائے گا قسم، کہ قاضی صاحب، واللہ، اس کے اور میرے درمیان اس وقت بیع قائم نہیں ہے۔
تو ایک صورت ہے یہ قسم کھائے، میں نے اس کو گاڑی بیچی نہیں، اور ایک صورت یہ ہے کہ میرے اور اس کے درمیان فی الحال بیع قائم نہیں ہے۔ تو کون سی قسم دی جائے؟ تو کہتے ہیں بھئی، اگر یہ سبب ایسا ہے جو مرتفع ہو جایا کرتا ہے، اٹھ بھی جاتا ہے، تو کس پر قسم دی جائے؟ حاصل پر۔ کیوں؟ تو کہتے ہیں اس لیے کہ بعض اوقات وہ سچا بھی ہوتا ہے، لیکن اس بیچارے کا حق مارا جاتا ہے۔ اگر سبب پر قسم اٹھائے گا، تو پھر اس کا حق، مثلاً اس نے گاڑی بیچی تو تھی، لیکن بعد میں کیا ہو گیا تھا؟ اقالہ ہو گیا تھا، بیع فسخ ہو چکی ہے دونوں کے درمیان۔ اب اگر وہ، اسے کہیں، اب یہ قسم اٹھاؤ کہ واللہ، تم نے یہ گاڑی اسے نہیں بیچی، تو وہ تو انکار کر دے گا، گاڑی تو اس نے کیا کی تھی؟ بیچی تھی۔
تو لہٰذا، اس صورت میں وہ قسم سے انکار کرے گا اور اس کا حق کیا ہو گا؟ مارا جائے گا۔ لہٰذا اسے حاصل پر قسم دی جائے کہ یوں قسم اٹھاؤ کہ واللہ، تمہارے اور اس کے درمیان بیع قائم نہیں ہے۔ اب مولانا، وہ قسم اٹھا لیتا ہے کہ قاضی صاحب، میرے اور اس کے درمیان بیع قائم نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اسی طرح بھئی، اگر نکاح کے باب میں قسم دینی پڑے، تو بھئی، کیسے قسم اٹھائے گا؟ نکاح کے باب میں قسم کس پر دی جائے گی؟ حاصل پر، اس لیے کہ نکاح جو سبب ہے، وہ ایسا ہے جو کبھی کبھی مرتفع ہو جاتا ہے، اٹھ جاتا ہے، ختم ہو جاتا ہے طلاق کی وجہ سے۔ تو یہاں پر اگر خاوند کو یہ قسم دی جائے کہ تم قسم اٹھاؤ، تمہارا اس عورت سے نکاح نہیں ہوا، تو وہ کیا کرے گا؟ قسم سے انکار کرے گا اور اس بیچارے کا حق مارا جائے گا، کیونکہ اس کا نکاح تو ہوا تھا، لیکن اس نے بعد میں کیا دے دی تھی؟ طلاق دے دی تھی۔ تو لہٰذا اس صورت میں کیا قسم دی جائے؟ کہ تم قسم اٹھاؤ کہ تمہارے اور اس عورت کے بیچ نکاح قائم نہیں ہے۔ تو وہ طلاق، نکاح تو ہوا تھا، تو اس نے طلاق دے دی تھی، اب وہ آرام سے قسم اٹھا لے گا کہ واللہ، قاضی صاحب، اس کی اور میرے درمیان اس کے اور میرے بیچ نکاح قائم نہیں ہے بھئی۔
اور اگر مولانا، سبب ایسا ہے جو مرتفع ہونے والا نہیں، جو فسخ نہیں ہو سکتا، تو اس صورت میں سبب پر قسم دی جائے گی۔ جیسے ایک مسلمان غلام ہے، اس نے دعویٰ کر دیا اپنے آقا پر کہ اس نے مجھے آزاد کر دیا ہے۔ قاضی نے کہا، گواہ پیش کرو، غلام کہتا ہے، میرے پاس تو کوئی گواہ نہیں ہے بھئی، تو آقا کو کیا کرنی پڑے گی؟ قسم کھانا پڑے گی۔ اب کیا قسم دی جائے؟ کیا سبب پر یا حاصل پر؟ کہتے ہیں، یہاں سبب پر ہی قسم دے دو، اس لیے کہ سبب جو ہے، وہ فسخ کو قبول، مسلمان غلام آزاد ہو جائے اور پھر اس کے بعد اس پر کیا واپس آ جائے؟ مملوکیت واپس، وہ پھر غلام بن جائے، ایسا ممکن نہیں ہے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو لہٰذا، یہاں سبب کے فسخ، سبب کے ارتفاع کا امکان نہیں، تو سبب پر قسم دے دو بھئی۔
تو دیکھیے، وَيُحَلَّفُ عَلَى الْحَاصِلِ فِي الْبَيْعِ، اور قسم دی جائے گی، قسم اٹھوائی جائے گی حاصل پر بیع اور نکاح کے اندر، نَحْوُ مثال کے طور پر یوں کہے گا، یوں قسم دے گا قاضی: بِاللَّهِ مَا بَيْنَكُمَا بَيْعٌ قَائِمٌ، کہ تم قسم اٹھاؤ خدا کی کہ نہیں تم دونوں کے بیچ بیع قائم بھئی، أَوْ نِكَاحٌ قَائِمٌ، یا تم دو قسم اٹھاؤ کہ تم دونوں کے درمیان نکاح قائم نہیں ہے فی الحال بھئی۔ وَفِي الطَّلَاقِ، اور طلاق میں یوں قسم دلا دے گا: مَا هِيَ بَائِنٌ مِنْكَ الْآنَ، تم قسم اٹھاؤ بھئی کہ یہ عورت تم سے جدا نہیں ہے اس وقت بھئی۔ عورت کیا کہتی ہے؟ اس نے مجھے طلاق دے دی ہے۔ خاوند کیا کرتا ہے؟ انکار کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ انکار کرتا ہے، تو خاوند کو قسم دی جائے گی مولانا، اور کیا قسم کھائے گا؟
یہ قسم نہیں دی جائے گی کہ تم قسم اٹھاؤ کہ تم نے اسے طلاق نہیں دی۔ کیونکہ اس صورت میں، عورت کیا کہہ رہی ہے؟ میں اس سے جدا ہوں۔ خاوند کیا کہہ رہا ہے؟ یہ میرے سے جدا نہیں ہے۔ اب اگر ہم اس کو یہ قسم دیں کہ تم قسم اٹھاؤ، تم نے اسے طلاق نہیں دی، تو اس صورت میں وہ حق پر ہے، لیکن اس کا قسم کھانے سے وہ انکار کر دے گا۔ کیوں؟ کیونکہ وجہ یہ تھی، اسے طلاق تو دی تھی، لیکن کون سی طلاق دی تھی؟ رجعی دی تھی اور بعد میں کیا کر لیا تھا؟ رجوع کر لیا تھا۔ تو اب وہ اسے یہ کہیں، تم قسم اٹھاؤ، تم نے اسے طلاق نہیں دی، تو وہ تو قسم اٹھانے سے انکار کر دے گا، کیونکہ طلاق تو اس نے دی تھی بھئی، اور تو اس بیچارے کا حق کیا ہو گا؟ مارا جائے گا۔ لہٰذا اسے کیا قسم دی جائے؟ کہ تم قسم اٹھاؤ کہ یہ عورت تم سے جدا نہیں ہے یا ہے بھئی۔ تو عورت تو کہہ رہی تھی میں جدا ہوں، اب خاوند آرام سے قسم اٹھا لے گا کہ قاضی، واللہ، یہ میرے سے جدا نہیں، کیونکہ طلاق تو دی تھی، لیکن میں نے کیا کر لیا تھا؟ رجوع کر لیا تھا۔
اور طلاق کے اندر یہ قسم دے گا، مَا هِيَ بَائِنٌ مِنْكَ الْآنَ، یہ تم سے جدا نہیں ہے اس وقت۔ وَفِي الْغَصْبِ، اور غصب کے اندر یہ قسم دی جائے گی: مَا يَجِبُ عَلَيْكَ، بھئی دیکھو، ایک آدمی نے دوسرے کی کتاب غصب کر لی مثلاً بھئی غصب، وہ قاضی کے پاس اس کو لے گیا۔ قاضی نے بھئی اب غاصب سے کہا، قسم اٹھاؤ بھئی کہ تم نے اس کی کتاب غصب نہیں کی۔ نہیں بھئی، یہ قسم نہیں دی جائے گی، یہ تو سبب ہے، غصب پر قسم نہ دو، بلکہ حاصل پر قسم دو۔ قاضی کہے گا بھئی، تم قسم اٹھاؤ بھئی، یہ کتاب کے واپس لینے کا حق دار نہیں ہے، یہ قسم دی جائے گی۔ کیوں؟ اس لیے کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے، ایک آدمی دوسرے کی چیز غصب کر لیتا ہے، لیکن غصب مرتفع ہو جاتا ہے۔ کیسے مرتفع ہو گیا؟
آپ کا کوئی ساتھی آپ کی کتاب غصب کر کے لے گیا، لیکن آپ نے بعد میں کہہ دیا، چلو بھئی، وہ کتاب ہی تمہاری ہو گئی۔ تو غصب ختم ہوا یا نہیں ہوا؟ غصب کی جگہ کیا آ گیا؟ ہبہ آ گیا۔ یا مولانا، کتاب لے گیا تھا، آپ نے کہا، اچھا بھئی، چلو بھئی، 100 روپیہ دے دو، وہ کتاب ہی آپ کی ہو گئی۔ تو آپ نے پیسے لے لیے، تو غصب مرتفع ہوا، اس کی جگہ کیا آ گئی؟ بیع آ گئی بھئی، تو غصب بھی مرتفع ہو جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی سبب پر قسم نہ دو کہ تم قسم اٹھاؤ، تم نے غصب نہیں کیا۔ اب تو بیچارہ قسم نہیں اٹھائے گا، کیونکہ چیز تو اس نے غصب کی تھی پہلے، لیکن وہ غصب کیا ہو چکا؟ مرتفع۔ لہٰذا اب کیا قسم دی جائے گی؟ کہ تم قسم اٹھاؤ کہ یہ کتاب تم سے واپس لینے کا حق دار نہیں، اب چونکہ بیع ہو چکی ہے، تو وہ قسم اٹھا لے گا، قاضی صاحب، واللہ، یہ مجھ سے کتاب واپس لینے کا حق دار نہیں ہے۔
وَفِي الْغَصْبِ، اور غصب کے اندر، مَا يَجِبُ عَلَيْكَ رَدُّهُ، کہ تم قسم اٹھاؤ کہ تم پر واجب نہیں ہے اس پر کتاب لوٹ، اس چیز کو مغصوبہ شئے کو واپس لوٹانا۔ لَا عَلَى السَّبَبِ، سبب پر قسم ان چیزوں میں نہیں دی جائے گی، جیسے بیع میں یہ قسم نہیں دی جائے گی: بِاللَّهِ مَا بِعْتَهُ، تو قسم اٹھا کہ تو نے اس چیز کو نہیں بیچا۔
جی، وَنَحْوُهُ، اور اس جیسے، مِثْلُ بِاللَّهِ مَا نَكَحْتَ، اب ساروں کی مثالیں ذکر کرتے جائیں گے بھئی۔ کیا کہا؟ سبب پر قسم نہ دو، یہ قسم بائع کو، بائع کو یہ قسم نہ دو، متن میں کیا آیا؟ مَا بِعْتُهُ، بِاللَّهِ مَا بِعْتَهُ، تو قسم اٹھا کہ تو نے اس چیز کو نہیں بیچا۔
اور نکاح میں یہ قسم نہ دی جائے: بِاللَّهِ مَا نَكَحْتَهَا، کہ تو قسم اٹھا، تو نے اس سے نکاح نہیں کیا۔ نکاح تو اس نے کیا تھا، لیکن وہ تو طلاق دے دی تھی۔ وَبِاللَّهِ مَا طَلَّقْتَهَا، اور یہ قسم نہ دی جائے بھئی طلاق دینے والے کو کہ تو قسم اٹھا، تو نے اس عورت کو طلاق نہیں دی، کیونکہ طلاق تو اس نے دی تھی، لیکن بعد میں کیا کر لیا تھا؟ رجوع کر لیا تھا۔ وَبِاللَّهِ مَا غَصَبْتَهُ، اور تو قسم اٹھا کہ تو نے اس چیز کو غصب، کیونکہ غصب تو اس نے چیز کی تھی، لیکن بعد میں کیا ہو گئی؟ بیع ہو گئی۔
لِأَنَّ هَذِهِ الْأَسْبَابَ تَرْتَفِعُ، اس لیے کہ یہ اسباب سارے جو ہیں، یہ اٹھ جاتے ہیں، بِأَنْ بَاعَ شَيْئًا، بایں طور کہ بیچا کسی چیز کو، ثُمَّ تَقَايَلَا، تو دونوں نے کیا کر لیا پھر؟ اقالہ کر لیا۔ فَإِنْ حُلِّفَ عَلَى السَّبَبِ، تو اب اگر قسم دی جائے سبب پر، يَتَضَرَّرُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، تو مدعی علیہ کو کیا ہو گا؟ ضرر ہو گا بھئی۔
هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے۔ وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک يُحَلَّفُ عَلَى السَّبَبِ، قسم دی جائے گی بھئی سبب پر فِي جَمِيعِ ذَلِكَ، ان تمام صورتوں میں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ساری صورتوں میں کس پر قسم دو؟ سبب پر دو۔ إِلَّا عِنْدَ تَعْرِيضِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، مگر یہ تعریض کا معنی اشارہ کرنا، تعریض کا کیا معنی؟ مگر یہ کہ مدعی علیہ اشارہ کر دے، بِأَنْ يَقُولَ، بایں طور کہ یوں کہے: أَيُّهَا الْقَاضِي لَا تُحَلِّفْنِي عَلَى السَّبَبِ، اے قاضی، مجھ سے سبب پر قسم مت اٹھواؤ۔
بھئی، سبب پر قسم نہیں دلوائی جائے گی طرفین کے نزدیک۔ اِس لیے کہ سبب پر قسم دلانے کی صورت میں مدعٰی علیہ کو کیا لازم آئے گا؟ بعض صورتوں میں ضرر لازم آتا ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، ہر صورت میں کس پر قسم دو؟ سبب پر ہی قسم دو۔ ہاں، اگر مدعٰی علیہ کا ضرر لازم آ رہا ہے، وہ خود کیا کر دے گا؟ قاضی کو اشارہ کر دے گا کہ قاضی صاحب! مجھ سے سبب پر قسم نہ اٹھواؤ۔ تو اِس صورت میں پھر کس پر قسم لے لی جائے گی؟ حاصل پر۔
فَإِنَّ الْإِنْسَانَ قَدْ يَبِيعُ ثُمَّ يُقِيلُ، اِس لیے کہ انسان بسا اوقات کسی چیز کو بیچ دیتا ہے، پھر اقالہ کر لیتا ہے۔ وَيُطَلِّقُ، اور انسان بسا اوقات کیا کرتا ہے؟ طلاق دے دیتا ہے۔ ثُمَّ يَتَزَوَّجُ، پھر کیا کر دیتا ہے؟ یا اِس طلاقِ بائن دی تھی مولانا عورت کو اور پھر اِس سے کیا کر لیا ہے اِس آدمی نے؟ نکاح کر لیا ہے، تو اب اگر ہم اِس کو کہیں: تم قسم اٹھاؤ تم نے اِس سے طلاق نہیں دی، تو وہ کیا کرے گا؟ وہ تو قسم اٹھانے سے انکار کر دے گا۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟
وَقِيلَ، اور کہا یہ بھی قول ہے بعض فقہاء کا، وہ فرماتے ہیں: يُنْظَرُ إِلَى إِنْكَارِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، مدعٰی علیہ کے انکار پر نظر کی جائے گی۔ فَإِنْ أَنْكَرَ السَّبَبَ، اگر وہ کس کا انکار کرتا ہے؟ سبب کا انکار کرتا ہے، يُحَلَّفُ عَلَيْهِ، تو سبب پر قسم دے دی جائے گی۔ وَإِنْ أَنْكَرَ الْحُكْمَ، اور اگر وہ حکم کا انکار کرتا ہے، يُحَلَّفُ عَلَى الْحَاصِلِ، تو کس پر قسم دے دی جائے گی؟ حاصل پر۔ هَذَا مَا قَالُوا، یہ وہ جو فرمایا فقہائے کرام نے بھئی۔
وَلِقَائِلٍ، اور کوئی کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے، وَلِقَائِلٍ أَنْ يَقُولَ، اور کوئی کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے: يَنْبَغِي أَنْ يُحَلَّفَ عَلَى السَّبَبِ دَائِمًا۔ جی۔ یہ علامہ صدر الشریعہ ایک اعتراض کر رہے ہیں بھئی، کہ کوئی کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ يَنْبَغِي أَنْ يُحَلَّفَ عَلَى السَّبَبِ دَائِمًا، کہ ہمیشہ کس پر قسم دی جانی چاہیے؟ سبب پر ہی قسم دینی، مناسب یہ ہے کہ ہمیشہ سبب پر ہی قسم دی جائے۔ وَإِنْ عَرَّضَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، اور اگر تعریض کرتا ہے مدعٰی علیہ بھئی، مدعٰی علیہ کیا کرتا ہے؟ اشارہ کرتا ہے کہ قاضی صاحب! کیا کریں؟ مجھے سبب پر قسم فَلَا اعْتِبَارَ لِذَلِكَ التَّعْرِيضِ، تو اِس تعریض کا کوئی اعتبار نہیں، لِأَنَّ غَايَةَ مَا فِي الْبَابِ، اِس لیے کہ اِس باب کے اندر زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا أَنَّهُ قَدْ وَقَعَ الْبَيْعُ، کہ کبھی کبھار کیا ہوئی؟ کہ أَنَّهُ قَدْ وَقَعَ الْبَيْعُ، کہ بیع واقع ہو گئی ہو گی، ثُمَّ وَقَعَ الْإِقَالَةُ، پھر کیا واقع ہوا ہو گا؟ اقالہ واقع ہوا ہو گا۔ فَفِي دَعْوَى الْإِقَالَةِ يَصِيرُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ مُدَّعِيًا، تو اقالے کے دعوے کی صورت میں مدعٰی علیہ کیا بن جائے گا؟ مدعی بن جائے گا بھئی، دیکھو۔
بیع کے اندر کبھی کبھار کیا کر لیا جاتا ہے؟ اقالہ کر لیا جاتا ہے۔ علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں بھئی، اوپر متن میں تو آیا کہ بیع وغیرہ میں کس پر قسم دو؟ حاصل پر، کس پر؟ حاصل پر، اِس لیے کہ بیع ایسا سبب ہے جو کبھی کبھار مرتفع بھی ہو جاتا ہے۔ تو علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں کہ کوئی کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے، یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ ہمیشہ کس پر قسم دی جانی چاہیے؟ سبب ہی پر قسم دی جانی چاہیے بھئی، کہ یعنی مدعی مدعٰی علیہ کو کیا قسم دی جائے؟ کہ قسم اٹھاؤ تم نے اِس چیز کو اِس سے بیچا نہیں، کہ تم نے اِس سے یہ چیز نہیں بیچی، نہیں بیچی۔ کہتے ہیں اِس لیے کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ بیع ہوئی ہو گی، پھر کیا واقع ہو گیا ہو گا؟ پھر کیا ہوا ہو گا؟ پھر اقالہ ہو گیا ہو گا۔ تو اب مدعٰی علیہ اِس کو ہم کیا قسم دے رہے ہیں؟ قسم اٹھاؤ تم نے یہ چیز اِس سے نہیں بیچی، تو بھئی چیز تو اِس نے بیچی تھی، لیکن بعد میں کیا ہوا تھا؟ اقالہ، تو وہ قسم کھانے سے انکار کرتا ہے اور کیا کہتا ہے؟ قاضی صاحب! میں بیع پر قسم نہیں اٹھا سکتا کیونکہ بیع تو ہوئی تھی لیکن بعد میں کیا ہو گیا تھا؟ اقالہ ہو گیا تھا، تو اب کو مدعٰی علیہ نے اقالے کا دعویٰ کر دیا۔ مدعٰی علیہ نے کس کا دعویٰ کر دیا؟ اقالے کا دعویٰ کر دیا، تو اب مدعٰی علیہ مدعی بن گیا اور مدعی کیا بن گیا؟ مدعٰی علیہ بن گیا۔ تو اب اِس مدعٰی علیہ جو مدعی بن گیا اقالے کا، اِس پر بینہ نہ آ گئی؟ یہ بینہ پیش کرے اقالے پر بھئی، بات ختم، آپ فیصلہ کر دیں گے اقالہ ہو چکا ہے۔ اور اگر یہ بینہ پیش نہیں کر سکتا تو پھر جو مدعٰی علیہ ہے، پہلے مدعی تھا اب کیا بن چکا؟ مدعٰی علیہ، اِس پر کیا آ جائے گی؟ قسم آ جائے گی بھئی، فیصلہ پھر ہو جائے گا اِس کا، صورت سمجھ میں آ گئی؟
لِأَنَّ غَايَةَ مَا فِي الْبَابِ، زیادہ سے زیادہ اِس باب کے اندر جو، وہ یہ ہو گا أَنَّهُ قَدْ وَقَعَ الْبَيْعُ، کہ بیع واقع ہوئی ہو گی، ثُمَّ وَقَعَ الْإِقَالَةُ، پھر اقالہ واقع ہو گیا ہو گا، فَفِي دَعْوَى الْإِقَالَةِ يَصِيرُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ مُدَّعِيًا، تو اقالے کے دعوے کی صورت میں مدعٰی علیہ کیا بن جائے گا؟ مدعی بن جائے گا، فَعَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ عَلَى الْإِقَالَةِ، تو اِس پر بینہ لازم ہو گی اقالے پر، فَإِنْ عَجَزَ، پس اگر وہ بینہ سے عاجز آ جاتا ہے، فَعَلَى الْمُدَّعِي الْيَمِينُ، تو مدعی پر کیا لازم ہو جائے گی؟ یعنی جو پہلے مدعی تھا، اب کیا بن چکا؟ مدعٰی علیہ، اِس پر یمین آ جائے گی۔
إِلَّا إِذَا تَرْكُ النَّظَرِ لِلْمُدَّعِي بھئی، إذا کے بعد فعل محذوف مان لیں: لَزِمَ، إِذَا لَزِمَ، کیا لازم آئے گا؟ تَرْكُ النَّظَرِ، نظر کا معنیٰ ہے لحاظ رکھنا، رعایت رکھنا۔ نظر کا کیا معنیٰ؟ لحاظ رکھنا، رعایت رکھنا۔ بھئی، اوپر کیا ضابطہ ذکر ہوا؟ بھئی، بیع، نکاح، طلاق وغیرہ میں کس پر قسم دی جائے؟ حاصل پر قسم دی جائے، سبب پر قسم نہ دی جائے۔ لیکن یاد رکھو، اب آگے بتا رہے ہیں کہ اگر حاصل پر قسم دینے کی صورت میں مدعی کی رعایت بیچارے کی نہیں ہو رہی تو پھر اِس صورت میں سبب پر قسم دے دی جائے۔ اگر مدعی کی رعایت اِس کے اندر نہیں ہے، حاصل پر قسم دینے میں مدعی پر شفقت نہیں ہے تو کیا کیا جائے؟ سبب پر قسم دے دی جائے۔ صورت سمجھ میں آئی؟
دیکھو، ایک آدمی نے دوسرے پر شفے کا دعویٰ کیا۔ قاضی صاحب! اِس نے زید سے زمین خریدی ہے اور میں اِس زمین کا پڑوسی ہوں، ساتھ ہی میری زمین تھی ہے، لہٰذا اب مجھے شفے کا حق، توجہ سے سنو بھئی! ایک آدمی نے کیا کہا؟ دوسرے پر کیا دعویٰ کیا؟ شفے کا دعویٰ کیا، قاضی صاحب! اِس نے زید سے زمین خریدی ہے اور ساتھ ہی میری زمین ہے، تو میں پڑوسی ہوا اور پڑوسی کو ہمارے نزدیک کس چیز کا حق ہوتا ہے؟ شفے کا، تو وہ شفعہ کر رہا ہے جوار کی وجہ سے۔ لیکن یاد رکھو، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جوار کی وجہ سے شفعہ ثابت شریک کو تو شفے کا حق ہوتا ہے، پڑوسی کو شفے کا حق اب اِس دعویٰ کر رہا ہے یہ شفے کا جوار کی وجہ سے، تو یہاں پر اگر حاصل کیا ہے؟ حاصل تو اِس نے دعویٰ کر دیا، دوسرا انکار کرتا ہے تو اِس پر اِس کے پاس بینہ نہیں، اِس پر کیا آ جائے گی؟ قسم آ جائے گی، تو یہاں اب قسم اگر ہم اِس سے کس پر لیتے ہیں؟ حاصل پر لیتے ہیں، تو اِس صورت میں مدعی کی رعایت نہیں، اِس پر شفقت نہیں۔ اِس لیے کہ یہ مدعٰی علیہ تو ہو سکتا ہے شافعی ہو، کیا ہو؟ اور شوافع کے نزدیک بھئی جوار کی وجہ سے شفے کا حق ہوتا ہے؟ تو یہ آرام سے قسم سبب پہ حاصل پہ قسم اٹھا لے گا۔ قاضی صاحب! اِسے شفے کا حق مجھ پر حاصل اِس زمین پر اِسے شفے کا حق حاصل نہیں ہے، وہ آرام سے قسم اٹھا لے گا اور اِس بیچارے کا حق مارا جائے گا۔ لہٰذا جب مدعی پر شفقت نہ ہو حاصل پر قسم کھانے کی صورت میں، تو پھر کس پر قسم دے دی جائے؟ سبب پر۔ تو اب اِس کو سبب پر قسم قاضی دے دے گا کہ قسم اٹھاؤ کہ تم نے یہ زمین زید سے نہیں خریدی، تم نے زید سے زمین نہیں خریدی۔ تو اب مولانا! اِس صورت میں مدعی کی بھی رعایت ہو گئی، وہ قسم اٹھانے سے کیا کر دے گا؟ انکار کر دے گا، کیونکہ زمین تو اِس نے خریدی ہے۔ تو اِس قسم سے تو وہ انکار کر دے گا لیکن اِس قسم سے انکار نہیں کرے گا، کون سی قسم؟ اِسے شفے کا حق نہیں، کیونکہ اِس کے وہ تو قائل ہی اِس بات کا ہے کہ جوار کی وجہ سے کسی کو شفے کا حق نہیں ہوتا، تو اِس بیچارے کا مدعی کا حق مارا جاتا ہے۔ لہٰذا اب وہاں حاصل پر قسم نہ دو بلکہ کس پر قسم دے دو؟ سبب پر۔
یا اِسی طرح ایک آدمی ہے، اِس نے عورت کو کیا دے دی ہے؟ طلاقِ بائن دے دی ہے اور طلاقِ بائن کی صورت میں ہمارے نزدیک عدت کے اندر نفقہ کس پر ہے؟ خاوند پر ہے، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نفقہ خاوند پر نہیں ہے۔ اب عورت نے دعویٰ کیا: قاضی صاحب! اِس کا میرا اِس نے مجھے طلاق دی ہے، میرا نفقہ نہیں دے رہا۔ اب قاضی اِس سے یہ قسم نہ اٹھوائے بھئی حاصل پر کہ تم قسم اٹھاؤ اِس تم پر اِس عورت کا نفقہ نہیں ہے، اِس لیے کہ وہ تو آرام سے قسم اٹھا لے گا، وہ تو شافعی ہے، اِس کے نزدیک تو طلاقِ بائن کی صورت میں نفقہ آتا ہی نہیں، وہ قسم اٹھا لے گا کہ واللہ! قاضی صاحب، میرے اوپر اِس عورت کا نفقہ واجب، تو حاصل پر قسم اٹھائے اٹھا لی اِس نے اور عورت یعنی مدعیہ کا حق مارا گیا۔ تو اِس صورت میں مدعیہ کی چونکہ رعایت نہیں حاصل پر قسم کھلانے میں، تو لہٰذا کس پر قسم اٹھا لو؟ سبب پر۔ تو وہ قسم اٹھائے: واللہ! قاضی صاحب، میں نے اِسے طلاقِ بائن نہیں دی۔ اب مولانا طلاق تو اِس نے دی ہے، وہ انکار کر دے گا تو عورت کو اِس کا حق مل جائے گا۔
تو عبارت مسئلہ یہ مولانا: إِلَّا إِذَا لَزِمَ، یہ محذوف فعل نکال لیں، إِلَّا إِذَا لَزِمَ، جب لازم ہو تَرْكُ النَّظَرِ لِلْمُدَّعِي، مدعی کی رعایت کے ترک لازم آتا ہو کس صورت میں ترک لازم آتا ہو؟ حاصل پر، حاصل پر قسم کھلانے میں اگر مدعی کی رعایت سے ترک کرنا لازم آتا ہو فَيُحَلَّفُ عَلَى السَّبَبِ، تو اِس صورت میں قسم کس پر دلائی جائے گی؟ سبب پر۔ كَدَعْوَى الشُّفْعَةِ بِالْجِوَارِ، جیسے کہ شفے کا دعویٰ جوار کی وجہ سے، وَنَفَقَةِ الْمَبْتُوتَةِ، اور جیسے نفقہ مبتوتہ، بت کے معنیٰ ہوتے ہیں منقطع کرنا، جدا کرنا، تو مبتوتہ وہ عورت جسے جدا کر دیا گیا ہے، یعنی طلاقِ بائن دے دی گئی ہے۔ اور اِسی طرح مولانا طلاقِ بائن والی کے نفقے کے دعوے کی صورت میں۔ وَالْخَصْمُ لَا يَرَاهُمَا بھئی، اِس حال میں کہ فریقِ مخالف جو ہے لَا يَرَاهُمَا، وہ اِس کے اِن دونوں کے رائے نہیں رکھتا، یعنی اِن دونوں چیزوں کا قائل نہیں ہے۔ تو اِس صورت میں حاصل پر قسم دینے کی صورت میں مدعی کی رعایت نہیں تو کس پر قسم دے دو؟ سبب پر۔
أَنْ يُحَلَّفَ عَلَى الْحَاصِلِ، یعنی قسم دی جائے گی حاصل پر، اِن اوپر والی تمام صورتوں میں حاصل پر قسم دی جائے گی إِلَّا أَنْ يَلْزَمَ مِنَ الْحَلْفِ عَلَى الْحَاصِلِ، مگر یہ کہ لازم آتا ہو حاصل پر قسم اٹھانے سے تَرْكُ النَّظَرِ لِلْمُدَّعِي، مدعی کی رعایت کا ترک کرنا لازم آتا ہو، فَحِينَئِذٍ يُحَلَّفُ عَلَى السَّبَبِ، تو اِس صورت میں قسم دلائی جائے گی کس پر؟ سبب پر۔ كَدَعْوَى الشُّفْعَةِ بِالْجِوَارِ، جیسے جوار کی وجہ سے شفے کے دعویٰ میں، فَإِنَّهُ يُمْكِنُ أَنْ يَحْلِفَ عَلَى الْحَاصِلِ، اِس لیے کہ ممکن ہے مدعٰی علیہ قسم کھا لے، فَإِنَّهُ يُمْكِنُ أَنْ يَحْلِفَ عَلَى الْحَاصِلِ، اِس لیے کہ ممکن ہے وہ قسم اٹھا لے مدعٰی علیہ کس پر؟ حاصل پر، حاصل پر قسم اٹھا لے، کیا حاصل یہ؟ أَنَّهُ لَا يَجِبُ الشُّفْعَةُ، اِس کے شفعہ واجب نہیں، کیوں؟ بِنَاءً عَلَى الْمَذْهَبِ الشَّافِعِيِّ، بناء بر مذہبِ شافعی کے، فَإِنَّ الشُّفْعَةَ لَا تَثْبُتُ بِالْجِوَارِ عِنْدَهُ، اِس لیے کہ شفعہ ثابت نہیں ہوتا جوار کی وجہ سے اِن کے نزدیک، فَيُحَلَّفُ الْمُشْتَرِي عَلَى السَّبَبِ، تو قسم دی جائے گی مشتری کو کس پر؟ سبب پر، یوں قسم کھاؤ: بِاللَّهِ مَا اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الدَّارَ، قسم اٹھا کہ تم نے اِس گھر کو نہیں خریدا، جی۔ وَكَذَا إِذَا ادَّعَتِ النَّفَقَةَ بِالطَّلَاقِ الْبَائِنِ، اِسی طرح اگر ایک عورت دعویٰ کرتی ہے نفقے کا طلاقِ بائن کی وجہ سے كَالْخُلْعِ، جیسے کہ خلع ہے، تو خلع بھی طلاقِ بائن کے حکم میں ہے، تو اِس کی وجہ سے ایک عورت نفقے کا دعویٰ کرتی ہے، فَإِنَّهُ لَا يَجِبُ النَّفَقَةُ عِنْدَ الشَّافِعِيِّ، اِس لیے کہ اِس صورت میں نفقہ واجب نہیں ہوتا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، وَتَجِبُ عِنْدَنَا، اور ہمارے نزدیک ثابت ہوتا ہے، فَإِنْ حُلِّفَ، پس اگر اِس کو قسم، یہ قسم دلائی جائے: بِاللَّهِ مَا تَجِبُ عَلَيْكَ النَّفَقَةُ، کہ باللہ! تجھ پر نفقہ واجب، تم قسم اٹھاؤ کہ تم پر نفقہ واجب نہیں، فَرُبَّمَا يَحْلِفُ عَلَى مَذْهَبِ الشَّافِعِيِّ، تو بسا اوقات وہ قسم اٹھا لیتا ہے کس پر؟ مذہبِ شافعی پر، تو اِس بیچارے کا عورت کا حق مارا جاتا ہے، لہٰذا فَيُحَلَّفُ عَلَى السَّبَبِ، تو اِس کو قسم دی جائے گی کس پر؟ سبب پر، کہ بِاللَّهِ مَا طَلَّقْتَهَا طَلَاقًا بَائِنًا، تو قسم اٹھا کہ تو نے اِسے طلاقِ بائن نہیں دی۔
وَكَذَا فِي سَبَبٍ لَا يَرْتَفِعُ كَعَبْدٍ مُسْلِمٍ يَدَّعِي عِتْقَهُ، اور اِسی طرح ہے اوپر والے مسئلوں میں جب مدعی کی رعایت نہ ہو تو کس پر قسم دی جائے گی؟ اِسی طرح وَكَذَا فِي سَبَبٍ لَا يَرْتَفِعُ، ایسا سبب جو مرتفع ہونے والا نہیں، اِس میں بھی کس پر قسم دی جائے گی؟ كَعَبْدٍ مُسْلِمٍ، جیسے ایسا غلام جو مسلمان ہے، يَدَّعِي عِتْقَهُ، دعویٰ کس کا کرتا ہے؟ اپنی ایک غلام ہے مسلمان بھئی، اِس نے کیا کر دیا؟ اپنے آقا پر آزادی کا دعویٰ کہ میرے آقا نے مجھے آزاد کر دیا ہے، آقا نے مجھے آزاد کر دیا ہے۔ تو بھئی قسم تو کس پر دی جاتی ہے؟ حاصل پر، لیکن یہاں پر سبب ایسا ہے جو مرتفع نہیں ہو سکتا، مسلمان غلام تھا بھئی، اِس کو ایک دفعہ کیا مل گئی؟ آزادی مل گئی، تو اب دوبارہ اِس پر برقیت نہیں آ سکتی، دوبارہ برقیت نہیں آ سکتی بھئی، تو یہاں عتق عتق ہے اِس کی حریت کا سبب، عتق کیا ہے؟ اِس کی حریت کا اِسے آزاد کیا گیا تو وہ کیا ہو گیا؟ آزاد ہو گیا، تو عتق جو ہے یہ ایسا سبب ہے مسلمان غلام کے لیے جو کبھی مرتفع یہ عتق ختم ہو جائے اور دوبارہ کیا آ جائے؟ دوبارہ کیا اِس پر آ جائے؟ غلامی۔
سمجھ میں آیا؟ کیوں؟ کہتے ہیں اِس لیے کہ اگر دیکھو، یہ غلام تھا، آقا نے کیا کر دیا؟ جی، آزاد کر دیا، آزادی کے بعد اب پھر اِس پہ برقیت والی صورت ممکن تھی بھئی، کیسے ممکن تھی؟ کہ یہ مرتد ہو جاتا اور مرتد ہو جانے کے بعد اِس کو دوبارہ کیا کر لیا جاتا؟ مرتد ہو جاتا تو اب اِس کو دوبارہ غلام بناتے، لیکن بھئی مرتد ہونے کے بعد تو اب اِس کو کیا کر دیا جائے گا؟ مہلت دی جائے گی، اگر واپس مسلمان ہوتا ہے تو چھوڑ دیا جائے گا اور غلام دوبارہ نہیں بنتا اور اگر وہ دوبارہ اسلام کی طرف نہیں لوٹتا تو کیا کر دیا جائے گا؟ قتل کر دیا جائے گا۔ تو لہٰذا اِس صورت میں یا تو قتل ہے یا توبہ ہے اور تیسرا کوئی راستہ ہی، اگر قتل ہوا تو اِس کی بقاء نہیں اور اگر توبہ کر لیتا ہے تو پھر غلامی نہیں آئے گی بلکہ کیا رہے گا؟ پہلے کی طرح آزاد ہی رہے گا۔ تو یہاں پر اب یہ جو آزادی ایک دفعہ آ گئی یہ اب مرتفع نہیں ہو سکتی بھئی، تو یہاں پر اب کس چیز پر قسم دی جائے بھئی؟ سبب پر۔
تو یہ معنیٰ ہے اور اِسی طرح سبب پر قسم دی جائے گی بھئی، فِي سَبَبٍ لَا يَرْتَفِعُ، ایسے سبب کے اندر جو مرتفع نہیں ہوتا كَعَبْدٍ مُسْلِمٍ يَدَّعِي عِتْقَهُ، جیسے ایسا مسلمان غلام ہے جو دعویٰ کرتا ہے اپنی آزادی کا، فَإِنَّ الْمَوْلَى يُحَلَّفُ، اِس لیے کہ مولا کو یہ قسم دی جائے گی یا جی، یا یوں فَإِنَّ الْمَوْلَى يَحْلِفُ، مولا کیا ہے؟ یہ قسم اٹھائے گا، جیسے بھی پڑھ لیں درست ہے۔ سمجھ میں آیا؟ يَحْلِفُ پڑھو: بِاللَّهِ مَا أَعْتَقْتُهُ بھئی، پھر متکلم کا صیغہ پڑھو کہ خدا کی قسم! اللہ کی قسم! مَا أَعْتَقْتُهُ، میں نے اِسے آزاد نہیں کیا۔ اور اگر يُحَلَّفُ پڑھو، تو آقا کو قسم دی جائے گی، کیا قسم دی جائے گی؟ کہ تو قسم اٹھا: بِاللَّهِ مَا أَعْتَقْتَهُ، کہ تو نے اِس کو آزاد نہیں کیا۔ تو یہ قسم اِس کو دی جائے گی، فَإِنَّهُ لَا ضَرُورَةَ إِلَى الْحَلْفِ عَلَى الْحَاصِلِ، اِس لیے کہ یہاں پر کوئی ضرورت نہیں ہے حاصل پر قسم اٹھانے کی، لِأَنَّ السَّبَبَ لَا يُمْكِنُ ارْتِفَاعُهُ، اِس لیے کہ یہ جو ہے آزادی مسلمان غلام کے لیے، یہ ایسا سبب ہے کہ جس کا ارتفاع ممکن نہیں، فَإِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ إِذَا أُعْتِقَ لَا يُسْتَرَقُّ، اِس لیے کہ مسلمان غلام کو جب آزاد کر دیا جائے لَا يُسْتَرَقُّ، تو پھر دوبارہ اِس کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔
وَفِي الْأَمَةِ وَالْعَبْدِ الْكَافِرِ عَلَى الْحَاصِلِ، اور باندی اور کافر غلام کے اندر بھئی قسم جو دی جائے گی، وہ حاصل پر دی جائے گی۔ باندی اور کافر غلام، باندی جو بھی ہو مولانا! سمجھ میں آیا؟ تو باندی کے اندر، مسلمان باندی ہو مثلاً یا اِسی طرح کافر غلام ہے، اِن کو اِنہوں نے کس چیز کا دعویٰ کیا بھئی؟ آزادی کا کہ ہم کیا ہیں؟ ہمارے آقا نے ہمیں آزاد کر دیا ہے، تو یہاں سبب پر قسم نہیں دی جائے گی کہ آقا کو کہا جائے تو یہ قسم اٹھا کہ واللہ! باللہ! میں نے اِس کو آزاد نہیں کیا بھئی، کیونکہ اگر آزاد کیا بھی ہو پھر بھی کیا بن سکتے ہیں یہ دونوں؟
غلام بن سکتے ہیں بھئی۔ تو یہاں حاصل پر قسم دی جائے گی کہ تم قسم اٹھاؤ کہ یہ آزاد اس وقت نہیں ہے بھئی۔
جی تو ان دونوں میں رقیقیت دوبارہ آ سکتی ہے، کیسے آ سکتی ہے آگے بیان کریں گے۔ وَفِي الْأَمَةِ وَالْعَبْدِ الْكَافِرِ عَلَى الْحَاصِلِ جی، اور قسم دی جائے گی باندی اور غلام کے مسئلے میں عَلَى الْحَاصِلِ حاصل پر لِأَنَّ السَّبَبَ قَدْ يَرْتَفِعُ فِيْهِمَا اس لیے کہ سبب جو ہے، یعنی عتق جو ہے، کبھی کبھی اٹھ بھی جاتا ہے ان دونوں میں، یعنی عتق ختم ہو کر دوبارہ کیا آ جاتی ہے؟ رقیقیت آ جاتی ہے۔ بھئی، عتق کیسے اٹھ جاتا ہے؟ آزادی کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ کہتے ہیں: أَمَّا فِي الْأَمَةِ باندی کے اندر جو ہے فَبِالرِّدَّةِ وَاللِّحَاقِ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ ثُمَّ السَّبْيِ باندی کے اندر مرتد ہونے کے ساتھ وَاللِّحَاقِ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ اور دارالحرب جانے سے، ثُمَّ السَّبْيِ اور پھر قیدی بننے سے، پھر قید کر دینے سے بھئی۔ تو وہ مرتد ہو جاتی ہے مثلاً بالفرض، اور دارالحرب چلی گئی، پھر جنگ ہوئی اور قیدی بنا کر لائی گئی۔ تو دیکھو، ایک تو پہلے آزاد کی گئی تھی، لیکن وہ آزادی کیا ہو گئی؟ ختم، اور دوبارہ کیا آ گئی؟ رقیقیت بھئی۔
وَأَمَّا فِي الْعَبْدِ الْكَافِرِ باقی عبدِ کافر کے اندر بھئی آزادی کیسے ختم ہو سکتی ہے؟ کہتے ہیں: فَبِنَقْضِ الْعَهْدِ کس کو توڑنے سے؟ عہد کو بھئی توڑنے سے۔ بھئی وہ ذمی ہے، ہم نے کیا لیا ہے؟ ہم نے ذمہ لیا ہے اس کی حفاظت کا ہم نے ذمہ لیا ہے، تو وہ اس عہد کو توڑ کر کدھر چلا جاتا ہے؟ دارالحرب۔ فَبِنَقْضِ الْعَهْدِ تو وہ ذمی، ذمیت کا وہ جو عہد ہے اس کو توڑ دیتا ہے، ذمیت کے عہد کو توڑنے وَاللِّحَاقِ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ اور دارالحرب چلے جانے ثُمَّ السَّبْيِ اور پھر قید کر دینے سے اس میں، اس سے کیا اٹھ گیا؟ وہ سبب یعنی عتق اٹھ گیا، دوبارہ قیدی بن گیا۔
وَيُحَلَّفُ عَلَى الْعِلْمِ مَنْ وَرِثَ شَيْئًا فَادَّعَاهُ آخَرُ بھئی دیکھو، ایک آدمی کو ایک چیز قطعی طور پر پتہ ہو تو وہ اس کے قطعیت پر قسم اٹھاتا ہے، لیکن اگر قطعی طور پر کسی چیز کا، قطعی طور پر اسے پتہ نہیں تو وہاں پر قسم علم پر دی جاتی ہے۔ کس پر قسم دی جاتی ہے؟ مثلاً دیکھو بھئی، دو بھئی تھے بھئی، ان میں سے ایک کا انتقال ہو گیا، تو اس کا ایک غلام تھا جو دوسرے بھئی کو مل گیا، یا یوں کہو، باپ کا غلام تھا، مرنے کے بعد وہ کس کو ملا بھئی؟ بیٹے کو ملا۔ اب بعد میں ایک شخص نے دعویٰ کر دیا کہ یہ غلام تو میرا ہے، تمہارے باپ نے مجھ سے غصب کیا تھا بھئی، کیا کیا تھا؟ غصب کیا تھا، تو اس صورت میں بیٹے کو یہ قسم نہیں دی جائے گی کہ تم قسم اٹھاؤ کہ یہ اس غلام کا حقدار نہیں ہے، کیونکہ بیٹے کو کیا پتہ ہے وہ اس غلام کا حقدار ہے یا حقدار نہیں؟ اس کو تو غلام باپ کی طرف سے ملا ہے، اب اسے نہیں پتہ کہ باپ نے کہاں سے غلام حاصل کیا تھا۔ تو اس صورت میں قطعیت پر قسم نہ دی جائے، قطعی چیز پر، بلکہ کس پر قسم دی جائے؟ علم پر، کہ تم قسم اٹھاؤ کہ تمہیں اس بات کا علم نہیں کہ یہ اس غلام کا مستحق ہے۔ تم قسم اٹھاؤ اس بات پر کہ تمہیں اس بات کا پتہ نہیں کہ یہ اس غلام کا مستحق ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
برخلاف اس کے کہ اگر اس مثلاً کسی آدمی کو دوسرے نے غلام تحفے کے طور پر دے دیا یا اس نے اس سے غلام کو خرید ہی لیا، جب تحفے کے طور پر دیا تب بھی ملک قطعی طور پر حاصل ہوتی ہے، یا خریدی جائے تو تب بھی ملک کیا ہوتی ہے؟ قطعی طور پر حاصل ہوتی ہے۔ اب کوئی اس پر دعویٰ کرتا ہے تو اب علم پر قسم نہیں دیں گے، بلکہ کس پر دیں گے؟ قطعی طور پر وہ قسم اٹھائے گا کہ قاضی صاحب، یہ اس غلام کا مستحق نہیں ہے، کیونکہ میں اس کا مالک ہوں، میں نے اس غلام کو خریدا ہے۔
یہ معنی: وَيُحَلَّفُ عَلَى الْعِلْمِ اور قسم دی جائے گی علم پر مَنْ وَرِثَ شَيْئًا اس شخص کو جو وارث ہوا کسی چیز کا فَادَّعَاهُ آخَرُ پھر کیا کیا دوسرے نے اس چیز کا دعویٰ کر دیا۔ وَعَلَى الْبَتَاتِ اور قطعی چیز پر قسم دی جائے گی إِنْ وُهِبَ لَهُ أَوْ اشْتَرَاهُ اگر اس کو وہ چیز ہبہ کی گئی ہے یا اس نے اس چیز کو خریدا ہے۔ الْبَتَاتُ الْقَطْعُ، بتات سے کیا مراد ہے؟ قطعی مراد ہے بھئی۔ فَالْمَوْهُوْبُ لَهُ وَالْمُشْتَرِي فالموہوب لہ جس کو چیز دی گئی وَالْمُشْتَرِي اور جس نے چیز خریدی يُحْلَفَانِ، ان دونوں کو قسم دی جائے گی کہ بِاللّٰهِ لَيْسَ هٰذَا مِلْكًا لَكَ بھئی۔ یا یوں کہیں يَحْلِفَانِ، یہ دونوں قسم اٹھائیں گے۔ یہ دونوں کیا کریں گے؟ قسم اٹھائیں گے، تو یہ دونوں ہیں مدعا علیہ، اور مدعی کو کیا کہیں گے؟ کیسی قسم اٹھائیں گے اس کے سامنے؟ کہ بِاللّٰهِ لَيْسَ هٰذَا مِلْكًا لَكَ کہ خدا کی قسم، یہ تیری ملکیت نہیں ہے۔ فَعَدَمُ الْمِلْكِ مَقْطُوْعٌ بِهٖ، تو دیکھو، ہذا میں ملک قطعی ہے یہاں پر، کیا ہے؟ یقینی ہے، یقینی قسم اٹھا رہے ہیں کہ واللہ، یہ تمہاری ملکیت نہیں ہے۔ بِخِلَافِ الْوَارِثِ، برخلاف وارث کے، فَإِنَّهٗ يُحَلَّفُ بِاللّٰهِ یا وہ فَإِنَّهٗ يَحْلِفُ پڑھیں یہاں بہتر ہے، فَإِنَّهٗ يَحْلِفُ اس لیے کہ وہ یہ قسم اٹھائے گا: بِاللّٰهِ لَا أَعْلَمُ أَنَّهٗ مِلْكٌ لَكَ بھئی، اللہ کی قسم، میں نہیں جانتا اے مدعی کہ یہ چیز تیری، یہ غلام تیری ملکیت ہے۔ جی تو علم پر قسم اٹھائے گا، فَإِنَّهٗ يَنْفِي الْعِلْمَ بِالْمِلْكِ اس لیے کہ وہ علم بالملک کی کیا کر رہا ہے؟ نفی کر رہا ہے، ملکیت کے جاننے کی، ہاں۔ وَعَدَمُ الْمِلْكِ لَيْسَ مَقْطُوْعًا بِهٖ فِيْ كَلَامِهٖ اور یہاں پر عدمِ ملک قطعی نہیں ہے اس وارث کے کلام میں، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ اس کو یقینی طور پر، یقینی بات کا اسے علم ہی نہیں ہے بھئی، یقینی بات وہ کر ہی نہیں سکتا بھئی۔
وَصَحَّ فِدَاءُ الْحَلْفِ وَالصُّلْحُ مِنْهُ وَلَا يُحَلَّفُ بَعْدَهٗ. صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، ایک آدمی نے دوسرے پر دعویٰ کر دیا بھئی، دعویٰ کر دیا۔ اب مدعی کے ذمے کیا ہوتے ہیں؟ مثلاً ایک آدمی نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے، اب مدعی سے بینہ طلب کی گئی، اس کے پاس بینہ نہیں تھی، تو مدعا علیہ پر کیا آ گئی بھئی؟ قسم آ گئی، اب مدعا علیہ پر جب قسم آئی تو مدعا علیہ کہتا ہے بھئی، تم یوں کرو، میرے سے 50 ہزار روپے لے لو اور میں میرے سے قسم طلب نہ کرو، مجھے چھوڑ دو۔ دوسرا، مدعی قبول کر لیتا ہے، چلو لاؤ بھئی، 50 ہزار دے دو اور قسم میں کیا کرتا ہوں؟ چھوڑ، تو دیکھو اس نے فدیہ دے دیا اپنی قسم کا، یا دوسری صورت مدعی کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے، مدعی اس کو کہتا ہے بھئی، تم قسم نہ اٹھاؤ، اس کے بجائے مجھے کیا کر دو صرف؟ دعویٰ تو ایک لاکھ کا ہے، تم مجھے 50 ہزار دے دو، میں تمہارے ساتھ صلح کر لیتا ہوں اور تم سے قسم کا مطالبہ نہیں کرتا بھئی، کیونکہ قسم تو مدعی کا حق ہے تو وہ خود صلح کرنا چاہتا ہے، تو کیا وہ کر سکتا ہے؟ کہتے ہیں: ہاں بھئی، وہ صلح کر سکتا ہے، دوسرے نے قبول کر لیا تو اس سے 50 ہزار لے لے اور قسم کیا ہو گئی؟ اس سے ختم ہو گئی، اب اس سے قسم، بعد میں دوبارہ کہتے ہیں قسم کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی، اب دوبارہ مطالبہ نہیں ہو سکتا جبکہ وہ فدیہ دے چکا ہے یا یہ اس سے صلح کر چکا ہے۔
یہ معنی: وَصَحَّ فِدَاءُ الْحَلْفِ اور صحیح ہے قسم کا فدیہ دینا، وَالصُّلْحُ مِنْهُ اور صحیح ہے بھئی، قسم پر کیا کرنا؟ صلح کرنا۔ وَلَا يُحَلَّفُ بَعْدَهٗ اور اس کے بعد دوبارہ قسم نہیں دی جائے گی۔ إِذَا تَوَجَّهَ الْحَلْفُ جب متوجہ ہو گئی حلف مدعا علیہ پر فَقَالَ، تو مدعا علیہ کہتا ہے: أَعْطَيْتُ هٰذِهِ الْعَشَرَةَ میں دیتا ہوں یہ 10 درہم، فِدَاءً مِنَ الْحَلْفِ بطور فدیہ کے قسم سے، وَقَبِلَ الْآخَرُ اور دوسرے نے یعنی مدعی نے کیا کر لیا؟ قبول کر لیا۔ أَوْ قَالَ الْمُدَّعِي یا مدعی اس مدعا علیہ سے کہتا ہے: صَالَحْتُ عَنْ دَعْوَى الْحَلْفِ عَلٰى كَذَا میں صلح کرتا ہوں قسم کے دعویٰ پر سے اتنے مال پر، یعنی مجھے 10 درہم دے دو یا اتنے دے دو، وَقَبِلَ الْآخَرُ اور دوسرے نے یعنی مدعا علیہ نے کیا کر لیے؟ قبول کر لیے، صَحَّ تو یہ قبول کرنا صحیح ہے، وَسَقَطَ حَقُّ الْحَلْفِ اور حلف کا حق کیا ہو جائے گا؟ ساقط، اب مدعی کو دوبارہ قسم لینے کا حق نہیں ہے اس مسئلے کے اندر بھئی۔
جی؟ جی، سبب اٹھ بھی تو سکتا ہے۔ آپ نے کیا کہا: وَفِي الْأَمَةِ وَالْعَبْدِ الْكَافِرِ میں اگر سبب پر قسم دی جائے تو کیا خرابی لازم آتی ہے؟ دیکھو باندی نے دعویٰ کر دیا کہ میں تو آزاد ہوں، اب آقا کو، آقا کیا کہہ رہا ہے؟ باندی کہتی ہے اس شخص نے مجھے آزاد کیا ہے، کیا کیا ہے؟ اب اگر اس کو یہ قسم دیں کہ تم قسم اٹھاؤ تم نے اسے آزاد نہیں کیا، تو وہ تو قسم سے انکار کر دے گا، اس کا حق بھی مارا جائے گا، قسم سے بھی انکار کر دے گا، کیوں؟ کیونکہ اس نے ایک دفعہ آزاد کیا تھا اس باندی کو، لیکن یہ باندی پھر کدھر، مرتد ہو کر کدھر چلی گئی؟ دارالحرب چلی گئی، پھر کیا ہوئی وہاں پر سے قیدی ہو کر آئی اور دوبارہ کیا بنا دی گئی؟ باندی بنا دی گئی اور اس نے دوبارہ اس کو کیا کر لیا؟ خرید لیا، تو یہ آزاد بھی کر چکا ہے ایک دفعہ، لیکن پھر بھی یہ اس وقت کیا ہے؟ اس کی باندی، اب اگر ہم اس کو کہتے ہیں تم قسم اٹھاؤ تم نے اسے آزاد نہیں کیا، وہ یہ قسم اٹھائے گا؟ اس نے تو کیا کیا تھا ایک دفعہ؟ تو وہ اس قسم سے انکار کر دے گا اور قاضی کیا فیصلہ کر دے گا؟ کہ باندی آزاد، تو اس بیچارے کا حق مارا گیا اگر ہم سبب پر قسم دیتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس لیے کہ یہاں سبب ایسا ہے جو مرتفع ہو سکتا ہے بھئی۔
چلیے مولانا، هٰذَا وَالْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔