گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ بیع کے اندر ثمن جو ہے بعد میں بھی ادا کیے جا سکتے ہیں کوئی اجل بھی مقرر کی جا سکتی ہے لیکن وہ اجل مجہول نہیں ہونی چاہیے بھئی، معلوم ہونی چاہیے۔
مثلاً کسی نے نوروز، مہرجان، سومین، نصارہ، یا فطر، یا یحود کو متعین کیا مدت اجل کے طور پر تو اگر یہ دونوں کو معلوم ہے پھر تو ٹھیک ہے اگر معلوم نہیں تو پھر درست نہیں کیونکہ مجہول ہوئی اجل بھئی۔
اجل مجہول ہوئی یا اسی طرح اگر کسی نے حاجیوں کے انے کو یا کھیتی کے کٹنے کا وقت یا کھیتی کے گہنے کا وقت یا پھلوں کے چننے کا وقت یا اون کے اتارنے کے وقت کو بطور مدت کے متعین کیا تو پھر یہ درست نہیں۔
اس لیے کہ یہ مدتیں مجہول ہیں یہ آگے پیچھے ہوتی رہتی ہیں بعض اوقات بعض کھیتیاں جلدی کاٹ رہی ہیں بعض ذرا دیر سے کٹتی ہیں بعض حاجی جلدی آ رہے ہیں بعض ذرا دیر سے آئیں گے بھئی۔
لیکن یہ بات یاد رکھنا کہ اصل عقد کے عقد کے اندر جب ان کی شرط لگائی تب بیع فاسد ہوگی ہاں اگر بیع مطلقا کی اور بعد میں اس کو مدت کے طور پر متعین کر لیا تو پھر ٹھیک ہے بھئی بیع تو مطلق ہو گئی اور بیع درست ہو گئی۔
اس کے بعد باہمی رضامندی سے ان کو مدت مقرر کر لے تو اب بیع پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بھئی۔
ہاں اصل عقد میں اگر شرط لگائی اس شرط پر خریدتا ہوں کہ پیسے کب دوں گا؟ حاجیوں کے آنے پر تو پھر بیع کیا ہے؟ فاسد اگر ویسے مطلقا بیع کر لی میں نے اتنے میں خرید لی اس نے پھر بعد میں راضی ہوئے چلو پیسے اس وقت دے دینا جب حاجی آئیں گے یا جس وقت کھیتیاں کٹیں گی تو پھر درست ہے بھئی۔
اور یکفل الیہ بھئی یہاں سے فرق بیان ہو رہا ہے بیع میں اور کفالت میں بھئی۔
بھئی بیع کے اندر تو یہ معمولی سی جہالت بھی قابل برداشت نہیں تھی بھئی اس کی وجہ سے بیع کیا ہو جایا کرتی تھی؟ فاسد لیکن کفالت کے اندر یہ معمولی جہالت آ بھی جائے تو کوئی حرج نہیں کفالت صحیح ہے بھئی۔
تو حاجیوں کے آنے کو مدت متعین مقرر کرنا یا کھیتی کے کٹنا یا پھلوں کے اترنے کے وقت کو کفالت کے لیے وقت مقرر کرنا صحیح کفالت ضمانت بھئی ضمانت دی۔
کہ میں جس مثلاً کسی شخص کے حاضر کرنے کی ضمانت دی یا اس کے مال کی ضمانت دی مثلاً کہا بھئی اس کو قرضہ دے دو مثلاً میں کیا کرتا ہوں اس کی ضمانت دیتا ہوں یا یہ چیز کسی سے خرید رہا ہے فلاں وقت پیسے ادا کرے گا بھئی میں ضمانت دیتا ہوں یہ کیا کرے گا پیسے ادا کر دے گا اگر اس نے پیسے ادا نہ کیے تو میں کھیتی کے کٹنے کے وقت تک کیا ہوں؟
ضامن ہوں اس وقت کا اگر ادا نہ کیے تو پھر میں ادا کر دوں گا تو یہ ضمانت صحیح ہے۔
اس لیے کہ بیع کے اندر اصل کے اندر جہالت جو ہے وہ مفسد للبیع ہے تو وصف کے اندر بھی جہالت مفسد للبیع ہوگی بیع کے اندر اصل کیا ہے مثلاً بھئی ثمن بھئی۔
ثمن کے اندر اگر جہالت آ جائے تو بیع کیا ہو جایا کرتی ہے؟ فاسد ہوتی ہے تو اس ثمن کا جو وصف ہے یعنی مدت اور اجل اس کے اندر بھی اگر جہالت آ جائے تو بیع کیا ہو جائے گی؟ فاسد جبکہ کفالت میں اصل یعنی دین کے اندر اگر جہالت ہو پھر بھی کفالت صحیح ہوتی ہے تو اس دین کا جو وصف ہے یعنی مدت اور اجل اس کے اندر بھی اگر جہالت آ جائے تو کفالت کیا ہوگی؟
صحیح مثلاً ایک شخص کو آپ کہتے ہیں بھئی اس پر تمہارا جتنا قرضہ ہے میں اس کا ضامن ہوں۔
اب آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کتنا قرضہ ہے لیکن یہ کفالت صحیح ہوئی یہ کفالت کیا ہوئی؟ تو دین مجہول ہونے کے باوجود کفالت صحیح ہوتی ہے تو اس دین کی مدت بھی اگر مجہول ہو جائے تھوڑی سی معمولی سی تو اس کی وجہ سے بھی کفالت پر کوئی اثر نہیں پڑتا وہ بھی نہیں تو اصل میں جہالت قابل برداشت ہے تو وصف میں بھی جہالت کیا ہے؟ قابل اور بیع کے اندر اصل کے اندر جہالت قابل برداشت نہیں تو وصف کے اندر بھی جہالت قابل برداشت نہیں۔
اور یہ بھی آپ نے پڑھا کہ اگر اجل کو ساقط کر دیا وقت کے آنے سے پہلے بھئی کیا معنی وقت سے پہلے ہی ادائیگی کردی وقت تو رکھا تھا حاجیوں کے آنے کا اس کی وجہ سے بیع فاسد ہو گئی۔
لیکن اگر اس وقت کے آنے سے پہلے پہلے اس نے کیا کر دیے ثمن ادا کر دیے تو بیع کیا ہو جائے گی؟ صحیح ہو جائے گی امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں صحیح نہیں ہوگی بھئی۔
کیونکہ بیع فاسد ہو چکی ہے اب دوبارہ صحیح نہیں۔
ہم کہتے ہیں نہیں بھئی فساد آ رہا تھا جھگڑے کی وجہ سے بھئی مدت مجہول ہو گئی تھی جھگڑا تھا بائے پہلے تقاضا کرے گا اور مشتری بعد میں دیکھ۔
لیکن اب اس نے پہلے ہی ادا کر دی ابھی مفسد آ ہی نہیں ہے تو اس سے پہلے ہی اس کو ہم نے زائل کر دیا تو بیع کیا ہو گئی؟ صحیح ہو گئی بھئی صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔
ثم اعلم ان الحكم في البيع الباطل ان المبيع ان هلك۔
في ييد المشتري فعند البعض امانة وعند البعض مضمون بالقيمة كالمقبوض علي سوم الشراء۔
अच्छा بھئی دیکھو آگے متن کے اندر علامہ تاج الشریعہ جو ہیں وہ بیع فاسد کا حکم بیان کرنے لگے ہیں۔
تو بیع باطل کے بارے میں یہ تو پتہ چل ہی چکا تھا کہ اس میں وہ ذات کے اعتبار سے بیع صحیح نہیں ہوتی لہذا مشتری اس کا مالک ہی نہیں بنتا۔
لیکن ایک بات رہ گئی تھی کہ اگر بیع باطل کے اندر مشتری مبیع پر قبضہ کر لے۔
اور پھر وہ مبیع اب وہ مالک تو نہیں لیکن یہ مبیع اس کے پاس کس طور پر ہے؟ کیا یہ امانت کے طور پر ہے یا اس کے پاس ہلاک ہو جائے تو امانت اس کو شمار کریں گے یا اس پر قیمت سمہن وغیرہ آئیں گی یہ بات بیان نہیں ہوئی تھی یہ حکم تو اب وہ بیع باطل کا یہ حکم بیان کرنے لگے ہیں اور آپ کو بتلائیں گے تو علامہ صدر الشریعہ کہ بیع باطل ملکیت کا فائدہ تو نہیں دیتی لیکن اگر مشتری مبیع پر قبضہ کر لے اس کے پاس یہ مبیع اب بعض اور فقہاء کہتے ہیں وہ فرماتے ہیں امانت کے درجے میں ہے۔
اور مالک تو بنا ہی نہیں ہے لیکن جب تک اس کے قبضے میں ہے امانت کے طور پر ہے ہلاک ہو جائے تو امانت میں ضمان نہیں آیا کرتا لہذا اس کا ضمان بھی اس پر نہیں آئے گا۔
اور بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں یہ امانت نہیں بلکہ یہ مضمون بالقیمت ہے کیا ہے؟ مضمون بال قیمت ہے مضمون بالقیمت ہے۔
مثلاً بھئی فرض کرو صورت کوئی بھئی۔
خمر بیچی کسی مسلمان نے دوسرے کے ہاتھ خمر بیچی دوسرے نے قبضہ کر لیا اب یہ اس کے پاس بعد کے نزدیک امانت کے درجے میں ہے خمر کیونکہ مالک نہ بن سکتا ہے نہ مالک بنا سکتا ہے خمر کا مسلمان۔
اور بعد کیا فرماتے ہیں کہ یہ مضمون بالقیمت ہے لہذا اگر اس کے پاس یہ خمر ہلاک ہو گئی تو اس کو کیا دینی پڑے گی قیمت بھئی اور اسی پر فتوی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں ثم اعلم تو جان لے ان الحكم في البيع الباطل کہ بیع باطل کا حکم یہ ہے کہ ان المبيع ان هلك في ييد المشتري اگر مبیع ہلاک ہو گیا مشتری کے قبضے میں تو عند البعض امانت تو بعض فقہاء کے نزدیک وہ امانت ہے و عند البازی مضمون بالقیمت اور بعض فقہاء کے نزدیک وہ مضمون بالقیمت ہے قیمت کا ضمان اس پر آئے گا میں نے بتلایا اسی پر فتوی ہے۔
کالمقبوض علي سوم الشراء جیسے مقبوض علي سوم الشراء تھا بھئی آپ پڑھ چکے ہیں مقبوض علي سوم الشراء کسے کہتے تھے؟ آپ نے اپنے ساتھی کے پاس کوئی چیز دیکھی پسند آئی اور کہا بھئی یہ چیز میں لے جاتا ہوں اگر مجھے پسند آئی تو میں آپ سے دس روپے میں یہ خرید لوں گا آپ چیز اٹھا کر لے گئے تو یہ چیز مقبوض ہوئی اور مقبوض علی سوم الشراء ہوئی بھئی خریدنے کے۔
بھاؤ پر بھئی کہ میں خرید لوں گا تم سے آپ نے قیمت ذکر کر اتنے پیسے میں دے دوں گا تو یہ مقبوض علي سوم الشراء کہلاتی ہے اور اس صورت میں اگر وہ چیز آپ کے پاس ہلاک ہو جائے تو کیا آ کرتی ہے؟ قیمت آیا کرتی ہے کیا آتی ہے؟ قیمت آتی ہے۔
جیسے مقبوض علي سوم الشراء جو ہے وہ مضمون بالقیمت ہوتا ہے تو یہ بھی مضمون بالقیمت ہے بھئی۔
و اما حكم البيع الفاسد ففي المتن باقی بیع فاسد کا حکم جو ہے وہ متن میں آ رہا ہے بیع باطل کا حکم انہوں نے بتلا دیا اور بیع فاسد کا حکم جو ہے متن میں آ رہا ہے شرا في احكامه ماتن شروع ہوئے بیع فاسد کے احکام بتلانے میں فقات پس فرمایا فئن قبض المشتري المبيعا بيعا فاسدا اگر مشتری نے مبیع پر قبضہ کر لیا بھئی۔
وہ مبیع جو کس طور پر خریدا ہے بیع فاسد سے برضا برضای بائعہ بھئی بائے کی رضامندی سے قبضہ کیا صريحا او دلالتا صراحتا رضامندی تھی یا دلالتاً بھئی بیع فاسد تو آپ نے پڑھا کہ کوئی ایسی شرط وغیرہ مثلاً لگا دی جس میں کسی ایک کا نفع ہے تو بیع کیا ہو جایا کرتی ہے؟ فاسد اور یہ ذات کے اعتبار سے تو صحیح ہے لیکن وصف کے اعتبار سے صحیح نہیں تو کیا اس سے مالک بنے گا وہ مالک یا مالک نہیں اب آپ کو بتلائیں گے مالک بن جائے گا۔
بش کب بنے گا مالک کہتے ہیں صرف عقد سے مالک نہیں بنے گا بلکہ جب اس پر قبضہ بھی کر لے کیا کر لے؟ قبضہ بھی کر لے عام بیع کے اندر تو بھئی بیع ہوتے ہی دوسرا مبیع کا کیا بن جایا کرتا ہے؟ مالک بن جاتا ہے لیکن بیع فاسد میں جب تک قبضہ نہ کرے اس وقت تک مالک نہیں تو مالک بن جائے گا جب قبضہ کر لے اور قبضہ بھی ویسے نہیں کس کی اجازت سے ہونا چاہیے؟ بائے کی اجازت سے قبضہ ہو اور وہ اجازت کیا صراحتاً ہوگی یا دلالتاً صراحتاً تو سیدھا کہے گا یہ لو بھئی اس کے حوالے کر دے گا یہ چیز لے لو اس پر قبضہ کر لو ٹھیک ہے بھئی یہ ہے صراحتاً اور ایک ہے دلالتاً بھئی کہ اس مجلس مجلس عقد ہی میں اس چیز پر قبضہ کر لیتا ہے اور اس کو بائے روکتا نہیں جب نہیں روک رہا معلوم ہوا کہ وہ کیا ہے اس کے قبضے پر راضی ہے بھئی تو یہ دلالتاً رضامندی ہوئی اس کی۔
تو اس نے بائے کی رضامندی سے مشتری نے مبیع پر قبضہ کر لیا صریحا وہ رضامندی صراحتاً تھی او دلالتا یا دلالتاً تھی۔
وكل من عوضيه مال اس حال میں کہ دونوں عوضین کیا ہونے چاہیے؟ مال ہوں اس حال میں کہ دونوں عوضین مال ہوں يملكه یہ حکم آ گیا بھئی کیا بن جائے گا اس کا مالک مالک بن جائے گا۔
अच्छा اب متن میں انہوں نے کہا وكل من عوضيه مال دونوں عوضین کیا ہونے چاہیے؟ پھر وہ مالک بنے گا بھئی کہتے ہیں اس پر اشکال ہو سکتا ہے بھئی بات چل رہی ہے بیع فاسد کی اور بیع فاسد میں تو وہ ہے جو ذات کے اعتبار سے صحیح ہو مبیع کیا ہو؟ مال ہونا چاہیے کیا ہونا چاہیے مال متقوم ہونا چاہیے تو لہذا وكل من عوضيه مال کی قید زائد ہے بھئی اس کی لگانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ بیع فاسد میں جانبین سے مال تو ہوگا ہی ہوگا بھئی اگر ایک طرف سے مال نہیں ہے یا مال متقوم نہیں ہے تو پھر تو وہ فاسد نہیں ہوگی بلکہ کیا بن جائے گی بیع باطل اور یہاں تو بیع باطل کی بات نہیں چل رہی کس کی بات چل رہی ہے؟ اور بیع فاسد میں جانبین سے کیا ہوا کرتا ہے؟ مال تو کہتے ہیں پھر یہ قید بڑھانے کی کیا ضرورت ہے جب بیع فاسد کی بات چل رہی ہے تو بس پہلے سے ہی پتہ ہے کہ جانبین سے کیا آ رہا ہے؟ مال آ رہا ہے تو یہ اعتراض آ گیا اور پھر اس کا جواب چلے اعتراض ذکر کریں گے اور پھر اس کا جواب فئن قیل اگر یہ کہا جائے کلامنا في البيع الفاسد ہمارا کلام تو ہو ہی بیع فاسد کے بارے میں رہا ہے فیكون كل من العوضين مالا البتة پھر تو دونوں عوضین تو مال ہی ہوں گے قطعی طور پر البتہ قطعا قطعی طور پر از لولم يكن مالا لكان البيع باطلا ا ز لو لم يكن لكان البيع باطلا اگر وہ مال نہ ہوں دونوں بدلین تو پھر بیع کیا بن جائے گی فاسد نہیں رہے گی بلکہ باطل ہوگی قلنا جواب دے رہے ہیں جواب یہ کہ بھئی کبھی کبھار بیع فاسد کا ذکر فقہاء کرتے ہیں اور اس سے کیا مراد لیتے ہیں؟ باطل کیا مراد لے لیتے ہیں؟ کہتے ہیں لفظوں میں فاسد کہہ رہے ہیں کہ تو معلوم ہوا بیع باطل پر بھی فاسد کا اطلاق ہوتا ہے تو یہاں کہیں کوئی شخص بیع فاسد سے یہ نہ سمجھے کہ یہ کہ باطل کو بھی شامل ہے کیا ہے؟ باطل کو لہذا جب قید بڑھا دی وقت اگر کوئی کسی کو یہ وہم پڑ بھی جائے کہ یہ فاسد کس کو شامل ہے؟ باطل کو شامل ہے يكون هذا القيد مخرجا له عن هذا الحكم তো یہ جو قید ہے وكل من عوضيه مال یہ کیا کرتی؟ یہ بیع باطل کو نکال دیتی عن هذا الحكم اس حکم سے اور وہ کیا ہے کہ مبیع کیا بن جائے گا مشتری کی ملک بن جائے گا اس حکم سے نکال دیتی مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی۔
على ان علاوہ اس کے کہ انھہ قد يكون البيع فاسدا مع باقی آپ نے یہ کہا کہ بیع فاسد میں عوضین ہمیشہ مال ہوں گے کہتے ہیں نہیں بھئی ایسا بھی ضروری نہیں ہے کبھی بیع فاسد ہوتی ہے اس میں صرف ایک ہی عوض کا ذکر ہے دوسرے کا ذکر ہی نہیں۔
مثلاً ایک شخص سے آپ نے کیا کیا بھئی۔
میں نے کتاب آپ سے خرید لی کتاب اٹھائی اور آپ لے گئے بھئی ثمن ذکر ہی نہیں کیا آپ نے اب عوضین کا ذکر ہے بیع میں یا ایک عوض کا ذکر ہے بھئی؟ ایک عوض کا ذکر ہے تو دوسرے کا تو ذکر ہی نہیں ذکر ہوتا تو ہم پھر کہتے یہ مال ہے یا مال نہیں تو ایک عوض کا ذکر ہے معلوم پھر بھی صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ بیع منعقد ہو گئی البتہ فاسد ہے کیا ہے؟ فاسد ہے اور کیا آئے گا دوسرے پر قیمت آ جائے گی اس کو اس نے ثمن ذکر نہیں کیے بھئی تو ثمن تو ضروری تھے تو بیع ہوئی فاسد بیع کیا ہوئی فاسد اور کیا آئیں گے دوسرے پر بدلے کے طور پر قیمت آئے گی تو دیکھا اب یہ بیع ہے فاسد لیکن اس میں دونوں عوضین مال نہیں بلکہ ایک عوض تو مال ہے دوسرا تو ذکر ہی نہیں وہ تو ہم نے پھر کیا اس میں فقہاء نے کیا فرمایا کیا آئے گی قیمت آئے گی بھئی۔
علاوہ اس کے انھہ قد يكون البيع فاسدا مع کبھی کبھار بیع فاسد ہوا کرتی ہے معانہ لا يكون كل من عوضين مالا با وجود اس کے کہ دونوں عوضین کیا ہیں مال نہیں ہوتے کما اذا باع و سکت عن الثمن جیسے کسی نے کوئی چیز بیچی اور کی سکت کیا سکوت اختیار کی فرع فاسد عندهما تو صاحب کے نزدیک بیع فاسد ہے حتى يملك بالقبض یہاں تک کہ وہ قبضے کے ذریعے کیا بن جائے گا؟ مالک بن جائے گا و یجب الثمن اور ثمن واجب ہوں گے بھئی ثمن کہاں سے ثمن تو وہ ہیں جب بائے اور مشتری کے درمیان طے ہوں یہاں تو کچھ ذکر ہی نہیں کہتے ہیں بھئی ای القيمة ثمن بول کر کیا مراد ہے؟ قیمت مراد ہے قیمت واجب ہو جائے گی۔
واللزمه مثله بھئی آپ کی کتابوں میں بھی مسلہ بعض نسخوں میں شاید ہو۔
یہ غلط ہے بھئی کتابت کی غلطی ہے لزمہ مثله بھئی یہ فاعل ہے لزمہ کا بھئی با غلط ہے۔
والزمہ اور لازم ہوگی ہ ضمیر راجع ہے مشتری کو بھئی۔
مشتری کو اور لازم ہوگی مشتری پر کیا چیز لازم ہوگی مثلہ ای مثل المبیع مبیع کا مثل لازم ہو جائے گا حقیقتا او معنا بھئی۔
بھئی یہ متن ہے متن بھئی۔
ولزمہ مثله حقیقتا او معنا لازم ہوگا مشتری پر مبیع کا مثل چاہے مثل حقیقی ہو او معنا یا مثل معنوی ہو۔
یاد رکھو دنیا میں یہ جو آپ جن چیزوں کے خرید و فروخت جو بھی کرتے ہیں یہ کل چار قسم پر ہیں بھئی یا مکیلات ہوں گی یا موضوعات ہوں گی یا مزروعات ہوں گی یا معدودات
ہوں گے۔
یا تو ان کو ماپ کر بیچا جاتا ہوگا
جیسے دودھ وغیرہ آپ خریدتے ہیں بھئی، وہ کیا کرتا ہے، ایک برتن میں ماپ کر دیتا ہے۔ بعض چیزیں ان کو وزن کر کے خریدا جاتا ہے، جیسے چینی وغیرہ ہے، بعض کو ماپا جاتا ہے جیسے کپڑا ہے یا زمین ہے، اور بعض کو گن کر بیچا جاتا ہے، جیسے انڈے ہیں یا آپ مالٹے وغیرہ خریدتے ہیں، وہ کیا ہیں، گن کر
تو یہ چار قسم پر ہوا۔
اب پھر ان میں سے، یاد رکھو، کچھ ان میں سے مثلیات کہلاتی ہیں، کچھ ذوات القيم۔
مثلیات وہ ہیں جن کا مثل ممکن ہوتا ہے، مثل مل جاتا ہے۔
انہیں مثلیات کہتے ہیں، اور جن کا مثل نہیں، ان کو ذوات القيم، قیمت والی کہتے ہیں۔ مثلیات کیا چیزیں ہیں؟ بھئی ساری مکیلات مثلیات ہیں۔
جو چیز ماپ کر بیچی جاتی ہے، وہ کیا ہیں؟ مثل ہے، کیونکہ ان کا مثل مل جاتا ہے، مثلاً دودھ ہے، اس کے دودھ کا مثل دودھ مل جائے گا۔ اسی طرح یا گندم ماپ کر بیچی جاتی ہے، تو اس کا مثل اور گندم مل جائے گی۔ موزونات وہ بھی مثلیات میں داخل ہیں، چینی ہے بھئی ایک، تو چینی کا مثل ہر جگہ آپ کو اس جیسی چینی مل جائے گی بھئی۔
اور
مزروعات بھئی
مزروعات پھر بعض وہ ہیں جو
جن کا مثل ہوگا، جو ذوا... مثلیات میں داخل ہوں گی، جن کا مثل نہیں، وہ کس میں داخل ہوں گی، ذوات القيم، قیمت والی میں۔ مثلاً قدیم زمانے میں کپڑا ہاتھ سے بنتا تھا، تو ہر ٹکڑا الگ رنگ کا، الگ قسم کا بھئی، کہیں ہاتھ
صحیح طرح چلا، کہیں ہاتھ نہیں چلا، تو وہ کپڑا اچھا نہیں بنا بھئی۔
تو وہ
کیا تھا؟
ذوات القيم میں، لیکن آج کل کپڑا بنتا ہے مشینوں پر بھئی، تو وہ ایک ہی جیسا سارا بنتا ہے۔ آپ کا ایک جگہ سے ایک فلاں کپڑا دے دو، دوسری 10 دکانیں چھوڑ کر آگے چلے گئے، وہاں سے بھی کہا فلاں کپڑا، وہ وہی کپڑا بعینہٖ آپ کو نکال کر دے، تو وہ جس کا مثل ممکن ہو بس وہ مثلیات میں، جس کا مثل ممکن نہیں وہ ذوا... اسی طرح معدودات، جو چیزیں گن کر بیچی جاتی ہیں
مثلاً اس میں بھی پھر دو قسم پر آ گئے، کچھ مثلیات ہیں، کچھ ذوات القيم میں۔ مثلیات مثلاً بھئی یہ انڈے وغیرہ آپ خریدتے ہیں، ان میں اگرچہ معمولی فرق تو ہوتا ہے، بعینہٖ ایک انڈا دوسرے انڈے کے مثل نہیں ہوگا، لیکن اتنا معمولی فرق ہوتا ہے کہ اسے عرف میں کچھ کچھ بھی فرق شمار ہی نہیں کیا جاتا۔ مالٹے خرید رہے ہیں بھئی، ہر مالٹے دوسرے سے کچھ نہ کچھ فرق تو ہوگا، لیکن عرف میں اسے فرق شمار نہیں کیا جاتا۔
تو معدودات یہ، اور کچھ معدودات ہیں ان کے اندر فرق شمار ہوتا ہے، جیسے بھیڑ بکریاں وغیرہ اور چیزیں آپ خرید رہے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جو بھی چیزیں آپ خرید رہے ہیں بس آسانی سے فیصلہ کر سکتے ہیں، یہ مثلیات میں سے ہے یا ذوا... نئی چیزیں خرید رہے ہیں، نئی گاڑی مولانا، نئی نئی گاڑی، یہ بھی ذوات الامثال میں سے ہو جائے گی، کیونکہ اس جیسی نئی گاڑیاں اور مل رہی ہیں یا نہیں؟ ہاں کچھ عرصہ استعمال کے بعد اب یہ ذوات القيم ہو گئی، کیونکہ اب بعینہٖ اسی جیسی، اسی طرح استعمال کی ہوئی گاڑی بہت مشکل ہے۔
موبائل مثلاً آپ خریدتے ہیں بھئی، ڈبے میں بند آ رہے ہیں، اب بعینہٖ اسی قسم کے آپ کو سینکڑوں مل جائیں گے، ہزاروں چاہتے ہیں ہزاروں مل جائیں گے، یہ ذوات الامثال میں سے، لیکن کچھ عرصہ جیسے ہی کھولا، تھوڑا استعمال کیا، اب پتہ نہیں بھئی کیسے استعمال کیا، استعمال کرنے والے نے اچھے طریقے سے کیا، تو بعینہٖ اس کا مثل کیا ہو جائے گا؟
مشکل ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
بات چل رہی ہے بیعِ فاسد کی بھئی، یہ شرعاً بیع ہے فاسد، تو اس کو لوٹانا ضروری ہے اس پر بھئی، واجب ہے۔
اب اگر یہ چیز اس کے پاس ہلاک ہو گئی
تو اب چیز تو ہلاک ہوئی، اسے لوٹا نہیں سکتا، تو پھر اس کا مثل دینا پڑے گا۔ تو اگر وہ چیز ذوات الامثال میں سے ہوئی، تو اس کا بعینہٖ مثلِ صوری دے دے گا۔
گندم خریدی تھی، گندم ہلاک ہو گئی ہے اس کے پاس، تو اس کا مثلِ صوری کیا ہے؟ گندم ہی ہے، اتنی گندم دے دے گا اسی قسم کی۔ اور اگر وہ ذوات القيم میں سے تھی، بھیڑ بکری تھی، تو اب اس کا مثل تو مل نہیں سکتا، تو اس کا پھر مثلِ معنوی دینا پڑے گا، اور وہ قیمت ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ قیمت بھی اسی چیز کے مثل ہے، لیکن صورتاً نہیں بلکہ معناً۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
وَلَزِمَهُ مِثْلُهُ حَقِيْقَةً أَوْ مَعْنًى
اور لازم ہوگا مشتری پر مبیع کا مثل بھئی، مثل حقیقتاً یا معناً۔
أَيْ إِنْ هَلَكَ فِي يَدِ الْمُشْتَرِي وَجَبَ عَلَيْهِ الْمِثْلُ حَقِيْقَةً فِي ذَوَاتِ الْأَمْثَالِ
یعنی اگر ہلاک ہو گئی وہ چیز مشتری کے قبضے میں، تو اس پر مثل واجب ہوگا حقیقی طور پر کس میں؟ ذوات الـ... یعنی مثلِ حقیقی یعنی مثلِ صوری آئے گا ذوات الامثال میں۔
وَالْمِثْلُ مَعْنًى
اور کیا آئے گا؟ مثلِ معنوی آئے گا
فِي ذَوَاتِ الْقِيَمِ
فی ذوات القيم، کس کے اندر؟ ذوات القيم میں۔
وَهُوَ الْقِيْمَةُ
درمیان میں وَهُوَ الْقِيْمَةُ کے ذریعے مثلِ معنوی بتلایا، وہ کیا ہے؟ قیمت ہے۔ مثلِ معنوی جو کہ قیمت ہے، وہ آئے گی فی ذوات القيم، قیمت والوں میں۔
وَلِكُلٍّ مِنْهُمَا فَسْخُهُ قَبْلَ الْقَبْضِ وَكَذَا بَعْدَهُ مَا دَامَ فِي مِلْكِ الْمُشْتَرِي
اب یہ بیع شرعاً چونکہ فاسد ہے، شریعت نے اس کی اجازت نہیں دی بھئی، لہٰذا اس کا فسخ کرنا واجب ہے دونوں پر بھئی، نہیں توڑتے گناہگار ہوں گے بھئی۔
لیکن اگر فسخ کرنا چاہیں تو کون فسخ کر سکتا ہے؟ بائع کر سکتا ہے یا مشتری؟ کہتے ہیں بھئی دونوں کر سکتے ہیں۔ کیا کر سکتے ہیں؟ بلکہ دو صورتیں آئیں گی بھئی، دوسری صورت بھی ابھی سمجھ لیجیے۔
کہتے ہیں کبھی کبھار خرابی اصلِ عقد، صلبِ عقد میں ہوتی ہے، کبھی خرابی شرطِ زائد کی وجہ سے ہوتی ہے، صلبِ عقد میں نہیں۔ مثلاً بھئی ایک درہم کو بیچا دو درہموں کے بدلے۔
اب اصلِ مبیع ہی کے اندر خرابی آ گئی، کیونکہ درہم جب ایک جنس اور قدر آ گئی، تو کیا کرنا چاہیے بھئی؟
برابر ہونا چاہیے، ایک درہم کے بدلے کتنے ہونے چاہئیں؟
ایک ہی درہم ہونا چاہیے تھا، تو یہاں اصلِ عقد، صلبِ عقد کے اندر ہی خرابی آ گئی۔ اور جب اصلِ عقد یا صلبِ عقد میں خرابی ہو، یعنی کسی عوضین میں سے کسی ایک میں خرابی ہو، تو اس صورت میں دونوں کو فسخ کرنے کا حق ہوتا ہے، بائع کو بھی اور مشتری کو۔
لیکن کبھی کبھار خرابی اصلِ عقد میں نہیں ہوتی، بلکہ کسی شرطِ زائد کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مثلاً آپ ایک چیز دوسرے کو بیچتے ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہیں 1000 میں بیچی، لیکن ایک شرط پر کہ مجھے 500 روپے قرضہ دو گے بھئی، 500 روپے قرضہ دو گے۔ اب اصلِ عقد کے اندر خرابی نہیں ہے بھئی، چیز کتنے میں بیچ رہے ہیں؟ 1000 کے بدلے۔ خرابی کس کی وجہ سے آ رہی ہے؟ ایک شرطِ زائد کی وجہ سے۔
کسی عوضین میں خرابی نہیں ہے، بلکہ کس کے اندر خرابی ہے؟ شرطِ زائد کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں اگر شرطِ زائد کی وجہ سے فساد آ رہا تھا، تو پھر فسخ کا حق صرف اس شخص کو ہوگا جس نے شرط لگائی تھی۔
مثلاً آپ بائع تھے یا مشتری تھے، جس آپ نے شرط لگائی ہے، اگر آپ بائع ہیں تو صرف بائع کو فسخ کا حق، اگر آپ مشتری ہیں، آپ نے شرط لگائی ہے تو پھر صرف آپ کو فسخ کا حق ہے، دوسرے کو فسخ کا حق نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آیا سب کو بھئی؟
وَلِكُلٍّ مِنْهُمَا فَسْخُهُ
ان دونوں میں سے ہر ایک کو اس فسخ کرنے کا حق ہے، ان کے لیے فسخ کرنا جائز ہے
قَبْلَ الْقَبْضِ
قبضے سے پہلے
وَكَذَا بَعْدَهُ
اور اسی طرح
قبضے کے بعد بھی
مَا دَامَ فِي مِلْكِ الْمُشْتَرِي
جب تک وہ مبیع کس کی ملک میں ہے؟ مشتری کی ملک میں ہے۔
ایک شخص نے دوسرے کو کوئی چیز بیچی
اور شرط لگائی مجھے کتنا، بیچنے والے نے کہ مجھے کتنا قرضہ دو گے؟ 500 قرضہ دو گے، تو بیع فاسد ہوئی مولانا۔
تو اب یا کسی اور وجہ سے بیع فاسد، ایک درہم کو کتنے کے بدلے بیچا؟ دو درہم کے۔
تو اس کو ختم کرنا ضروری اس بیع کو، لیکن اس وقت تک جب تک کہ مبیع مشتری کی ملک میں ہے، اگر مشتری اس کو آگے بیچ چکا ہے، تو اب مولانا فسخ نہیں کر سکتے بھئی۔
اس لیے کہ اب غیر کا حق اس سے وابستہ ہو چکا، اب کوئی اور اس کا مالک بن چکا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنیٰ ہے، قبضے کے بعد بھی فسخ دونوں کر سکتے ہیں
مَا دَامَ فِي مِلْكِ الْمُشْتَرِي
جب تک وہ مبیع کس کی ملک میں ہے؟ مشتری کی ملک میں ہے۔
إِنْ كَانَ
یہ دونوں کو فسخ کرنے کا حق کب ہے؟
إِنْ كَانَ الْفَسَادُ فِي صُلْبِ الْعَقْدِ
اگر فساد صلبِ عقد میں ہو بھئی۔
صلب پشت کو کہتے ہیں، پشتِ عقد یعنی اصلِ عقد میں ہو۔ کس کے اندر ہو؟ اصلِ عقد ہی کے اندر ہو
كَبَيْعِ دِرْهَمٍ بِدِرْهَمَيْنِ
جیسے ایک درہم کی بیع دو درہموں کے بدلے میں۔
أَرَادَ بِالْفَسَادِ فِي صُلْبِ الْعَقْدِ
ارادہ کیا ماتن نے
بالفساد فی صلب العقد کے ذریعے، یعنی صلبِ عقد میں فساد ہونے سے کس چیز کا ارادہ ہے؟ کہتے ہیں:
الْفَسَادَ الَّذِي يَكُوْنُ فِي أَحَدِ الْعِوَضَيْنِ
وہ فساد جو کس کے اندر ہو، دونوں عوضین میں سے کسی ایک میں ہو بھئی، دیکھا؟ درہم کے بدلے دو درہم آئے، تو کس کے اندر فساد آیا بھئی؟
جی، عوض کے اندر ہی فساد آ رہا ہے، ایک کے بدلے کتنا آنا چاہیے تھا؟ ایک ہی آنا چاہیے تھا، تو احد العوضین میں فساد آیا، تو اسے کہتے ہیں کہ صلبِ عقد میں کیا ہے؟ فساد ہے۔
وَلِمَنْ لَهُ الشَّرْطُ
اور اس شخص کے لیے بھئی
اس شخص کو فسخ کرنے کا حق ہے، جس کے لیے شرط ہے۔
کون سی، دوسری صورت میں نے کیا بتائی تھا کہ اگر کسی نے شرط لگائی ہے تو فسخ کا حق صرف اسے ہوگا جس نے
وَلِمَنْ لَهُ الشَّرْطُ
اور جس شخص نے شرط لگائی ہے، اس کے لیے فسخ کا حق ہے، اس کے لیے فسخ کرنا جائز ہے
إِنْ كَانَ بِشَرْطٍ زَائِدٍ
اگر فساد کس کی وجہ سے تھا؟ شرطِ...
كَبَيْعِ أَنْ يُّهْدِيَ لَهُ هَدِيَّةً
أهدیٰ یہدی کا معنیٰ ہدیہ دینا، تحفہ دینا، جیسے یہ شرط لگائی کہ بائع ہدیہ دے گا مشتری کو
کوئی ہدیہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو چاہے تو ضمیر، یا یوں کہیں: أن يهدي أحد المتعاقدين للآخر هديةً بھئی۔ أحد المتعاقدين چاہے وہ بائع ہو چاہے مشتری، دوسرے کو کیا دے گا؟ ہدیہ دے گا، تو جس نے شرط لگائی ہے اسے حقِ فسخ ہے۔
ذُكِرَ فِي الذَّخِيْرَةِ
ذخیرہ کتاب میں ذکر کیا گیا ہے
أَنَّ هَذَا قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً
کہ یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے، وہ فرماتے ہیں جس نے شرط لگائی، صرف اسی کو فسخ کا حق ہے۔
أَمَّا عِنْدَهُمَا
جبکہ شیخین کے نزدیک
فَلِكُلِّ وَاحِدٍ حَقُّ الْفَسْخِ
دونوں کو کیا ہے، حقِ فسخ ہے
لِأَنَّ الْفَسْخَ لِحَقِّ الشَّرْعِ لَا لِحَقِّ أَحَدِ الْمُتَبَايِعَيْنِ
اس لیے کہ یہاں جو فسخ کا حق مل رہا ہے، وہ حقِ شرع کی وجہ سے ہے، نہ کہ کسی ایک عقد کرنے والے کی وجہ سے۔
فَإِنَّهُمَا رَاضِيَانِ بِالْعَقْدِ
اس لیے کہ وہ دونوں تو عقد کے ذریعے راضی ہیں بھئی، شرط بھی چاہے لگائی، لیکن دونوں کیا ہیں اس پر؟ راضی، تو یہاں جو فسخ کا حق دے رہے ہیں، اس وجہ سے نہیں کہ دونوں راضی نہیں ہیں، راضی تو دونوں ہیں، بلکہ فسخ کس کی وجہ سے دیا جا رہا ہے؟ حقِ شرع کی وجہ سے، شریعت نے منع کیا ہے بھئی۔ تو لہٰذا دونوں کو حق ہوگا، جس نے شرط لگائی صرف اس کو حقِ فسخ نہیں، بلکہ دونوں کو ہوگا۔
فَإِنْ بَاعَهُ الْمُشْتَرِي
اگر بیچ دیا اس مبیع کو مشتری نے، جسے کس طرح اس نے خریدا تھا بھئی؟ بیعِ فاسد کے ذریعے،
أَوْ وَهَبَهُ
یا ہبہ کر دیا
وَسَلَّمَهُ
اور سپرد بھی کر دیا، ہبہ کے ساتھ سلمہ کی بھی قید بڑھائی بھئی، ہبہ بھی کرے اور سپرد، اس لیے کہ ہبہ کس کے ذریعے تام ہوتا ہے؟
جب تک حوالے نہیں کرتا، صرف کہہ دینے سے دوسرا مالک نہیں بنتا بھئی۔
تو مشتری نے اس چیز کو بیچ دیا یا ہبہ کر دیا اور سپرد بھی کر دیا
أَوْ أَعْتَقَهُ
یا غلام یا باندی تھی اس کو مشتری نے کیا کر دیا؟ آزاد کر دیا۔
صَحَّ
یہ بیچنا یا یہ ہبہ کرنا یا یہ آزاد کرنا کیا ہے؟ صحیح ہے، یہ اس کے تصرفات صحیح ہیں۔
اب واپس نہیں ہو سکتا،
وَعَلَيْهِ قِيْمَتُهُ
تو اس پر کیا واجب ہوگی؟ قیمت، بھئی قیمت کیوں دے گا، ثمن کیوں نہیں دے گا جو آپس میں طے ہوئے تھے؟
وجہ یہ کہ شرعاً ممانعت ہے اس بیع کی، کون سی بیع کی تھی انہوں نے؟ بیعِ فاسد کی تھی، تو شرعاً بیعِ فاسد ہے، ہوئی نہیں مولانا۔ جب ہوئی نہیں، تو اب ثمن
تو تب آتے جب بیع ہوئی ہوتی، لہٰذا کیا آئے گی؟ قیمت۔ مثلاً بھئی دیکھو، آپ کی ایک شخص کتاب اٹھا کر لے گیا، یا کوئی چیز بھئی، گھڑی اٹھا کر لے گیا، اور وہ گھڑی اس کے پاس ہلاک ہو گئی، تو اب آپ اس سے ثمن طلب کریں گے یا قیمت طلب کریں گے؟
ثمن کیوں نہیں طلب کرتے؟
ثمن طے ہی نہیں ہوئے، طے ہوتے تو ثمن کا مطالبہ کرتے، تو
یہاں بھی گویا بیع ہوئی نہیں، جب بیع ہوئی نہیں تو ثمن نہیں آئیں گے، بلکہ کیا آئیں گی؟ قیمت آئے گی۔
تو اس پر قیمت آ جائے گی،
وَسَقَطَ حَقُّ الْفَسْخِ
اور حقِ فسخ کیا ہوا؟ ساقط ہوا، کیونکہ اب غیر حق وابستہ ہو چکا۔
لِأَنَّهُ تَعَلَّقَ بِهِ حَقُّ الْعَبْدِ
اس لیے کہ مبیع کے ساتھ حق العبد متعلق ہو چکا ہے
وَإِنَّمَا يُفْسَخُ حَقًّا لِلّٰهِ تَعَالَى
اور اس کو فسخ کیا جاتا تھا، بیع کو فسخ کیا جاتا تھا حقاً لله تعالى، اللہ کا حق ہونے کی وجہ سے۔
اللہ کا حق ہونے کی وجہ سے بیع کو فسخ کیا جاتا تھا۔
تو یہاں پر دیکھیے حق العبد بھی آیا، اور حق اللہ بھی آیا بھئی، حق العبد کیا
بھئی مشتری نے کس طرح خریـ... ایک آدمی نے دوسرے سے بیعِ فاسد کے ذریعے کوئی چیز خریدی، اب حقِ شرع یہ ہے کہ بیع کو کیا کرو؟
فسخ کرو۔ لیکن جب اس نے آگے بیچ دی چیز، تو وہ اب غیر بندے کا حق بھی اس سے وابستہ ہوا، وہ اس کا مالک بن گیا۔
تو اب اگر ہم حقِ شرع کی طرف دیکھتے ہیں، تو اس بندے کا حق جاتا ہے بھئی۔ کس کا حق جاتا ہے؟ بندے کا، اور ضابطہ ہے فقہ کے اندر، جب حق اللہ اور حق العبد جمع ہو جائیں، یعنی ان میں تعارض آ جائے، تو پھر حق العبد کو ترجیح دی جائے گی بھئی۔ اس لیے کہ اللہ کی ذات جو ہے، وہ بے پرواہ ہے، بے نیاز ہے، اسے کسی چیز کی حاجت نہیں، جبکہ بندہ محتاج اور فقیر ہے، لہٰذا حق العبد کو یہاں کی کیا دی جائے گی؟ ترجیح دی جائے گی بھئی۔ لہٰذا اب ہم یہ کہیں گے کہ حقِ رجا... حقِ فسخ کیا ہوا؟ ساقط ہو گیا، کیونکہ بندے کا حق اس سے متعلق ہو چکا، اور وہ محتاج ہے۔
وَإِذَا اجْتَمَعَ
وہ ضابطہ یہ خود بھی ذکر کر رہے ہیں:
وَإِذَا اجْتَمَعَ حَقُّ اللهِ وَحَقُّ الْعَبْدِ يُرَجَّحُ حَقُّ الْعَبْدِ لِحَاجَتِهِ
اور جب جمع ہو جائیں اللہ کا حق اور بندے کا حق، تو ترجیح دی جائے گی بندے کے حق کو لحاجته، اس کی حاجت کی وجہ سے۔
وَلَا يَأْخُذُهُ الْبَائِعُ حَتَّى يَرُدَّ ثَمَنَهُ
بھئی بیع فسخ کر دی دونوں نے، بائع نے اور مشتری نے بیع فسخ کر دی، ان کو مسئلے کا پتہ چل گیا بھئی، یہ بیع تو فاسد ہے شرعاً، آپ نے بتلایا بھئی ان کو مسئلہ۔
اب انہوں نے بیع فسخ کر دی، تو اب کیا کریں بھئی، مبیع پہلے واپس کیا جائے گا یا ثمن پہلے واپس کیے جائیں گے، دونوں قبضہ کر چکے تھے بھئی؟
جی؟
کہتے ہیں بھئی، پہلے ثمن واپس کرے گا، پھر کیا لے لے گا؟ مبیع۔
وَلَا يَأْخُذُهُ الْبَائِعُ
اور بائع لے گا نہیں مبیع کو
حَتَّى يَرُدَّ ثَمَنَهُ
یہاں تک کہ وہ ثمن کیا کر دے؟ واپس کر دے۔
أَيِ الْبَائِعُ إِذَا فَسَخَ الْبَيْعَ الْفَاسِدَ لَا يَأْخُذُ الْمَبِيْعَ حَتَّى يَرُدَّ الثَّمَنَ
یعنی بائع نے جب فسخ کر دیا بیعِ فاسد کو، وہ مبیع نہیں لے گا یہاں تک کہ وہ ثمن واپس کر دے
لِأَنَّ الْمَبِيْعَ مَحْبُوْسٌ بِالثَّمَنِ
اس لیے کہ مبیع تو محبوس ہے ثمن کے بدلے میں۔
بند ہے کس کے بدلے میں؟ ثمن کے بدلے میں روکا گیا ہے۔
بَعْدَ الْفَسْخِ
کس کے بعد؟ فسخ کے بعد۔
فَإِنْ مَاتَ هُوَ فَالْمُشْتَرِي أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يَأْخُذَ ثَمَنَهُ
یہ مقام سمجھ لو ذرا مشکل ہے بھئی۔
بھئی بیع فسخ کر دی مشتری اور بائع نے بھئی۔
انہوں نے بیع کیا کر دی؟ مسئلے کا ان کو پتہ چل گیا۔
فسخ کر دی، اور فسخ کے بعد ابھی ثمن اور مبیع باہم واپس نہیں کیے تھے ایک دوسرے کو کہ بائع کا انتقال ہو گیا۔
تو اب
یاد رکھو، جب کوئی شخص مرتا ہے
تو اس کا جو مال باقی بچتا ہے
اس میں سب سے پہلے جو مال باقی بچا ہے، سب سے پہلے اس شخص کا کفن دفن کیا جاتا ہے۔
اچھا، تو سب سے پہلے کیا کریں گے بھئی؟
ہاں اس کا جو مال بچتا ہے، سب سے پہلے اس کے کفن دفن کا انتظام کریں گے۔
سب سے پہلے اس کا کفن دفن کرتے ہیں۔
اس کے بعد جو مال بچتا ہے
سمجھ میں آیا؟ کفن دفن معمولی مراد ہے، آپ گنبد شنبد نہ بنوانا شروع کر دیں۔
پیسہ بچا ہی کوئی نہیں ہے، چلو جی گنبد تعمیر ہو رہے ہیں اور
سب سے پہلے کفن دفن، کفن دفن کے بعد جو مال بچتا ہے
اس کے بعد وہ قرض خواہوں کو دیا جاتا ہے۔
جتنے لوگوں کا اس نے قرضہ دینا تھا، وہ قرضے والوں کو دیتے جائیں ان کے حصے کے بقدر بھئی۔
اگر ساروں کو ادائیگی
ادا ہو گئے، جو مال بچ گیا
اس کے بعد پھر کیا ہوگا؟
اس میں اس کی وصیت جاری ہوگی۔ مثلاً اس نے کہا تھا: "میرے مال میں سے ایک لاکھ روپیہ زید کو دے دینا بھئی"، سمجھ میں آیا؟
تو وہ اس کو، بشرطیکہ وصیت ثلث مال میں ہوتی ہے۔ ثلث سے زیادہ میں وصیت جاری... مثلاً اگر تین لاکھ بچے ہیں تو پھر ایک لاکھ ہم دے دیں گے یا تین لاکھ سے زیادہ بچے ہیں، تو ایک لاکھ ہم زید کو دے دیں گے۔ اگر تین لاکھ سے کم بچے ہیں، پھر نہیں بھئی۔ پھر کتنا دیں گے؟ تیسرا حصہ۔
کتنا دے دیں گے؟ اس نے تو لاکھ کہا تھا، لیکن لاکھ تو تیسرا حصہ نہیں بنتا۔ تیسرا حصہ تو 60 ہزار بن رہا ہے مثلاً، تو پھر کتنا دے دیں گے؟ صرف 60 ہزار۔ اور باقی جو ایک لاکھ 20 ہزار بچ جائے گا، وہ کس میں تقسیم ہوگا؟ وارثوں میں تقسیم ہوگا ان کے حصوں کے مطابق۔
صورت سمجھ میں آئی؟ تو لہٰذا جب کوئی شخص مرتا ہے، اس کے مال میں سب سے پہلے کیا کیا جاتا ہے؟ کفن دفن۔ اس کے بعد جو باقی مال بچ جائے، وہ کیا جائے گا؟ جتنے قرض خواہ ہیں، اس کے قرضے اس شخص کے ادا کیے جائیں گے، ان کو دیا جائے گا۔ اگر ان کو ادائیگی کے بعد بچ جائے، تو پھر کیا کیا جائے گا؟ اس شخص کی وصیت اس میں نافذ کی جائے گی اگر اس نے کوئی کی ہے۔ اور پھر جو مال بچ جائے، وہ کیا ہوگا؟ اس کے وارثوں میں تقسیم ہوگا۔
تو معلوم ہوا، کفن دفن کے بعد جو مال بچ گیا، اس میں سارے قرض خواہ برابر کے حصہ دار ہیں۔
کیا ہیں؟
بھئی، اس کا جتنا مال ہے، ان پر اب قرض خواہوں کا حق آ گیا۔ پہلے ان کا قرضہ ادا کرنا پڑے گا۔ تو اگر اس کے پاس روپے اتنے تھے، روپے سے قرض ادا ہو گیا تو ٹھیک، نہیں تو اس کی باقی جائیداد کی طرف رجوع کریں گے: مکان، گاڑی، جو کچھ بیچ کر جس طرح بھی ہو، قرضہ پہلے پورا کیا جائے گا۔ اور اس میں ہر چیز کے اندر سارے قرض خواہ برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں۔ مثلاً گاڑی بیچنی پڑ رہی ہے قرض کی ادائیگی میں، تو جتنے قرض دار ہیں، ان کو ان کے قرض کے بقدر کیا کر دیا جائے گا؟
مال... مثلاً بھئی، بقر کے اس نے ایک لاکھ دینے ہیں، خالد کے دو لاکھ دینے ہیں...
تو اب گاڑی بیچی مثلاً ڈیڑھ لاکھ کی، تو کس طرح تقسیم کریں گے بھئی؟
بقر کا...
بھئی، بقر کا ایک لاکھ دینا ہے اور خالد کے کتنے دینے ہیں؟ دو لاکھ۔ معلوم ہوا، خالد کا حصہ دگنا رکھنا پڑے گا بقر سے۔ تو گاڑی کتنے میں بکی ہے؟ ڈیڑھ لاکھ۔ تو 50 ہزار کس کو دے دیں گے؟ بقر کو، اور ایک لاکھ کس کو دے دیں گے؟ خالد کو۔ ابھی پیسے پورے ہو گئے قرضے کے؟ نہیں۔ اب دوسری چیز کی طرف ہم جائیں گے۔ تو ہر ہر چیز میں کیا ہوتے جائیں گے وہ قرض خواہ؟ برابر کے شریک، بیچ کر ان کے حصے کے بقدر بھئی۔
تو اب یہ بائع جب مر گیا
تو اس کے پاس اس کا جو مبیع ہے... بیع تو یہ فسخ کر چکے ہیں۔ مبیع جو کس کے پاس باقی ہے ابھی؟ مشتری کے پاس۔ اس کا مالک تو کون ہے بھئی؟
ہے تو مشتری کے پاس، لیکن مالک کون تھا اس کا؟
بائع تھا، بیع فسخ ہو چکی ہے بھئی۔
تو بائع تھا۔ تو کیا اب اس مبیع کے اندر بھی سارے قرض خواہ برابر کے حصہ دار ہوں گے یا مشتری زیادہ حق دار ہے؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی، اس مبیع کے اندر سارے قرض خواہ برابر کے حصہ دار... مشتری اس کا زیادہ حق دار ہے۔ لہٰذا مبیع کو بیچ کر پہلے کس کا حصہ ادا کیا جائے گا؟ مشتری نے جو ثمن ادا کیے تھے، وہ ثمن کیا کیے جائیں گے مشتری کو...
واپس کیے جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اگر اور مال پڑا تھا، پھر تو لے ہی لیں گے یا وہ دے ہی دیں گے اس کو۔ لیکن اگر یہ بیچنے کی نوبت آتی ہے، تو اس میں پہلا حق کس کا ہے؟ مشتری کا ہے۔ باقی قرض خواہ اس میں برابر کے حصہ دار نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھیے، یہی بات کر رہے ہیں:
فَإِنْ مَاتَ هُوَ، اگر بائع مر گیا، فَالْمُشْتَرِي أَحَقُّ بِهِ، مشتری زیادہ حق دار ہے اس مبیع کا، حَتَّى يَأْخُذَ ثَمَنَهُ، یہاں تک کہ وہ اپنا ثمن وصول کر لے۔ ہاں، اگر اس کے ورثہ کیا کرتے ہیں؟ باقی بچوں سے اس کے ثمن ادا کر دیتے ہیں بھئی: "لاؤ بھئی، مبیع دے دو اور نقد رقم ہم سے جتنے ثمن آپ کے بنتے تھے، وہ لے لو"۔
تو اب اس کے اندر پھر باقی سارے کیا ہو جائیں گے قرض خواہ؟ برابر کے حصہ دار۔
أَيْ بَاعَ شَيْئًا بَبَيْعٍ فَاسِدٍ، بیچی کسی نے کوئی چیز بیع فاسد کے ساتھ، وَوَقَعَ التَّقَابُضُ، اور تقابض بھی واقع ہوا، یعنی دونوں جانب سے قبضہ ہوا۔ مشتری نے مبیع پر قبضہ کیا اور بائع نے ثمن پر۔ ثُمَّ فَسَخَا الْبَيْعَ، پھر کیا کیا؟ بیع کو فسخ کر دیا۔ ثُمَّ مَاتَ الْبَائِعُ، پھر بائع مر گیا۔ فَلِلْمُشْتَرِي حَقُّ حَبْسِ الْمَبِيعِ، تو مشتری کو مبیع کو روکنے کا حق حاصل ہوگا، حَتَّى يَأْخُذَ الثَّمَنَ، یہاں تک کہ وہ کیا کر لے؟ ثمن لے لے بھئی، وصول کر لے۔ وَلَا يَكُونُ أُسْوَةً لِغُرَمَاءِ الْبَائِعِ، اور وہ یکساں نہیں ہوگا بائع کے قرض خواہوں کے لیے۔ اسوہ کا معنی: یکساں، برابر ہونا۔
وہ مبیع برابر نہیں ہوگا لِغُرَمَاءِ الْبَائِعِ، بائع کے قرض خواہوں کے لیے۔
چلیے جی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
چلیے، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔