Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-095

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 20 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 14
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَلَا بَعْدَ هَلَاكِ بَعْضِهِ إِلَّا أَنْ يَرْضَى الْبَائِعُ بِتَرْكِ حِصَّةِ الْهَالِكِ. ببھائی مسئلہ یہ چل رہا تھا گزشتہ سبق میں کہ اجل کے اندر بھی تحالف نہیں ہوگا، خیار شرط نے بھی تحالف نہیں ہوگا اور بیعِ مبیع پر جب قبضہ ہو ان چیزوں میں اگر اختلاف ہو جائے تو حلف نہیں ہوگا اور قسم کس کو دی جائے گی؟ منکر کو۔ اور اسی طرح اگر مبیع ہلاک ہو جائے تو اس صورت میں بھی تحالف نہیں ہے اور قسم کس کو دی جائے گی؟ مشتری کو قسم دی جائے گی۔ تو تحالف نہیں ہے، اسی طرح ولا بعد ہلاک بعضہ۔ ماقبل میں تو تھا بھئی اگر سارا مبیع ہلاک ہو جائے تو تحالف نہیں۔ اسی طرح اگر بعض مبیع ہلاک ہو جائے تو اس صورت میں بھی تحالف نہیں بھئی۔ مثلاً بھئی مبیع دو غلام تھے، دو غلام ایک اقا سے کسی نے خریدے تو ان میں سے اگر ایک ہلاک ہو جائے تو بعض مبیع ہلاک ہوا مولانا تو کیا اب تحالف ہوگا یا تحالف نہیں ہے جبکہ ثمن کے اندر اختلاف آ گیا؟ کہتے ہیں اب بھی تحالف جیسے کل مبیع ہلاک ہونے پر تحالف نہیں تھا، بعض مبیع ہلاک ہونے پر بھی تحالف نہیں ہے۔ ولا بعد ہلاک بعضہ اور اسی طرح تحالف نہیں ہے بعض مبیع کے ہلاک ہونے کے بعد بھی۔ إِلَّا أَنْ يَرْضَى الْبَائِعُ مگر یہ کہ راضی ہو جائے بائع بِتَرْكِ حِصَّةِ الْهَالِكِ ہلاک ہونے والے کے حصے کو ترک کرنے پر۔ بائع کس بات پر راضی ہو جائے؟ ہلاک ہونے والے کے حصے کو ترک کرنے پر، چھوڑ دینے پر راضی ہو جائے، چھوڑ دینے پر۔ تو دیکھیے یہاں الا آیا مولانا اور الا کس لیے آتا ہے؟ استثنا کے لیے آتا ہے۔ تو یہ کس چیز سے استثنا ہے؟ فقہاء کے مشائخ کے دو قول ہیں مولانا، دو قول ہیں۔ بعض فرماتے ہیں یہ استثنا ہے تحالف سے۔ کس سے استثنا ہے؟ کہ ان کے بعد، کہ ان صورتوں میں تحالف نہیں، مثلاً بعض مبیع ہلاک ہو جائے تو اس صورت میں تحالف نہیں۔ مگر یہ کہ بائع راضی ہو جائے ہلاک ہونے والے کے حصے کو چھوڑنے پر بھئی، تو اس صورت میں تحالف ہوگا۔ صورت آگے میں تفصیل سے بتلاتا ہوں، پہلے استثنا سمجھ لو بھئی۔ استثنا بعض فرماتے ہیں کس سے ہے؟ تحالف سے ہے۔ بتلایا بعض مبیع اگر ہلاک ہو جائے تو تحالف نہیں۔ مگر یہ کہ بائع راضی ہو جائے ہلاک ہونے والی شے میں اپنا حصہ چھوڑنے پر تو معلوم ہوا یہ استثنا تحالف سے ہے۔ تو تحالف نہیں ہے اگر بعد میں مبیع ہلاک ہو جائے، لیکن اگر بائع کیا کر دیتا ہے؟ ہلاک ہونے والے کے بقدر اپنا حصہ چھوڑ دیتا ہے تو پھر کیا کیا جائے گا؟ ما بقیہ کے اندر تحالف ہوگا۔ کیا ہوگا؟ یہ ہے بعض مشائخ۔ کہتے ہیں یہ استثنا تحالف سے ہے۔ بعض کہتے ہیں نہیں یہ استثنا تحالف سے نہیں ہے، ماقبل صفحے کے آخر میں آیا تھا بھئی و حلف المشتر، ہلاکِ مبیع کے بعد کیا کی جائے گی؟ کیا کیا جائے گا؟ مشتری کو قسم دی جائے گی تو یہاں پر بھی یہ یمینِ مشتری سے استثنا ہے۔ کہ اگر بائع ہلاک ہونے والی شے میں اپنا حصہ چھوڑنے پر راضی ہو جائے تو پھر مشتری کی قسم بھی نہیں ہے، اس کی بھی ضرورت نہیں۔ پیچھے کیا ذکر تھا کہ کیا کیا جائے گا؟ مشتری کو قسم دی جائے گی۔ مگر اگر بائع اپنا حصہ چھوڑنے پر راضی ہو جائے تو پھر مشتری پر قسم نہیں ہے تو استثنا کتنے، پہلا قول کیا ہے کہ یہ استثنا کس چیز سے ہے؟ تحالف سے، دوسرا قول کیا ہے کہ یہ استثنا کس سے ہے؟ یمینِ مشتری سے۔ دیکھیے اب تفصیل آ رہی ہے بھئی۔ دیکھیے پہلے مسئلہ سمجھ لیں بھئی۔ پہلا قول کیا ہے کہ یہ استثنا ہے تحالف سے۔ ماقبل میں گزرا تھا بھئی اگر مبیع ہلاک ہو جائے سارا کا سارا تو اس صورت میں تحالف نہیں ہے اور مشتری کو کیا دی جائے گی؟ قسم۔ اور اسی طرح اگر بعض مبیع ہلاک ہو جائے تو پھر بھی تحالف نہیں، لیکن اگر بائع راضی ہو جائے ہلاک ہونے والے میں اپنا حصہ چھوڑنے پر تو اس صورت میں کیا کیا جائے گا؟ ما بقیہ کے اندر تحالف۔ صورت یہ، ایک آدمی نے دوسرے سے دو غلام خریدے بھئی۔ دو غلام خریدے۔ اچھا، ابھی ثمن حوالے نہیں کیے بھئی دوسرے نے لیکن اس نے دونوں غلام حوالے کر دیے، اس کے پاس ایک غلام ہلاک ہو گیا۔ اب ایک غلام زندہ ہے، ایک غلام ہلاک تو بعض مبیع ہلاک ہو چکا تو اس صورت میں تحالف نہیں کیونکہ اب بیع کو فسخ کرنا ممکن نہ رہا کیونکہ بیع کے فسخ کے لیے کیا چاہیے؟ جی؟ فسخِ بیع کے لیے بیع چاہیے اور قیامِ بیع کس کے ساتھ ہوتا ہے؟ مبیع کے ساتھ اور مبیع جب کچھ ہلاک ہو جائے یا سارا ہلاک ہو جائے تو اب وہ پورا مبیع قائم نہیں تو لہٰذا واپس بھی نہیں ہو سکتا تو فسخ بھی نہیں ہو سکتی۔ فسخ نہیں ہو سکتی۔ لیکن بائع اگر یوں کہے بھئی اپنا جو غلام مر گیا اس کو چھوڑ دیتا ہے۔ کیا کر دیتا ہے؟ چھوڑ دیتا ہے۔ تو یوں سمجھیں گویا کہ غلام کتنے تھے؟ دو۔ مثلاً ایک ایک کے ثمن کتنے تھے؟ دونوں کے کتنے تھے؟ ایک لاکھ تو ایک کا کتنا بن گیا فرض کرو؟ پچاس ہزار، دوسرے کا بھی کتنا؟ پچاس ہزار۔ تو اب ایک ہلاک ہو چکا بھئی تو گویا بائع یہ اگر اس بات پر راضی ہو جائے کہ گویا غلام تھا ایک، وہ ہلاک شدہ کے حصے کو کیا کر دے؟ جی؟ چھوڑ دے تو غلام غلام تھے ہی کتنے بھئی؟ دو، ان میں سے ایک تو ہلاک ہو گیا اور ہلاک کو بائع کیا کر دیتا ہے؟ اس کے چھوڑنے پر راضی، گویا غلام تھا ہی کتنا؟ ایک ہی غلام تھا بھئی، ایک ہی غلام اور اس پر عقد واقع ہوا تھا، سمجھ میں آیا؟ اور جب اس ایک غلام پر عقد واقع ہوا تھا تو اب کیا کیا جا رہا ہے؟ استثنا کس سے تھا؟ تحالف سے، غلام کتنے تھے؟ دو تھے، ایک کیا ہو چکا؟ ہلاک ہو چکا، تو بائع راضی ہو جائے اس ہلاک والے کے حصے کو چھوڑنے پر، کیا فرض کر لیا جائے؟ غلام تھا ہی کتنا؟ ایک تھا، گویا عقد ہی کتنے پر ہوا تھا؟ ایک غلام پر عقد ہوا تھا، لہٰذا اب اس صورت کے اندر بھئی تحالف ہوگا، کیا ہوگا؟ تحالف ہوگا اور عقد کو فسخ کر دیا جائے گا۔ اب اگر بائع اس سے ثمن لے چکا ہے تو وہ کیا کر دے گا؟ ایک غلام اپنا واپس لے لے گا اور سارے ثمن کیا کر دے گا؟ واپس کر دے گا۔ یعنی ہلاک شدہ کے پیسے نہیں کاٹتا وہ، اگر ہلاک شدہ کے پیسے کاٹنا چاہتا ہے تو اس صورت میں تحالف نہیں، لیکن اگر ہلاک شدہ کے پیسے چھوڑ دیتا ہے تو اس صورت میں کیا کیا جائے گا؟ تحالف ہوگا اور عقد کو کیا کر دیا جائے گا؟ فسخ کر دیا جائے گا بھئی۔ अच्छा, یہ معنی ہے إِلَّا أَنْ يَرْضَى الْبَائِعُ بِتَرْكِ حِصَّةِ الْهَالِكِ مگر یہ کہ راضی ہو جائے بائع بھئی ہلاک ہونے والے کے حصے کو چھوڑنے پر وَلَا يَأْخُذُ مِنْ ثَمَنِ الْهَالِكِ شَيْئًا یعنی بائع کچھ بھی نہیں لیتا ہلاک ہونے والے کے ثمن میں سے بھئی، اصلاً بالکل ہی وَيَجْعَلُ الْهَالِكَ كَأَنْ لَمْ يَكُنْ اور ہلاک والے کو یوں ہی بنا دیتا ہے گویا کہ وہ تھا ہی نہیں فَقَأَنَّ الْعَقْدَ لَمْ يَكُنْ إِلَّا عَلَى الْقَائِمِ پس گویا کہ عقد جو ہے وہ ہوا ہی نہیں تھا مگر یہ جو ایک قائم غلام ہے، جو ایک زندہ ہے، اسی پر عقد ہوا تھا، اسی کے اس نے ایک لاکھ سارے وصول کیے تھے، اب جب بھئی تحالف ہو گیا بھئی، تحالف کے بعد کیا کیا جائے گا؟ عقد کو فسخ، اور عقد کو فرض کر لیا گیا کہ اسی ایک پر ہوا تھا تو یہ ایک غلام اس کو واپس کر دیں گے اور سارے ثمن اس کو تو دیکھو بائع نے اپنے ہلاک ہونے والے غلام کے حصے کو چھوڑ دیا ہے اس صورت میں تحالف ہو گیا بھئی۔ فَيَتَحَالَفَانِ تو اس صورت میں تحالف ہوگا بھئی۔ دونوں قسم اٹھائیں گے۔ ہَاذَا تَخْرِيجُ بَعْضِ الْمَشَايِخِ یہ تخریج ہے بعض مشائخ سے۔ وَيَنْصَرِفُ الِاسْتِثْنَاءُ عِنْدَهُمْ إِلَى التَّحَالُفِ اور استثنا پھر جاتا ہے ان کے نزدیک بھئی، کس کی طرف پھرتا ہے؟ بھئی، پھر استثنا پھر رہا ہے ان کے نزدیک تحالف کی طرف۔ فَقَالُوا وہ فرماتے ہیں اَنَّ الْمُرَادَ بِقَوْلِهِ کہ امام محمد رحمہ اللہ کی مراد اپنے اس قول کے اندر جامع صغیر کے اندر بھئی، امام محمد رحمہ اللہ نے جامع صغیر کے اندر یہ قول ذکر کیا ہے بھئی۔ دیکھیے آگے عبارت آ رہی ہے: يَأْخُذُ الْحَيَّ وَلَا شَيْئَ لَهُ کیا عبارت آ رہی ہے؟ يَأْخُذُ الْحَيَّ وَلَا شَيْئَ لَهُ یہ وہی صورت ہے بھئی، جو ایک زندہ ہے بائع اس کو کیا کر لے گا؟ يَأْخُذُ الْحَيَّ اسے ایک زندہ کو بائع ابھی یہی صورت ہم نے بنائی تھی نا، بائع ایک زندہ کو لے لیتا ہے وَلَا شَيْئَ لَهُ اور اس کے لیے کوئی چیز نہیں، کیا معنی کوئی چیز نہیں؟ اَيْ لَا يَأْخُذُ مِنْ ثَمَنِ الْهَالِكِ شَيْئًا أَصْلًا اس ہلاک ہونے والے میں سے کوئی چیز اس کے عوض میں نہیں کاٹتا، نہیں لیتا بھئی۔ تو یہ صورت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہی مراد ہے، امام محمد رحمہ اللہ نے یہ ذکر فرمایا ہے جامع صغیر کے اندر مسئلہ اور وہاں انہوں نے یہ عبارت ذکر کی يَأْخُذُ الْحَيَّ وَلَا شَيْئَ لَهُ يَأْخُذُ الْحَيَّ وَلَا شَيْئَ لَهُ کہ زندہ کو لے لے گا اور اور اس کے لیے مزید کوئی چیز نہیں ہوگی۔ تو اس سے فقہاء کرام نے بعض نے یہ جو متن میں عبارت آئی یہ نکالی بھئی۔ کیا نکالی؟ متن والی عبارت بھئی۔ اور پھر اس میں استثنا بنا دیا، اور استثنا پھر بعضوں نے کس سے کر دیا؟ تحالف سے، اور بعضوں نے کس سے کر دیا؟ یمینِ مشتری سے بھئی۔ فَقَالُوا جی تو فرماتے ہیں علماء کرام کے یہ بعض مشائخ جو ہیں جنہوں نے استثنا کو کس کی طرف لٹایا؟ تحالف کی طرف لٹایا وہ فرماتے ہیں أَنَّ الْمُرَادَ بِقَوْلِهِ کہ مراد ہے امام محمد رحمہ اللہ کے قول سے فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ جو انہوں نے ذکر کیا جامع صغیر کے اندر کون سا قول ذکر کیا؟ یہ قول يَأْخُذُ الْحَيَّ کہ بائع جو ہے لے لے گا زندہ غلام کو وَلَا شَيْئَ لَهُ اور اس کے لیے اور کوئی چیز نہیں ہے، جی یہ معنی ہے اس کا اَيْ لَا يَأْخُذُ لَا شَيْئَ لَهُ کا کیا معنی کیا ہے؟ اَيْ لَا يَأْخُذُ مِنْ ثَمَنِ الْهَالِكِ شَيْئًا أَصْلًا بھئی کہ ہلاک ہونے والے کے ثمن میں سے کچھ بھی نہیں لیتا بھئی۔ یہ بعض مشائخ کی تخریج ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ عبارت حل ہوئی کہ نہیں ہوئی بھئی؟ وَقَالَ بَعْضُ الْمَشَايِخِ اور بعض مشائخ فرماتے ہیں: يَأْخُذُ مِنْ ثَمَنِ الْهَالِكِ بِقَدْرِ مَا أَقَرَّ بِهِ الْمُشْتَرِي وَلَا يَأْخُذُ الزِّيَادَةَ فَالِاسْتِثْنَاءُ يَنْصَرِفُ إِلَى يَمِينِ الْمُشْتَرِي. بھئی دیکھو مشتری نے کتنی چیزیں لی تھیں؟ مشتری نے بھئی مبیع کیا چیز تھی؟ جس پر قبضہ کیا، دو غلام تھے۔ شروع میں کتنے تھے؟ دو غلام تھے مبیع اور کتنے ثمن تھے اس کے؟ ایک لاکھ روپیہ بھئی دونوں غلاموں کے۔ اب ایک ایک غلام مشتری کے پاس ہلاک ہو گیا، اب مشتری کے پاس جب ہلاک ہوا تو مشتری کہتا ہے بھئی کہ وہ جو ہلاک ہوا غلام اس کی قیمت کتنی تھی؟ چالیس ہزار اور یہ جو زندہ ہے اس کی قیمت کتنی ہے؟ ساٹھ ہزار۔ بائع کہتا ہے نہیں! دونوں کے پچاس پچاس ہزار تھے بھئی، دونوں کے کتنے تھے؟ پچاس پچاس ہزار تھے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اس صورت میں اگر بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ یمین یہ استثنا کس سے ہے؟ دوسرا قول کیا ذکر کیا تھا؟ یمینِ مشتری سے بھئی۔ یعنی مشتری کا قول معتبر ہے، اس سے قسم لی جائے گی۔ لِكَيْنِ أَنَّ بَايِعَ رَاضٍ حَلاَقِ هَلَاكَ هَوْلِ حَلَّاقِ هِصَّهِ الْكُلِّ شَرْعِ هِصَّهِ الْحِصَّةِ الْخَرِيبَةِ، اَیْلَايَأْخُذُ مِنْ ثَمَنِ الْهَالِكِ شَيْئًا، یعنی بائع کچھ بھی نہیں لیتا ہلاک ہونے والے کے ثمن میں سے بھئی، أصلاً بالکل ہی، وَيَجْعَلُ الْهَلَاكَ كَأَنْ لَمْ يَكُنْ اور ہلاک والے کو یوں ہی بنا دیتا ہے گویا کہ وہ تھا ہی نہیں، فَقَأَنَّ الْعَقْدَ لَمْ يَكُنْ إِلَّا عَلَى الْقَائِمِ پس گویا کہ عقد جو ہے وہ ہوا ہی نہیں تھا مگر یہ جو ایک قائم غلام ہے یہ جو ایک زندہ ہے، اسی پر عقد ہوا تھا، اسی کے اس نے ایک لاکھ سارے وصول کیے تھے، اب جب بھئی تحالف ہو گیا بھئی، تحالف کے بعد کیا کیا جائے گا؟ عقد کو فسخ اور عقد کو فرض کر لیا گیا کہ اسی ایک پر ہوا تھا تو یہ ایک غلام اس کو واپس کر دیں گے اور سارے ثمن اس کو تو دیکھو بائع نے اپنے ہلاک ہونے والے غلام کے حصے کو چھوڑ دیا ہے اس صورت میں تحالف ہو گیا بھئی۔ فَيَتَحَالَفَانِ تو اس صورت میں تحالف ہوگا بھئی، دونوں قسم اٹھائیں گے۔ اَھَاذَا تَخْرِيجُ بَعْضِ الْمَشَايِخِ یہ تخریج ہے بعض مشائخ سے وَيَنْصَرِفُ الِاسْتِثْنَاءُ عِنْدَهُمْ إِلَى التَّحَالِفِ اور استثنا پھر جاتا ہے ان کے نزدیک بھئی کس کی طرف پھرتا ہے؟ بھئی! پھر استثنا پھر رہا ہے ان کے نزدیک تحالف کی طرف فَقَالُوا وہ فرماتے ہیں أَنَّ الْمُرَدَ بِقَوْلِهِ کہ امام محمد رحمہ اللہ کی مراد اپنے اس قول کے ساتھ جامع صغیر کے اندر بھئی امام محمد رحمہ اللہ نے جامع صغیر کے اندر یہ قول ذکر کیا ہے بھئی۔ دیکھیے آگے عبارت آ رہی ہے: يَأْخُذُ الْحَيَّ وَلَا شَيْئَ لَهُ کیا عبارت آ رہی ہے؟ يَأْخُذُ الْحَيَّ وَلَا شَيْئَ لَهُ یہ وہی صورت ہے بھئی جو ایک زندہ ہے بائع اس کو کیا کر لے گا؟ يَأْخُذُ الْحَيَّ اسے ایک زندہ کو بائع ابھی یہی صورت ہم نے بنائی تھی نا، بائع ایک زندہ کو لے لیتا ہے وَلَا شَيْئَ لَهُ اور اس کے لیے کوئی چیز نہیں، کیا معنی کوئی چیز نہیں؟ أَيْ لَا يَأْخُذُ مِنْ ثَمَنِ الْهَالِكِ شَيْئًا أَصْلًا اس ہلاک ہونے والے میں سے کوئی چیز اس کے عوض میں نہیں کاٹتا، نہیں لیتا بھئی۔ تو یہ صورت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہی مراد ہے، امام محمد رحمہ اللہ نے یہ ذکر فرمایا ہے جامع صغیر کے اندر مسئلہ اور وہاں انہوں نے یہ عبارت ذکر کی يَأْخُذُ الْحَيَّ وَلَا شَيْئَ لَهُ يَأْخُذُ الْحَيَّ وَلَا شَيْئَ لَهُ کہ زندہ کو لے لے گا اور اور اس کے لیے مزید کوئی چیز نہیں ہوگی۔ وَلَا فِي بَدَلِ الْكِتَابَةِ وَلَا فِي رَأْسِ الْمَالِ بَعْدَ إِقَالَتِهِ وَصُدِّقَ الْمُسْلَمُ إِلَيْهِ إِنْ حَلَفَ وَلَا يَعُودُ السَّلَمُ. ولا اور اسی طرح تحالف نہیں ہے فی بدل الكتابة کس کے اندر؟ بدلے کتابت میں بھئی۔ اقا نے کہا بھئی بدلے کتابت ایک لاکھ طے ہوا تھا، غلام کہتا ہے بھئی نہیں بھئی کتنا طے ہوا تھا؟ پچاس ہزار طے ہوا تھا تو اس صورت میں بھی تحالف نہیں۔ یہ معنی وَلَا فِي رَأْسِ الْمَالِ بَعْدَ إِقَالَتِهِ اسی طرح بیع سلم آپ جانتے ہیں بھئی جس کے اندر ایک شخص جاتا ہے دوسرے کو مثلاً پیسے دے دیتا ہے ثمن اور مبیع اس کو کب ملے گی مثلاً چھ ماہ کے بعد ملے گی بھئی، تو مبیع اس کے ذمہ دین ہے بھئی۔ अच्छा! اب بھئی ایک آدمی نے دوسرے کو مثلاً پچاس ہزار روپے دے دیے اور وہ چھ ماہ کے بعد اس کو ایک ٹن گندم دے گا بھئی۔ ایک ٹن مثلاً گندم دے گا بھئی۔ अच्छा! بعد میں ان دونوں نے اقالہ کر لیا بھئی۔ مشتری چلا گیا بھئی۔ جی! سمجھ میں آیا؟ تو مسلم الیہ کے ساتھ اس نے کو اقالہ کر لیا اور اب مسلم الیہ کیا کرتا ہے؟ جو اس نے پیسے لیے تھے بھئی کتنے لیے تھے؟ کتنے پیسے وصول کیے تھے گندم کے؟ پچاس ہزار وہ مسلم الیہ اس کو پچاس ہزار واپس کرتا ہے جی تو دوسرا کہتا ہے نہیں بھئی! پچاس ہزار نہیں دیے تھے میں نے، میں نے تو ساٹھ ہزار آپ کو دیے تھے بھئی۔ اختلاف آ گیا بھئی راس المال کے اندر بھئی۔ اور کب اختلاف آیا؟ اقالے کے بعد۔ کس کے بعد؟ اقالہ کر چکے ہیں مولانا ایک دفعہ۔ تو کہتے ہیں اب تحالف نہیں۔ اب تحالف نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اقالہ ہو چکا ہے، اگر اب تحالف ہوگا تو تحالف سے یہ اقالہ فسخ کرنا پڑے گا۔ کیا کرنا پڑے گا؟ اقالہ فسخ ہوگا اور پھر وہ بیع سلم واپس آجائے گی، حالانکہ بیع سلم جب ایک دفعہ ختم ہو گئی دوبارہ واپس نہیں آ سکتی۔ بیع سلم ایک دفعہ ختم ہو گئی تو دوبارہ واپس نہیں۔ کیوں اس لیے کہ اقالہ سلم کس چیز کا نام ہے؟ سلم میں دوسرے کے ذمے دین رہتا ہے، عقد سلم میں کیا ہوتا ہے؟ دوسرے کے ذمے دین اور جب اقالہ کر دیا تو اس دین کو ساقط کر دیا۔ اقالہ کر دیا تو کیا کر دیا اس دین کو؟ ساقط۔ بھئی اس نے گندم دینی تھی چھ مہینے کے بعد ایک ٹن بھئی، لیکن جب اقالہ کر لیا وہ دین ایک ٹن گندم اس سے کیا ہو گئی؟ ساقط اور جو چیز ایک دفعہ ساقط ہو جائے وہ دوبارہ واپس نہیں تو یہاں پر اگر ہم تحالف کر دیں تو پھر اس صورت میں کیا خرابی آئے گی؟ اقالہ ختم کرنا پڑے گا اور اقالہ سلم تو درست نہیں بھئی کیونکہ پھر سلم واپس آتی ہے جو درست نہیں ہو سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ وَلَا فِي رَأْسِ الْمَالِ اور اسی طرح تحالف نہیں ہے راس المال کے اندر بھی جب اختلاف آ جائے بعد إِقَالَتِهِ بعد جبکہ اس کے اقالہ کر لیا وَصُدِّقَ الْمُسْلَمُ إِلَيْهِ اور اس صورت میں تصدیق کس کی کی جائے گی؟ مسلم الیہ کی یعنی دوسرے پر بینہ ہے اور مسلم الیہ پر قسم ہے۔ إِنْ حَلَفَ اگر وہ قسم اٹھا لے وَلَا يَعُودُ السَّلَمُ اور بیع سلم واپس نہیں آئے گی۔ أَيْ أَقَالَ عَقْدَ السَّلَمِ إِقَالَةً کر لیا دونوں نے بھئی عقد سلم کے اندر فواقع الاختلاف فی راس المال پھر اختلاف واقع ہو ہو راس المال کے اندر فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمُسْلَمِ إِلَيْهِ تو قول مسلم الیہ کا معتبر ہے وَلَا تحالف تحالف نہیں یہاں پر لِأَنَّهُ إنْ تَحَالَفَا تنفسخ الإقالة ويعود السَّلَمُ اس لیے کہ اگر تحالف ہو جائے تو اقالہ فسخ ہو جائے گا اور سلم لوٹ آئے گی وَذَا لَايَجُوزُ اور یہ تو جائز نہیں ہے لِأَنَّ إِقَالَةَ السَّلَمِ إِسْقَاطُ الدَّيْنِ اس لیے کہ اقالہ سلم جو ہے وہ دین کا ساقط کرنا ہے سلم میں تو کیا ہوتا ہے دوسرے کے ذمے دین تو جب اقالہ سلم کیا تو وہ دین کیا کر دیا دوسرے نے ساقط کر دیا بھئی وَالسَّاقِطُ لَا يَعُودُ اور جو چیز ایک دفعہ ساقط ہو جائے وہ دوبارہ نہیں آ سکتی وَلَوْ اختلفا في قدر الثمن بعد إقالة البيع تحالف وَعَادَ البیع لیکن بیع کے مسئلے میں اقالہ فسخ ہو سکتا ہے مولانا۔ كيف باي؟ دو آدمیوں نے عقد کیا بھئی، ایک کتاب دوسرے سے خریدی سو روپے کے اندر بھئی، بعد میں دونوں نے اقالہ کر لیا، اقالہ کرنے کے بعد بھئی اب بائع جو تھا اس نے کیا کیا؟ سو روپیہ واپس چاہا ہے کتاب کے عوض دو سو پچاس روپے دے رہا ہے واپس بھئی، مشتری کہتا ہے نہیں بھئی! پچاس نہیں میں نے تو تمہیں کتنے دیے تھے؟ سو وہ کہتا ہے نہیں بھئی! تم نے مجھے پچاس ہی دیے تھے اختلاف آ گیا تو کہتے ہیں اس صورت کے اندر بھئی دونوں کو قسم دی جائے گی اور اقالہ کو کیا کر دیا جائے گا؟ فسخ اور پھر وہی بیع دوبارہ لوٹ آئے گی۔ یہ معنی وَلَا اختلفا في قدر الثمن بعد إقَالَةِ الْبَعْ تَحَالَفَا وَعَادَ البیع لیکن بیع کے مسئلے میں اقالہ فسخ ہو سکتا ہے مولانا، کیسے بھئی؟ دو آدمیوں نے عقد کیا بھئی، ایک کتاب دوسرے سے خریدی سو روپے کے اندر بھئی، بعد میں دونوں نے اقالہ کر لیا، اقالہ کرنے کے بعد بھئی، اب بائع جو تھا اس نے کیا کیا؟ سو روپیہ واپس چاہا ہے کتاب کے عوض دو سو پچاس روپے دے رہا ہے واپس بھئی، مشتری کہتا ہے نہیں بھئی! پچاس نہیں میں نے تو تمہیں کتنے دیے تھے؟ سو وہ کہتے ہیں نہیں بھئی! تم نے مجھے پچاس ہی دیے تھے اختلاف آ گیا تو کہتے ہیں اس صورت کے اندر بھئی دونوں کو قسم دی جائے گی اور اقالہ کو کیا کر دیا جائے گا؟ فسخ اور پھر وہی بیع دوبارہ لوٹ آئے گی۔ يَّ مَعْنَى وَلَا اختلفا في قدر الثمن وَإِنْ اختلفا في قدر الثمن بعد إقالة البيع تحالف وَعَادَ البیع فإنهما إذا تحالف ينفسخ الإقالة ويعود البيع وذا غير ممتنعين اور یہ ممتنع نہیں ہے بھئی کیونکہ کیونکہ اقالہ بھی بائع کے نزدیک کس کے حکم میں ہے؟ بیع ہی کے حکم میں اختلاف باجی اس کو فسخ بناتے ہیں تو بعض کیا کرتے ہیں؟ بیع بھئی تو ایک بیع کے بعد دوسری بیع ہوئی تو ایک بیع ختم ہوئی تو پچھلی کیا ہو گئی اسی طرح اپنے حال پر۔ وَلَوْ اختلفا في بدل الاجارة اور اگر اختلاف آیا مولانا بدل اجارہ کے اندر أو المنفعة يا منفعة کے اندر قبل قبضهما تحالف ان دونوں پر قبضے سے پہلے بھئی تحالف دونوں قسم اٹھائیں گے وَتَرادًّا بھئی اور واپس کیا جائے گا۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، ابھی تک تو بیع کے مسئلے چل رہے تھے، اب اسی پہ اجارہ بھی آ گیا بھئی۔ اجارہ بھی آ گیا تو اجارہ کو بھی قیاس کرتے ہیں بیع پر۔ بیع کے اندر آپ نے کیا پڑھا تھا بھئی؟ کہ اگر قبل القبض ثمن کی مقدار میں کیا آ جائے؟ اختلاف آ جائے بھئی تو اس صورت میں کیا کیا جائے گا؟ قبل القبض تحالف ہوگا اور یہ تحالف تحالف کیا ہے؟ موافقِ قیاس جب اجارہ کے موافق ہے تو اس پر اور چیزوں کو بھی کیا کیا جا سکتا ہے؟ قیاس، تو اجارہ کو بھی ہم اسی بیع پر کیا کر لیتے ہیں؟ قیاس کر لیتے ہیں، تو یہاں پر اجارہ کے اندر ایک ہے مستاجر، ایک ہے موجر بھئی۔ مستاجر وہ ہے جو کرائے پر چیز لینے والا ہے، موجر وہ ہے جو چیز کرایہ پر دینے والا ہے، اب ایک شخص نے دوسرے کو مکان دیا کرایہ پر بھئی اور عقد ہوا ان میں عقد اجارہ بھئی، اب اختلاف آ گیا بھئی۔ موجر کیا کہتا ہے کہ مکان میں نے ایک ماہ کرائے پر دیا ہے اور کتنا کرایہ طے ہوا؟ ایک ہزار روپیہ بھئی۔ اور مستاجر کہتا ہے بھئی مکان آپ نے ایک ماہ کرائے پر دیا تھا لیکن کرایہ کتنا طے ہوا ہے؟ جی؟ پانچ سو طے ہوا قبل قبضهما بھئی ابھی اس نے سکونت اس میں اٹھی نہیں بھئی اور اس نے ابھی اس سے سمن وہ جو عوض ہے وصول نہیں کیا بھئی تو یہاں بھی اسی طرح بلکہ تین صورتیں بنا لو بھئی۔ بیع کے اندر کیا تھا؟ اختلاف کس کے اندر آئے گا؟ کبھی صرف ثمن میں اختلاف آئے گا، کبھی مبیع میں آئے گا صرف اور کبھی دونوں کے اندر اختلاف آئے گا، تو یہاں پر بھی بھئی ایک طرف سے ہے اجرت بھئی، کرایہ جو دے رہا ہے اور دوسری طرف سے کیا لے رہا ہے؟ نفع بھئی مکان اس کو بیچ رہا ہے یا مکان کا نفع دے رہا ہے؟ مکان کا نفع عوض میں دے رہا ہے، تو ایک طرف سے ہے اجرت، ایک طرف سے ہے منفعات، تو کبھی اختلاف صرف اجرت میں ہوگا، کبھی اختلاف منفعات میں ہوگا، کبھی اختلاف دونوں میں۔ اجرت میں اختلاف جیسے ابھی مثال ذکر ہوئی، ایک کیا کہتا ہے بھئی ایک مہینے کا کرایہ کتنا طے ہوا تھا؟ ایک ہزار، دوسرا کہتا ہے نہیں کتنا طے ہوا تھا؟ پانچ سو یا منفعات میں اختلاف آتا ہے، ایک کہتا ہے بھئی سو ایک ہزار اجرت تھی ایک ماہ کی رہائش کی بھئی، اور دوسرا کیا کہتا ہے نہیں ایک ہزار اجرت تھی دو ماہ کی رہائش، تو اب صرف بھئی منفعات میں اختلاف آیا، تیسرا یہ کہ دونوں کے اندر اختلاف آ جائے بھئی۔ ایک کہتا ہے کہ ایک ہزار میں دو ماہ کے رہائش کی بات ہوئی تھی بھئی، دوسرا کہتا ہے نہیں دو ہزار میں ایک ماہ کی رہائش کی بات ہوئی تھی۔ تو وہی صورتیں بھئی، تو جیسے وہاں پر، وہاں پر بھئی بیع کے باب میں کیا مسئلہ پڑھا تھا؟ کہ اگر اس طرح کا اختلاف آ جائے تو جس نے بینہ پیش کر دی، اس کی بینہ قبول کر دی جائے گی اور اگر دونوں نے کیا پیش کر دی؟ بینہ پیش کی تو مثبتِ زیادہ والے کی بینہ کیا ہوگی؟ قبول کی جائے گی۔ وَلَوْ اختلفا في بدل الاجارة اگر دونوں نے اختلاف کیا بدلے اجارہ کے اندر أو المنفعة یا منفعے کے اندر قبل قبضهما قبل ان دونوں کے اس پر قبضہ کرنے کے کہ ایک نے بدل نہیں لیا اور دوسرے نے ابھی منفعت نہیں لی تحالفات تو دونوں کیا کریں گے؟ قسم اٹھائیں گے وَتَرادًّا بھئی رد کیا جائے گا دونوں چیزوں کو۔ صورتِ مسئلہ یہ بھئی۔ ابھی تک تو بیع کے مسئلے چل رہے تھے، اب اسی پہ اجارہ بھی آ گیا بھئی۔ اجارہ بھی آ گیا تو اجارہ کو بھی قیاس کرتے ہیں بیع پر۔ بیع کے اندر آپ نے کیا پڑھا تھا بھئی؟ کہ اگر قبل القبض ثمن کی مقدار میں کیا آ جائے؟ اختلاف آ جائے بھئی، تو اس صورت میں کیا کیا جائے گا؟ قبل القبض تحالف ہوگا اور یہ تحالف تحالف کیا ہے؟ موافقِ قیاس جب قیاس کے موافق ہے تو اس پر اور چیزوں کو بھی کیا کیا جا سکتا ہے؟ قیاس تو اجارہ کو بھی ہم اسی بیع پر کیا کر لیتے ہیں؟ قیاس کر لیتے ہیں، تو یہاں پر اجارہ کے اندر ایک ہے مستاجر ایک ہے موجر بھئی۔ مستاجر وہ ہے جو کرائے پر چیز لینے والا ہے، موجر وہ ہے جو چیز کرایہ پر دینے والا ہے، اب ایک شخص نے دوسرے کو مکان دیا کرایہ پر بھئی اور عقد ہوا ان میں عقدِ اجارہ بھئی، اب اختلاف آ گیا بھئی۔ موجر کیا کہتا ہے کہ مکان میں نے ایک ماہ کرائے پر دیا ہے اور کتنا کرایہ طے ہوا؟ ایک ہزار روپیہ بھئی۔ اور مستاجر کہتا ہے بھئی مکان آپ نے ایک ماہ کرائے پر دیا تھا لیکن کرایہ کتنا طے ہوا ہے؟ جی؟ پانچ سو طے ہوا قبل قبضهما بھئی، ابھی اس نے سکونت اس میں اٹھی نہیں بھئی اور اس نے ابھی اس سے سمن وہ جو عوض ہے وصول نہیں کیا بھئی تو یہاں بھی اسی طرح بلکہ تین صورتیں بنا لو بھئی۔ بیع کے اندر کیا تھا؟ اختلاف کس کے اندر آئے گا؟ کبھی صرف ثمن میں اختلاف آئے گا، کبھی مبیع میں آئے گا صرف اور کبھی دونوں کے اندر اختلاف آئے گا، تو یہاں پر بھی بھئی ایک طرف سے ہے اجرت بھئی، کرایہ جو دے رہا ہے اور دوسری طرف سے کیا لے رہا ہے؟ نفع بھئی۔ مکان اس کو بیچ رہا ہے یا مکان کا نفع دے رہا ہے؟ مکان کا نفع عوض میں دے رہا ہے، تو ایک طرف سے ہے اجرت، ایک طرف سے ہے منفعات، تو کبھی اختلاف صرف اجرت میں ہوگا، کبھی اختلاف منفعات میں ہوگا، کبھی اختلاف دونوں میں۔ اجرت میں اختلاف جیسے ابھی مثال ذکر ہوئی، ایک کیا کہتا ہے بھئی ایک مہینے کا کرایہ کتنا طے ہوا تھا؟ ایک ہزار، دوسرا کہتا ہے نہیں کتنا طے ہوا تھا؟ پانچ سو یا منفعات میں اختلاف آتا ہے، ایک کہتا ہے بھئی سو ایک ہزار اجرت تھی ایک ماہ کی رہائش کی بھئی، اور دوسرا کیا کہتا ہے نہیں ایک ہزار اجرت تھی دو ماہ کی رہائش، تو اب صرف بھئی منفعات میں اختلاف آیا، تیسرا یہ کہ دونوں کے اندر اختلاف آ جائے بھئی۔ ایک کہتا ہے کہ ایک ہزار میں دو ماہ کے رہائش کی بات ہوئی تھی بھئی، دوسرا کہتا ہے نہیں دو ہزار میں ایک ماہ کی رہائش کی بات ہوئی تھی۔ تو وہی صورتیں بھئی، تو جیسے وہاں پر، وہاں پر بھئی بیع کے باب میں کیا مسئلہ پڑھا تھا؟ کہ اگر اس طرح کا اختلاف آ جائے تو جس نے بینہ پیش کر دی، اس کی بینہ قبول کر دی جائے گی اور اگر دونوں نے کیا پیش کر دی؟ بینہ پیش کی تو مثبتِ زیادہ والے کی بینہ کیا ہوگی؟ قبول کی جائے گی۔ وَلَوْ اختلفا في بدل الإجارة اور اگر دونوں نے اختلاف کیا بدلِ اجارہ کے اندر أو المنفَعَةِ یا منفعت کے اندر قبل قبضهما قبل اس کے کہ وہ دونوں اس پر قبضہ کر لیں، تحالف تو دونوں قسم اٹھائیں گے وَتَرَادَّا بھئی اور واپس کیا جائے گا۔ فَأَيُّنَّكَلا فَجَسْ كِسِیْنِ بِيْنَ اِنْكَارِ كَرْدِيْ اِنْ دَوْنُوْمِ سَیَّسْبُتُوْ قَوْلُ صَاحِبِهِ وَايُّنْ بَرْهَنَا اَوْ جِسْنِیْ بِيْبَنَا پِيشْ كَرْدِيْ قُبِلَا تو جس کسی نے بھی انکار کر دیا ان دونوں میں سے یَثْبُتْ قَوْلُ صَاحِبِهِ تو اس کے ساتھی کا قول ثابت ہو جائے گا وَأَيُّنْ بَرْهَنَا اور جس نے بھی بینہ پیش کر دی قُبِلَا تو کیا کی جائے گی؟ قبول کی جائے گی وَإِنْ بَرْهَنَا اور اگر دونوں نے بینہ قائم کی فَحُجَّةُ الْمُوجِرِ أَوْلَى تو کرائے پر دینے والے کی بینہ اولیٰ ہے۔ إِنْ اختلفا في الاجارة اگر اختلاف کس میں ہے دونوں کا؟ اجرت میں۔ وَحُجَّةُ الْمُسْتَاجِرِ اور مستاجر کرائے پر لینے والے کی بینہ اولیٰ ہے ان اختلفا في المنفعة اگر اختلاف کس کے اندر ہے؟ منفعت میں ہے۔ لِأَنَّ حُجَّةَ الْمُوجِرِ تُثْبِتُ زِيَادَةَ الْأَجْرِ اس لیے کہ موجر جو ہے اس کی بینہ وہ ثابت کرتی ہے زیادتِ اجر کو۔ جی! تو یہاں اس کی بینہ معتبر وَحُجَّةُ الْمُسْتَاجِرِ تُثْبِتُ زِيَادَةَ الْمَنْفَعَةِ اور مستاجر کی بینہ جو ہے وہ زیادتِ منفعت کو ثابت کرتی ہے تو منفعت کے اندر اس کی بینہ معتبر وَالْحُجَجُ لِلْإِثْبَاتِ اور بینہ کس لیے ہوا کرتی ہیں بھئی؟ اثبات کے لیے۔ اقسام نفی کے لیے بھئی۔ وَحُجَّةُ كُلٍّ فِي فَضْلٍ يَدَّعِيْهِ أَوْلَى اور ہر ایک کی بینہ فی فضل اس زیادتی کے اندر یَدَّعِیهِ جس کا وہ کیا کر رہا ہے؟ دعویٰ کر رہا ہے وہ اولیٰ ہے اِنْ اختلفا فيهما جب وہ اختلاف کریں ان دونوں چیزوں کے اندر۔ بھئی اگر دونوں چیزوں میں اختلاف آ گیا، کس کے اندر؟ اجرت میں بھی اختلاف آیا اور منفعت میں بھی اختلاف آیا۔ تو کہتے ہیں پھر مستبتِ زیادت کی بینہ کیا ہے؟ تو مستِ زیادت کون ہے بھئی؟ زیادتی کا اسبات کون کر رہا ہے؟ اجرت کو کون زیادہ ثابت کر رہا ہے؟ موجر کرایہ پر دینے والا وہ زیادہ اجرت ثابت کر رہا ہے تو اجرت کے معاملے میں اس کی بینہ قبول کر لی جائے گی اور منفعت کے معاملے میں مستاجر کی بینہ قبول کر لی جائے گی۔ تومثالً بھئی! کیا جھگڑا کیا تھا؟ مستاجر کیا کہتا تھا؟ کتنے میں عقد ہوا ہے؟ پانچ سو میں ہوا ہے اور کتنے ماہ کے رہائش ہے؟ دو ماہ کے رہائش۔ اور موجر کیا کہتا ہے عقد کتنے میں ہوا؟ ایک ہزار میں اور کتنے کی رہائش؟ ایک ماہ کی بھئی۔ تو اب اس صورت میں بھئی موج کی بینہ بھی قبول، اجرت کے اندر اور مستاجر کی بینہ بھی قبول کس کے اندر؟ منفعت کے اندر تو لہٰذا دونوں زائد چیزیں ثابت ہو جائیں گی تو ہزار میں کتنے مہینے کے رہائش ثابت ہو جائے گی؟ دو ہزار اجرت ثابت ہو جائے گی اور دو ماہ کی رہائش بھئی۔ یہ معنی وَحُجَّةُ كُلٍّ فِي فَضْلٍ يَدَّعِيْهِ أَوْلَى اور ہر ایک کی بینہ في فضلِ اس زیادتی کے اندر یَدَّعِیهِ جس کا وہ کیا کر رہا ہے؟ دعویٰ کر رہا ہے وہ اولیٰ ہے اِنْ اختلفا فيهما جب وہ اختلاف کریں ان دونوں کے اندر۔ كَمَا إِذَا قَالَ الْمُوجِرُ آجَرْتُ إِلَى سَنَةٍ بِمِائَتَيْنِ جیسے کہ موجر کہتا ہے آجرتو میں نے کرائے پر دیا ہے یہ گھر ایک سال کے لیے بھئی دو سو کے بدلے وَقَالَ الْمُسْتَاجِرُ لَا بَلْ آجَرْتَ إِلَى سَنَتَيْنِ بِمِائَةٍ بلکہ تو نے اجرت پر دیا ہے إِلى سَنَتَيْنِ دو سال تک بِمِائَةٍ کتنے کے عوض؟ سو اس نے دو سو ذکر کیا اس نے سو بھئی تو دونوں چیزوں میں اختلاف وَأَقَامَا اور دونوں نے قائم کر دیا البَيِّنَةَ بینہ بھئی یثبُت في سنتين بمائتين تو اجارہ ثابت ہو جائے گا مولانا دو سو کے دو سالوں میں بمائتين کتنے کے عوض؟ دو سو کے عوض۔ چلیے مولانا هذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام
106 approved lectures · 95 of 106