باب البیع الفاسد. باطل بيع ما ليس بمال كالددم والميتة والحر والبيع به، وكذا بيع أم الولد والمدبر والمكاتب وبيع مال غير متقوم كخمر والخنزير بالثمن.
آپ پڑھ چکے ہیں ایک بیع باطل ہے ایک بیع فاسد ہے۔ بیع باطل وہ ہے جو اصلاً ہی صحیح نہ ہو، جو اصلاً ہی صحیح نہ ہو۔
اور بیع فاسد وہ ہے جو اصلاً تو صحیح ہو لیکن وصفاً صحیح نہ ہو.
تو بیع باطل جو ہے اصل کے اعتبار سے ہی صحیح نہیں ہوتی (یعنی ذات کے اعتبار سے وہ بیع صحیح نہیں، بیع منعقد ہی نہیں ہوئی، ایجاب اور قبول ہوا ہی نہیں مولانا اس طرح، کیونکہ مبیع مال نہیں).
مبیع مال نہیں. مثلاً کسی نے آزاد آدمی کو غلام کہہ کر فروخت کر دیا بھئی تو یہ بیع منعقد ہی نہیں ہوئی، یہ بیع باطل ہے ذات کے اعتبار سے ہی صحیح نہیں، اس لیے کہ مبیع مال ہی نہیں اور بیع تو کہتے ہی کسے تھے؟ مبادلت المال بالمال بھئی.
تو لہذا بیع باطل ملکیت کا فائدہ نہیں دیتی، تصرف کا حق ہی مشتری کو حاصل نہیں ہوتا، اس لیے کہ بیع منعقد ہی نہیں ہوئی، اصلاً ہی نہیں صحیح.
اور بیع فاسد وہ ہے جو ذات کے اعتبار سے، اصل کے اعتبار سے تو صحیح ہے (یعنی بیع منعقد تو ہو چکی ہے لیکن وصفاً صحیح نہیں)، شریعت نے کیا کیا ہے اس سے منع کیا ہے، منع کیا.
اور بیع تو بیع فاسد ملکیت کا فائدہ دیتی ہے، جبکہ مبیع پر مشتری قبضہ کر لے بھئی، مبیع پر کیا کر لے مشتری؟ قبضہ کر لے.
تو یہ فرق ہوا بیع باطل جو ہے اس میں ملکیت آئے گی نہیں، تصرف کا حق حاصل ہی نہیں ہوگا، جبکہ بیع فاسد میں جب قبضہ کر لیا جائے تو کس چیز کا فائدہ دے گی؟ ملکیت کا فائدہ دے گی.
لیکن اس بیع فاسد کو ختم کرنا ضروری ہے بھئی، کیونکہ شریعت نے اس سے منع کیا ہے بھئی، جائز نہیں ہے تو اس کو ختم کرنا واجب ہے، ضروری ہے کہ مبیع اور ثمن واپس کیے جائیں، اس بیع کو ختم کیا جائے.
اور بیع فاسد میں نے کیا بتلایا ذات کے اعتبار سے تو صحیح، لیکن وصف کے اعتبار سے صحیح نہیں، معلوم ہو منعقد ہو جاتی ہے.
अच्छा. और याद रखो بیع فاسد کے اندر ثمن نہیں آتے قیمت آتی ہے، اگر مشتری نے مبیع پر قبضہ کر لیا تو ملکیت حاصل ہو گئی، لیکن اس کے مقابلے میں اب ثمن نہیں آئیں گے بلکہ کیا آئے گی؟ قیمت آئے گی.
مثلاً میں نے آپ کو ایک سائیکل بیچی بھئی، اور شرط یہ لگائی کہ ایک مہینے بعد میں آپ کو دوں گا یہ سائیکل بھئی، شرط لگا دی، بھئی یہ تو مقتضی عقد کے خلاف شرط میں نے لگائی، تو بیع یہ فاسد ہوئی کیونکہ بیع تو تقاضا کرتی ہے کہ مبیع فوراً کس کے حوالے کیا جائے؟ مشتری کے حوالے کیا جائے.
تو یہ بیع فاسد ہو گئی. البتہ اگر آپ نے اس سائیکل پر قبضہ کر لیا تو اب آپ کو ملک حاصل ہو گئی، اور آپ میں اور میرے درمیان سائیکل کے ثمن کتنے متعین ہوئے تھے؟ 100 روپیہ، لیکن مارکیٹ میں اس کی قیمت تاجروں کے نزدیک اس کی قیمت جو ہے وہ صرف 75 روپیہ ہے.
تو بیع فاسد کو ختم کرنا ضروری اور ملکیت کا یہ فائدہ دے گی، لیکن اس کے اندر ثمن پھر نہیں آئیں گے جو آپ اور میرے درمیان طے ہوئے تھے وہ نہیں آئیں گے بلکہ کیا آئے گی؟ قیمت آئے گی.
کیوں؟ ثمن کیوں نہیں آئیں گے؟ قیمت کیوں آئے گی؟ وجہ یہ ہے کہ شریعت نے اس کی اجازت نہیں دی تو گویا شرعاً یہ بیع ہوئی ہی نہیں، شرعاً یہ بیع ہوئی ہی نہیں اور جب شرعاً بیع ہوئی ہی نہیں تو جب عقد ہوا ہی نہیں گویا، اور جب عقد ہوا ہی نہیں تو گویا ثمن طے ہی نہیں ہوئے، اور جب ثمن ابھی طے ہی نہیں ہوئے تھے تو پھر کیا آیا کرتی ہے چیز کی؟ قیمت آتی ہے.
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ قیمت آتی ہے.
مثلاً آپ ایک میری چیز اٹھا کر لے گئے، قبضہ کر لیا بھئی، اور وہ چیز آپ کے پاس ہلاک ہو گئی، تو آپ پر کیا آئے گی؟ ثمن کیوں نہیں آئیں گے؟ کوئی عقد ہی نہیں ہوا، کوئی چیز طے ہی نہیں ہوئی، تو ثمن تو تب آتے ہیں جب بیع صحیح ہو جائے، عقد ہو جائے، اور تو یہ بھی اسی طرح ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر بھی شرعاً جب ثمن بیع ہی نہیں ہوئی، منع تھی تو لہذا اب قیمت آیا کرتی ہے اس میں.
देखिये भाई, اب باب البیع الفاسد تو اس بات کے اندر بھئی بیع باطل کو بھی بیان کر کرتے ہیں اور بیع فاسد کو بھی بیان کرتے ہیں، حالانکہ دونوں میں فرق ہے، میں نے آپ کو سمجھا دیا بھئی.
تو یہاں پر فاسد وہ اصطلاحی معنی نہیں مراد بھئی جو کیا ہو؟ جو ذات کے اعتبار سے صحیح ہے اور وصف کے اعتبار سے صحیح نہیں، وہ نہیں مراد، فاسد لغوی معنی میں ہے یہاں پر جس میں فساد ہو، خرابی ہو، چاہے وصفاً خرابی ہو چاہے اصلاً خرابی ہو بھئی.
سمجھ میں آئے؟ تو بیع فاسد تو ہر بیع باطل تو فاسد ہے لیکن ہر فاسد باطل نہیں، اس لیے فاسد نام رکھو.
تو باب البیع الفاسد یہ باب ہے بیع فاسد کے بیان میں جس میں فساد آئے بھئی۔ باطل بيع ما ليس بمال بھئی یہ ضابطہ ہے بھئی، بیع اس چیز کی جو مال ہی نہ ہو اس کی بیع باطل ہے بھئی، اس لیے کہ بیع تو کہتے ہی کسے تھے مبادلت المال بالمال.
باطل بيع ما ليس بمال باطل ہے بیع اس چیز کی لیس بمال جو مال نہ ہو، كالددم والميتة والحر جیسے خون ہے بھئی، خون بھئی والميتة اور مردار ہے، اور حر اور آزاد آدمی ہے بھئی.
سمجھ میں آئے تو ایسی دم، میتہ اور حر کا بیچنا باطل ہے، ان کا بیچنا ان کی بیع باطل.
اب ان کو چاہے مبیع بنا کر بھیج بیچیں یا ثمن بنا کر ان کا عقد کریں دونوں صورتوں میں چاہے ثمن بنائیں چاہے ان کو اور ایک اور ضابطہ یاد رکھنا آگے استعمال پہلے بھی ہوا، آپ کی توجہ نہ ہو شاید میں نے ذکر کیا ہو کہ، سمن باج جو ہے وہ سمن پر داخل ہوتی ہے بھئی.
سمجھ میں آیا بھئی، با کس پر داخل ہوتی ہے؟ سمن پر، سمن پر داخل ہوتی ہے.
مثلاً میں نے کہا بعط غلاما با ألف درہم کیا کہیں گے آپ بھئی؟ مبیع کون ہے بھئی؟ غلام، اور سمن کیا ہے؟ ألف درہم، وہ کیسے آپ کو پتہ چلا؟ با داخل ہوئی، چلو یہاں تو درہم و دنا نیرج ہے، ویسے بھی پتہ چل جانا تھا، درہم و دنا نیر تو سمن بنایا کرتے ہیں بھئی.
مثلاً میں نے کہتا ہوں بعط غلاما ب100 بقرة بھئی، 100 گائے کے بدلے میں نے بیچ دیا بھئی۔
اب دونوں میں مبیع بننے کی صلاحیت ہے، اب آپ کو کیسے پتہ چلے گا کون سا مبیع ہے، کون سا سمن بھئی؟ جس پر با داخل ہوئی ہے عبارت کے اندر، صورت سمجھ میں آئی؟
اس لیے کہ با وسیلے پر داخل ہوتی ہے، وسیلے پر اور ذریعے پر.
اور سمن بھی ذریعہ ہوتے ہیں، ان کے ذریعے کس کو حاصل کیا جاتا ہے؟ مبیع کو.
میں جاتا ہوں بھئی ہزار روپے کے بدلے کوئی چیز خریدتا ہوں، تو یہ ہزار روپے یہ وسیلہ ہیں، ذریعہ ہیں اس چیز کو حاصل کرنے کا.
سمجھ میں آئے تو سمن ذریعہ ہوتے ہیں اور وہ مبیع کیا ہوا کرتا ہے؟ مقصود ہوا کرتا ہے، اور تو با کس پر داخل ہوتی ہے بھئی؟ وسیلے پر اور وہ سمن ہے.
تو کہتے ہیں باطل ہے بیع ما ليس بمال ایسی چیز کی بیع جو مال نہ ہو، كالددم والميتة والحر جیسے خون ہے، مردار ہے اور آزاد ہے بھئی.
والبيع به والبيع به اور ان کے بدلے میں بھی بیع صحیح نہیں، کیا معنی؟ یعنی ان کو چاہے مبیع بنایا جائے، چاہے ان کو سمن بنایا جائے بھئی، والبيع بہ کے ذریعے بتلا دیے کہ سمن بنا کر بھی ان کی بیع درست نہیں بھئی.
والبيع بہ اور ان کے بدلے میں بھی بیع صحیح نہیں یعنی سمن بنا کر. وكذا بيع أم الولد والمدبر والمكاتب اور اسی طرح بیع جو ہے کس کی؟ ام ولد کی، اور مدبر کی، اور مکاتب کی بھئی، ان کی بیع بھی صحیح نہیں کیوں؟ باطل ہے بھئی. ان کی بیع بھی باطل ہے، ام ولد بھئی کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھو، اگر آقا کا اپنی باندی سے آقا کی اولاد پیدا ہو تو یہ کیا بن جائے گی؟ نہیں بھئی، نہیں، یہ نہیں ہے ام ولد. آقا کی اولاد پیدا ہو پھر آقا کہے بھی یہ میری اولاد ہے، اب کیا بن جائے گی؟ ہاں، اگر وہ اقرار نہیں کرتا تو پھر وہ ام ولد نہیں بنے گی.
تو آقا اقرار بھی کر لے، اور اب یہ ام ولد بن گئی بھئی، اس نے کیا ہونا ہے؟ آقا کی موت کے بعد آزاد. آزاد، لہذا اس کی بیع باطل، اس لیے کہ اس کا حق آزادی پھر تو ختم ہوتا ہے.
اسی طرح مدبر وہ جسے بھئی آقا نے کہہ دیا ہو کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے.
تو اب یہ اس کا بھی حق آزادی چونکہ باطل ہوتا ہے، اس کی بیع بھی۔
مكاتب بھئی، مكاتب جسے آقا نے کہا ہے مثلاً ایک لاکھ روپے لے آؤ تو تو آزاد ہے.
تو یاد رکھو، مکاتب سے خدمت نہیں لی جا سکتی بھئی.
اور وہ آزاد کی طرح ہو جاتا ہے بھئی، اسے اپنے نفس، اپنی ذات کا قبضہ حاصل ہو جایا کرتا ہے. وہ کمائے گا، پیسے اکٹھے کرے گا اور لا کر کیا کرے گا؟ آقا کو دے دے گا. تو وہ اپنے ذات کا مالک بن جاتا ہے یا یوں کہے قبضہ اسے قبضہ حاصل ہو جاتا ہے، جب قبضہ اسے حاصل ہے تو آقا اس کی خدمت بھی نہیں آقا فسخ بھی کرنا چاہے کتابت کو فسخ نہیں کر سکتا بھئی، یہاں تک کہ وہ خود کہہ دے میں نہیں اکٹھے کر سکتا، پھر ختم ہو جائے گی وہ کتابت بھئی.
اور اسے اپنے نفس پر قبضہ حاصل ہوتا ہے، اس کو تو لہذا وہ جو کمائے گا بھی اس کا مالک بھی وہی ہے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو یہ حر جیسا ہو جاتا ہے، تو اس کی بیع بھی باطل، اس لیے کہ اگر ورنہ تو اس کا جو اپنے نفس پر اپنی ذات پر جو قبضہ ہے وہ کیا ہو جائے گا؟ ختم ہوگا بیع سے، لہذا درست نہیں.
و بيع مال مال غير متقوم اور اسی طرح مال غیر متقوم کی بیع بھئی اس کا بیچنا یہ بھی کیا ہے بھئی؟ باطل ہے بھئی، غیر متقوم کسے کہتے ہیں بھئی؟ یاد رکھو. متقوم کہتے ہیں قیمت والا، قیمت والا. غیر متقوم جس کی قیمت نہ ہو. یہ لغوی معنی بتلاایا، مال غیر متقوم وہ ہے کہ جس سے شریعت نے نفع اٹھانے کی اجازت نہیں دی بھئی.
یعنی جو نجاس العین ہو اور حرام ہے بھئی، حرام ہے.
حرام ہے.
دیکھیے آپ کے حاشیے میں ایک ضابطہ بھی لکھا ہوا ہے بیع کا، یہ دیکھ لیجیے، صفحے کے سب اوپر دیکھیے چوتھی سطر، پانچویں سطر میں آرہا ہے، وضابطہ فیہ ما يكون ما يكون نجسا العین وحراماً لا يجوز بيعه إلا السرغين للضرورة. ضابطہ یہ ہے بائے کے باب میں کہ جو چیز نجس العین اور حرام ہے لا يجوز بيعه اس کی بیچ جائز نہیں إلا السرغين مگر گوبر کی بیچ جائز ہے بھئی، یہ نجس العین ہے، لیکن اس کی بیچ جائز ہے، کیوں؟ للضرورة بنا پر ضرورت کے بھئی، لوگ اس کو کیا کرتے ہیں، جلاتے وغیرہ ہیں، یا اس سے کیا کرتے ہیں، کھاد وغیرہ بناتے ہیں، ضرورت کی بنا پر بھئی، اس کی اجازت دی ہے. تو جو ضابطہ یہ ہے جو بھی چیز نجس العین اور حرام ہوگی اس کی بیچ جائز نہیں بھئی، شریعت نے اس کی اہانت کا حکم دیا ہے بھئی، اس کی اہانت کا حکم دیا ہے.
اسی لیے تو اس سے انتفاع کو جائز قرار نہیں دیا بھئی، اگر یہ اہانت ہے بھئی، سمجھ میں آیا کہ اس سے انتفاع نہ اٹھاؤ یہ اس کی اہانت ہے بھئی، نجس العین ہے، حرام ہے بھئی.
تو ان کو مال غیر متقوم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مال غیر متقوم. مال تو ہے بھئی. لیکن، مثلاً خمر ہے اور خنزیر ہے، خمر اور خنزیر، یہ مال تو ہیں ہمارے نزدیک تو نہیں بھئی، لیکن اوروں کے نزدیک تو یہ مال ہیں بھئی. تو یہ لیکن غیر متقوم ہے، یعنی شریعت نے ان کی اہانت کا حکم دیا ہے، ان سے انتفاع کی اجازت نہیں دی بھئی.
تو یہ مال غیر متقوم.
अच्छा, کہتے ہیں وبيع مال غير متقوم كالحمر والخنزير بالثمن اور بیچنا مال غیر متقوم جیسے کیا ہے؟ خمر ہے اور خنزیر ہے بالسمن کس کے بدلے میں؟ ثمن کے بد درہم و دنا نیر اور کرنسی بھئی، ان کے بدلے میں بیچنا.
بھئی یاد رکھو، اگر ان کو سامان کے بدلے میں بیچیں گے تو اور مسئلہ، درہم و دنا نیر کے بدلے میں بیچیں گے تو اور مسئلہ.
بھئی اگر ان کو بیچیں گے درہم و دنا نیر کے بدلے، کرنسی کے بدلے، تو کرنسی کیا بن جائے گی؟ ثمن، اور یہ کیا بنیں گے؟ مبیع. تو کرنسی نے تو ثمن ہی بننا ہے اور یہ بن گئے مبیع، اور کرنسی ہوا کرتی ہے وسیلہ، اور مبیع کیا ہوا کرتا ہے مقصود، تو آپ نے اس کو کیا بنا دیا مقصود بنا دیا، مطلوب بنا دیا، ان کو عزت بخش دی، حالانکہ شریعت نے تو کس چیز کا حکم دیا ہے؟ ان کی اہانت، لہذا ثمن کی قید لگائی کہ ثمن کے بدلے ان کی جو بیع ہے وہ باطل ہے، باطل. ہاں اگر سامان کے بدلے بیچا ہو. اب چاہے با سامان پہ داخل کی، چاہے با کس پر داخل کی؟ خمر یا خنزیر پر.
تو, عبارت کے اندر مطلب یہ ہے، چاہے آپ سمن و خنزیر کو مبیع بنائیں، چاہے خمر و خنزیر کو سمن بنائیں.
فقهائے کی کوشش ہوتی ہے بھئی، کہ معاملات کو بطلان سے بچایا جائے، جس قدر ممکن ہو سکے بطلان سے کیا کیا جائے معاملات کو بچایا جائے. تو یہاں پر بھی سامان کے بدلے بیع ہوئی ہے، تو اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے گی بقدراکحتمال، جس قدر ممکن ہو سکا اصلاح کریں گے بھئی، تو اب.
اگرچہ اس نے عبارت کے اندر شراب یا خمر کو کیا بنایا؟ مبیع، لیکن دوسری طرف کیا چیز ہے؟ سامان، اور سامان میں بھی مبیع بننے کی صلاۃ، تو عبارت میں بظاہر سامان کو سمن بنایا گیا ہے، لیکن ہم اس کو کیا قرار دے دیں گے؟ مبیع بنا دیں گے. کیونکہ دونوں میں صلاحیت ہے کس چیز کی؟ جب دونوں طرف سامان ہے تو دونوں میں صلاحیت ہوتی ہے مبیع بننے کی.
تو یہاں پر بھی اب ہم اس سامان کو کیا بنا دیں گے؟ مبیع، اور اس کے اندر بیع ہو گئی ہم کہیں گے، لیکن اس میں بھی جو بیع ہوئی وہ فاسد ہوئی، کون سی بیع ہوئی؟ فاسد ہوئی. کیونکہ بدلے میں اس کے کیا ذکر ہوا ہے؟ خمر اور خنزیر، اور خمر اور تو یہ گویا اسی طرح ہے کہ چیز تو بیچی لیکن سمن سے سکوت اختیار کیا، اس کو ذکر ہی نہیں کیا. سمجھ میں آیا؟ ذکر ہی نہیں کیا بھئی تو کیا ہے اور بیع فاسد ہوئی ہے بھئی، تو اور اس کے اندر کیا آجاتے ہیں؟ بیع فاسد میں سمن آتے ہیں یا قیمت آتی ہے بھئی؟ قیمت آتی ہے بھئی. صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
اسلیے ثمن کی یہاں قید لگائی، جب خمر اور خنزیر کے بدلے میں ثمن آ گئے، تو اب تو یہ مبیع ہی بنیں گے ہر حال میں، اور وہ کرنسی یا درہم و دنا نیر کیا بنیں گے؟ ثمن بنیں گے۔ تو یہ مطلوب بن جاتے ہیں، مقصود بن جاتے ہیں، مبیع مقصود ہوتا ہے، اور ان کو مقصود بنایا تو آپ نے ان کو کیا بخش دی؟ عزت بخش دی، حالانکہ شریعت نے ان کو اہانت کا حکم دیا۔
دیکھیے بھئی، اب سب سے پہلے مال کے بارے میں بتلائیں گے آپ کو، اعلم ان المال عین یجری فیہ التنافس والابتزال بھئی۔ تنافس کہتے ہیں مسابقت، مسابقت کرنا بھئی۔
مسابقت۔
بھئی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔
تنافس کسے کہتے ہیں؟ مسابقت، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش بھئی۔
بھئی انسان کے اندر اللہ تعالی نے ایک فطری جذبہ رکھا ہے کہ وہ دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے سے بڑے لوگوں کے ہم پلہ ہوتا ہے چاہتا ہے بھئی، ہر انسان کوشش کرتا ہے۔
تو مال بھی ایسی چیز ہے جس کے اندر کیا کرتا ہے انسان مسابقت کرتا ہے، دوسروں سے مقابلہ کرتا ہے۔
جی، تو مال ایسی چیز ہے، یجری فیہ التنافس والابتزال، ابتزال کا معنی خرچ کرنا، جس میں مسابقت اور خرچ کرنا جاری ہوتا ہے، لوگ اسے خرچ کرتے ہیں اور اس میں مسابقت کرتے ہیں بھئی، زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سمجھ میں آیا؟ مال اوپر آیا تھا، اس کی اب تعریف کر دی انہوں نے، بتلا دی ہے بھئی، فیخرج تو مال ایسی چیز ہے جس میں مسابقت اور ابتزال جاری ہوتا ہے، تو پس خارج ہو گئے التراب، کیا خارج ہوئی اس سے؟ مٹی خارج ہوئی۔
لیکن یاد رکھو! یہ قدیم زمانے میں تھا، بھئی اب فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ مٹی بھی مال ہے بھئی، اس کی بیع جائز ہے، چاہے قلیل ہو چاہے کثیر ہو۔
آپ دیکھتے نہیں، بیع ہوتی ہے یا نہیں بھئی؟ عام بیع ضرورت پڑتی ہے بھئی، تو یہ جائز ہے بھئی۔
ہاں، پہلے یہ مال نہیں تھا، اب مال ہے بھئی۔
فخرج التراب ونحوہ، مٹی اور اس جیسی چیزیں خارج ہو گئیں، والدم والمیتہ، اور اسی طرح خون بھی خارج ہوا، مولانا! کیونکہ اس کے اندر بھی مسابقت اور ابتزال نہیں۔
میتہ بھی خارج، جس میں بھی مسابقت اور ابتزال نہیں۔
لوگ التي ماتت حتف انہ، وہ مردار جو طبعی موت مرا ہو، مات حتف انہ بھئی، یہ کنایا ہے طبعی موت سے بھئی، حتف انہ بھئی، طبعی موت سے۔
حتف کہتے ہیں ہلاکت کو بھئی۔
حتف کیا کسے کہتے ہیں؟ حتف، ہلاکت کو بھئی، ہلاکت۔
سمجھ میں آیا؟
اسی لیے وہ جو میزائل انہوں نے بنائے بھئی، کیا نام رکھا ہے باز کا؟ حتف اس کا نام رکھا ہے حتف۔
پاکستان کے جو انہوں نے بنائے، اچھا۔
अच्छा، انف کسے کہتے ہیں؟ ناک کو بھئی۔
بھئی در اصل حتف مات حتف انہ، عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ جو انسان طبعی موت مرتا ہے، اس کی روح ناک سے نکلتی ہے، اور جس سے کوئی قتل کرتا ہے، مثلاً تلوار سے قتل کیا، تو جہاں پر اس کا زخم آیا وہیں سے اس کی روح نکلے گی۔
سر پر زخم آیا تو روح بھی کہاں سے نکلی؟ سر سے۔
تو جو طبعی موت مرتا تھا، ان کا عقیدہ تھا اس کی روح کہاں سے نکلی؟ ناک سے بھئی، تو اسی لیے طبعی موت کے لیے یہ کنایہ استعمال ہوتا ہے، ماتت التي ماتت حتف انہ جو اپنی ناک کی ہلاکت ہلاک ہوا، مرا (یعنی ناک سے روح نکلی، یعنی طبعی موت مرا)۔
تو وہ مردار التي ماتت حتف انہ، جو اپنی طبعی موت مرا، اما التي خنقٹ، اور جو زخمی کی گئی فی موضع، غیر موضع الذبح، باقی وہ مردار جس کا گلا گھونٹا گیا، اور زخمی یا اس کو زخمی کیا گیا فی غیر موضع الذبح، ذبح کی جگہ کے علاوہ بھئی، كما ہوا عادت بعض الکفار، جیسے کہ بعض کفار کی عادت ہوتی ہے، وذبائح مجوسی، جیسے کہ اور جیسے کہ کس کے ذبیحے ہوتے ہیں؟ یا۔
अच्छा، فمال، یہ کیا ہے؟ مال ہے۔
یا کذابہم المجوسی کہہ لیں۔
مجوسیوں کے ذبے، فمال ال جی، یہ مال ہیں۔
بھئی مجوسی اور اور بعض کفار وغیرہ کی عادت ہوتی ہے، کہیں پر بھی تلوار مار دی، جانور کو زخمی کر دیا اور مار دیا اس کو بھئی، یا تلوار نکالی بھئی، گوشت کھانے کا ارادہ ہے، مہمان آئے، بکری کی گردن اڑا دی۔
سمجھ میں آیا؟
یا بھئی پکڑا بھئی اس کا گلا دبا دیا بھئی، چلو بھئی۔
تو یہ ان کو کیا پتہ؟ یہ تو ہمیں شریعت نے بتلایا کہ ذبح کرو، طریقے سے اس کو اور اللہ کا نام لو، اور اس طرح ذبح کرو، تاکہ خون سارا نکل جائے اس کے بدن سے، سمجھ میں آیا نا، خون نکل جائے۔
تو وہ مردار جس کا گلا گھونٹ کر اسے مارا ہے، یا اس کو زخمی کیا ہے ذبح کے مقام کے علاوہ کسی جگہ میں، جیسے کہتے ہیں بعض کفار کی عادت ہوتی ہے یا مجوسیوں کے ذبیحے ہوتے ہیں، فمال، یہ چیزیں مال ہیں۔
یہ تو انہوں نے خود کیا کیا ہے؟ اس کو مارا ہے یا اپنے طریقے کے مطابق اسے ہلاک کیا ہے، الا انہا غیر متقومہ، مگر یہ کیا ہیں؟ غیر متقوم ہیں۔
کلخمر والخنزیر، جیسے کیا ہوتے ہیں بھئی؟ خمر اور خنزیر۔
جی، کیونکہ یہ حرام ہیں، نجس العین ہیں، اور شریعت نے ان سے انتفاع کو منع کیا ہے۔
ویخرج منہ الحر، اور حر بھی خارج ہو گیا، کیونکہ لا یجری فیہ الابتزال بھئی، تو دیکھا۔
بھئی انہوں نے کہا مال وہ ہے جس میں تنافس اور ابتزال جاری ہوتا ہے، تو تراب، دم، میتہ، جو خود مرا ہو، وہ خارج ہوئے۔
باقی جن کا گلا گھونٹا گیا یا زخمی کیا گیا ہے، وہ اس لیے نہیں خارج ہوئے کہ مال ہی نہیں ہے، وہ اس لیے خارج ہوئے کہ وہ مال غیر متقوم ہیں۔
اور آزاد بھی خارج ہوا۔
کیوں؟
کیونکہ وہ مال نہیں۔
اس کے اندر ابتزال، خرچ کرنا جاری نہیں ہوتا، بل هو مبتزل، بلکہ وہ کیا ہے؟ مبتزل ہے، خود خرچ کرنے والا ہے بھئی، والمال غیر المتقوم۔
اور مال غیر المتقوم، بھئی یہاں آپ کو ایک نکتہ بتلائیں۔
بھئی، دیکھو غیر کا لفظ یہ اضافہ مضاف الیہ چاہتا ہے۔
غیر المتقوم، سمجھ میں آیا؟ غیر المتقوم۔
تو غیر مضاف ہے، المتقوم مضاف الیہ ہے۔
اور آپ نے پڑھا ہے غیر، مثل، شبہ، احد وغیرہ کے لفظ اگر کسی کی طرف مضاف بھی ہو جائیں، تو نکرہ کے نکرہ ہی رہتے ہیں، معرفہ نہیں۔
معارفہ تو وہ ہوتا ہے جو متعین ہو جاتا ہے، مثلاً میں نے کہا مثل زید، زید کی مثل، کوئی متعین ہوا؟ غلام زید، میں نے کہا تو غلام متعین ہو گیا، لیکن مثل زید کہا تو کوئی متعین تو یہ معرفہ کی طرف اضافت سے بھی یہ معرفہ نہیں بنتے بھئی۔
معارفہ نہیں بنتے۔
تو یہاں بھی اسی طرح تھا غیر المتقوم، غیر مضاف، المتقوم مضاف الیہ ہے۔
اور مضاف پر آپ نے پڑھا ہے الف لام داخل نہیں ہوتا بھئی، لیکن چونکہ یہ اب بھی نکرہ ہی تھا، تو تعریف کے لیے اس پر کیا داخل کر دیا گیا؟ الف لام داخل کر دیا گیا۔
समझ में आया भाई؟
تو یہ جائز نہیں ہونا چاہیے الف لام بھئی۔
چنانچہ بعض علماء نے تو لکھا بھی کہ یہ غلط ہے، اس پر الف لام کا داخل کرنا، اس کو الف لام کو داخل نہیں، کیونکہ مضاف ہے یہ اور مضاف پر الف لام داخل نہیں ہوتا۔
लेकिन یہ رائج ہے، مولانا۔
آپ کو جتنے مصنفین ملیں گے، سب کی کتابوں میں اس قسم کے لفظ ملیں گے کہ غیر اوپر وہ کیا داخل کر دیتے ہیں اضافت کے باوجود الف لام، اور بلاغت کا ضابطہ ہے بھئی۔
کہ۔
الغلط الرائج فصیح، غلط جب رائج ہو جائے تو وہ کیا بن جایا کرتا ہے؟ فصیح بن جایا کرتا ہے، تو یہ فصیح بن گیا بھئی، اب اس کو غلط نہیں کہہ سکتے۔
سمجھ میں آیا؟
یہ اسی طرح ہے جیسے بھئی، نحو کے اندر۔
آپ کہتے ہیں ثلاثی، ثلاثی تو ثلاثہ سے بنا ہے، کیا کہنا چاہیے تھا؟ ثلاثی کہان چاہیے تھا، منسوب الی الثلاثہ۔
समझ में आया؟ لیکن رائج کیا ہے؟ ثلاثی بھئی، ثلاثی۔
تو یہ رائج ہے، اس لیے فصیح بن گیا۔
تو کہتے ہیں والمال الغیر المتقوم، اور مال غیر متقوم جو ہے، مال وہ ایسا مال ہے، دیکھو بھئی نکرہ کے بعد فعل آئے تو عموماً کیا بنا کرتے ہیں؟ موصوف صفت، اور موصوف سے پہلے کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسا جگہ جگہ میں ایسا ترجمہ کرتا ہوں، آپ نظر میں رکھا کریں بھئی۔
امال امرنا، ایسا مال ہے کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے بہانتیہ اس کی اہانت کا، یہ مال غیر متقوم ہے، لیکن یہ ہمارے دین کے علاوہ میں کیا ہے؟ مال شمار ہوتا ہے، مال متقوم، مال متقوم شمار ہوتا ہے، فکل ما لیس بمال، فالبیع فیہ باطل، ضابطہ بتلا دیا، جو بھی چیز مال نہیں ہوگی، بیع اس کے اندر کیا ہے؟ باطل ہے، باطل۔
جو چیز مال ہی نہیں ہے، سرے سے نہ ہمارے نزدیک، نہ کسی اور کے نزدیک، اس کے اندر بیع باطل ہے۔
سواء جعل مبیعا او ثمنا، جعل کے اندر ہوا ضمیر ہے، نائب فاعل بھئی۔
ما کو راجع ہے بھئی۔
کہ برابر ہے وہ جو مال نہیں ہے اس کو مبیع بنا دیں او ثمناً، یا کیا بنا دیں؟ ثمن بنا دیں بھئی، جب وہ مال ہی نہیں ہے تو عقد کیسے منعقد ہو؟
وکل ما ہو مال غیر متقوم، وکل ما ہو مال غیر متقوم، اور ہر وہ جو غیر متقوم مال ہے، فین بیع بالثمن، اس کو اگر کس کے بدلے میں بیچا جائے؟ ثمن کے بدلے میں، ای بالدرہم او الدنانیر، درہم یا دنانیر کے بدلے، فالبیع باطل تو بیع کیا ہے؟ کیوں؟
کیونکہ مال غیر متقوم کا کیا بننا لازم آئے گا؟ مبیع، اور مبیع بنے گا تو وہ مقصود بنے گا، اور مقصود بنے گا تو آپ نے اسے عزت بخشی، حالانکہ شریعت نے اہانت کا حکم دیا۔
وإن بیع بالعرض، او بیع العرض به، اور اگر اس کو سامان کے بدلے بیچا جائے، یا سامان کو اس کے بدلے بیچا جائے، دیکھا بھئی، بالعرض، معلوم ہوا، با کس پر داخل ہے؟ عرض (یعنی سامان کو چاہے ثمن بناؤ، اور بیع العرض به، یا اس کو سامان کو اس کے بدلے، یعنی اس کو کیا بنا دو؟ ثمن بنا دو)۔
فالبیع فی العرض فاسد، تو سامان میں بیع کیا ہو جائے گی؟ فاسد، تو بقدر الامکان اصلاح کی ہم نے، اور فاسد تک بات پہنچی، اس سے زیادہ اصلاح ممکن نہیں تھی۔
فالبطلان هو الذی لا يكون صحيحاً بافله ووسبہ، پس بیع باطل وہ ہے جو صحیح نہ ہو نہ اصل کے اعتبار سے اور نہ وصف کے اعتبار سے، والفاسد هو الصحيح، اور بیع فاسد کیا ہے؟
هو الصحيح بافله لا بوصفه، وہ صحیح ہوتی ہے اپنے اصل کے اعتبار سے نہ کہ وصف سے۔
فعند ابی حنیفہ رحمۃ اللہ، امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک، وعند شافعی رحمہ اللہ تعالی لا فرق بین الباطل والفاسد، وہ فرماتے ہیں باطل اور فاسد میں کوئی فرق نہیں۔
بھئی دیکھو، آپ نے پڑھا ہوگا اصول الشاشی کے اندر بھئی کہ افعال دو قسم پر ہیں، کچھ افعال حسیہ ہیں، کچھ افعال شرعیہ ہیں۔
افعال حسیہ ان کو کہتے ہیں کہ شریعت سے پہلے جو ان کا حکم تھا، جو ان کی تاریخ تھی، شریعت کے آنے کے بعد بھی ان کی وہی تاریخ کی گئی۔
اور افعال شرعیہ وہ ہیں کہ شریعت کے آنے سے پہلے ان کی اور تاریخ تھی، شریعت کے آنے کے بعد ان کی اور تاریخ بن گئی۔
تو ان کو افعال شرعیہ کہتے ہیں۔
اور افعال حسیہ کے اندر نہیں اجائے، تو۔
اصل ہی غیر مشروع ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ غیر مشروع۔
ذات کے اعتبار سے غیر مشروع ہے، لیکن اگر افعال شرعیہ کے اندر نہیں آئے، تو وہ ذات کے اعتبار سے مشروع، جائز ہوتا ہے، اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع، یعنی جائز نہیں۔
اور بیع بھی افعال شرعیہ میں سے آپ پڑھ چکے ہیں، شریعت نے اس میں کیا ہے کئی قیدیں بڑھائی ہیں بھئی، کئی قیدیں، کہ اس طرح بیع کرو گے تو ہوگی، ورنہ نہیں ہوگی، یا فاسد ہوگی، یا باطل ہوگی، وغیرہ بھئی۔
अच्छा، تو اب۔
جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی، نہیں چاہے افعال حسیہ میں آئے، چاہے افعال شرعیہ میں آئے، دونوں کے اندر بھئی وہ ذات کے اعتبار سے وہ فعل جائز نہیں ہوگا بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ تو وہ باطل اور فاسد میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ ہم نے تو کہا تھا باطل وہ ہے جو ہے ہی نہیں، اور فاسد وہ ہے جو ہو تو گئی، لیکن اس کو فاسد ختم کرنا، اس کو ختم کرنا ضروری۔ وہ کہتے ہیں نہیں بھئی، باطل فاسد کوئی فرق نہیں۔
نہیں آگئی تو بیع کیا ہے؟ باطل ہے بھئی، باطل۔
وتحقيق هذا في هذا في اصول الفقه، اور اس مسئلہ کی تحقیق اصول فقہ میں ہے۔
وبع قن ضم الی حر، وذكيۃ ضمت الی ميتۃ، وإن سمي ثمن كل،
قن بر وزن جن ہے بھئی، غلام کو کہتے ہیں بھئی، مطلق غلام، چاہے مذکر ہو چاہے مونث، دونوں کو کیا کہہ دیتے ہیں قن بھئی۔
وبع قن، اور غلام کی بیع، ضمہ قن نکرہ ہے بھئی، اس کے بعد فعل آ رہا ہے بھئی، اب وہ ترجمہ ہوگا اور بیچنا ایسے غلام کا کہ ملایا گیا ہو الی حر کس کے ساتھ بھئی؟ آزاد۔
بھئی ایک آدمی نے دوسرے کو ایک غلام بیچا، لیکن ساتھ ایک حر کو بھی ملا لیا تھا، اور یوں کہا یہ دو غلام میں نے تجھے بیچے، اب دوسرے کو تو نہیں پتہ بھئی، اس نے قبول کر لیا، تو بھئی اس صورت میں دونوں کے اندر بیع باطل ہو جائے گی۔
یا بھئی، کسی نے ایک ذبح شدہ بکری تھی، ایک مردار تھی بھئی، دونوں کو بیچا کہ یہ دونوں میں نے آپ کو بیچی بھئی۔
تو دونوں میں بیع کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی بھئی۔
اگرچہ دونوں کے ثمن الگ الگ ہی کیوں نہ ذکر کر دیں، بتلا دے بھئی، غلام کی طرف اشارہ کر کے کہے یہ سو کا اور یہ سو کا بھئی، یہ دونوں میں نے آپ کو بیچے بھئی۔
یہ ایک ہی ایجاب کی بات کر رہا ہوں، ایک ایجاب میں ہوں، تو اب بھئی، حر کے اندر بیع ہے؟ حر کے اندر بیع باطل ہے، تو اس کا بطلان سرایت کرے گا دوسرے کی طرف بھی، اور اس غلام کے اندر بھی بیع کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی، اگرچہ دونوں کے الگ الگ ثمن ہی کیوں نہ بیان کر دے، اس لیے کہ حر کے اندر تو مبیع بننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، وہ تو محلے بیع ہے ہی نہیں سرے سے۔
اسی طرح مردار کو بیچا، ابھی اوپر بات ہوئی کہ مردار مال ہی نہیں ہے بھئی، مال ہی نہیں۔
تو اب بھی وہی صورت بھئی، اب مردار کے اندر تو تھی بیع باطل، اگرچہ دونوں کے ثمن بھی الگ ذکر کر دیں، لیکن مردار میں ہے بیع باطل، تو اس اور ایجاب چونکہ دونوں کا ایک ہی ہوا ہے، لہذا اس کا بطلان سرایت کرے گا کس کی طرف بھئی؟ اس ذبح شدہ جانور کی طرف بھی، اور اس کی بیع بھی کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔
سمجھ میں آیا؟ تو دونوں کی بیع باطل ہو جائے گی۔
وبع قن، اور بیچنا ایسے غلام کا، ضمہ الی حر، کہ ملایا گیا ہے اس کو حر کے ساتھ، وذكيۃ، اور ذبح شدہ جانور کا، ضمہ الی ميتۃ، جس کو ملایا گیا ہو کس کے ساتھ؟ مردار، وإن سمي ثمن كل، اگرچہ ہر ایک کے ثمن کیا کر دیے جائیں؟ بیان کر دیے جائیں۔
समझ में आया भाई؟
یہ کلو بھی بھئی۔
اس کے اندر بھی تنوین عوض ہے مضاف الیہ سے بھئی۔
کل ای کل واحد، جہاں بھی آئے اسی طرح ہوگا بھئی۔
اگرچہ ہر ایک کے ثمن بیان کر دیے جائیں بھئی، صاحبین فرماتے ہیں، اگر ہر ایک کے ثمن الگ بیان کر دیے تو بھئی، غلام میں یا ذبح شدہ جانور میں بیع ہو جائے گی اور وہ آزاد اور مردار کے اندر بیع باطل ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں دونوں میں باطل بھئی، اس لیے کہ محلے بیع ہی نہیں ہے حر اور میتا۔
وصح في، اور صحیح ہو جائے گی بیع فی قن، ایسے غلام
کے اندر ضمہ ال مدبر جس کو مدبر کے ساتھ ملایا گیا ہے، اوقنی غیرہ یا اس کو کس کے ساتھ ملایا گیا ہے؟ غیر کے اپنے علاوہ کے کسی اور غلام کے ساتھ بحصتہ اس کے حصہ کے بقدر بھئی۔ جب کہ ہر ایک کے ثمن الگ بیان کیے۔ بھئی! زید نے آپ کو دو غلام بیچ دیے ایک ایجاب کے ساتھ، بھئی! یہ دو غلام میں نے آپ کو بیچے دو سو روپے میں، ایک سو روپے کا یہ غلام ہے، ایک سو روپے کا یہ غلام ہے۔ دونوں کے ثمن الگ الگ بیان کر دیے، یہ ضروری ہے بھئی! اگر ہر ایک کے ثمن الگ الگ نہیں بیان کرتا، پھر تو آگے دیکھنا۔ کیونکہ یہ کہہ رہے ہیں اس کے حصے کے بقدر بیع کیا ہو جائے گی؟ صحیح۔
وہ ایک غلام، عام غلام تھا، ایک مدبر تھا اور آپ نے تو پڑھا ہے، مدبر کی بیع جائز نہیں۔ یا ایک تو زید کا اپنا غلام تھا، ایک اس نے کسی اور کا غلام ساتھ ملا دیا، ایک ہی ایجاب کے ساتھ آپ کو بیچ دیا بھئی! اب،
اگر دونوں کے الگ الگ ثمن بیان کیے تھے، تو جو اس کا اپنا غلام ہے یا عام غلام ہے، اس میں حصے کے بقدر بیع صحیح ہو جائے گی۔ جبکہ مدبر کے اندر یا غیر کے غلام میں بیع کیا ہو جائے گی؟ باطل ہوگی۔
تو یہ دونوں مسئلوں میں فرق کیوں ہے؟ آزاد کے ساتھ ایک غلام کو بیچا تھا تو دونوں کی بیع باطل تھی۔ مردار کے ساتھ ایک ذبح شدہ بکری بیچی تھی تو دونوں کی بیع باطل تھی۔ اور اب آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ ایک کی بیع صحیح، دوسرے کی بیع باطل۔ بھئی! یہ فرق کیوں کیا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ وہاں آزاد اور مردار محل بیع ہی نہیں تھا، اس میں مبیع بننے کی صلاحیت ہی نہیں۔ جبکہ یہاں پر،
یہ مدبر عند بعض الفقہاء مدبر کی بیع جائز ہے، تو یہ محل، لیکن ہمارے نزدیک تو جائز نہیں، تو محل بیع ہے، معلوم ہوا محل بیع۔ اور غیر کا بھی غلام ہے وہ بھی کیا ہے؟ محل بیع ہے۔ ہاں البتہ ملکیت آپ کی نہیں ہے، اس لیے ان میں نہیں ہوئی اور،
اس کے اندر اپنے غلام کے اندر اس کے حصے کے بقدر ہو گئی۔
اچھا! تو یہاں آپ کو بتایا بھئی! اگر غلام کے ساتھ حر کو بیچا یا ذبح شدہ جانور کے ساتھ مردار جانور کو بیچا تو اگرچہ ہر ایک کے ثمن بیان کر دیں، پھر بھی دونوں کی بیع کیا ہے؟ باطل ہے۔
تو اب جب آزاد کو ساتھ بیچا تو اب اس غلام کی بیع بھی صحیح نہیں۔ مردار کے ساتھ ذبح شدہ بکری کو بیچا ایک ایجاب کے ساتھ تو اب اس ذبح شدہ کی بھی بیع صحیح نہیں۔
جبکہ دوسری صورت آپ کو یہ بتلائی کہ اگر غلام کے ساتھ اپنے غلام کے ساتھ غیر کے غلام کو ملایا یا مدبر کو ملا کر بیچا اور ہر ایک کے الگ ثمن بیان کیے تو اس صورت میں اپنے غلام میں اس کے حصے کے بقدر بیع صحیح ہو جائے گی۔
جبکہ مدبر میں اور،
مدبر کے اندر بیع کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ اس لیے کہ مدبر کیا ہے؟
وہ انتقال ملک کو قبول نہیں کرتا بھئی! اس کا حق آزادی کیا ہے؟ وہ ختم ہوتا ہے بھئی!
اور غیر کے غلام کہی، تو غیر کے غلام اپنے غلام میں تو ہو گئے، غیر کے غلام میں بے موقوف ہو جائے گی مالک کی اجازت پر بھئی! کس پر؟ مالک کی اجازت پر موقوف ہو جائے گی۔
تو دیکھا بھئی! یہاں پر بھی ایک میں تو بیع ہو گئی بھئی! اس کے حصے کے بقدر اور دوسرے میں کہا بیع نہیں ہوئی بھئی! موقوف ہوئی یا باطل ہوئی جبکہ پہلی صورت میں کیا کہا تھا؟ دونوں میں کیا ہو گئی؟ بیع باطل۔ باطل ہو گئی بھئی! فرق کیا ہے؟ اس لیے کہ وہ کسی بھی لحاظ سے مال نہیں۔ حر اور میتہ مال ہی نہیں۔ مال ہی نہیں۔
تو وہاں پر ان کا بطلان سرایت کرے گا غلام کی بیع کی طرف بھی بھئی! اور اس کو بھی کیا بنا دے گا؟ باطل بنا دے گا۔ اس لیے کہ حر مال نہیں، میتہ مال نہیں تو ابتدائی ہی گویا ایجاب و قبول منعقد نہیں ہوا بھئی!
ایجاب و قبول منعقد نہیں ہوا۔
جی۔
سمجھ میں آیا؟ اور وہ ضابطہ آپ نے پڑھا تھا بھئی! کہ قبول مبیع، مبیع کو قبول کرنے کے لیے اگر غیر مبیع کو قبول کرنے کی شرط لگا دی جائے تو مبیع کے اندر بھی بیع کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔
چھا!
اور تو گویا وہاں پر ابتدائی ہی بیع نہیں ہوئی، حر اور غلام کو حر کے ساتھ بیچا تو ابتدائی ہی بیع نہیں ہوئی۔
اور میتے کے ساتھ ذبح شدہ بکری بیچی تو ابتدائی ہی بیع نہیں ہوئی بھئی! جبکہ دوسری صورت میں
مدبر کو ملایا ہے ساتھ، بھئی! مدبر محل بیع ہے۔ بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ مدبر کی بیع جائز ہے بھئی! جائز ہے۔
محل بیع اند، تو یہ محل بیع ہے، تو گویا،
بیع ابتدان صحیح ہو گئی لیکن پھر مدبر کے اندر مانع آیا اور دوسرے کے اندر کوئی مانع موجود نہیں تو پہلی صورت میں بیع ابتدان ہی گویا صحیح نہیں ہوئی، جبکہ یہاں پر ابتدان بیع صحیح ہوئی کیونکہ مدبر بھی کیا ہے؟ محل بیع ہے تو غلام میں بھی بیع آئی ابتدان بھئی! اور مدبر میں بھی آئی، لیکن پھر مدبر کے اندر مانع آگیا جبکہ غلام کے اندر مانع نہیں تو اس کے حصے کے بقدر کیا ہو جائے گی؟ بیع صحیح۔ اسی طرح آپ نے غلام کے ساتھ غیر کے غلام کو بیچا تو غیر کا غلام بھی محل بیع ہے، وہاں پر مانع آگیا کہ مالک کی اجازت نہیں۔ تو مالک کی اجازت پر موقوف ہو گئی، جبکہ اپنے غلام کے اندر بیع،
صورت سمجھ میں آئی بھئی!
تو لہذا یہاں پر ایک کا فساد دوسری کی طرف سرایت نہیں کرے گا بھئی!
لأن المدبر محل للبیع عند البعض کہ مدبر محل بیع ہے بعض فقہاء کے نزدیک فبطلانہ لا يسری الی الغیر تو اس کی بیع کا بطلان جو ہے وہ سرایت نہیں کرے گا دوسرے کی طرف۔ فرق سمجھ میں آید بھئی!
کملک إن ضم الی وقف فی الصحیح جیسے کہ ایسی ملکیت بھئی! جس کو ملایا گیا ہو وقف کے ساتھ بھئی! فی الصحیح أی فی القول الصحیح صحیح قول کے مطابق۔
بھئی! ایک آدمی نے آپ کو پوری ایک بستی فروخت کر دی بھئی! اور اب اس بستی کے اندر تو کچھ وقف جگہیں بھی تھیں، مثلاً ایک مدرسہ بھی تھا وقف کا یا کوئی مسجد وغیرہ بھی تھی تو کہتے ہیں بھئی! اس صورت میں بھی اگر اس نے ہر ایک کے ثمن الگ بیان کر دیے ہیں تو پھر وقف کے اندر بیع باطل اور باقی کے اندر جو اس کی ملک ہے اس کے اندر بیع صحیح۔ یا اس نے یوں ذکر کر دیا بھئی! یہ بس یہ جگہ ساری ہے مثلاً دس ہزار ذراع ہے اس میں سے میں یہ ساری آپ کو فروخت کرتا ہوں، ہر ذراع ایک درہم کے بدلے بھئی! تو اب اس کے اندر مثلاً وقف کتنی بن جاتی ہے؟ پانچ ہزار ذراع بھئی! تو اس کے حصے کے بقدر بیع نہیں ہوئی، باقی کے اندر بیع ہو گئی بھئی!
تو یہ بطور مثال کے اس کے ان میں بھی بیع صحیح ہے، جیسے کہ اس ملک کے اندر بیع صحیح ہے ضمہ الی وقف جس کو کس کے ساتھ ملایا گیا ہو؟ وقف کے لیکن شرط یہ ہے، ہر ایک کے الگ ثمن کیا ہوں؟ ذکر ہوں ورنہ کیا پتہ چلے گا بھئی!
فی الصحیح صحیح قول کے مطابق وفاسد بيع الخمر وعکسه دیکھا وہ میں نے آپ کو بتلایا تھا عرض کو کیا بنایا؟
مبیع اور خمر کو کیا بنایا؟ ثمن بھئی۔
اور فاسد ہے ثمن کی بیع خمر کے بدلے میں وعکسه اور اس کا عکس بھی کیا ہے؟ فاسد۔
سمجھ میں آیا بھئی! تو چاہے عبارت کے اندر عرض کو مبیع بناؤ چاہے ثمن بناؤ لیکن فقہاء اصلاح کی کوشش کرتے ہیں تو دونوں صورتوں میں وہ اس کو کیا قرار دے دیں گے؟
مبیع قرار دے دیں گے اور خمر کو کیا قرار دے دیں گے؟ ثمن۔ اگرچہ عبارت میں ثمن، خمر کیا ہو؟
مبیع ہی کیوں نہ بن رہا ہو لیکن فقہاء کیا کرتے ہیں بقدر الامکان عقد کی اصلاح کی کوشش بھئی۔
تو ضابطہ ہے یہ بھئی! فقہ کا کہ بقدر الامکان عقد کی اصلاح کی جائے گی۔
تو یہاں اب ثمن کے بدلے بیع کیا ہوئی؟ فاسد اور خمر میں کیا ہوئی؟
باطل۔ خمر میں باطل۔ اور ثمن کے بدلے اب کیا دینے پڑیں گے؟ قیمۃ۔
ای البیع فاسد فی العرض بیع فاسد ہے سامان میں حتی یجب قیمته عند القبض یہاں تک کہ اس کی قیمت واجب ہوگی قبضے کے وقت بھئی بیع فاسد میں جب قبضہ ہو تب قیمت آتی ہے۔
ویملکہ بالقبض اور مالک بن جائے گا مشتری قبضے کے ساتھ بھئی۔ ولكن البيع من الخمر باطل بھئی لیکن خمر میں جو بیع ہے وہ باطل ہے بھئی۔
حتی لا یملک عین الخمر یہاں تک کہ مشتری مالک نہیں بنے گا عین خمر کا اس لیے کہ اس کی تملیک تملک جائیز اس میں بیع باطل ہے۔
ولم یجوز بيع سمک لم یصد أو سید وألقي في حظيرة لا يؤخذ منها بلا حيلة وصح إن أخذ منها بلا حيلة إلا إذا دخل بنفسه ولم يسد مدخلہ
اور جائز نہیں ہے مچھلی کی بیع بھئی لم یصد ایسی مچھلی کی بیع لم یصد جسے شکار نہیں کیا گیا۔
بھئی! دریا کے اندر مچھلیاں ہیں بڑی بڑی بھئی! آپ نے ساتھی سے کہا لو بھئی! یہ مچھلیاں میں نے آپ کو ہزار روپے میں بیچ دی نکالو ہزار روپے بھئی۔
بھئی! آپ کیسے بیچ رہے ہو بھئی؟ آپ کے قبضے میں ہیں وہ؟ آپ مالک ہی نہیں آپ کے قبضے میں ہی نہیں لہذا یہ جائز نہیں بھئی۔
تو لم یجوز بيع سمک لم یصد جائز نہیں ہے بیع ایسی مچھلی کے لم یصد جسے شکار نہیں کیا گیا او سید یا شکار تو کیا گیا ہے وألقي في حظيرة اور ان کو ڈالا گیا ہے في حظيرة تالاب کے اندر ایسا تالاب کہ لا يؤخذ منھا بلا حیلة کہ اس سے پکڑی نہیں جا سکتی ہیں بغیر حیلے کے بھئی! کیا ہے؟ بغیر حیلے کے پکڑی نہیں جا بڑی تالاب ہے مولانا۔
اب کیا کرنا پڑے گا؟ آپ اس میں مچھلیاں ٹھیک ہے تالاب بھی آپ کا ہے مچھلیاں آپ نے رکھی ہوئی ہیں لیکن بیع کرنا چاہتے ہیں جائز نہیں بھئی۔ اس لیے کہ آپ اس کے سپرد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔
مشقت سے آپ پکڑیں گے یا نہیں ان کو بھئی؟ حیلہ کرنا پڑے گا بھئی سمجھ میں آیا لنگوٹ باندھنا پڑے گا، جال لے کر آنا پڑے گا کبھی ایک طرف چھلانگ لگا رہے ہیں کبھی دوسری طرف لگا رہے ہیں تو بڑی مشقت ہے مولانا تو بغیر حیلے کے نہیں جا بھئی! سمجھ میں آیا؟ ایسا تالاب ہو کہ بغیر حیلے کے نہیں پکڑ ہاں چھوٹا سا تالاب ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ آپ اسی وقت ایک چیز کے لیے پکڑ لیتے ہیں اور دے دیتے ہیں پھر بیع ٹھیک ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ جی او سید یا شکار تو کیا گیا ہے وألقي في حظيرة اور ان کو ڈال دیا گیا ہے ایسے تالاب کے اندر لا يؤخذ منھا بلا حیلة کہ ان سے اس کو پکڑا نہیں جا سکتا اس تالاب سے بغیر کسی حیلے کے یہ بھی جائز نہیں۔
وصح اور صحیح ہوگی إن أخذ منھا بلا حیلة اگر پکڑا جائے جائے ان کو اس تالاب سے بغیر کسی حیلے کے، آسانی سے پکڑیں۔
إلا إذا دخل بنفسه مگر جب اذا دخل بنفسه
بھئی!
تالاب میں یا احاطے کے اندر آپ کے مچھلی ہو تو آپ اور اس بیچ سکتے ہیں اس کو بھئی سمجھ میں آیا آسانی سے پکڑیں۔
لیکن اگر آپ کا احاطہ ہے اور اس سے ایک چھوٹا سا راستہ آپ نے دریا کو بنایا ہوا ہے تو وہاں سے مچھلیاں آ جاتی ہیں آپ کے احاطے میں تو اب ان کی بیع جائز نہیں آپ کے لیے۔
ہاں اگر آپ نے اس مدخل کو اس راستے کو بند کر دیا تو اب آپ نے کیا کر لیا ان مچھلیوں کو
پر قبضہ کر لیا آپ نے اپنے اختیار سے ان کا راستہ بند کیا ہے فعل اختیاری ہے اب آپ کے قبضے میں آ گئے بھئی۔ اب پھر وہی مسئلہ ہوگا آسانی سے پکڑ سکتے ہیں تو بیع درست اگر آسانی سے نہیں پکڑ سکتے تو بیع صحیح نہیں بھئی۔
تو صحیح ہے تالاب کے اندر مچھلیوں کی بیع إلا إذا دخل بنفسه مگر جس وقت وہ خود داخل ہوئی ہوں بھئی ولم يسد مدخلہ اور اس کے مدخل کو بند بھی پھر نہیں صحیح بھئی۔
حتی لو دخل بنفسه وسد مدخلہ یجوز بیعه یہاں تک کہ اگر وہ خود داخل ہوئی ہے وسد مدخلہ اور اس کے مدخل کو کیا کر دیا گیا ہے؟ جائے دخول کو بند کر دیا گیا ہے یجوز بیعه اس پھر بیع جائز لان سد المدخل فعل اختیاری کیونکہ سد مدخل بھئی یہ ایک فعل اختیاری ہے مدخل کا بند کرنا ایک فعل اختیاری ہے موجب للملک أی مثبت للمملک کس کو ثابت کرنے والا ہے؟ ملک کو بھئی۔
تو یہ ایسا فعل اختیاری ہے جو ملک کو ثابت کرتا ہے۔
واعلم أنہ جی یہاں سے مصنف آپ کو اشعار وقایہ بتائیں گے کہ ماتن نے کئی صورتیں اکٹھی کر دیں اور سب میں کہہ دیا لم یجوز۔ بھئی! لم یجوز تو باطل کو بھی شامل ہوا، فاسد کو بھی شامل ہوا، دونوں جائز نہیں ہے۔ کہتے ہیں انہوں نے بیان نہیں کیا ہم انشاءاللہ کیا کریں گے ہر ایک صورت میں بیان کریں گے کون سی صورت باطل ہے اور کون سی فاسد ہے۔
باقی ہوئی تو وہ ملک کا فائدہ ہی نہیں دے گی اور فاسد ہوئی تو ملک کا قبضے کے بعد فائدہ دے گی۔
واعلم أنہ نزم کثیرا من المسائل في سلک واحد بھئی نظم کا معنی پرونا،
سلک کا معنی لڑی، لڑی۔
واعلم جان جان لے تو کہ أنہ نظم کثیرا من المسائل کہ پرویا ہے مصنف نے ماتن نے بہت سے مسائل کو بھئی فی سلک واحد بھئی کس کے اندر؟ ایک ہی لڑی میں وقال لم یجوز اور فرمایا ہے لم یجوز کہ جائز نہیں ہے لاکن لم یبین أن البيع باطل أو فاسد لیکن انہوں نے یہ بیان نہیں کیا کہ بیع باطل ہے یا فاسد ہے وانا أبین ذلک ان شاء اللہ تعالی اور میں اسے بیان کروں گا انشاءاللہ تعالی فسمک الذی لم یصد ینبغي أن یکون البیع باطلا فیه پس وہ مچھلی جس کو شکار نہیں کیا گیا مناسب یہ ہے کہ اس کے اندر بیع کو باطل ہونا چاہیے باطل ہونا چاہیے فیہ اس کے اندر اذا کان بالدراہم یا تو دینار جب ایک بیع کس کے بدل ہو دراہم اور دینار کے اور فاسدا اذا کان بالعرض اور فاسد ہونا چاہیے جب یہ سامان کے بدلے ہو کیوں؟ لانہ مال غير متقومين بھئی اس لیے کہ یہ مال غیر متقوم ہیں بھئی! وہ مال غیر متقوم نہیں جو بیع ابھی پہلے گزرا تھا کہ شریعت نے جس کی اہانت کا حکم دیا ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ حرام ہے یہ حرام تو نہیں ہے یہ بمعنی لغوی کے ہے قیمت والا مال نہیں ہے۔ کیوں قیمت والی نہیں ہے؟ کیونکہ ابھی اپ کا دریا میں مچھلی آپ کے قبضے میں ہے؟ جب قبضے میں نہیں تو ملک نہیں جب ملک نہیں تو قیمت نہیں جب قیمت نہیں تو یہ مال غیر متقوم ہو اور مال غیر متقوم کی بیع درہم و دینار کے بدلے ہو تو باطل اور سامان کے بدلے ہو تو فاسد یہی بات کر رہے ہیں۔
لأن التقوم بالاحراز اس لیے کہ تقوم تو احراز سے حاصل ہوگا احراز کا معنی جمع کرنا، محفوظ کرنا، حاصل کرنا بھئی جمع کرنا، محفوظ کرنا اس لیے کہ تقوم جو ہے قیمت والا ہونا جو ہے احراز کے ساتھ ہوگا بھئی حاصل کرنے سے ہوگا ولا احراز فیہ اور ان میں احراز نہیں بھئی یا ان کو جمع کرنے سے ہوگا اور ان میں جمع کرنا نہیں یعنی قبضے سے ہوگا۔
و أما السمك الذي سید باقي وہ مچھلی جس کو شکار کیا گیا ہے وألقي في حظيرة اور اس کو تالاب میں ڈالا گیا ہے لا یؤخذ منھا بلا حیلة کہ اس سے پکڑا نہیں جا سکتا بغیر حیلے کے ينبغي أن يكون البیع فیه فاسدا مناسب یہ ہے کہ بیع اس کے اندر فاسد ہونی چاہیے لانہ مال مملوکون اس لیے کہ یہ تو کیا ہے مال مملوک ہے لیکن في تسليمه عسر لیکن اس کے سپرد کرنے میں تنگی ہے مشکل ہے بھئی۔
سپرد کرنے میں مشکل ہے بھئی چلیے بس
ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام