ولو قال لمن اعطاہ درھما أعطنی بنصفہ فلوسا وبنصفہ نصفا الا حّبۃ فسد البیع۔
صورت مسئلہ یہ ہے۔
بھئی صراف کے پاس لوگ جاتے ہیں صراف جانتے ہو بھئی یہ جو پیسے تبدیل کرتے ہیں بھئی منی چینجر۔
صراف کے پاس جاتے ہیں بھئی اس سے پیسے بدلتے ہیں وہ کچھ نہ کچھ کٹوتی کرے گا بھئی کیا کرے گا؟ کٹوتی کرے گا مثلا تو اب آپ گئے آپ نے کے پاس ایک درہم تھا اب آپ کو فلوس کی ضرورت پڑی ہے۔
آپ گئے اس کے پاس ایک درهم دیا اور اس کو کہا اس درہم کے نصف کے بدلے مجھے فلوس دے دو اور نصف درہم میں ایک رتی کاٹ کر باقی ایک رتی کم نصف درہم مجھے واپس کر دو۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی آپ نے درہم کو بدلوانا ہے اور تقسیم آپ خود کر رہے ہیں کیسے تقسیم کی کہ نصف درہم کے بدلے مجھے کیا دے دو؟ فلوس دے دو جتنے بنتے ہیں وہ فلوس دے دے گا مثلا بیس بنے اور نصف درہم کے بدلے مجھے کیا دے دو؟ اپنی کٹوتی کرکے یعنی ایک رتی کاٹ کر باقی نصف درہم مجھے دے دو۔
تو کہتے ہیں یہ صورت جائز نہیں ربا لازم آئے گا۔
اس لیے کہ کیا آپ نے کیسے تقسیم کی نصف درہم کے بدلے کیا آئی فلوس یہاں تو جنس بدل گئی بھئی کمی بیشی جائز ہے بھئی۔ دوسرے نصف کے بدلے آپ نے کیا کہا کتنا مجھے دے دو؟ ایک رتی کاٹ کر مجھے باقی نصف درہم دے دو تو آپ دے رہے ہیں نصف درہم اور ادھر سے ایک رتی کم نصف درہم ہے تو وزن میں مماثلت ہوئی؟ مماثلت نہیں مساوات نہیں آئی حالانکہ دونوں طرف چاندی ہے مساوات شرط تھی لہذا ربا لازم آیا تو یہ عقد درست نہ رہا۔
صورت سمجھ میں آگئی۔
یہ وہ صورت تھی جب تقسیم آپ خود کی کہ نصف کے بدلے یہ دو نصف کے بدلے یہ دو۔
اگر آپ یہ نہ کہتے نصف کے بدلے نصف کے بدلے تو عقد صحیح تھا۔
مثلا آپ جا کر یوں کہتے ہیں یہ ایک درہم لیں اور مجھے نصف درہم فلوس دے دیں یہ نہیں کہا نصف درہم کے بدلے یہ کہا نصف درہم کیا دے دیں؟ نصف درہم فلوس دے دیں اس کے جو بنتے ہیں اور ایک رتی کم نصف درہم مجھے دے دیں۔
یہ نہیں کہا ایک رتی کم نصف درہم نصف درہم کے بدلے میں دے دیں بدلے والی بات آپ نے نہیں کی بلکہ مطلق کیا کہا؟
نصف کے فلوس بھئی نصف در نصف درہم کے جو فلوس بنتے ہیں وہ دے دو اور نصف ایک رتی کم نصف درہم مجھے دے دو اب عقد صحیح بھئی۔
عقد کیوں صحیح کیا اب ربا لازم نہیں آتا کہتے ہیں نہیں یوں کریں گے ہم بھئی کیا کہا آپ نے؟
ایک رتی کم نصف درہم دے دو۔
ادھر سے ہم کیا کر دیں گے؟
ایک رتی کم نصف کو اس کا عوض بنا دیں گے۔
کیا کر دیں گے؟
وہ وہ کتنا دے رہا ہے ایک رتی کم نصف درہم اور ہم بھی ادھر عوض کتنا بنا دیتے ہیں؟
ایک رتی کم نصف درہم کو اس کا عوض بنا دیتے ہیں تو مساوات آگئی وزن کے اندر لہذا یہ درست اور ادھر کیا ہوا وہ جو فلوس تھے فلوس کے بدلے میں ہم نصف درہم سے ایک رتی زائد کر دیں گے۔
کیا کر دیں گے؟
صورت سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی سمجھ میں بھئی۔
یا یوں کریں یوں کریں بھئی آپ کرنسی کی مثال بنا لیں۔
آپ صراف کے پاس گئے ہزار والا نوٹ دیا آپ نے اسے اور اسے کہا کہ 500 کے بدلے مجھے ڈالر دے دو۔
وہ فلوس یعنی بدل یہ جنس بدل رہا ہوں بھئی۔
500 کے بدلے مجھے کیا دے دو؟ ڈالر دے دو اور 500 کے بدلے مجھے 450 روپے دے دو۔
500 کے بدلے کیا دے دو؟ یعنی 50 اپنے کاٹ لو بھئی تو دیکھو اب آپ نے تقسیم خود کر دی کہ 500 کے بدلے کتنے دے دو؟ 450۔
تو یہ لہذا کیا لازم آیا؟ ربا لازم آیا۔
اگر آپ تقسیم نہ کریں مطلقاً چلے گئے آپ نے کہ یہ لے ہزار روپے بھئی ہزار روپے اور مجھے 500 کے جتنے ڈالر بنتے ہیں وہ دے دیں اور کیا دے دیں؟ 450 روپے دے دیں صرف مطلق بات کی۔
اب کیا ہوا؟
اب آپ نے تقسیم نہیں کی کہ یہ 450، 500 کے بدلے میں ہے لہذا ہم اس 450 کو کتنے کے مقابلے میں کر دیں گے؟
ساڑھے 450 کے مقابلے میں اور یہ جو 550 ہیں بھئی اس کو کس کے مقابلے میں کر دیں گے ہم؟
ڈالروں کے مقابلے میں صورت سمجھ میں آئی؟
تو آپ نے یہ کہا تھا 500 کے جتنے ڈالر بنتے ہیں وہ دے دو یہ تو نہیں کہا کہ 500 کے بدلے میں دے دو۔
500 کے جتنے بنتے ہیں وہ دے دو تو ادھر سے ہم اس کے صمن کتنے کر کتنے بڑھا دیے بھئی؟
یہ 550 کے بدلے گویا آپ لے رہے ہیں اور 450 کے بدلے 450 آ گئے تو مساوات آگئی لہذا اب ربا لازم نہیں۔
بھئی صورت سب کو سمجھ میں آئی۔
اسی طرح اس میں تھا بھئی دیکھیے بھئی ولو قال لِمن اگر کہا کسی شخص نے اس شخص کو أعطاہ درهما جس کو درہم عطا کیا تھا کہ اتنی بنصفہ فلوسا کہ مجھے دے دو اس کے نصف کے بدلے کیا دے دو؟
فلوس دے دو وبنصفہ اور اس کے نصف کے بدلے نصفا الا حّبۃ نصف درہم۔
مگر ایک رتی حّبہ رتی وزن ہے مولانا یہ۔
ایک رتی کم نصف درہم دے دو نصف کے بدلے میں۔
صورت سمجھ میں آرہی ہے؟
نصف کے بدلے میں۔
ایک رتی کم نصف درہم دے دو۔
فسد البیع بیع فاسد ہو جائے گی۔
ای قال اتنی بنصفہ فلوسا کہ دے دو مجھے اس کے نصف کے بدلے فلوس وبنصفہ ما ضرب من الفضۃ علی وزن نصف درهم الا حبۃ فيلزم الربا اور اس کے نصف کے بدلے وہ جو ڈھالی گئی ہو۔
ضرب ضرب کا ایک معنی آتا ہے بھئی وہ۔
ڈھالی جس میں مہر وغیرہ لگائی گئی ہو بھئی سکے کے طور پر بھئی۔
جو ڈھالی گئی ہے چاندی میں سے علی وزن نصف درہم کتنے وزن والی ہو؟
نصف درہم الا حبۃ مگر ایک رتی کم بھئی۔
تو دیکھو ایک طرف نصف درہم آپ نے کر دیا دوسری طرف ایک رتی کم نصف درہم کی چاندی کر دی تو فيلزم الربا کیا لازم آیا؟
ربا۔
بخلاف بخلاف اس کے اگر اس نے یہ کہا اتنی نصف درہم فلوس مجھے نصف درہم فلوس دے دو وبنصف الا حبۃ اور کیا دے دو؟
نصف الا ایک رتی کم نصف کیا دے دو؟
چاندی دے دو۔
ای أعطاہ درهما یہ صورت صحیح ہے بھئی ای أعطاہ درهما دیے اس نے عطا کیا ایک درہم وذکر الثمن اور ثمن بھی ان کے ذکر کر دیے کہ یہ یہ دے دو ولم یقسم علی اجزاء الدرہم اور ان کو تقسیم نہیں کیا درہم کے اجزاء پر کہ یہ کس کے بدلے میں ہے اور کس کے بدلے میں نہیں ہے بھئی۔
فنصف الا حّبۃ بمثلہ پس نصف ایک رتی کم نصف جو ہے وہ بمثلہ کس کے بدلے ہو جائے گا؟
اپنے مثل کے یعنی ایک رتی کم نصف کے بدلے ہو جائے گا۔
ایک طرف بھی ایک رتی کم نصف ہے دوسری طرف بھی ایک رتی کم نصف یہ دونوں ایک دوسرے کے بدلے ہو گئے وما بقی بالفلوس اور ما بقی یعنی ایک رتی زائد نصف یہ کس کے بدلے ہو گیا؟
فلوس۔
ولو قرر أعطنی صحۃ فی الفلوس فقط۔
اس کا تعلق پہلی صورت سے ہے پہلی صورت میں کیا کیا تھا بھئی؟
تقسیم خود کر دی تھی کہ نصف کے بدلے کیا دو؟ فلوس اور نصف کے بدلے کیا دو؟ ایک رتی کم نصف۔
اگر یہاں دو دفعہ اتنی کہ دے تو کہتے ہیں پھر بھئی فلوس کے اندر عقد صحیح ہو جائے گا پہلی صورت میں تو دونوں میں ہی فاسد تھا عقد۔
اب اگر اتنی مجھے دے دو یہ دو مرتبہ کہہ دیتا ہے تو پھر یہ دو بیع بن گئیں تو فلوس میں صحیح ہو جائے گی اور درہم اور چاندی وغیرہ میں صحیح نہیں رہے گی بھئی۔
कैसे देखो آپ نے ایک درہم دیا اور کہا اتنی بنصفہ فلوسا اس کے نصف کے بدلے مجھے کیا دے دو؟
فلوس پھر کہا واتی بنصفہ نصفا الا حّبۃ اور اس کے نصف کے بدلے مجھے کیا دے دو؟ ایک رتی کم نصف دے دو۔
تو دو عقد ہوئے۔
ایک نصف کے بدلے ایک رتی کم نصف دے دو یہ عقد تو فاسد ہو گیا اور پہلا عقد جو آپ نے بیع کی بھئی کہ نصف کے بدلے کیا دے دو؟
وہ صحیح ہو گئی تو پہلا عقد صحیح اور دوسرا عقد۔
صورت بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ مشکل ہے بھئی۔
ہاں دو پہلا دو عقد ہو گئے۔
ولو قرر أعطنی اگر مقرر کہا أعطنی صحۃ فی الفلوس فقط تو عقد فلوس میں صرف صحیح ہو جائے گا۔
جی کیا مطلب قررا کا ای قررا لفظ أعطنی فی الصورۃ الاولی دیکھا صورت اولی کی بات کی۔
مقرر کہا أعطنی کا لفظ صورت اولی کے اندر وہی تقسیم الدرھمی کون سی صورت اولی ہے بھئی جس میں اس نے درہم کی خود تقسیم کی تھی۔
تو درہم کی تقسیم والی ہے صحۃ فی الفلوس تو عقد صحیح ہو جائے گا فلوس کے اندر و لم یصح فی الدرہم الا حّبۃ اور ایک رتی کم درہم کے اندر صحیح نہیں ہوگا کیونکہ جب اس نے مقرر کہا۔
اتنی جب مقرر اتنی کہا صارا ب۔
تو یہ کتنی بیع بن گئیں؟
دو بیع بن گئیں بھئی۔
یہاں تک مسئلہ سب کو سمجھ میں آیا بھئی۔
جی کتاب الکفالة۔
ھی ضم ذمۃ الی ذمۃ فی المطالبۃ لا فی الدین ھو الاصح۔
کفالت بھئی ضمانت ضمانت کو کہتے ہیں کفالت۔
تو لغت میں کفالت کا معنی ہے ملانا۔
تو اس کے اندر بھی ایک شخص دوسرے شخص کے ذمے کے ساتھ اپنے ذمے کو ملا دیتا ہے۔
ایک شخص کیا کرتا ہے؟
اپنے ذمے کو دوسرے شخص کے ذمے کے ساتھ ملا دیتا ہے۔
مصلن دیکھو بھئی عامر نے زید کو پکڑا ہوا ہے چلو بھئی قاضی کے پاس چلو بھئی تم میرے پیسے ادا نہیں کر رہے تمہارے اوپر میرا دین ہے۔
امر کیا زید اور زید کہہ رہا ہے بھئی مجھے دو چار دن کی مہلت دے دو وہ مہلت نہیں دیتا بھئی کہ ابھی میرے پیسے ادا کرو۔
آپ وہاں پہنچ گئے آپ نے کہا بھئی زید کو چھوڑ دو میں ضمانت دیتا ہوں یہ تین دن میں آپ کے پیسے ادا کر دے گا اگر نہ ادا کیے تو میں ادا کر دوں گا۔
اس نے زید کو چھوڑ دیا پر اعتماد کیا۔
تو دیکھا آپ نے ضمانت دی زید کی۔
تو زید کے ذمے کے ساتھ بھئی آپ نے اپنے ذمے کو کیا کر دیا؟
ملا دیا کہ اگر یہ نہیں ادا کرے گا تو کون ادا کر دے گا؟
یعنی میں خود ادا کر دوں گا بھئی۔
تو دیکھا ملایا اپنے ذمے کو دوسرے ذمے کے ساتھ بھئی۔
تو کہتے ہیں ہی ضم ذمۃ الی ذمۃ فی المطالبۃ یہ ملانا ہے ایک ذمے کو دوسرے کے دوسرے ذمہ کے ساتھ فی المطالبۃ کس کے اندر بھئی؟
مطالبے کے اندر ملانا ہے یعنی جیسے عامر اب زید سے مطالبہ کرتا تھا اسی طرح اب آپ سے بھی کیا کر سکتا ہے؟
مطالبہ کر سکتا ہے لا فی الدین دین کے اندر ذمے کو ملانا نہیں ہے بھئی کہ جیسے اس پر دین ہے مجھ پر بھی دین ہے بھئی دین کے اندر تو تکرار نہیں ہوتا دین تو ایک ہی ہو سکتا ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی اس پر بھی دین ہو اور آپ پر بھی زید پر بھی دین تھا آپ پر بھی دین ہو جائے ایسا تو نہیں یہاں اس میں تو تکرار نہیں۔
تو یہ ذمے کو ذمے کے ساتھ ملانا ہے کس کے اندر؟
مطالبے کے اندر ملانا ہے یعنی جیسے اب زید سے مطالبہ کرے گا اسی طرح آپ سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے نہ تو دین کے اندر نہیں بھئی۔
هو الاصح اور یہی اصح ہے۔
وعند البعض ہی ضم الذمۃ الی الذمۃ فی الدین اور بعض علماء کے نزدیک یہ ملانا ہے ایک ذمے کو دوسرے ذمے کے ساتھ فی الدین کس کے اندر؟
دین کے اندر ملا ہے کیونکہ لو لم یثبوت الدین لم یثبوت المطالبہ وہ کہتے ہیں بھئی اس لیے کہ دین ثابت نہیں ہوگا تو مطالبہ بھی ثابت نہیں۔
دین ہوگا تو مطالبہ ہوگا لہذا ایک ذمے کو دوسرے ذمے کے ساتھ کس چیز میں ملانا ہے؟
دین کے اندر ملانا ہے۔
والاصح الاول مصنف فرماتے ہیں اصح اول ہی ہے کہ مطالبے میں ملانا ہے لان الدین لا یتکرر اس لیے کہ دین تو مقرر نہیں ہوتا اس میں تکرار نہیں۔
فاینہ لو آوفاہ احدہما اس لیے کہ اگر ان دونوں میں سے کسی ایک نے بھی ادا کر دیا لا یبقی علی الآخر شئی تو دوسرے پر کوئی چیز باقی تو دین میں نہیں ملایا ورنہ تو ایک ادا کر دے تو دوسرے پر پھر بھی دین باقی رہنا چاہیے یہ کس چیز کے اندر ملانا ہے ذمے کو؟
مطالبے کے اندر ملانا ہے دین کے اندر نہیں۔
अच्छा بھئی یہاں تین چار لفظ آپ کو یاد ہونے چاہیے بھئی۔
ضمانت دینے والا اس کو کہتے ہیں کفیل بھئی۔
ضمانت دینے والا اسے کیا کہتے ہیں؟
کفیل۔
جس کی ضمانت دی اس کو کہتے ہیں مکفول عنہ۔
جس شخص کی طرف سے ضمانت دی اس کو کیا کہتے ہیں؟
مکفول عنہ جس شخص کی طرف سے ضمانت دی۔۔
جس شخص کی طرف سے ضمانت دی اس کو کہتے ہیں مکفول عنہ۔
اور جس کو ضمانت دی اسے کہتے ہیں مکفول لہ۔
جس کو ضمانت دی اسے کہتے ہیں مکفول لہ۔
اور جس چیز کی ضمانت دی اسے مکفول بی کہتے ہیں۔
اور جس چیز کی ضمانت دی اسے مکفول بیہی کہتے ہیں۔
कितने लफ्ज़ हैं यहां पर चार कफील مکفول عنہ مکفول لہ اور مکفول بیہی کَفِیل کسے کہتے ہیں؟
جو ضمانت دیتا ہے اور جس کی طرف سے ضمانت دی جائے اسے کیا کہتے ہیں؟
مکفول عنہ اور جس کو ضمانت دی اسے کیا کہتے ہیں؟
مکفول لہ اور جس چیز کی ضمانت دی اسے کیا کہتے ہیں؟
مکفولی۔
تو یہ عامر نے زید کو پکڑا ہوا ہے اس سے اپنے دین کا مطالبہ کر رہا ہے بھئی۔
10 ہزار روپے اس نے اس کے دینے ہیں بھئی اب آپ مجھے بتائیے آپ نے ضمانت دی آپ کون ہوئ؟
کَفِیل بھئی۔
اور عامر ہے مطالبہ کرنے والا وہ کیا ہے؟
مکفول لہ وہ کون ہے؟
اور کس کی طرف سے ضمانت دی؟
زید کی طرف سے وہ کون ہوا؟
مکفول عنہ اور کس چیز کی ضمانت دی؟
10 ہزار کی وہ 10 ہزار کیا ہوئے؟
وہ مکفول بھی ہوئی۔
تو کہتے ہیں وهي ضربان بالنفس والمال یہ کفالت دو قسم پر ہے کفالت بنفس اور کفالت بالمال بھئی۔
بھئی کبھی نفس کی کفالت دی جاتی ہے کبھی مال کی۔
جیسے ابھی میں سورۃ ذکر کی آپ نے کس چیز کی ضمانت دی بھئی؟
مال کی کہ اگر اس نے تین دن تک مال ادا نہ کیا تو میں ادا کر دوں گا۔
دیکھا مال کی ضمانت دی۔
ایک صورت یہ ہے کہ نفس کی کوئی کسی شخص کی ضمانت دیتا ہے کہ بھئی یہ وہ کہتا ہے بھئی اس کا کوئی پتہ نہیں بھئی یہ کہاں چلا جائے میرے پیسے لے کر آپ کہتے ہیں نہیں بھئی فلاں تاریخ میں ضمانت دیتا ہوں یہ کہیں بھی نہیں جائے گا اس کو حاضر کرنا میرے ذمے۔
اس کو حاضر کرنا میرے ذمے تو دیکھا اس کو حاضر کرنے کی اس نفس کی ضمانت دی تو یہ کیا ہوا کفالت بن نفس ہوئی۔
وهي ضربان بالنفس والمال دو قسم پر ہے کفالت بن النفس کے بدلے اور مال کے بدلے فالاولینعقد پہلی جو ہے یعنی کفالت بن نفس جو ہے وہ منققد ہو جاتی ہے۔
کفلت بنفسیہ کہنے سے یعنی میں اس کے نفس کا ضامن ہوں ونحویهما جی اور اس جیسے لفظوں کے ساتھ۔
تو کبھی کبھار مکفول عنہ اور مکفول بیہی ایک ہی ہوتے ہیں۔
کس کی طرف سے بھئی؟
زید بھئی عامر زید کو قاضی کے پاس لے کر جا رہا ہے۔
آپ کہ بھئی یہ میرے پیسے ادا نہیں کرتا بھئی آپ نے بھئی کفالت نفس کی دی یہ کہیں شخص نہیں جاتا اس کے مہلت دے دو فلاں تاریخ کو میں ضامن ہوں اس کو میں حاضر کروں گا کیا کروں گا میں اس کو تو آپ نے نفس کی ضمانت دی بھئی۔
تو بھئی کس کی طرف سے دی؟
زید کی تو یہاں مکفول عنہ بھی وہی ہے اور مکفول بیہی بھی۔
اس کو نفس اسی کو حاضر کرنا ہے بھئی۔
جس کی طرف سے ضمانت دے رہے ہیں وہ کون ہے؟
مکفول عنہ وہ کون ہے؟
زید۔
اور کس چیز کی ضمانت دے رہے ہیں؟
اسی کے نفس کی تو مکفول بیھی بھی وہی ہوا مال کی بات نہیں کی آپ نے کہا آپ نے یہ کہا کہ اس کو حاضر کرنا میرے ذمے۔
تو کہتے ہیں یہ منقد ہو جائے گا کفلت بنفسیہ کے لفظ سے بھئی۔
میں اس کے نفس کا کفیل ہوں ونحویهما اور ان جیسے لفظ مِمَّا یعبر يعبر به عن بدنه چلیں یہ کر لیں ایسا لفظ جس کے ذریعے تعبیر کیا جائے اس کے بدن کو بھئی جس کے ذریعے کیا کیا جائے اس کے بدن کو تعبیر کیا جائے وبنفسه بنصفه کہنے سے بھی کیا ہو جائے گی منقد ہو جائے گی وبثلثہ کفلت بنصفہ یا کفلت بن ثلثہ اس کے ثلث کا میں کفیل ہوں بھئی۔
اس سے بھی منقد ہو جائے گی وبضمنتہ بھئی ضمنتہ کے لفظ سے بھی کیا ہو جائے گی کفالت
میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔ آگے ہے آ ہوا علیا بھئی، یہاں آ ہوا ہونا چاہیے بھئی کتابت کی غلطی بھئی، آ ہوا علیا۔
یا یوں کہتا ہے بھئی، لفظ یہ استعمال کرتا ہے ہوا علیا، یہ مجھ پر ہے، یہ کیا ہے؟ مجھ پر ہے تو یہ بھی کفالت اس سے ہو جائے گی ان لفظ۔ آ الیا یوں کہتا ہے ہوا الیا، کیا کہتا ہے؟ ہوا الیا کہتا ہے، یہ میری طرف ہے بھئی، یعنی اس کو حاضر کرنا میرے ذمہ اس سے بھی کفالت ہو جائے گی۔ وانا بہ زعیم، میں اس کا کفیل ہوں، زعیم بمعنی کفیل، اس سے بھی منعقد ہو جاتی ہے بھئی، اور قبيل، ای انا بہ قبيل، میں کیا ہوں اس کا کفیل ہوں، قبیل بمعنی کفیل۔
یہ سارے الفاظ عربی کے ان سے کفالت منعقد ہو جائے گی بھئی۔
کہتے ہیں ویلزمہ احضار المقفول لہ اور لازم ہے اس کفیل پر لا حاضر کرنا، کیا حاضر کرنا؟ مقفول بہ، یعنی وہ شخص، اس شخص کو حاضر کرنا اس پر لازم ہے بھئی۔
ان طلب المقفول لہ جب کیا کرے مقفول لہ طلب مطالبہ کرے، فلیم یحضره یحبسہ الحاکم، اگر یہ اس مقفول بہ کو حاضر نہیں کرتا، اس شخص کو حاضر نہیں کرتا تو حاکم اس کو قید کرے گا۔
وان عین وقت تسلیمہ، اور اگر اس نے متعین کر دیے اس کے سپرد کرنے کا کوئی وقت، لزمہ تو یہ اس پر کیا ہوگا؟ لزمہ ذالک، اس پر وہ اس وقت پر حاضر کرنا لازم ہوگا، بغیر طلب کے کیا ہو جائے گا اس وقت حاضر کرنا لازم ہوگا۔
ویبرا بموت من کفیل بہ، اور یہ بری ہو جاتا ہے مقفول بہ کی موت سے۔
بھئی آپ نے امر سے کہا تھا کہ زید کو فلاں تاریخ کو قاضی صاحب کے سامنے حاضر کرنا میری ذمہ داری ہے، اسے چھوڑ دو اس وقت بھئی۔
تو اب اس وقت قاضی کی مجلس میں حاضر کرنا آپ کے ذمے ہے، لیکن اس دوران اگر زید مر گیا جس کی آپ نے ضمانت دی تھی، وہی نہ رہا تو آپ کیا ہو گئے؟ کفالت سے بری ہو گئے کیونکہ اب آپ عاجز ہیں، حاضر کرنا ممکن ہی نہیں۔
ویبرا بموت من کفیل بہ، اور بری ہو جائے گا کفیل، کس موت اس شخص کی جس کی کفالت دی گئی تھی، ولو انہ عبد اں کیوں نہ ہو، اگرچہ آپ نے غلام تھا جس کی ضمانت دی تھی، کہتے ہیں اگر وہ بھی مر جائے پھر بھی کفیل کیا ہو جائے گا؟ بری ہو جائے گا۔
کہتے ہیں بھئی یہ غلام کے ذکر کیوں کیا؟ کہتے ہیں وإنما قال هذا فن التوهم ان العبد مال، فإذا تعذر تسلیمه لزم قیمته، یہاں ایک وہم کو دور کرنے کے لیے یہ عبارت ذکر کی ماتن نے بھئی۔
وہم یہ پڑھ رہا تھا کہ اگر غلام ہو، مقفول بہ کون ہو؟ غلام ہو تو غلام تو مال ہے، اگر وہ مر بھی گیا تو اس کی قیمت کا لانا اور حوالے کرنا ممکن ہے، ممکن ہے، اس کی قیمت لازم ہونی چاہیے لہذا، کہتے ہیں نہیں بھئی، یہاں اس نے غلام کی نفس کی ضمانت دی ہے بھئی، تو لہذا جب غلام مر گیا تو یہ بری ہوا۔
وإنما قال هذا دفعا لتوهومی، اور ماتن نے یہ فرمایا کہ اگرچہ وہ غلام ہی کیوں نہ ہو، کس لیے دفعا لتوهومی اس وہم کو دفع کرنے کے لیے کہ ان العبد مال کہ غلام تو مال ہے، فإذا تعذر تسلیمه لزم قیمته، جب اس کی تسلیم ممکن نہ رہی لزم قیمته، تو کیا لازم ہو گی اس کی قیمت لازم ہو جائے گی، وبدفعہ الی من کفیل لہ۔
اور اسی طرح بری ہو جائے گا، اس کا عطف بھی بموت پر ہے، ویبرا بدفعہ الی من کفیل لہ۔
حیث یمکنہ مخاصمتہ، صورت یہ ہے بھئی۔
آپ نے کیا کہا تھا کہ زید کو حاضر کرنا میری ذمہ داری ہے بھئی۔
اب اس طور پر اگر آپ زید کو حاضر کر دیتے ہیں کہ یہ جو امر ہے، اس سے خصومت کر سکتا ہے، قاضی کے پاس اسے لے جا سکتا ہے، تو پھر تو آپ بری ہو جائیں گے، اگر اس طور پر نہیں ہے، اس کو قاضی کے پاس نہیں لے جا سکتا، تو پھر آپ بری نہیں۔
مثلا، شہر کے اندر کیا کر دیتا ہے؟ آپ کے حوالے کر دیتا ہے جہاں آپ قادر ہیں، اب کیا کر سکتے ہیں؟ لوگوں کی مدد سے اس کو قاضی کے پاس لے جا سکتے ہیں، تو وہ بری ہو گیا۔
اور اگر اس نے آپ کے آپ نے زید کو کہاں حوالے کیا بھئی؟ جنگل کے اندر حوالے کیا، وہاں امر آپ کو ملا، آپ نے کہا یہ لو بھئی زید کا میں نے کہا تھا کہ میں حاضر کروں گا، یہ آپ کے سپرد ہے زید۔
نہیں بھئی! وہاں سے، وہاں پر وہ اس سے خصومت کیسے کر سکتا ہے؟ کیسے قاضی کے پاس لے کر جائے گا؟ سمجھ میں آیا بھئی! امر، تو زید تو مسن پہلوان ہے، اس کو دو چار لگائے گا پھر بھاگ جائے گا بھئی۔
سمجھ میں آیا، تو ایسی جگہ کہ وہاں خصومت کر سکے، اس کو قاضی کے پاس لے جا سکے، پھر بری ہوگا۔
اور وہ بری ہو جائے گا بدفعہ ہی بھئی، اس کو مطلوب کو حوالے کرنے سے بھئی، مقفول بہ کو حوالے کرنے سے الی من کفیل لہ، اس شخص کے جس کو ضمانت دی تھی، یعنی مقفول لہ۔
مقفول لہ کے حوالے کرنے سے بری ہو جائے گا، حیث اس طور پر یمکنہ مخاصمتہ کہ وہاں اس کے ساتھ خصومت بھی مخاصمہ بھی وہ کر سکے وہاں پر، وان لم یقل إذا دفعت الیك فانا بریء، اگرچہ اس نے یہ نہ کہا ہو کہ جب میں تیرے حوالے کر دوں گا تو میں بری ہوں گا۔
آپ نے ضمانت دیتے ہوئے یہ نہیں کہا تھا کہ بھئی جب میں زید کو آپ کے حوالے کر دوں گا تو میں بری ہو جاؤں گا۔
آپ نے یہ کوئی کہا تھا؟ آپ نے یہ نہیں کہا تھا، لیکن یہ کہیں یا نہ کہیں بھئی، خود بخود کیا ہو جائیں گے آپ؟ جب آپ نے اس کے حوالے کر دیا جہاں وہ اس سے خصومت کر سکتا ہے، قاضی کے پاس لے جا سکتا ہے، تو آپ خود بخود کیا ہو جائیں گے؟ بری ہو جائیں گے۔
اگرچہ نہ کہا ہو اس نے کہ میں جب تیرے حوالے کروں تو میں بری ہوں گا، پھر بھی وہ بری ہو جائے گا۔
فان شرط تسلیمہ فی مجلس القاضی، اگر شرط لگائی اس کے سپرد کرنے کی قاضی کی مجلس میں کہ کہاں پر اس کو حاضر کروں گا؟ اور آپ نے کہا تھا میں قاضی کی مجلس میں حاضر کروں گا، وسلم فی السوق، اور آپ نے اس کو سپرد کر دیا بازار کے اندر بھئی، بازار میں تھا، امر کھڑا تھا، آپ نے زید لا کر حوالے کر دیا، او فی مصر آخر، یا کسی دوسرے شہر میں حاضر کر دیا، بری، پھر بھی آپ کا کفیل کیا ہو جائے گا؟ بری ہو جائے گا کیونکہ یہاں کہتے ہیں خصومت ممکن ہے، لوگوں کی مدد سے کیا کر لے گا؟ قاضی کے پاس لے جائے گا۔
دوسرے شہر میں ہوا تو وہاں بھی وہاں کے قاضی کے پاس لے جائے گا۔
وان سلم فی بریة، اور اگر سپرد کیا جنگل کے اندر، او فی السواد، یا کس کے اندر؟ کسی دیہات وغیرہ کے اندر بھئی، اطراف میں۔
بھئی دیہات وغیرہ میں تو عموماً قاضی نہیں ہوتے بھئی، تو لہذا وہاں پر بھی خصومت نہیں کر سکتا، او فی السجن، یا کہاں حوالے کیا؟ جیل میں، وقد حبسه غیرہ اس حال میں کہ اس کو تحقیق قید کروایا تھا اس کے علاوہ کسی اور نے۔
کیا ذکر کیا؟ او فی السجن وقد حبسه غيره لا، اس صورت میں بری نہیں ہوگا۔
آپ نے بھئی کس کی ضمانت دی تھی؟ امر کو، زید کی۔
آپ نے امر کو کہا تھا کہ میں اس زید کو قاضی کی مجلس میں آپ کے حوالے کروں گا۔
زید نے دینا تھا دراصل امر کا دین بھئی۔
لیکن زید نے بکر کا بھی دین دینا تھا، تو بکر نے اس کو قاضی کے لیے جیل میں ڈلوا دیا۔
آپ کو پتہ چلا بھئی کہ زید تو جیل میں ہے، آپ گئے بھئی، امر سے کہا یہ لو بھئی، جیل کے اندر کون ہے؟ زید حاضر ہے، آپ کے حوالے ہے، مطالبہ کرو اس سے۔
کہتے ہیں بھئی۔
اس صورت کے اندر بھی بری نہیں ہوگا، بری نہیں ہوگا، بری نہیں۔
اگر اس نے خود اس کو قید کروایا ہے کسی اور مطالبے میں، پھر تو کیا کر سکتا ہے؟ پھر تو یہ بری ہو جائے گا، قید بھی کس نے کروایا ہے؟ امر ہی نے قید کروایا ہے اور آپ نے ضمانت بھی کس کو دی تھی؟ امر ہی کو دی تھی، تو اب آپ کہتے ہیں یہ لو بھئی جیل کے اندر حاضر ہے، اب تو آپ بری ہو گئے، لیکن اگر کسی اور نے قید کروایا ہے تو پھر آپ بری نہیں ہوں گے۔
دیکھیے اب اس کی تفصیل بتائیں گے بھئی ذرا۔
جی کہتے ہیں احوال زمانے کے بدل گئے، زمانہ بدل گیا تو کچھ فرق آ گیا مسائل میں۔
کیا ذکر کیا؟ او فی السجن وقد حبسه غیره لا، اس صورت میں بری نہیں ہوگا۔
قیل کہا گیا ہے فی زماننا لا یبرا ہمارے زمانے میں وہ بری نہیں ہوگا بتسلیمہ فی السوق، اس کو بازار میں سپرد کرنے سے۔
بازار میں سپرد کرنے سے پہلے زمانے کے اندر کیا ہوتا تھا؟ بری ہو جاتا تھا کیونکہ لوگ اس کی مدد کرتے اور اس کو کس کے پاس پہنچا دیتے بھئی؟ قاضی کے پاس اس کے ساتھ اس شخص کو لے جاتے، لیکن کہتے ہیں اب وہ زمانہ نہیں رہا، اب لوگ کیا کرتے ہیں؟ اب لوگ قاضی کے لوگ حق بات کے اندر دوسرے کے ساتھ تعاون نہیں کرتے، تو لوگ اسے بجائے اس کے قاضی کے پاس لے کر جائیں، اس کو قاضی سے روکنے کی کوشش کریں گے کہ کسی طرح اس کی جان چھڑائیں، یہ بیچارہ، یہ معلوم ہوا یہ مظلوم معلوم ہوتا ہے، جس سے مطالبہ ہو رہا ہے، وہ انہیں کیا معلوم ہوتا ہے؟ مظلوم ہے اور تو اس کی مدد کریں گے اور اس کو بھگا دیں گے، حالانکہ اس نے تو دین دینا ہے آپ کا بھئی۔
تو بازار میں سپرد کرنے سے بری نہیں ہوگا، لانه لا يعاونه احد علی احضاره مجلس القضاء، اس لیے کہ کوئی بھی تعاون نہیں کرے گا اس کے مجلس قضا کے اندر حاضر کرنے پر، فلعلی هذا ان سلمہ فی مصر آخر إنما یبرا إذا سلمہ فی موضع یقدر علی احضاره فی مجلس القضاء، بنا بر اس کے اگر اس کو سپرد کر دیا کسی دوسرے شہر کے اندر تو وہ بری ہو جائے گا جب اس نے سپرد کیا ہو ایسی جگہ کے اندر کہ وہ قادر بھی ہے کہ اس کو حاضر کر سکے مجلس قضا میں، مجلس قضا میں حاضر کر سکتا ہے تو بری ہوگا، اگر نہیں کر سکتا تو بری نہیں۔
حتی لو سلمہ فی سوق مصر آخر لا یبرا فی زماننا، یہاں تک کہ اگر سپرد کر دیا کسی دوسرے شہر کے بازار میں تو بری نہیں ہوگا ہمارے زمانے کے اندر لعدم حصول المقصود، اس لیے کہ مقصود یہاں پر حاصل نہیں ہو رہا بھئی، جی وہ خصومت نہیں کر سکتا اس سے۔
اور قولہ وقد حبسه غيره، ماتن نے جو کہا نا کہ اس کو قید میں ڈالا ہو اس کے علاوہ نے، ای غير هذا الطالب، اس مطالبہ کرنے کے کے علاوہ کسی شخص نے جیل میں ڈالا ہو۔
قیل کہا گیا ہے إنما لا یبرا ها هنا، کہ یہاں پر یہ بری نہیں ہوگا، بھئی قید میں پھر تو وہ کہیں جا ہی نہیں سکتا تو خصومت تو ہو سکتی ہے، قاضی کے پاس لے جائے، قاضی کے پاس چلا جائے، وہ جیل میں ہے، فلاں شخص نے میرے پیسے دینے ہیں۔
یہاں پر کیوں نہیں بری ہوگا؟ کہتے ہیں یہاں پر، یہ اس صورت میں ہے، یہاں پر بری نہیں ہوگا اذا كان السجن سجن قاضی آخر، جبکہ یہ جیل کسی دوسرے قاضی کی ہو، کس کی ہو؟ کسی دوسرے قاضی کی ہو۔
جی، أما لو كان السجن سجن هذا القاضی، اگر یہ جیل اسی قاضی کی تھی، چاہے پھر کسی اور نے جیل میں کیوں نہ ڈلوایا ہو، یہ وہاں پر اگر کہہ دیتا ہے تو یبرا کیا ہو جائے گا؟ بری ہو جائے گا۔
وان كان حبسه غير هذا الطالب، اگرچہ جیل میں اس کو ڈالا ہو اس موطالبہ کرنے کے علاوہ نے، لان القاضی قادر علی احضاره من سجنه، اس لیے کہ قاضی قادر ہے کہ اس کو جیل میں سے کیا کر دے؟ حاضر کروا دے۔
چلیے بس مولانا، ھذا واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔