Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-091

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَصَحَّ إِقْرَارُ الوَكِيلِ بِالخُصُومَةِ عِنْدَ القَاضِي وَعِنْدَ غَيْرِهِ لَا. هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَجُوزُ. وَإِنْ كَانَ عِنْدَ غَيْرِ القَاضِي وَعِنْدَ زُفَرَ وَكَذَا عِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ لَا يَجُوزُ أَصْلًا. لِأَنَّهُ مَمْمُورٌ بِالخُصُومَةِ لَا بِالإِقْرَارِ وَلَنَا أَنَّ الخُصُومَةَ يُرَادُ بِهَا الجَوَابُ فَتَضَمَّنَ الإِقْرَارَ. صورتِ مسئلہ یہ ہے مولانا، ایک شخص نے مثلاً میرے اوپر دعویٰ کیا بھئی۔ کیا کیا؟ دعویٰ کیا میرے اوپر مال کا کہ آپ نے ایک لاکھ روپیا دین دینا ہے۔ میں نے انکار کیا اور ایک شخص کو وکیل بالخصومت بنایا کہ تم کیا کرو میری طرف سے خصومت کرو۔ تو یہ وکیل بالخصومت کس بنایا میں نے خصومت کے لیے، تو یہ جا کر انکار کرے گا بھئی رد کرے گا کہ میں نے اس کے مدعی کے کوئی پیسے نہیں دینے، تو کیا اگر وہ اقرار کر لے تو وہ اقرار کر سکتا ہے وہ معتبر ہے یا معتبر نہیں؟ کہتے ہیں بھئی اگر قاضی کے سامنے وہ اقرار کر لیتا ہے کہ ہاں میرے موکل نے واقعی کیا ہے اس کے پیسے دینے ہیں تو اس کا اقرار معتبر ہے امام طرفین کے نزدیک، اور اگر قاضی کے علاوہ عام لوگوں میں کہیں اقرار کر لیتا ہے تو وہ اقرار معتبر نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو وکیل بالخصومت کو وہ اقرار کر سکتا ہے لیکن اس کا اقرار معتبر کب ہوگا؟ جب قاضی کے پاس ہو۔ اگر قاضی کے علاوہ کہیں اور پر کہیں اور اقرار کرتا ہے تو وہ معتبر نہیں۔ وَصَحَّ إِقْرَارُ الوَكِيلِ بِالخُصُومَةِ عِنْدَ القَاضِي اور صحیح ہے اقرار وکیل بالخصومت کا قاضی کے پاس، وَعِنْدَ غَيْرِهِ لَا اور قاضی کے علاوہ کے پاس لَا بھئی، معتبر صحیح نہیں ہے اس کا اقرار۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَجُوزُ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز ہے بھئی، چاہے قاضی کے سامنے اقرار کرے چاہے قاضی کے علاوہ کہیں اور کسی کے پاس اقرار کر دے تو وہ بھی صحیح بھئی، اس کو بھی پھر بینہ کے ذریعے کیا کیا جا سکتا ہے؟ ثابت کیا جا سکتا ہے، معتبر ہے بھئی۔ وَعِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَكَذَا عِنْدَ الشَّافِعِيِّ امام زفر اور اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ جو ہیں ان کے نزدیک لَا يَجُوزُ أَصْلًا سرے سے جائز ہی نہیں۔ وکیل بالخصومت بھئی وہ لَا کے ساتھ جواب دے گا، نَعَم کے ساتھ وہ جواب اقرار نہیں کر سکتا لِأَنَّهُ مَمْمُورٌ بِالخُصُومَةِ لَا بِالإِقْرَارِ اس لیے کہ وہ مامور بالخصومت ہے، اس کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے؟ خصومت کرنے کا یعنی اس کو کہ قسم کو ہر چیز میں کیا کرو؟ رد کرتے رہو، لَا بِالإِقْرَارِ اقرار کا حکم اسے نہیں دیا گیا، وَلَنَا اور ہم جواب ہماری دلیل یہ، أَنَّ الخُصُومَةَ يُرَادُ بِهَا الجَوَابُ کہ خصومت سے کس کا ارادہ کیا جاتا ہے؟ جواب۔ میں نے ایک تو شخص کو وکیل بنایا کہ اب میری طرف سے کیا کرو؟ خصومت کرو یعنی میری طرف سے جواب دو اس کو بھئی، کیا کرو؟ تو جواب جیسے لَا کے ساتھ ہو سکتا ہے اسی طرح نَام کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے بھئی، تو لہذا اس کے لیے جواب مراد ہے فَتَضَمَّنَ الإِقْرَارَا تو وہ اقرار کو بھی متضمن ہے وہ جواب بھئی، شامل ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ كَتَوْكِيلِ رَبِّ المَالِ كَفِيلَهُ بِقَبْضِ مَالِهِ عَنِ المَفْعُولِ عَنْهُ. صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے۔ میں نے زید کو ایک گاڑی فروخت کی، اس نے اب گاڑی کے عوض میں مجھے ایک لاکھ روپیا دینا ہے لیکن ابھی نہیں دے گا، مجھے چھ ماہ کے بعد دے گا بھئی۔ تو چھ ماہ کے بعد اس نے مجھے ثمن دینے ہیں اور اس کے ثمن کے عوض پھر میں اس سے کیا لے لیتا ہوں کوئی؟ ضامن لے لیتا ہوں، کفیل لے لیتا ہوں کہ بھئی ضمانت دو مجھے کہ چھ ماہ بعد تم میرے پیسے دے دو گے۔ وہ ایک شخص کو لے آیا جس نے مجھے ضمانت دے دی کہ یہ کیا کرے گا چھ ماہ بعد آپ کے پیسے ادا کر دے گا، ادا کر دے گا۔ اچھا، اب بھئی جب وقت آیا میں کیا کرتا ہوں؟ میں اسی کفیل کو اپنا وکیل بنا دیتا ہوں، کیا کرتا ہوں؟ اسی کفیل کو وکیل بنا کر بیچتا ہوں کہ جاؤ بھئی، وہ جس شخص نے میری گاڑی مجھ سے خریدی تھی جس کی طرف سے آپ نے ضمانت دی تھی جاؤ، اس مَفْعُولٍ عَنْهُ سے کیا کرو؟ میرا مال وصول کرکے لے آؤ بھئی۔ تو کہتے ہیں بھئی یہ وکیل بنانا اس کفیل کو اسی مال کے لیے وصولی کے لیے جس کی اس نے کفالت دی تھی، ضمانت دی تھی، یہ توکیل درست نہیں ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ کفیل کو کیا بنانا؟ وکیل بنانا، اسی مال کو وصول کرنے کے لیے جس کی اس نے ضمانت دی تھی یہ توکیل درست نہیں، یہ وکیل بنانا درست نہیں، کیوں نہیں درست بھئی؟ کہتے ہیں اس لیے کہ وکیل اس کو کہتے ہیں جو غیر کے لیے کام کرے، اور یہاں تو وکیل اپنے لیے کام کر رہا ہے۔ وکیل اب بھئی جواب بناتے تو وہ اپنے لیے کام کرتا ہے یا آپ کے لیے کرتا ہے بھئی؟ وہ آپ کے لیے، غیر کے لیے کوئی کام کرتا ہے، لیکن یہاں وکیل اگر ہم کفیل کو وکیل بنائیں تو وہ تو اپنے لیے کام کر رہا ہے، کیوں؟ اس لیے کہ جب مَفْعُولٍ عَنْهُ وہ مال ادا کر دے گا تو وکیل کا ذمہ کیا ہو جائے گا؟ ضمانت سے وہ بری ہو جائے گا اس کو تو، لہذا تو وہ گویا اپنے لیے کام کر رہا ہے، اپنے آپ کو کفالت سے بری کرنے کے لیے، تو یہ توکیل درست نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اوپر آیا تھا وَعِنْدَ غَيْرِهِ لَا باقیوں کا قاضی کے علاوہ کسی کے پاس اقرار کرتا ہے وکیل بالخصومت، تو وہ صحیح نہیں، كَتَوْكِيلِ رَبِّ المَالِ جیسے کہ یہ توکیل صحیح نہیں۔ كَتَوْكِيلِ رَبِّ المَالِ كَفِيلَهُ یہ یعنی جیسے کہ صحیح نہیں ہے وکیل بنانا رب المال کا، كَفِيلَهُ اپنے کفیل کو بِقَبْضِ المَالِ اپنے مال کے قبضے کا وکیل عَنِ المَفْعُولِ عَنْهُ کہ وہ قبضہ کرے کس پر بھئی؟ مَقْبُول بهِ بھئی وہ مال جس کی اس نے کیا دی تھی؟ ضمانت، اسی پر قبضہ کر لے کس کی کس سے مَقْبُول عنه سے لے کر بھئی۔ لِأَنَّ الوَكِيلَ مَنْ يَعْمَلُ لِغَيْرِهِ اس لیے کہ وکیل وہ شخص ہوتا ہے جو عمل کرتا ہے اپنے علاوہ کے لیے، وَهُوَ هُنَا يَعْمَلُ لِنَفْسِهِ اور وہاں تو وہ یہاں پر تو وہ اپنے لیے عمل کر رہا ہے، کہ اپنے آپ کو کیا کر لے کفالت سے بری کر لے، وَمُصَدِّقُ الوَكِيلِ بِقَبْضِ دَيْنِهِ إِنْ كَانَ غَرِيمًا أُمِرَ بِدَفْعِ دَيْنِهِ إِلَى الوَكِيلِ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی۔ ایک آدمی جو غائب ہے بھئی، کہیں اور ہے، مثلاً مکہ میں ہے بھئی، یہاں پر ایک شخص اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس کا وکیل ہوں، وہ جو شخص مکہ گیا ہوا ہے میں اس کا تو وکیل ہے غائب، تو یہاں پر ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ میں اس کا وکیل ہوں اور زید نے اس کا ایک لاکھ روپیا دینا ہے بھئی، تو اس غائب نے مجھے اپنا وکیل بنایا ہے اس ایک لاکھ کی وصولی کے لیے، لاؤ بھئی، اس کا ایک لاکھ روپیا مجھے دے دو۔ مَجْيُون بھی اس کی تصدیق کرتا ہے کہ ہاں ہاں واقعی یہ کیا ہے اس غائب کا وکیل ہے، تو کہتے ہیں اب اس مَجْيُون کو حکم دیا جائے گا کہ دین اس کے حوالے کر دو۔ جب وکیل نے دعویٰ کیا کہ وہ وکیل ہے غائب کا اور مَجْيُون نے کیا کردی اس کی تصدیق کردی، تو اب مَجْيُون کو کیا حکم دیا جائے گا؟ کہ دین اس کے حوالے کر دو، چنانچہ وہ دین اس کے حوالے کر دے گا۔ پھر آکر وہ غائب آیا مولانا بعد میں، حاضر آگیا، آنے کے بعد اب وہ کہتا ہے کہ یہ تو میرا وکیل نہیں تھا، میں نے تو اس کو وکیل نہیں بنایا، آپ نے اسے پیسے کیوں دیے؟ تو اب وہ جو مَجْيُون تھا اس کو دوبارہ اسے پیسے دینے پڑیں گے۔ اسے کیا کرنا پڑے گا؟ دوبارہ اسے پیسے دینے پڑیں گے بھئی۔ دوبارہ اسے پیسے دینے پڑیں گے۔ دوبارہ اس اصیل کو وہ اب پیسے دے دے گا وہ، موکل کو پیسے دے دے گا۔ اچھا بھئی، وہ جو وکیل کو اس نے ادائیگی کر دی تھی وہ کہتے ہیں بھئی وہ تو اس کی اپنی غلطی ہے، اس نے خود کیا کیا تھا؟ اقرار کیا اس کی تصدیق کی تھی کہ یہ اس کا وکیل ہے، تو پھر کیا کریں بھئی؟ کہتے ہیں بھئی اس وکیل پر یہ رجوع کرے گا، لیکن ضمان نہیں لے سکتا اس سے، ہاں اگر وہی مال اس کے پاس ابھی بھی باقی ہے تو اس سے لے لے۔ اگر سارا باقی ہے تو سارا لے لے، اگر آدھا سے آدھے سے زیادہ جتنا وہ خرچ کر چکا ہے وہ خرچ ہو گیا تو ما بقیہ کو کیا کر لے اس سے لے لے، ضمان نہیں لے سکتا، چاہے وہ سارا خرچ کر چکا ہو، چاہے کچھ خرچ کر چکا ہو، وکیل سے وہ ضمان نہیں لے سکتا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کیونکہ اس نے خود اقرار کیا، خود اس کی تصدیق کی تھی، یہ معنی ہے۔ وَمُصَدِّقُ الوَكِيلِ اور وکیل کی تصدیق کرنے والا، کون سا وکیل؟ بِقَبْضِ دَيْنِهِ جو اس کے دین پر قبضے کا وکیل ہے، اس کے دین پر قبضے کے وکیل کی تصدیق کرنے والا إِنْ كَانَ غَرِيمًا وہ تصدیق کرنے والا اگر کیا ہو؟ قرضدار ہو یعنی مَجْيُون ہو، أُمِرَ بِدَفْعِ دَيْنِهِ إِلَى الوَكِيلِ تو اس کو حکم دیا جائے گا دین حوالے کرنے کا کس کے؟ وکیل۔ بھئی اس نے تصدیق کر دی کہ یہ واقعی اس غائب کا وکیل ہے، تو اس غریم کو اب کیا حکم دیا جائے گا کہ دین کس کے سپرد کر دو اب؟ وکیل کے سپرد کر دو۔ اَي دَارَ رَجُلٌ دعویٰ کیا ایک آدمی نے کہ وہ وکیل الغائب ہے، بِقَبْضِ دَيْنِهِ من الغريمِ اس غائب کے دین پر قبضہ کرنے کا، اس کے غریم سے، اس کے قرضدار سے، فَصَدَّقَهُ الغَرِيمُ تو قرضدار نے بھی اس کی تصدیق کر دی، أُمِرَ بِتَسْلِيمِ الدَّيْنِ إِلَى الوَكِيلِ تو اس قرضدار کو، مَجْيُون کو حکم دیا جائے گا کہ وہ دین سپرد کر دے اس وکیل کے، ثُمَّ إِنْ كَذَبَهُ الغَائِبُ پھر اگر وہ غائب آیا اور اس نے تکذیب کر دی اس کی بھئی، کس کی؟ وکیل کی، تکذیب کر دی، دَفَعَ الغَرِيمُ إِلَيْهِ ثَانِيًا تو حوالے کرے گا غریم اس کے دین کو ثانِيًا دوسری مرتبہ، وَيَرْجِعُ بِهِ عَلَى الوَكِيلِ اچھا بھئی وہ جو وکیل کو دے دیا تھا اس نے پہلے، کہتے ہیں وہ رجوع کر لے گا اس کے ساتھ عَلَى الوَكِيلِ کس پر؟ وکیل پر، کس چیز میں رجوع کرے گا؟ فِيمَا بَقِيَا جو ما بقیہ ہو اس کے پاس اس میں، اگر سارا پڑا ہے تو سارا لے لے، اگر کچھ خرچ کر چکا ہے تو وہ ما بقیہ اس سے رجوع کرکے واپس لے لے، وَفِيمَا ضَاعَلَا اور جتنا ضائع ہو چکا ہے اس میں رجوع نہیں کر سکتا۔ اچھا، بھئی یہ غائب کو دوبارہ کیوں دے گا وہ؟ ایک دفعہ تو دے چکا ہے، کہتے ہیں لِأَنَّ غَرْضَهُ مِنْ دَفْعِهِ بَرَاءَةُ ذِمَّتِهِ اس لیے کہ یہ جو غریم نے کی غرض کیا تھی من دفعہ، قرض کے دین کو جو اس نے وکیل کے حوالے کیا تھا، اس کی غرض کیا تھی؟ بَرَاءَةُ ذِمَّتِهِ کہ اس کا ذمہ کیا ہو جائے؟ بری ہو جائے، یہ دین سے بری ہو جائے، فارغ ہو جائے، اس لیے اس نے وکیل کے حوالے پیسے کر دیے تھے، فَإِذَا لَمْ يَحْصُلْ غَرْضُهُ بس جب اس کی غرض حاصل نہ ہوئی، اس کا ذمہ بری ہوا؟ اصیل نے تو، موکل نے تو آکر کیا کہہ دیا، میں نے تو اسے وکیل بنایا ہی نہیں، تو اس کا ذمہ تو اس کی غرض حاصل نہ ہوئی، فَيَنْتَقِضُ الدَّفْعُ تو وہ جو حوالے اس نے کیا تھا، وہ کیا ہو گئی؟ وہ ہوا، وہ ٹوٹ گئی، وہ ختم ہوئی مولانا۔ أَمَّا إِنْ ضَاعَلَا لَا يَضْمَنُهُ باقی اگر وہ مال ضائع ہو گیا ہے، تو وہ وکیل کو ضامن نہیں بنا سکتا، اس سے ضمان نہیں لے سکتا، لِأَنَّهُ اعتراف اس لیے کہ اس نے خود اعتراف کیا تھا، أَنَّهُ مُحِقٌ فِي القَبْضِ کہ وہ وہ حق پر ہے قبضے میں بھئی، وہ کس پر ہے؟ حق پر ہے وہی قبضے میں، اس نے خود تصدیق کی تھی کہ یہ اس کا وکیل ہے، وَالِاسْتِرْدَادُ بِهِ أَسْهَلُ مِنَ التَّضْمِينِ اور اس سے واپس لے لینا، ما بقیہ کو اس سے واپس لے لینا، أَسْهَلُ یہ زیادہ آسان ہے مِنَ التَّضْمِينِ اس پر ضمان، ضامن بنانے سے، سمجھ میں آیا؟ ایک صورت یہ ہے نا کہ ما بقیہ اس سے واپس لے لے، وکیل کو جو اس نے مال دیا تھا اس سے کیا کرے؟ ما بقیہ لے لے، ایک صورت یہ ہے کہ اس سے کیا لے لے؟ ضمان لے لے بھئی، کہ اس نے کیوں خرچ کیا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس نے خود چونکہ اعتراف کیا تھا کہ وہ حق پر ہے، وہ واقعی وکیل ہے اور مال لے رہا ہے، تو لہذا اب اس کو ضامن نہیں بنایا جائے گا، بلکہ جو ما بقیہ ہے اس سے لے لیا جائے گا۔ تو اس سے واپس مال کو لے لینا، یہ زیادہ آسان ہے اس کو ضامن بنا دینے سے، فَلَهُ وَلَايَةُ ذَلِكَ وَلَا وَلَايَةُ هَذَا تو اسے اس کی ولایت تو ہوگی، یعنی ما بقیہ کو واپس لینے کی ولایت تو ہوگی، لَا وَلَايَةُ هَذَا لیکن اس چیز کی ولایت نہیں ہوگی، یعنی ضامن بنانے کی ولایت تو اس سے ضمان نہیں لیں گے، صورت بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ نہیں بھئی؟ إِلَّا إِذَا كَانَ ضَمِنَهُ عِنْدَ دَفْعِهِ أَوْ دَفَعَ إِلَيْهِ عَلَى ادِّعَائِهِ غَيْرَ مُصَدِّقٍ وَقَالَتْهُ. ہاں، دو صورتوں میں ضمان لے گا۔ بھئی اس صورت میں تو ضمان نہیں تھا، جب مَجْيُون نے کیا کر دی تھی وکیل کے تصدیق کر دی تھی۔ اب دو صورتوں میں ضمان لے گا، کہ وکیل کو پیسے دیتے ہوئے اس نے وکیل سے ضمان بھی لے لیا ہو، اس سے ضمانت لے لی ہو، وکیل نے کہا بھئی، میں اگر غائب نے آکر میرے وکیل ہونے کا انکار کیا تو میں تمہیں یہ پیسے واپس لوٹا دوں گا، تو وکیل نے ضمانت دے دی تھی، لہذا اس صورت میں اب وکیل پر کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا، اس سے ضمان لے لے بھئی، ساری رقم واپس لے لے گا۔ ایک ایک یہ صورت کہ وکیل کو پیسے دیتے ہوئے اس سے ضمان بھی لیا تھا۔ دوسری صورت یہ کہ بغیر تصدیق کے اس کے مال حوالے کر دیا تھا۔ وکیل نے دعویٰ کیا تھا کہ میں کس کا وکیل ہوں؟ وہ جو غائب ہے مکہ کے اندر اور اس نے اس کی تصدیق نہیں کی کہ ہاں تم اس کے وکیل ہو، بلکہ ویسے ہی اس کے دعوے پر ہی مال اٹھا کر اس کے حوالے کر دیا، تو اس صورت میں بھی ضمان لے گا مولانا، کیونکہ اس نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔ إِلَّا إِذَا كَانَ ضَمِنَهُ عِنْدَ دَفْعِهِ مگر یہ کہ اس نے اس ضامن بنایا ہو اس وکیل کو عِنْدَ دَفْعِهِ اس دین کے دیتے ہوئے، أَوْ دَفَعَ إِلَيْهِ عَلَى ادِّعَائِهِ غَيْرَ مُصَدِّقٍ وَقَالَتْهُ اس کی وکیل، وکیل کی وکالت، اس کی وکالت کی تصدیق کیے بغیر ہی اس نے اس کے دعوے پر مال حوالے کر دیا تھا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ بيان قال الوكيلُ بَيِّنَۃً اور وکیل نے یوں کہا، وکیل نے ضمانت دی تھی مال لیتے ہوئے یوں کہا تھا: إِنْ حَضَرَ الغَائِبُ اگر وہ غائب آگیا، حاضر हुआ، وَأَنْكَرَ التَّوْكِيلَ اور اس نے مجھے وکیل بنانے کا انکار کیا، فَإِنِّي ضَامِنٌ هَذَا المَالِ تو میں اس مال کا ضامن ہوں۔ یہ ایک صورت۔ دوسری صورت کیا تھی؟ کہ اس کی تصدیق کیے بغیر ہی اس کے مال حوالے کر دیا تھا وہ بتلا رہے ہیں۔ أَوِ الغَرِيمُ دَفَعَ إِلَيْهِ يَا وہ قرضدار نے مال اس کے حوالے کر دیا تھا، بِنَاءً عَلَى دَعْوَى الوَكِيلِ بِنَا بر کس کے؟ وکیل کے دعوے کے مال اس کے حوالے کر دیا تھا من غيرِ أَنْ يُصَدِّقَ وَكَالَتَهُ بغیر اس کے کہ تصدیق کرے اس کی وکالت کی، فَفِي هَاتَيْنِ الصُّورَتَيْنِ ان دو صورتوں کے اندر، إِنْ أَنْكَرَ الغَائِبُ اگر غائب آکر انکار کر دیتا ہے وکیل کا، فَالغَرِيمُ يُضَمِّنُ الوَكِيلَ تو وہ غَرِيم، مَجْيُون کیا کرے گا؟ ضامن بنائے گا کس کو؟ وکیل کو، کب؟ إِنْ ضَاعَ المَالُ اگر مال کیا ہو گیا ہو؟ ضائع ہو گیا ہو۔ وَإِنْ كَانَ مُودَعًا لَمْ يُؤْمَرْ بِدَفْعِ هَاءِ إِلَيْهِ. بھئی وَإِنْ كَانَ مُودَعًا گزشتہ صفحے پر متن آیا تھا۔ إِنْ كَانَ غَرِيمًا اس پر عطف ہے مولانا۔ تو عبارت یوں بن گئی وَمُصَدِّقُ الوَكِيلِ بِقَبْضِ عَيْنِهِ إِنْ كَانَ مُودَعًا بھئی دین کی جگہ کیا ہو جائے گا؟ عَيْنِهِ إِنْ كَانَ مُودَعًا بھئی۔ صورتِ مسئلہ اسی طرح ہے، بس اب مَجْيُون کے بجائے مولانا امین کو وہ بنا لیں بھئی۔ مُودَع جس کے پاس امانت رکھی جائے۔ میں نے ایک آدمی کے پاس اپنی امانت رکھوائی تھی ایک گاڑی بھئی۔ اب یہ گاڑی اس پر دین نہیں ہے، بلکہ اس کے پاس بطور امانت کے ہیں بھئی۔ میں چلا گیا مکہ، بعد میں ایک شخص آیا، میں غائب تھا، وہ اس کے پاس گیا اور کہنے لگا وہ جو مکہ میں شخص ہے میں کیا ہوں اس کا وکیل ہوں، لاؤ گاڑی میرے حوالے کر دو اس کی، اس نے مجھے بھیجا ہے اس گاڑی کی وصولی کے لیے۔ مُودَع جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی اس نے بھی کیا کیا؟ تصدیق کر دی کہ ہاں یہ اسی کا وکیل ہے، امانت کی وصولی کے لیے آیا ہے، کہتے ہیں اب اس کو حکم نہیں کیا جائے گا کہ گاڑی کیا کرو؟ اس کے حوالے دَین میں حکم دیا جاتا تھا جب وہ تصدیق کر لیتا تھا تو کیا حکم دیا جاتا تھا؟ کہ دَین اس کے حوالے، لیکن عین کے اندر اگر معین چیز ہے تو وہاں پر حوالے کرنے کا حکم نہیں کیا جائے گا، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ دونوں میں فرق ہے۔ یہ عین، یہ اس مُودِع کی ہے یا اس شخص کی ہے جو غائب ہے؟ یہ عین اس شخص کی ہے جو غائب ہے، لہذا غیر کے مال کے اندر اس کی تصدیق معتبر نہیں، اس نے تو تصدیق کر دی، یہ اس کا مال ہے لیکن یہ اس کا اپنا مال ہے کوئی؟ یہ گاڑی کے بارے میں اس نے کہا ہاں بھئی، یہ کا وکيل کس نے بھیجا ہے؟ اسے غائب نے کس لیے بھیجا ہے؟ غائب نے وکیل کو کس لیے بھیجا ہے؟ مُودِع تصدیق کر رہا ہے، کہتا ہے بھئی، غائب نے واقعی اس کو بھیجا ہے کس کے لیے؟ گاڑی کی وصولی کے لیے بھیجا ہے، تو یہ اپنے مال کے بارے میں اس کی تصدیق کر رہا ہے یا غیر کے مال کے بارے میں تصدیق کر رہا ہے؟ غیر کے مال کے بارے میں تصدیق کر رہا ہے، تو غیر کے مال کے بارے میں اس کی تصدیق کا کوئی اعتبار اور دَین کے مسئلے میں جو وہ دے رہا تھا، تو بھئی اس صورت میں وہ دَین بِعَيْنِهٖ جو درہم و دنانیر تھے وہی دیے جاتے ہیں یا ان کا مثل دیا جاتا ہے؟ ان کا مثل دیا جاتا ہے اور مثل اس دائن کے تھے یا مثل تو اس مدیون کے اپنے تھے بھئی؟ بھئی، آپ کا میں نے کتنا دینا ہے؟ ایک لاکھ روپیہ دینا ہے، میں آپ کو ایک لاکھ روپیہ دیتا ہوں، تو کیا یہ بِعَيْنِهٖ وہی آپ کے نوٹ ہیں؟ یا یہ نوٹ میرے اپنے ہیں بھئی جو میں آپ کے حوالے کر رہا ہوں؟ یہ میرے اپنے نوٹ ہیں، تو یہ ان کے مثل ہیں اس لیے میں آپ کے حوالے کر رہا ہوں، تو دَین کے اندر مثل دیا جاتا ہے اور مثل کا مالک کون ہوتا ہے؟ مدیون خود ہوتا ہے، تو جبکہ عین کے اندر مالک کون تھا؟ وہ غائب تھا، لیکن دَین کے اندر مالک کون ہے؟ مدیون خود ہے، سمجھ میں آیا؟ تو لہذا یہ اس کا اپنا مال ہوا، تو اس کے اندر اس کی تصدیق تو معتبر، لیکن وہ جو ہے وہ غیر کا مال ہے اس کے اندر اس کی تصدیق معتبر صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھی طرح کہ نہیں آئی؟ بھئی، یہ دیکھو ایک میں مسئلے میں ہے دَین، ایک مسئلے میں ہے عین۔ دَین کا مالک کون ہے؟ دَین کا مالک مدیون خود ہوتا ہے بھئی، وہ اپنی طرف سے بھئی اس جیسے درہم دے رہا ہے ان کے مثل دے رہا ہے، بِعَيْنِهٖ وہ درہم تو تو جب ان کا مثل دے رہا ہے تو اپنی جیب سے دے رہا ہے، تو جو اپنی جیب میں مال ہے وہ اس کا اپنا ہے، تو تصدیق دَین کے اندر جو اس نے کی وہ اپنے مال پر کی یا غیر کے مال پر کی؟ اپنے مال پر، لیکن عین کا مالک تو وہ غائب ہے، تو عین کے بارے میں اس کی تصدیق کا اعتبار نہیں، لیکن دَین کے میں اس کی تصدیق کا یہ معنی: وَإِنْ كَانَ مُودَعًا اور اگر وہ تصدیق کرنے والا مُودَع تھا یعنی اس کے جس کے پاس امانت رکھوائی جائے وہ شخص تھا لَمْ يُؤْمَرْ بِدَفْعِهَا إِلَيْهِ اس کے حکم نہیں دیا جائے گا اس ودیعت کو اس وکیل کے حوالے کرنے کا۔ وَإِنْ كَانَ مُصَدِّقُ الْوَكِيلِ مُودَعًا اگر وکیل کی تصدیق کرنے والا مُودَع تھا یعنی جس کے پاس امانت رکھوائی جائے لَمْ يُؤْمَرْ اس کو حکم نہیں دیا جائے گا بِدَفْعِ الْوَدِيعَةِ ودیعت کے حوالے کرنے کا، دیکھا؟ بِدَفْعِهَا اوپر متن میں 'ہا' ضمیر کس کو راجع ہے؟ شرح میں کیا بتلا دیا؟ ودیعت کو، تو اس کو حکم نہیں دیا جائے گا بِدَفْعِ الْوَدِيعَةِ اس ودیعت کے حوالے کرنے کا إِلَى الْمُدَّعِي مدعیِ وکالت کے، مدعیِ وکالت کے سپرد کرنے کا حکم نہیں دیا جائے گا، لِأَنَّ تَصْدِيقَهُ إِقْرَارٌ عَلَى الْغَيْرِ اس لیے کہ یہاں پر جو تصدیق ہے اس کی وہ اقرار کس پر ہے؟ غیر پر، غیر کے مال پر اقرار ہے، بِخِلَافِ الدَّيْنِ بخلاف کس کے؟ دَین کا، فَإِنَّ الدُّيُونَ تُقْضَى بِأَمْثَالِهَا اس لیے کہ دیون جو ہیں ان کو ادا کیا جاتا ہے ان کے مثلوں کے ساتھ بھئی، ان کے ان کے مثلوں کے ساتھ، وَالْمِثْلُ مِلْكُ الْمَدْيُونِ اور مثل تو ملک ہے کس کی؟ مدیون کی، تو وہاں اس کا اقرار معتبر، یہاں پر اقرار معتبر نہیں۔ وَلَوْ قَالَ تَرَكَهَا الْمُودِعُ مِيرَاثًا لِي وَصَدَّقَهُ الْمُودَعُ أُمِرَ بِالدَّفْعِ إِلَيْهِ اب یہی صورت ہے مولانا، تھوڑا سا فرق آ گیا، ایک شخص نے دوسرے کے پاس کیا رکھوائی ہے؟ گاڑی امانت کے طور پر رکھوائی ہوئی ہے بھئی، بعد میں ایک اس کا بیٹا آیا مولانا، اس نے کیا کہا؟ دعویٰ اس نے کہا بھئی کہ میں وہ جس نے امانت رکھوائی تھی اس کا بیٹا ہوں اور وہ امانت رکھوانے والے یعنی میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے بھئی اور یہ گاڑی انہوں نے بطور وراثت کے میرے لیے چھوڑی ہے بھئی، یہ گاڑی انہوں نے بطور وراثت کے میرے لیے تو اب میرے حوالے کر دی جائے اور مُودَع تو یہ ہے مدعی، یہ کون کلام کر رہا ہے؟ مدعی، اور مُودَع بھئی جس کے پاس امانت رکھوائی گئی وہ بھی تصدیق کرتا ہے اس کی کہ یہ واقعی کیا ہے اس کا بیٹا ہے اور اس کا انتقال ہو چکا ہے۔ تو اب اگرچہ یہاں پر عین ہے لیکن مُودِع مر چکا ہے، مُودِع کیا ہے؟ مر چکا ہے، لہذا یہاں تو اب اس میں ملکیت کی اہل وہ اہلیت ہی نہ رہی، مردہ مالک بن سکتا ہے کسی چیز کا؟ نہیں، تو اس میں جو مر چکا ہے اس میں ملکیت کی اہل نہیں، تو یہ مال کس کا ہوا؟ اس سے معلوم ہوا مدعی کا ہوا اور یہ مُودَع بھی کیا کر رہا ہے اس کی؟ تصدیق کر رہا ہے، لہذا یہاں پر اس چیز کو حوالے کرنے کا حکم دیا جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ وَلَوْ قَالَ اور اگر مدعی نے کہا تَرَكَهَا الْمُودِعُ مِيرَاثًا لِي کہ چھوڑا ہے اس عین کو مُودِع امانت رکھوالے رکھوانے والے نے مِيرَاثًا لِي میرے لیے بطور میراث کے چھوڑا ہے وَصَدَّقَهُ الْمُودَعُ اور اس کی تصدیق کس نے کر دی؟ مُودَع جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی اس نے بھی تصدیق کر دی أُمِرَ بِالدَّفْعِ إِلَيْهِ تو اس کو اس کے حوالے کرنے کا حکم دیا جائے گا، أَيْ إِذَا دَّعَى یعنی دعویٰ کیا کسی شخص نے أَنَّ الْمُودِعَ مَاتَ کہ مُودِع یعنی امانت رکھوانے والا مر چکا ہے وَتَرَكَ الْوَدِيعَةَ مِيرَاثًا لِي اور ودیعت کو اس نے میرے لیے بطور میراث کے چھوڑ دیا ہے وَصَدَّقَهُ الْمُودَعُ اور تصدیق کر دی اس کی مُودَع نے أُمِرَ بِالدَّفْعِ إِلَيْهِ اس کو حکم دیا جائے گا اس کے حوالے کرنے کا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، اسی میں تیسری صورت بھئی، ایک شخص کے پاس دوسرے نے اپنی گاڑی بطور امانت کے رکھوائی، بطور اب ایک شخص آیا دعویٰ کیا اور آ کر کہتا ہے لاؤ بھئی، یہ گاڑی میرے حوالے کر دو، اس مُودَع کے پاس آیا جس کے پاس گاڑی رکھوائی گئی تھی۔ بھئی، آپ گاڑی آپ کے کیوں حوالے کر دیں؟ کہتا ہے بھئی، مُودِع جس نے امانت رکھوائی تھی آپ کے پاس وہ اس گاڑی کو میرے ہاتھ بیچ چکا ہے بھئی، کیا کیا ہے؟ تو مدعی کا کلام کیا ہے؟ وہ دعویٰ کر رہا ہے کہ مُودِع اس گاڑی کو میرے ہاتھ بیچ چکا ہے، لہذا اس گاڑی کو میرے حوالے کیا جائے اور مُودَع جس کے پاس گاڑی رکھوائی گئی تھی اس نے بھی تصدیق کر دی کہ ہاں واقعی مُودِع کیا کر چکا ہے اس گاڑی کو اس کے ہاتھ بیچ چکا ہے، تو کیا اس کو گاڑی حوالے کرنے کا حکم کیا جائے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، مُودِع ابھی بھی زندہ ہے بھئی، وراثت کے مسئلے میں تو مُودِع مر چکا تھا اس لیے ہم نے حکم دے دیا کہ وہ گاڑی کس کے حوالے کر دی جائے؟ وارث کے حوالے، لیکن یہاں پر مُودَع تو مُودِع تو ابھی بھی زندہ ہے، تو لہذا وہ گاڑی کا مالک وہ مُودِع ہے، تو اس کا اقرار کا اعتبار نہیں بھئی، اس کے اقرار کا کیونکہ یہ اقرار ہوا عَلَى مَالِ الْغَيْرِ وراثت میں بھی اقرار عَلَى مَالِ الْغَيْرِ تھا، لیکن وہ غیر کیا تھا؟ مر چکا تھا، اس میں ملکیت کی اہل اہلیت ہی نہیں رہی تھی، تو وہ تو مال ہی کس کا بن چکا تھا؟ وارث کا، اور یہاں پر اس نے گاڑی اس کے پاس بطور امانت کے رکھوائی ہے اور وہ ابھی بھی زندہ ہے، صرف شراء کا دعویٰ کیا ہے مدعی نے، صورت سمجھ میں آئی؟ تو بس تو اس سے پوچھا جائے گا اور بغیر اس کی صرف تصدیق کرنے پر مال اس کے حوالے گاڑی اس کے حوالے نہیں کی جائے گی بھئی مدعی کے۔ وَلَوْ ادَّعَى الشِّرَاءَ مِنْهُ اور اگر مدعی نے دعویٰ کر دیا خریدنے کا اس سے مِنْهُ أَيْ مِنَ الْمُودِعِ امانت رکھوانے والے سے خریدنے کا دعویٰ کر دیا کہ یہ گاڑی میں اس سے خرید چکا ہوں لَمْ يُؤْمَرْ بِدَفْعِ الْوَدِيعَةِ اور اس نے بھی کیا کر دی؟ مُودَع نے بھی اس کی تصدیق کر دی تو لَمْ يُؤْمَرْ بِدَفْعِ الْوَدِيعَةِ تو اس کو مُودَع کو حکم نہیں دیا جائے گا ودیعت حوالے کرنے کا، أَيْ إِذَا ادَّعَى یعنی دعویٰ کیا کسی شخص نے أَنَّهُ اشْتَرَى مِنَ الْمُودِعِ کہ اس نے خرید لیا ہے اس عین کو مُودِع سے وَصَدَّقَهُ الْمُودَعُ اور مُودَع نے بھی اس کی تصدیق کر دی لَمْ يُؤْمَرْ بِدَفْعِ الْوَدِيعَةِ إِلَى الْمُدَّعِي تو مُودَع کو حکم نہیں دیا جائے گا کہ ودیعت کو حوالے کر دے مدعی کے لِأَنَّ الْمُدَّعِيَ أَقَرَّ بِمِلْكِ الْغَيْرِ اس لیے کہ مدعی نے اقرار کیا ہے کس کا؟ غیر کے ملکیت کا، جی۔ سمجھ میں آیا کہ یہ کس کی گاڑی ہے؟ غیر کی گاڑی ہے، لیکن میں نے خرید لی ہے وَالْغَيْرُ أَهْلٌ لِلْمِلْكِ اور غیر کیا ہے وہ؟ مُودِع بھئی، مُودِع کے لیے ملکیت کا اقرار کیا ہے اور وہ غیر کیا ہے؟ ملکیت کا اہل ہے، کیوں؟ لِأَنَّهُ حَيٌّ کیونکہ وہ زندہ ہے اور زندہ شخص کسی چیز کا مالک بن سکتا ہے فَلَا يُصَدَّقُ فِي دَعْوَى الْبَيْعِ عَلَى ذَلِكَ الْحَيِّ تو تصدیق نہیں کی جائے گی اس بیع کے دعویٰ میں اس زندہ کے خلاف، بِخِلَافِ مَسْأَلَةِ الْإِرْثِ بخلاف وراثت کے مسئلے میں لِأَنَّهُمَا اتَّفَقَا عَلَى مَوْتِ الْمُودِعِ اس لیے کہ وہاں پر دونوں نے اتفاق کیا تھا، مدعی نے بھی اور مُودَع مُودَع نے بھی کس پر اتفاق کیا تھا؟ مُودِع کی موت پر، فَكَأَنَّ هَذَا اتَّفَقَا عَلَى أَنَّهُ مِلْكُ الْوَارِثِ تو گویا ان دونوں نے اتفاق کر لیا تھا کہ یہ کس کی ملکیت ہے؟ وارث کی، اور یہاں پر تو ایک کہہ رہا ہے کہ یہ کس کی ملکیت ہے؟ یہاں کس چیز کا اقرار ہے؟ شراء یعنی ملک ہے غیر کی، لیکن میں نے اس سے خرید لی اور وہاں پر جس نے مدعی تھا دونوں اقرار کر رہے تھے کہ یہ اسی کا مال ہے، کیونکہ وراثت میں جب مورث مر گیا تو مالک کون؟ وارث، تو وارث کہہ رہا ہے یہ میرا مال ہے اور مُودَع بھی کہہ رہا ہے ہاں واقعی یہ اس کا مال ہے، تو یہ وہاں دونوں متفق تھے کہ یہ اسی شخص کا مال ہے۔ وَمَنْ وُكِّلَ بِقَبْضِ مَالٍ وَادَّعَى الْغَرِيمُ قَبْضَ دَائِنِهِ دَفَعَ إِلَيْهِ صورتِ مسئلہ یہ: میں نے آپ کو وکیل بنا کر بھیجا کہ جاؤ بھئی، زید نے میرا ایک لاکھ روپیہ دَین دینا ہے وہ دَین جا کر اس سے وصول کر لو، تو میں نے آپ کو مال پر قبضے کا وکیل بنا کر بھیجا کہ جاؤ جا کر کیا کرو؟ زید سے میرا مال وصول کر لو، آپ گئے، زید سے کہا لاؤ بھئی وہ وہ مال فلاں کا میرے حوالے کر دو، میں اس کا وکیل ہوں، تو زید جو مدیون تھا، جو غریم تھا اس نے دعویٰ کر دیا کہ بھئی آپ کا موکل وہ مال میرے سے وصول کر چکا ہے، جس کی وصولی کے لیے اس نے آپ کو بھیجا ہے وہ مال پہلے ہی میرے سے وصول کر چکا ہے، اچھا تو کہتے ہیں اس صورت میں اور اس کے پاس کوئی بینہ بھی نہیں ہے، غریم کے پاس، مدیون کیا دعویٰ کر رہا ہے کہ میں مال حوالے اور اس کے پاس کوئی بینہ بھی نہیں، تو کہتے ہیں اس صورت میں اسے حکم دیا جائے گا کہ مال کس کے حوالے کر دو؟ وکیل کے حوالے کر دو، صورت سمجھ میں آئی؟ مال وکیل کے حوالے کر دو، کہتے ہیں بھئی وکیل سے قسم لے لی جائے وہاں پر کہ تم قسم اٹھاؤ کہ تمہیں پتہ نہیں ہے کہ تمہارا موکل اس سے مال لے چکا ہے، یہ قسم اس سے اٹھوا لیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، وکیل کیا ہے؟ موکل کا نائب ہے اور قسم اصل موکل پر تو آیا کرتی ہے، نائب کیا ہے؟ دوسرے کی طرف سے قسم نہیں اٹھا سکتا، تو وکیل کو یہ قسم دینا درست نہیں کہ تم قسم اٹھاؤ کہ اس نے تمہیں مال تمہیں علم نہیں ہے کہ مال تمہارے موکل وصول کر چکا ہے، تو پھر بھئی کیا کیا؟ کیا کیا جائے گا مال کو؟ وکیل کے حوالے بھئی دیکھو نا بھئی، آپ مال وصول کرنے گئے اس نے کیا دعویٰ کر دیا کہ مال تو تمہارا موکل میرے سے وصول کر چکا ہے، بینہ اس کے پاس کوئی نہیں، تو اس کو کیا حکم دیا جائے گا؟ کہ مال کس کے حوالے کر دو؟ وکیل کے حوالے کر دو اور وکیل سے قسم نہیں طلب کی جائے گی، اچھا، ہاں پھر جو جس کو جو موکل ہے اس کو طلب کیا جائے گا اور اس سے قسم لی جائے گی بھئی، کیا لی جائے گی؟ قسم لی جائے گی کہ تم نے کیا مال پہلے وصول کیا ہے یا وصول نہیں کیا؟ تو اگر وہ قسم اٹھا لیتا ہے تو پھر تو بات ٹھیک ہو گئی، اگر وہ قسم سے انکار کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے وہ مال پہلے وصول کر چکا ہے، تو پھر کیا کیا جائے؟ یہ تو دوسری دفعہ وکیل کو دینے کا ہم نے حکم دیا تھا، کہتے ہیں کوئی حرج نہیں، وکیل کو اگر غلطی سے دینے کا حکم بھی دے دیا بھئی، خطا ظاہر ہو گئی اور تو اب کیا کیا جائے؟ اسی وکیل کو دوبارہ بلا کر وہ مال اس سے واپس لے لیا جائے، تلافی ممکن ہے یہاں پر بھئی، اس لیے دینے کا حکم دیا، وَمَنْ وُكِّلَ بِقَبْضِ مَالٍ اور وہ شخص جس کو وکیل بنایا گیا مال پر قبضے کا وَادَّعَى الْغَرِيمُ تو یہ مال وصول کرنے گیا تو دعویٰ کر دیا غریم نے، قرض دار نے، کیا دعویٰ کیا؟ قَبْضَ دَائِنِهِ کہ اس کا دائن جو ہے وہ کیا کر چکا ہے؟ اس مال پر قبضہ کر چکا ہے، دَفَعَ إِلَيْهِ تو یہ مال کیا کرے گا اس کے وکیل کے حوالے کرے گا، اگرچہ اس نے دعویٰ کر دیا لیکن چونکہ اس کے پاس بینہ نہیں، تو کیا کرے گا؟ مال کس کے حوالے کر دے گا؟ وکیل کے حوالے کر دے گا، وَاسْتُحْلِفَ دَائِنُهُ عَلَى قَبْضِهِ اور قسم طلب کی جائے گی اس کے دائن سے عَلَى قَبْضِهِ اس دَین پر قبضے کی، دائن کون تھا؟ موکل، کون تھا؟ موکل سے قسم طلب کی جائے گی، تو کہتے ہیں وَاسْتُحْلِفَ دَائِنُهُ قسم طلب کی جائے گی اس کے دائن سے عَلَى قَبْضِهِ اس دَین پر قبضے کی، لَا الْوَكِيلُ وکیل سے قسم طلب نہیں کی جائے گی عَلَى الْعِلْمِ اس بات کے جاننے پر، کس بات کے جاننے پر؟ بِقَبْضِ الْمُوَكِّلِ الدَّيْنَ کہ موکل دَین پر قبضہ کر چکا ہے، کیا کہ تو اس بات پر قسم کھاؤ کہ تمہیں علم نہیں ہے کہ موکل دَین پر قبضہ کر چکا ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ أَيْ جَاءَ الْوَكِيلُ بِقَبْضِ الدَّيْنِ مِنَ الْمَدْيُونِ آیا وکیل مولانا دَین پر قبضے کا مِنَ الْمَدْيُونِ کس سے؟ مدیون سے دَین پر قبضے کے لیے، فَادَّعَى الْمَدْيُونُ دعویٰ کر دیا مدیون نے أَنَّ الدَّائِنَ قَدْ قَبَضَ دَيْنَهُ کہ دائن جو ہے وہ تحقیق اپنے دَین پر قبضہ کر چکا ہے وَلَا بَيِّنَةَ لَهُ اور اس حال یہ ہے کہ اس کے پاس کوئی بینہ نہیں ہے يُؤْمَرُ بِالدَّفْعِ إِلَى الْوَكِيلِ تو حکم دیا جائے گا مدیون کو مال حوالے کرنے کا وکیل کو، فَإِذَا حَضَرَ الدَّائِنُ پھر اس کے بعد جب دائن حاضر ہو جائے وَأَنْكَرَ الْقَبْضَ اور وہ کیا کرے؟ قبضے سے انکار کرے، يُسْتَحْلَفُ تو اس سے کیا طلب کی جائے گی؟ قسم طلب کی جائے گی وَلَا يُسْتَحْلَفُ الْوَكِيلُ اور وکیل سے یہ قسم طلب نہیں کی جائے گی بِأَنَّكَ مَا تَعْلَمُ أَنَّ الْمُوَكِّلَ قَدْ قَبَضَ الدَّيْنَ कि تو قسم اٹھا کہ تو نہیں جانتا کہ موکل جو ہے وہ دَین پر قبضہ کر چکا ہے، یہ قسم وکیل سے طلب کیوں؟ لِأَنَّ الْوَكِيلَ نَائِبٌ لَهُ اس لیے کہ وکیل کیا ہے؟ دائن کا نائب ہے اور قسم نائب پر کبھی بھی نہیں، شخص کسی دوسرے کی طرف سے نائب ہو کر قسم اٹھا لے، ایسا نہیں کر سکتا۔ أَقُولُ علامه صدر الشریعہ فرما رہے ہیں کہ میں کہتا ہوں إِنِ ادَّعَى الْمَدْيُونُ کہ اگر دعویٰ کر دیا مدیون نے، مدیون نے کیا دعویٰ کیا؟ بھئی، اوپر کیا آیا متن میں کہ وکیل سے قسم نہیں لی جائے گی، صاحبِ شرحِ وقایہ فرمانے لگے ہیں کہ میری رائے یہ ہے کہ وکیل سے کیا کی جانی چاہیے؟ قسم لی جانی چاہیے، سمجھ میں آیا؟ تو جب وہ قسم اٹھا لے گا تو اب مال اس کے حوالے کر دیا جائے اور اگر وہ قسم اٹھانے سے انکار کرتا ہے تو مال کی طلب بھی وہ نہیں کر سکتا، صورت سمجھ میں آئی؟ أَقُولُ میں کہتا ہوں إِنِ ادَّعَى الْمَدْيُونُ اگر مدیون نے یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ أَنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّ الْمُوَكِّلَ دعویٰ یہ دعویٰ کر دیا أَنَّكَ تَعْلَمُ کہ تو جانتا ہے أَنَّ الْمُوَكِّلَ قَبَضَ الدَّيْنَ کہ موکل کیا ہے؟ دَین پر قبضہ کر چکا ہے، دعویٰ یہ کون کر رہا ہے؟ مدیون وکیل کو کہہ رہا ہے بھئی، تم بھی جانتے ہو کہ دائن کیا کر چکا ہے؟ دَین پر قبضہ کر چکا ہے، وَأَنْكَرَ الْوَكِيلُ الْعِلْمَ اور وکیل نے اس جاننے سے اس علم سے انکار کر دیا، اس چیز کے جاننے سے انکار کر دیا یَنْبَغِي أَنْ يُسْتَحْلَفَ مناسب یہ ہے کہ اس کو اس سے قسم طلب کی جائے، کیوں؟ لِأَنَّهُ ادَّعَى أَمْرًا اس لیے کہ مدعی نے مدیون نے دعویٰ کیا ہے ایسے امر کا، لَوْ أَقَرَّ بِهِ الْوَكِيلُ کہ جس کا وکیل اگر اقرار کر لے، يَلْزَمُهُ تو یہ امر کیا ہو جائے گا اس پر؟ لازم ہو جائے گا، وَلَمْ يَبْقَ لَهُ طَلَبُ الدَّيْنِ اور باقی نہیں رہے گا اس وکیل کے لیے دین کا طلب کرنا۔ وکیل پھر دین کے طلب؟ بھئی مدیون نے کیا دعویٰ کیا؟ کہ تو جانتا ہے کہ دائن کیا کر چکا ہے؟ میرے سے دین وصول کر چکا ہے۔ یہ ایسا امر ہے کہ وکیل اگر اس کا اقرار کر لے گا تو اس پر وہ امر لازم ہو جائے گا اور اب اسے دین کے طلب کرنے کا حق نہیں رہے گا۔ تو لہٰذا یہ اس قسم کا معاملہ ہے، فَإِذَا أَنْكَرَهُ پس اس چیز کا جب اس نے انکار کیا ہے، يُسْتَحْلَفُ تو اس کو کیا دیں؟ اس سے طلب کی جانی چاہیے؟ قسم۔ بھئی صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وَلَا يَرُدُّ الْوَكِيلُ بِعَيْبٍ قَبْلَ حَلْفِ الْمُشْتَرِي لَوْ قَالَ الْبَائِعُ رَضِيَ هُوَ بِهِ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی۔ بھئی میں نے گاڑی کسی سے خریدی تھی۔ گاڑی خریدنے کے بعد اب اس میں مجھے کسی عیب کا پتہ چلا۔ میں نے اپ کو وکیل بال رد بنایا بھئی کہ جاؤ اس مبیع کو کیا کر دو؟ مشتری پر واپس باائع پر واپس لوٹا دو اس عیب کی وجہ سے، اس کے اندر یہ عیب موجود ہے۔ اپ وہ گاڑی لے گئے بھئی، اپ وہ گاڑی لے گئے اور باائع کو کہا بھئی اس عیب کی وجہ سے یہ گاڑی اب واپس لو بھئی، اپ نے گاڑی بیچی تھی اس میں یہ عیب ہے بھئی۔ بھئی مشتری موکل جس نے بھیجا وہ وہاں پر موجود نہیں۔ اب باائع کیا کہتا ہے؟ باائع کہتا ہے بھئی یہ گاڑی خریدتے ہوئے یہ عیب اس نے دیکھا تھا اور وہ اس پر راضی تھا۔ یہ ایسا عیب نہیں ہے جو میں نے اسے بتلایا نہ ہو یا اس نے دیکھا نہ ہو بلکہ اس عیب کے خریدنے اس عیب کے ساتھ گاڑی خریدنے پر راضی تھا لہٰذا اس عیب کی وجہ سے اب وہ واپس نہیں کر سکتا۔ تو اب کیا کیا جائے گا؟ کہتے ہیں بھئی اس اب مثلاً اس کے پاس بینہ نہیں ہے کہ یہ خریدتے ہوئے عیب پر راضی تھا، اس کی بینہ نہیں ہے تو کیا پچھلے مسئلے میں بھی بینہ نہیں تھی اور اس نے دعویٰ کیا کیا تھا؟ دین کے مسئلے میں کہ وہ میرے سے وصول کر چکا ہے اور بینہ نہیں تھی تو ہم نے وکیل پر قسم نہیں ڈالی تھی بلکہ کیا حکم دیا تھا؟ کہ وہ مال وکیل کے حوالے کر دے، تو یہاں پر بھی بھئی اب اس کے پاس بینہ نہیں تو وکیل کو قسم تو نہیں دی جائے گی بھئی، تو پھر کیا اب مبیعہ واپس کر دیا جائے باائع کو کہ کہتے ہیں نہیں بھئی، یہاں پر مبیعہ عیب کی وجہ سے باائع کو واپس اس وقت تک واپس نہیں کریں گے جب تک کہ مشتری یعنی موکل خود حاضر ہو کر قسم نہ اٹھا لے کہ میں اس عیب پر راضی نہیں تھا۔ جب وہ قسم اٹھا لے گا پھر کیا کر دیا جائے گا مبیعہ کو؟ کہتے ہیں بھئی یہ کیا وجہ ہے؟ وہاں پر اپ نے کہا تھا کہ وہ دین کس کے حوالے کر دو؟ وکیل کے حوالے کر دو، کوئی حرج نہیں اور یہاں پر اب اپ کیا کہتے ہیں مبیعہ واپس کرنا ہی نہیں ہے جب تک کہ مشتری یعنی موکل ا کر قسم نہ اٹھا لے۔ بھئی ابھی واپس کر دو، ا کر وہ قسم سے اگر انکار کر دیتا ہے تو چیز اس کو واپس دے دو اور اگر وہ قسم اٹھا لیتا ہے تو مسئلے کو اسی طرح برقرار، صورت سمجھ میں ارہی ہے بھئی؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، دونوں میں فرق ہے۔ وہاں پر تلافی ہو سکتی تھی۔ ایک چیز ہم نے وکیل کو دے دی ہے، پتہ چلا کہ یہ غلطی سے دی گئی ہے، پہلے بھی ادائیگی ہو چکی ہے، دوبارہ یہ ادائیگی وکیل کو کی گئی ہے لہٰذا وکیل کو بلایا جائے گا اور اس سے وہ مال واپس لے لیا جائے گا۔ لیکن یہاں تلافی نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ یہاں پر اگر ہم حکم دے دیتے ہیں کہ وکیل کیا کر دے، اب مبیعہ کو باائع پر واپس کر دے تو یہ واپس کرنا یہ بیع کو فسخ کرنا ہے، یہ واپس کرنا کیا ہے؟ بیع کو فسخ کرنا ہے اور امام صاحب کے نزدیک بھئی قاضی جب ایک بات کا فیصلہ کر دے تو چاہے وہ کیا ہو، درست نہ ہو پھر بھی فیصلہ ظاہراً بھی نافذ ہو جاتا ہے اور باطناً بھی، تو ظاہراً بھی بیع فسخ ہو جائے گی اور باطناً بھی بیع فسخ ہو جائے گی، تو بیع فسخ ہو گئی مولانا، اب دوبارہ اس کی تلافی کی کوئی صورت ہے؟ دوبارہ اگر ا کر وہ قسم سے انکار بھی کر دے، اب مبیعہ باائع سے لے کر مشتری یعنی موکل کے حوالے نہیں، کیوں؟ کیونکہ بیع فسخ ہو چکی، کس بات پر اب ہم مبیعہ باائع سے لے کر دوبارہ مشتری کے حوالے کریں؟ تو یہاں تلافی ممکن ہی نہیں ہے بھئی، لہٰذا اس وجہ سے یہاں پر واپس کی واپسی کا حکم ہی نہیں دیں گے جب تک کہ مشتری ا کر قسم نہ اٹھا لے کہ میں کوئی اس عیب پر راضی نہیں تھا، جب وہ یہ قسم اٹھا لے گا تو اب کیا کیا جائے گا؟ بیع کو فسخ کر کے مبیعہ لوٹا دیا جائے گا، صورت سمجھ میں اگئی؟ وَلَا يَرُدُّ الْوَكِيلُ بِعَيْبٍ اور واپس نہیں کر سکتا وکیل بھئی بِعَيْبٍ کسی عیب کی وجہ سے قَبْلَ حَلْفِ الْمُشْتَرِي مشتری کے قسم اٹھانے سے پہلے واپس نہیں کر سکتا، لَوْ قَالَ الْبَائِعُ کب؟ اگر باائع نے یوں کہا رَضِيَ هُوَ بِهِ کہ مشتری کیا ہے اس پر راضی ہو چکا ہے۔ صورت بتلا رہے ہیں: وَكَّلَ الْمُشْتَرِي رَجُلًا مشتری نے وکیل بنایا کسی ادمی کو بِرَدِّ الْمَبِيعِ، یہ بِرَدِّ ہے، با ہونی چاہیے بھئی، مشتری نے وکیل بنایا کسی ادمی کو بِرَدِّ الْمَبِيعِ کس بات پر بھئی؟ مبیع کو واپس کرنے پر بِالْعَيْبِ عیب کی وجہ سے وَغَابَ الْمُشْتَرِي اور مشتری خود کیا ہوا؟ غائب، یعنی وہ وہاں پر موجود نہیں ہے، فَأَرَادَ الْوَكِيلُ الرَّدَّ پس ارادہ کیا وکیل نے چیز کو لوٹانے کا، فَقَالَ الْبَائِعُ تو باائع اس کے پاس جب گیا تو باائع کہنے لگا رَضِيَ الْمُشْتَرِي بِالْعَيْبِ کہ مشتری تو عیب پر راضی ہو چکا تھا، سمجھ میں ایا؟ ضمیر کے مرجع بتلا دیے، متن میں کیا ایا تھا: رَضِيَ هُوَ بِهِ، معلوم ہوا هُوَ ضمیر کس کو راجع ہے؟ مشتری کو اور بِهِ کی هٰ ضمیر عیب کو بھئی، فَقَالَ الْبَائِعُ باائع کہتا ہے رَضِيَ الْمُشْتَرِي بِالْعَيْبِ مشتری تو عیب پر راضی تھا، فَالْوَكِيلُ لَا يَرُدُّ بِالْعَيْبِ تو وکیل واپس نہیں کر سکتا عیب کی وجہ سے حَتَّى يَحْلِفَ الْمُشْتَرِي یہاں تک کہ مشتری حاضر ہو کر قسم اٹھا لے کہ یہ قسم اٹھا لے کہ أَنَّهُ لَمْ يَرْضَ بِالْعَيْبِ کہ وہ اس عیب پر راضی نہیں تھا۔ بھئی فرق کیا دونوں مسئلوں میں؟ اوپر دین کا مسئلے میں اپ نے پھر بھی واپس کروا دیا تھا اور یہاں واپس کیا حکم ہے کہ واپس نہ کرے، وَالْفَرْقُ بَيْنَ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ وَمَسْأَلَةِ الدَّيْنِ اور اس مسئلے میں اور دین کے مسئلے میں فرق یہ ہے كَنَّ التَّدَارُكَ مُمْكِنٌ فِي مَسْأَلَةِ الدَّيْنِ کہ تلافی جو ہے وہ ممکن ہے دین کے مسئلے میں بِاسْتِرْدَادِ مَا قَبَضَهُ الْوَكِيلُ ساتھ واپس لوٹانے اس چیز کے جس پر وکیل نے قبضہ کیا تھا، بھئی تلافی دین میں ہو سکتی تھی، وکیل نے جس پر قبضہ کیا تھا وہ چیز اس سے واپس لے کر کس کو دے دی جائے؟ جی مدیون کو واپس دے دی جائے، کب؟ إِذَا ظَهَرَ الْخَطَأُ جبکہ خطا ظاہر ہو جائے عِنْدَ نُكُولِ رَبِّ الدَّيْنِ جبکہ رب الدین کیا کر دے؟ قسم اٹھانے سے انکار کر دے، جب خطا ظاہر ہو گئی رب الدین نے قسم سے انکار کر دیا تو معلوم ہوا جو اس کو مال دیا گیا تھا وہ غلط تھا دینا تو پھر وکیل سے مال لے کر واپس دے دو اس کو، وَ هَاهُنَا غَيْرُ مُمْكِنٍ لیکن یہاں پر تلافی ممکن نہیں، لِأَنَّ الْقَضَاءَ بِفَسْخِ الْبَيْعِ يَصِحُّ اس لیے کہ قضاء بفسخ البيع وہ کیا ہوگی؟ صحیح ہے، وَإِنْ ظَهَرَ الْخَطَأُ اگرچہ خطا ظاہر ہی کیوں نہ ہو جائے، یعنی قاضی ایک دفعہ فسخ بیع کا فیصلہ کر دے تو فسخ بیع ہو جائے گی اگرچہ بعد میں خطا ہی ظاہر ہو جائے، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، لِأَنَّ الْقَضَاءَ يَنْفُذُ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا عِنْدَهُ اس لیے کہ فیصلہ جو ہے وہ نافذ ہو جاتا ہے ظاہراً بھی اور باطناً بھی امام صاحب کے نزدیک، جبکہ صاحبین کے نزدیک کیا مسئلہ تھا؟ ظاہراً تو نافذ ہوگا باطناً نافذ نہیں، یعنی عِنْدَ النَّاسِ بھی نافذ امام صاحب کے نزدیک بھئی عِنْدَ النَّاسِ بھی نافذ ہو گیا عِنْدَ اللهِ بھی نافذ ہو گیا، جبکہ صاحبین کے نزدیک عِنْدَ النَّاسِ تو ظاہر نافذ ہوا ہے عِنْدَ اللهِ نافذ نہیں، تو جب نافذ ہو جائے گا تو بیع فسخ ہوئی، جب بیع فسخ ہو گئی فَلَا يُسْتَحْلَفُ الْمُشْتَرِي بَعْدَ ذَلِكَ تو اس کے بعد مشتری کو قسم دوبارہ نہیں، کیونکہ اس قسم کا کوئی فائدہ نہیں بھئی، کیونکہ بیع فسخ ہو چکی ہے اب چیز واپس نہیں کی جا سکتی۔ وَأَمَّا عِنْدَهُمَا اور باقی صاحبین جو ہیں ان کے نزدیک فَقَدْ قَالُوا وہ فرماتے ہیں يَجِبُ أَنْ يَرُدَّ بِالْعَيْبِ کہ یہاں پر بھی کیا کیا جائے؟ واجب ہے چیز کو عیب کی وجہ سے، بھئی اوپر کیا تھا دائن موجود نہیں تھا اور مدیون نے کیا کی تھی؟ دعویٰ کیا تھا لیکن اس کے پاس بینہ نہیں تھی تو کیا حکم دیا تھا ہم نے؟ کہ مال کس کے حوالے کر دے؟ وکیل کے، تو یہاں پر بھی مشتری اب خود حاضر نہیں ہے اور مدعی کے پاس بینہ نہیں تو کیا کیا جائے گا فیصلہ؟ کہ یہ مبیعہ عیب کی وجہ سے باائع کو واپس لوٹا دے، قاضی فیصلہ کر دے بھئی، بیع کو فسخ کر دے اور مبیعہ کس کے سپرد کر دے واپس؟ پھر بعد میں اب مشتری کو طلب کیا جائے گا، بات ابھی ختم نہیں ہوئی مولانا، اس کو طلب کر کے اب اس سے کیا طلب کی جائے گی؟ قسم، اگر وہ قسم اٹھا لیتا ہے پھر تو بات ٹھیک، اگر وہ قسم سے انکار کر دیتا ہے تو قاضی اپنے پچھلے فیصلے کو منسوخ کر دے، باطل کر دے اور پھر وہ مبیعہ باائع سے لے کر کس کے حوالے کر دے؟ مشتری، معلوم ہوا اس نے صحیح واپس نہیں لوٹایا، بھئی درست نہیں تھا اس کا لوٹانا تو واپس اس کو کر دے بھئی، تو ان کے نزدیک قاضی اپنے فیصلے کو باطل کر سکتا ہے کیونکہ ظاہراً نافذ ہوا تھا باطناً نافذ ہی نہیں ہوا۔ فَقَدْ قَالُوا صاحبین فرماتے ہیں يَجِبُ أَنْ يَرُدَّ کہ واجب ہے کہ اس چیز کو، جی صاحبین کے نزدیک فَقَدْ قَالُوا تو تحقیق فقہاء فرماتے ہیں صاحبین کے نزدیک مسئلہ یوں ہے کہ يَجِبُ أَنْ يَرُدَّ بِالْعَيْبِ واجب ہے کہ اس چیز کو واپس کیا جائے کس کی وجہ سے؟ عیب کی وجہ سے، كَمَا فِي مَسْأَلَةِ الدَّيْنِ جیسے کہ دین کے مسئلے میں تھا، لِأَنَّ التَّدَارُكَ مُمْكِنٌ عِنْدَهُمَا اس لیے کہ یہاں پر بھی تلافی ممکن ہے صاحبین کے نزدیک بِبُطْلَانِ الْقَضَاءِ قضاء کے بطلان کے ساتھ کہ پہلے فیصلے کو قاضی کیا کر دے؟ باطل کر دے تو تلافی ہو جائے گی۔ وَقَدْ قِيلَ اور تحقیق کہا گیا ہے الْأَصَحُّ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ کہ اصح قول امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اصح یہ ہے أَنْ يُؤَخَّرَ الرَّدُّ فِي الْفَصْلَيْنِ کہ رد کو مؤخر کر دیا جائے دونوں فصلوں میں، دین میں ہم نے کیا حکم دیا تھا؟ وکیل کو دے دیا جائے، اور صاحبین کے نزدیک، جی؟ وہاں صاحبین کے نزدیک بھی یہی تھا، اور یہاں پر صاحبین کے نزدیک یہاں پر بھی کیا کر دیا جائے گا؟ دے دیا جائے، وہاں پر بھی رد وہ وہ دین کس کے حوالے کر دے؟ وکیل کے حوالے کر دے، اور یہاں پر بھی مبیعہ کس کے حوالے کر دیا جائے؟ باائع کے حوالے کر دیا جائے، لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اصح یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں رد نہ کیا جائے، رد کو مؤخر کر دو إِلَى أَنْ يُسْتَحْلَفَ یہاں تک کہ اس دائن سے یا مشتری سے کیا طلب کر لی جائے؟ قسم بھئی، وہ ا کر قسم اٹھائے گا یا قسم سے انکار کرتا ہے تو پھر فیصلہ کیا جائے، اس سے پہلے ادائیگی کا حکم نہ دیا جائے۔ وَمَنْ دَفَعَ إِلَى آخَرَ عَشَرَةً بھئی، صورتِ مسئلہ یہ ہے: بھئی میں سفر پر جا رہا تھا، میں نے اپ کو بھئی دس ہزار روپے دیے کہ لو بھئی یہ میرے گھر والوں پر خرچ کرنا جب تک میں ا نہ جاؤں بھئی، ان کو ضروریات ضرورت کی چیزیں بازار سے خرید کر دیتے رہنا بھئی، تو اپ ہوئے وکیل بھئی، وکیل بالانفاق بھئی، وکیل بال خرچ کرنے کے وکیل ہیں بھئی۔ اچھا، اپ نے کیا کیا؟ وہ دس ہزار تو اپ کے پاس پڑے تھے، اپ اپنی جیب سے خرچ کرتے رہے، دس ہزار پورا خرچ کر دیا، تو کیا اپ نے اپنی جیب سے دس ہزار خرچ کیے، اب وہ جو دس ہزار میرے اپ کے پاس پڑے ہیں کیا وہ اب اپ کے ہو گئے، عوض ہو گئے یا عوض نہیں ہوئے؟ کہتے ہیں بھئی یہ وہ عوض ہو گئے، اپ نے جو خرچ کیے ان دس ہزار کے عوض میں اب وہ دس ہزار کس کے ہو گئے؟ اپ کے ہو گئے، صورت سمجھ میں ا گئی؟ وَمَنْ دَفَعَ إِلَى آخَرَ اور جس نے حوالے کیے دوسرے شخص کے عَشَرَةً 10 دراہم لِيُنْفِقَهَا عَلَى أَهْلِهِ تاکہ وہ خرچ کرے اس دینے والے کے گھر والوں پر، فَأَنْفَقَ عَلَيْهِمْ عَشَرَةً تو اس وکیل نے خرچ کیے ان پر 10، بھئی ایسے 10 عَشَرَةً عَلَيْهِمْ عَشَرَةً لَهُ ایسے 10 خرچ کیے جو لَهُ کس کے تھے؟ وکیل کے اپنے تھے، موکل نے جو پیسے دیے تھے وہ خرچ نہیں کیے بلکہ اپنی جیب سے اتنے ہی خرچ کیے، فَهِيَ بِهَا تو یہ جو 10 ہیں، تو یہ جو اس کے پاس 10 پڑے ہیں یہ اس خرچ والے 10 کے عوض ہو جائیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ فَهِيَ بِهَا تو یہ ان کے عوض میں ہو جائیں گے، تو یہ 10 اس 10 کے عوض میں ہو جائیں گے، قِيلَ هَذَا اسْتِحْسَانٌ کہا گیا ہے یہ استحسان ہے، وَفِي الْقِيَاسِ يَصِيرُ مُتَبَرِّعًا بھئی، اور قیاس کے اندر وہ متبرع ہو جائے گا بھئی، قیاس کے متبرع کا معنی ثواب کے لیے کوئی کام کرنا بھئی، بھئی جب میں نے جو 10 ہزار دیے تھے وہ اپ نے خرچ نہیں کیے تو قیاس کے مطابق یہ اس کا عوض نہیں ہونا چاہیے، میں نے تو اپ کو دیے تھے 10 ہزار، اپ نے وہ میرے 10 ہزار خرچ نہیں کیے، یہ اپنی جیب سے خرچ کر رہے ہیں اپ اور میں نے اپ کو اپنی جیب سے خرچ کرنے کا نہیں، میں نے تو اپ کو اپنے الگ پیسے دیے، تو یہ جو اپ خرچ کر رہے ہیں گویا اپنی طرف سے کر رہے ہیں بطور ثواب کے، تو یہ 10 اپ کے خرچ ہو گئے اور وہ 10 ہزار اب بھی میرا ہی ہے۔ وَفِي الْقِيَاسِ قیاس ہے، وَفِي الْقِيَاسِ يَصِيرُ مُتَبَرِّعًا بِإِنْفَاقِ مَا هُوَ مِلْكُهُ اور قیاس میں وہ متبرع ہو جائے گا، قیاس کے اعتبار سے متبرع ہوگا بِإِنْفَاقِ مَا هُوَ مِلْكُهُ بوجہ خرچ کرنے اس چیز کو جو اس کی اپنی ملکیت ہے، اپنی ملکیت اس نے خرچ کیا تو یہ متبرع ہے، لیکن استحسان میں یہ 10 اس 10 کے عوض ہو جائیں گے، وَوَجْهُ الْاسْتِحْسَانِ اور استحسان کی وجہ یہ ہے أَنَّ الْوَكِيلَ بِالْإِنْفَاقِ وَكِيلٌ بِالشِّرَاءِ اس لیے کہ وکیل بالانفاق جو ہے دراصل وہ وکیل بال شراء ہے، اور وکیل بال شراء جب اپنی جیب سے خرچ کر دیتا ہے تو موکل پر کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے، تو یہاں پر بھی اس کے ثمن اس کے دیے ہوئے بچوں میں رجوع کر سکتا ہے، وَالْحُكْمُ فِيهِ مَا ذَكَرْنَا اور حکم وکیل بال شراء کے اندر وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دیا، یہی بات کہ وکیل بال شراء کیا کر سکتا ہے؟ موکل پر رجوع کر سکتا ہے، تو یہاں بھی اس کے پیسوں میں رجوع کر کے اس سے لے لے گا اس کے بدل میں۔ بَابُ عَزْلِ الْوَكِيلِ، یہ باب ہے وکیل کو معزول کر دینے کے بیان میں، بھئی اپ نے ایک شخص کو وکیل بنایا تو کیا اپ اس کو معزول کر سکتے ہیں یا معزول نہیں کر سکتے؟ کہتے ہیں بھئی اپ کی مرضی ہے، اپ نے وکیل بنایا تھا ایک مسئلے میں، اپ اس کے مسئلے سے پہلے ہی پہلے کیا کر دیتے ہیں اس کو؟ میں نے اپ کو بھیجا کہ جاؤ بھئی میرے لیے گاڑی خرید کر لاؤ، ابھی اپ نے گاڑی خریدی نہیں تھی میں نے پہلے ہی اپ کو معزول کر دیا تو میرا یہ معزول کرنا صحیح ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وکیل کو بھی اس کا علم ہو، اپ کے جانتے ہوئے اپ کے سامنے میں کیا کروں؟ اپ کو معزول کروں یا اپ کو اطلاع پہنچا دوں کہ میں نے اپ کو معزول کر دیا ہے، اگر اپ کو اطلاع نہیں پہنچی اور اپ نے گاڑی خرید لی تو وہ کس کی طرف سے شمار ہوگی؟ موکل ہی کی طرف سے شمار ہوگی۔ لِلْمُوَكِّلِ عَزْلُ وَكِيلِهِ موکل کو حق حاصل ہے اپنے وکیل کو معزول کر دینے کا، وَوُقِفَ عَلَى عِلْمِهِ اور یہ معزول کرنا موقوف ہے، وُقِفَ کی ضمیر کس کو راجع ہے؟ عزل کو، یہ عزل یہ معزول کرنا موقوف ہے عَلَى عِلْمِهِ أي عَلَى عِلْمِ الْوَكِيلِ کس کے علم پر؟ وکیل جان کو پتہ لگے گا تو وہ معزول ہوگا ورنہ نہیں، وَتَبْطُلُ الْوَكَالَةُ بِمَوْتِ أَحَدِهِمَا اور وکالت باطل ہو جاتی ہے دونوں میں سے کسی ایک کی موت کی وجہ سے بھی، یہ وکیل یا موکل میں سے کوئی ایک مر جائے تو وکالت کیا ہو جاتی ہے؟ باطل۔ اسی طرح وَجُنُونِهِ مُطْبِقًا وکالت باطل ہو جاتی ہے ان دونوں جُنُونِهِ أي جُنُونِ أَحَدِهِمَا، هٰ ضمیر کس کو راجع؟ أَحَدِهِمَا کو بھئی، ان دونوں میں سے کسی ایک کے مجنون ہو جانے سے کی وجہ سے بھی مُطْبِقًا اس حال میں کہ وہ جنون کس قسم کا ہو؟ مطبق ہو یعنی دائمی ہو، جدا ہونے والا نہ ہو، مطبق کا معنی دائمی جو جدا نہ ہو، مکمل جنون مراد ہے مکمل جنون۔ بھئی ایک ادمی ہے اس کو جنون کا ویسے دورہ پڑتا ہے تھوڑی دیر کے لیے اور ایک ادمی ہے مکمل مجنون ہو جاتا ہے یعنی سارے 24 گھنٹے گزر گئے وہ مکمل کس حالت میں ہے؟ جنون کی حالت میں، یا پورا مہینہ گزر گیا وہ کس حالت میں ہے؟ جنون، یا پورا سال گزر گیا وہ کس حالت میں ہے؟ جنون، تو یہ تین قول ہیں مولانا، جنونِ مطبق کسے کہتے ہیں؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں پورا مہینہ جنون رہے، یہ کیا ہے؟ جنونِ مطبق ہے، امام صاحب کے نزدیک بھئی یوم اور لیل کا اکثر حصہ اس پر جنون جُنُونٌ مُطْبَقٌ ہے اور امام محمد یوم اور لیل کا اکثر حصہ نہیں، یوم اور لیل سے جو زیادہ ہو جائے، ایک دن رات سے زیادہ ہو جائے، یہ جُنُونٌ مُطْبَقٌ ہے، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جنون متبق کتنا ہے؟ ایک سال ہے بھئی۔ تو ان دونوں میں سے کسی ایک کے مجنون ہو جانے سے اس حال میں کہ وہ جنون کس قسم کا ہو؟ مُطْبَقٌ ہو، تو اس صورت میں بھی وکالت باطل ہو جائے گی، چاہے وکیل مجنون ہو جائے چاہے موکل۔ اب بھئی جنون متبق کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: الجُنُونُ المُطْبَقُ شَهْرٌ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، جنون متبق جو ہے وہ ایک ماہ ہے، کس کے نزدیک؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک۔ کیوں ایک ماہ کیوں؟ کہتے ہیں اس کی وجہ سے روزے ماہ رمضان کے کیا ہو جاتے ہیں؟ اس کی وجہ سے ساقط ہو سکتے ہیں۔ وَعَنْهُ، اور امام صاحب سے روایت یہ ہے کہ أَنَّهُ أَكْثَرُ مِنْ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، کہ جنون متبق وہ ہے جو ایک دن اور رات سے زیادہ ہو، کیونکہ اس کی وجہ سے پانچ نمازیں کیا ہو جاتی ہیں؟ ساقط ہو جاتی ہیں۔ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ حَوْلٌ، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جنون متبق کیا ہے؟ ایک سال ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے ساری عبادتیں کیا ہو جاتی ہیں؟ ساقط ہو جاتی ہیں، حتّٰی کہ زکوٰۃ کی ادائیگی بھی کیا ہو جاتی ہے اس سے؟ ساقط ہو جاتی ہے۔ کہتے ہیں فَقُدِّرَ بِهِ احْتِيَاطًا، تو مقدر کیا جائے گا اس کو اس حَول کے ساتھ، احتیاطًا بھئی۔ احتیاطًا کس کے ساتھ اس کا اندازہ لگایا جائے گا؟ کس کے ساتھ مقرر کیا جائے گا؟ حَول والی مقدار، بھئی احتیاط اس میں ہے، احتیاط کیا ہے؟ اس میں ہے۔ لیکن کہتے ہیں فتویٰ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہے کہ ایک ماہ جنون رہے تو یہ کیا ہے؟ جنون متبق ہے، کیونکہ ایک دن والا قول وہ قلیل ہے، ایک سال والا وہ کثیر ہے، اور مہینے والا قول متوسط۔ وَلِحَاقِهِ، اس کا عطف بھی جُنُونِهِ پر ہے بھئی۔ أَيْ وَتَبْطُلُ الوَكَالَةُ بِلِحَاقِهِ، اور وکالت باطل ہو جائے گی بوجہ مل جانے کے، ھَا ضمیر راجع ہے أَحَدُهُمَا کو، ان دونوں میں سے کسی وکیل یا موکل میں سے کوئی ایک مل گیا دَارِ الحَرْبِ کے ساتھ، کس کے ساتھ بھئی؟ دَارِ الحَرْبِ کے ساتھ، یعنی دارِ حَرْبِ چلا گیا مُرْتَدًّا اس حال میں کہ وہ کیا تھا؟ مرتد یعنی وکیل یا موکل میں سے کوئی مرتد ہو کر دارِ حَرْبِ چلا جائے تو اس صورت میں بھی وکالت کیا ہو جاتی ہے؟ باطل ہو جاتی ہے۔ وَكَذَا بِعَجْزِ مُوَكِّلِهِ مُكَاتَبًا، اسی طرح وکالت باطل ہو جائے گی، جبکہ وکیل کا موکل عاجز ہو جائے اس حال میں کہ وہ مکاتب ہو، دیکھو بھئی۔ ایک مکاتب تھا، مکاتب کسے کہتے ہیں؟ جسے آقا نے کیا کہا اس کا مال لے آؤ تو تم آزاد، اس مکاتب نے وہ مکاتب آزاد کی طرح ہوتا ہے بھئی، سارے معاملات کرتا ہے، آقا اس سے خدمت وغیرہ نہیں لے سکتا، وہ ہو جائے گا مال کما کر لائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ ایک مکاتب نے بھئی، یہ جو اب پیسے اکٹھے کر رہا ہے اپنے لیے، آزادی کے لیے، اس نے ایک وکیل بنایا تھا، اور آپ نے پڑھا ہے اگر مکاتب عَجْز کا اظہار کر دے، آقا سے کہہ دے نہیں بھئی میں اتنے پیسے نہیں لا سکتا، میں نے بڑی کوشش کی کچھ بھی نہیں ہو رہا بھئی، بس مولانا کتابت ختم ہوئی، اب وہ پھر عام غلام بن گیا، آقا اس سے کیا کرے گا؟ خدمت وغیرہ لے گا۔ تو مکاتب نے ایک شخص کو وکیل بنایا تھا یہ بیع و شراء وغیرہ کسی بھی مسئلے کے اندر، اور پھر مکاتب نے عجز کا اظہار کر دیا، جب عجز کا اظہار کیا تو کتابت ختم، جب کتابت ختم ہو گئی تو اس کے اس نے جو وکیل بنایا تھا اس کی وکالت بھی ختم ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ معنی ہے وَكَذَا بِعَجْزِ مُوَكِّلِهِ، اور اسی طرح وکیل کے موکل کے عاجز آ جانے کی وجہ سے اس حال میں کہ وہ مکاتب تھا، وَحَجْرِهِ، اور اسی طرح موکل کے محجور ہو جانے کی وجہ سے، اس حال میں کہ وہ معذون تھا۔ وکالت باطل ہو جائے گی، کیسے بھئی؟ دیکھو بھئی، میرا ایک غلام تھا، میں نے اس کو اجازت دے دی تجارت کی، تو وہ معذون ہوا بھئی، عَبْدٌ مَأْذُونٌ، تو عَبْدٌ مَأْذُونٌ تو آپ کو پتہ ہے بیع و شراء وغیرہ سارے معاملات کر سکتا ہے، اس عبد مأذون نے آگے کسی کو اپنا وکیل بنایا، لیکن بعد میں میں نے اس کا اذن ختم کر دیا، کیا کیا؟ اذن ختم کر دیا، تو یہ پھر عام غلام بن گیا، عبد محجور بن گیا، جب یہ عبد مأذون نہ رہا بھئی، اذن ختم ہوا، تو اب وہ جو اس نے وکیل بنایا تھا اس کی وکالت بھی کیا ہو جائے گی؟ باطل۔ یہ معنی ہے وَحَجْرِهِ أَيْ بِحَجْرِ مُوَكِّلِهِ، ہا ضمیر موکل کو راجع ہے کہ موکل کیا ہو جائے؟ محجور ہو جائے، مَأْذُونًا اس حال میں کہ وہ کیا تھا؟ معذون تھا۔ وَافْتِرَاقِ الشَّرِيكَيْنِ، اور اسی طرح بھئی وکالت باطل ہو جائے گی دو شریکوں کے جدا ہو جانے سے، بھئی میں اور زید شریک تھے، ہم دونوں مل کر ایک کاروبار کر رہے ہیں بھئی، میں نے ایک آدمی کو وکیل بنایا مال شرکت کے اندر کہ بھئی تم بھی وکیل ہو، اس مال کے لیے کیا کر سکتے ہو؟ بیع و شراء کر سکتے ہو۔ تو پھر بعد میں میرا اور زید کا جھگڑا آیا، ہم دونوں نے کہا کیا کیا؟ شرکت ختم کر دی، تو شرکت جب ختم کی تو وہ وکالت بھی خود بخود کیا ہو جائے گی؟ ختم، کیوں؟ کیونکہ وہ وکیل تھا کس چیز میں؟ مَالِ الشَّرِكَةِ میں، تو جب وکالت شرکت ختم ہوئی تو مال شرکت بھی باقی نہ رہا، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ معنی ہے وَافْتِرَاقِ الشَّرِيكَيْنِ، اور دونوں شریکوں کے جدا ہو جانے سے بھی وکالت باطل ہوگی۔ أَيْ صُورَةُ المَسْأَلَةِ هَذِهِ، أَيْ أَحَدُ الشَّرِيكَيْنِ دو شریکوں میں سے ایک نے وَكَّلَ ثَالِثًا وکیل بنایا تیسرے آدمی کو فِي التَّصَرُّفِ، کس کے اندر؟ فِي التَّصَرُّفِ کے اندر، اور تصرف بھی کس چیز میں ہے؟ فِي مَالِ الشَّرِكَةِ میں تصرف کے اندر وکیل بنایا تیسرے کو، فَافْتَرَقَا، پھر دونوں شریک آپس میں جدا ہو گئے، تَبْطُلُ الوَكَالَةُ، تو وکالت کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ بھئی یہ جو تین صورتیں ہیں، باقی تو بتایا تھا، یہ جو تین صورتیں ہیں، ان کے اندر بھئی، یہ جو مکاتب، معذون، اور شریکین کے اندر وکالت باطل ہوتی تھی، اس کے اندر وکیل کو چاہے پتہ بھی نہ ہو پھر بھی وکالت کیا ہو جائے گی؟ ختم۔ بھئی مکاتب نے کسی کو وکیل بنایا تھا اور پھر خود عجز کا اظہار کر دیا، خود بخود وکیل کیا ہو جائے گا؟ معذور، چاہے اسے علم ہی نہ ہو۔ معذون نے کسی کو وکیل بنایا تھا، آقا نے اس کو محجور کر دیا، خود بخود وکالت کیا ہو جائے گی؟ ختم، اگرچہ وکیل کو پتہ ہی نہیں۔ دو شریکوں میں سے ایک نے تیسرے کو وکیل بنایا تھا، دونوں جدا ہو گئے، جدا ہوتے ہی فورا وکالت کیا ہو جائے گی؟ اگرچہ وکیل کو پتہ ہی نہ ہو۔ یہ معنی ہے وَإِنْ لَمْ يَعْلَمْ بِهِ وَكِيلُهُمْ، اگرچہ اس چیز کا علم نہ ہو وکیل کو بھئی، اس چیز کا علم نہ ہو ان تینوں میں سے کسی کا بھئی۔ بھئی وَكِيلُهُمْ، کون کن کا وکیل؟ أَيْ وَكِيلُ المُكَاتَبِ وَالمَأْذُونِ وَأَحَدِ الشَّرِيكَيْنِ، مکاتب اور معذون اور دو شریکوں میں سے ایک کا وکیل، اگرچہ اسے علم نہ ہو، پھر بھی یہ ختم۔ وَبِتَصَرُّفِ المُوَكِّلِ فِيمَا وُكِّلَ بِهِ، اور اسی طرح موکل کے تصرف کر دینے سے فِيمَا وُكِّلَ بِهِ جس کا اس کو وکیل بنایا گیا تھا، اس صورت میں بھی وکالت ختم۔ دیکھو بھئی! میں نے آپ کو بھیجا، آپ کو وکیل بنایا کہ بھئی یہ میری یہ گاڑی بیچ دو، ابھی آپ نے گاڑی نہیں بیچی تھی کہ میں نے خود گاڑی بیچ دی، تو جس چیز کا وکیل بنایا تھا وہ تصرف موکل نے خود کر لیا، تو اس صورت میں بھی وکالت کیا ہو جائے گی ختم بھئی۔ وَبِتَصَرُّفِ المُوَكِّلِ اور موکل کے تصرف کر دینے کی وجہ سے فِيمَا وُكِّلَ بِهِ جس کا اس کو وکیل بنایا گیا تھا، سَوَاءٌ بھئی! چاہے وہ محل اب بھی باقی ہو، چاہے وہ محل ہی باقی نہ ہو، بھئی اگر گاڑی میں نے خود بیچ دی، تو اب تو محل ہی باقی نہیں، گاڑی کا مالک تو کوئی اور بن گیا، اب کس چیز کو بیچیں گے؟ یا مولانا! محل اب بھی باقی ہو، مثلا ایک آدمی نے دوسرے کو وکیل بنایا کہ فلاں عورت سے جاؤ میرا کیا کر دو؟ نکاح کروا دو، ابھی اس نے جا کر نکاح نہیں کروایا تھا کہ موکل نے خود ہی جا کر کیا کر دیا اس سے؟ نکاح کر دیا بھئی، نکاح کر دیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب بھئی، اب بعد میں کیا ہوتا ہے؟ اب بعد میں موکل اس کو طلاق دے دیتا ہے، اور اس عورت سے جدا ہو گیا، تو اب بھی محل تو اب بھی باقی ہے، کیا وکیل اب جا کر نکاح کروا سکتا ہے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی! نکاح، تو محل چاہے باقی ہو چاہے محل باقی نہ ہو دونوں صورتوں میں جب موکل خود تصرف کر رہے تو وکیل کو اب وکالت اس کی ختم۔ تو یہ معنی ہے سَوَاءٌ لَمْ يَبْقَ مَحَلًّا لِلتَّصَرُّفِ، برابر ہے کہ وہ محل تصرف کے لیے باقی ہی نہ رہے، فَمَا إِذَا وَكَّلَهُ بِالإِعْتَاقِ جیسے کہ وکیل بنایا ہو کسی کو آزاد کرنے کا، فَأَعْتَقَ، پھر آقا موکل نے خود کیا کر دیا اسے؟ آزاد کر دیا، تو اب محل ہی نہیں بچا تصرف کے لیے، محل ہی باقی نہیں رہا، کس کو آزاد کرے وہ تو پہلے ہی آزاد ہو چکا۔ أَوْ بَقِيَ مَحَلًّا، یا محل باقی ہو، كَمَا لَوْ وَكَّلَهُ بِنِكَاحِ امْرَأَةٍ کسی عورت سے نکاح کا، فَنَكَحَ المُوَكِّلُ، پھر موکل نے خود اس سے کیا کر لیا؟ نکاح کر لیا، ثُمَّ أَبَانَهَا، پھر موکل اس سے، پھر موکل نے اسے جدا کر دیا، سمجھ میں آیا؟ لَمْ يَكُنْ لِلْوَكِيلِ، پھر تو وکیل کے لیے جائز نہیں أَنْ يُزَوِّجَهَا لِلْمُوَكِّلِ کہ اب پھر اس سے کیا کر دے موکل کا نکاح کروا دے۔ چلیے مولانا! هَذَا هُوَ المَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الكَلَامِ۔
106 approved lectures · 91 of 106