Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-055

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 38
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَلَوْ فُسِخَتِ الْمُفَاوَضَةُ أَخَذَ رَبُّ الدَّيْنِ أَيًّا شَاءَ مِنْ شَرِيكَيْهَا بِكُلِّ دَيْنِهِ لِمَا عَرَفْتَ أَنَّ شَرِكَةَ الْمُفَاوَضَةِ يَتَضَمَّنُ الْكَفَالَةَ۔ شرکتِ مفاوضہ، بھئی، پہلے یہ سمجھ لیں، پھر مسئلہ سمجھیں، بھئی۔ شرکتِ مفاوضہ یہ ہے کہ دو آدمی شریک ہوتے ہیں، عقد کرتے ہیں شرکت کا اور دونوں مال، تصرف وغیرہ کے اعتبار سے برابر ہوتے ہیں۔ جی، مال تصرف۔ تو یہ شرکتِ مفاوضہ کہلاتی ہے اور اس میں یاد رکھیے کہ دونوں جو بھی کماتے ہیں، اس میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ جو دونوں میں سے کسی پر کوئی دین آتا ہے، اس میں بھی کیا ہوتے ہیں؟ ہاں، بشرطیکہ اس میں شرکت جائز ہو۔ تو اس میں بھی دونوں شریک ہوتے ہیں۔ تو جو بھی دونوں میں سے کوئی بھی عقد کرتا ہے، بیع و شراء وغیرہ کا، تو دوسرا جو ہے، اس کی طرف سے کفیل ہوتا ہے۔ اور عقد کرنے والا دوسرے کی طرف سے وکیل ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو دونوں میں سے جو بھی کوئی عقد کرتا ہے، وہ دوسرے کی جانب سے اس میں وکیل ہے اور دوسرا اس کے لیے اس عقد میں کیا ہوتا ہے؟ کفیل ہوا کرتا ہے، کفیل، بھئی۔ تو یہ۔ سمجھ میں آیا؟ اس میں پھر کفالت دینی نہیں پڑتی، بلکہ خود بخود کیا ہوتا ہے اس کی طرف سے؟ کفیل ہوتا ہے اس معاملے کے اندر، بھئی۔ اب دو آدمی تھے، ان میں شرکتِ مفاوضہ تھی، بھئی۔ تو یہ مفاوضہ جو ہے، مولانا، تفویض سے ہے، تفویض۔ کیونکہ اس میں علی الاطلاق ایک دوسرے کو تصرف کا حق دے دیتا ہے، ہر قسم کے تصرف کا حق دے دیتا ہے، اس کو تفویض کر دیتا ہے تصرف کا حق علی الاطلاق، بھئی، جو بھی تصرف کرو، بھئی، تم۔ تو لہذا اس کو کیا کہتے ہیں؟ شرکتِ مفاوضہ۔ تو لہذا اب یہاں پر جو نفع کمائیں گے، دونوں میں سے کوئی ایک بھی نفع کماتا ہے، دونوں اس کے اندر شریک ہیں۔ اسی طرح ایک پر جو دین آتا ہے، اس میں شرکت ہو سکتی ہے، تو دوسرا بھی اس کے اندر شریک ہوگا، بھئی۔ اب دو آدمیوں نے شرکتِ مفاوضہ کی تھی اور پھر انہوں نے یہ شرکت، یہ عقد ختم کر دیا، بھئی۔ اب اس شرکت کے دوران دین آیا تھا، بھئی، تو اس دین کے اندر بھی دونوں شریک تھے۔ اب مفاوضہ جب ختم ہوا، اس کے بعد اب وہ دین والا اپنا دین وصول کرنا چاہتا ہے، تو کہتے ہیں جس سے چاہے مطالبہ کر سکتا ہے۔ چاہے تو جس سے عقد کیا تھا، اس سے کیا کر لے؟ مطالبہ کر لے؛ کیونکہ عقد اسی سے ہوا تھا۔ اور چاہے تو دوسرے سے مطالبہ کرے اس لیے کہ یہ عقدِ مفاوضہ تھا اور عقدِ مفاوضہ کے اندر دوسرا کیا ہوا کرتا ہے؟ کفیل ہوتا ہے، تو دوسرا کفیل تھا، لہذا اس سے بھی کیا کر سکتا ہے؟ مطالبہ کر سکتا ہے۔ جی، یہ معنی ہے: وَلَوْ فُسِخَتِ الْمُفَاوَضَةُ اور اگر شرکتِ مفاوضہ کو فسخ کر دیا گیا، أَخَذَ رَبُّ الدَّيْنِ تو پکڑے گا رب الدین، أَيًّا شَاءَ جس کو بھی وہ چاہے، مِنْ شَرِيكَيْهَا بھئی، اس کے دونوں شریکوں میں سے، بِكُلِّ دَيْنِهِ اس کے سارے دین کے بدلے، بھئی۔ سارے دین کے ساتھ پکڑ سکتا ہے۔ لِمَا عَرَفْتَ بجہت اس کے جو آپ جانتے ہیں، أَنَّ شَرِكَةَ الْمُفَاوَضَةِ کہ شرکتِ مفاوضہ جو ہے، يَتَضَمَّنُ الْكَفَالَةَ یہ متضمن ہوتی ہے کفالت کو، کہ ہر عقد کے اندر دوسرا کفیل ہوتا ہے۔ تو بطورِ کفالت کی وجہ سے اب دوسرے سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے، اس کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ جی، اچھا، پھر کیا کرے گا، بھئی؟ اگر کوئی ایک ان میں سے ادا کرتا ہے، ایک نے تو عقد کیا تھا، دوسرا کفیل تھا، بھئی، تو جتنا بھی کہتے ہیں، دونوں میں سے کوئی ایک ادا کرے، تو دوسرے پر رجوع نہیں کر سکتا۔ مثلاً، بھئی، دین تھا 1000 روپے، ایک نے 100 روپیہ ادا کر دیے۔ تو کیا اس 100 کے اندر، بھئی، وہ دوسرے پر رجوع کر سکتا ہے؟ اب اس سے بھی 50 لے سکتا ہے؟ کہتے ہیں، نہیں، بھئی۔ جب تک نصف سے زائد نہ ہو جائے، اس وقت تک دوسرے پر رجوع نہیں۔ اس لیے کہ وہ جو 1000 دین تھا، اس میں سے 500 اس پر تھا، تو 500 کے اندر یہ اصیل ہے اور 500 کے اندر کفیل ہے۔ تو جو مال بھی ادا کرے، اس کا اصالت کے طریقے پر ادا ہونا یہ اولٰی ہے کس سے؟ کفالت کے طریقے پر ادا ہونے سے۔ ہاں، جب نصف سے بڑھ جائے گا، تو پھر اب وہ جو ادا کیا ہے، وہ کس طریقے پر ہے؟ کفالت، اس میں رجوع کر سکتا ہے، اس سے پہلے رجوع نہیں۔ یہ معنی ہے: وَلَمْ يَرْجِعْ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ اور رجوع نہیں کرے گا دونوں میں سے کوئی ایک بھی اپنے ساتھی پر، إِلَّا بِمَا أَدَّى زَائِدًا عَلَى النِّصْفِ مگر اس کے ساتھ جو یہ ادا کرے اس حال میں کہ یہ زائد ہو کس پر؟ نصف پر زائد ہو۔ لِمَا عَرَفْتَ بجہت اس کے جو آپ جانتے ہیں، أَنَّ جِهَةَ الْإِصَالَةِ رَاجِحَةٌ عَلَى جِهَةِ الْكَفَالَةِ کہ اصالت کی جہت یہ راجح ہے کس پر؟ کفالت کی جہت پر۔ أَقُولُ فِي هَذِهِ... جی، مسئلہ سمجھ میں آیا سب کو، بھئی؟ اب یہاں سے علامہ صدر الشریعہ اس پر ایک اشکال ذکر کرنا چاہتے ہیں، طویل تقریر ہے، خلاصۂ کلام یہ ہے: ماتن نے یہ بتلایا کہ دونوں میں سے چاہے عقد کرنے والا ادائیگی کرے مال کی، چاہے دوسرا مال کی ادائیگی کرے، جب تک نصف سے زیادہ ادا نہ کر دے، اپنے ساتھی پر رجوع نہیں کر سکتا۔ ہاں، تو جو نصف سے زائد ادا کر رہا ہے، وہ اس کے ساتھی پر آتا تھا، لہذا اس سے جا کر وصول کر لے، بھئی۔ علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں، بھئی، کہ اگر عقد کرنے والا ادا کرے، تو اسے قلیل کے اندر بھی رجوع کا حق ہونا چاہیے۔ اور دوسرے کو قلیل کے اندر رجوع کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ ماتن نے کیا بتلایا؟ دونوں کو رجوع قلیل کے اندر رجوع کا حق نہیں ہے، نصف سے زائد ہو تو پھر رجوع کا حق ہے۔ علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر جو جس نے عقد کیا ہے، اس کو نصف سے پہلے بھی رجوع کا حق ہونا چاہیے۔ اور جو دوسرا تھا، جو کفیل ہے، اس کو نصف سے پہلے رجوع کا حق نہیں۔ تو دونوں کے لیے یہ نہیں ہے کہ نصف کے بعد رجوع کا حق ہے، بلکہ جس نے عقد کیا، اس کے لیے، وہ جب ادائیگی کرے، تو اسے نصف سے پہلے بھی کیا ہونا چاہیے؟ رجوع کا حق۔ مسئلہ سمجھ میں آیا، بھئی؟ یہ اشکال ذکر کریں گے۔ وجہ اس کی کیا ہے؟ کہتے ہیں، بھئی، دیکھیے، جس نے عقد کیا ہے، اس میں نصف کے اندر تو وہ اصیل ہے۔ ہزار کی کوئی چیز خریدی، تو 500 کا تو یہ مالک بن رہا ہے۔ لہذا نصف کے اندر، نصف چیز کا یہ مالک بن رہا ہے، تو نصف کے اندر یہ کیا ہوا؟ اصیل۔ تو 500 روپے اس پر ہیں بطورِ اصالت کے۔ اور یہ دوسرے کا وکیل بھی ہے، اس نے اس کو سپرد کیا تھا تصرف، جو تصرف بھی کرو، بھئی۔ تو باقی نصف کے اندر دوسرے کا وکیل ہے، بھئی۔ کیا ہے؟ دوسرے کا وکیل ہے۔ تو یہاں پر اصالت اور وکالت ہے پہلے کے اندر، کفالت ہے ہی نہیں۔ نصف کے اندر اصیل ہے اور نصف کے اندر وکیل ہے۔ تو کفالت ہے یہاں پر؟ کفالت ہے ہی نہیں سرے سے یہاں پر۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اصالت اور وکالت ہے یہاں پر، صرف کفالت ہے ہی نہیں جو عقد کرنے والا ہے۔ نصف کس چیز کے، نصف میں وہ کیا ہے؟ اور نصف میں دوسرے کی جانب سے؟ کفالت ہے؟ کفالت تو ہے ہی نہیں یہاں پر، یہاں تو اصالت ہے اور وکالت ہے۔ لہذا جو بھی ادا کرتا ہے، وہ شرکت کے طریقے پر ادا کرتا ہے۔ اپنی طرف سے بھی ادا کر رہا ہے اور اپنے شریک کی طرف سے بھی ادا کر رہا ہے۔ اس لیے کیونکہ اگر یہ کہیں کہ جو پہلے نصف ادا کر رہا ہے، وہ کس طرف سے ہے؟ اپنی طرف سے ہے اور بعد والے کس کی طرف سے ہیں؟ اس شریک کی طرف سے ہیں، تو یہ تو تقسیم الدین قبل الاداء آئی۔ اور تقسیم الدین قبل الاداء آپ پڑھ چکے ہیں، جائز نہیں۔ دین ہزار ہے، شرکت کے طریقے پر ہے، تو وہ شرکت ہی کے طریقے پر رہے گا۔ ادا سے پہلے ہی آپ تقسیم کر دیں کہ پہلے 500 کس کے ہیں؟ اصیل کے طور پر ہیں، باقی 500 کس کے طور پر ہیں؟ تو یہ تو آپ نے تقسیم کر دی اور قبل الاداء، یعنی یوں کہیں، قبل القبض دین میں تقسیم نہیں، یہ آپ پچھلے مسئلے میں پڑھ چکے ہیں، پچھلے سبق میں ہی آیا تھا، بھئی۔ لہذا اب یہ جو ادا کر رہا ہے، وہ جو بھی ادا کر رہا ہے، وہ اصالت اور وکالت کے طور پر مشترکہ ہے۔ تو نصف اس پر آئے گا اصالت کے طور پر، چاہے 100 روپیہ ادا کرتا ہے، تو اس میں سے نصف اس پر اصالت کے طور پر ہے اور نصف کس طریقے پر ہے؟ وکالت کے طور پر۔ تو اس میں لہذا 50 کے اندر کیا کرنا چاہیے اس کو؟ رجوع کا حق ہونا چاہیے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے، بھئی، آگے پھر دیکھتے ہیں۔ أَقُولُ میں کہتا ہوں، فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ إِشْكَالٌ اس مسئلے کے اندر اشکال ہے، وَهُوَ اور وہ یہ، مولانا، أَنَّ أَحَدَ الْمُفَاوِضَيْنِ کہ عقدِ مفاوضہ کرنے والوں میں سے کوئی ایک جو ہے، إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا جب اس نے کوئی چیز خریدی، ثمَّ فُسِخَتِ الْمُفَاوَضَةُ پھر دونوں نے عقدِ شرکتِ مفاوضہ فسخ کر دی، فَالْبَائِعُ باائع جو ہے، إِنْ طَلَبَ الثَّمَنَ مِنَ الْمُشْتَرِي اگر وہ ثمن کو طلب کرتا ہے کس سے؟ اپنے مشتری سے، بھئی، یعنی جس کے ساتھ عقد کیا تھا، احد المفاوضین ہے وہ، فَلَا تَعَلُّقَ لِهَذِهِ الْمَسْأَلَةِ بِمَسْأَلَةِ الْكَفَالَةِ تو اس مسئلے کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے کفالت کے مسئلے سے۔ کیوں؟ میں نے بتلایا، کیونکہ یہاں کفالت ہے ہی نہیں، بلکہ اصالت ہے اور وکالت۔ بَلِ الْمُشْتَرِي فِي النِّصْفِ أَصِيلٌ وَفِي النِّصْفِ الْآخَرِ وَكِيلٌ بلکہ مشتری نصف کے اندر اصیل ہے اور دوسرے نصف کے اندر وکیل ہے۔ تو یہاں صرف اصالت ہے اور صرف وکالت۔ فَكُلُّ مَا أَدَّى پس وہ سارا جو یہ ادا کرے، يَنْبَغِي أَنْ يَرْجِعَ بِنِصْفِهِ عَلَى الشَّرِيكِ مناسب یہ ہے کہ رجوع کرے اس کے نصف کے ساتھ اپنے شریک پر؛ لِأَنَّهُ اشْتَرَى الْعَبْدَ صَفْقَةً وَاحِدَةً اس لیے کہ اس نے غلام کو خریدا ہے صفقةً یعنی عقدِ واحد کے ساتھ، فَصَارَ الثَّمَنُ دَيْنًا عَلَيْهِ تو یہ سارا ثمن اس پر کیا ہوا؟ دین ہوا، وَلَا يُمْكِنُ قِسْمَتُهُ اور اس دین کی تقسیم ممکن نہیں ہے؛ اس لیے کہ قبل القبض دین کی تقسیم جائز نہیں۔ فَكُلُّ مَا يُؤَدِّيهِ پس وہ سارا جو یہ ادا کرتا ہے، يُؤَدِّيهِ مِنْهُ وَمِنْ شَرِيكِهِ یہ اس کو ادا کرتا ہے اپنی طرف سے اور اپنے شریک کی طرف سے، دونوں کی طرف سے ادا کرتا ہے، فَيَرْجِعُ عَلَيْهِ بِالنِّصْفِ تو رجوع کرے گا اس پر نصف کے ساتھ، بھئی۔ صورت یہاں تک سمجھ میں آ گئی؟ یہ کس سے مطالبہ جب ہوا تھا؟ عقد کرنے والے سے۔ اور اگر دوسرے سے مطالبہ ہوتا ہے، تو کہتے ہیں اس لیے: وَإِنْ طَلَبَ الْبَائِعُ الثَّمَنَ مِنَ الشَّرِيكِ کہ اگر بائع طلب کرتا ہے ثمن کو شریک سے، يَكُونُ ذَلِكَ یہ اس وجہ سے ہے، بِسَبَبِ أَنَّ الْمُفَاوَضَةَ تَضَمَّنَتِ الْكَفَالَةَ کہ عقدِ مفاوضہ جو ہے، وہ متضمن ہے کس چیز کو؟ وہ کفالت کو متضمن تھا، آپ جانتے ہیں کہ دوسرا کفیل ہوا کرتا ہے، تو اس سے کفالت کی وجہ سے مطالبہ کر رہا ہے۔ فَيَكُونُ كَفِيلًا فِي الْكُلِّ تو یہ کفیل ہے کس کے اندر، بھئی؟ پورے کے پورے 1000 ثمن کے اندر۔ لیکن، بھئی، اس 1000 میں، جس سارے میں کفیل ہے، اس میں کچھ فرق ہے۔ کیا؟ إِلَّا أَنَّ الْكَفَالَةَ فِي النِّصْفِ الَّذِي هُوَ مِلْكُ الْعَاقِدِ مگر یہ کہ وہ کفالت اس نصف کے اندر جو کس کی ملک ہے؟ بھئی، عقد 1000 کی چیز خریدی، تو نصف کا مالک کون ہے، بھئی؟ عقد کرنے والا ہی۔ تو اس نصف کے اندر جو عقد کرنے والے کی ملک تھی، اس کے اندر یہ محضِ کفیل ہے۔ یہ کیا ہے؟ محض، یہ معنی ہے کہ اس نصف کے اندر جو عقد کرنے والے کی ملک تھا، تَمَحَّضَتِ الْكَفَالَةُ وہ محضِ کفالت ہے۔ اور باقی نصف، بھئی، اس کا تو مالک کون ہے؟ یہ خود ہی مالک ہے، یہ خود ہی کیا ہے؟ مالک ہے۔ تو اس میں من وجہ یہ اصیل ہوا، کیا ہوا؟ اصیل ہوا۔ یہ معنی ہے: وَفِي النِّصْفِ الَّذِي هُوَ مِلْكُهُ اور وہ نصف جو اس کی ملک ہے، اس میں یہ اصیل ہے من وجہٍ، بھئی۔ من وجہ اصیل ہے، بھئی۔ من وجہ کیا ہے؟ اصیل ہے۔ بھئی، یہ من وجہ کی قید کیوں لگائی؟ وجہ یہ، دیکھو، عقد کرنے والا دوسرا ہے، تو اس نے بطورِ وکالت کے چیز خریدی اس کی طرف سے نصف، نصف میں وہ اصیل اور نصف میں وکیل۔ اور عقد کے حقوق راجع ہوتے ہیں وکیل کی طرف۔ مثلاً مبیع لینا یا دینا یا ثمن لینا، دینا یا اس کا مطالبہ کرنا، یہ موکل نہیں کر سکتا، بھئی۔ یہ کس کا حق ہے؟ وکیل۔ موکل جا کر کہے: لاؤ، بھئی، میرے ثمن دے دو۔ وہ کہے گا: آپ کون ہیں، بھئی؟ میرا آپ سے عقد ہی نہیں ہوا، میرا عقد تو کس سے ہوا تھا؟ فلاں سے ہوا تھا۔ ہاں، وہ آپ کا وکیل ہے، وہ الگ بات ہے، بھئی۔ تو عقد، حقوقِ عقد کا تعلق کس سے ہوتا ہے، بھئی؟ وکیل سے، وکیل سے۔ اچھا، تو یہاں مطالبے کا چونکہ حقوقِ عقد راجع ہیں وکیل کی طرف، تو اس نصف کے اندر یہ کفیل بھی ہے۔ جس نصف کا یہ خود مالک ہے، من وجہ اس کے اندر کفیل بھی ہے؛ کیونکہ حقوقِ عقد کا تعلق کس سے ہوتا ہے؟ وکیل سے۔ تو اس لحاظ سے دیکھا جائے کہ حقوقِ عقد کا تعلق تو کس سے ہے، وکیل سے ہے، یہ اس نصف کے اندر کفیل ہے۔ اور بعیں لحاظ دیکھا جائے کہ وہ تو اسی کا تو وکیل ہے، یہ چیز کس کی ملک ہے؟ اسی کی ملک ہے، تو اس کے اندر اصیل بھی ہے۔ تو نصف کے اندر، بھئی، اس 1000 کی جو چیز خریدی تھی، نصف کا تو مالک عقد کرنے والا تھا، اس میں یہ محضِ کفیل ہے۔ اور باقی نصف کے اندر من وجہ کفیل ہے اور من وجہ اصیل بعیں لحاظ ہے کہ یہ چیز اسی کی ملک ہے، بھئی۔ اور کفیل بعیں لحاظ ہے کہ عقد، حقوقِ عقد کس کی طرف راجع ہوتے ہیں؟ وکیل کی طرف۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو لہذا اس پر سارا جو مال آیا، یوں کہیں، بطورِ کفالت کے آیا۔ کفالت آ گئی یا نہیں، بھئی؟ نصف کے اندر تو محضِ کفالت اور نصف کے اندر من وجہ کفالت آ گئی۔ تو ہے تو کفالت سارے میں، لیکن نصف میں محضِ کفالت ہے اور نصف میں من وجہ کفالت ہے۔ اور جس میں من وجہ کفالت ہے، اسی میں من وجہ اصالت بھی ہے، سمجھ میں آیا؟ تو لہذا نصف مال یوں سمجھیں بطورِ اصیل کے اس پر آیا اور نصف مال بطورِ... لہذا جو ادا کرے گا، وہ اس نصف کی طرف راجع ہوں گے۔ یعنی یوں سمجھا جائے گا، یہ جو ادا کیا جا رہا ہے، یہ کس طریقے پر ہے؟ اصالت کے طریقے پر اولٰی ہے اس کے ادا ہونا یا کفالت کے طریقے پر، بھئی؟ اصالت کے طریقے پر ادا ہونا اولٰی ہے۔ تو نصف کے اندر یہ کفیلِ محض تھا، نصف کے اندر یہ اصیل تھا۔ تو لہذا جو بھی ادا کرے گا، وہ کس طریقے پر ادا ہونا اولٰی ہے؟ اصالت کے طریقے پر، اور اصیل ہے یہ نصف کے اندر۔ تو جب تک نصف ادا کر رہا ہے، گویا یہ اصالت کے طریقے پر ادا کر رہا ہے، لہذا اسے رجوع کا حق نہیں ہے۔ اور جب نصف سے زائد ادا کر رہا ہے، تو وہ محضِ کفالت کے طریقے پر ادا کر رہا ہے، لہذا اس میں کیا کر سکتا ہے؟ صورت سمجھ میں آ گئی سب کو؟ فَبِالنَّظَرِ إِلَى أَنَّ حُقُوقَ الْعَقْدِ رَاجِعَةٌ إِلَى الْوَكِيلِ پس اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ حقوقِ عقد تو لوٹتے ہیں کس کی طرف؟ وکیل کی طرف، يَكُونُ الشَّرِيكُ كَفِيلًا لِلَّثَمَنِ تو شریک کفیل ہوگا ثمن کے لیے۔ فَمُطَالَبَةُ الثَّمَنِ تَتَوَجَّهُ إِلَيْهِ بِحُكْمِ الْكَفَالَةِ تو یہ نصف، بھئی، جس کا یہ مالک بن رہا ہے، عقد کرنے والا نہیں، دوسرا، اس کے اندر تو، بھئی، مطالبہ تو وکیل سے ہونا چاہیے تھا؛ کیونکہ حقوقِ عقد کس کی طرف راجع ہوتے ہیں؟ وکیل۔ لیکن اس کی طرف بھی، کیونکہ یہ عقدِ مفاوضہ ہو چکا ہے ان کے درمیان، لہذا یہ متضمن تھا کس چیز کو؟ کفالت کو۔ لہذا یہ کفیل بھی تھا اس کے اندر۔ تو کفیل ہونے کے اعتبار سے اب اس سے بھی کیا کیا جا سکتا ہے؟ جی، اس نصف میں بھی مطالبہ ہوا ہے، بھئی۔ فَبِالنَّظَرِ إِلَى أَنَّ حُقُوقَ الْعَقْدِ رَاجِعَةٌ إِلَى الْوَكِيلِ يَكُونُ الشَّرِيكُ كَفِيلًا لِلَّثَمَنِ تو اس نصف کے اندر بھی، بھئی، کفیل ہوگا ثمن کے لیے، فَمُطَالَبَةُ الثَّمَنِ تَتَوَجَّهُ إِلَيْهِ بِحُكْمِ الْكَفَالَةِ تو اس نصف ثمن کے اندر بھی مطالبہ متوجہ ہوگا اس کی طرف کفالت کے حکم کی وجہ سے۔ وَبِالنَّظَرِ إِلَى أَنَّ الْمِلْكَ فِي هَذَا النِّصْفِ وَقَعَ لَهُ اور اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ ملکیت اس نصف کے اندر واقع ہوئی ہے اسی شریک ہی کے لیے تو واقع ہوئی ہے، فَيَكُونُ فِي أَدَاءِ نِصْفِ الثَّمَنِ أَصِيلًا تو نصف ثمن کی ادائیگی میں یہ کیا ہوگا؟ اصیل بھی ہے تو ما ادہ یکون راجع تو اصیل بھی ہے وہ جو نصف ہے اس کے اندر اور کفیل بھی ہے اس کے اندر تو ما ادہ یکون راجع الی ھذا النصف پس وہ جو ادا کرتا ہے وہ راجع ہوگا اسے نصف کی طرف یعنی کس طریقے جسم میں یہ کیا ہے؟ اصیل بھی ہے فلا یرجع الی العاقد تو لہذا یہ رجوع نہیں کرے گا عاقد کرنے والے کی طرف نصف کے اندر۔ وفیما زاد علی النصف یرجع اور وہ جو نصف سے زائد ہو اس پر کیا اس میں کیا کرے گا؟ صورت سمجھ میں آگئی بھئی اچھی طرح کہ نہیں آئی؟ دوبارہ خلاصہ یہ سن لو بھئی ایک شخص نے عقد کیا دوسرے کے ساتھ دو شریکوں میں سے ایک نے تو لہذا یہ پہلے دوسرے کی جانب سے کیا ہے بھئی؟ وکیل ہے تو نصف میں اصیل ہے اور نصف میں وکیل ہے لہذا علامہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں اس کو حق ہونا چاہیے کہ جو بھی ادا کر کے اس کے نصف کے ساتھ کیا کر لے؟ رجوع کر لے اس لیے کہ یہاں پر کفالت ہے ہی نہیں، نصف میں اصیل ہے اور نصف میں وکیل ہے اور دوسرا جو ادا کر رہا ہے وہ کفالت کے طریقے پر ادا کر رہا ہے لیکن اس کے اندر جو ہزار اس پر آرہا ہے اس میں نصف کے اندر تو وہ کفیل محض ہے اور نصف کے اندر من وجہ کفیل ہے اور من وجہ اصیل ہے تو دو چیزیں آگئیں بھئی! ایک کیا؟ کفیل، نصف کے اندر کفیل محض اور نصف کے اندر کفیل بھی من وجہ ہے اور اصیل بھی من وجہ ہے۔ تو حقوق عقد تو رجوع ہوتے ہیں وکیل کی طرف، لہذا مطالبہ اسی سے ہونا چاہیے تھا لیکن اس نصف پہلے نصف کے اندر تو یہ ہے ہی کفیل، اس نے تو مطالبہ ہے ہی ہے اس سے۔ دوسرے نصف کے اندر یہ اصیل ہے، سمجھ میں آیا؟ لیکن عقد تو اس نے نہیں کیا لیکن یہ عقدِ مفاوضہ تھا بھئی ان دونوں میں ہو چکا لہذا اس نصف کے اندر بھی یہ کیا ہے؟ کفیل بھی ہے کیا ہے؟ لہذا مطالبہ بھی اس سے ہو سکتا ہے، لہذا پورے ثمن کا اس سے مطالبہ ہو سکتا ہے لیکن اس پورے ثمن کے اندر نصف محض کفالت ہے اور نصف کے اندر من وجہ اصالت ہے تو جو یہ ادا کرے اس میں اب دو جہتیں آسکتی ہیں کفالت کے طریقے پر بھی ہو سکتا ہے اور اصالت کے طریقے پر بھی لیکن کون سے طریقے پر ادائیگی اولی ہے؟ اصالت کے طریقے پر ادائیگی اولی ہے لہذا نصف کے اندر اصالت ہے تو نصف تک وہ جو بھی ادا کرتا ہے وہ کس طریقے پر شمار ہوگا؟ اصالت اور نصف سے جو زائد ادا کرے گا وہ کس طریقے پر شمار ہوگا؟ کفالت کے طریقے پر لہذا اس میں پھر رجوع کر سکتا ہے۔ عبدانی کوتبا بعقد واحد وکفل کل عن صاحبہ رجعا کل علی الاخر بنصف ما اداہ۔ صورت مسئلہ یہ ہے: اقا نے اپنے دو غلاموں کو ایک ہی قول کے ساتھ بھئی کیا بنایا؟ ایک ہی عقد کے ساتھ مکاتب بنایا۔ مثلاً یوں کہا: میں نے تم دونوں کو مکاتب بنایا 1000 کے بدلے ایک سال تک۔ اگر تم دونوں ایک سال میں 1000 ادا کر دو مجھے تو تم دونوں آزاد ہو، تم دونوں آزاد ہو۔ اب اس میں یاد رکھو جب پورا ہزار ادا کریں گے سال کے اندر تو دونوں آزاد ہوں گے۔ 500 ادا کر دیں تو کوئی ایک بھی ان میں سے آزاد نہیں۔ ہیں تو دونوں پر 5۔ 500 آرہا ہے لیکن اقا نے عقدِ واحد میں کہا ہے اور کتنا دین ذکر کیا؟ 1000 دین ذکر کیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور پھر دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا کفیل بھی بن گیا۔ غلاموں میں سے ایک نے کہا: میں اس کی طرف سے ضامن ہوں یہ ادا کرے گا اور دوسرے نے کہا: میں اس کی طرف سے ضامن ہوں یہ کیا کرے گا اس کو ادا کرے گا۔ کہتے ہیں اس صورت کے اندر دونوں کفالت صحیح ہو گئی اور جو بھی دونوں میں سے کچھ بھی ادا کرے گا اس کے نصف کے ساتھ دوسرے پر رجوع کرے گا۔ کیا کرے گا؟ نصف کے ساتھ رجوع کرے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھا دیکھیے بھئی تفصیل آگے آرہی ہے۔ عبدانی قال لھما المولیٰ دو ایسے غلام تھے کہ کہا ان سے ان کے اقا نے کاتب تو کما بالالف الی سنۃ میں نے تم دونوں کو مکاتب بنایا 1000 کے بدلے ایک سال تک بھئی۔ وقبیلا ان دونوں نے قبول بھی کر لیا وکفل کل عن صاحبہ اور کفیل بنا ہر ایک اپنے ساتھی کی طرف سے فکل ما اداہ احدہما فوسارا جو کوئی ایک ان میں سے ادا کرے گا رجع علی الآخر بنصف ما اداہ تو رجوع کرے گا دوسرے پر اداس کے نصف کے ساتھ جو اس نے ادا کیا ہے۔ وانما قید بعقد واحد کہتے ہیں بھئی عقدِ واحد کی قید کیوں لگائی ماتن نے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ حتی لو کاتبہما بعقدینی کہ اگر دونوں کو مکاتب بنایا دو عقدوں کے ساتھ بھئی فالکفالتہ لا تصح اصلا تو پھر کفالت سرے سے صحیح ہی نہیں۔ سرے سے صحیح نہیں ہے بھئی کیوں؟ ایک کو کہا تو 500 لے آ تو تو آزاد، دوسرے کو کہا تو 500 لے آ تو تو آزاد ہے تو پھر تو یہ جو دین آیا غلام پر یہ کون سا دین ہے؟ دین صحیح یا غیر صحیح؟ یہ غیر صحیح ہے اس لیے کہ دین صحیح تو وہ ہوتا ہے جو بغیر ادائیگی یا بغیر معاف کیے ختم نہ ہو۔ جب تک جس کا دین ہے وہ وصول نہیں کر لے اس کو یا خود معاف نہ کر دے یہ ختم نہیں۔ جبکہ یہ دین تو ختم ہو جاتا ہے کب جبکہ مکاتب عجز کا اظہار کر دے کہ میں اس سے پیسے سال کے اندر کوشش کرتا رہا نہیں لا سکا تو وہ دین ختم ہوا معلوم ہوا یہ دین صحیح نہیں ہے۔ تو اور کفالت کے اندر آپ نے پڑھا تھا دین کا صحیح ہونا ضروری ہے تو یہ دین صحیح نہ ہوا تو لہذا اس کے اندر کفالت بھی درست نہیں۔ اچھا! بھئی پھر اوپر والے مسئلے کے اندر جو متن میں ذکر ہوا ایک ہی عقد کے ساتھ وہاں بھئی کفالت کیسے صحیح ہوئی بھئی؟ وہ بھی تو دین کس قسم کا تھا؟ دینِ غیر صحیح اور تو دینِ غیر صحیح کے اندر تو کفالت درست نہیں۔ بھئی! تو کہتے ہیں بھئی! وہاں ہم قیاساً تو وہاں بھی کفالت جائز نہیں ہونی چاہیے لیکن استحساناً ہم نے کیا کیا؟ کفالت کو جائز قرار دیا، وہ کس طرح؟ کہتے ہیں دیکھیے بھئی! ہزار ان دونوں پر تھا معلوم ہوا ایک پر بھی 500 ہے دوسرے پر بھی 500 لیکن ہم یوں نہیں کرتے۔ ہم کفالت کو صحیح کرنے کے لیے یوں کرتے ہیں کہ ایک پر بھی ہزار ہے دین، اس ہزار کے اندر اصیل ہے اور دوسرے پر بھی وہی ہزار ہے اس ہزار کے اندر وہ تو دونوں اس ہزار کے اندر اصیل ہیں۔ جب ایک ہزار کے اندر اصیل ہے تو دوسرا اس کی کفالت دے سکتا ہے۔ کیونکہ دوسرا بھی اسی ہزار کے اندر کیا ہے؟ اصیل ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ دیکھو! بھئی! یہاں پر جب دونوں میں سے ہر ایک ہزار کے اندر اصیل ہے معلوم ہوا ہر ایک پر کتنا دین ہے؟ 1000 اس پر ہے اور وہی ہزار دوسرے پر بھی ہے تو دونوں ہزار کے اندر کیا ہوئے؟ اصیل تو گویا ہر ایک پر کتنا واجب ہے؟ 1000 واجب ہے جب اس کو ادا کریں گے تو آزاد ہوں گے، ادا نہیں کرتے تو آزاد نہیں۔ جب یہی ہے 1000 اس پر بطورِ اصیل کے ہر ایک پر واجب ہیں تو کفالت سے کوئی الگ ہزار آئیں گے یا یہی والے ہزار آئیں گے؟ یہی والے ہزار اس کا تو جب بطورِ اصالت کی اس پر 1000 واجب ہیں تو بطورِ کفالت کے بھی واجب ہو جائیں کوئی حرج نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہاں ہم یہ حیلہ کرتے حیلے کے طور پر ہر ایک پر کیا کر دیتے ہیں؟ ہزار اس کو کیا بنا دیتے ہیں؟ اصیل اور دوسرے کو اس کا کیا بنا دیتے ہیں ہزار میں کفیل اور دوسرے بھی ہزار کے اندر اصیل ہے اور دوسرا اس کا کیا ہے؟ ہزار کے اندر کفیل ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اما اذا کاتب بعقد واحد باقی وہ صورت کہ جب مکاتب بنایا تھا عقدِ واحد کے ساتھ لا تصح قیاساً تو کفالت صحیح نہیں ہونی چاہیے قیاس کے طریقے پر کیونکہ کفالت ہے بدل کتابت پر و تصح استحسنناً اور یہ صحیح ہے استحسنناً بھی ان یجعل کل بھئی یہ کلاً نہیں کل ہونا چاہیے بھئی۔ بأن یجعل کل منہما اصیلاً کہ بنایا جائے ان میں سے ہر ایک کو کیا بنا دیا جائے؟ اصیل فی حق وجوبِ الالف کس کے حق میں وجوبِ الف کے حق میں اصیل بنا دیا جائے فی حق وجوبِ الالف علیہ اس پر ہزار کے واجب ہونے میں ويكون عتقھما معلقاً بئہ اور ان دونوں کا عتق معلق ہے اس 1000 کی ادائیگی پر ویجعل کفیل بالالف فی حق صاحبہ اور دوسرے کو کیا بنا ہر ایک کو اصیل بھی بنا دیں کتنے کے حق میں؟ اور اسی کو کفیل بھی بنا دیں ہزار پر کس کے حق میں اپنے ساتھی کے حق میں تو بھئی! اسی پر وہی ہزار بطورِ اصالت کے آرہے ہیں وہی اگر بطورِ کفالت کے بھی آجائے کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔ فما اداہ تو بس جو یہ ادا کرتا ہے فما اداہ احدھما پس وہ سارا جو کوئی ایک ان میں سے ادا کرے گا رجع علی الآخر بنصف ما اداہ تو رجوع کرے گا دوسرے پر ادا اس کے نصف کے ساتھ جو اس نے ادا کیا ہے۔ والاستواھما بموجب ان دونوں کے برابر ہونے کے کس چیز میں برابر ہیں بھئی؟ وجوبِ دین میں۔ وجوبِ دین میں دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جو ہزار بھی ادا کر رہا ہے وہ ہزار بھئی اس کے اندر یہ ادا کرنے والا اصیل بھی ہے اور کفیل بھی ہے۔ تو لہذا اور دوسرا بھی تو اسی کے اندر کیا ہے؟ اصیل بھی ہے اور کفیل بھی ہے۔ لہذا برابر ہوئے دونوں تو اب جو بھی ادا کرے گا دوسرے پر رجوع کر سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ فان اعتق السید احدھما جی صورت یہ ان دونوں کو اسی طرح اقا نے مکاتب بنا دیا۔ پھر اقا نے ایک کو آزاد کر دیا، ابھی انہوں نے کچھ ادا ہی نہیں کیا تھا کہ اقا نے ایک کو کہا تم جاؤ آج سے آزاد ہو۔ تو بھئی! مال تو دراصل دونوں پر کتنا کتنا تھا؟ 5-500 دونوں کی رقبہ پر، رقبہ دو تھے، مال ہزار تھا تو تقسیم ہو جائے گا ایک پر بھی 500 دوسرے پر بھی 5۔ ہم نے تو کفالت کو صحیح کرنے کے لیے صرف یہ کہا تھا کہ ایک پر بھی ہزار ہے اور دوسرے پر بھی ورنہ درحقیقت ایک پر بھی 500 تھے اور دوسرے پر بھی 5۔ لہذا جب اقا نے ایک کو ادا آزاد کر دیا تو اس کے رقبہ پر کتنے تھے بھئی؟ 500 بھئی وہ 500 تو ختم ہوا کتنے رہ گئے دوسرے پر؟ 500 رہ گئے کیا اب اس 500 کے اندر اقا صرف غیر آزاد شدہ سے مال طلب کر سکتا ہے یا دوسرے سے بھی طلب طلب کر سکتا ہے؟ کہتے ہیں بھئی! دونوں سے طلب کر سکتا ہے پہلے سے اس لیے کہ وہ اصیل ہے جس کو جو بھی آزاد نہیں ہے وہ اصیل ہے اس پر تو 500 ہے ادا کرائے گا کرے گا تو پھر آزاد ہوگا اور دوسرے سے بھی 500 طلب کر سکتا ہے کیونکہ وہ کفیل تھا اس کا کیا تھا؟ کفیل تھا۔ کہتے ہیں بھئی! یہاں کیسے کفالت صحیح ہے؟ یہ بھی تو کفالت کس کے بدلے ہوئی؟ بھئی! پچھلی صورت کے اندر تو بدل کتابت میں تو کفالت صحیح ہی نہیں تھی وہاں صحیح کرنے کے لیے کیا صورت اختیار کی تھی ہم نے؟ دونوں کو اصیل بنایا تھا کہ وہی مال اس پر بطورِ اصالت کے بھی ہے اگر بطورِ کفالت کے بھی آجائے تو کوئی حرج نہیں تو یہاں پر تو اب ایک پر سرے سے مال ہے ہی نہیں صرف دوسرے پر مال باقی ہے جو بھی آزاد نہیں ہوا تو اب جو آزاد ہو چکا ہے اس سے کیوں مطالبہ کرے گا؟ کہتے ہیں بھئی! کفالت کے۔ بھئی کفالت تو یہاں صحیح نہیں ہوتی بدل کتابت کے اندر کفالت صحیح نہیں۔ کہتے ہیں بھئی! بدل کتابت میں کفالت ابتداءً صحیح نہیں ہوتی بقاءً صحیح ہے۔ ابتداءً اب کفیل بنے تو اب کفالت درست نہیں ہوگی، ابتدا کرے سمجھ میں آیا؟ لیکن ابتداءً بھئی! تو کفالت ہم نے کیا قرار دے دی تھی؟ صحیح قرار دے دی تھی جب ہر ایک پر ہم نے کیا فرض کیا تھا؟ ہزار مال فرض کر لیا تھا تو اب بقاءً بھی یہ کفالت صحیح رہے گی۔ تو لہذا دونوں سے مطالبہ کر سکتا ہے اگر جو ابھی آزاد نہیں ہے وہ ادا کرتا ہے تو وہ اپنے ساتھی پر رجوع نہیں کر سکتا، آزاد شدہ پر رجوع کیونکہ اس کے ذمے تو کوئی مال ہے ہی نہیں وہ 500 صرف اسی پر رہتا تھا۔ ہاں! وہ آزاد شدہ اگر مال ادا کرتا ہے تو وہ اس پر جو غیر آزاد شدہ ہے اس پر کیا کرے گا؟ رجوع کیونکہ یہ اس کی طرف سے ادا کر رہا ہے اور کفالت بھی دونوں کی آپس میں ایک دوسرے کے کہنے پر ہوئی تھی اور اس صورت میں کفیل رجوع کرتا ہے کس پر؟ اصیل پر۔ فان اعتق السید احدھما اگر آزاد کرتا ہے اقا ان دونوں میں سے کسی ایک کو قبل الاداء ادائیگی سے پہلے فصحۃ تو یہ صحیح ہے ادائیگی ولہ ان یأخذ حصۃ من لم یعتقہ منہ اصالۃ اور اقا کے لیے جائز ہے کہ وہ لے لے حصہ اس کا جس کو اس نے آزاد نہیں کیا اس کا حصہ لے لے منہ اسی سے لے لے اصالۃ کس وجہ سے؟ اصالۃ ہونے کی وجہ سے ومن الاخر اور دوسرے سے بھی یعنی معتق سے بھی لے سکتا ہے کفالتاً کس وجہ سے؟ کفالت کی وجہ سے ورجع المعتق علی صاحبہ اور اگر معتق ادا کرتا ہے تو وہ رجوع کرے گا اپنے ساتھی پر بما ادا عنہ اس چیز کے ساتھ رجوع کرے گا جو اس نے اس کی طرف سے ادا کر دیا ہے لا صاحبہ علیہ لیکن اس کا ساتھی اگر ادا کرتا ہے تو وہ اس معتق پر رجوع نہیں کرے گا بما ادا عنہ اس چیز میں جو اس نے اپنی طرف سے ادا کیا ہے لان المال فی الحقیقۃ مقابل برقبتیہما اس لیے کہ مال حقیقت کے اندر تو ان دونوں کے رقبہ کے مقابل تھا تو اس پر بھی 500 تھے دوسرے پر بھی 500۔ لہذا اب یہ جو ادا کر رہا ہے یہ اپنی طرف سے ادا کر رہا ہے اپنے ساتھی پر رجوع نہیں کر سکتا وانما جعل علی کل منہما تصحیحاً للکفالۃ اور ان میں سے ہر ایک پر بھئی ایک ہزار کیا کیا گیا؟ ایک ہزار کا ہزار قرار دیا تھا ہم نے تصحیحاً للکفالتِ کفالت کو صحیح قرار دینے کے لیے۔ وما لا یجب علی عبدین صورتِ مسئلہ یہ ہے۔ کہتے ہیں بھئی! عبدِ محجور ہے اس پر کوئی مال واجب نہیں ہو سکتا۔ ایک عبدِ مأذون ہے اس پر تو تجارت کی اجازت دے دی اس پر مال واجب ہو سکتا ہے لیکن عبدِ محجور ہے جس کو اجازت وغیرہ نہیں ہے اس پر مال واجب نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ اس پر مال کوئی واجب ہوتا ہے یعنی مثلاً وہ خود اقرار کر لیتا ہے تو کہتے ہیں یہ مال اس پر فی الحال واجب نہیں ہوگا بلکہ جب وہ آزاد ہو جائے گا پھر اس پر واجب ہو جائے گی اس کی ادائیگی اس سے پہلے اس پر مال واجب نہیں۔ اب ایک غلام ہے وہ اقرار کر لیتا ہے اپنے اوپر 1000 کا عبدِ محجور ہے تو یہ مال اس پر کب واجب ہوگا بھئی؟ آزادی کے بعد۔ اب اسی غلامی کی حالت میں ایک شخص اس کی کفالت دے دیتا ہے بھئی۔ کیا دے دیتا ہے؟ ضمانت دے دیتا ہے کہ یہ مال یہ میں ادا کرتا ہوں یہ ادا کر دے گا بھئی۔ اور کفالت بھی اس نے مطلق دی۔ یہ نہیں کہا کہ ابھی ادا کروں گا یا چھ مہینے کے بعد۔ بہرحال جیسے بھی ہو جائے اگر مطلق کہے تو پھر اس صورت میں فوری طور پر اس کو مال ادا کرنا پڑے گا۔ اور اگر مدت سے بھی کہہ دے تو بھی جب مدت آئے گی تو پھر اس وقت اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ ادا کرنا پڑے گا۔ اور پھر یاد رکھو غلام جب آزاد ہو جاتا ہے تو پھر اس پر اگر اس کے کہنے پر اس نے کفالت دی تھی تو اب یہ کفیل اس آزاد غلام پر کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی۔ تو سمجھ میں آیا تو یہ مسئلہ اس لیے ذکر کیا بھئی کہ ما قبل میں آپ ضابطے پڑھ چکے ہیں کہ اصیل سے دین مؤخر ہو جائے تو کفیل سے بھی دین کیا ہو جایا کرتا ہے؟ مؤخر۔ تو یہاں پر غلام سے تو دین مؤخر ہو رہا ہے جو اس نے اقرار کیا وہ اس پر فی الحال واجب نہیں ہے بلکہ کب واجب ہوگا جب یہ آزاد ہو جائے لیکن کفیل سے مؤخر نہیں ہوگا اس لیے کہ یہاں پر مانع آ گیا کہ وہ شخص کیا تھا غلام تھا، اس مانع کی وجہ سے دین مؤخر ہوا اور کفیل میں تو ایسا مانع موجود نہیں، لہذا اس پر فوری مال کی ادائیگی ہوگی۔ واجب وما لا یجب علی عبدین یہ یا غلط معلوم ہوتی ہے عبد یہ یا کتابت کی غلطی ہے اور ایسا مال لا یجب علی عبدین جو واجب نہیں ہوتا غلام پر حتی یعتق حتی یعتق یہاں تک کہ وہ وہ مال جو غلام پر اس وقت تک واجب نہیں ہوتا جب تک وہ آزاد نہ ہو جائے حال بھئی یہ دین وہ مال کیا ہوگا؟ فوری ہوگا علی من کفل بہ اس شخص پر جو کیا جس نے کیا دی تھی اس کی کفالت دی تھی مطلقاً اور کفالت بھی کس قسم کی تھی؟ مطلق تھی یعنی اس میں حلول یا تأجیل کی کوئی قید نہیں۔ صورت خود بتلا رہے ہیں اقرار عبدِ محجور نے اقرار کیا عبدِ محجور نے بمقالہ کسی مال کا فالمال لا یجب علیہ الا بعد العتق پس مال اس پر واجب نہیں ہوگا مگر بعد العتق بس مال اس پر واجب نہیں ہوگا مگر آزاد ہونے کے بعد بھئی وان کفل بہ حر اگر اس کی کفالت دی کسی آزاد شخص نے کفالتاً مطلقاً مطلقا کفالت دی ای لم یتعرض للحلول والتأجیر وہ درپے نہیں وہ حلول یا تأجیل کہ یہ نہیں ذکر کی کہ یہ کفیل میں کیا ہوں؟ اجل کے ساتھ ہوں یا بغیر اجل کے ہوں۔ یجب علیہ حالان تو یہ مال اس پر واجب ہوگا حالان یعنی فوری اسی وقت۔ لان المانع من الحلول فی ذمۃ العبد اس لیے کہ مانع جو ہے یہ تو یہ کبھی کبھار ہو جاتا ہے۔ تو یہ نائب غیر مقررہ ہے۔ کیا ہے نائب غیر؟ اور ایک ہے نائب مقررہ جیسے ٹیکس ہے حکومت کی طرف سے کہ ہر تین ماہ بعد یا ہر چھ ماہ بعد یا ہر سال باقاعدگی سے دوام کے ساتھ کیا کرنا پڑتا ہے؟ دینا پڑتا ہے۔ تو نائب نوائب سے مراد وہ ہیں جو مقررہ نہیں دائمی نہیں کبھی کبھار ہو جاتے ہیں اور قسمت سے مراد وہ نائب ہے جو کیا ہوتا ہے ہمیشہ ہوتا ہے دوام کے ساتھ بھئی. وقيل هي النائبة الموظفة الراتبة اور کہا گیا ہے قسمت وہ نائب ہے جو موظفہ ہو مقررہ ہو اور راتبہ دائمی ہو والنواب هي غير الموظفة اور نواب کیا ہیں بھئی غیر مقررہ ہیں. وأيما كان بر جو بھی ہو قسمت ان میں سے جو بھی ہو ایما كان ان میں سے جو بھی ہو فلکفالت بھا صحیح تو اس کے ساتھ کفالت کیا ہے؟ صحیح ہے چلیے بس واللہ اعلم بحقيقة الكلام.
106 approved lectures · 55 of 106