وَمَنْ وَكَّلَ بِشِرَاءِ مَنِّ اللَّحْمِ بِدِرْهَمٍ، فَشَرَى مَنَّيْنِ بِدِرْهَمٍ مِمَّا يُبَاعُ مَنٌّ بِدِرْهَمٍ، لَزِمَ مُوَكِّلَهُ مَنٌّ بِنِصْفِ دِرْهَمٍ. هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَعِنْدَهُمَا يَلْزَمُهُ مَنْوَانِ بِدِرْهَمٍ لِأَنَّ الْمُوَكِّلَ أَمَرَهُ بِصَرْفِ الدِّرْهَمِ إِلَى اللَّحْمِ، فَصَرَفَ وَزَادَهُ خَيْرًا.
صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کو وکیل بنایا کہ جو میرے لیے ایک من جو ہے، گوشت خرید کر لاؤ ایک درہم کے بدلے۔ ایک درہم دیا کہ جاؤ اس کا کیا لے آؤ؟ ایک من گوشت لے آؤ۔ بھئی، وہ گوشت ملتا بھی ایک درہم کا ایک من ہے، یہ گیا اور کہیں سے وہی گوشت دو من لے آیا، مولانا! یہ من مراد نہیں ہے، یہ چالیس کلو والا شرعی من مراد ہے بھئی۔ تو یہ قدیمی اووزان میں سے یہ بڑی تھوڑی مقدار ہوتی ہے بھئی، زیادہ نہیں۔
تو دوسرے کو کہا ایک من، مثلاً یوں سمجھو! ایک نے دوسرے کو بھیجا: جاؤ بھئی میرے لیے ایک سیر گوشت لے آؤ، اور گوشت کس طرح کلو ہے بھئی؟ ایک سو پچاس روپے کلو ہے۔ اس نے بھیجا: جاؤ، ایک سو پچاس روپے دیے، میرے لیے کلو گوشت لے آؤ۔ وکیل گیا اور ایک سو پچاس میں دو کلو لے آیا، مثلاً، یا ڈیڑھ کلو لے آیا بھئی، جتنا بھی لے آیا، زائد لے آیا۔ زائد لے آیا تو کہتے ہیں: اب کیا یہ سارا موکل پر لازم ہے، اس کو لینا پڑے گا، یا یہ باقی وکیل کا، وکیل کا ہے؟ امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی! وکیل نے اس کو بھیجا تھا ایک کلو لے کر اور، یہ کتنے لے آیا؟ دو کلو لے آیا۔ اگرچہ اسی درہم کے بدلے ہے، لیکن وکیل نے تو کہا تھا ایک، موکل نے تو کہا تھا ایک کلو لاؤ، اور یہ دو کلو لایا، تو ایک کلو موکل کا، اور باقی کس پر لازم ہو گیا؟ وکیل پر، اب وہ وکیل کا ہی ہے، وہ موکل کو اس پر لازم نہیں ہے بھئی، وہ انکار کرے تو انکار کرکے ترک کر سکتا ہے اس سے بھئی۔
اچھا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، یہ سارا کا سارا کس کا ہو گیا؟ موکل کا ہو گیا۔ امام صاحب کی دلیل تو یہ ہے کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ موکل نے اسے کتنا خرید کر لانے کا کہا تھا؟ ایک من یا ایک کلو، باقی خریدنے کا نہیں کہا تھا۔ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ بھئی! صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ سارا اس کا، بھئی۔ اچھا، اور صاحبین کی دلیل یہ ہے، صاحبین فرماتے ہیں کہ موکل نے اس کو کتنے روپے دیے تھے، مثلاً بھئی؟ ایک سو پچاس روپے دیے تھے کہ اس کا کیا خرید لاؤ؟ تو موکل نے اس کو اِس کو، ایک سو پچاس سارے کے سارے روپے گوشت پر صرف کرنے کا حکم دیا تھا، اور اس نے بھی کس پر سارے صرف کیے ہیں؟ گوشت ہی پر صرف کیے ہیں بھئی، وہ سارے وہی پیسے اور وہ گوشت بھی اتنا لیا جتنا اس نے کہا تھا، بلکہ اس کے لیے کیا کر لیا؟ زیادہ لے لیا اسی اسی رقم میں، تو اس کے ساتھ ہی اس نے بھلاہی کی بھئی، لہٰذا یہ موکل پر لازم ہوگا، وکیل پر لازم بقیہ نہیں ہوگا۔
دیکھیے، وَمَنْ وَكَّلَ بِشِرَاءِ مَنِّ اللَّحْمِ بِدِرْهَمٍ جس نے وکیل بنایا دوسرے کو خریدنے کا ایک من گوشت بھئی بِدِرْهَمٍ ایک درہم کے بدلے، فَشَرَى مَنَّيْنِ بِدِرْهَمٍ تو اس نے خرید لیا، وکیل نے خرید لیا دو من ایک درہم کے بدلے بھئی، مِمَّا اس گوشت میں سے يُبَاعُ مَنٌّ بِدِرْهَمٍ جو ایک درہم کے بدلے کتنا بیچا جاتا ہے؟ ایک من بیچا جاتا ہے، گوشت بھی وہی قیمت والا ہے، لیکن اس نے اس سے زیادہ لے لیا، لَزِمَ مُوَكِّلَهُ مَنٌّ بِنِصْفِ دِرْهَمٍ تو لازم ہو جائے گا اس کے موکل پر ایک من کتنے کے بدلے؟ نصف درہم کے بدلے ایک من موکل پر لازم ہو جائے گا، معلوم ہوا باقی نصف درہم بھی واپس کرنا پڑے گا، اور گوشت کس کو رکھنا پڑے گا باقی؟ وکیل کو رکھنا پڑے گا۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ یہ امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے لیے، وَعِنْدَهُمَا صاحبین کے نزدیک يَلْزَمُهُ مَنْوَانِ اس پر لازم ہو جائے گا موکل پر مَنْوَانِ بِدِرْهَمٍ دو من ایک درہم کے بدلے لِأَنَّ الْمُوَكَّلَ أَمَرَهُ بِصَرْفِ الدِّرْهَمِ إِلَى اللَّحْمِ، فَصَرَفَ اس لیے کہ موکل نے اس کو حکم دیا تھا درہم کو خرچ کرنے کا گوشت پر، فَصَرَفَا تو اس نے خرچ کیا اس پر، وَزَادَهُ خَيْرًا لَّهُ اور بڑھا دیا اس کے لیے بہتری کے ساتھ، اور بڑھا دیا اس کو اُس کے لیے کہ وہ اس کے لیے اِس طور پر کہ اس کے لیے بہتر ہے بھئی، بڑھا دیا اس کے لیے اس طور پر کہ وہ ہاں، یعنی خیر بڑھا دی اس میں۔
وَلَهُ امام صاحب کی دلیل یہ ہے، أَنَّهُ أَمَرَهُ بھئی بِشِرَاءِ مَنٍّ کہ وکیل کو اس نے حکم دیا ہے ایک من خریدنے کا، لَا بِشِرَاءِ زِيَادَةِ زیادہ کے خریدنے کا حکم نہیں۔ وَإِنَّمَا قَالَ مِمَّا يُبَاعُ مَنُّمْ بھئی یہ ماتین نے کہا، وہ گوشت خریدا جو ایک من کتنے کے بدلے ہوتا ہے؟ موکل نے بھی کتنے کا کہا تھا؟ ایک من کتنے کے بدلے؟ اور گوشت بھی کون سا خریدا؟ ایک من کتنے کے بدلے؟ اچھا۔
تو، لیکن اگر وکیل کوئی سستا، سستی قسم کا گوشت خرید لایا بھئی، موکل نے تو کہا تھا وہ گوشت خرید کر لاؤ جو ایک من ایک درہم کا ہے، یہ اس سے سستی قیمت والا گوشت لے کر آ گیا بھئی، تو کہتے ہیں یہ جو شِرا واقع ہوئی ہے، یہ کس کے لیے ہو جائے گی؟ وکیل کے لیے، کیونکہ موکل نے تو کہا تھا وہ گوشت لاؤ جو ایک درہم میں ایک من آتا ہے اور یہ سستا لے آیا، لہٰذا وکیل پر لازم ہو گی شِرا۔ وَإِنَّمَا قَالَ مِمَّا يُبَاعُ مَنٌّ بِدِرْهَمٍ اور ماتین نے یہ کہا کہ اس گوشت میں سے جس کو بیچا جاتا ہے ایک من بِدِرْهَمٍ درہم کے بدلے حَتَّى لَوْ اشْتَرَى لَحْمًا لَّا يُبَاعُ مَنٌّ بِدِرْهَمٍ بَلْ بِأَقَلَّ یہاں تک کہ اگر خرید لیا وکیل نے ایسا گوشت جو بیچا نہیں جاتا ایک من درہم کے بدلے، بل بِأَقَلَّ بلکہ کم کے بدلے بیچا جاتا ہے، يَكُونُ الشِّرَاءُ وَاقِعًا لِلْوَكِيلِ تو یہ شِرا کس کے لیے واقع ہوگی؟ وکیل کے لیے ہو جائے گی، لِأَنَّ الْآمِرَ أَمَرَهُ بِشِرَاءِ لَحْمٍ يُسَاوِي مَنُّمّ مِنْهُ بِدِرْهَمٍ لَا بِأَقَلَّ مِنْهُ اس لیے کہ آمر نے اس کو حکم دیا تھا ایسے گوشت کے خریدنے کا جو برابر ہو مَنُّمّ مِنْهُ اس گوشت میں سے ایک من برابر ہو، اِثْبِتْ بِدِرْهَمٍ کس کے بھئی؟ درہم کے، لَا بِأَقَلَّ مِنْهُ اس سے کم نہ ہو۔ فَإِنْ أَمَرَهُ بِشِرَاءِ عَبْدَيْنِ عَيْنَيْنِ بِلَا ذِكْرِ ثَمَنٍ فَشَرَى أَحَدَهُمَا أَوْ بِشِرَاءِ مِمَّا بِأَلْفٍ وَقِيمَتُهُمَا سَوَاءٌ فَشَرَى أَحَدَهُمَا بِنِصْفِهِ أَوْ بِأَقَلَّ صَحَّةً وَبِالْأَكْثَرِ لَا، إِلَّا إِذَا اشْتَرَى الْآخَرَ بِبَاقِي الثَّمَنِ قَبْلَ الْخُصُومَةِ۔
صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک آدمی نے دوسرے کو حکم دیا، وکیل بنایا: جاؤ میرے لیے وہ دو غلام خرید لو بھئی۔ وہ دو غلام میرے لیے خرید لو، قیمت ذکر نہیں کی۔ ایک صورت یہ ہے۔ دوسری صورت یہی ہے لیکن قیمت بھی ذکر کرتا ہے: جاؤ میرے لیے وہ دو غلام خرید لو ایک ہزار درہم کے بدلے۔ اچھا۔ اور غلام ایسے ہیں کہ ان دونوں کی قیمت اپس میں برابر ہے بھئی۔ ان کی قیمت کیا ہے آپس میں برابر ہے، اب وکیل گیا اور اس نے ایک کو خریدا نصف، ایک کو خریدا۔ ایک غلام کو کیا کر لیا؟ ایک کو خرید لیا۔ تو کیا یہ ایک کا خریدنا صحیح ہے یا اس کے یہ موکل کے لیے ہوگا یا نہیں؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، یہ کس پر ہو کس کے لیے ہو جائے گا؟ موکل کے لیے ہو جائے گا، اس لیے کہ کبھی اتفاق ہوتا ہے کہ دونوں چیزیں اکٹھی ملتی نہیں بھئی، تو دو نہیں اکٹھے ملے، اس کو اس نے کیا کیا؟ ان میں سے ایک ہی خرید لیا۔
اچھا! دوسری صورت یہ وہ صورت تھی مولانا جس میں پیسے ذکر نہیں کیے تھے، پیسے ذکر نہیں کیے، اس کو کہے دو غلام میرے لیے خرید لاؤ یہ گیا ایک غلام خرید لایا، تو کیا یہ ایک موکل پر لازم ہو جائے گا یا دونوں لائے گا پھر موکل پر ہوں گے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی ایک بھی لائے تو کس پر لازم ہوا؟ کیونکہ کبھی کبھار دونوں چیزیں اکٹھی ملتی نہیں۔ دوسری صورت، یہ دو غلام میرے لیے خرید لاؤ ایک ہزار درہم کے بدلے، وکیل گیا اور جاکر ایک خرید لایا، ایک خرید لایا، تو کہتے ہیں یہ موکل کا ہوگا یا موکل کا نہیں؟ کہتے ہیں بھئی اس کی قیمت دیکھ لو۔ وہ غلام کے دونوں کس قسم کے تھے؟ قیمتیں دونوں کی برابر تھیں۔ اب اگر اس ایک کو اس وکیل نے پانچ سو درہم میں خریدا ہے، یعنی نصف اتنے یا نصف سے کم پیسوں کے اندر چار ساڑھے چار سو میں خرید لایا، تو یہ خریدنا صحیح ہوا، کیونکہ بعض اوقات دو چیزیں اکٹھی ملتی اور دونوں غلام برابر تھے تو ہر ایک کے کتنے ثمن ہو گئے؟ پانچ سو اور وکیل بھی کتنے کا لایا ہے؟ پانچ سو ہی کا لایا ہے یا پانچ سو سے بھی سستا لایا ہے، تو لہٰذا۔ لیکن اگر وکیل مہنگا خرید لایا، پانچ سو کے بجاے کتنے کا خرید لایا ایک؟ چھ سو کا خرید لایا یا سات سو کا خرید لایا، تو پھر یہ وکیل پر لازم موکل پر لازم نہیں ہے بھئی۔
کیونکہ موکل نے تو کیا کہا تھا کہ دونوں خرید و تو ہر ایک برابر ہے تو ہر ایک کے کتنے ثمن بننے تھے؟ پانچ سو تو کتنے کا لاتا؟ لانا چاہیے تھا اس کو، اور یہ تو زیادہ میں لے آیا، زیادہ۔ تو لہٰذا یہ خریدنا صحیح نہیں موکل کی طرف سے۔ لیکن مولانا، اسی صورت کے اندر یہ ایک غلام خرید لایا سات سو میں، ابھی موکل نے اس کے ساتھ خصومت نہیں کی، مقدمہ قاضی کے پاس لے کر نہیں گیا کہ قاضی صاحب یہ مکی- وہ کہہ رہا ہے یہ غلام تمہیں اب لینا پڑے گا میں سات سو کا تمہاره لیے لایا ہوں، وکیل کیا کہتا ہے؟ میں اتنے کا مہنگا غلام نہیں۔ خصومت نہیں ہوئی قاضی کے پاس نہیں گیا ابھی موکل کہ اس سے پہلے ہی اس نے باقی پیسوں میں دوسرا بھی خرید لیا۔ باقی پیسوں میں تین سو درہم باقی تھے یا چھ سو کا خریدا ہے تو چار سو باقی تھے، چار سو میں اس نے دوسرا غلام بھی۔ اب دونوں غلام کس پر لازم ہو گئے؟ موکل پر، اس لیے کہ موکل کا یہ مطلب نہیں تھا کہ پانچ سو کا ہی ایک خریدو پانچ سو کا ہی دوسرا خریدو، اس کا مقصد کیا تھا کہ ہزار کے اندر دونوں ہونے چاہیے، اور یہاں پر بھی کیا ہوا اس نے کیا کیا ہے؟ ہزار میں دونوں لا دیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
فَإِنْ أَمَرَهُ بِشِرَاءِ عَبْدَيْنِ عَيْنَيْنِ بِلَا ذِكْرِ ثَمَنٍ فَشَرَى أَحَدَهُمَا أَوْ بِشِرَاءِ مَنْ بِأَلْفٍ وَقِيمَتُهُمَا سَوَاءٌ فَشَرَى أَحَدَهُمَا بِنِصْفِهِ أَوْ بِأَقَلَّ صَحَّةً وَبِالْأَكْثَرِ لَا، إِلَّا إِذَا اشْتَرَى الْآخَرَ بِبَاقِي الثَّمَنِ قَبْلَ الْخُصُومَةِ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے دوسرے کو ایک ہزار درہم دیے اور کہا اس کے بدلے میرے لیے اس کے ذریعے اس سے میرے لیے ایک باندی خرید لاؤ، خرید لاؤ۔ وکیل گیا اس نے باندی ایک باندی خرید لی، اچھا۔ باندی خرید لی۔
اب وکیل نے آ کر کہا کہ یہ باندی میں نے ہزار کے بدلے خریدی ہے، اور عامر یعنی موکل کہتے ہیں نہیں، بلکہ تو نے پانچ سو کے بدلے خریدی ہے، دونوں میں اختلاف آ گیا، کہتے ہیں بھئی اب باندی کی قیمت دیکھ لو اگر اس باندی یہ با- اس جیسی باندی کتنے کی ملتی ہے؟ ہزارکی
تو کس کی تصدیق کی جائے گی؟ وکیل کی اور اگر اس جیسی باندی کتنے کی ملتی ہے؟ 500 کی تو کس کی تصدیق کی جائے گی؟ مووکل کی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
فَإِنْ قَالَ اگر وکیل نے کہا یا یوں کہیں مامور نے کہا اشْتَرَيْتُهُ بِأَلْفٍ بھئی میں نے اس کو کتنے کے بدلے خریدا ہے؟ ہزار کے بدلے وَقَالَ آمِرُهُ بَلْ بِنِصْفِهِ اور آمِر نے کہا بلکہ نصف کے بدلے خریدا ہے، فَإِنْ كَانَ أَلَفَ أَلَفَ يَأْلِفُ أَلْفاً کے معنی ہزار دینا، ہزار دینا۔ جی یہ شت غلط ڈالا ہوا ہے، الف نہیں ہے۔ فَإِنْ كَانَ أَلَفَهُ الْآمِرُ اگر ہزار اس کو ادا کر دیے ہیں آمِر نے صُدِّقَ الْآخَرُ تو دوسرے کی کیا کی جائے گی؟ کیا ذکر کیا؟
اگر اس صورت میں جب کہ ثمن میں اختلاف ہوا ہے، اگر آمِر کیا کر چکا ہے؟ ہزار روپے ادا کر چکا ہے، صُدِّقَ الْآخَرُ تو دوسرے کی یعنی مامور کی یعنی وکیل کی کیا کی جائے گی؟ تصدیق کی جائے گی۔ کب؟ إِنْ سَاوَاهُ اگر برابر ہو مَبِيعاً کس کے برابر ہو؟ الف کے برابر ہو دیکھا! سَاوَا ہو، سَاوَا کے اندر فاعل کی ضمیر کس کو راجع؟ مَبِيعے کو اور ہا ضمیر کس کو راجع؟ الف کو۔ إِنْ سَاوَاهُ اگر مَبِيعَات الف کے برابر ہو وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو فَالْآمِرُ یعنی اگر قیمت اس کی ہزار کے برابر نہ ہو فَالْآمِرُ تو کس کی تصدیق کی جائے گی؟ آمِر کی۔
صورت خود بتلا رہے ہیں، أَيْ إِنْ أَعْطَاهُ الْآمِرُ الْأَلْفَ یہ معنی کر رہے ہیں مولانا أَلَفَ کا، أَلَفَهُ الْآمِرُ کا کیا معنی کیا تھا؟ آمِر نے اس کو ہزار دیے، وہی بتلا رہے ہیں أَيْ إِنْ أَعْطَاهُ الْآمِرُ الْأَلْفَ آمِر نے اگر اس کو ہزار دیے وَقَالَ اور کہا اشْتَرِ لِي جَارِيَةً میرے لیے ایک باندی خرید فَشَرَا وکیل نے خرید لیا وَقَالَ اور کہتا ہے اشْتَرَيْتُهَا بِأَلْفٍ میں نے اس کو ہزار کے بدلے خریدا ہے وَقَالَ الْآمِرُ اور آمِر کہتا ہے اشْتَرَيْتَهَا بِخَمْسِمِائَةٍ تو نے 500 کے بدلے خریدا ہے صُدِّقَ الْوَكِيلُ تصدیق کی جائے گی وکیل کی کب؟ إِنْ سَاوَالْمَبِيعُ... اگر مَبِيعَ الف کے برابر ہو دیکھا، معلوم ہوا متن میں، سَاوَا ہو، سَاوَا کے اندر فاعل کی ضمیر کس کو راجع؟ مَبِيعے کو اور ہا ضمیر کس کو راجع؟ الف کو۔
وَإِلَّا وَإِلَّا يُمَاوِحُ اور اگر مَبِيعَ ہزار کے برابر نہ ہو یعنی اس کی اتنی قیمت نہ ہو صُدِّقَ الْآمِرُ تو پھر کس کی تصدیق کی جائے گی؟ آمِر کی۔ اچھا، اچھا بھئی علت کیا ہے؟ علت سن لو بھئی۔ انہوں نے کیا کہا؟ صورت کون سی ہے؟ کہ وکیل کو پیسے پہلے سے ادا کر چکا ہے اور وکیل وہ خرید لایا اور کیا کہتا ہے میں نے کتنے کی خریدی ہے؟ ہزار کی اور اس کی قیمت بھی کتنے ہے؟ ہزار کی، یہ اس جیسی باندی ہوتی بھی ہزار کی ہے تو ہم وکیل کی تصدیق کریں گے کیوں؟ کیونکہ وکیل کو پیسے ادا ہو چکے تو وکیل امین بن گیا، کیا بن گیا؟ امین بن گیا، اب وہ اپنی ذمہ داری سے نکلنا چاہتا ہے، اپنے ذمہ داری عہدہ برا ہونا چاہتا ہے کہ ہزار روپے مجھے آپ نے دیے تھے، میں نے کیا کیا؟ اس کی باندی آپ کو لا کر دے دی ہے تو معلوم ہوا اس کی ذمہ داری ختم ہوئی، لہذا وکیل کی اس مسئلے کے اندر کیا کی جائے گی؟ تصدیق۔
نئی مولانا تو وکیل ذمہ داری سے نکلنا چاہتا ہے اور مووکل کیا کہتا ہے؟ کہ نہیں یہ باندی کتنے کی ہے؟ 500، معلوم ہوا تم ساتھ میں پیسے بھی کتنے ادا کرو؟ 500، معلوم ہوا اس کو 500 کا زمان لانا چاہتا ہے، تو یہ اس وقت 500 کے زمان کا مدعی ہوا مووکل اور وکیل کیا ہے اس زمان کا؟ وکیل کیا کہہ رہا ہے میں کتنے کی لایا ہوں؟ ہزار کی، معلوم ہوا وہ زمان کا منکر ہے، یہ زمان کا مدعی ہے اور وہ زمان کا منکر اور قول کس کا معتبر ہوتا ہے؟ منکر کا، لہذا وکیل کا قول معتبر۔
اور دوسری صورت بھئی، کہ اگر باندی کتنے کی ملتی ہو اس جیسی؟ 500 کی تو اس نے تو کہا تھا میرے لیے کتنے کی باندی لے کر آ؟ ہزار کی، معلوم ہوا اس کو ایسی باندی چاہیے جو ہزار کے بدلے ملتی ہے، اس کی قیمت ہزار ہوا کرتی ہے اور وکیل کس قسم کی باندی لے آیا ہے جو کتنے کی ملتی ہے؟ 500 کی تو وکیل نے مامورِ آمِر کی وکیل نے مووکل کی مخالفت کر دی بھئی! مووکل نے تو کہا تھا ایسی باندی لاؤ جو ہزار والی ہوتی ہے، یہ کس قسم کی باندی لے آیا؟ 500 والی، تو اس نے مووکل کی مخالفت کی اور آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ وکیل جب مووکل کی مخالفت کرے تو وہ وکیل کی، وکیل پر لازم ہوتی ہے، مووکل پر لازم نہیں ہوتی۔
تو کہتے ہیں وَإِلَّا وَإِلَّا يُمَاوِحُ صُدِّقَ الْآمِرُ اور اگر برابر نہ ہو بھئی، برابر وہ مَبِيعَ ہزار کے برابر نہ ہو صُدِّقَ الْآمِرُ آمِر کی تصدیق کی جائے گی، آمِر کی تصدیق کیوں کریں گے؟ کہتے ہیں لِأَنَّهُ أَمَرَهُ بِشِرَاءِ جَارِيَةٍ بِأَلْفٍ اس لیے کہ آمِر نے اس کو حکم دیا ہے ہزار کے بدلے باندی کے خریدنے کا وَالْوَكِيلُ لَا يَمْلِكُ الشِّرَاءَ بِالْغَبْنِ الْفَاحِشِ اور وکیل مالک نہیں ہے خریدنے کا غبن فاحش کے ساتھ۔ کثیر دھوکے کے ساتھ دو چیز خرید لائے بھئی، اس کا وہ مالک نہیں ہے، بھئی چیز غبن فاحش ہوا بھئی، ہزار چیز 500 کی ہے، وکیل کتنے کی خرید لایا؟ ہاں، اتنی ہو کہ جس میں لوگ دھوکہ کھاتے ہیں، پھر تو ٹھیک ہے آپ نے مسئلہ پڑھا لیکن اگر اتنا ہے کہ جس میں لوگ دھوکہ غبن فاحش کیا، سو والی چیز کتنے میں خرید لائے ہیں؟ 200 میں خرید لائے، یہ تو غبن فاحش ہے، لہذا مووکل نے اس کی اجازت اسے نہیں دی تھی بھئی۔
تو کہتے ہیں لَا يَمْلِكُ الشِّرَاءَ بِالْغَبْنِ الْفَاحِشِ وکیل مالک نہیں ہے غبن فاحش کے ساتھ خریدنے کا فَلَا يَقَعُ عَنِ الْآمِرِ تو یہ آمِر کی طرف سے واقع نہیں ہوگی الشِّرَاءُ، بَلْ يَقَعُ عَنِ الْوَكِيلِ بلکہ یہ شراء کس کی طرف سے واقع ہوگی؟ وکیل کی طرف سے وَإِلَّا وَإِلَّا يَكُنْ أَلَفَهُ دوسری صورت بھئی، اسی مسئلے کے اندر۔ دیکھو بھئی! دوبارہ سنو۔ پہلی صورت یہ تھی، ایک آدمی نے وکیل کو ہزار روپے دیے کہ جا کر کیا لے آؤ؟ ایک باندی خرید لاؤ، وکیل گیا باندی خرید لایا اور آخر کیا کہتا ہے یہ باندی کتنے کی ہے؟ ہزار کی ہے تو وکیل کی تصدیق کی جائے گی بشرطیکہ باندی کی قیمت بھی کتنی ہو؟ ہزار اور اگر باندی کی قیمت ہزار نہ ہو تو پھر کس کی تصدیق کی جائے گی؟ مووکل کی تصدیق کی۔ سمجھ میں آیا؟
لیکن اگر مووکل نے پیسے پہلے ادا نہیں کیے تھے اور کہا میرے لیے ایک باندی خرید لاؤ ہزار کے بدلے، وکیل گیا اور جا کر کتنے میں خرید لایا؟ ایک باندی خرید لایا اور آکر کہتا ہے یہ کتنے کی میں خرید کر لایا ہوں؟ ہزار کی، وکیل مووکل کیا کہتے ہیں نہیں بلکہ تم کتنے کی خرید کر لائے ہو؟ کہتے ہیں اب قیمت دیکھو اگر باندی کی قیمت 500 ہے بھئی، وکیل کہہ رہا ہے ہزار کی لایا ہوں اور قیمت کتنی ہے؟ 500 تو آمِر کی یعنی مووکل کی تصدیق کی جائے گی اور اگر باندی کی قیمت ہزار کی ہے تو اب وکیل کہہ رہا ہے میں ہزار کی لایا ہوں اور مووکل کیا کہہ رہا ہے کتنے کی تو لایا ہے؟ اور باندی کی قیمت بھی کتنی ہے؟ ہزار والی باندی ہے، تو اب یاد رکھو اس صورت میں وکیل کی تصدیق نہیں کی جائے گی بلکہ دونوں قسم اٹھائیں گے اور ان کے درمیان جو بیع و شراء کا معاملہ ہے وہ فسخ کر دیا جائے گا۔
مطلب بائع کہتا ہے میں نے 500 کا تمہیں بیچا ہے، مشتری کیا کہتے ہیں؟ نہیں بھئی تم نے مجھے 250 کا بیچا ہے، ثمن میں اختلاف آ گیا دونوں کے اندر تو دونوں، دونوں کو قسم کھلائی جاتی ہے اور بائع کو قاضی کیا کر دیتا ہے؟ فسخ، یہاں پر بھی دونوں اگرچہ مَبِيعَا ہزار کے برابر ہے لیکن دونوں کس کے درجے میں ہیں؟ بائع اور مشتری کے درجے، آپ نے پڑھا ہی نہیں ان دونوں کے اندر کیا جاری ہوتا ہے وکیل اور مووکل میں مبادلہ حکمیہ، تو وکیل اور مووکل کے اندر مبادلہ حکمیہ ہوتا ہے، تو وکالت بِالشِّرَاءِ کے اندر بھئی۔ وکیل کون ہوتا ہے؟ وکیل کیا لا کر دیتا ہے؟ مَبِيعاً اور مشتری اس کے ثمن حوالے کرتا ہے، تو دونوں آپس میں کس طرح ہیں؟ وکیل ہے بائع اور مووکل ہے مشتری، تو ان میں مبادلہ تھا، تو لہذا اب اختلاف آ گیا ثمن کے اندر، وکیل کیا کہہ رہا ہے یہ کتنے کی ہے؟ ہزار کی اور مشتری کیا کہہ رہا ہے مووکل؟ 500 کی تو دونوں کو قسم دی جائے گی۔
وَإِلَّا وَإِلَّا يَكُنْ أَلَفَهُ اور اگر اس نے آمِر نے مامور کو ہزار ادا نہیں کیے وَسَاوَى نِصْفَهُ اور مَبِيعے کی قیمت جو ہے نصف ہزار کے برابر ہے صُدِّقَ الْآمِرُ تو تصدیق کس کی کی جائے گی؟ آمِر کی تصدیق کی جائے گی وَإِنْ سَاوَاهُ تَحَالَفَا اور اگر مَبِيعے کی قیمت جو ہے ثمن کے برابر ہو تَحَالَفَا تو دونوں کو قسم، دونوں قسم اٹھائیں گے۔
أَيْ قَالَ ایک شخص نے دوسرے سے کہا اشْتَرِ لِي جَارِيَةً بِأَلْفٍ خرید تو میرے لیے ایک باندی ہزار کے بدلے وَلَمْ يُعْطِهِ الْأَلْفَ اور اس کو ہزار ادا نہیں کیے وَقَالَ الْمَامُورُ اشْتَرَيْتُهَا بِالْأَلْفِ مامور کہتا ہے میں نے اس کو خریدا ہے ہزار کے بدلے وَقَالَ الْآمِرُ بَلْ بِنِصْفِ بلکہ تو نے نصف کے بدلے خریدا ہے فَإِنْ كَانَتْ قِيمَتُهَا خَمْسِمِائَةٍ صُدِّقَ الْآمِرُ اگر اس کی قیمت 500 ہو 500 قیمت ہو تو آمِر کی تصدیق کی جائے گی وَكَذَا إِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسِمِائَةٍ اور اسی طرح اگر اس کی قیمت 500 سے تو زیادہ ہے وَأَقَلَّ مِنْ أَلْفٍ اور ہزار سے کم ہے تو اس صورت میں بھی کس کی تصدیق کی جائے گی؟ آمِر کی بھئی کیوں لِظُهُورِ الْمُخَالَفَةِ اس لیے کہ مخالفت ظاہر ہو گئی، بھئی مخالفت کیسے ظاہر ہوئی؟ کہتے ہیں لِأَنَّ الْآمِرَ لِأَنَّ الْآمَرَ مولانا یہ کیا ہے؟ امر لفظ ہے عامر نہیں مولانا، امر لِأَنَّ الْآمَرَ وَقَعَا مولانا نون اوپر لکھا ہے قطعہ کے اوپر بھئی، حاشیہ میں کیا لکھا ہے طرف میں؟ واقعا بعد میں اس کو میں قطعا کا لفظ آیا بعد میں وقاع کا لیکن وقاع کا درست ہے بھئی۔
اچھا، اس لیے کہ امر جو ہے وہ واقع ہوا ہے بِشِرَاءِ جَارِيَةٍ ایسی باندی کے خریدنے کا تُسَاوِي أَلْفاً بِأَلْفٍ جو کس کے برابر ہو؟ ایسی باندی جو ہزار کے برابر ہے، اس کو ہزار کے بدلے خریدنے کا حکم واقع ہوا ہے۔ آمِر نے کیا کہا تھا؟ کتنے کی باندی لاؤ؟ ایک ہزار، کتنے کے بدلے؟ یعنی ہزار والی باندی ہی ہو اور کتنے کے بدلے ہو؟ ہزار کے بدلے ہو بھئی، اس نے یہ تو نہیں کہا تھا 500 والی ہو اور کتنے کے بدلے لے آؤ؟ ہزار کے بدلے۔ اس لیے کہ امر واقع ہوا تھا بِشِرَاءِ جَارِيَةٍ ایسی باندی کے خریدنے کا تُسَاوِي أَلْفاً جو ہزار کے برابر ہے، اس کو ہزار کے بدلے خریدنے کا، اس کے خریدنا بِشِرَاء، شراء سے آگے بھی الف، شراء سے متعلق ہے، کتنے کے بدلے خریدنا؟ ہزار کے بدلے۔ اس لیے کہ امر واقع ہوا تھا ایسی باندی جو ہزار کے برابر ہے اس کو ہزار کے بدلے خریدنے کا وَإِنْ كَانَتْ قِيمَتُهَا أَلْفاً اور اگر اس باندی کی قیمت کتنی تھی؟ ہزار تھی تَحَالَفَا تو دونوں قسم اٹھائیں گے وَبَيْعُ فَسْخٌ ہو جائے گی، لِأَنَّ الْوَكِيلَ وَالْمُوَكِّلَ بِمَنْزِلَةِ الْبَائِعِ وَالْمُشْتَرِي اس لیے کہ وکیل اور مووکل جو ہیں بائع اور مشتری کے درجے میں ہیں فَإِنْ تَحَالَفَا بس اگر دونوں نے قسم اٹھا لی يَنْفَسِخُ الْبَيْعُ بَيْنَهُمَا تو ان دونوں کے درمیان بیع فسخ ہو جائے گی وَبَقِيَ الْمَبِيعُ لِلْوَكِيلِ اور مَبِيعا کس کے لیے باقی رہ جائے گا؟ وکیل کے لیے۔
وَاعْلَمْ اور جان لی تو أَنَّ الْمُرَادَ بِقَوْلِهِ کہ ماتن کی یہ جو مراد ہے اس کے اس قول سے اوپر جو آیا صُدِّقَ صُدِّقَ آیا نا اوپر کئی جگہ متن میں صُدِّقَ الْآمِرُ اور اس سے پچھلے متن پچھلے صفحے کے آخر میں بھی یہ آیا تھا صُدِّقَ الْآخَرُ یا صُدِّقَ الْآمِرُ بِقَوْلِ صُدِّقَ ماتن کے قول صُدِّقَ سے مراد فی جميع ما ذکر تمام مذکورہ میں کے اندر التَّسْدِيقُ بِغَيْرِ الْحَلْفِ تصدیق مراد ہے بغیر قسم کے، یہاں قسم کی حاجت... علامہ صدر الشریعہ تو یہ فرما رہے ہیں تصدیق کس قسم کی مراد ہے؟ قسم کے بغیر ہی تصدیق کر دی جائے گی، قسم دینے کی ضرورت نہیں۔
لیکن بعض علماء لکھتے ہیں نہیں بھئی قسم ضروری ہے بھئی، قسم کے بغیر تصدیق درست نہیں۔
چلیے واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔