الشعير والبر والتمر والملح كيلي والذهب والفضة وزني أبدأ وإن ترك فيه
أچھا بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ علت ربح ہمارے نزدیک قدر معالجنس ہے اور قدر شامل ہے کیل کو بھی اور وزن کو بھی بھئی تو معلوم ہوا وزن معالجنس یا کیل معالجنس یہ علت ہے اور وزن اور کیل کے لیے ایک ہی لفظ فقہاء بولتے ہیں جو قدر ہے تو قدر معالجنس یہ علت ہوئی ربح کی
تو جہاں پر دونوں وصف پائے جائیں گے وہاں پر ادھار بھی حرام اور زیادتی بھی حرام اور جہاں پر دونوں وصفوں میں سے ایک پایا جائے وہاں زیادتی تو جائز ہے لیکن ادھار حرام ہے بھئی ادھار حرام ہے
تو اس پر بھئی اشکال ہوتا ہے قرض کا بھئی قرض
قرض میں دیکھیے آپ ایک کو رقم دیتے ہیں یا کوئی مثلی چیز دیتے ہیں مثلا گندم دے دی آپ نے ایک من تو اس کو ضرورت تھی اور وہ کچھ عرصے بعد وہی گندم آپ کو واپس کرتا ہے تو مثلی کے بدلے مثلی چیز آئی مولانا اور ادھار کے ساتھ آئی بھئی ایک اسی وقت دے دی دوسرے کی طرف سے ادھار ہے تو اس کو بھی کیا ہونا چاہیے حرام ہونا چاہیے
لیکن ادھار میں قرض میں یاد رکھو یہ جائز ہے مولانا خاص وجہ اس کی یہ بھئی کہ بیع کی بنیاد ہے مماکسد پر تنگی پر اور قرض کی بنیاد ہے وسعت پر حاجت اور ضرورت ہونے کی بنا پر بھئی تو قرض میں وسعت ہے بھئی وسعت ہے
سمجھ میں آیا تو دونوں میں فرق آیا بھئی کر کہ بیع کی بنیاد کس پر ہے بھئی جی بیع کی بنیاد مماکسد تنگی پر ہے لوگ اس میں تنگی کرتے ہیں بھئی اور قرض کی بنیاد کس پر ہے وسعت پر ہے نیت اس لیے بھی کہ قرض الگ چیز ہے بیع الگ ہے مولانا قرض کو کوئی بھی بیع نہیں کہتا نام ہی الگ ہے اس کا بھئی قرض کو کوئی بھی بیع نہیں کہتا تو نام بھی الگ ہوا
تیسری بات یہ مولانا کہ قرض جو ہے وہ ابتدا تبرع ہے بھئی احسان ہے بھئی کیا ہے احسان ہے تا اگرچہ انتہا ابتدا کے اعتبار سے یہ احسان ہے آپ دوسرے کو رقم دے رہے ہیں بھئی یا کوئی چیز دے رہے ہیں مثلی
البتہ انتہا کے اعتبار سے جب وہ اس کا عوض دے گا تو معاوضہ بن جائے گا بھئی تو ابتداً یہ کیا ہے احسان ہے اگرچہ انتہاا معاوضہ بن جاتا ہے اسی لیے اس کا ثواب ہے مولانا کیونکہ یہ ابتداً کیا ہے بھئی احسان ہے تو اس کا ثواب ہے جبکہ بیع کا ثواب نہیں بھئی
تو اس میں وسعت ہے جائز ہے بھئی
آج آپ کو یہ بتائیں گے کہ بھئی حدیث کے اندر جو چھ چیزیں آئی تھیں ان چھ میں سے چار کو بھئی کیلی شمار کیا حضور علیہ السلام نے اور دو کو وزنی شمار کیا ذہب اور فضا کو تو جن کو حضور نے کیلی شمار کیا وہ ہمیشہ کیلی ہی شمار ہوں گی اگرچہ لوگ اس میں کیل چھوڑ کر وزن شروع کر دیں
اور جو وزنی ہے وہ ہمیشہ وزنی ہی شمار ہوگی اگرچہ لوگ اس میں وزن چھوڑ کر کیل ہی کیوں نہ شروع کر دیں
مساً حدیث کے اندر بھئی گندم جو تمر اور ملح کا ذکر آیا تھا اور کیلی تھیں تو یہ ہمیشہ کیا شمار ہوں گی کیلی شمار ہوں گی اور اگرچہ لوگ اب کیا کرتے ہیں گندم کو وزن کرکے بیچتے ہیں لیکن جب گندم کی بیع گندم کے بدلے میں ہو
تو پھر اس وقت مساوات کیل کے ذریعے ہونا ضروری ہے ورنہ کیا لازم آئے گا ربا لازم آئے گا کیونکہ ہو سکتا ہے وزن کے اعتبار سے برابر ہوں دونوں
طرف لیکن کیل کے اعتبار سے ایک طرف کچھ زیادتی ہو بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی
یہ معنی نہیں کہ ان میں اب کیل کے اعتبار اگر حضور نے کیلی بتلایا تو اب وزن کے اعتبار سے بیع ہی نہیں صحیح بیع صحیح ہے لیکن اسی کی جنس کے بدلے ہو یا یوں کہو ایک طرف بی ایک طرف گندم ہے بھئی
اور دوسری طرف کیا ہے
مساً ایسی چیز ہے گندم کو وزن کیا جاتا ہے اور دوسری چیز کو کیا شمار کیا جاتا ہے وزنی تو اب اگرچہ قدر بھی نہیں ہے دونوں طرف کیلی نہیں ہے یا دونوں طرف وزنی نہیں لیکن حدیث میں اگر ان کا ذکر آیا ہے کیلی کے طور پر تو اب ہم بھی کیا اعتبار کریں گے یہاں پر
کہ یہ دونوں کیلی ہیں اگرچہ جنس ایک نہیں تو لہذا اب نقد تو کمی بیشی کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گی بیع لیکن ادھار وہاں پر صحیح نہیں ہوگا بھئی
یا مساً گندم اب وزن کرکے بیچی جاتی ہے گندم ہی کے بدلے بیع کر رہے ہیں تو اب کیا کرنا پڑے گا
وزن کے اعتبار سے مساوات نہیں دیکھی جائے گی بلکہ کس اعتبار سے مساوات دیکھی جائے گی کیل کے ہو سکتا ہے وزن کیا وزن کے اعتبار سے ایک طرف بھی بھئی سو کلو گندم دوسری طرف بھی سو کلو گندم لیکن اگر ماپا جائے ہو سکتا ہے ایک کچھ زیادہ نکلے اور دوسری کچھ کم تو مساوات نہیں پائی جائے گی شبہ آ جائے گا زیادتی کا تو لہذا کیل کے ذریعے وہاں ضروری بھئی کیلی شمار ہوگی
تو کہتے ہیں والشعیر والبر والتمر والملح کیلی جو جو ہے گندم اور کھجور اور نمک جو ہیں یہ کیلی ہیں
والذهب والفضة وزني أبدأ اور ذہب اور فضا وزنی ہیں ابداً ہمیشہ کے لیے
وإن ترك اگرچہ ان دونوں کو ترک کر دیا جائے بھئی ان دونوں کو تثنیہ کا صیغہ ہے کن دونوں کو
پہلی چار میں کیل کو اور اخری دو میں وزن کو اگرچہ ان دونوں کو ترک کر دیا جائے فیہا ان چیزوں میں ای وإن ترك الكل في الأرباع المتقدمة والوزن في الأخرين
اگرچہ ترک کر دیے جائیں کیل کو پہلی چار کے اندر اور وزن کو اخری دو میں لقول علیہ السلام حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے الحینتہ بالحنتی الحدیث
أي اقراء الحدیث
بھئی یا الحدیث معروف الحدیث کیا ہے معروف ہے بھئی
تو یہاں اس کو اقرا الحدیث اقرا کے لیے بھئی اس کو مفعول بناؤ منسوب پڑھو یا الحدیث معروف اس کو مبتدا بنا لو خبر محذوف نکال لو
پھر مرفوع پڑھیں گے ویحمل في غيرها على العرف اور ان کے علاوہ باقیوں میں محمول کیا جائے گا عرف پر بھئی
بھئی یہ چھ چیزیں ہیں چار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کیلی شمار کیا دو کو وزنی شمار کیا یہ ہمیشہ کیلی چار شمار ہوں گی اور دو وزنی شمار ہوں گی
ان کے علاوہ باقی سب کا دارومدار عرف پر ہے اگر عرف میں وہ کیلی شمار ہوتی ہے تو کیلی اگر وزنی شمار ہوگی تو پھر اگر عرف بدل گیا کیلی کے کیا بنا لیا لوگوں نے وزنی تو پھر وہ اسی عذت کے مطابق شمار ہوگی
جی ویحمل في غيرها على العرف اور محمُول ہوں گے فلم يجوز بيع البر بالبر متساويا وزناً لہذا جائز نہیں ہے گندم کی بیع کس کے بدلے میں گندم ہی کے بدلے میں متساوياً برابری کے ساتھ وزناً کس اعتبار سے
وزن کے کیونکہ ہو سکتا ہے کیل کے اعتبار سے کچھ کمی بیشی ہو
والذهب اي بالذهب اي بيع الذهب والذهب بجنسه متماثلا كيلاً کس اعتبار سے
کیل کے بھئی سونا ہے تو وزنی تھا حضور صلم نے اس کو وزنی قرار دیا اور اگر اب اس پر عرف بدل گیا اور لوگ کیا کرنے لگے
کیل کرنے لگے مسلاً تو اب دو شخص بیع کرتے ہیں اس کی تو کیل کرکے انہوں نے برابری کر لی لیکن اس کا اعتبار نہیں مولانا
کیونکہ کس اعتبار سے برابری ہونی چاہیے اس میں وزن کے لہذا یہ درست نہیں ان کی بیع کیل کے اعتبار سے
كما لم يجوز مجازفة جیسے کہ ان کی بیع اندازے کے ساتھ جائز نہیں تھی بھئی
وتبر تعيين الربوي في غير صر ف بلا شرط تقابض
یہاں سے یہ بتلانے لگے ہیں بھئی
کہ اموال ربویہ جو ہیں ان کے اندر جب بیع کرنے لگیں تو وہاں پر قبضہ ضروری نہیں ہے صرف تعيين ضروری ہے
کیا ضروری ہے
ایک طرف سے بھی گندم ہے دوسری طرف سے بھی گندم ہے بھئی تو اس صورت کے اندر یہ ضروری نہیں ہے کہ مجلس میں آپ بھی اس دوسری گندم پر قبضہ کریں اور وہ آپ کی گندم پر قبضہ کرے بلکہ صرف تعيين ضروری ہے کہ یہ ہے وہ گندم جو میں نے آپ کو بیچی آپ کی طرف سے بھی تعيين ضروری ہے کہ یہ گندم ہے جو میں نے آپ کو بیچی بھئی تعيين ضروری ہے
ہاں اگر عقد صرف ہے یعنی ایک طرف سے بھی ثمن ہے دوسری طرف سے بھی ثمن ایک طرف بھی سونا چاندی دوسری طرف بھی سونا چاندی تو پھر یہ بیع صرف بن جائے گی اور بیع صرف میں آپ نے پڑھا ہے کہ مجلس کے اندر قبضہ ضروری اس لیے کہ یہ تعيين سے متعین نہیں ہوتے بھئی
واعتبر تعيين الربوي اور اعتبار کیا گیا ہے ربوی چیز کی تعيين کا فی غير صرف علاوہ بیع صرف کے علاوہ میں تعيين معتبر ہے بلا شرط تقابض بغیر تقابض کی شرط کے کہ دونوں کا قبضہ شرط نہیں ہے بھئی
کہتے ہیں المعتبر في بیع الأموال الربوية معتبر ہے اموال ربویہ کی بیع کے اندر کہ یکون المبيع معيناً مبیع کو کیا ہونا چاہیے معین ورنہ تو مجہول چیز کی بیع لازم آئے گی تو بیع فاسد ہو جائے گی حتى لو لم يكن معيناً اگر مبیع معین نہ ہوا کان سلماً پھر تو یہ بیع سلم بن جائے گی
کیونکہ بیع سلم میں آپ آج ایک چیز دیتے ہیں اور دوسری چیز آپ کو کب ملے گی مثلاً چھ مہینے کے بعد ملے گی تو وہ تو متعین نہیں ہے
تو بیع سلم میں متعین نہیں ہوتی تو یہاں پر بھی اگر ایک چیز متعین ایک چیز بھی متعین نہ ہوئی ایک چیز متعین نہ ہوئی تو یہ کیا بن جائے گی
بیع سلم بن جائے گی اور بیع سلم کی شرائط ہیں بھئی
کہ وصف معلوم ہو صفت معلوم ہو اجل معلوم ہو وغیرہ تو پھر ان شرائط کا لحاظ رکھا جائے گا وہ شرطیں پوری تو ٹھیک ہو جائے گی بیع سلم اگر وہ شرائط پوری نہیں تو پھر وہ بیع سلم بھی کیا ہو جائے گی فاسد ہو جائے گی
تو پھر بیع سلم اگر یہ مبیعہ معین نہ ہوا تو یہ بیع سلم بن جائے گی فلا بد فيہ من شرائطه تو ضروری ہے اس کے اندر اس کی شرائط کا ہونا وإذا لم يوجد شرائط السلام كان العقد بيعا غير سلمین تو عقد ایسی بیع ہوا جو سلم کے
معلوم ہوا جب ایک مبیعہ معین نہیں ہے تو یہ کون سی بیع بن گئی بیع سلم اور بیع سلم ہے تو اس کی شرائط کا اعتبار کرنا ضروری اور جب اس کی شرائط نہیں پائی جا رہی ہیں تو معلوم ہوا یہ بیع سلم بھی نہیں ہے
فلا بد من التعيين تو ضروری ہے تعيين ضروری ہے بھئی
ولا يشترط التقابض في المجلس اور دونوں عوضین پر قبضہ کرنا بھی مجلس میں ضروری نہیں بھئی إن لم يكن صرفا اگر بیع صرف نہ ہو حتی لو کان صرفا يشرط ہاں اگر کیا ہوا
اگر بیع صرف ہوئی تو پھر شرط لگائی جائے گی کہ دونوں معوضین پر قبضہ کیا جائے مجلس ہی میں
وعند الشافعي رحمہ اللہ يشرط التقابض في المجلس في بيع الطعام اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک شرط لگائی جائے گی دونوں عوضین پر قبضے کی مجلس کے اندر کس میں بیع صا غلے کی بیع میں سواء بیع بجنسیه أو خلاف جنسیہ چاہے اس کو اس کی جنس کے بدلے بیچا جائے یا خلاف
جي جي جي طعام ہو بس بھئی غلہ ہو کھانے کی چیز ہو تو کھانے کی چیز میں ان کے نزدیک بھئی
یا رحمک اللہ اس میں اسی مجلس میں قبضہ ضروری ہے بھئی
کا
جی تو کہتے ہیں هذا في الأموال الربوية یہ تو مسئلہ تھا کس میں اموال ربویہ میں أما في غيرها باقی ان کے علاوہ کے اندر ان لم يكن معيناً اگر عام دوسری بیع تھی اموال ربویہ کے علاوہ میں تو مبیعہ اگر معین تھا
اگر معین نہیں تھا
فإن كان ما يجري فيه السلم اگر وہ ان چیزوں میں سے ہوا جن کے اندر کون سی بیع جاری ہوتی ہے بیع سلم ہوتی ہے یعنی مسليات میں سے ہے تو فإن وجد شرائط السلم يصح بشروطہ بطریق السلم پس اگر پائی گئیں شرائط سلم تو صحیح ہو جائے گی بیع اس کے
شرائط کے ساتھ بطریق سلم کس طریقے پر سلم کے طریقے پر یعنی بیع سلم بن جائے گی
فإن لم توجد يفسد البیع اور اگر اس کی شرائط نہ پائی جائیں تو وہ بیع سلم کیا ہو جائے گی فاسد ہو جائے گی
واللم يجري فيه السلم اور اگر اس کے اندر بیع سلم جاری نہیں ہوتی اس چیز میں یعنی مسليات میں سے نہیں ہے يفسد البیع তো بیع کیا ہو جائے گی فاسد ہو جائے گی لعدم التعيين اس لیے کہ عدم تعيين کی وجہ سے مبیعہ متعین نہیں ہے بھئی مبیعہ مجہول ہوا بھئی
وجاز بيع الفلس بفلسين بأعيانهما اور جائز ہے ایک فلس کی بیع دو فلس دو سکوں کے ایک سکے کی بیع دو سکوں کے بدلے
ساتھ ان کی تعيين کے بھئی جبکہ یہ دونوں کیا ہوں
معین ہوں
بھئی دیکھو ایک ہے ایک طرف سے آپ ایک درہم دیتے ہیں دوسرے سے دو درہم لیتے ہیں اس میں تو کوئی شک نہیں یہ تو ربا ہے مولانا یہ کیا ہے
ربا اس لیے کہ سونا اور چاندی خلقتنا سمن ہیں خلقتنا کیا ہیں
سمن ہیں
لیکن ایک یہ سکے بھئی جو تانبے یا لوہے وغیرہ کے بنے ہوئے ہوتے ہیں تو کیا یہ بھی
کیا ہیں
ان میں بھی مساوات ضروری ہے یا مساوات ضروری نہیں بھئی
تو یہاں بتلائیں گے امام محمد کا تو اختلاف ہے البتہ شیخین رحمہ اللہ فرماتے ہیں
کہ متعین سکے ایک طرف ہوں اور دوسری طرف بھی متعین ہوں تو زیادتی کے ساتھ بھی بیع جائز ہے ان کی
اس لیے کہ
ان دونوں نے جب ان کو متعین کر دیا عقد کرنے والوں نے کیا کر دیا
متعین کر دیا تو یہ سمنیت سے خارج ہو گئے اس لیے کہ سمن تو تعيين سے متعین نہیں تو انہوں نے اس کو متعین کر لیا جب متعین ہوئے تو یہ عام سامان کی طرح ہو گئے جو تعيين سے کیا ہو جایا کرتا ہے
متعین ہو جاتا ہے اور عام سامان کے اندر تو آپ نے پڑھا ہے بھئی زیادتی کمی بیشی جائز ہے بھئی تو یہ بھی جب سامان بن گئے
تو ان کی اپنی اصطلاح میں ایک ہے عام عوام کی اصطلاح ان کے نزدیک تو سمن لیکن ان دونوں نے اس کو کیا کر دیا
جب متعین کر دیا تو اپنی اصطلاح کے اندر اس کو سمنیت سے نکال کر کیا بنا سمن سے نکال کر کیا بنا دیا
سامان بنا دیا لہذا اس صورت میں یہ بیع کیا ہو جائے گی
درست ہو جائے گی جیسے ایک بیل دیا دو بیل لے لیے بھئی اس میں تو کوئی خرابی نہیں ہے بھئی
خلافا لـ خلافا لمحمد رحمہ اللہ بخلاف امام محمد رحمہ اللہ کے لہو ان کی دلیل یہ ہے کہ ان الفلوس اسمان یہ فلوس کیا ہیں
یہ سمن ہیں فلا تعين بالتعيين یہ تو تعيين سے متعین تو بس یہ تعيين سے متعین نہیں ہوتے فصار کما إذا كان بغير أعيانهما تو یہ اس طرح ہو گیا جیسے کہ وہ دونوں متعین نہ ہوں بھئی متعین
اگر یہ تو متعین کر رہے ہیں لیکن پھر بھی یہ سمن ہے تو گویا اسی طرح ہے متعین یہ
نہیں ہیں
وكبع الدرهم بالدرهمين اور جیسے ایک درہم کی بیع کس کے بدلے میں ہوتی ہے
دو تو جیسے وہ تعيين سے متعین نہیں ہوتے یہ بھی تعيين سے متعین نہیں ہوئے تو یہ سمن ہے لہذا بیع درست نہیں جیسے ایک درہم کی دو درہم کے بدلے میں ولہما اور شیخین رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے
أن سمنيتهما بالاصطلاح کہ یہ جو پیسے ہیں سکے ہیں ان کی سمنیت تو کس وجہ سے ہے
اصطلاح کی وجہ سے عام لوگ اس کو کیا
شمار کرتے ہیں
سمن شمار کرتے ہیں
لیکن
انہوں نے اس کو تو یہ
عام لوگوں کی اصطلاح ہے
لیکن ان دونوں نے اپنی اصطلاح میں اس کو کیا کر دیا
متعین کر دیا
جب متعین کر دیا تو
بن گئے
تو جو عام لوگوں کی اصطلاح ہے وہ ان کے غیر کی اصطلاح
ان پر دلیل نہیں بن سکتی عام لوگ تو اس کو سمن کہتے ہیں لیکن عام لوگ ان دونوں کے کے علاوہ ہیں ان سے غیر ہیں اور غیر کی اصطلاح ان عقد کرنے والوں کے حق میں حجت
نہیں بن سکتی
و اصطلاح الغير لا يكون حجة على المتعاقدين اور غیر کی اصطلاح جو ہے وہ حجت نہیں بنے گی عقد کرنے والوں کے خلاف بھئی
ان پر حجت نہیں بنے گی
وهما ابطل سمنيتهما
اور تو حضرت شیخین رحمہ اللہ نے باطل کر دیا ان کی سمنیت کو بھئی اگر ان سکوں کو ابھی بھی سمن قرار دیں تو پھر تو کیا لازم آئے گا ربا تو انہوں نے اس کی سمنیت کو کیا کر دیا
باطل کر دیا
کیوں؟
لأنہما قصدا تصحیح العقد اس لیے کہ انہوں نے ارادہ کیا عقد کو صحیح کرنے کا میں نے بتلایا فقہاء کرام کیا کوشش فرماتے ہیں
کہ عقد کسی طرح کیا ہو جائے
صحیح اور عقد اسی صورت میں صحیح ہو سکتا تھا کہ ان کو سمنیت سے نکال کر کیا بنا دیا جائے
سامان کروں
تو کہتے ہیں انہوں نے عقدا انہوں نے عقد کی صحیح کرنے کا ارادہ کیا ولا وجہ لہ الا بتعيينهما اور کوئی وجہ نہیں تھی عقد کے صحیح کرنے کی مگر ان کے تعيين کے ساتھ ہی وخرجها عن السمنيتي اور ان کے سمنیت سے نکلنے کی سمنیت سے نکلیں گے
اور یہ متعین ہوں گے تو پھر ہی عقد صحیح ہو سکتا ہے
لأنہما إذا خرج عن السمنيتي اس لیے کہ جب وہ دونوں نکل گئے کس سے بھئی
سمنیت سے نکل گئے
يكون أعيانهما مطلوبة لا ماليتوهما تو اب ان کی عین مطلوب ہوئی بھئی نہ کہ ان کی مالیت بھئی
سامان بنا لیا
تو سامان میں اس کی عین مطلوب ہوتی ہے بھئی
تھوڑا بہت فرق ہو جائے تو کوئی بات نہیں تو یہاں بھی ان کی ذات ہی مطلوب ہو گئی
ان کی مالیت مطلوب نہ رہی سمنیت ختم کر دی
فيمكن أن يعطى فلسا فيأخذ فلسا
ممكن ہے کہ وہ دے دے اب ایک فلس
دو فلس دے اور ایک فلس
لے لے
طلباً لصورته اس کی صورت کو طلب کرتے ہوئے بھئی
واللحم بالحيوان
اس کا کس پر عطف ہے بھئی
وجاز بیع الفلسين فلس پر عطف ہے وجاز بیع اللحم بالحيوان
اور جائز ہے لحم کی بیع کس کے بدلے میں حیوان کے بدلے میں
جی
بھئی حیوان آپ کیا کرنا چاہتے ہیں
गोश्त के बदले حیوان خریدتے ہیں بھئی گوشت دیتے ہیں اور حیوان لیتے ہیں
تو اگر گوشت ہے مثلاً گائے گائے بیل وغیرہ کا اور اس کے بدلے لیتے ہیں بکری پھر تو خلاف جنس ہے اس میں تو اشکال ہی کوئی نہیں
اگر اسی جنس کا ہو
تو پھر اس صورت میں بیع جائز ہوگی یا نہیں بکری ہی کا گوشت دے کر آپ کس کو لینا چاہتے ہیں زندہ بکری کو لینا چاہتے ہیں
تو
شیخین رحمہ اللہ کے نزدیک مطلقاً جائز ہے
اس لیے کہ گوشت وزنی ہے وزنی چیزوں میں سے اور جو بکری ہے وہ کس میں سے ہے
عددی چیزوں میں سے ہے
تو لہذا
اور
عددی چیزوں میں سے ہے بھئی صورت سمجھ میں آئی بھئی
جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں بھئی
اگر گوشت بھی بکری کا ہے اور لینا بھی بکری چاہتے ہیں تو بکری سے بھی ذبح کرکے وہی گوشت ہی حاصل ہوتا ہے بھئی تو لہذا اس صورت کے اندر ضروری ہے
کہ اس گوشت کو بکری کے اندر پائے جانے والے گوشت سے کچھ زیادہ ہونا چاہیے
جو آپ گوشت دے رہے ہیں وہ زیادہ ہونا چاہیے اس گوشت سے جو کس کے اندر ہے
بکری میں کیوں؟
کہتے ہیں اس لیے
کہ
مثلاً آپ دے رہے ہیں سو کلو گوشت بھئی
کتنا ہوتا ہے بکری میں بھئی؟
30 کلو
مطبخ والا نہیں کوئی اور بتاؤ
ہاں
مطبخ والی میں تو میرا خیال نہیں ہوگا 30 کلو
ہاں
عام بکری میں کتنا گوشت ہے مثلاً
25 30 کلو گوشت ہے بھئی اب آپ یہ گوشت دینا چاہتے ہیں اور اس بکری کے اندر بھی اندازاً اتنا ہی گوشت ہے تو پھر یہ بیع جائز نہیں ربا لازم آئے گا
ربا کیوں؟ اس لیے کہ آپ دے رہے ہیں 25 30 کلو دے رہے ہیں اور بکری میں سے بھی گوشت کتنا نکلے گا 30 کلو یہ تو گوشت تو گوشت کے بدلے میں برابر ہو گیا
لیکن
اس کے اندر ردی چیزیں بھی تو ہیں بکری میں ذبح کے بعد جو نکلیں گی اس کی اوجڑی ہے
اور آنتیں ہیں وغیرہ تو یہ زائد چیزیں کیا ہوگئیں
یہ یہ ربا ہو گئیں بھئی زائد ہو گئیں صورت سمجھ میں آگئی بھئی
تو لہذا اب جو آپ گوشت دے رہے ہیں وہ کم از کم کتنا ہونا چاہیے
31 کلو ہونا چاہیے کچھ زائد ہونا چاہیے تاکہ وہ اس ردی چیزوں کے عوض میں آجائے
30 کلو گوشت 30 کلو گوشت کے بدلے میں ہوا اور یہ ایک کلو گوشت کس کے بدلے ہوا
ردی چیزوں کے بدلے
تو کہتے ہیں جائز ہے بھئی گوشت کی بیع حیوان کے بدلے خلافاً لمحمد رحمہ اللہ بخلاف امام محمد رحمہ اللہ کے فإنہ عندہ إذا بیع الحيوان بلحم حيوان من جنسه
اس لیے کہ ان کے نزدیک جب بیچا جائے حیوان کو
اسی کی جنس میں سے حیوان کے گوشت کے
بدلے
یعنی اسی حیوان کے گوشت کے بدلے
لا یجوز البیع تو بیع جائز نہیں
إلا إذا كان اللحم أكثر من لحم ذلك الحيوان مگر اس وقت کہ وہ گوشت زیادہ ہو اس گوشت سے جو اس حیوان کے اندر ہے
ليكون الزائد في مقابلة السقط
تاکہ زائد کس کے مقابلے میں ہو جائے
سقط وہ ردی چیزوں کے مقابلے میں ہو جائے
وعندهما يجوز مطلقا اور صاحبیں شیخین رحمہ اللہ کے نزدیک مطلقاً جائز ہے بھئی
لأنہ بع الموزون بما ليس بموزون
اس لیے کہ یہ موزون کی بیع ہے ایسی چیز کے بدلے جو موزون نہیں ہے
والدقیق والبيع وجاز بيع الدقیق
اور اس کا عطف بھی ماقبل پر اور جائز ہے آٹے کی بیع
والدقیق بجنسه كيلاً
اور آٹے کی بیع اسی کی جنس کے بدلے یعنی آٹے کے بدلے کیلان ب اعتبار کیل کے مآب کر
بھئی آپ ایک
من آٹا دیتے ہیں اور اس کے بدلے میں
ایک من آٹا ماپ کر لیتے ہیں بھئی یہ درست ہے بھئی
والرطب بالرطب اور رطب کی بیع رطب کے بدلے والتمر اور تمر کے
بدلے میں نے بتلایا تھا کھجور تین قسم پر ہے ایک بسر ہے ایک رطب ہے ایک تمر ہے بھئی
کھجور جب درخت پر لگی کچا پھل ہے جب اس میں مٹھاس آ جاتی ہے
اس میں مٹھاس آ جاتی ہے بھئی لیکن ابھی وہ ہوتی سخت ہی ہے بھئی
جی اور اسے
کیا کہتے ہیں بھئی؟
ڈوکا کہتے ہیں بھئی جو کھجور جن کے علاقے میں وہ جانتے ہوں گے بھئی ڈوکا کہتے ہیں
اس کو بسر کہتے ہیں بھئی یہ سخت ہوتی ہے بھئی ہاں مٹھاس ہوگی اس کے اندر
پھر یہ کھجور نرم ہوتی ہے بھئی
اور
نرم ہو جاتی ہے بالکل پک جاتی ہے اس کو کہتے ہیں رطب
کیا کہتے ہیں
رطب بھئی
لیکن اس رطب کے اندر رس ہوتا ہے تازہ پھل ہے بھئی درخت پر لگا اس کو پھر اتار کر کچھ دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے بیچنے سے پہلے ورنہ تو رس کی وجہ سے وہ خراب ہو جائے گی فورا
تو تھوڑی سی دھوپ لگوائی کچھ خشک ہو گئی پھر بیچنے کے لیے لے آئے تو یہ جو آپ اس وقت دیکھتے ہیں جو بک رہی ہوتی ہے بازار میں یہ تمر ہے بھئی جس کو دھوپ میں تھوڑا سا خشک کیا جاتا ہے بھئی بالکل خشک نہیں ہوتی بھئی تھوڑی سی خشک کر لیتے ہیں پانی کچھ کم ہو جاتا ہے اس میں بھئی
تو بسر کسے کہتے ہیں بھئی وہ ڈوکا رطب تازہ کھجور جس میں رس زیادہ ہوگا اور تمر کسے کہتے ہیں
جو خشک کی ہوئی ہے بھئی
اب ایک رطب کی بیع رطب کے بدلے بھئی اور رطب کی بیع تمر کے بدلے یہ دونوں جائز ہیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک
ایک طرف تازہ کھجور ہے اس میں رس ہے زیادہ بھئی دوسری طرف
دوسری طرف خشک کی ہوئی ہے تو یہ جائز ہے بھئی
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس لیے کہ رطب پر بھی تمر کا اطلاق ہوتا ہے حدیث میں آیا ہے بھئی
تو کہتے ہیں رطب تازہ پکی ہوئی کھجور کی بیع بالرطب کس کے بدلے میں تازہ پکی ہوئی کھجور کے بدلے میں والتمری اور کس کے بدلے میں خشک کی ہوئی کھجور دونوں کے بدلے میں اس کی بیع جائز ہے ہذا عند ابي حنيفة رحمہ اللہ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے
وعندهما وعند الشافعي رحمهم اللہ تعالى یہاں لفظ اللہ رہ گیا بھئی ہونا چاہیے کتابت کی غلطی ہے
جبکہ امام جب کہ صاحبين کے اور امام شافعی رحمہ اللہ رحمہما اللہ
ان کے نزدیک لا يجو زو
یہ جائز
نہیں
إن نقص الرطب بالجفاف
اگر رطب خشک ہوتی ہو سوکھنے سے
جفا کا معنی خشک ہونا سوکھنا
وہ فرماتے ہیں بھئی صاحبين بھی فرماتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ نہیں بھئی
رطب کی بیع تمر کے بدلے کیوں؟
رطب میں رس زیادہ ہے بھئی آپ اس وقت تو ماپ لیں گے
دونوں طرف بھئی آپ نے ایک ایک قفیص لے لی آپ نے تمر بھی اور اس سے کیا لیا آپ نے
رطب
لیکن یہ رطب تو
ایک کا دو دن کے اندر ہی بھئی کیا ہو جائے گی
خشک ہو جائے گی تو کم ہو جائے گی تو اب برابری ہی
رہی
نہیں تو معلوم ہوا برابری نہیں ہوتی ماپنے سے بھی ان کے اندر بھئی
والعنب بالزبيب بالزبيب باي وامرور کی بیع کس کشمش کے بدلے زبيب کہتے ہیں کشمش بھئی
جانتے ہو یا نہیں کشمش بھئی
وہ میوہ जिसको آپ کہتے ہیں بھئی
خشک کیے ہوئے انگور بھئی
انگور کی بیع کشمش کے بدلے والبر رطبا أو مبلولاً بمثله أو باليابسی
देखो بھئی
گندم بھئی ایک گندم وہ ہے جو ابھی کھیت میں ہے کچی ہے سبز ہے
تر تر گندم بھئی تر گندم بھئی
کھیت میں لگی ہوئی ہے بھئی گندم
کچی ہے تو تر ہوگی بھئی
ایک وہ گندم جس پر پانی ڈالا گیا بھگویا گیا ہے بھئی اور ایک عام خشک گندم ہے
کہتے ہیں بھئی تر
گندم جو کچی گندم ہے اس کی بیع
اس اسی کے مثل کے ساتھ کرنا بھی یعنی کچی گندم دی اور کچی گندم لی
برابری کے ساتھ
یا ایک طرف کچی گندم ہے دوسری طرف خشک گندم ہے بھئی پکنے کے بعد
یہ بھی درست ہے برابری کے ساتھ
ایک طرف تر گندم ہے بھئی بھگوئی گئی ہے کس کے ساتھ
پانی کے ساتھ بھئی
تو
دوسری طرف بھی تر گندم ہے پانی کے ساتھ بھگوئی گئی ہے بھئی
ان کی بیع بھی اپس میں درست ایک طرف تر گندم ہے بھگوئی گئی ہے پانی کے ساتھ اور دوسری طرف خشک گندم ہے ان کی بیع بھی اپس میں صحیح ہے چاروں صورتیں اکٹھی کر رہے ہیں یہ دیکھیے بھئی والبر والبر اور گندم کی بیع رطبا اس حال میں کہ وہ کیا ہو
تر ہو میں نے بتایا کون سی گندم مراد ہے تر گندم سے جو کچی ہے ابھی
تو کچی گندم کی بیع کر لیں اس کا معنی
دوسری
ترکی ہوئی ہے بھئی پانی کے ساتھ بھئی
ان دونوں کی بیع جائز ہے بمثليہ انہی کے مثل کے یعنی کچی کی بیع کچی کے بدلے یا بھگوئی ہوئی کی بیع بھگوئی ہوئی کے بدلے
أو باليابسی یا ان دونوں کی بیع کس کے بدلے
خشک کے بدلے ایک طرف کچی گندم ہے دوسری طرف خشک ہے ایک طرف بھگوئی ہوئی ہے دوسری طرف خشک ہے یہ بھی جائز ہیں
جی والتمري والزبيب المنقع بالمنقع منهما
اور اسی طرح
کھجور ہے اور کشمش ہے منقع کا معنی
بھگوئی ہوئی بھئی
خجور اور
خجور اور کشمش کو پانی میں بھگو کر رکھتے ہیں جس سے اس پانی کے اندر کیا آ جاتی ہے مٹھاس آ جاتی ہے
تو
اس کو پانی میں بھگوئی ہوئی اس کو کیا کہیں گے تمر منقع اور اسی طرح زبیب منقع بھئی
یہ مفعول کا صیغہ ہے باب افعال بھئی
تو والتمري والزبيب المنقع بھئی منقع کا تعلق دونوں سے ہے بھئی تمر بھی تمر بھی کیسی ہو
بھگوئی ہوئی اور زبیب بھی کیسی ہو
ان کی بیع جائز ہے
بالمنقع منهما
انہی کے میں سے جو منقع ہے اس کے بدلے
معلوم ہوا بھگوئی ہوئی کھجور کی بیع بھگوئی ہوئی کھجور کے بدلے جائز اسی طرح بھگوئی ہوئی کشمش کی بیع بھگوئی ہوئی کشمش کے بدلے
جائز ہے
متساويا
جب یہ کس
طرح بھئی
برابری کے ساتھ ان سب کے ساتھ اس کا تعلق ہے برابری کے ساتھ ہوں یہ سارے بھئی
والدلیل في جميع ذلك اور دلیل ان سب میں یہ ہے ان کان بيع الجنس کہ بھئی دیکھو یہ جو ہم نے کیا کہا
ایک طرف کیا ہو بھئی
ایک طرف رطب ہو
دوسری طرف تمر ہو
ایک طرف عنب ہو
دوسری طرف زبیب ہو
ایک طرف کچی گندم ہے دوسری طرف پکی گندم وغیرہ یہ ساری صورتیں اس میں آ گئی
ان سب میں یا تو دونوں کو ایک ہی جنس آپ شمار کریں گے یا ایک جنس شمار
اگر ایک جنس شمار کرتے ہیں تو پھر برابری کے ساتھ بیع ان کی کیا ہو جائے گی
صحیح ہو جائے گی بھئی
اور اگر آپ ان کو ایک جنس شمار نہیں کرتے
अलग અલગ جنس شمار کرتے ہیں تو پھر بھی بیع صحیح اس لیے کہ حدیث میں آتا ہے
إذا اختلفت النوعان فبيعوا كيف شئتم
تو بس بیچو تم جیسے بھی چاہو جب دونوں انواع مختلف ہو جائیں
تو دونوں صورتوں میں جائز ہے بھئی
والدليل في جميع ذالك اور دلیل ان سب میں یہ ہے ان کان بيع الجنس
کیونکہ اگر جنس کی
اسی جنس کی بیع ہو اسی جنس کے بدلے میں
بيل
بيلات بيع الجنش بالجنسی بلا
بلا اختلاف
بـلا اختلاف الصفتي
اگر جنس کی اسی جنس کی بیع ہو اسی جنس کے بدلے میں
بـلا اختلاف بـلا اختلاف الصفتي
صفات کے اختلاف کے
بغیر (یعنی دونوں عمدہ ہوں یا دونوں ردی ہوں تو يجوز متساويا) تو جائز ہے برابری کے ساتھ
وكذا مع اختلاف الصفاتي
اور اسی طرح اگر ان کی صفت کا اختلاف ہو
تو اس کے باو باوجود اس صورت میں بھی برابری کے ساتھ جائز ہے بھئی
ایک طرف اعلی گندم ہے ایک طرف ردی گندم ہے پھر بھی برابری کے ساتھ کیا ہے
جائز ہے بھئی
لقولي عليه السلام حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے بھئی کہ اگرچہ صفت مختلف ہو پھر بھی برابری کے ساتھ جائز ہے حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے جیدھا وردیها سواء بھئی
ان چیزوں میں جی عمدہ اور ردی کیا ہیں
برابر ہیں بھئی برابر ہیں بھئی
سمجھ میں آیا تو ایک طرف عمدہ اور ایک طرف ردی ہو تو آپ یہ نہیں کر سکتے بھئی کہ اعلی والی تھوڑی دیں اور ردی والی زیادہ لیں جب جنس ایک ہو تو برابری ضروری ہے
تو کہتے ہیں دونوں صورتوں میں برابری کے ساتھ صحیح
وإن لم يكن بيع الجنس بالجنسی اور اگر
وإن لم يكن
بیع الجنش بالجنسی
اور اگر یہ اسی جنس کی بیع اسی جنس کے بدلے
نہیں ہے
(يعني اگر آپ ان دونوں کو ایک جنس شمار نہیں کرتے) يجز كيف ما كان تو پھر جائز ہے جیسے بھی کی جائے
لقولي عليه السلام حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے إذا اختلفت النوعان فبيعوا كيف شئتم
چلیے بس مولانا ہذا واللہ اعلم بحقیقت الكلام