Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-007

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 14 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 47
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَفِي الطَّعَامِ وَالْحُبُوبِ كَيْلاً وَجُزَافًا إِنْ بِيَعَ بِغَيْرِ جِنْسِهِ وَبِإِنَاءٍ أَوْ حَجَرٍ مُعَيَّنٍ لَمْ يُدْرَ قَدْرُهُ، وَفِي صَاعٍ فِي بَيْعِ صُبْرَةٍ كُلُّ صَاعٍ بِكَذَا. مبیع اور ثمن کے احکام چل رہے ہیں بھئی۔ یاد رکھیے! مبیع اور ثمن ایک دوسرے سے مختلف ہیں کئی اعتبار سے بھئی، کئی اعتبار سے۔ مثلاً مبیعِ منقولی کے اندر قبل القبض تصرف جائز نہیں۔ جبکہ ثمن میں قبل القبض تصرف جائز ہے۔ چیزیں دو قسم پر ہیں: یا منقولی ہوں گی یا غیرِ منقولی۔ منقولی وہ ہیں جن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل کیا جاتا ہو بھئی، نقل ہو سکیں۔ اور دوسری وہ جو ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل نہ ہو سکیں بھئی، منتقل نہ ہو سکیں۔ مثلاً زمین ہے بھئی، یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتے ہیں آپ؟ یہ غیرِ منقولی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ زمین ہے، باغ ہے، گھر وغیرہ، یہ غیرِ منقولی ہیں۔ اور اس باقی چیزیں منقولی ہیں مثلاً گاڑی ہے، کتابیں ہیں، کپڑے ہیں، غلہ وغیرہ، ہر چیز یہ کس میں داخل ہیں؟ منقولی میں۔ اب ضابطہ یہ ہے کہ مبیعِ منقولی میں قبل القبض تصرف جائز نہیں۔ مثلاً آپ نے اپنے ساتھی سے کتاب خریدی، تو آپ اس کو پیسے ادا کریں گے اور وہ کتاب آپ کو دے گا۔ تو یہ جو کتاب ہے، یہ مبیعہ ہے اور کون سا ہے منقولی یا غیرِ منقولی؟ منقولی۔ منقولی، لہذا اس پر قبضے سے پہلے آپ اس میں کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ مثلاً ابھی آپ کے ساتھی نے آپ کے وہ کتاب آپ کے حوالے نہیں کی، اور آپ چاہتے ہیں کہ اس کتاب کے بدلے اس سے قلم لے لیں۔ اور اسے کہتے ہیں بھئی یوں کرو آپ نے مجھے وہ کتاب دینی ہے، اس کے بجائے مجھے اس کے بدلے میں مجھے کیا دے دو؟ قلم، تو یہ آپ قبل القبض مبیعے میں تصرف کر رہے ہیں اور یہ جائز نہیں۔ ہاں! آپ کے قبضے میں آئے پھر اس کے بعد جو تصرف کرنا چاہیں، بیچنا چاہیں، کسی کو ہبہ کرنا چاہیں، وہ آپ کر سکتے ہیں، لیکن قبضے سے پہلے آپ تصرف نہیں، لیکن ثمن کے اندر قبل القبض بھی تصرف جائز ہے بھئی۔ آپ نے اپنے ساتھی کو اب پیسے دینے ہیں اس سے آپ نے کتاب خریدی، ابھی اس نے آپ سے پیسے لیے نہیں، اور یہ ثمن ہیں اور ثمن کے اندر قبل القبض تصرف جائز ہے، لہذا وہ کہتا ہے بھئی ان باتوں کے بدلے مجھے کیا دے دو؟ قلم دے دو، تو یہ جائز ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ جائز، تو دیکھو وہ ثمن کے اندر قبضے سے پہلے ہی کیا کر رہا ہے؟ تصرف کر رہا ہے، یہ تصرف جائز۔ ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ضابطہ یہ ہوا کہ مبیعِ منقولی کے اندر قبل القبض تصرف جائز نہیں، جبکہ ثمن کے اندر قبل القبض تصرف جائز ہے۔ اسی طرح یاد رکھو! مبیعہ چونکہ مقصود ہوتا ہے، وہ اگر ہلاک ہو جائے قبل القبض تو بیع ہی فسخ ہو جائے گی۔ بیع ہی کیا ہو جائے گی؟ فسخ ہو جائے گی۔ وہ چیز جس کی بیع ہوئی تھی، وہی ختم ہو گئی تو اب کس چیز کی بیع باقی ہوگی؟ ختم ہو گئی۔ لیکن اگر ثمن ہلاک ہو جائے تو پھر بیع نہیں ختم ہوتی بھئی، بلکہ مشتری کے ذمہ وہ ثمن لازم ہو جاتے ہیں بھئی، چاہے مشارٌ الیہ ثمن ہی کیوں نہ ہلاک ہو جائیں۔ آپ نے اپنے ساتھی سے کتاب خریدی ثمن سامنے رکھے ہوئے ہیں یا ہاتھ میں ہیں، یہ پیسے میں آپ کو دیتا ہوں، ان کے بدلے کیا کرو؟ مجھے کہ یہ ان کے بدلے میں نے آپ سے کتاب خریدی، اس نے کہا: میں نے بیچ دی، تو اب ثمن آپ نے حوالے کیے نہیں تھے کہ وہ ثمن ہلاک ہو گئے مثلاً کسی وجہ سے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہلاک ہو گئے، ایک دم آگ میں آپ کے ہاتھ سے چھوٹ کر آگ میں گر پڑے یا کوئی صورت بھی بنا لو، ختم ہو گئے بھئی۔ تو اب آپ یہ نہیں کہیں گے بیع ختم ہو گئی بلکہ کیا ہوئے؟ آپ کے ذمہ ثمن واجب ہو گئے، لازم ہو گئے، ان جیسے کیا کرو؟ روپے اور اور دے دو، اتنے روپے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو مبیعہ ہلاک ہو تو بیع ہی فسخ ختم، اور ثمن ہلاک ہو تو بیع ختم نہیں ہوگی بھئی۔ اور پھر کچھ باتیں صاحبِ کتاب نے آپ کو بتلائیں کہ ثمن کے اندر مدت متعین کرنا بھی صحیح ہے، بشرطیکہ وہ مدت معلوم ہو۔ لیکن مبیعِ معین کے اندر مدت مقرر کرنا درست نہیں، مدت مقرر کرنا درست نہیں۔ جی! تو کہتے ہیں: وَفِي الطَّعَامِ اور صحیح ہو جائے گی بیع، گندم کے اندر، وَالْحُبُوبِ اور دانوں کے اندر، كَيْلاً وَجُزَافًا بھئی! ماپ کر بھی اور اندازے سے بھی دونوں طرح بیع ہو جائے گی بھئی۔ کب؟ إِنْ بِيَعَ بِغَيْرِ جِنْسِهِ جبکہ ان کو بیچا جائے ان کی جنس کے علاوہ کے ساتھ، اگر اسی جنس کے بدلے بیچا جا رہا ہے، پھر اندازے سے نہیں، ایک شخص کے پاس گندم پڑی ہے، دوسرے کے پاس بھی گندم پڑی ہے، اب وہ کہتا ہے: میں نے یہ گندم بیچی آپ کو، وہ والی آپ کی جو گندم پڑی ہے اس کے بدلے میں، دوسرے نے کیا کہا؟ میں نے قبول کی یا میں نے بیچ دی، میں نے خریدی لی اپنی اس گندم کے بدلے آپ کی وہ گندم۔ اب اندازے سے کر رہے ہیں، پھر نہیں صحیح بھئی! اس لیے کہ مقابلے میں بھی ایک طرف گندم ہے تو دوسری طرف بھی گندم ہے۔ گندم ہے اور اس صورت میں مساوات ضروری ہے، بالکل برابر ہونی چاہئیں ورنہ ربا سود لازم آئے گا بھئی۔ سود لازم آئے گا۔ تو ماپ کر بیچیں، پھر تو ٹھیک ہے، لیکن اندازے سے بیچنا درست نہیں، چاہے ایک کی گندم اعلیٰ ہو، دوسرے کی گندم ادنیٰ ہی کیوں نہ ہو۔ برابری ضروری ہے، برابری۔ سب سے گھٹیا گندم ہی کیوں نہ ہو، ایک کی سب سے اعلیٰ گندم کیوں نہ ہو، پھر بھی کیا کرنا پڑے گا؟ برابری۔ ورنہ دوسری صورت آپ پھر وہ بنا لیں آپ چاہتے ہیں: نہیں بھئی! برابری نہیں ہونی چاہیے، میری گندم بہت اعلیٰ ہے، اس کی گندم بڑی گھٹیا ہے، تو پھر بھئی دو بیع کر لو۔ سمجھ میں آیا؟ براہِ راست ایک دوسرے کے بدلے نہ کہو، یوں کہو! مثلاً آپ کی گندم ہے، آپ کی گندم ہے اعلیٰ والی، آپ کے ساتھی کی گندم ادنیٰ درجے کی ہے، آپ کی گندم ہے ہی تھوڑی بھئی، تھوڑی سی پڑی ہوئی ہے اور اس کی گندم زیادہ ہے، لیکن آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کہ ان کی آپس میں بیع کر لیں، تو حالانکہ مساوات تو ضروری تھی، تو اب آپ کیا کر لیں؟ دو بیع کر لیں بھئی! آپ نے اس کو کہا: یہ جو گندم ہے میری، میں نے آپ کو بیچی کتنے میں؟ ہزار روپے کے بدلے میں، وہ کہے: میں نے خرید لیا آپ سے ہزار روپے کے بدلے میں، ہزار کے بدلے میں۔ ٹھیک ہے؟ ایک بیع ہو گئی؟ اب آپ نے کیا کرنا ہے؟ گندم اس کو دینی ہے اور اس نے آپ سے کیا لینے ہیں؟ ہزار روپے، ہاں! آپ نے اس سے کیا لینے ہیں؟ ہزار روپے لینے ہیں، تو یہ ثمن ہوئے اور ثمن میں قبل القبض کیا جائز ہے؟ تصرف جائز ہے، تو اب آپ اس کو کہتے ہیں بھئی: اس ہزار کے بدلے اپنی یہ والی گندم دے دو مجھے، یہ والی میں نے آپ سے لے لی، اس نے کیا کہا؟ میں نے اس کے بدلے یہ آپ کو گندم دے دی، اب وہ آپ کو دے دیتا ہے، تو دیکھو ثمن کے اندر آپ نے کیا کیا قبل القبض؟ تصرف کر لیا اور وہ جائز تھا اور دیکھو دو بیع بن گئیں، ایک ہزار کے بدلے آپ نے اپنی گندم بیچی اور پھر ہزار کے بدلے اس کی گندم خریدی خرید لی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دو بیع ہو گئیں، اب ربا لازم نہیں آیا بھئی۔ تو یہ إِنْ بِيَعَ بِغَيْرِ جِنْسِهِ اس کا تعلق جُزَافًا سے ہے بھئی، کہ اندازے سے اس وقت جائز ہے جب اس کو اپنی جنس کے علاوہ کے ساتھ بیچا جائے بھئی، علاوہ کے بدلے بیچا جائے۔ وَبِإِنَاءٍ أَوْ حَجَرٍ مُعَيَّنٍ اور جائز ہے بیع مولانا! ایسے برتن یا ایسے پتھر کے ساتھ مُعَيَّنٍ جو کیا ہو؟ معین ہو، لیکن لَمْ يُدْرَ قَدْرُهُ اس کی مقدار معلوم نہ ہو کہ اس میں کتنی چیز آتی ہے، یہ بھی جائز ہے۔ لیکن یاد رکھو! یہ بیع معجل ہو سکتی ہے، مؤجل یا بیعِ سلم اس کے اندر جائز نہیں۔ صورت مثلاً یہ ہے بھئی، آپ گندم خریدنے کے لیے گئے کسی شخص کے پاس، اب اس کے پاس کوئی پیمانہ نہیں پڑا، موجود نہیں ہے، وہ کیا کہتا ہے؟ ہاں، ایک بالٹی سی پڑی ہوئی ہے اس کے پاس، یہ کوئی پیمانہ تو نہیں ہے، ویسے ایک بالٹی پڑی ہے، اب آپ اس سے گندم خریدنا چاہتے ہیں، وہ کہتا ہے بھئی: یہ جو بالٹی ہے، یہ میں آپ کو ایک بالٹی بھر کر پانچ درہم میں دوں گا بھئی۔ اب بالٹی میں کتنی مقدار آئے گی؟ ایک صاع، ڈیڑھ صاع یا سوا صاع، کوئی پتا نہیں ہے، لیکن یہ بیع درست ہے مولانا! اس لیے کیونکہ جھگڑے کا کوئی خطرہ ہے؟ جھگڑے کا کوئی خطرہ نہیں، برتن وہی موجود ہے اسی وقت بھئی وہ آپ دیکھ لیں اگر آپ راضی ہیں تو ٹھیک ہے، نہیں راضی تو نہ مانیں بھئی۔ جھگڑے کا کوئی خطرہ نہیں؟ اسی طرح کوئی چینی لینے گئے بھئی، دکاندار کے پاس وہ باٹ موجود نہیں ہے یا وزن کرنے والا، ہاں ایک پتھر ویسے پڑا تھا، تو اب وہ کیا کہتا ہے؟ یہ پتھر، اس پتھر کے برابر وزن کی چینی میں آپ کو 30 روپے میں دوں گا، اب پتا نہیں یہ پتھر پورے کلو کا ہے یا کلو سے کچھ کم ہے یا کلو سے کچھ زیادہ ہے، لیکن پتھر موجود ہے، معین ہے، اب کوئی جھگڑے کا امکان نہیں۔ لیکن بیعِ سلم کے اندر یا مؤجل کے اندر یہ صحیح نہیں، بیعِ سلم کس کو کہتے ہیں؟ جس کے اندر بھئی آپ ثمن ابھی دے دیتے ہیں اور مبیعہ آپ کو چھ، سات، آٹھ مہینے کے بعد ملتا ہے، اس میں وہ کہتا ہے بھئی! یہ مبیعہ جو ہے، گندم آپ کو جو چاہیے، چھ مہینے بعد ملے گی اور یہ جو بالٹی پڑی ہے اس میں میں ماپ کر آپ کو دوں گا بھئی، اتنی بالٹیاں اتنے پیسوں کے بدلے، یا چینی بھی آپ کو ملے گی چھ، سات مہینے کے بعد بھئی، یہ جو پتھر پڑا ہوا ہے، اس پتھر کے بدلے اتنی مرتبہ ماپ کر، اتنی مرتبہ وزن کر کے، تو یہ درست نہیں ہے مولانا! اس لیے کہ ان کی مقدار کا کوئی پتا انہوں نے قید لگائی لَمْ يُدْرَ قَدْرُهُ ان کی مقدار کا پتا ہی نہیں اور اتنا عرصہ گزرے گا، ہو سکتا ہے وہ بالٹی گم ہو جائے، ٹوٹ جائے، وہ پتھر گم ہو جائے، ٹوٹ جائے، ہلاک ہو جائے، تو پھر کیا لازم آئے گا؟ جھگڑا لازم آئے گا، لہذا اسی وقت ہو معجل ہو، فوری ہو پھر تو ٹھیک ہے، لیکن اگر فوری نہ ہو، مؤجل ہو یا بیعِ سلم ہو تو پھر درست نہیں ہے۔ وَبِإِنَاءٍ أَوْ حَجَرٍ مُعَيَّنٍ اور کسی ایسے برتن یا ایسے پتھر جو معین ہو، ان کے بدلے بھی بیع صحیح ہے، لَمْ يُدْرَ قَدْرُهُ کہ جس کی مقدار معلوم نہ ہو۔ وَفِي صَاعٍ فِي بَيْعِ صُبْرَةٍ جی، یہاں سے آگے کا طویل کئی مسائل اکٹھے ذکر ہوں گے بھئی، یاد رکھو! یہاں دو چیزیں ہیں، دو باتیں بھئی: بیچتے ہوئے ایک ہے کل مقدار کا ذکر کرنا، ایک ہے ہر پیمانے کی قیمت کا ذکر کرنا۔ یہ گندم کا ڈھیر پڑا ہوا ہے بھئی، کل کتنی مقدار ہے؟ 100 صاع ہے، یوں کہتا ہے، ایک صورت یہ ہے مولانا! کہ یہ گندم کا ڈھیر ہے، ہر صاع کتنے کا ہے؟ ایک درہم کا ہے، تو دو چیزیں ہیں: ایک ہے کل چیز کل مقدار کا ذکر کرنا اور ایک ہے ہر پیمانے کی قیمت کا ذکر کرنا، ان دونوں کے اعتبار سے چار صورتیں بنیں گی۔ کتنی چیزیں میں نے ذکر کیں بھئی؟ پہلی کیا؟ کل مقدار کا ذکر کرنا، دوسری چیز؟ پیمانے ہر پیمانے کی قیمت کا ذکر کرنا، ان دونوں کو آپ نے خوب ذہن میں بٹھا لیں، ان کے اعتبار سے چار صورتیں یہاں بنتی ہیں، پہلی صورت: دونوں میں سے کسی کو بھی ذکر نہیں کرتا، گندم کا ڈھیر بیچ رہا ہے، نہ اس نے کل مقدار ذکر کی، نہ اس نے ہر پیمانے کی قیمت ذکر کی۔ ایک صورت یہ، دوسری صورت: کل مقدار تو ذکر کرتا ہے، لیکن ہر پیمانے کی قیمت ذکر نہیں کرتا۔ تیسری صورت: ہر پیمانے کی قیمت تو ذکر کرتا ہے، لیکن کل مقدار ذکر نہیں کرتا۔ چوتھی صورت: دونوں ذکر دیتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ چیزیں کتنی ہیں؟ کتنی باتیں ہیں؟ پہلی؟ کل مقدار کا ذکر کرنا، دوسرا؟ ہر پیمانے کی قیمت ذکر کرنا، پھر ان کے اعتبار سے کل کتنی صورتیں؟ چار صورتیں، پہلی صورت کہ دونوں میں سے کوئی بھی ذکر نہ کرے۔ دوسری اور تیسری صورت کہ دونوں میں سے ایک کسی ایک کو ذکر کریں بھئی، اور چوتھی صورت؟ دونوں کو ذکر کریں، چار صورتیں ہو گئیں۔ پھر یہ مسئلہ مکیلات و موزونات میں ہوگا، یا مزروعات کے اندر؟ چیزیں تین، بھئی آپ نے پڑھا ہے مکیلی ہوگی ماپ کر بیچی جاتی ہے یا موزونی جسے وہ وزن وزن کر کے وزن کر کے بیچی جاتی ہے اور تیسری مزروعات جس کی پیمائش کر کے بیچی جاتی ہے، وہ چیز جیسے کپڑا ہے۔ تو مکیلات و موزونات کے اعتبار سے بیچا جائے تو یہ چار صورتیں ہوئیں۔ اور مزروعات کے اعتبار سے پھر یہی چار صورتیں بنیں گی، تو کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ آٹھ، کیونکہ بیچی جانے والی چیز یا مکیلات و موزونات میں سے ہوگی، یہ چار صورتیں بن گئیں، یا کس میں سے ہوگی؟ مزروعات میں سے ہوگی، تو بھی یہی چار صورتیں ہوں گی۔ مزروع کپڑا بیچتے ہوئے وہ کیا کرتا ہے؟ نہ تو ہر گز کی قیمت ذکر کرتا ہے، پہلی صورت بھئی، نہ ہر گز کی قیمت ذکر کرتا ہے اور نہ کل گزوں کی مقدار ذکر کرتا ہے۔ دوسری صورت بھئی، ہر گز کی قیمت تو ذکر کرتا ہے، لیکن کل گزوں کی تعداد ذکر نہیں کرتا۔ تیسری صورت بھئی کہ ہر کہ کل گز تو ذکر کرتا ہے، لیکن ہر گز کی قیمت ذکر نہیں کرتا۔ چوتھی صورت دونوں ذکر کرتا ہے، کل گزوں کی تعداد بھی ذکر کرتا ہے اور ہر گز کی قیمت، تو آٹھ صورتیں ہو گئیں بھئی۔ سب سے پہلے مکیلات و موزونات کی جو چار صورتیں ہیں، ان کو ہم حل کرتے ہیں۔ پہلی صورت کیا تھی بھئی؟ مکیلی و موزونی چیز کے اندر بھئی! نہ اس نے کل مقدار ذکر کی، نہ اس نے ہر پیمانے کی قیمت ذکر کی، یہ پہلی صورت ہے، یہ گزر چکی ہے متن کے اندر، گزشتہ صفحے پر درمیان میں آیا تھا: وَصَحَّ الْبَيْعُ فِي الْعِوَضِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ بِلاَ عِلْمٍ بِقَدْرِهِ وَوَصْفِهِ لاَ فِي غَيْرِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ، یہ بیع صحیح ہے مولانا! اس نے کوئی مقدار بھی ذکر نہیں کی اور کسی پیمانے کی قیمت بھی ذکر نہیں کی، یہ بس سیدھا کہہ دیا: یہ گندم کا ڈھیر پڑا ہوا ہے، یہ میں آپ کو 100 درہم میں بیچتا ہوں، دوسرے نے کیا کیا؟ میں نے میں نے آپ سے اس کو خریدا۔ میں اس کو خریدتا ہوں، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ گزر چکی ہے۔ یہ صحیح ہے، بغیر مقدار کے بھی صحیح بات بن گئی۔ دوسری صورت بھئی! کیا ذکر کرتا ہے؟ ہر پیمانے کی قیمت ذکر کرتا ہے، مثلاً کیا کہتا ہے؟ یہ گندم میں آپ کو بیچتا ہوں، ہر صاع کتنے کا؟ ایک درہم کا، یاد رکھو! اس صورت کے اندر ایک صاع کے اندر بیع درست ہوگی، باقی کے اندر درست نہیں بھئی۔ کیوں نہیں درست؟ کیونکہ ساری مقدار کا پتا ہی نہیں، اس نے کہا: كُلُّ صَاعٍ بِدِرْهَمٍ، ہر صاع بھئی کتنے کا ہے؟ ایک درہم کا ہے، ایک درہم کے بدلے ہے۔ تو ایک میں درست ہوگی، باقی میں درست نہیں، ایک میں کیوں درست ہوگی؟ اس لیے کہ ضابطہ ہے بھئی، ضابطہ بھئی یاد رکھنا! کہ جب کل کی اضافت ایسی چیز کی طرف ہو جائے، جس کا انتہا معلوم نہ ہو۔ قیمتی ضابطہ ہے لکھ لیجیے بھئی! جب کل کی اضافت ایسی چیز کی طرف ہو جائے جس کا منتہیٰ معلوم نہ ہو۔ جس کا منتہیٰ معلوم نہ ہو۔ تو وہ ادنیٰ کو شامل ہوگا۔ تو وہ ادنیٰ کو شامل ہوگا اور وہ ایک ہے۔ اور وہ ایک ہے۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ بڑا قیمتی ضابطہ ہے اس کو یاد رکھنا مولانا، ہمیشہ یاد رکھنا کہ جب کل کی اضافت ایسی چیز کی طرف ہو جائے جس کا منتہیٰ معلوم نہ ہو تو وہ ادنیٰ کو شامل ہوگا اور وہ ادنیٰ کیا ہے؟ ایک ہے بھئی۔ تو یہاں بھی اس نے گندم کا ڈھیر پڑا ہوا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں نے "كل صاع بدرهم"، ہر صاع کتنے کے بدلے میں بیچا؟ ایک درہم کے بدلے ہے ان میں سے ہر صاع بھئی۔ اب اس نے "كل صاع" کہا تو بھئی منتہیٰ معلوم ہے کتنے صاع ہیں اس میں بھئی؟ نہیں۔ تو اس صورت میں ادنیٰ فرد کتنا ہوا؟ ایک، کیونکہ وہ معلوم اور متعین ہے، باقی کا تو پتہ ہی نہیں کہ کتنے ہیں۔ لہٰذا کتنے میں بیع منعقد ہوئی؟ ایک کے اندر منعقد ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بھئی پہلی، یہ دوسری صورت ہو گئی۔ پہلی صورت یہ تھی کہ نہ کل کی مقدار، کل مقدار ذکر کرے اور نہ ہر پیمانے کی قیمت ذکر کرے، تو اس صورت میں تو بیع صحیح ہو گئی بھئی، یہ متن میں گزر چکا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ہر پیمانے کی قیمت تو ذکر کرتا ہے لیکن کل مقدار کا ذکر نہیں۔ اس صورت میں کتنے میں بیع منعقد ہوئی؟ ایک کے اندر منعقد ہوئی۔ تیسری صورت بھئی، کیا ذکر کرتا ہے؟ کہ کل مقدار کا ذکر کرتا ہے، ہر پیمانے کی قیمت ذکر نہیں کرتا، اور چوتھی صورت کیا ہے؟ دونوں ذکر کرتا ہے، کل مقدار بھی ذکر کرتا ہے اور ہر پیمانے کی قیمت بھی ان دونوں کا ایک ہی حکم ہے بھئی۔ جب کل مقدار ذکر کر دی۔ اب چاہے ہر پیمانے کی قیمت ذکر کرے یا ذکر نہ کرے، یہ بیع صحیح ہے، لیکن اس میں پھر تین صورتیں، کا تین صورتوں کا امکان ہے۔ اس نے کیا کہا تھا؟ یہ ڈھیر کتنے کا ہے بھئی؟ اور کل مقدار بھی کتنی ہے؟ یہ 100 صاع ہے اور 100 درہم کے بدلے میں نے آپ کو بیچا۔ اب اس کو ماپنا شروع کیا تو وہ 50 نکلے بھئی۔ ایک صورت یہ، دوسری صورت ماپنا شروع کیا تو پورے 100 نکلے۔ تیسری صورت ماپا تو وہ 200 نکل آئے بھئی، یعنی کمی بھی ممکن ہے، برابری بھی ممکن ہے اور زیادتی بھی ممکن، تین صورتیں ہیں، اس نے کل ذکر کیے ہیں بھئی۔ تو اب یاد رکھو اگر برابر ہوئے، 100 صاع تھے اور 100 ہی کو اس نے ذکر کیا تھا تو بیع ٹھیک ہو گئی، کوئی جھگڑا نہیں، کوئی اشکال نہیں، 100 صاع کہے تھے 100 درہم کے بدلے اور 100 ہی نکل ائے۔ لیکن اگر کم نکل آئے پھر کیا کریں گے؟ کہتے ہیں پھر مشتری اس کو اس کے حصے کے بقدر ثمن اس کے بدلے لے لے گا۔ مثلاً کتنے نکلے بھئی؟ 50 صاع نکلے، تو 50، 100 کی قیمت جب 100 درہم تھی تو 50 صاع کی کتنی قیمت بنے گی؟ 50 صاع، تو مشتری چاہے 50 درہم کے بدلے اس کو لے لے اور پھر اس کو اختیار بھی ہے، چاہے تو اس کو کیا کر دے؟ ترک کر دے، کیونکہ وہ تو کتنے لینا چاہتا تھا؟ 100، تو یہ تو ضرورت پوری نہیں ہو رہی بھئی اس سے۔ تو اس کو اختیار بھی ہم دے دیں گے اور اگر کرنا چاہے تو پھر، ہاں، یہ تو ایک صورت یہ ہے کہ 50 درہم دے دے اور یہ لے جائے، دوسری صورت ہے چھوڑنا چاہتا ہے تو چھوڑ دے، بیع کو کیا کر دے؟ فسخ کر دے۔ اور اگر زیادہ نکل آئے پھر بھئی؟ کہتے ہیں بھئی پھر 100 صاع 100 درہم کے بدلے لے لے اور جو زائد ہیں وہ بائع کے ہو گئے، کیونکہ بیع کتنے کی ہوئی تھی؟ 100 کی ہوئی تھی۔ باقی زائد کی تو بیع ہی نہیں، وہ تو ویسے ہی خارج ہیں۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ چاروں صورتیں بھئی؟ پہلی صورت کیا تھی؟ کسی کو بھی ذکر نہیں کرتا، پھر کیا ہوگا؟ پھر بیع صحیح ہو گئی بھئی، اس نے مقدار کو چھیڑا ہی نہیں ہے، ذکر ہی نہیں کیا، بس ٹھیک ہو گئی، مشارٌ الیہ ہے۔ دوسری صورت بھئی، صرف ہر صاع کو ذکر کرتا ہے، کل مقدار کو ذکر نہیں کرتا، پھر کتنے میں بیع منعقد ہوگی؟ ایک میں، کیوں؟ ضابطہ کیا ہے؟ ادنیٰ کو شامل ہوگا، وہ ایک ہے، کیونکہ وہ معلوم اور متعین ہے۔ اور تیسری اور چوتھی صورت یہ تھی کہ کل کو ذکر کرتا ہے، لیکن ایک میں ہے کہ ہر پیمانے کی قیمت ذکر کرے گا یا ہر پیمانے کی قیمت ذکر نہیں کرے گا، دونوں صورتوں کا ایک ہی حکم ہے کہ بیع صحیح ہو گئی، لیکن اس میں پھر تین صورتوں کا امکان ہے، یا برابری ہوگی یا کمی ہوگی یا زیادتی۔ اگر برابری ہے پھر بھی کوئی اشکال نہیں، اگر کمی ہے تو اس کے حصے کے بقدر ثمن بھی کیا ہو جائیں گے؟ کم ہو جائیں گے، اور اگر زیادہ ہے تو وہ بائع کے ہوں گے، وہ مشتری کو نہیں ملیں گے۔ صورتیں سمجھ میں آ گئیں بھئی؟ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام، والله اعلم بحقيقة الكلام۔
106 approved lectures · 7 of 106