Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-068

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 36
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَلَا يُكَفَّلُ غَرِيمٌ وَلَا وَارِثٌ فِي تَرِكَةٍ قُسِمَتْ بَيْنَ الْغُرَمَاءِ أَوْ الْوَرَثَةِ بِشُهُودٍ لَمْ يَقُولُوا لَا نَعْلَمُ لَهُ غَرِيمًا وَلَا وَارِثًا آخَرَ وَهَذَا الْاِحْتِيَاطُ ظُلْمٌ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص مر گیا، اب اس کے ورثاء جو ہیں، تو گواہوں کی گواہی سے ورثاء کا ثبوت ہوا کہ یہ یہ وارث ہیں یا گواہوں کی گواہی سے ثبوت ہوا کس چیز کا؟ غرماء کا بھئی کہ یہ یہ قرض خواہ ہیں، میت نے ان ان لوگوں کا دین دینا تھا۔ تو یہ ثبوتِ ورثہ یا ثبوتِ غرماء کس کے ذریعے ہوا ہے؟ شہادت کے ذریعے بھئی۔ جی۔ تو ان میں ان کو ان کو قرض خواہوں کا دین ادا کیا جائے گا اور ورثاء کے اندر مال تقسیم کیا جائے گا باقی بھئی۔ اب گواہوں نے یہ نہیں کہا کہ اس کے علاوہ ہم ان کے اور کسی وارث کو یا قرض خواہ کو نہیں جانتے بھئی۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ صرف یہ قرض خواہ ہیں ہم ان کے علاوہ اور کسی قرض خواہ کو نہیں جانتے کہ اور کوئی ہے یا نہیں بھئی۔ یا گواہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہی وارث ہیں ہم ان کے علاوہ کسی اور وارث کو نہیں جانتے کہ اور کوئی بھی وارث بنتا ہے اس میت کا بھئی۔ تو ان سے کفیل لیا جائے گا یا کفیل نہیں لیا جائے گا بھئی؟ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ کفیل لیا جائے گا۔ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ کفیل لیا جائے گا۔ بھئی آپ قرض خواہوں کو اب یہ ترکے میں سے دین ادا کرنے لگے ہیں، ورثاء کے اندر یہ مال تقسیم کرنے لگے ہیں تو ہر ایک سے کفیل لے لو گے، ضامن لے لو گے بھئی، قاضی لے لے گا۔ تاکہ اگر کوئی اور قرض خواہ آجائے یا کوئی اور وارث ثابت ہو جائے بھئی، پتہ چل جائے بھئی، تو ان سب سے اسی کے بخدر تھوڑا تھوڑا حصہ لے کر اس کا حصہ کیا کر دیا جائے؟ ادا کر دیا جائے، سمجھ میں آیا؟ پھر تو ہر ایک کا حصہ کیا ہو جائے گا؟ جی، مثلاً بھئی ایک لاکھ روپیہ تھا اس کا مال اور وہ ہم نے قرض خواہوں میں ہی سارا تقسیم کر دیا بھئی۔ تو اب کوئی اور قرض خواہ آیا تو اس کا بھی حصہ بنے گا یا نہیں بنے گا اس میں سے بھئی؟ اس کا بھی حصہ تھا تو معلوم ہوا ہر ایک کو ہم نے زیادہ ادائیگی کر دی ہے بھئی، کچھ حصہ کیا کرنا تھا اس کا بھی نکالنا تھا تو اس کے بخدر سب کے حصوں میں کمی ہو جائے گی، جب کمی ہوگی تو ہر ایک سے دوبارہ کچھ نہ کچھ وصول کرنا پڑے گا اور کس کو دینا پڑے گا؟ اس نئے قرض خواہ کو دینا پڑے گا۔ تو اس سلسلے میں کیا اس سے کفیل لے لیا جائے گا پہلے سے ہی بھئی؟ ابھی ہمیں پتہ نہیں ہے اور قرض خواہ ہیں یا نہیں لیکن امکان تو ہے آنے کا کہ کوئی اور بھی اٹھ جائے آجائے اس کو ابھی پتہ ہی نہیں ہے اس کے مرنے کا، وہ بعد میں آکر دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے میرا بھی قرضہ دینا تھا، گواہ بھی پیش کر دیتا ہے تو اب اس کو بھی ہم ادائیگی کریں گے۔ تو مال تو اگر ہم پہلے ہی ادا کر دیا ہم نے تو وصولی مشکل ہو جائے گی بھئی، اس لیے قاضی کیا کر لے ان سے پہلے سے ہی ضامن لے لے بھئی، ضامن لے لے ان سب سے، کفیل لے لے۔ لیکن امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں بھئی، کفیل نہیں لیا جائے گا بھئی۔ ان سے کفیل نہیں لیا جائے گا۔ کہتے ہیں ان سے کفیل لینا یہ ظلم ہے بھئی۔ کیونکہ ان لوگوں کا حق تو ثابت ہو چکا بینہ کے ذریعے اور کسی دوسرے کے حق کا ابھی تک پتہ ہی نہیں اور نہ ہی کوئی کفیل لہو ہے، ہم ضامن لیں لیکن ضمانت کس کو دیں؟ جس کو ضمانت دینی ہے کفیل لہو وہ یہاں پر کوئی موجود ہی نہیں، تو لہذا ان سے کفیل نہیں لیا جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ أَي إِذَا شَهِدَ الشُّهُودُ لِلْغُرَمَاءِ أَوْ الْوَرَثَةِ وَلَمْ يَقُولُوا لَا نَعْلَمُ لِلْمَيِّتِ غَرِيمًا أَوْ وَارِثًا آخَرَ فَقُسِمَتِ التَّرِكَةُ بَيْنَهُمْ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهُمْ كَفِيلٌ وَقَدْ احْتَاطَ بَعْضُ الْقُضَاتِ فَأَخَذُوا مِنْهُمْ كَفِيلًا۔ لِأَنَّهُ ثَبَتَ حَقُّهُمْ وَلَمْ يُعْلَمْ حَقٌّ لِغَيْرِهِمْ وَلِأَنَّهُ لَمْ يُوجَدِ الْمَكْفُولُ لَهُ۔ وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَعِنْدَهُمَا يَأْخُذُ الْقَاضِي كَفِيلًا عَنْهُمْ۔ وَلَا يُكَفَّلُ غَرِيمٌ وَلَا وَارِثٌ فِي تَرِكَةٍ قُسِمَتْ بَيْنَ الْغُرَمَاءِ أَوْ الْوَرَثَةِ بِشُهُودٍ لَمْ يَقُولُوا لَا نَعْلَمُ لَهُ غَرِيمًا وَلَا وَارِثًا آخَرَ۔ وَلَا كَفِيلَ لا يؤخذ من غريم ولا وارث من تركة قسم بين الغرماء أو الورثة بشهود ولم يقولوا لا نعلم له غريما ولا وارثا آخر۔ اور کفیل نہیں لیا جائے گا قرض خواہ سے اور نہ وارث سے ایسے ترکے کے اندر جو تقسیم کر دیا گیا قرض خواہوں کے درمیان یا ورثاء کے درمیان بِشُهُودٍ کس کے ساتھ بھئی؟ گواہوں کے ساتھ بھئی ایسے شہود بھئی، کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم اس کے علاوہ کسی اور قرض خواہ یا وارث کو نہیں جانتے۔ تو انہوں نے یہ نہیں کہا تو امکان ہے بھئی تو صاحبین فرماتے ہیں لیا جائے گا، امام صاحب فرماتے ہیں نہیں لیا جائے گا، متن میں امام صاحب کا قول آیا بھئی۔ وَهَذَا الْاِحْتِيَاطُ ظُلْمٌ اور یہ احتیاط کیا ہے؟ ظلم ہے بھئی۔ ظلم سے مراد یہ ہے بھئی، ظلم سے مراد اجتہادی خطا ہے، کیا مراد ہے؟ اجتہادی خطا ہے بھئی، امام صاحب فرماتے ہیں بھئی تو قاضی کیا کرتا ہے بھئی؟ بعض قضات لیتے تھے بھئی تو امام صاحب نے اس کو اجتہادی خطا قرار دیا۔ دیکھیے یہ صورت تفصیل سے بتا رہے ہیں، جب گواہی دے دی گواہوں نے قرض خواہوں کے لیے یا ورثاء کے لیے اور یہ انہوں نے نہیں کہا کہ ہم میت کا کوئی اور قرض خواہ یا کوئی اور وارث نہیں جانتے، یہ انہوں نے نہیں کہا، تو تقسیم کر دیا جائے گا ترکے کو ان سب کے بیچ میں اور ان سے کفیل نہیں طلب کیا جائے گا، کفیل نہیں لیا جائے گا۔ اور احتیاط کی بعض قاضیوں نے اور ان سے کیا لے لیا؟ کفیل لے لیا بھئی۔ کفیل یہ احتیاطاً لیا کہ بھئی موت تو اچانک آتی ہے، تو کسی کو پتہ ہی نہیں ہے ابھی وہ اپنا حق طلب کرنے پہنچا ہی نہیں ہے، ہو سکتا ہے اور قرض خواہ ہوں، اور وارث ہوں بھئی۔ وَهَذَا الْاِحْتِيَاطُ ظُلْمٌ اور یہ احتیاط کیا ہے؟ ظلم ہے، ظلم کا کیا معنی میں نے بتلایا بھئی؟ اجتہادی خطا ہے یعنی سیدھے راستے سے ہٹنا ہے بھئی۔ لِأَنَّهُ ثَبَتَ حَقُّهُمْ بھئی اس لیے کہ ان کا حق کیا ہوا ہے؟ ثابت ہو چکا ہے وَلَمْ يُعْلَمْ حَقٌّ لِغَيْرِهِمْ اور ان کے علاوہ کسی اور کا حق کا علم نہیں ہے اور اس لیے کہ کوئی کفُول لہو بھی نہیں پایا گیا، جس کو ضمانت دینی ہے وہ بھی یہاں پر موجود نہیں ہے بھئی۔ وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے، وَعِنْدَهُمَا يَأْخُذُ الْقَاضِي كَفِيلًا عَنْهُمْ اور امام صاحبین کے نزدیک قاضی ان سے کفیل لے لے گا ان کی طرف سے، قاضیوں سے کیا کرے گا؟ کفیل لے لے گا ضامن، کیونکہ موت اچانک آ جاتی ہے تو ہو سکتا ہے کوئی وارث غائب ہو یا کوئی غریم غائب ہو۔ وَآخَرُ أَقَامَ زَيْدٌ حُجَّةً أَنَّهُ لَهُ وَلِأَخِيهِ إِرْثًا مِنْ أَبِيهِ أُخِذَ لَهُ بِنِصْفِهِ وَتُرِكَ بَاقِيهِ مَعَ الْيَدِ بِلَا تَكْفِيلِهِ جَحَدَ دَعْوَاهُ أَوْ لَا۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک زمین ہے کسی شخص کے پاس، زید نے بینہ قائم کر دی کہ یہ میرے باپ کی زمین تھی جو وراثت میں مجھے اور میرے بھئی کو ملے گی۔ جو وراثت میں مجھے اور میرے بھئی کو ملی ہے اور میرا بھئی غائب ہے بھئی، مثلاً کہیں گیا ہوا ہے، مکہ گیا ہوا ہے، مدینہ گیا ہوا ہے، حج عمرہ کرنے گیا ہوا ہے، تو یہ زمین میری ہے اور میرے بھئی کی بطور وراثت کے بھئی۔ بینہ قائم کر دی۔ تو کہتے ہیں، نصف کا فیصلہ اس کے لیے کر دیا جائے گا، نصف زمین اس کے حوالے کر دی جائے گی، اور باقی نصف بھئی اسی شخص کے پاس رہنے دی جائے گی جس کے قبضے میں وہ تھی، وہ اس سے لی نہیں جائے گی بھئی، اور اس سے کفیل بھی نہیں لیا جائے گا۔ اس نے اس دعوے کو رد کیا تھا یا دعوے کو رد نہ کیا ہو۔ ایک صورت تو یہ زید نے اس زمین کا دعویٰ کیا تھا، اس شخص نے انکار کر دیا نہیں بھئی یہ تمہاری زمین نہیں ہے، زید نے بینہ قائم کر دی کہ نہیں یہ میری زمین ہے، وراثت میں ملے گی بھئی۔ تو چاہے اس نے انکار کیا ہو زید کے دعوے کا یا اس نے دعوے کا انکار نہ کیا ہو، دونوں صورتوں کے اندر بھئی نصف حصہ زید کا بنتا ہے وہ اس کو دلا دیا جائے گا، اور باقی جو اس کے بھئی کا نصف بنتا ہے وہ اسی شخص کے قبضے میں رہنے دیا جائے گا بھئی، اور کفیل بھی اس سے نہیں لیا جائے گا۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، اگر اس نے انکار کیا تھا دعوے کا، زید نے دعویٰ کیا تھا اور اس نے کیا کیا تھا؟ معلوم ہوا یہ شخص خائن ہے، خیانت کرنے والا ہے بھئی کہ زید کا حق اس کے حوالے نہیں کر رہا بھئی، اس نے زمین پر قبضہ کیا ہے۔ تو لہذا اب باقی اس کے بھئی کی جو زمین ہے، نصف تو زید کو دلا دی جائے گی اور نصف اس کے قبضے میں، اس خائن کے پاس نہیں رہنے دی جائے گی بلکہ اس سے لے کر کسی امانت دار شخص کے پاس قاضی رکھوا دے گا بھئی، صاحبین فرماتے ہیں۔ تو صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ انکار کی صورت میں کیا کیا جائے گا؟ اس سے باقی کی نصف زمین بھی لے لی جائے گی۔ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں بھئی، چاہے انکار کرے یا انکار نہ کرے بھئی، دونوں صورتوں کے اندر باقی کی زمین اسی کے پاس رہے گی۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فَإِنَّ ذَالْيَدِ قَدِ اِخْتَارَهُ الْمَيِّتُ فَلَا يُقَصَّرُ يَدُ عَمَّا لَيْسَ مُدَّعِيهِ حَاضِرًا۔ یہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔ اس لیے کہ یہ جو قبضے والا ہے، اس کو کس نے اختیار کیا تھا بھئی؟ زمین کس نے حوالے کی اس کے بھئی؟ میت نے، تو اس کو میت نے اختیار کیا تھا، قَصَرَ يُقَصَّرُ کا معنی روکنا، روکنا۔ تو روکا نہیں جائے گا اس کے قبضے کو اس حصے میں سے جس کا مدعی حاضر نہیں ہے، نصف زمین تو زید کی ہے وہ ہم نے دلا دی اور نصف جو اس کے بھئی کی ہے، وہ بھئی مدعی حاضر ہے؟ حاضر نہیں ہے، تو اس کو میت نے اختیار کیا تھا اس شخص کو، لہذا اب باقی کی نصف میں اس کے قبضے کو دور نہیں کیا جائے گا۔ وَعِنْدَهُمَا إِنْ جَحَدَ ذُوالْيَدِ لَا يُتْرَكُ الْبَاقِي فِي يَدِهِ لِأَنَّ الْجَاحِدَ خَائِنٌ فَيُؤْخَذُ مِنْهُ وَيُجْعَلُ فِي يَدِ أَمِينٍ۔ وَإِنْ لَمْ يَجْحَدْ تُرِكَ الْبَاقِي فِي يَدِهِ وَإِذَا تُرِكَ فِي يَدِهِ لَا يُؤْخَذُ مِنْهُ كَفِيلٌ۔ جی، سمجھ میں آیا اب، اگرچہ خیانت اس کی ظاہر ہو چکی ہے اگر انکار کی صورت میں، لیکن پھر بھی کوئی حرج نہیں۔ قاضی وغیرہ سب کو معاملے کا پتہ چل گیا بھئی، اب وہ انکار کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی بھئی۔ وَعِنْدَهُمَا صاحبین کے نزدیک اگر انکار کر دیا قبضے والے نے تو باقی کی نصف کو اس کے قبضے میں نہیں چھوڑا جائے گا اس لیے کہ انکار کرنے والا خائن ہے، خیانت کرنے والا ہے تو اس سے لے لی جائے گی اور کسی امانت دار شخص کے قبضے میں کر دی جائے گی۔ اور اگر اس نے انکار نہیں کیا تھا دعوے کا تو اس صورت میں صاحبین فرماتے ہیں باقی کے نصف کو اسی کے قبضے میں چھوڑ دیا جائے گا اس غائب بیٹے کے لیے، اور جب اس کے قبضے میں چھوڑا جائے جس صورت میں بھی ہو، امام صاحب کے نزدیک دونوں صورتوں میں اور صاحبین کے نزدیک اقرار والی صورت میں، تو ان دونوں صورتوں میں اس سے کفیل نہیں لیا جائے گا۔ وَالْمَنْقُولُ مِثْلُهُ۔ وَقِيلَ يُؤْخَذُ هُوَا مِنْهُ بِالِاتِّفَاقِ۔ أَيْ إِذَا كَانَتِ الْمَسْأَلَةُ فِي الْمَنْقُولِ قِيلَ هُوَ عَلَى هَذَا الْخِلَافِ۔ بھئی یہ تو عقار کی بات تھی، غیر منقولی چیز کی بات ہو رہی تھی بھئی، اگر منقولی چیز ہو بھئی، گاڑی ہے، کوئی اور چیز ہے اس کے پاس بھئی۔ کہتے ہیں منقولی چیز بھی اسی کے مثل ہے، یعنی اس میں بھی اسی طرح اختلاف ہے، امام صاحب فرماتے ہیں باقی کا حصہ کیا کر دیا جائے گا؟ اسی کے پاس، ہاں مثلاً بھئی مثلاً گندم تھی یا کوئی اور چیز اس کے پاس ہو، نصف زید کی نکلی، زید کو دی گئی اور باقی کی نصف اسی کے پاس چھوڑ دی جائے گی۔ وَعَقِلَ (وَقِيلَ) اور ایک قول یہ بھی کہا گیا یہ منقولی چیز وہ اس سے لے لی جائے گی بالاتفاق بھئی، انکار کی صورت میں کیا کر لی جائے گی؟ امام صاحب بھی یہی فرماتے ہیں کہ اس سے کیا کی جائے گی یہ منقولی چیز؟ تو دو قول ہیں بھئی، بعضوں نے یہ کہا، بعضوں نے دوسری روایت کی بھئی کہ امام صاحب کے نزدیک بھی اس صورت میں انکار کی صورت میں بالاتفاق لے لی جائے۔ اگر مسئلہ منقول کے بارے میں ہوا، کہا گیا ہے کہ وہ بھی اسی اختلاف پر ہے۔ فَإِنَّهُ إِذَا تُرِكَ الْبَاقِي فِي يَدِهِ إِذَا لَمْ يَجْحَدْ فَفِي صُورَةِ الْجُحُودِ أَوْلَى لِأَنَّهُ مَضْمُونٌ فِي يَدِهِ۔ وَلَوْ وُضِعَ فِي يَدِ آخَرَ كَانَ أَمَانَتًا (كَانَ أَمَانَةً) فَالْأَوَّلُ أَوْلَى۔ وَقِيلَ يُؤْخَذُ مِنْهُ عِنْدَ الْجُحُودِ اتفاقا (اتِّفَاقًا)۔ بھئی زید نے اس کے پاس اپنی چیز رکھوائی، مثلاً گندم رکھوائی ہے سو بوری گندم بھئی۔ تو جب تک یہ انکار نہیں کرتا، یہ چیز اس کے پاس بطور امانت کے ہے۔ اور امانت ہلاک ہو جائے تو ضمان آیا کرتا ہے؟ نہیں، اس پر ضمان بھی کوئی نہیں آتا۔ تو جب اس کے عدمِ انکار کی صورت میں ہم چھوڑ دیتے ہیں اس کے پاس، تو انکار کی صورت میں بطریقِ اولى اسی کے پاس چھوڑ دیں گے۔ کیا معنی انکار کی؟ بھئی دیکھو جب انکار کر دیا وہ غاصب بن گیا، کیا بن گیا؟ جب وہ زید کے دعوے کا انکار کر رہا ہے تو وہ غاصب بن گیا اور غاصب پر کیا آیا کرتا ہے مولانا؟ ضمان آتا ہے، تو جب اس نے انکار نہیں کیا، اس صورت میں اس سے ضمان آتا ہے؟ نہیں، اور انکار کرے گا تو کیا آئے گا اس پر؟ ضمان آئے گا، تو جب عدمِ انکار کی صورت میں ہم چھوڑ دیتے ہیں اس کے پاس مال، جس میں مال کے ضائع ہونے کا بھی امکان ہے، تو انکار کی صورت جس میں مال کے ضائع ہونے کا بھی امکان ہی نہیں کیونکہ اب تو اس پر کیا آ جائے گا؟ ضمان تو انکار کی صورت میں بطریقِ اولى کیا کر دی جائے گی وہ چیز اس کے پاس چھوڑ دی جائے گی، اس لیے کہ اب چیز زیادہ محفوظ ہو گئی بھئی، اب اس کے ختم ہونے کا، ضائع ہونے کا کوئی امکان ختم ہوگی، ہم اس سے کیا حاصل کر لیں گے؟ ضمان، ہاں اگر اس کے بجائے ہم کیا کر دیتے ہیں، اس چیز لے لیتے ہیں اور لے کر کسی اور کے پاس رکھوا دیتے ہیں تو دوسرے کے پاس اس چیز کیا بن جائے گی؟ امانت اور پھر ضمان آئے گا؟ نہیں آئے گا، اور اس نے تو انکار کیا تھا اس پر کیا آ رہا ہے؟ تو کس کے پاس رکھوانا بہتر ہے بھئی؟ اسی کے پاس، دیکھو یہی بات کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ جب باقی کو چھوڑ دیا گیا اس کے قبضے میں، جب اس نے انکار نہیں کیا تھا، تو جحود کی صورت میں بطریقِ اولى اس کے پاس چھوڑ دی جائے گی اس لیے کہ وہ اس کے قبضے میں مضمون ہے۔ اور اگر وہ چیز رکھ دی جائے کسی دوسرے کے قبضے میں، تو وہ کیا ہوگی؟ امانت ہوگی۔ تو اول کیا ہے؟ اول ہے کہ اس کے پاس مضمون ہوگی اور دوسرے کے پاس امانت ہوگی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لے لی جائے گی وہ چیز اس سے انکار کی صورت میں بالاتفاق بھئی۔ وَوَصِيَّتُهُ بِثُلُثِ مَالِهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَمَا أَمْلِكُ صَدَقَةٌ عَلَى مَالِ الزَّكَاةِ۔ دیکھیے بھئی، آپ جانتے ہیں، پڑھا ہوگا کہ وصیت ثلثِ مال میں نافذ ہوتی ہے، اس سے زیادہ کے اندر نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو مثلاً ایک آدمی کی جائیداد تین کروڑ ہے بھئی، تو وہ زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ کی وصیت کر سکتا ہے، اس سے زیادہ جو وصیت ہوگی وہ لغو ہو جائے گی، باطل ہو جائے گی۔ اس نے وصیت کی تھی میرے مرنے کے بعد بھئی ڈھائی کروڑ میرے فلاں بیٹے، وارث کے لیے تو وصیت جائز ہی نہیں ہے، میرے مرنے کے بعد ڈھائی کروڑ فلاں شخص کو دے دیے جائیں۔ نہیں بھئی، زیادہ سے زیادہ کتنے میں نافذ ہوگی؟ ہاں تین کروڑ ہے تو صرف ایک کروڑ میں نافذ ہوگی، باقی میں وصیت لاگو ہوگی بھئی۔ اچھا اور جو ایک کروڑ جو اس نے کہا بھئی، اب مثلاً اس نے یہ کہا: "میرا ثلثِ مال زیید کو دے دیا جائے۔" کیا کہا وصیت کی اس نے؟ میرا ثلثِ مال زیید کو دے دیا جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں ہر چیز کا ثلث مراد لیا جائے گا۔ ہر چیز کا ثلث مراد۔ چاہے اس کا تجارت کا سامان ہے، چاہے اس کی زمینیں ہیں، چاہے اس کے مکانات ہیں، چاہے اس کے استعمال کی چیزیں ہیں، یہ ساروں کا کیا نکالا جائے گا؟ ثلث۔ یعنی ہر ایک چیز میں سے تیسرا حصہ دینا پڑے گا بھئی۔ تو ثلثِ مال بھئی وصیت کے اندر کس پر نافذ ہوگی؟ سارے کے سارے ساری ساری چیزوں پر بھئی۔ اس کے مقابلے میں ایک شخص یہ کہتا ہے بھئی، مَالِي صَدَقَةٌ، میرا سارا مال کیا ہے؟ صدقہ ہے، میں سارا مال۔ یا کہتا ہے: مَا أَمْلِكُ صَدَقَةٌ، میرا جس چیز کا بھی میں مالک ہوں وہ ساری کیا ہے؟ صدقہ ہے۔ جی زندگی میں ہی کہہ رہا ہے ایک شخص بھئی، اس نے سارا مال کیا کر دیا؟ صدقہ۔ جملہ کیا بولا بھئی؟ مَالِي صَدَقَةٌ یا مَا أَمْلِكُ صَدَقَةٌ بھئی۔ تو اب یہ کس پر محمول کیا جائے گا؟ کیا اس میں صرف سامانِ تجارت وغیرہ کا جو مال ہے، نصابِ نامی وغیرہ اس پر وصیت یہ اس کا قول ائے گا؟ یا اس کو ہر سب کچھ دینا پڑے گا؟ تو فقہائے کرام لکھتے ہیں بھئی، کہ اس نے یہ جو قول کیا بھئی، کہ میرا سارا مال کیا ہے؟ صدقہ ہے۔ یہاں مال سے اس کا سارا مال نہیں مراد، بلکہ وہ مال مراد ہوگا جس میں زکوٰۃ آتی ہے۔ جس میں کیا آتی ہے؟ زکوٰۃ آتی ہے۔ وہ مالِ تجارت وغیرہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ مالِ تجارت یا سونا چاندی وغیرہ جو اس کے پاس ہیں، ان وہ چیزیں ہیں، باقی جو اس کے استعمال کی چیزیں ہیں، وہ نہیں وہ اس پر صدقہ کرنا وہ نہیں واجب ہوا بھئی تو یہ دینا پڑے گا اس کو۔ صورت سمجھ میں آگئی دونوں صورتوں؟ تو کہہ رہے ہیں وصیت ہو، تو دیکھو وصیت کے اندر ہر چیز کا ثلث آگیا تھا، لیکن یہاں بھی وہ وہاں بھی مال کی اس نے بات کی تھی، یہاں بھی مال تو وہاں سب کچھ اس میں داخل تھا، اور یہاں پر کون سا صرف کون سا مال مراد ہے بھئی؟ صرف جس میں زکوٰۃ آتی ہے۔ وَوَصِيَّتُهُ بِثُلُثِ مَالِهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، اور اس کسی شخص کی وصیت اس کے ثلث مال کے بارے میں عَلَى كُلِّ شَيْءٍ بھئی، یہ کس پر آئے گی بھئی سارے ہر ہر شے پر نافذ ہوگی، واقع ہوگی۔ وَمَالِي أَوْ مَا أَمْلِكُ صَدَقَةٌ عَلَى مَالِ الزَّكَاةِ، اور اس کا یہ قول کہ مَالِي صَدَقَةٌ أَوْ مَا أَمْلِكُ صَدَقَةٌ یہ جی محمول ہوگا عَلَى مَالِ الزَّكَاةِ کس پر؟ مالِ زکوٰۃ پر۔ هَذَا عِنْدَنَا، یہ ہمارے نزدیک ہے، وَعِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقَعُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَضِيَّةً لِإِطْلَاقِ اللَّفْظِ، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو اس نے کہا نا مَالِي صَدَقَةٌ یا مَا أَمْلِكُ صَدَقَةٌ، یہ ہر ہر چیز پر واقع ہوگی، یعنی سارا کچھ کیا کرنا پڑے گا اب اس کو؟ صدقہ کرنا پڑے گا کیوں بھئی؟ کہتے ہیں قَضِيَّةً لِإِطْلَاقِ اللَّفْظِ فیصلہ کرتے ہوئے اطلاقِ لفظ سے بھئی۔ اطلاقِ اس نے مطلق لفظ کہا ہے مَالِي، میرا سارا مال اور یہ ہر چیز کو شامل ہے، اس میں کوئی زکوٰۃ وغیرہ کی قید نہیں، کہ صرف زکوٰۃ वाले مال میں سے بات، بلکہ ہر مال اس کے اندر داخل ہوگا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور جی۔ اسی طرح مَا أَمْلِكُ کہا بھئی۔ تو یہ بھی سارا لفظ مطلق ہے بھئی، اس میں یہ قید نہیں ہے کہ صرف زکوٰۃ کا مال کر رہا ہے صدقہ، بلکہ ہر چیز اس میں داخل ہو جائے گی۔ وَنَحْنُ، اور یہ تھی امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل۔ وَنَحْنُ اعْتَبَرْنَا إِيجَابَ الْعَبْدِ بِإِيجَابِ اللَّهِ تَعَالَى، اور ہم نے قیاس کیا ایجابِ عبد کو ایجابِ اللہ پر بھئی۔ اللہ بھی بندے پر مال واجب کرتے ہیں فقراء وغیرہ کے لیے لیکن وہ کس ماں کس کے اندر واجب کرتے ہیں بھئی؟ سارے مال کے اندر یا مالِ تجارت وغیرہ کے اندر بھئی؟ مالِ تجارت اور سونا چاندی وغیرہ جو ہے، استعمال کی چیزوں میں زکوٰۃ آتی ہے ضرورت کی؟ ان میں زکوٰۃ نہیں آتی، تو جب اللہ نے واجب کیا جو وہ اس مال کے اندر ہے، تو بندہ جو اپنے اوپر واجب کر رہا ہے، وہ بھی کس میں سے آئے گا؟ اسی مال میں سے آئے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وَنَحْنُ اعْتَبَرْنَا اور ہم نے قیاس کیا إِيجَابَ الْعَبْدِ بندے کے ایجاب کو، دیکھو اس کے اندر وہ اپنے اوپر بندہ خود واجب کر رہا ہے اور ایک اللہ اس پر واجب کر رہے ہیں، اللہ جو واجب کر رہے ہیں وہ کس کے اندر ہے؟ مالِ زکوٰۃ وغیرہ کے اندر۔ تو یہاں پر بھی جو إِيجَاب آئے گا وہ کس کے اندر آئے گا؟ اسی مالِ زکوٰۃ میں۔ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا ذَلِكَ أَمْسَكَ مِنْهُ قُوتَهُ، بھئی ایک آدمی نے یہ قول کیا مَالِي صَدَقَةٌ یا مَا أَمْلِكُ صَدَقَةٌ بھئی، کس پر آئے گا یہ بھئی؟ اس کا یہ قول کس مال پر واقع ہوگا؟ صرف مالِ زکوٰۃ پر۔ یعنی سامانِ تجارت ہو، اور یا سونا چاندی وغیرہ ہو، ان چیزوں پر آئے گا۔ اب ایک آدمی کے پاس ہے ہی یہی چیزیں اور کچھ ہے ہی نہیں۔ اس نے کہا میرا سارا مال صدقہ ہے، تو اب اس پر واجب ہوگیا، کیا کرے؟ اپنے سارے مال کو کیونکہ اس کے پاس موجود ہی صرف کیا ہے بھئی؟ صرف وہی مال تو ہے اس کے پاس جس پر زکوٰۃ آیا کرتی ہے، دوسرا مال تو اس وقت اس کے پاس موجود ہی نہیں اور اس سارے کے بارے میں تو اس نے کیا کہہ دیا؟ مَالِي میرا سارا مال صَدَقَةٌ صدقہ ہے۔ تو اس صورت میں کہتے ہیں یہ سارا صدقہ کرنا پڑے گا۔ ہاں، اپنے لیے صرف اس قدر اس میں سے خوراک روک لے کہ جب تک اس کو آگے مال نہ حاصل ہو جائے۔ جب اس کو آگے مال حاصل ہو جائے گا، تو پھر جتنا اس نے اپنی خوراک کے لیے روکا ہے، اب اتنا ہی اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ صدقہ کیونکہ اس نے تو کہا تھا میرا سارا مال صدقہ ہے اور اس نے سے مثلاً اس میں سے ایک ہفتے کی خوراک اپنے لیے روک لی، تو یہ ایک ہفتے کی جو خوراک روکی ہے جب اس کے پاس مال آ جائے تو اتنا ہی مال کیا کرنا پڑے گا، مزید اس کو صدقہ صورت سمجھ میں آگئی؟ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا ذَلِكَ، پس اگر وہ شخص نہ پائے مگر وہی مال (یعنی جس کے اندر کیا آیا کرتی ہے؟ زکوٰۃ) تو أَمْسَكَ مِنْهُ قُوتَهُ، اس میں سے اپنی خوراک بہ قدر روک لے۔ فَإِذَا مَلَكَ، جب وہ مالک بن جائے وَمَالَ اور مال کا تَصَدَّقَ بِمَا أَخَذَ تو صدقہ کر دے اس کا جو اس نے کیا کیا تھا؟ لیا تھا اس کے بہ قدر بھئی۔ وَلَمْ يُقَدَّرْ بِشَيْءٍ لِاخْتِلَافِ أَحْوَالِ النَّاسِ، کہتے ہیں بھئی، مقرر کیوں نہیں کر دیتے کہ اتنا روک لے۔ پانچ دن کی خوراک روک لے یا دس دن کی خوراک روک لے اپنے لیے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی۔ لوگوں کے کیونکہ احوال مختلف ہیں، اس لیے کسی ایک مقدار کو مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ ایک مزدور ہے اس کو روزانہ پیسے ملتے ہیں، ایک تنخواہ والا ہے اس کو مہینے کے بعد پیسے ملتے ہیں، ایک کاشتکار ہے اس کو سال کے بعد پیسے ملتے ہیں، تو لوگوں کے احوال مختلف ہیں، تو ہر ایک اپنے حال کے بہ قدر خوراک روک لے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جی جب تک اگلا مال مثلاً بھئی مہینے کے وسط میں اس نے ایک شخص نے یہ کہا اور اس کو تنخواہ ملنی ہے پانچ تاریخ کو مثلاً بھئی تو وہ پانچ یا دس تاریخ جب تک اسے تنخواہ ملنی ہے اس وقت تک کے خوراک کو اپنے لیے اتنے مال کو اپنے لیے روک لے اور پھر جب نیا مال آ جائے تو اس میں سے کیا کر دے جتنا اس نے روکا تھا اتنا ہی اور ایک شخص مزدور ہے بھئی، تو مزدور کو تو ہر روز شام کے وقت پیسے مل جاتے ہیں، تو وہ صرف اپنے لیے ایک دن کی خوراک روکے گا۔ مہینے والا اپنے لیے جس کو مہینے میں تنخواہ وغیرہ ملتی ہے وہ زیادہ سے زیادہ کتنے کا روکے گا؟ ایک مہینے کا۔ کسان ہے بھئی، مثلاً کاشتکار ہے اس کو مثلاً سال بعد یا چھ مہینے بعد اب گندم ملے گی، تو وہ اس وقت تک کے لیے اپنی خوراک اتنی روک لے۔ یہ معنی ہے وَلَمْ يُقَدَّرْ بھئی یعنی مقرر نہیں کی جائے گی وَلَمْ يُقَدَّرْ بِشَيْءٍ کس چیز مقرر نہیں کی جائے گی، یعنی مقدار اس کی بیان نہیں کی جائے گی لِاخْتِلَافِ أَحْوَالِ النَّاسِ لوگوں کے احوال کے مختلف ہونے کی وجہ سے۔ قِيلَ، اب چنانچہ بتلا رہے ہیں کون کتنا روکے گا۔ قِيلَ کہا گیا ہے: اِلْمُحْتَرِفُ يُمْسِكُ لِنَفْسِهِ وَعِيَالِهِ قُوتَ يَوْمِهِ، محترف پیشے والا پیشے والا پیشے والا روکے گا اپنے نفس کے لیے وَعِيَالِهِ اور اپنے اہل و عیال کے لیے قُوتَ يَوْمِهِ صرف اسی دن کی خوراک بھئی۔ صرف اسی دن کی خوراک کیونکہ اگلے دن شام تو اگلے دن تک اس کو پیسے مل جائیں گے بھئی۔ وَصَاحِبُ الْمُسْتَقِلِّ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ إِلَى وُصُولِ غَلَّتِهِ، وَصَاحِبُ الْمُسْتَقِلِّ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ إِلَى وُصُولِ غَلَّتِهِ، اور صاحبِ مستقل بھئی وہ صاحبِ مستقل سے وہ مراد ہے، جس کو مثلاً بھئی مخصوص چیزوں کی آمدنی مل رہی ہو بھئی کرایہ وغیرہ مل رہا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کرایہ وغیرہ یہ چیزیں جو اس کو مخصوص وقت کے بعد ملتی ہیں نفع کے ساتھ نفع جو اس کو ملتا ہے۔ تو وہ جو صاحبِ مستقل ہے مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ وہ مقدار جس کی طرف وہ محتاج ہے، اتنی مقدار جس کا وہ محتاج ہے إِلَى وُصُولِ غَلَّتِهِ اپنے غلے کے پہنچنے تک۔ غلے سے مراد بھئی آمدنی ہے، نفع ہے، چاہے کرایہ وغیرہ کی صورت میں ہو یا زمین وغیرہ کے۔ وَأَكْثَرُ ذَلِكَ شَهْرٌ، اور اس کی زیادہ سے زیادہ مقدار کتنی ہے؟ ایک ماہ ہے۔ وَصَاحِبُ الضِّيَاعِ إِلَى وُصُولِ ارْتِفَاعِهِ، ضیاع جمع ہے ضیعۃ کی، غلہ اگانے والی زمین کو کہتے ہیں بھئی۔ وَصَاحِبُ الضِّيَاعِ اور زمیندار جو ہے إِلَى وُصُولِ ارْتِفَاعِهِ، ارتفاع کہتے ہیں بلندی، مراد یہاں نفع ہے، نفع کو بھی کہتے ہیں۔ إِلَى وُصُولِ ارْتِفَاعِهِ اپنی اپنے نفع کے، اپنی آمدنی کے وصول ہونے تک بھئی، اس وقت تک کے لیے روک لے گا جتنی ضرورت ہے خوراک کی۔ وَأَكْثَرُ ذَلِكَ سَنَةٌ، اور اس کی زیادہ سے زیادہ مقدار کتنی ہے؟ ایک سال، ایک سال میں تو ضرور ہو جاتا ہے بلکہ چھ مہینے میں ہی ہو جاتا ہے۔ وَصَاحِبُ التِّجَارَةِ إِلَى وُصُولِ مَالِ تِجَارَتِهِ، اور صاحبِ تجارت، تاجر جو ہے، جب تک کہ اس کا مالِ تجارت جب اسے مالِ تجارت اسے حاصل ہوگا، اس وقت تک کے لیے کیا کر رہے ہیں اس میں سے؟ روک لے۔ چلیے بس معنی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلامِ۔
107 approved lectures · 68 of 107