وَإِنْ كَانَتْ مَعَهُمَا فَهِيَ لِلثَّانِي نِصْفٌ، نِصْفٌ بِقَضَاءٍ وَنِصْفٌ - وَاوْ ہونا چاہیے یہاں مولانا، وَاوْ - وَنِصْفٌ لَا بِهِ.
بھئی، گزشتہ سبق میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ ایک گھر کسی کے قبضے میں ہے اور دو خارج اس پر دعویٰ کرتے ہیں۔ ایک خارج کہتا ہے: "یہ سارا گھر میرا ہے"، دوسرا خارج کہتا ہے: "نصف گھر میرا ہے"، تو آپ نے پڑھا تھا امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جو مدعیِ کل ہے اس کو تین ربع مل جائیں گے اور جو مدعیِ نصف ہے اس کو ایک ربع ملے گا۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک جو مدعیِ کل ہے اس کو دو ثلث ملیں گے اور جو مدعیِ نصف ہے اس کو ایک ثلث ملے گا۔ یہ کون سی صورت تھی؟ جبکہ دعویٰ کرنے والے دونوں کون ہیں؟ خارج ہیں۔
وَإِنْ - اور اگر اب اگر دونوں صاحبِ قبضہ ہوئے، بھئی۔ گھر ان دونوں آدمیوں کے قبضے میں ہے، تو اس صورت میں ایک نے دعویٰ کیا بھئی کل گھر کا، اور دوسرے نے دعویٰ کیا نصف گھر کا، بھئی۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں سارا کا سارا گھر مدعیِ کل کو دے دیا جائے گا۔ گھر کس کو دے دیا جائے گا؟ مدعیِ کل کو دے دیا جائے گا۔ کس صورت میں؟ جبکہ دونوں کیا ہیں؟ صاحبِ قبضہ ہیں، بھئی۔
بھئی، مدعیِ کل کو سارا گھر کیوں دے دیا جائے گا؟ کہتے ہیں بھئی، جو سارا گھر اس کو دیا گیا، اس میں سے نصف بغیر قضائے قاضی کے ہے اور نصف قضائے قاضی سے ہے، بھئی۔ نصف کیسے مل رہا؟ بغیر قضائے قاضی کے، اور نصف کیسے ملے گا؟ قضائے قاضی سے۔ کیوں بھئی؟ وجہ کیا ہے؟ دیکھو بھئی، ایک گھر ہے، اس میں دو آدمیوں کا قبضہ ہے۔ جب دونوں کا قبضہ ہے تو یقیناً گویا کہ نصف پر ایک کا قبضہ ہے اور نصف پر دوسرے کا قبضہ ہے۔
اب ایک نے دعویٰ کیا کل گھر کا۔ اس نے کس کا دعویٰ کیا؟ کل گھر کا۔ تو جو اس کے اپنے قبضے میں نصف ہے اس میں تو جھگڑا ہی نہیں، کیونکہ دوسرے نے کتنے کا دعویٰ کیا ہے؟ نصف کا، اور نصف گھر اس دوسرے کے قبضے میں ہے، تو یقیناً جو جھگڑا ہے اس کا اس کے اپنے نصف کے اندر ہے۔ جو اس کے اپنے قبضے میں ہے وہ کہتا ہے: "یہ میرا ہے"، اور دوسرا کیا کہتا ہے؟ "یہ جو میرے قبضے میں گھر ہے نصف، یہ بھی میرا، اور جو تمہارے قبضے میں نصف ہے، یہ بھی میرا ہے۔"
تو جو مدعیِ کل کے پاس نصف ہے اس میں تو جھگڑا ہی نہیں، تو وہ اس کو بغیر قضائے قاضی کے ہی اس کا ہوا، اور باقی نصف کے اندر ہے جھگڑا، بھئی۔ مدعیِ نصف کہتا ہے: "یہ میرا"، اور مدعیِ کل کہتا ہے: "یہ نصف بھی میرا۔" تو مدعیِ کل ہوا خارج، کیونکہ وہ نصف کس کے قبضے میں ہے؟ مدعیِ نصف کے قبضے میں ہے نا، تو مدعیِ کل کیا کہہ رہا ہے؟ پہلا نصف تو ہے ہی میرا، یہ والا نصف بھی جو تمہارے قبضے میں ہے۔ تو وہ ہوا خارج، اور یہ ہوا صاحبِ قبضہ، اور بینہ کس کی اولىٰ ہوتی ہے؟ خارج کی اولىٰ ہوا کرتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو نصف اس کو بغیر قضائے قاضی کے مل جائے گا کیونکہ اس میں تو دوسرے کا دعویٰ ہی نہیں، اور نصف کے اندر دوسرے کا دعویٰ ہے لیکن یہ ہے خارج اور خارج کی بینہ اولىٰ، لہٰذا وہ بھی اس کو دے دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کہ نہیں سمجھ میں آئی، بھئی؟
وَإِنْ كَانَتْ مَعَهُمَا - اور اگر گھر دونوں کے پاس ہے، دونوں کے قبضے میں تھا، فَهِيَ لِلثَّانِي - تو یہ ثانی کو مل جائے گا، بھئی۔ جی، فَهِيَ لِلثَّانِي، ثانی کون تھا؟ مدعیِ کل تھا، بھئی۔ اس کو ملے گا نِصْفٌ بِقَضَاءٍ - نصف تو کس سے ملے گا؟ قضا سے، وَنِصْفٌ لَا بِهِ - اور نصف بغیر لَا بِالْقَضَاءِ، بھئی، بغیر قضا کے ملے گا۔
فَإِنَّ الدَّارَ إِذَا كَانَتْ فِي يَدِهِمَا - اس لیے کہ گھر جب دونوں کے قبضے میں تھا، يَكُونُ النِّصْفُ فِي يَدِ كُلِّ مِنْهُمَا - تو نصف ہوگا دونوں میں سے ہر ایک کے قبضے میں۔ نصف ایک کے قبضے میں ہے اور نصف... بھئی، جب دونوں کا قبضہ ہے تو کیا کہیں گے ہم؟ نصف ایک کے قبضے میں ہے اور نصف دوسرے کے قبضے میں ہے۔
فَالنِّصْفُ الَّذِي فِي يَدِ مُدَّعِي الْكُلِّ - پس وہ نصف جو مدعیِ کل کے قبضے میں ہے، لَا يَدَّعِيهِ الْآخَرُ - دوسرا اس کا دعویٰ ہی نہیں کر رہا، فَيُتْرَكُ فِي يَدِهِ - تو وہ کس کے قبضے میں چھوڑ دیا جائے گا؟ اسی مدعیِ کل کے قبضے میں چھوڑ دیا جائے گا، بغیر قضا کے ہی۔
وَنِصْفٌ الَّذِي فِي يَدِ مُدَّعِي النِّصْفِ - اور وہ نصف جو مدعیِ نصف کے قبضے میں ہے، يَدَّعِيهِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا - ان میں سے ہر ایک اس کا دعویٰ کر رہا ہے، بھئی۔ مدعیِ نصف کہہ رہا ہے: "یہ میرا"، مدعیِ کل کہہ رہا ہے: "یہ نصف بھی میرا۔"
فَمُدَّعِي الْكُلِّ خَارِجٌ - پس مدعیِ کل خارج ہوا، وَبَيِّنَةُ الْخَارِجِ أَوْلَى - اور بینہ خارج کیا ہے؟ اولىٰ ہے۔
فَإِنْ بَرْهَنَا خَارِجَانِ - صورتِ مسئلہ یہ ہے، بھئی: ایک شخص کے پاس ایک جانور ہے، دو خارج نے دعویٰ کر دیا، بھئی۔ ایک کہتا ہے: "یہ جانور میرا"، دوسرا کہتا ہے: "یہ جانور میرا"، بھئی۔ اور دونوں نے بینہ بھی قائم کی، بھئی۔ دونوں نے گواہ بھی پیش کر دیے، اور گواہوں نے تاریخ بھی ذکر کر دی، بھئی۔ ملکیت کی تاریخ بھی ذکر کر دی، بھئی۔ تو کہتے ہیں: جس کا وقت جانور کی عمر کے مطابق ہوا اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔ کیا کر دیا جائے گا؟
مثلاً، بھئی، ایک گائے ہے زید کے قبضے میں، دو خارج نے دعویٰ کر دیا، بھئی، اور بینہ پیش کر دی۔ گواہوں نے کہا: "یہ ہمارے... یہ جو ایک کے گواہ کہتے ہیں: یہ گائے ہمارے مدعی کے پاس ہے، کتنے عرصے سے وہ اس کا مالک ہے؟ چار سال سے۔" اور دوسرا کہتا ہے: "یہ گائے اس گائے کا مالک ہے ہمارا مدعی چھ سال سے۔" اب دیکھا جائے گا، اگر گائے کی عمر چار سال تو چار سال والے کے حق میں فیصلہ، اگر گائے کی عمر چھ سال تو کس کے حق میں فیصلہ؟ چھ سال والے کے حق میں فیصلہ، مولانا۔
یہ معنی ہے۔ فَإِنْ بَرْهَنَا خَارِجَانِ - اگر بینہ قائم کر دی دو خارج نے، عَلَى نِتَاجِ دَابَّةٍ - کسی جانور کی پیدائش پر، بھئی، کہ یہ جانور اس کی ملک میں پیدا ہوئی ہے کس سن میں؟ مثلاً آج سے چھ سال قبل یا چار سال قبل۔ وَأَرَّخَا - اور دونوں نے کیا ذکر کر دی؟ تاریخ بھی ذکر کر دی۔ قُضِيَ لِمَنْ وَافَقَ وَقْتُهُ سِنَّهَا - تو فیصلہ کر دیا جائے گا اس شخص کے لیے کہ موافق ہو جس کا وقت سِنَّهَا، یعنی سِنَّ الدَّابَّةِ، دابہ کی جانور کی عمر کے موافق ہو اس کے حق میں، بھئی۔
وَإِنْ أُشْكِلَا - اور اگر، بھئی، اشکال ہو، بھئی، کسی ایک کے بھی... پتہ ہی نہیں چل رہا یہ گائے چار سال کی ہے یا چھ سال کی، فَلَهُمَا - تو یہ دونوں کی ہوگی، یعنی نصف نصف کا فیصلہ کر دیا جائے گا، اور گائے کو بیچ کر نصف نصف ثمن تقسیم کر دیے جائیں گے۔
أَمَّا إِذَا خَالَفَتْ - تیسری صورت یہ ہے، بھئی، کہ کسی ایک کا موافق سن بھی وقت کے موافق نہیں ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ مثلاً ایک کیا کہتا ہے کہ "یہ گائے ہمارے مدعی... ایک کے گواہ کہتے ہیں: یہ گائے ہمارے مدعی کی ملک میں پیدا ہوئی ہے آج سے چھ سال پہلے۔" اور دوسرے کہتے ہیں: "یہ گائے ہمارے مدعی کی ملک میں پیدا ہوئی ہے آج سے... آج سے چار سال پہلے۔" اور دونوں گواہ تاریخ بھی ذکر کر دیتے ہیں مثلاً، لیکن گائے کی عمر دیکھی تو وہ صرف ڈیڑھ سال ہے، بھئی۔ معلوم ہوا دونوں کی بینہ درست نہیں، لہٰذا بینہ باطل ہو جائے گی اور جانور کو جس کے قبضے میں ہے اسی کے پاس چھوڑ دیا جائے گا۔
أَمَّا إِذَا خَالَفَتْ سِنُّهَا التَّارِيخَيْنِ - اگر مخالف ہوا اس دابہ کا اس دابہ کی عمر دونوں تاریخوں کے، بَطَلَتِ الْبَيِّنَتَانِ - تو دونوں بینہ کیا ہو جائیں گی؟ باطل ہو جائیں گی، وَتُرِكَتِ الدَّابَّةُ مَعَ ذِي الْيَدِ - اور دابہ کو چھوڑ دیا جائے گا کس کے پاس؟ ذوالید، صاحبِ قبضہ کے پاس ہی۔
فَإِنْ بَرْهَنَ أَحَدُ الْخَارِجَيْنِ عَلَى غَصْبِ شَيْءٍ وَالْآخَرُ عَلَى وَدِيعَتِهِ اسْتَوَيَا - صورتِ مسئلہ یہ ہے، بھئی: زید کے پاس ایک گاڑی ہے۔ ایک خارج نے بینہ قائم کر... ایک گواہ نے دعویٰ کر دیا: "یہ گاڑی میری کیونکہ میں نے زید کے پاس امانت رکھوائی ہے"، اور دوسرے نے دعویٰ کر دیا: "یہ گاڑی میری کیونکہ یہ گاڑی مجھ سے زید نے غصب کی ہے۔" تو ایک دعویٰ کر رہا ہے غصب کا، ایک دعویٰ کس چیز کا کر رہا ہے؟ امانت کا، بھئی۔ اور دونوں نے بینہ بھی قائم کر دیں، تو کون کس کی بینہ اولىٰ؟ کہتے ہیں: دونوں کی بینہ برابر۔ دونوں میں گاڑی کیا کر دی جائے گی؟ نصف نصف کا فیصلہ کر دیا جائے گا، بھئی۔
بھرابر کیوں؟ ایک کے دعویٰ تو امانت کا ہے، دوسرے کا دعویٰ غصب کا ہے۔ کہتے ہیں: بھئی، جس نے دعویٰ امانت کا کیا ہے زید اس کا بھی انکار کر رہا ہے، اور امانت سے جب انکار کر دیا جائے تو وہ بھی کیا بن جاتی ہے؟ غصب۔ تو گویا دونوں نے... دونوں کا دعویٰ کس چیز کا ہے؟ غصب۔ تو دونوں برابر ہیں، بھئی۔
فَإِنْ بَرْهَنَ أَحَدُ الْخَارِجَيْنِ - اگر بینہ قائم کر دی دو خارجوں میں سے ایک نے، عَلَى غَصْبِ شَيْءٍ - کسی چیز کے غصب پر، وَالْآخَرُ عَلَى وَدِيعَتِهِ - اور دوسرے نے اس کے امانت ہونے پر، اسْتَوَيَا - تو دونوں برابر ہیں۔
أَيْ ادَّعَى أَحَدُ الْخَارِجَيْنِ عَلَى ذِي الْيَدِ - دعویٰ کر دیا دو خارجوں میں سے ایک نے ذوالید پر، صاحبِ قبضہ پر دعویٰ کر دیا، کیا دعویٰ کیا؟ أَنَّكَ غَصَبْتَهَا هَذَا الشَّيْءَ مِنِّي - کہ "تو نے مجھ سے یہ چیز غصب کی ہے"، وَالْآخَرُ ادَّعَى - اور دوسرے نے یہ دعویٰ کیا: أَنِّي أَوْدَعْتُ هَذَا الشَّيْءَ عِنْدَكَ - کہ "یہ چیز تو میں نے تمہارے پاس امانت رکھی تھی مجھے واپس دو"، بھئی، اور وہ زید دونوں کا انکار کر رہا ہے، وَبَرْهَنَا - اور دونوں نے کیا کر دیا؟ بینہ بھی قائم کر دی۔
يُنَصَّفُ بَيْنَهُمَا - تو اس چیز کو نصف تنصیف کی جائے گی ان دونوں کے درمیان، لِاسْتِوَائِهِمَا - بوجہ ان دونوں کے برابر ہونے کے۔ بھئی، برابر کیوں ہیں؟ کہتے ہیں: فَإِنَّ الْمُودَعَ - اس لیے کہ مودَع، وہ جس کے پاس امانت رکھوائی گئی تھی، إِذَا جَحَدَ الْوَدِيعَةَ - جب وہ ودیعت، امانت کا انکار کر دیا اس نے، صَارَ غَاصِبًا - تو وہ کیا بن گیا؟ غاصب بن گیا۔ تو دونوں کا گویا دعویٰ غصب کا ہے۔
وَاللَّابِسُ أَحَقُّ مِنْ آخِذِ الْكُمِّ - بھئی، یہاں سے وہ مسائل بتلا رہے ہیں جس میں دو شخص مدعی ہیں ایک چیز کے بوجہ قبضہ کے۔ ایک کہتا ہے: "اس پر میرا قبضہ"، دوسرا کہتا ہے: "میرا قبضہ"، اور بینہ کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو پھر کس کے لیے فیصلہ کیا جائے گا؟ وہ بتلا رہے ہیں۔ اور یاد رکھو، جس کے لیے فیصلہ کر دیا گیا اگر دوسرے نے چاہا تو اس سے قسم طلب کر سکتا ہے۔ بینہ تو ایک کے پاس بھی نہیں۔ قاضی نے دونوں کی بات سنی اور کیا کیا؟ ایک کے حق میں فیصلہ کر دیا، تو اگر دوسرا اس سے طلب... قسم طلب کرنا چاہے تو کیا کر سکتا ہے؟
سمجھ میں آیا؟ تو... مثلاً ایک... تو اس سے قسم طلب کر سکتا ہے، بھئی۔ اور اگر دوسرا قسم کھا لیتا ہے تو ٹھیک، چیز اس کو دے دی جائے گی، اور اگر انکار کرتا ہے تو پھر چیز کس کو دی جائے گی؟ دوسرے کو دلا دی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے۔
وَاللَّابِسُ أَحَقُّ مِنْ آخِذِ الْكُمِّ - کُم کہتے ہیں آستین کو، آستین، بھئی۔ بھئی، ایک آدمی نے قمیض پہنی ہوئی ہے اور دوسرے نے اس کی آستین پکڑی ہوئی ہے۔ ایک کہتا ہے: "میرا قبضہ"، دوسرا کہتا ہے: "میرا قبضہ"، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟
قدیم زمانے میں، بھئی، بڑی آستینیں... آستینیں بڑی بڑی ہوتی تھیں قمیض کی، بھئی۔ یہ جیب وغیرہ بھی آستین میں ہی ہوتی تھی، بھئی۔ تو کوئی عجیب طریقہ ہوگا اس زمانے کا، بھئی، جیسے آج کل جیب، بھئی... جیبیں آپ دیکھتے ہیں، تو اس زمانے میں آستین میں چیز لوگ رکھ لیتے تھے، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور جتنا مالدار ہوتا تھا اتنی بڑی اور کھلی آستین ہوتی تھی، بھئی۔ کپڑا تو ملتا ہی نہیں تھا کسی کو، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟
چنانچہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اپنے شاگردوں سے فرماتے تھے: بھئی، کھلی آستینیں سلواؤ، بھئی، لوگ تاکہ تمہیں حقیر نہ سمجھیں، بھئی۔ دین کے طالبِ علم ہو تو تم بھی کیا ہو؟ کھلی آستین سلواؤ، بھئی۔
وَاللَّابِسُ أَحَقُّ مِنْ آخِذِ الْكُمِّ - اچھا، لابس پہننے والا، وہ زیادہ حقدار ہے مِنْ آخِذِ الْكُمِّ، آستین کو پکڑنے والے سے۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ ظاہر ہے اس نے پہنی ہوئی ہے تو وہ اس چیز کا مالک، لیکن اب وہ آستین کو پکڑنے والا اگر دوسرے سے قسم طلب کرنا چاہے تو قسم طلب کر سکتا ہے۔ اب اگر وہ کھا لے گا قسم تو قمیض اس کی دے دی جائے گی، اور اگر انکار کرتا ہے تو جس نے آستین پکڑی ہے اسے دے دی جائے گی۔
وَالرَّاكِبُ مِنْ آخِذِ اللِّجَامِ - اور سوار وہ لگام کو پکڑنے والے سے زیادہ حقدار ہے۔ ایک آدمی ہے گھوڑے پر سوار ہے، دوسرے نے اس کی لگام پکڑی ہوئی ہے، دونوں مدعی ہیں کہ "یہ میرا ہے"، کس کو دیا جائے گا گھوڑا؟ زیادہ حقدار کون ہے؟ سوار، بھئی۔
وَمَنْ فِي السَّرْجِ - اور وہ شخص جو زین میں ہے، وہ زیادہ حقدار ہے مِنْ رَدِيفِهِ - ردیف کہتے ہیں... ردیف کہتے ہیں جو پیچھے سوار ہو، بھئی۔ جانور پر ایک شخص بیٹھا ہے دوسرا پیچھے بیٹھا ہے، اس کو کیا کہیں گے جو پیچھے بیٹھا ہے؟ ردیف کہتے ہیں، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو جو شخص زین میں سوار ہے، ایک زین پر سوار ہے وہ کہتا ہے: "یہ گھوڑا میرا"، دوسرا پیچھے سوار ہے وہ کہتا ہے: "یہ گھوڑا میرا"، تو کون زیادہ حقدار ہے؟ جو زین میں بیٹھا ہوا ہے، سمجھ میں آیا؟ مالک ہے وہ یقیناً فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا ہوگا، بھئی۔
وَذُو حَمْلِهَا مِمَّنْ عُلِّقَ كُوزُهُ مِنْهَا - اچھا، بھئی، ایک آدمی ہے اس کا سامان، بھئی، جانور پر بندھا ہوا ہے، اور ایک ہے اس کا صرف کوزہ لٹکا ہوا ہے جانور سے۔ کوزہ جانتے ہیں یا نہیں جانتے، بھئی؟ یہ لوٹے کی قسم کا اس برتن تھا، بھئی، آج بھی دیہات، بعض دیہات وغیرہ میں عام استعمال ہوتا ہے، بھئی۔
تو ایک آدمی ہے اس کا سامان ہے جانور پر بندھا ہوا، دوسرے کا صرف کوزہ لٹکا ہوا ہے، دونوں مدعی ہیں، تو کس کو دلایا جائے گا؟ کون زیادہ حقدار ہے؟ جس کا سامان ہے۔ یہ معنی ہے: وَذُو حَمْلِهَا - اور زیادہ حقدار ہے کون؟ اس جانور کا... اس جانور کے بوجھ والا، یعنی جس کا اس پر بوجھ ہے، مِمَّنْ - اس شخص سے، عُلِّقَ كُوزُهُ - یہ كُوزَةٌ نہیں ہے كُوزُهُ ہونا چاہیے - کہ لٹکایا گیا ہے اس کا کوزہ مِنْهَا - اس جانور سے، بھئی۔ جس کا کوزہ کیا ہے؟ اس جانور سے لٹکایا ہے، اس سے زیادہ حقدار ہے۔
أَيْ صَاحِبُ الْيَدِ فِي هَذِهِ الصُّوَرِ هُوَ الْأَوَّلُ - یعنی صاحبِ قبضہ ان تمام صورتوں میں کون ہے؟ اول ہے، کون ہے؟ اول: لابس، راکب، من فی السرج، اور ذو حمل۔
وَجَالِسُ الْبِسَاطِ وَالْمُتَعَلِّقُ بِهِ سَوَاءٌ - بھئی، ایک کا بچھونا ہے، ایک آدمی اس پر بیٹھا ہوا ہے اور دوسرے نے اس کو پکڑا ہوا ہے کنارے کو، بھئی۔ کون زیادہ؟ کہتے ہیں: دونوں برابر ہیں۔ بیٹھنا کوئی قبضے کی دلیل... بچھونے پر بیٹھنا کوئی قبضے کی دلیل نہیں ہے۔
وَجَالِسُ الْبِسَاطِ - اور بچھونے پر بیٹھنے والا، وَالْمُتَعَلِّقُ بِهِ - اور جو دوسرا اس سے متعلق ہے، یعنی اس کو پکڑے ہوئے ہے، سَوَاءٌ - یہ دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں۔
كَمَنْ مَعَهُ ثَوْبٌ - اس شخص کی طرح جس کے پاس کپڑا ہے، وَطَرَفُهُ مَعَ آخَرَ - اور اس کے کنارہ کیا ہے؟ دوسرے کے... ایک آدمی ہے، بھئی، اس نے کپڑے کو پکڑا ہوا ہے لیکن اکثر حصہ اس کے قبضے میں اور ایک کنارہ دوسرے نے پکڑا ہوا ہے، تو دونوں کہتے ہیں: "یہ کپڑا میرا"، بھئی، تو دونوں کیا ہیں؟ اکثر حصہ ایک کے قبضے میں ہونے سے اس کا صاحبِ قبضہ ہونا ثابت نہیں ہوتا، بھئی۔
وَالْقَوْلُ لِصَبِيٍّ يُعَبِّرُ فِي أَنَا حُرٌّ - اور قول ایسے بچے کا معتبر ہے، يُعَبِّرُ - جو کیا کرتا ہے؟ تعبیر کرتا ہے، جو تعبیر کر سکتا ہے، کس چیز کے اندر؟ فِي أَنَا حُرٌّ - "أَنَا حُرٌّ" کے اندر، بھئی۔
بھئی، تعبیر... بھئی، وہ بچہ جو سمجھدار ہے، سمجھتا ہے بات کو اور کلام کر سکتا ہے۔ ایک آدمی کے پاس قبضے میں ہے اور بچہ کیا کہتا ہے: "میں أَنَا حُرٌّ، میں آزاد ہوں"، تو قول کس کا معتبر؟ بچے کا۔ آدمی کے ذمہ بینہ ہے، بینہ نہیں تو اب بچے کا قول معتبر اور اسے آزاد شمار کیا جائے گا۔ یہ معنی ہے: وَالْقَوْلُ لِصَبِيٍّ - اور قول معتبر لِصَبِيٍّ - صبی نکرہ ہے آگے يُعَبِّرُ صفت آرہی ہے اس کی - ایسے بچے کا جو تعبیر کر سکتا ہے۔ قول معتبر ہے ایسے بچے کا جو تعبیر کر سکتا ہے فِي أَنَا حُرٌّ - "أَنَا حُرٌّ" کے اندر۔
وَإِنْ قَالَ - اور اگر اس نے یہ کہا: أَنَا عَبْدُ فُلَانٍ - بھئی، ایک شخص کے قبضے میں ایک بچہ ہے، بھئی، اور بچہ تعبیر کر سکتا ہے، مثلاً زید کے پاس ہے، اور بچہ کیا کہتا ہے: "میں عمر کا غلم..." ہے زید کے قبضے میں اور بچہ کیا کہتا ہے: "میں کس کا غلام ہوں؟ عمر کا غلام۔" کہتے ہیں، بھئی، تو یہ جس کے قبضے میں ہے اسی کے پاس رہنے دیا جائے گا، بھئی، یعنی زید کا... زید ہی کا غلام ہوگا، عمر کا غلام نہیں۔ کیوں، بھئی؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ بچے نے اتنا اقرار تو خود بھی کر لیا کہ "میں ہوں غلام، میں کیا ہوں؟ غلام ہوں۔"
تو لہٰذا اس کا اپنا نفس اس کے اپنے قبضے میں نہیں ہوا اور... تو صاحبِ قبضہ کے لیے ہی ہوگا۔
وَإِنْ قَالَ أَنَا عَبْدُ فُلَانٍ - اور اگر کہا کسی نے کہ بچے نے کہ "میں..." ایسا بچہ جو تعبیر کر سکتا ہے کہ "میں فلاں آدمی کا غلام ہوں"، قبضہ کسی اور کا ہے، یہ کسی اور کا غلام بتلا رہا ہے، قُضِيَ لِمَنْ مَعَهُ - تو فیصلہ کر دیا جائے گا اس شخص کے لیے جس کے پاس وہ ہے، كَمَنْ - جیسے کہ وہ شخص... جیسے کہ وہ بچہ، لَا يُعَبِّرُ - جو تعبیر... ایک آدمی کے قبضے میں ایک بچہ ہے، وہ کہتا ہے: "یہ میرا غلام ہے"، بچہ چھوٹا ہے، دو سال، تین سال کا جو تعبیر کَرْ ہی نہیں سَکْتا دَبِی۔ سَمْجھ میں آیا؟ تو اُس کے لیے خیر صاحبِ قبضہ کی کیا شمار کیا جائے گا؟ غُلام۔ تو جیسے یہاں پر فیصلہ کس کے لیے کیا جاتا تھا؟ اُس شَخْص کے لیے جو قبضے والا تھا کہ كَامَنْ لَا يُعَبِّرُ اس بَچّے کے اندر جو تعبیر اس میں بھی کس کے لیے فیصلہ کیا جائے گا؟ صاحب۔
اَلْمُرَادُ بِالتَّعْبِیرِ بَيَّنَ يُعَبِّرُ اَيْمَنًا میں کہتے ہیں تعبیر سے مراد یہ ہے أَنْ يَتَكَلَّمَ کہ وہ گفتگو کر سکے وَيَعْقِلَ مَا يَقُولُ اور سمجھتا ہو جو کہتا ہو فَإِنْ كَانَ مُعَبِّرًا وَيَقُولُ اگر وہ بچہ تعبیر کر سکتا ہے وَيَقُولُ اور کہتا ہے أَنَا حُرٌّ میں آزاد ہوں فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ تو قول اسی کا قول ہے لِأَنَّهُ فِي يَدِ نَفْسِهِ اس لیے کہ وہ اپنے نفس کے قبضے میں ہے اس کا خود اپنی ذات پر قبضہ ہے تو اس کا قول معتبر وہ آزاد ہوگا وَلَوْ قَالَ أَنَا عَبْدُ زَيْدٍ وَهُوَ فِي يَدِ عَمْرٍو اور اگر اس نے کہا میں زید کا غلام ہوں اِصْحَالٍ میں کہ وہ کس کے قبضے میں ہے؟ عَمْرٍو عمر کے قبضے میں ہے اور کہتا ہے میں زید کا غلام ہوں كَانَ عَبْداً لِعَمْرٍو تو وہ کس کا غلام ہوگا؟ بھئی جس کے قبضے میں ہے یعنی عمر ہی کا غلام ہوگا لِأَنَّهُ لَمَّا أَقَرَّ اس لیے کہ جب اس نے اقرار کر لیا أَنَّهُ عَبْدٌ کہ وہ غلام ہے أَقَرَّ أَنَّهُ لَيْسَ فِي يَدِ نَفْسِهِ تو اس نے خود اقرار کر لیا کہ وہ اپنے نفس کے قبضے میں اس کا نفس اپنے قبضے میں نہیں ہے فَيَكُونُ عَبْداً لِصَاحِبِ الْيَدِ تو اس صورت میں وہ غلام ہوگا کس کا؟ صاحبِ يَد کا وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُعَبِّراً اور اگر وہ ایسا ہے جو تعبیر نہیں کر سکتا لَا يَكُونُ فِي يَدِ نَفْسِهِ تو بھی وہ اپنے نفس کے قبضے میں نہیں ہے فَيَكُونُ عَبْداً لِصَاحِبِ الْيَدِ اس صورت میں بھی وہ کس کا ہوگا؟ غلام صاحبِ قبضہ ہی کا۔
یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آیا؟ اب صاحبِ کتاب علامہ صدرُ الشَّرِیعہ اشکال کریں گے۔ کہتے ہیں بھئی ایک بچہ ہے چھوٹا سا ہے وہ تعبیر نہیں کر سکتا اور جس کے قبضے میں ہے وہ صاحبِ قبضہ کیا کہتا ہے؟ یہ میرا غلام ہے تو قول کس کا ہے وہ کس کا غلام شمار ہوتا تھا؟ صاحبِ قول کا۔ کہتے ہیں نہیں بھئی یہ بات مشکل ہے کہنا۔ کیسے ایک بچہ جو تعبیر نہیں کر سکتا اسے کیسے ہم صاحبِ قبضہ کا غلام قرار دے دیں جبکہ انسان کے اندر اصل کیا ہے؟ حریت آزاد ہونا تو صرف قبضے سے یا صرف خدمت کی وجہ سے کسی کو کسی کا غلام قرار نہیں دیا جا سکتا۔
أَقُولُ میں کہتا ہوں اَلْيَدُ عَلَى الْإِنْسَانِ لَيْسَ دَلِيلًا ظَاهِرًا عَلَى الْمِلْكِ یہ اعتراض کر رہے ہیں بھئی متن میں جو مسئلہ آیا کہ قبضہ انسان پر قبضہ یہ ظاہری دلیل نہیں ہے ملکیت پر فَإِنَّ مَنْ رَأَى إِنْسَانًا فِي يَدِ آخَرَ اس لیے کہ اگر کسی نے دیکھا کسی انسان کو دوسرے کے قبضے میں يَتَصَرَّفُ فِيهِ تَصَرُّفَ الْمُلَّاكِ اور وہ اس میں تصرف کر رہا ہے مالکوں سا تصرف بھئی۔ جیسے مالک کیا کرتے ہیں غُلاموں سے خدمت لیتے ہیں ایک آدمی نے دیکھا کہ دوسرے کے قبضے میں ایک شَخْص ہے بھئی۔ ایک آدمی نے کیا دیکھا؟ دوسرے کے قبضے میں ایک شَخْص ہے اور وہ اس سے دوسرے کے پاس ایک شَخْص ہے اور وہ اس میں اسی طرح تصرف کرتا ہے جیسے کہ کون تصرف کرتے ہیں؟ یعنی اسی طرح خدمت لیتا ہے لَا يَجُوزُ تو جائز نہیں ہے اس دیکھنے والے کے لیے أَنْ يَشْهَدَ کہ وہ گواہی دے أَنَّهُ مِلْكُهُ کہ یہ کیا ہے اس کی؟ بھئی مالکوں سا تصرف کرنا کسی کا یہ دلیل نہیں بن سکتا کہ یہ اس کا غلام ہے لہذا دیکھنے والے کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ یہ کیا گواہی دے کہ یہ اس کا بھئی ایک آدمی ہے آپ کسی کے پاس کوئی چیز دیکھتے ہیں کسی کے قبضے میں تو آپ کے لیے گواہ آپ نے مسئلہ پڑھایا آپ کے لیے جائز ہے گواہی دینا کہ یہ اس کا بھئی ایک آدمی ہے اس کے پاس آپ نے کیا دیکھی؟ گاڑی دیکھی اور وہ گاڑی کو استعمال کر رہا ہے چلا رہا ہے جیسے کہ مالک استعمال کرتے ہیں چلاتے ہیں تو آپ کے لیے جائز ہے آپ گواہی دے سکتے ہیں جا کر کسی موقع پر ضرورت پڑے آپ جا کر گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ شَخْص کیا ہے اس گاڑی کا مالک ہے۔ لیکن کسی انسان کو دوسرے کے پاس دیکھا اور وہ اس میں تصرف کر رہا ہے مالکوں کی طرح تو اب صرف دیکھنے کی بنا پر آپ کے لیے یہ گواہی دینا جائز نہیں۔ فَإِنَّ الْأَصْلَ فِي الْإِنْسَانِ الْحُرِّيَّةُ اس لیے کہ اصل انسان کے اندر کیا ہے؟ حریت ہے فَكَوْنُ الصَّبِيِّ الَّذِي لَا يُعَبِّرُ عَبْدًا پس اس ہونا اس بچے کا جو تعبیر نہیں کر سکتا عَبْداً کیا ہونا؟ غلام ہونا لِصَاحِبِ الْيَدِ کس کے لیے؟ صاحبِ قبضہ کے پس وہ بچہ جو تعبیر نہیں کر سکتا اس کا صاحبِ قبضہ کے لیے غلام ہونا مشکل یہ کیا ہے؟ مشکل ہے اس میں اشکال ہے بھئی بات بنتی نہیں بھئی۔
وَالْحَائِطُ لِمَنْ جُزُوعُهُ عَلَيْهِ أَوْ مُتَّصِلٌ بِبِنَائِهِ اِتِّصَالَ تَرْبِیعٍ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی ایک دیوار ہے دو آدمی دعویٰ کرتے ہیں ایک کہتا ہے یہ دیوار میری دوسرا کہتا ہے یہ دیوار میری۔ بھئی دیوار ہوتی ہے بعض اوقات گھروں کے درمیان بھئی عموماً ایک ہی دیوار ہوتی ہے اب ایک کہتا ہے یہ دیوار میری ہے میرے گھر کی کی ہے دوسرا کیا کہتا ہے ساتھ والا؟ یہ دیوار میری ہے اب کہتے ہیں دیکھا جائے گا جس کی کڑیاں اس دیوار پر ہوں اسی کے لیے وہ دیوار ہوگی اس کے لیے فیصلہ کر دیا جائے گا۔ کڑیاں جانتے ہو یا نہیں بھئی؟
بھئی ایک ہوتا ہے شَہْتِیر بھئی چھت کے اندر بھئی پرانی چھتیں آج بھی عام جگہ استعمال ہوتی ہیں بھئی ایک شَہْتِیر ہوتا ہے پھر اس شَہْتِیر سے چھوٹی چھوٹی لکڑیاں بھئی ہر طرف دیوار تک گئی ہوتی ہیں بھئی۔ دونوں طرف بھئی شَہْتِیر کے دونوں طرف کیا ہیں؟ دیوار تک لکڑیاں گئی ہوتی ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ کڑیاں۔ کیا کہتے ہیں؟ کڑی کہتے ہیں ایک ایک کڑی اچھا اِتھِر ان کڑیوں کے اوپر بھئی پھر لکڑی کے تختے یا کوئی چیز رکھی جاتی ہے یا جیسے اینٹیں رکھی جاتی ہیں اور پھر اس پر مٹی وغیرہ ڈلتی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ جو کڑی یہ جس کی کڑیاں دیوار پر ہوں دیوار بھی کس کی ہوگی؟ اسی کی۔ صورت سمجھ میں آگئی۔
یہ مَنَا وَالْحَائِطُ اور دیوار لِمَنْ اس شَخْص کے لیے ہوگی جُزُوعُهُ عَلَيْهِ جُزُوعُ جمع ہے جِزْعُن کی تنے کو کہتے ہیں مراد کڑیاں ہیں جس کی کڑیاں ہو اس پار اَوْ مُتَّصِلٌ اَوْ مُتَّصِلٌ یہاں والا نہیں یہاں ہوا ضمیر محذوف نکالیں گے اَوْ هُوَ مُتَّصِلٌ بِبِنَائِهِ ہوا ضمیر راجع کر لیں حَائِط کو یا وہ دیوار ملی ہوئی ہو بِبِنَائِهِ اس کی عمارت کے ساتھ اِتِّصَالَ تَرْبِیعٍ اور ملنا بھی کس قسم کا ہو؟ اتصالِ تربیع کا ہو تربیع۔ بھئی دیکھو دو دیواریں آپس میں ملی ہوں دو صورتیں ممکن ہیں جیسے اس کمرے کی دیواریں آپ دیکھیں بھئی۔ ان کی اس کی اینٹیں آپس میں کس طرح ملی ہوں گی بھئی؟ اینٹیں آپس میں ایک دوسرے کے اندر آئی ہوں گی یا نہیں بھئی؟ جی۔ ایک دوسرے کے اس ایک دیوار اس طرف سے آ رہی ہے ایک دوسری طرف سے آ درمیان میں یہ جو کونا ہے اس کونے پر ان کی اینٹیں کیا ہوتی ہیں آپس میں؟ ایک اینٹیں دوسری کے اندر جا رہی ہیں اور دوسری کی اینٹیں اس کے اندر آ رہی ہیں یہ ملانا ضروری ہوتا ہے بھئی۔ اور اس کو اتصالِ تربیع کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ اتصالِ تربیع اتصالِ تربیع کیوں کہتے ہیں آگے آپ کو بتلائیں گے شرح کے اندر کہ اس لیے کہ اس طرح دو دیواروں کو یوں اس لیے ملایا جاتا ہے تاکہ ان کے ساتھ دو اور دیواریں بھی اسی طرح ملا کر ایک چوکور چیز بنا لی جائے ایک چوکور کمرہ یا صحن وغیرہ تو یہ کونے اس لیے ملائے جاتے ہیں۔
اور ایک صورت یہ ہے کہ دیوار آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملی تو ہوئی ہے ٹچ تو ہو رہی ہے لیکن ایک دوسرے میں اینٹیں نہیں گھسی ہوئی اس کی بھئی وہ اتصالِ ملازقت ہے کیا کہلاتا ہے؟ اتصالِ ملازقت کہلاتا ہے۔ وہ دلیل نہیں بن سکتا بھئی۔ مالک ہونے کی لیکن اگر اتصالِ تربیع پایا جائے ایک کے اندر دوسرے کی اینٹیں گھسی ہوئی ہیں یہ مالک ہونے کی علامت ہے بھئی۔ معلوم ہوا یہ دوسری دیوار بھی بھئی ایک دیوار تو اس کی ہے ہی ایک کے اندر جھگڑا ہے لیکن اس کی اینٹیں اس کی دیوار کی اینٹیں اس کی دیوار میں اندر گھسی ہوئی ہیں معلوم ہوا اس دوسری دیوار کا مالک بھی یہی ہے اسی نے یہ دیوار تعمیر کی تھی یہ دیوار بھی اور اتصالِ تربیع رکھا تاکہ اس کے ذریعے کیا کرے چوکور احاطہ وغیرہ کا رقبے کا احاطہ کریں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی۔
یہ مَنَا ہے میں نے بتلایا اَوْ هُوَ ہوا ضمیر یہاں کیا نکال لیں گے؟ محذوف اور کس کو راجع ہوگی؟ دیوار کو سمجھ میں آیا؟ تو یہ بھی صلہ بن جائے گا مَن کے لیے جیسے مَن کے لیے ایک صلہ بنا اُس شَفْ لِمَن اُس شَخْص کے لیے جُزُوعُهُ عَلَيْهِ جس کی کیا ہیں کڑیاں اس دیوار پر ہیں اور لِمَن هُوَ مُتَّصِلٌ بِبِنَائِهِ وہ شَخْص کہ وہ دیوار ملی ہوئی ہے بِبِنَائِهِ اس کی عمارت کے ساتھ کس قسم کی ملی ہوئی ہے اِتِّصَالَ تَرْبِیعٍ اتصالِ تربیع کے طریقے پر بھئی۔
کہتے ہیں اِتِّصَالُ التَّرْبِیعِ اِتِّصَالُ جِدَارٍ بَيْنَ جِدَارَيْنِ وہ اتصالِ تربیع جو ہے وہ ملنا ہے ایک دیوار کا دوسری دیوار کے ساتھ بِحَيْثُ اس طور پر يَتَدَاخَلُ کہ داخل ہو جائیں باہم داخل ہوں لَبِنَاتُ لَبِنَاتُ اِسْتِگفَار لَبِنَاتٌ اینٹ کو کہتے ہیں لَبِنَاتُ هَذَا الْجِدَارِ فِي لَبِنَاتِ ذَالِكَ کہ باہم داخل ہوں اس دیوار کی اینٹیں اس دیوار کی اینٹوں میں وَإِنَّمَا سُمِّيَ اتصالِ تربِیعی اور اس کو اتصالِ تربیع کہتے ہیں لِأَنَّهُمَا إِنَّمَا يُبْنَيَانِ اس لیے کہ ان کو اس طرح تعمیر کیا جاتا ہے لِيُحِيطَا تاکہ یہ جو دونوں دیواریں کیا کر لیں؟ احاطہ کر لیں مَعَ جِدَارَيْنِ اَخَرَيْنِ دو دوسری دیواروں کے ساتھ مل کر بِمَكَانٍ مُرَبَّعٍ کس کا احاطہ کر لیں؟ مربع جگہ کا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟
جی لَا لِمَنْ لَهُ عَلَيْهِ حَرَادِي۔ حَرَادِي جمع ہے حُرْدِیَّةُن کی بھئی۔ حُرْدِیَّةُن بھئی۔ نہ کہ اس شَخْص کے لیے کہ جس کی اس پر حَرَادِي ہوں بھئی۔ بھئی شَہْتِیر سے جو لکڑیاں نکلیں دیوار تک گئیں وہ کیا کہلاتے ہیں؟ کڑیاں۔ اور ان کڑیوں کے اوپر جو لکڑی کے تختے رکھے جاتے تھے ان کو کہتے تھے حَرَادِي۔ تو ایک ہے اس کے صرف تختے رکھے ہوئے ہیں بھئی کڑیاں نہیں رکھی دیوار پر تو کیا اس کے حق میں فیصلہ ہوگا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی تختوں کا رکھنا اس کے مالک ہونے کی دلیل نہیں۔ یہ مَنَا ہے لَا لِمَنْ نہ کہ اس شَخْص کے لیے دیوار ہوگی لَهُ عَلَيْهِ حَرَادِي کہ جس کی اس پر کیا ہوں؟ تختے ہوں اَلْمُرَادُ بِالْحَرَادِي الْخَشَبَاتُ الَّتِي تُوَضَعُ عَلَى الْجُزُوعِ حرادی سے کیا مراد ہیں؟ وہ لکڑیاں جو ان جُزُوع پر رکھی جائیں۔ پہلے کڑیاں اور ان کڑیوں کے اوپر کیا ہیں؟ تو وہ لکڑیاں جو کڑیوں پر رکھی جائیں۔ بَلْ هُوَ بَيْنَ الْجَارَيْنِ بلکہ وہ دیوار کیا ہے؟ دو پڑوسیوں کے بیچ ہے یعنی دونوں کے درمیان تقسیم کے فیصلہ کیا جائے گا کہ دونوں اس کے مالک ہیں۔ لَوْ تَنَازَعَا اگر دونوں کیا کریں؟ جھگڑا کریں اِذَا كَانَ لِأَحَدِهِمَا عَلَيْهِ حَرَادِي ایک ہی اس پر حَرَادِي ہیں وَلَا شَيْءَ لِلْآخَرِ عَلَيْهِ اور دوسرے کی اس پر کوئی چیز نہیں فَهُوَ بَيْنَهُمَا تو وہ دیوار ان دونوں کے بیچ ہے یعنی دونوں مالک ہیں۔
وَذُو بَيْتِ مِنْ دَارٍ كَذِي بُيُوتٍ مِنْهَا فِي حَقِّ سَاحَتِهَا۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی ایک گھر ہے اس گھر کے اندر دس کمرے ہیں نو کا مالک زید ہے نو کمروں کا اور ایک کمرے کا مالک آ امر ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور صحن مشترکہ ہے بھئی۔ صحن مشترکہ ہے تو کیا دونوں کا حق صحن میں برابر ہوگا یا نو والے کا حق زیادہ ہوگا اور ایک والے کا حق کم؟ کہتے ہیں بھئی صحن کے میں دونوں برابر کے شریک ہیں یعنی صحن کے اندر چلنے پھرنے میں لکڑیاں وغیرہ سامان رکھنے میں دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں بھئی۔
وَذُو بَيْتٍ اور ایک کمرے والا مِنْ دَارٍ کسی گھر میں سے کَذِي بُيُوتٍ کس کی طرح ہے؟ زیادہ کمروں والے کی طرح ہے مِنْهَآ اِي مِنْ هَذَا الدَّارِ کو راجع ہے بھئی اس گھر میں سے۔ ایک گھر میں سے ایک کمرے والا اس شَخْص کی طرح ہے جو اس گھر میں سے زیادہ کمروں والا ہے کس چیز کے اندر؟ فِي حَقِّ سَاحَتِهَا اس گھر کے صحن کے حق میں۔ یعنی منافع کے اندر میں نے بتلایا بِنَاءً عَلَى أَنْ لَا تُرَجَّحَ بِكَسْرَةِ الْعِلَّةِ بناء بر اس کے کہ کوئی ترجیح نہیں دی ہوگی کثرتِ علت کی وجہ سے کثرتِ علت کی وجہ سے ترجیح آپ نے پڑھا تھا بھئی ایک کے پاس دو گواہ ہوں اور دوسرے کے پاس چار گواہ ہوں تو اس سے یہ مطلب نہیں کہ چار گواہ والے کو کی بینہ اولی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو کثرتِ علت سے ترجیح نہیں دے سکتے کسی کو بھئی۔
اَدَعَى اِدَّعَى رَجُلٌ أَنَّهَا فِي يَدِهِ وَاَخَرُ كَذَلِكَ وَبَرَهَنَا قُضِيَ بِیَدِهِمَا ایک زمین ہے مولانا اِدَّعَى رَجُلٌ دعویٰ کیا ایک آدمی نے أَنَّهَا فِي يَدِهِ کہ یہ زمین اس کے قبضے میں ہے وَآخَرُ كَذَلِكَ اور دوسرے نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ یہ زمین میرے قبضے میں ہے وَبَرَهَنَا اور دونوں نے بینہ بھی قائم کر دی گواہ پیش کر دیے قُضِيَ بِیَدِهِمَا تو ان دونوں کے قبضے کا کیا کر دیا جائے گا؟ فیصلہ کر دیا جائے گا۔ فَإِنْ بَرَهَنَ أَحَدُهُمَا لیکن اگر صرف دونوں میں سے ایک نے بینہ کی دوسری صورت اگر ایک نے بینہ قائم کی أَوْ كَانَ لَبَنَّا فِيهَا لَبَنَّا کا معنی ہوتا ہے اینٹیں بنانا لبنا یلبنو۔ اینٹیں بنانا تو یا مولانا ایک زمین ہے دونوں نے دعویٰ کیا بینہ صرف کس نے پیش کی؟ ایک نے تو اس کے حق میں فیصلہ ہوگا۔ یا بینہ ایک کے پاس بھی نہیں ہے لیکن ایک نے اس میں کیا کی ہیں؟ اینٹیں بنائی ہیں أَوْ بَنَا یا اس میں کیا کی ہے کوئی تعمیر کوئی کمرہ وغیرہ بنایا ہے أَوْ حَفَرَ یا کیا کیا ہے اس میں؟ گڑھا وغیرہ کھودا یا کنواں کھودا ہے قُضِيَ بِيَدِهِ تو اسی کے قبضے کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ جس نے بینہ قائم کی ہے یا جس نے اینٹیں بنائی ہیں یا تعمیر کی ہے یا گڑھا کھودا ہے۔ کہتے ہیں فَإِنَّ الِاسْتِعْمَالَ دَلِيلُ الْيَدِ اس لیے کہ استعمال یہ قبضے کی دلیل ہے اس کا عمارت تعمیر کرنا یا اینٹیں بنانا جو اس نے استعمال کیا یہ قبضے کی دلیل تو اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا بھئی۔
بَابُ دَعْوَى النَّسَبِ یہ باب ہے نسب کے دعوے کے بارے میں مَبِیعَةٌ وَلَدَتْ لِأَقَلَّ مِنْ نِصْفِ حَوْلٍ مُنْذُ بِيعَتْ فَصَعْدَ الْبَايِعُ الْوَلَدَ يَسْبُطُ نَسْبُهُ مِنْهُ وَأُمِّيَّتُهَا وَيُفْتَحُ الْبَيْعُ وَيُرَدُّ الثَّمَنُ وَإِنِ اتَّعَاهُ الْمُشْتَرِي مَعَ دَعْوَتِهِ اَوْ بَعْدَهَا صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی ایک شَخْص زید ہے بھئی زید نے اپنی باندی بیچی بھئی۔ اور باندی امر کو بیچی امر کے پاس باندی نے چھ ماہ سے پہلے پہلے ایک بچے کو جنم دیا۔ چھ ماہ سے آپ جانتے ہیں بھئی حمل کی کم سے کم مدت کتنی ہے؟ چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ دو سال ہے کتنی ہے؟ دو سال تو کم سے کم چھ مہینے زیادہ سے زیادہ دو سال ہے بھئی۔
अच्छा (سیدھا اردو لفظ، کوئی حركات نہیں) اچھا اب ایک شَخْص نے زید نے باندی بیچی امر کو اور امر کے پاس باندی نے ایک بچے کو جنم دیا چھ مہینے سے پہلے۔ پھر بائے نے یعنی زید نے دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا بچہ ہے کہتے ہیں بھئی نسب بچے کا زید سے ثابت ہو جائے گا اور وہ باندی زید کی اُمِّ ولد بن جائے گی بھئی باندی تو اس نے امر کو بیچی تھی کہتے ہیں بھئی۔ بیع فصح کر دی جائے گی اور ثَمَن کیا کر دیے جائیں گے؟ امر کو اس کے سامان واپس کر دیے جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آگئی۔
باندی کس نے بیچی؟ زید نے اور بچہ کب پیدا ہوا چھ ماہ سے پہلے پہلے بھئی۔ اور پھر زید نے کیا کیا اس بائے نے اس کے بچے کا اس کا اپنا بچہ ہونے کا اپنے بیٹا ہونے کا دعویٰ کر دیا اس کا دعویٰ درست ہے اور لہذا وہ اس کا بچہ ہوگا شمار نسب ثابت ہو جائے گا باندی اس کی اُمِّ ولد بن جائے گی بیع کو فسخ کر دیا جائے گا اور خریدار کو اس کے ثمن واپس کر دیے جائیں گے۔ یہ معنی ہے مَبِیعَةٌ وَلَدَتْ لِأَقَلَّ مِنْ نِصْفِ حَوْلٍ ایسا مبیع جس نے جنم دیا۔ مبیعہ سے کیا مراد ہے یہاں؟ باندی سمجھ میں آیا؟ مَبِیعَةٌ ایسی باندی وَلَدَتْ جس نے کیا کیا بھئی؟ ایسی بیچی ہوئی باندی جس نے جنم دیا لِأَقَلَّ مِنْ نِصْفِ حَوْلٍ نصف سال سے کم مدت کے اندر مُنْذُ بِيعَ جب سے اس کو بیچا گیا ہے۔
فَادَّعَى البَائِعُ الوَلَدَ، ادَّعَى کر دیا بائع نے ولد کا، يَثْبُتُ نَسَبُهُ مِنْهُ، تو کیا ہوگا؟
اس بچے کا نسب بائع سے ثابت ہو جائے گا۔
وَإِذْ تُ— نسب بھی ثابت ہو جائے گا، وَأُمِّيَّتُهَا، یہ امّ سے ہے امّ سے، یا اور تا مصدر بنانے کے لیے ساتھ لگا دیتے ہیں، اور اس باندی کا ام ولد ہونا بھی کیا ہوگا؟ ثابت ہو جائے گا، تو اس کا امیت کا عطف نسب پر ہے۔
وَيُفْسَخُ البيعُ، اور بیع کو فسخ کر دیا جائے گا، وَيُرَدُّ الثَّمَنُ، اور ثمن رد کر دیے جائیں گے۔
وَإِنِ ادَّعَاهُ المُشْتَرِي مَعَ دَعْوَتِهِ، ایک لفظ ہے دعوٰى، ایک ہے دِعْوَة، دِعْوَة کا مطلب ہے دعوائے نسب کرنا بھئی، دِعْوَة کا کیا معنی ہے؟ دعوائے نسب کرنا، تو ایک لفظ ہے دِعْوَة اور ایک ہے دَعْوَة، دِعْوَة کا لفظ نسب میں استعمال ہوتا ہے اور دَعْوَة کا لفظ طعام، کھانے میں استعمال ہوتا ہے، آپ بھی استعمال کرتے ہیں اردو میں فلاں نے میری دعوت کی، تو دعوت کا لفظ کس لیے استعمال ہوتا ہے؟ کھانے کے لیے، طعام کے لیے، اور دِعْوَة کا لفظ کس کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ نسب کے لیے بھئی۔
بائی صورت یہ، بائع نے دعویٰ کیا یہ میرا بچہ ہے، مشتری نے بھی اس کے ساتھ ہی دعویٰ کر دیا یہ میرا بچہ ہے، کس کا دعویٰ اولىٰ؟ کہتے ہیں اس صورت میں بھی بائع کا دعویٰ اولىٰ ہے۔ یا تو یہ دیکھو دونوں نے اکٹھا دعویٰ کیا، یا بائع پہلے دعویٰ کر دیتا ہے اور بعد میں کون کر دیتا ہے؟ مشتری، پھر بھی اس صورت میں بھی فیصلہ کس کے لیے ہوگا؟ بائع، کیوں؟ کیونکہ بھئی چھ مہینے سے پہلے بچہ پیدا ہوا ہے، معلوم ہوا یہ حمل کہاں سے آیا تھا؟ بائع کے پاس سے آیا تھا۔
اچھا، تو دیکھو مشتری اگر بائع کے ساتھ دعویٰ کرے یا بائع کے بعد دعویٰ کرے، دونوں صورتوں میں فیصلہ کس کے حق میں ہے؟ نسب کس سے ثابت؟ بائع، لیکن اگر مشتری نے پہلے دعویٰ کر دیا، پھر؟ کہتے ہیں بھئی پھر مشتری کے حق میں، مشتری سے نسب ثابت ہو جائے گا، اور کیسے ہوگا؟ ابھی تو چھ ماہ گزرے ہیں، کہتے ہیں گویا اس نے پہلے سے اس کے ساتھ اس کا نکاح تھا، اور نکاح سے کیا ہوئی تھی وہ باندی؟ حاملہ ہو چکی تھی، پھر اس حاملہ باندی کو اس مشتری نے کیا کر دیا؟ اپنی حاملہ بیوی کو اس نے خرید لیا بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟
یہ معنی ہے، تو بیع کو فسخ کر دیا جائے گا اور ثمن کو رد کر دیا جائے گا، وَإِنِ ادَّعَاهُ المُشْتَرِي مَعَ دَعْوَتِهِ أَوْ بَعْدَهَا، اگرچہ مشتری نے بھی دعویٰ کیا ہو مَعَ دِعْوَتِهِ، کس کے دعوے کے ساتھ؟ بائع کے دعوے کے ساتھ، أَوْ بَعْدَهَا، یا بائع کے دعوے کے بعد، هَذَا عِنْدَنَا، یہ ہمارے نزدیک ہے بھئی، وَعِنْدَ زُفَرَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً، اور امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک، دِعْوَتُهُ بَاطِلَةٌ بھئی۔
وہ فرماتے ہیں بائع کا دعویٰ باطل ہے، لِأَنَّ البيعَ، اس لیے کہ بیچنا، اِعْتِرَافٌ مِنْهُ، بھئی یاد رکھو آپ جانتے ہیں ام ولد کیا ہوتی ہے؟ مالک کے مرنے کے بعد آزاد ہو جاتی ہے، تو جب امام شافعی رحمہ اللہ اور امام زفر رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ بائع نے اس کو بیچا، جب بیچا تو بیچنا دلیل ہے کہ یہ اس کی ام ولد نہیں، کیونکہ ام ولد کی تو بیع جائز نہیں، تو بائع کا بیچنا یہ بتلا رہا ہے کہ یہ اس کی ام ولد نہیں، اور اب دعویٰ بتلا رہا ہے کہ یہ اس کی ام ولد ہے، تو اس کے کلام میں تناقض آیا، لہٰذا اس کا کلام مسموع نہیں، نہیں سنا جائے گا۔
کہتے ہیں لِأَنَّ البيعَ اِعْتِرَافٌ مِنْهُ، اس لیے کہ بیچنا یہ اس کی طرف سے بائع کی طرف سے اعتراف ہے، بِأَنَّهَا أَمَةٌ، کہ یہ اس کی باندی ہے، فَبالدِّعْوَةِ يَصِيرُ مُنَاقِضًا، تو دعویٰ کرنے کی وجہ سے یہ اس کے قول کے کیا ہوا؟ مناقض ہوا بھئی۔
وَلَنَا، اور ہم دلیل یہ دیتے ہیں، كَأَنَّ العُلُوقَ أَمْرٌ، ٹھیک ہے ٹھیک ہے اس کے کلام میں تناقض ہے، لیکن كَأَنَّ العُلُوقَ أَمْرٌ خَفِيٌّ، علوق کہتے ہیں حمل ٹھہرنا، علوق کسے کہتے ہیں؟ حمل، لیکن حمل ٹھہرنا امر خفی ہے، فَيُعْفَى فِيهِ التَّنَاقُضُ، تو اس میں تناقض کو معاف کیا جائے گا۔
بھئی جب اس نے بیچا اس کو پتہ ہی نہیں تھا یہ حاملہ ہے بھئی، حاملہ ہونا امر خفی ہے یا نہیں بھئی؟ جی! حاملہ ہونا امر خفی ہے بھئی، تو چونکہ یہ امر خفی ہے لہٰذا اب اس کے بیچنے میں اور اس کے قول کے اعتبار دونوں میں تناقض آ رہا ہے لیکن چونکہ امر خفی ہے حمل کا ٹھہرنا اس لیے اس تناقض کو کیا کیا جائے گا؟ یہ قابل معافی ہے بھئی، فَيُعْفَى فِيهِ التَّنَاقُضُ، تو تناقض کو معاف کیا جائے گا۔
وَكَوْنُ العُلُوقِ فِي يَدِ البَائِعِ، اور نیز اس حمل کا ٹھہرنا، یہ حمل کس کے قبضے میں ٹھہرا تھا بھئی؟ بائع کے پاس، جب چھ مہینے سے قبل ہوا ہے، وَكَوْنُ العُلُوقِ فِي يَدِ البَائِعِ، اور یہ علوق کا بائع کے قبضے میں ہونا، دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ مِنْهُ، یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ علوق کس کی طرف سے ہے؟ بائع ہی کی طرف سے ہے۔
وَإِنَّمَا قَالَ وَإِنِ ادَّعَاهُ المُشْتَرِي مَعَ دَعْوَتِهِ أَوْ بَعْدَهَا، کہتے ہیں بھئی ماتن نے یہ قید کیوں لگائی؟ اگرچہ مشتری بھی اس کا کیا کر دے؟ دعویٰ کر دے، مَعَ دِعْوَتِهِ، کس کے دعوے کے ساتھ؟ بائع کے دعوے کے ساتھ، أَوْ بَعْدَهَا، یا اس کے بعد، یہ قید کیوں لگائی؟ कहते ہیں ہاں یہ ماتن نے قید لگائی، حَتَّى لَوْ ادَّعَاهُ المُشْتَرِي قَبْلَ دِعْوَةِ البَائِعِ، اگر مشتری نے دعویٰ کر دیا بائع کے دعوے سے پہلے، ثَبَتَ النَّسَبُ مِنَ المُشْتَرِي، تو اس صورت میں نسب کس سے ثابت ہو جائے گا؟ مشتری سے، بھئی مشتری سے کیسے بھئی چھ ماہ سے پہلے کیسے اس کا بچہ ہو گیا؟ کہتے ہیں وَيُحْمَلُ، اس کو محمول کیا جائے گا، عَلَى أَنَّ المُشْتَرِيَ نَكَحَهَا، کہ مشتری نے اس سے کیا کیا تھا؟ نکاح بھئی، بائع کے پاس تھی باندی لیکن نکاح کس سے ہو گیا اس کا؟ مشتری سے، وَاسْتَوْلَدَهَا، اور مشتری نے پھر اس کو کیا کیا؟ حاملہ کیا، استولدھا کا معنی حاملہ کرنا، اور مشتری نے پھر اس کو حاملہ کیا، ثُمَّ اشْتَرَاهَا، پھر کیا کیا اس کو؟ خرید لیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟
وَكَذَا لَوْ ادَّعَاهُ بَعْدَ مَوْتِ الأُمِّ بِخِلَافِ مَوْتِ الوَلَدِ، اور اسی طرح ہے اگر دعویٰ کیا بائع نے ماں کی موت کے بعد، برخلاف بچے کی موت کے بعد، یہی صورت مسئلہ: ایک شخص نے اپنی باندی بیچی اور باندی نے چھ ماہ سے قبل ایک بچے کو جنم دیا، اور اس کی ماں کا انتقال اس باندی کا انتقال ہو گیا، اب بائع نے دعویٰ کر دیا یہ بچہ میرا ہے، تو کیا نسب ثابت ہوگا یا نہیں؟ کہتے ہیں ہاں بھئی نسب کیا ہے ثابت ہو جائے گا، صورت سمجھ میں آئی؟
لیکن اگر ماں نہیں مری بلکہ بچہ مر گیا اور ماں زندہ ہے، اب بیچنے والے نے دعویٰ کر دیا یہ میری ام ولد ہے وہ بچہ میرا تھا، تو کیا اب نسب ثابت ہوگا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی بچہ مر چکا ہے اب اسے نسب کی حاجت نہیں، لہٰذا دعویٰ ثابت نہیں ہوگا، کیونکہ بچہ اصل ہے تو جب تک بچہ زندہ ہے نسب ثابت ہوگا، اور ماں اس کے تابع ہے، سمجھ میں آیا؟ بچے کی وجہ سے ماں ام ولد بنی ہے، تو جب اصل ہی نہ رہا تو دعویٰ بھی درست، اور لیکن جب تک اصل ہے تو دعویٰ بھی درست ہے بھئی۔
یہ معنی ہے وَكَذَا لَوْ ادَّعَاهُ، اسی طرح اگر بائع نے دعویٰ کر دیا بھئی نسب کا، بَعْدَ مَوْتِ الأُمِّ، کس کی موت کے بعد؟ ماں کی موت کے بعد، بِخِلَافِ مَوْتِ الوَلَدِ، برخلاف کس کے؟ بچے کی موت کے، اس صورت میں دعوے کا اعتبار نہیں، يَعْنِي إِذَا مَاتَتِ الأَمَةُ، یعنی وہ صورت کہ جب باندی مر گئی، وَالوَلَدُ حَيٌّ، اور بچہ زندہ ہے، فَادَّعَاهُ البَائِعُ، بائع نے اس کا دعویٰ کر دیا، وَقَدْ جَاءَتْ بِهِ لِأَقَلَّ، لِأَقَلَّ، یہ الف غلط ہے کتابت کی غلطی ہے، وَقَدْ جَاءَتْ بِهِ لِأَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، اور وہ باندی اس کو لے کر آئی ہے یعنی اس نے اس کو جنم دیا ہے چھ مہینے سے کم کے اندر، يَثْبُتُ النَّسَبُ مِنْهُ، تو نسب کس سے ثابت ہو جائے گا؟ بائع سے، وَإِنْ مَاتَ الوَلَدُ لَا، اور اگر بچہ مر چکا ہے تو اب بائع دعویٰ کرتا ہے تو نسب ثابت نہیں، لِأَنَّ الوَلَدَ أَصْلٌ فِي ثُبُوتِ النَّسَبِ، اس لیے کہ ولد کیا ہے؟ اصل ہے مولانا کس کے اندر؟ ثبوت نسب کے اندر، دلیل کیا ہے؟ قَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم کی ماں کے بارے میں فرمایا: أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا، ام ابراہیم کیا تھیں حضور علیہ السلام کی باندی تھیں، حضور نے تو ان سے بیٹے ہوئے حضرت ابراہیم بھئی حضور علیہ السلام کے بیٹے بھئی، تو حضور نے فرمایا ان ام ابراہیم کے بارے میں: أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا، اس کو آزاد کر دیا ہے اس کے بچے نے، اس کے بچے نے کیا کیا ہے؟ اس کو آزاد کر دیا ہے، یعنی یہ اب کیا بن گئی ہے؟ ام ولد بن چکی ہے بھئی، تو اصل آزاد کس نے کروایا؟ آزادی کی نسبت کس کی طرف کی؟ بچے کی طرف، معلوم ہوا اصل کون ہے؟ بچہ ہے۔
وَإِذَا صَحَّتِ الدَّعْوَى، اور جب دعویٰ صحیح ہے، بَعْدَ مَوْتِ الأُمِّ، کس کے بعد؟ ماں کی موت کے بعد، فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، يُرَدُّ كُلُّ الثَّمَنِ، سارے کے ثمن سارے کے سارے ثمن کیا کیے جائیں گے؟ واپس، وَعِنْدَهُمَا، اور صاحبین کے نزدیک، يُرَدُّ حِصَّةُ الوَلَدِ، واپس کیا جائے گا صرف بچے کا حصہ، لَا حِصَّةُ الأُمِّ، نہ کہ ماں کا، بھئی دیکھو:
ایک شخص نے دوسرے کو اپنی باندی بیچی، اس باندی نے چھ ماہ سے کم عرصے کے اندر ایک بچے کو جنم دیا، اور باندی مر گئی، باندی کے مرنے کے بعد بائع نے کیا دعویٰ کر دیا؟ یہ بچہ میرا ہے بھئی یہ میرا، تو بھئی اب نسب کا دعویٰ کیا ہوا؟ نسب ثابت ہو جائے گا بچے کا، دعویٰ صحیح ہوا، جب دعویٰ صحیح ہوا تو معلوم ہوا اس نے کس کو بیچا تھا؟ اپنی ام ولد کو بیچا تھا، اور ام ولد کی تو بیع جائز نہیں، تو امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ یہ بیع درست نہیں، جب بیع درست نہیں تو اب کیا کیا جائے گا؟ سارے کے سارے ثمن کس کو دے دیے جائیں گے واپس؟ معلوم ہوا بائع نے جو ثمن لیے تھے وہ درست نہیں بھئی، تو سارے کے سارے ثمن واپس کیے جائیں گے، اور صاحبین فرماتے ہیں بچے کا حصہ تو واپس کیا جائے گا، ام کا حصہ واپس نہیں ہوگا، اس لیے کہ ام تو مر چکی ہے، ہاں بچہ کیا ہے؟ زندہ ہے، اور بائع کے دعوے کی وجہ سے یہ بچہ کیا ہوا؟ آزاد ہو گیا، تو جب آزاد ہوا تو بچے کی اور ماں کی قیمت دیکھ لی جائے گی، ثمن میں سے جو بچے کا حصہ بنتا ہے وہ واپس کر دیا جائے گا۔
مثلاً بھئی، باندی جو اس نے بیچی تھی کتنے کی بیچی تھی؟ ایک لاکھ کی مثلاً، ایک لاکھ کی، اور بچہ کیا تھا؟ ثمن ہے ایک لاکھ، اور باندی کی قیمت کتنی تھی؟ مثلاً باندی کی قیمت تھی پچھتر ہزار، اور بچے کی قیمت کتنی ہے مثلاً؟ پچیس ہزار، یا یوں کہو باندی کی قیمت پچاس ہزار ہے لیکن اس نے خریدی کتنے کی ہے؟ ایک لاکھ، اور بچے کی بھی قیمت کتنی ہے؟ پچاس ہزار، تو دونوں کی قیمت کتنی ہوئی؟ پچاس پچاس ہزار، معلوم ہوا نصف حصہ بچے کا ہو جائے گا اور نصف کس کا؟ تو وہ نصف حصہ واپس لوٹا دیا جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا باندی کی اگر قیمت تھی پچھتر ہزار اور بچے کی قیمت کتنی ہے؟ پچیس ہزار، تو باندی کے تین ربع اور بچے کا ایک ربع، تو ثمن میں، ثمن میں سے ایک ربع کیا کر دیا جائے گا؟ جو بچے کا حصہ ہے وہ واپس کر دیا جائے گا۔
وَلَوْ ادَّعَاهُ بَعْدَ عِتْقِهَا يَثْبُتُ نَسَبُهُ وَيَرُدُّ حِصَّتَهُ مِنَ الثَّمَنِ، صورت یہ بھئی: ایک باندی ایک شخص نے بیچی، اس باندی نے چھ ماہ سے کم عرصے کے اندر ایک بچے کو جنم دیا اور پھر اس کے بعد مشتری نے اس باندی کو آزاد کر دیا۔
باندی کو کیا کر دیا؟ آزاد کر دیا۔
بچہ ابھی بھی اس کے قبضے میں ہے، اب بائع نے کیا کیا بھئی؟ جی! دعویٰ کر دیا کہ یہ میری یہ بچہ میرا ہے، کہتے ہیں نسب پھر بھی ثابت ہو جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور جب نسب ثابت ہوا، اب بھئی معلوم ہوا وہ باندی اس کے ام وہ بھی زندہ ہے لیکن وہ آزاد ہو چکی، اور آزادی کو فسخ نہیں کیا جا سکتا، تو لہٰذا اب ثمن واپس ہونے چاہیے تھے، باندی کو بھی واپس کیا جاتا اور بچے کو بھی واپس دیتے بھئی، وہ تو آزاد ہے بھئی جب مالک کا بیٹا ہے تو آزاد ہے، لیکن باندی تو وہ کیا کر چکا؟ آزاد کر چکا، جب آزاد کر چکا اب آزادی ختم کی جا سکتی ہے؟ آزادی تو ختم نہیں، تو لہٰذا باندی کے واپسی میں مانع آ گیا، جب باندی کے واپسی میں مانع آیا تو اب اس صورت میں بھئی امام صاحب بھی فرماتے ہیں کہ صرف کس کا حصہ واپس کیا جائے گا؟ بچے کا حصہ واپس کیا جائے گا، باندی کا حصہ واپس نہیں کیا جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟
اوپر والی صورت میں امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ سارے ثمن واپس کیے جائیں گے بھئی، کیونکہ باندی کی موت میں مالک کا مشتری کا کوئی دخل نہیں، وہ تو وہ با وہ واپس نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ مر گئی، اور اس کے مرنے میں اس کا دخل نہیں، اور یہاں پر بھی باندی واپس نہیں ہو سکتی لیکن اس کے واپس نہ ہونے میں کس کا دخل ہے؟ مشتری کے فعل کا دخل ہے، لہٰذا اب اس کے ثمن کاٹ لیے جائیں گے اور صرف کس کے ثمن واپس کیے جائیں گے؟ بچے کا جو حصہ بنتا ہے۔
یہ معنی ہے وَلَوْ ادَّعَاهُ، اور اسی طرح اگر دعویٰ کر دیا بائع نے، بَعْدَ عِتْقِهَا، کس کے بعد بھئی؟ اس باندی کی آزادی کے بعد، يَثْبُتُ نَسَبُهُ، تو نسب اس بچے کا ثابت ہو جائے گا، وَيَرُدُّ حِصَّتَهُ، اور واپس کرے گا بائع اس بچے کا حصہ، مِنَ الثَّمَنِ، کس میں سے؟ ثمن میں سے، أَيْ لَوْ ادَّعَى البَائِعُ الوَلَدَ، بائع نے دعویٰ کر دیا، أَنَّهُ وَلَدُهُ، کہ یہ اس کا لڑکا ہے، بَعْدَ مَا أَعْتَقَ المُشْتَرِي الأُمَّ، بعد اس کے کہ مشتری نے اس کی ماں کو آزاد کر دیا تھا، وَقَدْ جَاءَتْ بِهِ لِأَقَلَّ مِنْ نِصْفِ حَوْلٍ، اور تحقیق وہ لے کر آئی تھی اس کو یعنی اس نے اس کو جنم دیا تھا کس سے؟ لِأَقَلَّ مِنْ نِصْفِ حَوْلٍ، نصف سال سے کم کے اندر، يَثْبُتُ نَسَبُ الوَلَدِ، ثابت ہو جائے گا بچے کا نسب، وَيَرُدُّ البَائِعُ حِصَّةَ الوَلَدِ مِنَ الثَّمَنِ، اور واپس کرے گا بائع بچے کا حصہ ثمن میں سے، بھئی بچے کا حصہ کیسے واپس کیا جائے گا؟ خود بتلا رہے ہیں: بِأَنْ يُقْسَمَ عَلَى قِيمَةِ الأُمِّ وَقِيمَةِ الوَلَدِ، کہ ثمن کو تقسیم کیا جائے گا ماں کی قیمت پر اور بچے کی قیمت پر، فَمَا أَصَابَ الوَلَدَ، پس جو حصہ بچے کو پہنچے، يَـرُدُّهُ البَائِعُ إِلَى المُشْتَرِي، وہ بائع مشتری کو واپس کر دے گا، وَمَا أَصَابَ الأُمَّ لَا يَرُدُّهُ، اور جو حصہ ماں کو پہنچے وہ واپس نہیں کرے گا، وَبَعْدَ عِتْقِهِ رُدَّتْ دَعْوَتُهُ، یہی صورت لیکن باندی کو نہیں آزاد کیا مشتری نے، مشتری نے بچے کو ہی آزاد کر دیا۔
ایک شخص نے اپنی باندی بیچی، اس نے چھ ماہ سے قبل کم وقت کے اندر ایک بچے کو جنم دیا، اور مشتری نے پھر اس بچے کو کیا کر دیا؟ آزاد کر دیا، اب اس بچے کی آزادی کے بعد بھئی بائع نے دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا بچہ ہے۔
کہتے ہیں اب اس کے دعویٰ کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد کر دیا جائے گا، کیوں؟ کیونکہ بچہ آزاد ہو چکا، اب اسے نسب کی حاجت نہیں، یہ پہلے تو تھا نسب کی وجہ سے اس کو کیا حاصل ہو رہی تھی؟ آزادی، کیونکہ آزاد آدمی کا بیٹا ہے تو وہ بھی کیا ہوگا؟ آزاد ہوگا۔
سمجھ میں آیا؟
تو بچے کو آزادی حاصل ہو چکی ہے، اور آزادی قابل فسخ نہیں ہے، اس کو فسخ نہیں کیا جا رہا، تو ایک طرف دیکھو مولانا! ایک طرف ہے حقیقتِ اعتاق، ایک طرف
دعوے بائع کیا ہے؟ بائے کا دعویٰ ہے کس چیز کا؟ نسب کا۔ اور ایک طرف کیا ہے؟ حقیقتِ اعتاق ہے، تو ایک طرف صرف حق ہے، دعویٰ کس چیز کا دعویٰ ہے؟ نسب کا۔ تو حقِ دعویٰ ہے ایک طرف، ایک طرف حقیقت ہے اور حق حقیقت سے کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ حقیقت اقویٰ ہے اس سے۔ صورت سمجھ میں آئی؟
وَبَعْدَ عِتْقِهِ رُدَّ دَعْوَتُهُ اور اس بچے کی آزادی کے بعد بھئی اس بائے کے دعوے کو رد کر دیا جائے گا، عینی دال بائے الولد اگر بائے نے بچے کا دعویٰ کر دیا، بَعْدَ مَا أَعْتَقَهُ الْمُشْتَرِي بعد اس کے کہ مشتری نے اس کو آزاد کر دیا تھا، رُدَّ دَعْوَتُ الْبَايِ تو بائے کے دعویٰ کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد کر دیا جائے گا، كَمَا وَلَدَتْ لِأَكْثَرَ جیسے یہاں دعویٰ اوپر رد کیا گیا ہے، اوپر رد کیا جائے گا جیسے کہ ان اگلی صورتوں میں ہے، كَمَا وَلَدَتْ جیسے کہ اگر باندی نے جنم دیا بچے کو، لِأَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ حَوْلٍ دوسری تیسری صورت پر، ادھر دیکھو۔
پہلی صورت تھی چھ مہینے سے کم کے اندر کیا کیا؟ باندی نے جنم دیا۔ دوسری صورت، چھ مہینے سے زیادہ لیکن دو سال سے کم کے اندر بھئی، اس نے بچے کو جنم دیا، اب بائے نے دعویٰ کیا، اس کے دعویٰ کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد کر دیا جائے گا، کیونکہ اس مدت کے اندر باندی مشتری سے حاملہ ہو کر بچے کو جنم دے سکتی ہے یا دو سال کے بعد بچے کو جنم دیا، اب کس نے دعویٰ کیا؟ بائے نے، تو اس صورت میں بھی بائے کے دعویٰ کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد کر دیا جائے گا، کیونکہ اب تو اکثر مدت بھی حمل کی گزر چکی۔ صورت سمجھ میں معلوم ہوا اب حمل بائے کے پاس سے آیا ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو بائے کے دعویٰ کو قبول کیا جاتا تھا کب؟ جب مدت کتنی ہے؟ چھ ماہ سے کم ہوتی تھی، اور اگر مدت چھ ماہ سے زیادہ لیکن دو سال سے کم تب بھی بائے کے دعویٰ کو رد کیا جائے گا، اور اگر مدت دو سال سے زیادہ تب بھی بائے کے دعویٰ کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد کر دیا جائے گا، لیکن ان دونوں صورتوں میں اگر بائے چھ ماہ سے زیادہ ہیں اور دو سال سے کم یا دو سال سے زیادہ اور بائے نے دعویٰ کر دیا، اور مشتری نے تصدیق بھی کر دی، اب دعویٰ کو کیا کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا۔ اب کیا کیا جائے گا؟ قبول۔ صورت سمجھ میں آگئی، اگر مشتری تصدیق کر دے، پہلی چھ مہینے سے کم کے اندر مشتری کی تصدیق کی کوئی ضرورت نہیں تھی، لیکن ان میں اگر تصدیق کر دے تو صرف تب۔
یہ بتلا رہے ہیں، كَمَا وَلَدَتْ جیسے کہ بھئی باندی نے جنم دیا لِأَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ حَوْلٍ، چھ ماہ، نصف سال سے زیادہ میں وَأَقَلَّ مِنْ سَنَتَيْنِ اور دو سال سے کم مدت کے اندر، أَوْ وَلَدَتْ لِأَكْثَرَ مِنْ سَنَتَيْنِ یا جنم دیا دو سال سے زیادہ میں، أَيْ رُدَّتْ دَعْوَتُ الْبَايِ دعویٰ بائے کا رد کیا جائے گا، إِذَا كَانَتِ الْمُدَّةُ مِنْ وَقْتِ الْبَيْعِ إِلَى وَقْتِ الْوِلَادَةِ جب مدت کب ہو؟ مدت بیع سے لے کر ولادت کے وقت تک کتنی مدت ہو؟ أَكْثَرَا مِنْ نِصْفِ حَوْلٍ، نصف سال سے زیادہ ہو تو بائے کا دعویٰ رد کیا جائے گا، إِلَّا إِذَا صَدَّقَهُ الْمُشْتَرِي مگر یہ کہ جب مشتری بھی اس کی تصدیق کر دے۔
وَإِذَا صَدَّقَهُ، فَحُكْمُ الْقِسْمِ الثَّانِي كَالْأَوَّلِ، وَفِى الثَّالِثِ لَمْ يَبْطُلْ بَيْعُهُ جب مشتری تصدیق کر دے، اور جب مشتری کیا کر دے اس کی تصدیق کر دے، تو قسم ثانی کا حکم بھی کس کی طرح ہے؟ اول کی طرح ہے بھئی، قسم ثانی کون سی؟ چھ ماہ سے زیادہ اور دو سال سے کم کے اندر بچے کو جنم دیا ہے، تو اس کا حکم بھی اول کی طرح ہے، یعنی یہاں پر بھی بیع کو فسخ کر دیا جائے گا اور سامان، نسب ثابت ہو جائے گا، وہ اس کی ام ولد بن جائے گی، بیع کو فسخ کر دیا جائے گا اور سامان واپس کر دیے جائیں گے، وَفِى الثَّالِثِ اور تیسری صورت میں، تیسری کون سی صورت تھی؟ جب کب جنم دیا اس نے؟ دو سال سے زیادہ میں، لَمْ يَبْطُلْ بَيْعُهُ، اب بیع باطل نہیں۔
اب بیع باطل نہیں، آگے متن متن دیکھو بھئی، یہاں تک متن تھا، آگے متن آ رہا ہے، وَهِيَ أُمُّ وَلَدِهِ نِكَاحًا بھئی دو سال کے بعد جنم دیا، اور بائے نے دعویٰ کیا یہ میرا بچہ ہے، اور مشتری نے کیا کر دی اس کی تصدیق کر دی، تو اب کیا کیا جائے گا؟ کہتے ہیں بیع کو فسخ نہیں کریں گے اس صورت میں۔ پھیر کیسے بھئی؟ دو سال کے بعد کیسے اس کے بچے کو جنم دے سکتی ہے؟ کہتے ہیں یہ اس کی ام ولد ہو جائے گی نِكَاحًا باعتبار نکاح کے اعتبار سے اس کی ام ولد ہو جائے گی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی دو سال کے بعد بچے کو جنم دے تو یہ کیسے اس بائے کا بچہ ہو سکتا ہے بھئی؟ کیونکہ دو سال تو حمل کی اکثر مدت سے بھی زیادہ ہے بھئی، دو سال اکثر مدت حمل کی دو سال ہے اور یہ دو سال کے بعد جا کر بچے کو جنم دے رہی ہے اور بائے کیا کہتا ہے؟ جس نے دو سال پہلے بیچی تھی بھئی، دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، وہ کہتا ہے یہ میرا بچہ ہے، اور مشتری کیا کرتا ہے اس کی تصدیق کرتا ہے بھئی، تو اس صورت میں نسب ثابت ہو جائے گا، آپ نے کہا بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
کہتے ہیں وَهِيَ أُمُّ وَلَدِهِ نِكَاحًا بھئی، یہاں معنی لغوی مراد ہے بھئی، اُمِّ ولد سے کیا مراد ہے؟ بھئی وہ اُمِّ ولد اصطلاحی نہیں مراد جو آپ نے پڑھا ہے کہ جو اس شخص کے مرنے کے بعد کیا ہو جایا کرتی ہے؟ مالک کے مرنے کے بعد کیا ہو جاتی ہے؟ آزاد، وہ اُمِّ ولد نہیں مراد، بھئی یہاں اُمِّ ولد لغوی معنی کے اندر ہے، یعنی یہ اس کے بچے کی ماں ہے نِكَاحًا باعتبار نکاح کے، یعنی نسب یہاں بھی ثابت ہو جائے گا، وہ بچہ کس کا شمار ہوگا؟ اسی بائے کا شمار ہوگا، لیکن اور یہ باندی اس کے بچے کی ماں ہے، لیکن کس اعتبار سے؟ نکاح کے اعتبار سے۔
تو دیکھئے متن کے اندر تین لفظ آئے، الْقِسْمُ الْأَوَّلُ، الْقِسْمُ الثَّانِي اور الْقِسْمُ الثَّالِثُ، قسم اول میں نے بتلا دیا کون سی صورت؟ جبکہ باندی نے بچے کو جنم دیا ہو چھ ماہ سے قبل نصف سال سے کم کے اندر، اور قسم ثانی وہ صورت جب چھ ماہ کے بعد لیکن دو سال سے کم میں جنم دیا بچے کو، اور تیسری صورت کون سی ہے؟ دو سال سے زیادہ بعد بچے کو جنم دیا، یہی بات اب بیان کرنے لگے ہیں بھئی۔
كَما وَلَدَتْ لِأَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ حَوْلٍ مِنْ زَمَانِ الْبَيْعِ یہ باندی تھی بھئی، لیکن یہ بعید صورت ہے مولانا، میں نے بتلا یہاں معلوم ایسا علامہ صدر الشریعہ سے تساہم ہوا ہے یہاں پر بھئی۔ وہ اس کو محمول کر رہے ہیں اس صورت پر دیکھو بھئی، دوسری صورت پر، کون سی صورت؟ بائے نے بیچی مشتری کو باندی، اس نے کتنے عرصے بعد جنم دیا بچے کو؟ دو سال بعد جنم دیا، دو سال کے بعد جب اس نے جنم دیا، اب بائے نے کیا کر دیا اس کا دعویٰ کر دیا، اور مشتری نے کیا کی اس کی تصدیق کی، تو معلوم ہوا یہ اس کے اُمُّ ولد ہیں نِكَاحًا بھئی، اُمُّ ولد ہے، اب اُمُّ ولد نِكَاحًا کا کیا معنی بھئی؟ علامہ صدر الشریعہ کیا بتلا رہے ہیں؟ کہ یہ گویا بائے کے ساتھ اس کا کیا ہو گیا تھا؟ نکاح ہو گیا تھا، کیا ہو گیا تھا؟ اور اس نکاح کی وجہ سے یہ کیا ہوئی؟ حاملہ ہوئی، پھر بائے نے اس کو دوبارہ مشتری سے خرید لیا، پھر خریدنے کے بعد اس کی ملک میں آ کر باندی نے کیا کیا؟ بچے کو جنم دیا۔
حالاں کہ یہ صورت نہیں بنتی مولانا، بچے کو تو اس نے کہاں پر جنم دیا ہے؟ اسی مشتری کی ملک میں جنم دیا ہے، چلیے بس ہذا ھو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام.