بھئی! گزشتہ سبق میں ہم نے باب الخیار شروع کیا تھا بھئی۔
میں نے بتلایا تھا کہ علماء لکھتے ہیں کہ خیارات کافی ہیں، تقریباً 17 تک انہوں نے تعداد لکھتی لکھی ہے خیارات کی بھئی۔
البتہ ان میں سے خیارِ شرط، خیارِ رؤیت اور خیارِ عیب کو فقہاء کرام اپنے کتابوں میں ابواب کی صورت میں ذکر کرتے ہیں، اس لیے کہ ان کے مسائل زیادہ ہیں بھئی۔
جی اور ان میں سب سے پہلے پھر باب خیارِ شرط کو ذکر کرتے ہیں، پھر خیارِ رؤیت کو ذکر کرتے ہیں، اور آخر میں خیارِ عیب کو ذکر کرتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ خیارِ شرط جو ہے، وہ ابتداءِ حکم سے مانع ہے، اور خیارِ رؤیت جو ہے، وہ تمامِ حکم سے مانع ہے، اور خیارِ عیب جو ہے، وہ لزومِ حکم سے مانع ہے بھئی، تو ترتیب ہے ان کے اندر بھئی۔
تو بیع جب کی جاتی ہے، عقد ہوتا ہے تو اس کا حکم کیا ہے؟ ملک حاصل ہوتی ہے، تصرف کا حق ملتا ہے۔ تو خیارِ شرط بھئی، جب رکھا تو بیع تو ہو گئی، لیکن حکم کو آنے سے روک دیا خیارِ شرط نے۔ یعنی ابتداءِ حکم، یعنی حکم آیا ہی نہیں سرے سے۔ کون سا حکم بھئی؟ تصرف کا حق اور ملکیت، وہ آئی ہی نہیں۔ اور خیارِ رؤیت حاصل ہوتا ہے، وہ عقد پایا گیا، حکم آ تو گیا، لیکن تام نہیں ہوا بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور خیارِ عیب کی صورت میں حکم آ گیا، تصرف کا حق حاصل ہو گیا، لیکن لازم نہیں بھئی، دائمی نہیں ہے بھئی، اس کو ختم کر سکتا ہے۔
اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ خیارِ شرط وضع ہے فسخ کے لیے، فسخِ بیع کے لیے۔ تو جس شخص کو خیار حاصل ہے، وہ بیع کو کیا کر سکتا ہے؟ فسخ کر سکتا ہے، یہ سب سے اہم بات ہے اس باب کی، یہ یاد رکھنا بھئی۔
اور پھر اس کے بارے میں بتلایا تھا امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے بھئی۔
امام صاحب فرماتے ہیں کہ خیارِ شرط زیادہ سے زیادہ تین دن تک ہو سکتا ہے اور تین سے زیادہ نہیں بھئی۔
تو کیونکہ خیارِ شرط مقتضائے عقد کے خلاف ہے بھئی۔ مقتضائے عقد تو کیا ہے؟ عقد تو کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ لزومِ بیع کا، اور خیارِ عقد خیارِ شرط کیا ہے؟ یہ مانع ہے بھئی، یہ مانع ہے اس سے۔
بیع تو تقاضا کرتی ہے کہ وہ لازم ہو جانی چاہیے، لیکن خیار کیا کر رہا ہے بھئی؟ اس کو لازم نہیں ہونے دے رہا، بلکہ اس کے حکم کو ابتداءً روک رہا ہے۔ تو یہ خلاف القیاس ہوا، تو یہ اپنے مورد پر بند رہے گا، کیونکہ جو حکم ضابطہ یہ ہے، جو حکم خلاف القیاس ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتا ہے۔ اور تو یہ اس کے بارے میں جو نص آئی ہے حبان رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث، کہ حضور وہ ان کو اکثر دھوکہ کھا جاتے تھے خرید و فروخت میں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تم کوئی بیع کرنے لگو یا شراء کرنے لگو تو یہ کہہ دیا کرو دوسرے عقد کرنے والے سے کہ "لا خِلاَبَةَ وَلِيَ الْخِيَارُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ"، کہ کوئی دھوکہ نہ ہو اور مجھے تین دن تک کا خیار حاصل ہے، تو اس نص کی وجہ سے کہتے ہیں ہم نے تین دن تک کی اجازت دے دی۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں جتنی مدت کا خیار رکھنا چاہیں، وہ خیار رکھ سکتے ہیں بھئی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے اثر کی وجہ سے کہ انہوں نے دو ماہ تک اجازت دی تھی بھئی۔
بھئی ثبوت تو آ گیا حدیث کے ذریعے، وہ فرماتے ہیں، حدیث سے کتنا کیا ثابت ہوا؟ بھئی قیاس کے تو خلاف ہے، ثابت ہونا ہی نہیں چاہیے، اس کو آنا ہی نہیں چاہیے تھا، لیکن حدیث سے ثابت ہوا، حضور نے صحابی کو حکم فرمایا کہ وہ اس طرح کر سکتے ہیں۔ تو ثبوت آ گیا، پھر آگے اثرِ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما آئے، انہوں نے دو مہینے تک اجازت دی، معلوم ہوا زیادہ کے لیے بھی یہ جائز ہے، اور اس کی تجارت میں اکثر ضرورت بھی پڑا کرتی ہے، تو وہ کہتے ہیں جتنی مدت تک بھی دونوں آپس میں راضی ہو جائیں، ٹھیک ہے بھئی، خیار دے سکتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے کتنے تک کی اجازت دی تھی؟ دو ماہ کی، تو ان کے نزدیک کوئی مدت متعین نہیں ہے، جتنے بھی کرنا چاہیں بھئی۔ دو ماہ۔
پھر اس کے بعد اسی پر متفرع ہوا تھا خیارِ نقد کا مسئلہ۔
خیارِ نقد کا بھئی، کہ ایک آدمی دوسرے کو کوئی چیز بیچتا ہے اس شرط پر کہ اگر تین دن تک پیسے نہ ہوئے تو پھر بیع نہیں ہے، بیع ختم ہے۔ یہ بھی صحیح ہے بھئی، اور اس پر مصنف فرع لے کر آئے، بتلایا یہ بھی فرع ہے خیارِ شرط کی، یہ بھی اس کے جزئی مسائل میں سے ہے، اس لیے کہ خیارِ شرط وضع ہے کس کے لیے؟ اپنے آپ سے ضرر کو بچانے کے لیے، اپنے آپ سے ضرر کو دور کرنے کے لیے، اور ثمن کی ادائیگی میں تاخیر ہو، یہ بھی ایک قسم کا ضرر ہے، تو اس سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے جو خیار رکھا، یعنی خیارِ نقد، وہ بھی جزئی مسئلہ ہے کس کا؟ خیارِ شرط کا بھئی، خیارِ شرط کا۔
تو اصل کے اندر بھئی، امام صاحب نے کیا ذکر کیا بھئی؟ خیارِ شرط کتنے دنوں تک ہو سکتا ہے؟ تین دن تک، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں اس کی کوئی مدت نہیں، زیادہ تک کے لیے بھی کر سکتے ہیں۔
اور یہاں آ کر خیارِ نقد کے اندر شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تین دن سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں، تین سے زیادہ رکھے تو پھر تین دن میں اجازت دے دی تو ٹھیک ہو جائے گا، ورنہ فاسد ہو جائے گا۔
اور امام محمد رحمہ اللہ اسی طرح اپنی اصل پر برقرار ہیں۔ دیکھیے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اصل کے اندر خیارِ شرط میں کتنے کی اجازت دی تھی؟ تین دن تک، یہاں بھی وہ اپنی اصل پر قائم ہیں اور کتنے کی اجازت دے رہے ہیں؟ تین دن کی اجازت دے رہے ہیں بھئی۔
جبکہ امام محمد رحمہ اللہ نے اصل میں بھی کوئی مدت متعین نہیں کی تھی بھئی، زیادہ کی اجازت دی تھی، یہاں پر بھی وہ کیا ہیں؟ اپنی اصل پر قائم ہیں اور یہاں بھی فرماتے ہیں کہ زیادہ مدت کے لیے بھی یہ جائز ہے بھئی، خیارِ نقد بھئی۔
جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اپنی اصل سے ہٹ گئے بھئی، وہاں پر انہوں نے فرمایا تھا، وہ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ تھے کہ جتنی مدت تک کے لیے کرنا چاہیں کر سکتے ہیں، اور یہاں کیا فرماتے ہیں؟ خیارِ نقد کتنی مدت تک جائز ہے؟ صرف تین دن تک جائز ہے، اس سے زیادہ کے لیے جائز نہیں۔
تو وہاں پر بھئی انہوں نے اجازت دی تھی اثرِ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی وجہ سے بھئی۔ نص سے ثبوت تو آ گیا تھا خیارِ شرط کا، تو پھر جب خیارِ شرط کا ثبوت آیا تو خیارِ نقد بھی اسی کی فرع ہے، وہ بھی کیا ہوئی؟ ثابت، وہ بھی ثابت ہو گئی بھئی۔
اور ثبوت آیا تھا نص سے تین دن کا، لیکن وہاں انہوں نے پھر زیادہ کی اجازت کس کی وجہ سے دی؟ اثرِ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ، اور یہاں پر ضرورت نہیں، اس لیے کہ تجارت میں بہت کم استعمال ہوتی ہے بھئی، یہ خیارِ نقد۔ تو اس لیے اب قیاس پر چلتے ہوئے اس کی، اس سے زیادہ کی انہوں نے اجازت تین دن تو نص سے ثابت ہوئے تھے، اور یہاں کوئی اور اثر وغیرہ نہیں، تو قیاس پر عمل کرتے ہوئے کتنے کی اجازت دی صرف؟ تین دن تک کی اجازت دی ہے بھئی، کیونکہ یہ قیاس کے خلاف ہے بھئی۔ تو اپنے مورد پر بند رہے گا بھئی۔
اس کے بعد یہ آپ نے پڑھا تھا بھئی کہ اگر بائع خیار رکھے تو مبیعہ بائع کی ملک سے نہیں نکلتا۔ لیکن اگر خیار بائع نے رکھا اور مشتری نے اس چیز پر قبضہ کر لیا اور وہ چیز اس کے پاس ہلاک ہو گئی، تو اس پر کیا آئے گی؟ قیمت آئے گی، ثمن نہیں آئیں گے، اس لیے کہ بیع تو ابھی موقوف تھی، بیع تو ابھی رضامند ہوا ہی نہیں، اسی لیے تو اس نے خیار رکھا ہے۔ تو بیع بھی موقوف تھی اور مبیعہ ہلاک ہو گیا، اور مبیعہ ہلاک ہو جائے تو بیع کیا ہو جایا کرتی ہے؟ ختم ہو جایا کرتی ہے، جب بیع ختم ہو گئی تو اب ثمن کہاں سے؟ وہ بیع ہوتی تو ثمن بھی آتے جس پہ وہ راضی ہوئے تھے بیع کے دوران۔ جب ثمن نہیں تو اب لازمی بات ہے نقصان تو کی ہے، تو کیا دینا پڑے گی؟ قیمت دینا پڑے گی۔
اور اگر بائع مشتری نے خیار رکھا تو پھر وہ مبیعہ بائع کی ملک سے نکل جائے گا اور مشتری نے اس پر قبضہ بھی کر لیا اور پھر اس کے پاس ہلاک ہو گئی، تو اب اس پر کیا آئیں گے؟ ثمن آئیں گے، جیسے چیز کو عیب دار کرنے کی صورت میں اس پر ثمن آتے ہیں، اسی طرح اس کے ہلاک ہونے کی صورت میں بھی اس پر کیا آئیں گے؟ ثمن آئیں گے، جب وہ کوئی چیز کو قبضہ کر لیا اور اس کو عیب دار کر دیا تو کیا واپس کر سکتا ہے اس کو؟ جب واپس نہیں کر سکتا، ثمن آیا کرتے ہیں، تو یہاں پر بھی اس لیے کہ کوئی چیز جب ہلاکت کے قریب ہوئی تو اس میں پہلے عیب آ جاتا ہے۔
پھر اس کے بعد آگے مسئلہ تھا کہ کیا مالک بنتا ہے مشتری اس کا یا مالک نہیں بنتا؟ بائع کی ملک، خیار مشتری نے رکھا، بائع کی ملک سے تو نکل گیا مبیعہ، اب کیا مشتری اس کا مالک بنا یا مالک نہیں بنا بھئی؟ مالک نہیں بنا۔
تو صاحبین فرماتے ہیں کہ مشتری اس کا مالک بن گیا۔ اس لیے کہ چیز جو ہے وہ بائع کی ملک سے نکل گئی ہے، اب اگر ہم یہ نہ کہیں کہ مشتری اس کا مالک بنا ہے، تو اس صورت میں کیا خرابی لازم آئے گی؟ زوالِ شئے لا إلی مالک لازم آئے گا بھئی، کوئی چیز مملوک بھی ہے اور اس کا کوئی مالک بھی نہیں، اور اس کی شریعت میں کوئی نظیر نہیں۔
جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، مشتری اس کا مالک نہیں بنے گا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ بھئی اس صورت میں عقد یہ عقدِ معاوضہ ہے، اور اس عقدِ معاوضہ کے اندر دونوں بدلین ایک ہی شخص کی ملک میں جمع ہو جائیں گے۔ حالانکہ عقدِ معاوضہ کی بنیاد تو کس پر ہوتی ہے؟ مساوات پر ہوتی ہے، برابری ہونی چاہیے، ایک مشتری مبیعہ کا مالک بن رہا ہے تو بائع کو کس کا مالک بننا چاہیے؟ ثمن کا بھئی، دونوں ایک ایک چیز کے مالک بن رہے ہیں، برابری کی بنیاد پر ہے، اور اگر ہم مشتری کی ملک میں یہ داخل ہو جائے تو اس صورت میں مشتری عقدِ معاوضہ کے اندر بدلین کا مالک بن جائے گا، اور شریعت میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے کہ عقدِ معاوضہ میں ایک ہی شخص دونوں بدلین کا کیا بن جائے؟ مالک بن جائے۔
"وَثَمَرَةُ الْخِلَافِ تَظْهَرُ فِي هَذِهِ الْمَسَائِلِ"، اور ثمرہ خلا ف جو ہے وہ ظاہر ہوگا ان مسائل کے اندر، بھئی یہ اصل ہے، اسی اصل پر یہ جو اختلاف ہے، اسی پر کئی مسائل میں اختلاف اور اختلاف جو ہے آئے گا صاحبین میں اور امام صاحب کے اندر، اب وہ مسائل ذکر کرنے لگے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ امام صاحب کے نزدیک کیا ہوا؟ کہ مشتری اس کا مالک نہیں بنے گا، اور صاحبین کے نزدیک مشتری اس کا مالک بن جائے گا، یہ ہے اختلاف، اب اس اختلاف پر متفرع ہونے والے مسائل دیکھیے۔
ان مسائل کے اندر: "وَهِيَ قَوْلُهُ"، اور وہ مسائل ماتن کے یہ قول ہیں بھئی، اس میں آ رہے ہیں: "فَشِرَاءُ عِرْسِهِ بِالْخِيَارِ لَا يُفْسِدُ نِكَاحَهُ"، صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، باندی ہے بھئی، باندی۔ یاد رکھو، باندی کے ساتھ آقا کو صحبت کا، صحبت کرنا آقا کے لیے جائز ہے، وہ اس کے ساتھ کیا کر سکتا ہے؟ صحبت کر سکتا ہے، مباشرت کر سکتا ہے۔
لیکن اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ اس باندی کا کسی سے نکاح کروا دے، اور جب باندی کا کسی سے نکاح کر دے گا تو اب آقا اس کے ساتھ مباشرت نہیں، کیونکہ یہ غیر کی منکوحہ بن چکی ہے، ہے اب بھی باندی، لیکن غیر کی منکوحہ ہے بھئی، منکوحہ۔
تو اب صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص تھا، ہاں یوں مسئلہ بنا ہے، زید کی بھئی ایک باندی تھی بھئی، آپ نے اس سے نکاح کر لیا، آپ نے اس سے نکاح کر لیا۔ اب زید نے آپ سے کہا کہ بھئی یہ باندی مجھ سے خرید لو، یہ میں نے آپ کو بیچ دی ایک لاکھ روپے میں، نکاح تو کر لیا، خرید ہی لو مجھ سے ایک لاکھ روپے میں، میں نے آپ کے ہاتھ بیچی۔ آپ نے کہا میں نے آپ سے خریدی اس شرط پر کہ مجھے تین دن کا خیار ہے بھئی، خیار ہے۔
تو اب آپ کون ہیں؟ مشتری، اور خیار کس نے رکھا؟ مشتری نے، اور اس صورت میں امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ کہ مشتری اس کا مالک نہیں بنتا، اور صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ مشتری اس کا مالک بن جاتا ہے۔ تو جب خیار مشتری نے رکھا، تو مشتری اس کا مالک بن گیا، آپ اس کے کیا بن گئے؟ مالک، بائع کی ملک سے وہ نکل گئی، اب اگرچہ قبضہ اسی کا کیوں نہ ہو، قبضہ اس کا ہو یا آپ کا ہو، قبضے کی بات نہیں کر رہا، بس خیار مشتری نے رکھا تو مشتری اس کا کیا بن گیا بھئی؟ مالک بن گیا، ہاں اس کو اختیار اب بھی ہے۔
اور ضابطہ یہ بھی یاد رکھو، کہ نکاح کی وجہ سے ملکِ نکاح حاصل ہوتی ہے بھئی، ملکِ بضع حاصل ہوتی ہے، انسان عورت سے نفع حاصل کر سکتا ہے۔ اور اسی طرح، ایک ہے ملکِ رقبی بھئی، ملکِ رقبہ، اور جسے ملکِ یمین بھی کہتے ہیں بھئی، اس کی وجہ سے بھی کیا حاصل ہوتی ہے؟ ملکِ بضع حاصل ہوتی ہے، جیسے بیوی کے ساتھ صحبت کرنا جائز، باندی کے ساتھ بھی صحبت کرنا جائز ہے۔
تو یاد رکھو، ملکِ نکاح اور ملکِ یمین، یا یوں کہو، ملکِ رقبہ، یہ دونوں آپس میں جمع نہیں ہو سکتے۔ جب بھی یہ دونوں جمع ہوں گے، نکاح فوراً ختم ہو جائے گا بھئی۔ نکاح کیا ہو جائے گا؟ کون سی دو ملکیتیں جمع نہیں ہو سکتیں؟ ملکِ رقبہ اور ملکِ نکاح۔ تو اب بتائیے بھئی مسئلہ، آپ نے اپنی باندی، منکوحہ باندی کو خرید لیا خیارِ شرط کے ساتھ، صاحبین کے نزدیک آپ اس کے کیا بن گئے؟ مالک، آپ کو ملکِ رقبہ حاصل ہوئی، اور ملکِ رقبہ کے حاصل ہوتے ہی کیا حکم لگائیں گے آپ؟ نکاح کیا ہوا؟ فاسد ہو گیا، ختم ہو گیا، جبکہ امام صاحب کے نزدیک آپ مالک ہی نہیں ہیں، جب مالک نہیں ہیں تو نکاح بھی فاسد نہیں ہے، یہ مسئلہ ہے بھئی۔
"فَشِرَاءُ عِرْسِهِ"، عِرس بھئی دلہن کو بھی کہتے ہیں، بیوی کو بھی کہتے ہیں، "فَشِرَاءُ عِرْسِهِ بِالْخِيَارِ"، پس خریدنا کسی کا عِرْسِهِ، اپنی زوجہ کو "بِالْخِيَارِ"، خیار کے ساتھ بھئی، "لَا يُفْسِدُ نِكَاحَهُ"، یہ اس کے نکاح کو فاسد نہیں کرتا، "عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، کس کے نزدیک؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، "لِعَدَمِ الْمِلْكِ"، ملکیت کے نہ ہونے کی وجہ سے، "وَعِنْدَهُمَا يُفْسِدُهُ"، اور صاحبین کے نزدیک یہ کیا کر دیتا ہے؟ اس کے نکاح کو فاسد کر دیتا ہے بھئی، یہ جو شراء اس نے کی ہے بھئی۔
"وَإِنْ وَطِئَهَا رَدَّهَا لِأَنَّهُ بِالنِّكَاحِ إِلَّا فِي الْبِكْرِ"، اچھا بھئی، آپ کے پاس باندی، آپ نے اس خیار کے ساتھ باندی کو خرید لیا، اب آپ تین دن کے اندر مالک نے اس کے ساتھ صحبت کی بھئی، تو کیا اب وہ اس کو واپس کر سکتا ہے یا واپس نہیں کر سکتا؟ امام صاحب فرماتے ہیں واپس کر سکتا ہے۔ اس لیے کہ یہ مالک نہیں بنا تھا، اس کا نکاح ابھی بھی باقی تھا، تو جو اس نے وطی کی ہے، کس وجہ سے کی ہے؟ ملکِ نکاح ہونے کی وجہ سے اس نے وطی کی ہے بھئی، ملکِ رقبی کی وجہ سے نہیں کی۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اب واپس نہیں کر سکتا، اس لیے کہ یہ نکاح تو اس کا ختم ہو چکا، اس کو ملکِ رقبہ حاصل ہو گئی، اور اب اس نے ملکِ رقبہ کے حاصل ہونے کے بعد اس میں تصرف بھی کر دیا، اور تصرف کرنا مبیعہ کے اندر یہ بیع کی اجازت کی علامت ہے، معلوم ہوا کہ مشتری نے بیع کی اجازت دے دی ہے، صورت سمجھ میں آئی؟
ہاں، ایک صورت ہے، اگر باکرہ ہو بھئی، اگر وہ باندی پہلے باکرہ تھی، تو اب امام صاحب بھی فرماتے ہیں بھئی واپس نہیں کر سکتا، اس لیے کہ اس نے جب وطی کی، اس کی بکارت زائل کر دی، اور زوالِ بکارت جاریہ کے اندر، باندی کے اندر یہ عیب شمار ہوتا ہے، اب عیب، پہلے چیز سلیم لی تھی اور اب عیب والی ہو چکی، اب اسے واپس نہیں کر سکتا، صورت سمجھ میں آ گئی؟
"وَإِنْ وَطِئَهَا رَدَّهَا"، اور اگر اس نے اس باندی سے وطی کر لی، "رَدَّهَا"، تو اس کو واپس کر سکتا ہے، "لِأَنَّهُ بِالنِّكَاحِ"، اس لیے کہ وہ وطی کس کی وجہ سے ہے؟ نکاح کی وجہ سے ہے، یہ امام صاحب کے نزدیک بھئی، صاحبین کے نزدیک واپس نہیں کر سکتا۔ "إِلَّا فِي الْبِكْرِ"، مگر کس کے اندر؟ باکرہ کے اندر، کہ اس میں پھر واپس نہیں کر سکتا امام صاحب کے نزدیک بھی۔ "أَيْ إِنْ وَطِئَهَا الْمُشْتَرِي فِي أَيَّامِ الْخِيَارِ يَمْلِكُ رَدَّهَا"، اگر وطی کی مشتری نے ایامِ خیار کے اندر، "يَمْلِكُ رَدَّهَا"، تو وہ مالک ہے اس کو رد کرنے کا، اس کو واپس کرنے کا مالک ہے، یعنی وہ واپس کر سکتا ہے ابھی بھی، "عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً"، امام صاحب کے نزدیک، "لِأَنَّ الْوَطْءَ بِالنِّكَاحِ فَلَا يَكُونُ إِجَازَةً"، اس لیے کہ یہ وطی نکاح کی وجہ سے ہے، "فَلَا يَكُونُ إِجَازَةً"، تو یہ بیع کی اجازت نہیں ہے، "إِلَّا أَنْ تَكُونَ بِكْرًا"۔
—مگر یہ کہ وہ باندی کیا ہو، باکرہ ہو—پھر نہیں کر سکتا، کیوں؟ "لِأَنَّهُ نَقَصَهَا بِالْوَطْءِ"، اس لیے کہ اس نے اس کو ناقص کر دیا ہے وطی کے ذریعے، اس میں عیب پیدا کر دیا ہے، "فَلَا يَمْلِكُ الرَّدَّ"، تو وہ واپس کرنے کا مالک نہیں۔ "وَعِنْدَهُمَا"، اور صاحبین کے نزدیک، "لَا يَمْلِكُ الرَّدَّ وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا"، کہ وہ مالک نہیں ہے واپس کرنے کا، اگرچہ باندی ثیبہ ہی کیوں نہ ہو۔ باکرہ ہو یا ثیبہ، صاحبین فرماتے ہیں اس نے وطی کر لی تو اب واپس نہیں کر سکتا۔ "لِأَنَّ الْمُشْتَرِيَ قَدْ مَلَكَهَا"، اس لیے کہ مشتری تحقیق اس کا مالک بن چکا ہے، "فَيَفْسُدُ النِّكَاحُ"، "فَيَفْسُدُ النِّكَاحُ"، تو نکاح کیا ہو گیا؟ فاسد۔ مالک بنا، تو ملکِ رقبہ آئی، تو ملکِ نکاح فاسد۔ "فَالْوَطْءُ يَكُونُ بِمِلْكِ الْيَمِينِ"، تو یہ وطی ہوئی ہے کس وجہ سے؟ ملکِ یمین، ملکِ رقبہ کی وجہ سے ہوئی، نکاح کی وجہ سے نہ ہوئی، تو اس نے تصرف کر لیا اس کے اندر، اور یہ تصرف کرنا کس چیز کی علامت ہے؟ اجازتِ بیع کی، "فَيَكُونُ إِجَازَةً"، تو یہ اجازت ہوگی بیع کی۔
"وَلَا يَعْتِقُ قَرِيبُهُ"، بھئی! "يَعْتِقُ" پڑھو اس کو، "يُعْتَقُ" نہ پڑھو بھئی! اس لیے کہ دیکھو، ایک ہے مجرد: "عَتَقَ يَعْتِقُ"، اس کے معنی ہیں آزاد ہونا۔ "عَتَقَ يَعْتِقُ"۔ ایک ہے "أَعْتَقَ يُعْتِقُ"، آزاد کرنا بھئی۔ وہ آزاد کرنا متعدی ہے، کوئی دوسرا آزاد کرے گا تو وہ آزاد ہوگا، ورنہ آزاد نہیں۔ اور ایک ہے آزاد ہونا، کوئی شرط اس نے لگائی تھی یا کوئی چیز، جیسے ابھی عبارت میں آئے گا، وہ خود بخود کیا ہو جائے گا؟ آزاد، اس میں کرنے کی ضرورت نہیں، خود بخود کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ تو "يَعْتِقُ" پڑھو، معروف، مجہول نہ پڑھو۔
یاد رکھو! آپ نے پڑھا ہے، حدیث میں کیا آتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ عُتِقَ عَلَيْهِ" یا "فَهُوَ حُرٌّ"۔ "مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ" یا "مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ عُتِقَ عَلَيْهِ"۔ "مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ"، جو مالک ہوا ذو رحم کا بھئی، قریبی رشتہ دار کا، "مَحْرَمٍ"، اور وہ قریبی رشتہ دار بھی کیسا ہو؟ محرم ہو بھئی، محرم۔ محرم کسے کہتے ہیں؟ جس کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے شریعت نے نکاح کو حرام قرار دیا ہو، جیسے ماں ہے، بہن ہے، اور پھوپھی، خالہ، قریبی رشتہ دار بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ محرم ہیں، ان کے ساتھ نکاح۔ یا بھئی ہے، یہ بھی محرم ہے، آپ کہیں گے بھئی کیسے؟ بھئی! اس لیے کہ معنی یہ ہے کہ ان دونوں میں سے اگر ایک کو مرد فرض تصور کریں، دوسرے کو عورت، تو ان دونوں کا آپس میں نکاح نہ ہو سکے۔ سمجھ میں آیا؟ دو بھئی ہیں، ایک کو عورت تصور کر لو، تو یہ آپس میں کیا ہیں بھئی؟ بھئی بہن بھئی، ان کا نکاح ہو سکتا ہے؟ نہیں، تو یہ بھی محرم ہے، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو چاہے تو ایک مرد اور ایک عورت ہو، یا دونوں مرد ہوں، یا دونوں عورتیں ہیں بھئی۔ یہ ساری صورتیں اس کے اندر آ جائیں گی بھئی۔ تو ایک کو جنسِ مخالف فرض کر کے دیکھ لیا جائے گا بھئی۔
اب حدیث میں آیا: جو اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا، "فَهُوَ حُرٌّ"، تو وہ قریبی رشتہ دار کیا بن جائے گا فوراً؟ آزاد ہو جائے گا، آزاد ہو جائے گا۔ آزاد کرنا نہیں پڑے گا، خود بخود، جیسے بیع کی، آپ جیسے ہی مالک بنے، اگلے لمحے میں وہ خود بخود کیا ہو گیا؟ آزاد ہو گیا۔ تو دو شرطیں ضروری ہیں: ایک کیا؟ قریبی رشتہ دار ہو، اور قریبی رشتہ دار تو بہت ہوتے ہیں، لیکن ہر ایک نہیں مراد، بلکہ کون سے؟ جو محرم بھی ہوں، دو شرطیں آ گئیں اس حدیث کے اندر۔ تو جو بھی مالک بنے گا، وہ قریبی رشتہ دار فوراً آزاد ہو جائے گا۔ آزاد ہو جائے گا۔
اب ایک شخص نے اپنے قریبی محرم رشتہ دار کو خیارِ شرط کے ساتھ خریدا، تو امام صاحب کے نزدیک مشتری مالک نہیں، جب مالک نہیں تو وہ قریبی رشتہ دار آزاد بھی نہیں۔ صاحبین فرماتے ہیں یہ مالک بن گیا، اور جوں ہی مالک بنا، حدیث متوجہ ہوئی بھئی، فوراً وہ شخص کیا ہو گیا؟ شریعت کا حکم آیا فوراً اور وہ آزاد ہو گیا، بیع پوری ہو گئی بھئی۔
یہ اختلاف دیکھیے بھئی: "وَلَا يَعْتِقُ قَرِيبُهُ عَلَيْهِ"، اور آزاد نہیں ہوگا اس کا قریبی رشتہ دار علیہ اس پر، "فِي مُدَّةِ خِيَارِهِ"، کس پر بھئی؟ مشتری پر، "فِي مُدَّةِ خِيَارِهِ"، اس کی مدتِ خیار کے اندر۔ "أَيْ إِنْ شَرَى قَرِيبَهُ بِالْخِيَارِ"، اگر خریدا مشتری نے اپنے قریبی عزیز کو خیار کے ساتھ، "لَا يَعْتِقُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي أَيَّامِ الْخِيَارِ"، تو وہ آزاد نہیں ہوگا امام صاحب کے نزدیک ایامِ خیار کے اندر، "خِلَافًا لَهُمَا"، بخلاف صاحبین کے۔ "وَلَا مَنْ شَرَاهُ قَائِلًا إِنْ مَلَكْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ"، بھئی! دوسری صورت، ایک آدمی ہے، اس نے کہا: "إِنْ مَلَكْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ" بھئی، اگر میں کسی غلام کا مالک بنا تو وہ آزاد۔ اب اس آدمی نے دوسرے سے خیارِ شرط کے ذریعے غلام خرید لیا، تو امام صاحب کے نزدیک وہ مالک بنا ہے ابھی؟ ان ایام میں مالک نہیں بنا، تو وہ غلام بھی آزاد نہیں۔ اور صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ یہ مالک بنا ہے، اور تو جیسے ہی ملک میں غلام آئے گا، فوراً کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔
تو یہاں عام غلام کی اب بات ہو رہی ہے: "وَلَا مَنْ"، اور نہ وہ غلام—"مَنْ" سے کیا مراد ہے بھئی یہاں؟ غلام—اور نہ وہ غلام آزاد ہوگا "شَرَاهُ"، جس کو جس کو اس نے خریدا ہے مشتری نے "قَائِلًا"، یہ کہہ کر: "إِنْ مَلَكْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ"، اگر میں مالک بنا کسی عبد کا، "فَهُوَ حُرٌّ"، تو وہ آزاد ہے۔ "أَيْ قَالَ"، مشتری نے کہا: "إِنْ مَلَكْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ"، ایک شخص نے کہا: "إِنْ مَلَكْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ"، میں مالک بنا کسی غلام کا تو وہ آزاد ہے، "فَشَرَاهُ"، پس اس نے خرید لیا اس نے "بِالْخِيَارِ"، کس کے ساتھ؟ خیار کے ساتھ، "لَا يَعْتِقُ فِي أَيَّامِ الْخِيَارِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، آزاد نہیں ہوگا ایامِ خیار میں امام صاحب کے نزدیک، "لِعَدَمِ الْمِلْكِ"، ملکیت کے نہ ہونے کی وجہ سے۔
لیکن اگر اس نے یہ کہا تھا: "إِنِ اشْتَرَيْتُ عَبْدًا فَهُوَ حُرٌّ"، اب کیا فتویٰ لگائیں گے بھئی آپ؟ "إِنِ اشْتَرَيْتُ عَبْدًا"، اگر میں نے غلام خریدا تو وہ آزاد ہے۔ اب فوراً آزاد ہو جائے گا بھئی، مالک تو نہیں بن رہا، لیکن شراء پائی جا رہی ہے یا نہیں اس کی بھئی؟ شراء تو پائی جا رہی ہے، تو پھر بالاتفاق آزاد۔
"وَلَا يُعَدُّ حَيْضُ الْمُشْتَرَاةِ فِي الْمُدَّةِ مِنْ اسْتِبْرَائِهَا"، یاد رکھو! جیسے ایک آزاد عورت ہے، اس کو کوئی طلاق دے دیتا ہے، تو دوسرا شخص اس سے اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتا جب تک وہ عورت اپنی عدت پوری نہ کر لے۔ یہ عدت کیوں ہے؟ اس میں حکمت کیا ہے؟ تو کہ یہ دیکھ لیا جائے کہ کہیں عورت کا رحم مشغول بالحمل تو نہیں ہے؟ کہیں اس کے رحم میں حمل تو نہیں ہے بھئی؟ گزشتہ خاوند کی اولاد تو نہیں؟ تاکہ کہیں اختلاطِ نسب نہ آئے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو شریعت نے اس پر عدت مقرر کر دی۔ اسی طرح جب کوئی شخص ایک باندی بیچتا ہے دوسرے کو، تو انتقالِ ملک آئے گا، جدید ملک آئے گی، اور جب بھی باندی کے اندر ملکِ جدید آئے گی، تو مالک کے لیے اس کے ساتھ اس وقت تک صحبت کرنا جائز نہیں جب تک وہ ایک حیض نہ گزار لے بھئی۔ جب وہ ایک حیض گزار لے گی، اس کو حیض آ جائے گا، حیض کا آنا علامت ہے اس بات کی کہ اس کا رحم مشغول بالحمل نہیں ہے، اگر مشغول بالحمل ہوتا تو پھر اس کو حیض ہی نہ آتا بھئی۔ تو اس کو کہتے ہیں استبراء، کہ یہ جو کیا کرے؟ ایک حیض کے ذریعے وہ پاکی حاصل کرتی ہے بھئی، اس کو استبراء کہتے ہیں۔
آب ایک شخص ہے، اس نے ایک باندی کو خریدا بھئی کس شرط کے ساتھ؟ خیارِ شرط کے ساتھ، ان تین دنوں کے اندر باندی کو حیض شروع ہو گیا بھئی، تو کیا یہ حیض استبراء میں سے شمار ہوگا یا اس کے لیے اس کے لیے الگ ایک حیض گزارنا پڑے گا بھئی؟ امام صاحب فرماتے ہیں: یہ استبراء میں سے شمار نہیں ہوگا، اس لیے کہ یہ ابھی مالک ہی نہیں بنا۔ اور صاحبین فرماتے ہیں: یہ حیض استبراء میں سے شمار ہوگا بھئی، اس لیے کہ یہ اب مالک بن چکا ہے، تو اس ملکِ جدید کے اندر باندی نے کیا کیا ہے؟ حیض، حیض شروع ہو گیا ملکِ جدید کے اندر، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
"وَلَا يُعَدُّ حَيْضُ الْمُشْتَرَاةِ فِي الْمُدَّةِ مِنْ اسْتِبْرَائِهَا"، اور شمار نہیں کیا جائے گا حیض بھئی، کس کا حیض؟ "الْمُشْتَرَاةِ"، اس باندی کا جس کو خریدا گیا ہے، اس کے حیض کو شمار نہیں کیا جائے گا "فِي الْمُدَّةِ"، کب آیا ہے وہ حیض بھئی؟ اسی مدت میں جو حیض آیا ہے، اس کو شمار نہیں کیا جائے گا "مِنْ اسْتِبْرَائِهَا"، اس کے استبراء میں سے۔ "أَيْ إنْ اشْتَرَى أَمَةً بِالْخِيَارِ فَحَاضَتْ فِي أَيَّامِ الْخِيَارِ"، خریدا کسی نے باندی کو خیار کے ساتھ، وہ حائضہ ہو گئی ایامِ خیار میں، "فَهَذِهِ الْحَيْضَةُ لَا تُعَدُّ مِنْ الْإِسْتِبْرَاءِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، تو اس حیض کو شمار نہیں کیا جائے گا استبراء میں سے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، "لِأَنَّ الْإِسْتِبْرَاءَ إنَّمَا يَجِبُ بَعْدَ ثُبُوتِ الْمِلْكِ"، اس لیے کہ استبراء تو واجب ہوتا ہے ثبوتِ ملک کے بعد۔ بھئی! ابھی تو استبراء اس پہ واجب ہی نہیں تھا، تو وجوبِ استبراء کب آئے گا بھئی؟ ملک حاصل ہوگی، اور ابھی تو ملک ہی حاصل نہیں، ہاں صاحبین کے نزدیک بھئی وجوب آ چکا ہے، کیونکہ وہ مالک بن گیا ہے، اب یہ اسی میں شمار ہوگا۔ تو اس حیض کے گزرنے کے بعد اگر اس نے اجازت دے دی تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ اس کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے۔
"وَلَا اسْتِبْرَاءَ عَلَى الْبَائِعِ إنْ رُدَّتْ عَلَيْهِ بِالْخِيَارِ"، اچھا بھئی! آپ نے باندی خریدی بھئی خیار کے ساتھ، لیکن پھر تین دن کا خیار جو رکھا تھا، اسی کے اندر آپ نے اس کو واپس کر دیا بھئی، تو کیا مالک کے لیے اب، مالک کے لیے ایک حیض انتظار کرنا ضروری ہے؟ ہاں، تو بائع، بائع کو واپس کر دی تو بائع پر بھی استبراء ضروری ہے اس کا یا استبراء ضروری نہیں ہے؟ تو یہ اسی اختلاف پر یہ مسئلہ بھی نکل آئے گا، امام صاحب کے نزدیک وہ مالک بنا ہی نہیں تھا مشتری، جب مالک نہیں بنا تو انتقالِ ملک پایا گیا بھئی؟ انتقالِ ملک نہیں کہ ایک ملک سے دوسری ملک کی طرف باندی منتقل ہوئی ہو، فلہٰذا اب بائع پر استبراء ضروری نہیں۔ اور صاحبین کیا فرماتے ہیں بھئی؟ وہ مالک بن چکا تھا مشتری، اب واپس کی ہے تو انتقالِ ملک پایا گیا، لہٰذا اب آقا پر کیا ضروری ہے؟ استبراء، اب وہ اس کے ساتھ جب تک ایک حیض نہ گزار لے، صحبت نہیں کر سکتا۔
"وَلَا اسْتِبْرَاءَ عَلَى الْبَائِعِ"، اور استبراء نہیں ہے بھئی کس پر؟ بائع پر بھئی، "إنْ رُدَّتْ عَلَيْهِ بِالْخِيَارِ"، اگر اس کو واپس لوٹائی گئی وہ باندی خیار کے ساتھ، خیار کی وجہ سے۔ "أَيْ إنْ رُدَّتْ الْأَمَةُ الْمُشْتَرَاةُ بِالْخِيَارِ"، اگر لوٹائی گئی وہ باندی "الْمُشْتَرَاةُ بِالْخِيَارِ"، جس کو خریدا گیا تھا خیار کے ساتھ، "لَا يَجِبُ الْإِسْتِبْرَاءُ عَلَى الْبَائِعِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، تو واجب نہیں ہے استبراء بائع پر امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، "لِأَنَّ الْإِسْتِبْرَاءَ إنَّمَا يَجِبُ بِالْإِنْتِقَالِ مِنْ مِلْكٍ إلَى مِلْكٍ"، اس لیے کہ استبراء تو واجب ہوتا ہے ایک ملک سے دوسری ملک کی طرف انتقال کی وجہ سے، "وَلَمْ تُوجَدْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، اور یہ انتقالِ ملک تو نہیں پایا گیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، "حَيْثُ لَا يَمْلِكُهَا الْمُشْتَرِي"، اس طور پر کہ اس مشتری اس کا مالک نہیں بنا۔ مشتری اس کا مالک نہیں بنتا بھئی، تو "وَمَنْ وَلَدَتْ فِي الْمُدَّةِ بِالنِّكَاحِ لَا تَصِيرُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ"، بھئی! صورتِ مسئلہ پہلے سمجھ لو۔
آپ نے زید کی باندی سے نکاح کر لیا، اب وہ باندی حاملہ ہوئی بھئی، اور پھر آپ نے اس حاملہ باندی کو خیارِ شرط کے ساتھ خرید لیا جو کہ آپ کی منکوحہ ہے بھئی، منکوحہ ہے۔ اب آپ نے اس پر ابھی قبضہ نہیں کیا بھئی، صرف خیارِ شرط کے ساتھ عقد ہوا ہے، خیارِ شرط کے ساتھ۔ اب ان ایامِ خیار کے اندر وہ باندی بچے کو جنم دے دیتی ہے، تو کیا وہ آپ کی ام ولد بنی یا نہیں بنی بھئی؟ ہاں، پہلے اس سے پہلے یہ سمجھ لو، ام ولد کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھیے! ام ولد باندی آقا کے بچے کو جنم دے، اور آقا اس کا اقرار کرے، تو یہ باندی اس کی ام ولد بن گئی بھئی۔ کیا بن گئی؟ ام ولد بھئی، اس کے بچے کی ماں۔ تو یہ ام ولد بن گئی، اور یاد رکھیے! ام ولد میں کسی غیر کو اس کا مالک بنانا یا کسی کو بیچنا جائز نہیں ہے بھئی۔ اب اس کا بچہ اس کی آزادی کا باعث بن گیا بھئی۔ آقا کی وفات کے بعد یہ خود بخود آزاد ہو جائے گی۔ ام ولد کا حکم معلوم ہوا بھئی، نہ اس میں کسی کو مالک بنانا جائز، نہ کسی کو مالک بنانا نہیں جائز، تو بیچنا بھی لازمی بات ہے نہیں جائز بھئی، اور یہ آقا کے مرنے کے بعد کیا ہو جایا کرتی ہے؟ آزاد ہو جایا کرتی ہے بھئی۔ آزاد ہو جایا کرتی ہے۔
اب اس منکوحہ باندی کو، اپنی منکوحہ باندی کو آپ نے خیارِ شرط کے ساتھ خرید لیا، خریدنے کے بعد انہی ایامِ خیار میں، ابھی آپ نے قبضہ نہیں کیا، انہی ایامِ خیار میں اس نے بچے کو جنم دیا۔ تو کیا یہ مشتری کی ام ولد بن گئی یا ام ولد نہیں بنی بھئی؟ تو امام صاحب کے نزدیک ام ولد نہیں بنی، کیونکہ وہ مالک ہی نہیں بنا ابھی، اور جب مالک نہیں بنا، تو ام ولد تو تب بنتی جبکہ اس کی ملک کے اندر رہتے ہوئے وہ کیا کرتی؟ بچے کو جنم دیتی، تو یہ اس کے لیے یہ اس کا اس کے لیے ام ولد نہیں بنی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس صورت میں جو نکاح کی وجہ سے بچے کو جنم دے باندی، تو وہ ام ولد نہیں بنتی بھئی، اس کی خرید و فروخت وغیرہ سب جائز ہیں بھئی۔ ہاں، آقا کے بچے کو اس کی ملک میں رہتے ہوئے کیا کر دے؟ جنم دے، تو وہ کیا کہے ہوگی؟ ام ولد۔ تو یہ اب امام صاحب کے نزدیک جب وہ مالک نہیں بنا بھئی، تو اس کی ملک میں اس نے بچے کو جنم نہیں دیا، جب ملک میں بچے کو جنم نہیں دیا تو ام ولد کہاں سے بن گئی؟
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ بھئی! خیار اس نے رکھا تھا، اور مشتری خیار رکھے تو مبیعہ بائع کی ملک سے نکلتا ہے، اور کس کے ملک میں داخل ہو جاتا ہے؟ مشتری، تو یہ مالک بن چکا ہے، نکاح فاسد ہو چکا ہے، اور اس کی ملک کے اندر اس باندی نے بچے کو جنم دیا ہے، تو یہ اس کے لیے ام ولد بن گئی۔ اب یہ اس کو واپس نہیں کر سکتا، کیونکہ ام ولد کی تملیک تو جائز، واپس اس کو خیار کی وجہ سے واپس کر دے اور اس کو بائع کے حوالے کرے، نہیں کر سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
"وَمَنْ وَلَدَتْ فِي الْمُدَّةِ بِالنِّكَاحِ"، اور وہ باندی جس نے جنم دیا مدت کے اندر اندر "بالنِّكَاحِ"، نکاح کے سبب سے، "لَا تَصِيرُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ"، وہ نہیں بنتی ام ولد اس مشتری کے لیے۔ دیکھیے! خود بتلا رہے ہیں: "أَيْ إنْ اشْتَرَى زَوْجَتَهُ بِالْخِيَارِ"، اگر خریدا کسی آدمی نے اپنی بیوی کو خیار کے ساتھ، "فَوَلَدَتْ فِي أَيَّامِ الْخِيَارِ فِي يَدِ الْبَائِعِ"، تو اس نے جنم دیا کس میں؟ ایامِ خیار میں "فِي يَدِ الْبَائِعِ"، یہ قید ضروری ہے، کس کے قبضے میں تھی وہ؟ ابھی بائع ہی کے قبضے میں تھی، "لَا تَصِيرُ أُمَّ وَلَدٍ لِلْمُشْتَرِي"، وہ مشتری کے لیے ام ولد نہیں بنے گی، "فَيَمْلِكُ الرَّدَّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، لہٰذا وہ مالک ہے بھئی کس چیز کا؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، "وَعِنْدَهُمَا تَصِيرُ أُمَّ وَلَدٍ"، اور صاحبین کے نزدیک وہ ام ولد بن جائے گی، "لِأَنَّهَا وَلَدَتْ فِي مِلْكِ الْمُشْتَرِي"، اس لیے کہ اس نے جنم دیا ہے مشتری کی ملک میں، "فَلَا يَمْلِكُ الرَّدَّ"، تو وہ واپس کرنے کا مالک نہیں۔ "وَإِنَّمَا قُلْنَا فِي يَدِ الْبَائِعِ"، کہتے ہیں: یہ "يَدِ الْبَائِعِ" کی قید ہم نے کیوں لگائی؟ کہتے ہیں: ہم نے "فِي يَدِ الْبَائِعِ" کہا، "حَتَّى لَوْ قَبَضَ الْمُشْتَرِي"۔
اگر مشتری نے اس پر قبضہ بھی کر لیا ہے بھئی، "وَوَلَدَتْ فِي يَدِهِ"، اور اس نے جنم دیا اس کے قبضے کے اندر، "تَصِيرُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ" بالاتفاق بھئی۔ تو پھر بالاتفاق کیا بن جائے گی اس کے لیے ام؟ اب امام صاحب بھی فرماتے ہیں بھئی، اگر اس مشتری نے اپنے قبضے میں بھی اس کو کر لیا، اب خیار تو اس کو حاصل ہے، لیکن اگر باندی نے اس خیار کی مدت کے اندر کیا کیا، بچے کو جنم دے دیا، اب امام صاحب بھی فرماتے ہیں واپس نہیں کر سکتا بھئی۔
اس لیے کہ اس باندی نے بچے کو جنم دیا ہے، اور ولادت باندی کے اندر، عورت کے اندر کیا شمار ہوتا ہے؟ عیب شمار ہوتا ہے۔ تو اب عیب کی وجہ سے اس کو—تو گویا یہ اس کا مالک بن گیا بھئی، پہلے مالک، تو بچہ جو جنم دیا اس نے، وہ کس، اس کی، جب عیب آیا بھئی، ولادت کی وجہ سے کیا آیا؟ عیب آیا، تو اب جو بچہ پیدا ہوا، گویا اسی کی ملک میں پیدا ہوا، اور جب اسی کی مالک کی ملک کے اندر باندی بچے کو جنم دے تو اس کے لیے کیا بن جایا کرتی ہے؟ ام ولد بن جاتی ہے۔
مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو پھر وہ ام ولد بن جائے گی اس مشتری کے لیے بالاتفاق، "لِأَنَّهَا تَعَيَّبَتْ بِالْوِلَادَةِ"، اس لیے کہ وہ باندی جو ہے، وہ عیب دار ہو گئی ولادت کی وجہ سے، "فَلَا يَمْلِكُ الرَّدَّ"، تو مشتری واپس کرنے کا مالک نہیں، اس کو واپس نہیں کر سکتا۔ "فَصَارَتْ مِلْكًا لِلْمُشْتَرِي"، پس وہ ملک بن گئی مشتری کی، "فَالْوِلَادَةُ وَقَعَتْ فِي مِلْكِ الْمُشْتَرِي"، تو ولادت گویا ملکِ مشتری ہی میں واقع ہوئی ہے، "لَا فِي مِلْكِهِ"، نہ کہ بائع کی ملک میں، اور جب مشتری کی ملک میں واقع ہوئی ہے، "فَتَصِيرُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ"، تو وہ کیا بن جائے گی اس کی؟ ام ولد بن جائے گی بھئی۔
"وَهُلْكُهُ فِي يَدِ الْبَائِعِ عَلَيْهِ إنْ قَبَضَهُ الْمُشْتَرِي بِإِذْنِهِ وَأَوْدَعَهُ عِنْدَهُ لِارْتِفَاعِ الْقَبْضِ بِالرَّدِّ لِعَدَمِ الْمِلْكِ"۔
بھئی! آپ نے ایک شخص سے کوئی چیز خریدی خیارِ شرط کے ساتھ۔ اور خیارِ شرط کے ساتھ خریدنے کے بعد آپ نے اس پر قبضہ بھی کر لیا۔ اور قبضہ کرنے کے بعد پھر آپ نے اس کو بائع کے پاس ہی امانتاً رکھوا دیا۔ بائع ہی کے پاس کیا کر دیا؟ امانتاً رکھوا دیا۔
اب وہ چیز ہلاک ہو گئی بائع کے پاس بھئی، وہ جو آپ نے امانت رکھوائی تھی، وہ بائع کے پاس کیا ہو گئی؟ ہلاک ہو گئی۔ تو اب اس کا نقصان کس پر آئے گا بھئی؟ کہتے ہیں بھئی، بائع پر ہی آئے گا، کس پر آئے گا؟ ہاں، اب مشتری سے ثمن یا قیمت وغیرہ اس کی وصول نہیں کی جائے گی۔
کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ امام صاحب کے نزدیک جب خیار مشتری نے رکھا تو مشتری کوئی اس کا مالک بنا ہے؟ مشتری مالک نہیں بنا۔ ہاں، جب اس نے قبضہ کر دیا تو وہ چیز مضمون بالقیمت ہو گئی بھئی۔ کیا ہوئی؟ کیونکہ وہ مقبوض علیٰ سوم الشراء ہے، آپ نے پڑھا کل یا نہیں پڑھا بھئی؟ مقبوض علیٰ سوم الشراء کیا ہوتی ہے؟ مضمون بالقیمت ہوتی ہے۔ تو یہ مضمون بالقیمت بن گئی۔
لیکن پھر جب اس نے اس کے پاس امانت رکھوائی، تو اس کا قبضہ ختم ہوا، اور چیز واپس کس کے قبضے میں آ گئی؟ بائع کے قبضے میں آ گئی۔ کس کے قبضے میں آ گئی؟ بائع کے قبضے میں آ گئی۔ امانت نہیں کہیں گے، یہ چیز اس کے پاس واپس ہم آ گئی، اس لیے کہ امانت تو غیر کے پاس رکھوائی جاتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ غیر کی چیز ہو، وہ دوسرے، کسی اور کے پاس امانت رکھوائے، تو یہ تو امانت تو بن ہی نہیں سکتی بھئی۔ یہ اس کا مالک بھی ہو اور یہ اس کی امانت بھی ہو بھئی اس کے پاس، ایسا ہو سکتا ہے؟ نہیں ہو سکتا، لہٰذا وہ، اس کے بعد اب ہلاک ہوئی ہے تو اسی کے قبضے میں ہلاک ہوئی ہے، تو نقصان بھی بائع پر ہوگا، مشتری سے کچھ نہیں لیا جائے گا۔ دیکھیے بھئی!
"وَهُلْكُهُ فِي يَدِ الْبَائِعِ"، اور اس مبیع کا ہلاک ہونا بائع کے قبضے میں، "عَلَيْهِ"، وہ بائع پر ہی ہوگا، "إنْ قَبَضَهُ الْمُشْتَرِي"، اگر قبضہ کیا تھا مشتری نے اس پر بھی، "بِإِذْنِهِ"، اس بائع کی اجازت سے قبضہ کیا تھا، "وَأَوْدَعَهُ عِنْدَهُ"، اور "أَوْدَعَ يُودِعُ" کا معنیٰ امانت رکھوانا، اور اسی کے پاس امانت رکھوا دیا تھا۔ تو یہ بائع پر کیوں ہوگا؟ "لِارْتِفَاعِ الْقَبْضِ بِالرَّدِّ"، اس لیے کہ قبضہ کیا ہوا؟ مرتفع ہوا، ختم ہو گیا تھا "بِالرَّدِّ"، رد کی وجہ سے، "لِعَدَمِ الْمِلْكِ"، ملک کے نہ پائے جانے کی وجہ سے بھئی۔ ملک کے نہ پائے جانے۔
صرف اس کا قبضہ تھا بھئی، ملک تو اس کی تھی نہیں، اور وہ قبضہ بھی کیا ہو گیا؟ ختم ہو گیا۔ "أَيْ الْمُشْتَرِي بِالْخِيَارِ"، مشتری خیار، خیار کے ساتھ ہوگا۔ یعنی مشتری بالخیار جو ہے، وہ چیز خریدنے والا خیار کے ساتھ، "إنْ قَبَضَ مُشْتَرَاهُ"، اگر اس نے قبضہ کر لیا اپنے اشتراء پر، یعنی اس مبیع پر جس کو اس نے خریدا ہے، "ثُمَّ أَوْدَعَهُ عِنْدَ الْبَائِعِ"، پھر اس نے اس کو امانت رکھوا دیا بائع کے پاس، "فَهَلَكَ فِي يَدِ الْبَائِعِ"، وہ چیز ہلاک ہو گئی کس کے قبضے میں؟ بائع کے قبضے میں، "فَهُلْكُهُ فِي يَدِهِ يَكُونُ عَلَى الْبَائِعِ"، تو اس مبیع کا ہلاک ہونا بائع کے قبضے میں، یہ بائع پر ہی ہوگا، "لِأَنَّ الْقَبْضَ قَدْ ارْتَفَعَ بِالرَّدِّ"، اس لیے کہ مشتری کا قبضہ تو اٹھ چکا ہے رد کرنے کی وجہ سے، "لِأَنَّ الْمُشْتَرِيَ لَمْ يَمْلِكْهُ"، اس لیے کہ مشتری تو اس کا مالک ہی نہیں، وہ صرف قبضہ تھا اس کا اور وہ ختم ہو چکا ہے۔ "فَلَمْ يَصِحَّ الْإِيدَاعُ"، تو امانت رکھوانا صحیح ہی نہیں، اگر وہ مالک ہوتا تو وہ امانت رکھواتا بھئی، وہ مالک ہی نہیں تو امانت کیسے رکھوا رہا ہے؟ "بَلْ رَدُّهُ إلَى الْبَائِعِ يَكُونُ رَفْعًا لِلْقَبْضِ"، بلکہ یہ جو اس کا لوٹانا ہے بائع کو، یہ تو قبضے کو دور کرنا ہے، اس نے قبضہ اپنا دور کر دیا، "فَيَكُونُ الْهَلَاكُ قَبْلَ الْقَبْضِ"، تو گویا ہلاکت قبضے سے پہلے ہی ہو گئی وہ چیز۔ گویا اس نے ابھی اس سے لی ہی نہیں تھی، لیکن واپس کر دی تو گویا لی ہی نہیں، تو گویا چیز قبضے سے پہلے ہی ہلاک ہو گئی۔ "فَيَكُونُ عَلَى الْبَائِعِ"، "أَيْ فَيَكُونُ هُلْكُهُ عَلَى الْبَائِعِ"، ضمیر ہملکہ کو راجع کریں بھئی، یہ اوپر جو "يَكُونُ" لکھا ہوا ہے، یہ متن کا حصہ ہے۔ "فَيَكُونُ عَلَى الْبَائِعِ"، تو اس چیز کی ہلاکت بھی کس پر آئے گی؟ بائع پر ہی ہوگی، اس کا نقصان اسی کو ہوگا۔
"وَعِنْدَهُمَا"، صاحبین فرماتے ہیں: "لَكِنْ لَمَّا مَلَكَ"، "لَكِنْ" کا لفظ بھئی یہ زائد لگتا ہے، جڑتا نہیں یہاں پر، معلوم کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ صاحبین کے نزدیک، "وَعِنْدَهُمَا"، صاحبین کے نزدیک "لَمَّا مَلَكَهُ الْمُشْتَرِي"، جب مالک بن گیا اس مبیع کا مشتری، "صَحَّ إيدَاعُهُ"، تو صحیح ہے اس کا امانت رکھوانا، "وَلَمْ يَرْتَفِعْ الْقَبْضُ"، اور قبضہ ختم نہیں ہوگا۔ کیوں؟ کیونکہ یہ تو مالک ہے بھئی، قبضہ ختم بھی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔ "فَكَأَنَّهُ هَلَكَ فِي يَدِ الْمُشْتَرِي"، تو گویا کہ یہ چیز کس کے قبضے میں ہلاک ہوئی؟ مشتری ہی کے قبضے میں ہلاک ہو گئی، "فَيَكُونُ الْهَلَاكُ مِنْ مَالِهِ"، تو اس چیز کے کا ہلاک ہونا اسی کے مال میں سے ہوگا بھئی، مشتری پر آئیں گے اس کے۔
سمجھ میں آیا مسئلہ بھئی؟ چلیے بس کرتے ہیں، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔