۔
اچھا مولانا! گزشتہ اس باب میں آپ نے پڑھا تھا بھئی! کہ دَین کا مسئلہ جو کہ شہادت کے اندر بھئی، شہادت میں آپ نے پڑھا تھا، امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک دونوں شاہدین کا اتفاق ضروری ہے: لفظاً بھی اور معنًا بھی۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک صرف معنًا اتفاق کافی ہے، لفظاً اتفاق ضروری نہیں نہیں بھئی، ضروری نہیں۔
اور پھر اس کے بعد بھئی! کچھ مسائل ذکر ہوئے تھے، بعد میں جو دَین والے مسئلے تھے اس میں آپ نے پڑھا بھئی، کہ اگر دونوں شاہدوں میں سے ایک کچھ زیادت کا ذکر بھی کر دے، ایک شاہد کیا کرے؟ کچھ زیادت کا ذکر بھی کر دے، تو بھی وہ گواہی قابل قبول ہوگی اَقل پر، بشرطیکہ دعویٰ کس کا ہو؟ اکثر کا ہو بھئی، اکثر کا ہو۔ جی۔
اور اس کے بعد کچھ عقود ذکر ہوئے بھئی! جن میں سے ایک تھا بیع اور بیع و شراء اور ایک تھا کتابت۔ اس کے بارے میں آپ کو بتلایا مصنف نے کہ یہاں پر دونوں جانب سے مقصود عقد ہوتا ہے۔ چاہے بائع کی طرف یا غلام کی طرف سے دعویٰ ہو یا مشتری یا آقا کی طرف سے دعویٰ ہو، بیع و شراء اور کتابت کے بدلِ کتابت میں بھئی۔ تو دونوں طرف سے عقد مقصود ہے۔
لہذا اگر دونوں گواہوں کا اتفاق تو ہے، لیکن ایک گواہ کیا کر رہا ہے؟ کچھ زیادت کا ذکر کر رہا ہے، تو یہاں زیادت کا ذکر آ جائے تو چاہے اب لفظاً و معنًا اتفاق ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی گواہی کو قبول نہیں نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ مثلاً ایک گواہ نے کہا: أَلْفٌ، دوسرے نے کہا: أَلْفٌ وَمِائَةٌ۔ تو اب لفظاً بھی اتفاق، معنًا بھی اتفاق، مگر ایک گواہ کس چیز کو ذکر کر رہا ہے؟ کچھ زیادت کو ذکر کر رہا ہے، تو زیادت کی وجہ سے عقد مختلف ہو گئے، اس لیے کہ أَلْفٌ پر جو عقد ہے وہ الگ ہوگا، أَلْفٌ وَمِائَةٌ پر جو عقد ہے وہ الگ ہوگا، لہذا ایک گواہ کی گواہی سے ایک عقد ثابت ہوا، دوسرے کی گواہی سے دوسرا عقد ثابت ہوا، تو ہر عقد پر ایک ایک گواہی ہوئی اور ایک گواہی کی وجہ سے کوئی ایک عقد بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔
اور اس کے بعد پھر کچھ ایسے عقد ذکر کیے تھے مثلاً إعتاقٌ بِمَالٍ ہے، صلح عن قود ہے، رہن ہے اور خلع کہ ان کے اندر ایک جانب سے اگر دعویٰ ہو تو عقد مقصود ہوتا ہے، اور اگر دوسری جانب سے دعویٰ ہو تو مال مقصود ہوتا ہے۔ تو جب عقد مقصود ہو تو اس صورت میں زیادت ایک گواہ کی طرف سے آ جائے تو گواہی کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد کر دیا جائے گا، کیونکہ ایک عقد ہے أَلْفٌ پر اور ایک ہے أَلْفٌ وَمِائَةٌ پر، دونوں کیا ہیں؟ الگ الگ ہیں۔
لیکن اور دوسری جانب سے دَین مقصود ہے بھئی، تو لہذا وہاں پر اگر دو گواہ گواہی دیتے ہیں، ان میں لفظاً و معنًا اتفاق ہے، لیکن ایک گواہ کس کو ذکر کر دیتا ہے؟ زیادت کو، تو پھر اس صورت میں دَین کے مسئلے میں کیا تھا؟ کہ زیادت ایک گواہ زیادت کو ذکر کر لے، پھر بھی اَقل پر کیا کر لی جائے گی گواہی؟ قبول کر لی جائے گی، بشرطیکہ مدعی نے دعویٰ کتنے کا کیا ہو؟ اکثر کا کیا ہو بھئی۔
اور اس کے بعد نکاح کا ذکر کیا بھئی! اجارے کو ذکر کیا۔ اجارے کے بارے میں بتلایا تھا کہ اولِ مدت کے اندر اس میں اختلاف آیا، مقدمہ آیا تو یہ پھر بیع کی طرح ہے۔ یعنی دونوں گواہوں کا لفظاً و معنًا اتفاق ضروری ہے اور کوئی بھی زیادت کو ذکر نہ کرے، اگر زیادت کو ذکر کرے تو جیسے بیع و شراء میں زیادت کی وجہ سے گواہی رد ہوتی تھی، یہاں بھی گواہی کیا ہو جائے گی؟ رد ہو جائے گی بھئی۔
اور اگر مدت پوری ہو جائے اجارے کے اندر، اس کے بعد دعویٰ ہو تو پھر جس طرف سے بھی دعویٰ ہو بلکہ دعویٰ کس کی طرف سے ہوگا؟ اجیر کی طرف سے ہی ہوگا، لازمی بات ہے۔ تو پھر اس صورت میں یہ کس کی طرح ہوگا؟ دَین، یہاں مال مقصود ہے۔ اور دَین کی صورت میں اگر ایک گواہ زیادت کو ذکر کر بھی دے، تو بھی اَقل پر کیا کر لیا جاتا ہے دعوے کو؟ قبول کر لیا جاتا ہے، بشرطیکہ دعویٰ کتنے کا ہو؟ اکثر کا ہو۔
اور نکاح کے مسئلے میں بھئی! نکاح کے مسئلے میں بتلایا تھا: صاحبین فرماتے ہیں اگر ایک گواہ بھی زیادت کو ذکر کر دے گا، تو گواہی رد ہو جائے گی، کیونکہ نکاح میں مقصود کیا ہوتا ہے؟ عقد مقصود ہوتا ہے اور مال تو تبعاً آیا کرتا ہے، وہ غیر مقصود ہے۔ تو غیر مقصود میں اختلاف آ بھی جائے، کوئی حرج نہیں، مقصود کے اندر تو دونوں گواہوں کا اتفاق ہے، ایک بھی نکاح کی گواہی دے رہا ہے اور دوسرا بھی نکاح کی گواہی دے رہا ہے، لہذا گواہی... نہیں، یہ تو امام صاحب کی دلیل آ گئی بھئی، صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ یہ کس کی طرح ہے بھئی؟ جی؟ امام... ہاں، صاحبین فرماتے ہیں: یہ بیع کی طرح ہے، کس کی طرح ہے؟ اور بیع کے مسئلے میں زیادت آ جاتی تھی، چاہے جس جانب سے بھی دعویٰ ہو، تو گواہی کو کیا کر دیا جاتا تھا؟ رد کر دیا جاتا تھا۔
اور امام صاحب کے نزدیک گواہی قبول کر لی جائے گی بھئی، گواہی کیا کر لی جائے گی؟ قبول کر لی جائے گی، اس لیے اور یہ گواہی قبول کی جائے گی استحساناً۔ تو امام صاحب کی دلیل ہے استحسان یعنی قیاسِ خفی، اور صاحبین کی دلیل کیا ہے؟ قیاس ہے بھئی، قیاس کی رو سے تو واقعی گواہی کو کیا ہونا چاہیے؟ رد ہونا چاہیے، کیونکہ یہ بیع کی طرح ہے، لیکن استحساناً امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں مقصود مال نہیں ہے بلکہ مقصود کیا ہے؟ عقد ہے، جس طرف سے بھی دعویٰ ہو مقصود عقد ہے، اور عقد پر دونوں متفق ہیں، ایک گواہ بھی کہہ رہا ہے نکاح ہوا تھا، دوسرا بھی کیا کہہ رہا ہے؟ نکاح ہوا تھا۔ ہاں، صرف پیسوں میں، مہر میں اختلاف ہے، ایک أَلْفٌ کہہ رہا ہے، ایک دوسرا أَلْفٌ وَمِائَةٌ، تو اس صورت میں وہ فرماتے ہیں گواہی قبول کر لی جائے گی اَقل پر، اور دعویٰ... اور دعویٰ چاہے اَقل کا ہو چاہے اکثر کا، تو دَین کے مسئلے سے یہ مختلف ہوا، دَین کے اندر دعویٰ اگر اکثر کا ہوتا تھا تو گواہی قبول ہوتی تھی، اور اَقل کا ہوتا تھا تو گواہی قبول نہیں ہوتی تھی۔ اور یہاں پر اگر دعویٰ چاہے اَقل کا ہو دعویٰ یا دعویٰ اکثر کا ہو، دونوں صورتوں میں گواہی کو اَقل پر کیا کر لیا جائے گا؟ قبول کر لیا جائے گا۔ سورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور پھر یہ مسئلہ بھی آپ نے پڑھا تھا کہ وراثت کے شاہد وراثت کے مسئلے میں جو گواہی دیتا ہے اس کے لیے جرّ بھی ضروری ہے، جرّ کا معنی کھینچنا، نقل کرنا، یعنی مورث سے مال کو کھینچ کر کس کی طرف منتقل کرنا؟ وارث کی طرف۔ مثلاً بھئی! آپ نے کہہ دیا ہے، گواہی دینے گئے وراثت کے مسئلے میں، تو آپ جا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ جو زمین ہے یہ زید کے مورث کی تھی، یہ زمین کس کی تھی؟ زید کے مورث کی تھی، تو اس پر ہم فوراً زید کے حوالے وہ زمین نہیں کریں گے بلکہ آپ کو جرّ بھی کرنا پڑے گا، زمین کو کے انتقال کو بھی کیسے انتقال ذکر کریں گے؟ کہ اس کا مورث مر چکا ہے اور اس زمین کو اس نے بطورِ وراثت کے چھوڑ دیا کس کے لیے؟ زید کے لیے۔ اب مولانا! اب فیصلہ کر دیا جائے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو جرّ بھی ضروری ہے۔
وَتُقْبَلُ الشَّهَادَةُ عَلَى الشَّهَادَةِ إِلا فِي حَدٍّ وَقَوَدٍ
اور شہادت پر شہادت کو قبول کیا جائے گا إِلا فِي حَدٍّ وَقَوَدٍ مگر حد و قصاص کے مسئلے میں بھئی، اس لیے کہ یہ شبہات کی وجہ سے ساقط ہو جاتے ہیں۔ حد و قود کیا ہوتے ہیں؟ شبہ کی وجہ سے ساقط ہو جاتے ہیں۔
بھئی! شہادت علی الشهادة جانتے ہو یا نہیں جانتے بھئی؟ بھئی! دیکھیے، میرا اور زید میرے اور زید کے درمیان بیع ہوئی تھی اور آپ میں سے دو حضرات اس کے گواہ تھے بھئی۔ اب بعد میں زید نے انکار کر دیا، میں نے زید پر دعویٰ کر دیا اور آپ دونوں کو کہا کہ کل قاضی کے پاس آپ نے آ کر اس مسئلے میں گواہی دینی ہے۔ آپ دونوں نے کہا کہ بھئی! ہم تو آج رات ہی حج پر جا رہے ہیں، ہماری فلائٹ ہے، ہم تو نہیں آ سکتے۔ اب گواہوں کو عذر ہے، وہ حاضر نہیں ہو سکتے، کوئی بھی عذر ہو میں نے ایک عذر ذکر کر دیا مثلاً۔ اب آپ چونکہ قاضی کے پاس نہیں آ سکتے تو اب آپ اپنی شہادت پر آگے کیا بنا لیں گے؟ گواہ بنا لیں گے۔ تو آپ میں سے ہر ایک دو گواہ بنا لے گا۔ شاہدِ اول بھی کتنے گواہ بنا لے گا اپنی گواہی پر؟ دو گواہ، اور شاہدِ ثانی بھی اپنی گواہی پر کتنے گواہ بنا لے گا؟ دو گواہ بنا لے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ جو آپ دونوں جو حضرات ہیں جو حج پر جا رہے ہیں جنہوں نے وہ جو اس موقع پر موجود تھے، گواہی دے رہے ہیں، یہ ہیں شاہدِ اصل، اور جن دو کو آگے گواہ بنایا اپنی گواہی پر وہ ہیں شاہدِ فرع بھئی۔ اول کون ہے؟ شاہدِ اصل اور ثانی کیا ہے؟ شاہدِ فرع ہیں بھئی۔
تو یہ شاہدِ فرع کی شہادت قبول کی جائے گی کس کے مسئلے کے اندر؟ تمام مسائل کے اندر قبول کی جائے گی سوائے حدود اور قصاص کے، کیونکہ حدود اور قصاص شبہات کی وجہ سے کیا ہو جاتے ہیں؟ ساقط، اور یہاں پر بھی شبہ آ جاتا ہے کہ ہو سکتا ہے شاہدِ فرع کیا کر رہا ہو؟ جھوٹ بول رہا ہو، کیا وہ کر رہا ہو؟ جھوٹ۔ جی، تو آدمی جتنے بڑھتے جائیں گے اس میں وہ جھوٹ کا شبہ اس میں بڑھتا جائے گا۔
پھر مثلاً بھئی! آپ نے کس کو بنایا تھا؟ آپ بھئی حج پہ جا رہے ہیں، آپ نے آگے شاہدِ فرع بنا دیے، لیکن شاہدِ فرع بھی راتوں رات ایک دم شدید بیمار ہو گیا۔ اب اس میں سے آپ نے ایک آدمی ہیں آپ میں سے، اس نے کتنے بنائے تھے؟ دو، تو وہ دونوں شدید بیمار ہو گئے بھئی راتوں رات بھئی! تو وہ ان میں سے ہر ایک پھر آگے کیا کر دیتا ہے؟ ہر ایک دو دو گواہ بنا دیتا ہے۔ اگلے دو بھی اسی رات زبردست بیمار ہو گئے بھئی، وہ اگلے کیا کر دیتے ہیں بھئی؟ دو اور گواہ بنا دیتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تیسرے جو ہیں ان کو فجر کے وقت پھر سفر پہ کہیں نکلنا پڑا، وہ آگے کیا کریں گے؟ اگلے دو، تو ان میں سے ہر ایک دو دو بناتا چلا جائے گا مولانا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جتنا بھی سلسلہ چلے بھئی، کیونکہ ضرورت ہے بھئی، انسان ہے، عوارض لاحق ہوتے ہیں، تو لہذا اس کی اجازت دی گئی۔
تو دیکھو، جتنے واسطے بڑھتے گئے اتنا ہی جھوٹ کا احتمال بھی بڑھتا گیا۔ تو اس لیے حد اور قصاص کے مسئلے میں یہ قبول نہیں، باقی تمام مسائل میں شہادت علی الشهادة کو کیا کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا۔
وَشُرِطَ لَهَا تَعَذُّرُ حُضُورِ الأَصْلِ
اور شرط لگائی گئی ہے شہادت علی الشهادة کے لیے، 'ہا' ضمیر کس کو راجع ہے؟ شہادت علی الشهادة۔ شہادت علی الشهادة کے لیے شرط لگا کیا شرط ہے مولانا؟ تَعَذُّرُ حُضُورِ الأَصْلِ کہ اصل کا حاضر ہونا متعذر ہو۔ اصل کا اصل کا حاضر ہونا مشکل ہو یا ممکن نہ رہے، بِمَوْتٍ کس کی وجہ سے؟ موت کی وجہ سے، یا تو شاہدِ اصل مر گیا، اب وہ حاضر ہی نہیں ہو سکتا، أَوْ مَرَضٍ یا کیا ہے وہ؟ بیماری کی وجہ سے بیمار ہے، حاضر نہیں ہو سکتا، أَوْ سَفَرٍ یا کس کی وجہ سے؟ سفر کی وجہ سے، کیا معنی؟ یعنی وہ وہ سفر کی مدت پر ہے، اتنی مدت پر رہتا ہے کہ یہاں پہنچنے کے لیے اسے تین دن تین راتیں لگتی ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ یہ اتنی مسافت پر ہے کہ وہ تین دن تین رات کا سفر بنتا ہے بھئی۔ اچھا۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ بھی عذر ہے مولانا۔
وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ
اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يَكْفِي مَسَافَةٌ کافی ہے اتنی مسافت کہ إِنْ غَدَا کہ اگر وہ گواہ صبح کے وقت نکلے، لا يَبِيتُ إِلَى أَهْلِهِ تو رات نہ گزار سکے کدھر؟ اپنے اہل کے پاس۔ صبح نکلے تو رات کو واپس یعنی اپنے گھر نہ، مثلاً صبح شہادت کے لیے نکلتا ہے تو رات کو واپس گھر نہیں پہنچ سکتا، یہ مسافت بھی ہو تو یہ بھی عذر ہے، لہذا وہ کیا کر سکتا ہے؟ اپنی شہادت پر کسی اور کو شاہد بنا سکتا ہے کہ وہ جا کر گواہی دے دے۔ اچھا۔
دوسری بات بھئی: وَشَهَادَةُ عَدَدٍ عَنْ كُلِّ أَصْلٍ بھئی، عدد کی شہادت ہونی چاہیے ہر اصل سے۔ بھئی! میرے مسئلے پر گواہ کتنے تھے؟ دو گواہ تھے بھئی، کتنے تھے؟ دو، تو ہر اصل کو آگے شاہدِ فرع کتنے بنانے پڑیں گے؟ دو بنانے پڑیں گے، یہ ضروری ہے۔ شہادتِ عدد ہو عَنْ كُلِّ أَصْلٍ، ہر اصل سے دو کی گواہ===========
لا تَغَايُرَ فَرْعَيْ هَذَا وَذَلِكَ
'لا تَتَغَايَرُ' 'لا تَغَايَرُ' ہونا چاہیے بھئی، 'لا تَغَايَرُ' ہونا چاہیے، فعل ہونا چاہیے یہاں پر، سمجھ میں آیا بھئی؟
اچھا، تو لا تَغَايُرَ فَرْعَيْ هَذَا وَذَلِكَ، لیکن بھئی یاد رکھو، بھئی اصل گواہ کتنے تھے؟ دو، اور ان میں سے ہر ایک آگے کتنے گواہ بنائے گا؟ دو، تو کل کتنے گواہ ہوئے؟ چار۔ اب شہادت شاہدِ فرع کتنے ہو گئے؟ شاہدِ اصل تھے دو، شاہدِ فرع ہو گئے چار، لیکن ہمارے نزدیک چار ہونا ضروری نہیں، جن دو کو پہلے نے گواہ بنایا ہے دوسرا بھی انہی دو کو کیا کر سکتا ہے؟ گواہ بنا سکتا ہے۔ تو شاہدِ اصل جو اول تھا اس نے دو آدمیوں کو آگے اپنا گواہ بنا دیا اپنی گواہی پر، شاہدِ ثانی جو اصل ہے وہ بھی کیا کر سکتا ہے؟ انہی دو کو اپنی گواہی پر گواہ بنا سکتا ہے، یہ جائز ہے۔ معلوم ہوا دو شاہدِ اصل تھے تو اب شاہدِ فرع بھی کتنے ہو گئے؟ دو بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، ایک نے جن دو کو بنایا ہے دوسرے انہی دو کو... تو ان کے نزدیک دو شاہدِ اصل ہوں تو شاہدِ فرع کتنے ہو جائیں گے؟ چار، ان چار سے آگے کتنے ہو جائیں گے؟ آٹھ بھئی۔ ہمارے نزدیک دو دو ہی کافی ہیں بھئی۔
چونکہ متغائر نہ ہوں فَرْعَيْ، نونِ اضافت کی وجہ سے گر گیا، ان دونوں کے فروع، فَرْعَيْ هَذَا وَذَلِكَ ایک یہ گواہ ہے ایک وہ گواہ ہے، تو اس کے ان دونوں کی اس کی دونوں فرعیں متغائر نہ ہوں اس کی دونوں فرع سے، اس گواہ کے دو فروع ہیں بھئی، اور دوسرے کے بھی کتنے ہیں؟ دو، تو اس کے فروع کا اس کے فروع سے متغائر ہونا ضروری نہیں ہمارے نزدیک۔
خِلافًا لِلشَّافِعِيِّ برخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، إِذْ عِنْدَهُ لا بُدَّ مِنْ أَرْبَعَةٍ اس لیے کہ ان کے نزدیک ضروری ہے چار کا ہونا، يَشْهَدُ اثْنَانِ عَنْ هَذَا دو تو گواہی دیں گے اس ایک اس اصل کی طرف سے، وَآخَرَانِ عَنْ ذَلِكَ اور دو دوسرے گواہی دیں گے اس اصل کی طرف سے، وَعِنْدَنَا يَكْفِي اثْنَانِ ہمارے نزدیک دو ہی کافی ہیں، يَشْهَدَانِ عَنْ هَذَا جو گواہی دیں گے کیا؟ اس کی اس اصل کی طرف سے بھی، وَيَشْهَدَانِ عَنْ ذَلِكَ اور اس اصل کی طرف سے بھی گواہی دیں گے، وَيَقُولُ الأَصْلُ بھئی، کیسے گواہ بنائیں گے؟ طریقہ بتلا رہے ہیں بھئی، شاہدِ اصل شاہدِ فرع کو کیا کہے گا، اور شاہدِ فرع پھر قاضی کے سامنے جا کر کیا کہے گا؟ سنیے بھئی: وَيَقُولُ الأَصْلُ بھئی، آپ دو گواہ کہاں جا رہے ہیں بھئی؟ حج پہ جا رہے ہیں؟ آپ نے بلوايا دو آدمیوں کو عادل کو، ان کو اپنی گواہی پر گواہ بنا رہے ہیں اور اس کو یوں کہیں گے، اصل ہیں تو يَقُولُ الأَصْلُ اصل کہے گا فرع سے: اِشْهَدْ عَلَى شَهَادَتِي
اعراب لگاتے جائیں بھئی: اِشْهَدْ عَلَى شَهَادَتِي، تو گواہ بن جا میری گواہی پر، تم گواہ رہو میری گواہی پر، میری گواہی، کون سی گواہی میری؟ یہ گواہی: أَنِّي أَشْهَدُ بِكَذَا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں۔
اصل کیا کہے گا فرع کو بھئی؟ تم گواہ رہو میری اس گواہی پر کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ زید اور اس کے درمیان کون سا معاملہ ہوا ہے؟ بیع کا مسئلہ معاملہ ہوا ہے اتنے پر۔
تو تین دفعہ شہادت کا لفظ ذکر کیا، دیکھا بھئی؟ شاہدِ اصل کتنی دفعہ ذکر کرے گا شہادت کا لفظ؟ تین دفعہ۔ وَالْفَرْعُ يَقُولُ اور فرع یوں کہے گا، یاد رکھو فرع کے اندر تین چیزوں کا ذکر ضروری ہے۔
ادھر دیکھیے بھئی، فرع کے اندر گواہ شاہدِ فرع کتنی چیزوں کا ذکر کرے گا؟ تین چیزیں کہے گا: اپنی شہادت کہے گا، اصل کی شہادت کو ذکر کرے گا، اور اس نے جو اس کو نائب بنایا ہے اس نائب بنانے کو بھی... کتنی چیزیں؟ تین۔ اول کیا؟ اپنی شہادت کہے گا، اور پھر اصل کی شہادت کو بھی ذکر کرے گا، اور تیسرا جو اس نے نائب بنایا تھا، مجھے اس نے اپنی شہادت پر شاہد بنایا تھا، یہ بھی ذکر کرے گا۔ دیکھیے بھئی، یہ تینوں چیزیں آ جائیں گی بھئی:
وَالْفَرْعُ يَقُولُ اور فرع گواہِ فرع یوں کہے گا: أَشْهَدُ اعراب لگاتے جائیں بھئی: أَشْهَدُ، اِشْهَدْ، أَشْهَدَ، یہ اعراب یہ اس صیغے کے آپ کو التباس آ سکتا ہے بھئی۔ وَيَقُولُ وہ کہے گا فرع: أَشْهَدُ قاضی صاحب! أَشْهَدُ میں کیا کرتا ہوں؟ گواہی دیتا ہوں أَنَّ فُلانًا کہ وہ جو فلاں اصل گواہ ہے أَشْهَدَنِي عَلَى شَهَادَتِهِ
اس نے مجھے گواہ بنایا تھا۔ أَشْهَدَنِي عَلَى شَهَادَتِهِ بِكَذَا اس نے مجھے اپنی اس چیز کی گواہی پر گواہ بنایا تھا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ گواہ بنایا تھا۔
وَقَالَ لِي إِنِّي غلط ہے مولانا، وَقَالَ لِي ہونا چاہیے۔ وَقَالَ لِي اور اس نے مجھ سے کہا تھا: اِشْهَدْ عَلَى شَهَادَتِي بِذَلِكَ۔ اِشْهَدْ کہ تو گواہ بن جا، عَلَى شَهَادَتِي بِذَلِكَ اس چیز پر میری گواہی جو ہے اس پر کیا بن جا؟ شَهَادَتِي بِذَلِكَ اس چیز، اس ماخذ کی جو میری اوپر میری جو گواہی ہے، تم اس پر کیا بن جاؤ؟ گواہ رہو، گواہ رہو۔
समझ में आया؟ تو کتنی چیزیں ذکر تھیں؟ میں نے بتلایا، فرع کتنی چیزیں ذکر کرے گا؟ تین۔ پہلے اپنی شہادت ذکر کرتا ہے، کہتا ہے: أَشْهَدُ میں کیا کرتا ہوں؟ گواہی دیتا ہوں۔ پھر آگے کیا ذکر کرے گا؟ اصل کی، اصل نے جو شہادت ذکر کی تھی، یہ وَأَنَّ فُلَانًا أَشْهَدَنِي عَلَى شَهَادَتِهِ بِكَذَا کہ فُلانے گواہ بنایا تھا مجھے اپنی شَهَادَتِهِ بِكَذَا اس چیز پر، اپنی گواہی پر اس نے مجھے گواہ بنایا تھا۔ تو یہ دیکھو شَهَادَتِهِ اس اصل کی شہادت کا ذکر آگیا۔
اور پھر اس نے مجھے کیا بنایا تھا اپنی شہادت پر؟ نائب۔ نائب یہ بھی آیا وَقَالَ لِي اس نے مجھے کہا تھا: اِشْهَدْ عَلَى شَهَادَتِي بِذَلِكَ تم میری اس گواہی پر گواہ رہو۔ تو یہ کتنی دفعہ شہادت کا ذکر آیا فرع میں؟ اے دیکھیے تین چیزوں کا ذکر ہے: شہادت کا لفظ گنوں؛ أَشْهَدُ ایک، أَشْهَدَنِي دو، شہادت چار، اِشْهَدْ تین، اور شَهَادَتِي پانچ دفعہ شہادت ذکر ہو گئی۔
پھر کہتے ہیں: بَعْضُ المَشَايِخِ طَوَّلُوا، بعض مشائخ، بعض فقہاء نے اس کو اور لمبا کیا۔ اوپر متن میں آیا: شاہد اصل تین دفعہ شہادت ذکر کرے گا، شاہد فرع کتنی دفعہ؟ پانچ دفعہ شہادت ذکر کرے گا، بعض مشائخ نے اس کو اور لمبا کیا وَقَالُوا اور وہ کہتے ہیں: يَقُولُ الأَصْلُ اصل گواہی یوں کہے گا، اعراب لگاتے جائیے۔ أَشْهَدُ بِكَذَا اصل کہہ رہا ہے فرع کے سامنے: أَشْهَدُ بِكَذَا میں اس پر کیا کرتا ہوں؟ اس بات پر گواہی دیتا ہوں، مثلاً اس بیع پر گواہی دیتا ہوں وَأَنَا أُشْهِدُكَ عَلَى شَهَادَتِي اور میں تجھے اپنی شہادت پر کیا بناتا ہوں؟ گواہ بناتا ہوں، فَأْشْهَدْ عَلَى شَهَادَتِي پس تو گواہ رہ میری تو گواہ بن، تو گواہی دے، تم گواہ رہو عَلَى شَهَادَتِي کس پر؟ میری شہادت پر۔
کتنی شہادتیں ہوئیں بھئی؟ ایک، دو، تین، چار، پانچ۔ أَشْهَدُ، أُشْهِدُكَ، شَهَادَتِي، فَأْشْحَدْ اور شَهَادَتِي پانچ دفعہ اور متن میں کتنا آیا تھا اصل کے لیے؟ تین دفعہ تو یہ دیکھا انہوں نے لمبا کر دیا، دو اور شہادتوں کے لفظ بڑھا دیے۔ وَفِيهِ خَمْسُ شَيْئَاتٍ اور اس کے اندر کتنی چیزیں ہیں؟ پانچ چیزیں ہیں۔ تو شَيْئَاتِ یا شَهَادَاتٍ ہونا چاہیے بھئی، چلیے، شَيْئَاتِ سے مراد شہادتیں ہیں۔ تو اس میں پانچ کتنی ہیں؟ شہادتیں ہیں۔
وَيَقُولُ الفَرْعُ اور فرع یوں کہے گا، متن میں فرع کی کتنی شہادتیں تھیں؟ پانچ۔ اب سنیے، اب ہو جائیں گی آٹھ شہادتیں۔ فرع یوں کہے گا: أَشْهَدُ بِكَذَا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، أَنَّ فُلَانًا کہ فلاں جو گواہ اصل ہے، شَهِدَ عِنْدِي بِكَذَا اس نے گواہی دی میرے سامنے اس چیز کی، فَأَشْهَدَنِي عَلَى شَهَادَتِهِ اس نے مجھے گواہ بنایا عَلَى شَهَادَتِهِ اپنی، اپنی جو اس کی گواہی تھی بِكَذَا اس چیز پر، وَأَمَرَنِي اور اس نے مجھے حکم دیا تھا أَنْ أَشْهَدَ عَلَى شَهَادَتِهِ کہ میں کیا کہوں، کیا کروں؟ کہ میں گواہ بنوں، عَلَى گواہی دوں میں عَلَى شَهَادَتِهِ اس کی شہادت پر، وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى شَهَادَتِهِ بِذَلِكَ اور میں گواہی دیتا ہوں اس کی اس چیز پر جو گواہی ہے اس پر بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟
وَفِيهِ ثَمَانِي شَيْئَاتٍ یا شَهَادَاتٍ بھئی، اس کے اندر کتنی چیزیں ہیں؟ پانچ یا شہادتیں، اس کے اندر آٹھ شہادتیں ہیں اور متن میں کتنی آئی تھیں؟ پانچ آئی تھیں۔ وَالأَحْسَنُ الأَقْصَرُ قَوْلُ أَبِي جَعْفَرٍ اور سب سے بہتر جو ہے، بہتر جو ہے وہ الأَقْصَرُ جو چھوٹا ہے، چھوٹا کلام، وہ قول ہے ابو جعفر رحمہ اللہ کا فقیہ ہیں بھئی، کہ يَقُولُ الأَصْلُ اصل کیا کہے؟ اصل یوں کہے، تین متن میں آیا تھا تین بھئی، یہ کہتے ہیں نہیں بھئی، دو ہی شف کر دے۔
اصل یوں کہے گا: أَشْهَدُ عَلَى شَهَادَتِي بِكَذَا کہ تو گواہ رہ میری اس چیز پر، أَشْهَدْ تم گواہ رہو عَلَى شَهَادَتِي بِكَذَا اس چیز پر جو میری گواہی ہے، اس پر گواہ رہو۔ کتنی شہادتیں آئیں؟ دو۔ بس۔ وَيَقُولُ الفَرْعُ اور فرع یوں کہے گا: أَشْهَدُ عَلَى شَهَادَتِ فُلَانٍ بِكَذَا میں گواہی دیتا ہوں عَلَى شَهَادَتِ فُلَانٍ بِكَذَا فُلاں کی اس چیز پر جو گواہی ہے، اس پر میں کیا کرتا ہوں؟ مِنْ غَيْرِ احْتِيَاجٍ إِلَى ذِكْرِ زِيَادَتٍ وَقَعَتْ بھئی تو دیکھا انہوں نے یہ قول ذکر کیا ہے مِنْ غَيْرِ احْتِيَاجٍ بغیر احتیاج ہونے کے إِلَى ذِكْرِ زِيَادَتٍ کسی زیادہ کے ذکر اس سے زیادہ کے ذکر کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔ وَعَلَيْهِ فَتْوَى الإِمَامِ السَّرْخَسِي اور اسی پر فتویٰ ہے امام سرخسی کا بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اس میں اصل دو شہادتیں ذکر کرتا ہے اور فرع بھی دو شہادتیں ذکر کرتا ہے۔ فَإِنْ عَدَّلَ الفَرْعُ أَصْلَهُ صَحَّ اگر تعدیل کی فرع نے اپنی اصل کی صَحَّ تو یہ صحیح ہے۔
بھئی دیکھیے بھئی! میں نے آپ، آپ دونوں میرے اس عقد کے گواہ ہیں تو آپ کی گواہی آپ نے مسئلہ پڑھا ہے کہ قاضی کے لیے ضروری ہے کہ کیا کروائے؟ تعدیل کروائے، پتہ کروائے کہ یہ دونوں گواہ عادل ہیں یا عادل نہیں؟ تو اگر ایک، اب دیکھو شاہد اصل، آپ کی گواہی تبھی قابل قبول ہوگی۔ کون گواہی تو اس وقت آپ نہیں دے رہے بلکہ کون دے رہے ہیں آپ کے؟ آپ کی فرع جا کر گواہی دے رہی ہے، لیکن آپ کی فرع سے پہلے آپ کی عدالت کا ثابت کرنا، پتہ تو چلے یہ گواہ اصل عادل ہیں یا عادل؟ اگر عادل ہی نہیں ہیں پھر تو گواہی نہیں قبول بھئی، تو لہٰذا ان کی عدالت کا پتہ لگلانا بھی ضروری۔ تو بھئی اب آپ کی عدالت کے لیے آپ کے فرع ہی گواہی دے دیتے ہیں کہ وہ جو گواہ ہے، وہ جو آدمی ہے، شاہد اصل کس قسم کا ہے؟ عادل ہے تو کیا گواہ فرع کا یہ قول، اس سے گواہ اصل کی تعدیل ہو جائے گی یا نہیں ہو گی؟ کہتے ہیں: ہو جائے گی، یہ قول اس کا کیا ہے؟ صحیح، یہ معنی ہے۔ فَإِنْ عَدَّلَ الفَرْعُ اگر تعدیل کی کس نے؟ فرع نے أَصْلَهُ اپنے اصل کی صَحَّ تو یہ تعدیل کیا ہے؟ صحیح ہے۔
كَأَحَدِ الشَّاهِدَيْنِ الأَخَرَا جیسے دو گواہوں میں سے ایک دوسرے کی تعدیل کر دے۔ بھئی مثلاً بھئی میں کسی مسئلے کے اندر دو گواہ قاضی کے پاس لے کر آتا ہوں بھئی، ان گواہوں میں سے ایک کہتا ہے: قاضی صاحب! یہ جو میرے سامنے آپ، دوسرا آدمی گواہی دے رہا ہے یہ بڑا عادل آدمی ہے اور دوسرا گواہ کہتا ہے: قاضی صاحب! یہ جو گواہ ہے ساتھ میرے، یہ بڑا عادل آدمی ہے تو جیسے وہاں پر ایک گواہ کی تعدیل دوسرے کے لیے قابل قبول ہے، یہاں پر بھی شہادتِ فرع، تعدیلِ فرع کس کے لیے؟ اصل کے لیے قبول ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
وَإِنْ سَقَطَ عَنْهُ يَنْظُرُ فِي حَالِهِ لیکن اگر قاضی نے پوچھا بھئی! شاہد... قاضی نے شاہدِ فرع سے پوچھا، ہاں بھئی وہ جو شاہدِ اصل ہے، وہ عادل ہے یا عادل نہیں ہے، تم بتلاؤ۔ یہ خاموش رہتا ہے، کیا کرتا ہے؟ خاموش تو کیا پھر اس کو رد کر دیا جائے گا؟ کہتے ہیں: نہیں نہیں، ہو سکتا ہے اس کو پتہ ہی نہ ہو کہ وہ عادل ہے یا عادل نہیں اور کوئی حرج نہیں۔ شاہدِ فرع کو شاہدِ اصل کی عدالت کا پتہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ لہٰذا اب یہ چونکہ خاموش ہے تو قاضی خود پتہ کروالے۔ قاضی خود کیا کرے؟ پتہ کروالے۔
تو حاصلِ مقصد یہ ہے بھئی! یعنی گواہِ فرع کے لیے یہ جاننا ضروری نہیں کہ گواہِ اصل کیا تھا؟ عادل تھا۔
وَإِنْ سَقَطَ عَنْهُ اور اگر گواہِ فرع خاموش رہا اس کی تعدیل سے بھئی گواہِ اصل سے، کی تعدیل سے يَنْظُرُ فِي حَالِهِ أَنْ يَنْظُرَ القَاضِي فِي حَالِ الأَصْلِ بھئی ضمیر کے مرجع بتلا دیے، يَنْظُرُ کی ضمیر کس کو راجع ہے؟ قاضی کو اور حَالِهِ کی ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ اصل کو بھئی۔ قاضی نظر کرے گا، غور کرے گا فِي حَالِ الأَصْلِ کس کے؟ اصل کے حال میں۔ فَإِنْ ثَبَتَ عَدَالَتُهُ اگر اس کی عدالت ثابت ہو گئی تُقْبَلُ شَهَادَةُ فَرْعِهِ تو اس کے فرع کی شہادت کو کیا کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ الله یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ہے وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ الله لَا تُقْبَلُ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اگر گواہِ فرع خاموش رہا،
تو پھر کیا کیا جائے گا؟ اس کی گواہی کو قبول نہیں، اِذْ لَا شَهَادَةَ إِلَّا بِالعَدَالَةِ اس لیے کہ گواہی نہیں ہے مگر کس کی وجہ سے؟ عدالت کی وجہ سے گواہی ہوتی ہے۔ فَإِذَا لَمْ يَعْرِفِ الفَرْعُ عَدَالَةَ الأَصْلِ جب فرع کو اصل کی عدالت کا پتہ ہی نہیں ہے تو لَمْ تُقْبَلْ شَهَادَتُهُ তো اس کی گواہی قبول نہیں ہوتی۔ فَلَا تُقْبَلُ شَهَادَةُ الفَرْعِ تو پس شہادتِ فرع قبول نہیں کی جائے گی۔ قُلْنَا ہم جواب دیتے ہیں: لَا يُشْتَرَطُ مَعْرِفَةُ الفَرْعِ عَدَالَةَ الأَصْلِ کہ فرع کا اصل کی عدالت کو جان لینا یہ یہ اس کی شرط نہیں ہے بھئی، بَلْ يُشْتَرَطُ بلکہ شرط یہ ہے: أَنْ يَثْبُتَ ذَلِكَ عِنْدَ القَاضِي کہ یہ عدالت کس کے سامنے ثابت ہونی چاہیے؟ اصل کی عدالت کہاں ثابت ہونی چاہیے؟ تو قاضی کے پاس ثابت ہو جانی چاہیے چاہے کسی اور طریقے سے ہی ہو۔ فَإِنْ ثَبَتَ عِندَهُ يَقْبَلُ، يَقْبَلُهُ اگر قاضی کے پاس ثابت ہو جائے تو اس کی گواہی کو کیا کر لے گا؟ قبول کر لے گا۔ وَإِلَّا لَا اور اگر نہ ثابت ہو تو پھر قبول نہیں اچھا بھئی!
وَإِنْ أَنْكَرَ الأَصْلُ شَهَادَتَهُ بَطَلَتْ شَهَادَةُ فَرْعِهِ۔ بھئی دو گواہ، دو گواہ آئے قاضی کے پاس، انہوں نے کیا کہا؟ کہ ہم شاہدِ فرع ہیں کس کے بھئی؟ فلاں شخص کے، وہ شاہدِ اصل تھا اور ہم کیا ہیں شاہدِ فرع؟ شاہدِ فرع نے انکار کر دیا بھئی، میں تو جانتا ہی نہیں ان کو، میں نے تو ان کو گواہ نہیں بنایا یا میں تو اس موقع پر موجود ہی نہیں تھا، میں خود نہیں ہوں گواہ تو ان کو کیسے گواہ بنا سکتا ہوں؟ تو کسی بھی طرح وہ انکار کر دے تو شہادتِ فرع کیا ہو جائے گی، خود بخود باطل ہو جائے گی۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ معنی ہے: وَإِنْ أَنْكَرَ الأَصْلُ اور اگر اصل انکار کر دیں شَهَادَتَهُ أَيْ شَهَادَةَ الفَرْعِ فرع کی شہادت کا کیا کر دیں؟ انکار کر دیں کہ ہم نے تو انہیں گواہ نہیں بنایا، بَطَلَتْ شَهَادَةُ فَرْعِهِ تو فرع اس کے فرع کی شہادت کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔
وَلَوْ شَهِدَا عَنْ اِثْنَيْنِ، صورتِ مسئلہ یہ، صورتِ مسئلہ یہ عِزَّہ، عِزَّہ ایک عورت ہے اس کے ساتھ میرا عقد ہوا زمین کے مسئلے میں، اس کی زمین تھی بھئی، میں نے اس سے زمین خرید لی بھئی دس لاکھ میں۔ دو گواہ بھی بنا لیے اس مسئلے پر بھئی۔
اب بعد میں اس کا میرا جھگڑا آیا، میں قاضی کے پاس گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ قاضی کے پاس گیا اور میں اپنے ساتھ دو گواہ لے گیا، لیکن شاہدِ اصل نہیں ہے، کون ہے مولانا؟ شاہدِ فرع لے کر گیا ہوں اور شاہدِ فرع نے کہا کہ قاضی صاحب! ہمیں فلاں شخص نے کیا کہ فلاں دو گواہوں نے اپنی گواہی پر گواہ بنایا تھا کہ یہ جو ہمارا مدعی ہے، اس کا عِزَّہ نامی عورت کے ساتھ یہ عقد ہوا تھا اتنے روپوں میں بھئی۔
اور میں چونکہ قاضی کے پاس گیا ہوں، مدعی، میں نے ایک عورت کو بھی وہاں حاضر کر دیا، قاضی صاحب! یہ ہے وہ عِزَّہ عورت، جس کے ساتھ میرا زمین کے بارے میں عقد ہوا تھا۔ شاہد گواہوں سے، شاہد، قاضی نے پوچھا، شاہدِ فرع سے، ہاں بھئی! کیا یہ وہی عورت ہے؟ وہی عورت ہے جس سے مدعی دعویٰ کر رہا ہے، جس کا نام عِزَّہ ذکر کر رہا ہے اور وہ زمین ہے فلاں جگہ پر۔ انہوں نے کہا کہ شاہدِ فرع کہہ رہے ہیں، ہم تو اس عورت کو نہیں جانتے، ہمیں نہیں پتہ یہ وہ کون، وہ عِزَّہ کون ہے کون نہیں۔ ہاں، شاہدِ اصل جو تھے، وہ اس عِزَّہ کو کیا رہے ہیں؟ جانتے ہیں۔
تو کہتے ہیں مولانا جب شاہدِ فرع نہیں جانتے اور مدعی ایک عورت کو لے کر آیا ہے کہ یہ وہی عورت ہے، تو اب ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، جب تک میں دو اور گواہ نہ لے آؤں، مدعی دو اور گواہ نہ لے آئے اور ثابت نہ کر دے، وہ گواہی دے دیں کہ یہ وہی عِزَّہ عورت ہے۔ پہلے پتہ تو چلے، یہ عورت وہی ہے یا مدعی کسی اور کو اٹھا کر لے آیا ہے تاکہ قاضی کا فیصلہ کیا ہو جائے؟ میرے حق میں ہو جائے بھئی۔
تو لہٰذا مدعی کی جو، وہ مدعی جو شاہدِ فرع جس کے ساتھ آئے ہیں، وہ ایک عورت کو بھی لایا تھا کہ یہ وہ عِزَّہ عورت ہے، تو اس کے خلاف اس شاہدِ فرع کی گواہی کو سنا؟ کیونکہ وہ شاہدِ فرع اس کو جانتے ہی نہیں تو پتہ نہیں وہی عورت ہے یا وہ عورت؟ تو اس صورت میں مدعی کے لیے کیا ضروری ہے؟ دو اور گواہ لائے جو گواہی دیں کہ یہ وہی عورت ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
وَلَوْ شَهِدَا اگر گواہی دی دو گواہوں نے، کون سے دو گواہوں نے؟ فرع ہیں، جو دو گواہ ہیں عَنْ اِثْنَيْنِ کس کس سے؟ دو اور اصل گواہوں سے، اصل گواہوں سے کیا ہیں؟ فرع ہیں نا۔
تو دو عَنْ اِثْنَيْنِ تو اصل سے جو فرع ہیں، انہوں نے گواہی دی کس کے خلاف؟ کس پر لایا؟ کس پر گواہی دی؟ کس کے خلاف دی بھئی؟ عَزَّةَ بِنْتِ عِزٍّ علی عَزَّةَ بِنْتِ عَزِّلِ مُضَرِیِّ کس کے خلاف بھئی؟ عِزَّہ جو بیٹی ہے کس کی؟ عز کی اور کس قبیلے کی ہے؟ مضر قبیلے کی ہے، اس کے خلاف گواہی دی۔
وَقَالَ اور دو گواہ فرع نے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: أَخْبَرَنَا ان دو شو, گواہِ اصل نے ہم دونوں کو کیا کی ہے؟ أَخْبَرَا تثنیہ کا صیغہ ہے، ان دو اصل گواہوں نے ہمیں خبر دی ہے بِمَعْرِفَتِهَا اس کے جاننے کے بارے میں کہ وہ اس عورت کو کیا کرتے ہیں؟ وہ جانتے ہیں۔ اچھا، انہوں نے ہمیں اس کے جاننے کی خبر دی تھی کہ وہ پہچانتے ہیں اسے، وَجَاءَ الْمُدَّعِي بِاِمْرَأَةٍ اور مدعی بھی کیا کیا؟ وہ بھی ایک عورت کو لے آیا ہے، لَكِنْ لَمْ يَدْرِي یہ دو گواہِ فرع نہیں جانتے أَنَّهَا هِيَ أَمْ لَا کہ یہ وہی عورت ہے یا وہ عورت نہیں، قِيلَ لَهُ تو مدعی سے کہا جائے گا: هَاتِ شَاهِدَيْنِ دو گواہ لے آؤ جو یہ کہیں کہ أَنَّهَا عِزَّةُ کہ یہ کیا ہے؟ عِزَّہ ہے۔
صورت سمجھ میں آگئی؟
تو بھئی اس مسئلے کو کہ وجہ کا، کیوں اس کو ذکر کیا گیا اس مسئلے کو؟ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ شاہدِ فرع کا مدعا علیہ کو جاننا ضروری نہیں۔ نہ بھی جانے تو کوئی حرج نہیں۔ میں نے تو عورت کی مثال پیش کی، کوئی مرد بھی وہ اٹھا کر لے آتا ہے، شاہدِ فرع اس کو نہیں جانتے، تو کوئی حرج نہیں۔ بس مدعی کو کیا کرنا پڑے گا؟ دو گواہ لانے پڑے ہیں جو یہ گواہی دیں کہ یہ وہی آدمی ہے۔
اِعْلَمْ أَنَّ الغَرَضَ مِنْ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ جان لے تو کہ غرض اس مسئلے سے یہ ہے کہ انَّهُ لَا يُشْتَرَطُ کہ یہ شرط نہیں لگائی جائے گی۔ أَنْ يَعْرِفَ الفَرْعُ الْمَشْهُودَ عَلَيْهِ کہ فرع جانتے ہوں اس کو مشہود، مشہود علیہ جس کے خلاف گواہی دے رہے ہیں یعنی مدعا علیہ، اس کو جانتے ہوں، اس کی شرط نہیں لگائی جائے گی۔ بَلْ يُقَالُ لِلْمُدَّعِي بلکہ مدعی سے کہا جائے گا: هَاتِ شَاهِدَيْنِ تم کیا کرو؟ دو ایسے گواہ لے آؤ يَشْهَدَانِي جو یہ گواہی دے دیں کہ أَنَّ الَّذِي أَحْضَرْتَهُ هُوَ الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ کہ وہ جس کو تو نے حاضر کیا ہے وہ کون ہے؟ وہی مشہود علیہ یعنی مدعی علیہ ہے بھئی۔
وَلَيْسَ الْغَرَضُ کہتے ہیں بھئی دیکھو! بعضوں نے اس کی غرض یہ سمجھی کہ کہنے والے نے کیا ذکر کیا؟ گواہوں نے، مدعی نے، کہ گواہ اگر صرف یہ کہہ دیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں عِزَّةُ بِنْتِ عِزٍّ جو ہے الْمُضَرِیِّ کس قبیلے کی ہے؟ مضر قبیلے کی ہے،
تو یہ کہنا کافی ہے۔ یہ کہنا مضر تو بڑا قبیلہ ہے مولانا سینکڑوں ہزاروں افراد ہیں اس میں ایک عز نہیں ہوگا اس میں تو کافی سارے عز ہوں گے اور ہو سکتا ہے ان میں سے بھی کئیوں کی کیا بیٹیوں کا کیا نام ہو؟ عزہ ہو۔ ہزاروں افراد ہیں جس قبیلے کے تو بعضوں نے یہ سمجھا کہ شاید اس سے یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ بڑے قبیلے کا نام لے لو تو کافی ہے۔ چھوٹے قبیلے یا دادا کا نام ذکر کرنا ضروری نہیں، بھئی دیکھو صرف بیٹی کا نام ذکر ہے اور باپ کا نام ذکر ہے۔ دادا کا ذکر ہے؟ اگر دادا کا ذکر ہوتا تو پھر بھی بات کیا ہو جاتی؟ پکی ہو جاتی مولانا، کیا ہو جاتی بات؟ وہ عورت متعین ہو جاتی لیکن صرف بیٹی اور باپ کا نام لیا اور کسی شاید کسی چھوٹے خاندان کا نام لے دیتے بھئی۔ مضر قبیلہ ہے مولانا، اس مضر کے اندر تو اب ہزاروں افراد ہیں پھر اس کے اندر آگے تقسیم ہوتی ہے بھئی، نام ہوتے ہیں چھوٹے چھوٹے خاندانوں کے آپس میں، بھئی یہ فلاں گھرانہ ہے، یہ فلاں گھرانہ ہے، یہ فلاں گھرانہ ہے، یہ فلاں گھرانہ ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہ گھرانے کا نام آ جائے، چھوٹے قبیلے کا نام آ جائے تو تعیین ہو جاتی ہے۔ بڑے قبیلے کا نام آئے تعیین ہوتی ہے؟ نہیں، یا دادا کا نام آ جائے مولانا تو پھر بھی کیا ہو جاتی ہے؟ عز، عزہ جو بیٹی ہے عز کی اور عز جو بیٹا ہے کس کا؟ محمد کا مثلاً بھئی، دیکھو اب تعیین آ گئی۔ اب عموماً ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص محمد ہو اس کے بیٹے کا نام عز ہو اور اس کی بیٹی کا نام کیا ہو؟ عزہ ہو، تو اب تعیین آ گئی۔
تو بعضوں نے یہ سمجھا کہ شاید بڑے قبیلے کا نام ذکر کر دینا کافی ہے اس غرض کے لیے اس مسئلے کو ذکر کیا گیا۔ آگے صاحبِ شرحِ وقایہ بتلائیں گے اس مسئلے کی یہ غرض نہیں ہے کہ بڑے قبیلے کو ذکر کر دو، بڑے کے سے کام نہیں چلے گا بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ چھوٹے قبیلے یا دادا کا نام ذکر کرنا ضروری ہے، بلکہ اس مسئلے کی غرض تو یہ ہے کہ گواہِ فرع اگر گواہِ مدعی علیہ کو نہ بھی جانتے ہوں تو کوئی حرج نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
وَلَيْسَ الْغَرْضُ اور یہ غرض نہیں ہے مسئلے کی أَنَّهُ إِذَا شَهِدَا عَلَى فُلَانَةَ، فلانة غير منصرف ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ فلان یہ کنایہ ہوتا ہے علم سے بھئی، کس سے کنایہ ہوتا ہے؟ میں کہتا ہوں بھئی میں آپ سے کوئی زید کی بات آپ سے کر رہا تھا، زید کی بات کرتے کرتے درمیان میں عمر بھی آ گیا۔ اب عمر جب آیا میں عمر سے بات کو چھپانا چاہتا ہوں تو میں اب کیسے کہوں گا؟ اب میں زید کا نام نہیں لوں گا بلکہ کیا کہوں گا؟ تو فلاں میرے پاس آیا پھر فلاں سے میں نے یہ بات کی اور پھر فلاں نے یوں کیا۔ تو نام کے بجائے اب میں کیا ذکر کرنا شروع کر دیتا ہوں؟ فلاں، عام بول چال میں استعمال ہوتا ہے مولانا۔ تو آپ بتائیے جب میں نے فلاں کا لفظ بولا تو اس سے کوئی بھی شخص مراد ہے یا کوئی متعین آدمی مراد ہے؟ کون مراد ہے؟ زید، تو زید کے بجائے میں لفظِ فلاں بولتا ہوں تو یہ جو فلاں لفظ ہوتا ہے یہ علم کی جگہ آتا ہے تو علم سے یہ کنایہ ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ علم سے کنایہ ہوتا ہے تو یہ علم ہی کے درجے میں ہوتا ہے، کس کے درجے میں ہے؟ علم ہی کے درجے میں ہے اور فلانة ایک اس کے اندر سبب ہے علمیت کیونکہ یہ کس کے درجے میں ہے؟ علم، دوسری تائے تانيث بھی آ گئی تو دو سبب آ گئے اور دو سببوں کی وجہ سے یہ کیا بن گیا؟ غیر منصرف، اس لیے فلانة پڑھو۔
اس نقطے کو یاد رکھنا ہمیشہ بھئی، إِذَا شَهِدَا کہ یہ اس مسئلے کی غرض نہیں ہے کہ جب دو فرع گواہ دے دیں عَلَى فُلَانَةَ بِنْتِ فُلَانٍ الْمُضَرِيِّ، فلاں بنتِ فلانہ بنتِ فلاں مضری کے خلاف بھئی، يَكُونُ النِّسْبَةُ تَامَّةً تو نسبت کیا ہو گی؟ تام ہو جائے گی، یہ نہ سمجھنا نسبت تام ہو جائے گی بلکہ ابھی نسبت تام نہیں ہوئی۔ وَيَكُونُ الشَّهَادَةُ مَقْبُولَةً اور گواہی کیا ہو گی؟ مقبول ہو گی، یہ غرض نہیں ہے کہ نسبت تام ہو جائے گی صرف بڑا قبیلہ ذکر کرو تو نسبت تام ہو جائے گی اور گواہی کیا ہو جائے گی؟ مقبول ہو جائے گی۔ لِأَنَّهُ إِذَا لَمْ يُذْكَرِ الْجَدُّ اس لیے کہ جب دادا کا ذکر نہیں کیا گیا فَلَا بُدَّ أَنْ يُنْسَبَ إِلَى السِّكَّةِ الصَّغِيرَةِ تو ضروری ہے کہ نسبت کی جائے إِلَى السِّكَّةِ الصَّغِيرَةِ چھوٹے محلے کی طرف، یا تو محلے کا ذکر کرو کہ عزہ بنتِ عز کس محلے کی ہے؟ فلاں محلے کی، اب مولانا تعیین ہو جائے گی تو سکہ سے مراد گلی ہے سکہ گلی کو کہتے ہیں بھئی، چھوٹا راستہ تنگ راستہ، لیکن مراد محلہ ہے۔ سمجھ میں آیا؟ گلی محلہ وغیرہ خاص اس کا ذکر کر دے۔
أَوْ إِلَى الْفَخِذِ یا کس کا ذکر کر دے؟ فخذ کہتے ہیں چھوٹے قبیلے کو، کس کو کہتے ہیں؟ چھوٹے قبیلے کو، خود بتلا رہے ہیں أَيْ إِلَى الْقَبِيلَةِ الْخَاصَّةِ جب چھوٹا ہوا تو خاص ہو گیا بڑا ہوا تو عام ہے۔ تو فخذ کی طرف نسبت کر، دادے کی طرف نسبت کرنا یا محلے کی طرف نسبت کرنا یا چھوٹے قبیلے کی طرف نسبت کرنا لِيَتِمَّ النِّسْبَةُ تاکہ نسبت تام ہو جائے۔ وَيُقْبَلُ الشَّهَادَةُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللهُ اور جب ایسا ہو جائے، جب کیا ایسا ہو جائے؟ چھوٹا قبیلہ ذکر کر دیا یا محلہ ذکر کر دیا یا دادا، تو اب گواہی قبول کی جائے گی امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، کسی اور زائد چیز کی ضرورت نہیں۔ خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ وبخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے فَإِنَّ ذِكْرَ الْجَدِّ لَا يُشْتَرَطُ عِنْدَهُ اس لیے کہ دادا کا ذکر لَا يُشْتَرَطُ عِنْدَهُ ان کے نزدیک دادا کا ذکر ضروری ہی نہیں۔ جب دادا کا ذکر نہیں فَلَا يُشْتَرَطُ مَا يَقُومُ مَقَامَهُ تو شرط نہیں لگائی جائے گی اس کی جو قائم مقام ہو دادا کے نام کے، کیا دادا کے نام کے قائم مقام ہو؟ مِنْ ذِكْرِ السِّكَّةِ أَوِ الْفَخِذِ یعنی کہ محلے کا ذکر یا چھوٹے قبیلے کا؟ بھئی صاحبان امام طرفین کے نزدیک یاد رکھو دادا کا نام ذکر کرنا ضروری ورنہ تعیین نہیں ہو گی، اگر دادا کا نام ذکر نہیں ہوتا تو اس کے قائم مقام کوئی چیز ذکر کرو اور قائم مقام کیا ہو گی؟ یا چھوٹا قبیلہ یا محلہ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک دادا کا نام ذکر کرنا ضروری نہیں، جب دادا کا نام ذکر کرنا ضروری نہیں تو اس کے قائم مقام کو ذکر کرنا بھی ضروری نہیں مولانا۔
اچھا، وَكَذَا الْكِتَابُ الْحُكْمِيُّ اور اسی طرح ہے کتابِ حکمی بھئی، کتابِ حکمی جانتے ہو یا نہیں؟ بھئی قاضی کے پاس ایک مسئلے آپ کا مقدمہ کس کے خلاف کرنا چاہتے ہیں؟ عمر کے خلاف، اور عمر تو رہتا ہے کراچی کے اندر، آپ کے گواہ کہاں پر ہیں؟ لاہور میں ہیں، تو آپ یہاں پر گواہ قاضی کے سامنے لے جاتے ہیں کہ فلاں جگہ زید ہے کراچی میں اور اس کے خلاف میں یہ اس پر مقدمہ کرتا ہوں بھئی۔ قاضی کیا کرتا ہے؟ اب غائب کے خلاف قاضی فیصلہ کر سکتا ہے؟ قاضی نہ بینہ سن سکتا ہے نہ فیصلہ، تو قاضی بس یہ کرے گا بینہ کو سن کر اس کو نوٹ کروا کر پھر کیا کر دے گا؟ خط لکھے گا جی، اس قاضی کو خط لکھے گا آپ نے پڑھا تھا بھئی، اور خط لکھے گا اور خط کو روانہ کرے گا کس کے ساتھ؟ دو گواہوں کے ساتھ، خط کے ساتھ کتنے افراد جائیں گے؟ دو گواہ، وہ مدعی بھی چلا جائے گا اور گواہ بھی چلے جائیں گے کراچی کے قاضی کے پاس بھئی۔
تو اب یہ جو دو گواہ گئے ہیں وہ والے گواہ نہیں جو مقدمے کے گواہ ہیں بلکہ یہ قاضی کے خط کے گواہ ہیں کہ قاضی نے یہ خط باقاعدہ لکھا ہے اس نے اپنی طرف سے جھوٹا ہاں، یہ دو گواہ جو گئے ہیں اس قاضی کے پاس یہ دو گواہ اس مدعی کو پہچانتے نہیں، جب نہیں پہچانتے تو بھی یہی حکم ہے، مدعی کیا کرے گا؟ مدعی کے لیے ضروری ہے کہ دو الگ گواہ ایسے قائم کرے جو ثابت کر دیں کہ اس کا مدعی علیہ یہ، مدعی علیہ کو یہ دو گواہ نہیں پہچانتے مولانا، صورت سمجھ میں آئی؟ آپ کا کیس ہے کس کے خلاف بھئی؟ زید، زید کہاں رہتا ہے؟ کراچی میں، جب کراچی میں ہے تو یہاں سے اب قاضی کیا کرے گا؟ گواہی سن کر اس کو درج کر کے پھر کدھر کو بھیجے گا؟ اس کراچی کو کراچی بھیجے گا لیکن آپ کو بھی مدعی کو بھی ساتھ جانا پڑے گا اور قاضی صاحب کس کو بھیجے گا؟ دو اور گواہوں کو، یہ دو گواہ بھی نئے گواہ ہیں بھئی جو کہ قاضی کا یہ خط ہے اور اس میں یہ یہ درج ہے، یہ دو گواہ چلے گئے بھئی، آپ کے گواہ یہی رہ گئے یہ دو گواہ اور چلے گئے، یہ دو جب کراچی پہنچے تو آپ کا مدعی علیہ کون ہے؟ زید، یہ نہیں پہچانتے کہ یہ وہی زید ہے یا کوئی اور، ان کو کیا پتا ہے بھئی؟ تو یہ نہیں جانتے کہ یہ زید ہے یا کوئی اور ہے، تو اس صورت میں بھی مدعی کے ذمے لازم ہے کہ دو اور گواہ قائم کرے اس بات پر جو گواہی دیں کہ یہی جو جس کون ہے؟ مدعی علیہ یہ زید ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟
وَكَذَا الْكِتَابُ الْحُكْمِيُّ اسی طرح کتابِ حکمی ہے أَيْ إِذَا جَاءَ كِتَابُ الْقَاضِي إِلَى الْقَاضِي جب آ جائے ایک قاضی کا خط دوسرے قاضی کے پاس، کتاب سے مراد خط ہے خط کو بھی کتاب کہتے ہیں۔ جب آ جائے قاضی کا خط دوسرے قاضی کے پاس وَلَا يَعْرِفُ شُهُودُ الْمَشْهُودِ عَلَيْهِ اور وہ شہود وہ جو گواہ ہیں وہ مشہود علیہ کو جانتے مدعی علیہ کو نہیں پہچانتے قِيلَ لِلْمُدَّعِي تو کہا جائے گا مدعی سے هَاتِ شَاهِدَيْنِ أَنَّ هَذَا هُوَ الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ دو ایسے گواہ لے آؤ جو گواہی دیں اس بات کی کہ یہی یہ دو یہ یہ کون ہے؟ مشہود علیہ ہے۔
فَإِنْ قَالَا فِيهِ فِي هَا الْمُضَرِيَّةِ اچھا، اگر دو گواہوں نے کہا بھئی اس اس عورت کے بارے میں اس مشہود علیہا کے بارے میں دو گواہوں نے کیا کہا؟ بھئی جس کے خلاف آپ نے مقدمہ کیا وہی پچھلی صورت بھئی عزہ بنتِ عز مضری والی بات، ان دو گواہوں نے کیا کہا؟ الْمُضَرِيَّةِ صرف کہا لَمْ يَجُزْ تو یہ کہنا جائز نہیں کیونکہ مضر تو کون سا قبیلہ ہے؟ بڑا قبیلہ ہے تو جائز نہیں حَتَّى يَنْسِبَاهَا إِلَى فَخِذِهَا یہاں تک کہ وہ نسبت کر دیں اس مدعی علیہ کی مشہود علیہا کی کس کی طرف؟ چھوٹے فخذ چھوٹے خاص قبیلے کی طرف، أَيْ قَالَ فِي الشَّهَادَةِ عَلَى الشَّهَادَةِ دو گواہ جو ہیں انہوں نے شہادت علی الشهادۃ میں کہا وَالْكِتَابُ الْحُكْمِيُّ یا قاضی نے کس کے اندر لکھا؟ تو ان دونوں نے شہادت علی الشهادۃ میں کہا یا قاضی نے کتابِ حکمی میں کہا الْمُضَرِيَّةِ یہ عورت کون سی ہے؟ مضر قبیلے کی ہے، صرف یہ کہا لَمْ يَجُزْ تو یہ جائز نہیں لِأَنَّ هَذِهِ النِّسْبَةَ عَامَّةٌ اس لیے کہ یہ نسبت تو عام ہے تو خاص کا تو خاص نسبت کرنا ضروری ہے بھئی۔
ثُمَّ اعْلَمْ پھر تو جان لے كَأَنَّ هَذَا فِي الْعَرَبِيَّةِ کہ یہ عرب کے اندر ہے، عرب کے اندر اس طرح ہے مولانا، پاکستان میں آ کر یوں نہیں چلے گا اب یہاں آ کر، عرب میں نسب یاد رکھے جاتے ہیں پشت ہا پشت تک سب کو اپنے نسب کیا ہوتے ہیں؟ یاد ہوتے ہیں، لیکن عجم نے کہتے ہیں اپنے نسب ضائع کر دیے یہاں نسب کی حفاظت کا رواج نہیں بھئی، تو کہتے ہیں یہ جو اوپر مسئلہ تھا ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّ هَذَا فِي الْعَرَبِيَّةِ یہ عرب کے اندر ہے أَمَّا فِي الْعَجَمِيِّ باقی عجم جو ہیں یعنی عرب کے علاوہ جو سارے ہیں فَلَا يُشْتَرَطُ ذِكْرُ الْفَخِذِ وہاں چھوٹے قبیلے کے ذکر کرنے کی شرط نہیں لگائی جائے گی لِأَنَّهُمْ ضَيَّعُوا أَنْسَابَهُمْ اس لیے کہ عجم والوں نے اپنے نسبوں کو کیا کر دیا ہے؟ ضائع کر دیا ہے بَلْ ذِكْرُ الصَّنْعَةِ يَقُومُ مَقَامَ ذِكْرِ الْجَدِّ بلکہ صنعت پیشے کا ذکر قائم مقام ہوگا دادا کے ذکر کے، کس کا قائم مقام؟ پیشے، یہاں پیشوں کے ذریعے پتا چل جائے گا تو وہ قائم مقام ہے دادے کے ذکر کے۔
چلیے مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔