Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-132

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 21 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 16
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَإِتْلَافُ خَمْرِ الْمُسْلِمِ وَخِنْزِيْرِهِ. وَإِتْلَافُ خَمْرِ الْمُسْلِمِ، اس کا عطف ما قبل میں اَلْحُرَّۃِ پر ہے بھئی، بِخِلَافِ الْحُرَّۃِ وَإِتْلَافِ خَمْرِ الْمُسْلِمِ وَخِنْزِيْرِهِ وَإِنْ أَتْلَفَهُمَا لِلذِّمِّيِّ ضَمِنَ، یہ لِلذِّمِّيِّ ہے مولانا، اَلذِّمِّيِّ نہیں، لِلذِّمِّيِّ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے مولانا، مسلمان کے خمر اور خنزیر کوئی بھی تلف کر دے، اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ چاہے تلف کرنے والا مسلمان ہو، چاہے ذمی۔ لیکن اگر ذمی کے خمر اور خنزیر کوئی تلف کر دے، تو ان کے نزدیک چونکہ یہ مالِ متقوم ہے، اس لیے اس صورت میں ضمان آئے گا۔ چاہے تلف کرنے والا مسلمان ہو، چاہے تلف کرنے والا ذمی ہو۔ یہ معنی ہے وَإِتْلَافُ خَمْرِ الْمُسْلِمِ بھئی۔ یہ وہ صورتیں چل رہی ہیں جن میں ضمان نہیں آتا۔ اور اسی طرح تلف کر دینا مسلمان کے خمر کو وَخِنْزِيْرِهِ اور اس کے خنزیر کو، وَإِنْ أَتْلَفَهُمَا لِلذِّمِّيِّ اور اگر ان دونوں کو تلف کر دیا اس حال میں کہ یہ ذمی کی تھیں، یعنی خمر اور خنزیر، ضَمِنَ تو تلف کرنے والا ضامن ہوگا، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، فَإِنَّ الذِّمِّيَّ تَبَعٌ لِلْمُسْلِمِ، اس لیے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ذمی مسلمان کے تابع ہے، اور مسلمان کے لیے، مسلمان کے خمر اور خنزیر میں کیا ہے؟ ضمان نہیں آتا، تو ذمی کے خمر اور خنزیر کے تلف کرنے میں بھی ضمان نہیں آئے گا۔ کہ یہ ذمی جو ہے، تابع ہے مسلمان کے، فَلَا تَقَوُّمَ فِي حَقِّهِ، لہٰذا اس کے حق میں بھی تقوّم نہیں ہوگا، مسلمان کے لیے خمر اور خنزیر مالِ متقوم نہیں، تو ان کے حق میں بھی مالِ متقوم، جب یہ مالِ متقوم ہی نہیں ہے، تو ان کے تلف کر دینے پر وہاں ضمان بھی نہیں آئے گا۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے أَنَّهُ مَتْرُوْكٌ عَلَى إِعْتِقَادِهِ، کہ یہ چیز چھوڑ دی گئی ہے انہی کے اعتقاد پر، مسلمان کے لیے تو خمر اور خنزیر مالِ متقوم نہیں ہے، لیکن ذمیوں کے لیے ان دونوں کو کیا کر دیا گیا ہے؟ انہی کے اعتقاد پر چھوڑ دیا گیا ہے، اور ان کا کیا اعتقاد ہے؟ کہ یہ مالِ متقوم ہیں، تو ان کے ساتھ ان کے اعتقاد کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا، اور ان کا خمر اور خنزیر کوئی تلف کر دے، تو اسے ضمان دینا پڑے گا۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے۔ ایک آدمی نے مسلمان کی خمر غصب کر لی، مسلمان کی ایک شراب تھی، مثلاً بھئی اس کے پاس انگور کا رس پڑا ہوا تھا، وہ پڑے پڑے شراب بن گیا۔ تو اس مسلمان کی یہ شراب ہے، کسی نے غصب کر لی اور غصب کرنے کے بعد اس کو سرکہ بنا دیا بھئی، کیا بنا دیا؟ سرکہ بنا دیا۔ اور دوسری صورت یہ کہ کسی نے مسلمان کا کوئی جانور مرا اور اس کا چمڑا اتار لیا، مردار جانور جو مر گیا تھا اس کا چمڑا اتارا اور اتار کر اسے دباغت دے دی۔ دباغت دے دی مولانا۔ تو اب یاد رکھو، یہاں دو صورتیں بنتی ہیں۔ یہ جو شراب سے سرکہ بنایا اور یہ جو مردار کی کھال سے، کھال کو دباغت دی اور اس کو قابلِ استعمال بنا لیا، یا تو ان کو کوئی قیمت والی چیز کے ذریعے ان کو، اس کو دباغت دی ہوگی یا اس کو تبدیل کیا گیا ہوگا شراب کو، یا بلا قیمت کی چیز کے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ مسلمان کی شراب ہے، کسی نے غصب کی اور اس کو کس میں بدل دیا؟ سرکے میں بدلا اور بغیر خرچہ کیے بدلا مولانا، اس کا اپنا کوئی خرچہ نہیں ہوا، مثلاً اس نے شراب کو دھوپ میں رکھ دیا۔ دھوپ میں رکھنے سے تھوڑی عرصہ پڑی رہی تو مولانا وہ کس میں بدل گئی؟ سرکے میں بدل گئی۔ یا وہ دوسری صورت، چمڑا بھئی، اس نے مردار کا چمڑا اتارا اور لے گیا اور اس کو مٹی اور دھوپ کے ذریعے اس نے خشک کر لیا، دباغت دے دی۔ سمجھ میں آیا؟ اب اس کا اپنا کوئی خرچہ ہوا؟ شراب سے سرکہ بنا، کوئی خرچہ ہوا؟ نہیں، چمڑے کو دباغت دی، خشک کیا، قابلِ استعمال بنا دیا دھوپ اور مٹی کے ذریعے، اس کا کوئی خرچہ ہوا؟ نہیں بھئی، تو یاد رکھو، اس صورت میں امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں چیزیں مالک لے سکتا ہے، کون لے سکتا ہے؟ جس کی شراب غصب ہوئی تھی، وہ آئے، یہ سرکہ اٹھا کر لے جائے، جس کے مردار سے چمڑا اتارا گیا تھا، وہ آئے اور یہ چمڑا، تو یہ مالک لے سکتا ہے مولانا، اور کچھ بھی نہیں دینا پڑے گا، کیونکہ دوسرے شخص کا کوئی خرچہ آیا؟ نہیں آیا بھئی۔ اور اگر وہ ان دونوں کو تلف کر دیتا ہے، اس سرکے کو وہ کیا کر دیتا ہے؟ تلف کر دیتا ہے، یا کیا کرتا ہے؟ اس دباغت دی ہوئی کھال کو تلف کر دیتا ہے، تو اس پر ضمان آئے گا مولانا، کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا، دیکھیے مولانا۔ وَلَوْ غَصَبَ خَمْرَ مُسْلِمٍ، اگر غصب، جی، غصب کی بھئی کسی شخص نے مسلمان کی شراب، یا وَلَوْ غُصِبَ خَمْرُ مُسْلِمٍ، اگر غصب کر لیا گیا مسلمان کی شراب کو، فَخَلَّلَهَا، پھر کیا کیا بھئی؟ غَصَبَ پڑھیں زیادہ بہتر ہے مولانا، وَلَوْ غَصَبَ خَمْرَ مُسْلِمٍ اور جس نے غصب کی مسلمان کی شراب، فَخَلَّلَهَا، پھر اس کو کیا کر دیا؟ سرکہ بنا دیا، بِمَا لَا قِيْمَةَ لَهُ، ایسی چیز کے ذریعے جس کی کوئی قیمت نہیں، بھئی کیسے؟ کہتے ہیں كَالنَّقْلِ مِنَ الظِّلِّ إِلَى الشَّمْسِ، جیسے چھاؤں سے دھوپ کی طرف منتقل کرنے میں، وہ شراب غصب کی اور اس کو کہاں رکھ دیا؟ دھوپ میں رکھ دیا بس، أَوْ جِلْدَ مَيْتَةٍ، یا غصب کیا مولانا مردار کی کھال کو، فَدَبَغَهُ، پس اس کو دباغت دے دی، بِهِ، أَيْ بِمَا لَا قِيْمَةَ لَهُ، ایسی چیز کے ذریعے جس کی کوئی قیمت، بِهِ کی ضمیر کا مرجع بتلایا کہ مَا کو راجع ہے، تو اس کو دباغت دے دی ایسی چیز کے ذریعے جس کی کوئی قیمت نہیں تھی، كَالتُّرَابِ وَالشَّمْسِ، جیسے مٹی ہے اور سورج ہے، تو دونوں صورتوں میں أَخَذَهُمَا الْمَالِكُ، مالک کیا کرے گا ان کو؟ لے لے گا، بِلَا شَيْءٍ، بغیر کسی چیز کے، وَلَوْ أَتْلَفَهُمَا، اور اگر غاصب أَتْلَفَهُمَا ہے مولانا، هَا نہیں، اور اگر ان دونوں چیزوں کو غاصب نے تلف کر دیا، ضَمِنَ، تو کیا ہوگا؟ ضامن ہوگا۔ اور اگر بھئی، اس نے شراب سے سرکہ بنایا لیکن اس کا بھی کچھ خرچہ ہوا، اس نے بھی کوئی قیمت والی چیز لگائی اس پر، یا اس نے کھال کو دباغت دی ہے لیکن خود اس کا بھی کیا ہوا ہے؟ خرچہ ہوا ہے، پھر کیا حکم ہے؟ دیکھیے تفصیل بھئی۔ وَلَوْ خَلَّلَهَا بِذِيْ قِيْمَةٍ، اور اگر اس نے اس کو سرکہ بنایا تھا کسی قیمت والی چیز کے ذریعے، کیا؟ قیمت والی چیز کیا مثلاً؟ كَالْمِلْحِ، جیسے کس کے ذریعے؟ نمک، وہ شراب غصب کی تھی اس میں نمک ڈال دیا، وہ تھوڑے دنوں میں سرکہ بن گیا، وَالْخَلِّ، یا کس کے ذریعے؟ سرکہ، شراب غصب کی اور شراب میں تھوڑا سا سرکہ ڈال دیا، وہ اس سے تھوڑی دیر میں، کچھ عرصے میں ساری کی ساری کیا بن گئی؟ جیسے آپ جانتے ہیں مولانا دودھ کے اندر تھوڑا سا دہی ڈال دیتے ہیں، وہ سارا ہی کیا بن جاتا ہے؟ دہی بن جاتا ہے، تو اسی طرح شراب میں اس نے تھوڑا سا سرکہ ڈالا، کچھ عرصے میں ساری پھر سرکہ بن گئی، تو اس صورت میں مَلَكَهُ، کیا بن جائے گا؟ اس سرکے کا غاصب مالک بن جائے گا مولانا، وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ، اور اس پر کوئی چیز بھی نہیں، یعنی اگر اس کو ہلاک کر دیتا ہے تو اس پر کوئی ضمان بھی، کیونکہ مالک بن چکا ہے، جب مالک بن چکا ہے تو ضمان کیسا! هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيْفَةَ، یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے، وَعِنْدَهُمَا، صاحبین فرماتے ہیں: يَأْخُذُهَا الْمَالِكُ، مالک کیا کرے گا؟ اس سرکے کو لے لے گا، اس شراب کو جو تھی اور سرکہ بن چکی ہے، اس کو لے لے گا، وَأَعْطَى مَا زَادَ الْمِلْحُ، اور دے دے گا وہ جو اس کے اندر نمک نے زیادتی کی ہے۔ بھئی اس نے نمک ڈال کر بنائی تھی نا شراب، تو نمک سے جو اس کے اندر زیادتی ہوئی ہے، وہ کیا کرے گا؟ مالک لے لے گا اور جو نمک نے زیادتی کی ہے، وہ واپس کس کو دے دے گا؟ غاصب کو دے دے گا، بھئی کیسے زیادتی؟ مطلب یہ ہے بھئی دیکھو، وہ جو اس نے غصب کی تھی، غصب کیا تھا، کیا غصب کی تھی؟ شراب، مثلاً وہ تھی جی ایک من تھی بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو اس نے اس کے اندر ایک دو سیر نمک بھی ڈالا، تو نمک کی وجہ سے جو اس میں زیادتی ہوئی ہے ایک دو سیر کی، وہ کیا کر لے گا؟ مالک غاصب کو دے دے گا مولانا، صورت سمجھ میں آگئی؟ یا اس نے اپنا جو سرکہ اس کے اندر جتنا ڈالا تھا، وہ سرکہ جو زیادتی ہوئی ہے، وہ اس کو واپس دے دے گا، تو نمک کا جتنا نمک تھا اس کے مطابق وہ دے دے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ فَلَوْ دَبَغَ بِهِ الْجِلْدَ، اور اگر دباغت دی ایسی چیز کے ذریعے کھال کو، بھئی کیسی چیز؟ أَيْ بِشَيْءٍ لَهُ قِيْمَةٌ، ایسی چیز جس کی کیا تھی؟ قیمت تھی، كَالْقَرْظِ، قَرْظ یا قَرَظ، ظاء ہے مولانا، طاء نہیں، یہ ایک درخت ہے مولانا جس کے پتوں سے چمڑے کو دباغت دی جاتی ہے، كَالْقَرْظِ وَالْعَفْصِ، عَفْص بھی ایک دوا ہے، اس کے ذریعے بھی کیا کیا جاتا ہے؟ چمڑے کو دباغت دی جاتی ہے۔ اب دیکھو مولانا، پچھلے مسئلے میں چمڑے کو دباغت دی تھی ایسی چیز کے ذریعے جس کی قیمت نہیں تھی، اور اب دباغت دے رہا ہے کس کے ذریعے؟ قَرْظ یا عَفْص کے ذریعے جن کی قیمت ہے، اس صورت میں أَخَذَهُ الْمَالِكُ، مالک کیا کرے گا اسے؟ لے لے گا، وَرَدَّ مَا زَادَ الدَّبْغُ فِيْهِ، اور واپس کر دے گا وہ جو اس کے اندر دباغت نے زیادتی کی ہے، کیا کی ہے؟ زیادتی کی ہے، بھئی ایک عام کھال کی قیمت لگاؤ جسے ابھی دباغت نہ دی گئی ہو، مثلاً وہ 100 روپے کی تھی اور دباغت دینے کے بعد یہ کتنے کی ہو چکی ہے؟ 200 کی ہو چکی ہے، تو کتنی زیادتی آئی دباغت کی وجہ سے؟ 100 روپے کی، تو مالک کھال کو لے لے گا اور 100 روپیہ کس کو دے دے گا؟ غاصب کو دے دے گا۔ وَلَوْ أَتْلَفَهُ، لیکن اگر اس نے کیا کیا بھئی؟ تلف کر دیا اس کھال کو، لَا يَضْمَنُ، تو ضمان نہیں ہوگا، بھئی آپ نے پڑھا، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ بھئی وہ صورت جس میں سرکہ بغیر قیمت کے، بغیر خرچے کے بنا، یا کھال کو دباغت دی گئی بغیر، بغیر خرچے کے، دونوں صورتوں میں مالک کیا کر سکتا ہے؟ انہیں لے سکتا ہے اور اگر وہ غاصب انہیں تلف کر دے تو وہ کیا دینا پڑے گا اسے؟ ضمان دینا پڑے گا، جبکہ ان دو صورتوں میں آپ دیکھ لیں، جب قیمت والی چیز کے ساتھ سرکہ بنایا یا قیمت والی چیز کے ساتھ دباغت دی، تو غاصب ہی ان کا مالک بن جاتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ غاصب ہی ان کا مالک بن جاتا ہے، البتہ فرق دو مسئلوں میں یہ آگے شرح کے اندر بھی وہ بتلائیں گے بھئی، شراب سے اس نے کیا بنا دیا خرچہ کر کے؟ سرکہ، اب مالک اس کو لے ہی نہیں سکتا، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ اس، حقیقت ہی بدل گئی، چیز ہی بدل گئی مولانا، لہٰذا مالک کا اب کسی قسم کا اس میں کوئی حق نہیں، غاصب کیا بن چکا ہے اس کا؟ مالک بن چکا ہے، لے ہی نہیں سکتا، جبکہ دباغت جب دی تھی اس نے قیمت والی چیز کے ذریعے، اس صورت میں بھی غاصب مالک بن چکا، لیکن آقا کا بھی کچھ نہ کچھ حق ہے اس چیز کے ساتھ، کیونکہ کھال ابھی بھی وہی ہے، شراب کی تو حقیقت بدل گئی تھی، یہاں کھال کی حقیقت بدلی ہے؟ نہیں، تو وہ عین ابھی بھی باقی ہے، اس لیے اس صورت میں مالک اس کو لے سکتا ہے اور جو دباغت سے زیادتی ہوئی ہے وہ اس کو کیا کر دے گا؟ پیسے لوٹا دے گا، تو شراب کو اگر اس نے قیمت والی چیز کے ذریعے سرکہ بنایا تو مالک اس کو لے بھی نہیں سکتا پھر، ختم بس! جبکہ سرکے، وہ کھال کو کیا کر سکتا ہے؟ لے سکتا ہے، لیکن جو زیادتی کی ہے وہ، اور میں نے بتلایا، دونوں صورتوں میں چونکہ وہ مالک بن چکا ہے غاصب، لہٰذا دونوں صورتوں میں اگر وہ ان کو تلف کر دیتا ہے تو اس پر ضمان بھی نہیں آئے گا بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا کہ نہیں سمجھ میں آیا؟ سمجھ میں آیا؟ قیمت خرچے کے ساتھ جب سرکہ بنایا تو مالک لے ہی نہیں سکتا اس کو، اور خرچے کے ساتھ جب کھال کو دباغت دی تو مالک لے سکتا ہے، لیکن ان دونوں میں اگر وہ تلف ہو جائیں، وہ سرکہ یا وہ کھال، تو ضمان نہیں، کیونکہ وہ کیا بن چکا؟ مالک بن چکا۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، وَعِنْدَهُمَا يَضْمَنُ الْجِلْدَ مَدْبُوْغًا، اور صاحبین کے نزدیک وہ ضامن ہوگا ایسی کھال کا جو، وہ ضامن ہوگا کھال کا اس حال میں کہ وہ دباغت دی ہوئی ہو، وَيُعْطِيْهِ الْمَالِكُ مَا زَادَ الدِّبَاغُ، اور دے دے گا اس کو مالک وہ جو اس کے اندر دباغت نے زیادتی کی ہے، دَبْغ اور دِبَاغ ایک معنی ہے، مصدر ہیں مولانا، مَا زَادَ الدِّبَاغُ فِيْهِ جو اس کے اندر دباغت نے زیادتی کی ہے، فَالْحَاصِلُ، حاصل، حاصلِ کلام یہ، أَنَّهُ إِذَا خَلَّلَ أَوْ دَبَغَ بِمَا لَا قِيْمَةَ لَهُ، کہ جب اس نے سرکہ بنایا تھا یا دباغت دی تھی ایسی چیز کے ساتھ جس کی کوئی قیمت نہیں تھی، سرکہ بنایا یا دباغت دی بِمَا ایسی چیز کے ساتھ جس کی کوئی قیمت نہیں، أَخَذَهُمَا الْمَالِكُ، دونوں صورتوں میں مالک کیا کر سکتا ہے؟ لے سکتا ہے، مالک انہیں لے لے گا، لِأَنَّ الْأَصْلَ حَقُّهُ، اس لیے کہ اصل حق اسی کا ہے، وَلَيْسَ مِنَ الْغَاصِبِ سِوَى الْعَمَلِ، اور غاصب کی طرف سے کوئی چیز نہیں پائی گئی سوائے ایک عمل کے، وَلَا قِيْمَةَ لَهُ، اور اس عمل کی بھی کوئی قیمت نہیں بھئی، اس نے کوئی خرچہ نہیں کیا۔ أَمَّا إِذَا خَلَّلَ أَوْ دَبَغَ بِذِيْ قِيْمَةٍ، اور باقی وہ صورت جب اس نے سرکہ بنایا یا دباغت دی کسی قیمت والی چیز کے ذریعے، يَصِيْرُ مِلْكًا لِلْغَاصِبِ، تو اس صورت میں یہ غاصب کی کیا بن جائے گی؟ ملک بن جائے گی دونوں صورتوں میں، کیا بن جائے گی؟ دونوں صورتوں میں غاصب کی ملک بن جائے گی، تَرْجِيْحًا لِلْمَالِ الْمُتَقَوِّمِ عَلَى غَيْرِ الْمُتَقَوِّمِ، بھئی کیوں یہ غاصب کی ملک کیوں بنے گی؟ کہتے ہیں ترجیح دیتے ہوئے مالِ متقوم کو مالِ غیر متقوم پر۔ بھئی جب اس نے شراب غصب کی تھی، وہ مالِ متقوم تھا یا غیر متقوم؟ مالِ غیر متقوم، اور اب اس نے خرچہ کر کے سرکہ بنا دیا، اب یہ کیا بن چکا؟ مالِ متقوم، ادھر دوسری طرف، جب اس نے مردار کی کھال اتار کر وہ لے گیا تھا، وہ مالِ متقوم تھی یا غیر متقوم؟ اس وقت اس کی بھی کوئی قیمت نہیں تھی مولانا، تو وہ مالِ غیر متقوم تھا، لیکن جب اس نے کیا کیا؟ دباغت دی خرچہ کر کے، تو یہ کیا بن گیا مالِ؟ تو لہٰذا اس نے بنایا ہے اس کو مالِ متقوم، تو اس کو ترجیح دے کر ہم اسی کو کیا قرار دے دیتے ہیں؟ مالک، یہ چیز اسی کی ہوگئی۔ دوسرا، فرق کیوں بھئی؟ خرچہ کر کے سرکہ بنایا ہے تو مالک اسے لے ہی نہیں سکتا سرے سے، اور دباغت کی صورت میں کھال کو لے سکتا ہے، یہ فرق کیوں بتلانے لگے ہیں: وَالْفَرْقُ لِأَبِي حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللهُ بَيْنَ الْخَلِّ وَالْجِلْدِ، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی، کس کے اندر بھئی؟ سرکے میں، بَيْنَ الْخَلِّ وَالْجِلْدِ، کھال کے درمیان فرق یہ ہے أَنَّ الْمَالِكَ يَأْخُذُ الْجِلْدَ وَلَا يَأْخُذُ الْخَلَّ، کہ مالک کھال تو لے سکتا ہے، لیکن سرکہ نہیں لے سکتا، لِأَنَّ الْجِلْدَ بَاقٍ، اس لیے کہ کھال باقی ہے، پہلے بھی کھال تھی، ابھی بھی کھال ہے، مالک کا حق ہے، لَكِنْ، ہاں، کھال تو باقی ہے، لَكِنْ أَزَالَ عَنْهُ النَّجَاسَاتِ، اس نے صرف کیا کیا ہے اس سے؟ نجاستیں دور کی ہیں، تو لِأَنَّ الْجِلْدَ بَاقٍ اس لیے کہ کھال تو باقی ہے، لَكِنْ أَزَالَ عَنْهُ النَّجَاسَاتِ لیکن اس نے کیا کیا صرف اس سے؟ نجاستیں زائل کی ہیں، وَالْخَمْرُ، جی، وَالْخَمْرُ غَيْرُ بَاقٍ، جبکہ خمر تو باقی ہی نہ رہی، بَلْ صَارَتْ حَقِيْقَةً أُخْرَى، بلکہ ایک نئی حقیقت بن گئی ہے، دوسری حقیقت بن گئی ہے، وَإِنَّمَا لَا يَضْمَنُ الْجِلْدَ عِنْدَ أَبِي حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، بھئی کھال کو تلف کر کے وہ ضامن کیوں نہیں تھا؟ آپ نے کیا کہا؟ يَرْحَمُكَ اللهُ، آپ نے کیا کہا؟ کہ وہ مردار کی کھال لے گیا اور خرچہ کر کے اس نے دباغت دے دی، تو اس نے پھر تلف خود ہی کر دی، تو اس پر ضمان نہیں، بھئی یہ کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں: وَإِنَّمَا لَا يَضْمَنُ الْجِلْدَ عِنْدَ أَبِي حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک کھال کا ضمان نہیں آئے گا، وہ ضامن نہیں ہوگا کھال کا، إِذَا أَتْلَفَهُ، جب وہ اس کو تلف کر دے، لِأَنَّهُ غَصَبَ جِلْدًا غَيْرَ مَدْبُوْغٍ، اس لیے کہ اس نے غصب کی تھی کیسی کھال بھئی؟ غیر مدبوغ کھال غصب کی تھی، وَلَا قِيْمَةَ لَهُ، اور اس کی تو کوئی قیمت نہیں ہے، وَالضَّمَانُ يَتْبَعُ التَّقَوُّمَ، اور ضمان تو تقوّم کے تابع ہوتا ہے، مالِ متقوم ہوگا تو ضمان آئے گا، مالِ متقوم نہیں تو ضمان بھی نہیں، تو یہ پہلے مالِ متقوم نہیں تھا، اب بنا ہے، جب پہلے نہیں تھا تو اس کا ضمان بھی نہیں۔ اچھا بھئی! تو لَكِنَّ الْعَيْنَ إِذَا كَانَتْ بَاقِيَةً لَا يُشْتَرَطُ، لیکن جب وہ عین، وہ چیز باقی ہو لَا يُشْتَرَطُ، تو اس صورت میں تقوّم، یعنی بھئی آپ نے کیا کہا؟ پہلے غیر مالِ غیر متقوم تھا، اب کیا بن چکا؟ مالِ، تو پھر مالک لیتا کیوں ہے اس کو؟ کہتے ہیں بھئی، مالک کے حق کا تعلق تقوّم اور غیر تقوّم سے نہیں ہے بھئی، وہ ضمان کا تعلق ہے تقوّم اور غیر تقوّم سے، تقوّم ہے تو ضمان ہے، تقوّم نہیں تو ضمان بھی نہیں، لیکن مالک کا حق تو عین کے ساتھ ہے، وہ عین ہے تو مالک بھی اس کو لے سکتا ہے، جلد وہی کھال وہی ہے، تو مالک اب اس کو لے سکتا ہے، لینا چاہے، تو وہی چیز ابھی بھی باقی ہے، جبکہ شراب کی صورت میں تو اس وہ چیز ہی نہیں باقی، وہ عین ہی نہیں باقی، ایک اور حقیقت بن چکی ہے، لہٰذا مالک کا حق بالکل ختم، وہ اسے واپس بھی نہیں لے سکتا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ لَكِنَّ الْعَيْنَ إِذَا كَانَتْ بَاقِيَةً لَا يُشْتَرَطُ، لیکن عین جب وہ باقی ہو، وہ چیز جب باقی ہو، لَا يُشْتَرَطُ، تو پھر تقوّم کی شرط، یعنی بغیر تقوّم کے بھی مالک اسے لے سکتا ہے۔ جی۔ جی، چلیے مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔
106 approved lectures · 105 of 106