Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-012

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 14 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 49
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
باب الخیار صح خیار الشرط لكل من العاقدین ولهما ثلاثة أیام أو أقل لا أکثر إلا أنه يجوز إن أجاز فی الثلاث اچھا بھئی! آج ہم باب الخیار پڑھیں گے خیارِ شرط کے بارے میں بھئی، خیارِ شرط۔ یاد رکھیے عقدِ بیع کے اندر مشتری اور بائع وغیرہ کو کئی قسم کے خیار حاصل ہوتے ہیں، علماء نے ان کی تعداد 17 تک ذکر کی ہے بھئی، 17 تک۔ جیسے پہلے بھئی خیارِ قبول اور خیارِ ایجاب ذکر ہو چکا بھئی۔ اسی طرح خیارِ شرط کا باب ہم، آج ہم شروع کر رہے ہیں۔ آگے اسی طرح خیارِ رؤیت آئے گا اور خیارِ عیب کا باب بھی مستقل آئے گا بھئی۔ تو خیارات کل جو ہیں 17 ہیں جن میں سے یہ تین اہم ہیں، مباحث زیادہ ہیں، اس لیے ان کی با۔۔، ان کو باقاعدہ ابواب کی صورت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃً ذکر فرماتے ہیں بھئی۔ تو سب سے پہلے مصنف جو ہیں وہ خیارِ شرط کا باب لائے، اس کے بعد پھر خیارِ۔۔، خیارِ رؤیت کو ذکر کریں گے اور آخر میں خیارِ عیب کو ذکر کریں گے۔ خیارِ شرط کا باب پہلے اس لیے لے کر آئے کہ خیارِ شرط مانع ہے ابتداءِ حکم سے۔ خیارِ شرط کیا ہے؟ مانع ہے ابتداءِ حکم سے۔ اور اس کے بعد خیارِ رؤیت ذکر کریں گے اس لیے کہ خیارِ رؤیت مانع ہے تمامِ حکم سے۔ بھئی بیع کا حکم کیا ہے؟ ملکیت کا حاصل ہونا، تصرف کا حق ملنا مبیع کے اندر بھئی۔ تو خیارِ شرط جو ہے وہ ابتداءِ حکم سے ہی مانع ہے، یعنی مشتری کو تصرف کا حق حاصل نہیں ہوتا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بیع تو ہو گئی، لیکن یرحمک اللہ۔ بیع تو ہو گئی بھئی، عقد تو ہو گیا، لیکن عقد کا حکم کیا تھا آگے؟ بھئی آپ نے اصول الشاشی میں پڑھا تھا بھئی، کچھ موانع ذکر تھے، قال الإمام أبو زيد بھئی، وہ فرماتے ہیں کہ موانع کتنے ہیں، کوئی بعض موانع ہیں وہ علت کے ہونے سے روکتے ہیں، بعض موانع ہیں وہ حکم کی ابتداء کو روکتے ہیں، بعض اس کو تام ہونے کو روکتے ہیں، بعض اس کے لزوم کو روکتے ہیں وغیرہ، اصول الشاشی کے آخر میں، بالکل قیاس کے آخر میں یہ بحث ہے بھئی۔ تو یہ جو خیارِ شرط ہے یہ ابتداءِ حکم کو روکتا ہے اور عقد کا، بیع کا حکم کیا ہے بھئی؟ تصرف کا حق حاصل ہونا، مالک بننا چیز کا بھئی۔ تو عقد تو پایا گیا، لیکن آگے اس کا حکم جو ہے تصرف کا حق وہ حاصل نہیں ہوگا بھئی مشتری کو۔ تو سب سے پہلے میں نے بتلایا کہ خیارِ شرط کو کیوں ذکر کیا؟ اس لیے کہ یہ کس کو روکتا ہے؟ ابتداءِ۔۔ ابتداءِ حکم ہی کو روک دیتا ہے، تصرف کا حق حاصل ہوتا ہی نہیں بھئی جب تک خیارِ شرط ہے۔ اور پھر اس کے بعد خیارِ رؤیت کو ذکر کریں گے جو حکم کو تام ہونے سے روکتا ہے۔ بھئی عقد ہو گیا اور اس کا حکم بھی آ گیا، لیکن تام نہیں بھئی، تام نہیں، تام نہیں ہوا، پورا نہیں ہوا۔ اور اس کے بعد خیارِ عیب کو ذکر کریں گے، اس لیے کہ خیارِ عیب جو ہے وہ لزومِ حکم کو روکتا ہے۔ لزومِ حکم کو روکتا ہے۔ مانع ہے لزومِ حکم سے۔ یعنی تصرف کا حق مل بھی گیا لیکن لازم نہیں بھئی۔ یہ عقد کیا ہوا؟ لازم نہیں ہوا، لازم نہیں ہوا۔ دائماً نہ رہا بھئی۔ عیب کا پتہ چلتا ہے تو کیا کر سکتا ہے اس کو؟ فسخ کر سکتا ہے۔ تو تین خیار کے تین ابواب ذکر کریں گے، میں نے ذکر کر دیا: خیارِ شرط ابتداءِ حکم سے مانع ہے۔ خیارِ رؤیت تمامِ حکم سے مانع ہے، اور خیارِ عیب لزومِ حکم سے مانع ہے۔ تر۔۔، اسی لیے اسی ترتیب کے مطابق ان کو ذکر کریں گے بھئی۔ تو کبھی کبھار بھئی مشتری اور بائع اختیار رکھتے ہیں، آپس میں دو آدمی بیع کرتے ہیں، لیکن کوئی ایک اختیار رکھ لیتا ہے کہ بھئی میں ایک دو دن تک سوچتا ہوں، مثلاً بائع نے رکھ لیا، بائع بھی رکھ سکتا ہے۔ آپ نے اپنے ساتھی سے قلم، آپ خریدنا چاہتے ہیں، ساتھی کو کہا: قلم فروخت کرو، تو اس نے کہا بھئی: میں آپ کو فروخت کرتا ہوں، لیکن مجھے دو دن سوچنے کا موقع دو بھئی۔ بیع اسی وقت کر لی، لیکن دو دن کیا کیا اس نے؟ سوچنے کا وقت مانگ لیا۔ اس کو کیا کہیں گے؟ خیارِ شرط بھئی، اور یہ کس کے لیے ہے اس وقت؟ بائع کے لیے۔ مشتری بھی رکھ سکتا ہے، وہ آپ کو اپنا قلم فروخت کرنا چاہتا ہے، آپ کہتے ہیں بھئی: بیع کر لیتے ہیں، لیکن بھئی اس شرط پر کہ مجھے خیار ہے دو دن تک میں کیا کرتا ہوں؟ سوچتا ہوں یا ساتھیوں سے مشورہ کرتا ہوں۔ انسان کو ہر ایک کو تجارت کا تجربہ نہیں ہوتا، پتہ نہیں ہوتا، تو وہ کیا کرتا ہے؟ چیز لیتے ہوئے کہ کہیں دھوکا نہ ہو جائے میرے ساتھ، سوچتا ہے اور اپنے ساتھی وغیرہ سے مشورہ کرتا ہے، تو شریعت نے یہ حق دیا ہے اسے بھئی۔ تو یہ بائع بھی رکھ سکتا ہے، مشتری بھی رکھ سکتا ہے۔ لیکن یاد رکھو یہ زیادہ سے زیادہ تین دن تک ہو سکتا ہے بھئی۔ تین دن تک، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ تین دن تک۔ اور صاحبین کے نزدیک دو ماہ تک ہو سکتا ہے۔ دو ماہ تک۔ امام صاحب کی دلیل وہ حدیث ہے بھئی، ایک صحابی تھے حضرت حبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ حضرت حبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، وہ اکثر تجارت میں دھوکا کھا جایا کرتے تھے بھئی، کبھی بڑی سستی چیز بڑی مہنگی خرید لائے، کبھی اپنی مہنگی چیز کیا کر دی؟ سستی فروخت کر دی، اس طرح کے کوئی دھوکے وغیرہ بیچارے کھا لیتے ہوں گے، صحابہ تو سادہ لوگ تھے بھئی۔ تو وہ بھی ان کے گھر والے بڑے پریشان بھئی، یہ تو نقصان کر بیٹھتے ہیں ہر آئے دن، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اائے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ بھئی: جب تم جب بھی بیع کرنے لگو، تو یہ کہہ دیا کرو دوسرے عقد کرنے والے سے: "لا خِلاَبَةَ وَلِيَ الْخِيَارُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ"۔ "لا خِلاَبَةَ وَلِيَ الْخِيَارُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ" یہ حدیث آپ کے حاشیے میں موجود ہے بھئی، حاشیہ نمبر ایک میں، وقف میں آ رہی ہے۔ "لا خِلاَبَةَ وَلِيَ الْخِيَارُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ"۔ خلابہ کہتے ہیں بھئی نرم باتوں کے ذریعے کسی کو دھوکا دینا، نرم اور چکنی چپڑی باتوں کے ذریعے کیا کرنا؟ کسی کو دھوکا دینا۔ یعنی تم جب بھی بیع کرنے لگو، یہ کہہ دیا کرو: کوئی دھوکا نہیں ہونا چاہیے، کوئی دھوکا نہ ہو اور مجھے تین دن تک خیار ہے بھئی۔ تین دن تک خیار ہے، یہ حدیث ہے بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ تین دن تک ہے، امام صاحب فرماتے ہیں: یہ تو اصل میں خلافِ قیاس ہے بھئی۔ جب عقد ہو گیا ہے تو عقد کو لازم ہونا چاہیے، لیکن خیارِ شرط کیا ہے؟ عقد کو لازم نہیں ہونے دیتا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اختیار ہے ایک کے پاس، بائع یا مشتری کے پاس، تو عقد کوئی لازم ہوا؟ نہیں، جو چاہے، جس کے پاس خیار ہے وہ اس کو فسخ کر سکتا ہے، تو حالانکہ عقد کا تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس عقد کو لازم ہونا چاہیے۔ تو یہ خلافِ قیاس ہوا۔ خیارِ شرط کیا ہوا؟ خلافِ قیاس، کیونکہ یہ مقتضائے عقد کے خلاف ہے، عقد تقاضا کر رہا ہے، اسے لازم ہونا چاہیے۔ تو لہٰذا لیکن حدیث میں چونکہ اس کا ثبوت آ گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تین دن تک خیار رکھنے کی اجازت دے دی بھئی، وہاں تو اس کا جواز حدیث سے ثابت ہوا اور جب تین دن کی اجازت دی ہے تو یہ بھی اپنے مورد پر بند رہے گا، تین دن کی ہم اجازت دیں گے، جتنا حدیث سے ثابت ہوا ہے بس، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں دیں گے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: جتنی مدت کا خیار رکھنا چاہیں وہ خیار رکھ سکتے ہیں بھئی۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اثر کی وجہ سے کہ انہوں نے دو ماہ تک اجازت دی تھی بھئی۔ ان کی دلیل حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث ہے بھئی کہ انہوں نے دو ماہ تک اجازت دی تھی خیارِ شرط کی بھئی، کتنے تک اجازت دی تھی؟ دو ماہ۔ بھئی ثبوت تو آ گیا حدیث کے ذریعے، وہ فرماتے ہیں، حدیث سے کتنا کیا ثابت ہوا؟ بھئی قیاس کے تو خلاف ہے، ثابت ہونا ہی نہیں چاہیے، اس کو آنا ہی نہیں چاہیے تھا، لیکن حدیث سے ثابت ہوا، حضور نے صحابی کو حکم فرمایا کہ وہ اس طرح کر سکتے ہیں۔ تو ثبوت آ گیا، پھر آگے اثرِ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما آئی، انہوں نے دو مہینے تک اجازت دی، معلوم ہوا زیادہ کے لیے بھی یہ جائز ہے اور اس کی تجارت میں اکثر ضرورت بھی پڑا کرتی ہے، تو وہ کہتے ہیں: جتنی مدت تک بھی دونوں آپس میں راضی ہو جائیں، ٹھیک ہے بھئی، خیار دے سکتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کتنے تک کی اجازت دی تھی؟ دو ماہ کی، تو ان کے نزدیک کوئی مدت متعین نہیں ہے، جتنے بھی کرنا چاہیں بھئی۔ اور یہ اہم بات یہ یاد رکھنا بھئی، سب سے قیمتی بات کہ خیارِ شرط وضع ہے فسخ کے لیے۔ خیارِ شرط وضع ہے فسخ کے لیے۔ خیارِ شرط وضع ہے فسخ کے لیے۔ یعنی بیع تو ہو چکی ہے، لیکن جس کے پاس خیار ہے وہ کیا کر سکتا ہے؟ بیع کو فسخ کر سکتا ہے جتنی مدت تک، ایک دن کی رکھی ہے، دو کی رکھی ہے یا زیادہ سے زیادہ تین دن تک کا خیار رکھا ہے، تو تین دن میں چاہے عقد کو فسخ کرنا چاہے تو فسخ کر سکتا ہے، لیکن اگر تین دن میں اس نے اپنے اس حق کو استعمال نہ کیا تو بیع کیا ہو جائے گی؟ لازم ہو جائے گی بھئی، لازم ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ لازم ہو جائے گی۔ دیکھیے بھئی اب کتاب میں بھئی: "صح خیار الشرط لكل من العاقدین ولهما ثلاثة أیام أو أقل لا أکثر" صحیح ہے خیارِ شرط عقد کرنے والے میں سے ہر ایک کے لیے، "ولهما ثلاثة أیام" اور ان کے لیے خیار ہوگا تین دن کا، "أو أقل" یا تین سے کم کا، "لا أکثر" نہ کہ زیادہ کا، "إلا أنه يجوز إن أجاز فی الثلاث" بھئی، صورت یہ ہے: ایک آدمی نے عقد کر لیا اور خیارِ شرط اپنے لیے چار دن کا رکھا، یعنی تین سے زیادہ رکھا، چاہے مہینے کا رکھتا ہے، چھ مہینے کا، تو چار دن کا مثلاً اس نے خیارِ شرط اپنے لیے رکھا بھئی، تو اس صورت میں بیع فاسد ہے بھئی، بیع کیا ہے؟ فاسد ہے۔ صاحبین تو فرماتے ہیں، ان کے نزدیک تو بیع صحیح، امام صاحب اور اسی طرح امام زفر رحمہ اللہ وہ بھی کیا فرماتے ہیں؟ صرف تین دن تک ہے، ان کے نزدیک بیع کیا ہوئی؟ فاسد، فاسد۔ لیکن امام صاحب ساتھ یہ فرماتے ہیں: اگر تین دن کے اندر اندر اس نے اجازت دے دی بیع کی جس نے خیار رکھا تھا تو بیع پھر صحیح ہو جائے گی بھئی، بیع کیا ہو جائے گی؟ صحیح ہو جائے گی۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں بھئی، ایک دفعہ فاسد ہو چکی ہے، یہ صحیح نہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں: بھئی یہ فساد آ رہا تھا چوتھے دن کی وجہ سے، اور ابھی چوتھا دن تو آیا ہی نہیں، جب آیا ہی نہیں ہے تو اس سے پہلے اس مفسد، جو فاسد کرنے والی چیز تھی اس کو انہوں نے کیا کر دیا؟ دور کر دیا، بیع کیا ہو گئی؟ صحیح ہو گئی۔ یہ معنیٰ ہے کہ اکثر میں نہیں ہوگی، "إلا أنه يجوز" مگر یہ، اگر اکثر میں کی تو وہ بیع جائز ہو جائے گی "إن أجاز فی الثلاث" اگر اس نے اجازت دے دی تین دن میں۔ "أي إذا بيع" یعنی جب بیچا گیا کسی چیز کو "وشرط الخيار أكثر من ثلاثة أيام" اور شرط لگائی گئی خیار کی تین دن سے زیادہ کی، "لا يجوز البيع" تو بیع جائز نہیں، "خلافا لهما" برخلاف کس کے؟ صاحبین کے، "لكن إن أجيز في ثلاثة أيام جاز البيع" لیکن اگر اجازت دے دی گئی تین دن کے اندر، بیع جائز ہو جائے گی "عند أبي حنيفة" امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہو جائے گی بیع، "خلافا لزفر" برخلاف امام زفر کے بھئی، امام زفر کے۔ "فإن شری علی أنه إن لم ینقد الثمن إلی ثلاثة أیام فلا بیع صح" "صح" یہ جزا ہے، جزا شرط کی بھئی۔ "فإن شری" اگر کسی نے خریدا، خریدا، "شری" کا معنی خریدنے بیچنے دونوں کے ہیں۔ تو اگر کسی نے خریدا یا کسی نے بیچا "علی" اس شرط پر "أنه إن لم ینقد الثمن" کہ اگر ثمن ادا نہ کیے بھئی، یا "إن لم ینقض الثمن" نائب فاعل بنا لو، اگر کسی نے بیچا اس شرط پر کہ اگر ثمن ادا نہ کیے گئے "إلی ثلاثة أیام" تین دن تک "فلا بیع" تو پھر بیع نہیں ہے، "صح" یہ کیا ہے؟ صحیح ہے، یہ کیا، اس طرح کرنا صحیح ہے، صحیح ہے۔ "وإلی أربع لا" اور اگر چار دن کی تک کی شرط لگائی تو پھر صحیح نہیں، تو لہٰذا، لیکن اگر چار دن کی شرط لگا دی، "فإن نقد الثمن في الثلاث جاز" تین دن میں ثمن ادا کر دیے تو بیع کیا ہو جائے گی؟ جائز ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ جیسے خیارِ شرط میں کیا تھا؟ چار یا چار سے زیادہ دن کی شرط لگائی اور پھر اجازت تین دن میں ہو گئی، دے دی تو پھر بیع کیا ہو جایا کرتی تھی؟ صحیح ہو جایا کرتی تھی، تو اسی طرح یہ خیارِ نقد کا مسئلہ ہے مولانا، خیارِ نقد، کہ اگر تین دن تک با۔۔، آپ کو، آپ نے اپنی چیز کوئی کسی کو بیچی اور کہا بھئی: اگر تین دن تک پیسے ادا کر دیے تو بیع ٹھیک ہے، ورنہ نہیں، تو یہ شرط لگانا صحیح ہے اور یہ خیارِ نقد ہے بھئی۔ لیکن اگر تین دن سے زیادہ کی شرط لگا دی تو بیع صحیح نہیں کیونکہ یہ تین دن تک، لیکن اگر تین دن میں اس نے ادا کر دیے تو پھر بیع کیا ہو جائے گی؟ صحیح، اس لیے کہ مفسد کو آنے سے پہلے ہی کیا کر دیا گیا؟ ختم کر دیا گیا۔ "إنما أدخل الفاء" بھئی دیکھیے! یہاں پر ماتن نے "فإن شری" کہا، "فإن"، فاء لے کر آئے مولانا، اور فاء تفریع کے لیے آتی ہے۔ تفریع جانتے ہو یا نہیں بھئی؟ فرع، یفرع، تفریع کے معنی ہوتے ہیں کسی مسئلے کی شقیں نکالنا، اس کی جزئیات نکالنا، جزئیات بھئی، اس کی جزئیات۔ دلائل کے ذریعے بھئی، کوئی ضابطہ ہے، کوئی قانون ہے، وہ کہلائے گا اصل، اور آگے جو اس کی جزئیات ہیں وہ کیا کہلائیں گی؟ فرع۔ فرع کہلائیں گی۔ تو کسی تو۔۔، کسی مسئلے کی فروع وہ اس مسئلے، اس ضابطے سے نکلنے والی وہ شقیں اور وہ جزئیات ہوتی ہیں جنہیں کسی دلیل کی وجہ سے نکالا جاتا ہے بھئی اس مسئلے سے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اس کو فرع کہتے ہیں۔ جزئیات بھئی، جزئی مسائل بھئی۔ تو یہاں فاء لائے ہیں تفریع کے لیے بھئی تفریع کے لیے۔ تو پہلے ذکر ہوا تھا خیارِ شرط، اب ذکر کر رہے ہیں خیارِ نقد۔ تو یہ فاء کیوں لے کر آئے؟ فاء تو تفریع کے لیے آتی ہے، تفریع کا معنی ہے: یہ اسی کا جزئی مسئلہ ہے، اسی کے تحت آتا ہے۔ تو اب شارح آپ کو بتائیں گے کہ بھئی یہ فاء تفریعیہ ہے اور یہ خیارِ نقد، یہ فرع ہے کس کی؟ خیارِ شرط کی۔ اس لیے آگے آپ کو بتائیں گے کہ خیارِ شرط کو وضع ہی اس لیے کیا گیا ہے تاکہ عقد کرنے والا اپنے آپ کو ضرر سے بچائے بھئی، کوئی نقصان نہ ہو جائے بھئی اسے تجارت کا تجربہ نہیں ہے تو وہ سوچ لے، مشورہ کر لے، تو خیارِ شرط کس لیے وضع ہے؟ اپنے آپ کو ضرر سے بچانے کے لیے وضع ہے، اور ثمن کی ادائیگی میں تاخیر ہو جائے، ایک آدمی آپ کو سال بعد پیسے دیتا ہے تو ضرر ہے یا ضرر نہیں ہے بھئی؟ یہ بھی ضرر ہے بھئی۔ تو ثمن کی ادائیگی میں تاخیر کا ہونا یہ ضرر ہے، تو لہٰذا یہ خیارِ نقد یہ بھی کس کے جزئی مسائل میں سے ہوا؟ جیسے وہ وضع ہے ضرر سے بچانے کے لیے، یہ بھی کس لیے ہے؟ اپنے آپ کو ضرر سے بچانے کے لیے، تو اس میں بھی اپنے آپ کو ضرر سے بچانا ہے تو یہ بھی خیارِ شرط میں سے ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہتے ہیں: "إِنَّمَا أَدْخَلَ الْفَاءَ فِي قَوْلِهِ" ماتن نے داخل کیا فاء کو اپنے اس قول کے اندر "فَإِنْ شَرَى" بھئی، "فَإِنْ شَرَى" کیوں؟ "لِأَنَّهُ فرعُ مَسْأَلَةِ خِيَارِ الشَّرْطِ" اس لیے کہ یہ خیارِ شرط کے مسئلے کی فرع ہے، "لِأَنَّ خِيَارَ الشَّرْطِ إِنَّمَا شُرِعَ لِيُدْفَعَ بِالْفَسْخِ الضَّرَرُ" اس لیے کہ خیارِ شرط اس کو مشروع کیا گیا ہے، إِنَّمَا شُرِعَ مشروع کیا گیا ہے یعنی اس کی اجازت دی گئی ہے، اس کو جائز قرار دیا گیا ہے، "لِيُدْفَعَ بِالْفَسْخِ الضَّرَرُ" تاکہ دور کیا جائے فسخ کے ذریعے ضرر کو بھئی، "عَنْ نَفْسِهِ" کس سے؟ اپنے نفس سے، "سَوَاءٌ كَانَ الضَّرَرُ تَأْخِيرَ أَدَاءِ الثَّمَنِ أَوْ غَيْرَهُ" برابر ہے کہ وہ ضرر ثمن کی ادائیگی میں تاخیر کا ہو یا اس کے علاوہ ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "فَإِذَا كَانَ الْخِيَارُ" اچھا، تو یہاں تک یہ بات ثابت ہو گئی۔ کہ خیارِ نقد فرع ہے کس کی؟ جب یہ اس کی فرع ہے تو اس پر کیا لے آئے؟ فاء لے آئے، یہ بات کہنے لگے ہیں: "فَإِذَا كَانَ الْخِيَارُ لِضَرَرِ التَّأْخِيرِ مِنْ صُوَرِ خِيَارِ الشَّرْطِ" جب ضررِ تاخیر کے لیے جو خیار ہے "مِنْ صُوَرِ خِيَارِ الشَّرْطِ" وہ کس میں سے ہے؟ خیارِ شرط کی صورتوں میں سے ہے، تو ضرر کی تاخیر کے لیے جو خیار ہے، وہ خیارِ شرط کی صورتوں میں سے ہے، "فَالالتَّصْرِيحُ بِهِ يَكُونُ مِنْ فُرُوعِ خِيَارِ الشَّرْطِ" تو اس کی تصریح کرنا یہ خیارِ شرط کی فروع میں سے ہوا، جب فروع میں سے ہوا اسی لیے ماتن نے کیا داخل کی؟ فاء داخل کی۔ "هَذَا الَّذِي ذَكَرَ" یہ جو ذکر کیا ماتن نے "قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ" یہ امام صاحب اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ، یعنی حضرت شیخین رحمہما اللہ کا قول ہے، "خِلَافًا لِمُحَمَّدٍ" برخلاف کس کے؟ امام محمد کے۔ شیخین فرماتے ہیں، بھئی پہلے خیارِ شرط کے اندر مسئلہ کیا ذکر ہوا تھا؟ کہ امام صاحب کے نزدیک صرف تین دن تک اجازت ہے، تین دن سے زیادہ کی اجازت نہیں ہے، اس لیے کہ یہ خیارِ شرط مقتضائے عقد کے خلاف ہے بھئی، تو یہ اپنے مورد پر بند رہے گا۔ کس پر بند رہے گا؟ مورد پر، یعنی جتنا نص میں ثابت ہے بس اتنا، اس پر آگے قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے بھئی حدیث میں آتا ہے کہ نماز میں قہقہہ لگاؤ تو نماز کیا ہو جاتی ہے؟ ٹوٹ جاتی ہے، آپ نے پڑھی ہے وہ حدیث بھئی، بعض صحابہ نے قہقہہ لگایا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرنے اور وضو ٹوٹنے کا حکم بھی لگایا تھا اور کہ وضو بھی کرو اور نماز بھی پڑھو۔ تو قہقہے سے وضو بھی نماز میں قہقہہ لگائے تو اس سے وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے معلوم ہوا۔ لیکن یہ حکم خلاف القیاس ہے بھئی۔ کیا ہے خلاف القیاس؟ لہٰذا اپنے مورد پر بند رہے گا بھئی، تو عام قہقہے کی صورت میں ہم کیا حکم نہیں لگائیں گے بھئی کہ کیا ہو جاتا ہے اس سے؟ وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس پر آپ کسی اور چیز کو آپ قیاس نہیں کر سکتے۔ اچھا! یہ تھا امام صاحب کا مسئلہ، اور صاحبین کیا فرماتے تھے بھئی؟ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں جتنی مدت کا خیار رکھنا چاہیں وہ خیار رکھ سکتے ہیں۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے اثر کی وجہ سے کہ انہوں نے دو ماہ تک اجازت دی تھی بھئی۔ تو امام صاحب اصل کے اندر بھی تین دن سے زیادہ کی اجازت نہیں دیتے تھے، خیارِ نقد کے اندر بھی وہ اپنی اس فرع ہے جو فرع کے اندر بھی وہ اپنی اصل پر قائم ہیں، تین دن سے زیادہ کی اجازت نہیں دیتے، لیکن یہاں ابھی آپ کو بتایا کہ یہ تین دن، خیارِ نقد تین دن سے زیادہ جائز نہیں، یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی مسلک ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زیادہ مدت کے لیے بھی یہ جائز ہے بھئی خیارِ نقد بھئی۔ تو خیارِ شرط ہے اصل، خیارِ نقد ہے فرع۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اصل کے اندر صرف تین دن تک کہتے ہیں جائز ہے، تو وہ کیا فرماتے ہیں؟ فرع میں بھی اپنی اصل پر قائم ہیں، یہ بھی کتنے تک جائز ہے خیارِ نقد؟ تین دن، اور امام محمد رحمہ اللہ اسی طرح اپنی اصل پر برقرار ہیں۔ دیکھیے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اصل کے اندر خیارِ شرط میں کتنے کی اجازت دی تھی؟ تین دن تک، یہاں بھی وہ اپنی اصل پر قائم ہیں اور کتنے کی اجازت دے رہے ہیں؟ تین دن کی اجازت دے رہے ہیں بھئی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ نے اصل میں بھی کوئی مدت متعین نہیں کی تھی بھئی، زیادہ کی اجازت دی تھی، یہاں پر بھی وہ کیا ہیں؟ اپنی اصل پر قائم ہیں اور یہاں بھی فرماتے ہیں کہ زیادہ مدت کے لیے بھی یہ جائز ہے بھئی خیارِ نقد بھئی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اپنی اصل سے ہٹ گئے بھئی، وہاں پر انہوں نے فرمایا تھا، وہ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ تھے کہ جتنی مدت تک کے لیے کرنا چاہیں کر سکتے ہیں، اور یہاں کیا فرماتے ہیں خیارِ نقد کتنی مدت تک جائز ہے؟ صرف تین دن تک جائز ہے، اس سے زیادہ کے لیے جائز نہیں۔ آیا نہیں بھئی؟ یہ متن والا مسئلہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ تو انہوں نے، وہ اپنی اصل سے ہٹ گئے بھئی، اصل سے ہٹ گئے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اپنی اصل سے ہٹ گئے بھئی، وہاں پر انہوں نے فرمایا تھا، وہ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ تھے کہ جتنی مدت تک کے لیے کرنا چاہیں کر سکتے ہیں، اور یہاں کیا فرماتے ہیں خیارِ نقد کتنی مدت تک جائز ہے؟ صرف تین دن تک جائز ہے، اس سے زیادہ کے لیے جائز نہیں۔ تو وہاں پر بھئی انہوں نے اجازت دی تھی اثرِ ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی وجہ سے بھئی۔ نص سے ثبوت تو آ گیا تھا خیارِ شرط کا، تو پھر جب خیارِ شرط کا ثبوت آیا تو خیارِ نقد بھی اسی کی فرع ہے وہ بھی کیا ہوئی؟ ثابت، وہ بھی ثابت ہو گئی بھئی۔ اور ثبوت آیا تھا نص سے تین دن کا، لیکن وہاں انہوں نے پھر زیادہ کی اجازت کس کی وجہ سے دی؟ اثرِ ابنِ عمر رضی اللہ تعالی، اور یہاں پر ضرورت نہیں اس لیے کہ تجارت میں بہت کم استعمال ہوتی ہے بھئی یہ خیارِ نقد، تو اس لیے اب قیاس پر چلتے ہوئے اس کی اس سے زیادہ کی انہوں نے اجازت تین دن تو نص سے ثابت ہوئے تھے، اور یہاں کوئی اور اثر وغیرہ نہیں تو قیاس پر عمل کرتے ہوئے کتنے کی اجازت دی صرف؟ تین دن تک کی اجازت دی ہے بھئی، کیونکہ یہ قیاس کے خلاف ہے۔ تو اپنے مورد پر بند رہے گا بھئی۔ دیکھیے بھئی! "هَذَا الَّذِي ذُكِرَ" یہ جو ذکر کیا گیا "قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللهُ" یہ امام ابو، یہ حضرت شیخین رحمہما اللہ کا قول ہے، "خِلَافًا لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ" برخلاف امام محمد رحمہ اللہ کے، "فَإِنَّهُ يُجَوِّزُ فِي الأَكْثَرِ" اس لیے کہ وہ جائز قرار دیتے ہیں اکثر میں بھی، تو اصل میں بھی اکثر میں اجازت دی تھی اس میں فرع میں بھی، "فَهُوَ جَرَى عَلَى أَصْلِهِ" پس وہ اپنے اصل پر ہی چلے "فِي التَّجْوِيزِ فِي الأَكْثَرِ" اکثر میں جائز قرار دیتے ہوئے، جائز قرار دینے میں، "وَأَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ جَرَى عَلَى أَصْلِهِ فِي عَدَمِ التَّجْوِيزِ فِي الأَكْثَرِ" اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ چلے اپنے اصل پر "فِي عَدَمِ التَّجْوِيزِ فِي الأَكْثَرِ" اکثر کے اندر نا جائز قرار دینے میں، "أَمَّا أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ" باقی امام ابو یوسف رحمہ اللہ "إِنَّمَا لَمْ يُجَوِّزْ" انہوں نے جائز قرار نہیں دیا "هَاهُنَا" یہاں پر، یعنی خیارِ نقد میں "جَرْيًا عَلَى الْقِيَاسِ" کس پر چلتے ہوئے؟ قیاس پر چلتے ہوئے "وَجَوَّزَ ثَمَّ" اور وہاں پر اجازت دے دی "لِأَثَرِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا" حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث کی وجہ سے، "فَإِنَّهُ جَوَّزَ إِلَى شَهْرَيْنِ" اس لیے کہ انہوں نے اجازت دی تھی کتنے تک کی؟ دو ماہ تک کی اجازت دی تھی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وہاں پر بھئی انہوں نے حدیثِ ابنِ عمر کی وجہ سے خیارِ شرط زیادہ کی اجازت دی اور یہاں پر قیاس کے مطابق کہاں، کتنی اجازت دی صرف؟ تین دن تک اجازت دی بھئی، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں، تین دن بھی صرف وہ نص آ گئی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث، تین دن تک خیار کی۔ تو اس خیارِ نقد میں خیارِ شرط کی طرح حاجت نہیں ہے، تاجر اس طرح اکثر ہاں، وہ تجارت میں بہت کم یہ استعمال ہوتا ہے، لہٰذا یہاں کوئی ضرورت نہیں تو یہ اس کو قیاس کرنے کی اس پر حاجت نہیں بھئی۔ "وَلَا يَخْرُجُ الْمَبِيعُ عَنْ مِلْكِ بَائِعِهِ مَعَ خِيَارِهِ" اور مبیع نکلتا نہیں ہے اپنے بائع کی ملک سے "مَعَ خِيَارِهِ" ساتھ بائع کے خیار کے۔ بھئی یاد رکھو میں نے آپ کو بتلایا خیارِ شرط بائع بھی رکھ سکتا ہے مشتری بھی رکھ سکتا ہے، اب اگر بائع نے خیارِ شرط رکھا، بائع نے کہا مجھے اختیار ہے، تو کیا مبیع اس کی ملک سے نکلے گا یا نہیں نکلے گا؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی، جب بائع نے خیار رکھا ہے تو مبیع اس کی ملکیت سے نہیں، کیونکہ مبیع تب نکلے گا جب عقد ہو جائے اور ابھی وہ عقد پر پوری طرح رضامند نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں مبیع نہیں نکلے گا بائع کی ملکیت سے اس کے خیار کے ساتھ "فَإِنْ قَبَضَهُ الْمُشْتَرِي" پس اگر اس پر قبضہ، بھئی بائع کی ملک سے تو نہیں نکلا، آپ نے اپنے ساتھی کو کہا: یہ قلم مجھے بیچ دو، آپ کے ساتھی کا قلم ہے، اس نے کہا بھئی مجھے میں آپ کو بیچ، میں نے آپ کو بیچا، لیکن مجھے خیار ہے تین دن کا۔ آپ نے کہا: چلو ٹھیک ہے، جب تک قلم مجھے دے دو، آپ نے قبضہ کیا آپ لے گئے اس کو، اب خیار کس کا ہے؟ بائع کا ہے، اور آپ کون ہیں؟ مشتری، تو اگر آپ نے قبضہ کیا لے گئے اور وہ قلم آپ سے ہلاک ہو گیا سمجھ میں آیا؟ ہلاک ہو گیا، تو اب اس صورت میں آپ پر ثمن آئیں گے یا قیمت آئے گی؟ کہتے ہیں بھئی اس صورت میں آپ پر قیمت آئے گی۔ کیا آئے گی؟ ثمن نہیں آئیں گے، ثمن اور قیمت میں فرق جانتے ہو بھئی؟ ثمن وہ ہے جو دو آدمی آپس میں مل کے طے کرتے ہیں، آپ نے اور آپ کے ساتھی نے مل کے جو قیمت، پیسے اس کے طے کر لیے، مثلاً آپ نے کتنے کہے تھے؟ 90 روپے کہے تھے، تو 90 روپے پر عقد ہو گیا بھئی، طے ہو گیا تھا، لیکن بازار کے اعتبار سے دیکھا جائے تو بازار میں تو یہ قلم 50 میں مل سکتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ بازار 50 یا 60 کا ہو گا، تو وہ بازار کی قیمت وہ جو پیسے ہوں گے اس کے وہ قیمت کہلاتی ہے اور جو دو آپس میں طے کر لیں وہ ثمن کہلاتے ہیں۔ تو اب آپ لے کر گئے ہیں 90 کے بدلے اور بازار میں اس کی قیمت ہے 60 روپے، تو اب وہ آپ کے پاس قلم ہلاک ہوا اور خیار کس کا تھا؟ بائع کا، تو کیا اب اس صورت میں ضمان آپ پر ثمن آئیں گے یا قیمت آئے گی؟ کہتے ہیں: اس صورت میں آپ پر قیمت آئے گی۔ کیا آئے گی؟ قیمت آئے گی، قیمت آئے گی۔ کیونکہ یہ مقبوض علی سوم الشراء تھا۔ بھئی شرح میں بھی آ رہا ہے یہ لفظ، مقبوض علی سوم الشراء بھئی، سوم کا معنی بھاؤ تاؤ کرنا، نرخ طے کرنا بھئی باہم۔ تو جب کسی چیز پر قبضہ کیا جائے بھاؤ تاؤ کر کے تو اس کو کیا کہتے ہیں بھئی؟ مقبوض علی سوم الشراء، اور مقبوض علی سوم الشراء میں یاد رکھو ضمان قیمت آیا کرتی ہے، ضمان قیمت آیا کرتی ہے۔ اور ایک ہوتا ہے مقبوض علی وجہ النظر، وہ بھی سمجھ لو بھئی، ایک ہے مقبوض علی سوم الشراء، اس صورت میں ضمان کتنا آیا کرتا ہے؟ قیمت، اور ایک ہے مقبوض علی وجہ النظر، مثلاً آپ کے ساتھی نے آپ کو کہا: یہ قلم مجھ سے خرید لو، آپ نے کہا: لاؤ دو بھئی میں دیکھتا ہوں، ایک آدھ دن اپنے پاس رکھتا ہوں، اگر پسند آیا تو میں آپ سے خرید لوں گا۔ یہ مقبوض علی وجہ النظر ہے بھئی، مقبوض علی وجہ النظر، یعنی غور و فکر کا سوچتا ہوں میں اس بارے میں۔ تو قیمت کوئی آپ نے ذکر کی مشتری نے؟ پیسے ذکر کیے؟ اگر مشتری پیسے ذکر کر دیتا ہے، میں کہ دے دو مجھے اگر مجھے پسند آیا تو 100 روپے میں آپ سے خرید لوں گا، تو یہ مقبوض علی سوم الشراء بن جائے گا فوراً یاد رکھنا، لیکن اگر اس نے پیسے ذکر نہیں کیے، یا پیسے بائع نے ذکر کیے ہیں کہ یہ قلم میں آپ کو 100 روپے میں دے دوں گا، آپ نے کہا: لاؤ بھئی میں دیکھتا ہوں، ایک دو دن تک پھر بتاؤں گا آپ کو، تو یہ مقبوض علی وجہ النظر ہے، لیکن اگر مشتری ثمن ذکر کر دے، پھر کیا ہے؟ مقبوض علی سوم الشراء، تو مقبوض علی سوم الشراء مضمون ہوتا ہے قیمت کے بدلے، اور مقبوض علی وجہ النظر وہ اس میں ضمان نہیں آتا، وہ امانت کے حکم میں ہے۔ ہلاک ہوا تو کوئی ضمان آپ پر نہیں آئے گا بھئی، آپ کے پاس کوئی شخص امانت رکھوا دے اور وہ امانت آپ کے پاس ہلاک ہو جائے تو کوئی ضمان آئے گا آپ پر؟ نہیں آئے گا، تو یہ مقبوض علی وجہ النظر جو ہوتا ہے جو غور و فکر کے لیے لے گئے ہیں، سوچ کے لیے لے گئے ہیں، دیکھنے کے لیے لے گئے ہیں پسند آیا یا نہیں اور آپ نے ثمن ذکر نہیں کیے تو اس صورت میں بھی آپ پر کوئی ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: "فَإِنْ قَبَضَهُ الْمُشْتَرِي فَهُلْكُهُ عَلَيْهِ بِالْقِيمَةِ" پس اگر اس مبیع پر قبضہ کر لیا مشتری نے "فَهُلْكُهُ عَلَيْهِ بِالْقِيمَةِ" تو اس کا ہلاک ہونا "عَلَيْهِ" اس مشتری پر "بِالْقِيمَةِ" کس کے بدلے میں ہو گا؟ قیمت کے بدلے میں ہو گا، "أَيْ بِيعَ بِشَرْطِ خِيَارِ الْبَائِعِ" یعنی بیچا گیا ایک چیز کو بائع کے بائع کے خیارِ شرط کے ساتھ، "فَقَبَضَهُ الْمُشْتَرِي" پھر اس پر کس نے قبضہ کر لیا؟ مشتری نے قبضہ کر لیا، "فَهَلَكَ فِي يَدِهِ" تو وہ چیز ہلاک ہو گئی مشتری کے قبضے میں، "يَجِبُ عَلَيْهِ الْقِيمَةُ" تو اس پر قیمت واجب ہو گی، "لِأَنَّهُ مَقْبُوضٌ عَلَى سَوْمِ الشِّرَاءِ" اس لیے کہ وہ چیز کیا ہے؟ مقبوض علی سوم الشراء الشراء ہے، "وَهُوَ مَضْمُونٌ بِالْقِيمَةِ" اور وہ مقبوض بالقیمت ہوا کرتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یا آسان لفظوں میں یوں سمجھو، بھئی بائع ابھی راضی ہے بیع پر؟ بھئی خیار کس نے رکھا؟ بائع، تو بائع راضی ہے؟ نہیں، تو بیع موقوف ہے گویا، بیع کیا ہے؟ موقوف ہے بائع کی رضامندی پر اور اس کی اجازت پر۔ تو اور مبیع ہے آپ کے پاس، اور بیع کا دار و مدار ہوتا ہے مبیع پر، مبیع ہو گا تو بیع منعقد ہو گی، مبیع ہی نہیں تو بیع بھی منعقد نہیں، اور وہ چیز آپ کے پاس ہلاک ہو گئی تو مبیع ہی ختم ہو گیا، جب مبیع ہی ختم ہوا تو بیع جو موقوف تھی وہ بھی کیا ہو گئی؟ ختم، جب بیع ہی نہیں ہوئی، بیع ہوتی تو ثمن آتے، جب بیع ہی نہیں ہوئی تو ثمن بھی آپ پر نہیں آئے، تو لہٰذا آپ کیا آئیں گے؟ قیمت آئے گی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یاد رکھو یہ قیمت اس وقت آئے گی جب وہ چیز قیمت والی چیزوں میں سے ہو، اگر وہ مثلیات میں سے ہو جس کا مثل ملتا ہو، اس جیسی، جیسے گندم ہے، اور مکیلی ہیں، موزونی ہیں اور معدوداتِ متقاربہ ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ اگر اس مثل ملتی ہو اس چیز کی، تو پھر مثل واجب ہو گا، قیمت واجب نہیں، مثل واجب ہو گا۔ "وَيَخْرُجُ عَنْ مِلْكِ الْبَائِعِ مَعَ خِيَارِ الْمُشْتَرِي" اور نکل جائے گا مبیع بائع کی ملکیت سے "مَعَ خِيَارِ الْمُشْتَرِي" کس کے خیار کے ساتھ بھئی؟ مشتری کے خیار کے ساتھ بھئی، اگر مشتری نے خیار رکھا تو پھر بھئی بائع نے خیار رکھا تھا تو مبیع اس کی ملک سے نہیں نکلا، لیکن اگر مشتری نے خیار رکھا تو مبیع اس کی ملک سے نکل جائے گا۔ اچھا! مبیع تو بائع کی ملک سے نکل گیا، مشتری نے اس پر قبضہ کر دیا، اب اس کے پاس ہلاک ہوا وہ مبیع، تو اس پر قیمت آئے گی یا ثمن؟ کہتے ہیں بھئی اس پر ثمن آئیں گے، کیا آئیں گے؟ ہاں، دیکھیے بھئی: "وَهُلْكُهُ فِي يَدِهِ بِالثَّمَنِ" اور اس مبیع کا ہلاک ہونا مشتری کے قبضے میں "بِالثَّمَنِ" یہ ثمن کے بدلے ہو گا، "كَتَعَيُّبِهِ" جیسے کہ اس کے عیب دار کرنا ہوتا ہے، بھئی آپ ایک ساتھی سے قلم لے گئے کہ میں یہ قلم خریدتا ہوں، ساتھی نے کہا یہ قلم مجھ سے خرید و، میں نے آپ کو بیچا، آپ نے کہا: یہ قلم میں نے خریدا اس شرط پر کہ مجھے تین دن کا خیار ہے، تو مشتری نے خیار اپنے پاس رکھا۔ آپ قلم لے گئے، قبضہ کر لیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ لے لو۔ جب لے گئے، تو آپ اس قلم میں کوئی عیب پیدا کر دیے ہو یا آپ کے پاس، کیا واپس کر سکتے ہو؟ اب نہیں کر سکتے۔ اگر اس میں عیب آ جائے تو اب آپ اس کو واپس نہیں کر سکتے۔ واپس نہیں کر سکتے۔ سمجھ میں آیا؟ مبیع کو آپ نے عیب دار کر دیا، اب کیسے آپ واپس کرتے ہو اس کو بھئی؟ سلام... واپس کرنا تھا تو اسی طرح سلیم واپس کرتے۔ تو اس صورت میں ثمن آتے ہیں، ثمن۔ تو جب عیب دار کرنے کی صورت میں ثمن آ رہے ہیں، تو جب وہ چیز آپ کے پاس ہلاک ہو گئی تھی، اس صورت میں بھی کیا آئیں گے؟ ثمن آئیں گے، اس لیے کہ عینِ ہلاکت سے پہلے وہ چیز عیب دار ہو جائے گی کم از کم۔ مثلاً بکری خرید کر لے گئے تھے بھئی، ہلاکت سے پہلے وہ بیمار ہوئی یا نہیں ہوئی بھئی؟ بیمار ہوئی، عیب آیا یا نہیں آیا؟ عیب آیا۔ یا قلم وغیرہ کوئی بھی چیز لے گئے، وہ خراب ہو، وہ بالکل ختم ہونے سے پہلے اس میں عیب آیا، پھر ہلاک ہو جائے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کچھ عیب آئے گا اور پھر ختم ہو جائے گی۔ عی اذا کان الخیار للمشتری، جب خیار مشتری کے لیے تھا، و قبضہ المشتری، اور مشتری نے قبضہ کر لیا، فہلک او تعیب فی یدہ، پس ہلاک ہو گئی یا عیب دار ہو گئی مشتری کے قبضے میں، یجب الثمن، تو ثمن واجب ہوں گے، و لا یملکہ المشتری، اور مشتری اس کا مالک نہیں بنے گا۔ بائی مبیعہ تو بھئی، خیار کس نے رکھا تھا اگر؟ بائع نے، تو مبیع اس کے ملک سے نہیں نکلتا۔ لیکن اگر خیار کس نے رکھا؟ مشتری نے، تو مبیع بائع کی ملک سے نکل جائے گا۔ اب سوال پیدا ہوا، جب بائع کی ملک سے نکلا، تو کیا مشتری اس کا مالک بنے گا یا مالک نہیں بنے گا بھئی؟ صاحبین فرماتے ہیں مشتری اس کا مالک بن جائے گا۔ امام صاحب فرماتے ہیں مشتری اس کا مالک نہیں بنے گا۔ صاحبین کی دلیل یہ ہے، صاحبین فرماتے ہیں اگر مبیع بائی مشتری کے ملک میں داخل نہ ہو، بائع کی ملک سے تو نکل چکا ہے، تو اب لازمی طور پر کس کے ملک میں داخل ہونا چاہیے؟ مشتری کے ملک میں داخل ہونا چاہیے۔ اگر مشتری کے ملک میں یہ مبیع داخل نہیں ہوتا، تو زوالِ شئے لا الی مالک لازم آئے گا۔ زوالِ شئے لا الی مالک، بھئی کوئی چیز مملوک ہے اور اس کا کوئی مالک بھی نہیں۔ ایسا کبھی ہو سکتا ہے بھئی؟ چیز مملوک بھی ہو اور اس کا کوئی مالک بھی نہ ہو! تو فرماتے ہیں اس صورت میں زوالِ شئے لا الی مالک لازم آئے گا اور شریعت میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے کہ کوئی چیز مملوک بھی ہو اور اس کا کوئی مالک بھی نہ ہو۔ لہٰذا لازمی طور پر یہ کہنا پڑے گا کہ جب بائع کی ملک سے نکل آیا ہے، تو کس کے ملک میں داخل ہو گیا ہے؟ مشتری کے ملک میں داخل ہو گیا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ امام صاحب نے کیا فرمایا تھا؟ کہ مشتری کے ملک میں داخل نہیں ہوگا۔ امام صاحب فرماتے ہیں مشتری کے ملک میں داخل نہیں ہوگا بھئی، اس لیے کہ اگر یہ مشتری کے ملک میں داخل ہو جائے تو کیا ثمن ابھی بائع کے ملک میں داخل ہوئے ہیں؟ نہیں، ثمن بھی مشتری کے ملک میں ہیں، مبیع بھی مشتری کے ملک میں داخل ہو گیا اور یہ عقدِ معاوضہ ہے، اور عقدِ معاوضہ کے اندر دونوں بدلین جو ہیں، وہ ایک ہی فرد کے پاس آ جائیں گے، اور شریعت نے اس کی کوئی نظیر نہیں کہ عقدِ معاوضہ میں دونوں بدلین ایک شخص کی ملک میں جمع ہو جائیں بھئی۔ بھئی عقدِ معاوضہ کی بنیاد تو مساوات پر ہوتی ہے، ایک ایک چیز کا مالک بن رہا ہے تو دوسرا دوسری چیز کا مالک بن رہا ہے، اور یہاں تو آپ کیا کر رہے ہیں؟ دونوں ایک ہی فرد کی ملکیت میں دونوں چیزیں جمع ہو جائیں گی اور شریعت میں اس کی کوئی نظیر نہیں، کوئی نظیر نہیں ہے اس کی بھئی۔ و لا یملکہ المشتری، اور مشتری اس کا مالک نہیں بنے گا، یہ کس کا مسلک، کس کا قول ہے بھئی؟ امام ابو حنیفہ... عی اذا کان الخیار للمشتری، جب خیار مشتری کے لیے تھا، لا یملکہ المشتری عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ، تو مشتری اس کا مالک نہیں بنے گا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے، خلافاً لہما، بخلاف صاحبین کے، و ثمرۃ الخلاف تظہر فی ہذہ المسائل، اور ثمرۂ اختلاف ظاہر ہوگا ان مسائل کے اندر بھئی، ان مسائل کے اندر بھئی۔ چلیے، بس کرتے ہیں، و ہذا ہو المرام و اللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
106 approved lectures · 12 of 106