وَلَوْ بَاعَ مَوْلُودًا عِنْدَهُ ثُمَّ ادَّعَاهُ بَعْدَ بَيْعِ مُشْتَرِيهِ صَحَّ نَسَبُهُ وَرُدَّ بَيْعُهُ.
وَكَذَا لَوْ كَاتَبَ الْوَلَدَ أَوِ الْأُمَّ أَوْ رَهَنَ أَوْ آجَرَ أَوْ زَوَّجَهَا ثُمَّ ادَّعَاهُ صَحَّتِ الدَّعْوَةُ فِي حَقِّ الْأُمِّ وَالْوَلَدِ جَمِيعًا وَاسْتُنْقِذُوا وَتُسْتَنْقَذُ هَذِهِ التَّصَرُّفَاتُ وَتُرَدُّ الْجَارِيَةُ عَلَى الْبَائِعِ.
دیکھو بھئی، صورتِ مسئلہ بھئی۔
ادھر توجہ کرو بھئی، صورتِ مسئلہ یہ ہے:
ایک شخص ہے، اس کی ایک باندی ہے۔ اس کی باندی نے ایک بچے کو جنم دیا، بچے کو جنم دیا۔ پھر اس نے اس بچے کو بیچ دیا یا اس نے اس باندی کو کیا کیا؟ بیچ دیا بھئی۔
پھر آگے جو مشتری تھا، توجہ ہے بھئی؟ ایک باندی ہے، اس نے بچے کو جنم دیا ہے مالک کے پاس ہی بھئی۔ پھر اس نے آگے باندی کو بیچ دیا یا بچے کو بیچ دیا یا دونوں کو بیچ دیا۔ آگے جو مشتری ہے، اس نے پھر آگے بیع کر دی، اس نے پھر تصرف کر دیا۔ کسی بھی قسم کا تصرف کیا مثلاً بھئی، جو قابلِ نقض ہو، ایسا تصرف کیا جو قابلِ جو ختم، ٹوٹ سکے، ختم ہو سکے۔ مثلاً اس نے آگے پھر ان میں اس کو بیچ دیا۔ تو بیع ٹوٹ سکتی ہے، ختم ہو سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی بھئی؟ بیع ٹوٹ۔ یا اس نے اس کو اجرت پر دیا یعنی خدمت وغیرہ کے لیے کسی کو دیا یا کسی کے پاس رہن رکھوایا یا بھئی، اس باندی کا کسی سے کیا کروا دیا؟ نکاح۔ تو نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے طلاق کی وجہ سے۔ تو کوئی ایسا تصرف کیا جو ٹوٹ جایا کرتا ہے۔
پھر اس کے بعد اس بائع نے دعویٰ کر دیا اس بچے کا۔ بائع نے کیا کر دیا؟ دعویٰ۔ تو کہتے ہیں نسب ثابت ہو جائے گا اور مشتری نے جو بھی تصرف کیا ہے، چاہے بچے میں کیا ہے یا باندی میں کیا، وہ تصرف ختم کر دیا جائے گا، توڑ دیا جائے گا اور باندی کو کیا کیا جائے گا؟ بائع کو واپس کر دیا جائے گا؛ کیونکہ نسب ثابت ہوا، وہ امِ ولد بن گئی اور امِ ولد کا بیچنا ہی درست نہیں ہے۔ لہٰذا بائع نے بھی جو، مشتری نے بھی جو آگے تصرف کیا، وہ بھی تصرف ختم کر کے بائع کو باندی لوٹا دی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ سب کو؟
وَلَوْ بَاعَ اگر بیچا بھئی، کس کو بیچا؟ مَوْلُودًا عِنْدَهُ اس بچے کو جو اسی کے پاس پیدا ہوا ہے۔ ثُمَّ ادَّعَاهُ بَعْدَ بَيْعِ مُشْتَرِيهِ پھر اس کے، اس کا دعویٰ کر دیا۔ بیچنے والے نے اس بچے کے نسب کا دعویٰ کر دیا۔ یہ کب دعویٰ کیا؟ بَعْدَ بَيْعِ مُشْتَرِيهِ اس کے مشتری کے بیچنے کے بعد، مشتری نے بھی کیا کر دیا تھا؟ آگے اس کو بیچ دیا تھا۔ اب اس نے دعویٰ کر دیا۔ کہتے ہیں صَحَّ نَسَبُهُ نسب کیا ہے؟ صحیح ہے یعنی نسب ثابت ہو جائے گا۔ وَرُدَّ بَيْعُهُ بھئی اس نے تو آگے بیچا تھا، اس کا کیا کریں؟ کہتے ہیں اس بیع کو رد کیا جائے گا بھئی، اس بیع کو رد، توڑ دیا جائے گا۔
وَكَذَا اور اسی طرح ہے مسئلہ یعنی بیع کو، ان تصرفات کو توڑ کر واپس کیا جائے گا۔ لَوْ كَاتَبَ الْوَلَدَ اگر مشتری نے کیا کیا بچے کو؟ مکاتب بنا دیا۔ أَوِ الْأُمَّ یا ماں کو کیا بنا دیا؟ مکاتب، کیونکہ بدلِ کتابت بھی ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں ٹوٹ جاتا بھئی؟ ٹوٹ جاتا ہے بھئی، ختم ہو جاتا ہے جب کہ غلام عاجزی کا اظہار کر دے یا دونوں۔ جی۔
أَوْ رَهَنَ یا کیا کیا بھئی مشتری نے؟ رہن رکھوایا۔ کس کو رہن رکھوایا؟ بچے کو یا ماں دونوں میں سے جس کو بھی رہن رکھوا دیا۔ أَوْ آجَرَ یا اجرت پر دیا یعنی خدمت کے لیے دیا کسی کو، بچے کو دیا یا ماں۔ أَوْ زَوَّجَهَا یا اس باندی کا کیا کروا دیا؟ اس کی ماں کا نکاح کروا دیا۔
ان تمام صورتوں کے بعد ثُمَّ ادَّعَاهُ پھر بائع نے کیا کر دیا؟ دعویٰ۔ مشتری یہ تصرفات کر چکا ہے، پھر بائع نے دعویٰ کر دیا۔ کہتے ہیں صَحَّتِ الدَّعْوَةُ دعویٰ صحیح ہے فِي حَقِّ الْأُمِّ وَالْوَلَدِ جَمِيعًا ماں کے حق میں بھی اور بچے کے حق، دونوں کے حق میں دعویٰ صحیح ہے یعنی بچہ اس کا بیٹا بن جائے گا اور ماں امِ ولد بن جائے گی۔ وَتُسْتَنْقَذُ هَذِهِ التَّصَرُّفَاتُ اور اس تصرف کو کیا کر دیا جائے گا؟ توڑ دیا جائے گا۔ وَتُرَدُّ الْجَارِيَةُ عَلَى الْبَائِعِ اور باندی کو لوٹا دیا جائے گا کس پر؟ بائع پر۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
مسئلہ اسی طرح جو میں نے ذکر کیا بھئی۔ شامی وغیرہ میں یہی تفصیل بیان کی گئی ہے بھئی۔
یہاں دو تین چیزیں ذکر ہوئیں بھئی۔ تصرفات ذکر ہوئے بھئی۔ کس کے تصرفات ذکر ہوئے؟ بائع کے بعد کس نے آگے تصرفات کیے ہیں؟ مشتری نے۔ تو کتابت بھی کی ہے مشتری نے، آگے بیچا پھر مشتری نے، اجارے پر دیا مشتری نے بھئی اور نکاح کروایا مشتری نے یا رہن پر رکھوایا، رہن کے طور پر رکھوایا مشتری نے۔ سمجھ میں آیا؟
جی۔ لیکن اب آگے علامہ صدر الشریعہ ہدایہ کی عبارت ذکر کریں گے اسی مسئلے کے سلسلے میں اور پھر اس کی عبارت پر ایک اشکال ذکر کریں گے اور پھر اس کو حل کریں گے۔ کیا کریں گے؟ حل کریں گے، ایک لمبی تقریر کریں گے مولانا اور صورت بنائیں گے جس میں کتابت کی كَاتَبَ کی ضمیر لوٹائیں گے مشتری کے بجائے بائع کی طرف مولانا۔ کس کی طرف؟ بائع کی طرف لوٹا دیں گے۔ تو حالانکہ صحیح صورت یہ ہے جو شامی وغیرہ میں ذکر کی گئی۔ اگرچہ وہ صورت بھی صحیح ہے بھئی، اشکال وارد اس پر بھی نہیں ہوتا بھئی، لیکن اکثر علماء نے وہی صورت بیان کی ہے جو شامی وغیرہ میں ذکر ہے اور اس میں ضمیر مشتری کی طرف ہی لوٹائی ہے۔ دیکھیے بھئی، ہدایہ کی عبارت دیکھیے اور پھر اس پر ہونے والا اشکال دیکھیے بھئی۔
مسئلہ تو سب کو سمجھ میں آ گیا، یہی مسئلہ دیکھو: اِعْلَمْ أَنَّ عِبَارَةَ الْهِدَايَةِ هَكَذَا، كَذٰلِكَ عبارت، ہدایہ کی عبارت اس طرح ہے: وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وُلِدَ عِنْدَهُ اور جس نے بیچا ایسے غلام کو جو اسی کے پاس پیدا ہوا تھا وَبَاعَهُ الْمُشْتَرِي مِنْ آخَرَ اور مشتری نے بھی بیچ دیا کسی دوسرے آدمی کے پاس ثُمَّ ادَّعَاهُ الْبَائِعُ الْأَوَّلُ پھر دعویٰ کس نے کر دیا؟ بائعِ اول نے۔ فَهُوَ ابْنُهُ بھئی تو وہ غلام کیا ہوگا؟ بائع کا بیٹا ہوگا یعنی نسب ثابت ہو جائے گا۔ وَبَطَلَ الْبَيْعُ اور بیع کیا ہو جائے گی؟ باطل۔ لِأَنَّ الْبَيْعَ يَحْتَمِلُ النَّقْضَ اس لیے کہ بیع ٹوٹنے کا احتمال رکھتی ہے۔ وَمَا لَهُ یعنی وَمَا ثَبَتَ لَهُ بھئی، اور وہ جو ثابت ہوا ہے لَهُ کس کے لیے بھئی؟ بائع کے لیے، اور وہ چیز جو بائع کے لیے ثابت ہوئی ہے، مِنْ بیان ہے، مِنْ حَقِّ الدَّعْوَةِ یعنی دعوائے نسب کا جو حق ہے، دعوائے نسب کا جو حق ہے لَا يَحْتَمِلُ النَّقْضَ، هٰذَا ضمیر نقض کو راجع ہے، وہ نقض کا احتمال نہیں رکھتا۔ فَيَنْتَقِضُ الْبَيْعُ لِأَجْلِهِ تو ٹوٹ جائے گی بیع اس کی وجہ سے بھئی۔ اس کی وجہ سے کیا ہوگی بیع؟ ٹوٹ جائے گی۔
وَكَذٰلِكَ إِذَا كَاتَبَ الْوَلَدَ اور اسی طرح ہے بھئی إِذَا كَاتَبَ الْوَلَدَ جب مکاتب بنایا مشتری نے کس کو؟ بچے کو کیا بنا دیا؟ یہ بھی ایک تصرف تو بیع والا گزر گیا، دوسرا تصرف کی صورت کیا ہے، کیا بناتا ہے؟ مکاتب بناتا ہے۔ أَوْ رَهَنَهُ یا کیا کیا اسے؟ رہن رکھوایا۔ أَوْ آجَرَهُ یا اس کو اجرت پر دیا۔ أَوْ كَاتَبَ الْأُمَّ یا مشتری نے اس کی ماں کو کیا بنایا؟ اس صورت میں جب کہ ماں کو بھی بیچا ہو ساتھ بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ ساتھ لفظ ملا لیں بھئی۔ اس صورت میں جب کہ ماں کو بھی ساتھ بیچا ہو، تو مشتری نے ماں کو مکاتب بنا دیا۔ أَوْ رَهَنَهَا یا مشتری نے اس کی ماں جو ہے، اس کو کیا کیا؟ بطورِ رہن کے رکھوا دیا۔ أَوْ زَوَّجَهَا یا اس کا کیا کروا دیا؟ نکاح کروا دیا۔ ثُمَّ كَانَتِ الدَّعْوَةُ پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ پھر اس کے بعد دعوائے نسب ہوا۔ مشتری نے بچے کو مکاتب بنایا تھا یا رہن رکھوایا تھا یا اجرت پر دیا تھا یا یہی یا اس کی ماں جو تھی اس کو مکاتب بنایا تھا، رہن پر رکھوایا تھا یا اس کا، اس کے بعد دعویٰ ہوا تو بھی اسی طرح ہے بھئی۔ یعنی ان تصرفات کو توڑ دیا جائے گا۔ لِأَنَّ هٰذِهِ الْعَوَارِضَ تَحْتَمِلُ النَّقْضَ اس لیے کہ یہ سارے عوارض کیا ہیں؟ ٹوٹنے کا احتمال رکھتے ہیں۔ فَيَنْتَقِضُ ذٰلِكَ كُلُّهُ تو ان میں سے ہر ایک ٹوٹ جائے گا۔ وَتَصِحُّ الدَّعْوَةُ اور دعویٰ کیا ہو جائے گا؟ صحیح ہو جائے گا۔ بِخِلَافِ الْإِعْتَاقِ بخلاف کس کے؟ آزاد کرنے کے۔ بھئی گزشتہ صفحے پر آپ نے پڑھا تھا یا نہیں؟ صفحہ 228 میں بھئی، آخر سے چوتھی سطر ہے: وَبَعْدَ عِتْقِهِ رُدَّتْ دَعْوَتُهُ، مل گئی؟ کہ اگر مشتری نے بچے کو آزاد کر دیا ہے، اب اس صورت میں وہ دعویٰ کیا ہو جائے گا؟ رد ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھو اعتاق سے مراد کون سا اعتاق ہے بھئی؟ بچے کا اعتاق یا اس باندی کا اسی طرح بچے کا اعتاق مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ بچے۔ اعتاق چونکہ ٹوٹنے کا احتمال نہیں رکھتا، ایک دفعہ کسی کو آزاد کر دیا، آزادی ختم ہو سکتی ہے؟ نہیں۔ تو اعتاق ٹوٹنے کا احتمال نہیں رکھتا، اس صورت میں دعوے کو رد کر دیا جائے گا اور یہ تصرفات جو کیے تو یہ ٹوٹنے کا احتمال رکھتے ہیں، تو لہٰذا ان تصرفات کو کیا کیا جائے گا؟ توڑ دیا جائے گا۔ دعوائے نسب کو ثابت کرنے کے لیے توڑ دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو فرق کس میں بتلانا مقصود تھا؟ ایک ہے مشتری کا اعتاق اور ایک ہے مشتری کا مکاتب بنانا یا رہن رکھوانا یا اجارے پر دینا یا نکاح کروانا، ان میں کیا بتلانا مقصد ہے؟ فرق بتلانا مقصد ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو یہ صاحبِ ہدایہ کی عبارت ہے۔ بِخِلَافِ الْإِعْتَاقِ وَالتَّدْبِيرِ بخلاف کس کے؟ اعتاق اور تدبیر، مدبر بنانے کے۔ ایک دفعہ کسی کو مدبر بنا دیا، یہ بھی ٹوٹنے کا احتمال نہیں رکھتا۔ اب اس کے حقِ آزادی کو فسخ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی غلام کو مدبر بنایا ہے، اب اس نے ہر حال میں آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہی ہونا ہے۔ تو اعتاق بھی فسخ کا احتمال نہیں رکھتا اور تدبیر بھی فسخ کا احتمال جی۔ عَلٰى مَا مَرَّ بِنَا پر اس کے جو گزر گیا۔
یہ تھی صاحبِ ہدایہ کی عبارت۔ اور میں نے پوری تقریر بھی کر دی، سمجھا بھی دیا آپ کو عبارت۔ اب اس عبارت پر ایک اشکال ہوتا ہے، علامہ صدر الشریعہ وہ اشکال ذکر کریں گے اور پھر اس کا حل بتلائیں گے بھئی۔ دیکھیے بھئی، ذرا واپس آئیے۔ 229 صفحہ پھر نکالیے۔
دیکھیے بھئی، آخری تیسری سطر میں ہے: وَكَذٰلِكَ إِذَا كَاتَبَ الْوَلَدَ۔ اسی طرح اگر کیا کیا تھا بچے کو؟ مکاتب بنایا۔ اب كَاتَبَ کی ضمیر امکان ہے مشتری کو لوٹے۔ میں نے کس کو لوٹائی؟ مشتری کو۔ اسی طرح اگلے سطر میں آ رہا ہے أَوْ كَاتَبَ الْأُمَّ، اس کی ضمیر بھی میں نے کس کو لوٹائی؟ مشتری کو لوٹائی۔ سمجھ میں آیا؟ اچھا۔
تو یہاں دو ضمیریں اب یہ كَاتَبَ الولد کی ضمیر کس کو لوٹائیں اور كَاتَبَ الأم کی؟ ایک احتمال تو یہ کہ ضمیر کس کو لوٹائیں دونوں کی؟ مشتری کو۔ ایک احتمال یہ کہ كَاتَبَ الولد کی ضمیر کو لوٹائیں مَنْ کو۔ بھئی جہاں سے بات شروع ہوئی تھی کہ عبارتِ ہدایہ، ہدایہ کی عبارت اس طرح ہے: وَمَنْ بَاعَ، وَمَنْ یہ مَنْ سے کون مراد ہے؟ بائع مراد ہے، تو مَنْ کو لوٹائیں۔ تو معلوم ہوا کہ مکاتب بھی کس نے بنایا؟ بائع نے اور ماں کو مکاتب بھی کس نے بنایا؟ بائع نے بھئی۔ تو اس كَاتَبَ جو دو آ رہے ہیں اس میں دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ ضمیر کس کو لوٹائیں؟ مشتری کو اور دوسرا احتمال کہ دونوں میں ضمیر کس کو لوٹائیں؟ مَنْ کو یعنی مَنْ یعنی بائع کو لوٹائیں بھئی، مَنْ کو لوٹائیں۔ جس سے مراد بائع ہے بھئی۔
علامہ صدر الشریعہ کہتے ہیں دونوں صورتوں میں خرابی لازم آتی ہے۔ اگر ضمیر کس کو لوٹائیں؟ مشتری کو لوٹائیں دونوں کی تو بھی خرابی۔ اگر دونوں کی کس کو لوٹائیں؟ بائع کو یعنی مَنْ کو لوٹائیں تو بھی خرابی۔ پھر کیا حل ہے؟ پھر وہ حل بتلائیں گے کہ كَاتَبَ اول کی ضمیر لوٹا دو مشتری کو اور كَاتَبَ ثانی کی ضمیر لوٹا دو مَنْ کو۔ کس کو لوٹا دو؟ مَنْ کو، تو کہتے ہیں مسئلہ ٹھیک ہو جائے گا بھئی۔
اشکال اور جواب سمجھ میں آیا؟ تفصیل ابھی آگے آ رہی ہے بھئی۔ اشکال کیا ہوتا ہے؟ اگر كَاتَبَ دونوں کی ضمیر کس کو لوٹائیں؟ مشتری کو تو بھی خرابی۔ اگر دونوں کی ضمیر مَنْ کو لوٹائیں تو بھی پھر حل کیا کیا انہوں نے؟ کہ اول كَاتَبَ الولد کی ضمیر جو ہے کس کو لوٹائیں؟ مشتری کو اور كَاتَبَ الأم کی ضمیر کس کو لوٹائیں؟ مَنْ کو لوٹا دیں۔ اب مسئلہ حل ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کیسے؟ خرابی کیا آتی ہے اور اس کا حل کیا ہے؟ آگے دیکھیے بھئی۔
أَقُولُ میں کہتا ہوں، صاحبِ صدر الشریعہ، علامہ صدر الشریعہ فرما رہے ہیں: ضَمِيرُ الْفَاعِلِ فِي كَاتَبَ، فاعل کی ضمیر جو كَاتَبَ کے اندر ہے، کون سا كَاتَبَ؟ كَاتَبَ الْوَلَدَ جو پہلا كَاتَبَ ہے، إِنْ كَانَ رَاجِعًا إِلَى الْمُشْتَرِي اگر وہ کس کو راجع ہو؟ مشتری کو وَكَذَا فِي قَوْلِهِ أَوْ كَاتَبَ الْأُمَّ اور اسی طرح ماتن کے صاحبِ ہدایہ کے اس قول کے اندر أَوْ كَاتَبَ الْأُمَّ، تو دونوں كَاتَبَ کی ضمیر اگر کس کو لوٹائیں؟ مشتری کو، يَصِيرُ تَقْدِيرُ الْكَلَامِ تو تقدیرِ کلام یوں ہو جائے گی۔ یوں ہو جائے گا مسئلہ: وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا اور جس نے بیچا کس کو؟ غلام کو ایسا غلام وُلِدَ عِنْدَهُ جو کس کے پاس پیدا ہوا ہے؟ اسی کے پاس پیدا ہوا ہے۔ أَوْ كَاتَبَ الْمُشْتَرِي الْأُمَّ یا مشتری نے مکاتب بنا دیا اس کی تقدیرِ کلام یہ بن گئی یا نہیں؟ دونوں ضمیریں ہم نے كَاتَبَ کی کس کو لوٹائی تھیں؟ پیچھے بھئی عبارت نکالو ذرا۔
بھئی كَاتَبَ الأم پہ اعتراض ہو رہا ہے۔ كَاتَبَ الولد کی ضمیر مشتری کو لوٹائیں اس پہ اشکال نہیں ہوتا، لیکن كَاتَبَ الأم پہ کیا ہوتا ہے؟ اشکال۔ کیوں اشکال ہوتا ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ كَاتَبَ الأم کا ذکر آیا کہ ماں کو مکاتب بنایا اور ضمیر آپ کس کو لوٹا رہے ہیں؟ مشتری کو۔ مشتری نے اس کی ماں کو کیا بنایا؟ بھئی پیچھے ماں کے بیچنے کا ذکر ہے ہی نہیں، بیچا تو صرف کس کو ہے؟ بیٹے یعنی غلام کو صرف بیچا ہے، تو ماں اس کی کس کے پاس ہے ابھی بھی؟ بائع کے پاس۔ جب بائع کے پاس ماں ہے تو مشتری اس کو مکاتب بنا سکتا ہے؟ اعتراض سمجھ میں آیا؟ کہ ماقبل میں اگر كَاتَبَ کی ضمیر كَاتَبَ الأم کی ضمیر کس کو لوٹائیں؟ مشتری کو، تو یہ کلام درست کیوں نہیں رہتا؟ اس لیے کہ ماقبل میں غلام کی بیع کا ذکر تو ہے وَلَدَ، ماں کی بیع کا ذکر ہی نہیں بھئی۔
يَصِيرُ تَقْدِيرُ الْكَلَامِ تقدیرِ تقدیرِ کلام یوں ہو جائے گی: وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وُلِدَ لَهُ، جس نے بیچا ایسے غلام کو جو اس کے پاس پیدا ہوا ہے۔ تو دیکھو، غلام کی بیع کا ذکر ہے أَوْ كَاتَبَ الْمُشْتَرِي الْأُمَّ اور آگے مشتری کس کو بنا رہا ہے مکاتب اس کی؟ ماں کو وَهٰذَا غَيْرُ صَحِيحٍ اور یہ درست نہیں؛ لِأَنَّ الْمَعْطُوفَ عَلَيْهِ بَيْعُ الْوَلَدِ اس لیے کہ معطوف علیہ بچے کی بیع ہے لَا بَيْعُ الْأُمِّ، ماں کی بیع فَكَيْفَ يَصِحُّ قَوْلُهُ كَاتَبَ الْمُشْتَرِي الْأُمَّ
تو یہ قول کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ مشتری نے اس کی ماں کو مکاتب بنایا۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ یہ کب اشکال ہوا تھا؟ جب ہم نے كَاتَبَةَ کی دونوں زمینیں دونوں كَاتَبَةَ کی زمینیں کس کو لوٹائی تھیں؟ مشتری کو۔ وَإِنْ كَانَ رَاجِعًا إِلَى مَنْ اور اگر ضمیر کس کو راجع ہو؟ مَنْ کو فِی قَوْلِهِ وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا جو ہدایہ کی عبارت میں مَنْ آیا تھا نا مَنْ بَاعَ عَبْدًا کے اندر اس کو لوٹائیں۔ فَالْمَسْأَلَةُ مسئلہ کیا ہوگا؟ أَنَّ رَجُلًا كَاتَبَ ایک ادمی نے کیا کیا؟ پیچھے عبارت نکالو۔ كَاتَبَ الْوَلَدَ کی ضمیر بھی کس کو لوٹائیں؟ مَنْ کو اور كَاتَبَ الْأُمَّ کی ضمیر بھی کس کو لوٹائیں؟ مَنْ کو معلوم ہوا بچے کو مکاتب بنانے والا بھی کون؟ بائع اور أُمَّ کو مکاتب بنانے والا بھی کون؟ بائع کہتے ہیں ٹھیک ہے اس صورت میں بات ٹھیک ہے بائع کیا کرتا ہے؟ بیچتا نہیں ہے بلکہ کیا کر لیتا ہے؟ بچے کو مکاتب بنا دیتا ہے یا بائع کیا کرتا ہے اس کی ماں کو تو یہ بات تو ٹھیک ہے بائع بیچے بغیر ہی کیا کیا اس نے بچے کو مکاتب بنایا اور پھر دعویٰ کر دیا یا ماں کو مکاتب بنایا اور پھر کیا کر دیا؟ دعویٰ کر دیا یہ بات تو ٹھیک ہوئی لیکن آگے صاحب ہدایہ کیا فرما رہے تھے؟ بِخِلَافِ الْإِعْتَاقِ بخلاف کس کے؟ إعْتَاقِ کے تو یہاں دیکھو کتابت اور إعْتَاق کا فرق سمجھانا تھا اور کتابت کس کی ذکر ہو رہی ہے؟ کس نے کتابت کی؟ بائع نے اور ماقبل پچھلے صفحے پر إعْتَاق کس کا ذکر ہوا تھا؟ وَبَعْدَ عِتْقِهِ رُدَّتْ دَعْوَتُهُ کس کا إعْتَاق ذکر ہوا تھا؟ کس نے کیا تھا؟ وہاں إعْتَاق ذکر ہوا تھا مشتری کا اور یہاں پر کتابت کس کی ذکر ہو رہی ہے؟ بائع کی مکاتب کون بنا رہا ہے؟ ہم نے کس کو زمینیں لوٹائیں؟ بائع کو لوٹائیں مَنْ کو لوٹائیں تو کتابت ذکر ہوئی بائع کی اور پیچھے إعْتَاق کس کا ذکر ہوا تھا؟ مشتری کا تو پھر تو یہ بات درست نہیں رہتی بھئی۔ کیونکہ دونوں چیزیں الگ الگ ہوئیں حالانکہ بتلانا کیا چاہتے تھے صاحب ہدایہ کس میں فرق بتلانا چاہتے ہیں؟ إعْتَاق مشتری کا ہو اور یا کتابت کس کی ہو؟ تو ان دونوں میں فرق سمجھانا چاہتے تھے تو اس صورت میں یہ درست بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
يہی بات کریں دیکھیے تو مسئلہ یوں ہوگا کہ أَنَّ رَجُلًا كَاتَبَ مَوْلُودًا عِنْدَهُ کہ ایک شخص نے مکاتب بنایا اس غلام کو جو اس کے پاس پیدا ہوا تھا اور رَهَنَهُ اور اجرَهُ یا اس کو رہن رکھوایا یا اجرت پر دیا ثُمَّ كَانَتِ الدَّعْوَى پھر اس کے بعد اس نے کیا کیا؟ دعوئے نسب وَحِينَئِذٍ لَا يَحْسُنُ قَوْلُهُ اور اس صورت میں درست نہیں اچھا نہیں رہتا قَوْلُهُ صاحب ہدایہ کا یہ قول بِخِلَافِ الْإِعْتَاقِ بخلاف کس کے؟ إعْتَاقِ کے لِأَنَّ مَسْأَلَةَ الْإِعْتَاقِ الَّتِی مَرَّتْ اس لیے کہ وہ إعْتَاق کا وہ مسئلہ جو گزرا ہے مَا إِذَا أَعْتَقَ الْمُشْتَرِی الْوَلَدَ کہ اس صورت میں جبکہ مشتری نے کیا کیا ہے ولد کو آزاد کیا تو وہاں مشتری نے ولد کو آزاد کیا إعْتَاق مشتری ذکر ہے اور یہاں پر کتابت بائع ذکر ہے سمجھ میں آیا تو یہ اچھا نہیں رہتی کیوں اچھا نہیں رہتا کہتے ہیں لِأَنَّ الْفَرْقَ الصَّحِیحَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ إِعْتَاقِ الْمُشْتَرِی وَكِتَابَتِهِ اس لیے کہ صحیح فرق کس کے درمیان ہونا چاہیے؟ صحیح فرق یہ ہے کہ وہ ہونا چاہیے مشتری کے إعْتَاق اور اس کی کتابت کے درمیان لَا بَيْنَ إِعْتَاقِ الْمُشْتَرِی وَكِتَابَةِ الْبَائِعِ نہ کہ مشتری کے إعْتَاق اور کتابت بائع کے درمیان فرق نہیں سمجھانا مقصد بھئی إِذَا عَرَفْتَ هَذَا جب یہ آپ نے سمجھ لیا فَمَرْجِعُ الضَّمِيرِ فِي كَاتَبَ الْوَلَدَ تو ضمیر کا مرجع دوبارہ كَاتَبَ الْوَلَدَ کے اندر ہوا مشتری کس کو ہے؟ مشتری ہے اس کو ہے وَفِی كَاتَبَ الْأُمَّ اور كَاتَبَ الْأُمَّ کے اندر ضمیر کس کو راجع ہے؟ مَنْ کو فِی کون سا مَنْ؟ فِی مَنْ بَاعَ جو کس کے اندر آیا تھا؟ مَنْ بَاعَ میں آیا تھا صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ تو علامہ صدر الشریعہ کی تقریر ہے بھئی۔ یہ یہ بھی درست ہے بھئی تو باقی علماء نے کیا کیا كَاتَبَ الْأُمَّ کی ضمیر بھی کس کو لوٹا دی؟ مشتری ہی کو لوٹا دی جی بھئی۔
وَلَوْ بَاعَ أَحَدَ تَوْأَمَيْنِ وُلِدَ عِنْدَهُ مِنْ أَمَةٍ وَأَعْتَقَهُ مُشْتَرِیهِ ثُمَّ ادَّعَى الْبَائِعُ الْآخَرُ يَثْبُتُ نَسَبُهُمَا مِنْهُ وَبَطَلَ عِتْقُ الْمُشْتَرِی صورت مسئلہ یہ ہے بھئی ایک آدمی نے تَوْأَمَيْنِ بھئی تَوْأَمَيْنِ میں سے ایک کو بیچ دیا جڑواں وہ غلام تھے جڑواں غلام والا نام سمجھ میں آیا بھئی؟ جڑواں غلام لیکن تَوْأَمَيْنِ جڑواں کا ہم جو معنی کرتے ہیں جو اکٹھے پیدا ہوں وہ نہیں بھئی تَوْأَمَيْنِ کہتے ہیں کہ جن دو بچوں کی پیدائش میں چھ ماہ سے کم کا عرصہ ہو جن دو بچوں کی پیدائش میں کیا ہو؟ چھ ماہ سے کم کا عرصہ ہو وہ تَوْأَمَيْنِ کہلاتے ہیں معلوم ہوا ان دونوں کا حمل ایک ہی وقت ٹھہرا تھا کیونکہ چھ ماہ سے کم کے اندر دوسرا پیدا ہو رہا ہے اور اس دوران دوسرا حمل نہیں ٹھہر سکتا معلوم ہوا کیا ہے دونوں کا حمل اکٹھا ٹھہرا تھا ہاں ایک پہلے پیدا ہو گیا اور ایک بعد میں بھئی تو ایک آدمی کے دو تَوْأَمَيْنِ غلام تھے اس نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا بیچنے کے بعد مشتری پھر مشتری نے خریدا اور اس نے کیا کیا آگے اس کو آزاد کر دیا بعد میں بائع نے دوسرے کا دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا بیٹا ہے نسب کا دعویٰ کر دیا مولانا کیا کیا؟ کہتے ہیں بھئی وہ مشتری کا إعْتَاق باطل ہو جائے گا اور دونوں کا نسب ثابت ہو جائے گا مشتری کا إعْتَاق اور دونوں کا نصب بھئی یہ کیا بات ہوئی ابھی آپ نے کہا تھا إعْتَاق نہیں ٹوٹ سکتا اور اب آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ مشتری کا إعْتَاق کہتے ہیں بھئی یہاں ضرورت کی بنا پر اس لیے کہ جب ایک کا نسب ثابت ہو رہا ہے تو لازمی بات ہے دوسرے کا بھی نسب کیونکہ دونوں کا حمل اکٹھا ٹھہرا تھا جب ایک کا حمل ثابت ہے تو دوسرے کا بھی ثابت ہے تو دوسرے کا نسب ثابت کرنا ہے تو ضروری ہے کہ مشتری کے تصرف کو کیا کر دیا جائے؟ باطل کر دیا جائے صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وَلَوْ بَاعَ أَحَدَ تَوْأَمَيْنِ اگر کسی نے بیچا تو جڑواں میں سے تَوْأَمَيْنِ میں سے ایک کو ایسے تَوْأَمَيْنِ وُلِدَا عِنْدَهُ جو اسی کے پاس پیدا ہوئے تھے مِنْ أَمَةٍ ایک باندی سے وَأَعْتَقَهُ مُشْتَرِیهِ مشتری نے اس ایک تَوْأَمَيْنِ میں سے ایک جس کو خریدا تھا اسے آزاد کر دیا ثُمَّ ادَّعَى الْبَائِعُ الْآخَرُ پھر بائع نے دوسرے کا دعویٰ کر دیا کہ یہ میرا بیٹا ہے يَثْبُتُ نَسَبُهُمَا مِنْهُ تو دونوں کا نسب اس سے ثابت ہو جائے گا وَبَطَلَ عِتْقُ الْمُشْتَرِی اور مشتری کا عتق کیا ہوگا؟ باطل ہو جائے گا کیوں لِأَنَّ مِنْ ضَرُورَةِ ثُبُوتِ نَسَبِ أَحَدِهِمَا ثُبُوتِ نَسَبِ الْآخَرِ اس لیے بھئی کہ دونوں میں سے ایک کے نسب کے ثابت ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دوسرے کے نسب بھی ثابت ہو جائے وَتَوْأَمَانِ وِلَدَانِ اور تَوْأَمَان سے دو ایسے لڑکے ہیں بھئی دو ایسے بچے بَيْنَ وِلَادَتِهِمَا أَقَلُّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ کہ ان کی ولادت میں چھ ماہ سے کم کا عرصہ ہو وَلَوْ قَالَ لِصَبِیٍّ مَعَهُ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ثُمَّ قَالَ هُوَ ابْنِي لَمْ يَكُنْ ابْنَهُ وَإِنْ جَحَدَ زَيْدٌ بُنُوَّتَهُ اچھا بھئی صورت مسئلہ یہ ہے ایک شخص کے پاس ایک بچہ ہے غلام بھئی سمجھ میں آیا؟ ایک شخص کے پاس ایک بچہ ہے اور وہ کہتا ہے یہ بچہ غلام کی قید نہ لگاؤ بھئی ایک شخص ہے اس کے پاس ایک بچہ ہے وہ کہتا ہے یہ بچہ زَيْدٌ کا ہے پھر کہتا ہے نہیں نہیں یہ بچہ میرا ہے کہتے ہیں نہیں بھئی اب کبھی بھی اس سے نسب ثابت جب ایک مرتبہ اس نے زَيْدٌ کے بارے میں نسب کا بات کر دی اب اس سے کبھی بھی نسب ثابت چاہے زَيْدٌ بعد میں آکر انکار بھی کر دے اور کہے ہاں واقعی یہ میرا بچہ نہیں لیکن نہیں بھئی مولانا دعویٰ نسب رد کرنے سے رد نہیں ہوتا مولانا تو اس نے خود ہی کہا تھا زَيْدٌ کا بچہ لہذا اب اس کا یہ دعویٰ کبھی بھی رد جب یہ دعویٰ رد نہیں ہو سکتا تو اب بچے کا اس سے خود نسب ثابت نہیں ہو سکتا یہ معنی ہے وَلَوْ قَالَ لِصَبِیٍّ لَّامَ بِمَعْنَى عَنْ کے ہے بچے سے نہیں کہا بچے کے بارے میں کہا کیا کہا؟ وَلَوْ قَالَ لِصَبِیٍّ تو لَّامَ بِمَعْنَى عَنْ کے ہے اگر کہا کسی شخص نے لِصَبِیٍّ ایسے بچے کے بارے میں مَعَهُ ہو جو اسی کے پاس ہے کیا کہا هُوَ ابْنُ زَيْدٍ یہ کس کا بیٹا ہے؟ زَيْدٌ کا ثُمَّ قَالَ پھر کہتے ہیں نہیں نہیں هُوَ ابْنِي یہ تو میرا بیٹا ہے لَمْ يَكُنْ ابْنَهُ تو وہ بچہ کبھی بھی اس کا یہ بچہ اس کا بیٹا نہیں ہوگا وَإِنْ جَحَدَ زَيْدٌ بُنُوَّتَهُ اگرچہ زَيْدٌ اس کے بیٹا ہونے کا کیا کر دے انکار بھی کر دے ہَذَا عِنْدَ أَبِی حَنِیفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ یہ امام اعظم أَبُو حَنِیفَةَ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے وَعِنْدَهُمَا اور صاحبین کے نزدیک إِنْ جَحَدَ زَيْدٌ اگر زَيْدٌ انکار کرتا ہے بُنُوَّتَهُ اس کے بیٹا ہونے کا يَصِیرُ ابْنًا لِلَّذِی فِی يَدِهِ الصَّبِیُّ تو اس شخص کا بیٹا بن جائے گا جس کے قبضے میں وہ بچہ ہے کیونکہ اس نے خود کیا کہا کہ یہ میرا بچہ ہے تو جب زَيْدٌ نے انکار کر دیا تو اب اس کا بچاؤ بن جائے گا لِأَنَّ الْإِقْرَارَ فِي النَّسَبِ يَرْتَدُّ بِالرَّدِّ اس لیے کہ نسب کے اندر جو اقرار ہوتا ہے وہ رد کرنے سے رد ہو جاتا ہے رد کرنے سے جب امام صاحب کے نزدیک نسب میں جو اقرار ہے وہ رد کرنے سے رد نہیں ہوتا وَلَهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ ان النسب مما لا يحتمل النقص نسب ان چیزوں میں سے ہے جو ٹوٹنے کا احتمال نہیں رکھتے وَالْإِقْرَارُ بِمِثْلِهِ بِمِثْلِهِ کی ضمیر یاد رکھنا ماں کو راجع ہے مِمَّا بِمِثْلِهِ کی ضمیر کس کو راجع ہے ماں اور اقرار کرنا اس قسم کی چیزوں کا یعنی جو ٹوٹنے کا احتمال نہیں رکھتے لَا يَرْتَدُّ بِالرَّدِّ یہ رد کرنے سے رد نہیں وہ چیزیں جو ٹوٹنے کا احتمال نہیں رکھتی وہ رد کرنے سے رد جیسے ہمارا نا دعویٰ نسب بھی ان چیزوں میں سے ہے جو ٹوٹنے کا احتمال اور جو چیزیں ٹوٹنے کا احتمال نہیں رکھتی ان کا اقرار بھی رد کرنے سے رد نہیں ہوتا
وَلَوْ كَانَ مَعَ مُسْلِمٍ وَكَافِرٍ صَبِیٌّ اگر ایک مسلمان اور کافر کے پاس ایک بچہ ہے بھئی فَقَالَ الْمُسْلِمُ هُوَ عَبْدِی صورت مسئلہ یہ ہے بھئی ایک بچہ ہے اس کے بارے میں ایک کافر بھی مدعی ہے ایک مسلمان بھی مدعی ہے مسلمان کہتا ہے یہ میرا غلام ہے کافر کہتا ہے یہ میرا بیٹا ہے فرق سمجھ میں آرہا ہے دعوے میں مسلمان کیا کہتا ہے یہ میرا غلام ہے اور کافر کہتا ہے یہ میرا بیٹا ہے تو کہتے ہیں بھئی تو وہ کافر کا بیٹا شمار ہوگا کیونکہ ہم وہ صورت اختیار کریں گے جس میں بچے کی بہتری ہو بھلائی ہو اور زیادہ بھلائی اس اس میں ہے کہ اسے کافر کا بیٹا شمار کیا جائے کیونکہ اس صورت میں اس کو آزادی مل جاتی ہے بھئی کافر آزاد ہے تو بیٹا بھی لازمی بات ہے کیا شمار ہوگا؟ جبکہ مسلمان تو کیا کہہ رہا ہے میرا غلام ہے تو مسلمان کے پاس آتا ہے تو اگرچہ اب اسے دین اسلام اس وقت حاصل ہو رہا ہے لیکن آگے چل کر اسے آزادی اس کے اختیار میں ہے وہ پھر آزادی حاصل کر سکتا ہے آزادی حاصل نہیں کر سکتا تو اسلام تو اگرچہ اسے حاصل ہو جائے گا لیکن اسے آگے چل کر آزادی حاصل ہونا اس کے اپنے اختیار میں نہیں لیکن کافر کے پاس جب جاتا ہے تو اسے فی الحال کیا حاصل ہو جاتی ہے آزادی حاصل ہو جاتی ہے اگرچہ ابھی اسلام تو حاصل نہیں ہوا اسے لیکن کہتے ہیں کوئی حرج نہیں اسلام کی نشانیاں بڑی واضح ہیں بھئی بڑی ظاہر ہیں تو بالآخر اسے کیا خود بخود غور کرے گا تو کیا حاصل ہو جائے گا اسلام تو کافر کے پاس جاتا ہے تو آزادی فی الحال اور اسلام بالاعتبار انجام کے آگے چل کر اسے حاصل ہو جائے گا لیکن اگر مسلمان کا غلام قرار دے دیں تو اسلام تو اسے حاصل ہوتا ہے لیکن آزادی پھر اسے حاصل تو وہاں دونوں چیزیں اسے حاصل ہونے کا امکان وَلَوْ كَانَ مَعَ مُسْلِمٍ وَكَافِرٍ صَبِیٌّ اگر صاحب مسلمان اور کافر کے پاس ایک بچہ فَقَالَ الْمُسْلِمُ هُوَ عَبْدِی مسلمان کہتا ہے وہ میرا غلام ہے وَقَالَ الْكَافِرُ هُوَ ابْنِی کافر کہتا ہے میرا بیٹا ہے هُوَ حُرٌّ ابْنُ الْكَافِرِ تو وہ کیا ہے وہ آزاد ہے کافر کا بیٹا ہے ابْنُ لِلْكَافِرِ لِأَنَّهُ يَنَالُ الْحُرِّيَّةَ فِي الْحَالِ کافر کا بیٹا کیوں کہتے ہیں اس لیے کہ وہ پا لے گا آزادی کو فی الحال وَالْإِسْلَامَ فِي الْمَالِ اور اسلام کو پا لے گا اعتبار مال کے بھئی جی انجام کے طور پر بھئی اِذْ دَلَائِلُ الْوَحْدَانِيَّةِ ظَاهِرَةٌ اس لیے کہ اللہ کی توحید کی دلائل کیا ہیں خوب ظاہر ہیں تو اسے خود پتہ چل جائے گا وَفِی عَكْسِهِ اور اس کا اگر عکس کریں ہم بھئی یعنی مسلمان کے لیے اسے غلام قرار دے دیں تو يَثْبُتُ الْإِسْلَامُ بِتَبَعِيَّةٍ تو اسلام اس کو ثابت ہوگا طبعا ثابت ہو جائے گا بھئی اصل سمجھ میں آیا آقا چونکہ مسلمان ہے تو اسے بھی یہ بھی کیا ہوگا؟ وَيَحْرُمُ عَنِ الْحُرِّيَّةِ اور محروم رہے گا کس سے؟ آزادی سے محروم رہے گا وَلَيْسَ فِي وُسْعِهِ اكْتِسَابُهَا یہ بھی کی کتابت کی غلطی نون اوپر لکھا ہوا ہے بھئی اِكْتِسَابُهَا لفظ ہے اور اس کے وسعت میں نہیں ہے اِكْتِسَابُهَا اِی اِكْتِسَابَ الْحُرِّيَّةِ کہ وہ کس کو حاصل کر لے حریت کو صورت سمجھ میں آگئی
وَلَوْ قَالَ زَوْجُ امْرَأَةٍ لِصَبِیٍّ مَعَهُمَا هُوَ ابْنِی مِنْ غَيْرِهَا وَقَالَتْ هُوَ ابْنِی مِنْ غَيْرِهِ فَهُوَ ابْنُهُمَا صورت مسئلہ یہ ہے بھئی میاں بیوی ہیں ان کے پاس ایک بچہ ہے بچہ ہے جو بول نہیں سکتا تعبیر نہیں کر سکتا بیوی کہتی ہے یہ میرا بچہ ہے لیکن اس خاوند سے نہیں ہے میرے پچھلے خاوند سے ہے خاوند کہتا ہے یہ میرا بیٹا ہے لیکن اس بیوی سے نہیں ہے بلکہ پچھلی بیوی سے ہے یا دوسری بیوی سے ہے صورت سمجھ میں آگئی تو کہتے ہیں بھئی دونوں کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ دونوں کا بیٹا شمار ہوگا کس کا؟ یعنی یہی دونوں اس کے ماں باپ ہیں صورت سمجھ میں آگئی یہ معنی وَلَوْ قَالَ زَوْجُ امْرَأَةٍ اگر کہا عورت کے خاوند نے لِصَبِیٍّ ایسے بچے کے بارے میں مَعَهُمَا جو ان دونوں کے پاس ہے هُوَ ابْنُ مِنْ غَيْرِهَا یہ میرا بیٹا ہے مِنْ غَيْرِهَا مِنْ غَيْرِهِ اس عورت کے علاوہ سے وَقَالَتْ اور عورت کہتی ہے هُوَ ابْنُ مِنْ غَيْرِهِ وہ میرا بیٹا ہے اس خاوند کے علاوہ سے فَهُوَ ابْنُهُمَا تو وہ ان دونوں کا بیٹا ہے وَلَوْ ولدت أمة مشترات ودع المشتري الولدا صورت مسئلہ یہ ہے بھئی ایک آدمی نے باندی خریدی اچھا بھئی باندی خریدنے کے بعد مشتری کے پاس باندی باندی نے ایک بچے کو جنم دیا بھئی اور مشتری کہتا ہے یہ میرا بچہ ہے یہ میرا بچہ ہے بھئی پھر بھئی کچھ عرصے کے بعد ایک تیسرے آدمی نے دعویٰ کر دیا بھئی یہ تو میری باندی ہے باندی کا کوئی اور مستحق نکل باہر آیا بھئی بینہ سے ثابت ہو گیا بھئی تو کہتے ہیں باندی اس مالک کو لوٹا دی جائے گی اور یہ جو بچہ تھا یہ مشتری کے پاس ہی رہے گا آزاد ہے لیکن اس کے عوض میں مشتری کو اب اس کی قیمت دینی پڑے گی۔
کیا دینی پڑے گی؟ کیونکہ یہ بچہ کس سے پیدا ہوا ہے؟ اس باندی سے پیدا ہوا ہے تو لہذا یہ بچہ بھی کیا ہونا چاہیے تھا؟ مستحق کی مہر میں زیادتی ہوئی ہے اسی میں کیا اسی کو کیا ہونا چاہیے تھا؟ واپس ہونا چاہیے تھا لیکن بائع چونکہ اس کا دعویٰ کر چکا ہے تو یہ آزاد ہو چکا ہے لہذا بائع مانع بن گیا اس کی واپسی میں بائع مانع بنا یا نہیں بنا اس کی واپسی میں؟ تو لہذا اب مانع بنا تو اس کی قیمت دینی پڑے گی بھئی کیا دینی پڑے گی؟ باندی تو وہ لے گیا بھئی اور قیمت دینی پڑے گی پھر کہتے ہیں پھر یہ مشتری پھر رجوع کرے گا اپنے بائع پر جس نے اسے دھوکے سے باندی بیچی تھی تو جا کر اس سے سے باندی کے ثمن بھی لے گا، کیونکہ باندی تو وہ لے گیا۔ اور بچے کے عوض وہ کیا لے گیا؟
بھئی، باندی کے ثمن bباندی کس ثمن کے بدلے خریدی تھی اس نے اور باندی تو مستحق لے گیا، تو اب یہ ثمن اس کے کس سے واپس جا کر وصول کر لے مشتری؟ بائع سے۔ اور وہ کیا لے کر گیا ہے ساتھ بچے کی؟ تو قیمت بھی کس سے لے کر جا کس سے جا کر وصول کر لے گا؟ بائع سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہیں: وَلَوْ وَلَدَتْ اگر جنم دیا أَمَةٌ ایسی باندی نے مُشْتَرَاةٌ جسے خریدا گیا تھا وَادَّعَى الْمُشْتَرِي الْوَلَدَ اور مشتری نے بچے کا دعویٰ بھی کر دیا ثُمَّ اسْتُحِقَّتْ پھر اس باندی کا استحقاق نکل آیا، کوئی اس کا مستحق نکل آیا غُرِّمَ الْأَبُ تو باپ کو کیا کیا جائے گا؟ باپ سے ضمان لیا جائے گا قِيمَةَ الْوَلَدِ کس کا؟ بچے کی قیمت کا۔ کون سی قیمت بھئی؟ کہتے ہیں يَوْمَ يُخَاصِمُ جس دن کیا ہوئی ہے؟ خصومت، جس دن اس مستحق نے دعویٰ کیا بھئی قاضی کے پاس بھئی اس دن والی بچے کی قیمت کا اعتبار ہے، پہلے یا بعد والی کا اعتبار نہیں ہے۔
وَهُوَ حُرٌّ اور بچہ کیا ہوگا؟ آزاد ہوگا۔
تکیے اب تفصیل بتلا رہے ہیں: أَيْ وَلَدَتْ أَمَةٌ مُشْتَرَاةٌ جنم دیا ایسی باندی نے جسے خریدا گیا تھا وَادَّعَى الْمُشْتَرِي الْوَلَدَ اور مشتری نے بچے کا دعویٰ کر دیا ثُمَّ اسْتُحِقَّتِ الْأُمُّ پھر ماں کا استحقاق نکل آیا، کوئی اس کا مستحق نکل آیا فَالْوَلَدُ حُرٌّ تو بچہ کیا ہوگا؟ باندی تو وہ لے گیا، بچہ آزاد ہوگا۔
وَيَضْمَنُ الْأَبُ اور باپ ضامن ہوگا۔ باپ کون بھئی؟ وَهُوَ الْمُشْتَرِي وہ کون ہے؟ بھئی کس چیز کا ضامن ہوگا؟ قِيمَةَ الْوَلَدِ بچے کی لِلْمُسْتَحِقِّ کس کے لیے؟ ان مستحق کو دے گا۔ کیوں؟ کہتے ہیں لِأَنَّ وَلَدَ الْمَغْرُورِ حُرٌّ بِالْقِيمَةِ اس لیے کہ مغرور کا جو بچہ ہے، وہ آزاد ہوتا ہے قیمت کے عوض میں۔
اردو والا مغرور نہیں مراد مولانا، مغرور سے مراد دھوکہ دیا ہوا۔ اس آدمی کو بھی کیا دیا گیا تھا؟ دھوکہ دیا گیا تھا۔ تو یہ ولدِ مغرور ہوا، اور ولدِ مغرور جو ہے، وہ حر ہوتا ہے کس کے عوض میں؟ یہ بالاجماع ہے یہ مسئلہ کہ جو ولدِ مغرور ہو، وہ کیا ہوتا ہے؟ حر ہوتا ہے کس کے عوض میں؟ یعنی قیمت دینی پڑتی ہے وہاں پر۔ وہ بچہ تو آزاد ہی ہوتا ہے، لیکن قیمت دینی پڑتی ہے۔ بھئی مغرور سے کیا مراد ہے؟ خود بتلا رہے ہیں: وَالْمُرَادُ بِالْمَغْرُورِ اور مراد مغرور سے مراد رَجُلٌ وہ آدمی ہے وَطِئَ امْرَأَةً جس نے ایک عورت سے وطی کی مُعْتَمِدًا عَلَى مِلْكِ يَمِينٍ أَوْ نِكَاحٍ اعتماد کرتے ہوئے ملکِ یمین پر یا ملکِ... بھئی مشتری نے جو اس عورت سے وطی کی تھی اور اس سے بچہ پیدا ہوا، اس نے اعتماد کس پر کیا تھا کہ یہ میری ملکِ یمین، میری اپنی باندی ہے۔ تو تو جو عورت سے وطی کرتا ہے وہ شخص اعتماد کرتے ہوئے ملکِ یمین یا ملکِ نکاح پر فَوَلَدَتْ پھر وہ عورت کیا کرتی ہے ایک بچے کو جنم دیتی ہے ثُمَّ اسْتُحِقَّتْ پھر کیا ہوتا ہے اس کا استحقاق نکل آتا ہے، تو یہ مغرور کہلاتا ہے۔ یہ کیا ہوا شخص؟ تو اور بچہ کیا کہلاتا ہے؟ ولدِ مغرور۔
بھئی وَإِنَّمَا سُمِّيَ مَغْرُورًا اس کو مغرور اس لیے کہتے ہیں لِأَنَّ الْبَائِعَ غَرَّهُ کیونکہ غَرَّ کا معنیٰ ہے دھوکہ دینا، اس لیے کیونکہ بائع نے اس کو دھوکہ دیا وَبَاعَ مِنْهُ جَارِيَتَهُ لَمْ تَكُنْ مِلْكًا لَهُ اور بیچی منہ یعنی من المشتری اس مشتری کے ہاتھ پر کیا بیچی؟ جاریتہ ایسی جاریہ بیچی لم تکن ملکا لہ جو اس کی اپنی ملکیت... بائع نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا اور اس کو ایسی باندی بیچی جس کا بائع مالک نہیں تھا۔
جی، تو اس لیے اس کو مغرور کہتے ہیں، اس کو تسمیہ مل گیا چونکہ، دھوکہ کیا گیا اس کے ساتھ۔ وَيُعْتَبَرُ قِيمَةُ الْوَلَدِ اور اعتبار کیا جائے گا بچے کی قیمت کا، کون سی قیمت کا؟ يَوْمَ الْخُصُومَةِ خصومت والے دن کا۔
فَإِنْ مَاتَ الْوَلَدُ اگر بچہ مر گیا بھئی... بھئی صورت وہی بناؤ: ایک شخص نے ایک باندی کو خریدا، خریدنے کے بعد اس سے وطی کی، اس سے بچہ پیدا ہوا، اس نے دعویٰ کر دیا یہ بچہ میرا ہے۔ ابھی دعوائے استحقاق نہیں ہوا تھا کہ بچہ مر گیا۔ اب کیا ہوا دعوائے استحقاق، تو باندی تو واپس کی جائے گی لیکن کیا بچے کا ضمان دینا پڑے گا؟ کہتے ہیں نہیں، بچے کا ضمان... کیوں نہیں دینا پڑے گا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ پہلے بچے کی واپسی میں مانع کس کا فعل تھا؟ مشتری کا فعل تھا، اس نے کہا تھا یہ میرا بچہ ہے، تو وہ آزاد شمار ہوا اور اسے اب واپس نہیں کیا، تو وہاں مانع کس کی طرف سے آیا تھا؟ اور یہاں پر بچہ مر گیا تو اب مانع مشتری کی طرف سے نہیں ہے گویا۔
فَإِنْ مَاتَ الْوَلَدُ فَلَا شَيْءَ عَلَى أَبِيهِ اگر بچہ مر گیا تو اس باپ پر کوئی چیز نہیں ہے لِعَدَمِ الْمَنْعِ مِنْهُ اس لیے کہ منع اس کی طرف سے نہیں ہے وَتَرِكَتُهُ لَهُ اور اس بچے کا ترکہ کس کا ہوگا؟ بچے کو اگر مال کسی نے دے دیا تھا، وصیت کر دی، بچے کو مال بھی مل گیا تھا، اب اس کا ترکہ کسے ملے گا؟ کہتے ہیں فَتَرِكَتُهُ لَهُ أَيْ لِلْمُشْتَرِي أَوْ لِلْأَبِ ترکہ کس کو ملے گا اس کے؟ باپ کو ملے گا لِأَنَّهُ حُرُّ الْأَصْلِ اس لیے کہ وہ بچہ کیا ہے؟ حر الأصل ہے۔ تو اس ترکے میں مولا کا حق نہیں ہے بھئی، وہ باندی کے مالک کا حق نہیں ہے۔
فَإِنْ قَتَلَهُ أَبُوهُ أَوْ غَيْرُهُ اگر اس بچے کو قتل... یہ تو صورت تھی پہلی کہ خود مر گیا، اگر اس کو قتل کر دیا اس کے باپ نے یا باپ کے علاوہ نے، اس صورت میں بھی غُرِّمَ الْأَبُ قِيمَتَهُ تو باپ کے ضمان آئے... ضامن بنایا جائے گا اس کی قیمت کا۔ صورت سمجھ میں آئی؟
کیونکہ یہاں پر بھی اگر باپ نے قتل کیا ہے تو مانع کون بنا بھئی؟ باپ کا فعل۔ اگر کسی اور نے قتل کیا تو... تو اس سے دیت وصول کی جائے گی۔ کیا وصول کی جائے گی؟ دیت وصول کی جائے گی۔ اور دیت وصول کی جائے گی بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو وہ دیت یا تو دینی پڑے گی... تو اور دیت میں مانع کس کی طرف سے آ گیا؟ بھئی دیت کس کا مستحق کون ہوا؟ باپ ہوا، تو جب بچہ قتل ہوا، بچے کے عوض باپ کو کیا مل گئے؟ دیت، تو دیت بھی اس بچے کے حکم میں ہے۔ یہ اس کا بدل ہے، یہ کیا ہے؟ تو یہ اس کا بدل ہے، اسی کی طرح حکم ہے، اور اس... یہ بدل کس کو ملا؟ باپ کو، تو باپ اس کا مستحق، تو گویا باپ اس بدل کو جب روک رہا ہے تو گویا کس کو روک رہا ہے؟ بچے کو، اور جب بچے کو روکنے والا ہے باپ کے فعل کا دخل آیا، تو اس صورت میں کیا آیا کرتی تھی؟ قیمت آتی تھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
وَيَرْجَعُ بِهَا اور رجوع کرے گا بہا یعنی بالقیمۃ، اس بچے کی قیمت کے ساتھ، کون رجوع کرے گا؟ اس کا باپ كَثَمَنِهَا جیسے کس کے ساتھ رجوع کرتا تھا؟ اس کے ثمن کے ساتھ رجوع کرتا تھا عَلَى بَائِعِهِ بھئی، کس پر رجوع کرے گا؟ اس کے بائع پر۔
بھئی يَرْجَعُ بِهَا، ھا ضمیر کس کو راجع؟ قیمت۔ كَثَمَنِهَا، ھا ضمیر کس کو راجع؟ باندی کو بھئی، کس کو راجع؟ امۃً کو۔ جیسے باندی کے ثمن میں رجوع کرے گا، اسی طرح بچے کی... بھئی باندی لے گیا مستحق لے گیا، تو اس کے ثمن لے گیا یا نہیں واپس؟ اسی طرح بچے کے کیا دینے پڑے؟ قیمت دینی پڑی، تو اس کی قیمت کا بھی رجوع کرے گا جیسے کہ باندی کے ثمن کا رجوع کرے گا عَلَى بَائِعِهِ کس پر؟ بائع پر۔ لَا بِالْعُقْرِ بھئی عقر کے ساتھ رجوع نہیں کرے گا بھئی۔ عقر کسے کہتے ہیں؟ جانتے ہو؟ مہر کو کہتے ہیں، عقر کسے کہتے ہیں؟ مہر، لیکن ہر مہر کو عقر نہیں کہتے، وہ مہر اس عورت کا مہر جس سے شبہے کے اندر وطی کر لی جائے، وہ عقر کہلاتا ہے۔
عقر کسے کہتے ہیں مولانا؟ اس عورت کا مہر جس سے شبہے میں وطی کر لی جائے، وہ عقر کہلاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی بھئی اس مشتری نے اس باندی سے وطی کی تھی اور کس شبہے میں کی تھی کہ یہ میری اپنی... کہ میں نے خریدی ہے، میری باندی ہے، حالانکہ وہ تو باندی بائع کی تھی نہیں، تو اس کی بھی نہ ہوئی، وہ تو غیر کی باندی تھی بھئی۔ تو اب اس میں چونکہ وطی کی تو مہر بھی اس کا دینا پڑے گا، لیکن اس مہر یہ جو عقر د... دینا پڑے گا اس کو، تو تین چیزیں دینی پڑیں گی، کیا؟ بچے کی قیمت بھی دے گا اور باندی کے... باندی بھی دے دی اس نے، بچے کی قیمت بھی دے دی اور ساتھ کیا دینا پڑے گا؟ عقر بھی دینا پڑے گا، کیونکہ اس نے کیا کیا ہے؟ باندی سے وطی کی ہے، تو عقر بھی دینا پڑے گا، لیکن اس عقر کے ساتھ وہ مشت... بائع پر اپنے رجوع نہیں کرے گا بھئی۔
بھئی عقر کیا ہوگا؟ کتنا مہر دے گا؟ بھئی اگر آزاد عورت ہو، اس کے ساتھ شبہے میں وطی کر لے، تو وہاں پر مہرِ مثل آیا کرتا ہے، کیا آتا ہے؟ مہرِ مثل بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور اگر باندی ہو، تو باندی کو دیکھا جائے گا کہ وہ باکرہ تھی یا ثیبہ۔ اگر باکرہ تھی، تو اس کا عقر ہے عشر بھئی، قیمت کا دسواں حصہ۔ اور اگر وہ ثیبہ تھی، تو نصفِ عشر ہے، قیمت کا نصفِ عشر یعنی بیسواں حصہ بھئی، کتنا حصہ؟ تو باکرہ تھی تو دسواں حصہ اور ثیبہ تھی تو بیسواں حصہ بطورِ مہر کے دینا پڑے گا، لیکن یاد رکھنا یہ دسواں یا بیسواں حصہ 10 درہم سے کم نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ 10 درہم سے کم مہر نہیں ہوا کرتا، تو اگر اس سے کم بھی ہو جائے پھر بھی کتنا دینا پڑے گا؟ 10 دینا پڑے گا۔
تو وَيَرْجَعُ تو وہ رجوع کرے گا اس کی قیمت اور اس کے جیسے کہ اس کے ثمن کے ساتھ بائع پر، لَا بِالْعُقْرِ نہ کہ عقر... مہر کے ساتھ رجوع نہیں کرے گا أَيْ إِنْ قَتَلَهُ الْأَبُ اگر باپ اس کا اس کو قتل کر دے يَضْمَنْ قِيمَتَهُ لِلْمُسْتَحِقِّ تو باپ ضامن ہوگا اس بچے کی قیمت کا مستحق کے لیے وَكَذَا إِنْ قَتَلَهُ غَيْرُهُ اور اسی طرح ہے مسئلہ اگر اس بچے کو اس باپ کے علاوہ کوئی اور قتل کر دے فَأَخَذَ الْأَبُ دِيَتَهُ پھر باپ نے کیا کی؟ اس کی دیت لے لی فَإِنَّ الدِّيَةَ بَدَلٌ لَهُ تو دیت کیا ہے؟ باپ کے لیے بچے کا بدل ہے فَسَلَامَةُ الْبَدَلِ لِلْأَبِ كَسَلَامَةِ الْوَلَدِ تو باپ کو سلامتِ بدل اسی طرح ہے جیسے سلامتِ... پورے بدل مل جانا اسی طرح ہے جیسے پورا بچہ ہے بھئی۔
ثُمَّ مَنْعُ الْبَدَلِ مِنَ الْمُسْتَحِقِّ پھر اس بدل کو روکنا کس سے؟ مستحق سے كَمَنْعِ الْوَلَدِ یہ کس کی طرح ہے؟ بچے کے روکنے کی طرح ہے، اور بچے کے روکنے میں کیا آتی تھی؟ قیمت، تو دیت کے روکنے میں بھی کیا آئے گی؟ قیمت آئے گی۔ وَفِيهِ الْقِيمَةُ اور اس میں قیمت آئے گی وَيَرْجَعُ بِالْقِيمَةِ عَلَى الْبَائِعِ اور رجوع کرے گا قیمت کے ساتھ بائع پر كَمَا يَرْجَعُ بِثَمَنِهَا جیسے کہ باندی کے ثمن کے ساتھ رجوع کرتا ہے وَلَا يَرْجَعُ بِالْعُقْرِ الَّذِي أُخِذَ مِنْهُ الْمُسْتَحِقُّ اور رجوع نہیں کرے گا اس عقر کے ساتھ جو اس... جو اس سے مستحق نے لے لیا لِأَنَّهُ بَدَلُ اسْتِيفَاءِ مَنْفَعَةِ الْبُضْعِ اس لیے کہ یہ بدل ہے... یہ عقر بھئی عقر کیوں نہیں؟ عقر کے ساتھ رجوع کیوں نہیں کرے گا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ عقر کا عوض یہ حاصل کر چکا ہے، کون حاصل کر چکا ہے؟ بھئی مشتری سے عقر لیا گیا، لیکن اس عقر کا عوض کیا ہے وہ حاصل کر چکا ہے اور وہ منافعِ بضع ہیں۔ لِأَنَّهُ بَدَلُ اسْتِيفَاءِ مَنْفَعَةِ الْبُضْعِ اس لیے کہ بضع کے منافع کا استیفاء کا معنیٰ حاصل کرنا، وصول کرنا، کیونکہ اس نے جو بضع کے منافع وصول کیے ہیں، یہ ان کا بدل ہے۔
چلیے مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ