کتاب الصرف ہو بیع ثمن بالسمن جنسا بجنس او بغیر جنس کبیع الذہب بالذہب وبیع الفضۃ بالفضۃ وبیع الذہب بالفضۃ جی آج کتاب، بیع الصرف کے بارے میں ہم پڑھیں گے۔ بیع الصرف کے اندر بھئی جانبین سے عوض جو ہے وہ ثمن کے قبیل سے ہوتے ہیں بھئی۔
یعنی سونا، چاندی، پیسے، کرنسی دونوں طرف انہی میں سے کوئی چیز ہوگی۔ دونوں طرف سونا، دونوں طرف چاندی، دونوں طرف کرنسی یہ ایک طرف کرنسی، ایک طرف سونا، ایک طرف سونا، دوسری طرف چاندی یہ ساری کس کی صورتیں ہیں؟ بیع صرف کی صورتیں۔
بیع صرف تو یہاں پر جب جنس کے بدلے میں جنس آئے یعنی دونوں طرف ایک ہی جنس ہو بھئی تو اس صورت میں زیادتی جائز نہیں ورنہ کیا لازم آئے گا؟ ربا لازم آئے گا۔ ہاں اگر جنس بدل جائے سونے کے بدلے چاندی ہو تو پھر کمی بیشی کرنا جائز ہے۔ جائز۔
لیکن ادھار یہاں جائز نہیں اس لیے کہ اس کے اندر عقد کے، اس عقد میں مجلس کے اندر ہی عوضین پر قبضہ شرط ہے بھئی۔ اگر کسی ایک عوض پر یا دونوں میں سے کسی پر قبضہ نہ ہوا تو عقدِ صرف کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا۔
کتاب الصرف، ہو بیع الثمن بالسمن، وہ بیع بیچنا ہے ثمن کو ثمن کے بدلے میں جنسًا بجنسًا جنس کے بدلے جنس ہو او بغیر جنسین یا جنس کے بدلے غیر جنس ہو یعنی دوسری جنس ہو کبیع الذہب بالذہبی یہ مثال کس کی ہے؟ جنس کے بدلے جنس ہے بھئی سونے کے بدلے سونا بیچا وبیع الفضۃ بالفضۃ اور چاندی کو بیچنا چاندی کے بدلے میں وبیع الذہب بالفضۃ یہ کس کی مثال ہے؟
غیر جنس کے بھئی سونے کو چاندی کے بدلے بیچنا وشُرط فیہ التقابض قبل الافتراق اور شرط لگائی گئی ہے اس عقدِ صرف کے اندر التقابض تفاعل باب ہے جانبین سے فعل کو چاہتا ہے جانبین سے قبضہ پایا جائے قبل الافتراق جدا ہونے سے پہلے دونوں عوضوں پر قبضہ ضروری ہے وصح بیع الذہب بالفضۃ بفضل وجزاف اور صحیح ہے بھئی بیع سونے کی چاندی کے بدلے میں بفضل وجزاف زیادتی کے ساتھ بھی جائز و جزاف اور اندازے کے ساتھ بھی جائز بھئی سمجھ میں آرہی ہے بھئی جنس دونوں طرف ایک نہیں ہے تو پھر مساوات شرط نہیں ہے تو پھر چاہے اندازے سے بیعو چاہے زیادتی کے ساتھ۔
لا بیع الجنس بالجنس الا مساویًا ای لا یصح صحیح نہیں ہوگی جنس کے بدلے جنس کی بیع مگر برابری کے ساتھ یعنی وہاں مساوات شرط ہے بھئی وان اختلفا جودۃ و سیاغتًا اگرچہ دونوں مختلف ہوں بھئی۔
بھئی ایک جنس دونوں طرف ایک ہے لیکن چاہے جودت یعنی کھرے پن میں، عمدہ ہونے میں مختلف ہوں بھئی ایک طرف سونا ہے اعلی قسم کا دوسری طرف ہے، یا یوں کہیں ایک طرف ہیں دینار اعلی قسم کے دوسری طرف دینار ہیں کچھ کم اتنے کھرے نہیں ہیں واسیاغتًا سیاغت کہتے ہیں بھئی ڈھلائی، ڈھلائی۔
وہ جو بنا، یوں کہیں بنائی ان کی کہہ لیں بھئی۔ تو وہ چاہے ان کی ڈھلائی جو ہے یا ان کی جو کیا کہیں زرگری کہہ دیں بھئی جو بنانے، کیا کیا جاتا ہے سونے، چاندی وغیرہ کو مختلف صورتوں میں ڈھالا جاتا ہے مختلف صورتیں دی جاتی ہیں۔
تو یہ جو مختلف صورت دی جاتی ہے اس سے چیز زیور وغیرہ بناتے ہیں اس کو سیاغت کہتے ہیں بنانا اے ڈھلائی بھئی۔ تو چاہے وہ ڈھلائی یعنی بنائی ان کی ایک جیسی نہ ہو، ایک اعلی بنا ہوا ہے دوسرا دوسرے کی ڈھلائی کیا ہے؟ بیکار سی ہے لیکن پھر بھی بھئی عمدہ اور حدیث گزری تھی آپ نے پڑھا تھا بھئی جیدھا و ردیھا سواون بھئی ان میں عمدہ ردی کا فرق نہیں ہے بھئی۔
تو اگرچہ یہ بھئی کھرے پن کے اندر اور ڈھلائی کے اندر دونوں مختلف ہی کیوں نہ ہو وانما ذکر الفضل یہ ایک اشکال کا جواب دینا چاہتے ہیں اوپر آیا بھئی وصح بیع الذہب بالفضۃ سونے کی بیع چاندی کے بدلے جائز ہے بفضل وجزاف زیادتی کے ساتھ بھی جائز اور اندازے کے ساتھ بھی جائز بھئی برابری کے ساتھ بھی تو جائز ہے اس کو کیوں نہیں ذکر کیا انہوں نے بھئی؟
کہتے ہیں بھئی برابری کے ساتھ جائز ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں تھا، شبہ کس چیز کے اندر تھا؟ زیادتی یا اندازے کے ساتھ بیچنے کی صورت میں کہ کہیں وہاں تو ربا نہیں آتا تو بتلایا نہیں بھئی زیادتی اور اندازے کی صورت میں بھی ربا لازم نہیں آئے گا جب جنس بدل جائے وانما ذکر الفضل والجزا فلم یذكر التساوی ذکر کیا زیادتی کو بھی اور اندازے کو بھی اور تسمہ متسادی کو ذکر نہیں کیا ماتن نے لانہ لا شبہۃ فی جواز التساوی اس لیے کہ کوئی شبہ نہیں تھا تساوی کے جائز ہونے میں بلی شبہ فی الفضل والجذاف بلکہ شبہ تو زیادتی اور اندازے میں تھا فذکرہما پس ان دونوں کو ذکر کر دیا۔
ولا التصرف فی ثمن الصرف قبل قبضہ جی بھئی یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں بھئی ضابطہ آپ کو بتلا دیا کہ بیع الصرف کے اندر عوضین پر قبضہ اسی مجلس میں ضروری ہے لہذا اگر ایک شخص نے عوض پر قبضہ کرنے سے پہلے اس ثمن کے اندر تصرف بھئی عام بیع کے اندر تو کیا تھا؟ ثمن کے اندر تصرف جائز لیکن یہاں پر تو شرط ہے کہ مجلس کے اندر ہی عوضین پر کیا کیا جائے؟ قبضہ لہذا یہاں ثمن کے اندر تصرف کرنا جائز نہیں بھئی۔
مثلا آپ نے ایک ساتھی کو بھئی ایک ہزار روپے دیے اور اس سے سو ڈالر لے رہے ہیں بھئی آپ نے ابھی ڈالر اس سے وصول نہیں کیے آپ کہتے ہیں بھئی ڈالر کے بجائے مجھے کیا دے دو کپڑے دے دو، فلاں کپڑا دے دو بھئی تو یہ بھئی آپ نے قبل القبض ثمن کے ذریعے کیا کر لیا بھئی؟
تصرف جی ولا التصرف الایصح تصرف اور صحیح نہیں ہے تصرف ثمن صرف کے اندر قبل قبضہ اس ثمن پر قبضے سے ہاں قبضہ کر لیں پھر جو مرضی کریں بھئی۔
فلواشتری بہ ثوبًا پس پھر خرید لیا اس کے بدلے کوئی کپڑا فسد شراء الثوب تو کپڑے کی خرید کیا ہو جائے گا؟ فاسد ہو جائے گا ای لو اشتری بثمن الصرف ثمن صرف کے بدلے صورت مطلب ہے آپ گئے آپ نے ہزار روپے کے بدلے کیا خریدا ہے؟ دس ڈالر لینے ہیں ہزار کے بدلے اب آپ یہ جو دے رہے ہیں یہ ثمن اس کے بدلے وہ آپ کو کیا کہتا ہے کپڑا دے دو تو آپ کیا کپڑا دیں تو یہ ثمن کے بدلے اس نے کیا لے لیا کیا خرید لیا آپ سے؟ کپڑا تو یہ تصرف آیا قبل القبض لہذا جائز نہیں۔
ای لو اشتری بثمن الصرف قبل قبضہ ثوبًا اگر خریدا بھئی ثمن صرف کے بدلے کسی چیز کو قبہ اس پر قبضہ کرنے سے پہلے جی کس کو خریدا ثوبًا کسی کپڑے کو فسد شراء الثوب تو کپڑے کی خرید کیا ہو جائے گی؟ فاسد ومن باعتًا تعدل الفلف درہمًا مع طوق الفین مع طوق الفین صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی۔
بھئی کوئی بتلانا یہ چاہتے ہیں کوئی بھی چیز آپ لیں بھئی اگر اس کے ساتھ ثمن کی قبیل سے کوئی چیز جُڑی ہوئی ہے تو وہ ثمن بن جائے گی بھئی یوں بیع صرف اس کے اندر آجائے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ مثلا بھئی آپ وہ نوٹوں والے ہار لینے جاتے ہیں بھئی تو اس پہ کیا لگے ہوئے ہیں؟ نوٹ بھئی۔
اب آپ اس کو پیسے دے کر خریدتے ہیں تو یہ عقد صرف آ گیا کیا آ گیا؟ عقدِ صرف آگیا صورت سمجھ میں آئی؟ تو آج کل وہ صورت بنا لیں کتاب میں یہی صورت دوسرے لفظوں میں ذکر کیا جو اس زمانے میں ہو سکتی تھی کہ کسی نے کوئی باندی خریدی اور باندی کے گلے میں ہے ایک ہار سونے کا جس کی قیمت کتنی ہے؟ ایک ہزار مثلا چاندی کا ہار ہے ایک ہزار درہم اس ہار کی قیمت ہے اور باندی بھی ایک ہزار کی ہے تو کتنے کے بدلے دونوں خرید لیے بھئی؟ دو ہزار میں خرید لیے اب اس نے اسی مجلس کے اندر ایک ہزار درہم تو ادا کر دیے اور
ایک ہزار کیا ہیں؟ ہاں ایک ہزار نقد ادا کر دیے اور ایک ہزار ادھار ہیں بھئی تو کہتے ہیں بھئی اس صورت کے اندر یہ جو اس نے نقد ادا کیے یہ کس کا عوض شمار کیے جائیں گے بھئی؟ اس ہار کے بدلے کیونکہ ہار بھی ہے چاندی کا درہم بھی ہیں چاندی کے تو اس کے اندر کیا آ گئی؟ بیع صرف آ گئی اور بیع صرف کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ عوضین پر مجلس ہی کے اندر قبضہ کیا جائے تو اس عقد کو صحیح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس ہزار کو کس کا عوض بنایا جائے؟ اس چاندی کا عوض بنا لیں معلوم ہوا جو باقی ہزار ہے وہ کس کا ہے؟ باندی کا ہے بھئی صورت سمجھ میں آئی؟
تو تو معلوم ہوا اب ہار خریدنے جاتے ہیں تو نقد خریدنا ضروری یا کم از کم اتنے پیسے نقد دینا ضروری جتنے اس ہار پر لگے ہوئے ہیں بھئی۔ اگر اتنے ادا نہیں کیے تو عقد صرف کیا ہو جائے گا اس میں؟ باطل ہو جائے گا بھئی۔
یا دوسری صورت یہی ہے بھئی ایک شخص نے ایک تلوار خریدی تلوار پر زیور لگا ہوا ہے مطلب سونا یا چاندی اس نے چڑھائی ہے تلوار پر بھئی دستے وغیرہ پر اب اس کو کس کے بدلے خریدا تلوار پر لگی بھی چاندی ہوئی ہے آپ بھی کیا دے رہے ہیں اس طرف سے درہم دے رہے ہیں بھئی وہ بھی چاندی کے ہیں تو اس صورت میں تلوار تھی مثلا سو درہم کی اور آپ نے مجلس کے اندر کتنے ادا کر دیے؟ پچاس درہم اور اس تلوار کے اندر جو چاندی بھی تھی وہ کتنی تھی بھئی؟ پچاس درہم جتنی چاندی لگی ہوئی تھی تو کہتے ہیں یہ جو پچاس درہم آپ نے ادا کیے ہیں یہ کس کا عوض شمار کیے جائیں گے؟ چاندی کا عوض شمار کیے جائیں گے کیونکہ وہ عقد صرف ہے اور وہاں مجلس کے اندر قبضہ ضروری معلوم ہو جو پچاس باقی ہیں وہ کس کے ہیں؟ تلوار کے اندر ہیں بھئی۔
مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھیے بھئی ومن باع امۃ تعدل الفہ درہمًا ولسحت توقی الفین ساتھ ایک ہار ایک ہزار درہم کے بھئی۔
بی الفین کتنے کے بدلے بیچے ان دونوں کو؟ دو ہزار کے بدلے ونقردا من الثمن الفن بھئی اور نقد دیے کس کے ثمن بھئی؟ مشتری نے نقد ادا کیے ثمن میں سے ایک ہزار جی او باعتها بالفین اور یا کی دوسری صورت یہ ہے بھئی اس کو کتنے کے بدلے بیچا؟ دو ہزار کے بدلے الف نسیعۃ والف نقبد بھئی یعنی الف منھا ان میں سے الف کتنے تھے بھئی؟
جی تو الف منھ ثمن میں سے جو الف تھے وہ ادھار تھے والف نقبد اور ایک ہزار کیا تھے؟ نقد تھے بھئی نقد تھے تو یہ بھی وہی صورت بھئی۔
او باعة سیفن حلیتہ خمسین یا ایسی تلوار بیچی کہ جس کا زیور کتنا ہے؟ پچاس یعنی پچاس درہم ہے جی وتخلص بلا ضرر اور وہ زیور جدا ہو جاتا ہے بھئی بغیر کسی
جی ہاں بھئی یہ صورت تلوار میں یاد رکھو بھئی۔ بھئی باندی کو جو بیچا اس کے گلے میں تو ہار ہے ہار اس سے جدا ہو جاتا ہے یا نہیں ہو جاتا بھئی؟ ہار تو وہ الگ صورت ہے اگر کوئی ایسی چیز ہے جو اس سے جدا ہی نہیں ہوتی مثلا چاندی جو تلوار پر لگائی ہے اگر یہ اس سے جدا ہو جاتی ہے تو اس صورت میں یہ عقد صحیح ہے کہ آپ چاندی بھی پچاس کی تھی آپ درہم بھی نقد کتنے دے گئے؟ پچاس تو معلوم ہوا تلوار کے پیسے باقی ہیں اور اگر تلوار سے وہ چاندی جدا نہیں ہو سکتی تو تلوار بھی اسی کے حکم میں آجائے گی بھئی لہذا وہاں پر بھی عقد کے اندر مجلس کے اندر قبضہ ضروری تو لہذا وہاں بھئی تلوار بھی پچاس کی چاندی بھی پچاس کی اور چاندی اس سے جدا نہیں ہو سکتی اور دینے والا مشتری جو ہے صرف کتنے ادا کر دیتا ہے پچاس کے اندر بھئی تو پھر بیع کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی سرے سے بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں او باعت سیفن حلیتہ خمسین اور ایسی تلوار بیچی جس کا زیور پچاس درہم ہے وتخلص بلا ضرر اور وہ زیور جدا ہو جاتا ہے بغیر کسی نقصان کے بھی کتنے کے بدلے بیچی بھئی؟ بمئۃ بھئی تلوار کتنے کے بدلے بیچی؟ سو ہاں یہ سارا متن چل رہا ہے بھئی ونقد خمسین اور اس نے نقد ادا کر دیے کتنے بھئی؟ پچاس فما نقد الثمن الفضۃ ثمن الفضۃ جو اس نے نقد ادا کیے وہ کس کے ثمن ہیں؟ چاندی دونوں صورتوں میں اور وہ کتنا ہے کہتے ہیں وہ الف فی بیع الامۃ ایک ہزار جو نقد ادا کیا ہے باندی کے مسئلے میں والخمیسون فی بیع السیف اور تلوار کی خرید میں تلوار کی بی میں پچاس جو ہے یہ چاندی کے ثمن ہوں گے۔
سکتا چاہے وہ خاموش رہے او قال خذ ھذا من ثمنہما یا اس نے یوں کہا یہ لو ان دونوں کے پیسے یہ لو ان دونوں کے پیسے بھئی پیسے جو اس نے پچاس باندی کے اندر ہزار درہم دیے چاہے اس نے خاموشی سے پکڑا دیے چاہے یہ کہا کہ یہ ان دونوں کے پیسے ہیں یہ ان دونوں کے پیسے ہیں یا تلوار میں چاہے اس نے خاموشی سے وہ درہم پکڑا یا یہ کہا کہ یہ ان دونوں کے
پیسے ہیں لیکن بھئی ہم ان دونوں کے پیسے نہیں بنائیں گے کہ پچیس درہم کس کے ملا لیں بنا لیں چاندی کے اور پچیس کس کے بنا لیں؟ تلوار ورنہ تو یہ عقد کیا ہو جائے گا؟ باطل ہوتا ہے تو عقد کے اندر اگر دو صورتیں ہوں ایک صورت اس کے جواز والی بنتی ہو اور دوسری صورت اس کی عدم جواز والی تو اس کو کس صورت پر محمول کیا جاتا ہے بھئی؟ جواز والی صورت پر
لہذا چاہے وہ خاموشی سے حوالے کرے یا کیا کہے کہ یہ ان دونوں کے پیسے ہیں دونوں صورتوں میں ہم کیا کہیں گے کہ یہ ان دونوں کے پیسے نہیں ہیں بلکہ یہ کس کے پیسے ہیں؟ چاندی کے پیسے ہیں بھئی۔
اما اذا سکت فظاہر اگر وہ خاموش رہا پھر تو بد ظاہر ہے کہ یہ چاندی ہی کے پیسے شمار ہوں گے کیوں؟ لہذا لما باع فقد قصد الصحت اس لیے کہ جب اس نے اس کو بیچا ہے تو کس چیز کا ارادہ کیا ہے؟ بیع کے صحیح ہونے کا ولا صحتا اور صحیح ہو ہی نہیں سکتی بیع الا بان یجعل المقبوض فی مقابلۃ الفضۃ مگر یہ کہ وہ جس پر قبضہ کیا گیا ہے اس کو کس کے مقابلے میں بنایا جائے؟ چاندی اس کو چاندی کے مقابلے میں بناؤ گے تو عقد صحیح ہوگا ورنہ تو عقد ہی صحیح نہیں رہتا
واما اذا قال خذ ھذا من ثمنہما باقی وہ صورت کہ جب اس نے یہ کہا کہ یہ ان دونوں کے پیسوں میں سے لے لو فانہ لیس معناہ تو اس کے کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خذ ھذا کہ یہ ان دونوں کے پورے پیسے ہیں کیا معنی یہ ان دونوں کے
ان کے مجموعے کے ثمن ہیں یہ معنی تو بنتا ہی نہیں کیونکہ اس کے مجموعے کے سامان بھئی پچاس تھے یا سو تھے تلوار والے مسئلے میں؟ سو تو مجموعے کے تو پچاس بن ہی نہیں سکتے یہ اس کا مقصد ہی نہیں اور باندی کے اندر بھی اس کا یہ مقصد نہیں ہے یہ دونوں کے پیسے ہیں یعنی کہ دونوں کے مجموعے کے پیسے ہیں یہ اس کا مقصد نہیں کیونکہ دونوں کے مجموعے کے پیسے تو ہزار درہم نہیں ہیں بلکہ وہ تو کتنے ہیں؟ دو ہزار درہم ہیں۔
تو اس کے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خذ ھذا الا انہ ثمن مجموعہما کہ یہ لے لو اس شرط پر کہ یہ دونوں کے مجموعے کے پیسے ہیں لانہ ثمن المجموع الفانی فی الجاریۃ اس لیے کہ مجموعے کے تو دو ہزار ہیں جاریہ میں والماتوث فی السیف اور تلوار میں مجموعہ کتنا ہے؟ سو اور یہ کتنے دے رہا ہے؟ تو یہ مجموعے کے پیسے تو نہیں ہو سکتے فمعناہ اس کا کہنے کا معنی یہ ہے خذ ھذا کہ یہ ثمن لے لو علی انہ
بعض ثمن مجموعہما کہ اس کے مجموعے کے ثمن کا بعض ہے بھئی اس شرط پر کہ یہ ان دونوں کے مجموعے کے جو ثمن ہیں ان دونوں کے مجموعے کے باندی والے مسئلے میں بھئی ان دونوں کے مجموعے کے کتنے سمت بنتے تھے؟ تو یہ ان دونوں کے مجموعے میں سے کچھ ثمن ہیں۔
یعنی ان دونوں کے جو پیسے بنتے ہیں اس میں سے کچھ پیسے یہ ابھی رکھ لو باقی میں بعد میں دوں گا بھئی۔
جی تو اگر ان دونوں میں تو اب اگر ہم اس کو صرف چاندی کے بدلے بنا لیں تو پھر بھی یہ ان دونوں کے مجموعے میں سے کچھ کے پیسے ہو گئے صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟
علی انہ بعض ثمن مجموعہما اس لیے کہ یہ
تو یہ ان دونوں کے مجموعے کے
بعض کے ثمن ہیں ان دونوں کے مجموعے کے
مجموع کے بعض کے ثمن ہیں وَثَمَنُ الْفِضَّةِ بَعْضُ ثَمَنِ الْمَجْمُوعِ اور باندی اور چاندی کے ثمن جو ہیں وہ بھی تو دونوں کے مجموعے کا بعض ہے بھئی چاندی بھی تو دونوں کے مجموعے کا بعض ہے بھئی۔
فَيُحْمَلُ عَلَيْهِ لہٰذا اس پر محمول کیا جائے گا تَحَرِّيًا لِلْجَوَازِ جواز کا ارادہ کرتے ہوئے یا جواز کو طلب کرتے ہوئے۔
مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ عبارت سمجھ میں آئی یہ کیا کہنا چاہتے تھے؟ کہ نہیں سمجھ میں آئی؟
فَإِنِ افْتَرَقَا بِلَا قَبْضٍ بَطَلَ فِي الْحِلْيَةِ فَقَطْ اگر دونوں جدا ہو گئے بھئی بغیر قبضہ کیے ثمن پر بَطَلَ فِي الْحِلْيَةِ فَقَطْ تو بیع کس کے اندر باطل ہوگی؟ صرف زیور میں باطل ہوگی۔ یرحمک اللہ۔ صرف زیور میں باطل ہوگی بھئی۔
بھئی باندی اور ہار بیچا دو ہزار میں اور ثمن پر قبضہ نہیں کیا دونوں چلے گئے جدا ہو گئے تو ہار چونکہ باندی سے الگ ہو جاتا ہے تو لہٰذا صرف ہار کے اندر عقد باطل ہوا، باندی کے اندر عقد صحیح۔ تلوار سے اگر زیور آرام سے جدا ہو جاتا ہے تو صرف زیور کے اندر بیع باطل ہوئی تلوار کے اندر بیع باطل نہیں۔
یہ معنی ہے بَطَلَ فِي الْحِلْيَةِ فَقَطْ صرف زیور میں باطل ہوگی۔ وَإِنْ لَمْ يَتَخَلَّصْ بِلَا ضَرَرٍ بَطَلَ أَصْلًا اور اگر وہ جدا نہیں ہوتا زیور تلوار سے بغیر نقصان کے بَطَلَ أَصْلًا تو اصلاً ہی بیع کیا ہو جائے گی؟ سرے سے ہی باطل ہو جائے گی۔ أَيْ إِنْ لَمْ يَكُنْ يَتَخَلَّصُ الْحِلْيَةُ مِنَ السَّيْفِ بِلَا ضَرَرٍ اگر جدا نہ ہوتا ہو زیور تلوار سے بغیر نقصان کے وَافْتَرَقَا اور دونوں جدا ہو گئے بِلَا قَبْضٍ بغیر قبضہ کیے عوض پر بَطَلَ فِي كِلَيْهِمَا تو دونوں میں کیا ہو جائے گی بیع؟ تلوار میں بھی اور زیور میں بھی دونوں میں بیع باطل ہو جائے گی۔
جی وَوَجَدْتُ یہاں سے صاحب علامہ صدر الشریعہ ایک الگ بات بتلا رہے ہیں آپ کو۔ کہتے ہیں بھئی یہ جو مسئلہ میں نے یہ لکھا ہے کتاب کے اندر یہ متن ہے بھئی۔ یہ کیا ہے اوپر؟ متن گزرا۔ تو اسی یہ جو مصنف ہیں بھئی یعنی علامہ تاج الشریعہ متن کس کا ہے؟ علامہ تاج الشریعہ کا بھئی۔ یہ جی تو نہایت معتمد متن ہے بھئی معتمد متن، سمجھ میں آیا؟
تو کہتے ہیں اس کے ایک نسخہ مجھے ملا جو مصنف کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا بھئی۔ مصنف کا اپنا نسخہ مجھے ملا بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور اس میں کنارے پر انہوں نے کچھ زائد عبارت لکھی تھی۔ کون سی زائد عبارت؟ ابھی دیکھ لیجیے، دیکھیں بھئی۔ یہ چوتھی سطر میں آ رہا ہے وَهَذَا التَّفْصِيلُ۔ کیا آ رہا ہے؟ یہ عبارت آگے آپ کو وہ بتائیں گے خود بھی بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ لکھا ہوا تھا کہ مصنف نے وہاں یہ لکھا ہوا، یہ لکھا تھا مصنف کا خط نہیں تھا لیکن لکھا ہوا تھا وَهَذَا التَّفْصِيلُ إِذَا كَانَ الثَّمَنُ أَكْثَرَ مِنَ الْحِلْيَةِ۔ یہ تفصیل اس وقت ہے جبکہ ثمن زیادہ ہو کس سے؟
بھئی تلوار پہ 50 کا زیور لگا ہے اور 50 کی تلوار ہے اور آپ اس کو خرید رہے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ جو پیسے دے رہے ہیں وہ اس چاندی سے زیادہ ہونے چاہئیں جو تلوار پر لگی ہے۔ تلوار پر کتنی ہے؟ 50، تو آپ کو کم از کم کتنے دینے چاہئیں؟ 51 دینے چاہئیں بھئی کہ زیادہ ہو۔ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ اگر زیادہ نہیں ہے لَا يَصِحُّ پھر بیع صحیح نہیں۔ یہ عبارت بھی مجھے وہاں پر حاشیے پر ملی بھئی، مصنف کے نسخے کے اندر بھئی۔
اور انہوں نے وہاں صَحَّ بھی لکھا ہوا تھا۔ کیا لکھا ہوا تھا؟ صَحَّ، تو یہ طریقہ تھا بھئی کہ مصنف اگر کبھی کوئی کتاب لکھتا بھئی اور بعد میں اس کی کسی عبارت کے اندر اس کی تصحیح کر دیتا، کہیں عبارت غلط آ جاتی اس کی اصلاح مقصود ہوتی، تو کنارے پر حاشیے پر لکھ دیتے اور اس کے ساتھ صَحَّ لکھ دیتے۔ یہ صَحَّ کا مطلب ہوتا تھا کہ یہ حاشیہ نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ یہ بھی متن ہی ہے، متن ہی کی اصلاح کی گئی ہے۔ اصل یعنی یہ اس کے ساتھ اضافہ کیا جائے یا کیا کیا جائے؟ اگر وہاں دوسری عبارت ہے تو اس کے بجائے یہ عبارت شمار کی جائے، صورت سمجھ میں آئی؟ یعنی یہ حاشیہ نہیں ہے تو وہاں متن پر مجھے کہتے ہیں حاشیے پر یہ عبارت ملی بھئی۔
تو کہتے ہیں وَوَجَدْتُ عَلَى حَاشِيَةِ نُسْخَةِ الْمُصَنِّفِ میں نے پایا مصنف کے نسخے کے حاشیے پر مَعَ عَلَامَتِهِ صَحَّ ساتھ اس کی علامت صَحَّ کی علامت بھی ساتھ لگی تھی لَكِنْ لَا بِخَطِّ الْمُصَنِّفِ لیکن یہ مصنف کے خط میں نہیں تھا بھئی۔ جی کیا پایا میں نے؟ هَذَا الْإِلْحَاقَ یہ جو الحاق ہے، یہ جو آگے یہ عبارت ملائی گئی ہے، یہ میں نے حاشیے پر پایا۔ وَهُوَ اور وہ یہ ہے بھئی: وَهَذَا التَّفْصِيلُ ماتن لکھتے ہیں کہ یہ جو تفصیل ہم نے بیان کی یہ اس وقت ہے جبکہ ثمن زیادہ ہو زیور سے، اگر زیادہ نہ ہو تو پھر صحیح نہیں۔
بھئی زیادہ نہ ہوں اس میں کتنی صورتیں آ گئیں؟ تین صورتیں آ گئیں، کتنی صورتیں آ گئیں؟ پہلی صورت: برابر ہو۔ یہ بھی معلوم ہوا زیادہ زیور بھی 50 درہم کا لگا ہے اور ثمن بھی کتنے ادا کیے؟ 50، تو زیادہ ہوا نہیں۔ زیور سے زیادہ نہیں تو یہ بھی جی فَإِنْ لَمْ يَكُنْ میں آیا۔
دوسری صورت: زیور لگا ہے تلوار پر 50 کا اور یہ ثمن جو کل کے دے رہا ہے 40 درہم، تو اقل والی صورت بھی اس کے اندر داخل ہوئی۔
تیسری یہ صورت ہے کہ پتہ ہی نہیں کتنا زیور لگا ہے۔ ثمن تو دے رہا ہے لیکن اندازہ نہیں ہے کہ تلوار کو جو زیور لگا ہے وہ 50 درہم کا ہے یا 60 درہم کا ہے تو اندازے سے ہوا، کس سے ہوا؟ جو یعنی پتہ نہیں، تینوں صورتیں آ گئیں۔ تینوں صورتوں میں بیع جائز نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں فَقَوْلُهُ ماتن کا یہ قول: وَإِنْ لَمْ يَكُنْ يَشْمَلُ یہ شامل ہے مَا اس صورت کو إِذَا كَانَ الثَّمَنُ مُسَاوِيًا لِلْحِلْيَةِ جبکہ ثمن برابر ہوں حلیہ کے أَوْ أَقَلَّ مِنْهَا یا اس سے کم ہو أَوْ لَا يُدْرَى یا معلوم ہی نہ ہو بھئی۔ فَإِنَّهُ لَا يَجُوزُ الْبَيْعُ تو اس صورت میں بیع جائز نہیں ہے إِمَّا لِتَحَقُّقِ الرِّبَا یا تو ربا کے پائے جانے کی وجہ سے أَوْ لِشُبْهَتِهِ یا اس کے شبہے کی وجہ سے بھئی، لِشُبْهَتِهِ ہونا چاہیے بھئی۔
تو سمجھ میں آیا بھئی؟ اگر نقد کم ہے زیور زیادہ پھر تو تحققِ ربا ہے، ربا کا سو واقعی ربا وہاں پر پایا جا رہا ہے اور اگر اندازے سے ہے تو پھر ربا یقینی تو نہیں لیکن شبہہ ربا تو ہے۔ اور جیسے ربا سے بچنا ضروری، شبہہ ربا سے بچنا بھی ضروری۔
وَمَنْ بَاعَ إِنَاءَ فِضَّةٍ وَقَبَضَ بَعْضَ ثَمَنِهِ ثُمَّ افْتَرَقَا جی صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی: آپ نے ایک شخص سے چاندی کا پیالہ خریدا بھئی، چاندی کا برتن خریدا 100 درہم کے بدلے، اور مجلس کے اندر آپ نے 50 درہم ادا کر دیے اور 50 درہم بعد میں ادا کریں گے بھئی۔
تو کہتے ہیں بھئی ادھر سے آپ درہم دے رہے ہیں udhar سے اگرچہ پیالہ ہے لیکن ہے تو چاندی کا تو یہ چاندی کے حکم میں ہے، لہٰذا یہ عقدِ صرف ہوا، اس کے اندر عوضین پر قبضہ ضروری تھا اور آپ نے پورے پر، پورے ادا کیے یا آدھے ادا کیے ثمن بھئی؟ ہاں تو معلوم ہوا آدھے عوض پر قبضہ ہوا، لہٰذا آدھے پیالے کے اندر بیع صحیح ہو گئی اور آدھے کے اندر صحیح نہیں، لہٰذا اب وہ پیالہ آپ میں اور بائع میں مشترک ہو گیا بھئی۔ وہ پیالہ آپ میں اور بائع میں مشترک ہو گیا۔
دیکھیے: وَمَنْ بَاعَ إِنَاءَ فِضَّةٍ اور جس نے بیچا چاندی کا کوئی برتن وَقَبَضَ بَعْضَ ثَمَنِهِ اور اس کے کچھ ثمن پر قبضہ کر لیا ثُمَّ افْتَرَقَا پھر دونوں عقد کرنے والے جدا ہو گئے صَحَّ فِي مَا قَبَضَ فَقَطْ تو بیع صحیح ہو جائے گی صرف اس حصے کے اندر جس میں ثمن پر کیا کیا ہے؟ قبضہ کیا ہے وَاشْتَرَكَا فِي الْإِينَاءِ اور یہ دونوں کیا ہو جائیں گے؟ شریک ہو جائیں گے برتن میں۔
أَيْ صَحَّ الْبَيْعُ فِي مَا قَبَضَ ثَمَنَهُ اور صحیح ہو جائے گی بیع اس حصے کے اندر جس کے ثمن پر اس نے قبضہ کیا ہے وَفَسَدَ فِي مَا لَمْ يَقْبِضْ اور فاسد ہو گی اس حصے کے اندر جس میں قبضہ نہیں کیا وَلَا يَشِيعُ الْفَسَادُ اور فساد شائع نہیں ہوگا بھئی۔ یہ نہ کہیں آپ کہ بھئی چونکہ آدھے میں فساد، آدھے پیالے میں کی بیع میں فساد آیا تو آپ اس کی وجہ سے پوری بیع ہی کو کیا قرار دے دیں بھئی؟ ہاں کہ پوری بیع ہی فاسد ہو گئی، نہیں بھئی فساد آیا تو نصف کے اندر فساد آئے گا اور وہ فساد باقی نصف کو متاثر نہیں کرے گا بھئی۔ جی تو وہ پھیلے گا نہیں فساد۔
اور وہ فساد پھیلے گا نہیں کَمَا ذَكَرْنَا فِي بَابِ السَّلَمِ جیسا کہ ہم نے باب السلم میں ذکر کیا تھا بھئی۔ بیعِ عقدِ سلم کے اندر آپ نے پڑھا تھا بھئی، ایک شخص گیا اس نے دوسرے سے عقدِ سلم کیا کہ بھئی میں آپ کو 1,000 درہم دیتا ہوں مجھے آپ نے چھ مہینے کے بعد 100 من گندم دینی ہے بھئی۔ عقد ہو گیا، عقد ہونے کے بعد اسی مجلس کے اندر اس نے نصف پیسے ادا کر دیے اور نصف ادا نہیں کیے بھئی۔ تو وہاں بیعِ عقدِ سلم کے اندر بھی عوض پر مجلس میں قبضہ شرط تھا۔ تو کہتے ہیں بھئی اس صورت کے اندر مجلس، عقد تو ہو چکا عقد تو صحیح ہے عقدِ سلم، لیکن سلم کی بقا کے لیے کیا ضروری تھا کہ عوض پر اسی مجلس میں قبضہ کیا جائے۔ تو لہٰذا یہ جو عوض پر قبضہ ہے یہ بقائے سلم کے لیے ہے، کس کے لیے ہے؟ بقائے سلم کے لیے ہے، لہٰذا وہاں بھی فساد آیا نصف کے اندر، لیکن نصف عقدِ، نصف میں عقدِ سلم ٹھیک ہو جائے گا اور نصف میں کیا ہو جائے گا عقد فاسد ہو جائے گا بھئی۔
تو یہاں پر بھی یہ جو عقد تو صحیح ہو چکا ہے البتہ قبضہ کس لیے ضروری تھا؟ بقائے عقد کے لیے، تو لہٰذا یہ ضعیف ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ ضعیف ہے بھئی۔ دیکھیے، دیکھئے مسئلہ صفحہ 78 ذرا نکالیں بھئی۔ وہاں تفصیل سے انہوں نے مسئلہ ذکر کیا تھا بھئی۔
دیکھیے درمیان میں جو متن آ رہا ہے بھئی اس سے آگے لکھا ہے: أَيْ لَا يَشِيعُ الْفَسَادُ فساد شائع نہیں، یہی صورت اوپر ذکر کی ہے۔ کیوں؟ لِأَنَّ الْعَقْدَ صَحِيحٌ عقدِ سلم تو ہو چکا ہے اور وہ صحیح ہے وَهَذَا الشَّرْطُ شَرْتُ الْبَقَاءِ اور یہ کون سی شرط ہے بھئی؟ کس چیز کی ہے؟ یہ تو بقا کی شرط ہے فَيَكُونُ ضَعِيفًا تو یہ ضعیف ہے۔ تو اس کی وجہ سے جو فساد آئے گا وہ فساد بھی اتنا قوی نہیں لہٰذا اس میں شیوع نہیں، صرف اپنے حصے میں آئے گا تو یہاں پر بھی شیوع نہیں ہوگا بھئی۔
کَمَا ذَكَرْنَا فِي بَابِ السَّلَمِ جیسے ہم نے ذکر کیا باب السلم کے اندر كَأَنَّ الْفَسَادَ طَارِئٌ کہ یہ جو فساد ہے یہ نازل ہونے والا ہے یعنی عقد کے صحیح ہونے کے بعد فساد آیا لہٰذا پورے عقد کو یہ متاثر نہیں کرے گا۔
وَإِنِ اسْتُحِقَّ بَعْضُهُ جی صورت دوسری بھئی: یہ تو وہ صورت تھی کہ آپ نے آدھے پیسے مجلس میں ادا نہیں کیے تو اب پیالے میں دونوں شریک ہو گئے۔ دوسری صورت یہ: آپ نے پیالہ خرید لیا، 100 درہم کا خریدا مجلس کے اندر ہی آپ نے 100 درہم ادا کر دیے پیالہ لے کر آ گئے۔ بعد میں پتہ چلا بھئی یہ پیالہ جس نے آپ کو فروخت کیا سارا اس کا نہیں تھا نصف کسی اور حق کا تھا بھئی، مستحق نکل آیا، کون نکل آیا اس کا؟ تو نصف پیالے کا کوئی اور مستحق نکل آیا تو کہتے ہیں اب کیا مسئلہ ہوگا؟ کیا اب مستحق اور یہ مشتری دونوں پیالے میں شریک ہو جائیں گے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اب شریک اب اس کو اختیار ہے مشتری کو۔ چاہے تو جتنے کا مستحق نکلا ہے اتنے پیسے بائع سے واپس لے لے اور مستحق کو اپنے ساتھ پیالے میں شریک کر لے، اور چاہے تو پیالہ واپس کر دے اور سارے ثمن کیا کرے بائع سے لے لے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ پچھلے مسئلے میں خیار نہیں تھا اس میں خیار ہے بھئی، کیا وجہ کیا ہے؟ تو بتلائیں گے آپ کو، بھئی پچھلے میں مشتری کی اپنی غلطی ہے۔ پچھلے میں کیا تھی مشتری کی اپنی غلطی تھی۔ وہاں پر اس کو چاہیے تھا کہ عقدِ صرف میں سارے پیسے دیتا، اس نے سارے پیسے نہیں دیے نصف دیے۔ تو نصف کے اندر گویا وہ بائع کی شرکت پر راضی ہے۔ گویا کہ وہ خود کیا ہے؟ بائع کی شرکت پر راضی ہے، اس کے عمل کی وجہ سے شرکت آ رہی ہے۔ اور یہاں پر جو پیالے کے اندر شرکت آ رہی ہے اس کے اپنے عمل کی وجہ سے نہیں، اس نے تو پورا پیالہ خریدا ہے پیسے پورے ادا کر چکا ہے بعد میں کوئی اور نکل آیا۔
وَإِنِ اسْتُحِقَّ بَعْضُهُ بھئی اگر بعض پیالے کا کوئی مستحق نکل آیا أَخَذَ الْمُشْتَرِي بَاقِيَهُ بِحِصَّتِهِ أَوْ رَدَّهُ لے لے گا مشتری باقی کو اس کے حصے کے بقدر ثمن کے ساتھ أَوْ رَدَّهُ یا کیا کر دے گا؟ تو لینا چاہے تو شریک کر لے مستحق کو باقی کے پیسے دے دے یا کیا کر دے؟ پورا پیالہ ہی واپس کر دے۔
أَيْ إِنِ اسْتُحِقَّ بَعْضُ الْإِينَاءِ مستحق نکل آیا برتن کے کچھ حصے کا کوئی، فَالْمُشْتَرِي بِالْخِيَارِ تو مشتری کو اختیار ہے لِأَنَّ الشِّرْكَةَ عَيْبٌ فِي الْإِينَاءِ اس لیے کہ برتن میں شرکت کیا ہے بھئی؟ عیب ہے بھئی۔ چیزوں کے اندر شرکت، سامان میں شرکت وغیرہ بھئی یہ عیب شمار ہوتی ہے استعمال کی چیزوں میں بھئی۔ اگر آپ کا اپنا پیالہ ہو جس طرح مرضی اسے استعمال کریں بھئی، آپ کے اور ساتھی اس میں شریک ہیں تو پھر ایک ایک دن آپ استعمال کریں گے ایک دن وہ استعمال کرے گا تو تکلیف آئی یا نہیں آئی بھئی؟ تو یہ عیب شمار ہوتا ہے۔ لِأَنَّ الشِّرْكَةَ عَيْبٌ فِي الْإِينَاءِ اس لیے کہ شرکت عیب ہے برتن کے اندر بھئی۔
وَبِ صرف برتن میں نہیں اسی طرح میں نے بتلایا اور چیزوں میں بھی بھئی۔ وَفِي صُورَةِ قَبْضِ بَعْضِ الثَّمَنِ اور بعض ثمن پر قبضے والی صورت میں قَدْ ثَبَتَتِ الشِّرْكَةُ وہاں بھی شرکت ثابت ہوئی تھی اوپر والے مسئلے میں لَكِنْ لَا يَكُونُ لِلْمُشْتَرِي الرَّدُّ لیکن وہاں پر مشتری کو رد کرنے کا حق نہیں تھا بِهَذَا الْعَيْبِ اس عیب کی وجہ سے لِأَنَّهُ تَثْبُتُ بِرِضَا الْمُشْتَرِي اس لیے کہ وہ جو شرکت ثابت ہوئی تھی کس کی وجہ سے ثابت ہوئی تھی؟ مشتری کی رضامندی سے اس نے نصف ثمن دیے تھے۔ لِأَنَّ الشِّرْكَةَ إِنَّمَا تَثْبُتُ مِنْ جِهَتِهِ اس لیے کہ وہاں پر جو شرکت ثابت ہوئی تھی وہ اس کی طرف سے آئی تھی لِأَنَّهُ نَقَدَ بَعْضَ الثَّمَنِ دُونَ الْبَعْضِ اس لیے کہ اس نے کچھ پیسے دیے تھے اور کچھ پیسے فَتَرَاضَيَا بِهَذَا الْبَيْعِ عَيْبِ تو وہ دونوں اس بائع اور مشتری دونوں اس عیب پر راضی تھے بھئی۔ بِخِلَافِ الْاسْتِحْقَاقِ بخلاف استحقاق والی صورت میں کہ یہاں پر رضامندی دونوں کی نہیں۔ إِذِ الْمُشْتَرِي لَمْ يَرْضَ بِهِ اس لیے کہ مشتری تو اس کے ساتھ راضی نہیں ہے فَلَهُ وِلَايَةُ الرَّدِّ تو اس کو واپس کرنے کا، واپس کرنے کی ولایت ہوگی بھئی۔
وَلَوْ اسْتُحِقَّ بَعْضُ قِطْعَةِ نُقْرَةٍ بِيَعَتْ أَخَذَ مَا بَقِيَ بِحِصَّتِهِ بِلَا خِيَارٍ بھئی۔ یا أُخِذَ مَا بَقِيَ بِحِصَّتِهِ بِلَا خِيَارٍ صورت یہ بھئی: پیالے کے اندر، برتن وغیرہ میں چاندی کا تھا اس میں کوئی مستحق نکل آیا، آپ نے خریدا ہے اور کوئی اور مستحق نکل آیا تو شریعت نے آپ کو کیا حق دیا ہے؟ خیار ہے، آپ چاہیں تو مستحق کو اپنے ساتھ شریک کر لیں اور اپنے حصے کے پیسے صرف دے دیں، اور چاہیں تو پیالہ ہی اور برتن ہی کیا کر دیں بائع کو۔ لیکن دوسری صورت آپ کے پاس سونے یا چاندی کی ڈلی ہے بھئی، آپ نے سونے یا چاندی کی ڈلی خریدی اس میں کوئی مستحق نکل آیا بھئی، تو کیا اب کیا کیا جائے گا؟ آپ کو خیار ہوگا واپس کرنے کا؟ کہتے ہیں نہیں، اب آپ کو خیار نہیں ہے واپس کرنے کا۔ کیوں بھئی؟ پچھلے مسئلے میں خیار تھا اس میں خیار نہیں، کہتے ہیں بھئی اس لیے کہ وہاں پر برتن کو، برتن کو وہاں پر بھئی اس وہاں شرکت عیب تھی، یہاں پر شرکت عیب نہیں بھئی۔ کیونکہ یہاں پر آرام سے بھئی دونوں اپنا اپنا حصہ توڑ کر الگ کر لیں گے اور چیز بھی وہاں تو برتن تھا اس کو برتن ضائع ہو جاتا تھا، یہاں تو اور کوئی مسئلہ ہی نہیں۔
وَلَوْ اسْتُحِقَّ بَعْضُ قِطْعَةِ نُقْرَةٍ بِيَعَتْ بھئی اگر مستحق نکل آیا نقرہ، سونے یا چاندی کا ٹکڑا۔ سونے یا چاندی کی ڈلی، اگر مستحق نکل آیا سونے یا چاندی کے ٹکڑے کے بعض کا کوئی بِيَعَتْ بھئی ایسا وہ ٹکڑا بِيَعَتْ جس کو کیا کیا گیا ہے؟ بیچا گیا ہے أَخَذَ مَا بَقِيَ یا أُخِذَ مَا بَقِيَ تو لے لیا جائے گا مَا بَقِيَ کو۔ کچھ کا تو مستحق نکل آیا اور کچھ جو باقی ہے اس کو لے لیا جائے گا بِحِصَّتِهِ بِلَا خِيَارٍ اس کے حصے کے بدلے میں بِلَا خِيَارٍ بغیر کسی خیار کے لِأَنَّ الشِّرْكَةَ لَيْسَتْ بِعَيْبٍ بھئی اس لیے کہ شرکت عیب نہیں ہے۔
چلیے بس کریں وَنَهَذَا هُوَ الْمُرَادُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ