کل آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ کسی نے اگر خریدی ہوئی چیز آگے بیچی اور پھر وہ چیز اس کو واپس کی گئی قذ عیب کی وجہ سے اور قضا فیصلے کے ذریعے بھئی اور یہ فیصلہ اقرار کی وجہ سے ہوا تھا یا بینہ کی وجہ سے ہوا تھا یا انکار کی قسم سے انکار کی وجہ سے ہوا تھا تو اس صورت میں یہ مشتری جو ہے یہ جو بائے ثانی جو ہے یا جو مشتری اول جو ہے بھئی بائے ثانی اور مشتری اول یہ وہ ایک ہی شخص ہے درمیان میں جو ہے بھئی۔
تو یہ کیا کر سکتا ہے اس چیز کو بائے اول کو واپس لوٹا سکتا ہے اور اگر اس نے وہ چیز اپنی رضامندی سے لی تھی واپس تو پھر اس صورت میں واپس نہیں کر سکتا۔
صورت سمجھ میں آگئی تھی کل میں نے ذکر کی تھی بھئی۔
صورت مسئلہ یہ تھی کہ آپ نے ایک شخص سے ایک چیز خریدی ہے اور وہ چیز پھر آپ نے آگے فروخت کر دی اب اس چیز کے اندر مشتری ثانی نے عیب کا دعوی کیا وہ چیز آپ کو واپس کرتا ہے تو یا تو آپ اقرار کر لیں گے آرام سے بھئی کہ ہاں واقعی میں نے عیب دار چیز آپ کو بیچی ہے تو پھر یہ چاہے اقرار قاضی کے سامنے ہو یا قاضی کے سامنے نہ ہو دونوں صورتوں میں آپ اس چیز کو واپس لے لیتے ہیں تو یہ مرضی سے واپس لینا ہوا اور مرضی سے واپس لینا یہ کیا شمار ہوتا ہے؟
جی ان کے لیے تو فسخ ہے لیکن باقیوں کے لیے یہ کیا شمار ہوگا؟ بیع جدید۔
کسی بھی تیسرے شخص کے لیے یہ بیع جدید ہوئی ہے تو لہذا اب اس صورت کے اندر یہ بائے اول کو چیز واپس کرنے کا حق آپ کو نہیں ہے بھئی اس لیے کہ اب تو دو بیع آگئیں ایک بیع بھی آ جائے تو نہ چیز واپس ہو سکتی ہے اور نہ رجوع بن نقصان ہو سکتا ہے۔
لیکن اگر یہ چیز آپ کو واپس کی ہوئی ہے قاضی کے فیصلے کی وجہ سے اور قاضی کو تو ولایت عامہ حاصل ہے تو اس نے جو بیع فسخ کی یہ سب کے لیے کیا شمار ہوگا کہ بیع فسخ گویا کہ آگے بیع ہوئی ہی نہیں جب ہوئی ہی نہیں تو آپ کو کیا حق حاصل ہے کہ چیز میں عیب ہے بائے اول کو وہ چیز واپس کر سکتے ہیں بھئی کر سکتے ہیں۔
تو تین و تین قضا بالاقرار قضا بالبینہ اور قضا بالنقول تین باتیں ذکر ہوئیں یہاں پر ان کے لیے جو قضا ہوگی تو آپ بائے اول کو واپس کر سکتے ہیں ان کے علاوہ میں واپس نہیں کر سکتے۔
اور قضا بالاقرار کا معنی صاحب ہدایہ نے کیا تھا کہ اقرار کا یہ معنی نہ کرنا کہ بائے قاضی کے سامنے خود اقرار کرے عیب کا بلکہ معنی یہ کہ کسی اور کے سامنے اقرار کیا تھا پھر اب انکار کر رہا ہے تو مشتری کیا کرتا ہے ان جن کے سامنے اقرار کیا تھا ان کو بطور گواہ کے پیش کر دیتا ہے بینہ کے ذریعے اس کے اقرار کو کیا کر دیتا ہے ثابت کر دیتا ہے صورت سمجھ میں آئی بھئی بینہ کے ذریعے اقرار ثابت ہوا۔
اس پر کسی نے کہتے ہیں اگر یہ اعتراض کیا جائے کوئی یہ اعتراض کرے کہ بھئی اقرار قاضی کے سامنے چاہے خود کرے چاہے اقرار اس کا بینہ کے ذریعے ثابت ہوں دونوں کا حکم ایک ہونا چاہیے دونوں کا حکم کیا ہونا چاہیے؟ ایک ہونا چاہیے اس لیے کہ جو چیز بینہ کے ذریعے ثابت ہو وہ بھی اسی طرح ہے گویا کہ اس وہ مشاہدتا ثابت ہے کیا ہے؟ مشاہدتا گویا اس نے قاضی کے سامنے خود اقرار کیا ہے تو ایک ہے خود اقرار کرنا ایک اقرار کو بینہ کے ذریعے ثابت کرنا اور بینہ کے ذریعے جو چیز ثابت ہو وہ کس کی طرح ہے؟ مشاہدے کے اور معائنے کی طرح ہے تو یہ بھی اسی اقرار کی طرح ہوا اور اس اقرار کی صورت میں تو چیز کو واپس کرنے کا حق نہیں تھا تو اس صورت میں بھی چیز کو واپس کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے تو صاحب ہدایہ کے یہ کہنے کا کیا فائدہ کہ اقرار سے مراد عام اقرار نہیں ہے بلکہ وہ اقرار ہے جو کس کے ذریعے ثابت ہو بینہ کے ذریعے ثابت ہو اس کا کیا فائدہ؟
یہ ایک اشکال ہوا کہ اقرار وہ عام اقرار ہو یا اقرار بالبینہ ثابت ہو دونوں کا حکم ایک ہونا چاہیے تو دراصل یہ دو اعتراض بنتے ہیں یہاں پر بھئی اور دوسرا یہ کہ یہ تو یہ اقرار کی طرح اور اقرار کی وجہ سے صرف اس آدمی کا مواخذہ کیا جاتا ہے کسی اور کا مواخذہ نہیں اقرار حجت متعدیہ نہیں ہے یہ تجاوز کسی اور کی طرف نہیں کرتی صرف اسی آدمی کی اپنی ذات سے اس کا تعلق ہوتا ہے تو چاہے اقرار وہ خود کرے یا اقرار اس کا بینہ سے ثابت ہو دونوں صورتوں میں یہ دونوں ایک جیسے ہو گئے اور جب دونوں ایک جیسے ہو گئے تو صرف چیز اس کو واپس کرنی چاہیے بائے اول کو تو واپس نہیں کرنی چاہیے بھئی۔
تو اس کا بھی جواب دیا تھا بھئی کل کہ بھئی ہم نے کب کہا کہ پہلی بات آپ نے کہا دونوں ایک جیسے ہیں ہاں پہلی بات کہتے ہیں یہ تسلیم نہیں بھئی دونوں باتیں ایک جیسی نہیں۔
اور دوسری بات آپ نے یہ کہا کہ اقرار کیا ہے؟ حجت قاصرہ ہے اسے یہ تو حجت متعدیہ نہیں ہے تو کہتے ہیں ہم نے کب کہا یہ اقرار حجت متعدیہ ہے ہم نے بھی تو یہی کہا ہے کہ اس کو واپس کر دے گا البتہ بائے اول کو اگر یہ واپس کرنا چاہے تو اب اس کو خصومت کا حق حاصل ہے دوبارہ خصومت کرنا پڑے گی بھئی اسی اقرار کی وجہ سے سیدھا اس کو واپس نہیں کر سکتا۔
اور دونوں اقرار میں فرق ہے ایک اقرار وہ جو خود کرتا ہے ایک اقرار اس کا وہ جو بینہ کے ساتھ ثابت ہوتا ہے دونوں میں فرق ہے اقرار خود کرتا ہے تو معلوم ہوا چیز کو رضامندی سے لے رہا ہے جب رضامندی سے لے رہا ہے تو یہ باقی سب کے لیے کیا شمار ہوگی بیع یہ الگ صورت ہے اور ایک وہ صورت ہے کہ اقرار کا وہ انکار کر رہا ہے اور وہ اس کے اقرار کو کس کے ذریعے ثابت کرتا ہے بینہ کے ذریعے تو معلوم ہوا یہ چیز کو واپس لینے پر راضی نہیں تو قاضی کے فیصلے سے واپس ہوئی اور قاضی نے کیا کیا ہے بیع کو فسخ کر دیا ہے تو اس صورت میں اب وہ بیع فسخ شمار ہوگی جبکہ اپنی مرضی سے اقرار جو کرے اس میں تو وہ فسخ شمار نہیں بلکہ کیا شمار ہوتی ہے؟ بیع تو دونوں میں فرق بھی آ گیا۔
سمجھ میں آ گیا بھئی تو دو اشکال تھے ایک یہ کہ اقرار حجت قاصرہ ہے حجت متعدیہ آپ نے کیوں بنایا اس کا ہم نے جواب دے دیا کہ ہم نے کوئی اس کو متعدیہ نہیں بنایا بلکہ اس کو الگ کیا کر رہا ہے اس کے لیے بائے اول کو اسی اقرار کی وجہ سے واپس نہیں کر رہا بلکہ اس کے لیے الگ کیا کرنا پڑے گی خصومت معلوم ہوا اقرار حجت متعدیہ نہیں بنایا ہم نے اگر متعدی ہوتا تو دوبارہ خصومت کی ضرورت تھی نہیں دوبارہ خصومت کی ضرورت اور دونوں میں فرق بھی سمجھا دیا۔
فر اس کے بعد اگلا اسی مسئلے کی ایک اور تقریر بعض علماء ذکر کرتے تھے بھئی اس کو صاحب کتاب رد کریں گے لیکن میں نے کہا تھا اس سے پہلے ایک مقدمہ سمجھ لیں۔
یاد رکھو ضابطہ یہ ہے کہ قاضی غائب کے خلاف نہ بینہ سن سکتا ہے اور نہ فیصلہ کر سکتا ہے بھئی بینہ بھی نہیں سن سکتا اور فیصلہ بھی نہیں اس لیے کہ بینہ سننے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جھگڑا ختم کر دیا جائے اور جب دوسرا حاضر ہی نہیں تو جھگڑا ہے ہی نہیں۔
جھگڑا تو کم از کم کتنے میں ہونا چاہیے دو دوسرا حاضر ہوگا تو جھگڑا کا وجود بھی آ گیا ایک ان کا دعوی کر رہا ہے دوسرا کیا کر رہا ہے انکار کر رہا ہے اب کس کو سنے گا قاضی بینہ کو سنے گا تو غائب کے خلاف نہ بینہ سن سکتا ہے نہ فیصلہ کر سکتا ہے یہ اہم ضابطہ ہے کتاب القضا کا بھئی سمجھ میں آیا بھئی ضابطے بھئی آپ سب کو انشاءاللہ انشاءاللہ عنقریب دور آ جائے گا بھئی آپ کو قاضی بنائیں گے بھئی یہ باتیں سیکھتے جاؤ بھئی فیصلہ کیسے کرنا ہے غائب کے خلاف فیصلہ بھی نہیں ہوتا اور بینہ بھی نہیں سنے جاتے۔
अच्छा تو کیا بات بھی کر ہو رہی تھی؟ ہاں تو غائب کے خلاف نہ فیصلہ کر سکتا ہے نہ بینہ سن سکتا ہے ہاں اگر اس کا نائب موجود ہو تو پھر بینہ بھی سن سکتا ہے اور فیصلہ بھی اور نائب تین ہیں مولانا تین قسم پر یا تو نائب ہوگا حقیقتا جیسے وکیل ہوتا ہے انسان اس کو کیا بنا دیتا ہے کسی بھی مسئلے میں اپنا نائب.
یا نائب شرعا ہوگا یا نائب حکما ہوگا تین ہوئے حقیقتا شرعا اور حکما نائب شرعا کی مثال جیسے وہ وسی کون مقرر کرے قاضی بھئی وسی کسے کہتے تھے میں نے آپ کو بتلایا تھا جسے جو بچے یا معذور وغیرہ افراد کی نگرانی وغیرہ کے لیے جنہیں قاضی مقرر کرتا ہے تو با اختیار نگران ہوتا ہے وہ اپنے اختیار کے ساتھ کیا کرتا ہے ان پر مال وغیرہ کو خرچ کرتا ہے ان کے امور کا اختیار ہوتا ہے اسے.
اور تیسرا وہ نائب جو حکمی ہو حکمی نائب حکمی اسے کہتے ہیں یاد رکھو جس میں غائب پر جو دعوی کیا جا رہا ہے وہ دعوی سبب ہے اس دعوے کا جو حاضر پر کیا جا رہا ہے.
آپ دعوی تو دراصل ایک حاضر شخص پر کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ایک اور دعوی بھی شامل ہو گیا جو کس پر ہو رہا ہے غائب پر کس پر ہو رہا ہے غائب پر اور وہ جو غائب پر دعوی ہے وہ سبب لازمی ہے یعنی علت ہے کس کے لیے؟ اس دعوی کے لیے جو کس پر ہو رہا ہے حاضر پر تو حاضر پر جو دعوی ہے وہ مسبب ہونا چاہیے معلول ہونا چاہیے اس دعوے کا جو کس پر کیا جا رہا ہے غائب پر کیا جا رہا ہے سبب لازمی ہو یعنی جب بھی سب وہ سبب پایا جائے مسبب بھی ضرور پایا جائے مثال سے اس کی وضاحت ہوگی دیکھو بھئی ایک آدمی کے پاس ایک مکان ہے اس کے قبضے میں ہے آپ اس پر دعوی کر دیتے ہیں یہ مکان میرا ہے.
اور یہ مکان کیوں میرا ہے کیونکہ یہ میں نے زید سے خریدا تھا تو اب دعوی آپ کا اس حاضر پر ہے جسے آپ قاضی کے سامنے لائے ہیں کہ اس کے پاس جو مکان ہے وہ میرا ہے لیکن ایک اور دعوی بھی آپ نے کیوں میرا ہے کیونکہ میں نے کس سے خریدا تھا؟ زید سے تو یہاں ایک غائب پر بھی دعوی آ گیا کہ یہ میں نے مکان کس سے خریدا ہے؟ زید سے خریدا ہے اور خریدنا علت ہوتی ہے کس چیز کی؟ ملکیت کی آپ نے کہا یہ مکان میرا ہے یہ معلول ہے کیوں آپ کا ہے علت کیا ہے اس کی کہ آپ نے زید سے تو دیکھو جو غیر پر دعوی تھا اس سے خریدنے کا جو دعوی تھا وہ سبب لازمی ہے کس کے لیے؟ اس دعوے کے لیے جو آپ کس پر کر رہے ہیں؟ حاضر پر کر رہے ہیں.
تو اب یہ جو حاضر ہے اس غائب کا نائب بن گیا حکما بھئی اس لیے کہ اس پر جو دعوی ہے وہ سبب ہے اور اس پر جو دعوی ہے وہ اس کا مسبب ہے بھئی تو یہ اس کا کیا بن گیا نائب حکما اب آپ اس غائب کے خلاف بینہ بھی سن سکتے ہیں اور اس پر فیصلہ بھی کر سکتے ہیں اور یہ فیصلہ حاضر اور غائب دونوں کے خلاف شمار ہوگا.
حاضر اور غائب دونوں کے خلاف ہاں تو وہ غائب کا تو یہ نائب حکمی بن چکا ہے تو اس کا جب نائب آ گیا تو نائب کے ہوتے ہوئے کیا کیا جا سکتا ہے بینہ بھی سنی جا سکتی ہے اور فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے.
تو اب آپ بینہ پیش کریں گے دو گواہ بھئی پیش کریں گے کہ یہ مکان میں نے زید سے خریدا تھا قاضی اب اس کو سنے گا اگرچہ زید خود نہیں حاضر لیکن اس کا نائب حکمی تو حاضر ہے پھر جب بینہ ہو گیا تو قاضی اب آپ کے حق میں فیصلہ کر دے گا بھئی اور یہ جو جس کے قبضے میں مکان ہے اس سے آلہ لے کر آ کے حوالے کر دے گا.
سمجھ میں آیا بھئی؟ اب زید جس سے آپ نے مکان خریدا تھا وہ بعد میں آ کے ہزار انکار کرتا رہے نہیں بھئی اب اس کا انکار معتبر نہیں اس کے خلاف کیا ہو چکا ہے فیصلہ اس کے نائب کی موجودگی میں ہوا تھا کسی بغیر نائب کے فیصلہ نہیں.
समझ میں آیا تو اس سے خریدنا یہ سبب تھا غائب پر جو دعوی تھا وہ سبب تھا کس پر اس حاضر پر جو دعوی ہے یعنی کہ یہ مکان میری ملکیت ہے تو جب بھی کوئی چیز خریدی جائے آدمی اس کا کیا بن جایا کرتا ہے مالک تو وہ خریدنا تھا سبب لازمی یعنی علت تھا کس کے لیے؟ ملکیت کے لیے.
بات بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ یہ بات آپ کو سمجھ میں آگئی ہے اچھی طرح.
اب سنو تقریر بھئی یہ مقدمہ تھا اس کی بات اب آخر میں جا کر ہم کریں گے.
بعض علماء نے یہ جو مسئلہ متن میں ذکر ہوا کہ کسی نے کوئی چیز خریدی ہو تو پھر اور آگے بیچ دے اس کو پھر قاضی کے فیصلے کی وجہ سے اس کو وہ چیز واپس کی جائے اور وہ قاضی کا فیصلہ اقرار کی وجہ سے ہو یا بینہ کی وجہ سے ہو یا نقول کی وجہ سے ہو تو اب یہ شخص کیا کر سکتا ہے؟ بائے اول کو وہ چیز واپس یہ متن میں مسئلہ گزرا تھا اس کی ابھی تک تقریر چل رہی ہے.
بعض علماء اس کی یہ تقریر کرتے ہیں کہ بھئی یہ جو آپ ہیں آپ نے کس سے خریدا ہے؟ زید سے خریدا تھا اور آپ نے آگے کس کو بیچا تھا؟ بکر کو اور بکر نے آپ کو اب واپس کی ہے کس وجہ سے؟ عیب کی وجہ سے قضا بالاقرار کی وجہ سے یا قضا بالبینہ کی وجہ سے یا قضا بالنقول کی وجہ سے تو اب آپ بائے اول کو واپس کر سکتے ہیں.
کہتے ہیں یہ اس صورت میں ہے جب اس نے یہ جو بائیس مشتری ثانی ہے اس نے یہ دعوی کیا ہو کہ یہ عیب زید کے پاس تھا یہ چیز جو تھی اس کے اندر عیب کس کے پاس موجود تھا؟ زید کے پاس زید کے پاس بھی موجود تھا اور اس پر وہ کیا کرتا ہے بینہ کر اس پر فیصلہ کرتا ہے قاضی تو یہاں دو صورتیں ہیں اس کی وہ چیز واپس کرنا چاہتا ہے وہ کہتا ہے اس چیز کے اندر عیب ہے قاضی صاحب یہ چیز واپس کروائی جائے بھئی میں واپس کرنا چاہتا ہوں تو یا تو وہ یہ کہے گا کہ یہ عیب کس کے پاس تھا؟ جس سے میں نے خریدی ہے اسی کے پاس عیب تھا یہ موجود تھا یا عیب کس کے پاس تھا بھئی؟ زید کے پاس تو وہ صورت جس میں اس کا دعوی یہ ہو کہ یہ عیب کس کے پاس تھا؟ زید کے پاس تو اب چیز آپ کو واپس ہوئی ہے تو آپ بھی کیا کر سکتے ہیں زید کو رد کر سکتے ہیں اور اگر اس نے یہ دعوی کیا صرف کہ عیب آپ کے پاس تھا زید کی کوئی بات ہی وہ نہیں کرتا تو اس صورت میں اب آپ کو زید کو چیز واپس کرنے کا حق نہیں ہے.
صورت سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے بھئی و قد قیل اور تحقیق کہا گیا ہے ہذہ المسئلۃ فیما یہ مسئلہ اس صورت میں ہے اذا دعاء المشطری الثانی جب دعوی کیا مشتری ثانی نے علی المشطری الاولی مشتری اول پر کیا دعوی کیا کہ ان العیب کان فی ید البائع الاولی یہ عیب تو کس کے پاس بھی تھا؟ بائے اول یعنی زید کے پاس بھی تھا رحمکم اللہ تو پھر اب آپ اس چیز کو زید کو واپس کر سکتے ہیں بھئی تو اب مشتری ثانی کے لیے مشتری اول کے لیے جائز ہے کہ وہ کیا کرے مخاصمت کرے کس سے؟ بائے اول پر بھئی.
اما اذا دعاء اگر اس نے یہ دعوی کیا کہ عیب کا فی ید المشطری الاول کہ وہ عیب آپ کے پاس تھا زید کی تو اس نے بات ہی نہیں کی تو اب وہ اس چیز کے بائے کے ساتھ خصومت آپ اس بائے کے ساتھ خصومت یہ بعض علماء نے تقریر کی بھئی.
اقول فیہ نظر صاحب شرح وقایہ فرما رہے ہیں کہ میں کہتا ہوں اس قول میں اشکال ہے بھئی.
اس صورت یہ جو قول انہوں نے کیا کہ یہ رد کرنا اس صورت میں ہے جب اس نے دعوی بھی کیا ہو کہ یہ عیب کس کے پاس تھا؟ بائے اول کے پاس تھا تو پھر واپس کر سکتا ہے کہتے ہیں اس قول میں اشکال ہے.
کہتے ہیں کیوں؟ دیکھیے بھئی.
کہتے ہیں اس لیے کہ چاہے وہ یہ دعوی کرے کہ عیب آپ کے پاس تھا مشتری ثانی چاہے وہ یہ دعوی کرے کہ یہ کس کے پاس تھا؟ بائے اول کے پاس تھا دونوں صورتوں میں جو بھی فیصلہ ہوگا وہ آپ کے خلاف تو ہوگا بائے اول کے خلاف نہیں.
بائے اول کے خلاف نہیں کیونکہ بائے اول تو غائب ہے بائے اول تو کیا ہے؟ غائب ہے اور غائب کے خلاف تو بینہ قاضی سن ہی نہیں سکتا صرف ایک صورت میں سن سکتا ہے جبکہ بائے غائب پر جو دعوی ہو وہ سبب ہو کس کے لیے؟ اس دعوے کے لیے جو کس پر ہے حاضر پر ہے اور یہاں غائب پر جو دعوی ہے وہ سبب نہیں ہے اس دعوے کا جو کس پر ہو رہا ہے حاضر پر صورت سمجھ میں آرہی ہے؟
تو کہتے ہیں بھئی انہوں نے ان علماء نے کتنی صورتیں بنائیں؟ دو صورتیں ایک صورت یہ کہ وہ مشتری ثانی کس پر عیب کا دعوی کرتا ہے؟ بائے اول پر بھئی کہ اس کے پاس عیب تھا ایک صورت یہ کس پر دعوی کرتا ہے؟ بائے وہ بائے اول جو تھا اس پر کیا کرتا ہے عیب کا دعوی کرتا ہے تو اگر اس نے آپ مشتری اول پر عیب کا دعوی کیا تو اس کو چیز واپس کی جائے گی لیکن یہ پیچھے واپس نہیں کر سکتا لیکن اگر اس نے وہ زید جو پہلا بائے تھا اس پر عیب کا دعوی کیا تو اب اس کو چیز واپس کر دی جائے گی اور اسے بھی آگے کیا ہوگا خصومت کا حق حاصل یہ ان علماء نے صورت بیان کی صاحب شرح وقایہ فرما رہے ہیں کہ نہیں بھئی یہ بات درست نہیں بنتی اس لیے کہ دونوں صورتوں میں چاہے یہ مشتری اول پر دعوی کرے تو
ولو قال البائع بعد التقابض بعتك هذا المعيب مع آخر وقال المشري بل هذا وحده فالدول له.
اس مسئلہ کو سمجھنے سے پہلے ایک ضابطہ یاد رکھیں۔
کہ جب بھی مقبوض کی مقدار میں اختلاف آ جائے تو قابص کا قول معتبر ہے.
جب بھی مقدار مقبوض میں اختلاف واقع ہو.
جب بھی مقدار مقبوض میں اختلاف واقع ہو تو قابص کا قول معتبر ہے.
صورت مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے کسی شخص سے کوئی چیز خریدی اور ثمن اس کے حوالے کر دیے آپ نے مبیع پر قبضہ کر لیا تو اس نے دیکھو ثمن پر وہ قبضہ کر چکا ہے اور آپ مبیع پر قبضہ کر چکے ہیں اس کے بعد اس مبیع میں کوئی عیب آپ کو من ملتا ہے جو بائے کے پاس سے آیا ہے تو آپ اس چیز کو لے گئے واپس بائے کے پاس کہ بھئی یہ آپ نے جو چیز فروخت کی ہے یہ عیب دار ہے یہ واپس لو میرے ثمن میرے حوالے کرو.
وہ کہتا ہے ہاں ٹھیک ہے بھئی لاؤ بھئی یہ چیز دو بھئی.
میں نے آپ سے کتنے پیسے مثلاً لیے تھے بائے کہتا ہے ایک لاکھ لیا تھا بھئی.
مثلاً آپ کیا چیز خراب لے کر گئے بھئی مثلاً غلام تھا بھئی آپ ایک غلام لے گئے بھئی یہ عیب دار ہے یہ واپس لو بھئی میرے ایک لاکھ روپے مجھے واپس کرو بھئی.
وہ کہتا ہے ہاں ٹھیک ہے میں واپس کرتا ہوں ایک لاکھ روپیہ لیکن دوسرا غلام کدھر ہے بھئی؟
کیا مطلب بھئی بھئی آپ دو لے کر گئے تھے میرے سے بھئی اس ایک لاکھ میں کتنے لے کر گئے تھے؟ دو لے کر گئے تھے.
آپ کہتے ہیں نہیں بھئی ایک ہی ایک لاکھ میں لے کر گیا تھا تو اب مقدار مقبوض میں بھئی مبیع کے اندر اختلاف آ گیا وہ کہتا ہے کہ ایک چیز تھی ایک دو چیزیں تھیں ایک لاکھ میں اور آپ کیا کہتے ہیں ایک چیز ایک تھی تو اب یاد رکھیں قول قابض کا معتبر اور قابض کون تھا؟ مشتری تھا بھئی مشتری.
سمجھ میں آیا تو اختلاف آیا مقبوض کے اندر اور وہ تو قابض ہی کو پتہ ہوگا لہذا قول بھی قول بھی اسی کا معتبر کیا معنی قول اسی کا معتبر؟
یعنی قسم اس سے لی جائے گی معلوم ہوا دوسرے پر کیا آ جائے گی بینہ خود بخود بھئی سمجھ میں آیا ہاں تو دوسرے اب اگر وہ اس نے کہا ہے تو آپ دو لے کر گئے ہیں تو اب اس کے ذمے بینہ پیش کرنا ہے بینہ نہیں کرتا پیش تو پھر آپ قسم کس کے ذمے ہے؟ آپ کے ذمے ہے آپ قسم اٹھائیں گے اور چیز واپس کر دیں گے بھئی.
صورت سمجھ میں آگئی بھئی ولو قال البائع بعد التقابض اگر بائے نے کہا تقابض کے بعد بھئی تفاعل باب آیا ہے یہ دو طرفین سے فعل کا تقاضا کرتا ہے معلوم ہوا دونوں طرف سے بدلے پر کیا ہو چکا ہے قبضہ ہو چکا ہے وہ ثمن پر قبضہ کر چکا ہے آپ مبیع پر قبضہ کر چکے ہیں اور اگر بائے نے کہا تقابض کے بعد بعتك هذا المعيب میں نے بیچا تھا تجھے یہ والے عیب دار مع الآخر ساتھ ایک اور کے بھی وقال المشتری بل هذا وحده مشتری کہتا ہے بلکہ یہ ایک ہی بیچا تھا.
فالقول له ای للمشتری تو قول کس کا معتبر بھئی؟ مشتری کا بھئی بین السطور لکھا ہے ای بائے غلط لکھا ہے بھئی قابض کا قول معتبر ہے بھئی سمجھ میں آیا کتاب میں میں نے بتایا جگہ جگہ کتابت کی غلطیاں ہیں بھئی.
ای اذا ظهر في المبیع بعد التقابض عیب جب ظاہر ہو جائے مبیع میں دونوں ت جانبین سے قبضے کے بعد عیب کوئی ظاہر ہو جائے فردہ المشتری تو رد کرتا ہے اس کو مشتری وطلب الثمن اور ثمن طلب کرتا ہے فیقول البائع تو بائے کہتا ہے هذا الثمن مقابل بهذا الشيء مع شيئي آخر کہ یہ جو ثمن تھے یہ جو ایک لاکھ روپے تھے یہ تو مقابلے میں ہیں اس چیز کے بھی مع شيئي آخر ساتھ ایک اور چیز کے یعنی دو چیزوں کے مقابلے میں ہیں ویقول المشتری اور مشتری کہتا ہے بل هو مقابل بهذا الشيء وحده بلکہ یہ جو ثمن ہے یہ تو صرف اس ایک ہی چیز کے بدلے میں ہیں مقابلے میں ہیں فالقول له ای فالقول للمشتری پھر نیچے بائے لکھا ہے غلط لکھا ہے قول کس کا معتبر؟ مشتری کا ای مع اليمين کس کے ساتھ بھئی؟ یمین کے ساتھ لان الاختلاف وقع في مقدار المقبوض اس لیے کہ اختلاف واقع ہوا ہے مقبوض چیز کی مقدار میں جس پر قبضہ کیا گیا اس کی مقدار میں اختلاف واقع ہوا ہے فالقول للقابض تو قول کس کا معتبر؟ قابض کا معتبر بھئی کما فی الغصب جیسے کس کے اندر؟ غصب کے اندر.
جیسے غصب کے اندر بھئی۔
بھئی غصب کے اندر بھی دیکھیے ایک شخص تھا اس نے آپ کا غلام آپ سے چھین کے لے گیا بھئی یا کوئی اور چیز آپ کی چھینی لے گیا بھئی.
پھر وہ واپس کرتا ہے آپ کی چیز اور۔
مثلاً گاڑی غصب کی تھی اس نے واپس کی آپ نے کہا بھئی دو گاڑیاں تم نے تو غصب کی تھیں ایک نہیں اختلاف آ گیا وہ کہتا ہے نہیں بھئی میں نے تو ایک ہی گاڑی غصب کی تھی اب آپ کیا ضابطہ لگائیں گے بھئی؟ مقبوز کی مقدار میں کیا آیا ہے؟ اختلاف تو کس کا قول معتبر؟ قابض کا تو وہ غاصب قابض تھا اس کا قول معتبر معلوم ہوا اب آپ کے ذمے بینہ ہے آپ بینہ نہیں پیش کر سکتے تو اس کو کیا دی جائے گی؟ قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہوگا.
جیسے کہ غصب میں ہوتا ہے تو یہاں بھی اسی طرح ہوگا وکذا اذا اتفق في قدر المبيع واختلفا في المقبوض دوسری صورت بھئی.
بھئی آپ میں آپ نے زید سے دو گاڑیاں خریدیں بھئی اس بات پر تو آپ کا بھی اتفاق ہے زید کا بھی اتفاق ہے وہ بھی کہتا ہے میں نے بھئی یہ دس لاکھ میں دو گاڑیاں آپ کو بیچی آپ بھی کہتے ہیں میں نے دس لاکھ میں دو گاڑیاں لیکن اختلاف آیا مقبوض کی مقدار میں آپ نے کہا بھئی میں نے صرف ایک پر قبضہ کیا ہے مجھے صرف ایک گاڑی ملی ہے وہ کہتا ہے نہیں آپ دونوں لے جا چکے ہو تو اب کس میں اختلاف آیا مقدار مقبوض کے اندر بھئی اور اس میں پھر کس کا قول معتبر؟ قابض کا قول معتبر ضابطہ میں آپ کو لکھوا چکا ہوں بھئی اور قابض کون ہے؟ مشتری ہے لہذا بای کے ذمے بینہ آ جائے گی اور مشتری کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا بھئی.
وكذا اذا اتفق في قدر المبيع اسی طرح اگر دونوں نے اتفاق کیا اتفاقا تثنیہ کا صیغہ ہے صیغہ ہے بای اور مشتری دونوں نے اتفاق کیا فی قدر المبيع مبیع کی مقدار میں آپ نے بھی کہا دس لاکھ میں دو گاڑیاں خریدی ہیں وہ بھی کہہ رہا ہے ہاں دس لاکھ میں دو گاڑیاں مبیع میں اختلاف نہیں ہے اتفاق ہے واختلفا في المقبوض لیکن دونوں نے اختلاف کیا کس میں؟ مقبوض کے اندر فقال المشتري قبست احداهما مشتری کہتا ہے میں نے ایک پر قبضہ کیا ہے فقط بھئی وقال البائع بل قبضتهما بائے کہتا ہے بلکہ تم نے دونوں پر قبضہ کر لیا ہے فالقول للمشتری تو قول مشتری کے لیے ہوگا علی ما مر بنا اسی کے جو گزر گئی کہ قول کس کا معتبر ہوتا ہے؟ قابض کا بھئی.
ولو اشترى عبدين صفقةً جی.
یہ وہ مسئلہ ہے جس کا مصنف شارح نے آپ سے وعدہ کیا تھا بھئی صفحہ نمبر 30 ذرا نکالیے بھئی.
صفحہ 30 بھئی.
دوسری سطر میں آ رہا ہے یہ یہاں پر آپ کو بتلایا تھا مصنف نے خیار رویت کے باب کے آخر میں کہ خیار عیب جو ہے قبل القضب وہ مانع ہے تمام عقد سے لیکن بعد القضب مانع نہیں ہے تمام عقد سے تمام اور تمام عقد سے اور کہا تھا اس کا یہ ظاہر ہوگا اس مسئلے میں جو آ رہا ہے وہی قولہ ولو اشترى عبدين صفقةً بھئی دیکھا وہ مسئلہ آج آ گیا.
ولو اشترى عبدين صفقةً وقبض احداهما ووجد به أو بالآخر عیبا أخذ هما أو رد هما ولو قبضهما رد المعيب خاصةً بھئی ضابطہ یہ بھئی۔
کہ تفرق صفقة.
تفرق صفقة.
قبل القبض جائز نہیں.
جی یہ تو متن میں بھی بات شرح کے اندر خود آ جائے گا یہ ضابطہ صراحت ہی انہی لفظوں سے انہوں نے لکھا ہوا ہے ضابطہ کیا ہوا بھئی تفرق صفقة قبل القبض جائز نہیں اور تمام عقد کس سے ہوا کرتا ہے قبضے سے بھئی.
تو یہ معلوم ہوا تفرق صفقة قبل القبض جائز نہیں ہاں تفرق صفقة بعد القبض جائز ہے بھئی دیکھیے بھئی اب صورت مسئلہ یہ بھئی۔
آپ نے ایک ہی عقد کے ساتھ دو چیزیں اکٹھی خریدیں۔
اور پھر ان دونوں میں سے ایک میں عیب کا پتہ چلا آپ کو تو اب کیا کریں گے بھئی ایک اس صرف عیب دار کو واپس کریں یا دونوں کو واپس کرنا پڑے گا بھئی۔
کہتے ہیں بھئی قبل القبض اور مسئلہ ہے بعد القبض اور مسئلہ ہے قبل القبض ہے تو پھر اب تفرق صفقة قبل القبض تو جائز نہیں ایک کو رکھیں اور ایک کو واپس کر دیں یہ درست نہیں لہذا کیا کرنا پڑے گا؟ دونوں رکھو یا دونوں رد کرو.
ہاں اگر آپ قبضہ کر چکے ہیں تو عقد تام ہو چکا ہے بھئی اور تو اب تفرق صفقة بعد تمام العقد جائز ہے تو ایک کو رکھ لیں اور صرف عیب دار کو کیا کر دیں؟ یہ جائز ہے بھئی.
ولواشترى عبدين صفقةً اگر خریدا کسی نے دو غلاموں کو صفقةً ایک ہی عقد کے ساتھ بھئی۔
ایک ہی عقد کے ساتھ بھئی۔
تو صفقة کا ایک معنی عقد کے بھی آتے ہیں ایک عقد کے ساتھ۔
یہ یوں कहें ایک ہی ایجاد کے ساتھ ایجاب و قبول۔
سمجھ میں آیا بھئی تو ہاں اگر دونوں کا ایجاب الگ الگ ہوا ہے پھر تو دو بیع ہیں پھر پھر الگ مسئلہ ہے بھئی سمجھ میں آیا.
ولواشترى عبدين خریدا کس نے دو غلاموں کو صفقةً ایک ہی عقد سے وقبض احداهما اور قبضہ کیا ایک پر ووجد به أو بالآخر عیبا اور پایا اس میں یا دوسرے میں عیب.
ایک پر تو قبضہ کر چکا ہے ایک پر قبضہ کر لیا اور دوسرے کے اندر عیب پایا دوسرے کے اندر عیب پایا.
أخذ هما أو رد هما چاہے تو دونوں کو رکھے اور چاہے تو دونوں کو کیونکہ قبضہ بھی پورا ہوا ہے دونوں پر قبضہ تو ابھی ایک پر اس نے کیا ہے دوسرے پر ابھی قبضہ ہی نہیں کیا تو اب اگر ایک کو واپس کرتا ہے تو یہ قبل تمام العقد تفرق صفقة لازم آئے گا جو جائز نہیں ولو قبضهما اگر دونوں پر قبضہ کر چکا ہے کر چکا ہے رد المعيب خاصةً تو عیب دار کو واپس کر دے گا خاص طور پر.
لان الصفقة إنما تتم بالقبض اس لیے کہ عقد تام ہوتا ہے قبضے کے ساتھ فقبل القبض لا يجوز تفرق الصفقة تو قبضے سے پہلے تفرق صفقة جائز نہیں بھئی.
وبعد القبض يجوز اور قبضے کے بعد جائز ہے.
وكلي أو وزني قبضا.
بھئی آپ نے کوئی کیلی ماپی جانے والی چیز خریدی یا وزن کی والی چیز خریدی بھئی۔
اور اس پر قبضہ بھی کر لیا.
گندم خریدی بھئی آپ نے سو کافیس اور اس پہ قبضہ کر چکے ہیں یا چینی خریدی آپ نے 100 کلو اور اس میں قبضہ کر چکے ہیں بھئی اب اس میں سے کچھ کے اندر عیب آ پایا گیا بھئی کچھ میں کیا پایا گیا؟ عیب پایا گیا.
اب کیا کریں؟
صرف عیب دار کو واپس کرے گا یا ساری کو واپس کرے گا کہتے ہیں بھئی کیلی اور وزنی چیز ایک ہی چیز شمار ہوتی ہے کیلی ساری کی ساری کیا شمار ہوگی؟ ایک چیز جتنی گندم آپ نے ایک ساتھ خریدی ہے وہ شئے واحد شمار ہوتی ہے لہذا بات کو رکھ لیں بات کو رد کر دیں یہ درست نہیں ہے بھئی درست نہیں ہے.
अच्छा.
درست نہیں.
لذا رکھنی ہے تو ساری رکھو واپس کرنی ہے تو ساری اس لیے کہ یہ شئے واحد ہے ہاں کئی چیزیں ہیں کیلی گندم بھی خریدی جو بھی خریدی اس طرح کوئی اور تین چیزیں ہیں تو اب صرف کیا کر سکتا ہے بھئی.
جی معیوب چیز جو عیب والی ہے وہ واپس کر لے اور باقی رکھ لے کیونکہ یہ کیا ہو گئیں چیزیں مختلف ہو گئیں بھئی اور تفرق صفقة بعد تمام العقد کیا ہے؟ جائز ہے.
جبکہ وہ تو ایک ہی چیز شمار ہو رہی ہے اس میں نہیں کر سکتا وکلي أو وزني قبضا قبيضا فوبضا پڑھیں مولانا نہ عبادت کا ترجمہ غور سے سننا فعل مجہول آیا نکرہ کے بعد آیا تو اس کی صفت بنائیں گے اور موصوف سے پہلے ایسا کا لفظ دیکھیے بھئی وکیلی أو وزنی ایسی کیلی چیز أو وزني یا ایسی وزنی چیز قبضا جس پر کیا کر لیا گیا ہے؟ قبضہ کر لیا گیا ہے.
إن وجد ببعضه عيبا اگر اس کے بعض کے اندر مشتری نے عیب پایا رد كله أو اخذه تو ساری کی ساری کو واپس کر دے گا یا ساری کو لے لے گا بھئی.
سمجھ میں آیا اب آپ یہ نہیں کہہ سکتے بھئی تفرق صفقة ہے تمام العقد کے بعد اور کوئی حرج نہیں نہیں یہ تو شئے واحد ہے مولانا دو چیزیں تین چیزیں ہوتی تو پھر تفرق صفقة میں کوئی حرج نہیں تھا بھئی.
لأنہ إذا كان من جنس واحد فهو كشئے واحد اس لیے کہ جب یہ ایک ہی جنس سے ہوں تو یہ شئے واحد کی طرح ہیں ہاں کئی چیزیں ہوں تو پھر الگ.
وقیل اور بعض فقہاء فرماتے ہیں ھذا یہ مسئلہ یہ حکم اس وقت ہے اذا كان في وعاء بھئی کہتے ہیں یہ اس وقت مسئلہ ہے جب یہ ایک ہی برتن کے اندر ہوں بھئی.
ایک ہی بوری میں آپ گندم لے گئے بھئی ایک ہی بوری میں خریدی ہے آپ نے بھئی.
تو پھر یہ مسئلہ ہے رکھنے ہے تو ساری رکھو واپس کرنی ہے تو واپس کرو ہاں اگر دو برتنوں میں تھی بھئی دو بوریوں میں تھی الگ الگ بوریوں میں تو پھر عیب والی بوری کو خاص طور پر کیا کر سکتے ہیں آپ واپس کر سکتے ہیں.
وقيل وقال اور کہا گیا ہے ھذا یہ حکم اذا كان في وعاء واحد اس وقت ہے جب وہ ایک ہی برتن میں ہوں حتی لو كان في وعائين یہاں تک کہ اگر وہ دو برتنوں میں تھی وہ چیز فہو بمنزلۃ عبدین تو پھر وہ کس کے درجے میں ہے؟ دو غلاموں کو دو چیزوں کے درجے میں ہے فرد الوعاء الذي فيه المعيب تو واپس کر دے اسی برتن کو جس کے اندر وہ عیب دار چیز تھی.
ولواستحق بعضه لم يرد باقيه بخلاف الثوب.
صورت مسئلہ یہ ہے بھئی۔
آپ نے گندم خریدی کسی سے۔
دس بوری گندم آپ نے خرید لی بھئی۔
اور پھر اس پر قبضہ بھی کر لیا۔
قبضے کے بعد پتہ چلا بھئی ادھر سے امر دوڑتا ہوا آیا بھئی کہ بھئی اس میں سے تو پانچ بوری میری ہے زید نے کیا کیا ہے؟ پانچ بوری میری آپ کے ہاتھ فروخت کر دیں یہ میری ہیں بھئی.
اب کیا کریں بھئی کچھ کا مالک کوئی اور نکل آیا مستحق کوئی اور نکل آیا بھئی غیر کی چیز اس نے آپ کو بیچ دی ہے.
تو کہتے ہیں اب اس کی چیز اس کو واپس کر دو اور اس کے جو ثمن بنتے ہیں وہ بائے سے وصول کر لو پانچ بوریاں اس کی دے دو اور جتنے اس کے ثمن بنتے ہیں وہ کس سے وصول کر لو؟ بائے سے وصول کر لو بھئی.
ہاں باقی پانچ بوری جو ہیں ان کو واپس نہیں کر سکتا بھئی واپس نہیں کر سکتا بھئی.
واپس نہیں کر سکتا.
اس لیے کہ اگرچہ یہاں پر تقسیم آ رہی ہے لیکن کیلی اور وزنی چیز کے اندر تقسیم نقصان دہ نہیں.
عیب شمار ہوتی ہے بھئی تقسیم ان کے اندر ان میں کوئی عیب آتا ہے ان کے حصے الگ کر دو بھئی الگ الگ کوئی عیب نہیں آتا بھئی.
جبکہ اگر کوئی ایسی چیز ہوئی جس کے اندر تقسیم کیا کرتی ہے عیب پیدا کر دیتی ہے تو اس صورت میں پھر اب آپ اس چیز آپ کو اختیار ہوگا آپ بقایا کو
ولابيع طير في الهواء ينبغي أن يكون باطلا كبيع الصيد قبل أن يصطاد وبيع الحمل والنتائج.
ينبغي أن يكون باطلا لان النتاج معدوم فلا يكون مالا والحمل مشكوك الوجود و.
بھئی کل آپ نے مچھلی کا مسئلہ پڑھا تھا کہ مچھلی کی شکار کرنے سے پہلے اس کی بیع جائز نہیں باطل ہے کیوں؟ کیونکہ وہ بتلایا مال متقوم نہیں ہے اس میں احراز نہیں ہے ابھی آپ کا قبضہ ہی نہیں ہے تو اس کی قیمت کہاں سے جب قیمت ہی نہیں ہے تو اس کو بیچتے کیسے ہو بھئی قبضہ آئے گا ملکیت آئے گی تو پھر کیا کر سکتے ہیں اس کو بیچ سکتے ہیں.
اور اگر آپ کے قبضے میں ہے بھی یہ بھی مسئلہ آپ نے پڑھا تالاب کے اندر ہے لیکن اگر تلاف بڑا ہے اور آپ اس مچھلی کو بغیر حیلے کے سپرد کرنے پر قادر نہیں تو یہ بھی بیع فاسد ہے بھئی کیا ہے؟ فاسد.
تو لہذا جو بھی چیز غیر مقدور التسلیم ہو اس کے اندر بیع فاسد ہے اس کے سپرد کرنے پر انسان قادر نہ ہو ضابطہ یاد رکھنا یہ جگہ جگہ کام آئے گا.
جس چیز کے سپرد کرنے پر انسان قادر نہ ہو اس کے اندر بیع کیا ہے؟ فاسد ہے تو وہ مچھلی بھی غیر مقدور التسلیم تھی آپ آسانی سے بھئی بغیر حیلے کے اس کے سپرد کرنے پر قادر نہیں بھئی بلکہ آپ کو تدبیر کرنا پڑے گی کسی طرح اس کو پکڑنا پڑے گا کوشش کرنا پڑے گی.
پھر جا کے ہاتھ آئے گی تو بیچ سکتے ہیں.
تو کہتے ہیں ولا بيع طير في الهواء اي لا يصح بيع طير اور صحیح نہیں ہے پرندے کی بیع ہوا کے اندر.
بھئی صاحب کتاب کئی مسائل ذکر کرتے جا رہے ہیں اور سب کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں لا يجوز أو لا يصح بھئی.
اور صاحب شرح وقایہ نے کہا تھا میں بتلاتا جاؤں گا کہاں بیع باطل ہے کہاں فاسد اگرچہ جائز ناجائز کے اندر تو دونوں آگئے تھے اب بتلاتے جا رہے ہیں اور نہ ہی جائز نہیں ہے اي لا يصحو.
جائز نہیں ہے بھئی يا لا يصح صحیح نہیں ہے پرندے کی بیع ہوا کے اندر بھئی یہ کون سی بیع فاسد یا باطل.
بتلا رہے ہیں بھئی ينبغي أن يكون باطلا مناسب یہ ہے کہ اس بیع کو کیا ہونا چاہیے؟ باطل ہونا چاہیے كبيع الصيد قبل أن يصطادا جیسے کہ شکار کی بیع شکار کرنے سے پہلے وہ کیا ہے؟
جی شکار کرنے سے.
تو جیسے اس کی بیع شکار ہونے سے پہلے باطل ہوتی ہے اس لیے کہ وہ مال متقوم نہیں اس لیے کہ ابھی یہ مالک نہیں قبضہ نہیں ہے اس کی ملکیت آئے گی تو پھر کیا آئے گا تقویم مقیمت والی چیز بنے گی اور قیمت والی بنے گی تو مال متقوم ہوا اب اس کی بیع.
وبيع الحمل والنتائج.
جی.
بیع حمل بھی درست نہیں نتائج کہتے ہیں بھئی نتاج حمل کے حمل کی بیع.
حمل کے حمل کی بیع.
بیع عرب کے اندر یہ طریقہ رائج تھا بھئی وہ عمدہ نسل کے او اونٹنی وغیرہ ہوتی تو.
اور عمدہ نسل کے گھوڑے ہوتے تو ان کی حمل ہی کو خرید لیا کرتے تھے کیا کرتے تھے؟ حمل ہی کو خرید لیا کرتے تھے کیونکہ پیدائش کے بعد تو گاہک بڑے زیادہ ہوتے تھے تو جو عمدہ نسل کے اونٹ ہوتے ان کے حمل کو ہی خرید لیتے بھئی اسی طرح عمدہ نسل کے جو گھوڑے ہوتے ان میں ان کے حمل ہی کو کیا کر لیتے تھے؟ خرید لیتے تھے بھئی.
لیکن اس سے منع کیا گیا بھئی اسلام میں جائز نہیں.
اس لیے کہ حمل تو مشکوک الوجود ہے بھئی.
حمل کیا ہے؟ مشکوک الوجود حمل کا پتہ ہی نہیں بھئی اب وہ مادہ کا پیٹ پھولا ہوا ہے پتہ نہیں حمل کی وجہ سے پھولا ہے یا ہو سکتا ہے کسی بیماری کی وجہ سے پھولا ہو بھئی.
سمجھ میں آیا تو مشکوک اور جو چیز مشکوک الوجود ہو یا معدوم ہو اس کی بیع درست نہیں بھئی.
جی اور نتاج کہتے ہیں بھئی یہ حمل کا حمل.
یہ بھی عرب کرتے تھے بھئی عرب میں گھوڑے بڑے کم ہوتے.
تو یا وہ جانور خریدنے لگے عمدہ قسم کے اونٹ ہیں بھئی تو اس کا حمل خریدتے ہیں یا گھوڑوں کی نسل ہیں اس کے حمل کی بیع کرتے ہیں بھئی.
مالک کہتے ہیں نہیں بھئی میں حمل بھی نہیں بیچتا.
تو پھر کہتے ہیں چلو حمل نہیں بیچتے تو آگے حمل کا حمل اگر یہ حمل مادہ ہوئی تو اس کا جو آگے حمل ہوگا وہ کیا کر دو مجھے بیچ دو بھئی تو اس میں تو اور زیادہ خرابی ہے بھئی حمل خود مشکوک الوجود ہے تو آگے حمل کا حمل تو کیا ہوا بھئی؟ وہ تو بالکل معدوم ہے بھئی.
تو وہ بھی درست نہیں بھئی.
وبيع الحمل والنتاج اور حمل اور نتاج یعنی حمل کے حمل کی بیع بھی صحیح نہیں ہے جائز نہیں ہے ينبغي أن يكون باطلا بھئی مناسب یہ ہے کہ یہ بیع باطل ہونی چاہیے.
देखا شرح وقایہ والے بتاتے جا رہے ہیں لما ذكر في الطير في الهواء وجہ اس کی جو ذکر کی گئی طیر فی الهواء کے مسئلے میں بھئی وہ پرندے جو ہوا میں تھے چونکہ وہ ان میں احراز نہیں مال متقوم نہیں تو یہاں بھی نہیں.
والمنزابنة مزابنة بھی بھئی جائز نہیں.
بیع مزابنة.
بھئی یہ کسے کہتے ہیں آپ کو خود بتائیں گے پہلے آپ سمجھ لیں اس کو.
بھئی ایک بیع مزابنة رائج تھی عربوں میں ایک بیع محاقلہ بھئی.
سمجھ میں آیا.
بیع مزابنة اس کو کہتے تھے.
کہ ایک شخص کے کھجوریں پکنے والی ہیں درختوں پر لگی ہیں ابھی پکی نہیں ہیں اور اسے کھجوروں کی ضرورت پڑ گئی تو وہ دوسرے شخص سے کہتا یہ جو آپ کے پاس یہ 10 من کھجوریں ہیں یہ مجھے دے دو اور یہ میرے درختوں پر تقریبا اتنی ہی کھجوریں ہیں یہ چند دن میں پکنے والی ہیں جب یہ پک جائیں تو یہ آپ لے لینا بھئی.
یہ کیا کر لینا.
اس کو کیا کہتے تھے بھئی مزابنة مزابنة.
یعنی پھل کی پھل کے بدلے بیع ہو رہی ہے.
کھجور کے کھجور کے بدلے یہ کیوں نہیں جائز؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اس میں ربا ہے بھئی ربا سود اس لیے کہ ایک طرف بھی کھجور دوسری طرف بھی کھجور.
اور مکیلات اور موزونات میں سے ہو اور جنس بھی ایک ہو تو اس صورت میں آپ نے کیا پڑھا ہے کہ برادری ہونی چاہیے اور نیز ادھار بھی نہیں ہونا چاہیے تو یہاں دو خرابیاں لازم آرہی ہیں ایک ابھی نقد مل رہی ہے دوسری اس کو کب ملے گی؟ مہینے بعد ملتی ہے یا 15 دن بعد ملتی ہے تو ادھار بھی آیا نیز جنس ایک ہے اور جنس ایک کو تو آپ نے پڑھا ہے کہ پھر دونوں کیا ہونے بالکل برابر ہونے چاہیے بالکل برابر ہونے چاہیے کمی بیشی کی وہاں گنجائش نہیں ورنہ ربا لازم آئے گا تو یہاں تو اندازے سے کہہ رہا ہے بھئی پوری اتنی ہوگی کھجوریں؟
پوری اتنی نہیں اندازہ ہے کمی زیادتی ہو سکتی ہے اگر پوری بھی ہوں بالکل برابر بھی ہوں پھر بھی ایک طرف نقد ہے اور دوسری طرف ادھار ہے بھئی یہ بھی درست نہیں.
اسے کہتے تھے بیع مزابنة اسی طرح ایک بیع محاقلہ ہے بھئی.
محاقلہ.
وہ بھی یاد رکھنا، بالکل یہی صورت ہے لیکن وہ گندم وغیرہ میں ہوگی بھئی بیعِ محاقلہ۔
ایک شخص کی گندم کی فصل تیار ہونے والی ہے لیکن ابھی تیار نہیں، اسے گندم کی فوری ضرورت ہے، وہ دوسرے سے کہتا ہے بھئی: "میرے فلاں کھیت کے اندر بھی اتنی گندم ہے، فی الحال مجھے 10 بوری دے دو اور میرے کھیت میں 10، 15 دن یا مہینے تک فصل پک جائے گی، اس میں بھی اتنی ہی تقریباً بوری ہے، وہ تم لے لینا۔"
تو یہاں بھی وہی خرابی، جنس ایک ہی ہے، مکیلات و موزونات میں سے ہے، مکیلات میں سے ہے، اور اندازے سے ہو رہی ہے بھئی، ہو سکتا ہے کم ہو ہو سکتا ہے زیادہ ہو، نیز ادھار بھی ہے بھئی۔
وَالْمُزَابَنَةُ
خود بتلا رہے ہیں:
وَهِيَ بَيْعُ الثَّمَرِ عَلَى النَّخْلِ
یہ ثمر کی بیع ہے کھجور پر بھئی، تمر نہیں کہا، آگے کہیں گے: بِتَمْرٍ، پہلے ثمر کا لفظ لائے پھر تمر کا لفظ لائے، اس لیے کہ کھجور میں تین حالتیں ہیں بھئی آپ نے پڑھی ہیں:
کون سی؟
ایک ہے تمر، یہ وہ کھجور ہے جسے کاٹنے کے بعد بھئی، کٹ جاتی ہے درخت سے کاٹ لیا جاتا ہے، پھر اسے دھوپ میں چند دن رکھا جاتا ہے، کچھ زائد پانی تھوڑا خشک ہو جائے، یہ جو آپ خریدتے ہیں یہ کیا ہے مولانا؟ تمر ہے۔
یہ درخت سے کاٹتے ہی سیدھی نہیں لے آتے بھئی، جب درخت سے کاٹتے ہیں اس میں ذرا پانی زیادہ ہوتا ہے، رس زیادہ ہوتا ہے، تھوڑا سا اس کو خشک کرتے ہیں بھئی تا کہ خراب نہ ہو۔
پھر اس کو لے آتے ہیں بھئی۔
ایک درخت پر جو پکی ہوئی ہے بھئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ رطب، رطب۔
رطب کہتے ہیں، تازہ کھجور ہے درخت پر بھئی، تو وہ رس دار ہے ذرا تازہ، اس کو رطب کہتے ہیں، اترنے کے بعد خشک کی، وہ تمر کہلاتی ہے۔
سمجھ میں آیا، تیسری کیا قسم تھی بھئی؟
ہاں بَسر۔
بسر کسے کہتے ہیں بھئی؟
نہیں بھئی نہیں۔
بسر کہتے ہیں وہ ڈوکے کو بھئی۔
کسے کہتے ہیں؟ ڈوکا بھئی، ڈوکا جانتے ہو یا نہیں جانتے؟
ہاں، کھجور جن کے علاقے میں ہو یا تو وہ جانتے ہوں گے بھئی، کھجور پہلے سخت ہوتی ہے۔
مٹھاس آ جائے گی اس میں، لیکن ہوتی سخت ہی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں بھئی؟ بسرٌ بھئی، بسرٌ۔
تو بسر، رطب اور تمر بھئی، تین قسمیں ہوئی، بسر وہ ڈوکا، کھجور جو چاہے پکی ہوئی ہو لیکن ابھی اس، اور مٹھاس بھی آ جائے لیکن نرم نہیں ہوئی، پھر اس کے بعد یہ نرم ہو جاتی ہے، اس وقت کیا کہلاتی ہے؟ رطب، اور پھر کٹ جاتی ہے، خشک کچھ ہو کی جاتی ہے، پھر یہ کیا کہلاتی ہے؟ تمر کہلاتی ہے، تو تمر کا بعض معنی چھوہارے کے کرتے ہیں، چھوہارے کو نہیں کہتے بھئی، تمراً کھجور کو کہتے ہیں، ہاں یہ کچھ خشک کی جاتی ہے دھوپ میں بھئی میں نے بتا دیا۔
تو بھئی تمر کا لفظ کہ دیکھیے عبارت کے اندر وہ کہہ رہے ہیں:
وَهِيَ بَيْعُ الثَّمَرِ عَلَى النَّخْلِ بِتَمْرٍ مَجْزُوْزٍ
بھئی دیکھا، بعد میں تمر لائے پہلے ثمر لائے، پہلے تمر کا لفظ کیوں نہیں لائے؟ اس لیے کہ جب تک وہ کھجور کے درخت پر ہے اسے تمر نہیں کہتے، بلکہ کیا کہتے ہیں؟ رطب کہتے ہیں، اور جبکہ ثمر کا لفظ استعمال کیا، ثمر عام ہے بھئی، ثمر کیا ہے؟ عام ہے، یہ رطب کو بھی شامل ہوا اور بسر کو بھی کیا ہوا؟ شامل ہوا۔
تو کہتے ہیں:
وَالْمُزَابَنَةُ وَهِيَ بَيْعُ الثَّمَرِ عَلَى النَّخْلِ
مزابنہ جو ہے، یہ بیع ہے ثمر کی کس پر، نخل، کھجور کے درخت پر، پھل کی بیع ہے کھجور کے درخت پر،
بِتَمْرٍ مَجْزُوْزٍ
کٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں بھئی، مجزوز کٹی ہوئی بھئی۔
مجزوز کا معنیٰ کٹی ہوئی، اتاری ہوئی، کٹی ہوئی اتاری ہوئی کھجور کے بدلے میں،
مِثْلَ كَيْلِهِ
مِثْلَ كَيْلِهِ بھئی، یہ آگے آپ کو بتلائیں گے بھی عبارت کے اندر کہ یہ حال واقع ہو رہا ہے ثمر سے، یعنی وہ جو کھجور پر پھل ہے مِثْلَ كَيْلِهِ، ها ضمیر راجع ہے کس کو؟
تمرِ مجزوز کو بھئی، کہ وہ جو درخت پر لگا ہوا پھل ہے اس حال میں ہو کہ وہ مثل ہو کٹی ہوئی کھجور کے کیل کے، مثل ہو کس کے؟ کٹی ہوئی کھجور کے کیل کے مثل ہو، یعنی اس کے ماپ کے مثل ہو،
خَرْصًا
کس طرح، کس طریقے پر؟ اندازے سے، یہ تمیز ہے: خَرْصًا بِسُكُوْنِ الرَّاءِ پڑھو بھئی اس کو۔
خرصاً، اندازے سے بھئی، یہ تمیز ہے مثل سے، کہ مثل ہو اندازے کے طریقے پر۔
بھئی آپ بتائیے، ایک شخص نے دوسرے سے کہا: "مجھے 10 من کھجور دے دو، میرے یہ درختوں پر بھی 10 من کھجور ہے"، تو بتلائیے یہ اس کے مثل ہے؟
پوری طرح نہیں، ہاں اندازے سے کہہ رہا ہے وہ اندازے سے کہ یہ اس کے مثل، تو یہ اس کے کیل کے مثل ہے اندازے سے بھئی، یعنی اندازے۔
دیکھیے! خود ترکیب بتلا رہے ہیں:
مِثْلَ كَيْلِهِ حَالٌ مِنَ الثَّمَرِ عَلَى النَّخْلِ
یہ مِثْلَ كَيْلِهِ حال ہے کس سے؟ الثمر علی النخل سے،
وَخَرْصًا تَمْيِيْزٌ عَنِ الْمِثْلِ
اور خرصاً یہ جـ... جس کا معنی اندازے سے ہے، اس کی یہ تمیز ہے مثل سے۔
دیکھیے خود عبارت اس کے مطابق ترجمہ کر رہے ہیں:
أَيْ يَكُوْنُ الثَّمَرُ عَلَى النَّخْلِ مِثْلًا بِطَرِيْقِ الْخَرْصِ
کہ وہ پھل جو درخت پر ہے، کھجور کے درخت پر ہے مثلًا وہ مثل ہونا چاہیے بطریق الخرص، کس طریقے پر؟ خرص، یعنی اندازے کے طریقے پر وہ مثل ہونا چاہیے بھئی، کس کے مثل ہونا چاہیے؟
لِكَيْلِ التَّمْرِ الْمَجْزُوْزِ
بھئی کٹی ہوئی کھجور کے کیل کے مثل ہونا چاہیے بھئی۔
فَهَذَا الْبَيْعُ مِنَ الْبُيُوْعِ الْفَاسِدَةِ
تو یہ بیع کس میں سے ہے، بیوعِ فاسدہ میں سے ہے،
بِشُبْهَةِ الرِّبَا
ربا کے شبہے کی وجہ سے بھئی۔
وَالْمُلَامَسَةُ
جی ملامسہ بھئی، یہ بیع بھی درست نہیں بھئی، بیعِ ملامسہ۔
یہ عرب میں جاہلیت میں یہ ایک بیع ہوا کرتی تھی بھئی۔
کیا بیع ہوتی تھی؟ مثلاً بھئی!
بھاؤ تاؤ کر رہے ہیں، مشتری اور بائع آپس میں کیا کر رہے ہیں، بھاؤ تاؤ کر رہے ہیں، بائع کہتا ہے: "اگر تو نے اس کو چھو لیا تو بیع واجب ہو گئی، اگر تو نے اس کو ہاتھ لگا دیا تو بیع کیا ہوئی؟ واجب ہو گئی۔"
یعنی باتیں تو میرے ساتھ کر سکتے ہو، اس کو ہاتھ نہیں لگا سکتے، ہاتھ لگایا تو بیع کیا ہو جائے گی؟ واجب ہو جائے گی، یا مشتری کہتا ہے: "اگر میں نے مبیع کو ہاتھ لگا دیا تو بیع کیا ہو جائے گی، واجب ہو جائے گی۔" اس جائز نہیں، درست نہیں، پتہ نہیں بھئی بعد میں وہ چیز پسند آتی ہے یا پسند نہیں آتی، اس کو معلق کر دیا فعل کے ساتھ۔
کہ ہاتھ لگایا تو بس بیع واجب ہو گئی۔
یا مولانا، اس کی ایک صورت بعض یہ علماء لکھتے ہیں کہ اندھیرے میں کوئی کپڑا لے آتے بھئی: "یہ کپڑا میں آپ کو بیچتا ہوں اس شرط پر کہ آپ کا لمس جو ہے، آپ کے دیکھنے کے قائم مقام ہوگا، آپ ہاتھ لگا لیں اس کو، لینا ہے تو لے لیں، بعد میں آپ نے جھگڑنا نہیں، خیارِ رؤیت آپ کو حاصل نہیں ہوگا بھئی۔" تو یہ بھی درست نہیں ہے بھئی۔
وَإِلْقَاءُ الْحَجَرِ
القائے حجر، بھئی یہ کہتا تھا بیع ہوتی تھی، بھاؤ تاؤ کر رہے ہیں، مشتری کیا کر دیتا، پتھر رکھ دیتا مبیع پر کوئی، فوراً بیع کیا ہو جاتی، واجب ہو جاتی، یہ ان کا کوئی مخصوص طریقہ تھا، بس جب پتھر رکھا، فوراً بیع کیا ہو جاتی، واجب ہو جاتی۔
وَالْمُنَابَذَةُ
منابذہ، نبذ سے ہے، پھینکنا، پھینکنا۔
تو منابذہ
بعض کہتے ہیں: یہ کپڑے میں کرتے تھے بھئی، مبیع بائع
دو کپڑے ہیں مثلاً، ایک کس کے پاس ہے، مشتری کے پاس ہے، ایک بائع کے پاس ہے، بائع اپنا کپڑا اس کی بھاؤ تاؤ کر رہے ہیں، بائع اپنا کپڑا اس کی طرف پھینک دیتا اور وہ اپنا کپڑا اس کی طرف پھینک دیتا، بائع کی طرف، تو بیع تام ہو جاتی، بیع واجب ہو جاتی۔
یا ایک کے پاس کپڑا، بائع ہے مولانا، ابھی بھاؤ تاؤ کر رہے ہیں، بائع نے کپڑا پھینک دیا اس کی طرف بھئی، بس بیع کیا ہو گئی؟ واجب ہو گئی، یہ درست نہیں بھئی، پتہ نہیں کس قسم کا کپڑا ہے، پسند آتا ہے بعد میں یا پسند نہیں آتا، نقصان ہوا یا کیا۔
سمجھ میں آیا؟ اور بعض کہتے ہیں منابذہ، یہ بیعِ حصات ہے، حصات کنکری کو کہتے ہیں۔
بیعِ حصات بھی ایک بیع تھی عرب میں بھئی۔
کہ مبیع پڑے ہوئے ہیں، مشتری کنکری پھینکتا تھا، جس مبیع پر واقع ہو جاتی اس میں بیع واجب ہو جاتی۔
سمجھ میں آیا؟ بائع نے کہا مشتری کہتا ہے بھئی: "جس تھان پر بھی میری کنکری گر گئی وہ تھان 10 روپے میں میرا۔"
تو بعض کہتے ہیں: یہ منابذہ بیعِ حصات ہے بھئی، حصات کنکری کو کہتے ہیں، سنگریزہ بھئی۔
تو بائع کے پاس کئی تھان پڑے ہوئے ہیں، اور مشتری کہتا ہے بھئی: "میری کنکری جس تھان پہ پڑ گئی وہ مثلاً 10 درہم میں میرا ہوا۔" تو یہ بھی بھئی درست نہیں ہے، پتہ نہیں کس قسم کے کپڑے پر پڑتی ہے، نفع ہوتا ہے یا نقصان، سستے پر پڑتی ہے یا مہنگے پر پڑتی ہے۔
اچھا، تو بعض نے منابذہ کو بیعِ حصات قرار دیا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: جائز نہیں ہے، ملامسہ، بیعِ ملامسہ بھی اور بیعِ القائے حجر بھی اور منابذہ بھی بھئی،
وَهِيَ
اور یہ صورت،
أَنْ يَّتَسَاوَمَا سِلْعَةً
بھاؤ تاؤ کر رہے تھے بائع اور مشتری کسی سامان کی،
لَزِمَ الْبَيْعُ
بیع لازم ہو جاتی،
إِنْ لَمَسَهَا الْمُشْتَرِي
إِنْ لَمَسَهَا ہے یہ لفظ، إِنْ لَمَسَهَا الْمُشْتَرِي، اگر اس کو چھو لیتا مشتری،
أَوْ وَضَعَ عَلَيْهَا حَصَاةً
یا اس پر کیا رکھ دیتا؟ کنکری رکھ دیتا،
أَوْ نَبَذَهَا الْبَائِعُ إِلَيْهِ
یا بائع کیا کرتا، اس کی طرف پھینک دیتا،
فَهَذِهِ الْبُيُوْعُ فَاسِدَةٌ
تو یہ بیوع فاسد ہیں،
لِأَنَّ انْعِقَادَ الْبَيْعِ مُتَعَلِّقٌ بِأَحَدِ هَذِهِ الْأَفْعَالِ
اس لیے کہ بیع کا منعقد ہونا متعلق ہے ان افعال میں سے کسی ایک کے ساتھ بھئی، پھینک دیا تو بیع واجب، ہاتھ رکھ دیا تو بیع واجب بھئی،
سمجھ میں آیا؟
فَيَكُوْنُ كَالْقِمَارِ
تو یہ جوئے کی طرح ہوئے، کس کی طرح ہوئے؟ جوئے کی طرح ہوئے بھئی، جوئے کی طرح۔
تو مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بیوع فاسد ہیں اس لیے کہ یہ قمار کی طرح ہیں، جوئے کی طرح ہیں بھئی، جوئے کی طرح۔
جوئے کی طرح۔
کیوں؟ کہتے ہیں:
لِأَنَّ انْعِقَادَ الْبَيْعِ مُتَعَلِّقٌ بِأَحَدِ هَذِهِ الْأَفْعَالِ
اس لیے کہ انعقادِ بیع متعلق ہے ان افعال میں سے کسی ایک کے ساتھ، ملامسہ میں لمس کے ساتھ، القائے حجر کے ساتھ یا...
منابذہ کے اندر پھینکنے کے ساتھ بھئی، اسی طرح بیعِ حصات ہے، اس میں کنکری پھینکنے کے ساتھ بھئی۔
تو یہ جوئے کے مثل ہو گئے بھئی، جوئے میں بھی کس طرح ہوتا ہے، ایک...
کسی چیز کو معلق کر دیا کسی کے ساتھ، اگر ایسا کر دیا تو یوں ہوگا، ایسا نہ کیا تو یوں... ہاں ہار جیت کا فیصلہ اسی پر ہوتا ہے، ایسا ہو گیا تو اس پہ جیت ہے، ایسا نہ ہوا تو... ہار ہے بھئی۔
آپ دیکھتے نہیں بھئی؟
میچ وغیرہ ہوتے ہیں، بڑا جوآ لگاتے ہیں بھئی، اب تو یہ وباء اتنی عام ہو گئی ہے، حرام سے اپنے آپ کو بچاؤ بھئی، زندگی بھر کے لیے ایک حرام لقمان کو بھی اپنے پیٹ میں نہ جانے دو بھئی۔
حرام سے بچاؤ اپنے آپ کو، اللہ وہیں پر حلال اسباب آپ کے لیے پیدا کر دے گا بھئی۔
بشرطیکہ آپ کوشش کریں بھئی۔
سمجھ میں آیا، یہ ویسے میں کہہ رہا ہوں، مجھے ویسے تو یقین ہے آپ سب حضرات خوب خیال رکھتے ہوں گے بھئی۔
تو وہاں پر بھی بھئی: "یہ گیند کروانے لگا ہے اس پہ چوکا لگ گیا تو اتنے، نہ لگا تو..." دیکھا!
وہ چوکے پر لگ گئے بھئی، تو فعل پر وہاں پر بھی کیا کر دیا جاتا ہے ہار جیت کو معلق کر دیا جاتا ہے بھئی، تو یہاں بھی اسی طرح ہے، ان افعال کے ساتھ بھئی انعقادِ بیع کو معلق کر دیا بھئی۔
متعلق ہو گئے، تو یہ جوئے کی طرح ہوئے، نیز جوئے کی طرح اس لحاظ سے بھی ہے بھئی کہ جوئے کے اندر بھی پتہ نہیں ہوتا بھئی ہار ہوتی ہے یا جیت ہوتی ہے، یہاں بھی پتہ نہیں بھئی اچھی چیز ملتی ہے یا ردی چیز، 10 درہم کی چیز خرید رہے ہیں آپ، کنکری پھینکی پتہ نہیں وہ 10 والے کپڑے پر ہی لگتی ہے یا 2 درہم والے پر لگتی ہے یا 100 درہم والے پر لگتی ہے، تو 100 والے پہ لگ گئی تو جیت ہی جیت ہے، 2 درہم والے پر لگ گئی تو پھر تو آپ کا نقصان ہے بھئی۔
تو یہ جوئے کی طرح ہے بھئی۔
تو یہ لاٹری کے مثل ہوا بھئی۔
قمار، یاد رکھو قمر کا مادہ جہاں آئے وہاں بڑھنے کے معنیٰ پائے جائیں گے بھئی۔
قمر، چاند کو بھی قمر اسی لیے کہتے ہیں، وہ بھی ہر روز تھوڑا تھوڑا بڑھتا رہتا ہے بھئی۔
اسی طرح قمار، جوآ، اس میں بھی مال کیا ہوتا ہے، ایک دم بڑھتا ہے بھئی، جی، جیتے تو۔
اسی لیے کیا جاتا ہے کہ مال ایک دم بڑھ جائے بھئی۔
وَلَا بَيْعُ ثَوْبٍ مِنْ ثَوْبَيْنِ
اور ایک کپڑے کی بیع دو کپڑوں میں سے، یہ بھی صحیح نہیں، بھئی بائع کے پاس دو کپڑے پڑے ہیں، اس نے آپ سے کہا: "ان دو میں سے میں نے ایک آپ کو بیچا 10 درہم کے بدلے"، بھئی کون سا بیچا، کوئی متعین کیا؟ نہیں، تو مبیع مجهول ہے، لہٰذا درست نہیں۔
إِلَّا بِشَرْطِ أَنْ يَّأْخُذَ أَيَّهُمَا شَاءَ
ہاں اگر یہ شرط لگا دی کہ مشتری ان میں سے جو چاہے لے لے، پھر تو یہ خیارِ تعیین ہوا، پھر بیع کیا ہو گئی؟ صحیح ہو گئی۔
وَلَا الْمَرَاعِيْ وَلَا إِجَارَتُهَا
مراعی بھئی، چراگاہ کو کہتے ہیں بھئی، اور گھاس کو بھی کہتے ہیں، گھاس کو بھی۔
سمجھ میں آیا؟
خودرو گھاس جو خود اگتی ہے بھئی، خود اگتی ہے۔
خودرو گھاس جو ہے وہ مراد ہے بھئی، خودرو گھاس
کہ نہ بیع صحیح ہے وَلَا إِجَارَتُهَا، اور نہ اس کا اجارہ صحیح ہے۔
اچھا!
کیوں نہیں صحیح بھئی؟
بیع کیوں نہیں صحیح؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ یہ خودرو بھئی آپ کی زمین ہے، اس میں خود بخود گھاس اگ آئی، تو آپ نے کوئی احراز کیا بھئی اس میں؟ آپ نے اس کو احراز ہی نہیں ہے، آپ کا کوئی قبضہ ہی نہیں ہے، تو خود بخود اگی ہے، ہاں اگر ایسی گھاس ہے جو آپ کیا کرتے ہیں پانی وغیرہ لگاتے ہیں، خیال رکھتے ہیں، پھر تو احراز ہے، محفوظ کی ہے آپ نے، لیکن جو خود بخود اگ آئے وہ تو اس میں تو تمام مسلمان مشترک ہیں، حدیث میں آتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ حدیث کے اندر آتا ہے، بھئی یہ آپ کے حاشیے میں لکھی ہوئی ہے حاشیہ نمبر 1 میں بھئی:
قَالَ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْمُسْلِمُوْنَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ:"
مسلمان شریک ہیں تین چیزوں کے اندر بھئی:
الْمَاءِ وَالْكَلَإِ وَالنَّارِ
پانی، اور کلا، خودرو گھاس، وَالنَّارِ، اور آگ بھئی، اس میں سارے شریک ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ دریا وغیرہ کا پانی مراد ہے بھئی۔
اور گھاس خودرو وغیرہ، جی۔
اس میں سارے شریک ہیں۔
تو لہٰذا جب اس میں احراز نہیں، تو یہ کیا ہوا، مالِ متقوم نہ ہوا، تو لہٰذا ان کے اندر بیع کیا ہوئی بھئی؟
غیرِ متقوم ہوا، بیع ہی کیا ہوئی؟ باطل ہوئی، اور باقی ان کا اجارہ کیوں نہیں صحیح؟
کہتے ہیں: اس لیے کہ اجارہ چیز کے منافع پر ہوتا ہے، اس کے استہلاک پر، اس کے ختم کرنے پر نہیں ہوتا۔
لہٰذا آپ ایک شخص کو اپنی گائے دیتے ہیں کرائے پر کہ: "لو بھئی یہ گائے لے جاؤ ایک مہینے کا اتنا کرایا، اس کا دودھ پیو بھئی ایک مہینے تک"، یہ نہیں صحیح، کیوں؟ اس لیے کہ کرائے کے معنیٰ یہ ہیں کہ آپ صرف منافع دیتے ہیں، عین کو استہلاک اس میں، عین کو ختم نہیں کیا، گھر کرائے پر دیتے ہیں تو کیا مطلب ہوتا ہے، گھر میں رہنے کے جو منافع ہیں وہ دوسرے کے، وہ ہے، تو یہاں پر تو وہ دودھ پیئے گا، تو دودھ ختم ہوگا یا نہیں بھئی؟
تو استہلاکِ عین لازم آ رہا ہے بھئی، کیا آ رہا ہے؟ عین کو ختم کیا جا رہا ہے، تو اجارے کے اندر تو منافع کیے جاتے ہیں، استہلاکِ عین اس میں نہیں ہوتا۔
لہٰذا جب مملوک چیز کے اندر استہلاکِ عین کی صورت میں اجارہ جائز نہیں، تو یہ تو خودرو گھاس ہے، یہ تو غیرِ مملوک ہے، اس کے اندر تو بطریقِ اولیٰ اجارہ استہلاکِ عین پر درست... بھئی گھاس کرائے پر دینے کا کیا مطلب، گھاس سے کیا نفع اٹھائے گا، اس کو ختم کرے گا یا نہیں کرے گا؟ تو یہ تو استہلاکِ عین ہے، حالانکہ اجارے کے اندر استہلاکِ عین نہیں ہوتا، بلکہ صرف اس کے منافع سپرد کیے جاتے ہیں، بیچے جاتے ہیں۔
بَيْعُ الْمَرَاعِيْ
أَيِ الْكَلَإِ بھئی، مراعی سے کیا مراد ہے، کلا خودرو گھاس مراد ہے، یہ باطل ہے
لِأَنَّهُ غَيْرُ مُحْرَزٍ
اس لیے کہ یہ غیرِ محرز ہے، غیرِ محفوظ ہے بھئی، محفوظ نہیں کی گئی۔
وَأَمَّا إِجَارَتُهَا
باقی اس کا اجارہ جو ہے،
فَلِأَنَّهَا إِجَارَةٌ عَلَى اسْتِهْلَاكِ عَيْنٍ
فلأنها إجارة على استهلاك عينٍ، اس لیے کہ یہ تو اجارہ ہے استہلاکِ عین پر، عین کے ہلاک کرنے پر، اور اجارے کے اندر عین کو ہلاک... صرف اس کے منافع ہی حاصل ہوتے ہیں۔
تو یہ محرز نہیں، لہٰذا ان کی بیع درست نہیں۔
اور باقی ان کا اجارہ، کہتے ہیں: اس لیے کہ اجارہ جو ہوتا ہے، کسی چیز کے منافع پر منعقد کیا جاتا ہے، اس کے استہلاک پر منعقد... بھئی آپ اب کو میں کہتا ہوں بھئی: "یہ آپ اپنا کھانا ذرا اپنے ساتھی کو کرائے پر دے دو۔"
دیں گے بھئی آپ کرائے پر؟
بھئی اس کھانے کا نفع ہی یہ ہے کہ اس کو کھایا جائے، اس کو ختم
کیا جائے۔ اس میں بیع تو ٹھیک ہے، ہو سکتی ہے، کیونکہ استہلاکِ عین ہوگا اس کے اندر، اور اس کے منافع ہی نہیں۔
تو استہلاکِ عین پر تو اجارہ نہیں ہوتا، اجارہ تو کسی چیز کے صرف منافع پر ہوتا ہے، لیکن اس کا تو نفع ہی وہ ہے۔
تو جہاں بھی استہلاکِ عین آئے گا، وہاں اجارہ درست نہیں بھئی۔ چیز کو باقی رہنے، جیسے گھر آپ کرائے پر دیتے ہیں تو دیکھو گھر باقی رہتا ہے، وہ صرف اس کے اندر سکونت کے کیا، ادا کرتا ہے؟ پیسے ادا کرتا ہے اس کے نفع کے صرف۔
یا آپ کسی کو مثلاً بھئی، برتن وغیرہ کوئی کرائے پر دیتے ہیں، یا اور چیزیں دیکھتے ہیں آپ، تو اس میں صرف وہ برتن نہیں ہلاک ہوتا، بلکہ صرف اس کا نفع کیا کرتا ہے وہ؟ اس سے اٹھاتا ہے، نفع اٹھاتا ہے۔
تو یہاں پر تو جبکہ یہاں پر تو استہلاکِ عین ہے بھئی۔
وہ گھاس کرائے پر دے رہے ہیں بھئی، کرائے کا معنیٰ تو یہ صرف اس سے نفع اٹھائے، پھر واپس کر دے، حالانکہ کیا لازم آئے گا بھئی؟ گھاس ہی کا وہاں تو گھاس کو ختم کرے گا بھئی، جانوروں کو کھلائے گا تو ختم ہوگی، تو استہلاکِ عین آ رہا ہے، دیکھا۔
تو استہلاکِ عین پر اجارہ نہیں ہوتا بھئی۔ استہلاکِ عین پر تو اجارہ مملوک چیز میں بھی نہیں جائز، یہ تو غیرِ مملوک ہے۔
میں نے مثال ذکر کی بھئی کہ کسی نے اپنی گائے دوسرے کو کرائے پر دی کہ اس کا ایک مہینے تک دودھ پیو، اتنا کرایا دو، نہیں بھئی، یہ اجارہ نہیں صحیح، اس لیے کہ اجارے کے اندر تو صرف منافع استعمال کیے جاتے ہیں، یہاں تو وہ دودھ کیا کرے گا؟ پیئے گا، ختم ہوگا، تو وہ عین ہی ہلاک ہو رہی ہے، اور استہلاکِ عین پر اجارہ نہیں ہوتا بھئی۔
تو جب اپنی مملوک چیز کے اندر اجارہ جائز نہیں ہے استہلاکِ عین پر، تو یہ تو خودرو گھاس تو غیرِ مملوک ہے، اس کے اندر تو بطریقِ اولیٰ جائز نہیں۔
وَلَا النَّحْلِ إِلَّا مَعَ الْكُوَّارَةِ
اور نہ ہی مکھی کی بیع صحیح ہے، شہد کی مکھی، نہ شہد کی مکھی کی بیع صحیح ہے، إِلَّا مَعَ الْكُوَّارَةِ، کوارہ، مگر چھتے سمیت بھئی۔
کوارہ کہتے ہیں وہ مچھـ... مکھیوں کا جو مٹی وغیرہ سے جو گھر ان کا بنایا جاتا ہے، اس سمیت بھئی۔
الْكُوَّارَةُ بِالضَّمِّ وَالتَّشْدِيْدِ، کوارہ ضمے کے ساتھ ہے اور تشدید، یعنی کاف پر ضمہ ہے واؤ پر شد ہے۔
مَعْسَلُ النَّحْلِ، یہ مـ... شہد بنانے کی جگہ ہے، مکھیوں کے شہد بنانے کی جگہ۔
إِذَا سُوِّيَ مِنْ طِيْنٍ
جب اس کو برابر کیا گیا ہو کس کے ساتھ؟ مٹی کے ساتھ۔
بھئی کوارہ کس کو بتایا میں نے، کسے کہتے ہیں بھئی؟ چھتا وغیرہ وہ جس کو اس کی جگہ بنائی ہو، جب اگر اس کو مٹی سے برابر کیا ہو، یعنی مٹی سے لیپا گیا ہو، تو اب اصل بیع ہو رہی ہے کوارہ کی، اور مکھیوں کی بیع تبعاً ہوئی۔ امام صاحب کے نزدیک مکھیوں کی بیع نہیں جائز، اوپر بتایا، کیونکہ یہ حشرات الارض میں سے ہیں، کس میں سے ہیں؟ حشرات الارض میں سے ہیں بھئی، لہٰذا ان کی بیع صحیح نہیں۔ ان کا کوئی نفع نہیں ہے، ان سے کوئی نفع... آپ کہیں گے نفع تو ہوتا ہے شہد سے اٹھایا جاتا ہے۔ بھئی وہ نفع مکھیوں سے نہیں ہے، مکھیوں نے جو چیز بنائی ہے اس سے کیا کر رہے ہیں، نفع...؟ تو عینِ مکھی سے نفع اٹھا رہے ہیں؟ نہیں، لہٰذا مکھی قابلِ انتفاع نہیں، حشرات میں سے، اور قابلِ انتفاع جو چیز نہ ہو، اس کی بیع درست نہیں بھئی۔
ہاں البتہ بتلایا، کوارہ کے ساتھ جائز ہے، اب اصل بیع ہوئی اس کوارہ کی، اور مکھی کی بیع تبعاً ہوئی بھئی، وہ بیع میں داخل ہو گئی۔
اور کوارہ کس کو کہتے ہیں بھئی، انہوں نے خود بتلایا تھا: مَعْسَلُ النَّحْلِ إِذَا سُوِّيَ مِنْ طِيْنٍ بھئی، شہد کی مکھیوں کا جو چھتا ہے، معسل شہد بنانے کی جگہ وہ چھتا، إِذَا سُوِّيَ مِنْ طِيْنٍ، جب اس کو مٹی سے لیپا گیا ہو، مٹی سے... مٹی سے لیپا گیا ہو، برابر کیا گیا ہو، معلوم ہوا عام چھتے کو نہیں کوارہ کہتے، بلکہ جو وہ بنا ہوا ہوتا ہے الگ بھئی، شہد بیچنے والوں نے رکھا ہوتا ہے، تو وہ مٹی وغیرہ یا لکڑی ان چیزوں سے بنا ہوتا ہے، لیپا ہوتا ہے۔
هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيْفَةَ وَأَبِي يُوْسُفَ
یہ حضرت شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے،
فَيَنْبَغِي أَنْ يَّكُوْنَ الْبَيْعُ بَاطِلًا
فینبغی أن یکون البيع باطلاً بھئی، تو مناسب یہ کہ یہ بیع باطل ہونی چاہیے، صاحـ... شیخین رحمہ اللہ کے نزدیک
لِعَدَمِ الْمَالِ الْمُتَقَوِّمِ
کس کی وجہ سے، مالِ متقوم کے نہ ہونے کی وجہ سے۔
وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ وَالشَّافِعِيِّ يَجُوْزُ
وعند محمدٍ والشافعیِ يجوز، جبکہ امام محمد، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے
إِذَا كَانَ مُحْرَزًا
جب یہ کس قسم کے ہوں، محرز ہوں، محفوظ کی ہوئی ہیں بھئی، کسی نے جمع کی ہیں بھئی۔
محفوظ رکھا ہے بھئی، سمجھ میں آیا، ان کے نزدیک یہ قابلِ انتفاع ہے بھئی۔
وَدُوْدُ الْقَزِّ
دود کہتے ہیں کیڑے کو بھئی، کیڑے کو۔
اور قز کہتے ہیں ریشم کو۔
ریشم کا کیڑا، ریشم کے کیـ... کیڑے کی بیع بھی نہیں صحیح،
وَبَيْضُهُ
اور اس کے انڈے کی بیع بھی۔
أَيْ لَا يَجُوْزُ بَيْعُ دُوْدِ الْقَزِّ وَبَيْضِهِ
شہد کے... یہ ریشم کے کیڑے اور اس کے انڈے کی بیع بھئی، یہ انڈے سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں بھئی: یہ شہد... یہ جو ریشم کا کیڑا ہوتا ہے، اس کا کوئی خول سا اس نے اپنا بنایا ہوتا ہے، اس کے اندر ہی وہ رہتا ہے بھئی، وہ مراد ہے۔ اسی کے اندر پھر پیدا بھی ہوتے ہیں، اور اسی میں رہتے ہیں، اور کوئی چھوٹا سا انڈا نما چیز ہوگی بھئی، اس کے گھر نما سی، تو وہ مراد ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی سے پھر مر جائے، پھر اسی میں انڈے وغیرہ بھی ہوتے ہوں گے، تو پھر اسی سے دوبارہ پیدا ہوتا ہوگا موسم کے اندر بھئی۔
وہ مراد ہے بھئی۔
فَعِنْدَ أَبِي حَنِيْفَةَ بَيْعُهُمَا بَاطِلٌ
فعند أبي حنيفة بیعهما باطلٌ، ان دونوں کی بیع باطل ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا؟
وَعِنْدَ أَبِي يُوْسُفَ يَجُوْزُ
وعند أبي يوسف يجوز، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ بیع جائز ہے
إِنْ ظَهَرَ الْقَزُّ
اگر ریشم ظاہر ہو چکا ہو۔
بھئی امام صاحب فرماتے ہیں: یہ ریشم کا کیڑا اور انڈا، یہ قابلِ انتفاع چیزیں نہیں، اور یہ حشرات الارض میں سے ہیں، اور حشرات کی بیع تو درست نہیں، جو چیز قابلِ انتفاع نہیں، اس کی بیع بھی نہیں صحیح۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جائز ہے بھئی، اگر ریشم ظاہر ہو چکا ہو، اس نے ریشم بنانا شروع کر دیا ہو، ریشم بن چکا ہے، تو اب اصالتاً بیع ہوئی ریشم میں، اور تبعاً کس میں ہوئی، ریشم کے کیڑے میں بھئی۔
وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ يَجُوْزُ مُطْلَقًا
وعند محمدٍ يجوز مطلقاً، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مطلقاً یہ جائز ہے بھئی۔
تو یاد رکھو مسئلہ بھئی، یہ حشرات الارض اور درندے وغیرہ، ان کے اندر فتویٰ یہی ہے کہ ان کی بیع جائز ہے بشرطیکہ یہ قابلِ انتفاع ہوں۔ کیا ہوں؟ قابلِ انتفاع۔
درندوں کو بھی شکار کیا جاتا ہے، ان سے چربی وغیرہ چیزیں نکالی جاتی ہیں، ان سے دوائیاں وغیرہ بنتی ہیں بھئی۔
تو جو چیز حشرات اور درندوں میں سے جو قابلِ انتفاع ہیں، ان کی بیع بھی جائز ہے، اسی پر فتویٰ ہے بھئی۔
چلیے، بس مولانا، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔