Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-059

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 38
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
و عمل فی الودائع و یہیں سے ہے؟ و عمل فی الودائع و غلت الوقوف بالبینة او باقرار ذی الید لا بقول المعزول۔ الا یقبل قول المعزول ان قال ھذا ودیعة فلان دفعتها الی ھذا الرجل و ھو منکر الا اذا اقر الید بالتسلیم منه ای من القاضی المعزول۔ جی کتاب القضا ہم نے شروع کی تھی بھئی۔ آپ نے پڑھا تھا کہ قاضی بننے کا اہل ہر وہ شخص ہے جس میں شہادت کی اہلیت ہے۔ بھئی جس میں شہادت کی شرائط پوری ہیں۔ بھئی اور فاسق بھی اہل ہے یعنی اس کو قاضی بنا دیا تو صحیح ہے قاضی اس کی قضا نافذ ہوگی بھئی۔ قضا نافذ ہوگی۔ اب آپ نے پڑھا تھا کہ کوئی کسی جب قاضی بنایا جائے تو سب سے پہلے وہ گزشتہ قاضی کے دیوان کو طلب کرے یعنی جس کے اندر اس کے فیصلے وغیرہ لکھے ہوتے تھے۔ اور پھر اس کے بعد قیدیوں کی تفتیش کرے بھئی جو قیدیوں کی تفتیش کرے تو اگر ان قیدیوں میں سے کوئی اقرار کا حق حق کا اقرار کرتا ہے تو اس پر اس حق کو لازم کر دے۔ اور جو انکار کرتا ہے اس پر اس حق کو جو ہے لازم نہ کرے مگر کس کے ذریعے بینہ کے ذریعے لازم کرے۔ اگرچہ معزول قاضی اسے خبر دے دے پھر بھی اس کی خبر کو قبول نہ کرے اس لیے کہ وہ ایک وہ بھی رعایا میں سے ایک فرد بن چکا ہے اور ایک ادمی کی گواہی قبول نہیں۔ نیز وہ اپنے فعل پر گواہی دے رہا ہے اس لیے بھی یہ قبول نہیں ہے بھئی۔ چنانچہ اگر وہ انکار کرتا ہے بینہ کوئی نہیں ہے بھئی قیدی ہے اور اس کو گزشتہ قاضی نے کسی وجہ سے قید کروایا تھا اور اس پر بینہ بھی کوئی نہیں ہے اس وقت تو پھر اس کے پر منادی کروائی جائے، اعلانات کروائے جائیں۔ اور کہ جو جس کا حق ہے اس پر وہ حاضر ہو جائیں۔ اگر کوئی ایک بھی حاضر نہ ہو مولانا تو پھر کیا کیا جائے گا؟ چھوڑ دیا جائے گا بھئی۔ جی میں نے بتلایا تھا ضامن لے کر اسے چھوڑ دیا جائے گا۔ اگر ضامن بھی کوئی نہ ملے تو پھر ایک ماہ مزید کروائی جائے گی منادی اور پھر بھی کوئی نہیں آتا تو اسے چھوڑ دے۔ و عمل فی الودائع و غلت الوقوف بالبینة اور عمل کرے گا امانتوں کے اندر اور وقوف کے غلے میں بینہ کے ذریعے او باقرار ذی الید یا قبضے والے کے اقرار کے ذریعے لا بقول المعزول معزول قاضی کے قول کے ساتھ نہیں۔ جی سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھا صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ دیکھو بھئی امانتیں لوگ رکھواتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو امانتیں رکھوا رہے ہیں تو قاضی اب ان امانتوں کے بارے میں بھی تحقیق کرے جو وہاں پر درج ہوں اور گزشتہ قاضی کے بات کا اعتبار نہیں کرے گا۔ بلکہ کیا کیا جائے گا؟ گزشتہ قاضی اگر صرف خبر دے رہا ہے پھر نہیں۔ جبکہ جس کے پاس امانت رکھوائی ہے بھئی لوگوں کی امانتیں کسی کے پاس رکھوائی ہے قاضی کہتا ہے یہ فلاں کی امانت ہے میں نے اس کے پاس رکھوائی ہے۔ نہیں بھئی اس قاضی کا قول معتبر نہیں۔ جبکہ جس کے پاس امانت رکھوائی ہے وہ اس کا انکار کر رہا ہے بھئی۔ ہاں اگر وہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ یہ قاضی معزول نے یہ چیز اس کے سپرد کی تھی پھر اس قاضی معزول کی بات کو کیا کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا بھئی۔ جی تو ان میں امانتوں وغیرہ کے ذریعے کرے گا۔ اسی طرح وقف زمینوں کا جو غلہ وغیرہ ہے بھئی وہ بھی جی ان کے بارے میں بھی جو فیصلہ وغیرہ کرے گا وہ بینہ کے ذریعے کرے گا یا جس کے قبضے میں وہ ہے اس کے اقرار کے ذریعے کیا کرے گا؟ فیصلہ کرے گا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ جو وقف زمینوں کا غلہ آ رہا ہے، بیت المال میں آ رہا ہے بھئی۔ جی یعنی مطلب تحقیق کرے گا بھئی بینہ یا اقرار کے ذریعے فیصلہ کرے گا سابقہ قاضی کے فیصلوں کو برقرار نہیں رکھے گا۔ و عمل فی الودائع اور عمل کرے گا امانتوں کے اندر بھئی۔ لوگ جو امانتیں رکھوا دیتے ہیں وہاں پر و غلت الوقوف اور وقف زمینوں کے غلوں کے اندر کس کے ذریعے فیصلہ کرے گا؟ بالبینة بینہ کے ذریعے فیصلہ کرے گا او باقرار ذی الید یا کس کے ذریعے بھئی؟ ذی الید قبضے والا بھئی کے اقرار کے ساتھ لا بقول المعزول معزول قاضی کے قول کے ساتھ نہیں۔ الا یقبل قول المعزول قبول نہیں کیا جائے گا معزول قاضی کے قول کو ان قال اگر اس نے کہا ھذا ودیعة یا ھذا ودیعة فلان یہ فلاں شخص کی امانت ہے دفعہ الی ھذا الرجل جو میں نے اس کے یہ فلاں کی امانت ہے بھئی جو میں نے اس آدمی کے حوالے کی تھی و ھو منکر اس حال میں کہ وہ آدمی کیا کر رہا ہے اس کا؟ انکار منکر ہے تو پھر بس اس کے قول کو قبول نہیں کیا جائے گا معزول قاضی کے۔ جی ہاں اس وقت قبول کیا جائے گا جی الا اذا اقر الید جبکہ اقرار کرتا ہو قبضے والا بھی بالتسلیم منه ای ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں ای من القاضی المعزول۔ جی تسلیم کا معنی سپرد کرنا منہ ای من القاضی المعزول قاما قاضی ماضی کی طرف سے سپرد کرنے کا اقرار کرے کہ یہ چیز اس کو سپرد کس نے کی تھی؟ بھئی یہ امانت قاضی بھی بتلا رہا ہے۔ قاضی بتا رہا ہے کہ فلاں امانت ہے میں نے فلاں آدمی کے پاس رکھوائی ہے اور جس کے پاس امانت ہے وہ بھی اقرار کرتا ہے کہ میرے پاس یہ امانت قاضی صاحب نے رکھوائی ہے فلاں آدمی کی ہے بھئی پھر بھئی اس کی ٹھیک ہے قبول کرے گا اس کے قول کو۔ سمجھ میں آیا اس سب چیزوں کا انتظام کرنا ہے قاضی کے سپرد ہے۔ تو مطلب جو چیزیں قاضی کے سپرد کی گئی ہیں کہ جن جن چیزوں جو چیزیں اس کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں ان میں تحقیق کرے گا بھئی۔ و یجلس للحکم ظاہراً فی المجلس اور بیٹھے گا فیصلہ کرنے کے لیے ظاہراً ای جلوساً ظاہراً فی المسجد مسجد کے اندر ایسا بیٹھنا جو ظاہر ہو بھئی۔ یعنی سب کو پتہ ہو اس کا فی المسجد مسجد کے اندر و جامع اولی اور جامع مسجد اولی ہے بھئی مرکزی مسجد کیا ہے؟ اولی ہے بھئی بڑی مسجد۔ ترکیب بتلا رہے ہیں ای جلوساً ظاہراً کہ ظاہراً کیا ہے مولانا؟ یہ مفعول مطلق ہے بھئی اعتبار موصوف محذوف کے جلوساً بھئی۔ مفعول مطلق محذوف ہے یہ ظاہراً اس کی صفت ہے۔ بھئی جلوس ظاہر سے کیا مراد ہے کہتے ہیں و ھو الجلوس المشہور الذی یاتی الناس لقطع الخصومات من بغیر اختصاص بعض الناس بذالک المجلس بھئی۔ وہ بیٹھنا ہے جس کی شہرت ہو الذی یاتی الناس جس کے لیے لوگ آتے ہوں لقطع الخصومات کس کے لیے مقدمات کے ختم کروانے کے لیے، فیصلہ کروانے کے لیے من بغیر اختصاص بعض الناس بذالک المجلس بغیر اس کے کہ اختصاص ہو علاوہ اس کے کہ اختصاص ہو بعض لوگوں کا اس مجلس میں بھئی۔ بھئی یعنی قاضی بیٹھے گا ایسی جگہ پر جہاں سارے لوگوں کو پتہ ہو اور لوگ اس تک پہنچ سکے بھئی۔ ایسی مجلس ایسی جگہ پہ نہیں بیٹھے گا بھئی سمجھ میں آیا۔ سپریم کورٹ میں بیٹھا ہوا ہے کوئی عدالت لگی ہوئی ہے، ہائی کورٹ میں بیٹھے ہیں، دوسری جگہ بیٹھے ہیں۔ کوئی عام آدمی وہاں تک داخل ہی نہیں ہو سکے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بلکہ قاضی کو ایسی جگہ بیٹھنا چاہیے جہاں ہر ایک اس تک باآسانی پہنچ سکے، باصہولت پہنچ سکے یہ نہ ہو کہ بعض لوگوں کا تو اختصاص ہو، بعض لوگ تو اس مجلس میں حاضر ہو سکتے ہیں دیگر لوگ اس مجلس میں حاضر ہی نہیں ہو سکتے ایسے بیٹھنے میں نہیں بھئی اسلام کے اندر بھئی عجیب نظام ہے انصاف کا۔ ہر شخص کو آزادی ہونی سے آزادی ہو، آزادی سے قاضی تک پہنچ سکے بھئی۔ اب تو کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا بھئی اجازت ہی نہیں کسی کو بات کرنے کی وکیل کے علاوہ کسی کو بات کرنے کی اجازت ہی نہیں ہے بھئی وہاں پر۔ تو کہتے ہیں وہ بیٹھنا جس کی شہرت ہو لوگ آتے ہوں قطع خصومات کے لیے خصومات ختم کروانے کے لیے، ان کا فیصلہ کروانے کے لیے علاوہ اس کے کہ اختصاص ہو بعض لوگوں کا اس مجلس کے ساتھ کہ وہ بعض تو آ سکتے ہیں دیگر نہیں آ سکتے ایسا جلوس نہیں ہونا چاہیے۔ و عند شافعی رحمہ اللہ یکرہ الجلوس فی المسجد امام جی امام یكره الجلوس فی المسجد امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مکروہ ہے بیٹھنا مسجد کے اندر لانه قد یحضر المشرک والحائض اس لیے کہ کبھی کبھار مشرک اور حائضہ عورت بھی حاضر ہوتے ہیں۔ مجلس میں نہیں بیٹھنا چاہیے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی قاضی کو اس لیے کہ کبھی مشرک کا بھی مقدمہ آ جاتا ہے اس کو بھی حاضر ہونا پڑتا ہے، کبھی حائضہ عورت کا مقدمہ آ گیا اسے بھی تو یہ دونوں تو مجلس مسجد میں داخل نہیں ہو سکتے و لنا اور ہماری دلیل یہ ہے کہ و لنا جلوس النبی علیہ السلام ہمارے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹھنا یہ دلیل ہے حضور علیہ السلام کیا فرماتے تھے مقدمات کے فیصلے کے لیے؟ مسجد میں بیٹھتے تھے۔ و ایضاً القضاء عبادة اور نیز اس کی دوسری دلیل یہ ہے ہماری کہ قضا عبادت ہے مولانا جیسے نماز عبادت ہے تو عبادت جیسے مسجد میں ادا کی جاتی ہے قضا بھی کیا ہے؟ یہ بھی عبادت ہے تو اس کو مسجد مسجد میں ادا کیا جانا چاہیے۔ جی نیز امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مشرک تو نجس ہے وہ تو داخل ہی نہیں ہو سکتا مسجد کے اندر اس لیے مسجد میں قاضی نہ بیٹھے ہم کہتے ہیں وہ نجاست المشرک من حيث الاعتقاد مشرک کی جو نجاست ہے وہ اعتقاد کے اعتبار سے ہے یعنی اس کا اعتقاد نجس ہے اعتقاد سمجھ میں آیا بھئی؟ جی حالانکہ وہ یہ نہیں کہ اس کا بدنی نجس ہے بھئی۔ تو وہ نجاست اعتقادی مراد ہے بھئی اس کو جو نجس کہا گیا ہے۔ والحائض اور آپ نے کہا حائضہ کو بھی کبھی داخل ہونا پڑتا ہے بھئی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں اور وہ مسجد میں داخل نہیں ہو سکتی تو کہتے ہیں بھئی کوئی حرج نہیں اگر حائضہ عورت حاضر نہیں ہو سکتی تو پھر وہ اپنے حال کی خبر دے دے گی قاضی کو اور قاضی صاحب پھر مسجد سے باہر تشریف لے آئیں گے سمجھ میں آیا تو یہ کوئی مشکل کام نہیں اور کبھی کبھار ہوگا مسئلہ تو وہ مسجد کے دروازے تک آ سکتا ہے قاضی بھئی۔ و الحائض لات سمجھ میں آیا؟ جی یہ نہیں کہ وہ اپنی جگہ سے ہِل ہی نہیں سکتا نہیں بھئی اتنا اعلیٰ آدمی ہے وہ بلکہ اس کو کیا کرنا پڑے گا پھر دروازے پر اٹھ کر باہر ائے بھئی وہ۔ و الحائض لاتدخل اور حائضہ داخل نہیں ہوگی سمجھ میں آیا یہاں سب خادم، سب خدام ہوں گے مولانا، سب فیصل خدمت کریں گے جس طریقے سے تکلیف دور ہو جائے دوسرے کی۔ و الحائض لاتدخل اور حائضہ داخل نہیں ہوگی بل تفصیل خصومتها علی بالمسجد بلکہ فیصلہ کیا جائے گا اس کے مقدمے کا مسجد کے دروازے پر ولو جلس فی داری واذن بالدخول جاز بھئی قاضی اگر اپنے گھر بیٹھ گیا بیٹھ سکتا ہے کہتے ہیں بیٹھ سکتا ہے بھئی اپنے گھر بیٹھنا چاہے تو وہاں بھی بیٹھ سکتا ہے یعنی جہاں بھی بیٹھنا چاہے بیٹھ سکتا ہے مولانا مطلب تو لیکن لوگوں کو اجازت ہونی چاہیے بھئی روک ٹوک نہیں ہونی چاہیے بھئی۔ کمرے میں دفتر وغیرہ جہاں بھی بیٹھ جائے ہر ایک بلا روگ ٹوک وہاں ا جا سکے اور سب کو علم بھی ہو ایسی جگہ نہ بیٹھے کہ کسی کو اس کا پتہ ہی نہ ہو بھئی پتہ پوچھتے پوچھتے ہی مصیبت بن جائے پہنچنا مشکل ہو جائے بھئی۔ ولو جلس فی داری اور اگر وہ اپنے گھر کے اندر بیٹھا و اذن بالدخول جاز اور اجازت دے دی اس نے داخل ہونے کی عام لوگوں کو بھی اجازت ہے تو یہ بھی جائز ہے بھئی۔ و لا یقبل ہدی ولا یقبل هدیة الا من ذی رحم محرم او ممن اعتاد مہاداتہ۔ و قبول نہ کرے ہدیہ کو سمجھ میں آیا قاضی ہدیہ نہیں لے گا مولانا کسی سے بھی کوئی اس کو ہدایئے بھیجتا ہے ہدیہ نہیں لے گا الا من ذی رحم محرم ہاں اگر ایسے قریبی رشتہ دار سے جو محرم ہو بھئی۔ سمجھ میں آیا قریبی اور محرم رشتہ دار ہو یہاں صلہ رحمی کی وجہ سے قاضی لے لے اس سے بھئی کیونکہ رشتہ دار کیا کرتے ہیں عموماً آپس میں ایک دوسرے کو جی تو یہاں اگر اس سے نہیں لے گا تو قطع رحمی لازم آئے گی او ممن اعتاد یا وہ شخص اعتاد کہ اس کی عادت ہو کیا عادت ہو مہاداتہ اس کو ہدیہ دینے کی۔۔ جی بھئی ایک شخص قاضی اس کے قاضی بننے سے پہلے اس کو ہدیہ دیا کرتا تھا تو اس کی عادت تھی بھئی اس سے ہدیہ لے سکتا ہے کیونکہ اب یہ جو وہ ہدیہ دے رہا ہے کسی رشوت کے طور پر یا عہدہ قضا کی وجہ سے نہیں دے رہا بلکہ یہ کیا کرتا تھا پہلے بھی دیا کرتا تھا قادراً اتنی مقدار عهدہ جو معلوم ہے بھئی جو مقرر ہے یعنی پہلے جتنی مقدار میں ہدیہ دیا کرتا تھا اب بھی وہی ہدیہ دے سکتا ہے مولانا سمجھ میں آیا؟ یہ نہیں کہ پہلے تو کبھی مرغی بھجوا دیا کرتا تھا اب بکرے بھجوا رہا ہے مولانا یہ نہیں معلوم ہو یہ قضا کی وجہ سے اب وہ زیادہ دے رہا ہے بھئی۔ جی اذا لم یکن بینہما خصومة جبکہ ان دونوں کے درمی درمیان خصومت نہ ہو بھئی۔ جی معنی یہ بھئی یعنی ان دونوں کا جب قاضی کے پاس کوئی مقدمہ نہ ہو اگر قریبی محرم رشتہ دار کا قاضی کے پاس مقدمہ ہے اب اس کا ہدیہ بھی قبول کرنا قاضی کے لیے جائز نہیں مولانا معلوم ہوا یہ کس لیے دے رہا ہے؟ تاکہ قاضی کا دل اس کے لیے نرم ہو جائے بھئی۔ نیز اسی طرح بھئی اگر وہ جو پہلے ہدیہ دیا کرتا تھا عادت ہے اب جب قاضی کے پاس مقدمہ چل رہا ہے اس کا تو اس وقت بھی قاضی کے لیے اس کے لیے اس سے ہدیہ لینا جائز نہیں بھئی اس سے دل میں نرمی آئے گی اس کے۔ ولا یحضر دعوة الا عامة اور حاضر نہیں ہوگا قاضی کسی دعوت دعوت میں بھئی دعوتیں نہیں بھئی اج کل کی طرح نہیں ہوگا بھئی دعوتیں اڑائی جا رہی ہیں بھئی کبھی ایک طرف سے دعوت، کبھی دوسری طرف سے دعوت، کبھی تیسرے کی طرف سے دعوت بھئی یہ سب شرارتیں ہیں تاکہ اس شخص کو جج کو اپنی طرف مائل کر لیا جائے۔ الا عامة مگر عام دعوت ہو۔ مگر کس قسم کی دعوت ہو؟ خاص دعوت میں شریک نہیں ہو سکتا عام دعوت میں شریک ہو سکتا ہے بھئی، اب خاص کسے کہتے ہیں عام کسے کہتے ہیں علامہ صدر الشریعہ بتلا رہے ہیں۔ العامة التی ہی العامة ہی التی یتخذہا وان لم یحضر القاضی عام وہ ہے دعوت ہے التی یتخذہا جس کا وہ اہتمام کرتا ہے وان لم یحضر القاضی اگرچہ قاضی حاضر نہ ہو۔ خاص دعوت وہ ہے مولانا جس میں معلوم ہوا جی کہ خاص دعوت وہ ہے کہ قاضی صاحب آتے ہیں تو وہ دعوت کر رہا ہے قاضی صاحب کے پتہ چلا قاضی صاحب تشریف نہیں آ رہے تو وہ دعوتی کیا کر دیتا ہے؟ منسوخ کر دیتا ہے بھئی۔ معلوم ہوا یہ خاص دعوت ہے اور اگر ایک عام دعوت ہے بھئی کوئی شادی وغیرہ ہے کسی کی وہاں پر ولیمہ میں بلوایا قاضی صاحب کو تو اب قاضی جا سکتا ہے کیونکہ اب وہاں قاضی نہ بھی جائے تو پھر بھی وہ منسوخ نہیں ہوگا۔ و عند محمد رحمہ اللہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں الخاصہ ان کان من قريبه یجیبه كالهدیة اگر وہ خاص دعوت کسی قریبی عزیز کی طرف سے ہے بھئی وہ ذو رحم محرم وغیرہ کی طرف سے ہے یجیبه کیا کرے گا اس کو قبول کرے گا کل هدیة جیسے کیا تھا؟ ہدیہ تھا مولانا ہدیہ جیسے اس کی طرف سے قبول کرتا تھا تو اس کی دعوت خاصہ کو بھی کیا کر سکتا ہے؟ قبول کر سکتا ہے۔ سمجھ میں آیا جی نیز کہتے ہیں بھئی جس وقت قاضی قضا کے لیے بیٹھے اس وقت اس کا دل کسی چیز میں مشغول نہیں ہونا چاہیے بھئی سمجھ میں آیا؟ مشغول نہ ہو یا کسی تشویش میں مبتلا نہ ہو مثلاً بڑا خوش ہے مولانا اس وقت قضا کے لیے نہ بیٹھے بھئی۔ یا غم کی حالت میں ہے مولانا یا غصے کی حالت میں ہے سمجھ میں آیا غصے کی حالت میں ہے پھر بھی نہ بیٹھے قضا کے لیے پریشانی میں مبتلا ہے اس وقت بھی قضا کے لیے نہ بیٹھے مولانا۔ جی شدید سردی ہے یا شدید گرمی ہے مولانا۔ سمجھ میں پھر بھی قضا کے لیے نہ بیٹھے۔ جی نیز فقہاء لکھتے ہیں جس دن قضا کے لیے بیٹھے اس دن نفلی روزہ بھی نہ رکھے بھئی سمجھ میں آیا۔ جی ان سب چیزوں کی وجہ سے اس کا قلب مشغول ہوگا مولانا اور حق تک رسائی مشکل ہو جائے گی بھئی۔ خوش ہوگا تو مجرم کو بھی معاف کر دے گا بھئی۔ چلو جاؤ بھئی میری طرف نہیں ثابت ہو رہا بھئی۔ غصے میں ہوگا تو بغیر دیکھے ہی کیا کر دے گا؟ چلو بھئی لے جاؤ اس کو بھئی فیصلہ ہو گیا بند کرو جیل میں ڈالو بھئی۔ سمجھ میں روزہ رکھا ہوا ہے بھئی بھوک لگی ہوئی ہے پریشان بیٹھا ہے قاضی صاحب پتہ نہیں کیا فیصلہ تو یہ ساری چیزیں قلب کو مشغول کرنے والی ہیں یا تشویش میں ڈالنے والی تو اس وقت نہ بیٹھے بھئی۔ حالت اعتدال میں ہو اس وقت بیٹھے بھئی۔ و يشهد الجنازة اور جنازے میں حاضر ہو سکتا ہے قاضی جنازے میں حاضر ہو مولانا۔ و یعود المریض اور مریض کی کیا کر سکتا ہے؟ عیادت کر سکتا ہے مولانا بشرطیکہ اسی مریض کا مقدمہ قاضی کے پاس نہ ہو بھئی۔ تو جنازے میں بھی حاضر ہو سکتا ہے مریض کی عیادت بھی کر سکتا ہے اس لیے کیونکہ حقوق مسلمین میں سے ہے حضور علیہ السلام نے ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر کیا حق ہیں وہ گنوائے اور ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ جب ایک فوت ہو جائے تو کیا ہو جائے دوسرا اس کے جنازے میں حاضر ہو وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے بھئی۔ و یسوی بین الخصمین جلوسا و اقبالا اور تسویہ کرے برابری کرے دونوں فریقوں کے درمیان بھئی بیٹھنے میں اور توجہ کے اندر بھئی۔ بیٹھنے اور توجہ کے اندر دونوں میں برابری بھئی دو فریق ائے ایک مدعی ہے ایک مدعی علیہ ہے دونوں کے اندر ایک جگہ برابر میں بٹھائے بھئی سمجھ میں آیا یہ نہ کرے بھئی ایک کے لیے ایک کو تو ایک طرف کنارے پر بٹھا دے دوسرے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ جائے کہ آؤ میری جگہ بیٹھئے۔ سر آپ کہاں سے تشریف لائے ہوئے ہیں؟ سمجھ میں آیا۔ آپ نے بڑی اچھی کوٹ پتلون پہنی ہوئی ہے معلوم ہو بڑا امیر دولت مند آدمی ہے آئیے آئیے ادھر آئیے میرے پاس بیٹھ جائیے نہیں بھئی برابر بالکل دونوں کو۔ جو اقبالن اور توجہ کے اندر بھی برابری کرے دونوں فریقوں کے درمیان یہ نہیں بھئی کہ ایک کی طرف زیادہ توجہ کرتا ہے وہ اور دوسرے کی طرف دیکھتا ہی جی۔ سمجھ میں آیا ایک بات کہتا ہے تو قاضی بالکل اس کی طرح جھک جاتا ہے بھئی ہاں جی فرمائیے اچھا یہ بات تھی۔ دوسرا بیچارہ بولتا ہے توجہ ہی نہیں کرتا اس کی طرف بھئی۔ अच्छा जी ولا یصار احداہما کسی ایک سے سرگوشی بھی نہ کریں مولانا۔ کسی ایک سے سرگوشی بھی نہ کرے بھئی ادھر لاؤ کان ایک بات بتاؤں آپ کو بھئی۔ سمجھ میں آیا اس سے کوئی بھی بات سرگوشی کرے گا دوسرے کی دل شکنی ہوگی مولانا دل شل دل ٹوٹے گا اس کا اور وہ اپنا حق ہی چھوڑنے کو تیار ہو جائے گا چھوڑ دے گا۔ سمجھ میں آیا۔ اپنے حق کو بھی وہ چھوڑ دے گا۔ جی۔ ولا یضیفہ اور ضیافت بھی نہ کریں ان کی بھئی۔ ان کی ضیافت بھی دعوت وغیرہ بھئی ان کی فریق ہے مدعی ہے بھئی قاضی صاحب گھر پہ اسپیشل اس کی دعوت کر رہے ہیں بھئی۔ جی یا اس کے لیے وہیں انتظام ہو رہا ہے کھانے پینے کا نہیں بھئی کیونکہ تہمت کا خدشہ یہاں پر سمجھ میں آیا۔ جی۔ کی قاضی صاحب جانبداری کر رہے ہیں بھئی ولا یضحک بھئی اور ہنسے بھی نہ بھئی وہاں پر بیٹھا ہوا ہے بھئی سمجھ میں آیا بھئی۔ جی اس سے ایک کے سامنے ہنسے گا اس کی جرات بڑھ جائے گی مولانا وہ اپنے فریق پر اور زیادہ جری ہو جائے گا بھئی۔ جی۔ ولا یمزح معہ اور اس کے ساتھ مذاق بھی نہ کرے کسی ایک کے ساتھ بھئی۔ کسی ایک کے ساتھ بھئی۔ لا یضحک یعنی کسی ایک کے سامنے نہ ہنسے ہاں اگر دونوں کے ساتھ کوئی بات کرتے ہوئے ہنسے تو اس کی گنجائش ہے مولانا۔ ایک کی طرف ہنسے ہنستا ہے دیکھ کر تو اس سے اس کی جرات بڑھ جائے گی بھئی۔ اور ان کے ساتھ مذاق بھی نہ کرے کوئی مذاق والی بات مولانا اس سے قاضی کی ہیبت ختم ہوگی ان پر بھئی۔ ولا یشیر الیہ۔ اور اس کی طرف اشارہ بھی نہ کرے بھئی۔ ولا یلقنہ۔ ولا یلقنہ حجت اور کسی کو دلیل کی تلقین بھی نہ کرے بھئی بینہ دلیل اور حجت کی تلقین بھی نہ کرے۔ سمجھ میں آیا بھئی۔ تلقین یعنی اس کو دلیل نہ سکھائے بھئی کسی ایک کو بھی حجت اور بینہ گواہی نہ حجت نہ سکھائے بھئی۔ وکرہ تلقین الشاھد اور مکروہ ہے بھئی گواہ کی تلقین بھئی۔ بقولہ اب اس قول کے ساتھ اشھد بکذا وکذا یوں تلقین یوں کرتا ہے مولانا قاضی اس کو تلقین کر رہا ہے بینہ کی بھئی گواہ کو کہتا ہے بھئی کیا تم اس اس بات کی گواہی دیتے ہو بھئی یہ کیا ہے یہ تو آپ نے اس کو ساری بینہ سکھا دی بھئی۔ سمجھ میں آیا۔ کیا تم اس اس چیز کی گواہی دیتے ہو زید پر یہ تو آپ نے ساری تفصیل اس کے سامنے کھول کر بیان کر دی بھئی۔ سمجھ میں آیا۔ جی۔ تو اس کو تلقین نہ کرے کسی کو بھئی بینہ نہ سکھائے۔ واستحسنہ أبو یوسف رحمہ اللہ فيما لا تہمت فیہ۔ جی اور پسند کیا ہے اس کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس حجت میں جس میں تہمت نہ ہو جس میں تہمت کا خدشہ نہیں بھئی۔ ایک ہے مولانا اس کے سامنے بیچارہ قاضی کے سامنے آیا ہے ہیبت کی وجہ سے اسے بات ہی نہیں ہو رہی بھئی بالکل بولا ہی نہیں جا رہا ہاں بھئی اب اس کی قاضی تھوڑی مدد کر سکتا ہے بات کرنے میں بھئی یہاں اب یہاں تہمت کا خدشہ نہیں ہے۔ نیز اس کو ہاں۔ اس طرح تلقین کرے کہ اس کا علم نہ بڑھے بھئی اس کا علم نہ بڑھے بھئی اگر اس کو سارا طریقہ سکھا رہا ہے علم بڑھ رہا ہے اس کے اندر تہمت کا خدشہ ہے اگر ایسے طریقے سے تلقین کرتا ہے جس سے اس کا علم نہیں بڑھتا بلکہ صرف کیا ہوتا ہے۔ مطلب اس کا جو ہیبت اس پر طاری ہے وہ کچھ کم ہو جاتی ہے وہ بات کر سکتا ہے ذرا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وذلك فيما لا يستفيد بتلقينه زيادة علم اور یہ اس صورت کے اندر جب کہ وہ فائدہ نہ اٹھائے قاضی کی تلقین سے زیادہ علم کا۔ ویحبس الخصم مدۃ رآھا مصلحۃ فی الصحیح۔ جی۔ بھئی فریق ہے بھئی اس پر کوئی حق ثابت ہو گیا مولانا ایک فریق پر۔ اور حقدار مطالبہ کرتا ہے قاضی صاحب میں اس کو جیل میں ڈالا جائے۔ اگر ثابت ہو گیا حق اور حقدار بھی اس کا مطالبہ کر رہا ہے تو قاضی اس کو جیل میں ڈال دے گا مولانا اور کتنی کتنی مدت جیل کے اندر ڈالے گا کہتے ہیں بھئی جتنے میں قاضی مصلحت دیکھے ایک ماہ سے لے کر چھ ماہ تک کئی اقوال ہیں مولانا تو جتنے میں قاضی مصلحت دیکھے کوئی ایک قول بھی ایسا نہیں کہ اس کو اختیار کیا جائے بلکہ یہ تو کس پر ہے کیونکہ لوگوں کے احوال مختلف ہوتے ہیں تو قاضی دیکھے بھئی کہ بعض لوگ جو ہیں تھوڑے دن چند دن بھی جیل میں ڈالا جائے تو وہ ٹھیک ہو جائیں گے بعض ہوتے ہیں کہ وہ کئی ماہ تک بھی جیل میں انہیں رکھا جائے تو وہ دوسرے کو حق دینے پر تیار نہیں ہوتے بھئی۔ یہ معنی ویحبس الخصم اور جیل میں ڈالے گا فریق مقابل کو مدتا مدتا اتنی مدت رآھا جس کو وہ دیکھے یعنی جو اس کو مناسب معلوم ہو را اس میں دیکھے کیا دیکھے مصلحت اتنی مدت میں وہ کیا دیکھے قاضی مصلحت اتنی مدت اس کو جیل میں ڈال دے گا فی الصحیح صحیح قول کے مطابق بھئی۔ بھئی یہ فی الصحیح قاضی یہ ماتن نے کیوں فرمایا کہتے ہیں وإنما قال ھذا ماتن نے یہ اس لیے فرمایا لاختلاف الروایات فی تعیین مدۃ الحبس بوجہ روایات کے مختلف ہونے کے مدت حبس کی تعیین میں مختلف روایات ہیں والاصح وأن تقدیر مفوض الای رای القاضی اور صحیح قول اور یہ ہے کہ تقدیر یہ مقرر کرنا بھئی یہ سپرد ہے کس کے قاضی کی۔ کتنی مدت مقرر کی جائے یہ قاضی کی رائے کے سپرد ہے لتفاوت احوال الأشخاص فی ذلک اس لیے کہ اس کے اندر لوگوں کے احوال کیا ہیں مختلف ہیں میں نے بتایا بعض تھوڑی سی سزا سے ٹھیک ہو جاتے ہیں بعض تیز تک بھی حق دینے پر راضی نہیں ہوتے۔ تو کہتے ہیں جیل میں ڈالے گا فریق کو فریق مقابل کو بطلب ولی الحق ذلک۔ جی کس وجہ سے؟۔ بوجہ حقدار کے طلب ولی حق کیا معنی حقدار حقدار کے طلب کرنے کے ذلک اس قید کو جب حقدار اس کو طلب کرے تو جیل میں ڈالے گا۔ جی کب ڈالے گا جیل کے اندر؟۔ إن أمر القاضی المقر جب قاضی حکم دے بھئی دو صورتیں ہیں مولانا۔ دوسرے کا حق یا تو ثابت ہوگا مدعا علیہ کے اققرار سے یا بینہ کے ذریعے اس پر ثابت ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟۔ یا وہ خود اقرار کر لے گا کہ ہاں واقع میں نے اس کا اتنا دین دینا ہے یا کس کے ذریعے ثابت ہو جائے گا مولانا بینہ کے ذریعے ثابت ہوگا بھئی۔ بینہ کے ذریعے ثابت ہوگا۔ تو کہتے ہیں یاد رکھو جب اس کے اقرار سے ثابت ہو جائے حق دوسرے کا۔ تو اس صورت میں دوسرا کہتا ہے اس کو جیل میں ڈالا جائے۔ قاضی فوراً اس کو جیل میں نہیں ڈالے گا بلکہ اس سے کہے گا بھئی اس کا مال اسے ادا اس کا دین اسے ادا کر دو اس کا حق اسے دے دو۔ اب وہ ٹال مٹول کرتا ہے انکار کرتا ہے ادا نہیں کرتا مولانا تو پھر قاضی کیا کر دے گا اس کو جیل میں ڈال دے گا۔ یہ کس صورت میں ہے اقرار میں اقرار کی صورت میں قاضی اسے کہے گا پھر وہ انکار کرتا ہے یا ٹال مٹول کرتا ہے یا تو اس صورت میں جیل میں ڈالے گا اور اگر دوسرے کا حق ثابت ہوا ہے بینہ کے ذریعے کس کے ذریعے؟۔ بینہ کے ذریعے دوسرے کا حق ثابت ہوا اور اب حقدار کہہ رہا ہے اس کو جیل میں ڈالا جائے تو اب قاضی کا اس کو یہ کہنا ضروری نہیں کہ تم کیا کرو اس کا حق ادا کرو اور وہ انکار کرے پھر قاضی جیل میں ڈالے گا نہیں بھئی فوراً اس کو کہاں جیل میں ڈال دو مولانا۔ کیونکہ اس کا جب بینہ کے ذریعے اس پر حق ثابت ہوا وہ تو پہلے سے انکار کر رہا تھا بھئی سمجھ میں آیا؟۔ تو وہ پہلے انکار کر رہا تھا تو اب اس کی ٹال مٹول ظاہر ہو گئی معلوم ہوا یہ ابھی تک ٹال مٹول کر رہا ہے اور بینہ کے ذریعے حق ثابت ہو گیا تو جب اس کا امتناع عن اداء حق ثابت ہو گیا فوراً اس کو کیا کر دے جیل۔ جبکہ اقرار کی صورت میں اس کا امتناع عن اداء حق ابھی ظاہر نہیں ہوا جب وہ خود اقرار کر رہا ہے میں نے اتنا دین دینا ہے تو پھر اب اس کو قاضی کہہ دے بھئی ادا کر دو پھر وہ کیا کرتا ہے ادائے حق سے رکتا ہے تو پھر اس کو جیل میں ڈالے دونوں صورتیں سمجھ میں آگئیں؟۔ کب کہتے ہیں وہ کہتے ہیں جی ویحبس الخصم اور جیل میں ڈالے گا فریق کو بطلب ولی الحق ذلک جبکہ حقدار بھی اس کو طلب کرے ان امر القاضی المقر جب قاضی حکم دے دے کس کو حکم دے دے المقر اقرار کرنے والے کو حکم دے بالوفاء ادائیگی کا فہم تنا بس وہ باز رہا رکا رہا۔ جب تو اس کو پھر کیا کرے گا؟۔ جیل میں ڈالے گا۔ جی او ثبت ثابت کا عطف مولانا امر پر ہے۔ किस पर है؟۔ امر پر پچھلی اگر اقرار جی۔ اقرار کی صورت میں قاضی نے حکم دیا پھر وہ باز رہا پھر جیل میں ڈالے گا یا ان ثبت الحق بالبینۃ یا جیل میں ڈالے گا قاضی جب حقدار طلب کرے ان ثبت الحق بالبینۃ اگر حق کس کے ذریعے ثابت ہو؟۔ بینہ کے ذریعے اب اس کو کہے گا نہیں بھئی۔ آئیے جی ان ثبت الحق بالبینۃ اگر حق یعنی حق ثابت دیکھو بتلایا ان ثبت عطف امر پر ہے اگر حق ثابت ہو جائے بینہ کے ذریعے فطلب ولی الحق الحبس فاستلب کیا حقدار نے اس کے قید کو یحبسہ القاضی تو قاضی اس کو قید کرے گا من غیر احتیاج الی ان یامر القاضی بایفاء الحق فیمتنع بغیر اس کی ضرورت کے کہ قاضی اس کو حکم دے حق کی ادائیگی کا پس وہ باز رہے کہ قاضی اس کو حکم دے پھر وہ باز رہے اس کا انتظار نہیں کیا جائے گا یہ اس سے نہیں کہا جائے گا بلکہ فورا اسے کیا کر دیا جائے گا جیل میں ڈال اور ان ثبت بالاقرار اور اگر ثابت ہو حق مولانا اقرار کے ذریعے لابد ان یامرہ ضروری ہے کہ قاضی اس کو حکم دے فیمتن وہ پھر وہ تو پس وہ باز رہے۔ پھر اسے جیل میں ڈالے۔ بھئی کیوں یہ دونوں میں فرق کیوں کیا؟۔ کہ بینہ سے ثابت ہو تو قاضی اسے کہے ہی نہ فورا جیل میں ڈال دے۔ اور اقرار سے ثابت ہو تو قاضی اسے کہے گا پھر وہ انکار کرے گا پھر اسے کیا کیا جائے گا جیل میں۔ کہتے ہیں اس فی صورۃ البینۃ ظہر مطلہ بانکارہ اس لیے کہ بینہ کی صورت میں ظاہر ہو گئی متل مثل کہتے ہیں ٹال مٹول کو اس کی ٹال مٹول ظاہر ہو گئی بانکارہ وجہ اس وجہ اس کے۔ جب بینہ سے ثابت کیا معلوم ہوا وہ انکار کر رہا تھا تو اب اس کی ٹال مٹول ظاہر ہو گئی کہ اس نے ابھی تک ٹال مٹول کی ہے حق کی ادائیگی میں۔ وفی الاقرار اور اقرار کے اندر انما یظہر المطل بان یمتنع من الایفاء بعد الامر۔ اقرار کے اندر تو اس کی ٹال مٹول ابھی ظاہر نہیں وہ کیا کر رہا ہے خود دین کا۔ دین کا وہ خود کیا کر رہا ہے مولانا کہ میں نے اس کا دین دینا ہے تو ٹال مٹول ابھی ظاہر ہوئی ہے نہیں۔ تو اس کی ٹال مٹول اس وقت ظاہر ہوگی بان امتنع من الایفاء بعد الامر کہ وہ روکا رہے ادائیگی سے بعد الامری قاضی کے حکم دینے کے بعد اب ٹال مٹول ظاہر ہوئی ہے۔ تو تو یہ جو فان الحبسا جزاء المماطلہ اس لیے کہ یہ قید سزا ہے ٹال مٹول کی مولانا۔ تو ٹال مٹول بینہ کے اندر انکار جب بینہ سے ثابت ہوا وہاں ٹال مٹول ظاہر ہے۔ اور اقرار کی صورت میں ٹال مٹول تب ظاہر ہوگی جب قاضی اسے حکم دے دے اور پھر وہ کیا کرے ادا نہ کرے۔ تو پھر۔ अच्छा तो जेल में डाले گا قاضی اور بھئی کس کس چیزوں میں جیل میں ڈالے گا اور کن کس قسم کے دیون وغیرہ میں جیل میں ڈالے گا اور کس قسم میں نہیں ڈالے گا تفصیل بتلا رہے ہیں فِیْ ما اس قسم کے دین میں لزمہ بعقد جو اس پر لازم ہوا ہو کسی عقد کی وجہ سے۔ کمہری جیسے کہ مہر ہے وکفالت اور کفالت ہے۔ بھئی ایک آدمی نے نکاح کیا تو عقد نکاح کی وجہ سے اس پر کیا لازم ہو گیا مہر تو دیکھو اب یہ مہر اس پر دین ہے اور یہ دین اس پر کس کی وجہ سے لازم ہوا عقد کی وجہ سے۔ اسی طرح مولانا۔ کفالت کسی نے دوسرے کی ضمانت دے دی تو بھئی اب اس ضمانت کی وجہ سے اس پر کیا لازم ہو جائے گا۔ بھئی اگر اصیل مال ادا نہ کرے تو کس سے وصول کیا جائے گا؟۔ کفیل سے تو یہ مال اس پر کس کی وجہ سے لازم ہوا؟۔ عقد کفالت کی وجہ سے تو عقد کی وجہ سے انسان اپنے اوپر جو مال لازم کر لے جو دین لازم کر لے اس دین کے اندر اسے جیل میں ڈالا جائے گا۔ کیا ڈال کیا کیا جائے گا؟۔ ہاں ہر دین کے اندر جیل میں نہیں ڈالیں گے مولانا تفصیل توجہ سے سننا اس دین کے اندر جو اس پر کس وجہ سے لازم ہوا ہو کسی عقد کی وجہ سے جیل میں ڈالیں گے کیوں بھئی کیوں کہتے ہیں بھئی معلوم ہوا یہ مالدار ہے جان بوجھ کر ٹال مٹول کر رہا ہے۔ کیونکہ انسان اپنے اوپر مال کو ویسے لازم نہیں کرتا اسی وقت مال کو لازم کرتا ہے جبکہ اس کے پاس کیا موجود ہو؟۔ مال موجود ہو تو جب اس نے مولانا عقد عقد کے ذریعے مہر کو اپنے اوپر لازم کیا یا عقد کے ذریعے اس نے کسی کو اپنے اوپر لازم کیا۔ کفالت کے ذریعے اپنے اوپر۔ معلوم ہوا یہ مالدار تھا تو اپنے اوپر مال کو لازم کیا بغیر مالداری کے کوئی شخص اپنے اوپر مال کو لازم نہیں کرتا تو اس کی مالداری ظاہر ہے مال ہے اس کے پاس یہ پھر ٹال مٹول کر رہا ہے تو اب اس کو سزا دی جائے گی۔ جی المراد المعجل بھئی مہر سے مراد مہر معجل ہے کہتے ہیں بھئی اس لیے کہ مہر معجل تو اس وقت ادا کیا جاتا ہے جب اجل آ جائے تو یہاں مہر سے کیا مراد ہے مہر معجل۔ جی وبدلا۔ جی۔ وبدلا عن مال حصل لہ كشمن مبيع۔ فيما لزمہ۔ اس کا تعلق بھی اسی سے ہے فیما لزمہ۔ اس کو جیل میں ڈالا جائے گا فیما ایسے دین کے اندر لزمہ جو اس پر کیا ہوا ہے لازم ہوا ہے بدلا عن مال بدلے کے طور پر عن مال ایسے مال سے حصل لہ جو اسے حاصل ہوا ہے کثمن مبیع جیسے مبیع کے ثمن۔ بھئی وہ چیزیں ذکر ہو رہی ہیں وہ دیون ذکر ہو رہے ہیں جن کے اندر بھئی قاضی اس شخص کو جیل کے اندر ڈالے گا جبکہ حقدار اس کا اس کو جیل میں ڈالنے کو طلب کرتا ہے۔ تو جیسے ثمن مبیع ہے بھئی۔ ایک آدمی کو ایک آدمی نے دوسرے پر گاڑی بیچی گاڑی اس کے سپرد کر دی یہ ثمن کی ادائیگی میں ٹال مٹول کر رہا ہے تاخیر کر رہا ہے۔ تو دیکھو اس میں اس کو جیل میں ڈالا جائے گا اس لیے کہ یہاں پر اس پر کیا چیز لازم ہوئی ہے مولانا۔ کون سا مال ہے ثمن کیا نام ہے مبیع کے ثمن ہیں تو یہ جو ثمن اس پر لازم ہوئے ہیں یہ بدل ہیں۔ کس چیز سے عن مال ایسے مال سے حصل لہ جو اس کو۔ جی۔ جو اسے کیا ہوا ہے۔ بھئی اسے گاڑی حاصل ہوئی ہے یا نہیں مال ملا ہے یا نہیں تو یہ جو اس پر ثمن آ رہے ہیں یہ ویسے ہی ہیں یا اس مال جو یہ مال جو اسے حاصل ہوا ہے اس کے بدلے کے طور پر ہیں۔ تو لہذا اس میں بھی اس کو جیل ڈالا جائے گا کیوں بھئی یہاں مالداری کیسے ثابت ہوئی پہلے مالداری کا تو پتہ چلے بیچارے کے پاس اگر مال ہی نہیں ہے تو جیل میں ہم نہیں ڈالتے اسے بھئی۔ بھئی پچھلے مسئلے کے اندر بھئی کفالت اور مہر میں جب اس نے اپنے اوپر مال کو لازم کیا تھا معلوم ہوا وہ مالدار تھا غیر مالدار کبھی اپنے اوپر مال کو لازم۔ یہاں پر کہتے ہیں بھئی یہاں پر بھی یہ مالدار ہے کیونکہ اس پر جو ثمن واجب ہو رہے ہیں کس کے بدلے میں آ رہے ہیں؟۔ مال کے بدلے میں ہیں اور وہ مال کسے حاصل ہوا ہے اسی کو تو حاصل ہوا ہے جب اس کو مال حاصل ہو گیا معلوم ہوا یہ کون ہے؟۔ مالدار ہے یہ کیا ہے؟۔ مالدار ہے جب مال اس سے حاصل ہوا صورت سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے۔ و بدلًا یا وہ دین جو اس پر لازم ہوا ہے بطور بدلے کے ہے عن مال ایسے مال سے حاصل لہ جو اسے، جب مال اسے حاصل ہوا تو یہ مالدار ہو گیا تو مالداری ثابت ہو گئی تو اب مولانا اب اسے جیل میں ڈالا جائے گا ٹال مٹول کی وجہ سے۔ کثمن مبیع جیسی کہ مبیع کے ثمن ہیں۔ و فی نفقۃ و و فی نفقۃ عرسہ و ولدہ لا، و جی و فی نفقۃ عرسہ و ولدہ لا فی دینہ۔ اور اسی طرح جیل میں ڈالا جائے گا۔ بھئی یہ سارا متن چل رہا ہے مولانا۔ عن مال حصل لہ کثمن المبیع و فی نفقۃ عرسہ و ولدہ لا فی دینہ یہ سارا متن چل رہا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں زیادہ سے زیادہ یہ امکان ہے یہ کثمن المبیع یہ شاید شارہ کا حصہ ہو۔ ورنہ باقی سارا متن ہی چل رہا ہے۔ آگے خود دیکھو شارہ کر رہے ہیں ای لایحبس فی دین الولد یہ علامہ صدر الشریعہ یہاں بول رہے ہیں بھئی۔ بھئی بیوی کے زوجہ کے نفقے کے اندر بھی و ولدہ اور اپنے چھوٹے بچے کے نفقے کے اندر بھی اس شخص کو جیل میں ڈالا جائے گا۔ بیوی آگئی قاضی کے پاس کہ قاضی صاحب یہ کیا کرتا ہے میرا نفقہ ادا نہیں کرتا تو بھئی اس صورت میں بھی اس کو جیل میں ڈالا جائے گا۔ و ولدہ اسی طرح اس کا چھوٹا بچہ ہے اس کا بھی نفقہ کس پر ہوتا ہے؟ والد پر ہے تو یہاں پر بھی بھئی جیل میں ڈالا جائے گا۔ لا فی دینہ ای لایحبس فی دین الولد بتلایا دینہ کی ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ ولد کو۔ ولد کے دین کے اندر والد کو جیل میں نہیں ڈالا جائے گا بھئی سمجھ میں آیا اس لیے کہ یہاں پر والد کو ولد کی وجہ سے تکلیف نہیں دی جا سکتی۔ والد کو کیا ہے ولد کی وجہ سے تکلیف نہیں سمجھ میں آیا فلا تخلما اف و لاتنہرهما ممانعت کیا گیا ہے بھئی تو یہاں پر بھی گویا تکلیف کا سبب کون بن رہا ہے؟ ولا تو لڑکے نے دعویٰ کر دیا کہ میرے باپ نے میرا دس لاکھ روپیہ دین دینا ہے نہیں بھئی اور کہتا ہے اس کو جیل میں ڈالا جائے نہیں بھئی بچے کے دین کے بیٹے کے دین کی وجہ سے والد کو جیل میں نہیں ڈالا جائے گا اس لیے کہ تکلیف دینا ہے اور بیٹے کو منع کیا گیا ہے کہ اپنے باپ کو کوئی تکلیف دے۔ ہاں بھئی اس کے نفقے کے اندر اگر صغیر ہے پھر جیل میں ڈالیں گے۔ بیوی کے نفقے میں جیل میں ڈالیں گے۔ کیوں؟ بھئی اس لیے کہ نفقہ ضروری ہے اگر نفقہ نہیں دے گا تو وہ تو زندہ ہی نہیں رہیں گے بچیں گے ہی نہیں۔ ان کی بقا کے لیے کیا ہے؟ نفقہ ضروری ہے۔ و فی غیرہا لا ان کے علاوہ جو دیون ہیں ان میں جیل میں نہیں ڈالا جائے گا نحو الدیات و عرش الجنایات جیسے دیتیں اور جنایاتوں کا عرش ہے بھئی۔ بھئی پورے نفس کا جو زمان آتا ہے کسی کو غلطی سے قتل کر دیا وہ دیت کہلاتا ہے بھئی اور اگر اس سے کم ہو بھئی ہاتھ کاٹا کسی کا اس سے جو زمان آیا مولانا ہاتھ توڑ دیا وغیرہ وہ عرش کہلاتا ہے کیا کہلاتا ہے؟ وہ جی۔ تو دیتیں اور عرش ہیں جنایاتوں کے جو عرش ہیں جو زمان آئیں گے بھئی اس کے اندر جیل میں نہیں ڈالا جائے گا۔ کب؟ جیل میں نہیں ڈالا جائے گا۔ کہتے ہیں ان دعافقرہہ جبکہ اس نے دعویٰ کر دیا ہے کس چیز کا؟ اپنے فقیر ہونے کا دعویٰ کر دیا تو پھر اسے ان چیزوں میں جیل میں نہیں ڈالا جائے گا۔ الا اذا قامت بینتہ بذیدہ مگر یہ کہ اس کی بینہ قائم ہو جائے اس کی ضد پر مولانا۔ مدعی کی کیا ہو جائے؟ بینہ قائم ہو جائے اس کی یعنی اس کے غنا پر بینہ قائم کر دے کہ قاضی صاحب میں گواہ پیش کرتا ہوں یہ بڑا مالدار ہے فلاں جگہ ایک کوٹھی ہے فلاں جگہ ایک کوٹھی ہے فلاں جگہ کاروبار کر رہا ہے یہ یہ بڑے حصے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ الا اذا قامت بینتہ بذیدہ مگر یہ کہ قائم ہو جائے اس کی ضد اس پر اس کی بینہ۔ ثم شراہ بعد ذالک فیما یفعلوہ القاضی چلیے مولانا بس کرتے ہیں ہذا واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
106 approved lectures · 59 of 106