Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-131

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 20 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 17
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فإن حمَّر الثوبَ أو صفَّر أو لثَّ السويقَ بسمنٍ ضمنهُ أبيضَ، یا ضمنَهُ أبيضَ ومثلَ سويقهِ، أو أخذهما وغرمَ ما زادَ الصبغُ ما زاد الصبغُ والسمنُ فإن سوَّدَ ضمنهُ أبيضَ أو أخذهُ ولا شيءَ للغاصبِ لأنهُ نقصٌ أچھا۔ چلیے، "ضمنهُ" پڑھ لیں دونوں جگہ تاکہ فاعل وہ مالک کی طرف ضمیر لوٹے گی بھئی۔ اچھا۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی: ایک شخص نے کسی کی چیز غصب کر لی، مثلاً کپڑا غصب کیا اور اس کو کوئی رنگ دے دیا، رنگ دے دیا۔ یا کسی نے کسی کا ستو غصب کیا تھا، اس میں گھی ملا دیا، یعنی اس مغصوب شئے کے اندر زیادی کر دی۔ کیا کر دی؟ زیادتی کر دی۔ اب کیا کیا جائے گا؟ کہتے ہیں اس صورت کے اندر کہ مالک کو اختیار ہے۔ اس نے بھئی کس قسم کا کپڑا مثلاً غصب کیا تھا؟ سفید، اور رنگ کون سا دے دیا؟ سرخ۔ تو مالک کو اختیار ہے، چاہے تو اس سے ضمان لے لے اس سفید کپڑے کا، کس کا لے لے؟ بھئی سفید کپڑا تھا 100 روپے کا، سرخ رنگ دینے کے بعد وہ 150 کا ہو چکا، لیکن مالک سے جو اس نے لیا تھا وہ تو کون سا کپڑا تھا؟ سفید، تو سفید کپڑے کا ضمان اس سے لے لے، یعنی 100 روپے لےے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا کیا کرے؟ اس سے وہی کپڑا لے لے۔ مالک کو اختیار ہے کیونکہ کپڑا تو مالک کا ہے، تو چاہے تو وہی کپڑا لے لے، لیکن اس کپڑے میں غاصب نے اپنا رنگ لگا کر قیمت میں 50 روپے زیادتی کر دی ہے، یہ اب مالک اس کو دے دے۔ کپڑا مالک کا اس نے 100 والا لیا تھا اور اب مالک اب اس سے واپس لے رہا ہے تو کتنے والا ہے؟ 150 والا، تو 50 زائد ہو چکے ہیں، وہ مالک اب کس کو دے دے؟ غاصب کو دے دے اور اس کپڑے کا مالک ہو جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ ستو کے اندر بھی اسی طرح ہے بھئی، اس نے ستو غصب کیا تھا اور وہ ستو تھا مثلاً 100 روپے کا، اس نے اس میں 50 روپے کا گھی ملایا، اب کتنے کا ہو چکا ستو؟ 150 کا، تو اب چاہے تو مالک کو اختیار ہے، اس سے اسی ستو کا مثل لے لے جو اس نے غصب کیا تھا، کیونکہ ستو مثلیات میں سے ہے، تو اس کا مثل لے لے، مثلاً 100 روپے کا ستو غصب کیا تھا اور اس سے اب کیا کر لے؟ 100 روپے کا اور سادہ ستو لے لے بھئی، سمجھ میں آیا؟ یا چاہے تو یہی گھی ملا ہوا ستو اس سے لے لے، لیکن اس میں کتنی زیادی ہو چکی؟ 50 کی، یہ 50 اس کو واپس دے دے 50 روپے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: فإن حمَّر الثوبَ اگر غاصب نے سرخ رنگ دیا کپڑے کو، أو صفَّرَ یا اس کو زرد کر دیا، أو لثَّ السويقَ بسمنٍ یا ملا دیا ستو کو گھی کے ساتھ ضمنهُ، ضمنا پڑھ لیں بھئی آگے کیونکہ "أخذَ" اس کی ضمیر فاعل مالک کو لوٹے گی، یہ بھی مالک کو لوٹا دیں، تو مالک کو اختیار ہے ضمنهُ کہ اسے کیا کر دے؟ اس کو ضامن بنا دے کپڑے کا أبيضَ اس حال میں کہ کپڑا کیا ہو؟ بھئی اس نے غصب بھی سفید کیا تھا تو سفید کپڑے کا ضمان اس سے لے لے یعنی 100 روپے بھئی۔ ومثلَ سويقهِ اور ضامن بنا دے اسے ستو کے اندر کس کا؟ ستو کے مثل کا بھئی، اس نے 100 روپے کا ستو غصب کیا تھا مثلاً دو کلو، تو وہی دو کلو ستو اس سے لے لے، اس کا دو کلو لے لے یعنی اس کا مثل۔ أو أخذهما یا ان دونوں کو لے لے یعنی کپڑے اور ستو کو لے لے، وغرمَ اور تا ضمان دے دے ما زادَ الصبغُ والسمنُ جو زیادی کی ہے اس کے اندر رنگ نے اور گھی نے بھئی، رنگ نے اور گھی نے 50 50 روپے کی زیادی کی ہے، وہ بطورِ ضمان کے اس کو واپس دے دے غاصب کو، صورت سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ کہتے ہیں: فإن سودَ لیکن اگر اس نے کالا رنگ دیا بھئی، کپڑے کو کالا رنگ دے دیا، اب کہتے ہیں کہ چاہے تو مالک اس سے ضمان لے لے، یہ کپڑا اسی کے پاس چھوڑ دے اور کس کا کون سے کپڑے کا ضمان لے لے؟ سفید کپڑے کا بھئی، یہ کپڑا اب تو ہی رکھ، 100 روپے کا کپڑا میرا آپ نے غصب کیا تھا، مجھے 100 روپے دے دو۔ یا چاہے تو یہی کالا کپڑا اس سے لے لے بھئی، لیکن اس صورت میں کوئی چیز مالک کو نہیں دینا پڑے گی، کیوں نہیں دینا پڑے گی؟ اس لیے کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کالا رنگ دے دینا کپڑے کو، یہ اس میں زیادی نہیں ہے بلکہ اس کے اندر نقصان ہے، کیا ہے نقصان؟ کمی آ گئی اس کے اندر، تو لہٰذا جب زیادی آئی ہی نہیں تو ہم پیسے کس چیز کے اس غاصب کو دیں بھئی؟ فإن سودهُ اگر اس نے سیاہ کر دیا کپڑے کو، سیاہ رنگ دیا، ضمنهُ أبيضَ تو ضامن بنا دے گا اس کپڑے کا اس حال میں کہ سفید ہو، أو أخذهُ یا لے لے گا اس کو کپڑے کو، ولا شيءَ للغاصبِ اور غاصب کے لیے کوئی چیز نہیں ہوگی مالک پر، لأنهُ نقصٌ اس لیے کہ یہ کالا رنگ نہ نقصان ہے، هذا عند أبي حنيفةَ رحمہ اللہ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، وعندهما التسويدُ كالتحميرِ اور صاحبین کے نزدیک سیاہ رنگ نہ كالتحميرِ یہ سرخ رنگنے کی طرح ہے، یعنی سیاہ رنگ بھی اور رنگوں کی طرح ہے بھئی، جیسے وہ زیادی ہیں، یہ بھی زیادی شمار ہوگی، تو جو زیادی ہے وہ دینی پڑے گی۔ قیل، بھئی یہ کیا وجہ ہے امام صاحب کے نزدیک سیاہ رنگ نہ کمی ہے اور ان کے نزدیک زیادی ہے؟ کہتے ہیں: قيل هذا الاختلافُ بحسبِ اختلافِ العصرِ کہ یہ اختلاف جو تھا زمانے کے اختلاف کے سبب سے تھا بھئی، زمانے، امام صاحب کے زمانے میں سیاہ رنگ کو کیا سمجھا جاتا تھا کپڑے میں؟ نقص، عیب، کمی سمجھی جاتی تھی نقصان، اور صاحبین کے زمانے میں نقصان نہیں سمجھا جاتا تھا۔ تو کہتے ہیں: فينظرُ بس دیکھا جائے گا، إن نقصَهُ السوادُ اگر سیاہی سیاہ رنگ نے اس میں کمی کی ہے، سیاہی نے اس میں کمی کی ہے، كان نقصانًا تو اس کو نقصان شمار یہ نقصان ہوگا، وإن زادهُ اور اگر اس میں زیادی کی ہے، يعدد زيادةً تو اس کو کیا شمار کیا جائے گا؟ کہتے ہیں یہ معلوم ہوا بھئی، ہم اپنے زمانے میں دیکھ لیں، سیاہ رنگ کو اگر نقصان سمجھا جاتا ہے تو آپ نقصان سمجھیں، اس کو اگر زیادی سمجھی جاتی ہے تو زیادی۔ وعند الشافعيِّ رحمہ اللہ اور امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: المالكُ يمسكُ الثوبَ کہ مالک کپڑے کو لے لے گا ويأمرُ الغاصبَ بقلعِ الصبغِ اور حکم دے گا غاصب کو کس چیز کو؟ اپنے رنگ کو اکھاڑنے کا۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی جس کا کپڑا تھا وہ جس نے جو بھی رنگ دیا ہے غاصب نے بھئی، کوئی حرج نہیں، اس سے کپڑا لے لو بھئی، کیا کرو؟ کپڑا لے لو اور اس کو کہو بھئی جو تو نے اس پہ رنگ لگایا ہے، اس کو اتارو، جتنا اتار سکتے ہو رنگ اتار لو۔ تو کہتے ہیں وہ کپڑا لے لے گا، ويأمرُ الغاصبَ بقلعِ الصبغِ رنگ کے اکھاڑنے کا حکم دیا جائے گا، اور رنگ کے اکھاڑنے کا حکم دے دے گا غاصب کو، ما أمكنَ جس قدر ممکن ہو سکے۔ ولا فرقَ بينَ السوادِ وغيرهِ اور کوئی فرق نہیں ہے سیاہی اور سیاہ رنگ میں اور دوسرے رنگوں میں بھئی، سب میں اسی طرح ہوگا۔ بخلافِ مسئلہ السويقِ بخلاف ستو کے مسئلے کے اندر، فإن التمييزَ، دو یاں ہونی چاہئیں، فإن التمييزَ غيرُ ممكنٍ بھئی، اس لیے کہ وہاں پر جدائی ممکن ہی نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی کپڑے کو ایک رنگ دیا ہے، وہاں رنگ دینے رنگ کو پھر کپڑے سے علیحدہ اتارا جا سکتا ہے، کچھ نہ کچھ اتارا جا سکتا ہے، تو وہاں اس کو کہا جائے گا اتارو جتنا اتار سکتے ہو رنگ کو غاصب سے کہا جائے گا، جبکہ ستو کے اندر ایک دفعہ گھی مل چکا ہے، اب اس کے الگ کرنے کی کوئی صورت نہیں، لہٰذا اس میں ایسا نہیں کیا جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں پر ستو کے اندر اسی طرح ہے مسئلہ وہ فرماتے ہیں، البتہ کپڑے کے اندر کیا مسئلہ ہے؟ ہم نے تو کہا تھا جو زیادی ہوئی ہے، مالک کو اختیار ہے چاہے تو سفید کپڑے کا ضمان لے لے، کپڑا اسی غاصب کے پاس رہنے دے یا چاہے تو کپڑا لے لے اور جو زیادی ہوئی ہے وہ پیسے غاصب کو دے دے، امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، بس کپڑا لے لے اور غاصب کو کہا جائے گا جو تم نے اس پہ رنگ لگایا ہے اس کو جتنا اتار سکتے ہو اتار لو۔ دیکھیے دلیل ان کی آئے گی: لهُ القياسُ على قلعِ البناءِ بھئی، ان کی دلیل جو ہے وہ قیاس ہے قلعِ بناء پر، کس پر؟ بھئی جیسے دیکھو ایک شخص کیا کرتا تھا کسی کی زمین پر قبضہ کرنے کے بعد اس میں عمارت تعمیر کر لیتا تھا، تو وہاں ہم حکم دیتے تھے اپنی بلڈنگ اکھاڑ کر لے جاؤ، تو یہاں پر بھی اس سے کہا جائے گا کہ اپنے رنگ کو کپڑے سے اکھاڑ لو، سمجھ میں آیا؟ تو یہ جو دلیل آئی نہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کی، یہ کپڑے کے مسئلے میں ہے، یہ یاد رکھنا، ستو کے مسئلے میں نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ ستو میں تو وہ بھی اسی طرح فرماتے ہیں۔ قلنا، ہم جواب دیتے ہیں بھئی، کہ فی قلعِ البناء، بھئی ہم کہتے ہیں نہیں، آپ اس کو قلعِ بناء پر قیاس نہیں کر سکتے، کیوں نہیں کر سکتے؟ اس لیے کہ قلعِ بناء کے اندر بھئی وہ ملبہ جو ہوتا تھا، وہ غاصب کے لیے بچتا تھا یا نہیں بچتا تھا؟ بچتا تھا، لیکن یہاں پر غاصب جب کپڑے کو رنگے اس سے رنگ اتارے گا، اس سے دھوئے گا تو کچھ بھی اس کے لیے نہیں بچے گا، تو وہاں تو ملبہ تو بچ جاتا تھا، یہاں کوئی رنگ اس کے لیے بچے گا؟ نہیں، تو یہ اس کی طرح نہیں۔ قلنا، ہم جواب دیتے ہیں: في قلعِ البناءِ لا يتلفُ مالُ الغاصبِ کہ قلعِ بناء کی صورت میں بھئی مال غاصب کا مال تلف نہیں ہوتا تھا، سمجھ میں آیا؟ مال غاصب کا ہلاک نہیں ہوتا تھا، یعنی بھئی وہ ملبہ تو اس کے پاس بچتا تھا اگرچہ وہ کاریگری اس میں ختم ہو گئی، وہ جو تعمیر پہ خرچہ ہوا تھا وہ تو گیا لیکن جو عین تھی، جو اس کا سیمنٹ، بجری وغیرہ اور اینٹیں جو کچھ لگا ہے وہ سارا اس کے پاس اسی طرح ہے یا نہیں؟ تو عین اس کے لیے ساری بچ جاتی تھی اگرچہ وہ صنعت اس کے اندر جو اس نے کی تھی وہ ختم ہو جاتی تھی، لأن النقضَ، نقض یا نقض دونوں طرح، یہ ملبے کو کہتے ہیں مولانا، اس لیے کہ ملبہ اس کا ہوتا تھا، وهنا يتلفُ جبکہ یہاں پر وہ عین ہی مالِ غاصب ہی کیا ہے؟ تلف ہو جاتا ہے، کس کہاں پر یہاں بھئی؟ کپڑے کے اندر، وہ رنگ سارا تلف ہو جاتا ہے۔ فرعايةُ الجانبينِ فيما قلنا پس دونوں جانبین کی رعایت اس صورت میں ہے جو ہم نے کہی، جو ہم نے کہی، ہم نے کیا کہا تھا؟ کہ چاہے تو کپڑا غاصب کے پاس چھوڑ دے اور اس سے سفید کپڑے کا ضمان لے لے، یا چاہے تو کپڑا لے لے اور جو اس میں زیادی ہوئی ہے وہ واپس کس کو دے دے؟ غاصب کو دے دے، تو اس میں دونوں کی رعایت ہے۔ اچھا، اب آگے ایک سوال کا جواب کہ بھئی ستو میں آپ نے کہا ستو کا مثل دے دے اور کپڑے میں آپ نے کہا اس کی قیمت دے دے، یہ کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ ستو مثلیات میں سے ہے اور مثلیات میں ضمان میں کیا دیا جاتا ہے؟ مثل، اور کپڑا ذوات القيم میں سے ہے اور اس میں ضمان کے طور پر کیا دی جاتی ہے؟ قیمت۔ کہتے ہیں: والستوقُ مثليٌّ، ستو مثلی ہے، فإن طرحهُ على الغاصبِ پس اگر اس کو غاصب پر ہی ڈال دیا، يأخذُ المثلَ تو اس میں مثل لے لے گا، بخلافِ الثوبِ وبخلاف کپڑے کے، فيأخذُ فيهِ القيمةَ کہ اس کے اندر کیا لے لے گا؟ قیمت لے لے گا، وہ مثلی نہیں ہے۔ ولو غيبَ ما غصبَ وضمنَ المالكُ قيمتهُ ملكهُ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک آدمی نے دوسرے کی کوئی چیز غصب کر لی اور غصب کے بعد اس کو غائب کر دیا، کہ بھئی وہ چیز میرے پاس ہلاک ہو گئی، ختم ہو گئی۔ اب بھئی جب غائب کر دی، تو مالک نے اس سے ضمان لے لیا، کیا کیا؟ ضمان لے لیا، مالک نے اس سے قیمت وصول کر لی، تو قیمت وصول کرنے کے بعد کیا غاصب اس چیز کا مالک بن گیا یا نہیں؟ ہمارے نزدیک وہ اس چیز کا مالک بن گیا، امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، مالک نہیں بنا، مالک نہیں بنا، اس لیے کیونکہ اس نے غصب کیا ہے اور غصب تو ایک فعلِ ممنوعہ ہے اور فعلِ ممنوع کی وجہ سے کوئی شخص کسی چیز کا مالک نہیں بن سکتا۔ ہم کہتے ہیں دیکھو، مالک نے کیا کیا ہے؟ اس کی قیمت لے لی ہے، تو مالک اس کی قیمت کا، یعنی اس کے بدل کا مالک بن چکا، اس مغصوب شئے کے بدل کا، اور اب لازمی بات ہے جب مالک بدل کا مالک بن چکا، تو حکم لگایا جائے گا کہ دوسرا شخص مبدل کا کیا بن چکا؟ مالک، ورنہ اگر ہم یہ کہیں کہ وہ مبدل ابھی اسی کا ہے تو بدل کا بھی یہ مالک، مبدل کا بھی یہی مالک بھئی، تو اور بدل اور مبدل کیا ہوئے؟ ایک ہی شخص کے ملک میں جمع ہو جائیں گے جو کہ درست نہیں بھئی، مسئلہ سمجھ میں آیا؟ یہ فرمایا: ولو غيبَ ما غصبَ اگر غائب کر دیا غاصب نے ما اس چیز کو غصبَ جو اس نے غصب کی تھی، وضمنَ المالكُ قيمتهُ اور ضامن بنا دیا اس اسے مالک نے قیمت کا، ملكهُ تو غاصب کیا بن جائے گا اس چیز کا؟ مالک بن جائے گا، خلافًا للشافعيِّ وبخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، لأن الغصبَ لا يكونُ سببًا للملكِ اس لیے کہ وہ فرماتے ہیں غصب جو ہے ملکیت کا سبب نہیں بن سکتا کیونکہ یہ تو فعلِ ممنوع فعل ہے مولانا، ناجائز فعل ہے۔ قلنا، ہم جواب دیتے ہیں: إنما يملكهُ ضرورةً أن المالكَ يملكُ بدلهُ ہم کہتے ہیں کہ وہ مالک بن جائے گا بناء بر اس کے ضروری ہونے کے کہ مالک کیا ہے؟ اس کے بدل کا مالک بن گیا، سمجھ میں آیا؟ مالک کے اس کے بدل کا مالک بن جانے کے ساتھ لازم ہے کہ وہ اس کا کیا بن جائے؟ مالک بن جائے، مالک جب اس کے بدل کا مالک بنا ہے تو اسے کس کا مالک بننا چاہیے غاصب کو؟ مبدل کا، تو یہ اس کے ساتھ لازم ہے، لئلا يجتمعَ البدلُ والمبدلُ في ملكِ شخصٍ واحدٍ تاکہ کہیں بدل اور مبدل ایک ہی شخص کے ملک میں جمع نہ ہو جائیں، بخلافِ ما لا يقبلُ الملكَ كالمُدَبَّرِ بخلاف اس چیز کے جو کہ ملکیت کو قبول نہیں کرتا جیسے مدبر ہے، مدبر ہے مولانا، انتقالِ ملک چونکہ نہیں ہو سکتا تو وہاں اور مسئلہ ہے اور یہاں پر اور مسئلہ ہے۔ وصدقَ الغاصبُ في قيمتهِ معَ حلفتِهِ إن لم يقم حجةَ الزيادةِ صورتِ مسئلہ یہ ہے: غاصب نے ایک چیز غصب کر لی، اب وہ چیز غائب کر دی اس نے، اب آیا جھگڑا قیمت کے اندر، مالک کہتا ہے وہ چیز ایک لاکھ کی تھی، غاصب کہتا ہے نہیں 50 ہزار کی تھی۔ اب کیا کیا جائے؟ گواہ کسی کے پاس بھی نہیں ہے مولانا، کس پہ فیصلہ کیا جائے؟ کس کا قول معتبر؟ کہتے ہیں کس کا قول معتبر ہوگا؟ غاصب کا، کیوں معتبر ہوگا؟ بھئی اب دیکھیے، 50 ہزار میں تو دونوں کا اتفاق ہے، غاصب کتنے کہہ رہا ہے؟ 50، مالک کتنا کہہ رہا ہے؟ ایک لاکھ کہہ رہا ہے، یعنی ایک لاکھ میں کتنے آ گئے؟ وہ 50 ہزار بھی آ گئے، تو 50 50 میں تو دونوں کا اتفاق، البتہ مالک 50 ہزار زائد کا بھی دعویٰ کر رہا ہے۔ تو یہ مالک ہوا زائد کا مدعی اور غاصب کیا ہوا؟ منکر، اور مدعی کے ذمہ بینہ ہوتی ہے اور مدعا علیہ کے ذمہ قسم، تو قسم کس پر آئی؟ غاصب پر، لہٰذا قول کس کا معتبر؟ غاصب کا، یہی بات کر رہے ہیں: وصدقَ الغاصبُ في قيمتهِ تصدیق کس کی کی جائے گی؟ غاصب کی کی جائے گی في قيمتهِ اس مغصوب شئے کی قیمت کے اندر، معَ حلفهِ ساتھ اس کی قسم کے، إن لم يقم حجةَ الزيادةِ اگر مالک نے قائم نہ کی زیادی کی حجت بھئی، زیادی پر کوئی بینہ قائم نہ کی۔ اچھا، اب بھئی، اس کے بعد بھئی وہ چیز پھر مل گئی، ظاہر کر دی بھئی، غاصب نے اس چیز کو چھپایا ہوا تھا بھئی، فیصلہ کس کے قول پر ہو گیا؟ فیصلہ ہو گیا تھا قیمت دے دی گئی، اس کے بعد غاصب نے وہ چیز ظاہر کر دی، پتہ چلا وہ چیز ہلاک نہیں ہوئی تھی۔ اب کیا کیا جائے؟ کہتے ہیں، جب ایک مرتبہ قیمت کا ضمان لے لیا جائے، اس کے بعد وہ چیز ظاہر ہو جائے اور اس کی قیمت اس سے زیادہ تھی بھئی، جتنا ضمان دیا گیا تھا اس سے زیادہ تھی اس چیز کی قیمت، اور ضمان دیا جا چکا، اب کہتے ہیں پہلے تو سب سے پہلے یہ دیکھو کہ یہ فیصلہ کس کے قول پر ہوا تھا۔ دیکھو نہ، دعویٰ کس کا؟ مالک کیا کہہ رہا تھا؟ وہ صورت ختم کر دو، وہ گزر گئی مولانا، اب نئی صورت بناؤ بھئی، اسی طرح بنا لو، مالک کیا دعویٰ کر رہا ہے؟ ایک لاکھ کا، غاصب کیا دعویٰ کر رہا ہے؟ غاصب کہتا ہے قیمت 50 ہزار، مالک کہتا ہے نہیں ایک لاکھ، اب فیصلہ کرنے کی صورتیں آپ جانتے ہیں، سب سے پہلے مالک کے ذمہ کیا ہے؟ بینہ، اگر مالک نے بینہ پیش کر دی تو کتنے پہ فیصلہ ہو جائے گا؟ ایک لاکھ پہ فیصلہ ہو چکا، اب وہ چیز، فیصلہ ہوا ہے بینہ کے ذریعے، بعد میں وہ چیز مل گئی، ظاہر کر دی غاصب نے، پتہ چلا وہ تو ایک لاکھ کی بھی نہیں ہے، وہ تو کتنے کی ہے؟ ڈیڑھ لاکھ کی ہے مولانا، تو کیا اب جبکہ فیصلہ ہوا ہے بینہ پر اور وہ چیز ہے اس قیمت سے زیادہ، مالک اس سے لے سکتا ہے واپس؟ کہتے ہیں نہیں، اب مالک کے اپنے قول کے مطابق فیصلہ ہوا ہے جو اس کی رضامندی کی علامت تھی، لہٰذا اب وہ وہ اس چیز کو نہیں لے سکتا۔ صورت سمجھ میں ہے؟ تو یہ فیصلہ ہوا تھا بينه پر۔ آگے چلیں۔ اگر مالک کے پاس بينه نہ ہو پھر کیا کیا جاتا ہے؟ غاصب پر قسم آتی ہے۔ غاصب پر قسم آئی تھی اور غاصب نے قسم اٹھا لی تھی تو غاصب نے پچاس ہزار میں پچاس ہزار دے دیے، بعد میں وہ چیز ظاہر ہوئی پتہ چلا وہ چیز کتنے کی ہے؟ ڈیڑھ لاکھ کی ہے مثلاً بھئی ڈیڑھ لاکھ کی۔ تو اس صورت میں اب چونکہ فیصلہ کس کے قول پر ہوا تھا؟ غاصب کے قول پر تو معلوم ہوا مالک اس پہ راضی تھا؟ راضی نہیں تھا لہٰذا اب مالک کو اختیار ہے۔ مالک کو اختیار ہے؟ چاہے تو اسی طرح چلنے دے مسئلے کو، زمان اپنے پاس ہی رکھے وہ چیز چھوڑ دے، اور چاہے تو کیا کرے؟ پیسے واپس کرے اور اپنی چیز لے لے۔ اس کو اختیار ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تیسری صورت مولانا، غاصب کو قسم دی گئی تھی لیکن اس نے کیا کیا قسم سے؟ انکار کر دیا۔ بینہ مالک کے پاس نہیں تھی، قسم آ گئی غاصب پر، غاصب نے کیا کر دیا؟ انکار۔ اب فیصلہ پھر کس کے حق میں کر دیا جائے گا؟ مالک کے حق میں کر دیا جائے گا کہ ایک لاکھ روپیہ اس کو دے دو۔ لیکن پھر وہ چیز ظاہر ہوئی پتہ چلا قیمت تو ڈیڑھ لاکھ ہے۔ اب مالک کو کیا اختیار ہوگا؟ کہتے ہیں نہیں، اب کوئی اختیار نہیں مولانا۔ کوئی اختیار نہیں۔ کیوں نہیں اختیار؟ کیونکہ فیصلہ کس کی مرضی کے مطابق ہوا تھا؟ مالک کے قول پر ہوا تھا تو اس کی رضامندی آ چکی، لہٰذا اب وہ پورا زمان وصول کر چکا ہے، تو اب اس کو واپس نہیں لے سکتا۔ سمجھیں؟ اب یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ چیز تو ڈیڑھ لاکھ کی ہے، مجھے تو صرف ایک لاکھ ملا تھا، مجھے اور پیسے دیے جائیں وغیرہ۔ نہیں بھئی! آپ نے خود ہی کتنے کا دعویٰ کیا تھا؟ ایک لاکھ کا اور وہی آپ کو مل چکے ہیں۔ یہ معنی ہے وَإِنْ ظَهَرَ الْمَغْصُوبُ اگر وہ مغصوب شے ظاہر ہو گئی وَقِيمَتُهُ أَكْثَرُ اور اس حال میں کہ اس کی قیمت زیادہ تھی بھئی، جو زمان لیا گیا اس سے زیادہ تھی قیمت وَقَدْ ضَمِنَ الْغَاصِبُ بِقَوْلِهِ اور تحقیق ضامن ہوا تھا غاصب اپنے ہی قول کے ساتھ بھئی! اپنے قول کے ساتھ اس نے زمان دیا تھا، أَخَذَهُ الْمَالِكُ مالک اس چیز کو لے لے گا وَرَدَّ عِوَضَهُ اور اس کے عوض کو کیا کر دے گا؟ واپس کر دے گا کیونکہ فیصلہ کس کے قول پر ہوا تھا؟ غاصب کے قول پر، أَوْ أَمْضَى الزَّمَانَ یا زمان کو چلنے دے اسی طرح بھئی۔ وَإِنْ ضَمِنَ اور اگر بھئی غاصب ضامن ہوا تھا بِقَوْلِ مَالِكِهِ کس کے قول پر؟ مالک کے قول پر۔ مالک نے کہا تھا ایک لاکھ کی تھی وہ چیز، غاصب مان گیا آرام سے بھئی ٹھیک ہے۔ سمجھ میں آیا؟ چار صورتیں کل بنیں نا، سب سے پہلے غاصب کیا کہتا ہے چیز کتنے کی تھی؟ پچاس ہزار۔ مالک نے کہا کتنے کی تھی؟ ایک لاکھ۔ غاصب نے کہا اچھا چلو ٹھیک ہے، ایک لاکھ یہ لو۔ تو پہلی صورت یہ کہ دونوں راضی ہوئے۔ دوسری صورت کہ غاصب کیا پیش کر دے؟ بينه۔ تیسری صورت کہ غاصب کیا کرے؟ قسم کھا لے۔ چوتھی صورت کہ غاصب کیا کرے؟ قسم سے انکار کرے۔ تو جب غاصب کے قول پر فیصلہ ہوا تھا، تو اس صورت میں مسئلہ گزر گیا، باقی تین صورتوں کے اندر مالک کو اختیار نہیں ہے، وہ آگے آ رہی ہیں۔ کہتے ہیں وَإِنْ ضَمِنَ بِقَوْلِ مَالِكِهِ اور اگر غاصب ضامن ہوا تھا اس مالک کے قول پر أَوْ بِحُجَّةٍ یا کس کے ذریعے ضامن ہوا تھا؟ بینہ کے ذریعے أَوْ بِنُقُولِ غَاصِبِهِ یا غاصب کے انکار کے ذریعے فَهُوَ لَهُ تو وہ چیز کس کی ہے؟ غاصب ہی کی ہے وَلَا خِيَارَ لِلْمَالِكِ اور مالک کو کوئی اختیار نہیں ہے لِأَنَّهُ تَمَّ مِلْكُهُ اس لیے کہ اس کی ملک تام ہو چکی لِأَنَّ الْمَالِكَ رَضِيَ بِذَلِكَ حَيْثُ دَعَا عَلَيْهِ هَذَا الْمِقْدَارَ اس لیے کہ مالک راضی ہو چکا ہے اس مقدار پر، اس طور پر کہ اس نے دعویٰ ہی اسی مقدار کا کیا تھا وَنَفَذَ بَيْعُ غَاصِبٍ ضَمِنَ بَعْدَ بَيْعِهِ اور نافذ ہوگی غاصب کی بیع جو ضامن ہوا تھا بعد بیع کے لَا إِعْتَاقُ عَبْدِهِ ضَمِنَ بَعْدَهُ نہ کہ اس کے عبد کا عتاق جو ضامن ہوا تھا اس کے بعد۔ صورت مسئلہ یہ: ایک آدمی نے کوئی چیز غصب کر لی، غصب کرنے کے بعد وہ چیز آگے بیچ دیتا ہے غاصب بھئی، اور بعد میں پھر مالک کو زمان دے دیتا ہے، تو کیا زمان دینے کے بعد وہ بیع نافذ ہو گئی یا نافذ نہیں ہوئی؟ کہتے ہیں وہ بیع نافذ ہو گئی۔ وہ بیع کیا ہو گئی؟ نافذ ہو گی، کیوں؟ بھئی اب اگرچہ وہ چیز کس کے پاس پہنچ چکی؟ آگے مشتری کے پاس پہنچ چکی ہے، لیکن غاصب نے جب زمان دے دیا تو اس کو ملکِ مستند حاصل ہو گئی، یعنی وہ ملک جو منسوب ہو رہی ہے وقت غصب کی طرف، جب اس نے غصب کیا تھا اس وقت یہ کیا بن گیا تھا؟ جب اب زمان دے دیا تو اسے ملک حاصل ہو گئی مولانا، لیکن یہ ملک کس وقت کی طرف منسوب ہوگی؟ وقت غصب کی طرف! جب اس نے گویا غصب کیا تھا، جب مالک بن گیا تھا تو معلوم ہوا اس کا آگے بیچنا صحیح۔ تو لہٰذا جب بھی بیع غصب کے اندر چیز آگے بیچ دی جائے، تو جب زمان دیتا ہے بعد میں تو اس سے ملکِ مستند حاصل ہوتی ہے، یعنی ایسی ملک حاصل ہوتی ہے جس کی نسبت کی جا رہی ہے ایک خاص وقت کی طرف بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی اس وقت تو چیز اس کے قبضے سے نکل گئی، لیکن کیا ہے کہ یہاں پر اس کے لیے ملک ثابت ہوگی اور یہ ملک منسوب ہو رہی ہے کس وقت کی طرف؟ جب وہ سبب پایا گیا تھا، چیز اس کے پاس آئی تھی اور وہ کیا تھا؟ غصب مولانا! تو اس وقت گویا یہ مالک بن چکا تھا، تو اس وقت اس کو ملک حاصل ہوئی تھی، تو یہ ملکِ مستند آگے بیع کے نفاذ کے لیے کافی ہے۔ وہ بیع جو پہلے صحیح نہیں تھی اب کیا ہو جائے گی؟ نافذ، کیونکہ ملکِ مستند کافی ہے کس کے لیے؟ بیع کے نفاذ کے لیے۔ لیکن اس کے بجائے اگر وہ اس نے آزاد کیا ہے بھئی غلام کو، تو یہ درست نہیں۔ مثلاً دیکھو ایک شخص نے ایک آدمی کا غلام غصب کر لیا، اور ابھی زمان نہیں دیا کہ اس نے غلام کو آزاد کر دیا، کیا کیا؟ آزاد کر دیا، اور بعد میں زمان دیتا ہے، تو جیسے بیع پہلے کر دی تھی، زمان بعد میں کیا، یہاں بھی عتاق پہلے کیا اور زمان بعد میں تو کیا یہ عتاق نافذ ہوگا؟ کہتے ہیں عتاق نہیں نافذ ہوگا۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ عتاق کے لیے ملکِ کامل کا ہونا ضروری، ملکِ مستند یہاں کافی نہیں، تو بیع کے نفاذ کے لیے تو ملکِ مستند بھی کافی ہو جاتی ہے، لیکن عتاق کے نفاذ کے لیے ملکِ مستند کافی نہیں، بلکہ وہاں ملکِ کامل چاہیے۔ یہ معنی ہے وَنَفَذَ بَيْعُ غَاصِبٍ اور نافذ ہو جائے گی ایسے غاصب کی بیع زُمِنَ بَعْدَ بَيْعِهِ جو ضامن ہوا تھا اس کو بیچنے کے بعد، لَا إِعْتَاقُ عَبْدِهِ زُمِنَ بَعْدَهُ نہ کہ اس کے غلام کا عتاق جبکہ وہ زمان ہوا ہو اس کے بعد۔ وَزَوَائِدُ الْغَصْبِ مُتَّصِلَةً كَالسَّمْنِ وَالْحُسْنِ اور غصب کے جو زوائد ہیں متصلةً، چاہے وہ متصل ہوں، كَالسَّمْنِ وَالْحُسْنِ جیسے موٹاپا ہے اور حسن ہے، وَمُنْفَصِلَةً كَالْوَلَدِ وَالثَّمَرِ اور چاہے منفصل ہوں، كَالْوَلَدِ وَالثَّمَرِ جیسے بچہ اور پھل ہیں، لَا يَضْمَنُ إِلَّا بِالتَّعَدِّي أَوْ بِالْمَنْعِ بَعْدَ الطَّلَبِ ان کا ضامن نہیں ہوگا غاصب إِلَّا بِالتَّعَدِّي مگر یہ کہ اس میں تعدی کرے۔ ہاں، تعدی کرے پھر غاصب ہو جائے گا بھئی۔ گائے کا بچہ پیدا ہوا اس نے خود اس کو کیا کر دی؟ ہلاک کر دیا۔ پھل باغ کا آیا تھا اس نے خود کیا کیا اس کو ہلاک کیا، سمجھ میں آیا؟ اس کو خود کھا لیا، کھلا دیا بھئی تو یہ تو خود کھلا رہا ہے۔ یا مالک کے طلب کرنے کے بعد اس نے اس چیز کو روک لیا تھا، بھئی اس نے گائے غصب کی تھی، گائے نے بچہ دے دیا، مالک نے اس سے کیا کہا؟ لاؤ بھئی یہ میری گائے حوالے کرو، بچہ حوالے کرو، اس نے نہیں دی، اب مولانا بچے کا بھی زمان آئے گا، کیونکہ اس نے بچے کو مالک سے روک لیا۔ بھئی آپ کو میں پہلے مسئلہ بتلا چکا ہوں کہ ایک چیز کو غصب کرنے کے بعد غاصب کے پاس اس میں کوئی زیادتی آ جائے تو اس زیادتی کا اس پر زمان نہیں آتا کیوں نہیں آتا زمان؟ ہاں، کیونکہ یہاں ازالۂ يد نہیں۔ ہمارے نزدیک غصب نام ہے ازالۂ يد مع اثباتِ يد، تو جو زیادتی آئی اس میں اثباتِ يد تو ہوتا ہے، البتہ ازالۂ يد نہیں تو غصب نہیں، جب غصب نہیں تو اس میں زمانِ غصب بھی نہیں۔ وہ امانت کے حکم میں ہے، کس کے حکم میں ہے؟ امانت کے حکم میں ہے۔ اب یہ جو زیادتی آتی ہے یہ دو قسم پر ہے، یا متصل ہوگی یا منفصل، یعنی اسی شے مغصوب کے ساتھ متصل ہوگی وہ زیادتی یا اس سے جدا ہو جائے گی۔ اگر بچہ ہوتا ہے مثلاً یہ منفصل ہے، بچہ کیا ہے؟ باندی سے جدا ہو گیا یا گائے غصب کی تھی اس کا بچہ اس سے جدا ہو گیا، یا درخت پر قبضہ کیا تھا باغ پر بھئی اس کا پھل ہے، وہ پھل اس سے جدا ہو جاتا ہے، تو یہ زیادتی منفصلہ کی مثال ہے۔ اور کبھی زیادتی متصل ہوتی ہے مولانا، کیسے؟ مثلاً گائے غصب کی تھی، اس کو خوب کھلا پلا کر موٹا کر دیا۔ اب یہ زیادتی تو آئی لیکن کیا یہ گائے سے الگ ہے یا اس کے ساتھ متصل ہے؟ متصل ہے۔ یا اسی طرح مولانا، باندی غصب کی تھی بھئی اور اس کے اندر اس کو زبردست خوراک وغیرہ کھلائی اس کو وہ حسین ہو گئی، جس کی وجہ سے اس کی قیمت بڑھ گئی، تو یہ اس کے اندر زیادتی تو آئی لیکن کس قسم کی زیادتی ہے؟ منفصل ہے یا متصل ہے؟ متصل ہے۔ تو چاہے زیادتی متصل ہو چاہے منفصل ہو دونوں کس کے حکم میں ہیں؟ امانت کے حکم میں ہیں، اور ان کی ہلاکت کی صورت میں ان زوائد کا زمان نہیں، کیونکہ امانت کا زمان نہیں آتا۔ یہ معنی ہے وَزَوَائِدُ الْغَصْبِ اور غصب کے جو زوائد ہیں مُتَّصِلَةً چاہے وہ متصل ہوں كَالسَّمْنِ وَالْحُسْنِ جیسے موٹاپا اور حسن ہے، وَمُنْفَصِلَةً اور چاہے وہ منفصل ہوں كَالْوَلَدِ وَالثَّمَرِ جیسے بچہ اور پھل ہیں، لَا يَضْمَنُ ان کا زمان نہیں ہوگا غاصب إِلَّا بِالتَّعَدِّي مگر یہ کہ اس میں تعدی کرے۔ ہاں، تعدی کرے پھر غاصب ہو جائے گا بھئی۔ گائے کا بچہ پیدا ہوا اس نے خود اس کو کیا کر دیا؟ ہلاک کر دیا۔ پھل باغ کا آیا تھا اس نے خود کیا کیا اس کو ہلاک کیا، سمجھ میں آیا؟ اس کو خود کھا لیا، کھلا دیا بھئی تو یہ تو خود کھلا رہا ہے۔ یا مالک کے طلب کرنے کے بعد اس نے اس چیز کو روک لیا تھا، بھئی اس نے گائے غصب کی تھی، گائے نے بچہ دے دیا، مالک نے اس سے کیا کہا؟ لاؤ بھئی یہ میری گائے حوالے کرو، بچہ حوالے کرو، اس نے نہیں دی، اب مولانا بچے کا بھی زمان آئے گا۔ أَوْ بِالْمَنْعِ بَعْدَ الطَّلَبِ یا کیا کرے کہ روک لے اس کو طلب کے بعد، ھَذَا عِنْدَنَا یہ ہمارے نزدیک ہے، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَضْمُونَةٌ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی رحمتہ واسعہ فرماتے ہیں مضمون ہے بھئی، زوائد بھی مضمون ہیں اس کا بھی زمان آئے گا۔ وَقَدْ مَرَّ أَنَّ هَذَا مَبْنِيٌّ عَلَى الِاخْتِلَافِ فِي حَدِّ الْغَصْبِ اور تحقیق یہ بات گزر چکی ہے کہ یہ مبنی، یہ اختلاف ہے غصب کی تاریخ میں جو اختلاف ہے اس پر بھئی، غصب کی تاریخ میں اختلاف ہے اس لیے یہاں اس مسئلے میں اختلاف۔ وَزَمِنَ نُقْصَانُ وِلَادَةٍ مَعَهُ وَجُبِرَ بِوَلَدٍ إِنْ يَفِي بِهِ یہ عبارت ہے مولانا۔ صورت مسئلہ یہ: ایک شخص نے ایک باندی غصب کر لی، سمجھ میں آیا؟ باندی غصب کر لی۔ باندی نے اس شخص کے پاس جا کر ایک بچے کو جنم دیا، اور آپ جانتے ہیں کہ ولادت باندی کے اندر عیب شمار ہوتی ہے اور اس سے باندی کی قیمت کم ہو جاتی ہے، تو ولادت کی وجہ سے باندی کے اندر نقصان آیا، کیا اس نقصان کا غاصب ضامن ہوگا یا ضامن نہیں؟ کہتے ہیں اس نقصان کا ضامن ہوگا۔ کیوں؟ ضامن کیوں ہوگا؟ اس لیے کہ اس نقصان کا جو سبب ہے اور وہ کیا ہے؟ ولادت، وہ ولادت کس کے پاس پایا گیا؟ غاصب کے پاس، تو جب سبب نقصان غاصب کے پاس ہے تو زمان بھی غاصب پر آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ باندی نے اس کے ہاں بچے کو جنم دیا ہے۔ اچھا، اور اس نقصان کی کہتے ہیں، اس نقصان کا زمان تو ہوگا غاصب، لیکن اگر بچے کے ذریعے جتنا نقصان کی تلافی ہو سکتی ہے، تلافی کر دی جائے گی۔ کس کے ذریعے تلافی ہوگی؟ بچے کے ذریعے۔ مثلاً باندی جب غصب کی تھی وہ دو لاکھ کی تھی، لیکن بچے کو جنم دینے کے بعد اس کی قیمت صرف کتنی رہ گئی؟ ایک لاکھ رہ گئی، اور بچہ بھی ایک لاکھ کا ہے، تو اس بچے کے ذریعے نقصان کی تلافی ہو گئی، اب اس پر کوئی زمان نہیں آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے وَزَمِنَ اور غاصب ضامن ہوگا نُقْصَانَ وِلَادَةٍ مَعَهُ ولادت کے نقصان کا مَعَهُ اس کے ساتھ، وَجُبِرَ بِوَلَدٍ اور تلافی کی جائے گی اس نقصان کی بِوَلَدٍ بچے کے ذریعے إِنْ يَفِي بِهِ اگر مکمل ہوتا ہو نقصان بِه اس بچے کے ذریعے۔ اگر اس بچے کے ذریعے نقصان پورا ہوتا ہے تو اسی کے ذریعے کیا کر دی جائے گی؟ تلافی کر دی جائے گی۔ لہٰذا معلوم ہوا اس پر کوئی مزید زمان نہیں آئے گا۔ خِلَافًا لِزُفَرَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ بخلاف امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کے۔ کیوں بھئی؟ وہ فرماتے ہیں نہیں بھئی! بچہ، تلافی بچے کے ذریعے تلافی نہیں ہو سکتی کیوں؟ کہتے ہیں فَإِنَّ الْوَلَدَ مِلْكُهُ اس لیے کہ بچہ بھی کیا ہے؟ اسی مالک کی ملک ہے، فَلَا يَصْلُحُ جَابِرًا لِمِلْكِهِ تو وہ اس کی ملکیت کے لیے جبیرہ نہیں بن سکتا، اس کی ملک کے لیے جابر (یعنی تلافی کرنے والا) نہیں بن سکتا بھئی۔ فَإِنَّ الْوَلَدَ مِلْكُهُ اس لیے کہ بچہ اسی کی ملک ہے فَلَا يَصْلُحُ جَابِرًا لِمِلْكِهِ تو وہ اسی کی ملکیت کے لیے تلافی کرنے والا نہیں ہو سکتا۔ قُلْنَا ہم جواب دیتے ہیں سَبَبُهُمَا شَيْءٌ وَاحِدٌ دونوں کا سبب ایک ہی چیز ہے، دیکھو مولانا، باندی کے اس غاصب کے پاس ولادت پائی گئی، ولادت باندی کی طرف دیکھیں تو یہ ولادت نقصان ہے، بچے کی طرف دیکھیں تو یہ ولادت کیا ہے؟ زیادتی ہے، تو دونوں کا سبب ایک ہی ہے۔ دونوں کا سبب ایک ہی ہے، نقصان کا بھی وہی سبب ہے (یعنی ولادت) اور زیادتی کا بھی سبب وہی ہے ولادت، لہٰذا اس کو نقصان نہیں شمار کیا جاتا سمجھ میں آیا بھئی؟ قُلْنَا سَبَبُهُمَا شَيْءٌ وَاحِدٌ دونوں کا سبب ایک ہی ہے، جی اور وہ کیا ہے ایک ہی سبب بھئی کہتے ہیں وَهُوَ الْوَلَدُ تو وہ ولادت ہے، وَمِثْلُ هَذَا لَا يُعَدُّ نُقْصَانًا اور اس قسم کے جو ہے نقصان شمار نقصان شمار نہیں کیا جا سکتا سمجھ میں آیا بھئی؟ تو تلکا بتلکا ایک دوسرے کا عوض ہو گیا۔ فَلَوْ زَنَى بِأَمَةٍ غَصَبَهَا فَرُدَّتْ حَامِلًا فَوَلَدَتْ فَمَاتَتْ ضَمِنَ قِيمَتَهَا جیسے صورت مسئلہ یہ: ایک آدمی نے کسی کی باندی غصب کر لی، اور پھر اس کے ساتھ زنا کیا بھئی، سمجھ میں آیا؟ پس پھر وہ حاملہ ہوئی اور اس نے وہ حاملہ باندی مالک کو واپس لوٹا دی۔ حاملہ باندی کیا کی؟ مالک کو واپس لوٹا دی۔ باندی نے مالک کے پاس آنے کے بعد ایک بچے کو جنم دیا اور مر گئی اسی ولادت کی وجہ سے۔ بچے کو جنم دیتے ہوئے مر گئی، تو کیا آپ اس غاصب پر زمان آئے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں اس پر زمان آئے گا اس کی قیمت کاضامن ہوگا۔ کیوں بھئی؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اس ولادت کا سبب وہ حاملہ ہونا ہے، اور حاملہ ہونے کا سبب کس کے پاس پایا گیا؟ غاصب کے پاس اور سبب کا سبب بھی کیا ہوتا ہے؟ سبب گویا غاصب ہی کے پاس وہ باندی ہلاک ہوئی، اس نے واپس لوٹائی ہی نہیں، اور اس کو اب کیا دینا پڑے گا اس کی قیمت۔ فَلَوْ زَنَى بِأَمَةٍ غَصَبَهَا، اگر کسی نے زنا کیا، وہ غاصب نے زنا کیا بِأَمَةٍ ایسی باندی کے ساتھ غَصَبَهَا جسے اس نے غصب کیا تھا، فَرُدَّتْ حَامِلًا، پس لوٹائی گئی وہ باندی اس حال میں کہ وہ حاملہ تھی، فَوَلَدَتْ، اس نے ایک بچے کو جنم دیا، فَمَاتَتْ، تو وہ مر گئی اس ولادت کی وجہ سے، ضَمِنَ قِيمَتَهَا، تو وہ غاصب ضامن ہوگا اس کی قیمت کا۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ وَعِنْدَهُمَا لَا يَضْمَنُ، صاحبین کے نزدیک ضامن نہیں ہوگا۔ لِأَنَّ الرَّدَّ وَقَعَ صَحِيحًا، اس لیے کہ رد تو صحیح طور پر واقع ہوا ہے، اس نے واپس تو صحیح طور پر کی تھی۔ وَقَدْ مَاتَتْ فِي يَدِ الْمَالِكِ، اور تحقیق وہ مالک کے قبضے میں مری ہے، بِسَبَبٍ، ایک ایسے سبب کی وجہ سے حَادِثٍ فِي مِلْكِهِ، جو پیش آیا ہے کس کے ملک میں بھئی؟ غاصب؟ مالک کے ملک میں بھئی، وہ ولادت مری ولادت سے ہے۔ صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ باندی کس سے مری؟ ولادت سے، اور ولادت کس کے پاس پائی گئی؟ مالک کے پاس پائی گئی، غاصب کے پاس ولادت نہیں پائی گئی۔ تو کہتے ہیں کہ غاصب نے تو باندی صحیح لوٹائی تھی، یہ مری کس کے پاس ہے؟ مالک کے پاس، اور ایسی چیز کی وجہ سے مری ہے جو مالک کے پاس ہی پیش آئی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَقَدْ مَاتَتْ فِي يَدِ الْمَالِكِ بِسَبَبٍ حَادِثٍ، ایک ایسے سبب کی وجہ سے حادث جو پیدا ہوا، جو پیش آیا فِي مِلْكِهِ، مالک کی ملکیت میں، وَهُوَ الْوِلَادَةُ، اور وہ کیا سبب ہے؟ ولادت ہے، لہٰذا اس پر اور ولادت مالک کے پاس ہوئی ہے، غاصب کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ وَلَهُ، امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ لَمْ يَصِحَّ الرَّدُّ، کہ رد کیا وہ صحیح ہی نہیں ہے، لِأَنَّ سَبَبَ التَّلَفِ حَصَلَ فِي يَدِ الْغَاصِبِ، اس لیے کہ تلف کا جو سبب ہے وہ کس کے قبضے میں حاصل ہوا؟ غاصب، کیونکہ ولادت جو ہے اس کا سبب کیا ہے؟ حاملہ ہونا، اور یہ حاملہ ہونا کہاں پایا گیا؟ غاصب، تو اس نے یہ رد کیا، یہ رد صحیح نہیں ہوا۔ بِخِلَافِ الْحُرَّةِ، بخلاف کس کے؟ آزاد عورت کے۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص ہے اس نے دوسرے کی کوئی کیا کیا؟ عورت، بیوی کو غصب کر لیا اور اس سے زنا کیا اور اس سے وہ حاملہ ہوئی اور پھر اس کو واپس کر دیا بھئی۔ اب وہ بیوی نے آ کر یہاں بچے کو جنم دیا اور وہ مر گئی اس ولادت کی وجہ سے، تو کیا اس پر ضمان آئے گا یا ضمان نہیں آئے گا؟ بھئی اور مسائل اپنی جگہ پہ، زنا کی سزا وغیرہ، یہ اس بحث اس کی نہیں ہو رہی، یہ نہیں کہ ان کی سزا نہیں ہوگی، وہ الگ مسئلہ ہے، بات صرف چل رہی ہے یہ جو غصب والا فعل پایا گیا، اس کا ضمان یہاں اس مسئلے میں آئے گا یا نہیں آئے گا؟ تو کہتے ہیں: نہیں بھئی، یہاں پر غصب کا ضمان نہیں، بھئی کیوں نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ جس کو لے گیا تھا وہ یہ آزاد عورت تھی، اور ہم نے کہا تھا غصب کے اندر کہ وہ مال ہونا چاہیے، تو اس مال کی قید سے آزاد کیا ہوا تھا؟ خارج، تو یہاں آزاد عورت کو لے کر گیا ہے، لہٰذا یہ غصب کی تعریف اس پر صادق ہی نہیں آتی۔ تو جب اس پر غصب آیا ہی نہیں، تو رد کرنے کے بعد ضمان باقی بھی نہیں رہے گا بھئی۔ بخلاف الحرۃ بخلاف آزاد عورت کے، لِأَنَّهَا لَا تُضْمَنُ بِالْغَصْبِ، لِأَنَّهَا لَا تُضْمَنُ بِالْغَصْبِ، اس لیے کہ اس کا ضامن نہیں ہوا جاتا غصب کی وجہ سے۔ جب غصب کی وجہ سے ضمان ہی نہیں آیا، لِيَبْقَى الضَّمَانُ بَعْدَ فَسَادِ الرَّدِّ، تو غصب کی وجہ سے اس کا ضمان ہی نہیں آتا تاکہ وہ ضمان باقی رہے رد کے فاسد ہو جانے کے بعد۔ رد کے؟ بھئی اس کو لے گیا تھا، کوئی ضمان آیا تھا؟ ضمان ہی نہیں، اگر ضمان ہوتا تو یہ رد فاسد قرار دے کر ضمان ہم باقی رکھتے، لیکن جب ضمان آیا ہی نہیں، تو رد فاسد ہوا، لیکن اس ردِ فاسد سے بقائے ضمان بھی، بھئی بقا تو تب ہوتی نا ضمان کے اندر جب پہلے آیا ہوتا، جب آیا ہی نہیں تو اب اس رد کو ہم نے کیا قرار دے دیا؟ یہ رد فاسد ہے، لیکن کیا اس رد کو فاسد دینے سے اب ضمان رہے گا؟ بھئی ضمان تھا ہی نہیں۔ باندی کے اندر تو جب اس نے غصب باندی کو غصب کیا تھا تو کیا آ گیا تھا؟ ضمان، تو جب ہم نے رد کو فاسد قرار دے دیا، تو وہ جو ضمان تھا وہ باقی رہا، جو پہلے آیا تھا وہ، یہاں پہلے آیا ہی نہیں تو باقی بھی نہیں رہا۔ تو ترجمہ یوں کرو کہ یہاں پر غصب کی وجہ سے آزاد عورت میں ضمان ہی نہیں آئے گا کہ وہ ضمان پھر باقی رہے فساد رد کے فاسد ہو جانے کے بعد۔ تو یہاں پر غصب کی وجہ سے اس کا ضمان ہی نہیں آئے گا لِيَبْقَى الضَّمَانُ بَعْدَ فَسَادِ الرَّدِّ کہ وہ باقی رہے وہ ضمان رد کے فاسد ہو جانے کے بعد۔ ثُمَّ عَطَفَ عَلَى الْحُرَّةِ، پھر عطف کیا ماتن نے حرہ پر، بھئی بخلاف الحرۃ، اس میں ضمان آیا؟ ضمان نہیں، اسی پر کچھ اور مسئلے بھی آگے ذکر کر رہے ہیں، ان کے اندر بھی ضمان نہیں آئے گا۔ بخلاف الحرۃ وَمَنَافِعِ، عطف ہے حرہ پر، وَمَنَافِعِ مَا غَصَبَهُ، منافع ایسی چیز کے جو اس نے غصب کی تھی، سَكَنَهُ أَوْ عَطَّلَهُ، چاہے اس کو اس میں سکونت رکھی، رہائش رکھی یا اسے بیکار چھوڑ دیا۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک آدمی نے دوسرے کا مکان، کوئی چیز غصب کر لی اور اس کے منافع تلف کر دیے، چاہے خود ان سے نفع اٹھایا یا نفع نہ اٹھایا، کہتے ہیں: منافع کا ضمان نہیں بھئی۔ منافع کا ضمان، مثلاً ایک آدمی نے دوسرے کے مکان پر قبضہ کر لیا، مکان پر قبضہ کرنے کے بعد وہ ایک سال تک مکان اس کے پاس رہا، تو اس نے ایک سال کے منافع تلف کر دیے، کیا کر دیے؟ چاہے اس نے خود اپنی غاصب نے اپنی رہائش اس میں رکھی ہو یا رکھی ہی نہیں، چاہے تو اس میں رہائش رکھی ہو یا اس کو بیکار چھوڑ دیا ہو، ویسے ہی بند کر کے رکھا ہوا ہے اپنے قبضے میں، تو دونوں صورتوں میں اس پر ضمان نہیں آئے گا، کیوں؟ اس لیے کہ ضمان آتا ہے ایسی چیز کا اس لیے کہ منافع مولانا متقوم نہیں، قیمت نہیں ہے ان کی بھئی، قیمت کیوں نہیں ہے؟ اس لیے کہ منافع میں بقا نہیں، اور قیمت اس چیز کی ہوا کرتی ہے جس کے اندر بقا ہو مولانا۔ چیزوں کی، گاڑی کی مثلاً قیمت ہے، اس لیے کہ اس میں بقا ہے، یہ باقی رہتی ہے، آج گاڑی آپ لے آئیں، سال بھر کمرے میں رکھیں، سال بعد نکالیں، وہ گاڑی اسی طرح ہے، تو اس میں بقا ہے، دیکھو مختلف زمانے کے اندر بھئی، آج بھی ہے، کل بھی ہے، پرسوں بھی ہے، اس گاڑی میں بقا، جب کہ منافع میں کوئی بقا نہیں، گھر کی رہائش ایک آج کی ہے، ایک کل کی ہے، ایک پرسوں کی ہے، ہر روز نئی رہائش آ رہی ہے اور پھر گزرتی چلی جا رہی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو آپ یہاں سارے سال کی رہائش جمع کر سکتے ہیں؟ کہ سارے سال کی رہائش جمع کر کے پھر میں آخری مہینے میں اکٹھی کسی کو کرائے پر دے دوں گا، نہیں بھئی، یہاں تو کیا ہے؟ جوں جوں وقت گزر رہا ہے، منافع نئے نئے آ رہے ہیں اور گزشتہ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ تو منافع میں بقا نہیں، تو قیمت اس چیز کی ہوتی ہے جس میں کچھ بقا تو ہو، جب ان میں بقا ہی نہیں تو ان کی قیمت بھی نہیں۔ تو یہ معنی ہے: بخلاف الحرۃ ومنافع، اور بخلاف منافع کے، یعنی ان میں بھی ضمان نہیں آئے گا، منافع ما غصب، منافع ایسی چیز کے جس کو اس نے غصب کیا، سَكَنَهُ أَوْ عَطَّلَهُ، چاہے اس میں رہائش اختیار کی یا اسے بیکار چھوڑ دیا، فَإِنَّهَا غَيْرُ مَضْمُونَةٍ بِأَجْرٍ عِنْدَنَا، اس لیے کہ وہ غیر مضمون ہوتے ہیں اجرت کے ساتھ ہمارے نزدیک، یعنی ان میں ضمان نہیں آتا۔ سَوَاءٌ اسْتَوْفَى الْمَنَافِعَ كَمَا إِذَا سَكَنَ فِي الدَّارِ الْمَغْصُوبَةِ أَوْ عَطَّلَهَا، برابر ہے کہ اس غاصب نے وصول کر لیے بھئی منافع، حاصل کر لیے منافع بھئی، غاصب نے چاہے خود منافع حاصل کیے ہوں، کما إذا سکن فی الدار المغصوبۃ، جیسے کہ وہ رہتا، رہائش رکھتا ہے غصب مغصوبہ گھر کے اندر، مغصوب گھر کے اندر وہ رہ رہا ہے تو معلوم ہوا منافع حاصل کر رہا ہے، أو عطلہا، یا چاہے تو کیا کر دے؟ منافع وہ وصول کرے یا بالکل بیکار چھوڑ دے، خود بھی نہیں رہتا، مالک کو بھی نہیں دیا۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ مَضْمُونَةٌ بِأَجْرِ الْمِثْلِ فِي الصُّورَتَيْنِ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مضمون ہوگا اجرِ المثل کے ساتھ دونوں صورتوں میں۔ مضمون ضمان آئے گا، دونوں صورتوں میں کیا دینا پڑے گا؟ اجرِ المثل، یعنی اس جیسے گھر کا جو کرایا ہوتا ہے، اتنا اس کو، تو جتنی دیر اپنے پاس رکھا، اتنا کرایا دینا پڑے گا۔ وَعِنْدَ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی، مَضْمُونَةٌ بھئی، یہ کیا ہیں؟ منافع مضمون ہیں کب؟ إِنِ اسْتَوْفَى، جب وہ ان کو کیا کر لے؟ غاصب ان کو حاصل کرے، لَا إِنْ عَطَّلَهَا، اور اگر ان کو معطل چھوڑ دے تو پھر نہیں۔ گھر میں اگر اس نے خود رہائش رکھی ہے غاصب نے، تو اس کو ضمان دینا پڑے گا، اگر نہیں رکھی، بیکار چھوڑا ہے، تو پھر ضمان بھی نہیں۔ وَهَذَا بِنَاءً عَلَى عَدَمِ تَقَوُّمِهَا عِنْدَنَا، اور یہ بنا بر اس کے کہ ہمارے نزدیک ان کی قیمت نہیں ہے بھئی، عدمِ تقوم ہے ان منافع، بھئی یہ متقوم نہیں ہیں ہمارے نزدیک بھئی اس لیے بھئی۔ وَأَنَّ تَقَوُّمَهَا ضَرُورِيٌّ فِي الْعَقْدِ، بھئی آپ نے کیسے کہا منافع کی کوئی قیمت نہیں ہے؟ ہم چیزیں کرائے پر دیتے ہیں یا نہیں دیتے؟ مکان کرائے پر دیا، تو یہاں تو منافع کے مقابلے میں قیمت آ جاتی ہے، کہتے ہیں: بھئی وہاں پر عقد ہوا ہے بھئی، تو عقد کی وجہ سے ہم نے کیا کیا، ان کو متقوم قرار دے دیا، جب کہ یہاں غصب کے اندر کوئی عقد نہیں پایا گیا۔ ہاں تو قیاس تو یہ تھا منافع کو متقوم ہونا ہی نہیں چاہیے کسی صورت میں بھی، لیکن وہاں ہم نے کس کی وجہ سے اجازت دے دی؟ عقد کی وجہ سے۔ وأن، جی، اور یہ کہ ان کا جو ان کا متقوم ہونا ہے، ضَرُورِيٌّ فِي الْعَقْدِ، وہ بنا بر ضرورت کے ہے عقد کے اندر بھئی، عقد کے اندر ضروری ہے بھئی، ضرورت کی بنا پر ہے۔ چلیے مولانا، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، بحقیقۃ الْكَلَامُ۔
108 approved lectures · 106 of 108