Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-089

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 22
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَكَذَا فِي مُعَيَّنٍ لَمْ يُسَمِّ لَهُ ثَمَنًا فَشَرَاهُ وَاخْتَلَفَا فِي ثَمَنِهِ، وَإِنْ صَدَّقَ صَدَّقَ الْبَائِعُ الْمَأْمُورَ فِي الْأَظْهَرِ تَحَالَفَا. ببھائی! گذشتہ سبق میں آخر میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا بھئی! کہ ایک آدمی نے دوسرے کو وکیل بنایا اور کہا کہ اس کو مثلاً ہزار درہم دیے اور کہا کہ میرے لیے ایک باندی خرید کر لے آؤ۔ وہ باندی خرید لایا اور لانے کے بعد کیا کہتا ہے؟ کہ یہ میں نے ہزار درہم کی خریدی ہے اور موکل جو ہے وہ کہتے ہیں نہیں بلکہ تو نے کتنے کی خریدی ہے؟ پانج سو کی خریدی ہے۔ تو کہتے ہیں اس باندی کی قیمت کو دیکھا جائے گا اگر وہ اس کی قیمت کتنی ہے؟ ہزار ہے تو وکیل کی تصدیق کی جائے گی۔ وکیل کی تصدیق کی جائے گی اور اگر اس باندی کی قیمت ہزار نہیں ہے تو پھر اس صورت میں کس کی تصدیق کی جائے گی؟ آمر کی یعنی موکل کی تصدیق کی جائے گی۔ بھئی! یہ تو وہ صورت تھی جبکہ پیسے ادا کر چکا اور اگر پیسے ادا نہیں کیے اور کہا کہ میرے لیے کوئی باندی خرید لاؤ۔ اب وہ خرید لایا۔ وکیل کہتا ہے ہزار کی لایا ہوں موکل کہتا ہے کتنے کی لائے ہو؟ نصف کی لائے ہو، پانچ سو کی لائے ہو تو کہتے ہیں اس صورت میں قیمت دیکھ لو باندی کی اگر وہ پانچ سو کے برابر ہے تو کس کی تصدیق کی جائے گی؟ موکل کی تصدیق کی جائے گی۔ اور اگر وہ ہزار قیمت والی باندی ہے بھئی تو اس صورت میں جبکہ پیسے ادا نہیں کیے وکیل کی تصدیق ہم نہیں کریں گے۔ اگرچہ اس کے قول کے اس طرح مطابقت آرہی ہے مولانا، اس کے وہ بھی کتنے بتلا رہا ہے؟ ہزار اور باندی بھی کتنے والی ہے؟ ہزار کہتے ہیں ابھی پیسے ادا نہیں کیے اس صورت میں دونوں قسم اٹھائیں گے اور بیع کو فسخ کر دیا جائے گا۔ کیونکہ وکیل اور موکل کے درمیان مبادلہ حکمیہ جاری ہوتا ہے بیع اور شراہ جاری ہوتی ہے حکماً، حقیقتاً تو نہیں ہے لیکن حکماً کیا ہے؟ بیع کیونکہ ایک ثمن دیتا ہے اور دوسرا مبیع کو لا کر اس کے حوالے کرتا ہے۔ تو اس صورت میں دونوں قسم اٹھائیں گے اور بیع فسخ کر دی جائے گی۔ وَكَذَا فِي مُعَيَّنٍ اور اسی طرح یہ تو تھا غیر معین کے اندر اس نے ہزار دیے اور کہا میرے لیے کوئی باندی لاؤ یا ہزار نہیں دیے اور کہا میرے لیے کوئی باندی لاؤ تو کوئی باندی لے کر آئے بھئی۔ اور اگر معین کے بارے میں کہا کہ وہ باندی میرے لیے یا وہ چیز میرے لیے خرید کر لاؤ تو کہتے ہیں وَكَذَا فِي مُعَيَّنٍ اور اسی طرح معین چیز کے اندر بھی ہے معین مبیع کے اندر بھی ہے لَمْ يُسَمِّ لَهُ ثَمَنًا جبکہ اس کے ثمن اس نے ذکر نہ کیے ہوں، فَشَرَاهُ بھئی اس نے اس کو خرید لیا وَاخْتَلَفَا فِي ثَمَنِهِ اور دونوں نے اختلاف کیا اس کے ثمن کے اندر بھئی۔ جی! دونوں نے اختلاف کیا مولانا، میں نے آپ کو وکیل بنایا کہ جاؤ میرے لیے وہ باندی خرید کر لاؤ، آپ گئے، خرید لائے، میں نے ثمن ذکر نہیں کیے تھے کہ ہزار کی لے کر آؤ یا کتنے کی لے کر آؤ۔ آپ لے آئے لانے کے بعد اب آپ مجھے کہتے ہیں بھئی یہ میں ہزار کی لایا ہوں، میں کہتا ہوں نہیں آپ کتنے کے لائے ہیں؟ پانچ سو کی لائے ہیں مولانا۔ اب اس صورت میں قسم دی جائے گی دونوں کو، وکیل اور موکل کو اور ان کے درمیان اس مبادلہ حکمیہ کو کیا کر دیا جائے گا؟ فسخ کر دیا جائے گا، فسخ کر دیا جائے گا۔ أَغْرَبَ بَائِعِ وَكِيلِ کی تائید کر دے، تصدیق کر دے۔ آپ نے کیا کہا کتنے کی لائے ہیں بھئی باندی میرے لیے؟ ہزار کی، میں نے کیا کہا کتنے کی لائے ہو؟ آپ جس سے خرید کر لائے تھے اس نے بھی وہ بائع جو ہے اس نے بھی آ کر کہہ دیا کہ میں نے کتنے کی بیچی ہے اس کے ہاتھ باندی؟ ہزار، وہ آپ وکیل کی تصدیق کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود کیا کی جائے گی دونوں کو قسم دی جائے گی۔ اس لیے کہ بائع اجنبی ہے اس کے کوئی اس کے قول کا کوئی اعتبار نہیں، بے ختم ہو چکی وہ اجنبی بن چکا اب اس کا قول معتبر نہیں۔ دیکھیے تفصیل خود بتلا رہے ہیں أَيّ أَمَرَ أَنْ يَشْتَرِيَ لَهُ هَذَا الْعَبْدَ حکم دیا کسی شخص نے دوسرے کو کہ خرید لے اس کے لیے اس غلام کو دیکھا الْعَبْدَ معین غلام ذکر کیا وَلَمْ يُسَمِّ لَهُ ثَمَنًا اور اس کے ثمن نہیں ذکر کیے کہ اتنے کا خرید کر لاؤ، فَشَرَاهُ پس وکیل نے اس کو خرید لیا فَقَالَ وکیل کہता ہے اشْتَرَيْتُهُ بِأَلْفٍ میں نے اس کو ہزار کے عوض میں خریدا ہے، وَقَالَ الْآمِرُ بَلْ بِكِفْيَةِ اور آمر کہتا ہے بلکہ نصف، ألف کے نصف کے عوض میں خریدا ہے یعنی پانچ سو کے بدلے، تَحَالَفَا دونوں کو قسم دی جائے گی، وَإِنْ صَدَقَ الْبَائِعُ الْمَأْمُورَ اگرچہ بائع جو ہے وہ مامور یعنی وکیل کی کیا کر دے؟ اگرچہ وہ اس وکیل کی تصدیق کر دے۔ وَإِنَّمَا قَالَ هَذَا بھئی ماتن نے یہ کیوں کہا؟ اگرچہ بائع مامور کی کیا کر دے؟ تصدیق کر دے۔ کہتے ہیں اس لیے کہ اس صورت میں بعض نے لکھا ہے، بعض علماء فرماتے ہیں کہ اختلاف اٹھ جائے گا۔ تصفیہ ہو گیا بھئی۔ وکیل کہہ رہا ہے ہزار کی لایا ہوں اور موکل کیا کہہ رہا ہے کتنے کی لائے ہو؟ تو بائع نے جب آ کر بتلا دیا کہ میں نے ہزار کی بیچی ہے تو پتہ چلا کتنے کی خرید کر لایا ہے؟ ہزار کی خرید کر لایا ہے، مسئلہ اختلاف ہی ختم ہو گیا سارا۔ تو بعض علماء نے لکھا اس صورت میں اختلاف اٹھ جائے گا کیونکہ بائع نے تصدیق کر دی ہے، لہٰذا ان دونوں میں قسم جاری دونوں کو قسم نہیں دی جانی چاہیے، پتہ لگ گیا کہ وکیل کا قول صحیح ہے، لیکن کہتے ہیں قولِ ازہر یہ ہے کہ اگرچہ بائع تصدیق کر دے پھر بھی کیا کی جائے گی دونوں کو قسم دے کر ان کے درمیان اس مبادلے کو فسخ کر دے۔ وَإِنَّمَا قَالَ هَذَا اور ماتن نے یہ جو قید لگائی ہے وَإِنْ صَدَقَ الْبَائِعُ الْمَأْمُورَ کی کہتے ہیں ماتن نے یہ اس لیے فرمایا لِأَنَّ فِي صُورَةِ تَسْدِيقِ الْبَائِعِ الْمَأْمُورَ اس لیے کہ بائع کے مامور کی تصدیق کرنے کی صورت میں قَدْ قِيلَ تحقیق کہا گیا ہے لَا تَحَالُفَ کہ کوئی قسم اٹھانا دونوں کے بیچ نہیں ہوگا، بَلْ بَلِ الْقَوْلُ لِلْمَأْمُورِ مَعَ الْيَمِينِ بلکہ قول کس کا معتبر ہوگا؟ مامور وہ کون ہے بھئی؟ مامور کون ہے؟ وکیل ہاں سمجھ رہے ہیں؟ موکل تو آمر ہے، آمر۔ تو قول مامور یعنی وکیل کا معتبر ہوگا مَعَ الْيَمِينِ ساتھ قسم کے لِأَنَّ الْخِلَافَ يَرْتَفِعُ اس لیے کہ اختلاف تو اٹھ گیا بِتَسْدِيقِ الْبَائِعِ بائع کی تصدیق کی وجہ سے، فَلَا يَجْرِي تَحَالَفَا لہٰذا تحالف جاری تحالف تفعيل باب ہے، جانبیں سے فعل چاہتا ہے (یعنی دونوں کو قسم نہیں اٹھانا پڑے گی)۔ لَكِنَّ الْأَظْهَرَ أَنْ يَتَحَالَفَا بھئی الف ہونا چاہیے بھئی، أَنْ يَتَحَالَفَا لیکن اظهر یہ ہے أَنْ يَتَحَالَفَا کہ وہ دونوں کیا کریں گے؟ قسم اٹھائیں گے۔ وَهَذَا قَوْلُ الْإِمَامِ أَبِي مَنْصُورِ الْمَاتُرِيدِيِّ اور یہ قول ہے امام ابو منصور ماتریدی کا۔ امام ابو منصور ماتریدی مولانا بہت بڑے امام گزرے ہیں بھئی! بہت بڑے امام بھئی۔ عقائد کے اندر، عقائد کے اندر احناف کے امام یہ ہیں مولانا علمِ کلام ہے مولانا عقائد کی بحث جس میں ہوتی ہے، یہ فقہ کے اندر تو افعال کی بحث ہوتی ہے عبادات وغیرہ، معاملات کی بحث، ایک ہے عقیدہ، اس عقیدے کے جو امام ہیں بھئی اس میں عقائد میں وہ کون ہیں؟ احناف کے امام ابو منصور ماتریدی مولانا۔ اور شوافع وغیرہ کے امام امام ابو الحسن اشعری ہیں مولانا۔ امام ابو الحسن اشعری بھئی رحمہما اللہ تعالیٰ دونوں بڑے امام ہیں بھئی۔ یہ قول ہے مولانا امام ابو منصور ماتریدی کا وہ فرماتے ہیں کہ دونوں قسم اٹھائیں گے بھئی۔ کیوں بھئی؟ علت ذکر کر رہے ہیں لِأَنَّ الْبَائِعَ بَعْدَ اسْتِيفَاءِ الثَّمَنِ أَجْنَبِيٌّ عَنْهُمَا بِیْ۔ بھئی علت کیا ذکر کی تھی؟ کیونکہ اختلاف جب بائع نے تصدیق کر دی تو اختلاف کیا ہوا؟ اٹھ گیا۔ کہتے ہیں نہیں بھئی! بائع کی تصدیق کا کوئی اعتبار نہیں، کیوں نہیں اعتبار؟ کہتے ہیں لِأَنَّ الْبَائِعَ بَعْدَ اسْتِيفَاءِ الثَّمَنِ أَجْنَبِيٌّ عَنْهُمَا اس لیے کہ بائع جو ہے ثمن کو وصول کر لینے کے بعد ان دونوں سے اجنبی ہو چکا۔ وکیل اور موکل، آمر اور مامور دونوں سے کیا ہو چکا ہے بھئی؟ اس کا عقد ختم ہوا مولانا اب وہ کون ہے آ کر تصدیق کرنے والا؟ تو یہ اختلاف اٹھ جائے گا بائع کی تصدیق سے، یہ بات درست نہیں کیونکہ بائع اجنبی بن چکا۔ وَأَيْضاً هُوَ أَجْنَبِيٌّ عَنِ الْمُوَكِّلِ نیز بائع جو ہے وہ تو موکل سے بالکل ہی اجنبی ہے۔ بھئی بائع کا معاملہ بیع و شراہ کس سے چلا تھا بھئی؟ وکیل سے تو موکل سے اس کا کوئی تعلق تھا؟ نہیں تو وکیل قَبْلَ الْبَيْعِ بھی وہ موکل سے اجنبی ہے اور بَعْدَ الْبَيْعِ بھی وہ موکل سے اجنبی ہے جب ثمن وصول کر لیے تو موکل سے وہ بالکل ہی اجنبی ہوا فَلَا يُصَدَّقُ عَلَيْهِ تو اب موکل کے خلاف اس کی تصدیق نہیں علیہ ہذا میر کس کو راجح؟ آمر کو یا یوں کہے موکل کو، موکل کے خلاف بائع آ کر کس کی تصدیق کر رہا ہے بھئی؟ وکیل کی، کس کی تصدیق کر رہا ہے؟ کس کے خلاف کر رہا ہے؟ موکل تو موکل کے خلاف اس کی تصدیق کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ یہ معنی ہے فَلَا يُصَدَّقُ عَلَيْهِ لہٰذا موکل کے خلاف بائع کی تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ موکل سے تو وہ بالکل ہی اجنبی ہے قَبْلَ الْبَيْعِ اور بَعْدَ الْبَيْعِ۔ فَصْلٌ لَا يَصِحُّ بَيْعُ الْوَكِيلِ وَشِرَاؤُهُ مِمَّنْ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ لَهُ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ۔ بھئی! وکیل کو آپ نے بھیجا کسی چیز کو بیچنے کے لیے یا کسی چیز کو خریدنے کے لیے۔ وہ چیز لے جا کر اپنے باپ کے ہاتھ فروخت کرتا ہے، اپنے دادا کے ہاتھ فروخت کرتا ہے، اپنے یا اپنے بیٹے کے ہاتھ فروخت کرتا ہے، اپنے پوتے کے ہاتھ فروخت کرتا ہے، وغیرہ۔ ان کے ان پر وکیل فروخت کرتا ہے کہتے ہیں نہیں بھئی! ان کے ہاتھ اس چیز کو بیچنا یا ان سے جس چیز کو خریدنے کے لیے بھیجا ہے ان سے وہ چیز خریدنا یہ درست نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے لَا يَصِحُّ بَيْعُ الْوَكِيلِ۔ بھئی کیوں؟ کیونکہ ان کی جیسے شہادت ایک دوسرے کے خلاف قبول نہیں تھی۔ باپ کی شہادت بیٹے کے لیے قبول ہے؟ نہیں یا بیٹے کی باپ کے لیے، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اصول و فرووع وغیرہ جو قریبی ہیں، ان کی شہادت ایک دوسرے کے لیے قبول نہیں تو لہٰذا وکیل کا ان کے ہاتھ شہادت کیوں نہیں قبول ایک دوسرے کے حق میں بھئی؟ کیونکہ تہمت ہے بھئی، تہمت کا فرش ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ کیونکہ ان کا مال وغیرہ آپس میں ریابت میں اکٹھا استعمال کرتے ہیں یا اتنا جو الگ الگ نہیں ہوتا۔ تو مثلاً وکیل کے لیے اپنے کس کو فروخت کرتا ہے؟ بیٹے کے ہاتھ مال فروخت کرتا ہے۔ بھئی بیٹے کا نفع دراصل کس کا نفع ہے؟ باپ یعنی وکیل کا بھی نفع ہے تو تہمت کا خدشہ ہے۔ تو لَا يَصِحُّ صحیح نہیں ہے بَيْعُ الْوَكِيلِ وکیل کی بیع بھئی وَشِرَاؤُهُ اور وکیل کی شراہ مِمَّنْ اُس شخص کے ہاتھ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ لَهُ کہ رد کی جاتی ہے اس کی شہادت اس وکیل کے لیے۔ جس کی شہادت وکیل کے لیے رد کی جاتی ہے ان کے ساتھ اس کی بیع اور شراہ والا معاملہ بھی صحیح ہَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔ وَعِنْدَهُمَا صاحبمین فرماتے ہیں يَجُوزُ جائز ہے۔ كب جائز ہے؟ إنْ كَانَ بِمِثْلِ الْقِيمَةِ جبکہ ان کے ساتھ بیع و شراہ کس کے ساتھ کی کس کے عوض کرے؟ مثلِ قیمت یعنی جتنی بازار کی قیمت ہے اسی میں اپنے بیٹے کے ہاتھ فروخت کر دے تو صاحبمین فرماتے ہیں اس میں کوئی نقصان نہیں ہے بھئی، اسی کے ساتھ فروخت کر رہا ہے۔ إلَّا مِنْ عَبْدِهِ أَوْ مُكَاتَبِهِ مگر اپنے غلام کے ہاتھ یا اپنے مکاتب کے ہاتھ فروخت کرنا یا اس سے خریدنا صحیح بھئی اپنے کیوں؟ کیونکہ غلام کا مال دراصل کس کا مال ہوتا ہے؟ آقا تو وہ غلام سے اس ہاتھ فروخت کر رہا ہے یا خرید رہا ہے اس سے تو گویا اپنے ہی ساتھ خرید و فروخت کا معاملہ کر رہا ہے۔ اور مکاتب کے ساتھ اس نہیں درست مولانا کیوں؟ کیونکہ مکاتب جو کمائی کرتا ہے، اس میں اس آقا کا کیا ہوتا ہے باقاعدہ؟ اس میں آقا کا حصہ ہے کیونکہ وہ کما کس لیے رہا ہے؟ کہ لا کر پیسے آقا کے حوالے کروں اور اپنے آپ کو تو اس کی کمائی میں آقا کا حصہ ہوا مولانا، بلکہ اگر وہ عاجز آ جائے پھر تو اس کا سارا مال کس کا بن جاتا ہے؟ آقا کا بن جاتا ہے۔ آقا عاجز آ جائے کہ میں اتنے پیسے نہیں کما سکتا وہ پھر عام غلام بن جائے گا آ کر۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ تو اپنے غلام کے ہاتھ یا اپنے مکاتب کے ہاتھ بیچنا صحیح نہیں ہے وَصَحَّ بَيْعُ الْوَكِيلِ بِمَا قَلَّ أَوْ كَسُرَ وَالْعَرْضِ وَالنَّسِيئَةِ۔ اور صحیح ہے وکیل کا بیچنا بِمَا قَلَّ قلیل کے بدلے أَوْ كَسُرَ ای بِمَا كَسُرَ یا اس کے بدلے جو کثیر کے عوض میں یا قلیل کے عوض میں۔ اچھا۔ بھئی آپ نے وکیل کو کہا جو میری یہ گاڑی فروخت کر فروخت کر دو۔ وکیل گیا مولانا، اس نے آپ کی ایک لاکھ کی گاڑی اس نے ستر ہزار میں فروخت کر دی، تو کیا یہ صحیح ہے؟ امام صاحب فرماتے ہیں ہاں صحیح ہے۔ اچھا، قلیل کے بدلے فروخت کرے یا کثیر۔ کثیر کے بدلے فروخت کرے۔ صحیح ہے بَيْعُ الْوَكِيلِ وکیل کی بیع، وکیل کا بیچنا کسی چیز کو بِمَا قَلَّ قلیل کے بدلے أَوْ كَسُرَ یا اس کے عوض جو کثیر ہے وَالْعَرْضِ اور سامان کے بدلے، بھئی گاڑی گئی بھئی فوراً آپ نے کہی میری گاڑی فروخت کر دو۔ وہ گیا بھئی گندم کے عوض میں فروخت کر لایا۔ لاکھ روپے کی گاڑی تھی لیکن وہ اس نے لاکھ روپے نہیں وصول کیے بلکہ اس کے عوض کیا لے لیے؟ لاکھ روپے کی گندم لے لی۔ وَالنَّسِيئَةِ اور ادھار مولانا۔ لاکھ روپے کی گاڑی تھی نقد بیچنی چاہیے تھی لیکن وہ کیا کرایا؟ ادھار کرایا بھئی یعنی فلاں مثلاً تاریخ کو وہ ادائیگی کرے گا۔ تو یہ ساری صورتیں صحیح ہے قلیل کے عوض بیچے یا کثیر کے عوض بیچے، سامان کے بدلے بیچے یا ادھار بیچے، هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُمَا اللہ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔ وَعِنْدَهُمَا صاحبمین کے نزدیک یہ درست نہیں۔ يعني نقصان کے ساتھ بیچنا صحیح نہیں صاحبمین کے نزدیک۔ إِلَّا بِمَا يَتَغَابَنُ النَّاسُ فِيهِ مگر اتنے کے عوض میں کہ لوگ اتنا دھوکہ کر دیا کرتے ہیں جس میں بھئی کہ اس میں لوگ اتنا دھوکہ مثلاً لاکھ کی گاڑی بیچی ہے بھئی۔ گاڑی دی ہے لاکھ کی اور وکیل کتنے کی فروخت کر لایا؟ پچانوے ہزار کی فروخت کر لایا تو بھئی اتنا فرق تو چار پانچ ہزار کا تو ہو ہی جاتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ یہ معنی ہے صاحبمین کے نزدیک نقصان کے ساتھ بیع صحیح نہیں ہے إِلَّا بِمَا يَتَغَابَنُ النَّاسُ فِيهِ مگر وہ کہ جس کے اندر لوگ غبن کیا کرتے ہیں بھئی، اتنا غبن لوگ کر لیتے ہیں۔ وَلَا يَصِحُّ إِلَّا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّانَانِيرِ بھئی امام صاحب نے کیا ذکر کیا تھا؟ سامان کے بدلے بھی کیا کر سکتا ہے وکیل اس چیز کو؟ صاحبمین فرماتے ہیں نہیں صحیح إِلَّا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّانَانِيرِ مگر کس کے بدلے؟ دراہم اور دراہم اور دانانیر سے بیچ سکتا ہے سامان کے بدلے نہیں بیچ سکتا کیوں؟ کہتے ہیں لِأَنَّ الْمُطْلَقَ يَنْصَرِفُ إِلَى الْمُتَعَارَفِ اس لیے کہ آقا نے مطلق بیچنے کا ذکر کیا کیا کہا میری یہ گاڑی بیچ دو اور الْمُطْلَقُ يَنْصَرِفُ إِلَى الْمُتَعَارَفِ بھئی، تو مطلق پھر جاتا ہے کس کی طرف؟ متعارف کی طرف۔ اور متعارف کیا ہے؟ چیز کو کس کے بدلے عموماً عرف میں بیچا جاتا ہے؟ دراہم اور دانانیر، لہٰذا عرف کا اعتبار ہوگا یہاں پر۔ تو دراہم اور دانانیر کے ساتھ صحیح ہے سامان کے بدلے صحیح نہیں۔ لِأَنَّ الْمُطْلَقَ يَنْصَرِفُ إِلَى الْمُتَعَارَفِ اس لیے کہ مطلق جو ہے وہ پھر جاتا ہے متعارف کی طرف۔ جی۔ اوپر آیا تھا وَالنَّسِيعَةُ امام صاحب کے نزدیک ادھار بھی بیچنا جائز، ادھار سے کیا مراد ہے؟ علامہ سرور شریح فرما رہے ہیں الْمُرَادُ بِالنَّسِيعَةِ الْبَيْعُ بِالثَّمَنِ الْمُؤَجَّلِ نسیعت سے مراد وہ بیع ہے جو کس بدلے میں ہو؟ جی جو کس کے ساتھ ہو بھئی ثمن معجل کے ساتھ بھئی، معجل۔ وَعِنْدَهُمَا يَتَقَيَّدُ بِأَجَلٍ مُعَارَفٍ بھئی اس کے اندر بھی صاحبمین اختلاف کرتے ہیں بھئی۔ امام صاحب نے فرمایا مطلقا جو اجل بھی مقرر کر لے وکیل وہ درست ہے۔ صاحبمین فرماتے ہیں نہیں وہ اجل مقرر کرنی پڑے گی جو متعارف ہو بھئی۔ لوگ عرف میں کیا کرتے ہیں اتنی اجل اس معاملے میں مطلب گاڑی کے فروخت میں لوگ کیا کر لیا کرتے ہیں؟ ایک مہینے یا دو مہینے کا فرض کرو مہلت دے دیا کرتے ہیں تو اتنی جائز ہے اس سے زیادہ جائز نہیں یعنی عرف کا اعتبار ہے۔ وَعِنْدَهُمَا يَتَقَيَّدُ بِأَجَلٍ مُعَارَفٍ مُعَارَفِنَ اور صاحبمین کے نزدیک وکالت جو ہے مقید ہوگی مولانا متعارف اجل کے ساتھ۔ وَبَيْعُ نِصْفِ مَا وُكِّلَ بِبَيْعِهِ۔ اور صحیح ہے اِي سَحَّا اوپر بيع بیع کا لفظ آیا تھا بيع الوكيل اسی پر عطف ہے وَسَحَّا بَيْعُ النِّسْفِ مَا وُكِّلَ بِبَيْعِهِ۔ بھئی آپ نے اچھا۔ آپ نے ایک آدمی کو اپنا غلام دیا۔ کہ جاو کیا کرو میرا وہ غلام فروخت کر لاؤ۔ یہی گاڑی میری جاؤ فروخت کر لاؤ بھئی۔ وہ گیا اور اس نے نِصْفَ غلام فروخت کر دیا یعنی نِصْف گاڑی فروخت کر دی۔ گاڑی تھی ایک لاکھ کی وہ نِصْف کتنے میں فروخت کر لایا؟ پچاس ہزار میں فروخت کر لایا تو کیا یہ صحیح ہے نِصْف فروخت کرنا؟ امام صاحب فرماتے ہیں۔ صحیح ہے۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ صحیح ہے۔ کیوں؟ کیونکہ مُوَكِّل نے اس کو مطلق بَيْع کا کہا تھا جاؤ بھئی یہ گاڑی بیچ لاؤ اور مطلق شامل ہے کل کو بھی اور کل سے کم کو بھی چاہے اکٹھا بیچے چاہے تھوڑا تھوڑا کر کے ساری صورتوں کو شامل ہے۔ اچھا تو لہذا نِصْف بیچنا بھی صحیح۔ صاحبین فرماتے ہیں نہیں۔ نِصْف بیچنا صحیح نہیں۔ کیوں نہیں صحیح؟ کہتے ہیں اس لیے کہ گاڑی نِصْف بیچ دی یا غلام نِصْف بیچ دیا تو نِصْف اب اسی کا ہے، آمِر یا مُوَكِّل کا ہے اور نِصْف اس خریدنے والے کا ہو گیا تو شِرْكَة آ گئی، اب شِرْكَة آ گئی تو شِرْكَة نے تو أَعْيَانِ کے اندر شِرْكَة تو پسندیدہ نہیں، اب گاڑی کے اندر دو مالک بن گئے اب ایک دن ایک استعمال کرے گا دوسرے دن دوسرا استعمال کرے گا باری باری تو اس کی ضرورت پوری نہیں مثلاً اسے ہر روز ضرورت پڑتی ہے اب وہ ہر روز اس کو استعمال نہیں کر سکتا۔ یہ غلام ہے تو خدمت اب کچھ دن یہ لے گا پھر کچھ دن وہ لے گا۔ سمجھ میں آیا تو شِرْكَة سے کیا آ گئی؟ ضَرَر آ گیا اس کو بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو پہلے آزادی سے استعمال کر سکتا تھا اب آزادی سے استعمال نہیں کر سکتا بھئی تو شِرْكَة کا ضَرَر لازم آئے گا۔ ہاں اس صورت میں صحیح ہے صاحبین بھی فرماتے ہیں یہ گیا اور اس نے نِصْفَ غلام یا نِصْفَ گاڑی فروخت کر دی۔ اور اب بھی مُوَكِّل نے خصومت نہیں کی تھی اس کے ساتھ کہ اس نے باقی نِصْف بھی کیا کر دی؟ فروخت کر دی۔ پھر تو صحیح کیونکہ مقصد حاصل ہو گیا مقصد کیا تھا پوری گاڑی کا یا پورے غلام کا بیچنا تھا اور وہ حاصل ہو گیا کیوں؟ اور تو کبھی کبھار ایک چیز اکٹھی پوری نہیں بکتی تو تھوڑی تھوڑا کر کے اس کو بیچنا پڑتا ہے۔ تو اس نے بھی تھوڑی تھوڑا کر کے بیچی۔ وَإِنْ هُمَا لَا يَجُوزُ صاحبین کے نزدیک جائز نہیں ہے نِصْف کا بیچنا إِلَّا أَنْ يَبِيعَ الْبَاقِيَةَ مگر یہ کہ باقی کو بھی بیچ دے قَبْلَ أَنْ يَخْتَصِمَا قبل اس کے کہ وہ باہم خصومت کریں لِئَلَّا يَلْزَمَ ضَرَرُ الشَّرِكَةِ تاکہ شِرْكَة کا ضَرَر اس پر لازم نہ آئے۔ وَاخْذُهُ رَهْنًا وَكَفِيلًا بِالثَّمَنِ اس کا عطف بھی اس بَيْع پر ہے ولانا۔ أَيْ صَحَّ أَخْذُهُ رَهْنًا صح أَخْذُهُ رَهْنًا وَكَفِيلًا بِالثَّمَنِ۔ صورت مسئلہ یہ ہے میں نے آپ کو وکیل بنایا جاؤ میری یہ گاڑی فروخت کر لاؤ۔ آپ گئے آپ نے اس کو ادھار بیچا، کیا کیا؟ ادھار بیچا۔ گاڑی فروخت کی ایک لاکھ میں لیکن وہ پیسے کب کرے گا؟ جس نے خریدی ہے وہ پیسے کب کرے گا مثلاً ایک ماہ کے بعد دے گا اور وکیل نے اس کی चूंकि دَيْن ہے اس پر اس کے عوض اس سے رَهْن لے لیا رَهْن رکھوا لیا بھئی۔ مثلاً بھئی اس کی ایک گاڑی یا کوئی چیز کیا کی اپنے پاس بطور رَهْن کے رکھ لی تو کیا وکیل ایسا کر سکتا ہے کہتے ہیں ہاں بھئی وکیل کیا کر سکتا ہے رَهْن لے کر رکھ سکتا ہے۔ اسی طرح دوسری صورت رهن نہیں لیا گاڑی ادھار بیچی وہ پیسے دے گا ایک مہینے بعد اس سے كَفِيل لے لیا ضامن لے لیا کہ ضامن دو بھئی کہ تم ایک مہینے بعد پیسے دو گے اس نے ایک ضامن پیش کر دیا زید کو لا کر کھڑا کر دیا زید نے کہا میں ضمانت دیتا ہوں یہ ایک ماہ بعد کیا کرے گا آپ کو پیسے ادا کرے گا اگر اس نے ادا نہ کیے تو میں پیسے کیا کر دوں گا ادا کر دوں گا تو کیا اس طرح وکیل کر سکتا ہے کہتے ہیں ہاں بھئی یہ کیا کر سکتا ہے ضامن كَفِيل لے سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی کیوں بھئی یہ رهن لینا کیوں صحیح وکیل کے لیے اور كَفِيل کو لینا کیوں صحیح کہتے ہیں اس لیے کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ بَيْع و شِرَاء کے حقوق کس کی طرف راجع ہوتے ہیں عَقْد کے اندر بھئی؟ عَقْد کرنے والے کی طرف اور یہاں پر عَقْد کرنے والا کون ہے وکیل تو حقوق عَقْد بھی راجع ہوئے وکیل کی طرف معلوم ہوا وکیل اس عَقْد کے اندر أَصِيل ہے کیا ہے؟ کیونکہ حقوق کا تعلق تو کس سے ہوا کرتا ہے أَصِيل سے اور یہاں پر وکیل سے متعلق ہو رہے ہیں جو عَقْد کر رہا ہے معلوم ہوا وہ عَقْد میں ہے أَصِيل اور أَصِيل के लिए کسی چیز کا رهن لینا اور اس کا ضامن لینا صحیح ہوتا ہے تو یہاں پر وکیل کے لیے بھی صحیح ہے کیونکہ وہ أَصِيل ہے بھئی تو صورت سمجھ میں آگئی بھئی عقد کے حقوق کا تعلق اس سے ہے۔ تو جیسے مُوَكِّل مولانا خود ایک شخص خود اپنی چیز بیچ کے تو اس کے لیے کیا ہوتا ہے اس کے بدلے رهن رکھنا بھی صحیح اور اس کے بدلے ضامن لینا بھی صحیح مالک کے لیے جائز ہوتا ہے تو یہاں پر وکیل بھی جو ہے أَصِيل کی طرح ہے کیونکہ اس سارے حقوق کا تعلق اس سے تو اس کے لیے بھی رهن لینا بھی جائز اور كَفِيل لینا بھی جائز۔ یہ معنی ہے وَصَحَّ أَخْذُهُ رَهْنًا اور صحیح ہے وکیل کا رهن کو لے لینا وَكَفِيلًا اور کس کو لے لینا كَفِيل کا عطف رهن پر ہے وَأَخْذُهُ رَهْنًا وَكَفِيلًا اور وکیل کا کس کو لے کس کو پکڑ لینا كَفِيل کو پکڑ لینا بِالثَّمَنِ ثَمَن پر كَفِيل کا لے لینا صحیح ہے فَلَا يَضْمَنُ إِنْ ضَاعَ فِي يَدِهِ فزن بھئی دیکھو وکیل نے کیا کیا؟ رهن لے لیا۔ مشتری سے کیا لے لیا؟ رهن اپنے پاس رکھا بھئی۔ فرض کرو مثلاً بھئی اس سے ایک گھڑی لے لی گھڑی میں ہیرے لگے ہوئے ہیں تو بڑی قیمتی وہ بھی ایک لاکھ کی گھڑی ہے تقریبا یا ڈیڑھ لاکھ کی بلکہ گھڑی ہے بطور رهن کے رکھ لی وہ گھڑی وکیل کے پاس ضائع ہو گئی ہلاک ہو گئی تو کیا اب وکیل پر ضَمَان آئے گا کہتے ہیں نہیں بھئی وکیل پر ضَمَان نہیں آئے گا وکیل پر یا اسی طرح وکیل نے کیا کیا تھا بھئی؟ كَفِيل لیا تھا كَفِيل لیا تھا لیکن وہ عوض ہلاک ہو گیا بھئی جس کے عوض كَفِيل لیا تھا وہ عوض کیا ہوا؟ ہلاک ہو گیا تھا۔ اچھا۔ مثلاً بھئی۔ مثلاً بھئی۔ وہ شخص مُفْلِس مر گیا مشتری کیا ہوا؟ مُفْلِس ہو کر مر گیا اب ادائیگی کر سکتا ہے؟ نہیں اچھا اور پھر ضَمَان کس پر کس نے دینا تھا اب اس ضامن نے كَفِيل نے دینا تھا لیکن وہ كَفِيل بھی کیا ہوا مُفْلِس ہو کر مر گیا تھا۔ سمجھ میں آیا تو کیا اب اس صورت میں مال تو ہلاک ہو گیا وہ مال جس کے پر كَفِيل لیا تھا تو کیا اب وکیل پر ضَمَان آئے گا کہتے ہیں نہیں بھئی وکیل کیا ہوا بری ہوا اس لیے کیونکہ اس نے جو رهن لیا تھا اس نے جو كَفِيل لیا تھا کس کے لیے لیا تھا؟ ثَمَن کی وصولی کے لیے تو لیا تھا لیکن وہ اب ہلاک ہو گیا اس میں وکیل کا کوئی دخل نہیں بھئی۔ تو یہ معنی فَلَا يَضْمَنُ تو وکیل ضامن نہیں ہوگا إِنْ ضَاعَ فِي يَدِهِ اگر رهن ضائع ہو گیا اس کے قبضے کے اندر أَوْ تَوَى أَوْ هَلَكَ یا ہلاک ہو گیا ما وہ مال ما وہ وہ عوض عَلَى الْكَفِيلِ جو کس پر تھا وہ ضَمَان جو کس پر تھا كَفِيل پر تھا یعنی وہ عوض بھئی۔ الضَّمِيرُ الضَّمِيرُ نہیں مولانا ضَمِير ہونا چاہیے الف لام کی تابعت کی غلطی ہے ضَمِير ضاع ضاع کی جو ضَمِير ہے يَرْجِعُ إِلَى الرَّهْنِ یہ کس کی طرف لوٹتی ہے رهن کی طرف لوٹتی ہے۔ اور صُورَةُ التَّوَى بھئی انہوں نے کیا کہا كَفِيل پر جو مال ہے وہ کیا ہو جائے ہلاک ہو جائے اس کی کیا صورت ہے کہتے ہیں اس صُورَةُ التَّوَى اس کے ہلاک ہونے کی صورت یہ ہے أَنْ يَرْفَعَ الْحَادِثَةَ إِلَى قَاضٍ کہ اس نے بھئی وکیل نے کیا کیا اس واقعے کو اٹھایا پہنچایا إِلَى قَاضٍ کس تک پہنچایا؟ قاضی تک پہنچا دیا۔ اچھا وہ اور إِلَى قَاضٍ نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد کیا رہا ہے فعل ایسے قاضی تک اس واقعے کو پہنچا دیا اس کے سامنے مقدمہ رکھ دیا يارا بَرَاءَةُ الْأَصِيلِ بِنَفْسِ الْكَفَالَةِ جو أَصِيل کی براءت کی رائے رکھتا ہے نفس كَفَالَة سے ہی۔ نفس كَفَالَة ہی سے أَصِيل کیا ہو جایا کرتا ہے بری ہو جاتا ہے بھئی دیکھو۔ آپ نے گاڑی فروخت کی ایک شخص کے ہاتھ تو پیسے اصل میں دینا کس کی ذمہ داری ہے اس گاڑی کے اسی شخص کے وہ مشتری ہوا نا؟ سمن کس پر آیا کرتے ہیں؟ مشتری پر تو مشتری پر ہے دَيْن تو وہ ہوا أَصِيل اور اس سے کس کو لیا آپ نے؟ ضامن کو لیا ہے تو أَصِيل کون ہے؟ وہ مشتری ہے کون ہے؟ مشتری ہے تو اب امام مالک رحمتہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ جب کوئی شخص دوسرے کی ضَمَان دے دیتا ہے تو أَصِيل بری ہو جاتا ہے۔ بھئی آپ نے میرا دَيْن دینا ہے ایک لاکھ روپیہ میں آ کر آپ سے کہتا ہوں بھئی مجھے کوئی كَفِيل دو آپ نے مجھے ایک شخص كَفِيل دے دیا امام مالک رحمت تو آپ ہیں أَصِيل اور وہ دوسرا ہے آپ کا كَفِيل امام مالک رحمتہ اللہ کا مذہب یہ ہے بھئی کہ كَفِيل دیتے ہی أَصِيل کیا ہو جاتا ہے؟ كَفِيل دیتے ہی أَصِيل بری ہو جاتا ہے۔ تو قاضی بھی امام مالک رحمتہ اللہ کے مذہب کا تھا یعنی اس کی بھی یہی رائے تھی کیا رائے تھی؟ يَرَابَرَاءَةُ الْأَصِيلِ بِنَفْسِ الْكَفَالَةِ کہ وہ رائے رکھتا تھا أَصِيل کے بری ہونے کی نفس كَفَالَة ہی کے ساتھ كَمَا هُوَ مَذْهَبُ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى جیسے کہ مذہب ہے امام دنیا امام مالک رحمہ اللہ تعالی کا بھئی۔ فَحَكَمَ بِبَرَاءَةِ الْأَصِيلِ تو قاضی نے فیصلہ کر دیا أَصِيل کی براءت کا۔ قاضی کا مذہب بھی کیا تھا؟ كَفَالَة کے اندر أَصِيل کیا ہو جاتا ہے؟ بری تو اس نے بھی یہ فیصلہ کیا بھئی جب اس نے ضامن دے دیا تو اب جا کر پیسے ضامن سے لو أَصِيل کیا ہو چکا؟ بری ہو چکا۔ یہ أَصِيل کو چھوڑ کر كَفِيل کے پاس اس کا پتہ کرنے گیا لیکن پتہ چلا كَفِيل مُفْلِس افلاس کی حالت میں مر چکا ہے تو پیسے کیا ہو گئے؟ أَصِيل بھی بری ہوا اور كَفِيل بھی زندہ نہیں بھئی تو وہ بری ہوا ثُمَّ مَاتَ الْكَفِيلُ مُفْلِسًا پھر كَفِيل کیا ہوا مُفْلِس ہو کر مر گیا۔ صورت سب کو سمجھ میں آگئی بھئی۔ وَتَقَيَّدَ شِرَاءُ الْوَكِيلِ بِمِثْلِ الْقِيمَةِ وَبِزِيَادَةٍ يَتَغَابَنُ النَّاسُ فِيهَا اور مقید ہے اوپر تھا مولانا وکیل بِالْبَيْعِ کا مسئلہ آپ نے وکیل کو ایک چیز دی ہے کہ جا کر کیا کرو اس کو بیچ دو اب وکیل بھی شِرَاء کا مسئلہ ہے کہ وکیل سے آپ کوئی وکیل کوئی چیز آپ کے لیے خرید کر لاتا ہے اس کے مسئلے الگ ہیں۔ کہتے ہیں وَتَقَيَّدَ اور مقید ہے شِرَاءُ الْوَكِيلِ وکیل کی شِرَاء بِمِثْلِ الْقِيمَةِ کس کے ساتھ بھئی؟ مثل قیمت کے ساتھ وکیل کو آپ جا کر کہتے ہیں جاو بھئی میرے لیے کیا لاؤ ایک گاڑی خرید کر لاؤ۔ تو یہ شِرَاء مقید ہے کس کس کے ساتھ خریدنا پڑے گا اس کو؟ مثل قیمت کے ساتھ لاکھ کی گاڑی ہے تو کتنے کی لا کر دے صحیح؟ لاکھ ہی کی دے۔ اگر کتنے کی لاتا ہے مثلا ایک لاکھ تیس ہزار کی خرید لاتا ہے آپ کے لیے یہ خریدنا صحیح نہیں بھئی۔ بِمِثْلِ الْقِيمَةِ کے ساتھ شِرَاء مقید ہے بَيْع عام تھی چاہے قلیل کے بدل بیچے چاہے کثیر کے بدلے لیکن شِرَاء مقید ہے کس کے ساتھ؟ مثل قیمت کے۔ وَتَقَيَّدَ شِرَاءُ الْوَكِيلِ بِمِثْلِ الْقِيمَةِ وَبِزِيَادَةٍ اور ایسی زيادَة کے ساتھ يَتَغَابَنُ النَّاسُ فِيهَا کہ لوگ اتنا دھوکہ دیا کرتے ہیں اس کے اندر بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی لاکھ کی گاڑی وکیل مثلا ایک لاکھ پانچ ہزار کی خرید لایا تو کوئی بات نہیں اتنا تو لوگ دھوکہ کھا ہی لیتے ہیں بَيْع کے اندر۔ اچھا بھئی یہ کیا کہا ایسی زیادتی کے عوض میں ایسی زیادتی کے ساتھ جو کیا ہے جس میں لوگ دھوکہ بھئی یہ کتنی زیادتی ہے؟ کتنی زيادَة کو کہیں گے ہم کہ لوگ اتنا دھوکہ کھا لیا کرتے ہیں خود بتلا رہے ہیں کہتے ہیں وَهِيَ مَا يُقَوِّمُ بِهَا مُقَوِّمٌ۔ بھئی دیکھو وکیل آپ کے لیے گاڑی لایا گاڑی تھی کتنے کی؟ ایک لاکھ کی اور وہ کتنے کی خرید لایا؟ ایک لاکھ پانچ ہزار کی تو یہ اتنا دھوکہ ہے جو لوگ عام طور پر کھا لیا کرتے ہیں بھئی کیسے پتہ چلے گا لوگ اتنا دھوکہ کھا لیا کرتے ہیں یا نہیں کھایا کرتے کہتے ہیں بھئی قیمت لگوانے والوں سے اس کی قیمت لگواؤ جو اس معاملات کو سمجھنے والا ہے جو اس قسم کی بَيْع کو جانتا ہے کرتا رہتا ہے ان کے اس کئی آدمیوں سے قیمت لگواؤ آپ سے کئی اس قسم کے دکانداروں کے پاس گئے کہ بھئی یہ گاڑی کتنے کی ہو کتنے کی بہتر ہے میں خرید لوں کتنے کی بہتر ہے ایک کہے گا آپ کو بھئی یہ گاڑی تم پچاس ہزار میں خریدو یہ ٹھیک ہے اس کی قیمت اتنے میں لے لینا دوسرا کیا کہے گا؟ اس قسم کی گاڑی کی قیمت کتنی ہوتی ہے؟ اٹھانوے ہزار ہوا کرتی ہے اٹھانوے ہزار میں مل جائے تو لے لو دوسرا کیا کہہ دیتا ہے مثلا بھئی لاکھ کی مل جائے تو لاکھ کی لے لو ایک کہ اس نے کہا بھئی ایک لاکھ پانچ ہزار تک کی بھی مل جائے تو لے لو تو قیمت لگانے والوں میں سے کسی ایک کی قیمت ائے معلوم ہوا یہ اتنا دھوکہ کیا ہے لوگ کھا لیا کرتے ہیں تو کتنی قیمت لگانے والے کی قیمت وہ ہو تو معلوم ہوا یہ وہ ہے جس میں اتنا دھوکہ لوگ کھا لیا کرتے ہیں تو دیکھو قیمت لگانے والے خود ان میں سے ایک شخص کو قیمت لگا دیتا ہے وَهِيَ اور یہ وہ زيادَة ہے مَا يُقَوِّمُ بِهِ مُقَوِّمٌ کہ جس کے ساتھ قیمت لگاتا ہے مُقَوِّم کوئی قیمت لگانے والا۔ وَيَقِفُ شِرَاءُ النِّصْفِ مَا وُكِلَ بِشِرَائِهِ عَلَى شِرَاءِ الْبَاقِي اچھا۔ بھئی امام صاحب نے بَيْع کے مسئلے میں کیا ذکر فرمایا تھا؟ بَيْع کے اندر تو بھئی امام صاحب کے نزدیک نِصْف کا بیچنا صحیح لیکن صاحبین کے نزدیک نِصْف کا بیچنا صحیح نہیں۔ امام صاحب کے نزدیک نِصْف کا بیچنا صحیح۔ لیکن خریدنے کے اندر امام صاحب فرماتے ہیں نِصْف کا خریدنا صحیح نہیں۔ نِصْف کا خریدنا صحیح نہیں۔ بیچنے میں کہتے تھے کسی کو بھیجیجا یہ گاڑی فروخت کر دو اور وہ نِصْف بیچ کر آ گئے امام صاحب فرماتے ہیں ٹھیک لیکن اگر کسی کو بھیجا کہ گاڑی خرید کر لاؤ اور وہ نِصْف خرید لایا امام صاحب فرماتے ہیں یہ خریدنا صحیح یہ موقوف رہے گا اگر باقی نِصْف بھی وکیل نے خرید کر دی خصومت سے پہلے تو پھر یہ خرید صحیح ورنہ یہ خرید صحیح تو یہاں خرید میں امام صاحب اور صاحبین متفق ہیں۔ صاحبین بھی فرماتے ہیں نِصْف خریدنا صحیح نہیں۔ امام صاحب بھی فرماتے ہیں نِصْف خریدنا صحیح لیکن بَيْع کے اندر اختلاف تھا امام صاحب فرماتے تھے نِصْف بیچنا صحیح ہے لیکن صاحبین فرماتے تھے نِصْف بیچنا صحیح نہیں۔ تو امام صاحب اس میں فرق کرتے ہیں بَيْع و شِرَاء میں صاحبین دونوں میں فرق نہیں۔ وَيَقِفُ شِرَاءُ النِّصْفِ مِمَّا وُكِلَ بِشِرَائِهِ عَلَى شِرَاءِ الْبَاقِي اور موقوف رہے گا شِرَاءُ النِّصْفِ مِمَّا وُكِلَ بِشِرَائِهِ خریدنا نِصْف اس چیز کا کہ وکیل کیا گیا تھا جس کے خریدنے پر وہ موقوف رہے گا عَلَى شِرَاءِ الْبَاقِي باقی نِصْف کے خریدنے پر بھی هَذَا بِالِاتِّفَاقِ بھئی یہ بالاتفاق ہے۔ وَالْفَرْقُ لِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ بَيْنَ الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ امام صاحب نے بَيْع و شِرَاء میں فرق کیا تو ان کی اس کی وجہ یہ ہے کہ أَنَّ فِي الشِّرَاءِ تُهْمَةً بھئی کہ شِرَاء کے اندر تُهْمَة ہے وَهِيَ اور وہ یہ بھئی بَيْع کے اندر تُهْمَة نہیں لیکن شِرَاء کے اندر تُهْمَة ہے کیسے تُهْمَة ہے؟ کہتے ہیں بھئی ہو سکتا ہے وکیل نے یہ چیز اپنے لیے خریدی ہو آپ نے وکیل کو کیا کہا تھا؟ میرے لیے گاڑی خرید کر لاؤ وکیل نِصْف گاڑی خرید کر لے آیا تو تُهْمَة کا خدشہ ہے کہ وکیل نے ہو سکتا ہے یہ اپنے لیے خریدی ہو اور پھر دیکھا کہ اس میں تو فائدہ نہیں ہے تو اب کس پر ڈالنا چاہتا ہے؟ موکل پر ڈال۔ لِأَنَّ فِي الشِّرَاءِ تُهْمَةً کہ شِرَاء کے اندر تُهْمَة ہے وَهِيَ اور وہ یہ أَنَّهُ اشْتَرَى لِنَفْسِهِ کہ وکیل نے ہو سکتا ہے اپنے لیے خریدی ہو ثُمَّ نَدِمَ پھر ندامت ہوئی اس کی کہ اس میں تو کیا ہے نقصان ہے فَيُلْقِيهِ عَلَى الْمُوَكِّلِ تو اس کو کس پر ڈال دیتا ہے؟ موکل پر ڈال دیتا ہے وَلَا تُهْمَةَ فِي الْبَيْعِ جبکہ بَيْع کے باب میں کوئی تُهْمَة نہیں ہے فَيَجُوزُ تو بَيْع کے اندر نِصْف کا بیچنا بھی جائز لِأَنَّ الْأَمْرَ بِبَيْعِ الْكُلِّ يَتَضَمَّنُ بِبَيْعِ النِّصْفِ اس لیے کہ امر بَيْع الكل یہ متضمن ہے بَيْع النصْف کو بھی جب کل کی بَيْع کا حکم دیا تو کل کے اندر کیا آ جاتا ہے؟ نِصْف بھی تو نِصْف کی بَيْع بھی کیا ہو گئی؟ صحیح ہے وہ متضمن ہے بَيْع کل میں بھئی کیونکہ رُبَّمَا لَا يَتَيَسَّرُ بَيْعُ الْكُلِّ دَفْعَةً اس لیے کہ بسا اوقات میسر نہیں ہوتا ساری چیز کو بیچنا دَفْعَةً ایک ہی اکٹھا مولانا۔ اٹھا ایک ہی وقت کے اندر بھئی تو وہ آدھی ایک وقت میں بیچ دیتا ہے آدھی دوسرے وقت میں۔ وَلَوْ رُدَّ مَبِيعُنَا عَلَى وَكِيلٍ بِعَيْبٍ يَحْدُثُ مِثْلُهُ أَوْ لَا يَحْدُثُ بَبَيِّنَةٍ أَوْ نُقُولٍ أَوْ إِقْرَارٍ رَدَّهُ عَلَى آمِرِهِ إِلَّا وَكِيلًا أَقَرَّ بِعَيْبٍ يَحْدُثُ مِثْلُهُ وَلَزِمَهُ ذَلِكَ۔ صورت یہ مولانا صورت یہ ہے کہ میں نے آپ کو اپنا ایک غلام دیا۔ آپ وکیل بِالْبَيْعِ ہیں میں نے آپ کو غلام دیا کہ جاؤ جا کر میرا یہ غلام فروخت کر دو۔ آپ گئے آپ نے غلام فروخت کر دیا، غلام فروخت کرنے کے بعد مشتری نے جب غلام کو دیکھا، کچھ دنوں بعد اُسے ایک عَيْب کا پتا چلا بَھئی۔ کس کا پتا چلا؟ عَيْب کا پتا چلا۔ تو وہ غلام جو ہے لے کر آیا اور وکیل کو اُس نے وہ غلام واپس کر دیا۔ غلام کیا کیا؟ واپس کیا۔ اور واپس جو کرتا ہے یا تو وہ بَيِّنَةٍ کے ذریعے کرے گا، قاضی کے سامنے لا کر کیا پیش کر دیتا ہے؟ دو گواہ پیش کر دیتا ہے، قاضی صاحب اِس نے مجھے کس قِسم کا غلام بیچا ہے؟ عَيْب‌دار غلام بیچا ہے، تو قاضی فیصلہ کر دیتا ہے اور غلام وکیل پر کیا کر دیتا ہے؟ واپس۔ يَاں والا نا اِس کے پاس بَيِّنَةٍ نہیں تھی، قاضی کے پاس مقدمہ کر دیا، قاضی صاحب یہ غلام عَيْب‌دار بیچا ہے، قاضی نے کہا بَھئی بَيِّنَةٍ لاؤ، اِس نے کہا بَيِّنَةٍ میرے پاس نہیں، تو قاضی وکیل جو بائی تھا، اُس کو کیا کہتا ہے؟ قَسَم اُٹھاؤ۔ وہ انکار کر رہا ہے وکیل کہ مَیں نے اِس کو عَيْب والا غلام، تو قاضی کیا کہتا ہے؟ اِس کے پاس تو بَيِّنَةٍ نہیں ہے، تُم کیا کرو؟ قَسَم اُٹھاؤ۔ وکیل قَسَم سے انکار کر دیتا ہے، تو قاضی کیا کرتا ہے اِس کے خلاف فیصلہ؟ معلوم ہوا تُم نے کس قِسم کا غلام بیچا ہے؟ عَيْب والا۔ تو دیکھو مَبِيع رَد ہو رہا ہے عَيْب کی وجہ سے، یا تو کس کی وجہ سے واپس ہوگا؟ بَيِّنَةٍ کی وجہ سے یا اُس وکیل کے انکار کی وجہ سے۔ تیسری صُورت یہ ہے کہ وکیل إِقْرَار کر لیتا ہے کہ ہاں قاضی صاحب مَیں نے اِس کو کس قِسم کا غلام بیچا تھا؟ عَيْب والا۔ تو غلام اُس کو واپس کر دیا جاتا ہے، تو تین صُورتیں ہوئیں رَد کی۔ رَد ہوگا یا تو بِالْبَيِّنَةِ یا رَد کس کے ساتھ ہوگا؟ قَسَم سے انکار کی وجہ سے، یا رَد کس کی وجہ سے ہوگا؟ إِقْرَار کی وجہ سے۔ تو کیا یہ وکیل اِس مَبِيع کو اب آمِر پر یعنی مُوَكِّل پر لوٹا سکتا ہے یا نہیں لوٹا سکتا؟ کہتے ہیں بَھئی دیکھو اُس عَيْب کو دیکھ لو، اگر وہ عَيْب اِس قِسم کا ہے کہ مثلاً وہ جتنی مدّت بَع کو گزری ہے، اِس میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ جتنی مدّت بَع کو گزری ہے، اِس میں وہ عَيْب پیدا نہیں ہو سکتا یا سرے سے پیدا ہو ہی نہیں سکتا بَع کے بعد بَھئی۔ مثلاً پیدائشی عَيْب ہے، غلام کی ایک انگلی کم ہے یا ایک انگلی زائد ہے مولانا۔ اب یہ ایسا عَيْب ہے جو پیدائش، جو بَع کے بعد پیدا نہیں ہو سکتی، تو پیدائشی چیز ہے۔ تو کہتے ہیں اگر اِس قِسم کا عَيْب ہو جو پیدائشی ہو، یا پیدائشی تو نہیں ہے، لیکن ایسا عَيْب ہے جو اِس مدّت سے بَع کے اندر اندر پیدا نہیں ہو سکتا، تو اِس صُورت میں تو وکیل مُوَكِّل کو وہ چیز واپس لوٹا سکتا ہے۔ کیا کر سکتا ہے؟ واپس لوٹا سکتا ہے۔ تینوں صُورتوں میں، چاہے رَد کس کے ساتھ ہوا ہو؟ بَيِّنَةٍ کے ساتھ یا قَسَم سے انکار کے ساتھ یا إِقْرَار۔ کیا صُورت ہوئی؟ وکیل نے غلام بیچا تھا، غلام اُس کو واپس ہوا، ایسے عَيْب کی وجہ سے جو کیا ہے؟ جو بَع کے بعد پیدا نہیں ہو سکتا، اور پھر وکیل پر واپس کس وجہ سے ہوا؟ بَيِّنَةٍ کی وجہ سے، یا إِقْرَار کی وجہ سے، یا قَسَم سے انکار کی وجہ سے، تینوں صُورتوں میں وہ کیا کر سکتا ہے؟ مُوَكِّل کو واپس کر سکتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تینوں صُورتوں میں۔ لیکن اگر ایسا عَيْب ہے جو اِس بَع کی مدّت میں پیدا ہو سکتا ہے، تو پھر مسلہ تھوڑا مُختلف ہے۔ مثلاً مَبِيعہ واپس ہوا وکیل کو، اور یہ واپس، اور عَيْب اِس قِسم کا ہے جو اِس مدّت کے دوران پیدا ہو سکتا ہے۔ اچھا، اور واپس ہوا کتنی صُورتوں کے ساتھ واپس ہو سکتا ہے؟ تین صُورتیں، یا تو واپس ہوگا بَيِّنَةٍ کے ساتھ اور یا إِقْرَار کے ساتھ یا انکار کے ساتھ۔ ان دو صُورتوں کے اندر جبکہ اِس قِسم کا عَيْب پیدا ہو سکتا ہے، اور وکیل کو واپس ہوا بَيِّنَةٍ کی وجہ سے، یا قَسَم سے انکار کی وجہ سے، تو وکیل کو حَق حاصل ہے یہ کس کو واپس کر سکتا ہے؟ مُوَكِّل کو کیا کر سکتا ہے؟ واپس۔ لیکن اِس صُورت میں، جہاں اگر وکیل کے إِقْرَار کی وجہ سے واپس ہوا، تو وکیل مُوَكِّل کو واپس صُورت سمجھ میں آئی؟ کل چھ صُورتیں بنیں مولانا، چھ صُورتیں کس طرح؟ یہ جو مَبِيعہ عَيْب کی وجہ سے واپس ہو رہا ہے، یہ واپسی یا تو کس کی وجہ سے ہوگی؟ بَيِّنَةٍ کی وجہ سے یا قَسَم سے اِنکار کی وجہ سے، یا إِقْرَار کی وجہ سے، اور ان تینوں کے اندر وہ جو عَيْب ہوگا، یا وہ اِس قِسم کا عَيْب بَع کے بعد پیدا ہو سکتا ہے یا بَع کے بعد پیدا نہیں ہو سکتا۔ تو سب میں دو دو صُورتیں آئیں مولانا، تو ان پانچ صُورتوں کے اندر بَھئی وکیل کو کیا ہے؟ واپس کرنے کا حَق ہے، لیکن ایک صُورت میں واپس کرنے کا حَق نہیں۔ کب؟ جبکہ اِس قِسم کا عَيْب بَع کے بعد پیدا ہو سکتا ہو، اور وکیل کو جو رَد ہوا ہے وہ کس کی وجہ سے ہوا ہے؟ اِس کے إِقْرَار کی وجہ سے ہوا۔ صُورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بَھئی۔ وَلَوْ رُدَّ مَبِيعٌ اور اگر لوٹایا گیا مَبِيع کو عَلا وکیل اِن بَھئی کس پر لوٹایا گیا؟ وکیل پر بِعَيْبٍ ایسے عَيْب کی وجہ سے يَحْدُثُ مِثْلُهُ کہ اُس جیسا عَيْب کیا ہے؟ پیدا ہو سکتا ہے۔ اچھا، ٹھیک ہے، بَھئی وہ چھ کی چھ صُورتیں ملا رہے ہیں، دیکھیے متن میں، اگر لوٹایا گیا مَبِيع کو عَلا وکیل اِن کس پر؟ وکیل پر، اِس عَيْب کی وجہ سے بَھئی عَيْب کتنی قِسم کا ہو سکتا تھا؟ دو، یا تو اتنا ایسا اتنی مدّت میں پیدا ہو سکتا ہے یا پیدا نہیں۔ دونوں صُورتیں ملا رہے ہیں۔ ایسا عَيْب ہے يَحْدُثُ مِثْلُهُ کہ اِس جَیسا عَيْب پیدا ہو سکتا ہے اتنی مدّت میں، اَوْ لَا يَحْدُثُ یا پیدا نہیں ہو سکتا۔ بِبَيِّنَةٍ اور یہ واپس کس کی وجہ سے کیا گیا؟ بَيِّنَةٍ کی وجہ سے، اَوْ نُقُولٍ یا انکار کی وجہ سے، قَسَم سے انکار کی وجہ سے، اَوْ بِالْإِقْرَارِ یا کس کی وجہ سے؟ إِقْرَار کی وجہ سے۔ وکیل کے إِقْرَار کی وجہ سے رَدَّهُ عَلَى آمِرِهِ تو وکیل کیا کر سکتا ہے؟ اِس کو واپس لوٹا سکتا ہے کس پر؟ اپنے آمِر یعنی مُوَكِّل پر۔ یہ کتنی صُورتیں کل بن گئیں؟ بَھئی عَيْب یا پیدا ہو سکتا ہے یا پیدا نہیں، اور سب میں بَيِّنَةٍ، نُقول اور إِقْرَار، کتنی صُورتیں ہوئیں؟ چھ، چھ میں سے اب ایک کا استثناء کرنے لگے ہیں، إِلَّا وَكِيلٌ مگر ایسا وکیل، أَقَرَّ بِعَيْبٍ جس نے إِقْرَار کیا ہے ایسے عَيْب کا، يَحْدُثُ مِثْلُهُ جس کی مثل پیدا ہو سکتا ہے۔ تو ان چھ کی چھ صُورتوں میں سے اِس صُورت میں وکیل واپس نہیں کر سکتا، باقی پانچ صُورتوں میں واپس کر سکتا ہے، تو واپس نہیں، مگر وہ وکیل جس نے إِقْرَار کیا ہے ایسے عَيْب کا جس کے اُس کے مثل پیدا ہو سکتا ہے، وَلَزِمَهُ ذَلِكَ اور یہ کس پر لازم ہو جائے گا؟ یہ جو جس کا استثناء کیا ہے؟ یہ اِس صُورت میں وکیل پر ہی لازم ہو جائے گا، اب واپس نہیں کر سکتا۔ أَبَاعَ الْوَكِيلُ بِالْبَيْعِ دیکھیے اب ساری صُورتوں کو کھول کر بیان کریں گے۔ بیچا وکیل بِالْبَيْعِ نے ثُمَّ رُدَّ عَلَيْهِ پھر اس پر لوٹا دیا گیا اُس مَبِيع کو بِالْعَيْبِ عَيْب کی وجہ سے، فَإِنْ كَانَ الْعَيْبُ اگر عَيْب جو ہے مِمَّا اُس قِسم کے یوب میں سے تھا، لَا يَحْدُثُ مِثْلُهُ کہ اُس جَیسا عَيْب پیدا ہی نہیں ہو سکتا كَالْأُصْبُعِ الزَّائِدَةِ جیسے کہ زائد انگلی ہے۔ یہ تو پیدا ہی نہیں ہو سکتی، یہ تو پیدائشی ہوگی۔ اَوْ لَا يَحْدُثُ مِثْلُهُ فِي هَذِهِ الْمُدَّةِ یا عَيْب ایسے جو پیدا تو ہو سکتا ہے، لیکن اتنی مدّت میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ يَرُدُّهُ عَلَى الْآمِرِ تو دونوں صُورتوں میں وکیل رَد کرے گا آمِر پر، سَوَاءٌ إِنْ كَانَ الرَّدُّ عَلَى الْوَكِیلِ بِالْبَيِّنَةِ برابر ہے کہ وکیل پر جو رَد ہوا ہے وہ بَيِّنَةٍ کی وجہ سے ہوا ہے، اَوْ بِالنُّقُولِ یا نُقول، یعنی قَسَم سے انکار کی وجہ سے، اَوْ بِالْإِقْرَارِ یا إِقْرَار کی۔ وَإِنْ كَانَ الْعَيْبُ مِمَّا يَحْدُثُ مِثْلُهُ اور اگر عَيْب اِس قِسم کا ہے جو کیا ہوتا ہے؟ کہ اِس کا مثل عَيْب پیدا ہو جایا کرتا ہے اتنی مدّت میں، فَإِنْ كَانَ الرَّدُّ عَلَيْهِ بِالْبَيِّنَةِ تو اِس صُورت میں اگر رَد کس پر ہوا وکیل پر؟ بَيِّنَةٍ کی وجہ سے، اَوْ بِالنُّقُولِ یا نُقول عن القَسَم کی وجہ سے، رَدَّهُ عَلَى الْآمِرِ تو وکیل کیا کر سکتا ہے؟ آمِر پر لوٹا سکتا ہے، تو دیکھو پانچ صُورتیں ہو گئیں۔ وَإِنْ كَانَ بِالْإِقْرَارِ اور اگر رَد وکیل پر کس کی وجہ سے ہوا ہے؟ إِقْرَار اور اگر رَد وکیل پر إِقْرَار کی وجہ سے ہوا ہے، لَمْ يَرُدَّهُ عَلَى الْآمِرِ تو وہ اِس کو آمِر پر واپس نہیں لوٹا سکتا۔ صُورت سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس مولانا، اِسی پر ہے ھذا ھو المرام، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلامِ۔
108 approved lectures · 89 of 108