Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-087

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 29
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَإِنْ قَالَ: اشْتَرَيْتُ عَبْدًا لِلْآمِرِ فَمَاتَ، وَقَالَ الْآمِرُ: بَلْ لِنَفْسِكَ، صُدِّقَ الْوَكِيلُ إِنْ كَانَ دَفَعَ الْآمِرُ الثَّمَنَ، وَإِلَّا فَالْآمِرُ. صورۃ مسئلہ یہ بھئی! میں نے آپ کو وکیل بنایا کہ میرے لیے ایک غلام خرید و بھئی۔ اب آ کر آپ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کے لیے غلام خریدا تھا، آپ بلکہ گئے بھئی! میں نے آپ سے کیا کہا؟ میرے لیے ایک غلام خریدو، آپ گئے، آپ نے غلام خریدا، لیکن ابھی میرے حوالے نہیں کیا تھا کہ وہ غلام مر گیا بھئی! وہ غلام مر گیا بھئی! اچھا! کہتے ہیں اب آپ آ کر موکل سے کہتے ہیں کہ میں نے آپ کے لیے غلام خریدا تھا، لیکن وہ مر گیا، مر گیا بھئی! لیکن موکل کیا کہتا ہے جواب میں؟ نہیں بھئی! وہ غلام تو آپ نے میرے لیے نہیں خریدا تھا، بلکہ اپنے لیے خریدا تھا اپنے لیے۔ لہذا تمہارے مال میں سے وہ مرا ہے بھئی! تو کہتے ہیں اس صورت میں ثمن دیکھو! اگر موکل پہلے سے ثمن ادا کر چکا ہے، تو پھر وکیل کی تصدیق کی جائے گی، اور اگر موکل نے ابھی تک ثمن ادا نہیں کیے تھے، تو اب موکل کی تصدیق کی جائے گی۔ صورتِ مسئلہ سمجھ میں آئی بھئی؟ ایک شخص نے دوسرے کو وکیل بنایا، جاؤ میرے لیے ایک غلام خریدو، اس نے غلام خریدا، غلام اس کے پاس مر گیا، اب آ کر وہ کہتا ہے کہ میں نے آپ کے لیے غلام خریدا تھا، لیکن وہ مر گیا۔ موکل جواب میں کیا کہتا ہے؟ نہیں بھئی! میرے لیے نہیں خریدا تھا، بلکہ اپنے لیے تو دونوں میں اختلاف آ گیا، تو اب کس کی تصدیق کریں؟ کس کی بات مانیں؟ کہتے ہیں بھئی! ثمن کو دیکھ لو، اگر موکل ثمن ادا کر چکا ہے پہلے سے ہی، تو اس صورت میں وکیل کی تصدیق کی جائے گی، اور اگر موکل نے ابھی تک پیسے نہیں دیے، تو اب کس کی تصدیق کی جائے گی؟ موکل کی تصدیق کی جائے گی قسم کے ساتھ بھئی۔ أي أمر رجلاً دیکھیے ترجمہ دیکھیے! فَإِنْ قَالَ اگر وکیل نے کہا بھئی! یا مأمور نے کہا مأمور نے کہا اشْتَرَيْتُ عَبْدًا لِلْآمِرِ میں نے خریدا تھا غلام کو آمر کے لیے، فَمَاتَ تو وہ پس وہ غلام مر گیا وَقَالَ الْآمِرُ بَلْ لِنَفْسِكَ اور آمر کہتا ہے بلکہ تم نے اپنے لیے خریدا تھا صُدِّقَ الْوَكِيلُ تصدیق کی جائے گی وکیل کی، کب کی جائے گی؟ إِنْ كَانَ دَفَعَ الْآمِرُ الثَّمَنَ اگر آمر ثمن حوالے کر چکا تھا وَإِلَّا فَالْآمِرُ ورنہ کس کی تصدیق کی جائے گی؟ آمر یعنی موکل کی۔ دیکھیے تفصیل بھئی! أي أمر رجلاً بِشِرَاءِ عَبْدٍ بِأَلْفٍ حکم دیا کسی آدمی کو کسی نے بِشِرَاءِ عَبْدٍ کسی غلام کو خریدنے کا بِأَلْفٍ ہزار کے بدلے، فَقَالَ الْوَكِيلُ تو وکیل نے کہا قَدْ فَعَلْتُ میں نے یہ کیا بھئی! یعنی غلام کو خریدا وَمَاتَ الْعَبْدُ عِندِي اور وہ غلام مر گیا میرے پاس، وَقَالَ الْآمِرُ اور آمر جواب میں کہتا ہے اشْتَرَيْتَ لِنَفْسِكَ تو نے تو اپنے لیے خریدا تھا، فَإِنْ كَانَتْ دَفَعَ الْآمِرُ الثَّمَنَ اگر آمر جو ہے وہ ثمن حوالے کر چکا تھا فَالْقَوْلُ لِلْوَكِيلِ تو قول کس کا معتبر ہے؟ وکیل کا معتبر ہے، یعنی آمر پر بینہ آ جائے گی اور وکیل پر قسم آ جائے گی۔ وَإِنْ لَمْ يَدْفَعْ اور اگر بھئی آمر نے ابھی تک ثمن حوالے نہیں کیے تھے، فَالْقَوْلُ لِلْآمِرِ تو قول کس کا معتبر بھئی؟ آمر کا معتبر، یعنی وکیل پر کیا آ جائے گی؟ بینہ آ جائے گی بھئی۔ وَعُلِّلَ فِي الْهِدَايَةِ اور تعلیل کی گئی ہے اس کی ہدایہ کے اندر، علت یہ بیان کی گئی ہے فِيمَا اُس صورت کے اندر إِذَا لَمْ يَدْفَعِ الْآمِرُ الثَّمَنَ اس صورت میں جب کہ آمر نے ثمن حوالے نہیں کیے تھے تو عُلِّلَ تعلیل کیا بیان کی گئی ہے بِأَنَّ الْوَكِيلَ أَخْبَرَ بِأَمْرٍ ایک ایسی چیز کی لَا يَمْلِكُ اسْتِينَافَهُ کہ یہ مالک نہیں ہے اس کو نئے سرے سے کرنے کا۔ اس کو نئے سرے سے کرنے پر ابھی قادر بھئی وہ غلام مر چکا ہے بھئی! وکیل کیا خبر دے رہا ہے کہ میں نے یہ غلام کس کے لیے خریدا تھا؟ وکیل کیا خبر دے رہا ہے میں نے یہ غلام کس کے لیے خریدا تھا؟ اور موکل کیا کہہ رہا ہے یہ تم نے کس کے لیے خریدا تھا؟ وکیل تم نے اپنے لیے خریدا تھا، موکل کہہ رہا ہے۔ اور ابھی ثمن حوالے وہ والی صورت ہے، ثمن حوالے نہیں کیے تو کس کی تصدیق کی جائے گی؟ موکل کی۔ اس صورت میں موکل کی تصدیق کی جائے گی، بھئی کیوں موکل کی تصدیق کی جائے گی؟ ہدایت میں اس کی یہ علت رکھی ہے کہ اس مسئلے میں وکیل خبر دے رہا ہے ایسی بات کی، ایسے عقد کی کہ وکیل اس کو نئے سرے سے کرنے پر قادر نہیں۔ وکیل کس بات کی خبر دے رہا ہے؟ ایسے عقد کی جس کو وہ نئے سرے سے کرنے پر قادر نہیں۔ کون سا عقد تھا؟ اس غلام کو اس نے خریدا تھا کس کے لیے؟ وکیل کیا کہتا ہے میں نے کس کے لیے خریدا تھا؟ موکل کے لیے۔ اب خرید سکتا ہے؟ کیونکہ غلامی مر چکا، جب غلام مر چکا ہے تو اب وہ یہ عقد نئے سرے سے کر سکتا ہے؟ تو جب بھی کوئی شخص خبر دے، وکیل خبر دے ایسے عقد کی جس کو وہ نئے سرے سے کرنے پر قادر نہ ہو، تو قول شخصِ آخر کا معتبر ہو گا، وکیل کا معتبر نہیں ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں پر بھی وکیل ایسے عقد کی خبر دے رہا ہے کہ وکیل اس کو دوبارہ نئے سرے سے کرنے پر قادر نہیں۔ مفروضہ اگر نئے سرے سے کرنے پر قادر ہوتا، وہ غلام ابھی کیا ہوتا؟ زندہ ہوتا تو وکیل کیا کرتا؟ وکیل نے کہا میں نے آپ کے لیے غلام خریدا، آقا کہتے ہیں نہیں، وکیل کے پاس ابھی غلام زندہ ہے، آقا وکیل آ کر کہتا ہے یہ غلام میں نے آپ کے لیے خریدا ہے، آقا کیا کہتا ہے؟ تم نے یہ غلام میرے لیے نہیں خریدا، تو وکیل اب عقدِ جدید کرنے پر قادر ہے یا قادر نہیں؟ قادر ہے، کیا کرے گا؟ وہ کر سکتا ہے وکیل، وکیل ابھی بھی وکیل ہے، جائے، چلا جائے، بائع کے پاس جا کر کیا کر لے؟ اس عقد کو فسخ کر دے، اور پھر نئے سرے سے عقد کر کے کہے میں یہ کس کے لیے خرید رہا ہوں؟ موکل کے لیے ہو جائے گا یا نہیں ہو جائے گا؟ تو اگر زندہ ہو تو وہ اس عقد کو نئے سرے سے کرنے پر قادر ہوتا، لیکن اب تو اس وقت غلام مر چکا، اور یہاں پر وہ نئے سرے سے اس عقد کو کرنے پر قادر تاکہ موکل کے لیے ہو جائے، لہذا اس صورت میں تصدیق وکیل کی نہیں کی جاتی، بلکہ کس کی کی جاتی ہے؟ موکل کی کی جاتی ہے۔ علت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ معنی ہے بھئی! بِأَنَّ الْوَكِيلَ علت یہ بیان کی ہدایت میں کہ بِأَنَّ الْوَكِيلَ أَخْبَرَ بِأَمْرٍ کہ وکیل نے خبر دی ہے ایسے معاملے کی لَا يَمْلِكُ اسْتِينَافَهُ کہ وکیل اس کو نئے سرے سے کرنے پر قادر، لہذا اب وکیل کی تصدیق نہیں کی جائے گی، بلکہ کس کی تصدیق کی جائے گی؟ موکل کی۔ وَفِيمَا إِذَا دَفَعَ الثَّمَنَ، اس کا عطف بھی اوپر والی عبارت فِيمَا إِذَا لَمْ يَدْفَعْ پر ہے، اور علت بیان کی گئی ہے ہدایت کے اندر فِيمَا اُس صورت میں إِذَا دَفَعَ الثَّمَنَ جب ثمن کیا کر دیے ہیں موکل نے حوالے کر دیے ہیں، کیا علت بیان کی گئی ہے بِأَنَّ الْوَكِيلَ أَمِينٌ۔ دوسری صورت بھئی، وکیل کو وہ ثمن دے چکا تھا، اب آ کر وکیل کہتا ہے غلام میں نے آپ مجھے دیے تھے پیسے میں نے آپ کے لیے غلام خریدا لیکن وہ غلام مر گیا، موکل کیا کہتا ہے؟ نہیں بھئی! وہ غلام میرے لیے نہیں خریدا تھا بلکہ آپ نے کہتے ہیں اب ہم اب وکیل کی تصدیق کریں گے، کیوں؟ کیونکہ وکیل کو موکل نے ثمن دیے ہیں، پیسے دیے ہیں، تو وکیل کیا بن گیا؟ امین بن گیا، کیا بن گیا؟ امین بن گیا، تو اب وہ ذمہ داری سے نکلنا چاہتا ہے، کیا کرنا چاہتا ہے؟ نکلنا چاہتا ہے کہ میں تو آپ کے لیے غلام خریدا، وہ غلام میرے پاس آپ کی امانت تھی، لیکن وہ امانت میرے پاس ہلاک ہو گئی، اور امانت جب کسی کے پاس ہلاک ہو جائے تو کیا اس پر ضمان آتا ہے؟ ضمان نہیں آیا کرتا تو یہاں پر بھی وکیل چونکہ امین ہے، اور وہ اپنی ذمہ داری سے نکلنا چاہتا ہے، لہذا اس کی کیا کی جائے گی؟ تصدیق کی جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَفِيمَا إِذَا دَفَعَ الثَّمَنَ بِأَنَّ الْوَكِيلَ أَمِينٌ۔ تو اس صورت کے اندر بھئی، وکیل امین ہے اور وہ بِأَنَّ الْوَكِيلَ أَمِينٌ علت یہ بیان کی گئی ہے کہ وکیل جو ہے وہ امين ہے يُرِيدُ الْخُرُوجَ عَنْ عُهْدَةِ الْأَمَانَةِ وہ امانت کی ذمہ داری سے نکلنا چاہتا ہے، لہذا اب وکیل کی تصدیق کی جائے گی، کیا کی جائے گی؟ تصدیق کی جائے گی۔ أَقُولُ یہاں سے علامہ صدر الشریعہ ایک اعتراض کرنا چاہتے ہیں بھئی۔ اعتراض اعتراض یہ کہ بھئی! یہ جو دو علتیں بیان کیں، پیسے جب حوالے نہیں کیے تھے، تو اس صورت میں کیا علت بیان کی؟ کہ وکیل... ہاں تو اعتراض یہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ جو علتیں بیان کی گئی ہیں یہ بابوری یہ دونوں صورتوں کو شامل ہو جاتی ہے، لہذا کوئی فرق نہیں رہتا بھئی! دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ جب پیسے حوالے کیے تھے، کیا علت تھی؟ پیسے جب حوالے نہیں کیے تھے، کیا علت ذکر کی؟ کہ وکیل ایسے معاملے کی خبر دے رہا ہے جس کو وہ نئے سرے سے کرنے پر قادر نہیں۔ کہتے ہیں یہ علت دونوں صورتوں میں جاری ہوگی چاہے پیسے دیے ہوں چاہے پیسے نہ دیے ہو۔ دوسری صورت میں جب پیسے ادا کر دیے تھے، اس صورت میں کیا علت ذکر کی؟ وکیل کی تصدیق کیوں کی جائے گی؟ کیونکہ وہ امین ہے، اور وہ ذمہ داری سے نکلنا چاہتا ہے۔ کہتے ہیں یہ بھی دونوں صورتوں میں جاری ہوگی، دونوں صورتوں کے اندر جب وہ وکیل ہے، تو وکیل نے جب اس کے لیے غلام خرید دیا، تو وکیل کے پاس غلام کیا ہوا کرتا ہے؟ موکل کی امانت، جب موکل کی امانت ہے تو لہذا دونوں صورتوں میں وکیل امین ہے، وہ کیا کرنا چاہ وہ اپنی ذمہ داری سے نکلنا چاہتا ہے بھئی! تو تعلیل علتیں کیا ہوئی؟ دونوں صورتوں میں دونوں کو شامل ہو گئی یہ دونوں۔ أَقُولُ تو کہتے ہیں میں کہتا ہوں كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ التَّعْلِيلَيْنِ شاملٌ لِلتَّصُورَتَيْنِ کہ دونوں تعلیلیں جو ہیں وہ شامل ہیں دونوں صورتوں کو، فَلَا يَتِمُّ بِهِ الْفَرْقُ تو فرق اس کے ذریعے تام نہیں ہوتا، (یعنی پوری طرح نہیں ہوتا)، بَلْ لَابُدَّ مِنْ انْضِمَامِ امْـ... منِ انْضِمَامِ أَمْرٍ آخَرَ بلکہ ضروری ہے ایک اور امر کو بھی ساتھ ملانا، ایک اور چیز بھی ساتھ ملائی جائے یہاں پر یہ علتوں کے ساتھ، وَهُوَ اور وہ یہ والا نام۔ تو سمجھ میں آئے تو جب علتیں دونوں کو شامل ہیں، تو ایک کے اندر آمر کی تصدیق، دوسرے کے اندر مأمور کی تصدیق، فرق پوری طرح واضح نہیں، اس لیے کہ یہ علتیں دونوں صورتوں کو شامل ہیں۔ وہ صورت بھئی، جس میں پیسے حوالے نہیں کیے تھے، کیا علت بیان کی گئی؟ کہ وکیل ایسے معاملے کی خبر دے رہا ہے جس کو وہ نئے سرے سے کرنے پر قادر نہیں۔ کہتے ہیں یہ تو دونوں صورتوں میں، پیسے دیے ہوں یا پیسے نہ دیے ہوں، دونوں صورتوں میں وکیل ایسے معاملے کی خبر دے رہا ہے جس کے وہ نئے سرے سے کرنے پر قادر نہیں۔ کیونکہ دونوں میں کیا تو غلام تو دونوں میں مر چکا ہے، چاہے پیسے دیے ہوں یا پیسے نہ دیے، جب دونوں میں مر چکا ہے تو وہ عقد کو نئے سرے سے کرنے پر قادر ہے؟ دونوں صورتوں میں یہ تعلیل جاری ہو گئی۔ نیر دوسری بات کیا ذکر کی؟ وکیل... جب پیسے ادا کر دیے، تو وکیل کیا ہے؟ امین، تو وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ ذمہ داری سے نکلنا چاہتا ہے۔ یہ بھی دونوں صورتوں میں جاری ہوگی، دونوں صورتوں کے اندر جب وہ وکیل ہے، تو وکیل نے جب اس کے لیے غلام خرید دیا، تو وکیل کے پاس غلام کیا ہوا کرتا ہے؟ موکل کی امانت۔ جب موکل کی امانت ہے تو لہذا دونوں صورتوں میں وکیل امین ہے، وہ کیا کرنا چاہ وہ اپنی ذمہ داری سے نکلنا چاہتا ہے بھئی! تو تعلیل علتیں کیا ہوئی؟ دونوں صورتوں میں دونوں کو شامل ہو گئی یہ دونوں۔ أَقُولُ تو کہتے ہیں میں کہتا ہوں كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ التَّعْلِيلَيْنِ شَامِلٌ لِلصُّورَتَيْنِ کہ دونوں تعلیلیں جو ہیں وہ شامل ہیں دونوں صورتوں کو، فَلَا يَتِمُّ بِهِ الْفَرْقُ تو فرق اسِ کے ذریعے تام نہیں ہوتا (يعني پوری طرح نہیں ہوتا)، بَلْ لَا بُدَّ مِنْ انْضِمَامِ امْـ... منِ انْضِمَامِ أَمْرٍ آخَرَ بلکہ ضروری ہے ایک اور امر کو بھی ساتھ ملانا، ایک اور چیز بھی ساتھ ملائی جائے یہاں پر یہ علتوں کے ساتھ، وَهُوَ اور وہ یہ والا نام: تو سمجھ میں آئے تو جب علتیں دونوں کو شامل ہیں، تو ایک کے اندر آمر کی تصدیق، دوسرے کے اندر مامور کی تصدیق، فرق پوری طرح واضح نہیں، اس لیے کہ یہ علتیں دونوں صورتوں کو شامل ہیں۔ وہ صورت بھئی! جس میں پیسے حوالے نہیں کیے تھے، کیا علت بیان کی گئی؟ کہ وکیل ایسے معاملے کی خبر دے رہا ہے جس کو وہ نئے سرے سے کرنے پر قادر نہیں۔ کہتا ہے یہ تو دونوں صورتوں میں، پیسے دیے ہوں یا پیسے نہ دیے ہوں، دونوں صورتوں میں وکیل ایسے معاملے کی خبر دے رہا ہے جس کو وہ نئے سرے سے کرنے پر قادر نہیں۔ کہتا ہے یہ تو دونوں صورتوں میں، پیسے دیے ہوں یا پیسے نہ دیے ہوں، دونوں صورتوں میں وکیل ایسے معاملے کی خبر دے رہا ہے جس کے وہ نئے سرے سے کرنے پر قادر نہیں۔ کہتے ہیں یہ تو دونوں صورتوں میں، پیسے دیے ہوں یا پیسے نہ دیے ہوں، دونوں صورتوں میں وکیل ایسے معاملے کی خبر دے رہا ہے جس کے وہ نئے سرے سے کرنے پر قادر نہیں۔ یدعي المأمور الثمن يدعي المأمور الثمن یہ تین لفظ لکھ لیجیے۔ یدعي المأمور الثمن لکھ لیا بھئی؟ یہ عبارت رہ گئی تھی۔ دیکھیے بھئی! وَهُوَ اور وہ یہ کہ انَّ فِيمَا کہ اس صورت کے اندر إِذَا لَمْ يَدْفَعِ الثَّمَنَ جبکہ مامور نے یا موکل نے یا آمر نے ابھی ثمن حوالے نہیں کیے، اس صورت کے اندر يَدَّعِي الْمَامُورُ الثَّمَنَ عَلَى الْآمِرِ مأمور ثمن کا دعویٰ کس پر کر رہا ہے؟ مأمور کون ہے مولانا؟ وکیل، وکیل کیا کہتا ہے؟ میں نے تو غلام آپ کے لیے خریدا تھا اور وہ غلام میرے پاس... ادھر توجہ کرو بھئی۔ مامور کیا کہہ رہا ہے میں ابھی اس نے پیسے نہیں دیے تھے اس صورت میں، کہتا ہے غلام میں نے آپ کے لیے خریدا تھا، لیکن وہ غلام میرے پاس آ کر مر گیا، اب ہم کس کی تصدیق کریں گے؟ آمر کی، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہاں پر وکیل جو ہے وہ صم دراصل ثمن کا دعویٰ کر رہا ہے موکل پر کہ یہ ثمن اب مجھے دو، غلام میں نے آپ کے لیے خریدا تھا، آپ کے مال میں سے مرا ہے، تو مدعی کون ہوا؟ وکیل اور مدعا علیہ کون ہوا؟ موکل بھئی۔ اور تو یہاں مدعا علیہ کیا کر رہا ہے؟ مدعا علیہ ہے، منکر ہے، انکار کر رہا ہے، یہ ثمن کا دعویٰ کر رہا ہے کہ غلام آپ کے لیے میں نے خریدا تھا، میرے ثمن میرے حوالے کرو واپس، سمجھ میں آیا؟ یدعي المأمور الثمن عَلَى الْآمِرِ تو اس صورت میں آمر دعویٰ کر رہا ہے ثمن کا مامور (یعنی وکیل) پر، وَهُوَ يُنْكِرُهُ اس حال میں کہ وہ کیا کر رہا ہے؟ اس حال میں کہ وہ اس کا انکار کرتا ہے، فَالْقَوْلُ لِلْمُنْكِرِ تو قول کس کا معتبر؟ والبينة على المدعي واليمين على من أنكر تو یمین تو منکر پر آیا کرتی ہے، تو منکر کون ہوا یہاں پر؟ جی! موکل، لہذا قول بھی کس کا معتبر؟ یہ معنی ہے۔ کہ اس صورت کے اندر جب کہ پیسے نہیں دیے یدعي المأمور الثمن مامور (یعنی وکیل) دعویٰ کر رہا ہے ثمن کا الْآمِرِ کس پر؟ آمر (یعنی موکل) پر، وَهُوَ يُنْكِرُهُ اور اس حال میں کہ وہ اس کا انکار کرتا ہے، فَالْقَوْلُ لِلْمُنْكِرِ تو قول کس کا معتبر؟ تو چونکہ اس پیسے نہ دینے کی صورت میں آمر منکر ہے، اس لیے آمر کا قول معتبر، اور دوسری صورت میں وکیل منکر ہے، اس لیے اس کا قول دیکھیے: وَفِيمَا إِذَا دَفَعَ الثَّمَنَ اور اس صورت کے اندر جبکہ ثمن حوالے کر دیے تھے يَدَّعِي الْآمِرُ الثَّمَنَ عَلَى الْمَامُورِ ثمن کا دعویٰ کون کر رہا ہے؟ بھئی! جی! آمر ثمن کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اس نے پیسے دے دیے تھے نا؟ اب یہ اس پر ثمن کا دعویٰ کر رہا ہے کہ میرے مال میں سے نہیں مرا، ثمن میرے حوالے کرو واپس، سمجھ میں آیا؟ يدعي الآمِرُ الثَّمَنَ عَلَى الْمَامُورِ تو اس صورت میں آمر دعویٰ کر رہا ہے ثمن کا مامور (یعنی وکیل) پر، وَهُوَ يُنْكِرُهُ اس حال میں کہ وہ کیا کر رہا ہے اس کا؟ انکار کر رہا ہے، فَالْقَوْلُ لِلْمُنْكِرِ تو قول کس کا معتبر؟ اور منکر کون ہوا؟ وکیل، تو پہلی صورت میں منکر ہے موکل، اس کا قول معتبر، جبکہ پیسے نہیں دیے، اور اس صورت میں جبکہ پیسے دے دیے ہیں، منکر کون ہے؟ وکیل ہے، تو قول بھی کس کا معتبر؟ اور دوسرے پر کیا آئے گی؟ بینہ، تو وہ بینہ پیش کر دے تو ٹھیک ہے، مسئلہ ختم، بینہ پیش نہیں کر سکتا تو پھر یہ قسم کھا لے گا۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں ان علتوں کے ساتھ یہ چیز بھی ملا لو ت و مسئلہ واضح ہو جاتا ہے۔ وَلَهُ الرُّجُوعُ بِالثَّمَنِ عَلَى الْآمِرِ دَفَعَهُ إِلَى بَائِعِهِ أَوْلَى۔ جِی۔ بھئی! میں نے آپ کو وکیل بنایا، جاؤ میرے لیے ایک غلام خریدو۔ آپ گئے، آپ نے غلام خرید لیا مولانا، تو آپ موکل سے مجھ سے آ کر مطالبہ کر سکتے ہیں کہ میں نے غلام خریدا ہے، لاؤ بھئی! اس کے ثمن میرے حوالے کرو۔ امام زفَر رَحِمَهُ اللَّهُ کے نزدیک يُضْمِنُ عَشَرَةً ضامن ہوگا کتنے کا؟ پیسے ابھی ادا؟ تو دس تو زمان آیا تو پندرہ کا خریدا ہے، دس تو دس کے بدلے ہو گئے، باقی کتنے رہ گئے؟ پانچ تو وہ پانچ کس سے وصول کر لے گا؟ موکل سے وصول کر لے گا۔ یہ معنی ہے فَإِنَّ زفْرَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَضْمِنُ عَشَرَةً ضَامِن ہوگا دس کا فَيُطَالِبُ الْخَمْسَةَ مِنَ الْمُوَكِّلِ پس مطالبہ کرے گا پانچ کا کس سے؟ موکل سے۔ وَكَذَا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهِ اور اسی طرح امام ابو یوسف رحمۃ اللہ کے نزدیک بھی ہے کہ دس کا زمان آئے گا، کیوں؟ لِأَنَّ الرَّهْنَ يَضْمِنُ بِأَقَلَّ مِنْ قِيمَتِهِ وَمِنَ الدَّيْنِ اس لیے کہ رہن مضمون ہوتا ہے أقل کے بدلے، یعنی أقل مِنْ قِيمَتِهِ وَمِنَ الدَّيْنِ اس کی قیمت اور دین میں سے جو کم ہو أقل ہو اس کے ساتھ... اس کے بدلے مضمون ہوتا ہے۔ تو أقل کون ہے؟ قیمت دس ہے اور ثمن پندرہ ہے، أقل کون ہوا؟ قیمت دس تو وہ زمان آیا پانچ لہذا موکل سے مطالبہ کر لے گا۔ --- وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام محمد رحمۃ اللہ کے نزدیک يَكُونُ مَضْمُونًا بِالثَّمَنِ کہ اب وہ مضمون بہ مبیع کیا ہوگا؟ وہ مضمون بہ ثمن ہوگا اور ثمن کتنے ہیں؟ وَهُوَ خَمْسَةَ عَشَرَ وہ پندرہ ہیں۔ تو وکیل پر کتنا زمان آئے گا؟ پندرہ کا تو لہذا پندرہ کا خریدا تھا، پندرہ ہی اس پر زمان آگیا تو اب وکیل سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ وَلَيْسَ لِلْوَكِيلِ بِشِرَاءِ عَيْنٍ شِرَاؤُهُ لِنَفْسِهِ اور جائز نہیں ہے وکیل کے لیے بھئی وہ وکیل بِشِرَاءِ عَيْنٍ کسی معین چیز کے خریدنے کے لیے جو وکیل ہوتا ہے، اس کے لیے جائز نہیں ہے شِرَاؤُهُ لِنَفْسِهِ کہ وہ اس معین چیز کو اپنے لیے خرید لے۔ میں نے کل آپ کو بتلایا تھا بھئی کسی شخص کو میں وکیل بناتا ہوں کہ جاؤ جا کر وہ غلام یا وہ گاڑی میرے لیے خریدو، تو وکیل کے لیے جائز نہیں ہے کہ جا کر کیا کرے اس چیز کو اپنے لیے... اگرچہ دس آدمی وہاں کھڑے ہیں، ان کے سامنے وکیل کہتا ہے بھئی گواہ رہنا، میں نے اس چیز کو اپنے لیے خریدا ہے، موکل کے لیے نہیں خریدا یا اپنے مال میں سے خریدا ہے، موکل کے مال میں سے نہیں بھئی نہیں، یہ وکیل نہیں کر سکتا بھئی۔ معلوم ہوا اس کی یہ وکالت کو اپنے آپ سے معزول کر رہا ہے اور وکالت سے معزول کرنا موکل کے سامنے تو ہو سکتا ہے، اس کی غیر موجودگی میں نہیں ہو سکتا۔ --- فَلَوْ شَرَى بِخِلَافِ جِنْسِ ثَمَنٍ سُمِّيَا وَبِغَيْرِ النُّقُودِ أَوْ غَيْرِهِ بِأَمْرِهِ بِغَيْبَتِهِ وَقَالَهُ وَبِحَضْرَتِهِ لِلْآمِرِ یہاں سے یہ مسئلہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ وکیل کا آمر کے حکم کے مطابق کرنا ضروری ہے۔ وکیل کے لیے کیا ضروری ہے؟ کہ موکل کے حکم کے مطابق کرے، اگر اس کے حکم کے خلاف کرے تو وہ عقد موکل کے لیے، وہ بیع و شراء موکل کے لیے شمار نہیں ہوگی بلکہ کس کے لیے شمار ہوگی؟ وہ بیع وکیل کے لیے شمار ہوگی۔ اس کے خلاف کرتا ہے مثلاً میں نے آپ کو وکیل بنایا، جاؤ بھئی جا کر وہ گاڑی روپوں کے بدلے خرید لو، آپ جا کر اس گاڑی کو خریدتے ہیں، لیکن اس کے عوض میں روپے نہیں دیتے، بلکہ اس کے عوض میں گندم دے دیتے ہیں، تو آپ نے کیا کی؟ کیا کیا؟ موکل کے حکم کے... موکل نے تو کیا کہا تھا کس کے بدلے خریدو؟ ثمن روپوں کے بدلے اور آپ نے کس کے بدلے خریدا ہے؟ گندم کے بدلے تو آپ نے مخالفت کی، لہذا یہ اب گاڑی کس کے لیے ہوئی؟ وکیل کے لیے ہوئی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ --- یا مولانا! آپ کو میں نے صرف یہ کہا جاؤ جا کر میرے لیے کیا کرو؟ گاڑی خریدو۔ بھئی جب کسی چیز کو عرف میں خریدا جاتا ہے کس کے ذریعے خریدا جاتا ہے؟ نوٹوں کے ذریعے یا یوں کہے درہموں دنانیر کے ذریعے قدیم زمانے میں، لیکن وکیل کیا کرتا ہے کس کے ذریعے خرید لیتا ہے جا کر؟ گندم کے ذریعے تو دیکھو میں نے تو مطلق بیع کا ذکر کیا تھا لیکن اس نے کس کے ذریعے خریدا؟ ہاں تو متعارف طریقہ تو یہ تھا کہ یہ بیع بھی انہی نوٹوں سے درہم و دنانیر سے ہوتی لیکن اس نے مخالفت کی عرف کی تو یہاں بھی گویا اس نے جب عرف کی مخالفت کی تو آمر کی بھی کیا کر دی؟ مخالفت کی کیونکہ وہ بھی عرف کا حصہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ ضابطہ ہے الْمَعْرُوفُ كَالْمَشْرُوطِ جو چیز معروف ہو، یعنی عرف جس کا رائج ہو، وہ کس کی طرح ہوتی ہے؟ مشروط کی طرح۔ تو یہ معروف ہے کہ چیز نوٹوں کے ساتھ خریدی جاتی ہے تو گویا موکل نے بھی یہ شرط لگا دی تھی، اگرچہ ذکر نہیں کیا لیکن یہ مشروط کی طرح تھا کہ شرط لگائی تھی کس کے ذریعے خریدنا؟ نوٹوں۔ --- یا مولانا! تیسری صورت وکیل نہیں خریدتا، وکیل آگے کسی اور کو وکیل بنا کر اس کے ذریعے چیز خریدتا ہے، تو یہ بھی اس نے موکل کے حکم کی مخالفت کی۔ میں نے آپ کو کہا جاؤ میرے لیے جا کر ایک گاڑی خریدو، لیکن آپ خود نہیں خریدتے بلکہ آگے ایک اور آدمی کو کہتے ہیں جاؤ جا کر ایک گاڑی خریدو۔ بھئی مجھے آپ پر تو اعتماد ہے، دوسرے آدمی پر اعتماد نہیں کہ پتہ نہیں وہ کیسی چیز خریدتا ہے، تو میں نے آپ کو اسی لیے حکم دیا آپ خریدو، تو آپ نے جب غیر کو کہا تو غیر نے جب خریدی وہ چیز تو میری رائے کی مخالفت کی آپ نے، میں نے تو آپ کو خریدنے کا حکم دیا تھا، آپ نے نہیں خریدا بلکہ غیر نے خریدا۔ لیکن کب یہ مخالفت ہے؟ جب وہ غیر آپ کون ہیں میرے؟ وکیل اور آپ نے کس کو آگے حکم دیا؟ غیر کو، تو وہ غیر اگر خریدے گا تو میرے حکم کی کیا ہوئی؟ میرے حکم کے خلاف ہوا۔ لكن اگر وہ آپ کی موجودگی میں خریدتا ہے، آپ نے غیر کو کہا جاؤ بھئی گاڑی خریدو، اور اس کے گاڑی خریدتے ہوئے خود آپ بھی وہاں پر موجود تھے، تو اب مولانا اب آپ نے مخالفت نہیں کی، کیونکہ یہاں اگرچہ عقد غیر کر رہا ہے، لیکن وکیل خود بھی موجود ہے تو غیر کا کلام کس کی طرح منتقل ہو جائے گا؟ گویا وکیل خود ہی خرید رہا ہے، وکیل کی رائے بھی ساتھ شامل ہو گئی اور میں بھی کس کی رائے چاہتا تھا؟ آپ کی رائے۔ اور جب وہ آپ کے سامنے خرید رہا ہے، تو آپ کی رائے بھی گویا کیا ہو گئی؟ شامل ہو گئی، لہذا اب خلاف ورزی نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ --- فَلَوْ شَرَا اگر خریدا وکیل نے بِخِلَافِ جِنْسِ ثَمَنٍ سُمِّيَا اس ثمن کی جنس کے خلاف سُمِّيَا جس کو کیا کیا گیا تھا؟ مقرر کیا گیا تھا، ذکر کیا گیا تھا، مُقَرَّرَةً ثمن کی جنس، میں نے تو کہا تھا درہم سے خریدنا، آپ نے کس سے جا کر خریدا؟ گندم سے۔ أَوْ غَيْرِ النُّقُودِ یہاں میں نے ثمن تو ذکر ہی نہیں کیے تھے، لیکن آپ نے خریدا کس کے ساتھ؟ نقود کے علاوہ کسی اور چیز یعنی گندم سے، أَوْ غَيْرِهُ یا خریدا وکیل کے علاوہ نے بِأَمْرِهِ اس وکیل کے حکم سے، بِغَيْبَتِهِ اس وکیل کی غیر موجودگی میں، وَقَالَ لَهُ وَبِحَضْرَتِهِ لِلْآمِرِ تو یہ بیع کس کے لیے شِراء کس کے لیے واقع ہوگی؟ وکیل کے لیے۔ وَبِحَضْرَتِهِ اور اگر غیر نے خریدا اس وکیل کی موجودگی میں، تو وَقَعَ لِلْآمِرِ یہ کس کے لیے ہوگی؟ آمر کے لیے ہوگی۔ --- أَيُّهَا الْوَكِيلُ بِشِرَاءِ شَيْءٍ مُعَيَّنٍ، اگر وکیل بنائے کسی معین چیز کو خریدنے کے لیے، فَلِلْوَكِيلِ إِنْ لَمْ يُخَالِفْ أَمْرَ الْمُوَكِّلِ، پس وکیل اگر مخالفت نہیں کرتا موکل کے حکم کی، فَالْمُشْتَرِي لِلْمُوَكِّلِ، تو وہ خریدی ہوئی چیز کس کے لیے ہوگی؟ موکل کے لیے۔ وَإِنْ خَالَفَ اور اگر مخالفت کرتا ہے فَالْلِوَكِيلِ، تو وہ کس کے لیے ہوگی؟ وکیل کے لیے۔ فَالْمُوَكِّلُ إِنْ سَمَّى الثَّمَنَ، پس موکل نے اگر ثمن بیان کر دیے، فَلِلْوَكِيلِ إِنِ اشْتَرَى بِخِلَافِ ذَلِكَ الْجِنْسِ، پس وکیل نے اگر خریدا اس کی جنس کے خلاف کے ساتھ، كَانَ مُخَالَفَةً تو یہ کیا ہے؟ مخالفت ہے۔ وَإِنْ لَمْ يُسَمِّ الثَّمَنَ اور اگر موکل نے ثمن ذکر ہی نہیں کیے، فَإِنِ اشْتَرَى بِغَيْرِ النُّقُودِ، پس اگر وکیل نے نقود کے علاوہ کسی اور چیز کے ساتھ خریدا، كَانَ مُخَالَفَةً تو یہ بھی کیا ہے؟ مخالفت ہے، لِأَنَّ الْمُتَعَارَفَ الشِّرَاءُ بِالنُّقُودِ اس لیے کہ متعارف کیا ہے؟ کہ خرید کس کے ساتھ ہو؟ نقود کے بدلے ہو۔ وَالْمَعْرُوفُ عُرْفاً كَالْمَشْرُوطِ شَرْطاً، اور معروف ہو جو چیز وہ کس کی طرح ہوتی ہے؟ مشروط کی طرح ہوا کرتی ہے تو یہاں پر بھی اگرچہ نقد کی شرط تو نہیں لگائی تھی موکل نے، لیکن معروف یہی ہے کہ نقود کے ساتھ خریدا جائے تو یہ مشروط شرط کی طرح ہوا، تو شرط کی مخالفت ہو گئی۔ --- وَإِنِ اشْتَرَى غَيْرُ الْوَكِيلِ بِأَمْرِهِ، اگر وکیل کے علاوہ نے خریدا وکیل کے حکم سے، لَكِنْ بِغَيْبَتِهِ، لیکن وکیل کی غير موجودگی میں، يَكُونُ مُخَالَفَةً، تو یہ بھی کیا ہے؟ آمر کے۔ وَإِنْ كَانَ بِحَضْرَتِهِ، اور اگر اس نے خریدا ہے تو غیر کی، تو وکیل کی موجودگی میں، لَا يَكُونُ مُخَالَفَةً، تو یہ مخالفت نہیں ہے، لِأَنَّهُ حُضُورُ رَأْيِهِ، اس لیے کہ وکیل کی رائے بھی حاضر ہے، اس کی رائے بھی ساتھ شامل ہو گئی۔ وَفِي غَيْرِ عَيْنٍ هُوَ لِلْوَكِيلِ، إِلَّا إِذَا أَضَافَ الْعَقْدَ إِلَى مَالِ آمِرِهِ، أَوْ أَطْلَقَ وَنَوَى لَهُ، بھئی! یہ تو تھا معین چیز میں کہ معین چیز میں وکیل اپنے لیے خرید ہی نہیں سکتا چاہے گواہ بھی بنا لے، سب کچھ کر لے، اپنے لیے نہیں خرید سکتا۔ لیکن اگر غیر معین چیز ہو، تو وکیل اس کو خریدے، تو وہ وکیل کی ہوتی ہے، یعنی وکیل کے پاس ہلاک ہو جائے تو کس کے مال میں سے ہلاک ہوئی؟ وکیل۔ مگر یہ کہ غیر معین چیز کے لیے وکیل خریدتا ہے کس کی شمار ہوتی ہے؟ وکیل کی، مگر یہ کہ اگر وکیل اس کو خریدتے ہوئے بیان کر دے کہ یہ میں کس کے لیے خرید رہا ہوں؟ یا میں کس کے مال میں سے خرید رہا ہوں؟ موکل کے مال میں سے، یہ بیان کر دے یا یہ بیان تو نہیں کرتا، نیت یہ کر لیتا ہے، تو بھی کیا ہے کس کی شمار ہوگی؟ موکل کی یہ معنی ہے۔ --- وَفِي غَيْرِ عَيْنٍ اور غیر معین چیز کے اندر هُوَ لِلْوَكِيلِ وہ خریدی ہوئی چیز کس کی ہوگی؟ وکیل کی ہوگی، إِلَّا إِذَا أَضَافَ الْعَقْدَ مگر یہ کہ وہ نسبت کر دے عقد کی إِلَى مَالِ آمِرِهِ اپنے آمر کے... کہ میں اس کے مال میں سے خرید رہا ہوں، أَوْ أَطْلَقَ وَنَوَى لَهُ یا نسبت ہی نہیں کرتا، مطلقاً کیا کر لیتا ہے؟ اس چیز کو خریدتا ہے وَنَوَى لَهُ بھئی! نیت کر لیتا ہے۔ قَالَ الْوَكِيلُ: اشْتَرَيْتُ بِهَذَا الْأَلْفِ، وکیل کہتا ہے اشْتَرَيْتُ بِهَذَا الْأَلْفِ میں، میں اس کو خریدتا ہوں اس الف کے بدلے، وَالْأَلْفُ مِلْكُ الْمُوَكِّلِ اور حال یہ ہے کہ وہ الف کس کی ملک ہے؟ موکل کی، ایک صورت یہ تو یہ ایک وکیل کی شمار ہو گئی۔ أَوْ أَطْلَقَ یا وکیل کیا کرتا ہے؟ مطلق چھوڑتا ہے، أَيْ قَالَ یوں کہتا ہے اشْتَرَيْتُ بِأَلْفٍ مُطْلَقٍ بھئی! میں کس کے ساتھ خریدتا ہوں؟ مطلق الف کے ساتھ بھئی! سمجھ میں آیا؟ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُقَيَّدَ بِأَلْفٍ، یعنی علاوہ اس کے کہ اس کو مقید کیا جائے، ایسے الف کے ساتھ وَمِلْكُ الْمُوَكِّلِ کہ وہ کس کے ملک ہے؟ موکل، مطلق کرتا ہے، اس کے ساتھ مقید نہیں کرتا، لَكِنْ نَوَى نَوَى الشِّرَاءَ لِلْآمِرِ لیکن نیت کرتا ہے خریدنے کی آمر کے لیے، تو يَكُونُ لِلْآمِرِ تو یہ کس کے لیے ہوگی؟ آمر کے لیے ہوگی۔ --- وَيَبْطُلُ الصَّرْفُ وَالسَّلَمُ بِمُفَارَقَةِ الْوَكِيلِ دُونَ آمِرِهِ بھئی دیکھیے! میں نے آپ کو وکیل بنایا دراہِم دیے کہ جاؤ بھئی! بلکہ بھئی! اسی مجلس میں فرض کرو، یہیں پر آپ ہی بیٹھے ہیں، میں بھی بیٹھا ہوا ہوں اور لوگ بھی بیٹھے ہیں، میں نے آپ کو اپنا وکیل بنایا کہ لو بھئی! یہ دراہم لو اور یہ ساتھ والے آدمی سے کیا کر لو؟ اس کے بدلے دینار لے لو، تو یہ کون سا عقد ہوا؟ عقدِ صرف ہوا بھئی، کیا ہوا؟ عقدِ صرف ہوا۔ وکیل نے بھئی ساتھ والے سے عقدِ صرف کر لی کہ میں تمہیں سو دراہم دوں گا، آپ مجھے پانچ دینار مثلاً دے دینا۔ دونوں نے آپس میں کیا کر لیا؟ عقد کر لیا بھئی۔ عقد کرنے کے بعد آپ نے بیع صرف میں ضابطہ پڑھا ہے کہ عوضین پر اسی مجلس کے اندر قبضہ ضروری ہے۔ اب آپ دونوں نے آپس میں عوضین پر قبضہ نہیں کیا تھا کہ موکل یعنی میں اس مجلس سے اٹھ کر چلا گیا، تو کہتے ہیں کیا عقد باطل فاسد ہوگا؟ باطل ہوگا کہ نہیں بھئی؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، موکل کا تو تعلق ہی نہیں ہے اس عقد سے بھئی، عقد تو کس کا کس نے کیا ہے؟ وکیل نے کیا، لہذا موکل کے اٹھ جانے سے کوئی اثر... لیکن اگر قبضے سے پہلے وکیل اٹھ کر چلا جائے، تو اس صورت میں بیع صرف کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ --- وَيَبْطُلُ الصَّرْفُ وَالسَّلَمُ وَيَبْطُلُ... اور باطل ہو جائے گا عقدِ صرف بھی اور عقدِ سلم بھی بِمُفَارَقَةِ الْوَكِيلِ وکیل کے جُدا ہو جانے سے دُونَ آمِرِهِ نہ کہ اس کے آمر کے جدا ہونے سے، صُورَةُ السَّلَمِ بھئی اب سلم کے اندر دو صورتیں بنتی تھیں۔ یا تو وکیل کس کی طرف سے ہوگا؟ رَبُّ السَّلَمِ کی طرف سے، یا کس کی طرف سے؟ مُسْلَمٌ إِلَيْهِ. بھئی! میں آپ کو پیسے دے رہا ہوں، کہ یہ پیسے لے لو چھ مہینے بعد مجھے کیا کرنا؟ گندم دینا تو میں ہوا رب السلم، اور چھ مہینے بعد آپ کیا دیں گے مجھے؟ گندم آپ کون ہوئے؟ مسلم الیہ بھئی۔ تو یاد رکھو! یہ جو وکیل بنانا ہے، رب السلم کا تو وکیل بنانا صحیح، مسلم الیہ کی طرف سے وکالت صحیح کیوں؟ رب السلم تو یہ ہے، میں نے آپ کو پیسے دیے دو بھئی! یہ اس کس کو دے دو؟ اس شخص کو دے دو اور اس سے چھ مہینے بعد کیا لے لیں گے ہم؟ گندم لیں، یہ توقیل صحیح۔ --- لَكِنْ وَجْهُ الشَّخْصِ وکیل بناتا ہے آپ کو، کہ بھئی! اس دوسرے سے کیا کر لو؟ عقدِ سلم کر لو، اس سے ابھی پیسے لے لو اور چھ مہینے بعد کیا دینی پڑے گی اس کو؟ گندم۔ یہ وکیل صحیح نہیں مولانا! یعنی مسلم الیہ کی طرف سے وکیل بنانا صحیح... کیوں نہیں صحیح؟ کہتے ہیں اس لیے کہ مسلم الیہ نے آپ کو وکیل بنایا، آپ کیا کریں گے؟ میرے سے کیا وصول کریں گے؟ پیسے لے لیں گے اور یہ پیسے آپ کس کو دیں گے؟ مسلم الیہ کو، اور چھ مہینے بعد گندم دینا، یہ وکیل کی ذمہ داری ہے، کیونکہ عقد میرا کس کے ساتھ ہوا ہے؟ وکیل کے ساتھ۔ تو یہ تو درست نہیں ہے مولانا! سلم آپ لیتے ہیں، وہ کسی اور کو دیتے ہیں، اور گندم آپ کے گلے پڑ گئی، تو یہ درست نہیں ہے مولانا! صورت سمجھ میں آئی؟ --- وَفِي غَيْرِ عَيْنٍ هُوَ لِلْوَكِيلِ إِلَّا إِذَا أَضَافَ الْعَقْدَ إِلَى مَالِ آمِرِهِ أَوْ أَطْلَقَ وَنَوَى لَهُ، تو اسی لیے بھئی! اب بیان کر رہے ہیں سلم کی صورت کہ رب السلم کی طرف سے توقیل صحیح، مسلم الیہ کی طرف سے توقیل صحیح۔ کہتے ہیں صُورَةُ السَّلَمِ اس سلم کی صورت یہ ہے: أَنْ يُوَكِّلَ رَجُلًا کہ وکیل بنا دے کسی آدمی کو بِأَنْ يَشْتَرِيَ لَهُ كُرًّا بُرًّا کہ خرید لے اس کے لیے ایک کر گندم خرید لے بِعَقْدِ السَّلَمِ بھئی! کس کے ساتھ؟ عقدِ سلم کے ساتھ ایک کر گندم خرید لے، یعنی کون وکیل بناتا ہے؟ رَبُّ... یہ وکیل بنانا یہ مراد ہے، یہ صحیح ہے۔ وَلَيْسَ الْمُرَادُ التَّوْكِيلَ بِبَيْعِ الْكُرِّ بِعَقْدِ السَّلَمِ اور اس سے مراد ایک کر گندم کو عقدِ سلم کے ساتھ بیچنے کی توقیل نہیں ہے، کہ ایک آدمی دوسرے کو کیا کہتا ہے؟ میرے ایک کر گندم بیچ دو کس کے ساتھ؟ عقدِ... یعنی سمن ابھی لے لو اور کر گندم ہم کب دیں گے؟ چھ... یہ یہ یہ مراد نہیں ہے۔ کیوں؟ لِأَنَّ هَذَا لَا يَجُوزُ اس لیے کہ یہ جائز نہیں۔ --- وَلَيْسَ الْمُرَادُ التَّوْكِيلَ بِبَيْعِ الْكُرِّ بِعَقْدِ السَّلَمِ وَلَيْسَ الْمُرَادُ التَّوْكِيلَ بِبَيْعِ الْكُرِّ بِعَقْدِ السَّلَمِ بَهي توقیل وکیل بنانا بِبَيْعِ الْكُرِّ ایک کر گندم کو فِرْ بِعَقْدِ السَّلَمِ کس کے ساتھ عقدِ سلم کے ساتھ یہ مراد نہیں ہے لِأَنَّ هَذَا لَا يَجُوزُ اس لیے کہ یہ جائز نہیں ہے۔ إِذِ الْوَكِيلُ يَبِيعُ طَامًّا فِي ذِمَّتِهِ اس لیے کہ اس صورت... کے اندر وکیل بیچتا ہے غلے کو فِي ذِمَّتِهِ کہ وہ غلہ کیا ہوتا ہے اسی کے ذِمّے میں رہتا ہے، عَلَى هَذَا الشَّرْطِ أَنْ يَكُونَ الثَّمَنُ لِغَيْرِهِ کہ ثمن اس کے غلہ کس کے ذمہ ہوگا؟ اور ثمن کس کو دے رہا ہے ابھی لے کر؟ مسلمہ کو تو ثمن اس کو دیے اور غلہ اس بیچارے کے گلے میں پڑ جائے یہ درست تو وہ وکیل بیچتا ہے طعام کو فِي ذِمَّتِهِ کہ وہ اس کے ذمہ میں ہوتا ہے، عَلَى هَذَا الشَّرْطِ أَنْ يَكُونَ الثَّمَنُ لِغَيْرِهِ کہ ثمن اس کے علاوہ یعنی مسلمہ کے لیے ہیں، وَلَا نَظِيرَ لَهُ فِي الشَّرْعِ اور شریعت میں اس کی کوئی نظیر کہ ثمن کوئی اور لے اور مبیع کسی اور کے ذمہ پڑ جائے، وَإِنَّمَا يُعْتَبَرُ مُفَارَقَةُ الْوَكِيلِ باقی ہم نے کہا بھئی وکیل کی جدائی تو معتبر ہے، وکیل کی نہیں کیوں کہتے ہیں وَإِنَّمَا يُعْتَبَرُ مُفَارَقَةُ الْوَكِيلِ اور وکیل کی جدائی معتبر ہے، لِأَنَّ الْعَاقِدَ هُوَ الْوَكِيلُ اسی کے عقد کرنے والا کون ہے؟ وکیل ہے، فَإِنْ قَالَ بِعْنِي هَذَا لِزَيْدٍ فَبَاعَهُ ثُمَّ أَنْكَرَ الْآمِرُ أَخَذَهُ زَيْدٌ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے۔ آپ ایک آدمی کو کہتے ہیں بھئی اپنی گاڑی مجھے زید کے لیے بیچ دو۔ مجھے کس نے بھیجا ہے؟ مجھے زید نے یہ گاڑی خریدنے کے لیے بھیجا ہے، زید کے لیے میرے ہاتھ اپنی گاڑی بیچ دو۔ اس نے آپ کو گاڑی بیچ دی، آپ نے خرید لی۔ اچھا، خریدنے کے بعد آپ انکار کر دیتے ہیں، نہیں بھئی، یہ زید نے تو مجھے یہ گاڑی خریدنے کا نہیں کہا تھا، ادھر زید کو بھی پتہ چلا، بھئی! زید کہتا ہے لاؤ، بھئی، گاڑی مجھے دے دو، تو زید آپ سے گاڑی لے لے گا، بھئی! کیا کرے گا؟ ثمن اس کو دے دے گا اور گاڑی آپ سے کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ وکیل نے گاڑی خریدتے ہوئے کیا کہا تھا؟ یہ گاڑی میں کس کے لیے خرید رہا ہوں؟ زید کے لیے۔ تو اس نے وکیل ہونے کا اقرار کر لیا۔ کس چیز کا اقرار کر لیا؟ اب بعد میں انکار بھی کرتا رہے، بھئی، ایک دفعہ آدمی اقرار کر لے، دوسرے رجوع ہو کر سکتا ہے؟ خود رجوع نہیں کر سکتا، لہذا اب زید اگرچہ اس نے وکیل نہیں بنایا، لیکن اگر آپ سے گاڑی لینا چاہے، تو آرام سے کیا کر سکتا ہے؟ لے سکتا ہے۔ گواہ پیش کر دے، قاضی صاحب، اس نے اتنے آدمیوں کے سامنے اقرار کیا تھا، یہ گواہ ہیں، بھئی! اور گاڑی لے لے گا اور وہ پیسے آپ کے حوالے کر دے۔ دوسری صورت، زید، آپ نے کہا، یہ گاڑی میں کس کے لیے خریدتا ہوں؟ زید کے لیے۔ اچھا، گاڑی آپ نے خرید لی، زید کو پتہ چلا، زید کہتے ہیں، نہیں، بھئی، میں نے تو اس کو اپنا کوئی وکیل نہیں بنایا، اس نے کیسے خرید لی میرے لیے گاڑی؟ زید نے رد کر دیا آپ کے اقرار کو۔ اب زید آپ سے گاڑی لینا چاہتا ہے، کہتے ہیں، نہیں، بھئی! آپ زبردستی نہیں۔ مرضی سے آپ دینا چاہیں، وہ تو الگ بات ہے، لیکن زبردستی زبردستی نہیں لے سکتے۔ کیوں نہیں لے سکتے؟ بھئی، آپ نے تو اقرار کیا تھا، سب کے سامنے کہ یہ گاڑی میں نے کس کے لیے خریدی ہے؟ کہتے ہیں، بھئی، آپ نے تو اقرار کیا تھا، لیکن جس کے لیے اقرار کیا تھا، اس نے خود ہی آپ کے اقرار کو رد کر دیا، تو آپ کا اقرار کیا ہو گیا؟ رد ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ جبرا نہیں لے سکتا۔ ہاں، اپنی مرضی سے دیتے ہیں، تو پھر ٹھیک ہے، اپنی مرضی سے آپ نے گاڑی زید کو دے دی، تو زید کو مبیع دیتے ہی، بھئی! موکل، زید تھا موکل، آپ کون ہیں؟ وکیل۔ اور وکیل اور وکیل کے درمیان کیا پایا جاتا ہے؟ مبادلہ مبادلہ ہوتا ہے یا نہیں؟ تو اب زید نے اگرچہ آپ کو وکیل نہ بھی وکیل بنایا، پھر تو مبادلہ، پھر تو ٹھیک ہے بات۔ زید نے اگرچہ آپ کو وکیل نہیں بھی بنایا، تو جب زید کو آپ گاڑی دیتے ہیں، تو مبیع آپ نے دے دیا۔ تو منہ سے کچھ بھی نہیں بولے، لیکن طاعتی ہو گئی یا نہیں، مولانا؟ بیع طاعتی پڑھا تھا یا نہیں آپ نے؟ جس میں ایجاب و قبول نہیں ہوتا، چیز دی جاتی ہے اور اس سے سامان لے لیا۔ تو زید سے اگرچہ ابھی آپ سامان نہیں لیتے، لیکن گاڑی اس کو دے دیتے ہیں، وہ آپ سے گاڑی لے لیتا ہے، تو طاعتی پائی گئی، مولانا، مبیع اس کے حوالے ہو گیا اور ثمن اب اس کے ذمہ میں رہ گئے، تو زید کا آپ کی رضامندی سے گاڑی لے لینا ٹھیک، لیکن جبرا آپ سے وہ لے یہ معنی۔ فَإِنْ قَالَ اگر کہا ایک آدمی نے دوسرے سے بِعْنِي هَذَا کہ بیچ دے مجھے تو یہ چیز لِزَيْدٍ کس کے لیے؟ زید کے لیے فَبَاعَهُ اس بھئی نے وہ چیز کو اس چیز کو اس پر بیچ دیا ثُمَّ أَنْكَرَ الْآمِرُ پھر عامر نے کیا کر دیا؟ زید نے انکار کر دیا ہاں، ثُمَّ أَنْكَرَ الْآمِرَا پھر عامر کا انکار کر دیا، کس چیز کا انکار کر دیا؟ مشتری نے خود بتلا رہے ہیں أَنْكَرَ الْمُشْتَرِي أَنَّ زَيْدًا أَمَرَهُ یعنی کہ مشتری نے انکار کر دیا کہ زید نے اس کو حکم دیا ہے بِالشِّرَاءِ خریدنے کا أَخَذَهُ زَيْدٌ انکار کر بھی دے، پھر بھی أَخَذَهُ زَيْدٌ زید اس مبیع کو لے لے گا یعنی لے سکتا ہے لِأَنَّ قَوْلَهُ اسی کے کہ زید کا وکیل اس خریددار کا یہ کہنا بِعْنِي لِزَيْدٍ یہ چیز میرے زید کے لیے میرے ہاتھ فروخت کر دو إِقْرَارٌ بِتَوْكِيلِهِ یہ اقرار ہے اس کی، زید کی، توکیل کا لِأَنَّ هَذَا الْبَيْعَ إِنَّمَا يَكُونُ لِزَيْدٍ إِذَا أَمَرَهُ زَيْدٌ بِهِ، فَلَا يُصَدَّقُ فِي إِنْكَارِهِ آمِرًا هُوَ تو اس لیے کیونکہ یہ بیع جو ہے یہ زید کے لیے ہو جائے گی، جبکہ زید نے اس کو کیا ہے، حکم دیا ہے اس کے اس بیع کا، اس شراء کا، فَلَا يُصَدَّقُ فِي إِنْكَارِهِ آمِرًا هُوَ تو لہذا تصدیق نہیں کی جائے گی فی إنکاره، اے فی إنکار المشترى، مشتری کے انکار میں، اس کی تصدیق، کس چیز کا انکار کرتا ہے؟ آمرا ہو اپنے امر کا۔ یہ مفعول ہے انکار کے لیے، آمرا ہو کیا ہے؟ فَلَا يُصَدَّقُ فِي إِنْكَارِهِ آمِرًا هُوَ، لہذا تصدیق نہیں کی جائے گی، مشتری کے انکار کرنے اپنے امر کا، فَإِنْ صَدَّقَهُ لیکن اگر امر کیا کر دیتا ہے؟ اس کی تصدیق کر دیتا ہے۔ کیا معنی؟ مشتری نے پہلے کیا کہا تھا، میں کس کے لیے خرید رہا ہوں؟ زید کے لیے۔ بعد میں مشتری نے کیا کہا؟ زید نے مجھے اس کا کوئی حکم نہیں دیا، وَصَدَّقَهُ زید بھی کیا کر دیتا ہے اس کی؟ تصدیق کہ ہاں، بالکل میں نے اس کو حکم نہیں دیا تھا، تو لَا يَأْخُذُهُ جَبْرًا تو اب اس سے جبرا نہیں لے سکتا۔ وَإِنْ صَدَّقَ زَيْدٌ الْمُشْتَرِيَ اگر تصدیق کر دی زید نے مشتری کی کہ أَنَّهُ لَمْ يَأْمُرْهُ کہ زید کہ اس نے اسے حکم نہیں دیا تھا، لَا يَأْخُذُهُ جَبْرًا تو زید اسے جبرا نہیں لے سکتا، لِأَنَّ إِقْرَارَ الْمُشْتَرِي رُدَّ بِرَدِّهِ اس لیے کہ مشتری کا جو اقرار ہے، وہ رد ہو گیا زید کے رد کر دینے کی وجہ سے، وَإِنَّمَا قَالَ جَبْرًا بھئی ماتن نے جبرا کہا، جبرا نہیں لے سکتا، ہاں، اگر وہ خود دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ جبرا کی مکی ماتن نے لگائی، لِأَنَّ الْمُشْتَرِيَ إِنْ سَلَّمَهُ إِلَى زَيْدٍ اگر وہ اس مبیع کو سپرد کر دیتا ہے، زید کے، يَكُونُ بَيْعًا بِالطَّاعَةِ تو یہ بیع بتعاعتی ہوئی، فَالتَّسْلِيمُ عَلَى وَجْهِ الْبَيْعِ يَفِي لِلتَّاعَاتِي تو بھئی اس پر اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو ایک مبیع دے رہا ہے، ساتھ سامان نہیں لے رہا۔ تعاعتی میں تو کیا ہے، مبیع دے اور سامان لے لے، کہتے ہیں نہیں، بھئی! شروع کتاب میں بھی آپ نے پڑھا تھا، تعاعتی کے اندر ایک جانب سے بھی اعطا کیا ہے، کافی ہے، تو یہاں بھی ایک طرح سے اعطا ہو گیا، اس نے زید کو مبیع دے دیا اور بیع ہو گئی، اب زید پر ثمن واجب ہو گئے، وہ بعد میں دے دے، فَالتَّسْلِيمُ عَلَى وَجْهِ الْبَيْعِ يَفِي لِلتَّاعَاتِي تو سپرد کرنا بیع کے طریقے پر، یہ کافی ہے تعاعتی کے لیے، وَإِنْ لَمْ يُوجَدْ نَقْدُ الثَّمَنِ اگرچہ ثمن کی ادائیگی نہ پائی جائے، اِسْ فِي الْحَالِ وَمَنْ وَكَّلَا بھئی چلیے مولانا، هَذَا هُوَ الْمُرَادُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
108 approved lectures · 87 of 108