Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-085

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 18 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 29
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَيَثْبُتُ الْمِلْكُ لِلْمُوَكِّلِ ابْتِدَاءً، فَلَا يَعْتِقُ قَرِیْبُ وَکِیْلٍ شَرَاہُ۔ بھئی یہ فَلَا يَعْتِقُ لغت کے اعتبار سے تو يَعْتِقُ ہونا چاہیے بھئی۔ أعتق يعتق کا معنی آزاد ہونا۔ لیکن اس کو عموماً مجہول ہی سنا گیا ہے بھئی۔ عموماً آپ کیسا پڑھتے ہیں اس کو بھئی؟ مجہول ہی پڑھتے ہیں بھئی۔ اگرچہ لغوی معنی کے اعتبار سے تو يَعْتِقُ ہونا چاہیے بھئی۔ أعتق يعتق کے معنی آزاد ہونا۔ فَلَا يَعْتِقُ قَرِیْبُ وَکِیْلٍ وکیل کا قریبی آزاد نہیں ہو۔ لیکن یہ مجہول سنا گیا ہے عموماً بھئی کتابوں میں۔ اور غالباً یہاں وہ ضابطہ لگے گا بھئی کہ وہ فعل جو انسان کے اختیار میں نہ ہو، عموماً اس کے لیے فعل مجہول لایا جاتا ہے۔ بھئی یہ آزاد ہونا غلام کے اپنے اختیار میں ہے؟ اپنے اختیار میں نہیں تو یہ فعل اس کے ایسا فعل ہے جو اس کے اختیار میں نہیں اور اس کے لیے پھر عموماً اکثر ایسی جگہوں پر عربی میں کس قسم کا فعل لایا جاتا ہے؟ مجہول فعل لایا جاتا ہے۔ جیسے دیکھیے بے ہوش ہونے کے لیے کیا استعمال کیا کہا جاتا ہے بھئی؟ اُغْمِيَ عَلَيْهِ پڑھتے ہیں یا نہیں آپ بھئی؟ اسی طرح اور بھئی تو دیکھو فعل مجہول آیا کیونکہ بے ہوش ہونا غیر اختیاری۔ اور یا غُشِيَ عَلَيْهِ پڑھتے ہیں یا نہیں آپ بھئی؟ تو یہاں دیکھو فعل مجہول لایا گیا بھئی تو اسی طرح بعض اوقات فعل مجہول پھر لاتے ہیں ایسے مواقع پر۔ مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَّحْرَمٍ مِنْهُ عُتِقَ عَلَيْهِ۔ بھئی مسئلہ یہ چل رہا ہے کہ وکیل کو آپ نے بیچا، وکیل کو آپ نے بھیجا کہ جاؤ میرے لیے ایک غلام خرید ہو۔ وکیل گیا اور اس نے اپنے قریبی محرم رشتہ دار کو خریدا بھئی۔ اور حدیث میں آپ نے پڑھا ہے مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَّحْرَمٍ مِنْهُ عُتِقَ عَلَيْهِ وہ اس پر کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا جو اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا، دو شرطیں ہیں حدیث میں: قریبی بھی ہو رشتہ دار اور محرم بھی ہو یعنی ان دونوں میں سے اگر دونوں میں سے ایک مرد اور ایک عورت ان کو فرض کر لیا جائے تو ان میں آپس میں نکاح کیا ہو؟ حرام بنتا ہو، مثلاً وکیل نے اپنے بھئی کو خرید لیا۔ اب بھئی اس کا قریبی رشتہ دار بھی ہے اور محرم بھی ہے کہ وکیل اور وکیل کا بھئی ان میں سے ایک کو مرد فرض کریں، ایک کو عورت فرض کریں تو ان کا نکاح آپس میں حرام ہے، معلوم ہوا محرم بن گئے کیونکہ بہن بھئی کا رشتہ بن گیا اور بہن بھئی میں کیا ہے؟ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپس میں نکاح حرام، تو محرم ہوئے۔ تو اب وکیل نے اپنے قریبی رشتہ دار کو خرید لیا جو محرم بھی ہے، تو کیا یہ محرم آزاد ہو جائے گا یا آزاد نہیں ہوگا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی یہ آزاد کیوں نہیں آزاد ہوگا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ حدیث میں جو مالک بنے بھئی، کیا بنے؟ مالک بنے اور وکیل یہاں مالک بنتا ہی نہیں ہے، وہ محض وکیل ہے تو ملکِ ابتداء ہی سے کس کے لیے حاصل ہوتی ہے؟ موکل کے لیے۔ تو اس نے اپنے بھئی کو خرید لیا لیکن ملکِ ابتداءً ہی اس کو حاصل ہی نہیں ہوئی، بلکہ کس کو حاصل ہو گئی؟ موکل کو حاصل ہوئی تو موکل مالک بنا جب یہ مالک ہی نہیں بنا تو یہ قریبی اس کا رشتہ دار آزاد بھی نہیں ہوا۔ وَيَثْبُتُ الْمِلْكُ لِلْمُوَكِّلِ ابْتِدَاءً وَمِلْكُ ثَابِتٍ وَمِلْكُ الْمِلْكِ لِلْمُوَكِّلِ ابْتِدَاءً فَلَا يَعْتِقُ قَرِيْبُ وَکِيْلٍ شَرَاهُ۔ یہ مولانا وَيَثْبُتُ الْمِلْكُ لِلْمُوَكِّلِ ابْتِدَاءً اور ملک ثابت ہو جائے گی موکل کے لیے ابتداء ہی سے فَلَا يَعْتِقُ قَرِيْبُ وَکِيْلٍ شَرَاهُ پس آزاد نہیں ہوگا وکیل کا ایسا قریبی رشتہ دار شَرَاهُ जिसको اس نے وکیل نے خریدا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ یہ صفت ہے قریب کی وکیل کا ایسا قریبی شَرَاهُ जिसको اس نے وکیل نے خریدا ہے وہ آزاد نہیں ہوگا۔ دیکھیے تفصیل بتلا رہے ہیں أَيِْ اشْتَرَى الْوَكِيلُ جب یعنی جب وکیل خریدے فَالْأَصَحُّ تو صحیح قول یہ ہے أَنْ يَثْبُتَ الْمِلْكُ لِلْمُوَكِّلِ ابْتِدَاءً کہ ملک ثابت ہوگی موکل کے لیے ابتداء ہی سے وَعِنْدَ بَعْضِ الْمَشَايِخِ اور بعض مشائخ کے نزدیک ہمارے یعنی ہمارے بعض فقہاء کے نزدیک بھئی يَثْبُتُ الْمِلْكُ أَوَّلًا لِلْوَكِيلِ کہ ملک اولاً کس کے لیے ثابت ہوگی؟ وکیل کے لیے۔ بھئی پہلا صحیح قول تو یہ گزرا کہ وکیل کے لیے ملک ثابت ہی نہیں، ابتدائی سے کس کے لیے ثابت؟ موکل کے لیے۔ اور بعض مشائخ فرماتے ہیں يَثْبُتُ الْمِلْكُ أَوَّلًا لِلْوَكِيلِ کہ ملک اولاً ثابت ہوگی وکیل کے لیے ثُمَّ يَنْتَقِلُ مِنْهُ إِلَى مُوَكِّلِهِ پھر اس وکیل سے منتقل ہو جائے گی کس کی طرف؟ موکل کی طرف۔ جو منتقل ہوگی اس سے اس کے وکیل کی طرف بھی سببین یہ متعلق ہے مولانا يَثْبُتُ سے۔ یہ ملک ثابت ہوگی کس کے لیے؟ اولاً کس کے لیے ثابت ہوگی؟ وکیل کے لیے کیوں ثابت ہوگی وکیل کے لیے؟ بِسَبَبِ عَقْدٍ يَجْرِي بَيْنَهُمَا بسَبب اس عقد کے جو جاری ہوا بَيْنَهُمَا اَیْ بَيْنَ الْوَكِيلِ وَصَاحِبِهِ وکیل اور اس کے ساتھی جس کے ساتھ وکیل نے عقد کیا بھئی۔ ان دونوں میں کیا جاری ہوا؟ عقد کرنے والا کون؟ یہ بعض مشائخ فرما رہے ہیں بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ ملک اولاً کس کو حاصل ہوگی؟ وکیل کیوں وکیل کو حاصل ہوگی؟ کہتے ہیں اسی کے عقد کرنے والا وکیل ہے تو پہلے ملک کس کو حاصل ہوگی؟ اس عقد کرنے والے کو اور پھر کس کو منتقل ہو جائے گی فوراً؟ موکل کو بھئی۔ وَحُقُوْقُ عَقْدٍ يُزِيْقُهُ إِلَى مُوَكِّلِهِ كَنِكَاحٍ وَخُلْعٍ وَصُلْحٍ وَدَمِ عَمَدٍ وَعِتْقٍ عَلَى مَالٍ وَکِتَابَةٍ وَهِبَةٍ وَتَصَدُّقٍ وَإِعَارَةٍ وَرَهْنٍ وَإِقْرَاضٍ۔ جِيْ۔ میں نے بتلایا تھا بھئی کچھ عقد ایسے ہوتے ہیں جن کی نسبت وکیل اپنی طرف کرتا ہے اور کچھ ایسے ہیں جن کی نسبت موکل کی طرف کرتا ہے۔ تو جی اب وہ دوسری قسم شروع ہوئی۔ وَحُقُوْقُ عَقْدٍ اور ایسے عقد کے حقوق يُزِيْقُهُ إِلَى مُوَكِّلِهِ جس کی نسبت کرتا ہے وکیل اپنے موکل کی طرف كَنِكَاحٍ جیسے نکاح ہے وَخُلْعٍ اور خلع ہے وَصُلْحٍ عَنْ إِنْكَارٍ اور صلح عن انکار ہے جِيْ۔ وَدَمِ عَمَدٍ اور دمِ عمد جان بوجھ کر قتل کرتا ہے وَعِتْقٍ عَلَى مَالٍ یا مال پر کیا کرتا ہے؟ غلام کو آزاد کرتا ہے وَکِتَابَةٍ اور کتابت ہے وَهِبَةٍ اور ہبہ ہے تحفہ وغیرہ دینا بھئی وَتَصَدُّقٍ صدقہ کرنا وَإِعَارَةٍ عاریتن استعمال کے لیے کسی کو چیز دینا وَإِدَاعٍ اور امانت رکھوانا کسی کے پاس وَرَهْنِنْ اور رہن رکھوانا بھئی وَإِقْرَاضٍ اور قرض دینا یہ مثالیں ذکر کر دیں بھئی۔ یہ وہ عقد ہیں جن میں جن کی نسبت وکیل اپنی طرف نہیں کرتا بلکہ کس کی طرف کرتا ہے؟ موکل کی طرف کرتا ہے۔ تو ان ایسے عقد کے حقوق تَتَعَلَّقُ بِالْمُوَكِّلِ لَا بِهِ ان کا تعلق کس سے ہوتا ہے؟ موکل سے ہوتا ہے حقوق کا تعلق لَا بِهِ اَيْ لَا بِالْوَكِيلِ وکیل کے ساتھ نہیں ہوتا بھئی یہ خبر ہے حُقُوْقُ عَقْدٍ کی تَتَعَلَّقُ بِالْمُوَكِّلِ یہ خبر ہے۔ جب موکل سے متعلق ہیں حقوق، لہذا فَلَا يُطَالَبُ وَكِيلُ الزَّوْوْجِ بِالْمَهْرِ خاوند کے وکیل سے مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ بھئی آپ نے ایک شخص کو وکیل بنا کر بھیجا کہ جاؤ میرا کیا کروا دو؟ نکاح کروا دو فلاں جگہ پر، وہ گیا اس نے آپ کی طرف سے عقد کر دیا، نکاح آپ کا کروا دیا کہ میں اپنے موکل جو فلاں ہے فلاں، فلاں ابن فلاں میں اس کا عقد کرتا ہوں۔ اب بھئی چونکہ عقد کی نسبت اس نے کس کی طرف کی؟ اپنی طرف یا موکل کی طرف؟ موکل کی طرف، لہذا حقوق کا تعلق بھی کس سے ہوگا؟ موکل کا۔ لہذا آپ یہاں پر مہر کا مطالبہ وکیل سے نہیں کیا جائے گا بلکہ کس سے کیا جائے گا؟ موکل یعنی خاوند سے۔ فَلَا يُطَالَبُ لہذا مطالبہ نہیں کیا جائے گا وکیل الزَّوْوْجِ بھئی شوہر کے وکیل سے بِالْمَهْرِ مہر کا وَلَا وَكِيلُ عُرْسٍ اور نہ ہی مطالبہ کیا جائے گا دلہن یا دلہن کے وکیل سے یا بیوی کے وکیل، دلہن کے وکیل سے بھئی بیوی کے معنی میں بھی دلہن کے معنی میں بھی آتا ہے بِتَسْلِيْمِهَا اس کے سپرد کرنے پر۔ بھئی ایک عورت نے ایک شخص کو اپنا وکیل بنایا کہ جاؤ فلاں شخص سے میرا نکاح کروا دو، اس نے جا کر نکاح کروا دیا۔ اب جس وہ جو زوج تھا وہ وکیل سے مطالبہ نہیں کر سکتا بھئی کہ اب دلہن کو کیا کرو؟ میرے میری منکوحہ کو میرے حوالے کرو، وکیل سے مطالبہ نہیں کر سکتا کیونکہ یہاں پر حقوق عقد کا تعلق وکیل سے نہیں ہے بلکہ موکلہ سے ہے۔ وَفَلَا وَكِيلُ عُرْسٍ بِتَسْلِيْمِهَا اور مطالبہ نہیں کیا جائے گا دلہن کے وکیل سے اس کے سپرد کرنے کا وَلَا بِبَدَلِ الْخُلْعِ اور اسی طرح مطالبہ نہیں کیا جائے گا وکیل سے بدلہ خلع کا۔ بھئی ایک عورت نے کیا کیا؟ ایک شخص کو وکیل بنا کر بھیجا جاؤ بھئی فلاں شخص میرا خاوند ہے اس سے خلع کروا دو میرا بھئی اتنے مال کے بدلے۔ سمجھ میں آیا خلع ہو گیا بھئی۔ اب خلع میں کیا ہوتا ہے عورت کو وہ خلع کس کے حکم میں ہے؟ طلاقِ بائن کے حکم میں اور مال ذکر ہوتا ہے اس میں بھئی مال دینا پڑتا ہے عورت مال دے کر اپنے آپ کو چھڑواتی ہے تو وہ مال اب اس عورت پر لازم ہے، لیکن اس مال وہ جو بدلے خلع ہے اس کا مطالبہ وکیل سے نہیں ہوگا بلکہ کس سے کیا جائے گا؟ موکلہ یعنی عورت سے بھئی۔ یہ معنی ہے مطالبہ نہیں کیا جائے گا وکیلِ عِرْس سے دلہن کے وکیل یا بیوی کے وکیل سے مطالبہ نہیں کیا جائے گا بِبَدَلِ الْخُلْعِ کس کا؟ بدلے خلع کا۔ وَالْمُشْتَرِي مَنْعُ الثَّمَنِ مِنْ مُوَكِّلِ بَائِعِهِ مولانا بَائِعِهِ یہاں ی لکھی ہے یا نہیں ہونی چاہیے ہمزہ ہونی چاہیے بھئی۔ بَائِعٍ سمجھ میں آیا۔ اسی طرح فَإِذَا دَفَعَ إِلَيْهِ صَحَّ وَلَمْ يُطَالِبْهُ بَائِعُهُ تو یہاں بھی بَائِعْ یا کے نقطے ہیں یہ کتابت کی غلطی ہے اوپر ہمزہ ہونی چاہیے نقطے نیچے نہیں آنے چاہیے بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی۔ آپ نے میں نے آپ کو وکیل بنا کر بھیجا۔ میں نے آپ کو وکیل بنا کر بھیجا کہ جاؤ میری یہ گاڑی فروخت کر کے آؤ۔ آپ گئے آپ نے گاڑی زید کے ہاتھ فروخت کر دی بھئی۔ گاڑی فروخت آپ کی ہے عقد کرنے والے آپ، میں درمیان میں پہنچ کے بھئی زید کو کہتا ہوں لاؤ بھئی پیسے مجھے دے دو گاڑی کے۔ تو اب زید کا عقد کس سے ہوا ہے؟ وکیل بالشراء، وکیل بالبيع سے ہوا ہے بھئی۔ اس کا عقد وکیل سے ہوا ہے تو وہ موکل عقد سے اجنبی ہے، تو وہ موکل کو انکار کر سکتا ہے کہ تم کون ہو، پیسے مانگنے والے بھئی میرا عقد تو کس سے ہوا ہے؟ فلاں شخص سے ہوا ہے جو آپ کا وکیل ہے، میں اسی کو پیسے دوں گا۔ تو اس کو منع کرنے کا حق ہے مشتری کیا کر سکتا ہے؟ انکار، موکل کو انکار لیکن اگر وہ موکل کو دے دیتا ہے، یہ لیجیے اپنی گاڑی کے پیسے آپ رکھ لیجیے۔ اب وکیل جا کر مطالبہ کرتا ہے لاؤ بھئی گاڑی کے پیسے دو، نہیں بھئی اب وکیل مطالبہ کیونکہ حقدار کو حق پہنچ گیا، وکیل نے بھی پیسے لے کر کس کو دینے تھے؟ موکل کو، مشتری نے براہِ راست کس کے حوالے کر دیے سمن؟ موکل کے حوالے کر دیے تو اب وکیل اس سے دوبارہ مطالبہ نہیں کر سکتا۔ یہ معنی ہے وَلِلْمُشْتَرِي اور مشتری کے لیے جائز ہے مَنْعُ الثَّمَنِ سمن کو روکنے روکنا مِنْ مُوَكِّلِ بَائِعِهِ اپنے بائع کے موکل بائع کون تھا؟ وکیل تھا۔ کون تھا؟ اپنے بائع یعنی بائع کے موکل سے سمن کو روکنے کا حق ہے فَإِذَا دَفَعَ إِلَيْهِ صَحَّ اگر حوالے کر دیے اس کے موکل کے صَحَّ تو یہ ادائیگی صحیح ہے وَلَمْ يُطَالِبْهُ بَائِعُهُ اور مطالبہ نہیں کر سکتا اس کا بائع اس سے ثانیاً بھئی، دوبارہ۔ یعنی وکیل اس سے دوبارہ مطالبہ نہیں کر سکتا۔ أَعْلَمْ أَنَّ فِي بَعْضِ هَذِهِ الْأَمْثِلَةِ نَظَرًا فِي أَنَّهَا يُضَافُ إِلَى الْوَكِيلِ أَوِ الْمُوَكِّلِ یہاں سے علامہ صدر الشریعہ اعتراض کریں گے ماتن پر بھئی۔ اعتراض کا heapq خلاصہ اعتراض سمجھ لیں ابھی بھئی۔ بھئی ماتن نے دو باتیں ذکر کیں ایک تو بتلایا کچھ ایسے حقوق کچھ ایسے عقد ہیں جن کا جن کی نسبت وکیل کس کی طرف کرتا ہے؟ اپنی طرف کرتا ہے اور اس میں صلح عن اقرار کو بھی ذکر کیا۔ کچھ ایسے عقد ہیں جن کی نسبت وکیل کس کی طرف کرتا ہے؟ اپنی طرف کرتا ہے اور انہی عقود کے اندر ماتن نے کس کو شمار کیا؟ صلح عن اقرار کو۔ اور آگے جا کر بتلایا ماتن نے کچھ عقود ایسے ہیں جن کی نسبت وکیل کس کی طرف کرتا ہے؟ اپنے موکل کی طرف کرتا ہے اور اس میں اس نے ماتن نے انہوں نے کیا گنواایا بھئی؟ صلح عن انکار کو گنواایا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور یہ بھی ماتن نے بتلایا بھئی آپ کو کہ جن عقود کی نسبت وکیل اپنی طرف کرتا ہے، اس کے حقوق کا تعلق بھی کس سے ہوتا ہے؟ وکیل سے اور جن عقود کی نسبت وکیل موکل کی طرف کرتا ہے، ان کے حقوق کا تعلق بھی کس سے ہوتا ہے؟ موکل سے ہوتا ہے۔ تو علامہ صدر الشریعہ ماتن پر اعتراض کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں بھئی یہ جو آپ نے کہا کہ جن عقود کی نسبت بھئی کہ یہ جو آپ نے کہا بھئی کہ صلح عن اقرار ان عقود میں سے ہے جن کے حقوق کا تعلق کس سے ہے؟ وکیل سے ہے یہ تو ہمیں تسلیم ہے کہ صلح عن اقرار کے حقوق کا تعلق کس سے ہوتا ہے؟ وکیل سے ہوتا ہے۔ اور یہ بات بھی ہمیں تسلیم ہے کہ صلح عن انکار جو ہے اس کے حقوق کا تعلق کس سے ہوتا ہے؟ موکل سے ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات ہمیں تسلیم نہیں ہے کہ صلح عن اقرار میں وکیل اپنی طرف نسبت کرے گا، صلح عن اقرار میں اور صلح عن انکار میں کس کی طرف نسبت کرے گا؟ موکل کی طرف نسبت کرے گا۔ یہ ہمیں قبول نہیں۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ ساری بات ہمیں آپ کی قبول ہے، صرف کیا بات قبول نہیں؟ کہ صلح عن اقرار میں نسبت وکیل کس کی طرف کرتا ہے؟ اپنی طرف اور صلح عن انکار میں وکیل نسبت کس کی طرف کرتا ہے؟ موکل کی طرف۔ کہتے ہیں نہیں بھئی یہ بات درست ہمیں قبول نہیں۔ دیکھیے تو صرف نسبت میں اختلاف کیا، باقی بات اسی طرح ہے بھئی۔ حقوق کا تعلق صلح عن انکار میں وکیل سے ہی ہوتا ہے اور صلح عن انکار میں موکل سے ہی ہوتا ہے۔ اعْلَمْ جان لو أَنَّ فِي بَعْضِ هَذِهِ الْأَمْثِلَةِ نَظَرًا یہ نظراً میں نے کیوں پڑھا مولانا؟ شاباش! یہ انّ کا کیا ہے؟ اسمِ مؤخر ہے۔ انّ کے بعد جار مجرور آجائے یا انّ کے بعد تو وہ خبرِ مقدم ہوتی ہے اور آگے پھر اس کا اسمِ مؤخر آتا ہے وہ منسوب ہوتا ہے۔ جان لیکن بعض مثالوں کے اندر نظر ہے فِیْ أَنَّهَا يُضَافُ إِلَى الْوَكِيلِ أَوِ الْمُوَكِّلِ اس بات کے اندر کہ ان کی نسبت کی وکیل کی طرف کی جائے گی یا موکل کی طرف۔ وَأَمَّا الْبَيْعُ وَالْإِجَارَةُ فَلَا شَكَّ أَنَّهُمَا مُسْتَغْنِيَانِ عَنْ ذِكْرِ الْمُوَكِّلِ تو بیع اور اجارہ جو ہیں فَلَا شَكَّ کوئی شک نہیں کہ أَنَّهُمَا یہ دونوں جو ہیں مُسْتَغْنِيَانِ یہ کیا ہیں؟ بے پروا ہیں عَنْ ذِكْرِ الْمُوَكِّلِ موکل کے بیع اجارہ کے اندر موکل کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں فَهُوَ مِنَ الْقِسْمِ الْأَوْلِ تو یہ کس میں سے ہیں؟ قسم جیسے کہ ماتن نے بیان کیا۔ وَالنِّكَاحُ وَالْخُلْعُ لَا يَسْتَغْنِيَانِ عَنْهُ اور جبکہ نکاح اور خلع یہ موکل کے ذکر سے بے پروا نہیں۔ ان میں موکل کا بھی ذکر کرنا پڑتا ہے فَهُومَا مِنَ الْقِسْمِ الثَّانِي تو یہ دونوں کس میں سے ہوئے؟ قسم تو اور موکل نے بھی کس میں ذکر کیا؟ قسم یہ بات تو ہمیں تسلیم ہے۔ وَأَمَّا الصُّلْحُ باقی صلح جو ہے فَلَا فَرْقَ فِيْهِ بين أن يكون عن إقرار أو إنكار فِیْ الْإِضَافَةِ تو یہ کوئی فرق نہیں ہے اس میں کہ وہ اقرار سے ہو یا انکار سے ہو فِیْ الْإِضَافَةِ اضافے کے اندر۔ اس میں اضافے کے اندر اقرار سے ہو تو وکیل کی اپنی طرف کرے گا، انکار سے ہو تو وکیل کس کی طرف کرے گا؟ یہ بات ہمیں تسلیم نہیں بلکہ صلح چاہے اقرار سے ہو چاہے انکار سے ہو ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ دیکھیے فَإِنَّ زَيْدًا اس لیے کہ کیونکہ زید نے اِذَا دَعَا دَارًا عَلَى أَمْرٍ جب اس نے دعویٰ کر دیے کسی گھر کا امر پر زید نے امر کے پاس ایک گھر تھا، زید نے دعویٰ کیا کہ یہ میرا گھر ہے فَوَكَّلَ عَمْرُو وکیلاً تو امر نے کیا کیا؟ ایک وکیل بنایا عَلَى أَنْ يُصَالِحَ بالْمِئَةِ اس شرط کرکے کہ وہ صلح کر لے کتنے کے بدلے؟ سو کے بدلے فَيَقُولُ زید تو دعویٰ کرنے والا زید تھا نا، اب اس سے صلح ہو رہی ہے زید یوں کہتا ہے فَيَقُولُ زيدن زید کہتا ہے صلحْتُ عَنْ دَعْوَ الدَّارِ عَلَى أَمْرٍ میں صلح کرتا ہوں اس گھر پر دعوے سے عَلَى أَمْرٍ جو کس کے خلاف تھا، کس پر تھا بھئی؟ دعویٰ کس پر تھا؟ امر کے خلاف تھا، تو اس پر میں صلح کرتا ہوں بِالْمِئَةِ کتنے کے بدلے؟ سو کے بدلے۔ وَيَقْبَلُ الْوَكِيلُ اور وکیل کیا کر لیتا ہے؟ وکیل قبول کر رہا ہے۔ وَيَقْبَلُ الْوَكِيلُ هَذَا الصُّلْحَ اور وکیل اس صلح کو کیا کر لیتا ہے؟ وکیل کہتا ہے میں نے قبول کیا بس۔ وکیل نے یہ نہیں کہا میں نے امر کی طرف سے قبول کیا۔ صلح کے لیے بھیجا کس نے تھا وکیل کو؟ امر نے۔ لیکن وکیل یہ نہیں کہتا وکیل صرف یہ کہتا ہے میں نے قبول کیا، یہ نہیں کہتا میں نے کس کی طرف سے قبول کیا؟ امر کی طرف سے قبول کیا یا میں نے امر کے لیے قبول کیا وکیل یہ نہیں کہہ رہا، نسبت نہیں کر رہا، پھر بھی یَتِمُّ الصُّلْحُ یہ صلح کیا ہو جائے گی؟ تام ہو جائے گی سواءً كان عن إقرار أو إنكار چاہے صلح عن إقرار ہو یا صلح عن انکار ہو۔ تو اس میں کوئی فرق نہیں ہے نسبت کرے یا نسبت نہ کرے الاَّ مگر یہ بات ہے۔ اب وہی بات بیان کرنے لگے ہیں کہ اگر صلح عن اقرار ہو تو یہ کس میں سے ہو جائے گی؟ قسمِ اول میں سے اور صلح عن انکار ہو تو یہ کس میں سے ہو جائے گی؟ اس میں اختلاف نہیں ہے بھئی۔ تو کیسے ہوگی قسمِ اول میں اور کس میں ثانی میں یہ بتلانے لگے ہیں۔ اِلاَّ أَنَّهُ إِذَا كَانَ عَنْ إِقْرَارٍ مگر یہ کہ جب وہ صلح عن اقرار ہو يَكُوْنُ كَالْبَيْعِ تو یہ صلح کس کی طرح ہوئی؟ بھئی دیکھو زید نے میرے اوپر دعویٰ کر دیا کہ یہ گاڑی میری ہے، میں نے ایک وکیل کو بھیجا۔ وکیل کو چھوڑو، فلحال ویسے صلح عن اقرار بَیْع کے حکم میں ہوتی ہے یہ سمجھو۔ زید نے میرے اوپر دعویٰ کر دیا یہ گاڑی میری ہے، میں نے کہا ٹھیک ہے آپ کی بات یہ گاڑی واقعاً آپ کی ہے، لیکن یہ لو دو چار پانچ لاکھ روپے لے لو اور گاڑی کے دعوے سے دستبردار ہو جاؤ۔ تو دیکھو میں نے اقرار کیا یا نہیں کہ گاڑی اس کی ہے؟ تو گاڑی اس کی لے لی اس میرے قبضے میں ہی ہے، اور میں نے اس کو اس کے بدلے میں کیا دے دیے؟ پیسے دے دیے، تو یہ کس کے حکم میں ہوئی؟ بَیْع کے حکم میں۔ یہی بات کر رہے ہیں۔ اِلاَّ أَنَّهُ إِذَا كَانَ عَنْ إِقْرَارٍ صلح عن اقرار جب ہو يَكُوْنُ كَالْبَيْعِ تو وہ بَیْع کی طرح ہوگی فَيَرْجِعُ الْحُقُوْقُ إِلَى الْوَكِيلِ اور بَیْع کے اندر حقوق کا تعلق کس سے ہوتا تھا؟ وکیل سے، تو یہاں بھی حقوق لوٹیں گے وکیل کی طرف كما فِي الْبَيْعِ جیسے بَیْع کے اندر ہوتے ہیں فَتَسْلِيْمُ وَبَدَلُ الصُّلْحِ عَلَى الْوَكِيلِ تو بدلے صلح کو سپرد کرنا یہ کس پر ہوگا؟ عقد کرنے والا کون؟ وکیل تو مطالبہ بھی صلح کے بدلے جو پیسے ہیں ان کا مطالبہ بھی کس سے کیا جائے گا؟ وکیل سے جی یہ معنی ہے تو فَتَسْلِيْمُ سپرد کرنا اس بدلے صلح کو یہ وکیل پر ہوگا وَإِذَا كَانَ عَنْ إِنْكَارٍ اور جب صلح کس سے ہو؟ انکار سے ہو فَھُوَ فِدَاءُ يَمِيْنٍ بھئی تو یہ قسم کا فدیہ دینا ہے۔ دیکھیے بھئی ایک آدمی نے میرے اوپر دعویٰ کر دیا یہ گاڑی میری ہے، میرے پاس گاڑی تھی اس نے کیا دعویٰ کیا؟ یہ گاڑی میری ہے، میں نے کہا نہیں بھئی یہ گاڑی آپ کی نہیں۔ یہ گاڑی میری اپنی ہے۔ ہاں چلو یہ لو پانچ لاکھ روپے لے لو اور اپنے دعوے کو چھوڑ دو۔ یہ تو صلح میں نے کس پر کی ہے؟ انکار پر کی ہے کس پر؟ انکار پر کی ہے۔ یاد رکھو صلح عن انکار جو ہے یہ فداءِ یمین کے حکم میں ہے یعنی میں اپنی قسم کا فدیہ دے رہا ہوں۔ کیا دے رہا ہوں؟ اس لیے کہ معزز آدمی قسم کھانا چاہے سچی ہی کیوں نہ ہو، وہ قسم کھانا پسند نہیں کرتا۔ اب اگر میں انکار کروں گا، یہ گاڑی آپ کی نہیں ہے، وہ دعویٰ کر رہا ہے، یہ گاڑی میری ہے، وہ مجھے کہاں لے کر جائے گا؟ قاضی کے پاس لے کر جائے گا اور قاضی کے پاس جا کر وہ اپنے دعوے پر کیا پیش کرے گا؟ گواہ۔ اگر اس کے پاس گواہ نہ ہوئے تو مجھے کیا کر کھانی پڑے گی؟ قسم کھانی پڑے گی، تو میں اپنی قسم سے بچنے کے لیے یہیں پر اس کو کیا دے دیتا ہوں؟ پیسے دے دیتا ہوں، تو یہ فدائے یمین کے ہے بھئی۔ کیا ہے؟ تو امام صاحب کے نزدیک یہ جو صلح عن انکار میں پیسے دیتا ہے، یہ دراصل اپنی قسم کا فدیہ دے رہا ہے۔ تو یہ صلح عن انکار جب ہے فِدَاءُ يَمِيْنٍ تو یہ کیا ہے قسم کا فدیہ ہے فِیْ حَقِّ الْمُدَّعِي عَلَيْهِ کس کے حق میں؟ مدعی علیہ (یعنی میرے حق میں، میں اپنی قسم مجھ پر دعویٰ کیا گیا ہے نا، میں مدعی علیہ ہوں) تو یہ میں اپنے میرے حق میں یہ قسم کا فدیہ ہے۔ فَالْوَكِيلُ سَفِيْرٌ مَحْضٌ تو یہ صلح عن انکار میں وکیل صرف کیا ہے؟ میں اپنی قسم کا فدیہ دے رہا ہوں، یہ کوئی بیع و شِرا والا معاملہ تو تو میں صرف اپنے قسم کا فدیہ دینا چاہتا ہوں، فدیے کے لیے میں نے پیسے وکیل کو دیے، جا کر یہ پیسے اس کو دے دو۔ تو وکیل محض سفیر ہوا۔ فَالْوَكِيلُ سَفِيْرٌ مَحْضٌ تو وکیل سفیرِ محض ہے فَلَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ الْحُقُوْقُ تو لہذا حقوق اس کی طرف نہیں لوٹیں گے۔ معلوم ہوا صلح عن انکار میں حقوق وکیل کی طرف نہیں لوٹتے اور ماتن نے بھی کیا ذکر کیا تھا کہ صلح عن انکار میں حقوق وکیل کی طرف نہیں لوٹتے اور صُلْحاً عَنِ الْإِقْرَارِ کے اندر ماتن نے کیا ذکر کیا تھا؟ حقوق کس کی طرف لوٹتے ہیں؟ وکیل کی طرف اور یہاں شارح وقایہ بھی کیا فرما رہے ہیں؟ کس کی طرف لوٹتے ہیں؟ کیونکہ یہ بَیْع کے حکم میں ہے تو خلاصه اعتراض یہ ہوا کہ اشکال اور اعتراض صرف کس چیز میں ہے؟ نسبت میں ہے، کہ آپ نے کہا صلح عن اقرار میں نسبت وکیل کس کی طرف کرتا ہے؟ اپنی طرف کرے گا اور صلح عن انکار میں نسبت کس کی طرف کرے گا؟ موکل کی طرف کرے گا۔ یہ بات ہمیں تسلیم نہیں ہے، جیسے ہم نے مثال بھی ذکر کر دی بغیر اس نسبت کیے ہی صلح کیا ہو گئی تھی؟ تام ہو گئی تھی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ چلیے مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلامِ
108 approved lectures · 85 of 108