Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-077

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 18 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 32
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَلَوْ شَهِدَا بِأَلْفٍ أَوْ بِقَرْضِ أَلْفٍ وَزَادَ أَحَدُهُمَا قَضَى كَذَا كَذَا، قُبِلَتْ لِأَلْفٍ وَبِقَرْضِ أَلْفٍ وَرُدَّ قَوْلُهُ قَضَى كَذَا كَذَا؛ لِأَنَّ شَهَادَةَ الْفَرْدِ غَيْرُ مَقْبُولَةٍ۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی! ایک شخص نے دوسرے پر ہزار درہم کا دعویٰ کیا کہ اس نے میرے ہزار درہم، میرا اس پر دین ہے یا میرا ہزار درہم اس پر قرض ہے بھئی! اور دو گواہ بھی لے کر آیا قاضی کے پاس بھئی۔ اب قاضی کے پاس ایک گواہ نے تو یہ کہا کہ اس نے اس کا کتنا دین دینا ہے؟ ایک ہزار دین ہے اس پر یا ایک ہزار قرض ہے۔ دوسرے گواہ نے بھی یہی گواہی دی کہ اس نے اس کا ایک ہزار دینا ہے دین، لیکن ساتھ تھوڑا سا اضافہ کر دیا۔ کیا کہا؟ کہ اس نے اس کا ایک ہزار درہم اس پر دین ہے یا اس پر اس نے اس سے ایک ہزار درہم بطورِ قرض کے لیے تھے، اور اس میں سے 500 درہم یہ ادا کر چکا ہے۔ تو ایک گواہ نے کس چیز کا اضافہ کر دیا؟ کہ 500 یہ کیا کر چکا ہے؟ ادا کر چکا ہے۔ کہتے ہیں بھئی! ایک ہزار درہم پر فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ جو اس نے ادائیگی والا قول کیا ایک گواہ نے، اس کو رد کر دیا جائے گا۔ کیوں رد کیا جائے گا؟ وجہ یہ کہ ایک ہزار اس پر دین ہے، اس پہ دونوں گواہ متفق ہیں۔ تو دو گواہیاں آ گئیں دعوے پر، تو دعویٰ کیا ہوا؟ اس پر فیصلہ، دعویٰ صحیح، اس پر فیصلہ ہو گیا۔ اور جو ادائیگی کی بات کی، کتنے گواہوں نے کی؟ ایک نے، اور کیا ایک کی وجہ سے اس پر فیصلہ ہو سکتا ہے؟ ایک گواہی کسی مسئلے میں قبول نہیں۔ وَلَوْ شَهِدَا بِأَلْفٍ، اگر دو گواہوں نے گواہی دی ایک ہزار کی، أَوْ بِقَرْضِ أَلْفٍ، یا ایک ہزار قرض کی، وَزَادَ أَحَدُهُمَا، اور دونوں گواہوں میں سے ایک نے بڑھا دیے یہ الفاظ: قَضَى كَذَا كَذَا، کہ اس نے ادا کر دیے ہیں، مدعی علیہ نے ادا کر دیے ہیں کذا اتنے درہم بھئی! اتنے درہم، يَقْضِي كَذَا، اتنے درہم کیا کر دیے گئے ہیں؟ ادا کر دیے گئے ہیں۔ قُبِلَتْ بِأَلْفٍ، تو اس کی گواہی قبول کی، دونوں گواہی کو قبول کیا جائے گا بِأَلْفٍ، کتنے پر؟ ایک ہزار پر، وَبِقَرْضِ أَلْفٍ، اور ایک ہزار قرض پر قبول کیا جائے گا۔ وَرُدَّ قَوْلُهُ قَضَى كَذَا كَذَا، اور ایک گواہ کے اس قول کو رد کر دیا جائے گا کہ اتنے یہ کیا کر چکا ہے؟ ادا۔ کیوں؟ لِأَنَّ شَهَادَةَ الْفَرْدِ غَيْرُ مَقْبُولَةٍ، اس لیے کہ ایک فرد کی گواہی جو ہے وہ مقبول نہیں ہے، إِلَّا إِذَا شَهِدَ مَعَهُ آخَرُ، مگر یہ کہ دوسرا بھی اس کے ساتھ گواہی دے دے، دوسرا بھی کہے کیا کر چکا ہے یہ بھئی؟ 500 ادا کر چکا ہے۔ وَلَا يَشْهَدُ مَنْ عَلِمَهُ حَتَّى يُقِرَّ الْمُدَّعِي عِنْدَ النَّاسِ بِمَا قَبَضَ۔ کہتے ہیں بھئی دیکھو! اب دو گواہ لے کر آئے بھئی، مدعی لے کر آیا۔ ایک گواہ نے کیا گواہی دی کہ اس نے کتنا دینا ہے اس کا؟ ایک ہزار، اور دوسرے نے بھی کہا: ایک ہزار اس سے بطورِ قرض وغیرہ کے تو لیے تھے، لیکن کتنے ادا کر چکا ہے؟ 500۔ کہتے ہیں: اس دوسرے گواہ کو گواہی نہیں دینی چاہیے۔ اس دوسرے گواہ کو اس کو جب پتا ہے کہ 500 کی ادائیگی ہو چکی ہے، تو اس کو گواہی نہیں دینی چاہیے بھئی! جب تک کہ مدعی لوگوں کے سامنے آ کر اقرار نہ کر لے کہ یہ مجھے کیا کر چکا ہے؟ 500 روپے ادا کر چکا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اب حالانکہ دیکھو! وہ گواہ جانتا تھا کہ یہ کیا کر چکا ہے مدعی علیہ اس کو 500 روپے، 500 درہم ادا کر چکا ہے، لیکن پھر بھی فیصلہ کتنے پر ہوا؟ ہزار پر، تو مدعی علیہ بیچارے کو نقصان اٹھانا پڑا یا نہیں اٹھانا پڑا؟ کس کی وجہ سے اٹھانا پڑا؟ اس کی گواہی کی وجہ سے۔ اگر یہ گواہی نہ دیتا تو اس پر ہزار ثابت ہوتے؟ نہیں بھئی! اس کی گواہی کی وجہ سے ہزار ثابت ہو گئے۔ لہٰذا جب اس کو پتا ہے کہ 500 روپے ادا ہو چکے ہیں، تو اس کو کیا کرنا چاہیے؟ مدعی کو کہنا چاہیے: میں گواہی دینے تب جاؤں گا جب تم لوگوں کے سامنے کیا کر لو گے؟ اقرار کر لو گے کہ تمہیں وہ 500 روپے ادا کر چکا ہے۔ اب تو مولانا! اقرار پر کئی گواہ بن جائیں گے، لہٰذا اب وہ مکر نہیں سکتا۔ وہ کسی بھی وقت جا کر گواہی دے، وہ گواہ بن گئے۔ تو اب 500 ہی پر پھر فیصلہ ہوگا، دو گواہ آ جائیں گے اقرار پر اور 500 پر فیصلہ ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہیں: وَلَا يَشْهَدُ، گواہی نہیں دینی چاہیے، مَنْ، اس شخص کو، گواہی نہ دے وہ شخص عَالِمُهُ، جو اس بات کو، اس ادائیگی کو جانتا ہے، حَتَّى يُقِرَّ الْمُدَّعِي عِنْدَ النَّاسِ، یہاں تک کہ مدعی اقرار کر لے لوگوں کے پاس، لوگوں کے سامنے، بِمَا قَبَضَ، اس مال کا جس پر اس نے قبضہ کیا ہے۔ أَيْ يَجِبُ عَلَى الَّذِي يَعْلَمُ قَضَاءَ الْبَعْضِ، واجب ہے اس شخص پر جو جانتا ہے بعض کی ادائیگی کو، أَنْ لَا يَشْهَدَ، کہ واجب کیا ہے؟ کہ وہ گواہی نہ دے، حَتَّى يُقِرَّ الْمُدَّعِي عِنْدَ النَّاسِ بِمَا قَبَضَ، یہاں تک کہ مدعی لوگوں کے سامنے اقرار کر لے اس چیز کا جس پر اس نے قبضہ کیا ہے، لِأَلَّا يَتَضَرَّرَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، تاکہ ضرر نہ اٹھائے مدعی علیہ بھئی! ورنہ تو کیا اٹھائے گا مدعی علیہ؟ ضرر۔ مسئلہ بھی سمجھ آ رہا ہے بھئی؟ وَذَكَرَ الطَّحَاوِيُّ عَنْ أَصْحَابِنَا أَنَّ شَهَادَتَهُ لَا تُقْبَلُ، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ۔ اور امام طحاوی ذکر فرماتے ہیں عَنْ أَصْحَابِنَا ہمارے فقہاء سے کہ أَنَّ شَهَادَتَهُ لَا تُقْبَلُ کہ اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ اور یہی قول ہے کس کا؟ امام زفر کا۔ بھئی کیوں؟ اس کی گواہی کو کیوں نہیں قبول کرنا چاہیے؟ کہتے ہیں بھئی! جس نے بعض کی ادائیگی کی گواہی دی ہے نا، اس کی گواہی کو تو سرے سے قبول ہی نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں نہیں کرنا چاہیے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمُدَّعِيَ يُكَذِّبُ شَاهِدَ قَضَاءِ الْبَعْضِ، اس لیے کہ مدعی خود تکذیب کر رہا ہے اس گواہ کی جو قضاءِ بعض کی گواہی دے رہا ہے۔ بعض کی ادائیگی کا جو شاہد ہے، مدعی خود کیا کر رہا ہے اس کی؟ بھئی مدعی نے کیا دعویٰ کیا؟ کہ اس نے میرا ہزار دینا ہے۔ اس نے کہا کہ 500 مجھے ادا کر چکا ہے؟ نہیں، اور گواہ کیا کہہ رہا ہے؟ 500 روپیہ یہ ادا کر چکا ہے۔ تو مدعی خود کیا کر رہا ہے؟ اپنے ایک گواہ کو جھٹلا رہا ہے۔ جب اس کو جھٹلا رہا ہے، تو اس کی گواہی کو قبول ہی نہیں ہونا چاہیے۔ قُلْنَا، لیکن ہم کہتے ہیں: نہیں بھئی! قبول کر لیں گے بھئی۔ کیوں؟ کہتے ہیں: قُلْنَا، کیوں؟ الْإِكْذَابُ فِي غَيْرِ الْمَشْهُودِ بِهِ لَا يَمْنَعُ الْقَبُولَ، اس لیے کہ یہ جو جھٹلا رہا ہے، ٹھیک ہے ہمیں آپ کی بات قبول ہے کہ یہ مدعی کیا کر رہا ہے؟ کس کو جھٹلا رہا ہے؟ اس گواہ کو جس نے کیا کہا تھا؟ بعض کی ادائیگی کا ذکر کیا ہے۔ کہتے ہیں بھئی دیکھو! دعوے کے اندر نہیں جھٹلا رہا، دعویٰ اس کا کیا تھا مدعی کا؟ کہ اس پر میرا کتنا دین ہے، کتنا قرض ہے؟ ایک ہزار، اور اس گواہ نے بھی کتنا کہا کہ اس نے کتنا قرض لیا تھا؟ ایک ہزار، تو اس دعوے میں تو نہیں جھٹلا رہا۔ کس میں جھٹلا رہا ہے؟ ادائیگی میں، اور اس نے ادائیگی کا کوئی دعویٰ کیا ہے؟ دعوے میں ادائیگی کا ذکر نہیں، تو وہ مشہود بہٖ جس چیز کی وہ گواہی دے رہا ہے، اس میں نہیں جھٹلا رہا، کس میں جھٹلا رہا ہے؟ غیرِ مشہود بہٖ میں۔ دعویٰ جس کے لیے گواہی دی جا رہی ہے، وہ مشہود بہٖ ہوا بھئی! تو اس مشہود بہٖ میں نہیں جھٹلا رہا، بلکہ کس میں جھٹلا رہا ہے؟ غیرِ مشہود بہٖ میں، اور غیرِ مشہود بہٖ میں جھٹلا بھی دیا تو کوئی حرج نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ قُلْنَا، ہم جواب دیتے ہیں: الْإِكْذَابُ فِي غَيْرِ الْمَشْهُودِ بِهِ، غیرِ مشہود بہٖ کے اندر جھٹلانا، لَا يَمْنَعُ الْقَبُولَ، یہ قبولیت کو مانع، اس کو روکتا نہیں بھئی۔ وَلَوْ شَهِدَا بِقَتْلِ زَيْدٍ يَوْمَ كَذَا بِمَكَّةَ وَآخَرَانِ بِقَتْلِهِ فِيهِ بِكُوفَةَ رُدَّتَا۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی! دو آدمیوں نے بھئی، کوئی کسی مسئلے کے اندر آ کر قاضی کے سامنے گواہی دی کہ زید کو فلاں دن، 25 جنوری کو مثلاً بھئی، مکہ میں قتل کیا گیا تھا۔ دو اور گواہ آئے، انہوں نے کہا: 25 جنوری کو زید کو کوفہ میں قتل کیا گیا تھا۔ کہتے ہیں: دونوں گواہیاں رد کر دی جائیں گی۔ کیونکہ ایک ہی فعل، یہ فعل جو ایسا ہے جو دو جگہ پر نہیں ہو سکتا۔ یا تو زید کوفہ میں قتل ہوا ہوگا یا مکہ میں۔ اور دونوں، تو دو دو گواہ ہیں، دونوں میں سے کسی ایک کو بھی اب ہم ترجیح نہیں دے سکتے، تو دونوں کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد کر دیا جائے گا۔ لیکن اگر قاضی کے پاس ایک گواہی پہلے آ گئی اور قاضی نے اس پر فیصلہ بھی کر دیا۔ اس کے بعد اگر اب دوسری گواہی آئی، پہلی گواہی نے کیا کہا تھا؟ زید 25 جنوری کو کہاں قتل ہوا؟ مکہ میں، قاضی نے فیصلہ کر دیا اس پر بھئی۔ پھر دوسری گواہی والے بعد میں آئے، دو چار دن بعد دو اور گواہ آ گئے: بھئی زید تو 25 جنوری کو کہاں قتل ہوا؟ کوفہ میں۔ بھئی اب تو پہلی گواہی پر فیصلہ ہو چکا۔ جب فیصلہ ہوا، تو وہ گواہی ترجیح پا گئی، جب ترجیح پا گئی، تو اب اس گواہی کی وجہ سے اس فیصلے کو توڑا نہیں جائے گا۔ وَلَوْ شَهِدَا، اگر گواہی دی دو گواہوں نے، بِقَتْلِ زَيْدٍ، زید کے قتل کرنے کی، يَوْمَ كَذَا، فلاں دن کے اندر مثلاً بھئی، بِمَكَّةَ، کہاں پر بھئی؟ مکہ میں، وَآخَرَانِ، اور دو دوسرے گواہوں نے گواہی دی، بِقَتْلِهِ، زید کے قتل ہونے کی بھئی، فِيهِ، اسی دن کے اندر، بِكُوفَةَ، کہاں پر بھئی؟ کوفہ میں، رُدَّتَا، دونوں گواہیاں کیا کی جائیں گی؟ رد کی جائیں گی۔ أَيْ شَهِدَا بِقَتْلِ زَيْدٍ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ بِكُوفَةَ، دیکھو تفسیر اسی کی کر رہے ہیں جو متن میں آیا۔ گواہی دی دو گواہوں نے زید کے قتل ہونے کی اسی دن کے اندر بھئی کوفہ کے اندر، فَتُرَدُّ الْبَيِّنَتَانِ، دونوں بینہ کو رد کر دیا جائے گا، لِأَنَّ إِحْدَاهُمَا كَاذِبَةٌ بِيَقِينٍ، اس لیے کہ دونوں میں سے ایک تو یقیناً یقیناً کیا ہے؟ جھوٹی ہے بھئی۔ ایک جگہ دونوں، دونوں جگہ یہ فعل ہو ہی نہیں سکتا تھا، تو ایک تو یقیناً جھوٹی ہے۔ اب کون سی جھوٹی ہے؟ پتا نہیں۔ وَلَيْسَتْ إِحْدَاهُمَا أَوْلَى مِنَ الْأُخْرَى، اور کوئی ایک بھی دوسری سے اولیٰ نہیں ہے بھئی، پتا ہی نہیں چل رہا۔ تو دونوں رد کر دی جائیں گی۔ فَإِنْ قَضَى بِإِحْدَاهُمَا، اگر قاضی نے فیصلہ کر دیا ایک گواہی سے، ثُمَّ قَامَتِ الْأُخْرَى، پھر دوسری گواہی بھی آ گئی، رُدَّتْ، اب یہ دوسری کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد، رُدَّتْ هِيَ، دوسری کو رد کیا جائے گا، لِأَنَّ الْأُولَى تَرَجَّحَتْ، اس لیے کہ پہلی گواہی ترجیح پا گئی بھئی، بِاتِّصَالِ الْقَضَاءِ، کس وجہ سے بھئی؟ قضاء کے ملنے سے۔ اس کے، پہلی گواہی کے ساتھ کیا مل چکا؟ فیصلہ مل چکا ہے۔ بِاتِّصَالِ الْقَضَاءِ بِهَا، اس کے ساتھ فیصلہ مل جانے کی وجہ سے، فَلَا يَنْتَقِضُ بِالثَّانِيَةِ، تو لہٰذا یہ فیصلہ دوسری گواہی کی وجہ سے ٹوٹے گا نہیں بھئی۔ وَلَوْ شَهِدَا بِسَرِقَةِ بَقَرَةٍ وَاخْتَلَفَا فِي لَوْنِهَا قُطِعَ، وَلَوْ اخْتَلَفَا فِي الذُّكُورَةِ لَا۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی! زید کی مثلاً کوئی چیز چوری ہو گئی، مثلاً گائے چوری ہو گئی بھئی۔ اب دو گواہ یہ لے کر آیا، انہوں نے گواہی دی کہ زید کی گائے مثلاً کون لے گیا ہے؟ فلاں شخص لے گیا، ہم نے دیکھا بھئی اس کو لے جاتے ہوئے۔ اور ایک گواہ نے ذکر کیا کہ سفید رنگ کی گائے تھی یا بھئی یہ سرخی مائل گائے تھی، وہ لے کر جا رہا تھا رات کو میں نے اسے دیکھا بھئی۔ دوسرے گواہ نے بھی کہا: ہاں، میں نے بھی اس کو دیکھا، وہ کالے رنگ کی گائے لے کر جا رہا تھا بھئی۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گواہی قبول کی جائے گی اگرچہ رنگوں میں اختلاف آ گیا۔ ایک نے سرخی والا رنگ ذکر کیا، دوسرے نے، کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں بھئی! دراصل چوری ہوگی رات کو، اور رات کے وقت اس نے عموماً دیکھنے والا دور سے دیکھتا ہے، چور کسی کے پاس سے تو نہیں گزرے گا، دور سے ہی گزرے گا بھئی۔ اس نے دور سے دیکھا ہے اور دونوں رنگ رات کے وقت قریب قریب ہیں بھئی، ان کا پتا تو ہو سکتا ہے ایک کو صحیح پتا نہیں چلا، اس نے سیاہ کہہ دیا، اور دوسرے نے ذرا غور سے دیکھا تو اسے سرخ معلوم ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو پھر گواہی قبول ہوگی اور اس چور کے ہاتھ کو کاٹا جائے گا۔ صاحبین فرماتے ہیں: نہیں بھئی! رنگوں میں اختلاف آ گیا، ایک ہی گائے سرخ بھی ہو، کالی بھی ہو، یہ نہیں ہو سکتا۔ یا تو سرخ ہوگی یا کالی ہوگی، لہٰذا گواہی رد ہے بھئی۔ دوسری صورت بھئی! ایک گواہ نے کہا کہ گائے تھی، وہ لے کر جو جا رہا تھا بھئی وہ فلاں شخص رات کو، وہ کیا تھی؟ گائے تھی۔ دوسرے نے کہا، دوسرے گواہ نے کہا: وہ بیل تھا۔ اب اختلاف ذکورت میں آ گیا بھئی، ایک کہتا ہے وہ مذکر ہے، دوسرا کہتا ہے مذکر نہیں بلکہ مؤنث ہے۔ اب بالاتفاق گواہی رد کی جائے گی مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ اس لیے کہ مذکر مؤنث ہونے کا پتا قریب سے چلتا ہے۔ اور ایک ہی گائے مذکر بھی ہو اور مؤنث بھی ہو، ایسا ہو سکتا ہے بھئی؟ ایسا، ہاں! رنگوں میں تو یہ بھی ممکن ہے، ایک طرف سے گائے سرخ تھی، دوسری طرف سے سیاہ تھی، ایک نے ایک طرف سے دیکھا، سرخ نظر آئی، دوسرے نے دوسری طرف سے دیکھا۔ یا دونوں نے دور سے دیکھا، دونوں توجیہیں ممکن ہیں، لیکن ذکورت کے اندر یہ ممکن نہیں بھئی۔ اس کا تو پتا قریب سے ہی چلے گا، اور جب ایک نے دیکھ لیا مذکر ہے یا مؤنث ہے، تو دوسرے اس کے عکس گواہی دے رہا ہے، تو معلوم ہوا اتفاق نہیں بھئی، تو رد کی جائے گی۔ تو یہاں اس میں اشتباہ کا خطرہ نہیں بھئی۔ وَلَوْ شَهِدَا بِسَرِقَةِ بَقَرَةٍ، اگر گواہی دی بھئی دو گواہوں نے گائے کے چوری کی بھئی، وَاخْتَلَفَا فِي لَوْنِهَا، اور ان دونوں گواہوں نے اختلاف کیا اس کے رنگ کے اندر، قُطِعَ، تو کیا کیا جائے گا بھئی؟ چور کے ہاتھ کو، یعنی گواہی قبول کر لی جائے گی۔ وَلَوْ اخْتَلَفَا فِي الذُّكُورَةِ، اور اگر اس کے مذکر ہونے کے اندر اختلاف کیا، لَا، پھر اس کے ہاتھ کو، یعنی گواہی کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد کر دیا جائے گا۔ وَعِنْدَهُمَا لَا يُقْطَعُ فِي الْوَجْهَيْنِ، جبکہ صاحبین کے نزدیک دونوں صورتوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ وَقِيلَ الِاخْتِلَافُ فِي لَوْنَيْنِ مُتَشَابِهَيْنِ كَالسَّوَادِ وَالْحُمْرَةِ، بعض فقہاء کرام لکھتے ہیں کہ یہ جو اختلاف آیا بھئی صاحبین کا اور امام صاحب کا، یہ ان دو رنگوں میں ہے جو آپس میں متشابہ ہوں۔ ان دو رنگوں میں ہے جو آپس میں، جیسے سرخی اور سیاہی بھئی۔ گہرا سرخ سا رنگ بھئی، اور دوسرے کا رنگ سیاہ بھئی۔ تو تاریکی میں ایک دوسرے کے متشابہ ہیں، پتا نہیں چلے گا۔ اور باقی اگر ایسے رنگ نہیں جن میں اشتباہ آتا ہو، مثلاً ایک رنگ بتا رہا ہے سفید اور دوسرا کیا بتا رہا ہے؟ سیاہ، تو اس میں کہتے ہیں کوئی اختلاف نہیں، بالاتفاق امام صاحب کے نزدیک بھی اب اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، رد کیا جائے گا، کیونکہ یہاں اشتباہ کا امکان نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَقِيلَ، کہا گیا: الِاخْتِلَافُ فِي لَوْنَيْنِ مُتَشَابِهَيْنِ، ان دو رنگوں میں ہے جو متشابہ ہوں، كَالسَّوَادِ وَالْحُمْرَةِ، جیسے سیاہی اور سرخی، لَا فِي السَّوَادِ وَالْبَيَاضِ، نہ کہ ان سیاہی اور سفیدی میں۔ وَقِيلَ فِي جَمِيعِ الْأَلْوَانِ، اور کہا گیا کہ تمام رنگوں میں اختلاف ہے، دوسرا قول یہ ہے بھئی۔ چاہے سفید اور سیاہ، جو مرضی ہو، تاریکی میں کیا ہوگا؟ سارے ہی کس قسم کے معلوم ہوں گے؟ سیاہی سے معلوم ہوں گے۔ لَهُ، امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ السَّرِقَةَ تَقَعُ فِي اللَّيَالِي، کہ چوری جو ہے وہ رات کے وقت واقع ہوتی ہے، وَالرَّائِي يَرَاهُ مِنْ بَعِيدٍ، اور دیکھنے والا دیکھتا ہے دور سے، فَاللَّوْنَانِ يَتَشَابَهَانِ، تو دونوں رنگ کیا ہیں؟ متشابہ ہیں۔ وَالْأَظْهَرُ قَوْلُهُمَا، صاحبِ شرحِ وقایہ فرماتے ہیں: زیادہ ظاہر قول کس کا ہے بھئی؟ صاحبین کا ہے بھئی۔ وَلَوْ شَهِدَا بِشِرَاءِ عَبْدٍ أَوْ كِتَابَتِهِ بِأَلْفٍ وَالْآخَرُ بِأَلْفٍ وَمِائَةٍ رُدَّتْ۔ آپ نے پڑھا تھا: امام صاحب کے نزدیک دونوں گواہوں کا لفظوں میں بھی اتفاق ضروری اور معنی کے اندر بھی اتفاق ضروری۔ اور صاحبین کے نزدیک صرف معنی میں اتفاق کافی ہے، لفظوں کے اندر اتفاق ضروری نہیں۔ کئی مسئلے پڑھے تھے، اب آپ مجھے بتلاتے جائیے بھئی! کیا صورتِ مسئلہ ہوگی؟ مثلاً دیکھیے بھئی! آپ قاضی ہیں، آپ کے پاس دو گواہوں نے آ کر گواہی دی، زید نے دعویٰ مثلاً کسی شخص پہ کیا ہے ایک لاکھ روپے کا بھئی۔ ایک گواہ نے آ کر کیا کہا کہ اس شخص پر زید کا کتنا دین ہے؟ ایک لاکھ۔ دوسرے نے کہا: ایک لاکھ 50 ہزار ہے۔ ایک لاکھ 50 ہزار ہے بھئی۔ جی! امام صاحب کے نزدیک کیا ہوگا؟ کیا کیا جائے گا؟ زید کا دعویٰ کتنا ہے؟ ایک لاکھ، اور آپ نے پڑھا تھا: اگر اقل کے اندر ہو، پھر رد کر دی جائے گی گواہی مولانا! کیونکہ مدعی خود کیا کر رہا ہے؟ زیادہ کی گواہی دینے والے کی تکذیب کر رہا ہے۔ مدعی کا دعویٰ کتنا ہے؟ ایک لاکھ۔ اور ایک گواہ نے بھی کتنے کی گواہی دی؟ ایک لاکھ کی، اس کی تو تصدیق کر رہا ہے۔ اگلے گواہ نے کتنے کی گواہی دی؟ ۔ ؟ ایک لاکھ اور؟ تو مدعی نے کتنے کا دعویٰ کیا؟ تو یہ اس گواہ کی کیا کر رہا ہے؟ خود تکذیب کر رہا ہے، مدعی نے خود اپنے ایک گواہ کو جھٹلا دیا ہے، لہٰذا اب فیصلہ ہوگا ہی، کتنا گواہ رہ گئے؟ ایک رہ گئے، اور ایک پر فیصلہ ہو سکتا ہے؟ نہیں بھئی۔ تو لہٰذا مدعی اگر اکثر کا دعویٰ کرتا ہو، پھر آپ نے پڑھا تھا بھئی کہ گواہی کو کیا کیا جائے گا؟ لہٰذا اگر مدعی نے بھی ایک لاکھ پچاس ہزار کا دعویٰ کیا تھا، اب ایک گواہ نے گواہی دی ایک لاکھ کی، دوسرے نے گواہی کتنے کی دی؟ ایک لاکھ پچاس ہزار، تو کتنے پر فیصلہ ہوگا؟ ایک لاکھ پر فیصلہ ہوگا، کیونکہ ایک لاکھ میں دونوں گواہ متفق ہیں، اور پچاس ہزار میں ایک گواہ اکیلا ہے، اور ایک پر کی گواہی پر فیصلہ، تو اتفاق کتنے میں ہے صرف؟ ایک لاکھ، تو ایک لاکھ پر فیصلہ ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ۔ دوسری صورت بھئی: تو اکثر، دعویٰ اکثر کا ہوگا، تو اقل پر فیصلہ کر دیا جائے گا، جبکہ لفظاً و معناً، یہ امام صاحب کے نزدیک، صاحبین کے نزدیک صرف معنیٰ کے اندر اتفاق کافی ہے۔ مثلاً بھئی، اختلافی صورت یہ، اس میں نکلے گی: ایک زید نے دعویٰ کیا ہے، دعوے کو ابھی چھوڑیں۔ ایک گواہ نے گواہی کتنے کی دی؟ ایک لاکھ۔ ایک لاکھ کی۔ اور دوسرے نے گواہی کتنے کی دی؟ دو لاکھ، یا یوں کہیں بھئی عربی عبارت بنا لیں بھئی، تثنیہ کا صیغہ ہی تاکہ بالکل الگ ہو جائے بھئی۔ ایک گواہ نے گواہی دی الْفٍ کی، دوسرے گواہ نے گواہی دی الْفَيْنِ کی بھئی۔ اب لفظوں میں اتفاق نہیں، اب چاہے دعویٰ ہزار کا ہو، چاہے دعویٰ دو ہزار کا ہو، دونوں صورتوں میں گواہی کو کیا کر دیا جائے گا؟ کس کے نزدیک؟ کیونکہ لفظوں میں اتفاق نہیں آیا، کبھی بھی الْفٍ کو الْفَيْنِ سے تعبیر، یا الْفَيْنِ کو الْفٍ سے تعبیر نہیں کیا جاتا۔ ہاں! صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ معنیٰ کے اندر تو اتفاق ہے۔ ایک لاکھ، ایک نے الْفٍ کی گواہی دی ہے، دوسرے نے الْفَيْنِ کی، اور الْفَيْنِ میں کیا داخل ہے؟ الْفٌ بھی داخل ہے، تو لہٰذا فیصلہ کتنے پر کر دیا جائے گا؟ الْفٍ پر کر دیا جائے گا، بشرطیکہ دعویٰ کتنے کا ہو؟ اکثر کا ہو، کتنے کا ہو؟ یعنی الْفَيْنِ کا دعویٰ ہو، اگر دعویٰ ہی الْفٍ کا تھا، پھر؟ پھر صاحبین کے نزدیک بھی گواہی کو کیا کر دیا جائے گا؟ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھیے! اب مسئلہ یہ ہے: یہ تھا دین کے مسئلے میں، تو دین کے مسئلے میں اگر دو گواہوں کے اندر اختلاف آ جائے، کیا آ جائے؟ اختلاف آ جائے۔ تو صاحبین کے نزدیک صاحبین کے نزدیک معنیٰ، لفظوں میں اختلاف ہو، لیکن معنیٰ کے اندر اتفاق کیا ہے؟ کافی ہے، بشرطیکہ مدعی نے دعویٰ کتنے کا کیا ہو؟ اکثر کا کیا ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور امام صاحب کے نزدیک لفظوں میں بھی اتفاق ضروری، اور معنیٰ میں بھی اتفاق ضروری، اور اگر، سمجھ میں آیا؟ تو اتفاق ضروری۔ اب دیکھیے بھئی! یہ تو دین کے مسئلے میں تھا، اب آگے کچھ عقد آ رہے ہیں، عقد کے سلسلے میں بات مختلف ہوگی۔ زید نے عمرو پر دعویٰ کیا کہ اس نے یہ غلام مجھ سے ایک لاکھ روپے میں خریدا ہے۔ زید نے کس پر دعویٰ کیا؟ عمرو پر دعویٰ کر دیا کہ اس کے اور میرے درمیان ایجاب و قبول ہو چکا ہے، اور یہ غلام اس نے مجھ سے ایک لاکھ روپے میں خریدا ہے۔ خریدا ہے۔ اب گواہ نے آ کر، دو گواہ بھی لے آیا، ایک گواہ نے گواہی دی بھئی، کہ میں بھی اس وقت موجود تھا بھئی، میرے سامنے اس نے دوسرے سے کیا، کس نے خریدا؟ بیچنے والا کون بھئی؟ زید۔ زید نے غلام بیچا ہے عمرو کو، کتنے میں؟ ایک لاکھ میں۔ دوسرے نے کہا: میرے سامنے بیچا ہے ایک لاکھ، یا میرے سامنے کو چھوڑ دیں، بس! ایک نے کیا کہا، کتنے میں بیچا ہے؟ ایک لاکھ، ایک لاکھ میں، دوسرے نے؟ ایک لاکھ پچاس ہزار میں۔ اب کیا صورت بنے گی بھئی؟ دعویٰ کتنے کا ہے؟ ایک لاکھ کا۔ گواہی کتنے پر ایک؟ دوسری؟ جی! امام صاحب کے نزدیک رد کی جائے گی، دعویٰ کتنے کا ہونا ضروری؟ اکثر کا، اور اکثر کتنا ہے؟ ایک لاکھ پچاس ہزار، اور دعویٰ اکثر کا ہے یا اقل کا ہے؟ اقل، لہٰذا رد۔ اچھا! صاحبین کے نزدیک بھئی؟ جی؟ صاحبین کے نزدیک بھی گواہی کیا کی جائے گی؟ رد کی جائے گی۔ اچھا! بھئی دیکھو! دین کے مسئلے میں مقصود تھا مال، اور یہ ہے عقد، تو یہاں پر مقصود ہے عقد کو ثابت کرنا۔ کس کو ثابت کرنا ہے؟ عقد کو ثابت کرنا ہے، تو یہ ضابطہ بھی ساتھ ملا لینا۔ کہ دین کے مسئلے میں مقصود کیا ہوتا ہے؟ مال، اور یہ کیا ہے؟ عقد ہے، تو عقد میں مقصود کیا ہوتا ہے؟ عقد کو ثابت کرنا۔ اب آگے چلتے ہیں، دوبارہ دیکھو بھئی! زید نے دعویٰ کیا کہ یہ غلام مجھ سے عمرو نے کتنے میں خریدا؟ ایک لاکھ پچاس ہزار میں، ایک لاکھ پچاس ہزار میں۔ ایک گواہ نے گواہی کتنے پر دے دی؟ ایک لاکھ پر۔ دوسرے نے گواہی کتنے پر دے دی؟ ایک لاکھ پچاس ہزار پر، کیا فیصلہ ہوگا؟ جی؟ غور سے سوچ کر مجھے بتانا ہے بھئی! گواہ، مدعی نے کتنے پر دعویٰ کیا ہے؟ ایک لاکھ پچاس ہزار پر۔ اچھا! ایک گواہ نے کتنے پر گواہی دے دی؟ ایک لاکھ پر، کہ میرے سامنے عقد ایک لاکھ پر ہوا، دوسرے نے کہا: کتنے پر ہوا ہے؟ ایک لاکھ پچاس ہزار سے، آپ کیا، کیا فیصلہ دیں گے؟ کتنے پر فیصلہ کر دیں گے؟ نہیں بھئی! یہاں اب آپ دونوں گواہیاں رد کر دیں گے۔ کیوں؟ کیونکہ یہاں اصل مقصد ہے عقد کو ثابت کرنا، اور ایک عقد ہوا ایک لاکھ پر، یہ الگ، اور ایک عقد ہوا ایک لاکھ پچاس ہزار پر، یہ کیا ہوگا؟ ایک ہی عقد ایک لاکھ پر بھی اور ایک لاکھ پچاس ہزار پر بھی ہوا، ایسا ہو سکتا ہے؟ معلوم ہوا جو عقد لاکھ پر ہوگا وہ الگ ہے، اور جو عقد ایک لاکھ پچاس ہزار پر ہو وہ، ایک عقد 9 روپے پر ہو، ایک عقد 10 روپے پر ہو، یہ ایک ہی ہو سکتا ہے؟ نہیں، یہ ہمیشہ کیا ہوں گے؟ الگ الگ ہوں گے۔ تو ایک گواہ نے ایک عقد پر گواہی دے دی، دوسرے نے دوسرے عقد پر گواہی دے دی، تو ہر عقد پر ایک ایک گواہی ہوئی، تو کوئی بھی عقد ثابت نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھی طرح؟ اور یاد رکھو، جانبین سے اسی طرح ہے۔ چاہے دعویٰ کرنے والا بائع ہو، چاہے دعویٰ کرنے والا مشتری ہو، دونوں جانب سے مقصود کیا ہے عقد کو ثابت کرنا۔ جی، اور اسی طرح کتابت ہے مولانا! تو کتابت کے اندر بھی غلام اور آقا کے اندر جھگڑا آیا بھئی، آقا کہتا ہے: بدلِ کتابت کتنا طے ہوا تھا؟ ایک لاکھ۔ غلام کیا کہتا ہے: بدلِ کتابت، آقا کہتا ہے مثلاً ایک لاکھ پچاس ہزار طے ہوا تھا، غلام کتنا کہتا ہے؟ ایک لاکھ طے ہوا تھا۔ تو چاہے دعویٰ کرنے والا آقا ہو، چاہے دعویٰ کرنے والا غلام، دونوں جانب سے مقصود کیا ہے؟ عقد ہے، اثباتِ عقد ہے۔ لہٰذا یہاں پر گواہی میں بالکل اتفاق ہونا ہر لحاظ سے گواہوں کا ضروری۔ اگر ایک ایک لاکھ کی دیتا ہے، دوسرا ایک لاکھ، تو ایک لاکھ والے سے دوسرا عقد ثابت ہوا، اور ایک لاکھ پچاس ہزار سے دوسرا عقد، تو ایک ایک گواہی آئی ہر عقد پر، اور ایک گواہی کی وجہ سے کوئی ایک بھی عقد ثابت، نہ ایک لاکھ والا ثابت ہوگا کیونکہ اس پر بھی ایک گواہی، ایک لاکھ پچاس ہزار والا بھی ثابت نہیں کیونکہ اس پر بھی ایک گواہی۔ تو یہاں یاد رکھنا عقد، آگے آئے گا مسئلہ۔ بعض ایسی جگہ آئیں گی جہاں ایک جانب سے عقد مقصود ہوتا ہے، اور دوسری جانب سے مال مقصود ہوتا ہے، اور یہاں پر دونوں جانب سے کیا مقصود ہے؟ عقد مقصود ہے۔ وَلَوْ شَهِدَ بِشِرَاءِ عَبْدٍ، اگر گواہی دی دو گواہوں میں سے ایک نے غلام کے خریدنے کی، أَوْ كِتَابَتِهِ، یا اس، اس کتابت کی اس غلام کے، بِأَلْفٍ، کتنے کے بدلے بھئی؟ غلام کو خریدنے کی گواہی دی ایک نے، یا اس کی کتابت پر گواہی دی بِأَلْفٍ، کتنے کے بدلے؟ ایک ہزار کے بدلے، وَالْآخَرُ بِأَلْفٍ وَمِائَةٍ، اور دوسرے پر کتنے، دوسرے نے کتنے پر گواہی دی؟ أَلْفٍ وَمِائَةٍ پر، رُدَّتْ، تو اس گواہی کو کیا کیا جائے گا؟ رد کیا جائے گا۔ سَوَاءٌ ادَّعَى الْبَائِعُ أَوْ الْمُشْتَرِي، بتلا دیا مولانا! چاہے دعویٰ کرنے والا بائع ہو یا مشتری ہو، یہ شراء کے مسئلے میں ہے مولانا! چاہے بائع دعویٰ کرے یا مشتری، بائع کی طرف سے دعویٰ ہو پھر بھی مقصود کیا ہے؟ اثباتِ عقد، مشتری کی طرف سے دعویٰ ہو پھر بھی کیا مقصود ہے؟ اثباتِ عقد، اسی طرح مولا، جو ہے آقا، آقا کی طرف سے دعویٰ ہو یا غلام کی طرف سے کتابت کے اندر دعویٰ ہو، دونوں طرف سے مقصود کیا ہے؟ عقد کو ثابت کرنا، مال کسی کی طرف سے مقصود نہیں ہے۔ لِأَنَّ الْعَقْدَ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الثَّمَنِ، اس لیے کہ عقد کیا ہوتا ہے؟ مختلف ہوتا ہے اختلافِ ثمن سے، تو گواہی کو رد کر دیا جائے گا، کیونکہ عقد، ثمن بدلیں تو عقد بدل جاتا ہے۔ تو ایک گواہ نے کتنے پر گواہی دی؟ ایک ہزار پر، اور دوسرے نے ایک ہزار ایک سو پر، تو ہزار پر جو عقد ہے وہ الگ ہے، اور ایک ہزار ایک سو پر جو عقد ہے وہ، تو دونوں عقدوں پر کتنی گواہیاں ہوئیں؟ ایک ایک، تو کسی پر بھی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ فَيَكُونُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ شَهَادَةُ فَرْدٍ، تو ہر ایک عقد پر ایک فرد کی گواہی ہوئی، فَلَا تُقْبَلُ، تو اس کو قبول۔ وَكَذَا إِذَا أَعْتَقَ بِمَالٍ وَصُلْحٌ عَنْ قَوَدٍ وَرَهْنٌ وَخُلْعٌ، اور اسی طرح اگر آزاد کیا بھئی، یہ عبارت بھئی کچھ درست نہیں لگتی، وَكَذَا الْإِعْتَاقُ بِمَالٍ ہوتا تو پھر بھی درست تھا، چلیے! اسی طرح رہنے دیجیے خبر، وَكَذَا إِذَا أَعْتَقَ بِمَالٍ، اور اسی طرح ہے بھئی، اگر غلام کو کس کے بدلے آزاد کیا ہے؟ مال کے بدلے آزاد کیا، غلام نے آ کر دعویٰ کر دیا کہ میرے آقا نے مجھے کتنے مال کے بدلے آزاد کیا ہے؟ ایک ہزار کے بدلے، ایک ہزار یا جتنے کا بھی دعویٰ کیا، اس نے کہا: میرے آقا نے مجھے مال کے بدلے آزاد کیا، اور گواہ لے آیا، اور گواہ نے کیا کہا؟ ایک گواہ نے کہا ایک ہزار کے بدلے آزاد کیا، اور دوسرے نے کہا ایک ہزار ایک سو کے بدلے آزاد کیا، تو گواہی کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد کر دیا جائے گا۔ اسی طرح صلح عن قود، قود کہتے ہیں قصاص کو مولانا! بھئی! آپ جانتے ہیں، ایک شخص دوسرے کو جان بوجھ کر قتل کر دے، تو مقتول کے اولیاء کیا کریں گے؟ اس کو بھی قصاصاً قتل کریں گے، فیصلہ، گواہ ہوئے، فیصلہ ہو جائے گا، اس کو قتل کیا جائے گا۔ لیکن مقتول کے اولیاء کو حق ہے، وہ چاہیں تو مال لے کر کیا کر لیں؟ صلح کر لیں يا معاف کر دیں۔ اب صلح ہو گئی بھئی، صلح ہو گئی۔ تو اب قاتل نے کہا: صلح ہوئی ہے میری ان سے مال پر، اور دو گواہ بھی پیش کر دیے، ایک گواہ نے کتنے پر صلح، گواہی دی؟ ایک لاکھ، ایک ہزار پر، اور دوسرے نے ایک ہزار ایک سو پر، تو گواہی کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد کر دیا جائے۔ اسی طرح رہن بھئی، رہن کے مسئلے میں، راہن نے کیا دعویٰ کیا؟ کہ یہ گھر جو ہے یہ مرہون ہے بھئی، اور ایک گواہ پیش کر دیے بھئی، اور ایک گواہ نے کیا کہا؟ جی؟ ایک گواہ نے کہا کتنے پر رہن رکھوایا یہ گھر؟ ایک ہزار، دوسرے نے کہا ایک ہزار ایک سو پر، تو گواہیوں کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد کر دیا جائے گا۔ اسی طرح خلع کے اندر بھئی، عورت نے کیا دعویٰ کیا؟ کہ شوہر نے میرے ساتھ خلع کیا ہے، دو گواہ پیش کر دیے، ایک گواہ نے کتنے پر گواہی دی؟ ایک ہزار، دوسرے نے ایک ہزار ایک سو پر گواہی دے دی، تو ان ساری صورتوں کے اندر کیا کیا جائے گا بھئی؟ گواہی کو رد کیا جائے گا، کیونکہ یہاں پر مقصود کیا ہے؟ عقد کو، یہ سارے عقد ذکر ہوئے: اعتاق بمال، صلح عن قود، رہن، خلع، یہ سارے عقد ہیں، تو یہاں مقصود کیا ہوا؟ عقد ہوا، بشرطیکہ دعویٰ کرنے والا کون ہو؟ اعتاق بمال میں دعویٰ کرنے والا غلام ہو، صلح کے اندر دعویٰ کرنے والا قاتل ہو، اور رہن کے اندر دعویٰ کرنے والا راہن ہو، اور خلع کے اندر دعویٰ کرنے والی بیوی ہو، عورت ہو، پھر اس صورت میں مقصود کیا ہے؟ عقد، اور جب عقد کے مقصود ہوا، تو گواہی کے اندر ذرا سا بھی اختلاف آ جائے، تو گواہی قابلِ قبول نہیں، کیونکہ عقد کے اندر ایک عقد ہے ہزار پر، ایک عقد ہے ایک ہزار ایک سو پر، دونوں کیا ہیں؟ الگ الگ ہیں۔ صورت سمجھ، لیکن اگر انہی مسائل کے اندر دعویٰ دوسری جانب سے ہو، اعتاق بمال کے اندر دعویٰ کرنے والا کون؟ مولا، آقا کر رہا ہے، آقا کہتے، وہ کہتا ہے: میں نے اس کو مال کے بدلے آزاد کیا، دو گواہ پیش کر دیتا ہے، ایک گواہ کیا کہتا ہے؟ ایک ہزار پر، ایک ہزار کے بدلے آزاد کیا، دوسرا کیا کہتا ہے؟ ایک ہزار ایک سو پر، تو یہ دین کی طرح ہوگا، مسئلہ کس کی طرح ہو گیا؟ کیوں؟ بھئی یہاں اب عقد مقصود نہیں۔ کیوں، دعویٰ کرنے والا کون؟ آقا، معلوم ہوا آقا، عقد کو، کا اعتراف کر لیا اس نے۔ دعویٰ جب اس نے کیا ہے نا مال کا، تو گویا اس نے عقد کو خود کیا کر لیا؟ تسلیم کر، عقد کو تسلیم کر لیا ہے، اب یہ جھگڑا صرف مال کے اندر کر رہا ہے کہ تھوڑا نہیں ہے بلکہ زیادہ ہے۔ تو اب گواہوں کے اندر اختلاف آیا مولانا! اور جب اس صورت میں گواہ دین کے اندر گواہوں کے اندر اختلاف آتا تھا اس قسم کا، ایک کہتا تھا الْفٌ، دوسرا کہتا تھا الْفٌ وَمِائَةٌ، تو کیا کیا جائے گا؟ اگر مدعی نے کتنے کا دعویٰ کیا ہو؟ اکثر کا، تو اقل پر کیا کر دیا جائے گا؟ فیصلہ کر، کیونکہ اس میں دونوں گواہ متفق ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر مدعی نے دعویٰ کس کا کیا ہے؟ اقل کا، تو پھر گواہی کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد، صورت سمجھ میں آئی؟ تو ان مسئلوں کے اندر اعتاق بمال، صلح عن قود، رہن اور خلع میں دعویٰ کرنے والا اگر غلام ہو، قاتل ہو، راہن ہو یا بیوی ہو، تو اس میں مقصود کیا ہوا؟ عقد، لہٰذا معمولی اختلاف بھی آئے، تر، گواہی کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد، اور اگر جانبِ آخر سے متما، جانبِ آخر، آخر سے کیا ہو؟ دعویٰ ہو، مثلاً دعویٰ کرنے والا آقا ہے اعتاق بمال میں، یا صلح عن قود کے اندر دعویٰ کرنے والے کون ہیں؟ مقتول کے، مقتول کا ولی ہے، یا رہن کے اندر دعویٰ کرنے والا کون بھئی؟ مرتہن ہے، یا خلع کے اندر بھئی دعویٰ کرنے والی کون ہے؟ بیوی نہیں، خلع کر، دعویٰ کرنے والا کون ہے؟ شوہر ہے، تو ان سب صورتوں میں مال مقصود ہے۔ کیونکہ دیکھو بھئی! اعتاق بمال کے اندر بھئی، مال کے بدلے غلام کو آزاد کیا، مال کس کو ملنا ہے؟ آقا کو، تو آقا کا مقصود کیا ہوا؟ مال، اسی طرح صلح عن قود کے اندر مال کس کو ملنا ہے؟ ولی کو، تو ولی کا مقصود کیا ہوا؟ مال، اسی طرح رہن کے اندر بھئی، راہن کو، کیا ملے گا مرتہن کو اس کا مال واپس ملے گا یا نہیں ملے گا بھئی؟ اس کا مال ملے گا، اور خلع کے اندر بھئی دعویٰ کرنے والا کون بھئی؟ شوہر، تو شوہر کیا اس کو کیا ملنے والا ہے؟ مال ملنے والا ہے، تو لہٰذا اگر شوہر کی جانب سے ہو يا مرتہن کی طرف سے ہو، یا ولیِ مقتول کے ولی کی طرف سے ہو يا آقا کی طرف سے ہو، تو پھر مقصود کیا ہوگا؟ جب مال مقصود ہوا، تو یہ صورت کون سی اختیار کی جائے گی؟ دین والی، اور اگر جانبِ آخر سے ہو، تو پھر کون سی صورت اختیار کی جائے گی؟ عقد والی۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا؟ وَكَذَا إِذَا أَعْتَقَ بِمَالٍ، اور اسی طرح ہوگا جب آزاد کر دے مال کے بدلے، وَصُلْحٌ عَنْ قَوَدٍ، اور اسی طرح ہے صلح عن قود بھئی، قصاص کس کے صلح کرنا، وَرَهْنٌ، اور اسی طرح ہے رہن بھی، وَخُلْعٌ، اور اسی طرح ہے خلع بھی، إِنِ ادَّعَى الْعَبْدُ، اگر دعویٰ کون کرے؟ تو دعویٰ کس، یہ عبد اس کا تعلق کس سے ہے بھئی؟ اعتاق بمال سے، اگر دعویٰ کرنے والا غلام ہو، وَالْقَاتِلُ، یا دعویٰ کرنے والا کون ہو؟ یہ کس سے تعلق ہے؟ صلح عن قود سے، وَالرَّاهِنُ، یا اور دعویٰ کرنے والا کون ہو؟ یہ کس سے تعلق ہے؟ رہن سے، وَالْعِرْسُ، اور بیوی ہو، اس کا تعلق کس سے ہے؟ خلع سے ہے۔ کہتے ہیں: فِيهِ لَفٌّ وَنَشْرٌ، اس عبارت کے اندر لف و نشر ہے بھئی۔ ادھر دیکھو بھئی! لف و نشر سمجھ لو بھئی! آپ پڑھیں گے علمِ بلاغت کے اندر، شاید اس سال پڑھیں نہیں تو اگلے سال تفصیل آ جائے گی بھئی۔ علمِ بلاغت کے اندر بھئی لف و نشر ایک صنعت ہے، لف و نشر اس کو کہتے ہیں کہ کئی چیزوں کو ذکر کر دیا جائے، مثلاً دو، تین یا چار چیزیں ذکر کر دی جائیں، پھر آگے ال، چاروں کا حکم ذکر کیا جائے۔ چاروں سے متعلقہ کوئی بات ذکر کی جائے۔ شروع میں کتنی چیزیں ذکر تھیں؟ چار۔ آگے چاروں کے بارے میں ایک ایک بات ذکر ہے، لیکن تعیین نہیں کی۔ پہلی بات کا تعلق کس سے ہے؟ دوسری کا کس سے؟ تیسری کا کس سے؟ چوتھی کا؟ سننے والا خود ہی سمجھ جاتا ہے کہ پہلی کا تعلق فلاں سے ہے، دوسری کا فلاں سے، تیسری کا فلاں سے، چوتھی کا فلاں سے ہے۔ صورت سمجھے؟ تو پہلے جو متعدد ذکر کر دیے اس کو کہتے ہیں لف، اور آگے ہر ایک کا جو حکم بیان کیا اس کو کیا کہتے ہیں؟ نشر بھئی۔ اور نشر، اور یہ ضرور یاد رکھنا، اس میں تعیین نہیں ہوتی ہے۔ یہ نہیں بتائیں گے پہلی کا تعلق کس سے ہے، دوسری کا کس سے، تیسری کا کس سے، چوتھی کا کس سے۔ یہ سننے والا خود ہی سمجھ جاتا ہے۔ تو دیکھو! یہاں پر دیکھو، پہلے چار چیزیں ذکر کیں: اعتاق بمال کو ذکر کیا، صلح عن القود کو ذکر کیا، رہن کو ذکر کیا، اور خلع۔ پھر آگے ذکر کر رہے ہیں: إِنِ ادَّعَى الْعَبْدُ، اگر دعویٰ کون کرے؟ غلام۔ یہ نہیں بتایا اس کا تعلق کس سے ہے، لیکن آپ خود سمجھ گئے، اس کا تعلق کس سے ہے؟ اعتاق بمال سے۔ آگے ذکر آیا: إِنِ ادَّعَى الْقَاتِلُ، اگر دعویٰ کون کرے؟ قاتل۔ آپ خود سمجھ گئے، اس کا تعلق کس سے ہے؟ صلح عن القود۔ آگے خود کہا: إِنِ ادَّعَى الرَّاهِنُ، آپ سمجھ گئے اس کا تعلق کس سے ہے؟ رہن سے۔ اور آگے عتق کا ذکر آیا، آپ سمجھ گئے اس کا تعلق کس سے ہے؟ تو جو پہلے چار چیزیں ذکر ہوئیں، وہ کہلاتا ہے لف، اور آگے جو ان سے چار متعلقہ باتیں ذکر کیں، وہ کیا کہلاتا ہے؟ نشر۔ اور دیکھیے آپ! لف و نشر میں ترتیب ہے مولانا۔ لف میں جس ترتیب سے چار آ رہے تھے، نشر میں بھی کبھی ترتیب نہیں ہوتی۔ لف میں چار چیزیں ایک ترتیب سے ذکر ہیں، لیکن آگے نشر میں کیا ہوتا ہے؟ وہ ترتیب نہیں ہوتی، تو اس کو لف و نشر غیر مرتب کہتے ہیں۔ یہ ہے لف و نشر مرتب، کہ ہر پہلے کا تعلق پہلے سے، دوسرے کا دوسرے سے، تیسرے کا تیسرے سے۔ فِيهِ لَفٌّ وَنَشْرٌ، اس میں عبارت کے اندر لف و نشر ہے۔ فَدَعْوَى الْعَبْدِ يَرْجِعُ إِلَى الْعِتْقِ بِمَالٍ، تو غلام کا دعویٰ جو فدعویٰ عبد جو ہے، وہ راجع ہے کس کی طرف بھئی؟ عتق بمال کی طرف۔ وَهَكَذَا عَلَى التَّرْتِيبِ، اور اسی طرح ترتیب سے سارے ہیں۔ بھئی! یہاں ایسا کیوں ہے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمَقْصُودَ هَاهُنَا الْعَقْدُ وَهُوَ مُخْتَلِفٌ، اس لیے کہ یہاں پر مقصود کیا ہے؟ عقد ہے۔ وَهُوَ مُخْتَلِفٌ، اور ایک ایک مال پر ایک عوض پر جو عقد ہوگا، دوسرے عوض پر وہی عقد، تو عقد عوض کے بدلنے سے عقد بھی کیا ہو جائے گا؟ مختلف بھئی۔ تو دونوں گواہوں کی گواہی سے جو عقد ثابت ہو رہے ہیں، وہ مختلف ہے۔ لہٰذا رد کی جائے گی۔ وَإِنِ ادَّعَى الْآخَرُ، اور اگر دعویٰ کس نے کیا؟ فریقِ آخر نے، دوسرے مخالف نے کیا۔ أَيِ الْمَوْلَى فِي الْعِتْقِ عَلَى الْمَالِ، کس دعویٰ کس نے کیا؟ مولا نے کیا عتق علی المال میں۔ وَوَلِيُّ الْمَقْتُولِ فِي الصُّلْحِ عَنِ الْقَوَدِ، اور کس نے کیا؟ بھئی! فریقِ آخر آیا یا نہیں متن میں؟ اب بتلا رہے ہیں فریقِ آخر سے کون مراد ہے ہر مسئلے میں بھئی۔ اعتاق بمال میں کون مراد تھا؟ مولا۔ اور صلح عن القود میں کون مراد ہے؟ ولیِ مقتول ہے بھئی۔ اور رہن کے اندر؟ مرتہن فی الراہن۔ اور دوسرے آگے خلع کے اندر؟ زوج۔ کہتے ہیں: وَالزَّوْجُ فِي الْخُلْعِ، اور تو اگر دوسرے فریق نے دعویٰ کیا، فَهُوَ كَدَعْوَى الدَّيْنِ فِي وُجُوهِهَا، تو وہ دین کے دعویٰ کی طرح ہے اپنی ساری صورتوں کے اندر بھئی۔ جیسے دین میں تھا بھئی۔ اگر کیا دین میں؟ امام صاحب کے نزدیک لفظاً بھی اتفاق ضروری تھا اور معناً بھی اتفاق ضروری۔ اور صاحبین کے نزدیک صرف معناً اتفاق ہی کافی ہے، بشرطیکہ مدعی مدعی دعویٰ کر رہا ہو اکثر کا۔ دیکھیے! خود تفصیل کر رہے ہیں: أَيْ إِنْ كَانَ الشَّاهِدَانِ، كَانَا یہ مفرد ہونا چاہیے بھئی، تثنیہ درست نہیں ہے بھئی۔ أَيْ إِنْ كَانَ الشَّاهِدَانِ مُخْتَلِفَيْنِ، یعنی اگر دونوں گواہ مختلف ہوئے، لَفْظًا، صرف کس اعتبار سے؟ اگر دونوں گواہ لفظوں کے اعتبار سے مختلف ہوئے، تو جب لفظوں میں اختلاف آیا، تو یقیناً معنی کے اندر بھی کیا آ گیا؟ اختلاف۔ تو اگر لفظوں میں اختلاف آیا، لَا تُقْبَلُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، تو امام صاحب کے نزدیک قبول، یعنی یہ گواہ الف کی گواہی دے رہا ہے اور دوسرا الفین کی، تو امام صاحب کے نزدیک دونوں کی گواہی رد۔ وَإِنْ كَانَا مُتَّفِقَيْنِ مَعْنًى، اور اگر دونوں معنی کے اعتبار سے متفق ہیں، صرف معنی کے اعتبار سے، صاحبین کے نزدیک، مثلاً ایک نے کیا کہا؟ الف، اور دوسرے نے الفین۔ فَإِنِ ادَّعَى الْمُدَّعِي الْأَقَلَّ، اگر مدعی نے کس کا دعویٰ کیا ہے؟ اقل کا، لَا تُقْبَلُ شَهَادَةُ الشَّاهِدِ بِالْأَكْثَرِ، تو شاہد بالاكثر کی شہادت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ وَإِنِ ادَّعَى الْأَكْثَرَ، اور اگر دعویٰ کس کا کیا ہے مدعی نے؟ اکثر کا کیا ہے، تُقْبَلُ عَلَى الْأَقَلِّ، تو دونوں گواہوں کی گواہی کو قبول کر لیا جائے گا کس پر؟ اقل پر۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب یہاں سے آگے ایک اعتراض ذکر کر رہے ہیں بھئی! اعتراض۔ بھئی! صاحبِ کتاب نے آپ کو بتلایا کہ مذکورہ اوپر مسئلوں کے اندر، بھئی! پہلے ذکر کیا کیا؟ سب سے پہلے، پہلے شراء بیع و شراء اور کتابت کو ذکر کیا۔ بیع و شراء اور کتابت کے اندر بتلایا دونوں جانب سے کیا مقصود ہوگا؟ عقد مقصود ہوگا۔ اور پھر کچھ اور عقود ذکر کیے، جیسے خلع ہے، رہن ہے، اعتاق بمال ہے، اور صلح عن القود۔ ان چار میں بتایا کہ دونوں جانب سے عقد مقصود نہیں ہوتا، ایک جانب سے کیا مقصود ہوتا ہے؟ عقد، اور دوسری جانب سے کیا مقصود ہوتا ہے؟ مال مقصود ہوتا ہے۔ جی! اب اس پر صاحبِ شرحِ وقایہ اعتراض کر رہے ہیں۔ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ آپ نے کیا کہا؟ کہ ایک طرف سے عقد ہے، دوسری طرف سے بھی کیا ہونا چاہیے؟ عقد ہی ہونا چاہیے۔ لہٰذا اختلاف آ جائے، تو دوسری جانب سے بھی گواہی کو قبول، لیکن آپ کہتے ہیں کہ اگرچہ لفظوں میں اختلاف آ جائے، لیکن معنی میں اتفاق ہو، اور مدعی نے دعویٰ کس کا کیا ہو؟ اکثر کا، تو آپ کیا کہتے ہیں؟ گواہی، کیونکہ اس صورت میں کیا مقصود ہوا؟ مال مقصود ہے، عقد مقصود نہیں۔ کہتے ہیں: حالانکہ دونوں طرف سے کیا ہونا چاہیے؟ دونوں طرف سے گواہی کو قبول نہیں، جیسے غلام کی طرف سے، راہن کی طرف سے، بیوی کی طرف سے گواہی میں اختلاف آتا، تو گواہی قابلِ قبول نہیں تھی، تو جانبِ آخر کی طرف سے بھی اگر گواہی میں اختلاف آئے، تو اسے قبول نہیں کرنا چاہیے، دیکھا! یہ اعتراض بس ذکر کریں گے۔ وَلِقَائِلٍ أَنْ يَقُولَ، اور کوئی کا، کہنے والا یہ کہہ سکتا، وَلِقَائِلٍ أَنْ يَقُولَ، اور کوئی کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ لَيْسَ هَذَا كَدَعْوَى الدَّيْنِ، یہ دین کے دعویٰ کی طرح، یہ ثانی فریقِ آخر کو، فریقِ آخر کو آپ نے دعویٰ دین کی طرح بنا دیا، حالانکہ یہ دعویٰ دین کی طرح نہیں، کیوں؟ لِأَنَّ الدَّيْنَ يَثْبُتُ بِإِقْرَارِ الْمَدْيُونِ، اس لیے کہ دین تو یا تو ثابت ہوگا کس کی وجہ سے؟ کہ مدیون نے خود کیا کیا ہے؟ اقرار کیا ہے۔ تو جب اقرار کیا ہے، فَيُمْكِنُ أَنْ يُقِرَّ عِنْدَ أَحَدِ الشَّاهِدَيْنِ بِالْأَلْفِ وَعِنْدَ الْآخَرِ بِأَكْثَرَ، تو ممکن ہے ایک گواہ کے سامنے اس نے کتنے کا اقرار کیا ہو؟ دین کے اندر بھئی، دین کے اندر آپ نے کیا پڑھا تھا؟ اگر دو گواہوں کے اندر اختلاف بھی آ جائے، تو کوئی حرج، قبول کر لیتے تھے، جبکہ مدعی نے دعویٰ کتنے کا کیا ہو؟ اکثر کا۔ کہتے ہیں: کیوں؟ کہتے ہیں: اس لیے توجیہ بتا رہے ہیں، کہ ممکن ہے، دو گواہوں میں اختلاف کیوں آیا؟ ایک کے سامنے اس نے اقرار کتنے کا کیا تھا؟ ہزار کا، اور دوسرے کے سامنے کتنے کا اقرار کیا؟ 1,100 کا۔ تو یہ تو اختلاف گواہوں میں اس کے اقرار کی وجہ سے آیا، تو توجیہ، تطبیق آ گئی۔ کہ بھئی یہ دو گواہ کیوں اختلاف کر رہے ہیں؟ اگر اس پر پیسے ہوتے، ہاں تو ہزار ہو سکتے تھے یا 1,100 ہو سکتے تھے۔ ان گواہوں میں اختلاف آیا، آپ پھر کیوں قبول کر رہے ہیں؟ کہتے ہیں: تطبیق ممکن تھی۔ کیسے؟ ہم یوں کہیں گے: ایک گواہ کے سامنے اس نے خود ہی کتنے کا اقرار کیا تھا؟ ہزار کا، دوسرے کے سامنے خود ہی کتنے کا اقرار کیا؟ 1,100 کا۔ تو گواہوں کا اس میں قصور نہیں، گواہی وہ ٹھیک دے رہے ہیں، لیکن اس نے اقرار ہی ایک کے سامنے ہزار کا کیا، دوسرے کے سامنے 1,100 کا۔ فَيُمْكِنُ أَنْ يُقِرَّ عِنْدَ أَحَدِ الشَّاهِدَيْنِ بِالْأَلْفِ، ممکن ہے کہ بھئی اقرار کرے گواہ، دو گواہوں میں سے ایک کے پاس ایک ہزار پر، وَعِنْدَ الْآخَرِ بِأَكْثَرَ، اور دوسرے کے پاس زیادہ کا اقرار کرے۔ وَيُمْكِنُ أَيْضًا، اور یہ بھی ممکن ہے، أَنْ يَكُونَ أَصْلُ الْحَقِّ هُوَ الْأَكْثَرَ، کہ اصلِ حق کیا ہو؟ وہ زیادہ ہو۔ یعنی ایک ہزار 100 تھا۔ ایک گواہ کتنے کی گواہی دے رہا ہے؟ 1,000 کی، اور دوسرا 1,100 کی، تو آپ یہ پھر بھی گواہی قبول کر لیتے ہیں۔ کیوں بھئی؟ اختلاف ہے حالانکہ۔ کہتے ہیں بھئی: ٹھیک ہے، ہو سکتا ہے اصل دین کتنا تھا؟ ایک ہزار 100، تو ایک گواہ کو اس کا پتا تھا کہ اصل دین ہے 1,100، اس نے اس پر گواہی دے دی، اور دوسرے کو پتا ہے کہ اقل، کہ تھا تو کتنا بھئی؟ ایک ہزار 100 تھا، لیکن 100 وہ ادا کر چکا ہے یا اس نے 100 کیا کر دیا ہے؟ معاف کر دیا، تو تطبیق آ جاتی تھی یا نہیں بھئی؟ تو وہاں تطبیق ممکن تھی۔ وَيُمْكِنُ أَيْضًا أَنْ يَكُونَ أَصْلُ الْحَقِّ هُوَ الْأَكْثَرَ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اصلِ حق کیا ہو؟ وہ اکثر ہو، لَكِنَّهُ قَضَى الزَّائِدَ عَلَى الْأَلْفِ، لیکن وہ جو الف پر زائد ہے، اس نے کیا کر دیے ہیں؟ ادا کر دیے ہیں، أَوْ أَبْرَآ عَنْهُ عِنْدَ أَحَدِ الشَّاهِدَيْنِ، یا معاف کر دیا ہے اس نے دو گواہوں میں سے کسی ایک کے سامنے، دُونَ الْآخَرِ، نہ کہ، فَالتَّوْفِيقُ بَيْنَهُمَا مُمْكِنٌ، تو ان دونوں کے درمیان توفیق کیا ہے؟ ممکن ہے۔ أَمَّا هَاهُنَا، باقی یہاں پر، فَالْمَالُ يَثْبُتُ بِتَبَعِيَّةِ الْعَقْدِ، مال کس طرح ثابت ہو رہا ہے؟ عقد کے تابع رہتے ہوئے ثابت ہو رہا ہے۔ وَالْعَقْدُ بِأَلْفٍ غَيْرُ الْعَقْدِ بِالْأَكْثَرِ، اور ایک عقد جو الف پر ہے، وہ غیر ہے اس عقد سے جو کتنے پر ہے؟ اکثر کے پر آیا ہے۔ فَبَقِيَ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ شَهَادَةُ فَرْدٍ، تو لہٰذا ہر ایک عقد پر کتنی گواہی باقی رہ گئی؟ ایک فرد کی گواہی، وَلَا تُقْبَلُ، تو گواہی کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے، كَمَا فِي الطَّرَفِ الْآخَرِ، جیسا کہ طرفِ آخر میں۔ خلاصۂ اعتراض یہ ہے بھئی! آپ نے کہا: ایک جانب سے عقد مقصود ہے، لہٰذا گواہی میں اختلاف آئے تو قبول نہیں۔ دوسری طرف سے مال مقصود ہے، تو گواہی میں اگر اختلاف آ بھی جائے، لیکن معنی کے اندر اتفاق ہو، تو گواہی کو کیا کر لیا جائے گا؟ قبول کر لیا جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں بھئی: نہیں، دوسری جانب سے بھی گواہی کس پر دی جا رہی ہے؟ عقد پر۔ کس پر؟ عقد پر، اور جب گواہی عقد پر آ رہی ہے، تو وہاں بھی مال مقصود نہ ہوا، بلکہ کیا مقصود ہوا؟ عقد مقصود ہوا۔ تو اب جب ایک گواہ نے گواہی دے دی الف پر، دوسرے نے الف و مائۃ پر، تو الف سے جو عقد آیا، وہ الگ ہے، اور الف و مائۃ پر جو عقد ہوا، وہ الگ ہے۔ تو دونوں عقدوں پر کتنی کتنی گواہیاں ہو گئیں؟ ایک، تو کوئی ایک عقد بھی ثابت نہیں، لہٰذا اس طرف سے بھی گواہی کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ قبول نہیں کرنا چاہیے۔ سمجھ میں آئی صورت بھئی؟ تو گواہی کو اس میں بھی قبول نہیں کرنا چاہیے، حالانکہ آپ کیا کہتے ہیں؟ اس جانب سے اگر اختلاف آ جائے، تو یہ دین کی طرح ہے، اس گواہی کو کیا کر لو؟ قبول کر لو۔ اور صورتِ، تطبیق کی صورت بھی بتلائی بھئی! کہ یہ جو ہم کہتے ہیں ایک گواہ، دین کے اندر ایک گواہ کتنے پر دے رہا ہے؟ الف پر، اور دوسرا کتنے پر گواہی دے رہا ہے؟ الف و مائۃ پر۔ بھئی! یہ ہم کیوں قبول کرتے ہیں؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ تطبیق ممکن ہے۔ تطبیق کیا ہے؟ ممکن ہے، کیسے؟ بھئی ہو سکتا ہے دو، ایک الف کی گواہی اس لیے دے رہا ہے کہ اس کے سامنے مدیون نے اقرار ہی کتنے کا کیا تھا؟ الف کا، اور دوسرا 1,100 پر گواہی اس لیے دے رہا ہے کہ مدیون نے اس کے سامنے اقرار بھی کتنے کا کیا تھا؟ 1,100 کا۔ تو یہ تو اس کے اقرار اس نے کے سامنے جتنا اقرار کیا، اس نے اتنے کی گواہی دی، تو تطبیق آ گئی۔ تطبیق کیا ہوئی؟ کہ اس نے اقرار ہی الگ الگ کیا ہے دونوں کے سامنے۔ یا مولانا! تطبیق کی یہ صورت، کہ ایک گواہ دے رہا ہے 1,100 پر، دوسرا 1,000 پر اس لیے گواہی دے رہا ہے کہ اصل تو دین تھا ہی کتنا؟ 1,100، لیکن وہ جو 100 زائد ہے، اس پر یہ گواہ اس لیے گواہی نہیں دے رہا کہ اس مدیون نے خود اس گواہ کے سامنے کہا تھا کہ وہ مجھے 100 روپیہ کیا کر چکا؟ 1,100 میں سے وہ 100 ادا کر چکا ہے، تو باقی کتنے رہ جاتے تھے؟ 1,000، اس لیے گواہ نے اس کتنے پر گواہی دی؟ یا 100 اس نے معاف کر دیے تھے اس کے سامنے، تو اب اس گواہ نے گواہی کتنے پر دی؟ ایک ہزار، تو تطبیق آ گئی یا نہیں؟ تو دین کے مسئلے میں تطبیق ممکن تھی، لیکن عقد کے مسئلے میں تطبیق ممکن نہیں، اس لیے کہ ایک عقد ہوا ہے ہزار پر، وہ الگ ہوگا، ایک عقد ہوا ہے 1,100 پر۔ یہ نہیں ہو سکتا ایک ہی عقد ہزار پر بھی ہو اور 1,100 پر بھی ہو، اس لیے رد کیا جانا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس مولانا! هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
107 approved lectures · 77 of 107