وَنَائِحَةٍ وَمُغَنِّيَةٍ وَمُدْمِنِ الشُّرْبِ عَلَى الَّهْوِ أَيْ شُرْبِ الْأَشْرِبَةِ الْمُحَرَّمَةِ فَإِنَّ الْأَشْرِبَةَ الَّتِي لَا تَحْرُمُ إِدْمَانُهَا لَا تُسْقِطُ الشَّهَادَةَ مَا لَمْ يُسْكِرْ۔
اچھا بھئی، ان لوگوں کا بیان چل رہا ہے جن کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ اوپر آیا جی، وَكَذَا لَا تُقْبَلُ شَهَادَةُ الْأَجِيرِ وَشَهَادَةُ الْمُخَنَّثِ وَنَائِحَةٍ وَمُغَنِّيَةٍ تو اس کا عطف کس پر ہو رہا ہے؟ وہی اجیر پر عطف ہے بھئی۔
اچھا، اور قبول نہیں کی جائے گی گواہی نائحہ کی بھئی۔ نائحہ کہتے ہیں نوحہ کرنے والی، بین کرنے والی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کسی کے مرنے پر رونے، چیخنے چِلانے والی، کپڑے پھاڑنے والی، رونے والی بھئی، نوحہ بھئی۔ لیکن ہر نوحہ کرنے والی مراد نہیں ہے بھئی۔ ایک عورت ہے اور اس کا کوئی قریبی عزیز فوت ہوا اس نے نوحہ کیا، نہیں بھئی اس سے اس کی عدالت ساقط نہیں بھئی۔ یہ وہ عورتیں مراد ہیں جو باقاعدہ نوحے کے لیے بلائی جاتی ہیں بھئی۔ ان کو پیسے دیے جاتے ہیں، کوئی مر جاتا ہے، بلاتے ہیں، آؤ بھئی اب نوحہ کرو۔ جتنا زیادہ رونا، چیخنا، چلانا ہوگا، اتنا ہی پتہ چلتا ہے کہتے ہیں بھئی کہ بڑا آدمی مرا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو عرب میں یہ ہوتا تھا بھئی بڑا آدمی مرتا تھا بھئی تو وہ زیادہ سے زیادہ رونے والیوں کو بلاتے تھے، خوب کئی دن تک مولانا رونا، چیخنا، چلانا تاکہ سننے والوں کو بھی پتہ چلے کوئی معمولی آدمی نہیں مرا بلکہ بہت بڑا آدمی مرا ہے بھئی۔ تو وہ جو رونے والیاں ہیں جو اجرت پر بلائی جاتی ہیں، وہ مراد ہیں۔ وَنَائِحَةٍ ان کی اجرت، گواہی بھی قبول نہیں ہے۔ وَمُغَنِّيَةٍ اور گانے والی بھئی۔ گانا گانے والی اس کی گواہی بھی قابلِ قبول نہیں بھئی۔
بھئی، ایک عورت ہے ویسے گاتی ہے بھئی۔ ایک تو گانے والی ہے لوگوں کے لیے، ایک ویسے گاتی ہے۔ اس کی عدالت ساقط نہیں بھئی، گھر میں بیٹھی ہوئی ہے ویسے ترنم سے اشعار پڑھ رہی ہے تو اس کی عدالت ساقط، بشرطیکہ اس کی آواز باہر نہ جائے، اگر باہر جاتی ہے اس سے پھر عدالت ساقط ہوگی بھئی۔ ہاں خود گھر میں بیٹھ کر کوئی اشعار وغیرہ کبھی گنگنا لیے، پڑھ لیے اس سے عدالت ساقط نہیں ہوتی۔ تو مغنیہ سے مراد جو گاتی ہے اوروں کے لیے بھئی۔
وَمُدْمِنِ، مدمن بھئی، اَدْمَنَ یُدْمِنُ کا معنی ہے عادی ہونا، مدمن عادی ہو جو عادی۔ وَمُدْمِنِ الشُّرْبِ اور پینے کا جو عادی ہو عَلَى الَّهْوِ۔ کس چیز کا پینا بھئی؟ آگے بتلائیں گے، حرام اشربہ کا پینے والا، وہ چیزیں جو حرام ہیں جن کا پینا جو نشہ آور ہیں بھئی۔ آپ پڑھ چکے ہیں بھئی نشہ آور کئی چیزیں بھئی، شراب ہے، شراب کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں جو نبیذ وغیرہ یہ چیزیں خاص طریقے پر بنائی جاتی ہیں تو ان کا نشہ آ جاتا ہے پھر۔
تو کہتے ہیں تو حرام چیزیں کا پینے کا جو عادی ہے عَلَى الَّهْوِ کس طریقے پر؟ مستی کے طریقے پر بھئی، لہو و لعب کے طریقے پر پیتا ہے بھئی۔ مستی کے طور پر جو حرام چیزوں کے پینے کا عادی ہو، اس کی گواہی قبول نہیں بھئی۔ جی، تفصیل آگے آ رہی ہے۔ خود بتلا رہے ہیں أَيْ شُرْبِ الْأَشْرِبَةِ الْمُحَرَّمَةِ کس چیز کے پینے کا عادی ہو؟ حرام اشربہ کے پینے کا عادی ہو۔ فَإِنَّ الْأَشْرِبَةَ الَّتِي لَا تَحْرُمُ اس لیے کہ وہ اشربہ الَّتِي لَا تَحْرُمُ جو حرام نہیں ہیں، اِدْمَانُهَا لَا تُسْقِطُ الشَّهَادَةَ ان کا عادی ہونا یہ شہادت کو ساقط جو حرام نہیں ہیں ان کا عادی ہو تو اس میں تو کوئی نقصان نہیں ہے، ان کا عادی ہے پیتا رہتا ہے، مثلاً نبیذ ہے مولانا اس میں نشہ نہیں ہے اس کو ایک شخص پیتا رہتا ہے بھئی تو وہ جائز ہے بھئی، اس میں کوئی حرج نہیں۔ تو ان کا پینا شہادت کو ساقط نہیں کرتا، اگرچہ عادی ہو، مَا لَمْ يُسْكِرْ جب تک کہ نشہ وہ نشہ مدہوش نہ کر دے بھئی۔
جی، ہاں اگر وہ بھی چیزیں ہیں جائز چیز ہے لیکن اس کو اتنا زیادہ کثرت سے استعمال کرتا ہے کہ اس کی وہ مقدار کیا لے آتی ہے؟ نشہ لے آتی ہے بھئی۔ تو پھر اس کا عادی ہونا یہ شہادت کو ساقط کر دے گا۔ چنانچہ کہتے ہیں بَلْ إِدْمَانُ السُّكْرِ يُسْقِطُ بلکہ نشے کا عادی ہونا ان سے یہ ساقط کر دیتا ہے عدالت کو۔
وَقَدْ ذُكِرَ اور تحقیق یہ ذکر کیا گیا ہے بھئی، بھئی بعض فقہاء فرماتے ہیں عادی ہونے کا یہ معنی نہیں کہ روزانہ پیتا ہو، بلکہ عادی ہونے سے مراد ہے اِدْمَانٌ فِي النِّيَّةِ، نیت کے اندر عادی ہونا ہے۔ کیا معنی نیت کے اندر عادی ہونا؟ بھئی مطلب ایک مرتبہ اس نے پیا اور نشہ ہوا، لذت آئی، اور پھر اس دوبارہ پیا نہیں لیکن نیت ہے کہ جب بھی ملے گا میں دوبارہ کیا کروں گا اسے؟ اتنی لذت آئی کہ اب جب بھی ملے گا میں اس کو ضرور پیوں گا بھئی، تو یہ اِدْمَانٌ فِي النِّيَّةِ ہوا، نیت کے اندر وہ کیا ہوا؟ عادی۔ تو یہ عدالت ساقط ہو گئی۔ وَقَدْ ذُكِرَ اور تحقیق یہ ذکر کیا گیا ہے أَنَّ الْمُرَادَ مِنْ الْإِدْمَانِ کہ ادمان سے مراد جو ہے إِدْمَانٌ فِي النِّيَّةِ، نیت کے اندر عادی ہونا مراد ہے۔ وَهُوَ وہ کیا ہے اِدْمَانٌ فِي النِّيَّةِ؟ کہتے ہیں وَهُوَ أَنْ يَشْرَبَ وہ یہ کہ وہ پیئے گا، وہ یہ کہ وہ پی لے۔ کیا کرے؟ کہ وہ پی لے وَيَكُونَ فِي عَزْمِهِ اور اس کے ارادے میں ہو، پختہ عزم ہو أَنْ يَشْرَبَ کہ وہ پی لے گا كُلَّمَا وَجَدَ جب بھی اس چیز کو پائے گا۔
وَقَالَ الْإِمَامُ السَّرَخْسِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام سرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شُرِطَ مَعَ ذَلِكَ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور شرط بھی ہے، اس کے ساتھ شرط لگائی جائے گی کہ أَنْ يَظْهَرَ ذَلِكَ لِلنَّاسِ کہ وہ چیز لوگوں پر بھی ظاہر ہو۔ لوگوں پر بھی کیا ہو جائے؟ اس نے نشے کے طور پر پی ہے بھئی ایک چیز اور اس کو نشہ چڑھ گیا اور لوگوں پر بھی کیا ہوئی یہ بات ظاہر ہو گئی، پردہ نہیں، چھپ کر پیے اس کی بات الگ ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ شریعت کے احکام ظاہر پر لگتے ہیں، باطن کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے بھئی، باطن انسان کوئی نہیں جانتا بلکہ اللہ اور اس شخص کا معاملہ ہے، شریعت کے جتنے بھی احکام ہیں ظاہر پر لگتے ہیں۔
تو ظاہر بھی ہو لوگوں کے لیے أَوْ يَخْرُجُ السَّكْرَانَ یا نکلے وہ مولانا، جی، اس حال میں کہ وہ کیا ہو؟ مدہوش ہو مولانا۔ یا وہ نکلے کہ وہ مدہوش ہو فَيَسْخَرُ مِنْهُ الصِّبْيَانُ تو مذاق کریں، استہزاء کرتے ہوں اس کے ساتھ بچے بھئی، اتنے نشے میں مدہوش ہے کہ باہر نکلا ہے بچوں کو بھی پتہ چل گیا یہ نشے میں ہے سارے اس سے مذاق وغیرہ کر رہے ہیں۔ حَتَّى أَنَّ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي السِّرِّ یہاں تک کہ جس نے پیا شراب کو فِي السِّرِّ پوشیدہ طور پر لَا تَسْقُطُ عَدَالَتُهُ تو اس کی عدالت ساقط، پوشیدہ طور پر چھپ کر پی لیا کسی کو پتہ ہی نہیں۔
ہاں، یہ تو یہ فرماتے ہیں کہ چھپ کر شراب پی لے تو نہیں، بعض فرماتے ہیں نہیں بھئی شراب کا ایک قطرہ بھی پی لے بھئی کسی بھی صورت کے اندر بھئی، کیا ہو جائے گا؟ اس میں عادی ہونا بھی ضروری نہیں اور چھپ کر کے پینے کی بات بھی نہیں، ہاں اس سے عدالت ساقط۔ وَقَدْ ذُكِرَ فِي الْحَوَاشِي اور تحقیق ذکر کیا گیا حواشی کے اندر أَنَّ هَذَا فِي غَيْرِ الْخَمْرِ کہ یہ جو حکم بیان ہوا بھئی، کہ بطور مستی کے پیے بھئی، یہ کس کے اندر ہے؟ شراب کے علاوہ میں ہے۔ أَمَّا فِي الْخَمْرِ فَلَا يُحْتَاجُ إِلَى قَيْدِ الَّهْوِ تو وہ محتاج نہیں ہے لہو کی قید کی، وہاں مستی کے طور پر پینا ضروری نہیں ہے بلکہ جیسے تیسے بھی پی لے بھئی، کیا ہو جائے گی اس کی عدالت؟ ساقط ہو جائے گی۔ أَقُولُ، صاحبِ شرحِ وقایہ علامہ صدر الشریعہ اب فرماتے ہیں أَقُولُ میں کہتا ہوں لَا بُدَّ فِي الْخَمْرِ مِنْ قَيْدِ الشُّرْبِ بِطَرِيقِ الَّهْوِ کہ شراب کے اندر بھی بھئی لہو کے طریقے پر پینے کی قید ضروری ہے بھئی، وہاں بھی مستی کے طور پر پیے پھر۔ کیوں بھئی مستی کے علاوہ بھی تو پی سکتا ہے، کیسے؟ کہتے ہیں فَإِنَّ شُرْبَهَا لِلتَّدَاوِي اس لیے کہ شراب کا پی لینا بطور علاج کے بھئی، بِأَنْ قَالَ لَهُ الْأَطِبَّاءُ لَا عِلَاجَ لِمَرَضِكَ إِلَّا الْخَمْرُ، ماہر حکیم اس کو کہہ دیتے ہیں تیرے مرض کا اور کوئی علاج نہیں ہے سوائے کس کے بھئی؟ شراب کے، تو اس صورت کے اندر فَحُرْمَتُهَا مُخْتَلَفٌ فِيهَا شراب کی حرمت کیا ہو جائے گی؟ مختلف فیہ ہو جائے گی بھئی، جب ماہر حکیم کہہ دے بھئی، ماہر طبیب کہہ دے تو پھر شراب کی حرمت مختلف فیہ ہو گئی، بعض کہتے ہیں اب یہ حلال ہو گئی، حرام رہی ہی نہیں بچی، کیونکہ یہ کس لیے ضروری ہے اس کے مرض کے علاج کے لیے، بعض کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ شراب کسی صورت میں حلال نہیں بھئی، تو وہ پھر بھی حرام قرار دیتے ہیں، تو مسئلے میں اختلاف آ گیا اور اب اختلاف آ جائے تو پھر اتنی شدت نہیں رہتی بھئی۔ تو اس صورت تو اس کی حرمت اس صورت میں مختلف فیہ ہے وَلَا تُسْقِطُ الشَّهَادَةَ اور وہ شہادت کو پھر ساقط نہیں کرتی جی۔
وَكَذَالِكَ مَنْ يَجْلِسُ مَجَالِسَ الْفُجُورِ وَالشُّرْبِ اسی طرح جو شخص بھئی فسق و فجور کی مجلسوں میں بیٹھتا ہے، ناچنے گانے والی مثلاً مجلسیں ہیں اور گناہوں والی مجلسیں ہیں، وَالشُّرْبِ یا حرام چیزیں پینے والی مجلسوں میں بیٹھتا ہے لَا تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ اس کی شہادت بھی قبول نہیں ہے وَإِنْ لَمْ يَشْرَبْ اگرچہ وہ پیتا نہ ہو بھئی، اگرچہ وہ نہ پیے لیکن ان مجلسوں میں بیٹھتا ہے پینے والی تو اس کی گواہی بھی قبول نہیں۔
وَمَنْ يَلْعَبُ بِالطُّيُورِ اور اسی طرح وہ شخص جو پرندوں کے ساتھ کھیلتا ہے بھئی، یعنی کبوتر رکھے ہوئے ہیں بھئی، ویسے ہی بھئی تفریح کے طور پر اور سمجھ میں آیا؟ تو یہ ضیاعِ وقت وغیرہ ہوتا ہے اس میں بھئی۔ کبوتر رکھے ہیں اور پرندے رکھے ہوئے ہیں بھئی ان کی گواہی بھی قبول نہیں ہے بھئی۔ أَوْ بِالطَّنْبُورِ یا جو کس کے ساتھ کھیلتا ہے بھئی؟ طنبور کہتے ہیں وہ موسیقی کا آلہ ہے بھئی جس پہ، جس کو غالباً ستار کہتے ہیں بھئی۔ جس پر وہ تاریں لگی ہوتی ہیں جن کو ہلایا جائے انگلیوں سے تو آواز نکلتی ہے۔ لیکن صرف طنبور نہیں مراد، ہر آلہِ لہو مراد ہے، موسیقی کا ہر آلہ مراد ہے، جو ان کے ساتھ کھیلتا ہو یعنی ان کو اس میں بجاتا وغیرہ ہے۔ أَوْ يُغَنِّي لِلنَّاسِ یا کیا کرتا ہے بھئی؟ لوگوں کے لیے گاتا ہے بھئی۔ وہ شخص جو، بھئی یہ کیا معنی؟ سیدھی طرح ماتن کہہ دیتے جو گاتا ہو اس کی گواہی قبول نہیں، یہ لِلنَّاسِ کی قید کیوں لگائی، لوگوں کے لیے گاتا ہو؟ کہتے ہیں إِنَّمَا قَالَ لِلنَّاسِ ماتن نے لِلنَّاسِ کہا لِأَنَّ مَنْ يُغَنِّي لِدَفْعِ الْوَحْشَةِ عَنْ نَفْسِهِ اس لیے کہ وہ جو گاتا ہے وحشت کو دور کرنے کے لیے اپنے نفس سے لَا يَسْقُطُ الْعَدَالَةُ اس کی عدالت ساقط نہیں ہوتی، جو بھئی خود اکیلا ویسا بیٹھا ہے، بیٹھے بیٹھے ویسے گانا گا رہا ہے، لوگوں کے لیے نہیں گا رہا تو اس کی گواہی ساقط نہیں بھئی۔
أَوْ يَرْتَكِبُ مَا يُحَدُّ بِهِ اسی طرح وہ شخص بھئی جو ارتکاب کرتا ہے ما اس گناہ کا يُحَدُّ بِهِ جس کی وجہ سے کیا لگائی جاتی ہے؟ حد لگائی جاتی ہے، اس کی گواہی بھی قابلِ قبول نہیں۔ أَوْ يَدْخُلُ الْحَمَّامَ بِلَا إِزَارٍ یا وہ شخص جو مولانا حمام کے اندر کیا ہوتا ہے؟ حمام میں بِلَا إِزَارٍ بغیر شلوار کے داخل ہوتا ہے بھئی۔ بھئی حمام بڑا کمرہ ہوتا ہے جس کے اندر بہت سے لوگ نہاتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس قسم کا مراد ہے۔ اور تو وہاں ہر ایک کا ستر ڈھانپنا تو ضروری ہے، تو کوئی شخص ایسا ہے جو پرواہ ہی نہیں کرتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ شلوار باہر ہی اتار دی بھئی، چلو بے فکر ہو کے اندر جا رہا ہے، سب کے سامنے نہا رہا ہے، نہیں بھئی، یہ تو ستر کا چھپانا تو ضروری ہے، تو حرام فعل کر رہا ہے اس کی گواہی قبول نہیں۔ أَوْ يَأْكُلُ الرِّبَا یا کیا کرتا ہے مولانا؟ جو سود کھاتا ہے، سود خور کی گواہی بھی قبول نہیں ہے۔ بھئی مطلق سود خور نہیں مراد، آگے بتلا رہے ہیں شُرِطَ فِي الْمَبْسُوطِ مبسوط کتاب میں شرط لگائی گئی ہے أَنْ يَكُونَ مَشْهُورًا بِأَكْلِ الرِّبَا کہ وہ مشہور ہو اکلِ ربا میں بھئی۔ سب کو پتہ ہو یہ آدمی کس قسم کا ہے؟ سود خور ہے۔ ہاں اگر مشہور نہیں ہے پھر نہیں بھئی۔ کہتے ہیں اس لیے کہ انسان سود سے بچے نہیں، بڑا مشکل ہے سود سے بچے بھئی، دن رات بیوع وغیرہ معاملات کرتا ہے تو کہیں نہ کہیں سود آ جائے گا اور اسے پتہ بھی نہیں چلے گا۔ تو مشہور ہونا ضروری ہے، پھر وہ گواہی قابلِ قبول نہیں اس کی۔ لِأَنَّ الْإِنْسَانَ قَلَّمَا يَنْجُو عَنْ الْبُيُوعِ الْفَاسِدَةِ اس لیے کہ انسان بہت کم نجات پاتا ہے بیوعِ فاسدہ سے، کئی دفعہ کیا کر لیتا ہے؟ بیعِ فاسد کر لیتا ہے اسے علم بھی نہیں ہوتا کسی وجہ سے وَكُلُّ ذَلِكَ رِبًا اور یہ سارا کیا ہے؟ ربا، جو بیوعِ فاسدہ بھی کس میں ہے؟ ربا میں داخل ہیں۔
أَوْ يُقَامِرُ بِالنَّرْدِ أَوْ بِالشَّطْرَنْجِ أَوْ تَفُوتُهُ الصَّلَاةُ بِهِمَا، قَامَرَ يُقَامِرُ کا معنی جوا کھیلنا، جوا کھیلنا۔ یا وہ شخص کیا کرتا ہے؟ جوا کھیلتا ہے بِالنَّرْدِ، نرد بھئی، نرد کھیل ہے بھئی، چوسر کہتے ہیں اس کو بھئی۔ کوئی کھیل ہے بھئی، یہ اسی طرح شطرنج، لڈو وغیرہ جیسا ہی کوئی کھیل ہے بھئی۔ تو یہ کھیلتا ہے مولانا، جی، أَوْ بِالشَّطْرَنْجِ یا کیا کس چیز کے ساتھ جوا لگاتا ہے بھئی؟ شطرنج میں أَوْ تَفُوتُهُ یا جوا تو نہیں لگاتا لیکن تَفُوتُهُ الصَّلَاةُ بِهِمَا ان دونوں کی وجہ سے اس کی کیا ہوتی ہے؟ نماز فوت ہو جاتی ہے، تو اس کی گواہی بھی قابلِ قبول نہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ جو نرد کھیلنے والا ہے اور شطرنج کھیلنے والا ہے، یاد رکھو بھئی، تفصیلِ کلام یوں ہے کہ شطرنج جو ہے اس میں گنجائش ہے کھیلنے کی بشرطیکہ اس میں جوا نہ ہو اور اس کی وجہ سے نماز فوت نہ ہوتی ہو۔ شطرنج کھیلنے کی گنجائش کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے ہاں اس کا کھیلنا جائز ہے، لیکن ہم نے پھر کیا قید بڑھا دی کہ اس کی وجہ سے نماز فوت نہ ہوتی ہو، جماعت نکل گئی ہے اسے پرواہ ہی نہیں ہے وہ کھیل رہا ہے بھئی، جماعت نکل گئی نماز کا وقت ہی سارا نکل گیا۔ یا جوا کھیلتا ہے تو پھر جائز نہیں، جبکہ نرد کے بارے میں یاد رکھو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ نرد مطلقاً جو کھیلے گا چاہے اس میں جوا ہو یا نہ ہو، نماز فوت ہو یا نہ ہو بھئی، یہ ہر حال میں عدالت کو ساقط کر دیتا ہے، اس کا کھیلنا کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔ باقی اس کے ساتھ جو قیدیں آ گئیں کہ جوا لگا ہو یا نماز فوت ہوتی ہو یہ قیدیں اتفاقی ہے۔ یعنی عموماً ہوتا ایسا ہی ہے، اس کی وجہ سے کیا ہوتی ہے؟ ان پر کیا ہوتا ہے؟ جوا بھی لگتا ہے اور نماز وغیرہ بھی رہ جاتی ہے۔ یہ معنی ہے أَوْ يُقَامِرُ بِالنَّرْدِ أَوْ بِالشَّطْرَنْجِ یا جوا کھیلتا ہو نرد اور یا شطرنج کے ساتھ أَوْ تَفُوتُهُ الصَّلَاةُ بِهِمَا یا ان دونوں کی وجہ سے اس کی نماز فوت ہو جاتی ہے۔ قَالَ فِي الْهِدَايَةِ ہدایہ میں صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں أَوْ يُقَامِرُ بِالنَّرْدِ أَوْ بِالشَّطْرَنْجِ کہ یا وہ جوا کھیلتا ہو بالنرد، نرد کے ساتھ یا شطرنج کے ساتھ، یہ بات صاحبِ ہدایہ میں بھی ہے۔ ثُمَّ قَالَ پھر آگے وہ فرماتے ہیں، یہی تفصیل جو میں نے بیان کی وہ بیان کر رہے ہیں۔ ثُمَّ قَالَ پھر صاحبِ ہدایہ نے وہاں پر فرمایا ہے فَأَمَّا مُجَرَّدُ اللَّعِبِ بِالشَّطْرَنْجِ فَلَيْسَ بِفِسْقٍ کہ محض کھیلنا شطرنج جو ہے یہ فسق نہیں، شطرنج صرف کھیلنا یہ فسق نہیں ہے۔ ایسا فسق مَانِعٍ لِقَبُولِ الشَّهَادَةِ جو مانع ہو کس سے؟ قبولِ شہادت سے، یہ ایسا فسق نہیں ہے۔ لِأَنَّ لِلإِجْتِهَادِ فِيهِ مَصَاغًا اس لیے کہ اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ شطرنج میں کیا ہے؟ اجتہاد کی گنجائش ہے، کیونکہ ہمارے نزدیک جائز نہیں تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے، تو ہمارے نزدیک شطرنج کا کھیلنا فسق ہے لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کھیلنا جائز ہے تو اختلاف آ گیا فقہاء کا، معلوم ہوا اس مسئلے میں اتنی شدت، اس میں اجتہاد کی گنجائش تھی، تو یہ ایسا فسق نہیں ہے جو قبولِ شہادت سے مانع ہو۔ تو کہتے ہیں فُهِمَ مِنْ هَذَا صاحبِ ہدایہ کی اس بات سے یہ سمجھ میں آتا ہے أَنَّ فِي النَّرْدِ لَا يُشْتَرَطُ الْمُقَامَرَةُ کہ نرد کے اندر جوئے کی شرط نہیں لگائی جائے گی۔ أَوْ فَوْتُ الصَّلَاةِ، لَا يُشْتَرَطُ الْمُقَامَرَةُ أَوْ فَوْتُ الصَّلَاةِ یا نماز کے فوت ہونے کی شرط وہاں پر نہیں ہے۔ فَقَيْدُ الْمُقَامَرَةِ أَوْ فَوْتِ الصَّلَاةِ فِي النَّرْدِ وَقَعَ اتِّفَاقًا تو یہ جو جوئے کی یا نماز فوت ہونے کی شرط نرد میں آئی ہے یہ کس قسم کی ہے؟ یہ اتفاقاً واقع ہوئی ہے۔ وَفِي الذَّخِيرَةِ اور ذخیرہ کتاب کے اندر ہے مَنْ يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ فَهُوَ مَرُْدُودُ الشَّهَادَةِ عَلَى كُلِّ حَالٍ جو نرد کھیلتا ہے وہ مردود الشہادت ہے ہر حال میں، وہ ہر حال میں مردود الشہادت ہے۔
أَوْ يَبُولُ عَلَى الطَّرِيقِ، یا وہ شخص کیا کرتا ہے بھئی؟ راستے میں پیشاب کرتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ گھڑ، ردی، گھٹیا افعال میں سے ہیں، بڑے ادنیٰ افعال ہیں مولانا! اور، تو یہ معلوم ہوا بے مروت قسم کا آدمی ہے، أَوْ يَأْكُلُ فِيهِ، یا راستے میں کھاتا ہے، أَوْ يُظْهِرُ سَبَّ السَّلَفِ، یا سَبَّ کا معنیٰ گالی دینا، سب و شتم کرنا۔
أَوْ يُظْهِرُ سَبَّ السَّلَفِ، یا سلفِ صالحین کو گالی گلوچ ظاہر کرتا ہے، یعنی ان کو گالیاں وغیرہ دیتا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
سلف سے کون مراد ہیں؟ بتلا رہے ہیں بھئی: أَيِ الصَّحَابَةِ، صحابہ مراد ہیں، وَالْعُلَمَاءِ الْمُجْتَهِدِينَ الْمَاضِيِينَ، اور وہ علماء جو مجتہدین تھے، زمانۂ ماضی میں جو گزرے ہیں، رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ، ان سب پر اللہ کی رضامندی ہو، اللہ ان سب سے راضی ہو۔
وَلَوْ شَهِدَ ابْنََانِ، اگر گوا، وَلَوْ شَهِدَ ابْنََانِ، اگر گواہی دی دو بیٹوں نے أَنَّ الْأَبَ أَوْصَى إِلَى زَيْدٍ، کہ باپ نے وصیت کی تھی زید کی طرف، یعنی اس کو وصی بنایا تھا، وَهُوَ يَدَّعِيهِ، صورتِ مسئلہ یہ ہے: ادھر دیکھو بھئی!
ایک شخص فوت ہو چکا ہے، اور اس کے دونوں بیٹے گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے باپ نے مرنے سے پہلے اپنی جائیداد کا نگران کس کو بنا دیا تھا؟ زید کو، زید کو۔
اچھا! تو بھئی دیکھو! اب یہ گواہی دے رہے ہیں ایسے مسئلے میں جس میں ان کا اپنا نفع ہے، اور جس چیز میں انسان کا اپنا نفع ہوتا ہے وہاں پر اس کی گواہی قابلِ قبول نہیں۔ آپ نے پڑھا نہیں؟ بیٹے کی گواہی باپ کے لیے، باپ کی بیٹے کے لیے، میاں کی بیوی کے لیے، بیوی کی میاں کے لیے گواہی قابلِ قبول نہیں، کیونکہ ان میں سے ایک کا نفع دراصل کیا ہوتا ہے؟ دوسرے کا بھی نفع ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی بیٹے دراصل کیا کر رہے ہیں؟ ان کا نفع ہے، یہ چاہتے ہیں ہماری جائیداد کا نگران کوئی اور ہو جائے، ہم مزے سے کیا کریں؟ کھائیں پیئیں بس بھئی، اور کام کچھ بھی نہ کرنا پڑے۔ تو یہ ان کے نفع ہے، ان کی جائیداد کی حفاظت ہو گی مولانا!
تو کیا یہ گواہی قبول کی جائے گی؟ کہتے ہیں: ہاں بھئی! یہ گواہی کیا کر لی جائے گی؟ قبول کی جائے گی، بشرطیکہ زید بھی دعویٰ کرے، اس کا اقرار کرے کہ مجھے کیا کیا تھا؟ واقعی ان کے والد نے اپنی جائیداد کا وصی بنایا تھا، نگران بنایا تھا، زید بھئی۔ لیکن اگر وہ انکار کر دیتا ہے تو پھر ان کی گواہی کیا کی جائے گی؟ رد۔ بھئی! یہ قبول کیوں کی جائے گی، حالانکہ اس میں تو انہی کا فائدہ ہے؟ کہتے ہیں بھئی! وجہ یہ ہے کہ قاضی نے ویسے بھی وصی تو مقرر کرنا ہی ہے، جب اولاد چھوٹی ہو گئی، سمجھ میں آیا؟ یا، تو اس قسم کے مسائل وغیرہ میں قاضی کو کیا کرنا پڑتا ہے؟ وصی تو اس نے مقرر کرنا ہی ہے، تو قاضی کا اپنا فائدہ ہے، جب اس نے مقرر کرنا ہی ہے اور یہ دونوں بھی کہہ رہے ہیں اس کو مقرر کیا تھا، وہ بھی اقرار کر رہا ہے، تو قاضی کی مع، قاضی کا اپنا نفع ہوا، تو لہٰذا، تو وہ وصی چونکہ متعین کرنے کا اس کو اختیار تھا خود بھی قاضی کو، تو وہ اس کو مقرر کر دے گا، یہ اپنے اختیار سے بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہ اس مسئلے کی صورت، یہ صورتِ مسئلہ تھی۔ وَلَوْ شَهِدَ ابْنََانِ، اگر گواہی دی دو بیٹوں نے أَنَّ الْأَبَ أَوْصَى إِلَى زَيْدٍ، کہ باپ نے وصیت کی تھی، کس کی تھی یہ، کس کی بھئی؟ یعنی زید کو وصی بنایا تھا، وَهُوَ يَدَّعِيهِ، اس حال میں کہ زید بھی اس کا دعویٰ کرتا ہے کہ واقعی مجھے کیا بنایا تھا؟ صَحَّتْ، تو یہ کیا ہے گواہی؟ صحیح ہے۔ وَإِنْ أَنْكَرَ، اور اگر زید انکار کرتا ہے، لَا، پھر گواہی قابلِ قبول نہیں۔ دیکھیے! خود تفصیل بتا رہے ہیں: أَيْ إِنْ شَهِدَا، اگر گواہی دی دونوں بیٹوں نے أَنَّ الْأَبَ جَعَلَ زَيْدًا وَصِيًّا فِي تَرِكَتِهِ، کہ باپ نے جو ہے زید کو وصی بنایا تھا اپنے ترکے کے اندر، وَهُوَ يَدَّعِي، اور زید بھی یہ دعویٰ کرتا ہے أَنَّهُ وَصِيٌّ، کہ وہ وصی ہے، صَحَّتْ شَهَادَتُهُمَا، تو دونوں بیٹوں کی شہادت کیا ہے؟ صحیح ہے۔ وَإِنَّمَا قَالَ: وَهُوَ يَدَّعِيهِ، ماتن نے یہ جو قید لگائی نا کہ وہ زید بھی اس کا دعویٰ کرتا ہو، یہ کیوں لگائی؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَوْ أَنْكَرَ، اگر یہ زید انکار کرتا ہے تو لَا تُقْبَلُ الشَّهَادَةُ، پھر ان کی گواہی قابلِ قبول نہیں۔
تو، تو ان دو بیٹوں کی گواہی قابلِ قبول ہے كَشَهَادَةِ دَائِنِ الْمَيِّتِ وَمَدْيُونِهِ وَالْمُوصَى لَهُمَا وَوَصِيَّيْهِ، وَوَصِيَّيْهِ مولانا! دو یا ہونی چاہیے یہاں پر بھئی۔ وَوَصِيَّيْهِ عَلَى الْإِيصَاءِ۔
دیکھو بھئی! بھئی وصی کے بارے میں دو بیٹوں کی گواہی قابلِ قبول ہے یا قابلِ قبول نہیں؟ جی؟ قابلِ قبول ہے، کب قابلِ قبول ہے؟ جبکہ وصی بھی کیا کرے؟ اس کا دعویٰ کرے، اگر وہ انکار کرے تو پھر گواہی قابلِ قبول نہیں۔ اسی طرح جیسے مولانا! ایک ہے قرض خواہ، ایک ہے قرض دار، قرض خواہ اور قرض دار میں فرق جانتے ہو؟ میں نے زید سے ایک لاکھ روپیہ بطورِ قرض کے لیا، تو وہ ہوا قرض خواہ، اب وہ مجھ سے آ کر کہے گا: لاؤ بھئی! میرا قرضہ واپس کرو، اور میں ہوا قرض دار اس کا بھئی، کیا ہوا؟ قرض دار۔
تو قرض خواہ کو کہتے ہیں دائن، اور قرض دار کو کیا کہتے ہیں؟ مدیون بھئی۔
تو بھئی! ایک میت کے دائن نے بھی آ کر کہا کہ میت نے زید کو وصی بنایا تھا، اور مدیون نے بھی کہا کہ میت نے کس کو وصی بنایا تھا؟ زید کو، تو، اور وہ وصی بھی دعویٰ کرتا ہے کہ واقعی میت نے مجھے کیا کیا تھا؟ تو ان دونوں کی گواہی بھی قابلِ قبول، قبول کی جائے گی، کیونکہ وصی بھی کیا کر رہا ہے؟ اسی بات کا، اور اگر وہ انکار کرے گا تو اس کی گواہی، ان کی گواہی کیا کی جائے گی؟ رد۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو اس میں بھی اگرچہ ان دونوں کا فائدہ ہے، اور جس چیز میں کسی انسان کا فائدہ ہو اس میں اس کی گواہی قبول نہیں ہوتی، تو یہاں بھی دائن اور مدیون کا فائدہ ہے، لیکن پھر بھی کیا کر لی جائے گی گواہی؟ قبول کی جائے گی، کیونکہ قاضی نے مقرر تو کرنا ہے ہی کسی نہ کسی کو بھئی، تو اس کی، قاضی کی اعانت ہو گئی، مدد ہو گئی۔
یا بھئی! دو ہیں، دو آدمی بھئی دو، انہوں نے کہا کہ زید نے ہم، کہ زید، ان کے لیے زید نے وصیت کی ہے، زید نے کیا کہا تھا؟ میرے مال میں سے ایک لاکھ روپیہ بقر کو دے دینا، ایک لاکھ روپیہ خالد کو دے دینا، بقر اور خالد کے لیے زید نے وصیت کی بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ تو یہ موصیٰ لہُ ہوا، ان میں سے ہر ایک کون ہوا؟ موصیٰ لہُ بھئی، جس کے لیے وصیت کی گئی، انہوں نے آ کر گواہی دے دی کہ قاضی صاحب!
میت نے کس کو؟ ایک تیسرے آدمی کے بارے میں، اس کو وصی بنایا تھا، تو ان کی گواہی بھی قابلِ قبول ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اگرچہ اس میں ان کا فائدہ ہے بھئی، وہ وصی آئے گا نگران بنے گا، پھر وہ وصیت نافذ کرے گا اور ان دونوں کو ان کے پیسے کیا ہوں گے؟ ترکے میں سے مل جائیں گے، تو ان کا فائدہ ہے، لیکن پھر بھی ان کی گواہی قبول، کیوں؟ کیونکہ قاضی نے بہرحال وصی کو تو کیا کرنا ہے؟ مقرر کرنا ہی ہے بھئی۔
یا مولانا! دو وصی ہیں، دو وصی بھئی۔ میت نے دو آدمیوں کو اپنے ترکے کا نگران بنایا، ان دونوں نے آ کر گواہی دی کہ میت نے صرف ہم دو کو نہیں بنایا، بلکہ تیسرا جو زید ہے اس کو بھی کیا بنایا ہے؟ وصی بنایا ہے۔ تو بھئی! اب یہ بھی تیسرے کو اپنے ساتھ ملا کر اپنے اوپر سے بوجھ کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ہلکا کرنا چاہتے ہیں، تو ان کا فائدہ ہے، لیکن ان کی گواہی قبول کی جائے گی، کیونکہ قاضی نے بہرحال وصی کو مقرر کرنے کا اختیار کس کو ہے؟ قاضی کو ہے تو بھئی، تو اس کی مدد ہو گئی۔
صورتیں سمجھ میں آ گئیں بھئی؟ كَشَهَادَةِ دَائِنِ الْمَيِّتِ وَمَدْيُونِهِ، جی، تو وہ بیٹوں کی گواہی قبول کی جائے گی جیسے کہ گواہی قبول کی جائے گی دائن المیت، میت کے قرض خواہ کی، ومدیونہ، اور میت کے مقروض کی بھئی، قرض دار کی، والموصٰى لهما، اور جیسے گواہی جن کی بھئی، موصیٰ، دو، جی، دو، دونوں بھئی موصیٰ لہُ ہیں ان کی گواہی بھی جیسے قبول کی جائے گی، ووصييه، اور جیسے میت کے، میت کے کیا ہیں بھئی؟ دو وصی ہیں، ان کی گواہی ہے کہ وہ بھی قبول کی جائے گی، عَلَى الْإِيصَاءِ، کس پر بھئی؟ ان ساروں کی گواہی کس پر بھئی؟ ایصاء، وصی بنانے پر، ان ساروں کی گواہی وصی بنانے پر، بھئی دائن اور مدیون نے کس چیز کا دعویٰ کیا تھا؟ کہ زید وصی ہے، موصیٰ لہما دونوں نے کس چیز کا دعویٰ کیا تھا؟ کہ زید وصی ہے، دونوں وصیوں نے کس چیز کا دعویٰ کیا ہے؟ کہ زید، تو وصی پر، ساروں کی گواہی علی ایصاء، ایصاء وصی بنانے پر قبول کی جائے گی۔ أَيْ صَحَّتْ شَهَادَةُ هَؤُلَاءِ، یعنی ان ساروں کی گواہی صحیح ہے، إِذَا ادَّعَى زَيْدٌ، جب زید بھی یہ دعویٰ کرے أَنَّهُ وَصِيٌّ، کہ وہ کیا ہے؟ اگر وہ انکار کر دے تو جیسے بیٹوں کے گواہی رد تھی، ان سب کی گواہی بھی رد ہے۔
وَإِنْ شَهِدَا أَنَّ أَبَاهُمَا الْغَائِبَ وَكَّلَهُ بِقَبْضِ دَيْنِهِ وَادَّعَى الْوَكِيلُ أَوْ جَحَدَا رُدَّتْ بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی:
زید، زید بھئی کراچی میں رہتا ہے بھئی، یا یوں کہیں باہر رہتا ہے بھئی، سعودی عرب میں، سعودیہ میں وہ رہتا ہے۔ ادھر پاکستان میں بھئی اس کے دو بیٹوں نے دعویٰ کر دیا قاضی کے پاس کہ قاضی صاحب! یہ جو خالد ہے اس نے ہمارے باپ کے دس لاکھ روپے دینے ہیں۔
زید کے بیٹوں نے کیا دعویٰ کر دیا؟ کہ خالد نے ہمارے باپ کے کتنے پیسے دینے ہیں؟ دس لاکھ روپے دینے ہیں، تو اب ان کا باپ ہے اس وقت غائب بھئی، کہاں پر ہے وہ؟ سعودیہ میں۔ تو، تو ہمارا باپ تو وہاں پر ہے، اور لیکن اس نے اس بقر کو وکیل بنایا ہے اپنا، ہمارے باپ نے کیا کیا ہے؟ اس بقر کو وکیل بنایا ہے کہ تم جا کر یہ خالد سے میرے دس لاکھ روپے وصول کر لو۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
کون کس کا وکیل ہے اور کس سے پیسے وصول کرنے ہیں؟ دونوں بیٹوں نے یہ گواہی دی ہے کہ یہ جو خالد نے کتنے دینے تھے؟ دس لاکھ دینے ہیں ہمارے، میرے، ہمارے باپ کے، ہمارے والد کے، اور یہ بقر کیا ہے اس کا ہمارے والد نے کیا بنایا ہے اس کو؟ وکیل بنایا ہے، یہ اس سے پیسے وصول کرے گا۔ تو کہتے ہیں: اس صورت میں گواہی قبول نہیں، رد کی جائے گی، چاہے وکیل کہے: ہاں! اس نے مجھے کیا بنایا ہے؟ چاہے وکیل اقرار کرے، دعویٰ کرے یا ان کا، رد، انکار کرے، دونوں صورتوں میں قبول، اوپر والے صورتوں میں تو کیا تھا؟ اگر وصی دعویٰ کرتا تھا تو اس کے، ان کی گواہی قبول تھی، اگر وہ انکار کرتا تھا تو گواہی مردود تھی، لیکن یہاں پر دونوں صورتوں میں مردود ہے، چاہے وکیل دعویٰ کرے وکیل ہونے کا، چاہے انکار کرے اس کا۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
جی! کیوں؟ بھئی اس لیے کہ بھئی زید خود غائب ہے۔ اور قاضی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی کی جانب سے کسی کو کیا مقرر کر دے؟ وکیل مقرر، وصی مقرر کرنے کا تو اختیار ہوتا تھا قاضی کو، کیونکہ وہ شخص مر چکا ہے، تو اب قاضی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی طرف سے کسی نگران کو مقرر کرے، لیکن ایک شخص جب خود غائب ہے، لیکن ہے تو زندہ، اس کی طرف سے قاضی کسی کو وکیل نہیں بنا سکتا، معلوم ہوا یہ بیٹے باپ کے مال کو ہڑپ کرنا چاہتے ہیں بھئی، خدشہ ہے کہ شاید یہ اس کے ذریعے کیا کریں گے؟ اس وکیل کو انہوں نے خود تیار کیا ہے کہ پانچ لاکھ تجھے دے دیں گے، باقی پانچ لاکھ ہم لے لیں گے، تم بس گواہی دے دو، وکیل، تیار ہو جاؤ وکیل ہونے کا اقرار کرنا، دعویٰ کرنا۔
وَإِنْ شَهِدَا، اور اگر دونوں بیٹوں نے گواہی دی أَنَّ أَبَاهُمَا الْغَائِبَ، کہ ان کا وہ باپ جو کہ غائب ہے، وَكَّلَهُ بِقَبْضِ دَيْنِهِ، اس نے وکیل بنایا ہے اپنے دین پر قبضہ کرنے کا بھئی، کسی شخص کو کیا کیا ہے؟ اپنے دین پر قبضہ کرنے کا وکیل بنایا ہے، وَادَّعَى الْوَكِيلُ، اور وکیل نے بھی کیا کیا اسی بات کا دعویٰ کیا، أَوْ جَحَدَا، یا چاہے اس نے انکار کیا، چاہے دعویٰ کرے یا انکار کرے، رُدَّتْ، دونوں صورتوں میں دونوں بیٹوں کی گواہی رد کی جائے گی۔ لِأَنَّ الْقَاضِيَ لَا يَمْلِكُ نَصْبَ الْوَكِيلِ عَنِ الْغَائِبِ، اس لیے کہ قاضی مالک نہیں ہے کہ وکیل مقرر کرے غائب کی طرف سے۔ فَلَوْ ثَبَتَتِ الْوَكَالَةُ، اگر وکالت ثابت بھی ہو تَثْبُتُ بِشَهَادَتِهِمَا، تو کس کی وجہ سے ثابت ہو گی؟ ان دونوں کی، ان دونوں کے بیٹوں کی گواہی کی وجہ سے ثابت ہو گی۔ فَلَا يُمْكِنُ ثُبُوتُهَا بِهِمَا، تو ممکن ہی نہیں ہے کہ اس توکیل کو ثابت کیا جائے بھئی، ان دونوں کی گواہی کی وجہ سے بھئی۔
تو اس وکالت کو ثابت کیا جائے ان بیٹوں کی گواہی کی وجہ سے، کیوں؟ لِمَكَانِ التُّهْمَةِ، مکان مولانا! مصدرِ میمی ہے بمعنیٰ کون کے، وبمعنیٰ، یعنی وجود کے معنیٰ میں، أَيْ لِوُجُودِ التُّهْمَةِ، تہمت کے پائے جانے کی وجہ سے۔ تہمت کا امکان ہے، تہمت ہے یا نہیں یہاں پر بھئی کہ بیٹے دراصل کیا کرنا چاہتے ہیں؟ مال ہڑپ کرنا چاہتے، تو تہمت، تو اگر ہم وکالت کو مان بھی لیں، وکالت کو ثابت بھی کر لیں، تو یہ وکالت ویسے ثابت ہو گی یا گواہی کی وجہ سے؟ گواہی کی وجہ سے، لیکن گواہی کی وجہ سے اس وکالت کو ثابت نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس میں کس چیز کا خدشہ ہے؟ جی تہمت کا، تہمت کے پائے جانے کی وجہ سے۔ بِخِلَافِ الْإِيصَاءِ، برخلاف کس کے؟ وصی بنانے کے، وہاں قابلِ قبول تھی، کیوں؟ لِأَنَّ الْوَصِيَّ إِذَا ادَّعَى، اس لیے کہ وصی جب دعویٰ کر دیتا ہے يَكُونُ قَبُولُ الشَّهَادَةِ كَتَعْيِينِ الْوَصِيِّ، تو شہادت کو قبول کرنا، قاضی جو شہادت کو قبول کر رہا ہے اس کے بارے میں كَتَعْيِينِ الْوَصِيِّ، یہ اسی طرح ہے جیسے وہ کیا کر رہا ہے؟ وصی کو متعین کر رہا ہے۔ وَالْقَاضِي يَمْلِكُ ذَلِكَ، اور قاضی اس بات کا مالک ہے کہ کیا کر دے، کسی کے لیے وصی کو، تو وہ وکیل تو مقرر نہیں کر سکتا، لیکن وصی کیا کر سکتا ہے؟ مقرر، تو یہ بھی اسی طرح ہوا، لہٰذا یہ جائز ہوا۔
چلیے مولانا! هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔