وَلاَ يَشْهَدُ مَنْ رَأَى خَطَّهُ وَلَمْ يَذْكُرْ شَهَادَتَهُ، هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى؛ لِأَنَّ الْخَطَّ يُشْبِهُ الْخَطَّ، وَعِنْدَهُمَا يَحِلُّ إِذَا عَلِمَ أَنَّ هَذَا خَطُّهُ.
شہادت کے مسئلے چل رہے ہیں۔ کل آپ نے پڑھا بھئی، کہ وہ چیزیں جن کی گواہی شاہد دے سکتا ہے دو قسم پر ہیں بھئی۔ کچھ وہ ہیں جن کا حکم خود بخود، جو اپنے حکم کو ثابت کر دیتی ہیں بغیر اشہاد کے، بغیر گواہ بنائے ہی۔ اور کچھ کے اندر اشہاد ضروری ہوتا ہے بھئی، کچھ کے اندر اشہاد۔
تو وہ چیزیں جن کے اندر اشہاد ضروری نہیں، جو خود بخود اپنے حکم کو ثابت کر دیتی ہیں، ان میں گواہی دینا جائز ہے اگرچہ گواہ نہ بنایا گیا ہو انسان کو۔ لیکن پھر وہ چیزیں دو قسم پر ہیں: کچھ کا تعلق سماع سے ہے، کچھ کا تعلق رؤیت سے ہے۔ تو وہاں سماع بھی ضروری سماع والے مسئلے میں، اور رؤیت والے مسئلوں میں رؤیت ضروری بھئی۔ مثلاً اقرار ہے اس کو سنا ہو تو گواہی دے سکتا ہے۔ اسی طرح قاضی کے فیصلے کو سنا ہو تو کیا کر سکتا ہے؟ گواہی، اس کا تعلق سماع سے ہے۔ یا بیع میں ایجاب و قبول کو سنا ہے تو اب اس کے بارے میں کیا کر سکتا ہے؟ لیکن کچھ چیزوں کا تعلق رؤیت، دیکھنے سے ہوتا ہے، مثلاً قتل ہوتے ہوئے دیکھا، غصب کرتے ہوئے دیکھا، تو جب اس کا مشاہدہ اس نے کر لیا تو اب اس کے لیے گواہی دینا جائز۔
لیکن دوسرے قسم کے امور جن میں اشہاد ضروری ہوتا تھا، ان میں جب تک اشہاد نہ پایا جائے، وہ شہادت نہیں دے سکتا، مثلاً شہادت علی الشهادة، گواہی پر کیا دینا؟ گواہی۔ تو وہاں اشہاد ضروری ہے، جب تک گواہ بنایا نہ گیا ہو تو یہ گواہی پر گواہی نہیں، اس لیے کیونکہ گواہی خود بخود کسی چیز کو ثابت کرنے والی نہیں ہے، وہ کسی چیز کو اسی وقت ثابت کرتی ہے جب اس کو کہاں پر ادا کیا جائے؟ قاضی کی مجلس میں، قاضی کی مجلس میں پھر یہ چیز کو ثابت کرتی ہے بھئی۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا تھا؟ تو جی۔
آج آپ کو بتلا رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں: وَلاَ يَشْهَدُ مَنْ رَأَى خَطَّهُ وَلَمْ يَذْكُرْ شَهَادَتَهُ. صورتِ مسئلہ یہ: زید آپ کے پاس آتا ہے اور آ کر آپ سے کہتا ہے کہ بھئی، آپ میری اور عمرو کے درمیان بیع ہوئی تھی، اور عمرو نے جی اس بیع کی وجہ سے اب میرا ایک لاکھ روپیہ ادا کرنا ہے، ایک لاکھ روپیہ۔ آپ گواہی دیں آ کر میری اور عمرو کے درمیان جو بیع ہوئی تھی اس کی۔ کوئی بھی مسئلہ ہے، مثلاً وہ آ کر آپ سے کیا کہتا ہے کہ آپ نے آ کر اس میں گواہی دینی ہے۔ آپ پوچھتے ہیں بھئی، کون چھینکا ہے بھئی؟
الحمد للہ کیوں نہیں کہتے آپ بھئی؟ آہستہ کہنے کا عجیب آدمی ہو بھئی! آپ کو ان طلباء کی، ان اولیاء کی دعا کی حاجت نہیں ہے؟ حاجت ہے تو الحمد للہ اونچی آواز سے کہتے، سارے آپ کو دعا دیتے۔ سمجھ میں آیا؟ سنتوں کو اپناؤ بھئی! ادھر بھی، صرف یہاں نہیں، اپنے کمرے میں، گھر میں، ہر جگہ اس کو پھیلاؤ بھئی! بلند آواز سے الحمد للہ کہنا چاہیے، اور پھر جواب دیں سب بھئی۔
اچھا، تو بھئی اس نے آپ سے کہا آؤ بھئی، اس مسئلے کے اندر گواہی دو۔ میں صورت بنا رہا ہوں آپ کے لیے بھئی۔ آپ نے کہا بھئی، مجھے تو کوئی یاد نہیں ہے کہ آپ میں اور عمرو میں کوئی بیع ہوئی تھی۔ پرانی بات ہے بھئی، آپ بھول چکے ہیں۔ وہ آپ کو ایک دستاویز نکال کر دکھاتا ہے، اسٹامپ پیپر یا کوئی چیز دکھاتا ہے آپ کو، دیکھو بھئی! اوپر لکھا ہوا ہے بیع ہوئی ہے عمرو اور اس شخص کے درمیان، اور نیچے آپ نے اپنی گواہی درج کی ہوئی ہے۔ کیا کی ہے اپنی گواہی؟ درج کہ میں بھی اس میں، میں بھی اس بیع کے موقع پر حاضر تھا، اس موقع پر بھئی۔ اب آپ کو وہ حادثہ اور وہ واقعہ، وہ بیع والا یاد نہیں، لیکن دستاویز کے اندر آپ اپنا تحریر دیکھتے ہیں جس میں آپ نے گواہی دی ہے بھئی۔ تو کیا اب آپ کے لیے صرف اس تحریر کی بنیاد پر گواہی دینا جائز ہے؟ آپ قاضی کے پاس جا کر اس بیع کی گواہی دے سکتے ہیں؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی، اس تحریر کی بنا پر آپ جا کر گواہی نہیں دے سکتے بھئی۔ کس کے نزدیک؟ یہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ امام صاحب کے نزدیک صرف اپنے خط پر اعتماد کرتے ہوئے گواہی دینا جائز نہیں جب تک کہ انسان کو وہ واقعہ اچھی طرح یاد نہ ہو بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ دے سکتا ہے بھئی۔ کیا کر سکتا ہے؟ جب یہ اپنی تحریر کو پہچان لے کہ یہ میری ہی تحریر ہے، تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ اگرچہ واقعہ یاد نہ ہو، یہ کیا کر سکتا ہے؟ وہاں جا کر گواہی دے سکتا ہے، کیونکہ جب اس کو پتہ ہے یہ میری تحریر ہے، اور تحریر کے اندر تبدیلی نہیں ہوتی عموماً بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَلاَ يَشْهَدُ گواہی نہ دے، گواہی نہیں دے سکتا مَنْ وہ شخص رَأَى خَطَّهُ جس نے اپنے، خط سے مراد تحریر ہے، جس نے اپنی تحریر کو دیکھا وَلَمْ يَذْكُرْ شَهَادَتَهُ اور اس کو وہ واقعہ، شہادت سے کیا مراد ہے؟ وہ واقعہ، اور اس کو وہ واقعہ یاد نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یا یہ حال بنا لیں: گواہی نہیں دے سکتا جس نے دیکھا اپنی تحریر کو، اس حال میں کہ اس کو وہ واقعہ یاد نہیں۔ هَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ یہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے، لِأَنَّ الْخَطَّ يُشْبِهُ الْخَطَّ اس لیے کہ ایک تحریر مشابہ ہوتی ہے دوسری تحریر کے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: اپنی تحریر پر اعتماد نہ کرے، ہو سکتا ہے یہ کسی اور کی تحریر ہو لیکن ہو اسی کی تحریر کی جیسی بھئی۔ وَعِنْدَهُمَا يَحِلُّ صاحبین فرماتے ہیں: جائز ہے بھئی، إِذَا عَلِمَ جب یہ جانتا ہو أَنَّ هَذَا خَطُّهُ کہ یہ اسی کی اپنی تحریر ہے، لِأَنَّ التَّغْيِيرَ فِيهِ نَادِرٌ اس لیے کہ اس کے اندر تبدیلی کیا ہے؟ نادر ہے بھئی، نادر ہے۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آیا؟
وَقِيلَ کہا گیا ہے۔ وَقِيلَ فِيمَا ذُكِرَ أَنَّهُ لاَ يَشْهَدُ لاَ خِلاَفَ فِيهِ. بعض علماء فرماتے ہیں: نہیں بھئی، یہ جو اوپر متن میں ذکر کیا کہ اس میں اختلاف ہے، امام صاحب فرماتے ہیں گواہی نہیں دے سکتا، صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ گواہی، جبکہ اس کو اعتماد ہے کہ یہ میری ہی تحریر ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں: نہیں بھئی، اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ امام صاحب بھی فرماتے ہیں گواہی دینا جائز نہیں، اور صاحبین بھی کیا فرماتے ہیں؟ جب تک واقعہ یاد نہ ہو، گواہی دینا جائز، کہتے ہیں اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے عدمِ جواز کے اندر، دونوں کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ اختلاف اور مسئلے کے اندر ہے بھئی، اور وہ دوسرا مسئلہ کون سا؟ کہتے ہیں قاضی کو ایک کاغذ ملا بھئی، دستاویز ملی اپنے بستے میں، اپنی فائلوں کے اندر جو اس کے پاس محفوظ ہوتی ہیں، کسی کو کوئی اور وہاں تک پہنچتا نہیں، ان فائلوں میں اس کو کاغذ ملا، اس کاغذ کے، اس کاغذ پر اس گواہ کی گواہی درج ہے۔ قاضی صاحب نے کیا کیا ہے؟ اس کی گواہی کو مقدمہ چل رہا تھا، اس گواہ نے گواہی دی تھی، قاضی نے اس کو لکھ دیا اور نیچے اپنی مہر وغیرہ بھی لگا دی۔ تو کیا قاضی، اب قاضی کو وہ واقعہ یاد نہیں کہ میرے پاس مقدمہ چلا تھا اور اس گواہ نے کیا کی تھی میرے پاس گواہی؟ لیکن کاغذ ملا ہے، اب اس کاغذ پر لکھا گیا ہے کہ اس گواہ نے کیا کیا ہے؟ گواہی۔ تو کیا اب اس گواہ، اس گواہ کی جو تحریر ہے، کاغذ کے اندر جو اس کی گواہی درج ہے، کیا اس پر، اس گواہی پر اعتماد کرتے ہوئے قاضی فیصلہ جاری کر سکتا ہے یا فیصلہ جاری نہیں کر سکتا؟ کہتے ہیں اس میں اختلاف ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: واقعے کا یاد ہونا ضروری، صرف تحریر پر اکتفا کرتے ہوئے قاضی اب فیصلہ جاری نہیں کر سکتا، اسی شہادت پر اکتفا کر لے اور فیصلہ جاری کر دے بھئی، کہتے ہیں مدعی علیہ کے خلاف، کہتے ہیں نہیں، ایسا نہیں کر سکتا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: نہیں، کر سکتا ہے، کیونکہ یہاں قاضی کی مہر لگی ہوئی ہے، اور وہ کاغذ وغیرہ جو ہے، وہ قاضی ہی کی دست رس میں ہے، کوئی اور تو وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتا، تو امید ہے یہ اسی کی تحریر ہوگی، کسی نے کوئی تبدیلی نہیں کی بھئی، محفوظ ہے یہ، لہٰذا اب قاضی فیصلہ جاری کر سکتا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں بھئی، اس واقعے کا یاد ہونا ضروری۔ صورت سب کو سمجھ میں آ گئی؟
وَقِيلَ فِيمَا ذُكِرَ اور کہا گیا ہے کہ وہ جو یہ جو ذکر کیا گیا أَنَّهُ لاَ يَشْهَدُ کہ یہ گواہ گواہی نہیں دے گا لاَ خِلاَفَ فِيهِ یہ جو اوپر متن میں ذکر ہوا کہ یہ گواہی نہیں دے گا، لاَ خِلاَفَ فِيهِ اس کے اندر تو کوئی اختلاف نہیں ہے، اس کے عدمِ جواز میں کوئی اختلاف نہیں، دونوں کے نزدیک جائز نہیں ہے، وَإِنَّمَا الْخِلاَفُ فِيمَا اور اختلاف صرف اس صورت میں ہے إِذَا وَجَدَ الْقَاضِي شَهَادَتَهُ فِي دِيوَانِهِ کہ جب قاضی پائے شَهَادَتَهُ، أَيْ شَهَادَةَ الشَّاهِدِ اس گواہ کی گواہی کو پائے فِي دِيوَانِهِ اپنے رجسٹر میں، کہاں پر پائے؟ رجسٹر میں۔ اور قید بھی یاد رکھنا، اپنے رجسٹر میں اس کو پایا اور قاضی کو وہ واقعہ اور حادثہ یاد نہیں، اس صورت میں اختلاف ہے۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ گواہی، وہ اس پر فیصلہ جاری نہیں کر سکتا، اور صاحبین فرماتے ہیں فیصلہ جاری کر سکتا ہے، کیوں جاری کر سکتا ہے؟ کہتے ہیں: آگے علت ذکر ہو رہی ہے صاحبین کے قول کی بھئی، امام صاحب کے قول کو ذکر نہیں کیا بس بھئی، وہ اوپر ذکر ہو چکا تھا۔
صاحبین کے نزدیک بھئی فیصلہ کر سکتا ہے اسی پر بھئی، کیوں؟ لِأَنَّ مَا يَكُونُ تَحْتَ خَتْمِهِ يُؤْمَنُ عَلَيْهِ مِنَ التَّغْيِيرِ اس لیے کہ وہ چیز جو قاضی کی مہر کے تحت ہو، تَحْتَ خَتْمِهِ قاضی کی مہر کے، بھئی قاضی نے اس پر کیا کیا ہوا ہے؟ اپنی، تو جس چیز پر، جو چیز قاضی کی مہر کے تحت ہو یعنی قاضی نے اس پر مہر لگائی ہوئی ہے يُؤْمَنُ عَلَيْهِ مِنَ التَّغْيِيرِ وہ تو تغییر سے محفوظ ہے، يُؤْمَنُ عَلَيْهِ کا معنیٰ محفوظ ہونا، وہ مامون علیہ ہے یعنی محفوظ ہے تبدیلی سے، بِخِلاَفِ الصَّكِّ بخلاف اس دستاویز کے بھئی۔ بھئی اوپر جو متن میں آیا وہ جو دستاویز تھی، اس کے، یہ قاضی کی دستاویز تو محفوظ ہے، اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کیونکہ یہاں تک کوئی اور پہنچ نہیں سکتا، اور نیز اس پر قاضی کی مہر بھی لگی ہے، بخلاف وہ دستاویز کے جو کس کے پاس تھی مولانا؟ مدعی کے پاس تھی جس پر آپ کی تحریر تھی لیکن آپ کو واقعہ یاد نہیں تھا، وہ مولانا محفوظ نہیں ہے، اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے کیونکہ وہ کس کے قبضے میں ہے؟ مدعی کے قبضے میں ہے، تو ہو سکتا ہے اس کے اندر کیا کی ہو اس نے؟ تبدیلی کی ہو، تو وہاں پر وہ جائز نہیں ہے بھئی۔ بِخِلاَفِ الصَّكِّ بخلاف دستاویز کے، فَإِنَّهُ فِي يَدِ الْخَصْمِ اس لیے کہ وہ کس کے قبضے میں ہے؟ اس فریقِ مخالف کے قبضے میں ہے، مقابل، مقابل کے قبضے میں ہے۔
وَلاَ بِالتَّسَامُعِ، ابھی تک یہ مسئلہ بتلایا اوپر، بھئی کچھ چیزوں کا تعلق سننے سے ہے، کچھ کا تعلق دیکھنے سے ہے۔ سنی ہوئی چیزوں کے اندر سننا ضروری اس میں یعنی، اور دیکھنے والی چیزوں کے اندر دیکھنا یعنی مشاہدہ ضروری ہے، چاہے مشاہدہ سماع کے طریقے پر ہو یا رؤیت کے طریقے پر ہو۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جہاں دوسروں سے سنی ہوئی بات پر بھی انسان جا کر گواہی دے سکتا ہے۔ آپ نے مشاہدہ وغیرہ نہیں کیا لیکن لوگوں سے سنا ہے، جب سنا ہوا ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں اس کی گواہی؟ وہ کون سی چیزیں ہیں؟ اب وہ ذکر کریں گے۔
کہتے ہیں: وَلاَ بِالتَّسَامُعِ یہ بھی اوپر متعلق ہے يَشْهَدُ سے مولانا، وَلاَ يَشْهَدُ اور گواہی نہیں دے گا بِالتَّسَامُعِ کس سے؟ سننے سے، صرف سننے سے گواہی نہیں دے سکتا بھئی، دیکھنا یا سننا ضروری۔ تو صرف سننے سے گواہی نہیں دے سکتا بِلاَ عِيَانٍ، أَيْ بِلاَ مُشَاهَدَةٍ، أَيْ مُعَايَنَةٍ بھئی، بغیر مشاہدے اور میں نے کیا بتلایا بھئی؟ سنی ہوئی چیزوں میں سننا، معائنے سنی ہوئی چیزوں میں بھی معاینہ ضروری، اور دیکھنے والی چیزوں میں بھی معاینہ ضروری، تو ان میں کسی سننے سے صرف گواہی نہیں دے سکتا بغیر معائنے کے، إِلاَّ فِي النَّسَبِ مگر کس کے اندر بھئی؟ نسب کے اندر بھئی۔ آپ کو مشہور ہے، آپ نے لوگوں سے سنا ہے بھئی کہ زید عمرو کا بیٹا ہے، تو اب آپ کیا کر سکتے ہیں؟ صرف سننے کی بنا پر ہی گواہی بشرطیکہ کس سے سنا ہو؟ دو عادل آدمیوں سے سنا ہے یا ایک مرد اور دو عورتوں سے سنا ہے۔ وَالْمَوْتِ اسی طرح موت ہے مولانا، آپ نے لوگوں سے سنا ہے کہ زید مر چکا ہے بھئی، زید مر گیا۔ آپ نے اس کی موت کا خود مشاہدہ نہیں کیا، آپ وہاں پر موجود نہیں تھے، لیکن دو عادل آدمیوں سے سن لیا یا ایک عادل آدمی اور دو، تو اب آپ گواہی دے سکتے ہیں۔ وَالنِّكَاحِ نکاح مولانا، زید کا زینب سے مثلاً نکاح ہوا، آپ اس موقع پر موجود نہیں تھے، لیکن آپ نے دو عادل آدمیوں یا ایک عادل مرد اور دو عورتوں سے سن لیا، آپ گواہی دے سکتے ہیں قاضی کے پاس جا کر کہ قاضی صاحب! زید کا کس سے نکاح ہو چکا ہے؟ زینب زید کی منکوحہ ہے۔
وَالدُّخُولِ اور دخول کے بارے میں بھئی کہ یہ فلاں شخص اپنی بیوی سے کیا کر چکا ہے؟ جماع، یعنی ان میں خلوت ہو چکی ہے، اس عورت کی رخصتی ہو چکی ہے، تو اس کے بارے میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ نے خود تو مشاہدہ نہیں کیا بھئی، لیکن آپ نے لوگوں سے سنا ہے، تو یہاں اگر دو عادل سے یا ایک عادل مرد اور دو عورتوں سے سن لیا، تو کیا کر سکتے ہیں آپ گواہی؟ وَبِولاَيَةِ الْقَاضِي اور قاضی کی ولایت کے بارے میں بھئی، گورنر نے بھئی زید کو قصور کا قاضی بنا دیا بھئی، اب آپ نے نہیں دیکھا کہ گورنر حکم جاری کر رہا تھا کہ زید کو میں کیا بناتا ہوں؟ قصور کا، لیکن آپ نے لوگوں سے سنا بھئی، عادل قسم کے لوگوں سے سن لیا، تو اب آپ کہہ سکتے ہیں جا کر کہیں گواہی دینے کی ضرورت پیش آئے تو آپ گواہی دے سکتے ہیں کہ زید کیا ہے؟ فلاں جگہ کا قاضی ہے۔ وَأَصْلِ الْوَقْفِ اور اسی طرح اصلِ وقف کے اندر بھی آپ کیا کر سکتے ہیں؟ گواہی، اصلِ وقف کے اندر، یعنی اس کی شرائط میں نہیں دے سکتے، اصلِ وقف کے اندر گواہی دے سکتے ہیں۔ اصلِ وقف کیا؟ بھئی آپ نے لوگوں سے سنا کہ یہ زمین زید نے وقف کر دی تھی درجہ رابعہ کے طلباء کے لیے کہ اس کی آمدن کس کو دی جائے بھئی؟ درجہ رابعہ میں جو اس وقت طلباء ہیں، ان ساروں کو بھئی، اس زمین کی آمدن دی جائے بھئی باقاعدگی سے۔ تو شرائط نہیں، شرائط کیا کیا طے کی تھیں؟ کہ یہ زمین یوں رکھنا ہے اس کو اس طریقے پر، اور کس کے پاس رہے گی وغیرہ، کون اس کا، شرائط وغیرہ کے علاوہ اصلِ وقف کے اندر تو گواہی دے سکتے ہیں جب آپ نے لوگوں سے سن لیا، لیکن شرائط کیا کیا اس نے لکھوائی تھیں، کیا کیا شرائط طے کی تھیں، ان شرائط کی گواہی صرف سننے سے نہیں دے سکتا بلکہ یہاں پر عین موقع پر موجود ہونا اور ان کا مشاہدہ کرنا ضروری تھا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لیکن اصلِ وقف کہ یہ زید نے زمین وقف کر دی ہے درجہ رابعہ کے طلباء پر، یہ آپ نے دو عادل آدمیوں سے سن لیا تو اب آپ کیا کر سکتے ہیں آگے جا کر گواہی؟
تو مگر نسب، موت، نکاح، دخول، ولایتِ قاضی اور اصلِ وقف میں، ان سب میں کب؟ إِذَا أَخْبَرَ بِهَا عَدْلاَنِ أَوْ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ جبکہ خبر دیں اس کے بارے میں دو عادل آدمی یا ایک مرد اور دو عورتیں، إِذَا كَانُوا عُدُولاً جبکہ یہ سارے کیا ہوں؟ عادل ہوں، یہ ایک مرد اور دو عورتیں۔ وَالْمُرَادُ بِأَصْلِ الْوَقْفِ اور اصلِ وقف سے مراد یہ ہے کہ أَنَّ هَذِهِ الضَّيْعَةَ ضیعہ کہتے ہیں قابلِ کاشت زمین بھئی، غلہ اگانے والی زمین بھئی، غلہ اگانے والی زمین۔ وَالْمُرَادُ بِأَصْلِ الْوَقْفِ اصلِ وقف سے مراد یہ ہے مولانا کہ أَنَّ هَذِهِ الضَّيْعَةَ وَقْفٌ عَلَى كَذَا کہ یہ زمین، یہ جو غلہ اگانے والی زمین ہے، یہ وقف ہے عَلَى كَذَا، أَيْ عَلَى جَمَاعَةِ فُلاَنٍ، فلانی جماعت پر یہ زمین کیا ہے؟ وقف ہے بھئی، فلانی جماعت، کذا، سمجھ میں آیا؟ خاص جماعت مراد ہے کذا سے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ زمین وقف ہے اس کی گواہی، اور کس پر وقف ہے؟ فلاں جماعت پر وقف ہے، یہ اصلِ وقف میں ہے۔ فَبَيَانُ الْمَصْرَفِ دَاخِلٌ فِي أَصْلِ الْوَقْفِ تو مصرف داخل ہے اصلِ وقف کے اندر۔ صرف یہ کہنا کہ یہ زمین وقف ہے، بلکہ ساتھ کیا ملایا؟ کیا ملایا؟ مصرف بھی ملایا، یہ بھی اصلِ وقف ہی کے اندر داخل ہے، اس کی بھی گواہی دے سکتا ہے مولانا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہ یہ وقف کس پر کی ہے؟ فلاں جماعت کہ اس کی آمدن فلاں جماعت کو دی جائے۔ أَمَّا الشُّرُوطُ باقی شروط جو ہیں فَالَا يَحِلُّ فِيهَا الشَّهَادَةُ بِالتَّسَامُعِ تو ان میں جائز نہیں ہے شہادت صرف سننے سے بھئی۔
وَيَشْهَدُ الرَّائِي جَالِساً، صورتِ مسئلہ یہ بھئی، ادھر دیکھو: آپ قاضی کی مجلس میں بیٹھے ہیں، مجلسِ قضا میں بیٹھے ہیں، قاضیوں کی مجلس میں بیٹھے ہیں۔ وہاں آپ دیکھتے ہیں ایک شخص بیٹھا ہوا ہے، زید بیٹھا ہوا ہے اور مقدمات والے اس کے پاس آ رہے ہیں، جا رہے ہیں بھئی۔ اب آپ گواہی دے سکتے ہیں کہ زید قاضی
ہے۔صورۃ سمجھ میں آئی
آپ نے کس چیز کا مشاہدہ کیا؟ آپ کہاں پر تھے؟ مجلسِ قضاء میں تھے، بھئی۔ مجلسِ قضاء میں، اور مجلسِ قضاء، مجلسِ قضاء میں تھے اور وہاں آپ نے دیکھا، بھئی، کہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ مقدمات والے، زید بیٹھا ہے ایک جگہ کرسی پر اور لوگ کیا کر رہے ہیں؟ مقدمات والے اس کے پاس آ جا رہے ہیں۔ اب آپ گواہی دے سکتے ہیں کہ زید کون ہے؟ جب مقدمے والے آ رہے ہیں معلوم ہوا وہ قاضی ہے، بھئی، اور مجلسِ قضاء میں بیٹھا ہوا ہے، بھئی۔
اسی طرح، بھئی، آپ نے دیکھا، بھئی، کہ زید اور زینب اکٹھے رہتے ہیں ایک گھر کے اندر، بھئی، اور ان میں اسی طرح کی بے تکلفی ہے جس طرح کہ میاں بیوی میں ہوتی ہے۔ تو آپ گواہی دے سکتے ہیں کہ زید اور زینب کیا ہیں؟ میاں... مثلاً، بھئی، بکر اٹھا اس نے زینب پہ دعویٰ کر دیا کہ یہ میری بیوی ہے، آپ گواہی دے سکتے ہیں کہ قاضی صاحب، یہ دونوں زید اور زینب کیا ہیں؟ بکر کا دعویٰ صحیح نہیں، زید اور زینب آپس میں میاں بیوی ہیں کیونکہ آپ نے ان کو اکٹھا ایک گھر میں رہتے ہوئے دیکھا ہے میاں بیوی کی طرح، بھئی، کہ باہم بے تکلفی ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟
تیسری صورت: ایک آدمی ہے اس کے پاس آپ نے، بھئی، ایک چیز کو دیکھا، وہ مالکوں کی طرح اس کو استعمال کر رہا ہے، تو اب آپ کے لیے یہ جائز ہے کہ موقع پر کوئی وجہ پیش آئے تو قاضی کے پاس جا کر گواہی دیں کہ قاضی صاحب، یہ اس چیز کا مالک ہے۔ مثلاً گاڑی ہے آپ اس کو دیکھتے ہیں وہ مالک کی طرح اس کو چلا رہا ہے، استعمال کر رہا ہے، سب کچھ کر رہا ہے، اب ضرور اس پر... گاڑی پر کسی اور نے دعویٰ کر دیا، تو آپ کیا کر سکتے ہیں مولانا؟ گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ گاڑی اس شخص کی ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ دیکھیے یہ سارے مسئلے اکٹھے آ رہے ہیں۔
وَيَشْهَدُ، اور گواہی دے سکتا ہے، گواہی دے، رَائِي جَالِسٍ، رَائِي: دیکھنے والا، جَالِسٍ: بیٹھنے والا، بیٹھنے والے کو دیکھنے والا۔ میں نے بتلایا تھا نہ آپ نے زید کو کہاں پر بیٹھے ہوئے دیکھا؟ تو اب آپ گواہی دے سکتے ہیں، وہی صورت بیان ہو رہی ہے۔ بیٹھے ہوئے کو دیکھنے والا گواہی دے سکتا ہے مَجْلِسَ الْقَضَاءِ، کہاں پر دیکھنے والا ہے بیٹھنے والے کو؟ قضاء کی، قضاء... مجلسِ قضاء کے اندر ایک بیٹھنے والے کو دیکھنے والا گواہی دے سکتا ہے، جی۔ کیا گواہی دے سکتا ہے؟ آخر میں آ رہا ہے أَنَّهُ قَاضٍ، کہ یہ کیا ہے؟ قاضی ہے، اور وہ بیٹھنے والا کیسا ہے؟ يَدْخُلُ عَلَيْهِ الْخُصُومُ، بھئی، اس پر کون داخل ہوتے ہیں؟ مقدمہ کرنے والے، خصوم، متخاصمین، بھئی، جن کے درمیان خصومت ہوتی ہے وہ لوگ اس کے پاس آ جا رہے ہیں، بھئی۔
ترجمہ سمجھ میں آیا، بھئی؟ وَيَشْهَدُ رَائِي جَالِسٍ مَجْلِسَ الْقَضَاءِ يَدْخُلُ عَلَيْهِ الْخُصُومُ أَنَّهُ قَاضٍ، اور گواہی دے سکتا ہے دیکھنے والا، بیٹھنے والے کو دیکھنے والا مجلسِ قضاء کے اندر کہ جس پر خصوم داخل ہو رہے ہیں، کیا گواہی دے سکتا ہے؟ کہ أَنَّهُ قَاضٍ، یہ شخص قاضی ہے، جی۔ تو أَنَّهُ قَاضٍ، اس کا تعلق وَيَشْهَدُ سے ہے، یہ مفعول ہے کس کے لیے؟ وَيَشْهَدُ کے لیے۔
وَرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ، بھئی، اس کا عطف جَالِسٍ پر ہے۔ رَائِي مضاف تھا اور جَالِسٍ مضاف علیہ، تو جَالِسٍ کی جگہ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ آ گیا، رَائِي رَجُلٍ، اسی طرح گواہی دے سکتا ہے دیکھنے والا، کس کو دیکھنے والا؟ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ، ایک مرد اور ایک عورت کو، يَسْكُنَانِ بَيْتًا، کہ وہ رہتے ہیں ایک گھر کے اندر، وَبَيْنَهُمَا انْبِسَاطُ الْأَزْوَاجِ، ان کے درمیان... ان بساط کا معنی بے تکلفی... کہ وہ رہتے ہیں ایک ہی گھر میں وَبَيْنَهُمَا انْبِسَاطُ الْأَزْوَاجِ، اور ان دونوں کے درمیان میاں بیوی والی بے تکلفی ہے، تو یہ گواہی دے سکتا ہے۔ کیا گواہی دے سکتا ہے؟ أَنَّهَا عِرْسُهُ، کہ عورت اس کی بیوی ہے، یہ جی۔
وَشَيْءٍ، اس کا عطف بھی اسی جَالِسٍ پر ہے مولانا۔ دیکھنے والا کسی چیز کو گواہی دے سکتا ہے سِوَى الرَّقِيقِ، علاوہ کس کے، بھئی؟ بھئی، ایک آدمی نے دوسرے کو دیکھا وہ ایک چیز استعمال کر رہا ہے، اس کے پاس مالکوں کی طرح ہے، وہ مالکوں کی طرح اس کو استعمال کر رہا ہے تو آپ کیا گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ شخص اس چیز کا... ہاں، یہ تیسری صورت آ رہی ہے، تو شَيْءٍ کا عطف بھی جَالِسٍ پر ہے۔ گواہی دے سکتا ہے دیکھنے والا، رَائِي شَيْءٍ، اس چیز کو، کسی چیز کو دیکھنے والا سِوَى الرَّقِيقِ، علاوہ کس کے؟ بھئی، غلام کو اگر آپ نے کسی کے پاس دیکھا کہ غلام اس کے پاس ہے اور وہ غلام سے مالکوں کی طرح خدمت لے رہا ہے، تو پھر نہیں آپ گواہی دے سکتے، اس کا مسئلہ الگ ہے مولانا۔ اس کا مسئلہ الگ، کیونکہ وہ غلام سے پوچھا جا سکتا ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس کے قبضے میں ہونا یہ اس کے مالک ہونے کی علامت نہیں ہے، ہو سکتا ہے غلام اس کے پاس بطورِ اجارہ کے ہو، ہو سکتا ہے غلام اس کے پاس اجارہ وغیرہ کے طور پر ہو، یا غصب کی وجہ سے اس کے قبضے میں ہو۔
تو غلام کے علاوہ اور چیز کو دیکھنے والا گواہی دے سکتا ہے، وہ ایک چیز کو دیکھنے والا ہے، کس کس طرح؟ فِي يَدِ مُتَصَرِّفٍ، کہاں پر دیکھ رہا ہے اس چیز کو؟ کسی تصرف کرنے والے کے ہاتھ میں دیکھنے والا گواہی دے سکتا ہے، اور وہ... تو کسی تصرف کرنے والے کے قبضے میں ہے كَالْمُلَّاكِ، کس کی طرح؟ ملاک جمع ہے مالک کی، مالکوں کی طرح وہ متصرف کس کی طرح ہے؟ یعنی اس میں تصرف کرتا ہے، گواہی دے سکتا ہے۔ کیا گواہی دے سکتا ہے؟ أَنَّهُ لَهُ، کہ یہ چیز اس کی ہے، وہ اس چیز کا مالک ہے۔
ترجمہ سمجھ میں آیا؟ ساری عبارتوں میں یاد رکھنا، جَالِسٍ پر عطف ہے رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ کا، دوسرا مسئلہ بنا۔ شَيْءٍ کا عطف بھی جَالِسٍ پر ہے، یہ تیسری صورت بنی۔ اور أَنَّهُ قَاضٍ، یہ مفعول ہے کس کے لیے؟ وَيَشْهَدُ کے لیے، اور اسی پر عطف ہے أَنَّهَا عِرْسُهُ، گواہی دے سکتا ہے کہ یہ اس کی... یہ اس کا عطف بھی أَنَّهُ قَاضٍ پر، اسی طرح تیسری صورت میں آ رہا ہے أَنَّهُ لَهُ، اس کا عطف بھی کس پر؟ أَنَّهُ قَاضٍ پر، بھئی، یہ تیسری صورت ہے کہ وہ اس کا مالک ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو گواہی دے سکتا ہے رَائِي شَيْءٍ، کسی چیز کو دیکھنے والا سِوَى الرَّقِيقِ، علاوہ غلام کے فِي يَدِ مُتَصَرِّفٍ، ایک تصرف کرنے والے کے قبضے میں كَالْمُلَّاكِ، کس کی طرح؟ متصرف کرنے والا کس کی طرح ہے؟ مالکوں کی طرح ہے، اس کے قبضے میں کسی چیز کو دیکھنے والا گواہی دے سکتا ہے کہ أَنَّهُ لَهُ، یہ چیز اسی کی ہے۔
فَقَوْلُهُ وَرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ، بھئی، ماتن کا قول کیا آیا تھا متن میں؟ وَرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ، میں نے کیا بتلایا اس کا عطف کس پر ہے؟ یہی بات بتلا رہے ہیں: فَقَوْلُهُ وَرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ عَطْفٌ عَلَى قَوْلِهِ جَالِسٍ، اس کا عطف کس پر ہے ماتن کے قول جَالِسٍ پر ہے۔ اسی طرح، بھئی، وَقَوْلُهُ... ماتن کا قول أَنَّهَا عِرْسُهُ عَطْفٌ عَلَى قَوْلِهِ أَنَّهُ قَاضٍ، أَنَّهَا عِرْسُهُ کا عطف ماتن کے کس قول پر ہے؟ أَنَّهُ قَاضٍ پر ہے۔ فَهَذَا مِنْ بَابِ الْعَطْفِ عَلَى مَعْمُولَيْ عَامِلَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ وَالْمَجْرُورُ مُقَدَّمٌ، بھئی، یہ نحوی مسئلہ ذکر کر دیا۔
بھئی، آپ پڑھ چکے ہیں، بھئی، نحو کے اندر کہ دو معمولوں کا عطف کرنا دو ایسے معمولوں پر جن کے عامل مختلف ہوں، جن کے عامل کیا ہوں؟ مختلف ہوں، یہ اس وقت جائز ہے جبکہ مجرور مقدم ہو۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
دیکھیے، بھئی، میں کہتا ہوں: ضَرَبْتُ زَيْدًا، میں نے کس کی پٹائی کی؟ وَبَكْرٌ خَالِدًا، اور بکر نے کس کی پٹائی کی؟ خالد کی۔ تو دیکھو ضَرَبْتُ زَيْدًا، اچھا، وَبَكْرٌ خَالِدًا، تو ضَرَبْتُ کے اندر 'تُ' وہ ضمیر فاعل کی تھی، آگے آنے والا... آگے آنے والے بَكْرٌ کا عطف کس پر ہے، بھئی؟ اس ضمیر پر ہے، جیسے یہ ضمیر فاعل ہے آگے آنے والا بَكْرٌ بھی کیا ہے؟ اور یہاں پر زَيْدًا مفعول ہے، آگے آنے والے خالد کا عطف بھی کس پر ہے؟ اسی ز... دیکھو نہ، بھئی، چلو ضمیر نکال دیتا ہوں، اسم لاتا ہوں: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، ضَرَبَ زَيْدٌ... جملہ لکھو اپنے سامنے، بھئی، جلدی سمجھ میں آئے گا۔ ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا وَبَكْرٌ خَالِدًا۔
دیکھیے، بھئی، زَيْدٌ کیا بن رہا ہے ضَرَبَ کے لیے؟ عَمْرًا کیا بن رہا ہے؟ مفعول۔ آگے کیا آ رہا ہے؟ بَكْرٌ، بَكْرٌ کا عطف کس پر ہے، بھئی؟ زَيْدٌ پر، معلوم ہوا زید فاعل ہے تو یہ بھی فاعل، اور آگے خَالِدًا کا عطف کس پر ہے؟ عَمْرًا پر، عمرو منصوب ہے تو خَالِدًا بھی منصوب ہے۔ ترجمہ کیا ہوا؟ پٹائی کی زید نے عمرو کی اور بکر نے خالد کی۔ تو دیکھیے، بھئی، زَيْدٌ کے اندر عامل کون؟ ضَرَبَ، اور خا... عَمْرًا کے اندر عامل کون؟ تو زید میں بھی عامل ضَرَبَ اور عمرو میں بھی عامل ضَرَبَ۔ آگے آ رہا ہے، بھئی، بکر، اس کا عطف کس پر؟ زید پر، تو زید میں عامل ضَرَبَ تو بکر کے اندر بھی عامل کون؟ ضَرَبَ، اچھا، آگے کیا آ رہا ہے؟ خالد، اور خالد کا عطف کس پر؟ عمرو پر، عمرو کے اندر عامل کون؟ ضَرَبَ، تو آگے خالد پر بھی عامل کون؟ ضَرَبَ۔
تو معلوم ہوا آگے جو بکر کا لفظ آیا وہ بھی معمول ہے اور آگے جو خالد کا لفظ آیا وہ بھی معمول ہے، اور ان دونوں کے اندر عامل کون ہے؟ ضَرَبَ، کون ہے؟ ضَرَبَ، تو دیکھو دو معمولوں کا عطف ہوا دو معمولوں پر، ایک ہی حرفِ عطف کے ذریعے دو معمولوں کا عطف کس پر ہوا؟ دو معمولوں پر، اور یہ جائز ہے بالاتفاق مولانا، کیونکہ عامل ایک ہے یا عامل مختلف ہیں؟ عامل ایک ہے دونوں کے اندر، دونوں میں عامل کون ہے، بھئی؟ ضَرَبَ۔ تو یہ عطف ہوا دو ایسے معمولین کا ایسے معمولین پر جن میں عامل ایک ہے یا مختلف ہیں؟ ایک ہیں، یہ جائز ہے بالاتفاق، کیونکہ یہ جو حرفِ عطف ہوتا ہے یہ نائب ہوتا ہے عامل کا، تو یہ ایک کا تو... چلیے یہ زیادہ تفصیل چلی گئی بات، تفصیل چھوڑیں، بھئی، بس۔
تو حرفِ عطف یہ نائب ہوتا ہے عامل کا، چلیے، تو یہ ایک کا نائب تو بن سکتا ہے، دو کا نائب... تو کبھی عام... دو یہاں پر دونوں معمول ہیں لیکن دونوں میں عامل ایک ہے تو یہ واؤ حرفِ عطف اس ضَرَبَ کا نائب بن گیا، بھئی۔ لیکن کبھی عامل مختلف ہوتے ہیں، دو معمولوں کا عطف دو معمولوں پر ہوتا ہے لیکن دونوں کے اندر عامل ایک چیز نہیں ہوتی، بلکہ ایک کے اندر عامل ایک ہے تو دوسرے کے اندر عامل دوسری چیز ہے، تو اس صورت میں عطف جائز نہیں ہوتا مگر یہ کہ آپ مجرور کیا ہو؟ مقدم ہو۔ تو دو معمولوں کا دو معمولوں پر عطف کرنا جبکہ دونوں کے عامل کیا ہوں؟ مختلف ہوں، جائز نہیں مگر ایک صورت میں جائز ہے کہ جبکہ مجرور کیا ہو؟ مقدم ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
ہم متن میں دیکھیے، دیکھیے: رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ، اس کا عطف کس پر ہے، بھئی؟ جَالِسٍ پر، اور جَالِسٍ کیوں مجرور ہے؟ مضاف علیہ ہے، رَائِي مضاف ہے اور جَالِسٍ مضاف علیہ۔ تو معلوم ہوا اس رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ کے جَالِسٍ کے اندر عامل ہے رَائِي، تو رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ کے اندر بھی عامل کون؟ رَائِي، بھئی۔ اچھا، آگے آ رہا ہے أَنَّهَا عِرْسُهُ، اس کا عطف کس پر ہے، بھئی؟ أَنَّهُ قَاضٍ پر، اور میں نے بتلایا تھا أَنَّهُ قَاضٍ یہ مفعول ہے يَشْهَدُ کے لیے، تو اس کے اندر عامل کون؟ يَشْهَدُ۔
سو اب رجل... ایک واؤ آیا، وَرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ، اس واؤ کے ذریعے رجل اور امرا... امراء کا عطف ہوا جَالِسٍ پر، اور أَنَّهَا عِرْسُهُ کا عطف کس پر ہوا؟ أَنَّهُ قَاضٍ، تو دو معمولوں کا عطف کس پر ہوا؟ دو معمولوں پر، اور عامل ایک ہے دونوں کا یا الگ الگ ہیں؟ عامل دونوں کے الگ الگ، رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ میں عامل ہے رَائِي، اور أَنَّهَا عِرْسُهُ کے اندر عامل کون؟ يَشْهَدُ، تو عامل دونوں کے مختلف، اور میں نے بتلایا یہ جائز نہیں مگر ایک صورت میں جائز ہے کہ مجرور مقدم ہو، اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں مجرور مقدم ہے: وَرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ، یہ کیا ہے؟ مجرور ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مجرور مقدم ہے اور آگے أَنَّهَا عِرْسُهُ یہ منصوب ہے لیکن یہ مؤخر ہے، تو یہ صورت جائز ہوئی، بھئی۔
صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ یہ معنی ہے۔ تو کہتے ہیں: فَهَذَا مِنْ بَابِ الْعَطْفِ عَلَى مَعْمُولَيْ عَامِلَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ، یہ کس قبیل سے ہے؟ عطف کے باب سے ہے، عطف عَلَى مَعْمُولَيْ، کس پر عطف ہے؟ عَطْفٌ عَلَى مَعْمُولَيْ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، عطف ہے دو ایسے معمولین پر عَامِلَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ، جن کے عامل کیا ہیں؟ مختلف ہیں۔ تو دو مختلف عاملوں کے معمولوں پر عطف کے باب سے ہے، وَالْمَجْرُورُ مُقَدَّمٌ، اور مجرور مقدم ہے۔
وہ اب بتلا رہے ہیں عامل کون ہے دونوں میں: فَإِنَّ جَالِسٍ مَعْمُولُ رَائٍ، جالس معمول ہے کس کا؟ رَائٍ کا۔ وَأَنَّهُ قَاضٍ مَعْمُولُ يَشْهَدُ، اور أَنَّهُ قَاضٍ معمول ہے کس کا؟ يَشْهَدُ کا، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اچھا، بھئی، متن میں کہا سِوَى الرَّقِيقِ، علاوہ کس کے؟ بھئی، ایک آدمی نے کسی دوسرے آدمی کے پاس کوئی چیز دیکھی کہ وہ اس کو استعمال کر رہا ہے مالکوں کی طرح، تو کیا گواہی دے سکتا ہے جا کر کہ یہ شخص اس چیز کا... لیکن غلام کے اندر ایسا نہیں کہہ سکتا۔ کیوں نہیں کہہ سکتا، بھئی؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ، بھئی، چیزیں جو ہیں نہ، چیزیں، ان کے لیے کوئی مالک چاہیے ہوتا ہے، کیا چاہیے ہوتا ہے؟ جبکہ غلام جو ہے، وہ انسان جو خدمت کر رہا ہے دوسرے کی، تو وہ تو انسان ہے، بھئی۔ آپ کو یہ نہیں پتا وہ غلام ہے، آپ نے صرف اس کو خدمت کرتے ہوئے دیکھا ہے، تو آپ نے ایک انسان کو دیکھا، خدمت کرتے ہوئے دیکھا، تو کیا اس سے اس کا غلام ہونا ثابت ہو گیا؟ غلام ہونا اس سے ثابت نہیں۔ تو چیزیں جو تھیں ان کے لیے تو مالک چاہیے تھا، لیکن انسان ہے غلام تو وہ جو دوسـ... انسان جسے آپ نے دیکھا، اور انسان اپنے نفس کا خود مالک ہوا کرتا ہے، تو وہاں مالک کی ضرورت نہیں، بھئی۔ وہاں اب آپ اس سے جا کر پوچھ سکتے ہیں، تو صرف دیکھنے کی بناء پر جا کر یہ کہنا کہ یہ اس کا غلام ہے، یہ درست... صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟
وَإِنَّمَا قَالَ سِوَى الرَّقِيقِ، ماتن نے فر... کہا، بھئی، کہ غلام کے علاوہ لِأَنَّ الْآدَمِيَّ لَهُ يَدٌ عَلَى نَفْسِهِ، اس لیے کہ آدمی کا اپنے نفس پر قبضہ ہوتا ہے، بھئی۔ وہ کسی کے قبضے کا محتاج نہیں، وہ خود اپنے نفس کا مالک ہوتا ہے، فَيَدْفَعُ يَدَ الْغَيْرِ عَنْ نَفْسِهِ، تو وہ غیر کے قبضے کو اپنے نفس سے دور کرتا ہے۔ غیر کا قبـ... وَالْمُرَادُ إِنْسَانٌ، اور مراد، بھئی، یہ رقیق سے ایسا انسان ہے يُعَبِّرُ عَنْ نَفْسِهِ، جو اپنے نفس سے تعبیر کر سکے، جو اپنی بات کیا کر سکے دوسرے کو؟ ایسا غلام ہے جو عقل رکھنے والا ہے، بھئی، کچھ بڑا ہے، بتا سکتا ہے کہ میں غلام ہوں یا غلام نہیں يا کیا ہوں، بھئی۔ تو اس کو صرف دیکھ کر غلامی کی گواہی دینا اس کے بارے میں درست نہیں، بلکہ اس سے باقاعدہ کیا کیا جائے گا؟ پوچھا وغیرہ۔ تو ان... مراد رقیق سے ایسا انسان ہے جو اپنے نفس کی تعبیر کر سکتا ہے، اپنے بارے میں بتلا سکتا ہے، حَتَّى لَوْ لَمْ يُعَبِّرْ عَنْ نَفْسِهِ، یہاں تک کہ اگر وہ تعبیر نہیں کر سکتا اپنے نفس میں... نفس سے كَالصَّغِيرِ وَالصَّغِيرَةِ، جیسے بہت چھوٹا بچہ ہو ایک سال کا یا دو... تو وہ چھوٹا سا ہے، فَإِنَّهُمَا لَا يَدَ لَهُمَا، تو ہاں ان کا اپنے نفس پر چونکہ قبضہ نہیں ہے فَيُعْتَبَرُ يَدُ الْغَيْرِ، تو وہاں پر غیر کے قبضے کا اعتبار ہوگا، وہاں آپ کیا کر سکتے ہیں؟ قبـ... گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ اس کا غلام ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ اچھی طرح؟ چلیے، مولانا، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔