Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-069

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 18 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 29
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَصَحَّ الإِيصَاءُ بِلاَ عِلْمِ الوَصِيِّ بِهِ، لاَ التَّوْكِيلُ. اور صحیح ہے وصی بنانا بغیر وصی کے اس کو جانے، بھئی وصی کو علم ہی نہیں ہے آپ نے اسے وصی ایک شخص نے مرتے ہوئے اسے وصی بنا دیا تھا، ٹھیک ہے بھئی وہ وصی بن جائے گا۔ لیکن توکیل صحیح نہیں بلکہ اس میں وکیل کا علم ضروری ہے بھئی کہ اس کو وکیل بنایا گیا۔ أي جعل شخصاً وصياً بعد موته، ایک شخص نے دوسرے کو وصی بنایا اپنی موت کے بعد کہ میری موت کے بعد یہ میرا وصی ہے بھئی، یہ نگران ہوگا میری، ان میرے سارے امور وغیرہ کا، میرے بچوں کا۔ ولم يعلم الوصي بذلك، اور وصی کو اس کا، جی، وصی نہیں جانتا تھا اسے بھئی، فباع شيئاً من الترکة، اس نے کیا کیا ترکے میں سے کوئی چیز بیچی؟ یہ بیچی، يجوز بيعه، تو اس کا بیچنا جائز ہے، کیونکہ اس میں علم ضروری نہیں تھا، وہ وصی بن چکا بھئی۔ بخلاف ما إذا وکل رجلاً بالبيع ولم يعلم الوکيل بذلك. اچھا، یا یوں پڑھ لیں: ولم يُعلِمِ الوکيلَ، وکیل کو بتلایا نہیں بھئی۔ اچھا، اور بخلاف اس کے کہ جب کسی نے وکیل بنایا کسی ایک آدمی کو وکیل بالبیع بھئی اور وکیل کو اس کا علم نہیں تھا، فباع شيئاً، اس نے کوئی چیز بیچی، لا يجوز بيعه، تو اس کا بیچنا جائز، اس آدمی کی چیزوں میں سے کوئی چیز بیچی، وہ چیز بیچی جس پر اس نے وکیل بنایا تھا، نہیں بھئی یہ بیچنا اس کا جائز نہیں ہے بھئی، کیونکہ اس کا علم ضروری ہے، قبول کرنا اس کا ضروری ہے وکالت کو۔ وعند أبي يوسف رحمه الله لا يجوز بيع الوصي أيضاً، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں وصی کا بیچنا بھی جائز نہیں ہے بھئی، اس کا علم بھی ضروری ہے بھئی، بغیر علم کے وصی نہیں بنے گا۔ وُشِرِطَ خَبَرُ عَدْلٍ أَوْ مَسْتُورَيْنِ لِعَزْلِ الوَكِيلِ. شرط لگائی گئی ہے بھئی ایک عادل کی خبر یا دو مستور الحال آدمیوں کی خبر لعزل الوکیل، کس کے لیے؟ عزلِ وکیل کو معزول کرنے کے لیے بھئی۔ وکیل وکالت سے کب معزول ہوگا؟ کہتے ہیں بھئی شرط ہے کہ اس کو کوئی ایک عادل خبر دے دے کہ تجھے موکل نے وکالت سے معزول کر دیا تو معزول ہو جائے گا۔ یا دو مستور الحال آدمی جن کے عادل یا فاسق ہونے کا پتہ نہیں تو وہ خبر دے دیں تو پھر وہ وکالت سے معزول ہوگا، ورنہ وکالت سے معزول نہیں ہوگا بھئی۔ اس لیے کہ شہادت کے دو جز ہیں مولانا: ایک عدالت، ایک عدد بھئی۔ گواہ کیا ہونے چاہئیں؟ عادل ہونے چاہئیں یا، اور عادل ہونے چاہئیں اور کتنے ہونے چاہئیں؟ دو ہونے چاہئیں۔ تو دو میں سے ایک جز کا پایا جانا ضروری ہے۔ تو عدالت پائی گئی چاہے اب ایک ہی آدمی کیوں نہ ہو، یا عدالت کا پتہ نہیں ہے مستور الحال ہیں تو پھر دوسرا جز یعنی عدد ہونا چاہیے، دو خبر دیں بھئی۔ جی یہ معنی ہے "وُشِرِطَ خَبَرُ عَدْلٍ"، شرط لگائی گئی ہے عادل کے خبر دینے کی، ایک عادل کے، "أَوْ مَسْتُورَيْنِ"، یا دو مستور الحال آدمیوں کے خبر دینے کی، "لِعَزْلِ الوَكِيلِ"، وکیل کے معزول کرنے کے لیے، "وَلِعِلْمِ السَّيِّدِ بِجِنَايَةِ عَبْدِهِ"، جی اور اسی طرح آقا کو خبر دینے کے لیے، آقا کے علم کے لیے بجنایة عبدہ، اس کے غلام کی جنایت پر بھئی۔ بھئی دیکھو! صورت یہ ہے، جب کسی کے غلام نے کوئی جنایت کر لی، سمجھ میں آیا؟ جنایت کر لی، مثلاً کسی کا بازو وغیرہ کاٹ دیا، یا کوئی نقصان پہنچایا، تو اس صورت میں آقا کو اختیار ہوتا ہے، چاہے تو وہ آرش دے دے یعنی وہ تاوان وغیرہ جو دیت بنتی ہے اس کی، یا چاہے تو غلام بدلے میں دے دے۔ آقا کو کیا ہے؟ اختیار ہے، چاہے تو کیا کر دے جنایت والے کے حوالے اس غلام کو کر دے بھئی، غلام اس کے حوالے کر دے۔ یا کیا کر دے؟ یا آرش، بھئی آپ جانتے ہیں بھئی پورے نفس کے اندر جو مال آیا کرتا ہے اسے کیا کہتے ہیں بھئی؟ قتلِ خطا کے اندر، دیت، اسے دیت کہتے ہیں اور نفس سے کم کے اندر جو ضمان آتا ہے اسے کیا کہتے ہیں؟ آرش کہتے ہیں بھئی۔ تو یہ معنی ہے بھئی آقا کو، تو آقا کو اختیار ہے بھئی چاہے کیا کرے؟ چاہے غلام دے دے، چاہے آرش دے دے اس کو، تاوان دے دے بھئی، فدیہ دے دے اس کا۔ اب اگر آقا کو خبر ملی اور پھر اس نے کیا کر دیا؟ غلام کو آزاد کر دیا، تو بھئی آقا کو خبر مل چکی تھی، اس کے بعد اختیار تھا اسے کہ وہ کیا کرتا، چاہے غلام کو بدلے میں دے دیتا یا اس کا آرش، فدیہ دے دیتا۔ اور غلام کو اس نے کر دیا آزاد، معلوم ہوا یہ کیا دینا چاہتا ہے؟ فدیہ دینا چاہتا ہے، تو اس پر فدیہ آ جائے گا۔ اور اگر اس کو علم نہیں تھا مولانا اور اس نے غلام کو آزاد کر دیا، بعد میں پتہ چلا بھئی آپ کے غلام نے تو جنایت کی تھی، تو اس صورت میں جو اقل ہوگا وہ آقا پر لازم آئے گا، غلام کی قیمت اور آرش میں سے جو اقل ہے وہ کس پر لازم آئے گا؟ کیونکہ غلام تو آزاد ہو چکا۔ تو اب دیکھی جائے گی غلام کی قیمت کتنی ہے، غلام کی قیمت مثلاً ایک لاکھ ہے اور تاوان کتنا آ رہا ہے؟ ڈیڑھ لاکھ، تو کیا لازم آئے گا آقا پر؟ اقل کیا ہے بھئی؟ غلام کی قیمت اقل ہے، وہ دینی پڑے گی اس کو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو آقا کے علم کے لیے بھی ایک عادل یا دو مستور الحال آدمیوں کا خبر دینا، اگر ایک مستور الحال خبر دے دیتا ہے پھر آقا غلام کو آزاد کر دیتا ہے، اب کیا آئے گا بھئی اس پر؟ جی؟ اس کو علم ہوا؟ بھئی اس ایک مستور الحال کی خبر کا تو کوئی اعتبار ہی نہیں، ہاں دو مستور الحال خبر دیتے پھر ہم کہتے اس کو علم ہو چکا، یا ایک عادل خبر دیتا تو ہم کہتے اس کو خبر، اور اب غلام کو اس نے آزاد کیا ہے تو معلوم ہوا یہ کیا دینا چاہتا ہے؟ فدیہ دینا چاہتا ہے۔ اور اگر ایک مستور الحال نے خبر اس کو دی اور اس کی خبر کا تو کوئی اعتبار نہیں، اس نے غلام کو آزاد کر دیا، معلوم ہوا اس نے بلا علم کے غلام کو کیا کر دیا؟ آزاد، اور اس صورت میں اس کو کیا دینا پڑے گا؟ اقل دینا پڑے گا، قیمت اور آرش میں سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے "وَشُرِطَ خَبَرُ عَدْلٍ أَوْ مَسْتُورَيْنِ لِعِلْمِ السَّيِّدِ"، آقا کے جاننے کے لیے یہ ضروری ہے، "بِجِنَايَةِ عَبْدِهِ"، اپنے غلام کی جنایت پر کے علم کے لیے ضروری ہے کہ اسے ایک عادل خبر دے یا مستور الحال، تو پھر کہا جائے گا اسے علم ہو چکا ورنہ نہیں۔ "وَلِلشَّفِيعِ بِالبَيْعِ"، اور اسی طرح شفیع کو بیع کا پتہ چلنا بھئی، اور خبر کس نے دی اسے؟ ایک عادل نے دی یا دو مستور الحال، اور اس شفیع آپ نے پڑھا ہے بھئی جس مجلس میں اس کو پتہ چلے کہ میری زمین کے ساتھ والی زمین بکی ہے یا مکان بکا ہے اسی مجلس کے اندر شفعہ، دعویٰ کرنا اس کے لیے ضروری ہے اسی مجلس کے اندر بھئی، طلب کرنا اس کے لیے ضروری ہے کہ میں شفعہ کرتا ہوں، میں شفعہ کروں گا، سمجھ میں آیا؟ اب اگر اسے ایک مستور الحال آدمی نے خبر دی ایک مجلس میں اور پھر بھی وہ خاموش رہا، نہیں بھئی اس خبر کا کوئی اعتبار نہیں۔ لیکن اگر اسے ایک عادل نے خبر دے دی یا دو مستور الحال آدمیوں نے ایک مجلس میں خبر دے دی تو یہ معلوم ہوا اسے علم ہو چکا، پھر اس مجلس میں وہ شفعے کو طلب نہیں کرتا، معلوم ہوا وہ شفعے کو کیا کر رہا ہے؟ ترک کر رہا ہے، پھر اس کو شفعے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ یہ معنی ہے کہ "وَأَيْضاً شُرِطَ خَبَرُ عَدْلٍ أَوْ مَسْتُورَيْنِ لِعِلْمِ الشَّفِيعِ بِالبَيْعِ"، شفیع کے بیع پر جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اسے خبر دے ایک عادل یا دو مستور الحال بھئی۔ "وَالبِكْرِ بِالنِّكَاحِ"، اسی طرح باکرہ کے لیے نکاح پر بھئی کہ اسے بھی ایک عادل خبر دے یا دو مستور الحال خبر دیں۔ بھئی ایک باکرہ ہے آپ نے پڑھا اس کی رضا بھی ضروری ہے اور اس کو خبر دی بھئی کسی نے کس چیز کی؟ کہ تیرے ولی نے تیرا نکاح کر دیا ہے۔ اگر خبر دینے والا عادل ہے یا دو مستور الحال نے خبر دی بھئی، تو عدالت یا عدد دونوں عدالت یا عدد دونوں میں سے ایک جز پایا گیا بھئی اور ایک جز ضروری تھا، اور پھر یہ خاموش رہتی ہے اس مجلس کے اندر تو اس کی خاموشی کس چیز کی علامت ہے؟ رضا کی علامت ہے۔ "وَمُسْلِمٍ لَمْ يُهَاجِرْ بِالشَّرَائِعِ"، اور ایسا مسلمان جس نے ہجرت نہیں کی اس کو شرائع شریعتوں کے شریعت کی خبر دینا، شرعی احکام کی بھئی۔ دیکھو ایک شخص ہے ایک غیر ملک میں رہتا ہے جہاں اسے احکامِ شرعی، وہ کافر ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اب کافر ہے، وہ وہاں پر مسلمان ہو گیا لیکن اسے احکامِ شریعت کا پتہ نہیں، مثلاً اب اسے یہ نہیں پتہ کہ نماز فرض ہے، اب اسے ایک آدمی نے خبر دی مستور الحال نے کہ بھئی نماز فرض ہے تمہارے اوپر، تم مسلمان ہو چکے ہو، کہتے ہیں نہیں بھئی ایک کی خبر کا اعتبار نہیں ہے، بلکہ اسے اگر ایک عادل خبر دے یا دو مستور الحال خبر دیں، پھر اس پر وہ شرعی احکام کیا ہو جائیں گے؟ لازم ہو جائیں گے اور وہ اگر نہیں کرتا تو اسے بعد میں ان کی قضا وغیرہ کرنا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ ورنہ تو اسے علم ہی نہیں ہے۔ اور "وَمُسْلِمٍ" اور ایسا مسلمان "لَمْ يُهَاجِرْ بِالشَّرَائِعِ"، اس کے علم کے لیے بھی کیا ضروری ہے؟ عادل یا دو مستور الحال کی خبر۔ "لاَ بِصِحَّةِ التَّوْكِيلِ"، صحتِ توکیل کے صحیح ہونے کے لیے، ایک آدمی کو آپ نے اپنا وکیل بنایا اس کو کوئی بھی جا کر خبر دے دے بھئی اس نے تمہیں اپنا وکیل بنا دیا ہے، بھئی وکالت صحیح، توکیل کیا ہوئی؟ یہاں عدل یا مستور الحال کی خبر، دو مستور الحال کی خبر دینا ضروری نہیں، جی متن سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو دیکھیے اب دوبارہ متن بھئی: "شُرِطَ خَبَرُ عَدْلٍ أَوْ مَسْتُورَيْنِ"، شرط لگائی گئی ہے ایک عادل آدمی کی خبر کی یا دو مستور الحال آدمیوں کی خبر کی، "لِعَزْلِ الوَكِيلِ"، وکیل کے معزول کرنے کے لیے، "وَلِعِلْمِ السَّيِّدِ بِجِنَايَةِ عَبْدِهِ"، اور اپنے غلام کی جنایت کے بارے میں آقا کے علم کے لیے، "وَلِلشَّفِيعِ بِالبَيْعِ"، اور شفیع کے لیے بیع کے علم پر، "وَالبِكْرِ بِالنِّكَاحِ"، اور باکرہ کے نکاح پر، "وَمُسْلِمٍ لَمْ يُهَاجِرْ بِالشَّرَائِعِ"، اور ایسا مسلمان جس نے ہجرت نہیں کی اس کے شریعت کے شرائع کے علم پر بھئی یہ چیز ضروری، "لاَ بِصِحَّةِ التَّوْكِيلِ"، توکیل کے صحیح ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ایک عادل یا دو مستور الحال خبر دیں۔ دیکھیے ساتھ تفصیل کریں گے بھئی علامہ صدر الشریعہ: أي إذا عزل الموکل الوکيل فأنبأه بذلك عدل أو مستوران لا يصح تصرفه بعد ذلك، جب معزول کر دیا موکل نے اس وکیل کو فأنبأہ بذلك، خبر دی اس کو اس بارے میں عدل أو مستوران، ایک عادل نے یا دو مستور الحال نے، لا يصح تصرفه بعد ذلك، اب اس وکیل کا تصرف صحیح نہیں اس خبر دینے کے بعد بھئی، کیونکہ وہ معزول ہو چکا۔ ولو أنبأه فاسق أو مستور الحال، اور اگر اس کو خبر دی کسی ایک فاسق نے یا مستور الحال نے تو نہ عدالت آئی نہ عدد آیا، فلا اعتبار بإخباره، تو اس کے خبر دینے کا کوئی اعتبار نہیں ہے، حتى تجوز تصرفاته، یہ تصرفات ہونا چاہیے لفظ بھئی، یہاں تک کہ اس کا تصرف جائز ہوگا، ابھی اگر وہ تصرف کر لیتا ہے یہ کس کی طرف سے شمار ہوگا بھئی؟ وکیل تصرف کر لیتا ہے، ایک فاسق نے ایک مستور الحال نے خبر دے دی تو نہ عدد آیا نہ عدالت آئی، یہ خبر معتبر ہے؟ اب یہ جو تصرف کرتا ہے یہ کس کی طرف سے شمار ہوگا؟ موکل ہی کی طرف سے شمار ہوگا بھئی۔ وکذا إذا جنا عبد خطأ فعلم السيد بجنايته بإخبار عدل أو مستورين فباع السيد عبده يكون مختاراً للفداء، اسی طرح جنایت کسی غلام، کسی غلام نے جنایت کی خطأً فعلم السيد بجنايته، پس جان لیا آقا نے اس کی جنایت کو بإخبار عدل أو مستورين، ایک عادل یا دو مستور الحال آدمیوں کے خبر دینے سے آقا نے اس کی جنایت کو جان لیا، فباع السيد عبده، پھر اس خبر دینے کے بعد بھی اس نے غلام کو کیا کر دیا؟ اپنے غلام کو آقا نے بیچ دیا، يكون مختاراً للفداء، تو یہ اختیار کرنے والا ہوگا کس کو؟ فدیے کو، علم ہو چکا ایک عادل یا دو مستور الحال نے خبر دی، تو یہ معتبر ہے، پھر اس نے غلام آزاد کیا، معلوم ہوا یہ کیا دینا چاہتا ہے؟ معلوم ہوا یہ فدیے کو اختیار کرنے والا ہے، اب اس پر اقل نہیں آئے گا بھئی بلکہ کیا آ جائے گا؟ فدیہ آ جائے گا بھئی جتنا بھی ہوا۔ وکذا إذا علم الشفيع بيع الدار فسكت، اسی طرح اگر جان لیا شفیع نے گھر کے بیچنے کو، اسے علم ہوا، فسكت، پھر وہ خاموش رہا، إن أخبره عدل أو مستوران يكون سكوته تسليماً، اگر اس کو خبر دی تھی ایک عادل نے یا دو مستور الحال نے تو اس کا سکوت کیا ہے؟ تسلیمِ شفعہ ہے، وہ شفعے کو چھوڑ رہا ہے، سپرد کر رہا ہے یعنی شفعہ نہیں کرنا چاہتا، اب اسے شفعے کا حق نہیں ہے۔ وکذا في علم البكر بإنكاحها، اسی طرح ہے باکرہ کے جاننے میں بإنكاحہا کس چیز کو اپنے اپنے نکاح کروانے کو باکرہ جان لے، إذا سكتت، جب وہ خاموش رہے، تب بھی اسی طرح ہے یعنی یہ راضی ہے۔ والمسلم الذي لم يهاجر، اور وہ مسلمان جس نے ہجرت نہیں کی دار الحرب سے، إذا أخبره عدل أو مستوران تجب عليه الشرائع، جب اسے خبر دے دی ایک عادل نے یا دو مستور الحال آدمیوں نے، تجب علیہ الشرائع، تو اس پر شرعی احکام کیا ہو جائیں گے؟ واجب ہو جائیں گے بھئی، پہلے تو علم نہیں تھا اب واجب ہو گئے، اب نہیں کرے گا تو قضا بھی ہوگی اس پر بھئی۔ أما صحة التوکيل، باقی متن میں آیا تھا بھئی صحتِ توکیل کے لیے عدد یا عدالت شرط نہیں، کیوں؟ کہتے ہیں: أما صحة التوکيل فلا يشترط لها ذلك، صحتِ توکیل کے صحیح ہونے کے لیے اس کی شرط نہیں لگائی گئی بھئی، حتى إذا أخبره فاسق بأن فلاناً وکله بالبيع فباع يجوز بيعه، حتی کہ اگر اسے ایک فاسق نے بھی خبر دے دی بان فلاناً وکله بالبيع کہ فلاں نے اسے وکیل بالبیع بنا دیا ہے، فباع، پھر اس نے بیچا، يجوز بيعه، تو اس کا بیچنا، یہ موکل کی طرف سے شمار ہوگا۔ وذلك، اور یہ اس لیے، لأنما يشترط العدد والعدالة في الشهادة، اور یہ اس لیے کہ شرط لگائی گئی ہے عدد اور عدالت کی کس کے اندر بھئی؟ گواہی میں کتنی چیزیں شرط ہیں بھئی؟ عدد بھی اور عدالت بھی۔ لأنها إلزام محض، اس لیے کہ شہادت کیا ہوتی ہے؟ الزامِ محض ہے، دوسرے پر کیا کیا جاتا ہے؟ ایک چیز کو، ایک حق وغیرہ کو لازم کر دیا جاتا ہے، فلا بد من التوکيد، لہذا اس کے لیے پختگی کا ہونا ضروری، تو عدد بھی چاہیے اور عدالت بھی بھئی، اب زید پر اپنے دین کو ثابت کرنا چاہتے ہیں تو شہادت کے لیے کیا کیا ضروری بھئی؟ عدد بھی اور عدالت بھی بھئی، کیونکہ یہ الزامِ محض ہے، زید پر آپ کیا کر رہے ہیں؟ اپنے دین کو لازم کر رہے ہیں۔ وأما التوکيل فليس فيه معنى الإلزام أصلاً، باقی توکیل جو ہے فليس فيه معنى الإلزام أصلاً، بھئی اس کے اندر الزام کا معنی سرے سے ہے ہی نہیں، قطعی طور پر نہیں ہے۔ فلا يشترط فيه شيء من وصفي الشهادة، لہذا شرط نہیں لگائی جائے گی اس کے اندر شہادت کے دو وصفوں میں سے کسی چیز کی، وصفین، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا بھئی تثنیہ کا، شہادت کے دو وصفوں میں سے کسی چیز کی اس میں شرط نہیں لگائی جائے گی بھئی، بھئی شہادت کے اندر تو تھا الزام، توکیل کے اندر الزام ہے بھئی کسی کو آپ اپنا وکیل بناتے ہیں تو اس پر کوئی چیز لازم کرتے ہیں؟ جی؟ نہیں، اس پر کوئی ضرر لازم آ رہا ہے؟ آپ کی گاڑی بیچتے گئے، آپ کے لیے گاڑی خرید لائے گا بھئی، جی؟ نہیں بھئی کوئی اس میں الزام نہیں ہے، اس پر کوئی ضرر نہیں ہے، تو لہذا اس میں شہادت کے دونوں وصفوں عدد اور عدالت میں سے کسی چیز کی شرط نہیں لگائی جائے گی، وہ دو وصف شہادت کے کیا ہیں بھئی؟ أي العدد والعدالة، یعنی عدد اور عدالت۔ وأما عزل الوکيل، بھئی باقی عزلِ وکیل جو تھا وکیل کو معزول کرنے کے لیے اس میں آپ نے کیا شرط لگائی تھی بھئی؟ جی؟ یا عدد ہونا چاہیے یا؟ کیوں؟ اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ جتنے متن میں مسئلے آئے تھے جن سب میں یہ بتلایا تھا عدد یا عدالت کیا ہے؟ شرط۔ وأما عزل الوکيل ونحوه فإلزام من وجه دون وجه، عزلِ وکیل اور اس جیسے جو مسئلے ہیں یعنی جو متن میں بیان ہوئے فإلزام من وجہ دون وجہ، تو وہ من وجہ الزام ہیں اور من وجہ الزام نہیں ہیں۔ فمن حيث إنه لا يبقى له ولاية التصرف يكون إكراه ضرر، پس اس حیثیت سے کہ بھئی کہ باقی نہیں رہے گی اس کے لیے تصرف کی ولایت، یہ يكون إكراه ضرر، تو یہ کیا ہے؟ ضرر کو لازم کرنا ہے۔ دیکھو بھئی! آپ نے ایک آدمی کو وکیل بنایا، کیا بنایا؟ وکیل بنایا، تو وکیل بنانے میں تو کوئی اس پر ضرر لازم نہیں آتا، لیکن جب آپ اس کو وکالت سے معزول کرتے ہیں تو من وجہ الزام ہے، من وجہ الزام، من وجہ الزام نہیں مولانا، کس طرح نہیں ہے؟ بھئی میں نے اس کو وکیل بنایا تھا اب میں اس کو کیا کر رہا ہوں؟ معزول، اپنے حق میں تصرف کر رہا ہوں، میں نے اسے اجازت دی تھی جاؤ بھئی یہ میری گاڑی بیچ دو، اب میں اسے کیا کر رہا ہوں؟ معزول کر رہا ہوں، تو میں کیا کر رہا ہوں؟ اپنے حق میں تصرف کر رہا ہوں، وکیل کو کوئی نقصان پہنچا رہا ہوں؟ نہیں، تو بعیں لحاظ دیکھا جائے کہ موکل نے صرف اپنے حق میں تصرف کیا ہے اس میں الزام نہیں، لیکن بعیں لحاظ دیکھا جائے تو الزام ہے بھی، کہ اب جب وکیل معزول ہوگا، اب اگر وہ چیز بیچ دیتا ہے یا خرید لیتا ہے تو وہ موکل کی طرف سے نہیں شمار ہوگی، کس کی طرف سے شمار ہوگی؟ وکیل، تو وکیل کو ضرر آئے گا یا نہیں آئے گا؟ تو بعیں لحاظ یہ الزام ہے، معزول کر دینا کیا ہے؟ الزام ہے، اور بعیں لحاظ کہ موکل نے اپنے حق میں تصرف کیا ہے یہ الزام نہیں، تو من وجہ الزام ہے من وجہ الزام نہیں، تو لہذا اس کے اندر بھئی، ان دو شہادت کے دو جزوں میں سے ایک کی شرط لگا دی گئی، کس کی لگا دی گئی؟ ایک کی شرط، اور دو جز کون سے تھے؟ عدد یا، مسئلہ سمجھ میں آیا سب کو بھئی؟ وأما عزل الوكِيلِ ونحوه فإلزام من وجه دون وجه، فمن حيث إنه لا يبقى له ولاية التصرف يكون إلزام ضرر، پس اس حیثیت سے کہ وکیل کے لیے باقی نہیں رہے گی تصرف کی ولایت، يكون إلزام ضرر، تو یہ کیا ہے؟ ضرر کا لازم کرنا ہے اس پر کہ اب وہ جو بھی خریدے گا اس کی طرف سے اپنا، اپنی طرف سے شمار ہوگا، ضرر، جی تو سمجھ میں آیا تو تصرف کی ولایت اس کی ختم ہوئی تو یہ ضرر ہے، ومن حيث إن الموكل يتصرف في حق نفسه، اور بعیں حیثیت کہ موکل تو تصرف کر رہا ہے اپنے ذات کے حق میں بالعزل، کس کے ذریعے؟ بھئی جب میں معزول کر رہا ہوں تو اپنے حق میں تصرف کر رہا ہوں، فليس بإلزام، تو یہ الزام نہیں، فشُرِطَ له أحد وصفي الشهادة، تو اس کے لیے شرط لگائی گئی ہے شہادت کے دو وصفوں میں سے ایک کی۔ وَلاَ يَضْمَنُ قَاضٍ أَوْ أَمِينُهُ إِنْ بَاعَ عَبْداً لِلْغُرَمَاءِ. صورتِ مسئلہ یہ ہے: صورت بھئی، بھئی قرض خواہوں کے قرض کی ادائیگی کے لیے قاضی نے ایک شخص کے غلام کو بیچا، یا اس کے امین نے کیا کیا؟ اس کے غلام، قاضی نے کسی کو امانت کے طور پر سپرد کیا تھا اسے قاضی نے کہہ دیا کہ بھئی اس غلام کو کیا کرو؟ بیچ دو اور پیسے لے کر آؤ، ان قرض خواہوں کو ان کے پیسے دیے جائیں ان کے حصے کے بقدر بھئی۔ اب اس غلام کو بیچ دیا قاضی نے یا قاضی کے امین نے، پیسے وصول ہو گئے، پیسے وصول ہونے کے بعد قاضی کے پاس یا قاضی کے امین کے پاس ضائع ہو گئے، ہلاک ہو گئے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ کوئی چرا کر لے گیا یا کچھ ہوا۔ اور ادھر وہ جو غلام بیچا تھا مشتری نے خریدا، وہ غلام کسی اور کا نکل آیا، جو غلام بیچا تھا وہ نکل آیا، جب کسی اور کا نکل آیا تو وہ تو غلام لے جائے گا، اب مشتری رجوع کرے گا قاضی یا امین پر کہ لاؤ بھئی میرے وہ ثمن جو آپ نے مجھ سے لیے تھے وہ واپس کرو، کیونکہ غلام تو کسی اور کا نکل آیا، اور ثمن تو کیا ہو چکے؟ ضائع، تو کیا قاضی سے یا قاضی کے امین سے ضمان لیا جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، قاضی پر ضمان نہیں آیا کرتا اور جو قاضی کا امین ہے وہ بھی کس کے حکم میں ہے؟ قاضی ہی کے حکم میں ہے تو اس پر بھی ضمان، تو پھر کیا کیا جائے گا بھئی؟ مشتری ثمن کہاں سے وصول کرے؟ کہتے ہیں بھئی اس غلام کو بیچا کس کی خاطر گیا تھا؟ قرض خواہوں کی خاطر، کس کی خاطر بیچا گیا تھا؟ قرض خواہوں کے قرض کو ادا کرنے کے لیے بیچا گیا تھا، لہذا اب مشتری ان پر رجوع کرے گا اور ان میں سے ہر ایک سے اپنے حصے کے بقدر کیا کر لے گا؟ پیسے وصول، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ولا يضمن قاض أو أمينه، اور ضامن نہیں ہوگا قاضی یا قاضی کا امین، إن باع عبداً للغرماء، اگر بیچا انہوں نے غلام کو بھئی کس کے لیے؟ قرض خواہوں کے لیے، أي باع عبداً للمديون لأجل الدائنين، یعنی بیچا غلام کو مدیون کے غلام کو بیچا لأجل الدائنین، کن کے لوگوں کے لیے بیچا؟ جی؟ ہاں، قرض خواہوں کے لیے بیچا بھئی۔ تو یہ قرض دار، مدیون قرض دار، قرض دار کے غلام کو بیچا لأجل الدائنین قرض خواہوں کے لیے، وأخذ ثمنه، اور اخذ ہونا چاہیے یہ او نہیں ہونا چاہیے بھئی، واؤ ہونا چاہیے، وأخذ ثمنه، اور اس کے ثمن بھی لے لیے، فضاع، تو وہ ثمن کیا ہوئے؟ ضائع ہو گئے، فاستحق العبد، وہ غلام کا کیا نکل آیا؟ کوئی اور مالک نکل آیا، کوئی استحقاق نکل آیا، جی، فيرجع المشترِي، پس مشتری رجوع کرے گا۔ کس پر رجوع کرے گا؟ میں نے کیا بتایا بھئی؟ علی الغرماء، قرض خواہوں پر، لأنه تعذر الرجوع على القاضي، اس لیے کہ قاضی پر رجوع متعذر ہو گیا ممکن نہ رہا، اس لیے کہ قاضی پر ضمان نہیں آتا، فيضمن الغرماءُ، تو ضامن کون ہوں گے؟ غرماء ہوں گے، لأن القاضيَ قد عمل لهم، اس لیے کہ قاضی نے کس کے لیے عمل کیا تھا؟ غرماء ہی کے لیے عمل تھا یہ بیچنے والا، وأمين القاضي كالقاضي، اور قاضی کا امین بھی کس کی طرح ہے؟ تو اس پر بھی ضمان نہیں، تو اس سے بھی ضمان نہیں مل سکتا، تو اب قرض خواہوں پر رجوع کرے گا۔ وَإِنْ بَاعَ الوَصِيُّ لَهُمْ بِأَمْرِ قَاضٍ. بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے: زید مرا اور اس نے اپنی جائداد کا نگران جو ہے وہ عمرو کو بنایا تھا، عمرو اب نگران ہے، اب قرض خواہ بھئی آ گئے قرضہ وصول کرنے کے لیے، تو اب قرضے کی ادائیگی مشکل ہوئی تو اس کے مال میں سے بھئی درہم و دنانیر تو اتنے ہیں نہیں، تو غلام وغیرہ کو بیچنے کی نوبت آئی بھئی۔ اب قاضی نے وصی اس نگران کو، قاضی نے حکم دیا اس غلام کو بیچ کر کیا کرو؟ ان قرض خواہوں کا قرضہ؟ تو اس نے قاضی کے حکم پر اس غلام کو بیچ دیا، غلام کو بیچنے کے بعد بھئی اس نے ثمن وصول کر لیے، ثمن اس کے پاس ضائع ہو گئے کوئی چرا کر لے گیا مثلاً، ادھر وہ غلام کسی اور کا نکل آیا، تو مشتری اب آئے گا وصی کے پاس کہ بھئی وہ غلام کسی اور کا نکلا، میرے پیسے مجھے دے دو، ثمن تو ضائع ہو چکے، سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں بھئی اس صورت میں وصی پر ضمان آئے گا، وصی کو کیا کرنا پڑے گا؟ پیسے مشتری کے اپنی جیب سے دینا پڑیں گے، ہاں پھر وصی اس کے بعد رجوع کن پر کرے گا؟ یہ غلام کس کے لیے بیچا تھا اس نے؟ قرض خواہوں کے لیے، تو وصی جا کر پھر کیا کر لے گا؟ قرض خواہوں سے وہ وصول کر لے گا۔ وإن باع الوصي لهم، اور اگر بیچا وصی نے ان کے لیے یعنی قرض خواہوں کے لیے غلام کو بیچا، بأمر قاض، کس کے حکم سے؟ قاضی کے حکم سے، فاستحق العبد، تو اس غلام کا بھئی کوئی مستحق نکل آیا، أو مات قبل قبضه، یا وہ غلام اس پر مشتری کے قبضہ کرنے سے پہلے اس کے پاس کیا ہوا؟ مر گیا بھئی، ثمن تو یہ لے چکا تھا، غلام خود اسی کے پاس مر گیا، تو اس نے کوئی قبضہ کیا غلام پر؟ نہیں، تو وہ ثمن کا مطالبہ کرے گا، فضاع ثمنه، پس اس کے ثمن بھی اس کے پاس کیا ہو گئے؟ ضائع ہو گئے، رجع المشتري على الوصي، مشتری رجوع کرے گا وصی پر، اس سے لے گا، وهو عليهم، اور وصی کن پر رجوع کرے گا؟ غرماء پر، لأن العاقد هو الوصي، بھئی وصی پر کیوں رجوع کرے گا مشتری؟ کہتے ہیں اس لیے کہ عقد کرنے والا کون ہے؟ وصی ہے، فعليه الرجوع، تو رجوع بھی اسی پر ہوگا، اور یہ بھئی وصی کیوں رجوع کرے گا ان پر؟ کہتے ہیں: والوصي يرجع عليهم لأنه عمل لأجلهم، وصی ان پر قرض خواہوں پر رجوع کرے گا اس لیے کیونکہ یہ عمل اس نے یہ جو بیچنے کا عمل کس کے لیے کیا تھا؟ قرض خواہوں کے لیے کیا تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ آگے بھئی! دیکھیے بھئی قاضی یا عالم ہوگا یا جاہل ہوگا، قاضی کیا ہوگا؟ عالم ہوگا یا جاہل ہوگا، اور دونوں صورتوں کے اندر عادل ہوگا یا غیر عادل ہوگا، کتنی صورتیں بن گئیں؟ چار: عالم ہوگا یا جاہل، پھر عالم کے اندر بھئی وہ عادل ہوگا یا غیر عادل، تو دو بن گئے: ایک عالمِ عادل اور ایک عالمِ غیر عادل، جی دو ہوئے، اور جاہل کے اندر بھی یہ دو صورتیں ہیں: جاہلِ عادل اور جاہلِ غیر عادل، چار صورتیں ہو گئیں، چار قسم کے قاضی ہوئے بھئی۔ ان چار قسم کے قاضیوں میں سے بھئی، یہ قاضی آپ کو کہتے ہیں: بھئی میں نے زید جو ہے، زید پر میں نے رجم کا فیصلہ کر دیا ہے تو تم اس کو کیا کر دو؟ رجم کر دو، جی، آپ کے لیے جائز ہو گیا بھئی، آپ کیا کر سکتے ہیں اس کو؟ رجم کر سکتے ہیں۔ یا، جی لیکن چاروں قاضیوں کی صورت نہیں بھئی، آگے تفصیل آ جائے گی، اگر، یا دوسری پہلے سمجھ لیں، دوسری صورتیں بھی دیکھ لیں: قاضی نے آپ سے کہا بھئی زید پر چوری ثابت ہو گئی ہے یا زید پر میں نے فیصلہ کر دیا ہے ہاتھ کاٹنے کا چوری کی وجہ سے، تم کیا کرو اس کا ہاتھ؟ آپ تلوار نکالتے ہیں زيد کا ہاتھ کاٹ دیتے ہیں مولانا۔ یا مولانا تیسری صورت بھئی، قصاص، قاضی کہتا ہے اس پر قصاص کا فیصلہ میں نے کر دیا ہے، اس کی گردن اڑا دو بھئی، کہتے ہیں آپ تلوار نکالتے ہیں اس کی گردن اڑا دیتے ہیں، کن صورتوں میں آپ کے لیے جائز ہے، کن صورتوں میں جائز نہیں؟ کہتے ہیں یاد رکھو! اگر قاضی ہو عالم عادل، کون سا قاضی ہو؟ عالم عادل، یہ سارے شرع میں آ رہا ہے بھئی، قاضی اگر عالم ہو عادل ہو آپ کے لیے جائز ہے بغیر پوچھے کیا کر دیں؟ قاضی عالم بھی ہے اور عادل بھی، بغیر پوچھے ہاتھ کاٹ دیتے ہیں اس شخص کا یا اس کو رجم کر دیتے ہیں یا کیا کر دیتے ہیں اس کی گردن اڑا دیتے ہیں، تو آپ کے لیے گنجائش ہے، جائز ہے آپ کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر دوسرا قاضی کون سا ہے؟ جاہل ہے لیکن ہے عادل بھئی، قاضی ہے جاہل لیکن عادل، تو اس صورت میں آپ کے لیے پوچھنا ضروری اس سے، پوچھیں بھئی میں کیوں اس کا ہاتھ کاٹوں؟ میں کیوں اس کی گردن اڑاوں؟ وہ کہتا ہے بھئی اس کے اوپر بینہ پیش ہو گئی، اس نے کیا کی تھی؟ چوری کی تھی یا قتل کیا تھا اور دو عادل گواہوں نے گواہی دی اور میں نے اس پر کیا کر دیا؟ فیصلہ کر دیا، تو اب آپ کے لیے، جب یہ اچھی تفصیل کا آپ نے پوچھا اور اس نے آپ کے، کیا کیا؟ جواب دیا، تفصیل کر دی، اپنے فیصلے کی وجہ ذکر کر دی، تو اب آپ کے لیے کیا ہوا؟ جائز ہو گیا اس کی گردن اڑانا یا اس کا ہاتھ وغیرہ کاٹنا۔ لیکن باقی دو، باقی دو قاضی جو غیر عادل ہیں چاہے عالم غیر عادل ہو چاہے جاہل غیر عادل، اس میں آپ کے لیے جائز نہیں ہے کہ قاضی کے فیصلے پر کیا کر دیں؟ کسی کی گردن اڑا دیں جب وہ آپ کو کہے یا اس کا ہاتھ وغیرہ کاٹ دیں جب تک اس سارے قضا کا مشاہدہ آپ نے خود نہ کیا ہو۔ وہ عدالت میں فیصلہ ہو رہا ہے، گواہ پیش ہو رہے ہیں، جب تک اس کا آپ نے خود مشاہدہ نہ کیا ہو، جب آپ نے خود مشاہدہ کیا کہ ہاں بھئی واقعی مقدمہ میرے سامنے چلا تھا، یہ سارا کچھ ہوا، فیصلہ ہوا ہے، پھر آپ کے لیے جائز ہے جبکہ قاضی غیر عادل ہے چاہے عالم ہے چاہے جاہل۔ ولو أمرك قاضٍ عالم عادل بفعل قضى به على هذا، اور اگر آپ کو حکم دیا ایسے عالم قاضی نے جو عادل بھی ہے بفعلٍ ایسے فعل کا قضى به على هذا، جس کے اس نے، جس کا اس نے فیصلہ کر دیا تھا على هذا اس شخص پر بھئی جو موجود شخص ہے، آپ کو قاضی نے حکم دیا ایسا قاضی جو عالم ہے اور عادل ہے بفعلٍ ایسے فعل کا قضى به على هذا جو اس نے اس آدمی پر کیا کر دیا تھا؟ فیصلہ کر دیا تھا بھئی، کیا؟ یعنی من رجمٍ یعنی کہ رجم کا فیصلہ کر دیا تھا، أو قطعٍ یا ہاتھ کاٹنے کا، أو یا ہاتھ، گردن کاٹنے کا، أو ضربٍ یا کوڑے لگانے کا، وسعك فعله، آپ کے لیے گنجائش ہے بھئی، وسعك فعله بھئی، آپ کے لیے گنجائش ہے مولانا کس چیز کی؟ اس کام کے کرنے کی گنجائش ہے بھئی۔ وسِعَ يسَعُ کا معنی گنجائش ہونا، گنجائش ہے آپ کے لیے اس کام کو کرنے کی کہ آپ رجم کر سکتے ہیں، قطع کر سکتے ہیں چاہے ہاتھ کا ہو چاہے گردن کا ہو، أو ضربٍ یا کوڑے لگا سکتے ہیں۔ وصدِّق عَدْلٌ جَاهِلٌ، اور تصدیق کی جائے گی کس کی بھئی؟ عدلِ، ایسا قاضی جو عادل ہے مگر جاہل ہے، سُئِلَ، جسے کیا کیا گیا؟ سوال کیا گیا، فأحسن تفسیره، اس نے کیا کی؟ عمدہ کی اس کی تفصیل، یعنی عمدہ جواب دیا، بتلایا اس وجہ سے میں نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے وغیرہ، تو ان اس کی بھی تصدیق کی جائے گی اور آپ پھر کیا کر سکتے ہیں؟ وہ فعل کر سکتے ہیں۔ ولم يُصَدَّقْ قولُ غيرهما، اور غیروں کے قول کی تصدیق، ان کے علاوہ دو قاضیوں کی تصدیق، دیکھیے خود بتلا رہے ہیں: القاضي إما عالم عدل أو جاهل عدل، قاضی یا تو عالم عدل ہوگا یا جاہل عدل ہوگا، أو عالم غير عدل أو جاهل غير عدل، یا عالم غیر عدل ہوگا یا جاہل غیر عدل ہوگا، فالأول إن قال، پہلا جو ہے عالم عدل، إن قال اگر اس نے کہا: قضيت بقطع يد زيد فاقطع يده، میں نے فیصلہ کر دیا ہے زید کے ہاتھ کے کاٹنے کا، فاقطع یدہ پس تو کاٹ دے اس کے ہاتھ کو، جاز لك قطع يده، جائز ہے آپ کے لیے اس کے ہاتھ کو کاٹنا۔ والقاضي الثاني، اور قاضیِ ثانی جو ہے جاہل عدل، إن قال، اگر اس نے کہا: هذا، اگر اس نے یہی بات کہی، فلا بد من أن تسأله عن سببه، پس ضروری ہے کہ آپ اس قاضیِ جاہلِ عدل سے پوچھیں اس کام کے، اس عمل کے سبب کے بارے میں، فإن أحسن تفسيره، بھئی اگر اس نے اس کی اچھی تفصیل کی بھئی یعنی فیصلے کی وجہ ذکر کر دی، وجبت تصديقه، تو واجب ہے اس کی تصدیق، فيجوز لك قطع يده، تو جائز ہے آپ کے لیے اس شخص کے ہاتھ کو کاٹنا، کاٹنا، وأما الأخيران فلا يقبل قولهما، باقی دو آخری قاضی جو ہیں غیر عادل، چاہے عالم ہو یا جاہل ہو، ان کے قول کو قبول نہیں کیا جائے گا بھئی، آپ کے لیے جائز نہیں ہے ہاتھ کاٹنا، گردن کاٹنا وغیرہ۔ أچھا بھئی! و صُدِّقَ قَاضٍ، قاضٍ ہونا چاہیے یہاں یا درست نہیں بھئی۔ و صُدِّقَ قَاضٍ عُزِلَ وَقَالَ لِزَيْدٍ: أَخَذْتُ مِنْكَ أَلْفاً فَقَضَيْتُ بِهِ لِعَمْرٍو، بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے: قاضی بھئی معزول کر دیا گیا، معزولی کے بعد بھئی وہ زید سے کیا کہتا ہے؟ کہ میں نے تم سے ایک مرتبہ ایک ہزار درہم لیے تھے جو میں نے کس کے لیے فیصلہ کیے تھے؟ عمرو کے لیے میں نے فیصلہ کیا تھا، تو میں نے تم سے ایک ہزار درہم لے کر وہ کس کو دے دیے تھے بھئی؟ عمرو کو دے دیے تھے۔ زید کہتا ہے: نہیں بھئی! آپ نے ظلماً مجھ سے لے کر کیا کیے تھے عمرو کو دیے تھے بھئی، ظلماً۔ تو کہتے ہیں بھئی قاضی کے قول کی تصدیق کی جائے گی بغیر قسم کے، بغیر قسم کے کس کی تصدیق کی جائے گی؟ قاضی کی، کیونکہ کہتے ہیں ظاہر یہی ہے کہ قاضی کسی پر ظلم نہیں کرتا، صورت سمجھ میں آئی؟ قاضی نے کہا: میں نے فیصلہ کر کے باقاعدہ کس کو دلوائے تھے وہ پیسے آپ سے لے کر؟ عمرو کو، وہ کہتا ہے: نہیں بھئی! فیصلہ وغیرہ کوئی نہیں تھا، آپ نے کیا کیا تھا؟ ظلماً مجھ سے لے کر عمرو کو دے دیے تھے، تو تصدیق کس کی کی جائے گی؟ قاضی کی، بغیر قسم کے۔ یا اسی طرح قاضی زید سے کہتا ہے: بھئی میں نے تمہارے اوپر ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ تمہارے اوپر چوری ثابت ہو گئی تھی، یا جنایت ثابت ہو گئی تھی اور تو میں نے تمہارے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، فیصلہ کیا اور تمہارا ہاتھ کاٹا گیا۔ اس نے کہا: نہیں نہیں قاضی صاحب! آپ نے کیا کیا تھا؟ کوئی گواہ وغیرہ پیش نہیں ہوئے تھے، آپ نے ظلماً کیا کیا تھا؟ میرا ہاتھ کٹوایا تھا، کہتے ہیں قاضی کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ قاضی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے۔ لیکن کب؟ جبکہ وہ بھی یہ کہتا ہے کہ یہ بات کس زمانے میں ہوئی تھی جب آپ قاضی تھے، جب آپ کیا تھے؟ قاضی، لیکن اگر بات وہ کہتا ہے قاضی بننے سے پہلے آپ نے یوں کیا تھا یا معزول ہو جانے کے بعد یوں کیا ہے، تو پھر اس صورت میں زید کے ذمے بینہ ہے بھئی، وہ بینہ لے آئے، یہ بات ثابت کر دے کہ قاضی نے قاضی بننے سے پہلے یہ کام کیا تھا یا معزول ہو جانے کے بعد یہ کام کیا ہے، تو بینہ کے ذریعے زید کے قول کو کیا کر دیا جائے گا؟ قبول کر لیا جائے گا، اور اگر بینہ نہیں ہے تو پھر قاضی کے قول درست ہے، تصدیق، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: "وَصُدِّقَ"، میں نے بتلایا تصدیق کی جائے گی بغیر قسم کے، "وَصُدِّقَ قَاضٍ عُزِلَ"، اور تصدیق کی جائے گی ایسے قاضی کی جس سے معزول کر دیا گیا ہے، "وَقَالَ"، اور اس نے کہا، "لِزَيْدٍ"، زید سے: "أَخَذْتُ مِنْكَ أَلْفاً"، میں نے تجھ سے ایک ہزار دے دیے، "فَقَضَيْتُ بِهِ لِعَمْرٍو"، پس فیصلہ کر دیا اس کا میں نے کس کے لیے؟ عمرو کے لیے، "وَدَفَعْتُ إِلَيْهِ"، اور پھر وہ میں نے زید کے، عمرو کے حوالے کر دیے، أو قال له، یا یوں کہا قاضی نے زید سے: "قَضَيْتُ بِقَطْعِ يَدِكَ فِي حَقٍّ"، میں نے فیصلہ کیا تھا تجھ پر تیرے ہاتھ کے کاٹنے کا کسی حق میں بھئی، سمجھ میں آیا؟ چوری میں یا جنایت وغیرہ میں، و ادعى زيد أخذَهُ و قطعه ظلماً، اور زید نے دعویٰ کر دیا قاضی کے لینے کا یا قاضی کے ہاتھ کاٹنے کا ظلماً، کس طریقے پر؟ ظلم کے طریقے پر، و أقر بكونهما في قضائه، اور یہ دونوں، اور اقرار کرتا ہے زید کہ یہ دونوں کام چاہے اس نے اخذ کی بات کی ہے یا قطع کی، یہ کس زمانے میں ہوئے ہیں؟ فی قضائه، اس کے قضا کے زمانے میں ہوئے ہیں، تو قاضی کی تصدیق کی جائے گی۔ لأن زيداً لما - یہ لمن نہیں ہے مولانا "لما" ہے، لام غلط ہے، کتابت کی غلطی ہے - لأن زيداً لما أقر بكون الأخذ والقضاء بقطع اليد في زمان قضائه، اس لیے کہ زید نے جب اقرار کر لیا کہ یہ اخذ یا قضا بقطع اليد کس زمانے میں ہے؟ اس قاضی کے قضا کے زمانے میں ہے، جب اس نے اس کا اقرار کر لیا، فالظاهر أن القاضي لا يظلم، تو ظاہر یہی ہے کہ قاضی ظلم نہیں کرتا، فالقول للقاضي، تو قول قاضی کا معتبر ہے، وأما إذا لم يقر بكونهما في زمان قضائه، باقی اگر اس نے اقرار نہیں کیا کہ یہ کام کس زمانے میں ہوئے تھے؟ اس کے قضا کے زمانے میں ہوئے تھے، بل قال، بلکہ زید کہتا ہے: إنما فعلت هذا، بلکہ تو نے یہ کام کیا تھا، قبل التقليد، قضا سپرد کیے جانے سے پہلے، أو بعد العزل، یا کس معزول ہو جانے کے بعد یہ کام کیا تھا، فإن أقام بينة على هذا، اگر اس نے بینہ قائم کر دی اس بات پر، فالقاضي يكون مبطلاً في هذا الفعل، تو قاضی کیا ہوگا اس فعل کے اندر؟ مبطل ہے، یعنی غلطی پر ہے بھئی۔ وإن لم يكن له بينة، اور اگر زید کے پاس بینہ نہ تھی، کہتا یہی ہے کہ قضا سے پہلے یا قضا کے بعد، معزولی کے بعد تو نے یہ کام کیا ہے، لیکن اس کے پاس بینہ نہیں ہے، فالقول للقاضي، تو اس صورت میں بھی قول کس کا معتبر؟ قاضی کا، کیونکہ "البينة على المدعي واليمين على من أنكر". چلیے بس سن لیں، ھذا ھو المرام والله اعلم بحقيقة الکلام۔
108 approved lectures · 69 of 108