وَعِذْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى فِي آخِرِ صَكٍّ يُبْطِلُ كُلَّهُ وَعِنْدَهُمَا آخِرُهُ وَهُوَ اسْتِحْسَانٌ.
جی یہاں تک یہ متن ہے مولانا۔ متن بھئی، وَذِكْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى سے وَهُوَ اسْتِحْسَانٌ تک یہ سارا متن ہے۔
إِذَا كَتَبَ صَكَّ إِقْرَارٍ ثُمَّ كَتَبَ فِي آخِرِهِ كُلَّ مَنْ أَخْرَجَ هَذَا الصَّكَّ وَطَلَبَ مَا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ أَدْفَعُ إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.
صورَتِ مسئلہ یہ ہے، ایک شخص نے ایک دستاویز لکھی اقرار وغیرہ یا کسی اقرار وغیرہ کی، اور آخر میں اس نے لکھ دیا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى۔ ملا کر بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو اس صورت میں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی، اس سارے دستاویز، اس سارے اقرار نامے کو إِنْ شَاءَ اللَّهُ باطل کر دے گا بھئی، کیونکہ اس کو سارے کو مقید کر دیا مشیت الہی کے ساتھ، اگر اللہ نے، إِنْ شَاءَ اللَّهُ کا کیا معنی؟ اگر اللہ نے چاہا، اور مشیت الہی کا پتہ تو چل نہیں سکتا بھئی۔ تو لہذا یہ سارا باطل ہو جائے گا۔
جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، سارا باطل نہیں ہوگا، بلکہ صرف آخری حصہ اس کا کیا ہو جائے گا؟ جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے، آخری جملہ وغیرہ، وہ باطل ہوگا، باقی نہیں باطل ہوگا بھئی۔
جی، تو امام صاحب کا مذہب مبنی ہے قیاس پر، اور صاحبین کا مذہب مبنی ہے استحسان پر بھئی۔ تفصیل آگے آ رہی ہے جی۔
وَذِكْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، میں نے بتلایا آپ کو کہ یہ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بھئی، اِن کو الگ لکھنا چاہیے، شَاءَ کو الگ لکھنا چاہیے، کیونکہ اِن حرفِ شرط ہے، شَاءَ يَشَاءُ فعل فعل ہے بھئی، تو یہ ہمیشہ کتابت میں ہمیشہ علیحدہ لکھیں آپ بھی بھئی، اور یہ اکٹھا لکھنا یہ غلطی ہے بھئی۔ إِنْ شَاءَ الگ لفظ ہے، إِنْ شَاءَ بھئی آپ پڑھتے ہیں۔ إِنْ شَاءَ کا معنی پیدا کرنا بھئی، وجود دینا۔
تو یہاں بھی الگ ہونا چاہیے بھئی۔ وَذِكْرُ اور ذکر کرنا إِنْ شَاءَ اللَّهُ کو فِي آخِرِ صَكٍّ دستاویز یا اقرار نامے کے آخر میں يُبْطِلُ كُلَّهُ یہ اس سارے کو کیا کر دیتا ہے؟ سارے اقرار نامے کو باطل کر دیتا ہے، یہ امام صاحب کے نزدیک، وَعِنْدَهُمَا آخِرُهُ اور صاحبین کے نزدیک صرف اس کے آخر کو باطل کرتا ہے، وَهُوَ اسْتِحْسَانٌ اور یہ استحسان ہے۔
دیکھیے، تفصیل خود بتلا رہے ہیں، إِذَا كَتَبَ صَكَّ إِقْرَارٍ ایک شخص نے صَكَّ إِقْرَارِ اقرار کا دستاویز لکھی، ثُمَّ كَتَبَ فِي آخِرِهِ پھر اس کے آخر میں اس نے لکھا، كُلَّ مَنْ أَخْرَجَ هَذَا الصَّكَّ ہر وہ شخص جو یہ دستاویز نکالے گا، یعنی لے کر آئے گا، وَطَلَبَ مَا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ اور طلب کرے گا وہ جو اس کے اندر ہے، یعنی کہ حق، جو حق میں نے اس کے اندر لکھا ہے، جو یہ دستاویز لائے گا اور اس حق کو طلب کرے گا، أَدْفَعُ إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى میں اس کے حوالے کر دوں گا اگر اللہ نے چاہا، فَقَوْلُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَنْصَرِفُ إِلَى الْكُلِّ تو اس کا إِنْ شَاءَ اللَّهُ کہنا یہ پھر جائے گا، لوٹے گا، پھرے گا سارے کی طرف، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، حَتَّى يَبْطُلَ جَمِيعُ الصَّكِّ یہاں تک کہ سارا ساری دستاویز کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی بھئی، وَهُوَ الْقِيَاسُ اور یہی کیا ہے؟ قیاس ہے، کیونکہ بھئی یہاں دراصل جب عطف کی صورت ہو بھئی، کیا ہو؟ عطف تو قیاس عطف کی وجہ سے وہ سارا شے واحد کے حکم میں، ساری دستاویز کس کے حکم میں ہو گئی؟ شے واحد تو ساری تحریر شے واحد بن گئی، اور شے واحد کے ساتھ إِنْ شَاءَ آیا تو اس نے اس کو باطل کر دیا، كَمَا فِي قَوْلِهِ جیسے کہ اس قول کے اندر کسی شخص کے بھئی، عبدُهُ حُرٌّ وَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ بھئی، ایک آدمی نے کہا عَبْدِي حُرٌّ وَامْرَأَتِي طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بھئی، دو جملے کہہ رہا ہے دیکھو یا تین کہہ رہا ہے یا چار کہہ رہا ہے درمیان میں کیا لے کر آ رہا ہے؟ حرفِ عطف تو اس نے سارے کو ایک کے حکم میں کر دیا بھئی، اور اس صورت میں بھئی إِنْ شَاءَ اللَّهُ کی وجہ سے دونوں چیزیں باطل ہو جائیں گی، نہ تو اس کا غلام آزاد ہوگا اور نہ اس بیوی کو طلاق ہوگی۔
وَغَيْرَ نَاوٍ اَبْوَاگر إِنْ شَاءَ نہ ہو پھر تو دونوں چیزیں واقع ہوں گی، غلام بھی آزاد ہوگا اور بیوی کو بھی طلاق ہوگی۔
وَعِنْدَهُمَا تو یہ قیاس تھا بھئی، کیونکہ حکم عطف کی وجہ سے سارے ایک چیز کے حکم میں ہو گئے، وَعِنْدَهُمَا يَنْصَرِفُ إِلَى الْآخَرِ اور ان کے نزدیک یہ پھر اس کا یہ إِنْ شَاءَ اللَّهُ کہنا پھر جائے گا آخر کی طرف وَهُوَ الِاسْتِحْسَانُ اور یہ کیا ہے؟ استحسان ہے، لِأَنَّ الصَّكَّ لِلِاسْتِثَاقِ بھئی، اس لیے کہ دستاویز جو ہے، یہ مضبوطی کے لیے ہوتی ہے، کس لیے ہوتی ہے؟ مضبوطی اور پختگی کے لیے ہوتی ہے، باطل کرنے کے لیے نہیں ہوتی بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو إِنْ شَاءَ اللَّهُ کے ذریعے سارے کو باطل قرار دینا درست نہیں بھئی، کیونکہ دستاویز کس کے لیے ہوتی ہے؟ مضبوطی کے لیے، اور إِنْ شَاءَ اللَّهُ کس کے لیے ہے؟ ابطال کے لیے، تو سارے کو باطل کر دیں تو دستاویز کا کیا معنی ہوا پھر بھئی؟ لہذا ساری نہیں باطل ہوگی بلکہ، جی، تو فَلِلِاسْتِثْنَاءِ يَنْصَرِفُ إِلَى مَا إِلَى مَا يَلِيهِ تو یہ استثناء جو ہے، یہ پھر جائے گا اس چیز کی طرف جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے آخر میں، یعنی جو اس کے ساتھ إِنْ شَاءَ اللَّهُ کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔
سمجھ میں آیا؟ اور یہ یاد رکھنا بھئی، یہ اگر درمیان میں خالی جگہ چھوڑ دی جائے تھوڑی سی، تو یہ جو خالی جگہ چھوڑنا ہے تحریر کے اندر، یہ امام صاحب کے نزدیک سکوت کی طرح ہے، جیسے ایک آدمی کلام کے درمیان سکوت کر لیتا ہے، تحریر میں خالی جگہ چھوڑنا کس کی طرح ہے؟ سکوت کی طرح ہے۔ تو لہذا اگر درمیان میں خالی جگہ کہیں چھوٹی ہوئی ہے، تو پھر تو بالاتفاق اس سے ماقبل کی طرف وہ راجع نہیں۔ کیونکہ سکوت کے بعد بھئی کلام ختم ہو چکا، اب ایک نیا کلام پھر شروع ہوا، دونوں کا آپس میں تعلق نہیں بھئی۔
نَصْرَانِيٌّ مَاتَ فَقَالَتْ عِرْسُهُ أَسْلَمْتُ بَعْدَ مَوْتِهِ وَقَالَ وَرَثَتُهُ لَا بَلْ قَبْلَهُ، صُدِّقُوا كَمَا فِي مُسْلِمٍ مَاتَ فَقَالَتْ عِرْسُهُ أَسْلَمْتُ قَبْلَ مَوْتِهِ وَقَالُوا لَا بَلْ بَعْدَهُ.
صورَتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، ایک عیسائی مر گیا، اس کے مرنے کے بعد بھئی، اس کی بیوی نے دعویٰ کیا، اور کیا کہا کہ میں اسلام لائی ہوں اس کے مرنے کے بعد بھئی۔
ضابطہ پہلے یاد رکھیں بھئی، اختلافِ دین کی وجہ سے انسان وراثت سے محروم ہو جاتا ہے، کس کی وجہ سے؟ اختلافِ دین مانع ہے وراثت سے بھئی۔ اختلافِ دین مانع ہے وراثت سے۔
دیکھیے، فرض کیجیے ایک شخص مسلمان ہے، اس کا بیٹا بھئی، مرتہد ہو گیا یا کچھ بھئی، اب اس کو وراثت نہیں ملے گی، اختلافِ دین آیا۔ یا ایک شخص عیسائی ہے بھئی، اور اس کا بیٹا مسلمان ہوا، تو عیسائی کے مرنے پر اس کے اس بیٹے کو کچھ بھی نہیں ملے گا، کیونکہ اختلافِ دین آگیا اور اختلافِ دین کیا ہے؟ وراثت سے مانع ہے، اب اس کے مال میں سے اسے کچھ بھی نہیں ملے گا۔
تو اب صورتِ مسئلہ یہ ہے، ایک عیسائی مر گیا، مرنے کے بعد بھئی، کچھ عرصے بعد اس کی بیوی دعویٰ کرتی ہے، وہ کہتی ہے میں اسلام اس کے مرنے کے بعد لائی ہوں، یعنی اس کی موت کے وقت میرا بھی وہی مذہب تھا جو اس کا مذہب تھا، یعنی وراثت طلب کرنا چاہتی ہے، کیا کرنا چاہتی ہے؟ وراثت طلب کرنا۔
تو اس وقت تو وہ مسلمان ہے، لیکن کیا کہتی ہے کہ میں اسلام اس کی موت کے بعد لائی ہوں، تو جس وقت وہ مرا تھا اس وقت میں بھی عیسائی تھی، وہ بھی عیسائی تھا، تو مجھے اس کی وراثت ملنی چاہیے بھئی۔
جبکہ اس کے ورثاء کہتے ہیں نہیں نہیں، تم اس کے مرنے سے پہلے ہی کیا ہو گئی تھیں؟ مسلمان ہو گئی تھیں، تو اختلافِ دین آگیا، لہذا اب تمہیں کوئی وراثت نہیں ملے گی، تو کہتے ہیں بھئی، اب عورت ہے کیونکہ مدعیہ، تو اس کے ذمے ہے بینہ، تو اس کے قول معتبر نہیں بھئی، بلکہ قول کس کا معتبر ہے؟ وراثت کا ساتھ یَمِينِ کے بھئی، کیونکہ ضابطہ پڑھا ہے الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ بھئی۔
یہ اسی طرح ہے، کہتے ہیں جیسے ایک مسلمان مر گیا تو اس کی بیوی اس کی کوئی اہل کتاب میں سے بھئی، یارحمک اللہ، اس کی بیوی بھئی عیسائی تھی یا یہودی تھی، تو بیوی کہتی ہے بھئی کہ میں اس کے مرنے سے پہلے ہی مسلمان ہو گئی تھی، تو وہ بھی مسلمان تھا، میں بھی مرنے سے پہلے مسلمان ہوں، تو دین ایک ہے، لہذا مجھے اس کی وراثت ملنی چاہیے، اس کے ورثاء کہتے ہیں نہیں، بلکہ تم پہلے عیسائی تھیں، اس کے مرنے کے بعد کیا ہوئی ہو؟ مسلمان، تو اس وقت اختلافِ دین تھا، تو تمہیں وراثت نہیں ملے گی، تو اس صورت میں بھی ورثاء ہی کی تصدیق کی جائے گی۔
نَصْرَانِيٌّ مَاتَ، نہ ایک نصرانی مر گیا فَقَالَتْ عِرْسُهُ، کہا اس کی بیوی نے أَسْلَمْتُ بَعْدَ مَوْتِهِ، میں اس کی موت کے بعد مسلمان ہوئی ہوں وَقَالَتْ وَرَثَتُهُ، اس کے ورثاء نے کہا لَا بَلْ قَبْلَهُ، نہیں بلکہ اس کی موت سے پہلے مسلمان ہوئی ہو، صُدِّقُوا، ان کی تصدیق کی جائے گی ورثاء کی، كَمَا فِي مُسْلِمٍ مَاتَ، جیسے کہ اس مسلمان میں جو مر گیا ہے فَقَالَتْ عِرْسُهُ، تو کہا اس کی بیوی نے، أَسْلَمْتُ قَبْلَ مَوْتِهِ، کہ میں مسلمان ہوئی ہوں اس کی موت سے پہلے وَقَالُوا لَا بَلْ بَعْدَهُ، اور ورثاء نے کہا نہیں بلکہ اس کی موت کے بعد مسلمان ہوئی ہو تو پھر اس صورت میں کس کی تصدیق کی جائے گی؟ ورثاء کی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جی، یاد رکھنا یہ جو اوپر آیا نَصْرَانِيٌّ مَاتَ، یہ نَصْرَانِيٌّ موصوف ہے، مَاتَ اس کی صفت ہے مولانا، موصوف صفت مل کر مبتدا بن رہے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟
اور فَقَالَتْ خبر پر فا داخل ہوئی، اور آپ نے قافیہ میں ضابطہ پڑھا تھا کہ کبھی کبھی مبتدا متضمن ہوتا ہے معنی شرط کو، تو اس کی خبر پر کیا لے کر آتے ہیں؟ فا لے کر آتے ہیں، اور کہاں متضمن ہوگا؟ مبتدا کون سا مبتدا ہے؟ پھر انہوں نے بتلایا بھی صاحبِ قافیہ نے، وہ اسم موصول جس کا صلہ فعل یا ظرفِ مستقر آئے، یا وہ نکرہ جس کی صفت فعل یا ظرفِ مستقر آئے، تو یہ دیکھیے، یہ نصرانی نکرہ ہے، اس کی صفت فعل آ رہی ہے، تو یہ متضمن ہوا معنی شرط کو، تو اس کی خبر پر فا داخل کی گئی بھئی۔
هَذَا عِنْدَنَا، یہ ہمارے نزدیک ہے بھئی، وَعِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى الْقَوْلُ قَوْلُهَا، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے مسئلے کے اندر وہ نصرانی والے مسئلے کے اندر الْقَوْلُ قَوْلُهَا، قول کس کا معتبر ہے؟ اس عورت کا معتبر ہے، لِأَنَّ الْإِسْلَامَ حَادِثٌ، اس لیے کہ اسلام حادث ہے، جدید ہے مولانا، نئی چیز ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اسلام ایک نئی چیز ہے، پیدائشی وہ مسلمان تھی؟ پیدائشی تو مسلمان نہیں، پہلے عیسائی تھی، تو یہ اسلام اب لائی ہے، یہ ایک نئی چیز ہے فَيُضَافُ إِلَى أَقْرَبِ الْأَوْقَاتِ، اور ضابطہ ہے مولانا کہ حادث کی نسبت کی جاتی ہے قریبی قریب ترین وقت کی طرف۔
حادث کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ قریب ترین وقت کی طرف، تو لہذا، تو یہاں اسلام ہوا حادث، تو ایک کہہ رہا ہے کہ موت سے پہلے مسلمان، دوسرا فریق کہہ رہا ہے موت کے بعد مسلمان بھئی، تو قریب ترین وقت کون سا ہے بھئی؟ موت کے بعد، اس زمانے کے قریب کون سا ہوا بھئی؟ موت کے بعد والا قریب ہوا تو اس کی نسبت موت کے بعد کی طرف کی جائے گی، معلوم ہوا یہ موت کے بعد مسلمان ہوئی ہے، معلوم ہوا موت سے پہلے یہ بھی عیسائی تھی تو اس کو بھی کیا دی جائے گی؟ وراثت دی جائے۔
تو کہتے ہیں، امام زفر کی دلیل یہ ہے لِأَنَّ الْإِسْلَامَ حَادِثٌ، اسلام حادث ہے فَيُضَافُ إِلَى أَقْرَبِ الْأَوْقَاتِ، تو اس کی نسبت کی جائے گی قریب ترین وقتوں کی طرف بھئی، جی، سب سے قریب جو وقتوں میں سے ہے، وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے بھئی، بھئی، ہماری دلیل یاد رکھو، اسْتِصْحَابِ حَالِ ہے۔
ہماری دلیل کیا ہے؟ استصحابِ حال۔ آپ نے پڑھا ہے نا استصحابِ حال بھئی؟ جی۔ پہلے تو یہ یاد رکھیں، اِسْتِصْحَابِ حَالِ بھئی، یہ ہمارے نزدیک حُجَّةٌ دَافِعَةٌ তো بن سکتی ہے، حُجَّةٌ مُسْبِتَةٌ نہیں بن سکتی۔
اِسْتِصْحَابِ حَالِ ہمارے نزدیک بھئی، حُجَّةٌ دَافِعَةٌ تو بن سکتی ہے بھئی، لیکن حُجَّةٌ مُسْبِتَةٌ نہیں بن سکتی، یعنی اثبات یا الزام کے لیے یا حجت نہیں بن سکتی۔
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یعنی استصحاب کے ذریعے بھئی کسی چیز کو دفع تو کیا جا سکتا ہے، دور تو کیا جا سکتا ہے کسی کے حق کو، لیکن اس کے ذریعے الزام یا اثبات نہیں ہو سکتا کہ کسی کے حق کو کیا کر دیا جائے دوسرے پر لازم کر دیا جائے یا اس پر ثابت کر دیا جائے بھئی۔
جی، جلدی جلدی لکھیے بھئی۔ استصحابِ حال اسے کہتے ہیں بھئی، سمجھ لو کہ ایک وقت کے اندر ایک چیز ثابت ہو، اور دوسرے وقت میں اس کے ثبوت میں شک ہو، کہ پتہ نہیں ہے یا نہیں، ایک وقت میں تو اس کا ثبوت ہے بھئی، اور دوسرے وقت میں پتہ نہیں، تک کہ وہ چیز ہے یا یہ چیز نہیں بھئی، اچھا، تو دوسرے وقت میں بھی اس کے ثبوت کا حکم لگا دینا، بموجب اس کے ثبوت کے وقتِ اول میں بھئی۔
بات سمجھ میں آئی؟ استصحابِ حال کسے کہتے ہیں بھئی؟ کہ ایک وقت میں کیا ہو ایک چیز؟ ثابت ہو، اور دوسرے وقت میں کیا ہے اس کے وجود میں شک ہے کہ وہ ثابت ہے، اس کا ثبوت ہے یا ثبوت نہیں، تو جو ایک وقت میں اس کا ثبوت تھا، اس کو ہم دلیل بنا دیتے ہیں دوسرے وقت کے اندر بھی اس کے ثبوت، کہ جب اس وقت تھی تو اس وقت میں بھی ہوگی بھئی۔
مثلاً دیکھیے بھئی، صورت دیکھیے۔ ایک آدمی نے ایک شخص سے پن چکی لی کرائے پر بھئی، پن چکی جانتے ہو، پانی آتا ہے اس کے ذریعے وہ چلتی ہے۔ تو اب مہینہ گزر گیا، وہ کرایہ لینے پہنچا، اس نے کہا بھئی، پانی سارا، پانی سارا مہینہ پانی ہی نہیں آیا، تو کرایہ کس چیز کا بھئی، یہ چلی ہی نہیں ہے۔
آؤ بھئی، آؤ آوازیا کرو۔ تو سارا مہینہ یہ چلی ہی نہیں ہے، تو میں کرایہ کس چیز کا دوں بھئی؟ پانی نہیں آیا، تو کہتے ہیں اس وقت استصحابِ حال کو دلیل بنایا جائے گا، اس وقت ہم جا کر دیکھیں گے، اگر اس وقت پانی آ رہا ہے، تو جب اس وقت پانی کا ثبوت ہے، تو ماضی کے اندر بھی پانی کے ثبوت کو پانی کو کیا کر دیا جائے گا؟ اس کا ثبوت آ جائے گا مولانا، تو معلوم ہوا سارا مہینہ پانی آتا رہا ہے، اور اگر اس وقت پانی نہیں ہے، تو استصحابِ حال کو دلیل بنائیں گے، معلوم ہوا کہ ماضی کے اندر بھی اس کا ثبوت نہیں تھا بھئی، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ استصحابِ حال ہے بھئی۔
یرحمک اللہ۔
تو یاد رکھو ہمارے نزدیک یہ جو استصحابِ حال ہے، یہ دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے، لیکن الزام اور اثبات کی دلیل نہیں، اس کے ذریعے بھئی کسی کے حق کو دور تو کیا جا سکتا ہے بھئی، کہ کسی اور کا حق آپ پر آئے بھئی، آپ استصحابِ حال کے ذریعے کیا کر سکتے ہیں، اس حق کو اپنے اوپر سے دفع کر سکتے ہیں، دور کر سکتے ہیں، لیکن آپ کا حق کسی پر ثابت ہو جائے کس کی وجہ سے؟ استصحابِ حال کی وجہ سے، اس پر لازم ہو جائے تو یہ الزام اور اثبات کی دلیل نہیں بن سکتا، صرف کس کی دلیل بن سکتا ہے؟ دفع کی، جیسے کہ بحث پڑھ چکے ہیں آپ اصول الشاشی کے بالکل آخری صفحات میں بھئی۔
وَلَنَا، ہماری دلیل یہ ہے کہ انَّ سَبَبَ الْحِرْمَانِ ثَابِتٌ فِي الْحَالِ، دیکھا کہ سببِ حرمان ثابت ہے فی الحال، اس وقت تو سببِ حرمان ثابت ہے یا نہیں، وہ وراثت سے محروم رہے گی یا نہیں بھئی؟ اس وقت تو وہ مسلمان ہے، فَيَثْبُتُ فِيمَا مَضَى، تو ثابت ہو جائے گا اس زمانے کے اندر بھی جو گزر چکا ہے، تَحْكِيمًا لِلْحَالِ، حال کو حکم بناتے ہوئے، ہم کس کو حکم بناتے ہیں؟ حال کو، فَيَضْلَ، ہم فیصلہ کرنے والا حال کو بناتے ہیں، وہ تو یعنی استصحابِ حال کو، وَهِيَ تَصْلُحُ حُجَّةً لِلدَّفْعِ، اور یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ حجت بنے کس کے لیے؟ دفع کے لیے بھئی، دفع کے لیے یہ حجت بنے۔
تو دیکھو، عورت نے دعویٰ کیا ہے، تو استصحابِ حال کے ذریعے عورت کے دعوے میراث کو دفع کر دیا گیا، کیا کر دیا گیا؟ اور کس کا قول معتبر ہوا؟ ورثاء کا، صورت سمجھ میں آئی؟
وَمَنْ قَالَ هَذَا، وَمَنْ قَالَ هَذَا ابْنُ مُودِعِ الْمَيِّتِ، لَا وَارِثَ لَهُ غَيْرُهُ دَفَعَهَا إِلَيْهِ.
بھئی دیکھیے بھئی، زید کے پاس عامر نے امانت رکھوائی تھی۔ اور عامر مر گیا، عامر کے مرنے کے بعد زید نے کہا بکر کے بارے میں، کہ یہ میرا مودیع جو تھا، میرے پاس جو امانت رکھوانے والا تھا جو کہ مر مر چکا ہے، یہ بکر اس کا بیٹا ہے۔ زيد نے کیا کہا؟ کہ یہ بکر جو ہے، میرا جو مودیع تھا، میرے پاس جو امانت رکھوانے والا تھا، جو اب مر چکا ہے، یہ بکر کیا ہے اس کا بیٹا ہے، اور اس کے علاوہ اس کا اور کوئی وارث نہیں ہے، تو کہتے ہیں یہ ودیعت اب اس کے بیٹے کے کیا کر دے گا؟ سپرد کر دے گا بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟
وَمَنْ قَالَ هَذَا ابْنُ مُودِعِ، اور جس نے کہا کہ یہ بیٹا ہے میرے مودیع کا، الْمَيِّتِ، میرا وہ مودیع جو مر چکا ہے، جس نے کہا کہ میرے یہ اس مودیع میت کا بیٹا ہے، وَلَا وَارِثَ لَهُ غَيْرُهُ، اور اس کے علاوہ اس کا اور کوئی وارث نہیں ہے، دَفَعَهَا إِلَيْهِ، تو وہ ودیعت حوالے کر دے گا اس کے، ضمائر کا مرجع بتلایا، اَيْ دَفَعَ الْوَدِيعَةَ إِلَيْهِ، کہ ودیعت کو کیا کر دے گا اس کے سپرد کر دے گا۔
وَلَوْ أَقَرَّ بِابْنٍ آخَرَ لِمُودِعِهِ وَجَحَدَ الْأَوَّلُ فَهِيَ لَهُ، بھئی، اور اگر کے دوسری صورت بھئی، زید نے کیا کہا کہ یہ عامر نے میرے پاس امانت رکھوائی تھی، عامر مر چکا ہے اور یہ کیا ہے اس کا یہ بکر اس کا بیٹا ہے بھئی۔ پھر کہتا ہے کہ اس کا ایک اور بیٹا بھی ہے بھئی، خالد بھی اس کا بیٹا ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ پہلے بکر کے لیے اقرار کر لیا کہ بکر اس کا بیٹا ہے، پھر کہتا ہے کہ خالد بھی اس کا بیٹا ہے، اور بکر اس کی تکذیب کرتا ہے، کہتا ہے نہیں بھئی، یہ جھوٹ بول رہا ہے، خالد اس کا میرا بھئی نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں اس صورت میں، تو اس کے قول کو رد کیا جائے گا۔
وَلَوْ أَقْرَرَ بِابْنٍ آخَرَ لِمُودِعِهِ، اور اگر اقرار کر دیا کسی دوسرے بیٹے کے لیے کا بھئی، لِمُودِعِهِ اپنے مودیع کے لیے، اپنے پاس امانت رکھوانے کے لیے وَجَحَدَ الْأَوَّلُ، اور انکار کر دیا پہلے نے فَهِيَ لَهُ، تو یہ کیا، ودیعت کس کے لیے ہوگی؟ اسی مقر لہو اول کے لیے ہوگی، اَيْ لِلْمُقَرِّ لَهُ الْأَوَّلِ، مقر لہو اول کے لیے، لِأَنَّ الْإِقْرَارَ الْأَوَّلَ لَمْ يَكُنْ لَهُ مُكَذِّبٌ فَصَحَّ، اس لیے کہ پہلے کا اقرار جو ہے، پہلے کا کیا ہے؟ پہلے کے لیے جو اقرار ہے لَمْ يَكُنْ لَهُ مُكَذِّبٌ بھئی، اس کا کوئی جھٹلانے والا نہیں ہے، پہلے اقرار کس کے لیے کیا ہے؟ بکر کے لیے، اس کو کوئی تکذیب کرنے والا ہے؟ نہیں، فَصَحَّ، تو وہ اقرار صحیح ہے وَلَا يَصِحُّ الثَّانِي، لیکن اقرار ثانی نہیں صحیح، لِأَنَّ الْأَوَّلَ مُكَذِّبٌ لَهُ، اس لیے کہ مقر لہو اول کیا کر رہا ہے؟ اس کی تکذیب کر رہا ہے۔ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام، واللّه أعلم بحقيقة الكلام.