Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-061

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 33
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
ولا صح قضا المارۃ الا فی حد فی حد و قصاص لان شہادتہا لا تقبل فیہما۔ اور صحیح ہے عورت کا قضا کرنا سوائے حدود اور قصاص کے، حد اور قصاص کے مسئلے میں عورت جو ہے، اس کی قضا صحیح نہیں۔ یعنی عورت کو قاضی بنانا صحیح ہے، وہ فیصلہ کر سکتی ہے۔ تو اس کا فیصلہ، اس کی قضا نافذ ہوگی۔ کس کے اندر بھئی؟ تمام مسائل کے اندر سوائے حد اور قصاص کے، بھئی ان کے اندر اس کی قضا نافذ نہیں بھئی۔ کیوں؟ لان شہادتہا لا تقبل فیہما۔ اس لیے کہ ان دونوں کے اندر عورت کی شہادت بھی قبول نہیں ہے بھئی۔ حد اور قصاص میں عورت کی شہادت بھی قبول نہیں ہے اور آپ نے پڑھا تھا بھئی قاضی بننے کے لیے وہی شرائط ہیں جو کس کے لیے ہیں؟ شہادت کے لیے ہیں تو شہادت اور چیزوں میں جائز تھی تو ان میں اس کی قضا بھی جائز ہے اس کو قاضی بنانا۔ اور حد اور قصاص کے اندر اس کی شہ شہادت قبول نہیں تو اس کا فیصلہ اور اس کی قضا بھی درست نہیں۔ ولا يستخلف قاضي ولا يوكل وكيل بھئی۔ بھئی دیکھیے یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں ایک آدمی کو بادشاہ نے قاضی مقرر کیا کیا وہ آگے کسی کو اپنا نائب بنا سکتا ہے، کہیں جا رہا ہے کہتے ہیں نہیں بھئی، کسی کو اپنا نائب نہیں بنا سکتا بھئی۔ سمجھ میں آیا، کسی کو اپنا نائب نہیں بنا سکتا۔ اور اسی طرح ایک آدمی کو آپ نے بھئی وکیل بنایا ہے کسی کام کے سلسلے میں بیع یا شراء کے اندر، اس کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ وہ کیا کرے؟ آگے وکیل یا آگے دوسرا وکیل بنائے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی تو معلوم ہوا کیا کہ قاضی کے لیے اپنا ناجس قاضی کے لیے اپنا نائب بنانا، کسی دوسرے کو قاضی بنانا درست اسی طرح وکیل کے لیے بھی آگے اپنا اسی کام میں وکیل بنانا درست درست نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ولا يستخلف قاضي اور خلیفہ نہیں بنائے گا قاضی ولا يوكل وكيل اور وکیل نہیں بنائے گا کوئی وکیل بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ الا من فوّض الیہ ذلک مگر وہ کہ جس کو سپرد کر دیا گیا ہو یہ بھئی، جس کو تفویض کیا گیا ہو یہ کام بھئی۔ ہاں قاضی کو اگر بادشاہ کی طرف سے حکم ہے کہ تم کیا کر سکتے ہو؟ اپنا نائب بنا سکتے ہو تو اب بھئی وہ اپنا نائب بنا سکتا ہے۔ لیکن جب ایک دفعہ اس نے اپنا نائب بنا دیا، اب یہ اس کو معزول نہیں کر سکتا بھئی۔ ہاں اگر بادشاہ نے اس کو یہ بھی تفویض کیا تھا کہ نائب بھی بنا سکتے ہو اور جب چاہو اس کو معزول بھی کر سکتے ہو تو اس صورت کے اندر وہ اپنا نائب بھی بنا سکتا ہے اور پھر جب چاہے اس کو معزول بھی کر سکتا ہے۔ جی تو مسئلہ یاد رکھو بھئی۔ عام قاضی کی بات ہو رہی ہے جسے صرف اپنا نائب بنانے کا اختیار دیا گیا۔ اسی طرح بھئی وکیل ہے، اس کو بھی اختیار دیا گیا کہ اس کام میں تم میرے وکیل ہو اور اگر آگے تم کیا کر سکتے ہو؟ آگے اپنا وکیل بنانا چاہو تو وکیل بنا سکتے ہو، یا یہ کہا گیا اپنی رائے کے مطابق عمل کرو تو اس کو اختیار ہے آگے وکیل بنانے کا۔ تو عام وکیل کو تو اختیار نہیں لیکن اگر مالک نے خود اختیار اسے دے دیا ہے قاضی کے لیے اپنا نائب بنانے جائز نہیں، لیکن اگر بادشاہ نے اسے اختیار دے دیا ہے تو اب اس وکیل اور اس قاضی کے لیے آگے اپنا نائب بنانا جائز ہے۔ جائز ہے۔ لیکن بھئی اب یہ اپنے نائب کو معزول کرنا چاہیں وکیل جو ہے، اس نے آگے اپنا اسی کام میں وکیل بنایا اور اسے اختیار دیا گیا تھا وکیل بنا سکتے ہو، اس نے آگے اپنا وکیل بنا لیا اب یہ اس وکیل کو معزول نہیں کر سکتا۔ اگر اسی طرح یہ وکیل جو موکل بھی ہے اگر یہ مر گیا تو اس کا آگے جو وکیل ہے وہ بھی معزول نہیں ہوگا کیونکہ وہ کس کا نائب ہے؟ اب وہ دراصل اصیل کا نائب ہے۔ کس کا نائب ہے؟ بھئی آپ تھے میرے نائب بھئی، میں نے آپ کو اپنا وکیل بنایا اور آپ کو کہا تھا اپنی رائے پر عمل کرو، جیسا دل چاہے کرو یہ اس مسئلے کے اندر میرے لیے گاڑی مثلا خریدو۔ آپ نے آگے اپنا ایک وکیل بنا دیا تو وہ جو آپ نے وکیل آگے بنایا وہ دراصل کس کا وکیل ہوا؟ وہ بھی میرا ہی وکیل ہوا تو درمیان والے موکل جو وکیل تھا وہ اگر مر بھی جائے تو یہ جو ثانی وکیل ہے وہ معزول نہیں ہوگا اور یہ اول اگر اس کو معزول کرنا بھی چاہے تو اب معزول نہیں کر سکتا کیونکہ یہ کس کا نائب بن چکا ہے وہ ثانی وکیل اصیل کا کیا بن چکا ہے؟ نائب بن چکا ہے بھئی۔ اسی طرح قاضی ہے، قاضی کو اختیار دیا گیا تھا کہ تم کیا کر سکتے ہو؟ اپنا نائب بنا سکتے ہو، ہاں اسے معزول کرنے کا اختیار نہیں ہے تو اسے اختیار دیا گیا تھا تم اپنا نائب بنا سکتے ہو، اس نے اپنا نائب بنا دیا۔ اب اس نائب کو یہ معزول نہیں کر سکتا اور اگر یہ قاضی مر جائے تو بھی اس کا نائب معزول نہیں ہوگا۔ جی یہ مسئلہ بتلائیں گے آپ کو۔ یہ معنی ولا يستخلف قاضي خلیفہ نہیں بنائے گا قاضی کسی کو ولا يوكل وكيل اور وکیل جو ہے کسی کو آگے وکیل نہیں بنائے گا الا من فوّض الیہ ذلک مگر وہ کہ جس کو تفویض کیا گیا ہو یہ اختیار بھئی۔ ففي المفوض نائبہ لا ينعزل بعزلہ پس وہ مفوض جس کو یعنی اختیار دیا گیا ہے نائبہ لا ينعزل بعزلہ اس کا نائب معزول نہیں ہوگا اس کے معزول کر دینے سے وبموتہ اور اس کی موت سے دونوں کی بات ہو رہی ہے یاد رکھنا قاضی کی بھی اور وکیل کی بھی وبموتہ اور اس کی موت کے ساتھ موکلاً اس حال میں کہ یہ موکل ہو۔ یہ مرنے والا کون تھا؟ موکل تھا؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ بل ھو نائب الاصیل تو وہ معزول نہیں ہوگا بلکہ وہ تو نائب خلیفہ جو تھا وہ کیا ہوگا؟ وہ کس کا نائب بن چکا ہے؟ اصیل کا نائب بن چکا ہے تو وہ اصیل کا نائب ہے بھئی۔ अच्छा इन्होंने कहा بموته موکلاں اور اس کی موت سے بھی وہ معزول نہیں ہوگا اس حال میں کہ یہ موکل ہو۔ یہ کیا ہو؟ میں نے بتلایا بھئی قاضی مر جائے تو بھی اس کا نائب معزول نہیں ہوگا۔ یہ موکل وکیل مر جائے تو بھی اس وکیل ثانی معزول تو یہ موکل کی قید لگائی ماتن نے بھئی قاضی کی قید نہیں لگائی۔ کہ وہ درمیان والا بھئی قاضی اول مر جاتا ہے، اس کا نہیں کہا بلکہ کس کا کہا؟ وہ وکیل جس نے آگے کیا بنایا ہے؟ تو یہ وکیل کیا ہوا موکل ہوا کیا ہوا؟ موکل اس وکیل کی بات کی یہ وکیل جو اس موکل ہے، یہ اگر مر جائیں تو پھر وہ وکیل ثانی معزول بھئی قاضی کی بات نہیں کی صرف موکل کی بات کی، کہتے ہیں بھئی قاضی کے مسئلے میں کوئی اشتباہ ہی نہیں تھا، وہ بات ظاہر تھی کہ وہ تو قاضی اول مر جائے، قاضی ثانی جس کو اس نے نائب بنایا تھا، وہ معزول، یہ بات ظاہر تھی اس لیے ماتن نے اس کو ذکر نہیں کیا، جبکہ وکیل کے اندر موکل کے مرنے سے وکیل معزول ہو جایا کرتا ہے، اس کی وکالت کیا ہو جایا کرتی ہے؟ بھئی میں نے آپ کو اپنا وکیل بنایا، اگر میں مر جاؤں تو اب آپ وکیل رہیں گے؟ تو موکل یعنی موکل کے مرنے سے وکیل کی وکالت ختم ہو جاتی ہے تو یہاں پر بھی وکیل ثانی کو وکیل اول نے وکیل بنایا تو وکیل اول کون ہوا؟ وکیل اول موکل ہوا کیا ہوا؟ تو موکل کے مرنے سے وکالت کیا ہو جاتی ہے؟ ختم ہو جاتی ہے تو یہاں بھی شبہ پڑتا تھا، شاید اس موکل وکیل کے مرنے سے بھی وکیل ثانی کی وکالت کیا ہو جائے گی؟ ختم تو اس شبہے کو دور کرنے کے لیے موکلاں کی قید لگا دی کہ نہیں بھئی، یہاں پر اگر موکل وکیل مر بھی جائے تو وکیل ثانی معزول کیونکہ وہ کس کا نائب ہے؟ وہ اصیل کا نائب بن چکا ہے بھئی۔ انما قال موکلاں یہی بات بھئی اب قید کا فائدہ ذکر کریں گے علامہ صدر الشریعہ۔ ماتن نے موکلاں کی قید لگائی بھئی لان فی الوکالة ینعزل الوکیل بموت موکله اس لیے کہ وکالت کے اندر وکیل معزول ہو جاتا ہے موکل کی موت سے فارد ان یصرح پس ارادہ کیا ماتن نے کہ تصریح کر دے کہ الوکیل ہاہنا لا ینعزل بموت موکلہ کہ وکیل یہاں پر معزول نہیں ہوگا اپنے موکل کی موت سے لہ فی الحقیقة لیس نائبہ، لیست نائبہ اس لیے کہ وہ حقیقت کے اندر بھئی وہ اس کا نائب نہیں ہے بل ھو نائب الاصیل بلکہ وہ تو اصیل کا نائب ہے واما فی القضا باقی قضا کے اندر فان النایب لا ینعزل بموت المنوع عنہ وہاں پر بھی نائب جو ہے معزول نہیں ہوتا منوب عنہ کی موت سے۔ جی تو اس کو ذکر نہیں کیا بلکہ کس کو ذکر کیا؟ کیوں؟ کہتے ہیں فقط الموکل وہاں پر تو ہوتا ہی نہیں وہ یہ بات کیا تھی بھئی قضا کے اندر تو نائب منوب عنہ کی موت سے منوب عنہ جس کی طرف سے نائب بنایا گیا ہے بھئی، اس کی منوب عنہ کی موت سے قضا کے اندر تو نائب معزول نہیں ہوتا تو اس کے اندر شبہ نہیں تھا جبکہ وکیل کے اندر کیا تھا؟ شبہ تھا اس لیے فقط الموکل بالذکر پس خاص کیا موکل کو ذکر کے ساتھ لان الاشتباب فیہ کیونکہ اس شبہ اس کے اندر تھا ولا شبہت فی باب القضا اور باب قضا میں کوئی شبہ ہی نہیں تھا فلم یذكر تو اس کو ذکر نہیں کیا۔ ثم قال پھر ماتن نے فرمایا بل ھو نائب الاصیل بھئی متن میں کیا تھا کہ کیا کیا کہا تھا؟ بہت کچھ وہ اصیل کا نائب بن جائے ہے ففی التوکیل ینعزل بموت الاصیل وفی القضا لا ینعزل پس توکیل کے اندر جو وہ کیا ہو جائے گا؟ معزول ہو جائے گا کس کے ساتھ؟ صیل کی موت کے ساتھ وہ معزول ہو جائے گا اصیل ہی مر گیا مولانا۔ جس نے کیا بنایا تھا؟ وکیل بنایا تھا۔ بھئی وکیل، اصیل نے آگے وکیل بنایا تھا، اس وکیل نے آگے پھر کیا بنایا؟ پھر وکیل بنایا تو یہ اصیل ہی مر گیا جس نے پہلا وکیل بنایا تھا تو کیا ہوگا؟ وہ وکیل کیا ہو جائے گا؟ معزول ہو جائے گا کیونکہ اصیل ہی نہ رہا تو وکالت بھی نہ رہی وفی القضا لا ینعزل اور قضا کے اندر قاضی اگر بادشاہ مر جاتا ہے تو قاضی معزول نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وفی غیره اور اس کے علاوہ کے اندر یہ بات چل رہی تھی ففی المفوض جس میں کیا اختیار دیا گیا تھا بھئی کہ آگے تم کیا کر سکتے ہو؟ اپنا نائب بنا سکتے ہو وفی غیره اس کے علاوہ میں یعنی جس کو اختیار نہیں دیا گیا ان فعلا نائبہ عنده جی صورت پہلے سمجھ لو۔ کہتے ہیں بھئی قاضی کو اختیار نہیں دیا گیا کہ آگے نائب بنا سکتے ہو، لیکن اس نے اپنا نائب بنا دیا۔ اختیار نہیں تھا اور کیا کیا اپنا نائب بنا دیا۔ یا وکیل تھا اس کو اختیار نہیں کیا گیا دیا گیا تھا کہ آگے اپنا وکیل بنا سکتے ہو اس نے آگے اپنا پھر وکیل اسی مقام میں بنا دیا بھئی۔ تو کہتے ہیں بھئی اس نائب قاضی اور اس وکیل الوکیل کا کا تصرف اور ان کا فیصلہ اور ان کا تصرف درست ہوگا۔ کب درست ہوگا؟ قاضی کا اس نائب قاضی کا فیصلہ نافذ ہوگا کب؟ جبکہ قاضی اول وہاں موجود تھا اور اس نائب قاضی نے فیصلہ کیا اور اس کے سامنے کیا وہ فیصلہ کیا کیا کیا؟ اس کے سامنے تو جب اس کے سامنے کر رہا ہے تو اس کی رائے بھی ساتھ گویا شریک ہوگئی گویا یہی کرنے والا ہے گویا یہی قاضی کیا کر رہا ہے؟ یہ گویا یہ فیصلہ اس کا نائب نہیں کر رہا بلکہ وہ خود کر رہا ہے کیونکہ خود وہاں موجود ہے اس کی رائے مل گئی ساتھ بھئی یا بھئی یہ قاضی قاضی تو وہاں موجود نہیں تھا، اس کے نائب نے کیا کر دیا ایک فیصلہ کر دیا۔ اس قاضی کو پھر خبر پہنچی اور اس نے اجازت دے دی کہ ٹھیک ہے بھئی اسی طرح تو اس صورت میں بھی اس کی قضا کیا ہو جائے گی؟ تو نائب کی قضا نافذ ہو جائے گی جبکہ قاضی خود وہاں موجود ہو یا اس کو خبر پہنچے اور وہ اس کی کیونکہ اس کی رائے ساتھ مل گئی تو گویا اسی نے فیصلہ کیا۔ اسی طرح وکیل کے اندر بھئی۔ اگر ایک وکیل موجود ہے اور اس وکیل کو اجازت نہیں تھی آگے وکیل بنانے کی اختیار نہیں تھا اس نے آگے اپنا نائب بنا اپنا وکیل بنا دیا اسی کام میں۔ جی تو اس صورت میں بھئی اس کی موجودگی کے اندر وہ وکیل عقد کر لیتا ہے مثلا تو گویا اس کا کرنا کس کی طرح ہوا؟ اسی وکیل کے کیونکہ اس کے یہ خود موجود ہے تو اس کا فعل اس کی طرح گویا منتقل ہو جائے گا۔ یا مولانا یہ وکیل تو وہاں نہیں تھا، اس اس وکیل کے آگے وکیل نے کوئی عقد کیا جس کا اسے کہا گیا تھا اور اس وکیل اول نے اس کی اجازت دے دی تو بھی اس کی رائے مل گئی یہ کیا ہو جائے گا؟ درست ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا جیسے مولانا وکالت کے اندر سمن مقرر کر دیے۔ آپ کو میں نے وکیل بنایا، آپ کو میں نے اختیار نہیں دیا کہ آگے وکیل بناؤ لیکن آپ نے آگے ایک اور آدمی کو اپنا وکیل بنا دیا۔ اور میں نے آپ کو وکیل کس چیز کا بنایا تھا کہ ایک گاڑی میرے لیے خریدو۔ تو اب آپ بھی وہاں پر موجود، آپ کا وکیل بھی وہاں پر موجود اور میں ہوں اصیل بھئی تو میرا وکیل بھی وہاں موجود اور وکیل الوکیل بھی اب اس وکیل نے سمن مقرر کی یہ گاڑی کتنے کی دو گے قیمت پر بحث اس نے کی بھئی۔ قیمت طے ہو گئی دو لاکھ روپے قیمت اس نے طے کر دی اور عقد کس نے کر لیا اس وکیل الوکیل نے۔ صحیح ہو جائے گا بھئی۔ یہ کیا ہوا؟ یہ عقد صحیح ہو جائے گا کیونکہ یہ خود وہاں موجود ہے بھئی تو اس کا فعل اس کی طرح منتقل ہوا گویا یہ عقد کس نے کیا؟ وکیل نے کیا وکیل الوکیل نے نہیں۔ یہ معنی ہے وفی غیره ای فی غیر المفوض جس میں اختیار نہیں دیا گیا اس کے اندر ان فعلا نائبہ عنده اگر اس کے نائب نے یعنی اصیل کے نائب نے چاہے وہ قاضی کا نائب ہو چاہے وکیل کا عنده اس کے سامنے کیا او اجازه ہوا یا وہ غائب تھا لیکن اس نے اجازت دے دی او کا ان قدر الثمنا یا جیسے کہ سمن مقرر کر دیے فی الوکالة وکالت کے اندر صح تو یہ کیا ہے؟ یہ صحیح ہیں سارے فیصلے اور تصرف بھئی۔ تفصیل خود پوری تفصیل کریں گے علامہ صدر الشریعہ۔ ای فی غیر المفوض ہا ضمیر کا مرجع بتلایا کہ غیره کی ہا ضمیر مفوض کو راج ہے غیر مفوض کے اندر یعنی اذا لم یفوض الی القاضی والوکیلی یعنی جب اختیار نہیں دیا گیا قاضی اور وکیل کو کہ ینتخلف الغير کہ وہ خلیفہ بنائے غیر کو فاستخلفا پھر دونوں نے اپنا خلیفہ بنا دیا۔ ففعل النایب بحضور المنوب پس نائب نے فعل سر انجام دیا بحضور المنوب کس کی موجودگی میں؟ منوب کی موجودگی میں صح تو اس کا تصرف صحیح ہوگا لیے انہ اذا فعل بحضوره اس لیے کہ جب اس نائب نے وہ کام کیا ہے اس اصیل کی موجودگی میں ففعله ينتقل اليه تو اس نائب کا فعل کس کی طرح منتقل ہو جائے گا؟ اس اصیل یا منوب کی طرف منتقل ہو جائے گا وکذا ان فعل بغیبته اسی طرح اگر نائب نے اس کی غیر موجودگی میں فعل کیا فوسل الخبر الى المنوب پس خبر پہنچی منوب کو فاجازہ تو اس نے اجازت دے دی اسی تو یہ بھی کیا ہے یہ بھی اسی طرح یعنی جائز ہے صحیح ہے۔ لانه اذا انضم رایة الی ذلک الفعل اس لیے کہ جب مل گئی اس کی رائے بھئی اس فعل کے ساتھ بھئی اس منوب کی رائے اس فعل کے ساتھ جب مل گئی صار کانہ فعلہ تو گویا کہ اسی نے یہ کام کیا ہے۔ وكذا ان قدر الوكيل الاول الثمنا اور اسی طرح اگر مقرر کیے وکیل اول نے سمن کو فباشر وکیله پھر سر انجام دیا اس کے وکیل نے باشرو باشر کا مطلب سر انجام دینا۔ سمن تو وکیل اول نے کیے اور سر انجام عقد کو کس نے دیا؟ اس کے وکیل نے یعنی وکیل الوکیل نے۔ تو بھی اسی طرح ہے یعنی عقد صحیح ہو جائے گا کیوں؟ اذ بتدير الثمن حفرایة اس لیے کہ سمن کے مقرر کر دینے سے اس وکیل اول کی رائے حاصل ہو گئی۔ اس کی رائے کیا ہوئی؟ حاصل ہو گئی تو گویا خود سر انجام دے رہا ہے۔ اعمل برائک تو کہتے ہیں بھئی اگر میں اپ کو اپنا وکیل بناتا ہوں، میں ہوا اصیل، میں نے آپ کو اپنا وکیل بنایا کہ میرے لیے گاڑی خریدوں لیکن میں نے لفظ، میں نے ساتھ ہی آپ کو یہ بھی کہہ دیا عمل برائے کا، اپنی رائے کے ساتھ عمل کرو، اپنی رائے کے ساتھ، جیسا تمہیں مناسب سمجھو کر لو۔ بس بھئی یہ کہنے سے آپ کو آگے اپنا وکیل بنانے کا اختیار مل گیا، کیونکہ میں نے کیا کہا ہے جیسا مناسب سمجھو، کر لو تو میں نے اختیار دے دیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں وبی عمل برائے کا عمل برائے کا کے لفظوں کے ساتھ توقلو وکیل کیا کر سکتا ہے؟ وکیل بنا سکتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی، وکیل بنا سکتا ہے۔ تو عمل کا حمزہ ہے ووصلی مولانا، عمل کا حمزہ، اور امر ہے، اور حمزہ وصلی درج عبارت میں گر جاتا ہے، لیکن یہاں نہ گرانا بھئی، یہاں نہیں گرے گا، یہاں یہ قطعی بن چکا ہے کیونکہ عمل برائے کا کے لفظ مراد ہیں، کیا مراد ہیں؟ یہ لفظ مراد ہیں بھئی۔ تو یہاں اگر آپ گراتے ہیں تو یہ گرانا غلط ہے مولانا۔ إذا قال الموكل للوكيل اعمل برائے کا، جب کہا موکل نے وکیل سے، تو عمل کر اپنی رائے کے ساتھ، کان للوكيل أن يوكل غيره، وکیل کے لیے جائز ہوگا کہ وہ غیر کو اپنا وکیل بنا دے۔ یہ متن نہیں ہے أن يوكل غيره، اس پر لکیر نہیں ہونی چاہیے، ویمزح حكم قاض آخر في مختلف فيه في الصدر الأول إلا ما خالف الكتاب أو السنة المشهورة أو الإجماع. صورت مسئلہ یہ ہے بھئی، آپ نے پڑھا بھئی، کہ قاضی کے لیے مجتہد ہونا چاہیے بھئی، کیا ہونا چاہیے؟ مجتہد بھئی۔ تو، جی، لیکن میں نے بتلایا بھئی، محشی نے بھی تحریر یہی کیا، کہ کیا مراد ہے؟ کہ قضا وغیرہ کے بارے میں اس کو علم ہو بھئی، حدیث کا پتہ ہو، فقہ کا پتہ ہو، مجتہد ہونا کہ خود استنباط وغیرہ کرے بھئی، ضروری نہیں ہے بھئی۔ اب یہ جو حکم بیان ہو رہا ہے یہ قاضی مجتہد کا حکم بیان ہو رہا ہے، قاضی مقلد کا نہیں بیان ہو رہا یہ یاد رکھنا۔ ایک مسئلہ ہے، اس مسئلے میں صحابہ کے دور سے اختلاف ہے بھئی۔ بعض صحابہ کہتے ہیں اس طرح کرنا چاہیے، بعض کیا فرماتے ہیں؟ دوسری طرح کرنا چاہیے، اچھا، تو کہتے ہیں ایک قاضی نے ایک رائے کو اختیار کر لیا، ان دونوں دونوں رایوں میں سے، صحابہ کا ایک گروہ کہتا ہے مثلاً اس طرح ہے مسئلہ، دوسرا گروہ کہتا ہے اس طرح نہیں ہے بلکہ، تو دو رائے آ گئیں کسی بھی مسئلے کے اندر، اب ایک قاضی مجتہد ہے، اب اس مختلف فی مسئلے کے اندر، مختلف فی مسئلہ ہے کس زمانے کے اندر؟ صدر اول میں یعنی صحابہ اور تابعین وغیرہ کے، دور میں وہ مختلف فی مسئلہ ہے، اس مختلف فی مسئلے کے اندر ایک قاضی نے ایک رائے کو اختیار کر دیا، اور کس قاضی نے اختیار کیا؟ قاضی، قاضی مجتہد نے ایک رائے کو اختیار کر دیا اور اس پر فیصلہ دے دیا، اب یہی مسئلہ لے جایا گیا، ایک اور قاضی کے پاس لے جا کر پیش کر دیا گیا، تو کہتے ہیں اس دوسرے قاضی کے لیے اب جائز نہیں ہے کہ قاضی اول کے فیصلے کو منسوخ کرے، بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ اسی فیصلے کو نافذ کرنا پڑے گا، کیا کرنا پڑے گا؟ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ مسئلہ تھا اختلافی، مسئلہ کیا تھا؟ اس میں دو رائے تھی صدر اول سے، جی تو پھر جب اس کے اندر قاضی اول کی رائے بھی مل گئی، وہ بھی ہے مجتہد، تو یہ مسئلہ مجمع علیہ بن گیا، کیا بن گیا؟ مجمع علیہ بن گیا، جب مجمع علیہ بن گیا تو اب اس اجماع کو توڑنا قاضی ثانی کے لیے جائز، صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ قاضی مجتہد کا حکم بیان ہو رہا ہے، قاضی مقلد کا حکم آگے آئے گا کہ وہ تو، وہ ایسا نہیں کر سکتا جس قول کو مرضی چاہے کیا کر لے؟ دو مختلف فی مسائل میں سے جس کو چاہے نافذ کرے، اس کا بلکہ وہ تو اپنے مذہب کے خلاف اسے کرنا جائز ہی نہیں ہے، اس کے مذہب میں جس قول کو اختیار کیا گیا ہے، وہ بھی کیا کرے گا؟ اسی کو نافذ کرے گا، اسی پر فیصلہ کرے گا۔ ويمزح حكم قاض آخر، اور نہ فیصلہ کیا جائے گا، نافذ کیا جائے گا یا جاری کیا جائے گا حکم قاض آخر، جاری کیا جائے گا دوسرے قاضی کے حکم کو، قاضی اول نے ایک فیصلہ کر دیا ہے، اب پھر کیا ہوا؟ دوسرے قاضی کے پاس وہ بات پہنچائی گئی، تو اس قاضی اول جو ہے، وہ قاضی دوسرا قاضی جو تھا جس نے پہلے فیصلہ کیا تھا، اس کے حکم کو جاری کیا جائے گا، کیا کیا جائے گا؟ اس کے حکم کو جاری کیا جائے گا۔ یہ معنی ہے قاضی اخر سے مراد قاضی اول ہے، اور جاری کیا جائے گا دوسرے قاضی، یعنی قاضی اول کے حکم کو فی مختلف فی، کس مسئلے کے اندر؟ جو مختلف فی ہو، کس زمانے میں؟ فی الصدر الاول، یعنی صحابہ کے زمانے میں، الا ما خالف الكتاب أو السنة المشهورة أو الإجماع، مگر یہ کہ وہ حکم جو قاضی اول نے کیا ہے، وہ مخالف ہو کتاب اللہ کے یا سنت مشہورہ کے یا اجماع کے، پھر قاضی ثانی کے لیے اس کو نافذ کرنا ضروری نہیں بھئی۔ پھر وہ اس کو نافذ نہیں کرے گا بھئی۔ اي اذا قاضی جب دیکھو تفصیل بتلا رہے ہیں، ایک قاضی نے ایک فیصلہ کر دیا ورفع حكمه الى قاض اخر، اور اٹھا پہنچایا گیا اس کے حکم کو، اس کے فیصلے کو ایک دوسرے قاضی تک، يجب عليه، تو اس دوسرے قاضی پر واجب ہے امضاؤہ، اس فیصلے کو نافذ کرنا، اس کو جاری کرنا، الا ان يكون مخالفاً للكتاب، مگر یہ کہ اس کا یہ حکم کیا ہو کتاب اللہ کے دیکھئے ہر ایک کی مثال بھی ذکر کر رہے ہیں، علامہ صدر الشریعہ کتاب اللہ کے مخالف ہونے کی مثال کمتروک التسمیہ عامداً بھئی، جیسے وہ ذبیحہ جو مس، اس جس پر کیا کر دیا گیا ہو؟ جان بوجھ کر بسم اللہ جس پر ترک کر دی گئی ہو بھئی، ذکر اللہ جس پر جان بوجھ کر ترک کر دیا گیا ہو بھئی، تو ہمارے نزدیک وہ کیا ہے بھئی؟ حرام ہے بھئی، جان بوجھ کر، تو اس کے اندر اس کے حکم کو نافذ نہیں کیا جائے گا، فانه مخالف لقوله تعالی، اس لیے کہ یہ فیصلہ مخالف ہوگا کس کے؟ اللہ کے، اس قول کے ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه، اور نہ کھاؤ تم اس ذبیحه میں سے جس کو جس پر ذکر نہ کیا گیا ہو اللہ کے نام کو، جی او للسنة المشهورة، یا وہ فیصلہ قاضی کا مخالف ہو کس کے؟ سنت مشہورہ، کالقضاء بحل المطلق، جی ہمارے نزدیک بھئی، ایک آدمی جب اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے، تو یہ اس کے لیے عورت حرام ہو گئی، جب تک کوئی دوسرا شخص اس سے نکاح نہ کر لے، اور اس سے جماع نہ کر لے، یہ عورت خاوند اول کے لیے حلال نہیں ہوئی۔ تو اب اگر قاضی یہ فیصلہ کرتا ہے، صرف نکاح کی وجہ سے ہی کیا ہو جائے گی یہ عورت، خاوند اول کے لیے حلال، وہ جماع کی قید نہیں لگاتا، تو اس کے اس فیصلے کو نافذ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اس کا یہ فیصلہ سنت مشہورہ کے خلاف ہے۔ حدیث میں ہے حضور علیہ السلام سے، ایک عورت نے بات ذکر کی، حضور نے جواب میں کیا فرمایا تھا؟ لا حتى تذوق من عسيلته، کہ وہ پہلے خاوند کے پاس واپس جانا چاہتی تھیں، حضور نے فرمایا نہیں بھئی، واپس پہلے خاوند کے پاس نہیں جا سکتی، یہاں تک کہ تو چکھ لے من عسيلته، اس خاوند ثانی کی شہد میں سے بھئی، شہد میں سے بھئی، سمجھ میں آیا؟ شہد چکھنا کنایا ہے لذت سے مولانا، اور مراد جماع ہے بھئی۔ تو دیکھو حضور نے جماع کی قید لگائی بھئی۔ تو اگر وہ فیصلہ مخ، مشہور مخالف ہوا سنت مشہورہ کے، کالقضاء بحل المطلقة الثلاث، حلال ہونا مطلقہ ثلاثہ کا من نکاح الزوج الثاني، کس کی، کس وجہ سے؟ زوج ثانی سے نکاح کے سبب سے اس کا حلال ہو جانا، بلا وطی، بغیر وطی کے علی مذہب سعید بن المسيب رحمہ اللہ، سعید بن المسيب رحمہ اللہ کے مذہب پر، یہ بڑے جلیل القدر تابعی گزرے ہیں مولانا، فانه مخالف للسنة المشهورة، اس لیے کہ یہ قول مخالف ہے سنت مشہورہ کے، تو اب قاضی ثانی، اگر قاضی اول نے یہ فیصلہ کر دیا ہے، تو قاضی ثانی اس کو نافذ نہیں کرے گا۔ جی، تو یہ مخالف ہے سنت مشہورہ کے، وہی قول علیہ السلام اور سنت مشہورہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے لا حتی تذوق من عسيلته، نہیں جب تک کہ تو چک نہ لے اس کے شہد میں سے الحدیث ای، اقرأ الحديث، اقرأ الحدی, منصوب بھی پڑھ سکتے ہیں یعنی، حدیث پڑھ لیجیے، یا مولانا مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں الحدیث معروف، حدیث کیا ہے؟ مشہور ہے، معروف ہے۔ اول للإجماع، یا وہ فیصلہ قاضی کا مخالف ہو اجماع کے، کالقضاء بحل متعة النساء، جیسے فیصلہ ایسے فیصلہ کرنا متعة النساء کے حلال ہونے کے ساتھ بھئی، بھئی آپ جانتے ہیں متعہ حرام ہے بھئی، کہ کچھ وقت کے لیے کیا کر لیا جائے کسی عورت سے نکاح ہمیشہ کے لیے ہوگا، کچھ مدت کے لیے کرنا درست نہیں بھئی۔ یا متعہ تو کچھ مدت کے لیے ہوتا ہے، اور بعضوں نے کہا اس میں گواہ بھی نہیں ہوتے بھئی، تو یہ بالکل جائز نہیں بھئی، تو ایک قاضی متعہ النساء کو حلال قرار دیتا ہے تو یہ درست نہیں ہے، کیوں؟ لان الصحابة قد، قد اجمعوا علی فساده، صحابہ نے اجماع کیا ہے اس کے فساد پر۔ جی، تو یہ اجماع کے خلاف ہوگا قاضی کا فیصلہ، وہ نافذ نہیں کیا جائے گا، فحاصل هذا، حاصل یہ ہے اس کا، کہ ان القاضی اذا قضا في المجتہد فیہ، کہ قاضی جب فیصلہ کرے مجتہد في مسئلے کے اندر، یعنی جس میں اجتہاد کی گنجائش ہے، يصير مجمعا عليه، تو وہ کیا فیصلہ کیا بن جائے گا؟ بھئی ایک مسئلے کے اندر دو رائے پہلے ہی تھیں، قاضی نے بھی فیصلہ کر دیا تو یہ کیا بن گیا؟ مجمع علیہ، یعنی اس پر اجماع ہو گیا، ووجب علی قاضی آخر آخر تنفيذه، اور دوسرے قاضی پر واجب ہے اس کو نافذ کرنا۔ کہتے ہیں وذا اذا حكم على وفق مذهبه، یہ اس وقت ہے جب قاضی فیصلہ کرے اپنے اپنے مذہب کے موافق فیصلہ کرے، اما اذا حكم على خلاف مذهبه، فسیاتی، اور اگر وہ فیصلہ کرتا ہے اپنے مذہب کے خلاف بھئی، فسیاتی، تو اس کا وہ عنقریب آگے آرہا ہے، اس کا بیان، ويجب ان يعلم القاضی، اور یہ بھی واجب ہے کہ جانتا ہو قاضی کہ ان المسلم مختلف فیها، کہ مسئلہ کس قسم کا ہے؟ مختلف فیہ ہے، وایضا هذا، اور یہ اس وقت ہے مولانا اذا كان محل القضاء مختلف مختلفاً فيه، جبکہ محل قضا مختلف فیہ ہو، جس محل میں قضا کر رہا ہے، جس مسئلے میں فیصلہ کر رہا ہے، وہ مسئلہ کس قسم کا ہونا چاہیے؟ مختلف فیہ ہونا چاہیے، اما اذا كان نفس القضائی مختلف فی، اگر قضا، نفس قضا ہی مختلف فی ہو، نفس قضا، بھئی یہ تو وہ تھا کہ مسئلہ مختلف فی تھا، اگر نفس قضا ہی مختلف فی ہو، ایک مسئلہ ہے، اس کے اندر ایک کہتا ہے، ق فیصلہ کرنا ہی نہیں صحیح یہاں پر، دوسرے کیا کہتے ہیں؟ دوسرے مجتہد کیا فرماتے ہیں؟ یہاں پر فیصلہ کرنا صحیح ہے، تو نفس قضا میں اختلاف آ گیا، مثلاً مولانا غائب پر فیصلہ کرنا، کس پر؟ غائب پر فیصلہ کرنا، آپ جانتے ہیں اس کے اندر اختلاف ہے کہ قضا علی الغائب ہمارے نزدیک جائز نہیں۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے، تو معلوم ہوا یہ اختلافی مسئلہ ہے بھئی۔ تو اب اس میں نفس قضا میں اختلاف آ گیا کہ قضا اس میں کر بھی سکتے ہو یا قضا نہیں کر سکتے۔ جی تو اس صورت میں، اس کی جی بتلا رہے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟ اما اذا كان نفس القضائی مختلف فیہ، باقی اگر نفس قضا ہی مختلف فی ہوئی، کالقضائی علی الغائب، جیسے کس پر فیصلہ کرنا؟ غائب تو اس میں تو اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں قضا ہی نہیں جائز، فانه لا يصير مجمعا عليه، تو اس میں اگر ایک قاضی فیصلہ کر دیتا ہے، کیا کر دیتا ہے؟ فیصلہ قضا علی الغائب کے اندر اختلاف تھا، بعض کہتے ہیں اس میں قضا کر ہی نہیں سکتا، بعض کہتے ہیں کر سکتا ہے۔ اگر اس کے اندر قاضی فیصلہ کر دیتا ہے، تو کیا یہ مجمع علیہ بن گیا یا مجمع علیہ نہیں بنا؟ کہتے ہیں نہیں، یہ مجمع علیہ نہیں بنا۔ ہاں، اس قاضی کے فیصلے کو پھر ایک اور قاضی مجتہد کے پاس پہنچایا گیا، اس قاضی مجتہد نے بھی کیا کیا؟ اسی قاضی کے فیصلے کو نافذ کر دیا، اب مجمع علیہ بن گیا، کیا بن گیا؟ مجمع علیہ بن گیا، تو فانه لا يصير مجمعا عليه، تو یہ قاضی اول کا فیصلہ کر دینا، کر دینے سے یہ مسئلہ مجمع علیہ نہیں بنے گا، جب مجمع علیہ نہیں بنا، تو معلوم ہوا قاضی ثانی کے لیے اس کو نافذ کرنا ضروری، پہلی صورت میں تو اس لیے نافذ کرنا ضروری تھا کہ وہ کیا بن چکا تھا؟ مجمع علیہ بن چکا تھا اور اجماع کے خلاف تو درست نہیں۔ تو اب یہ مجمع علیہ نہیں بنا، جب مجمع علیہ نہیں بنا تو قاضی ثانی کے لیے اسے نافذ کرنا ضروری نہیں، چاہے تو اس کو کیا کر سکتا ہے؟ منسوخ بھی کر سکتا ہے، جی۔ تو کہتے ہیں الا ان يرفع قضاؤه الى قاض آخر، مگر یہ کہ پہنچایا جائے اس کے فیصلے کو ایک دوسرے قاضی مجتہد تک، مجتہد تک بھئی، فيمزيہی، تو پھر وہ کیا کر دیتا ہے اس کو، دوسرا قاضی بھی کیا کر دیتا ہے؟ نافذ کر دیتا ہے، اس کو جاری کر دیتا ہے، فحينئذ يصير مجمعا عليه، اب کیا بن جائے گا یہ؟ فبعد الامزاء، پھر اس کے نافذ کر دینے کے بعد قاضی ثانی بھی نے بھی نافذ کر دیا، ان رفع الی قاض آخر، اگر یہ مسئلہ اٹھایا گیا، کہاں تک بھئی؟ ایک دوسرے یعنی تیسرے قاضی تک، يجب عليه تنفيذه، اب تیسرا قاضی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ کیا بن چکا ہے؟ وہ تیسرا قاضی سے منسوخ نہیں کر سکتا کیونکہ یہ مجمع علیہ بن چکا ہے بھئی، تفصیل پتہ چل گئی بھئی۔ وفيما اجتمع عليه الجمهور لا يعتبر خلاف البعض، اچھا، یہاں سے یہ بات بتلائیں گے کہ اجماع کے اندر سارے مجتہدین کا اتفاق ضروری ہے، یا اکثر کا اتفاق ہو تو پھر بھی اجماع ہو جاتا ہے؟ مسئلہ آ رہا ہے سمجھ میں بھئی؟ کہ ساروں کا اتفاق ضروری ہے یا با اکثر کا اتفاق ہو جائے، اگرچہ تھوڑے سے خلاف ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی کیا منقعد ہو جائے گا؟ اجماع۔ تو متن میں آپ کو بتلا رہے ہیں کہ اکثر کا اتفاق کافی ہے اجماع کے لیے بھئی، اجماع کے منقعد ہونے کے لیے، اکثر یہ معنی ہے وفیما اجتمع عليه الجمهور، اور اس چیز کے اندر کہ جس میں جس پر اکٹھے ہو جائیں بھئی، جمہور اکثر لا يعتبر خلاف البازی، وہاں بعض کے اختلاف کا اعتبار نہیں کیا گیا ہے۔ ذکر في اصول الفقہ، بھئی ذکر کیا گیا ہے اصول فقہ کے اندر، کہ ان العلماء اختلفوا في ان الاجماع، علما نے اختلاف کیا اس بات میں کہ اجماع جو ہے ہل ینعقد باتفاق اکثر المجتہدین، کہ کیا اجماع منعقد ہو جاتا ہے اکثر مجتہدین کے اتفاق کرنے سے؟ اولابدد من اتفاق الكلية، ضروری ہے ساروں کا اتفاق بھئی۔ ففي الہدايہ، ہدایہ کے اندر ہی اختار صاحب ہدایہ نے اختیار کیا ہے کہ ان اتفاق الاكثر کافن، کہ اکثر کا اتفاق کافی ہے، ففي مقابلۃ اتفاق الاكثر لا يعتبر خلاف الاقلي، تو لہذا اکثر کے اتفاق کے مقابلے میں، اقل کے اختلاف کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ جی، سمجھ میں آیا بھئی؟ دو قول آئے تھے، بعض کہتے ہیں کہ ساروں کا اتفاق ضروری، بعضوں نے کیا کہا؟ اکثر کا اتفاق کافی ہے اجماع کے لیے، اور صاحب ہدایہ نے کس قول کو اختیار کیا؟ اکثُر کا اتفاق کافی ہے اجماع کے لیے اور جب اکثر کا اتفاق آ جائے تو بعض لوگوں کا اگر اختلاف بھی ہو، اس اختلاف کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ علامہ صدر الشریعہ اس کو رد کر رہے ہیں، بھئی، اعتراض کر رہے ہیں کہ بھئی، کتبِ اصولِ فقہ میں تو اس سے مخالف بات معلوم ہوتی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ صاحب ہدایہ نے اس کو اختیار کیا ہے کہ جس میں کس کو ترجیح دی، جس میں اکثر کا اتفاق کافی تھا، اور اصولِ فقہ میں کس کو ترجیح دی گئی ہے؟ جی؟ کہ ساروں کا اتفاق ہونا چاہیے، اگر ایک بھی مخالف ہوا تو اس کا اختلاف معتبر ہے، بھئی یہ اجماع نہیں ہے، یہ اجماع نہیں ہے۔ ایک بھی مخالف، صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ وفی کتبِ اصولِ الفقہ رجحوا ذٰلک المذہب اور کتبِ اصولِ فقہ میں اس مذہب کو ترجیح دی ہے، سمجھ میں آیا؟ دوسرے مذہب کو یعنی۔ وہوا اور وہ یہ کہنا اختلافُ الاقل فی مقابلۃ الاکثر معتبرٌ کہ اقل کا اختلاف بھی اکثر کے مقابلے میں معتبر ہے فانَّ واحداً من الصحابۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم ربما خالف الجماعۃ الکثیرۃ اس لیے کہ صحابہ میں سے کسی ایک نے بھی بسا اوقات مخالفت کی ہے، بڑی کثیر مجموعے کی، بڑی تعداد کی صحابہ کی، ولم یقولوا اور صحابہ نے اس سے یہ نہیں فرمایا، اس ایک صحابی سے، نحن اکثرُ منک کہ ہم تجھ سے زیادہ ہیں، یہ کس صحابی نے، ایک نے مخالفت کی ہے، باقی اس سے، باقیوں نے اس سے یہ نہیں فرمایا کہ ہم تجھ سے زیادہ ہیں، تو ہمارا اجماع ہوگیا، سمجھ میں آیا، بھئی؟ نہیں، بھئی! بلْ اعتبروا مخالفتہ بلکہ صحابہ نے اس کی مخالفت کا بھی اعتبار کیا۔ و ایضاً قال فی الہدایۃ اور ہدایہ میں یہ بھی فرمایا ہے صاحبِ ہدایہ نے کہ انَّ المعتبَرَ الاختلفُ فی الصَّدرِ الاولِ معتبر کون سا اختلاف ہے، جو کس میں ہو؟ صدرِ اول میں، ای الصحابۃ یعنی صحابہ کے زمانے میں، ای جی لکن الاصحَّ لیکن علامہ صدر الشریعہ فرما کہتے ہیں، لیکن صحیح یہ ہے انہ لا یشترط ذٰلک اس کی شرط نہیں لگائی جائے گی، یہ شرط نہیں ہے، حتّٰی یکونَ اختلافُ الشافعیِ رحمہ اللہ تعالی معتبراً یہاں تک کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف بھی معتبر ہے، یعنی صرف صحابہ کا اختلاف معتبر نہیں ہے، بلکہ ائمہ مجتہدین کا اختلاف بھی معتبر ہے، چاہے امام شافعی رحمہ اللہ ہیں، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہیں، امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ ہیں اور امام مالک رحمہ اللہ۔ چلیے بس مولانا ہذاہو فالمراہ واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
108 approved lectures · 61 of 108