Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-046

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location BAHAWALPUR, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 39
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بیع الصرف کے بارے میں ہم نے پڑھنا شروع کیا تھا بھئی. بیع الصرف میں بتلایا آپ کو وہ ثمن کی ثمن کے بدلے بیع ہے یعنی دونوں طرف کیا ہوں؟ جنس ثمن ہوں، دونوں طرف سونا، چاندی، کرنسی، پیسے وغیرہ کی جنس میں سے ہوں بھئی. اور اس میں آپ نے پڑھا کہ اگر دونوں طرف ایک ہی جنس ہو تو کمی بیشی کے ساتھ بیع درست نہیں بھئی. ہاں اگر جنسیں بدل جائیں، ایک طرف سونا ہے دوسری طرف چاندی ہے تو پھر کمی بیشی کے ساتھ بھی بیع جائز ہے. اور تقابض مجلس کے اندر یعنی عوضین پر مجلس کے اندر قبضہ ضروری ہے بھئی. عوضین پر کیا ہے؟ مجلس میں قبضہ ضروری ہے بھئی. چنانچہ اس کے اندر بھئی اب یاد رکھنا خیار شرط وغیرہ بھی نہیں لگا سکتے اس لیے کہ خیار شرط کیا ہے؟ مانع ہے. اس سے قبضہ تام نہیں ہوتا بھئی اس کے ہوتے ہوئے لہذا، حالانکہ اس میں قبضہ تام ضروری ہے بھئی. گذشتہ سبق میں آخر میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا بھئی کہ ایک شخص نے دوسرے پر ایک چاندی کا برتن بیچا. اور بیچا اور اس مجلس کے اندر اس نے کچھ ثمن پر تو قبضہ کیا اور کچھ پر قبضہ نہیں کیا. تو اس صورت کے اندر بھئی جس قدر عوض پر قبضہ کیا ہے اتنے میں بیع صحیح ہو جائے گی اور باقی کے اندر بیع فاسد ہو جائے گی باقی کے اندر بیع. تو لہذا کچھ کے پیسے دیے ہیں تو اس کچھ کا یہ مشتری مالک بن جائے گا اور کچھ کے پیسے نہیں دیے تو اس کا مالک بدستور کون بھئی؟ بایع بھئی. تو ان میں وہ برتن مشترک ہو جائے گا، مشترک ہو جائے گا بھئی. لیکن اس کے بجائے اگر کسی نے دوسرے پر چاندی کا برتن بیچا، ثمن پر سارے پر قبضہ کر لیا لیکن بعد میں کچھ برتن کا کوئی اور مستحق نکل آیا تو اس صورت کے اندر مشتری کو اختیار دیا جائے گا کہ چاہے تو اس شخص کو اپنے ساتھ شریک کر لو اور جتنے کے وہ مستحق نکلا ہے اس کے پیسے واپس لے لو. اور جتنا آپ کا بنتا ہے اس کے پیسے دے دو بھئی. یا کیا کر دو بھئی؟ رد کر دو، کیا کر دو؟ رد کر دو. ہاں تو اس شریک بھی کر سکتا ہے اور رد کرنے کا بھی اختیار ہے بھئی، یہ کیا وجہ ہے؟ فرق کیوں کیا دونوں مسئلہ میں کہ ایکہی کے اندر پہلی صورت کے اندر بھئی جب کچھ پیسے ادا کیے تھے تو اس وقت خیار نہیں تھا بلکہ دونوں کیا بن گئے تھے برتن میں؟ شریک اور اب جب مستحق نکل آیا تو اب آپ خیار دے رہے ہیں مشتری کو کہ چاہے تو کیا کر دے؟ برتن واپس کر دے. کہتے ہیں اس لیے کہ چیزوں کے اندر شرکت عیب شمار کی جاتی ہے، کیا شمار کی جاتی ہے؟ بھئی مثلاً آپ کی گاڑی ہے تو آپ جیسے چاہیں گے اس کو استعمال کریں گے لیکن اگر آپ کے ساتھ ایک اور شخص بھی شریک ہے تو اب آپ اس طرح چیز کو استعمال نہیں کر سکتے، لازمی بات ہے ایک دن آپ استعمال کریں گے تو دوسرے دن وہ دوسرا استعمال کرے گا. تو لہذا چیزوں میں شرکت عیب ہے اور پہلے مسئلے میں جو شرکت آئی تھی وہ بایع اور مشتری کی غلطی کی وجہ سے آئی تھی، ان کے اپنے فعل کا دخل تھا تو گویا کہ وہاں وہ دونوں جب کچھ پیسے ادا کیے اور کچھ نہیں ادا کیے تو گویا کہ اسی طرح دونوں شرکت پر راضی ہیں، دونوں شرکت پر راضی ہیں، ان کے اپنے عمل کی وجہ سے شرکت آئی اور یہاں پر جو شرکت آئی ہے اس کے اپنے عمل کی وجہ سے نہیں تو یہاں پر اس کی رضامندی نہیں بھئی. تو پھر دوسرا مسئلہ بتلا, واستحق بعض قطعۃ نقرۃ. نقرہ کہتے ہیں بھئی سونے اور چاندی کے ٹکڑے کو، ان کی ڈلی کو بھئی. اگر مستحق نکل آیا سونے چاندی کی ڈلی کے ٹکڑے کا کچھ حصے کا کوئی مستحق نکل آیا بھئی. اب اس صورت کے اندر بھئی آپ نے مثلاً ایک چاندی کی ڈلی کسی شخص سے خریدی اور اس کا کوئی اور مستحق نکل آیا. تو کیا اب خیار ہو گا یا نہیں جیسے برتن کے معاملے میں خیار تھا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی اب خیار نہیں ہے خریدنے والے کو اس لیے کہ برتن میں تو شرکت عیب ہے یہاں پر کوئی شرکت عیب نہیں. وہاں پر تو اس کو توڑنا نقصان دیتا تھا بھئی اور یہاں پر توڑنے میں کوئی نقصان نہیں تو الگ الگ کر لیں اپنا حصہ. تو کہتے ہیں ولو استحق بعض قطعۃ نقرۃ سونے چاندی کی ڈلی کے ٹکڑے کا کچھ حصے کا کوئی مستحق نکل آیا بیعت وہ سونے یا چاندی کی ڈلی بیعت جسے کیا کیا گیا تھا؟ بیچا گیا تھا، اس کا کوئی مستحق نکل آیا. تو اخذ ما بقی بحصتہ لے لیا جائے گا ما بقیہ کو اس کے حصے کے بقدر جو ثمن بنتے ہیں. آدھی کا کوئی اور مستحق نکل آیا تو آدھی کو لے لے گا اسی کے آدھے ثمن دے کر. بلا خیار بغیر کسی خیار کے لان شرکت لیس بعیب فی قطعۃ قطعۃ النقرۃ اس لیے کہ شرکت عیب نہیں ہے بھئی قطعۂ نقرہ کے اندر. لان التبعیض لا یضرہ اس لیے کہ یہاں پر تبعیض اور تقسیم جو ہے یہ نقصان نہیں دیتی بھئی. وصح بیع درھمین و دینار بدینہم و درھمین وبیع کر بر و کر شعیر بقر بر و کر شعیر ھذا عندنا. صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی. آپ ایک شخص کے ساتھ بھئی بیع صرف کرتے ہیں عقدِ صرف، آپ دیتے ہیں ایک درہم اور دو دینار اور اس سے لیتے ہیں دو درہم اور ایک دینار، ہمارے نزدیک یہ درست ہے، جائز ہے بھئی. یہ اسی طرح بھئی آپ ایک شخص کو دیتے ہیں ایک کر گندم کا اور ایک کر جو کا اور بدلے میں اس سے لیتے ہیں دو کر گندم کے اور دو کر جو کے، ہمارے نزدیک یہ عقد جائز بھئی. اس لیے کہ یہاں پر ہم جنس کو خلافِ جنس کی طرف پھیر دیتے ہیں، مثلاً آپ نے دو دینار دیے تھے اور ایک درہم اور دوسری طرف سے کیا لیے؟ دو درہم اور ایک دینار. تو آپ کے جو دو دینار ہیں وہ اس کے درہم کے مقابلے میں ہم نے کر دیے اور آپ کا جو ایک دینار ہے اس کے ایک دینار ہے اس کے دو دیناروں کے مقابلے میں تو جنس کے بدلے میں کیا آ گئی؟ خلاف جنس اور آپ نے پڑھا ہے کہ جنس جب بدل جائے تو پھر قبضہ تو اسی مجلس میں ضروری البتہ تفاضل جائز ہے زیادتی کی کمی زیادتی کے ساتھ بیع جائز ہے بھئی. تو اسی طرح دوسری صورت میں جب آپ نے ایک کر گندم کا دیا اور ایک کر جو کا دیا اور دوسرے سے کیا لیے؟ دو کر گندم کے اور دو کر جو کے تو یہاں بھی ہم جنس کو پھیر دیتے ہیں خلافِ جنس کی طرف، یعنی آپ نے جو ایک کر گندم کا دیا وہ کس کا عوض بنا دیا ہم نے؟ دو کر جو کے اور آپ نے جو ایک کر جو کا دیا اس کو کس کا عوض بنا دیا؟ دو کر گندم کا تو دیکھو اب جنس جب بدل گئی تو اس صورت میں تفاضل جائز ہے تو عقد صحیح ہوا ہمارے نزدیک. جبکہ امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ یہ عقد درست نہیں بھئی. یہ جائز نہیں اس لیے کہ اس صورت میں ربا لازم آتا ہے، ربا اس لیے لازم آتا ہے کہ اس نے دونوں نے عقد کرنے والوں نے مجموعے کا مقابلہ مجموعے سے کیا ہے. آپ نے دو چیزیں دیں بھئی درہم اور دینار اور اس سے بھی کیا لیے؟ درہم اور دینار تو مجموعے کا مقابلہ مجموعے سے ہوا ہے تو لہذا آپ کے ہر قسم ہر جنس کے بدلے دونوں میں سے کچھ حصہ آنا چاہیے. آپ نے کیا دیا تھا؟ دو دینار تو اس دینار کے عوض میں دوسری طرف کے درہم دو درہم اور ایک دینار آ رہے ہیں دونوں میں سے کچھ نہ کچھ حصہ آنا چاہیے. اور آپ نے جو ایک دینار دیا ہے اس کے عوض بھی اس کی دونوں جنسوں میں سے کوئی نہ کوئی چیز یعنی یہاں شیوع کے طریقے پر انقطاع ہوگا بھئی. آپ نے کیا دیا بھئی؟ دو دینار اور ایک دینار. اور اس نے کیا دیے؟ دو دینار اور ایک دینار تو دیکھو دونوں طرف دو دو جنسیں ہیں تو دونوں کے عوض میں دونوں دونوں جنسیں آنی چاہئیں بھئی، انقطاع تقسیم شیوع کے طریقے پر ہو. انہوں نے یہ تو نہیں کہا بھئی کہ درہم کے بدلے میں دینار ہے، یہ کہا تھا دونوں عقد کرنے والوں نے؟ نہیں، انہوں نے تو بس مجموعے کا مقابلہ مجموعے سے کیا، آپ نے کہا میں نے ایک دینار دیا اور دو دینار دیے اور اس نے کیا کہا میں نے جی، میں دو دینار اور ایک دینار تو دونوں طرف جب دو دو جنسیں ہیں تو ہر ایک جنس کے عوض میں دونوں طرف کی دونوں جنسوں کا کچھ نہ کچھ حصہ آنا چاہیے، آپ نے دو دینار دیے تھے تو اس دینار کے عوض میں دوسری طرف کے درہم کا بھی کچھ حصہ ہونا چاہیے اور دینار کا بھی اور آپ نے ایک دینار دیا تھا اس کے مقابلے میں بھی دینار میں سے بھی کچھ حصہ آنا چاہیے اور درہم میں سے بھی کچھ حصہ آنا چاہیے یعنی تقسیم شیوع کے طریقے پر ہو، اشتراک کے طریقے پر ہو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اے احناف یہ جو آپ کیا کرتے ہیں کہ جنس کو خلاف جنس کے بدلے بنا دیتے ہیں یہ تو آپ نے تصرف کر دیا، کیا کر دیا؟ انہوں نے تو مجموعے کا مقابلہ مجموعے سے کیا تھا اور وہ تقاضا کرتا تھا کہ تقسیم کس طریقے پر ہو؟ شیوع کے طریقے پر ہو، یعنی ہر ایک کا عوض دونوں جنسوں میں پھیلا ہوا ہو، ہر ایک کا عوض دونوں جنسوں شیو کا معنی پھیلا ہوا ہونا، دونوں جنسوں میں پھیلا ہوا ہو. تو لہذا تو یہاں جب شیوع کے طریقے پر کریں گے تو ربا لازم آئے گا، جب ربا لازم آئے گا تو عقد جائز نہیں بھئی، اور یہ جو آپ جنس کو خلاف جنس کے بدلے کرتے ہیں، یہ تو آپ نے ان کے تصرف کو بدل دیا، انہوں نے تو مجموعے کو مجموعے کا بدلا بنایا تھا نہ کہ خلاف جنس کو جنس کو خلاف جنس کا عوض بنایا تھا بھئی. ہم جواب دیتے ہیں کہ بھئی یہاں کئی احتمال ہیں، تین تین احتمال یہاں بنتے ہیں بھئی. اس لیے کہ یہاں مقابلہ مطلق ہوا ہے، آپ نے دو دینار دیے اور ایک دینار اور ادھر سے کیا آئے؟ دو دینار اور ایک دینار تو یہاں مطلق ان دو درہم ایک دینار کا مقابلہ ہوا دو درہم اور ایک دینار کے ساتھ، مطلق مقابلہ ہوا اور اس تو مطلق اس تمام صورتوں کو شامل ہوا، چاہے ان میں عوض شیوع کے طریقے پر آپ بنائیں. کس طریقے پر؟ شیوع شیوع کے طریقے پر یعنی ہر ایک جنس کے عوض دوسری طرف کی دونوں جنسوں کا کچھ نہ کچھ حصہ بنا لیں، چاہے اس طریقے پر کر لیں اس صورت کو بھی یہ شامل ہوا، چاہے آپ جنس کو جنس کے بدلے بنا دیں. درہم کو درہموں کے بدلے، دینار کو دیناروں کے، یہ صو- اس صورت کو بھی شامل، اور جنس کو خلاف جنس کے بدلے بنا دیں، یہ صورت بھی تو کتنی صورتیں یہاں ہیں بھئی؟ تین صورتیں یا تقسیم شیوع کے طریقے پر ہو یا تقسیم کس طرح ہو بھئی؟ جنس کے مقابلے میں جنس ہی آئے، یا تیسرا طریقہ یہ ہے جنس کے مقابلے میں خلافِ جنس تو یہاں مقابلہ مطلق تھا، تینوں احتمال تھے اور تین میں سے ہم نے اس احتمال کو لیا جس کے اندر عقد صحیح رہتا تھا، باقی شیوع والا طریقہ اور جنس کے بدلے جنس آ جائے تو اس میں کیا لازم آتا تھا؟ ربا، اور فقہاء ہمارے فقہاء کی کوشش ہوتی ہے کہ اگر ایک عقد میں جو صحت والا طریقہ ہو، عقد کو کس پر محمول کیا جائے؟ اس صحت والے طریقے پر محمول کیا جائے، فساد والے طریقے پر محمول نہیں کیا جاتا. تو شیوع والے طریقے میں بھی ربا فساد آ رہا تھا، جنس کے بدلے جنس ہو تو پھر بھی کیا آ رہا تھا؟ پھر بھی فساد کیونکہ ایک درہم کے مقابلے میں کتنے بنتے تھے؟ ایک دو درہم اور ایک دینار کے بدلے کتنے دینار بنتے تھے؟ تو جنس کے بدلے جنس آ جاتا تب بھی کیا تھا؟ ربا، جنس کے بدلے میں اگر شیوع کے طریقے پر انقسام ہوتا پھر بھی کیا لازم آتا تھا؟ ربا، لیکن اگر جنس کے بدلے کیا کر دیں؟ خلافِ جنس کر دیں پھر ربا لازم نہیں آتا کیونکہ تفاضل اس صورت میں جائز ہو جاتا ہے تو ہم نے اس عقد کو صحیح کرنے کے لیے اس صورت پر محمول کیا بھئی، اور اس کا بھی احتمال تھا اس کے اندر کیونکہ یہاں مقابلہ کس طریقے پر تھا؟ مطلق تھا، مطلق تھا بھئی. کیونکہ کل کا مقابلہ کل کے ساتھ کیا گیا تھا بھئی. صورت سمجھ میں آ گئی بھئی اچھی طرح؟ تو کہتے ہیں وصح بيع درهمين ودينارين صحيح ہے دو درہم اور ایک دینار کی بیع بدينهم ودينارين، دو دینار اور ایک دینار کے بدلے. وبيـع كر بر وكر شعير اور اسی طرح صحیح ہے بھئی بیع ایک کر گندم و کر شعیر اور ایک کر جو کی بیع کس کے بدلے؟ بكره بر کرين، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا یہ تثنیہ بھئی، دو کر گندم وشعیر دو کر جو کے بدلے تو ایک طرف ایک کر گندم اور جو ہے اور دوسری طرف دو دو کر گندم اور جو کے ہیں، ھذا عندنا یہ ہمارے نزدیک ہے. وأما عند زفر والشافعي رحمهما الله فلا يجوز، بقیہ امام زفر اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں. لأنه قابل الجملة بالجملة اس لیے کہ یہاں مقابلہ کیا ہے مجموعے کا کس کے ساتھ بھئی؟ یہاں اس نے مجموعے کا مجموعے کے ساتھ مقابلہ کیا ہے ومن ضرورته الانقسام على الشيوء. اور اس کے ساتھ لازم ہے کہ انقسام کس طریقے تقسیم کس طریقے پر ہو؟ شیوع کے طریقے پر، یعنی ہر ایک جنس کے بدلے دونوں جنسوں کا حصہ آنا چاہیے ہر ایک جنس کے بدلے. وفي صرف الجنس إلى خلاف الجنس، بھئی اور پھیرنا ایک جنس کو خلاف جنس کی طرف جیسا کہ احناف نے کیا ہے تغير تصرفه یہ تو اس عقد کرنے والے کے تصرف کو بدلنا ہے اس کے اندر آپ بدل دیتے ہیں بھئی اس نے تو نہیں کہا تھا کہ گندم کے بدلے جو ہے اور جو کے بدلے گندم ہے، وہ تو اس نے مجموعے کا مقابلہ کیا ہے. قلنا ہم جواب دیتے ہیں، المقابلة المطلقة يحتمل الصرف المذكور کہ یہاں مقابلہ کون سا ہے؟ مطلق ہے، اور مطلق جو مقابلہ ہے يحتمل الصرف المذكور اس میں مذکورہ پھیرنے کا بھی احتمال ہے بھئی. وليس فيه تغيير تصرفه اور اس کے اندر عقد کرنے والے کے تصرف کو بدلنا بھی نہیں ہے. لأن موجبه ثبوت الملك في الكل بمقابلة الكل اس لیے کہ عقد کا مقتضی کیا ہے بھئی؟ اس لیے کہ عقد کا جو مقتضی ہے وہ ملک کا ثابت کرنا ہے کل کے اندر کس کے مقابلے میں؟ کل، بس کل کے مقابلے میں کل کے اندر ملک آنی چاہیے اور وہ تینوں طریقوں سے آ سکتی ہے، جنس کو خلاف جنس کی طرف پھیریں، پھر بھی دونوں میں ملکیت آتی ہے. جنس کے بدلے جنس کر دیں، پھر بھی کیا آتی ہے دونوں میں؟ دونوں طرف کل کے کل میں ملکیت آتی ہے. اور شیوع کے طریقے پر انقسام ہو بھئی، پھر بھی کیا آتی ہے دونوں کے کل کے کل میں. مطلب آپ نے دو دینار اور ایک دینار دیا تھا اس سارے کا مالک کون بن گیا؟ دوسرا، اور اس نے دو دینار اور ایک دینار دیا تھا اس سارے کے مالک آپ بن گئے، تو مالک بنانا ہے ثبوت ملک ہونا چاہیے کل کے اندر اور اس میں تینوں صورتیں آ جاتی ہیں. بات سمجھ میں آئی بھئی؟ فيكون الدرهمان في مقابلة الدينارين તો دونوں درہم دو دیناروں کے مقابلے میں ہو جائیں گے، اب اگرچہ وزن کے اندر بھی فرق ہے مولانا، کیونکہ دینار کتنے کا ہے؟ دینار ہے ساڑھے چار ماشے کا اور درہم تقریباً سوا تین ماشے کے قریب ہوتا ہے تو اب بھی وزن میں فرق لیکن اب تفاضل جائز کیونکہ جنس کے بدلے میں خلاف جنس ہے. تو دو دینار، دو درہم دو دیناروں کے مقابلے میں ہوئے اور وہ دینار فی مقابلة الدرهم کس کے مقابلے میں ہوا؟ درہم کے مقابلے میں ويكون كر البر في مقابلة كرے الشعير اور وہ ایک کر گندم کا دو کر جو کے مقابلے میں ہوا وكر الشعير في مقابلة كر البر اور ایک کر جو کا کس کے مقابلے میں ہوا؟ دو کر گندم کے مقابلے میں۔ صورت سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وبيع أحد عشر درهماً جی صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی آپ نے ایک شخص کو گیارہ درہم دیے اور اس کے عوض دس درہم اور ایک دینار لے لیا، دس درہم اور ایک تو کہتے ہیں یہ عقد بھی جائز ہے اس لیے آپ نے کیا دیے بھئی؟ گیارہ درہم اور لیے کیا؟ دس درہم اور ایک دینار تو دس درہم دس درہم کے بدلے ہوئے، یہ برابر ہوئے بھئی عقد اسی مجلس میں قبضہ عقد صحیح، اور ایک درہم کس کے مقابلے میں ہوا؟ دینار کے مقابلے میں ہوا، اب وزن میں کمی بیشی بھی ہے لیکن یہ خلاف جنس ہونے کی وجہ سے جائز ہے بھئی. وبيع أحد عشر درهماً ای صح بیع أحد عشر درهماً اس کا عطف بھی اوپر بیع پر ہو رہا ہے. اور صحیح ہے گیارہ درہموں کو بیچنا عشرة دراهم ودينارين دس اور درہم اور ایک دینار کے بدلے میں بأن يكون عشرة دراهم بعشرة دراهم اس صورت کے دس درہم کس کے بدلے میں ہو جائیں گے؟ دس درہم کے بدلے میں ہو جائیں گے اور بقیہ درہم في مقابلة دينارين اور ایک ایک درہم بچ جائے گا کس کے مقابلے میں؟ دینار کے مقابلے میں۔ وبع درھم، أي صح بع درہم، صحیح ہے ایک درہم کی بیع، درہم۔ صحیح صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، دراهم غلہ کا ذکر آ رہا ہے۔ دراهم غلہ، بھئی یہ کوئی عیب دار قسم کے دراہم ہوا کرتے تھے بھئی، جن کو بیت المال تو نہیں لیتا تھا لیکن تاجر لے لیا کرتے تھے، چل جاتے تھے چلو، گزارے کے طور پر بھئی۔ اب، بیت المال نہیں لیتا تھا، معلوم ہوا کوئی عیب دار قسم کے تھے بھئی۔ تو دراہم، آپ نے ایک شخص کو دیا ایک درہم صحیح اور دو دراہم غلہ، دو دراہم؟ دو درہم غلہ دیے اور ایک درہم صحیح دیا اور اس سے دو درہم صحیح اور ایک درہم غلہ لیا تو کہتے ہیں یہ عقد بھی صحیح ہے۔ اس لیے کہ یہاں پر آپ نے کل دیے تین درہم اور وصول بھی کتنے کیے؟ تین درہم کیے۔ تو یہاں وزن کے اعتبار سے برابری مساوات موجود ہے، لہذا عقد صحیح ہوا اور باقی کھرے اور اہ کھرے اور کھوٹ وغیرہ کی بات ہے جہاں تک، تو کہتے ہیں بھئی حدیث آپ پڑھ چکے ہیں جیدھا و ردھا سوا ان کے جید اور ردی برابر ہیں بھئی۔ وبع درہم صحیح و درہمین غلتین اور بیچنا ایک صحیح اور دو غلہ دراہموں کا، ب درہمین صحیحین و درہم غلۃ دو صحیح درہم اور ایک غلہ درہم کے بدلے۔ یہ بھی صحیح ہے تو کہتے ہیں الغلۃ ما یردہ بیت المال، غلہ وہ درہم ہے جس کو رد کر دیتا ہے بیت المال و یأخذہ التجار اور تاجر لے لیا کرتے ہیں۔ وإنما یجوز هذا اور یہ جائز ہے لتحقق التساوي فی الوزن اس لیے کہ وزن کے اندر تساوی پائی جا رہی ہے، اس کا تحقّق ہو رہا ہے بھئی۔ وہ پائی جا رہی ہے موجود ہے وسقوط اعتبار الجودۃ الیس سقوط اعتبار الجودۃ اور عمدہ ہونے کا اعتبار کے ساقط ہونے کی وجہ سے جائز ہے کہ عمدہ اور ردی ہونے کا اعتبار نہیں کیا جاتا بھئی۔ وبع من علیہ عشرۃ دراھم ممن ھي لہ بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، توجہ سے سنو، مشکل مسئلہ ہے۔ آپ کے، آپ نے زید کے دس درہم دینے ہیں، آپ پر اس کا دین ہے، کتنے درہم؟ دس درہم۔ اور زید کے ہیں بھئی، تو آپ نے ایک مجلس کے اندر ایک دینار زید کے ہاتھ بیچا دس درہم کے بدلے۔ زید کو دینار دیا، یہ لو بھئی، یہ دینار میں نے آپ کو کتنے درہم کے عوض بیچا؟ دس درہم کے عوض بیچا۔ مطلق بیچا، یہ نہیں کہہ رہا وہ جو میرے اوپر دس درہم ہیں، بلکہ مطلق کہہ رہا ہے کہ یہ دینار میں نے آپ کو دس درہم کے عوض بیچا، اس نے بھی عقد کو قبول کر لیا بھئی، عقد ہو گیا بھئی۔ تو اب دیکھیے، آپ پر، زید کے کتنے تھے؟ دس درہم۔ اور یہ دینار دینے کی وجہ سے، اب زید پر بھی آپ کے کتنے ہو گئے؟ دس درہم۔ تو وہی مجلس کے اندر ہی دونوں نے حساب چکا دیا، مقاصہ کر لیا۔ مقاصہ کہتے ہیں بھئی، حساب چکانا۔ مقاصہ کسے کہتے ہیں؟ آگے آئے گا لفظ مقاصہ، کہتے ہیں حساب چکانا، یعنی ایک پر جو دین ہو، دوسرے پر جو دین ہے، اس کا عوض قرار دے کر حساب پورا کر دینا کہ میرے اوپر دس ہیں، تو آپ پر بھی کتنے ہو گئے؟ دس، تو یہ وہ دس کے عوض ہوئے تو حساب ختم ہوا۔ بھئی اس کو کہتے ہیں مقاصہ۔ تو اب زید پر بھی آپ کے دس درہم ہوئے، تو وہیں پر آپ نے حساب چکا دیا اور کیا کہا کہ مجھ پر جو دس ہیں، وہ کس کے بدلے ہو گئے؟ جو آپ پر دس ہیں، لہذا حساب ختم ہوا۔ بھئی تو کہتے ہیں یہ عقد صحیح ہے یا صحیح نہیں بھئی؟ متن متن میں آیا کہ یہ عقد بھی صحیح ہے، یہ عقد بھی صحیح ہے۔ لیکن یاد رکھو کہ اس صورت میں دو عقد ہوئے ہیں، ایک عقد فصخ ہوا اور پھر دوسرا عقد ہوا۔ پہلے ہی عقد کو برقرار رکھا جائے تو عقد درست نہیں رہتا بھئی۔ یہاں کتنا، پہلا عقد کیا ہو جائے گا؟ فسخ، اور ثانی عقد گویا یہاں پایا گیا بھئی۔ پہلا عقد کون سا تھا؟ آپ نے جو دینار دیا، اور کتنے کے بدلے دیا؟ اور دس درہم وہی تھے یا مطلق تھے بھئی؟ مطلق، کوئی ذکر نہیں کیا کہ وہ والے ہیں یا کون سے ہیں، بس بس دس کے بدلے دے دیا۔ تو اب، اگر، یہ کون سا عقد ہو رہا ہے؟ عقدِ صرف، اور عقدِ صرف کے اندر آپ نے پڑھا ہے کہ عوضین پر اسی مجلس کے اندر قبضہ ضروری ہے۔ تو آپ کے دینار پر تو اس نے قبضہ کر لیا، لیکن کیا آپ نے اس کے دین دراہم پر ابھی قبضہ کیا ہے؟ ابھی قبضہ کیا نہیں اور آپ اس کو بدلنا چاہتے ہیں اپنے اوپر جو دس درہم ہیں، ان سے، تو یہ تو استبدال لازم آیا عوضِ صرف کے اندر بھئی، عوضِ صرف۔ عوضِ صرف میں آپ استبدال کر رہے ہیں، حالانکہ اس پر تو مجلس کے اندر ہی قبضہ، اور آپ نے قبضہ نہیں کیا اور اس میں تصرف کر رہے ہیں، یہ تو جائز نہیں ہے بھئی۔ تو لہذا فقہاء فرماتے ہیں کہ یہاں پر اگر یہ صورت اختیار کی جائے، ان دس کو ان دس کا عوض بنا دیا جائے، تو عقد میں، ثمن کے اندر بھئی تبدیلی لازم آ رہی ہے قبضے سے پہلے، اور یہ یہاں پر جائز نہیں، کیونکہ عقدِ صرف ہے۔ تو لہذا فقہاء فرماتے ہیں کہ وہ جو پہلا عقد ہوا تھا وہ من، وہ فسخ ہوا بھئی۔ وہ کیا ہوا؟ فسخ ہوا۔ اور پھر نیا عقد ہوا بھئی، اس دینار کو اس نے آپ سے خرید لیا کس کے بدلے؟ ان دس درہموں کے بدلے جو اس کے آپ کے ذمہ باقی تھے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو لہذا اب عقد صحیح ہوا۔ آپ کا تو قبضہ ہو ہی چکا ہے ان دس دراہموں پر پہلے سے اور یہ تو دینار پر بھی اس نے کیا کر لیا؟ قبضہ کر لیا تو عقد صحیح ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اگر ویسے بیع کرتے، براہِ راست یہ کہہ دیتے، یہ دینار دیا میں نے آپ کو اس دس کے درہم کے بدلے جو مجھ پر ہیں، تو پھر بھی عقد صحیح تھا۔ فقط بھی عقد کیا تھا؟ تو صورت اختلا، مسئلہ اس لیے ذکر کیا کہ پہلے کس کے بدلے کر رہے ہیں؟ مطلق کے بدلے کر رہے ہیں، اور پھر مقاصہ کر رہے ہیں، تو یہاں تو استبدال لازم آ رہا ہے، تو یہ عقد جائز ہوگا یا جائز نہیں؟ تو کہتے ہیں یہ جائز ہے، استبدال ہم بناتے ہی نہیں ہیں، بلکہ ہم کیا کہتے ہیں؟ کہ پہلا عقد فسخ اور نیا عقدِ جدید ہو گیا بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو کہتے ہیں وبع، بیچنا بھئی، ای صح بیع، صحیح ہے بیچنا، من اس شخص کا، علیہ عشرۃ دراھما، جس پر کتنا قرض تھا بھئی؟ دس درہم قرض۔ مثلاً آپ ہو، آپ پر دس درہم قرض تھا، تو آپ کا بیچنا، من من، با کا صلہ میں نے بتلایا تھا کیا آتا ہے؟ من، جس پر چیز بیچی جائے اس پر من داخل کرتے ہیں۔ تو بیچنا اس شخص کا، صحیح ہے، کون سا شخص؟ جس پر کتنا قرضہ تھا؟ جس پر دس درہم دین تھا، اور کس کے ہاتھ بیچنا؟ من من، اس شخص کے ہاتھ ہیا، یہ ضمیر راجع ہے عشرۃ دراھم کو۔ اور لہو کے ہاں ضمیر تو من ہی، اسی من کو راجع، کہ دس درہم اس کے ہیں بھئی۔ دس درہم۔ آپ نے کس کے دینے ہیں دس درہم؟ زید کے، تو پہلے من سے مراد ہوئے آپ۔ من علیہ عشرۃ دراھم جس پر کیا ہیں؟ دس درہم۔ اور دوسرا کس کے ہاتھ بیچا؟ من من اس شخص پر، ہیا لہو، کہ جس کے کیا ہیں؟ آپ پر دس درہم ہیں، وہ کون ہے بھئی؟ زید، تو زید کے ہاتھ بیچنا آپ کا صحیح ہے، کس چیز کو بیچنا؟ دیناراً، کس کو؟ ایک دینار کو، بہا، یہ ہا ضمیر بھی عشرہ دراہم کو راجع ہے۔ ایک دینار کو بیچنا، کس کے بدلے میں؟ بیچنا دس دراہموں کے بدلے، مطلقا۔ اس حال میں کہ یہ دس درہم کیا ہیں؟ مطلق ہیں، وہی دین والے دس درہم نہیں ذکر کرتے، بلکہ مطلق ذکر کرتے ہیں۔ یہ عقد صحیح ہے، ان دفع الدین، کب؟ اگر اس نے دینار حوالے کر دیا، دے دیا دینار، اسی مجلس میں، فصار لکل واحد منہما علی الآخر عشرۃ دراہم، پس ہو گئے دونوں میں سے ہر ایک کے دوسرے پر دس درہم، فتغاسل العشرۃ بالعشرۃ، تو مقاصہ کر لیا انہوں نے دس کا دس کے بدلے۔ جی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ فیکون ھذا التغاس فسخا للبائع الأول، تو یہ مقاصہ جو ہے، یہ فسخ ہوا کس کے لیے؟ بیعِ اول کے لیے۔ بیعِ اول کون سی تھی؟ وہو بیع الدینار بالعشرۃ المطلقۃ، وہ ایک دینار دس مطلق دراہم کے بدلے جو بیع تھی، وہ ہے بھئی۔ وبعًا، اس کا عطف ہے بھئی، وہ فسخاً پر جو پیچھے گزرا، پچھلی سطر میں، تو یہ مقاصہ فسخ ہوا بیعِ اول کے لیے اور یہ مقاصہ بیع ہوا، کیا ہوا؟ (یعنی بیعِ جدید ہوا)۔ للڈینار بالعشرۃ التي علی عمرو، ایک دینار کی کس کے بدلے؟ ان دس درہموں کے بدلے، الذی علی عمرو، جو کس پر تھے؟ عمرو پر تھے۔ إذ لو لم یحمل علی هذا، اگر اس صورت پر اس کو محمول نہ کیا جائے، لکان استبدالاً ببدلِ الصرف تو بدلِ صرف میں استبدال لازم آتا ہے، یعنی عوضِ صرف میں کیا لازم آتا ہے؟ استبدال۔ اور عوضِ صرف میں تو استبدال جائز نہیں، اس پر تو مجلس ہی میں قبضہ ضروری ہے۔ تو اس صورت میں استبدال لازم آتا ہے بدلِ صرف کے اندر، ولا یجوز هذا إذا باع الدینار بالعشرۃ المطلقۃ، اور یہ پھر جائز نہیں ہوگا، اگر بیچا ہو دینار کو دس مطلق کے بدلے۔ کس وجہ سے جائز نہیں ہوگا؟ کیونکہ کیا لازم آتا ہے؟ استبدال۔ أما إذا باعہ بالعشرۃ التي لہ علی عمرو، صح، باقي اگر اس نے بیچا اس کو ان دس کے بدلے، جو اس کے کس پر تھے؟ امر پر تھے، اس پر بیچتا ہے تو صح بھئی، تو عقد صحیح رہتا ہے، ویقع المقاصد بنفس العقد، اور نفسِ عقد سے ہی کیا واقع ہو جائے گا؟ مقاصد ہو جائے گا بھئی، مقاصد۔ فإن غلب علی الدرہم الفضۃ وعلى الدینار الذھب فھما فضۃ وذھب حکمًا۔ جی یہاں سے آپ کو یہ مسئلہ آ رہے ہیں۔ کہ بھئی، یہ جو درہم و دینار ہیں، ان میں عموماً کھوٹ ملا ہوتا ہے، کیونکہ چاندی کی صورت کوئی دینی ہے، آپ نے اس سے کوئی چیز بنانی ہے، تو وہ اچھی طرح ٹھہرتی نہیں، جمتی نہیں اس صورت میں، تو کچھ کھوٹ ملایا جاتا ہے، تو ذرا مضبوط بنتی ہے بھئی۔ اسی طرح سونے سے بھی کوئی چیز بناتے ہیں، عموماً اس میں کیا کرتے ہیں پھر؟ دینار وغیرہ بناتے ہیں، تو کچھ کھوٹ ملاتے ہیں، تاکہ وہ مضبوط رہے، اس کی جو صورت بنائیں بھئی۔ کہ تو کہتے ہیں یہ جو کھوٹ ہے، اگر یہ دِنہم سے، چاندی سے کم ہو درہم میں، تو کھوٹ بھی ہوا درہم کے اندر اور چاندی بھی ہوئی۔ اگر چاندی غالب ہے، تو یہ سارا درہم کس کے حکم میں ہے؟ چاندی کے حکم میں ہے۔ اور اگر کھوٹ غالب ہے، تو پھر یہ سامان کے حکم میں ہے۔ کس کے حکم میں ہے؟ سامان۔ اس سامان کے حکم میں ہے جس کے ساتھ چاندی بھی ہو۔ اور اسی طرح درہم، دینار ہے، اس میں اگر کھوٹ کم ہے، سونا غالب ہے، تو یہ سارا کس کے حکم میں؟ سونے کے حکم میں۔ اور اگر کھوٹ غالب ہے، تو پھر ایک اس سامان کے حکم میں، جو جس کے جس کے ساتھ کیا ہو؟ سونا ہو بھئی، جس کے ساتھ سونا ہو۔ تو چاندی میں، اور درہم کے اندر، درہم کے اندر اگر چاندی غالب، تو وہ سارا چاندی کے حکم میں، اور دینار میں اگر سونا غالب، تو سارا سونے کے حکم میں۔ لھذا، اب ان کی آپس میں جب بیع کرو، تو پھر وزن میں برابری شرط ہے۔ مثلاً آپ کے پاس بھی ایسے دراہم ہیں جن میں کھوٹ ملا ہوا ہے، لیکن اس کے اندر چاندی کیا ہے؟ غالب ہے۔ چاندی کیا ہے؟ غالب۔ تو یہ سارا کس کے حکم میں؟ چاندی۔ دوسرے کے پاس بھی، اب ایسے دراہم ہیں جن کے اندر کیا ملا ہوا ہے؟ کھوٹ، تو وہاں پر بھی چاندی غالب، تو وہ سارا کس کے حکم میں؟ چاندی۔ لہذا اب وزن کے اندر برابری ضروری ہے، جب بھی بیع کریں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور اسی طرح، خالص چاندی کے بدلے بھی ان کی بیع کریں، تو پھر بھی وزن میں برابری ضروری۔ مثلاً آپ کے پاس کس قسم کا درہم ہے؟ جس میں کیا ملا ہوا ہے؟ کھوٹ۔ اور دوسری طرف سے کیا لینا چاہتے ہیں؟ خالص چاندی۔ تو بھی برابری ضروری، اس لیے کہ یہ کھوٹ ملا ہوا درہم سارا کا سارا کس کے حکم میں ہے؟ چاندی کے حکم میں، تو وہ اب عقدِ صرف کے اندر برابری ضروری۔ تو چاہے درہمِ مغشوش کی بیع، درہمِ مغشوش کے بدلے ہو، چاہے درہمِ مغشوش کی بیع چاندی کے بدلے میں ہو، دونوں صورتوں میں وزن کے اندر مساوات ضروری ہے بھئی۔ فإن غلب علی الدرہم الفضۃ، تو اگر غالب ہو درہم پر چاندی، و علی الدینار الذھب، اور دینار پر سونا غالب ہو بھئی، دینار پر سونا غالب ہو، فھما فضۃ و ذھب حکمًا، تو وہ دونوں چاندی اور سونے کے حکم ہیں حکم کے اعتبار سے، فلم یجوز بیع الخالصۃ بہ، تو جائز نہیں ہے بھئی خالص چاندی کی بیع، بہ ایدی بالدرہم اس درہم کے بدلے جس میں کیا ہے بھئی؟ کھوٹ ہے۔ اس کے بدلے جائز نہیں، آگے آئے گا، إلا متساویاً وزناً، مگر یہ کہ وزن کے اعتبار سے دونوں کیا ہوں؟ برابر۔ تو دیکھو، ایک طرف ہے خالص چاندی، اور دوسری طرف کون سا درہم ہے؟ کھوٹ ملا ہوا بھئی۔ ولا بیع بعضہ ببعض، اور نہ بعض کی بعض کے بدلے بیع، یعنی دونوں طرف کس قسم کے درہم ہیں؟ درہمِ مغشوش ہیں۔ تو اس صورت میں بھی بیع جائز نہیں، إلا متساویاں وزناً، مگر یہ کہ وزن میں دونوں کیا ہوں؟ برابر۔ وإن غلب علیھما الغش، اور اگر ان دونوں پر کھوٹ غالب ہو، فھما فی حکم العرضین، تو یہ دونوں کس کے حکم میں ہیں؟ سامان کے حکم میں ہیں، جس کے ساتھ سونا یا چاندی ہو۔ جس کی مثال پہلے گزر چکی ہے بھئی۔ وہ باندی کو بیچا تھا، جس کے گلے میں کیا تھا بھئی؟ ہار تھا چاندی کا، یا ایسی تلوار بیچی جس کے ساتھ کیا لگا ہوا ہے؟ زیور لگا ہوا ہے، سونا یا چاندی ساتھ لگی ہوئی ہے بھئی۔ تو وہاں پر بھئی، تو وہ کس کے ساتھ اس کی مشابہت ہے؟ اس تلوار کے ساتھ ہے، جس سے چاندی علیحدہ نہیں ہوتی تھی بغیر نقصان کے بھئی، بغیر نقصان کے۔ ہاں، تو یہاں بھی اب آپ کر سکتے ہیں علیحدہ اس سے کھوٹ ملے ہوئے درہم میں سے چاندی کو؟ نہیں، چاندی کو علیحدہ نہیں کر سکتے بھئی، ضرر، تکلیف کے ساتھ ہو سکتا ہے، آسانی سے نہیں ہو سکتا۔ تو یہ دونوں سامان کے حکم میں ہیں، فبیعہ بالفضۃ الخالصۃ علی وجوہ حلیۃ السیف، تو اس کا بیچنا خالص چاندی کے بدلے میں، علا وجوہ حلیۃ السیف، تلوار کے زیور کے طریقوں پر ہوگا بھئی، اس کے ساتھ جیسے تھا۔ وہاں آپ نے کیا پڑھا تھا؟ کہ بھئی، وہاں ضروری تھا، آپ ایک تلوار بیچنا چاہتے ہیں، اور اس کے ساتھ پچاس درہم وزن کی چاندی لگی ہوئی ہے، تو بدلے کے اندر کتنا چاندی، کتنے درہم کم از کم آئیں؟ کم از کم پچاس سے زیادہ ہوں بھئی، پچاس سے برابر یا پچاس سے کم نہ ہوں بھئی، زیادہ ہونے۔ تو یہاں بھی، اگر آپ کس کو بیچنا چاہتے ہیں؟ ایک درہمِ مغشوش ہے اور اس میں کھوٹ غالب ہے، چاندی تھوڑی سی ہے، کھوٹ پیتل زیادہ ہے، آپ اس کو کس کے بدلے بیچنا چاہتے ہیں؟ خالص چاندی کے بدلے تو خالص چاندی اس درہم مغشوش کے اندر موجود چاندی سے زیادہ ہونی چاہے۔ کیا ہونی چاہیے؟ تاکہ کچھ چاندی اس درہم کی چاندی کے برابر ہو جائے گا وہ اس کے بدلے میں اور جو زائد ہے وہ کس کے بدلے میں ہو جائے گا؟ اس کھوٹ کے بدلے میں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ وإن كانت الفضة الخالصة مثل الفضة التي في الدراهم أو أقل أو لا يدرى لا يصح، یعنی اگر وہ خالص چاندی اس چاندی کے مثل ہوئی التي في الدراهم جو کس میں ہے؟ یعنی دراہم میں جتنی چاندی ہے، خالص چاندی بالکل اس کے برابر ہے، تو پھر تو بھئی کیا ہوا؟ چاندی تو چاندی کے بدلے بن گئی اور وہ جو کھوٹ ہے، پیتل ہے اس کا تو کوئی عوض ہی نہیں، تو ربا لازم آئے گا۔ لہٰذا برابر بھی، وہ چاندی اس چاندی کے برابر ہو، أو أقل یا اس سے کم ہو، أو لا يدرى یا علم ہی نہ ہو، تو لا يصح تو یہ صحیح نہیں بیع۔ وإن كانت أكثر اور اگر وہ خالص چاندی ہے، وہ زیادہ ہو اس درہم کی چاندی سے، يصح تو عقد صحیح ہے، إن لم يفترقا بلا قبض اگر دونوں عقد کرنے والے بغیر قبضے کے جدا نہ ہوں، کیونکہ عقدِ صرف ہے بھئی، قبضہ کرنا تو ضروری ہے، تو قبضے کے بغیر جدا نہ ہوں تو صحیح، اگر قبضے کیے بغیر ہی کیا ہو جائیں؟ جدا ہو جائیں تو پھر عقد صحیح نہیں۔ وبجنسه اور اسی کی جنس کے بدلے بھی متفاضلاً زیادتی کے ساتھ صح، عقد کیا ہے؟ صحیح ہے۔ بھئی ایک درہم مغشوش ہے اس کے اندر کھوٹ غالب ہے اس کے اندر کیا ہے؟ تو یہ کس کے حکم میں ہے؟ سامان کے حکم میں۔ آپ دوسرے کے پاس بھی اسی قسم کا درہم مغشوش ہے جس کے اندر کیا غالب ہے؟ کھوٹ غالب ہے۔ تو اب زیادتی کے ساتھ عقد درست ہے، کیونکہ یہ کس کے حکم میں ہے؟ سمجھ میں آیا؟ بھئی زیادتی کے ساتھ آپ کے ذہن میں فوراً اشکال آئے گا، زیادتی کے ساتھ کیسے جائز؟ میں آپ کو ایک درہم مغشوش دیتا ہوں اور آپ سے پانچ درہم مغشوش لے لیتا ہوں، کس قسم کے درہم مغشوش ہیں؟ جس میں کھوٹ کیا ہے؟ غالب ہے۔ تو بھئی لازمی بات ہے میرے ایک درہم میں، اس میں چاندی کم ہے، آپ کے پانچ درہم ہیں تو ان میں چاندی ملا کر اس چاندی سے بڑھ جائے گی یا نہیں بڑھ جائے گی؟ بڑھ جائے گی، تو عقد کو تو جائز نہیں، نہیں بھئی، چاندی بھی ہے اور پیتل بھی ہے دونوں طرف، تو جنس کو کس کی طرف پھیر دیں گے؟ خلافِ جنس کی طرف۔ اور وبجنسه اور اسی جنس کے بدلے بھی بیع جائز ہے متفاضلاً زیادتی کے ساتھ صح تو یہ بھی صحیح ہے، بشرط القبض في المجلس، مجلس کے اندر قبضے کی شرط، کیونکہ چاندی تو ہے دونوں طرف چاہے تھوڑی ہے، تو لہٰذا قبضہ شرط ہے بھئی۔ وإنما يصح صرفاً للجنس إلى خلاف الجنس اور یہ عقد صحیح ہے بھئی پھیرتے ہوئے جنس کو خلافِ جنس کی طرف، لأنه في حكم شيئين فضة وصفر، صفر کہتے ہیں پیتل کو، اس لیے کہ یہ دونوں دو چیزوں کے حکم میں ہیں، چاندی اور پیتل کے حکم میں۔ فإذا شرط القبض في الفضة جب شرط لگائی جائے گی قبضے کی، قبضے کی جب شرط لگائی جائے گی چاندی کے اندر، تو يشترط في الصفر تو صفر کے اندر بھی کون سی شرط آ جائے گی؟ قبضے کی شرط آ جائے گی، وہ بھی لگائی جائے گی، لعدم التمييز کیونکہ ان دونوں میں تمیز نہیں ہو سکتی، جدا نہیں ہو سکتی۔ وإن اشترى سلعة بالدراهم المغشوشة أو بالفلوص النافقة صح، فإن كسدت بطلت. صورتِ مسئلہ یہ ہے، آپ کے پاس دراہمِ مغشوشہ ہیں یا آپ کے پاس فلوس ہیں نافقہ، رائج، نافقہ کسے کہتے ہیں؟ رائج، جن کا رواج ہو، جو چلتے ہوں وہ سکے ہیں۔ تو ان پیسوں کے بدلے یا ان دراہمِ مغشوشہ کے بدلے آپ کوئی چیز خریدتے ہیں تو عقد صحیح ہے، عقد کیا ہے؟ کیونکہ اصطلاح میں ان کو بھی کیا شمار کیا جاتا ہے؟ ثمن شمار، مال شمار ہوتے ہیں۔ لیکن آپ نے ابھی ادائیگی نہیں کی تھی کہ ان کا رواج ختم ہو گیا۔ آپ نے ایک شخص سے کیا لیا؟ کپڑا لیا اور اس کو آپ 100 فلوس دیں گے، لیکن فلوس آپ نے دینے ہیں مہینے کے بعد بھئی مثلاً، ابھی دو تین دن گزرے تھے کہ وہ پیسے حکومت نے ختم کر دیے، بند کر دیے بھئی، ان کا رواج ہی نہ رہا، چلنے، چلتے ہی نہیں، تو کہتے ہیں بیع باطل ہو جائے گی، یعنی فاسد ہو جائے گی۔ بیع کیا ہو جائے گی؟ اس لیے کہ مبیع بغیر ثمن کے ہوا، عقد بغیر ثمن کے رہ گیا، حالانکہ ثمن کا ہونا تو ضروری ہے۔ وإن اشترى سلعة بالدراهم المغشوشة أو بالفلوص النافقة صح اور اگر خریدا کسی سامان کو دراہمِ مغشوشہ کے بدلے یا فلوسِ رائجہ کے بدلے، صح تو عقد تو یہ صحیح ہے بھئی، فإن كسدت اگر رواج، اگر وہ کاسد ہو گئے یعنی ان کا رواج نہ رہا، کسد کا، کساد کا کیا معنی؟ رواج نہ رہنا۔ فإن كسدت اگر ان کا رواج نہ رہا، بطلت تو عقد کیا ہو جائے گا؟ باطل، یعنی فاسد ہو جائے گا۔ أي کسدت قبل تسليمها، کیا مطلب عقد باطل ہو جائے گا؟ یعنی ان کا رواج نہ رہا قبل تسليمها سپرد کرنے سے پہلے، بھئی سپرد کر دیے اس کے بعد رواج رہے یا رواج نہ رہے اس سے تو بحث ہی نہیں ہے، ادائیگی سے پہلے، اب ان کا رواج ہی نہیں رہا تو وہ آپ سے کیا لے گا بھئی؟ وہ پیسے تو آپ سے کبھی بھی نہیں لے گا بھئی، وہ تو ردی ہو گئے۔ تو بطلت عند أبي حنيفة رحمة الله، تو اگر وہ ان کا رواج نہ رہا سپرد کرنے سے پہلے تو عقد باطل ہو جائے گا، یعنی فاسد ہو جائے گا امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، وعندهما لا يبطل جبکہ صاحبین فرماتے ہیں باطل نہیں ہو گا۔ فعند أبي يوسف رحمة الله يجب قيمتها يوم البيع. صاحبین فرماتے ہیں نہیں بھئی، اس کی قیمت دینی پڑے گی۔ جتنی ان فلوس کی قیمت بنتی تھی وہ دے دے یا جتنی ان دراہمِ مغشوشہ کی قیمت بنتی تھی وہ دے دے، کیونکہ اب ان کا تو رواج رہا نہیں، یہ تو اب چلتے ہی نہیں، کوئی لیتا ہی نہیں، تو ان کی قیمت دے دے۔ آپ نے پڑھا بھئی کہ اگر کسی نے دراہمِ مغشوشہ یا فلوسِ رائجہ کے ذریعے کسی سے کوئی چیز، کوئی سامان خریدا تو یہ عقد صحیح ہے، فإن كسدت بطلت لیکن اگر ادائیگی کرنے سے پہلے ان کا رواج نہ رہا، ردی ہو گئے، ختم ہو گئے تو اس صورت کے اندر امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک عقد فاسد ہو جائے گا، جبکہ صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک اس کی قیمت دینی پڑے گی۔ کیا دینی پڑے گی؟ قیمت۔ یعنی وہ دراہمِ مغشوشہ جو ردی ہو گئے یا وہ فلوس جو ردی ہو گئے، جن کا رواج نہ رہا، ان کے کیا دینے پڑیں گے؟ ان کی قیمت دینی پڑے گی بھئی۔ پھر صاحبین میں اختلاف ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں عقد کے دن جو ان کی قیمت تھی وہ دینی پڑے گی اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس دن لوگوں نے اس سے معاملہ کرنا ترک کر دیا، یعنی آخری دن جس، آخری وہ دن جس میں اس پر معاملہ کیا جاتا تھا وہ قیمت دینی پڑے گی ان دراہمِ مغشوشہ یا فلوسِ رائجہ کی بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب امام صاحب کے نزدیک اگر ادا کرنے سے پہلے کیا ہوئے؟ ان کا رواج نہ رہا، ردی ہو گئے تو عقد ہی کیا ہو جائے گا؟ باطل، یعنی فاسد ہو جائے گا۔ کیوں؟ وہ فرماتے ہیں کہ یہ دراہمِ مغشوشہ اور فلوسِ نافقہ جو ہیں، یہ دراصل یہ تو ثمن ہیں ہی نہیں، یہ دراصل ثمن ہیں ہی نہیں بھئی، بلکہ ان کے اندر جو ثمنیت آئی ہے وہ اصطلاح کی وجہ سے آئی ہے، لوگ، تاجر وغیرہ اس کو کیا بنو، انہوں نے کیا قرار دیا ہے؟ ثمن قرار دیا ہے، تو اپنی اصطلاح میں انہوں نے اس کو ثمن قرار دیا، اگرچہ اس کے اندر ثمنیت ہے نہیں، تو جب ان کے ساتھ عقد کیا تو ان میں ثمنیت تھی بھئی، عقد ٹھیک ہوا، لیکن ابھی ادائیگی نہیں کی تھی کہ ان کی ثمنیت ختم ہو گئی، جب ثمنیت ختم ہوئی تو عقد بغیر ثمن کے رہ گیا۔ عقد کیا ہوا بغیر ثمن کے، اور عقد بغیر ثمن کے ہو تو آپ نے پڑھا ہے وہ کیا ہو گا؟ فاسد ہو گا بھئی، عقد کیا ہو جائے گا؟ فاسد، لہٰذا یہ اگر ادائیگی سے پہلے ردی ہو گئے تو پھر عقد ہی فاسد ہو جائے گا۔ جو صاحبین فرماتے ہیں نہیں عقد نہیں فاسد ہو گا، بلکہ اب ان کی وجہ سے ادائیگی متعذر ہوئی تو ان کی قیمت دینی پڑے گی، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کون سی قیمت دینی پڑے گی؟ عقد والے دن کی، کہتے ہیں اس لیے کہ اس شخص پر، مشتری پر کیا واجب ہوئے تھے؟ یہ ثمن، یہ دراہمِ مغشوشہ یا فلوس کس کی وجہ سے واجب ہوئے ہیں؟ عقد کی وجہ سے، اس نے عقد کیا تو اس پر یہ فلوس یا دراہمِ مغشوشہ کیا ہو گئے؟ واجب ہو گئے۔ تو یہ جو فلوس کا یا یہ جو دراہمِ مغشوشہ کا ضمان اس پر آیا، یہ عقد کی وجہ سے آیا، تو لہٰذا ان کی وہی قیمت معتبر ہو گی جو اس عقد والے دن تھی ان کی بھئی۔ سمجھ میں آئی دلیل بھئی؟ تو اس کا ضمان عقد کی وجہ سے آیا ہے تو قیمت بھی اسی کا اعتبار کیا جائے گا جو کس دن تھی؟ عقد، اس وقت ان کی مالیت تھی بھئی، اس کا اعتبار کیا جائے گا بھئی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ آخری دن جس دن لوگوں نے اس سے معاملہ کیا بھئی، وہ والی قیمت آئے گی بھئی، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اس سے پہلے پہلے تو لوگ اس پر معاملہ کر رہے تھے اور یہ ثمن کے طور پر اس پر واجب تھے مشتری پر، لیکن پھر ثمن ان فلوس سے یا یہ دراہمِ مغشوشہ سے انتقال کیا ہم نے کس کی طرف؟ قیمت کی طرف۔ بھئی اب تو ان کا رواج نہیں رہا تو اب انتقال کس کی طرف کیا ہم نے؟ قیمت، اب قیمت دینی پڑے گی، اور یہ انتقال کس دن کیا ہم نے؟ یہ قیمت کی طرف انتقال اس دن ہو گا جس دن ان کی مالیت ختم ہو گی، جب مالیت ختم ہو گی تو انتقال کس کی طرف ہو جائے گا؟ اب قیمت دینی پڑے گی ان کی، تو جس دن انتقال ہوا وہ والی قیمت معتبر ہے بھئی، کیونکہ اس دن انتقال ہوا ہے کس کی طرف؟ قیمت کی طرف۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ فعند أبي يوسف رحمة الله يجب قيمتها يوم البيع واجب ہو گی اس ان کی قیمت بیع والے دن کی، وعند محمد رحمة الله آخر ما يتعامل به الناس، آخری وہ قیمت جس پر لوگ آپس میں تعامل کرتے، معاملات کرتے تھے، آخری دن کی قیمت دی جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ ولو استقرض فلوساً فكسدت يجب مثلها، اگر کسی نے کیا کیا بھئی؟ کسی سے فلوس قرض لیے، 20 فلوس آپ نے اپنے ساتھی سے قرض لے لیے، اور ابھی واپس نہیں کیے تھے کہ ان کا رواج ختم ہو گیا، اب وہ چلتے ہی نہیں۔ اب کیا کریں؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہی دینے پڑیں گے، چلیں یا نہ چلیں بھئی، یہ وہی دینے پڑیں گے بھئی۔ وہی دینے پڑیں گے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں ان کی قیمت دینی پڑے گی۔ اور قیمت میں پھر وہی اختلاف، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کس دن والی قیمت دینی پڑے گی؟ جس دن اس نے لیے تھے، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کس دن والی قیمت دینی پڑے گی؟ جس دن ان کا رواج ختم ہوا۔ کیوں؟ دلیل کیا ہے؟ وہ فرماتے ہیں بھئی یہ قرض جو ہے یہ العاریۃ ہے، یہ قرض کیا ہے؟ العاریۃ ہے، یعنی ایک چیز جیسے مانگنے کے لیے، استعمال کے لیے مانگی جاتی ہے برتن وغیرہ، اور پھر وہی واپس کیا جاتا ہے تو قرض بھی العاریۃ ہے، یہاں جو چیز لی تھی وہی چیز کیا کریں گے؟ واپس کریں گے، ان میں جو ثمنیت تھی وہ تو ایک زائد چیز تھی بھئی، وہ ختم ہو گئی تو کوئی حرج نہیں، جو چیز لی تھی اسی طرح واپس کر دیں، وہی کاسد فلوس واپس کر دیں۔ جبکہ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی قیمت دینی پڑے گی بھئی اب واپس بھئی، اور قیمت کون سی؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں قبضے والے دن کی قیمت دینی پڑے گی، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ آخری دن جس دن اس پر لوگ معاملہ کرتے تھے اور پھر ترک کیا وہ قیمت دینی پڑے گی بھئی۔ ولو استقرض فلوساً اگر کسی نے قرض لیے فلوس، فكسدت پھر ان کا رواج نہ رہا، يجب مثلها تو انہی کے مثل ہوں گے اس پر واجب، یعنی وہی دینے پڑیں گے بھئی، کیونکہ بطورِ العاریۃ کے لیے تھے وہی دیں گے۔ هذا عند أبي حنيفة رحمة الله، یہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے، وعند أبي يوسف رحمة الله يجب قيمتها يوم القبض کہ اس کی قیمت واجب ہو گی قبضے والے دن کی، وعند محمد رحمة الله يوم الكساد کس دن؟ ان کے رواج نہ رہنے کے دن کی قیمت ہو گی، كما مر جیسے کہ گزر گئی بات بھئی، تحقیق۔ ومن اشترى شيئاً بنصف درهم فلوساً أو دانق فلوساً، صورتِ مسئلہ یہ ہے بھئی، ایک شخص نے دوسرے سے، آپ نے ایک شخص سے کپڑا خریدا اور کس کے بدلے؟ فلوس کے بدلے، کس کے بدلے؟ فلوس، پیسوں کے بدلے، لیکن آپ نے پیسے نہیں ذکر کیے کہ میں اتنے 20 دوں گا، 30 دوں گا، 40، بلکہ آپ نے پیسوں کو یوں ذکر کیا کہ نصف درہم کے جتنے فلوس بنتے ہیں وہ میں آپ کو اس کے بدلے دے دوں گا۔ تو کیا یہ عقد صحیح ہے یا عقد صحیح نہیں؟ کہتے ہیں یہ عقد صحیح ہے، یہ عقد کیا ہے؟ صحیح ہے۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عقد صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ فلوس کو کس طرح ان کی بیع کی جاتی ہے فلوس کی؟ گن کر کی جاتی ہے، تو لہٰذا جب آپ کپڑا وغیرہ خرید رہے ہیں تو آپ کو کیا بتلانا چاہیے تھا؟ 20 فلوس میں خرید رہا ہوں یا 30 میں یا 40 میں، عدد ذکر کرنا چاہیے تھا، لیکن آپ عدد ذکر نہیں کرتے بلکہ کیا ذکر کرتے ہیں؟ کس طریقے پر؟ نصف درہم کے بدل کے جو فلوس ہیں وہ میں آپ کو دے دوں گا، یا ایک قیراط کے جتنے فلوس بنتے ہیں وہ میں آپ کو، یا ایک دانق کے جتنے فلوس بنتے ہیں وہ میں آپ کو دے دوں گا بھئی۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ درست نہیں، باقی ائمہ کیا فرماتے ہیں ہمارے؟ یہ عقد درست ہے بھئی، اور اس پر نصف درہم کے بدلے جتنے فلوس آتے ہیں وہ واجب ہو جائیں گے۔ مثلاً نصف درہم کے بدلے 10 فلوس آتے تھے تو آپ پر کتنے واجب ہو گئے؟ 10 فلوس۔ صورت سمجھ میں آئی؟ امام زفر فرماتے ہیں یہ جائز نہیں، کیوں نہیں جائز؟ کہتے ہیں بھئی دیکھو، فلوس کے معاملات عدد سے کیے جاتے ہیں اور آپ یہاں اس کو بیان کر رہے ہیں نصف درہم کے ساتھ، کتنے فلوس دوں گا جتنے کس کے برابر ہوں؟ نصف درہم کے، تو یہ تو نصف درہم تو وزن کا نام ہے، تو آپ نے ان کو وزن کے ساتھ بتلایا، حالانکہ ان کو وزن کے ساتھ نہیں بیان کیا جاتا، کس کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے؟ عدد کے ساتھ، اور عدد تو آپ نے بیان نہیں کیا، لہٰذا عقد درست نہیں بھئی۔ ہم کہتے ہیں بھئی عدد بیان نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، نصف درہم کے بدلے کتنے فلوس آتے ہیں؟ سب تاجروں کو پتہ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا پتہ بھئی؟ سب کو پتہ ہوتا ہے، وہ معلوم ہے ثمن، لہٰذا کوئی حرج نہیں بھئی، تعداد کا پتہ چل گیا۔ ومن اشترى شيئاً بنصف درهم فلوساً اور اگر کسی نے کوئی چیز خریدی نصف درہم فلوس کے بدلے میں، أو دانق فلوساً یا کتنے کے بدلے میں؟ ایک دانق فلوس، دانق بھی وزن ہے مولانا، وزن۔ یہ آپ کے حاشیے میں دیا ہوا ہے، دو کتابوں کا حوالہ ہے بھئی، ایک دانق کہتے ہیں دو قیراط کے برابر ہے۔ کتنے کے برابر؟ اچھا، درہم میں کتنے قیراط بتلائے تھے میں نے آپ کو؟ 14 قیراط، ایک درہم میں 14 قیراط، اور ایک دانق کتنے قیراط کے برابر؟ دو قیراط، معلوم ہوا یہ درہم کا کتواں حصہ ہے؟ ساتواں حصہ، ساتواں حصہ۔ اور کہتے ہیں الصحاح کے اندر لکھا ہے کہ دانق درہم کا چھٹا حصہ ہے۔ ایک کتاب کے اعتبار سے دانق دو قیراط کا ہے تو وہ درہم کا کتواں حصہ بنتا ہے؟ ساتواں، اور دوسری الصحاح کے اعتبار سے درہم کتواں حصہ، دانق کتواں حصہ ہے؟ چھٹا، معلوم ہوا یہ دو قیراط سے زائد ہے، دو قیراط سے زائد ہے۔ اچھا، اور یہ قیراط یاد رکھنا، پانچ جو کے دانے جو ہیں وہ ایک قیراط ہوتے ہیں۔ پانچ جو کے دانے ایک قیراط ہوتے ہیں۔ اور جس نے کسی چیز کو خریدا نصف درہم فلوس کے بدلے، أو دانق فلوساً یا ایک دانق فلوس کے بدلے، أو قيراط فلوساً یا ایک قیراط فلوس کے بدلے، صح تو یہ عقد صحیح ہے، وعليه ما یباع بنصف درہم بنصف درہم او دانق أو قراط منھا۔ اور اس پر واجب ہو گئے ما وہ فلوس۔ بے ما سے کیا مراد ہے؟ وہ فلوس یباع کہ جن کو بیچا جاتا ہے کس کے بدلے بھئی؟ نصف درہم کے بدلے یا دانق کے بدلے یا قراط کے بدلے منھا۔ ہا ضمیر فلوس کو راجع ہے۔ کس میں سے؟ فلوس میں سے۔ فلوس میں سے اتنے اس شخص پر واجب ہو جائیں گے۔ اشترا شیئا بنصف درہم ایک شخص نے ایک چیز خریدی نصف درہم کے بدلے او دانق یا دانق کے بدلے او قراط یا قراط کے بدلے علی ان یعطی عوض ذالک الثمن فلوسا صحا۔ اس شرط پر کہ اس کے عوض وہ کیا دے گا؟ اس ثمن کے عوض کیا دے گا؟ فلوس دے گا۔ خریدی تو نصف درہم کے بدلے لیکن شرط یہ لگائی نصف درہم نہیں دوں گا بلکہ فلوس دوں گا۔ صحا عقد صحیح ہے۔ وعلی المشتری من فلوس ما یعطا فی مقابلۃ ذالک الثمن۔ اور مشتری پر وہ فلوس فلوس میں سے اتنے واجب ہوں گے جو دیے جاتے ہیں اس ثمن کے مقابلے میں۔ والقراط عند الحساب نصف عشر المثقال۔ اور قراط جو ہے حساب کرنے والوں کے نزدیک نصف عشر ہے مثقال کا۔ نصف عشر ہے مثقال کا۔ بھئی مثقال کس وزن کا نام ہے بھئی؟ دینار کا۔ کس کا نام ہے؟ دینار اور ایک دینار کتنے کے برابر ہوتا ہے قراط میں؟ ساڑھے چار ماشے میں تو ہے ساڑھے چار ماشے۔ اور قراط میں؟ بیس قراط۔ کتنا؟ بیس قراط۔ تو مثقال بیس قراط کے برابر۔ یہی بات اب صاحب کتاب بھی اپ کو بتلانا چاہتے ہیں کہ ایک مثقال کتنے کے برابر ہوتا ہے؟ بیس قراط کے تو کہتے تو یہ کتوا حصہ ہوا؟ قراط کتوا حصہ ہوا دینار کا؟ بیسواں نا بھئی ایک دینار میں کتنے قراط؟ بیس تو معلوم ہوا ایک قراط اس کا کتوا حصہ ہے؟ بیسواں تو بیسواں تو عشر کتوا ہوتا ہے؟ دسواں اور اس دسویں کا بھی ادھا کر دیں تو وہ کیا بن گیا؟ نصف عشر کیا بن گیا؟ نصف عشر۔ یہ بیسواں حصہ ہی ہے۔ دیکھو بھئی آپ کے پاس بیس روپے ہیں۔ بیس کا دسواں حصہ نکالو۔ کتنے؟ دو روپے کتنے؟ دو روپے یہ دسواں حصہ ہے، دسواں حصہ ہے۔ یعنی بیس کے دس حصے کرو تو ہر ایک حصہ کتنے کے برابر ہے؟ دو روپے۔ اب اس دسویں حصے کا نصف کرو۔ کتنا نکل آیا؟ ایک روپیہ۔ کتنا نکل آیا؟ ایک روپیہ۔ یہ کتوا حصہ ہے؟ بیسواں ہے بیس روپے کا بیسواں حصہ ہے۔ صورت سمجھ میں آئی یا مشکل ہو گئی بھئی؟ بیس سے اوپر میں نے نہیں لے کر گیا اسی لیے حساب بھئی۔ چلو پھر کرو بھئی دیکھو۔ سوو سوو کا دسواں حصہ نکالو ذرا کتنا ہے؟ دس۔ اس دس کو ذرا نصف کرو۔ پانچ۔ یہ ہوا نصف عشر۔ یہ کیا ہے؟ نصف عشر۔ اور یہ سو کا کتوا حصہ بن رہا ہے؟ بیسواں بن رہا ہے یا نہیں؟ معلوم ہوا نصف عشر یہ کتوا حصہ ہوتا ہے؟ بیسواں حصہ ہوتا ہے۔ تو لہذا ایک قراط مثقال کا نصف عشر ہوتا ہے۔ ایک قراط کیا ہوتا ہے؟ نصف عشر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات کر رہے ہیں والقراط عند الحساب القراط حساب دانوں کے نزدیک جو ہے نصف عشر المثقال مثقال کا نصف عشر ہوتا ہے یعنی بیسواں حصہ ہوتا ہے یعنی بیس قراطوں تو ایک مثقال بنے گا۔ وعند زفر رحمہ اللہ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک لا یجوز ھذا البیع یہ بیع جائز نہیں۔ لان الفلوس عددیۃ اس لیے کہ فلوس تو عددی ہیں ان کو تو شمار کیا جاتا ہے وتقدیریہ بالدانق ونحوہ یمبیع عن الوزن اور اس کی مقرر کرنا کس کے ساتھ بھئی؟ اس کو مقرر کرنا دانق وغیرہ کے ساتھ یہ خبر دیتا ہے وزن کی یہ کس کی خبر دیتا ہے؟ وزن کی تو فلوس کو تو عدد سے بیان کرنا چاہیے تھا دس فلوس کے بدلے لے رہے ہو پندرہ کے بدلے یا بیس کے بدلے یہ وزن کے ساتھ کیوں بیان کر رہے ہو؟ وزن کے ساتھ تو ان کو پتا ان کو وزن کے ساتھ ان کو ذکر نہیں کیا جاتا بھئی۔ ولنا ان الثمن ھو الفلوس اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ثمن تو کیا چیز ہیں؟ فلوس ہیں۔ وھی معلومۃ اور وہ معلوم ہے پتا ہے نصف درہم کے بدلے اتنے فلوس ہوتے ہیں دانق کے بدلے اتنے فلوس ہوتے ہیں قراط کے بدلے اتنے فلوس ہوتے ہیں یہ سب کو پتا ہے۔ چلیے بس مولانا ھذا والامر واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
106 approved lectures · 46 of 106