Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الوقاية جزء ثالث · dars-028

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Mrs Abdullah Bin Masood
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 44
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
والبيع بشرط يقتضيه العقد كشرط الملك للمشتري. یہاں سے بیع اور اس میں شرط لگانے کے بارے میں احکام بتلائیں گے بھئی۔ یاد رکھیے شرط تین قسم پر ہے بھئی بیع کے اندر۔ ایک یہ کہ شرط لگائی بیع کے اندر بیع بھی صحیح شرط بھی صحیح بھئی۔ دوسری صورت یہ کہ شرط لگائی بیع کے اندر شرط بھی فاسد بیع بھی فاسد۔ اور تیسری صورت یہ کہ شرط تو فاسد ہو جائے گی اور بیع صحیح ہو جائے گی بھئی۔ کتنی صورتیں ہوئیں؟ تین. تین صورتیں پہلی صورت شرط بھی صحیح اور بیع بھی صحیح. دوسری صورت شرط بھی فاسد بیع بھی فاسد. اور تیسری صورت شرط تو فاسد اور بیع صحیح بھئی. پہلی صورت مثلاً شرط بھی صحیح اور بیع بھی صحیح بھئی۔ آپ نے ایک شخص کو کتاب بیچی اور شرط لگائی بھئی میں اس شرط پر یہ کتاب آپ کو بیچتا ہوں کہ آپ اس کے مالک بنیں گے بھئی۔ آپ کیا بنیں گے اس کے؟ مالک. تو یہ ٹھیک ہے بھئی جب وہ خریدے گا تو لازمی بات ہے کیا بن جائے گا بھئی؟ مالک بن جائے گا. یہ تو مقتضائے عقد کے مطابق شرط ہوئی. یا بھئی کوئی شخص مثلاً غلام بیچتا ہے. تو مشتری کہتا ہے بھئی میں اس شرط پر خریدتا ہوں کہ یہ باورچی ہو بھئی، یعنی اسے کھانا بنانا آتا ہو. اس شرط اب لگا تو شرط رہا ہے، لیکن یہ صورت شرط کی ہے دراصل وہ وصف بیان کر رہا ہے مبیع کا کہ اسے کس قسم کا غلام چاہیے؟ باورچی غلام چاہیے. سمجھ میں آیا تو صورت شرط کی ہے لیکن درحقیقت یہ کیا بیان ہو رہا ہے؟ وصف بیان ہو رہا ہے مبیع کا. تو ان صورتوں کے اندر بھئی شرط بھی صحیح ہوگی اور بیع بھی صحیح ہو جائے گی. اور ایک صورت یہ کہ شرط بھی فاسد ہوگی اور بیع بھی فاسد. وہ یہ کہ مثلاً کوئی ایسی شرط لگائی جس میں بائع کا فائدہ ہو یا مشتری کا فائدہ ہو یا مبیع کا فائدہ ہو، کس کا فائدہ ہو؟ مبیع؟ بھئی کبھی بائع کا فائدہ ہوتا ہے کبھی مشتری کا فائدہ ہوتا ہے اور کبھی مبیع کا بھی فائدہ ہوتا ہے. مثلاً ایک آدمی نے شرط لگائی غلام بیچ رہا ہے بھئی اس شرط پہ غلام تمہیں بیچتا ہوں کہ تم اسے آزاد کرو گے. تو مبیع کا فائدہ ہے یا نہیں بھئی؟ یعنی یہ صرف اس صورت میں ہوگا جب وہ غلام یا باندی ہومولا نہ، یعنی وہ مستحق نفع ہو، کس کا مستحق ہو؟ مستحق نفع ہو بھئی. تو کبھی بائع کا فائدہ ہوتا ہے، مثلاً ایک شخص کیا کرتا ہے، ایک گھر بیچ رہا ہے، لیکن بائع لیکن شرط لگا دیتا ہے اس شرط پہ میں بیچتا ہوں کہ ایک سال تک میں اس میں رہوں گا، تو اس میں کس کا نفع ہوا بھئی؟ بائع کا نفع ہوا تو اس صورت میں یہ شرط بھی فاسد اور بیع بھی فاسد. یا مشتری کا فائدہ ہو مثلاً مشتری کہتا ہے بھئی میں یہ کپڑا آپ سے اس شرط پر خریدتا ہوں کہ آپ مجھے اس کا سوٹ بنا کر دیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اب کس کا نفع ہوا؟ مشتری. مشتری تو اس صورت میں بھی شرط بھی فاسد اور بیع بھی فاسد. یا مبیع کا فائدہ جیسے میں نے مثال ذکر کر دی غلام یا باندی یا اس شرط پہ میں تمہیں بیچتا ہوں کہ اس کو آزاد کرو گے یا مدبر بناؤ گے یا مکاتب بناؤ گے، تو اس صورت میں بھی بھئی بیع شرط بھی فاسد اور بیع بھی فاسد. تیسری صورت یہ کہ شرط تو فاسد اور لغو ہو جائے گی لیکن بیع صحیح ہوگی. مثلاً آپ کو آپ نے کھانا بیچا بھئی ساتھی پر بھئی کھانا لے کر آئے یا بازار سے خریدا اس نے آپ کو بیچا اس شرط پر کہ یہ کھانا اس شرط پر میں آپ کو بیچتا ہوں کہ آپ ہی اس کو کھائیں گے، یہ آپ ہی کے لائق ہے، کوئی اور اس قابل کسی کو میں نہیں سمجھتا کہ اس کو کھائے بھئی، تو یہ شرط لگا دی، تو اس صورت میں یاد رکھو شرط لغو ہو جائے گی اور بیع صحیح ہوگی، یا جانور بیچا دوسرے کو کوئی چیز بیچی کہ اس شرط پہ بیچتا ہوں یہ چیز کہ آگے آپ کسی کو نہیں بیچیں گے، آپ ہی اس کے لائق ہیں، یہ آپ کے پاس ہونی چاہیے، کسی اور کے پاس نہیں. تو اس صورت میں یہ شرط لغو ہو جائے گی اور بیع صحیح ہو جائے گی بھئی. سمجھ میں آیا؟ دیکھیے بھئی اب یہی بات صاحب کتاب بتلائیں گے اپنے لفظوں میں بھئی دیکھیے۔ والبيع بشرط يقتضيه العقد كشرط الملك للمشتري والبيع اس کا عطف بھی مولانا یا تو وہ ماقبل میں جو امر المسلم گزرا تھا اس پر کر لیں اور یا براہ راست اس کا عطف کس پر کر لیں؟ وصحا کی جو ضمیر متصل تھی بھئی تثنیہ کی اس پر کر لیں. درمیان میں فصل آ چکا لہٰذا عطف صحیح ہے تو صحیح ہے بيع بشرط ایسی شرط کے ساتھ دیکھا شرط ہے نکرہ اس کے بعد فعل آ رہا ہے اور میں نے بتلایا تھا اس صورت میں کیا ترکیب کریں گے؟ موصوف صفت اور موصوف سے پہلے ایسے کا لفظ لے آئیں اور صحیح ہے بيع ایسی شرط کے ساتھ يقتضيه العقد کہ جس کا عقد تقاضا کر رہا ہو كشرط الملك للمشتري جیسے مشتری کے لیے ملک کی شرط لگانا بھئی کہ میں اس شرط پر یہ چیز بیچتا ہوں کہ تم اس کے کیا بنو گے؟ مالک. مالک تو اس نے بننا ہی ہے اب عقد کا تقاضا ہی یہ ہے تو یہ مقتضائے عقد کے مطابق ہوئی شرط. او لا يقتضيه یا ایسی شرط مولانا لا يقتضيه کہ عقد اس کا تقاضا نہیں کر رہا ولا نفع فيه لأحد اور اس میں کسی کا فائدہ بھی نہیں ہے بھئی، کسی کے فائدے سے احد سے کیا مراد ہے مولانا؟ بائع بھی، مشتری بھی اور وہ مبیعہ جو نفع کا مستحق ہوتا ہے اور وہ کون ہوتا ہے بھئی؟ غلام یا باندی. تو احد میں تینوں آ گئے، صرف بائع اور مشتری نہیں مراد بلکہ تینوں مراد ہیں، ولا نفع يا ایسی شرط جس کا عقد تقاضا بھی نہ کر رہا ہو ولا نفع فيہ لأحد اور اس میں کسی ایک کا نفع بھی نہیں ہے كشرط ان لا يبيع الدابۃ المبيعتہ جیسے یہ شرط مولانا کہ نہیں بیچے گا وہ مشتری کس کو؟ الدابۃ المبیعتہ وہ دابہ جو مبیع ہے. مشتری کو ایک چیز بیچی بھئی یہ دابہ، یہ جانور میں آپ کو بیچتا ہوں لیکن آپ اس مبیعہ دابہ کو آگے نہیں بیچیں گے. تو یہ شرط لغو ہوگی مولانا، سمجھ میں آیا؟ مفسد نہیں، البتہ بیع صحیح ہو جائے گی، میں نے آپ کو بتایا، اس لیے کہ یہاں کوئی جھگڑے وغیرہ کا خطرہ نہیں ہے بھئی، کیونکہ وہ دابہ کوئی مطالبہ کر سکتا ہے کہ مجھے آگے نہ بیچو؟ مطالبہ نہیں کر سکتا، اس کو بیچ سکتا ہے بھئی. ہاں لیکن غلام کے بارے میں اگر شرط لگائی تھی پھر تو غلام جھگڑا کرے گا بھئی، آپ نے مجھے کس شرط پر خریدا تھا؟ کہ مجھے آزاد کرنا ہے، تو کیوں نہیں کرتے بھئی؟ بخلاف شرط، تو یہ بیع تو صحیح تھی جو بھئی چاہے مقتضائے عقد کے مطابق ہو یا مقتضائے عقد کے تو مطابق نہیں ہے، لیکن کسی ایک کا نفع بھی اس میں نہیں، بخلاف شرط برخلاف ایسی شرط کے لا يقتضيه العقد کہ جس کا عقد تقاضا بھی نہیں کرتا وفيہ نفع لأحد العاقدين اور اس میں نفع ہو دونوں عقد کرنے والوں میں سے کسی ایک کا اول مبيعين یا ایسے مبیع کا نفع ہو يستحقه جو نفع کا مستحق بھی ہو یعنی آدمی ہو انسان ہو. سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو باقی بیع صحیح تھی، لیکن بخلاف شرط بخلاف اس شرط کے جس کا عقد تقاضا نہیں کر رہا اور اس میں کسی ایک کا نفع ہو، یعنی ایسی شرط کے ساتھ بیع صحیح نہیں بلکہ فاسد ہے. أن يكون دیکھیے اب شرح میں بتلا رہے ہیں لمبيع يستحقه کا کیا معنی ہے؟ کہتے ہیں يكون المبيع أهلا لاستحقاق النفع کہ مبیع اہل ہو کس چیز کا استحقاق نفع کا، مستحق ہونے کا اہل ہو اس میں اہلیت ہو بأين يكون آدميا اس صورت میں کہ وہ آدمی ہو مولانا، سمجھ میں آیا؟ یعنی آدمی. فظہر ان قولہ تو ظاہر ہوا کہ ماتن کا یہ قول ہے ولا نفع فيہ لأحد بھئی، متن میں کیا آیا تھا؟ لا نفع فيہ لأحد بھئی. ارادہ بہ ارادہ کیا اس کے ذریعے ماتن نے، کس کا ارادہ کیا لِأحدن کے ذریعے؟ کیا بتلایا تھا میں نے بھئی؟ تینوں کا، عقد کرنے والوں کا بھی اور مبیعہ مستحق کا. ارادہ بہ لِأحدن من العاقدين والمبيع المستحق کسی ایک کا عاقدین یا مبیع مستحق کے میں سے کسی ایک کا بھئی، اس کا ارادہ کیا. حتی لو کان النفع للمبيع الذي لا يستحق النفع ہاں اگر نفع تھا یہاں تک کہ اگر نفع تھا ایسے مبیع کا جو نفع کا مستحق نہیں ہے كشرط ان لا يبيع دابت المبيع جیسے یہ شرط لگائی بھئی کہ میں اس جانور کو تمہیں اس شرط پر بیچتا ہوں کہ آگے اس کو نہیں بیچیں گے، اب اس میں جانور کا نفع تو ہے، لیکن کیا وہ اہل اہل ہے استحقاق نفع کا بھئی؟ استحقاق نفع کا اہل نہیں ہے بھئی. تو کہتے ہیں لا اس صورت کے اندر لا يكون هذا شرط مفسداً، اس صورت میں یہ شرط مفسد نہیں ہوگی، بلکہ شرط لغو ہو جائے گی اور بیع صحیح ہوگی. كشرط ان يقطعه البائع ويخيطه قبا أو يحضوه نعلا أو يشركه یہاں سے اب مثالیں ذکر کریں گے، انہوں نے کہا ایسی شرط لگانا جس میں جو عقد کے مقتضی کے بھی خلاف ہو اور کسی ایک کا اس میں فائدہ بھی ہو، ان کی مثالیں ذکر کریں گے. پہلے مثالیں ذکر کریں گے جس میں مشتری کا فائدہ ہے، پھر اس کے بعد وہ مثال ذکر کریں گے جس میں بائع کا نفع ہو، پھر ایسی شرط ذکر کریں گے جس میں مبیع کا فائدہ ہو ترتیب سے دیکھیے. كشرط جیسے یہ شرط لگانا أن يقطعه البائع کہ بائع اس کو کیا کرے گا؟ کاٹے گا اور آگے ہے اور نہیں ہونا چاہیے واؤ ہونا چاہیے. بائع اس کو کاٹے گا ويخيطه قبانا اور اس سے کیا سیئے گا؟ قبا سیئے گا. قبا یہ قدیم لباس تھا مولانا، کپڑوں کے اوپر پہنتے تھے جیسے کوٹ یا شیروانی کی طرح، ہاں شیروانی کی طرح بھئی، اس طرح کوئی اوپر قمیض کے اوپر پہنتے تھے اور سامنے سے جیسے کوٹ سامنے سے کٹا ہوتا ہے نیچے تک بھئی اسی طرح پھر اس کو درمیان سے باندھا جاتا تھا، اس کو قبا کہتے ہیں قاف کے فتحے کے ساتھ ہے بھئی. تو بھئی ایک آدمی نے درزی کی تھی، کسی شخص سے کپڑا خریدا اس شرط پر کہ بھئی میں اس شرط پر کپڑا خریدتا ہوں کہ اس کو کاٹو گے اور میرے لیے کیا بناؤ گے اس سے؟ ہاں قبا ہے، چوغا بناؤ گے، تو کہتے ہیں بھئی یہ اس میں کس کا نفع آیا بھئی؟ مشتری کا نفع آیا، دیکھا. أو يحضوه نعلا یا چمڑا خریدا اس شرط پر أن يحضوه نعلا کہ اس سے کیا بنائے گا؟ ہاں، حضی یحضو کا معنی بنانا، نعلا جوتا، کہ اس سے جوتا بنائے گا، أو يشركه أو يشركه باب افعال بھی پڑھنا صحیح مولانا باب تفعیل بھی. أو يشركه یا اس میں تسمہ لگائے گا، کیا لگائے گا؟ بھئی چمڑا خریدا موچی سے اس شرط پر کہ تم اس سے میرے لیے کیا بناؤ گے؟ جوتا بناؤ گے یا اس میں کیا لگا دو گے؟ تسمہ لگاؤ گے، تو کس کا نفع ہے بھئی اس کے اندر؟ مشتری کا. تو دیکھیں يشركه کا معنی بتلا رہے ہیں أن يجعل للنعلا شراکان یعنی بنائے گا جوتے کے لیے شراکان، شراکت تسمے کو کہتے ہیں، تسمہ بنائے گا. هذا نظير شرط نظیر بمقابلہ مثال کے ہے یہاں بھئی، هذا نظیر شرط یہ مثال ہے ایسی شرط کی لا يقتضيه العقد جس کا عقد تقاضا نہیں کر رہا وفيہ نفع للمشتري اور اس میں مشتری کا نفع ہے بھئی. بھئی متن میں دو مثالیں ذکر کیں. ایک کپڑا کاٹے اور اس سے قبا سیئے یا کیا کرے بھئی؟ چمڑا خریدا اس سے جوتا بنائے اور اس میں یا اس میں تسمہ لگائے. کہتے ہیں یہ جوتے کے اندر والی جو مثال ہے، یہ قیاس کے مطابق تو صحیح نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ اس میں کس کا فائدہ ہے؟ مشتری کا فائدہ ہے اور جس میں بھی کسی ایسی شرط جس میں کسی کا نفع ہو، اس میں وہ کیا ہوتی ہے؟ درست نہیں، بیع کو فاسد کر دیتی ہے، لیکن جوتے کے اندر یہ استحساناً صحیح ہے بھئی. یہ بیع کیا ہو جائے گی؟ استحساناً صحیح. وصح في النعل استحساناً اور صحیح ہے بھئی جوتے کے اندر یہ شرط بھئی یہ بیع بھئی استحساناً بھئی، استحسان کے انما يجوز في النعل للتعامل جائید ہے بھئی جوتے کے اندر تعامل کی وجہ سے بھئی لوگ اس طرح عادت جاری ہے، لوگ آپس میں اس طرح کے معاملات کرتے ہیں، موچی سے چمڑا خریدتے ہیں تو کس کس طرح کہ اس شرط پر ہی خریدتے ہیں کہ وہ کیا بنا کر دے گا اس سے؟ جوتا بنا کر دے گا یا اس میں کیا لگا کر دے گا؟ تسمہ لگا کر دے گا، تو تعامل کی وجہ سے اس کی اجازت دے دی فقہاء نے، ورنہ تو قیاس کے مطابق اس کو بھی کیا ہونا چاہیے تھا؟ جائز نہیں دیکھیے خود کہہ رہے ہیں والقیاس أن لا يجوز، اور قیاس تو یہ ہے کہ اس کو جائز نہیں ہونا چاہیے. بات سمجھ میں آئی بھئی سب کو؟ دیکھیے بھئی بڑا پیارا ایک ضابطہ لکھا ہے انہوں نے حاشیے کے اندر، وہ بھی دیکھ لیجیے، تین نمبر حاشیے کے اندر. چوتھی پانچویں سطر میں ہے فوعرف من هذا مل گیا بھئی؟ فوعرف من هذا پس جان لیا گیا اس سے کہ كل شرط لا يقتضيه العقد کہ ہر ایسی شرط بھئی جس کا عقد تقاضا نہ کر رہا ہو وفيہ نفع للمشتري اور اس میں مشتری کا نفع بھی ہو وجرى العادت باشتراطها اور عادت بھی لوگوں کی جاری ہو اس کے شرط لگانے کی، لوگ کیا کرتے ہیں معاملات کرتے ہوئے وہ اس قسم کی شرط لگاتے ہیں ولم ينكر أحد من الفقهاء اور فقہاء میں سے کسی ایک نے بھی اس کا انکار نہ کیا ہو ولا يكون على منعها نص اور نہ اس کے منع پر کوئی نص ائی ہو، قرآن اور حدیث میں بھی اس کی ممانعت نہ ہو ولا الاجماع اور نہ ہی اس کی منع پر اجماع ہو فہو جائز تو ایسی شرط لگانا جائز ہے. صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو تعامل کی وجہ سے جب عادت جاری ہو جائے آج کے زمانے میں بھی اگر ایسا مسئلہ آپ کو ملتا ہے کہ لوگ شرط لگا کر کوئی معاملہ کر رہے ہیں، بیع وغیرہ کر رہے ہیں، تو آپ دیکھیں کہ اس کے بارے میں کوئی نص تو نہیں آئی، کہیں حدیث میں تو نہیں ممانعت، اگر حدیث میں ممانعت آئی ہے پھر لوگوں کے تعامل کو نہیں دیکھا جائے گا، پھر کیا قرار دیں گے اس کو؟ جی اس کو ناجائز قرار دیں گے، لیکن اگر حدیث میں نہیں آیا، اجماع وغیرہ فقہاء کا نہیں ہے، تو پھر تعامل کی وجہ سے جائز قرار دے دیں گے. او يستخت، یہ تو پہلی شرطیں تھیں جس میں بائع کا مشتری کا نفع تھا، اب ویسی مثال آ رہی ہے جس میں بائع کا نفع ہے، أو يستختمه شعرا یا اس شرط پر کہ وہ خدمت لے گا اس غلام سے باء شہراً ایک مہینے تک. بائع نے اپنا غلام بیچا مشتری پر، لیکن شرط یہ لگائی کہ ایک مہینے تک یہ غلام میری خدمت کرے گا. استخدامه البائع خدمت طلب کرے گا اس سے بائع، اس غلام سے کیا کرے گا؟ جی تو بائع خدمت، خدمت لے گا اس غلام سے باء شہراً ایک مہینے تک. وهذا نظير شرط لا يقتضيه العقد وفيہ نفع للبائع اور یہ مثال ہے ایسی شرط کی جس کا عقد بھی تقاضا نہیں کر رہا وفيہ نفع للبائع اور اس میں بائع کا نفع ہے. تیسری کیا صورت تھی، کس کا نفع ہو بھئی؟ مبیعہ، مبیع جو مستحق ہے نفع کا. أو يعتقه أو يدبره أو يكاتبه یا اس شرط پر کہ مشتری اس کو آزاد کرے گا یا اس کو مدبر بنائے گا یا مکاتب بنائے گا، هذا نظير شرط لا يقتضيه العقد، یہ مثال ہے ایسی شرط کی جس کا تقاضا عقد نہیں کر رہا وفيہ نفع للمبيع اور اس میں مبیعہ کا نفع ہے، وهو أهل لاستحقاق النفع اس حال میں کہ مبیعہ بھی کیا ہے اہل ہے استحقاق نفع کا، نفع کا مستحق ہونے کا اہل ہے بھئی. وبيع أمة إلا حملها جی یہ بیع بھی صحیح نہیں بھئی، باندی کی بیع کرنا اور اس کے حمل کا استثناء کرنا بھئی، ایک آدمی نے دوسرے کو باندی بیچی اور وہ حاملہ تھی تو یہ شرط لگائی بھئی باندی بیچتا ہوں، کیا ہوا اس کے حمل کے، یہ حمل نہیں بیچتا میں یہ میرا ہی ہوگا، تو یہ درست نہیں بھئی۔ تو یہ بیع بھی صحیح وببع أمة الا حملها بھئی اس کا عطف کس پر ہو رہا ہے؟ کہتے ہیں عطف علی شرط لا يقتضيه العقد، اس کا عطف ہو رہا ہے شرط لا يقتضيه، کس پر بھئی؟ کہاں ہے یہ؟ جی گزشتہ متن کے اندر بھئی جو آیا تھا بخلاف شرط بھئی، بخلاف شرط یہ شرط پر ہو رہا ہے عطف. بخلافی بیع امۃ الا حملھا، تو وہ بیع تو صحیح ب۔خلاف کیوں، کس کی بیع؟ باندی کی بیع سوائے حمل کے یہ بیع صحیح نہیں۔ والاصل ضابطہ اس کے اندر یہ ہے ان کلما لا یصح افراد بالعهد لا یجوز استثناءہ من العهد۔ ضابطہ بتلا رہے ہیں بھئی کیوں نہیں صحیح؟ کہتے ہیں ہر ایسی چیز کہ جس کو صحیح نہ ہو افراد بھئی، اس کو علیحدہ کرنا، اس کو علیحدہ جدا کرنا بالعهد عقد کے ساتھ بھئی، جس کو علیحدہ عقد صحیح نہ ہو لا یجوز استثناءہ من العهد تو اس کا عقد سے استثناء کرنا بھی صحیح بھئی۔ حمل کی علیحدہ بحث صحیح ہے؟ حمل کی علیحدہ بحث صحیح نہیں، تو لہذا اس کا استثناء کرنا بھی عقد میں سے صحیح نہیں ہے۔ فانہ من توابع الشئی اس لیے کہ جو وہ چیز جس کو علیحدہ عقد کے ساتھ بیچنا صحیح نہیں وہ شے کے توابع میں سے ہوتی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ فیکون داخل فی المبیع طبعاً لہ تو وہ مبیع کے اندر داخل ہوتی ہے، اس کے تابع ہوتی ہے فاستثناءہ من العهد شرط لا یقتضیہ العهد پس اس کا عقد سے استثناء کرنا یہ ایسی شرط لگانا ہے جس کا عقد تقاضا نہیں کر رہا فیکون مفسداً تو یہ کیا ہوگا؟ تو یہ شرط مفسد ہوگی عقد کے لیے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی ضابطہ کیا بیان ہوا؟ کہ کوئی ایسی چیز جس کا علیحدہ عقد کرنا صحیح نہ ہو اس کا استثناء کرنا بھی صحیح حمل کے علیحدہ علیحدہ اس کا عقد کرنا صحیح نہیں، بیچنا صحیح نہیں، خریدنا صحیح نہیں، تو اس کا استثناء کرنا بھی صحیح نہیں۔ صحیح نہیں۔ اس لیے کہ وہ توابع میں سے ہے، وہ طبعاً اس چیز کے اندر خود ہی آجائے گا، جب باندی بیچ رہے ہیں، تو طبعاً وہ حمل بھی کیا ہو جائے گا؟ اسی کے اندر شامل ہوگا بھئی۔ تو جب طبعاً اس کے اندر داخل ہے، اور آپ کیا کر رہے ہیں استثناء کے ذریعے اس کو نکالنا چاہ رہے ہیں، تو وہ طبعاً پہلے ہی سے عقد کے اندر داخل تھا، تو یہ ایسی شرط لگا دی جس کا عقد تقاضا نہیں کر رہا بھئی۔ و الی نیروز و مہرجان و صوم النصارٰی و فطر الیہود ان لم یعرفا ذالک۔ یہاں سے اب آپ بتلائیں گے آپ کو وہ صورتیں جن میں ثمن معجل ہوتی ہے، بھئی کبھی کبھار تو آپ بیع کرتے ہیں، بھئی چیز خریدی، اسی وقت کیا کر دیے؟ پیسے دے دیے۔ کبھی کبھار پیسے بعد میں دیے جاتے ہیں، کہتے ہیں بھئی جب بھی عقد کرو، اس میں جب پیسے بعد میں دینے کی بات ہو عقد کے اندر طے ہو رہی ہے، تو متعین مدت ہونی چاہیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ متعین ہونا چاہیے فلاں وقت میں یہ پیسے رمضان شروع ہوگا بھئی، پہلے رمضان کو میں دے دوں گا یا پہلے ہفتے کے اندر دے دوں گا۔ یا فلاں مہینے کے پہلے دن کو دے دوں گا، صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وہ دن، وہ اجل متعین ہونی چاہیے، اس کے اندر جہالت نہ ہو، ورنہ جھگڑا ہوگا بھئی اور ہر وہ بیع جس کے اندر جھگڑا آئے، جھگڑے کا خطرہ ہو، وہ بیع فاسد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں بھئی کسی بیع الی نیروز و مہرجان بیچنا کسی چیز کا نیروز اور مہرجان تک بھئی۔ یعنی ثمن کے لیے نیروز اور مہرجان کو متعین کیا۔ نیروز آج بھی ایران میں آپ سنتے ہوں گے، نوروز بھئی۔ نوروز کہتے ہیں بھئی۔ یہ بہار کے اندر جب دن اور رات برابر ہو جاتے ہیں، تو آتش پرست اس وقت جشن منایا کرتے تھے، ان کی عید ہوتی تھی بھئی، سمجھ میں آیا؟ اسی طرح وہ مہرجان جو ہے یہ خزاں کے اندر جب دن اور رات برابر ہو جاتے ہیں تو اس وقت بھئی۔ تو یہ گرمیوں کے آغاز میں اور ایک تقریباً سردیوں کے آغاز میں یہ مناتے تھے بھئی ان کے عید یہ مجوسی، جنہیں آج کل پارسی کہتے ہیں بھئی، ان کی عید ہے۔ اور اسی طرح بیع کرنا بھئی نیروز اور مہرجان تک، یہ بھی درست نہیں بھئی، کیوں نہیں درست؟ آگے اور بھی چیزیں آ رہی ہیں، وصوم النصارٰی اور عیسائیوں کے روزوں تک، و فطر الیہود اور یہودیوں کے فطر تک، یعنی جب ان کے روزے پورے ہو جاتے ہیں، ان کی عید آتی ہے، تو اس وقت تک اس کو مدت متعین کرنا ایک شخص نے دوسری سے چیز خریدی کہ میں پیسے کب دوں گا بھئی؟ نوروز کے موقع پر دوں گا یا مہرجان کے موقع پر دوں گا، یا عیسائیوں کے روزوں کے موقع پر دوں گا، یا یہودیوں کی عید جو فطر آئے گی، اس کے موقع پر دوں گا، تو کہتے ہیں بھئی اس صورت میں بیع فاسد ہو جائے گی۔ بیع کیا ہے؟ فاسد۔ حاجیوں کے آنے کو مدت متعین کر رہے ہو بھئی، کھیتی کا کٹنا، بھئی یہ ساری مجہول چیزیں ہیں، حاجی ایک حاجی 10 دن کے بعد ہی واپس پہنچ جائے گا، دوسرا حاجی حج کے ڈیڑھ مہینے بعد آئے گا، تو کوئی پہلے آ رہے ہیں، کوئی مہینے بعد واپس آ رہے ہیں، تو مدت متعین ہوئی یا مجہول ہوئی؟ مجہول ہوئی، وہ چاہے گا، چاہے گا جو شروع کے حاجی پہنچیں ہیں، تو بس مجھے فوراً پیسے ملیں، اور وہ مشتری کیا چاہے گا؟ بھئی جب آخری حاجی آ رہے ہیں، تب دوں گا، تو جھگڑا ہو جائے گا، یا اسی طرح کھیتی کا کٹنا ہے، بھئی، بھئی آج بعض کھیتی، ایک آج کٹنا شروع ہوگئیں، تو بعض مہینے بعد جا کے پکتی ہیں، بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس میں بھی فرق ہوتا ہے، 20 دن، 25 دن، مہینے کا تو عام فرق ہوتا ہے، بھئی، مختلف کھیتوں کے درمیان۔ تو لہذا اسی طرح پھل چننے میں بھی اسی طرح ہے، بعضوں کے پھل کیا ہوں گے؟ ابھی پکنا شروع ہوگئے ہیں، تو بعضوں کے مہینے بعد پکیں گے، بعض کے ڈیڑھ مہینے بعد جا کے پکیں گے۔ اسی طرح اون اتارنے میں بھی بھئی، بعض جلدی اتارتے ہیں، بعض تاخیر سے، تو یہ متعان نہ ہوا، تعین ہونا چاہیے، بھئی۔ ضابطہ وہی ہے، جس میں جہالت ہو، جھگڑے کا خطرہ ہو، تو پھر وہ درست نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں، حاسات، بھئی حا کا فتحہ ہے، بھئی، دیاس، دال کا کسرہ پڑھنا، قطام، قاف کے کسرہ بھئی، جِزاز بھئی, یہ جزار نہیں ہے، زاء ہے دونوں بھئی، جِزاز، جیم کا کسرہ۔ القِطاف جَنی الثمر عن الاشجار۔ جنا یجنی جنین، یہ پھل چننا۔ پھلوں کا چننا عن الاشجار درختوں سے۔ والجِزاز قطع الصوف عن ظہر الغنم۔ وہ اون کا کاٹنا ہے عن ظہر الغنم، بھیڑ بکریوں کی پشت سے بھئی۔ غنم میں نے بتلایا تھا، بھئی شات اور غنم، اس کا اطلاق بھیڑ بکری دونوں پر ہوتا ہے۔ ویکفل الیہا۔ یہاں سے فرق بیان کر رہے ہیں بیع اور کفالت کے اندر، بھئی بیع کے اندر تو اس ان مدتوں تک بیع صحیح نہیں، اگر ثمن دینے کی یہ مدت متعین کی، تو بیع کیا ہو جائے گی؟ فاسد، لیکن اگر کفالت ان مدتوں تک کی تو کفالت صحیح بھئی۔ کفالت کسے کہتے ہیں؟ ضمانت، بھئی، آپ سنتے ہیں یعنی ضمانت۔ ایک آدمی دوسرے کے پاس قرض لینے گیا، وہ کہتا ہے بھئی، میں تجھے جانتا ہی نہیں، میں تجھے کیسے قرض دے دوں، وہ کسی کو ضامن لے کر آتا ہے، لو بھئی! یہ میری ضمانت دے گا۔ یہ آپ کا جاننے والا ہے، وہ ضمانت دیتا ہے، قرض حوالے کر دیتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں بھئی؟ کفیل کہتے ہیں، کفالت، بھئی ضمانت۔ ان مدتوں تک کفالت صحیح ہے، البتہ بیع صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو، مثلاً بھئی، ایک آدمی دوسرے کے پاس قرض لینے گیا، اس نے انکار کر دیا، بھئی قرض میں نہیں دے سکتا، میں تمہیں جانتا نہیں، اب یہ دوسرے کو لے گیا کہ یہ فلاں شخص آپ کا جاننے والا ہے، یہ مجھے جانتا ہے، یہ میری ضمانت دے گا، اور وہ ضامن کیا کہتا ہے؟ میں ضمانت دیتا ہوں، یہ کیا کر دے گا؟ فلاں مدت تک آپ کے پیسے اگر نہ دیے، مثلاً یہ حاجیوں کے آنے تک، تو میں ادا کر دوں گا، یا میں اس کو آپ کے حوالے کر دوں گا، یہ کہیں نہیں جاتا یہاں سے تو ان مدتوں تک ضمانت صحیح ہے مولانا۔ وجہ کیا ہے بھئی؟ بیع کے اندر آپ کہتے ہیں، اتنی مدت میں جہالت صحیح نہیں، اور یہاں پر کفالت کے اندر کہہ رہے ہیں یہ جہالت صحیح۔ کہتے ہیں بھئی، بیع جو ہے، اس کی بنیاد ہے مماکسعت پر، تنگی پر بھئی، بخل پر بھئی، بیع کے اندر کیا کرتے ہیں لوگ مماکسعت اور بخل اور تنگی کرتے ہیں، جبکہ کفالت، کفالت کے اندر اگر اصل جو ہے، یعنی دین بھئی۔ اس کے اندر بھی جہالت ہو، پھر بھی کفالت صحیح ہوتی ہے، مثلاً بھئی۔ صورت مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے قرض لے رہا ہے، اس نے قرض سے انکار کر دیا، آپ نے فورا کہا بھئی میں ضمانت دیتا ہوں اس کی، اس کو قرض دے دو، بھئی۔ ابھی آپ کو پتہ ہی نہیں وہ کتنے پیسے مانگ رہا ہے، کتنے کی ضمانت دے رہے ہیں آپ بھئی، لاکھ ہے، ڈیڑھ لاکھ ہے، دو لاکھ ہے، تین لاکھ ہے، پھر بھی کفالت صحیح ہے مولانا، اگرچہ اصل یعنی دین ہی وہاں پر کیا ہو؟ مجہول ہو۔ تو دین کی جہالت کے باوجود کفالت کیا ہوتی ہے؟ صحیح، تو جب دین کے (یعنی اصل کے) اندر جہالت صحیح تو جو اس اصل کا وصف ہے، یعنی مدت، اس کے اندر بھی تھوڑی بہت جہالت ہو تو اس سے بھی کیا ہو جائے گی کفالت؟ کیا ضابطہ ہوا؟ اصل یعنی دین کے اندر ہی جہالت کیوں نہ ہو، پھر بھی کفالت نہیں، جب اصل میں جہالت ہو، تو پھر بھی کفالت صحیح تو اس اصل کا جو وصف ہے یعنی مدت بھئی، کہ کب دے گا، اس کے اندر بھی جہالت آجائے تو کفالت صحیح نہیں۔ لیکن بیع کے اندر اگر اصل مجہول ہوں، تو بیع صحیح نہیں ہوتی، سمن اگر مجہول ہوں، تو بیع صحیح ہے؟ نہیں۔ جب سمن مجہول ہیں، تو ان اس میں بیع صحیح نہیں، تو اس کا سمن کا جو وصف ہے، یعنی مدت، اس کی جہالت کی صورت میں بھی بیع صحیح نہیں۔ یہ معمولی جہالت ہے کفالت پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ تو کہتے ہیں ویکفل الیھا، ای الی ھذہ الآجالی، اور کفالت ضامن بنے گا الیھا ای الی ھذہ الآجالی ان مدتوں تک۔ ای یجوز الکفالۃ الی ھذہ الاوقات کفالت جائز ہے ان اوقات تک، لان الجہالۃ الیسیرۃ متحملۃ فی الکفالت اس لیے کہ تھوڑی سی جہالت بھئی، معمولی جہالت جو ہے، متحملۃ وہ برداشت ہے فی الکفالت کس کے اندر؟ یعنی قابل برداشت ہے بھئی۔ و صح إن اسقط الاجل قبل حلولہ۔ بھئی بیع انہوں نے کیا بتلایا؟ اگر کسی نے نوروز، مہرجان وغیرہ تک بیع کی، یا حاجیوں کے آنے تک، یا کھیتی کے کٹنے وغیرہ تک، ان صورتوں میں بیع کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی، اس لیے کہ اجل متعین نہیں۔ لیکن اگر اس مدت کے آنے سے پہلے پہلے کیا کر دیا، اجل کو ختم کر دیا، تو کہتے ہیں بیع صحیح ہو جائے گی۔ یعنی پیسے ادا کر دیے۔ بھئی دو آدمیوں نے بیع کی تھی، میں پیسے کس وقت دوں گا جب حاجی آئیں گے، بھئی۔ ابھی حاجی آنے کا وقت شروع نہیں ہوا، حاجی آنا شروع نہیں ہوئے، اس نے کیا کر دیا، پہلے سے ہی پیسے دے دیے۔ کہتے ہیں وہ بیع جو فاسد تھی، صحیح ہو جائے گی۔ البتہ امام زفر فرماتے ہیں، نہیں بھئی ایک دفعہ فاسد ہے، تو یہ دوبارہ صحیح نہیں ہوگی، جبکہ دیگر ائمہ فرماتے ہیں کہ بیع صحیح ہو جائے گی، اس لیے کہ فساد کس کی وجہ سے آ رہا تھا؟ کہ وہ اجل کیا تھی؟ مجہول تھی، تو اس کی وجہ سے جھگڑے کا امکان تھا، لیکن اگر اس مفسد کو ہم نے کیا کر دیا، آنے سے پہلے ہی ختم کر دیا، آنے سے پہلے ہی ختم کر۔ و صح إن اسقط الاجل اور صحیح اگر ساقط کر دیا اجل کو قبل حلولہ قبل اس کے آنے کے، ان اسقط ھذہ الآجال المہولت اگر ان مجہول مدتوں کو ساقط کر دیا قبل حلولھا ان کے آنے سے پہلے، ینقلب البیع صحیحاً تو بیع کیا ہو جائے گی؟ صحیح ہو جائے گی۔ چلیے بس مولانا، ھوالمراد واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
108 approved lectures · 28 of 108